یہ آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے پنجاب کے مرد آہنِ ثانی جو کہ آجکل معطل ،رخصت پر یا پھر سب کچھ پس پردہ ہیں؟ کو چند یوم پہلے بڑی بے بسی سے یہ کہتے ہو ئے سناکہ عام بارشوں سے نبٹنے کا انتظام تو کرلیاتھا، لیکن اس موسم میں بارش ہزاروں ملی میٹر کے بجا ئے لاکھوں ملی میٹر تک چلی گئی لہذا آسمانی آفات کا حکومت مقابلہ نہیں کرسکی۔ دوسری بات یہ بھی کہی کہ انڈیا نے پانی چھوڑ دیا، مگر اس سلسلہ میں ان کا لہجہ اس مرتبہ ذرا دبا دبا سا تھا جبکہ اس حکومت کے مربی عالم نے بہت کھل کہا کر ہندوستان نے پانی چھوڑ کر پاکستان پر حملہ کیا ہے اور حکومت انڈیا کے اس حملہ کو اپنی مصلحت کی وجہ سے اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ اس پر یہ ہی کہا جاسکتا ہے میر تقی میر کے اس شعر میں ترمیم کر کے کہ “ ہم ہوئے تم ہو ئے کہ میر ہو ئے    سب اسی جھوٹ کے اسیر ہو ئے “
البتہ ایک بات مشترک ہے ان بیانات میں کہ سچائی کم اورجھوٹ زیادہ ہے۔ جوکہ ہمارے یہاں ہر ایک عادتاً بولتا ہے؟ جیسے کہ اس سے پہلے ہم سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ ارشاد ِ گرامی پیش کر نے کا شرف حاصل کر چکے ہیں کہ “ جھوٹ جمہوریت کا حسن ہے  “ یہ بیچاری جمہوریت کی اتنی بڑی توہین ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ شرم سے خود کشی نہ کر لے۔ وہ بھی پاکستان میں پھنس کر پجھتا رہی ہو گی کہ کہاں آگئی، جیسے کہ رضیہ غندوں میں گھری ہو ئی ہو؟ اس سے پہلے سابق صدر ِ مو صوف یہ بھی فر ماچکے ہیں کہ معاہدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے جن کی پابندی کی جا ئے۔ یہ اس سے بڑا جھو ٹ ہے وہ یہ کہہ کر اسلام کو بد نام کر چکے ہیں، کیونکہ قر آن جھوٹوں پر لعنت بھیج رہا ہے “ لعنت اللہ علیٰ الاکاذ بین “ ۔  اور حضور(ص) فرمارہے ہیں کہ جھوٹا ہم میں سے نہیں بد عہد ہم میں سے نہیں ہے، وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں  “ لطف کی بات یہ ہے کہ اس دیدہ دلیری پر نہ اس وقت کسی عالم نے اس کا نوٹس لیا اور اس جہالت کے خلاف کو ئی تحریک چلائی اور نہ ابھی جمہوریت پسندوں نے اس سفید جھوٹ پر احتجاج کیا جو جمہوریت کے نام پر دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام تھوپے ہو ئے ہیں۔
البتہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پنجاب کے مرد آہن ثانی نے جو کچھ فرمایا وہ جھوٹ کیسے ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم تو پانی ستر سال  سےسمندر میں بہا کر خوش ہو رہے تھے۔ ہندوستان نے اس کو بہتا دیکھ کر اسے اپنے یہاں بند باندھ کر قید کر لیا اور اس سے اپنی پیداوار دگنی تگنی کر لی؟ اگر نہ بنا تا تو اور بھی حالت بری ہوتی کیونکہ بند ہونے کے یہ فائدے ہیں کہ انہیں انسان کنٹرول کر سکتا ہے ؟ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہم نے بند کیوں نہیں بنا ئے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم نے جب سے“ صدق اور عدل  “ترک کیا،دنیا تو کیا کرے گی ، ہم آپس میں بھی ایک،دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔کیونکہ ہم نے پانی کے بٹوارے میں آپس ہی میں ڈنڈی مارکر چھوٹے صوبوں کو بد ظن کر رکھا ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے پہلے آثارات قدیمہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں ورثہ میں انگریز جو دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام برائے آب پاشی دے گئے تھے اس میں ستر سال سے سلٹ کلیرنس نہ ہو نے کی وجہ سے جو نہریں کبھی ہاتھی ڈبا ؤتھیں اب کتا بھی ان میں نہیں ڈوبتا ۔ جبکہ ہر سال وہ صفائی کے لیے بند بھی با قاعدگی سے دو ہفتے کے لیے ر ہتی ہیں بل بھی بنتے ہیں مگر سال بہ سال ریت کا لیول بڑھتا جا رہا ہے ، لہذا پانی کا دباؤ جہا ں پڑا نہروں کا ظرف جواب دے جاتا ہے اور بد ہضمی کی وجہ سے پھٹ پڑتی ہیں ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ وہ بجٹ کہاں جا تا ہے ؟ جواب ہے پیاروں کی پیٹ میں ۔؟ رہا یہ ارشاد ِ عالیہ کہ ہم نے عام حالات میں بارشوں سے نبٹنے کا انتظام کر رکھا تھا ؟ اس پر اگر تحقیق کی جائے تو پتہ چل جا ئے گا کہ اس محکمہ کے پاس وہ چند کشتیاں تھیں جو کہ دیکھ بھال نہ ہو نے کی وجہ سے نصف سے زیادہ نا قابل ِ استعمال تھی ۔اگر فوج اپنے ذرائع نہ استعمال کر تی تو ابھی عمران خان ایک اپاہج پر نو حہ خواں ہیں پھر نہ جانے کتنے بوڑھوں اور اپا ہجوں کو سسک سسک  کرمرنے کے لیے راہ میں یا دیہاتوں میں چھوڑ نا پڑتا ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ زلزلے اور سیلاب ہماری ہی طرف ہر سال کیوں بھیجتا ہے؟ اس کا جواب قر آن میں موجود ہے۔ ایک آیت میں فرمایا گیا، جس کا اردو میں مفہوم یہ ہےکہ “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم گاہے بہ گاہے، آفات آسمانی بھیج کر تمہیں خبردار کرتے رہتے ہیں۔ ( تاکہ تم ڈر کر اپنے اعمال درست کر لو)۔ لیکن ہم کبھی انہیں آفات آسمانی کا نام دیتے ہیں کبھی ہمارے علماءتسلی دیتے ہیں کہ یہ آزمائش ہے جس سے اللہ سبحانہ تعالی اپنے نیک بندوں کو آزما تا ہے جسے عربی میں ابتلا کہتے۔ جبکہ وہ یہ کہتے ہو ئے   بھول جا تے ہیں کہ وہ نیک بندوں کے لیے ہوتی ہے؟ اور نیک بندوں کی تعریف کیا فرما ئی ہے قر آن نے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ “ انکا جینا اور مرنا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے ہو تاہے؟ جبکہ ہمارا مر نا اور جینا خواہشات اور مال اور دولت کے لیے  ہےاور ہم میں وہ خامیاں بہ یک وقت موجود ہیں جن میں سے ایک ایک پر پچھلی قوموں پر  عزاب نازل کر کے  انہیں نیست اور نابود کر دیاگیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ قصے قرآن میں سنا کر خبر دار کر چکا  ہےکہ انہوں نے یہ کیا تو ہم نے عزاب بھیج کر انہیں تبا ہ کر دیا اس کے لیے ہمیں فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی ! پہلی دفعہ زمین کوحکم دیدیا کہ تو اپنا پانی اگل دے اور آسمان کو حکم دیا کہ تو پانی بر سانا شروع کر دے اور اسطرح پوری دنیا کو تباہ کر دیا؟ پھر کسی قوم کو صرف ایک چنگھاڑ سے تبا ہ کر دیا، کسی کو آسامان سے آگ بر سا کر تباہ کر دیااورکسی کو نشان زدہ پتھر بر ساکرغرق کر دیا؟
اور ہمیں سب کو یہ حکم دیا کہ “ مجھے مانوں  میں مومنوں کا ولی ہوں اور کا فروں کا ولی شیطان ہے۔میں نے دونوں راستے واضح کر دیئے ہیں اب چاہو تو میرا کڑا مضبو طی تھام لو اور نور کی روشنی میں چلو یا شیطان کااتباع کرکے ظلمات کی طرف چلے جاؤ “ اور ظلم اور ظلمات کیا ہے؟  سب سے بڑا ظلم شرک ہے اور شرک کیا ہے کسی کو اللہ جیسے صفات کا مالک سمجھنا اور اس کے حرام کیئے ہوئے کو حلال ،اور حلال کیے ہو ئے کو حرام سمجھنا؟ یا کسی اور نظام کو اسلامی نظام کے سوا بہتر سمجھ کر اختیار کر نا؟ اس کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جو اسلامی ملک ہیں وہ تو قطعی طور پر پابند ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کر دہ نظام کو اپنے یہاں پوری طرح نافذ کریں اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے ورنہ باغیوں کی جو سزا ہے اس کے لیے تیار ہو جا ئیں ؟ جبکہ یہ بھی بتادیا ہے کہ میں کسی کو سزا دے کر خوش نہیں، بس تم میری با ت مان لیاکرو اس سے روگردانی مت کرو اگر کی تو پھر تمہارا حشر بھی یہ ہی ہو گا؟ لہذا تمارے لیے لازمی ہے کہ تم اپنے میں ایک جماعت رکھو جو بھلائی کی طرف بلا تی رہے اور برائی سے رو کتی رہے؟ اور جب معاشرے مں برا ئیاں بڑھ نے لگیں تو اسے طاقت کے زور پر روکے اور اگر سچائی مغلوب  ہوجائےاور برائی بڑھ جائے تو زبان سے منع کرو اور یہ بھی طاقت نہ ہو تو ان کے ساتھ گھلو ملو مت ان کے افعال سے نفرت کرو؟ اگر یہ کر نا چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق پوری قوم کو تبا ہ کردے گا؟ جب یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں تو حضور (ص) تکیہ لگا ئے ہو ئے تشریف فرما تھے ،وہ (ص) اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا ،جب ایسا ہوگا تو عزاب تمہیں چاروں طرف گھیر لیں ۔ کم نا اہلوں کے ہاتھوں میں اقتدار آجا ئے گا اور تم دعائیں مانگو اور تمہاری دعا ئیں قبول نہیں ہو نگی؟ کیا ہم اس منزل کے قریب نہیں پہونچ چکے ہیں ۔ کیونکہ ہم میں ڈھونڈے سے سچا نہیں ملتا، کوئی برائیوں پر مخلص منع کر نے والا نہیں ملتا؟ جو ہیں ان کا بھی یہ عالم ہے کہ دوسروں کو منع کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے  “تم وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو“ کیونکہ اس نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ پہلے خود یمان لا ؤپھر اس  پرعمل کرو اس کے بعد دوسروں  کوعمل کی تلقین کرو؟  جبکہ ہماری یہ حالت ہے کہ ستر سال میں اللہ کے ساتھ کیئے ہوئے اپنے وعدے پورے نہیں کرسکے بلکہ اس کے قوانین جو ہمارے دستور کا چوالیس سال سے حصہ ہیں ان کو نا فذ کر تے ہو ئے جان نکلتی ہے؟ تو کیا وہ ہمارے لیے اپنی سنت کو ترک کر کے ہم پر رحمتوں کی بارش کرے گا؟
اس کا حل وہی ہے جو اس  نےخود تجویز فرمایا ہے کہ توبہ اور اس پر استقامت؟ ابھی وقت نہیں گیا، ہے کوئی جو تائب ہو اور سمجھے رمض کو ؟ ورنہ سابقہ قوموں کی طرح تمہاری بھی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت دے (آمین)

Posted in Uncategorized

جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

       پرانے زمانے میں آگ سے آگ سلگا ئی جاتی تھی، پھر اسے اچھی طرح بھڑکاتے تب کہیں جاکر کھانا پکانے کی نوبت آتی۔اگر وہ بجھ جاتی تو دوبارہ جلانے کے لیے یاتو برابر والے گھر یا بستی سے مانگ کر لاتے تھے۔ ورنہ ایک درخت عرب میں پایا جا تا تھا جس کی دو شاخوں کو آپس میں رگڑ کر پیدا کر تےتھے۔ اس کا ذکر قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے فردیا تھا۔ اُس وقت یہ حیرت کی بات تھی کیونکہ اس کی وجہ انسانوں کو معلوم نہ تھی ۔ جبکہ وہ صرف عرب میں ہی پایا جاتا تھا یا دنیا کے اوربھی خطے بھی اس سے کام لیتے تھے یہ ابھی تک صیغہ راز میں ہے ۔ لیکن اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آگے سلگانے کے لیے کافی وقت اور سفر درکار ہو تا ہوگا۔ اسی لیئے چنگاری کو اسوقت بہت سنبھال کر اور راکھ کے ڈھیر میں بہت گہرا دبا کر رکھتے تھے۔ کیونکہ گھر گھاس پھوس کے تھے اور آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگتی تھی؟ اس کے بعد انسان نے چقماق ( پتھر) معلوم کر لیا اور آگ پیدا کر نا بہت آسان ہو گیا۔ پھر ماچس کا دور آیا جس سے آگ جلانے کے لیے “ تِیلی دکھانے کا“  محاورہ معرض وجود میں آیا۔ لیکن بجلی کی دریافت کے بعد اب یہ وجہ ہر بچے کو بھی معلوم ہے کہ دوچیزوں کو مستقل رگڑ نے سے حدت پیدا ہوتی ہے جو آگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ جس کا آئے دن آگ بھڑکنے کا مشاہدہ جہاں جنگلات ہیں وہاں عام ہے۔ بجلی کی مزید ترقی سے پھر یہ دریافت ہوا کہ اگر چنگاری کو کچھ فاصلے سے جمپ کرائی جائے تو بھی آگ پیدا ہوسکتی ہے ؟لہذا تیلی دکھانے کی اب ضرورت بھی نہیں رہی آجکل ہم اور ہمارے علاوہ جو فضاؤں میں اڑرہے ہیں وہ اسی دریافت کا کرشمہ ہےاس پر طرہ یہ کہ سب کچھ دور بیٹھ ریموٹ سے کنٹرول ہو تا ہے لہذا کوئی دیکھائی بھی نہیں دیتا؟ چونکہ یہ بہت ہی وسیع مضمون ہے اگر تفصیل میں جا ئیں تو صفحات ناکافی ہونگے ،دوسرے ڈر بھی ہے کہ ہمارے علماءیہ کہتے ہیں کہ قر آن سائینس کی کتاب نہیں؟ ۔ جبکہ ہم جیسے جاہلوں کو ہر علم کی بنیا دغور کرنے سے وہیں نظر آتی ہے ،جو ابھی تک نظر نہیں آئی وہاں تک انسانی علم نہیں پہونچا؟ چلیے اس بحث کو چھوڑ کر بزرگوں کا قول لیتے ہیں کہ چنگاری ہمیشہ دبا کے رکھو، ورنہ آگ لگ سکتی ہے۔ نواز شریف صاحب سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ آگ کی بھٹی کیسے سلگائی جاتی ہے اور پتھر کیسے بھٹی کو سلگانے میں مدد گار ہوتے ہیں اور جب لوہا تپ جا ئے تو انتہائی ٹھوس دکھائی دینے کے باوجود وہ پھلجھڑی بن کر ہوامیں تحلیل ہو جاتا ہے؟
انہوں نے نہ اپنے تجربات سے فائدہ اٹھایا نہ بزرگوں کے اقوال سے، جو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ خون ِ ناحق رائیگاں نہیں جاتا،نقل میں کوئی عقل نہیں ہو تی ،دوسرے یہ کہ بڑا نوالہ کھالو۔ مگربڑی بات نہ کرو، پھر آگے قرآن ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے “ تکبر میری چادر ہے اس سے دور رہو“
 انہوں نے پہلے تو چنگاری کو حقیر سمجھ کر اس پر راکھ ڈالنے کے بجا ئے اسے اوپر آنے اور بھڑکنے دیااور جب بات اتنی بڑھی کہ خون بہانا پڑگیا تھا؟ تو بھی وہ اگر اس وقت  انصاف کی راہ میں حائل نہ ہو تے تو بات اتنی نہ بڑھتی، مگر وہ جہاں آٹھ سال جلا وطن رہے ہیں؟ ان کے فلسفہ سے اتنے متاثر ہو چکے ہیں کہ انہوں نے طرز حکمرانی بھی وہی اپنا لیا کہ صرف اپنے قبیلہ کو حکمراں رکھو، ہر عہدہ انہیں کو دو ؟یہ نہیں سو چاکہ وہ ایسے کسی قبیلہ کے سربراہ نہیں ہیں، جس کا قبیلہ عربوں جیسی روایتی قبائیلی عصبیت کی بنا پر ان کا ساتھ دے؟
 اس کے برعکس پاکستانی ایک قوم ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کے شیدائی ہیں وہ بھی اصلی اسلام کے کسی اور چھاپ کے نہیں ۔ لہذا ان میں “ نیکو کار “ پیدا ہو تے رہیں گے۔ اور اسلامی قدروں کی بات کریں گے اور حکمرانوں کی خواہشات کے مطابق عوام پرظلم نہیں توڑیں گے کیونکہ ظالم کا ساتھ دینے والے بھی ظالموں کے زمرے آتے ہیں ، دوسرے چاہیں عوام خود دین پر عامل ہوں یا نہ ہوں ؟ مگر پھر بھی وہ دہرائیں گے ضرور حضرت ابو بکر (رض) کے الفاظ  “ میں جب تک قرآن اور سنت پر چلوں تو میرا اتباع کر نا ، جب مجھے غلط راستے پر دیکھو تو روک دینا؟ حضرت عمر (رض) کے الفاظ  “ اگر ایک کتا بھی فرات کے کنارے بھوکا مر جا ئے تو عمر ذمہ دار ہے، پھر انہیں حضرت عثمان (رض) کے الفاظ بھی یا دہیں کہ “ چاہیں میری جان چلی جائے میں اپنے لیے مسلمانو ں کاخون بہتانہیں دیکھ سکتا  “ وہ باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول دہرا ئیں گے کہ “ انسان کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر عدل کے بغیر نہیں “ کیونکہ وہ اپنے حکمرانوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ یہاں بسم اللہ ہی غلط تھی کیونکہ ضیا ءالحق کی شاگردی اور اس کے انجام سے بھی انہوں نے کچھ نہیں سیکھا ؟ جو سب کو پیچھے چھوڑ کر اور یہ نعرہ لیکر آئے تھے کہ “ میں اسلام  کوعملی طور پر نافذ کرونگا ،جو پہلے والے نے دستور میں دفعات ہو نے کے باوجود نافذ نہیں کیا  “اور ان کی منکسر المزاجی بھی نہیں اپنا ئی کہ تمام طاقت کا سرچشمہ ہو نے کہ با جود وہ ہر ایرے غیرے کو دروازے تک لینے اور چھوڑ نے آتے تھے؟ جبکہ میاں صاحب سے ملنے کے لیے عوام تو عوام، سینٹ، پارلیمنٹ اوروزاءتک ترستے ہیں؟ بلکہ اس کے برعکس اس بات پر خاموش رہ کر اور اس کے خلاف آواز نہ اٹھاکر مجرمانہ غفلت برتی کہ “ اگر یہ دفعات نافذ کر دی گئیں تو سوائے مولویوں کے اسمبلیوں میں کوئی نہیں آئے گا؟ اور اس کے نتیجہ میں کسی غیبی اشا رے کی بنا پر تمام چھان بین بند کر دی گئی کہ قابلِ انتخاب لوگ جو سب پارٹیوں کی اساس تھے وہ اس پر پورے نہیں اترتے تھے؟ اس پر ظلم انہوں نے یہ کیا کہ خود ایسے وعدے کرڈالے جن پر عمل نہیں کر سکتے تھے ؟ جبکہ وہ اس پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے تجربہ نہیں تھا کیونکہ وہ کئی مرتبہ کے وزیر اعلیٰ اور تیسری مرتبہ وزیر اعظم ہو کر تشریف لا ئے ہیں، یہ درست ہے کہ ان کے اصل مخالف عمران خان بھی اپنی وعدے پورے نہیں کر سکے ؟ مگر وہ یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں ،قائد اعظم کی طرح کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ “ میری جیب کے سارے سکے کھوٹے ہیں “
 انہوں نے تاریخ سے بھی سبق نہیں لیا کہ یہاں آج تک جو بھی آیا، یا جس نے تختہ الٹا اسلام کے نام پر ہی الٹا کسی نے اصل اسلام لا نے کی بات کی کسی نے مساوات ِاسلامی کی بات کی اور کسی نے ماڈرن اسلام کی؟ اب بھی دو کھلاڑی میدان میں ہیں ۔ میرے نزدیک ان میں سب سے اہم طاہر القادری صاحب ہیں ۔ کیونکہ وہ اسلامی انقلاب کی بات کر رہے ہیں۔ واضح رہے میں کبھی ان کے معتقد ین میں شامل نہیں رہا، ثبوت یہ ہے کہ ہمیشہ ان کے خلاف لکھتا رہا ہوں ؟ لیکن میں اس کا قائل ہوں کہ یہ دیکھو کہ وہ کیا کہہ رہاہے، یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے؟
 چند دن پہلے ٹی وی پرایک بہت ہی بزرگ صحافی جو کہ کبھی عمران خان کے طرف دار تھے ،اب پتہ نہیں کہ ہیں یا نہیں؟ کہہ رہے تھے کہ جتنے بریلوی تھے وہ تو نکل چکے اب مزید نہیں نکلیں گے اور عمران خان نے ان کا ساتھ دیکر اپنی سیاسی تنزلی کا آغاز کردیا ہے ؟ اس طرح وہ تاثر دے رہے تھے کہ علامہ طاہر القادری بریلویوں کے ترجمان ہیں ۔ اس کا مقصد شاید اہلِ تشیع کے بعد اب بریلویوں اور دیوبندیوں میں سر پھٹول کرانا ہے ۔ جبکہ طاہر القادری نہ بریلوی ہیں نہ دہلوی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ہی سب کچھ ہیں ۔ جن کو انہیں وجو ہات کی بنا پر پر کوئی فرقہ بھی پسند نہیں کر تا، سوائے ان کے اپنے ماننے والوں کے؟ اگر موصوف کی مراد اس سے وہ اسلام ہے جو صوفیا ئے کرام سے چلا آرہا ہے جس کے آخری سرخیل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) یا دیوبند کے بانی حضرت امدا اللہ مہاجر مکی (رح) تھے تو وہ غلطی پر ہیں؟ وہ تو ابھی تک اس صوبے میں بھی برابر ہیں جو ان کے مخالفین کا گڑھ ہے؟ جو اس بیان سے ظاہر ہو تا ہے کہ جو مر کزی رویت ہلال کمیٹی کے چیر مین مفتی منیب الرحمان صاب نے فرمایا کہ “ ہماری اور ان کی مساجد تعداد میں برابر ہیں ،اسی سے وہ باقی پاکستان کابھی اندازہ کرسکتے ہیں۔ اگر اس سے مراد وہ فرقہ ہے جو مولانا احمد رضا خان  بریلوی (رح) کا اتبا ع کرتا ہے تو یہ نہ خود کو ان کا پیرو کہتے ہیں نہ وہ انہیں اپنا کہتے ہیں۔البتہ یہ ماننا پڑیگا کے ایک زمانے میں نواز شریف صاحب ہی طاہر القادری صاحب کو میدان میں لا ئے تھے۔ جوکسی وجہ سےبعد میں ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوگیا۔ جس کا قوم اب خمیازہ بھگت رہی ہے۔ جب میں یہ سطور اخبار کو بھیج رہا ہوں ابھی تک صورت حال میں سوائے اس کے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور وہ اس قتل عام پرحکمرانوں کی پیٹ ٹھونک رہی ہے؟ کیونکہ اگر فائلیں کھلیں تو چھٹی سب کی ہو جا ئے گی سوائے دوبارہ انتخابات کے کوئی اور چارہ کار نہیں ہو گا، اسے مزید سہارہ دینے کے لیے افواہوں کا زور ہے ، بے انتہا مقبولیت ثابت کر نے کے لیے نئے سروے لا ئے جا رہے ہیں جو مضحکہ خیز ہیں اگر خون بہانے کے بعد بھی کسی کی مقبولیت کا گراف بڑھ سکتا ہے؟ تو پھر بجا طور پر کہنا پڑے گا کہ پاکستانی قوم اس طرزِ حکمرانی کی بطور عذاب مستحق ہے؟ صورت ِ حال انتہا ئی متنازع ہے ۔ کبھی ان کا پوا بھاری ہوجاتا ہے کبھی ان کا ، دونوں طرف سے دعوؤں اورالزاموں کی بھر مار ہے۔  جبکہ ملک کی کسی کو فکر نہیں ہے جومعاشی طور پر پہلے ہی بد حال تھا اب مزیر تباہ ہورہا ہے؟ دنیا لین دین کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے گھبرارہی ہے لہذا محب الوطنی تقاضہ یہ ہے کہ ذاتی عناد چھوڑ کر اس تعطل کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ جس کی بظاہر دونوں طرف سے امید نہیں ہے ۔آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے( آمین)

Posted in Uncategorized

جھوٹ اور سچ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

 جس درمند انہ الفاظ میں ہمارے صفدر ھمدانی صاحب نے اپنا مضمون اس موضوع پر لکھا ہے۔ دل چاہا رہا ہے کہ میں کچھ نہ لکھوں اور وہی اس قوم کی تاریخ کے ماتھے پر قیامت آویزان رہے۔ مگر رسم ِ دنیا یہ ہے کہ قارئین ہر روز کچھ نیا چاہتے ہیں ۔ مگر میرے سامنے لکھتے ہوئے وہی مسئلہ آتا ہے کہ میں ان کے بعد کیا لکھوں؟ وہ لندن میں بیٹھے ہیں مجھ سے زیادہ با خبر ہیں پھر صحافت میں تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ ہے ان کے پاس  تازہ خبر کی حصول کے ذرائع بھی زیادہ ہیں۔ دوسرے ابھی تک لندن کی وہ مرکزی حیثیت باقی ہے جو کبھی تاج بر طانیہ کے تحت نصف دنیا سے زیادہ ہو نے کی وجہ سے حاصل تھی؟ پھر ہمارے حکمرانوں کے گھر اور کاروباربھی وہی ہیں اور حزب اختلاف کے تمام لیڈروں کے گھر بھی وہیں ہیں۔ بلکہ ایک صاحب تو ان کے شہری ہو نے کہ با وجود اس پوزیشن میں ہیں۔ جب چاہیں پاکستان کی شہ رگ منقطع کر دیں، پہیہ جام کر کے؟ جبکہ میں جہاں اقامت پذیر ہو ں یہ شہر اس کے باوجود کہ سالوں سے رہائش کے لیے بہترین قرار پا رہا ہے مگر اس کی حیثیت لندن کے مقابلہ میں ایک گا ؤں سے زیادہ نہیں ہےاور سورج مشرق طلوع ہو کر یہاں صرف غروب ہو نے کے لیے آتا ہے ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جب وطن ِ  عزیزمیں دن ہو تا ہے تو یہاں رات ہوتی ہے ۔یہاں اور وہاں میں بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔ خبریں یہاں پہونچتے پہونچتے میری طرح پرانی ہوجاتی ہیں۔بہر حال آپ لوگوں کی سمع خراشی کرنا میری ذمہ داری ہے لہذا میں یہ مضمون آپکی نذر کر رہا ہو ں کہ وقت ٹالے ٹلتا نہیں اور کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی پڑتا ہے۔
      پندرہ دن سے ایک ڈرامہ بر پا ہے دھر نے کی شکل میں؟ دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی تو پوں کے  دہانے کھولے ہو ئے ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے ہیں ۔ پورے ملک کی اکانو می ہی نہیں بلکہ ہرچیز کو داؤں پر لگا رکھا ہے۔ اس دھرنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قوم کی طرح یہ بھی دو گروپوں میں بٹا ہوا ہے۔ صرف ایک چیز ان میں مشترک ہے وہ نواز شریف کی دشمنی ؟
ان میں ایک پاپ کارن پارٹی ہے وہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نیا نقشہ پیش کر رہی ہے ۔اس میں کیمروں کے سامنے خواتین کو اپنے منہ کالے پیلے کیئے اور ناچتے ہو ئے دکھا یا جاتا ہے؟ اگر دوسرے دھرنے کی طرف جائیں تو وہاں باریش بزرگ اپنی نورانی سفید براق داڑھیوں کے ساتھ محو ِ رقص نظر آتے ہیں۔ جبکہ نہ یہ اسلامی تہذیب ہے اور نہ ہی یہ پاکستان نام کے ساتھ لگا کھاتی ہے ؟ہم نے سنا تھا کہ طریقت میں ایک فرقہ ہوا کرتا تھا۔ جو خود ملامتیہ کہلاتا تھا۔ وہ اللہ والے تھے اور نہیں چاہتے تھے کے لوگ ان کے پیچھے لگیں اور ان  کی عبادات میں حائل ہو ں لہذا خود کو اپنے سے دور رکھنے کے وہ رقص کرتے تھے تاکہ جان چھوڑ دیں۔ دوسراگروہ ناچنے والوں کا اہلِ طریقت میں بہت بعد میں پیدا ہوا جو خود کو حضرت مولانا روم کا پیرو بتاتا ہے اور ان مزاروں پر رقص کر تا نظر آتا ہے جن سے رقص کا تعلق کسی تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے جبکہ تمام اہلَ طریقت پوری  طرح شرع کے پابند ہو تے تھے اور مریدوںکو اسلام کی تعلیم دیتے تھے؟ اس پر طرہ یہ ہے کہ سب اپنا رشتہ اس عظیم ہستی سے جوڑ تے ہیں ان کے نام دھمال ڈالتے ہیں جو طریقت کے بانی تو تھے مگر وہ اس فعل کے کبھی مر تکب نہیں ہوئے؟
   دو ہفتے گزر گئے الحامی نعرے جاری ہیں کہ “ میرا دل کہہ رہا ہے ابھی چند گھنٹوں میں یا آئندہ چو بیس گھنٹے میں اچھی خبر آنے والی ہے  “اور جب وہ بات غلط ثابت ہو جاتی تو کہتے ہیں کہ ہم اتنے گھنٹے کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کر یں گے ، وہ لائحہ  عمل کیا ہے وہ راز آج تک نہیں کھل سکا ؟ جیسے کہ اکثر نوسر باز آواز لگاتے ہیں ؟ہم نے اپنے بچپن میں ایک نوسر باز کو آواز لگاتے سنا  “بھائیوں میں آپ کوابھی بتا تا ہوں کہ بارہ بجے چیل انڈا کیوں چھوڑتی ہے “اور پھر کہتا کہ میں انہیں بتا ؤنگا جومیری یہ دوا کی پڑیا خریدے گا ۔ سب سے ایک ایک روپیہ وصول کر تا اور ان ان سے اجازت چاہتا کہ“ یہ روپیہ آپ نے خوشی سے دیا وہ کہتے کہ ہاں پھر پوچھتا میں  “اسکو جیب میں رکھ لوں “ سب کہتے ہاں اور وہ اپنی  رکھ دکان سمیٹ ، چلا جا تا ؟
 چونکہ انسان تجسس لیکر پیدا ہوا ہے ؟دوسرے دن پھر اس کو نئے لوگ مل جاتے اور وہ ہی کھیل دوبارہ دہراتا ۔ رہی نماز وہ ان نہ ان کے ہاں پابندی ہے نہ ان کے یہاں؟ جھوٹے حکمراں بھی ہیں، جھوٹو ں کی اکثریت ہے۔ جبکہ حضور (ص) فرمایا کہ جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا ؟ لیکن جہاں لنکا میں سبھی باون گز کے ہوں وہاں کسی سے گلا کیا جاسکتا ہے؟
میں نہیں جانتا کہ کہ آپ کے ہاتھ میں جس وقت تک یہ تحریر پہونچے گی تو کوئی تبدیلی آچکی ہو گی یانہیں ۔ مگر میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ ڈگڈگی کوئی اور بجا رہا ہے؟ اس کا مظاہرہ جس طرح کل ہوا وہ آنھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے کہ اک پیغام آیا، آرمی چیف کی طرف سے اور جو لیڈر لائحہ عمل دینے والے اپنے کنٹینر چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ جس کا جواب نہیں؟ بات چیت شروع بھی ہو گئی ،اس میں چودھری نثار بھی شامل ہو گئے ؟ اور اس کے بعد اس کی تردید بھی آگئی کہ سب جھوٹ تھا؟ جو دیکھا خواب تھا جو سنا افسانہ تھا؟ اس سے میرے اس گمان کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ڈگڈگی کہیں اور بجتی ہے اور بندروں کا رقص یہاں جارہی ۔ آجکل رییموٹ کنٹرول کا دور ہے اور مداری اتنے ہیں جو نظر آتے ؟ ایسے میں کوئی بھلا بتالائے  کہ ہم بتلا ئیں کیا؟
ابھی تک اللہ نے بچا یا ہوا ہے۔ان دھرنوں کو اگر خدا نہ خواستہ کچھ ہو گیا اور کہیں بم پھٹ گیا ؟یا گولی چلا نے پہ کوئی تیار ہوگیا تو ان کا کون والی وارث ہو گا؟ جن کے سروں سایہ اٹھ گیا؟ ہمیں پتہ نہیں کہ جو لوگ حکومت کی بر بریت کی بنا پر ماڈل میں شہید ہو ئے یا زخمی اور اپاہج ہوئے ان کے بچو ں کی حسب وعدہ علامہ صاحب  نےخبر گیری کی یا نہیں؟ اگر کی تو بڑی اچھی بات ہے  کیونکہ وہ تو خود کو سرکار (ص)کا غلام کہتے ہیں اور انہیں وعدہ نبھانا چاہیئے  تھا؟ کیونکہ حضور (ص) فرمایا کہ وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں ؟
 حکومت اور حزب اختلاف کے قول میں اتنا تضاد ہے جو پنجاب میں بھی نظر آرہامر کز میں بھی نظرآ رہا ہے؟ پختون خواہ میں  بھی نظر آرہا ہے۔اورفقیر کی گدڑی میں بھی نظر آرہا ہے کہ خود کنٹینر میں ہے اور عوام کھلے میدان اور بارش میں؟
جب تک ہمارا اپنا کردار درست نہ ہو مجھے تبدیلی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ آسانی  سےاستعفیٰ دے کر چلے جا ئیں گے۔ کہ الیکش میں دھاندلی ہو ئی ہے، یا عدالت نے ان کو الزام دیا ہے؟ یہ دنیا کے مہزب ملکوں میں تو ہو تا ہے ۔ مگر ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور ایسا ہوا بھی ہے تو شاذ نادر ہے؟ اگر قوم قر بانی دے بھی اور اس سے کچھ حاصل نہ ہو تو صرف حکرانوں کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہو سکتا ؟ کیونکہ کنکروں سے جب کنکر ٹٹولیں گے تو بڑا ہی پتھر ہا تھ میں آئے گا کنکروں کے ڈھیر میں کھوجنے سے ہیرا نہیں ملا کرتا؟ ہیرا جب ہی مل سکتا ہے جب پہلے عوام الناس ہیرا بن جا ئیں پھر ان میں منتخب ہو کر ہیرے آسکتے ہیں ااور اسلام کی نشاة ثانیہ ہو سکتی ہے جو کہ پاکستان کے حصول کامقصد تھا؟ اللہ قوم کو بصیرت دے کہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں (آمین)

 

Posted in Uncategorized

پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان دوست باخبر ہیں۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

  ہم نے دو تین دن پہلے ایک تصویر اس خبر کے ساتھ دیکھی کہ آرمی چیف نے شہباز شریف صاحب اور چودھری نثار صاحب سے ملاقات کی ہمارا ماتھا وہیں پر ٹھنکا؟ کیونکہ یہ دونوں حضرات پاکستانی میڈیا کے مطابق جناب نواز شریف سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ چودھری نثار صاحب تو ظاہر ہے  کہ وزیرِ داخلہ ہیں اور بچھلے دور میں مشرف کو کمانڈر انچیف بنوانے کی غلطی کر کے نتیجہ بھگت بھی چکے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف صاحب کی سرکار ی حیثیت تو ویسی نہیں ہے، مگر دولہا کا چھوٹا بھائی جیسے کہ شہ بالا بن کر کچھ نہ ہوتے بھی وہ نصف دولہا شمار ہوتا ہے اور اگر دولہا زیادہ پھولوں سے لدا پھندا ہو تو اور اسے راستہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ اندھے کی لاٹھی کا بھی کام دیتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی وہ اس کی مان بھی لیتا ہے کبھی جھڑک دیتا ہے یا چانٹا رسید کر دیتا ہے۔ یہاں بھی ان کو وہی حیثیت حاصل ہے۔
اس ملاقات میں خاص بات یہ تھی کہ کمانڈر انچیف کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ بس بہت ہوچکی؟ ایسا لگتا تھا کہ وہ حکومت کے اس سلوک پر خوش نہیں ہیں جو اس نے طاہر القادری صاحب کے حامیوں پر پہلے گولی برسا کر کا رنامہ انجام دیااور اب انہیں ہرطرف سے محصور کرکے اور کھانا پانی بند کرکے  دوسرا کارنامہ انجام دیا۔ اس لیے کہ عوام کے نزدیک کسی دشمن کا بھی کھانا پانی بند کر نا یزیدی کام سمجھا جاتا ہے وہ اس پر خوش نہیں ہوتے۔ کیونکہ فوج اس وقت حالت جنگ میں ہے وہ یہ نہیں چاہتی کہ گاؤں، گاؤں اور شہر، شہر باغیوں کے ہزاروں جزیرے بن جا ئیں اور اس کو اصل کام چھوڑ کر ادھر بھا گنا پڑے جبکہ وہ فتح کے بہت قریب ہے؟
ہمارا خیال ہے کہ پہلے انہوں نے آہستہ سے سمجھایا ہوگا پھر وہ کہنے آئے ہونگے کہ “ انف ا ز انف “ جو حکومت کے عدالت عظمیٰ میں جانے اور چیف جسٹس صاحب کےویک اینڈ پر چھ بینچیں بنانے  کےحکم سے ظاہر ہو رہا ہے۔  جبکہ  مزید وضاحت  اس حکوم سےہورہی ہے کہ “ کوئی ادارہ آئین سے تجاوز نہ کرے۔“یہ تو ہمارا اپنا تجزیہ تھا ۔
کیونکہ یہ بڑا خطرناک کھیل ہے؟ اگر انصاف کے تمام دروازے بند کر دیں اور کسی بے ضرر جانور کو بھی ہر طرف سے محصور کر دیں تو وہ مارنے مرنے پر تیار ہو جا تا ہے۔ وہ صورت حال تو اب دور ہوگءی؟ کیونکہ فوج کی تاریخ یہ ہے کہ کمانڈر انچیف اس وقت تک ماتحت ہو تا ہے صدر یا وزیر اعظم کا، جب تک کہ اس کابطور کمانڈر انچیف نوٹیفکیشن جاری نہ ہوجائے اور اسے چارج نہ مل جائے؟ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ وہ آتا ان کی مرضی سے ہے اور جاتا اپنی مرضی سے ہے؟ پاکستان کی اٹھتر سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ اور ہمیشہ سے  یہ  “چو ہا بھاگ بلی آئی کا کھیل جاری ہے“ اسٹیبلش منٹ کے دونوں ہاتھوں میں لڈو رہتے ہیں؟ ایک میں حکومت اور دوسر ے میں حزب اختلاف ۔جبکہ طاقت کا سرچشمہ وہ چھوٹا سا ڈنڈا ہو تا ہے جو کمانڈر انچیف کی بغل میں دبا ہوتا ہے؟ اسی سے چیک اینڈ بیلینس کا کام لیکر اسے دونوں کو محرک رکھنا ہوتا ہے تاکہ کوئی حد سے تجاوز نہ کر پائے۔ میں کسی پر الزام نہ لگاتے ہوئے یہ بلا خوف ِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ  تحریکیں بھی کسی کی ہدایت پر تھیں اور جو بھی ہوا وہ بھی اسی کی ہدایت اور اسی کی شہ پر ہوا۔ مگر ہر چیز اپنے وقت پر صحیح رہتی ہے۔ نظام الاوقات میں کہیں کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔
    یہ تو تھی اندرونی صورت ِ حال جب سے ہم ایٹمک پاور بنے ہیں ہمارے دوستں کو سب سے فکر  اسی کی رہتی ہے لہذا وال اسٹریٹ جنرل فکر مند ہے کہ یہ ہتھیار کہیں غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جا ئے؟ ور اسی کے مطابق فوج دونوں دھڑوں میں مصالحت کی کو شش کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بہتر کون ہوسکتا،مصالحت کنندہ ؟ کیونکہ دونوں ہی نامکمل ہیں اس کی حمایت کے بغیر اور نہ ہی انکا کوئی مستقبل ہے۔ خدا خیر کرے کہ راستہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے اور مصالحتی کوششیں کامیاب ہو جائیں جوکہ ظاہر ہے کہ “ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہونا چاہیئے ؟ جبکہ یہ بھی ممکن ہے بغیر کسی نتیجہ کے  یہ بھی ختم ہو جائے کیونکہ کرٹ میچ بھی تو کبھی کبھی ڈرا ہو جاتا ہے؟ جیسے کہ پی پی پی کے دومیں طا ہرالقادری صرف وعدے لیکر چلے آئے تھے؟
کیونکہ پاکستان کی ساست اتنی الجھی ہو ئی ہے کہ کوئی اس کا بندہ ہے تو کوئی اس کا بندہ ہے۔ جبکہ اللہ کا بندہ کوئی نہیں ہے جس کےنام پر یہ ملک بنا تھا؟ ہر شخص یہ ہی سمجھتا ہے کہ اتنا کر نا کافی ہے کہ گھر میں قرآن شریف طاق میں رکھدیا جا ئے اور ایوان حکومت میں دستور کی اسلامی دفعات کو طاق مں رکھدیا جائے۔ سب یہ بھولے ہو ئے ہیں کہ بچھلی قوموں کی چالبازیوں پر اللہ سبحانہ تعالی انہیں کیا سزا دی ؟

 

Posted in Uncategorized

مسلمان پاکستان سے پہلے اور بعد میں۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

    جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو یہ دیکھا کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کر رہے تھے کیونکہ یہ انگریزوں کا طرز حکمرانی تھا کہ جن حصوں میں مسلمان اکثریت میں تھے وہاں ہندو حکمرانی کا کا انجام دیں اور جہاں ہندو اکثریت میں ہوں وہاں مسلمان۔ مزہ یہ تھا کہ سب بھائیوں کی طرح رہتے تھے اور سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بھی۔ یوں مسلمان اکثریت کے جن کو بخوبی قابو میں کیے ہوئے تھے۔  اس پرکمال یہ تھا کہ سب ایک دوسرے کے تیو ہاروں میں شریک ہوتے تھے مگر انہیں احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ الگ شناخت بھی رکھتے ہیں؟ لیکن ایک نادیدہ حصار تھا جس کے اندر مسلمان قلعہ بند تھے اور وہ اس کے ذریعہ اپنی شناخت بر قرار رکھتے تھے اور کبھی اتنے خلط ملت نہیں ہوئے جیسے کہ غیر محسوس طریقہ سے آج ہندو تہذیب کے چنگل میں اب ثقافت کے نام پر ہیں کہ ہندوستاں میں نوبت شادی بیاہ تک پہونچ گئی پاکستان نے یہاں تک تو ترقی نہیں کی مگربچے بچے کی زبان پر ہندوستانی گانے ہیں اور مہندی سے لیکر نکاح تک کی تمام تقریبات پاکستانی تہذہیب کا حصہ بن چکی ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ، ان میں اچھوں کا تناسب بہت زیادہ تھا کہ اس وقت برائی کو برائی سمجھا جاتا تھا اور اس پر نگراں بزرگ تھے اور ان کا سب احترام کرتے تھے وہ کسی نام پر بھی غیر اسلامی ثقافت کو رائج نہیں ہونے دیتے تھے؟   جبکہ برے گنتی کے چند لوگ ہوتے تھے۔وہ کوئی برائی اگر کرتے بھی تھے تو چوری چھپے؟ مسلمانوں کے پیشِ نظر یہ فخر تھا کہ ہم راہ ِ راست پر ہیں اورایک ہی بات کی لگن تھی کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیسے ہو ؟ اس پر مسلمانوں میں دو رائیں نہیں تھیں اور تمام فرقے متفق تھے۔
 حالانکہ فرقے تھے تو اس سوقت بھی تھے مگر فرقہ بندی نام کی کہیں کوئی برائی موجود نہ تھی۔ کہ ایک آواز کہیں سے اٹھی کہ “یہ بد عتی اور وہ بد عتی “ جس سے خلیج پیدا ہو کر بڑھنے لگی، پہلے سنیوں میں تفرقہ بازی پیدا ہوئی اور ملت دیوبندی اور بریلوی عقائد میں بٹ گئی۔ پھرسن چالیس کی دہائی میں شیعہ سننی کشیدگی پیدا ہوئی؟
 لیکن اسی دوران پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور انہیں نعرہ دیاگیا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اللہ الا اللہ ، سب نے آواز سےآواز ملائی اور فضا “ اللہ اکبر “ کے نعروں سے گونجنے لگی۔ ہندوستان بھر میں اس کارد ِ عمل ہوا اور ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے لہذا اکثریت کے خوف سے مسلمان پھر متحد ہوگئے، اس وقت بنگال سے صرف مولوی فضل الحق مرحوم کی آواز گونجی جوکہ متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے کہ “ اگر ایک مسلمان کو بھی کہیں نقصان پہونچا تو ہم اس کا بدلہ لیں گے “ اس کے صلے میں مسلم امہ نے انہیں شیر بنگال کے خطاب سے نوازا۔ مسلمانوں نے ازسر ِ نو اپنا تنقیدی جائزہ لیا جو تھوڑی بہت برائیاں تھیں ان کو بھی دور کرنا چاہا سوائے نام نہاد “ بد عتوں “ کے کیونکہ یہ مختلف فرقوں کے عقائد کا معاملہ تھا؟ بلا تفریق مساجد بھر گئیں امت نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور وہ سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ یہ اسی اتحاد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان بن گیا، بنا بھی اس مقدس مہینےاور رمضان شریف کی مقدس ترین رات میں یعنی ستائیسویں رات کو۔
 یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مسلمانوں کو تیاری کا موقعہ ہی نہیں ملا؟ اتنے میں دونوں طرف فسادات پھوٹ پڑے اور دونوں طرف سے آبادی کا انخلا شروع ہوگیا جوکہ کسی کے خواب اور خیال میں بھی نہ تھا، چونکہ مسلمان فوجوں کو جان کر اغیار نے ملک سے باہر ڈالا ہوا تھا لہذا مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ،سڑکیں غیر محفوظ ہو گئیں، ریلوے جو اس وقت سب سے بڑا نقل و حمل کا ذریعہ تھی وہ راستہ بھی مخدوش ہوگیا ،دونوں طرف خون میں نہائی ہوئی ٹرینیں بچی کچھی لاشوں کو لیکر آنے جانے لگیں، کچھ  لوگ ان کو غیر محفوظ دیکھ کر قافلوں کی شکل میں چلے ان پر بھی راستے میں حملے ہوئے؟ لیکن جن کی موت نہیں لکھی تھی وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پہونچنے میں کامیاب ہوگئے؟ مقامی لوگوں نے انصارِ مدینہ کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کا استقبال کیا؟
اس پورے عرصے میں کوئی عصمت دری کا واقعہ نہیں ہوا ، زندوں اورمردوں کی جبیں ٹٹولنے کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا، جو آج کل عام ہے نہ ہی چوری، نہ ڈکیتی، دھوکہ دہی کاواقعہ پاکستانی علاقہ میں پیش آیا۔
    کہتے ہیں کہ بگاڑ ہمیشہ اوپر سے شروع ہو تا ہے۔ پہلا بگاڑ وہاں سے شروع ہوا جب کہ مسلم رہنماؤں نے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں اس کی حکمرانی ہوگی؟ اسی کے ساتھ ٹال مٹول سے کام لینا شروع کیا ؟ پھر ہرایک اسلام کے لانے اور احتساب کے نام پر آتا رہا ہے؟ مگر ہم اسلام سے اتنے ہی دور ہوتے چلے گئے ، جتنے کہ پہلے قریب تھے؟ اب ہم پستی کے اس گڑھے کے قریب ہیں جو قرآنی زبان میں دوزخ کہلاتی ہے اور اس کی تپش ہم سب کو جھلسائے دے رہی ہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وعدہ خلافیوں کی بنا پر اپنی نصرت روک لی ہے۔ وہ محبت جو ہمارے دلوں میں تھی جس سے مواخات مدینہ ہوئی تھی مہاجر اورانصار کے درمیان،  جس کو مثال بنا کر انصار ِ پاکستان نے ان مقدس نفوس (رض) کے اتباع میں جو خود کو بطور ماڈل پیش کیا تھا وہ جذبہ نہ صرف دھندلاتا چلا گیا بلکہ آج ناپید ہے ۔ جھوٹ وعدہ خلافی نا انصافی وہ لعنتیں ہیں جو باہمی اعتماد کی دشمن ہیں۔ ان کیوجہ سے آج ہم میں باہمی اتحاد اور اعتماد مفقود ہے؟ پہلے ہم ہر مسلمان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرلیتے تھے۔ مجھے سندھ میں رہنے کی وجہ سے وہاں کاتجربہ ہے کہ کسی کے دروازے پر چلے جاؤ اور کہہ دو کہ ہم مہمان ہیں؟  گھر پر مرد بھی نہ ہو، تو بھی خواتین کھانا دیدیتیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ہمدردی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ دھوکہ دہی کی واردات نہ کر جائیں چور اور ڈاکوؤں کے ساتھی نہ ہوں؟
   ہمارے رہنماؤں نے یہ سوچ کر کہ وعدہ کرکے پھرنا برائی نہیں ہے، اسی روش کو عوام کے ساتھ بھی جاری رکھا کہ الیکشن کے لمبے چوڑے وعدے کرو اور پھر کانوں میں روئی دے لو،اور کہہ دو کہ وعدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے؟ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں؟علماءکا اتحاد بنا وہ کہیں کہیں پر بر سرِ اقتدار بھی آیا، لیکن کیا وہ حسب وعدہ پرانے بھاؤ اور خلافت راشدہ واپس لاسکے، جو انہوں نے بھٹو صاحب کے دور میں عوام سے وعدے کیئے تھے؟ضیاءا لحق ایک قدم اورآگے گئے کہ انہوں نے اقتدار پرقبضہ کرتے وقت کہا کہ دوسرے صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے، میرا وعدہ ہے کہ میں اسلام کو پاکستان میں عملی طور پر ہر شعبہ میں نافذ کرونگا ! مگروہ گیارہ سال میں نہیں کرسکے؟ پھرمشرف صاحب تشریف لے آئے انہوں نے عوام کو اسلام کی ڈگر سے ہٹا کر پاکستان کو ماڈرن بنا نا چاہا، وہ بھی جذوی طور پر کامیاب ہو سکے اوران کے گرد وہی لوگ جمع ہوسکے جو مفاد پرست تھے کیونکہ ابھی تک یہ ملت اس کے باوجود کہ اس میں تمام خرابیاں آگئیں ہیں ! اپنی تمام پریشانیوں کاحل اسلام میں ہی ڈھونڈتی ہے۔ جبکہ عمل کے اعتبار سے اسلام سے بہت دور چلی گئی ہے؟ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے اللہ جانتا ہے؟
   وجہ وہی ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی وہی کام کیا جو جانے والے کرتے آئے تھے۔ یعنی جھوٹے وعدے، بجلی کا بحران ہم چٹکی بجا تے ہی حل کر دیں، بد عنوانیاں دور کر دیں گے، سب کو روزگار مہیا کردیں گے؟ جبکہ انہیں معلوم تھا کہ بجلی گھر ایک دن میں نہیں بنا کرتے، اس سلسلہ میں گزشتہ حکومت کی ناکامی بھی دیکھ چکے تھے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر تے نہیں ہواور اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے(سورہ الصف آیات ١،٢)
اب جو رہنما بطور حزب ِاختلاف میدان میں ہیں وہ بھی وہی کام کر رہے ہیں یعنی گمراہ کن وعدے ؟ ان میں ایک جماعت وہ بھی شامل ہے جو کہ ایک صوبہ پر حکمراں ہے۔ وہ بھی اپنے وعدے وہاں پورے نہیں کر سکی گوکہ اس نے مخلصانہ کوشش کی،اور نہ ہی کوئی ان حالات میں پورے کرسکتا کیونکہ جب معاشرہ پورا کا پورا بد عنوان ہو تو وہ کل اور پرزے کہاں سے آئیں گے جو انقلاب بر پا کر کے اسے چلا سکیں؟ یہ ا نقلاب بھی جس کے آج کل نعرے لگ رہے ہیں اور تاریخیں دی جارہی ہیں یا تو مزید خون خرابے پر متنج ہونگے؟ اور اگر کسی اور کے اشارے پر ہورہے ہیں تو وہی ہو گا جو اب تک ہو تا آیا؟ کہ ً بی فاختہ ہمیشہ کی طرح انڈے دینگی اور سہیں گی بعد میں انہیں کوئے کھا جا ئیں گے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ اس کاحل کیا ہے وہ بھی قرآن نے ہمیں بتایا ہوا ہے کہ “ اگر تم سے کوئی غلطی ہوجائے تو مجھ  (اللہ )سے ہی رجوع کرو توبہ کر کے آؤگے تو میں معاف کردونگا۔ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما ئے ( آمین) اس یوم ِ استقلال سے من حیثیت القوم اس پر عمل پیرا ہوں۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ راضی ہو جا ئے اور عذاب ٹل سکے۔
 مگر یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ کیونکہ ہم برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں جو توبہ کریں۔ لیڈروں میں سے بشمول اسلامی جماعتوں کے دستور کی اسلامی دفعات کے نفاذ کی کوئی بات نہیں کرتا سوائے طاہر القادری  صاحب کے جوکہ اس پر خود عمل کرتے ہوئے ہمیں دکھائی دیتے؟ا جب تک ایسا کوئی  نہیں ملے گا، جو اسوہ حسنہ (ص) کو اپنائے کام کیسے بنے عوامی دباو اس سلسلہ میں پیدا کیسے ہوگا جبکہ مسلمان کہلانے کے باوجود عوام الناس کی اکثریت برائی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے؟

Posted in Uncategorized

مسلمان پاکستان سے پہلے اور بعد میں۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

    جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو یہ دیکھا کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کر رہے تھے کیونکہ یہ انگریزوں کا طرز حکمرانی تھا کہ جن حصوں میں مسلمان اکثریت میں تھے وہاں ہندو حکمرانی کا کا انجام دیں اور جہاں ہندو اکثریت میں ہوں وہاں مسلمان۔ مزہ یہ تھا کہ سب بھائیوں کی طرح رہتے تھے اور سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بھی۔ یوں مسلمان اکثریت کے جن کو بخوبی قابو میں کیے ہوئے تھے۔  اس پرکمال یہ تھا کہ سب ایک دوسرے کے تیو ہاروں میں شریک ہوتے تھے مگر انہیں احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ الگ شناخت بھی رکھتے ہیں؟ لیکن ایک نادیدہ حصار تھا جس کے اندر مسلمان قلعہ بند تھے اور وہ اس کے ذریعہ اپنی شناخت بر قرار رکھتے تھے اور کبھی اتنے خلط ملت نہیں ہوئے جیسے کہ غیر محسوس طریقہ سے آج ہندو تہذیب کے چنگل میں اب ثقافت کے نام پر ہیں کہ ہندوستاں میں نوبت شادی بیاہ تک پہونچ گئی پاکستان نے یہاں تک تو ترقی نہیں کی مگربچے بچے کی زبان پر ہندوستانی گانے ہیں اور مہندی سے لیکر نکاح تک کی تمام تقریبات پاکستانی تہذہیب کا حصہ بن چکی ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ، ان میں اچھوں کا تناسب بہت زیادہ تھا کہ اس وقت برائی کو برائی سمجھا جاتا تھا اور اس پر نگراں بزرگ تھے اور ان کا سب احترام کرتے تھے وہ کسی نام پر بھی غیر اسلامی ثقافت کو رائج نہیں ہونے دیتے تھے؟   جبکہ برے گنتی کے چند لوگ ہوتے تھے۔وہ کوئی برائی اگر کرتے بھی تھے تو چوری چھپے؟ مسلمانوں کے پیشِ نظر یہ فخر تھا کہ ہم راہ ِ راست پر ہیں اورایک ہی بات کی لگن تھی کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیسے ہو ؟ اس پر مسلمانوں میں دو رائیں نہیں تھیں اور تمام فرقے متفق تھے۔
 حالانکہ فرقے تھے تو اس سوقت بھی تھے مگر فرقہ بندی نام کی کہیں کوئی برائی موجود نہ تھی۔ کہ ایک آواز کہیں سے اٹھی کہ “یہ بد عتی اور وہ بد عتی “ جس سے خلیج پیدا ہو کر بڑھنے لگی، پہلے سنیوں میں تفرقہ بازی پیدا ہوئی اور ملت دیوبندی اور بریلوی عقائد میں بٹ گئی۔ پھرسن چالیس کی دہائی میں شیعہ سننی کشیدگی پیدا ہوئی؟
 لیکن اسی دوران پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور انہیں نعرہ دیاگیا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اللہ الا اللہ ، سب نے آواز سےآواز ملائی اور فضا “ اللہ اکبر “ کے نعروں سے گونجنے لگی۔ ہندوستان بھر میں اس کارد ِ عمل ہوا اور ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے لہذا اکثریت کے خوف سے مسلمان پھر متحد ہوگئے، اس وقت بنگال سے صرف مولوی فضل الحق مرحوم کی آواز گونجی جوکہ متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے کہ “ اگر ایک مسلمان کو بھی کہیں نقصان پہونچا تو ہم اس کا بدلہ لیں گے “ اس کے صلے میں مسلم امہ نے انہیں شیر بنگال کے خطاب سے نوازا۔ مسلمانوں نے ازسر ِ نو اپنا تنقیدی جائزہ لیا جو تھوڑی بہت برائیاں تھیں ان کو بھی دور کرنا چاہا سوائے نام نہاد “ بد عتوں “ کے کیونکہ یہ مختلف فرقوں کے عقائد کا معاملہ تھا؟ بلا تفریق مساجد بھر گئیں امت نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور وہ سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ یہ اسی اتحاد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان بن گیا، بنا بھی اس مقدس مہینےاور رمضان شریف کی مقدس ترین رات میں یعنی ستائیسویں رات کو۔
 یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مسلمانوں کو تیاری کا موقعہ ہی نہیں ملا؟ اتنے میں دونوں طرف فسادات پھوٹ پڑے اور دونوں طرف سے آبادی کا انخلا شروع ہوگیا جوکہ کسی کے خواب اور خیال میں بھی نہ تھا، چونکہ مسلمان فوجوں کو جان کر اغیار نے ملک سے باہر ڈالا ہوا تھا لہذا مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ،سڑکیں غیر محفوظ ہو گئیں، ریلوے جو اس وقت سب سے بڑا نقل و حمل کا ذریعہ تھی وہ راستہ بھی مخدوش ہوگیا ،دونوں طرف خون میں نہائی ہوئی ٹرینیں بچی کچھی لاشوں کو لیکر آنے جانے لگیں، کچھ  لوگ ان کو غیر محفوظ دیکھ کر قافلوں کی شکل میں چلے ان پر بھی راستے میں حملے ہوئے؟ لیکن جن کی موت نہیں لکھی تھی وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پہونچنے میں کامیاب ہوگئے؟ مقامی لوگوں نے انصارِ مدینہ کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کا استقبال کیا؟
اس پورے عرصے میں کوئی عصمت دری کا واقعہ نہیں ہوا ، زندوں اورمردوں کی جبیں ٹٹولنے کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا، جو آج کل عام ہے نہ ہی چوری، نہ ڈکیتی، دھوکہ دہی کاواقعہ پاکستانی علاقہ میں پیش آیا۔
    کہتے ہیں کہ بگاڑ ہمیشہ اوپر سے شروع ہو تا ہے۔ پہلا بگاڑ وہاں سے شروع ہوا جب کہ مسلم رہنماؤں نے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں اس کی حکمرانی ہوگی؟ اسی کے ساتھ ٹال مٹول سے کام لینا شروع کیا ؟ پھر ہرایک اسلام کے لانے اور احتساب کے نام پر آتا رہا ہے؟ مگر ہم اسلام سے اتنے ہی دور ہوتے چلے گئے ، جتنے کہ پہلے قریب تھے؟ اب ہم پستی کے اس گڑھے کے قریب ہیں جو قرآنی زبان میں دوزخ کہلاتی ہے اور اس کی تپش ہم سب کو جھلسائے دے رہی ہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وعدہ خلافیوں کی بنا پر اپنی نصرت روک لی ہے۔ وہ محبت جو ہمارے دلوں میں تھی جس سے مواخات مدینہ ہوئی تھی مہاجر اورانصار کے درمیان،  جس کو مثال بنا کر انصار ِ پاکستان نے ان مقدس نفوس (رض) کے اتباع میں جو خود کو بطور ماڈل پیش کیا تھا وہ جذبہ نہ صرف دھندلاتا چلا گیا بلکہ آج ناپید ہے ۔ جھوٹ وعدہ خلافی نا انصافی وہ لعنتیں ہیں جو باہمی اعتماد کی دشمن ہیں۔ ان کیوجہ سے آج ہم میں باہمی اتحاد اور اعتماد مفقود ہے؟ پہلے ہم ہر مسلمان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرلیتے تھے۔ مجھے سندھ میں رہنے کی وجہ سے وہاں کاتجربہ ہے کہ کسی کے دروازے پر چلے جاؤ اور کہہ دو کہ ہم مہمان ہیں؟  گھر پر مرد بھی نہ ہو، تو بھی خواتین کھانا دیدیتیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ہمدردی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ دھوکہ دہی کی واردات نہ کر جائیں چور اور ڈاکوؤں کے ساتھی نہ ہوں؟
   ہمارے رہنماؤں نے یہ سوچ کر کہ وعدہ کرکے پھرنا برائی نہیں ہے، اسی روش کو عوام کے ساتھ بھی جاری رکھا کہ الیکشن کے لمبے چوڑے وعدے کرو اور پھر کانوں میں روئی دے لو،اور کہہ دو کہ وعدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے؟ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں؟علماءکا اتحاد بنا وہ کہیں کہیں پر بر سرِ اقتدار بھی آیا، لیکن کیا وہ حسب وعدہ پرانے بھاؤ اور خلافت راشدہ واپس لاسکے، جو انہوں نے بھٹو صاحب کے دور میں عوام سے وعدے کیئے تھے؟ضیاءا لحق ایک قدم اورآگے گئے کہ انہوں نے اقتدار پرقبضہ کرتے وقت کہا کہ دوسرے صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے، میرا وعدہ ہے کہ میں اسلام کو پاکستان میں عملی طور پر ہر شعبہ میں نافذ کرونگا ! مگروہ گیارہ سال میں نہیں کرسکے؟ پھرمشرف صاحب تشریف لے آئے انہوں نے عوام کو اسلام کی ڈگر سے ہٹا کر پاکستان کو ماڈرن بنا نا چاہا، وہ بھی جذوی طور پر کامیاب ہو سکے اوران کے گرد وہی لوگ جمع ہوسکے جو مفاد پرست تھے کیونکہ ابھی تک یہ ملت اس کے باوجود کہ اس میں تمام خرابیاں آگئیں ہیں ! اپنی تمام پریشانیوں کاحل اسلام میں ہی ڈھونڈتی ہے۔ جبکہ عمل کے اعتبار سے اسلام سے بہت دور چلی گئی ہے؟ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے اللہ جانتا ہے؟
   وجہ وہی ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی وہی کام کیا جو جانے والے کرتے آئے تھے۔ یعنی جھوٹے وعدے، بجلی کا بحران ہم چٹکی بجا تے ہی حل کر دیں، بد عنوانیاں دور کر دیں گے، سب کو روزگار مہیا کردیں گے؟ جبکہ انہیں معلوم تھا کہ بجلی گھر ایک دن میں نہیں بنا کرتے، اس سلسلہ میں گزشتہ حکومت کی ناکامی بھی دیکھ چکے تھے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر تے نہیں ہواور اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے(سورہ الصف آیات ١،٢)
اب جو رہنما بطور حزب ِاختلاف میدان میں ہیں وہ بھی وہی کام کر رہے ہیں یعنی گمراہ کن وعدے ؟ ان میں ایک جماعت وہ بھی شامل ہے جو کہ ایک صوبہ پر حکمراں ہے۔ وہ بھی اپنے وعدے وہاں پورے نہیں کر سکی گوکہ اس نے مخلصانہ کوشش کی،اور نہ ہی کوئی ان حالات میں پورے کرسکتا کیونکہ جب معاشرہ پورا کا پورا بد عنوان ہو تو وہ کل اور پرزے کہاں سے آئیں گے جو انقلاب بر پا کر کے اسے چلا سکیں؟ یہ ا نقلاب بھی جس کے آج کل نعرے لگ رہے ہیں اور تاریخیں دی جارہی ہیں یا تو مزید خون خرابے پر متنج ہونگے؟ اور اگر کسی اور کے اشارے پر ہورہے ہیں تو وہی ہو گا جو اب تک ہو تا آیا؟ کہ ً بی فاختہ ہمیشہ کی طرح انڈے دینگی اور سہیں گی بعد میں انہیں کوئے کھا جا ئیں گے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ اس کاحل کیا ہے وہ بھی قرآن نے ہمیں بتایا ہوا ہے کہ “ اگر تم سے کوئی غلطی ہوجائے تو مجھ  (اللہ )سے ہی رجوع کرو توبہ کر کے آؤگے تو میں معاف کردونگا۔ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما ئے ( آمین) اس یوم ِ استقلال سے من حیثیت القوم اس پر عمل پیرا ہوں۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ راضی ہو جا ئے اور عذاب ٹل سکے۔
 مگر یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ کیونکہ ہم برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں جو توبہ کریں۔ لیڈروں میں سے بشمول اسلامی جماعتوں کے دستور کی اسلامی دفعات کے نفاذ کی کوئی بات نہیں کرتا سوائے طاہر القادری  صاحب کے جوکہ اس پر خود عمل کرتے ہوئے ہمیں دکھائی دیتے؟ا جب تک ایسا کوئی  نہیں ملے گا، جو اسوہ حسنہ (ص) کو اپنائے کام کیسے بنے عوامی دباو اس سلسلہ میں پیدا کیسے ہوگا جبکہ مسلمان کہلانے کے باوجود عوام الناس کی اکثریت برائی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے؟

Posted in Articles

موت موت اور موت ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

آج کل مسلم امہ کے لیے سب سے پسندیدہ جو چیز ہے وہ موت ہے! جس طرف نظر ڈالیے موت کی خبریں ملیں گی، افغانستان میں موت، عراق میں موت ، شام میں موت فلسطین میں موت، برما میں موت ،وغیرہ وغیرہ ۔ غرضیکہ کی جدھر دیکھئے ادھر موت ہی موت ہے ؟ جس کی یہ ملت اب اتنی عادی ہوچکی ہے کہ اگر کہیں نہ ملے تو یہ خود اسے جاکر دعوت دیتی ہے؟ ویسے تو پاکستان میں بہت سالوں سے موت عام ہے اور کوئی تیوہار بغیر موت سے دوچار ہوئے نہیں گزرتا تھا جس میں عید بھی شامل تھی ؟ اس مرتبہ فوج کی انتھک کوششوں اور مسلسل قربانیوں کی وجہ سے امن رہا ،تو اہلِ کراچی نے خود موت کی تلاش شروع کردی اور اسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ کیونکہ خود کو ترقی یافتہ ثابت کرنے کے لیے کچھ فن ( (fun ہونا ضروری ہے؟ وہ زمانے گئے جب مسلمان عید کے دن شکر ادا کیا کرتے تھے ؟ یہ ہی حال اور عبادتوں کا بھی ہے کہ ہم نے بہت سے حاجیوں کو حج سے واپس آکر یہ کہتے سنا کہ وہاں بڑا فن تھا ،وہ عبادت کے قصے کم سنا تے ہیں، کھانے کی فراوانی اور فن کے قصے زیادہ سناتے ہیں۔  وہ لوگ جوتیرہ ہزار ڈالر خرچ کرکے ( پاکستانی روپیہ میں تقریبا ً بارہ لاکھ بنتے ہیں) ہاں جاتے ہیں، ان کے واقعی وہ فن ہی ہو تا ہے کیونکہ انہیں تمام جدید ترین سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ اب وہ پہلے والا حج جس میں لوگ لٹ جاتے تھےاور جو اب حکمران وہ لوٹ لیا کرتے تھے، بہت سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے اور چھ مہینے سے لیکر ایک سال کا وقت درکار تھا حج کے لیے۔ جب اس صعوبت بعد وہ حاجی بنتے تھے تو شکر ادا کرتے ہوئے  گھرآتے تھے جبکہ اب موجودہ حکمرانوں نے جدید ترین سہولتیں فرا ہم کر کے لوٹنے کے لیے اپنے ہوٹل بنا لیے ہیں، اسے  انہوں نےفنی بھی بنا دیا ہے۔
   ہاں ! تو ہم بات کر رہے تھے کہ کراچی والے موت کو تلاش کرتے ہو ئے فن کے لیے سمندر میں نہانے پہونچ گئے اوراب تک کی خبر ہے36 مجاہد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ابھی ہنوز تلاش جاری ہے۔ جبکہ حکومت کا کہنا یہ ہے کہ وہاں دفع 144 لگی ہو ئی تھی اور نہانے پر بندش بھی تھی۔ اس کے بر عکس ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا یہ ہے کہ انہیں نہانے پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ملا۔ اس “ملا “ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ڈھونڈے سے نہیں ملا، یا ڈئ جی آفس کو نہیں ملا ؟اگر مل بھی جاتا تو وہ کیا کرتے جبکہ قانون شکنی کی پوری قوم عادی ہے اس لیے کہ اسے سزا کا خوف ہے ہی نہیں ہے نہ یہاں نہ وہاں ؟ یہاں کا تو اسے پتہ ہے کہ کبھی رسوخ کبھی پیسہ اور معاملہ زیادہ سنگینی اختیار کر جائے تو دونوں کے استعمال سے وہ چھٹ جا ئے گا ؟رہا وہاں کا معاملہ وہ بھی یہیں جیسا وہ قیاس کرتا ہے کہ مال حرام میں سے وہ اچھا خاصہ حصہ نیک کاموں پر بھی خرچ کر دیتا ہے اور مطمعن ہوجاتا ہے وہاں بھی سب خیرہی خیر ہے۔ لہذا وہ جو قتل کرتے نہیں ڈرتے وہ موت کے منہ میں کودتے ہوئے کب ڈریں گےا؟لہذا وہ لوگ بھی سمندر میں کودجاتے ہیں جنہیں تیر نا نہیں آتا ترقی یافتہ ملکوں کی نقل میں؟ جبکہ ترقی یافتہ ملکوں ک یہ عالم ہے کہ وہ ہر بچے کو تیرنا اسکول سے سکھاتے ہیں تاکہ ایمرجینسی میں کام آئے، جبکہ ہمارے بچوں کی اکثریت اسکول جاتی ہی نہیں ہے اور ملک آبادی کے لحاذ سے بہت بڑا ہے ابھی چھٹے نمبر پر کچھ دنو ں میں پیش گوئی ہے کہ دنیا میں چوتھے نمبر پر آجائے گا۔
 اس کی روشنی میں کمشنر کراچی کا کہنا یہ ہے کہ ساحل بہت بڑا ہے لہذا قانون شکنوں کو روکنا مشکل ہے؟ ان کے اس بیان سے ان کی بے بسی جھلک رہی اس لیے کہ یہ اس غلط بخشی کا نتیجہ ہے جو بھٹو صاحب سے شروع ہوئی یعنی بغیر پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیے لوگ کمشنر ہونے لگے اور ترقی کرکے یہاں تک پہونچا کہ ان کے نواسے کے دور میں دسویں جماعت فیل قومی اداروں کے چیر میں ہونے لگے ؟ممکن ہے وہ بھی انہیں میں سےہوں جو وایا بھٹنڈہ اس عہدے پر آئئے ہوں اس کا حل یہ ہے کہ کمشنری حلقے مختصر کردیے جائیں اور ہر گاؤ ں پر ایک کمشنر لگا دیا جا ئے؟ جس طرح پہلے ہم نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دو لخت کرکے چھوٹا کیا تھا؟ تاکہ انتظام میں آسانی رہے۔
      بعد از خرابی ِ بسیار انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کے وہاں جانے والے راستے بند کر دیئے ،پھر بھی بھی لوگ ساحل پر پہونچ گئے تو ان کی خاطر تواضع ڈنڈے سے کرنا پڑی یعنی لاٹھی چارج کر نا پڑا۔یہاں کئی باتیں غور طلب ہیں کہ جب راستے بند تھے تو، پھر وہ مار کھانے کو پہونچے کیسے ؟ اس کاصرف ایک ہی جواب ہے کہ قائد اعظم کے ذریعہ سے مگر کل تک یہ ہمارا گمان تھا لیکن اس کا ثبوت بھی آج ایک تازہ خبر میں مل گیا ؟ کہ لوگوں وہاں سے نا امید ہوکر کنجھر جھیل کا رخ نہانے کے لیے کرلیا جہاں سے کراچی کو پینے کا پانی سپلائی ہوتا ہے؟ اور وہاں نہانے پر انتہائی سخت پابندی ہے۔ جس تک رسائی مہذب ملکوں میں کسی کی بھی نہیں ہوتی اور اس میں داخل ہو نا سخت قابل ِ سزا جرم ہے مگر میڈیا کے مطابق یہاں بھی ان کی مشکل انہیں نوٹوں نے حل کردی جن پر قائد اعطم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ قصہ یہ ہے کہ جب عید آتی ہے تو وہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے، ہرایک جیب ان نوٹوں سے بھر جاتی ہے جن پر قائد اعظم کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ اور ہر آدمی اسے خرچ کرنے کے لیئے بے چین ہوتا ہے کہ کہاں خرچ کیا جا ئے؟ جس طرح وصولی کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں ،جیسے چور بازاری ھرام خوریاور رشوت ستانی وغیرہ وغیرہ، جس کا نتیجہ ہوش ربا گرانی ہوتا ہے؟ وہیں موروں پر چور پڑجاتے ہیں کہ وہ جبریہ فطرہ وصول کر نے آجاتے ہیں جبکہ وہ کم ظرف ہیں جواسے بھتے کانام دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ فطرہ لیتے ہیں اور ان کے روزوں کو پاک کرتے ہیں۔ جو کہ حلال مال اور سچائی کے بغیر رکھتے ہیں۔ یہ ہی نہیں کہ انہیں حلال کھانا نہیں ملتا، سچ بولنے کو نہیں ملتا بلکہ باقی کمی وہ دوسرے ذرائع سے پیدا سے پوری کرلیتے ہیں جیسے کہ غیبت کرنا کم تولنا ہر چیز میں ملاوٹ کرنا اتنے آلودہ روزوں کو پاک کرنے کے لیے جیبوں کی صفائی کرنے والوں کو بڑی محنت کرنا پڑتی ہے، اس لیے وہ فطرے کا بھاؤ بڑھا دیتے ہیں جیسے کہ لانڈری والے جب میلی کالر دیکھتے تو کہتے ہیں کہ اس قمیض کے کالر کی صفائی کے الگ پیسے ہونگے؟ اور وہ غریب یہ ٹیکس اس جرم میں ادا کرتا ہے کہ اسکے پاس دست غیب نہیں ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک دفع کی دھلی ہوئی قمیص اس کا بس چلے تو مہینہ بھر تک پہنے رہے۔ مزے ان کے ہیں جن کو فضل ِ ربی یا دست غیب حاصل ہے وہ فراغ دل ہوتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے خرچ کرتے ہیں اور اس کوخرچ کرنے کہ ہر سال نئے طریقہ ایجاد کرتے رہتے ہیں؟
 کراچی والے بیچارے پانی بھی امپورٹیڈ پیتے ہیں وہ نہانے سمندر میں نہ جائیں جھیل میں بھی نہ جائیں تو جائیں کہاں کہ اس سال پانی کی بلیک بہت بڑھ گئی تھی جو کہ تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ گئی یعنی دس ہزار روپیہ فی ٹینکر جو کہ گزشتہ سال صرف پانچ ہزار تک تھی، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انہیں پتہ تھا کہ مسلمان ہیں لہذا نہانا سب کوہوگا اور پانی دودھ میں ملانے کے لیے اور پینے کے لیئے بھی چاہیے ہو گا؟ عوام سے جو رقم مانگو وہ ملے گی اس کے لیے ممکن ہے کہ یہ بجلی کا ٹریپ ڈاؤن خود ہی کرادیا ہو، تاکہ پچھلے دنوں جو چند ہائی ڈرینٹ نمائشی طور پر بند رہے تھے اور ایک شاہ کے منہ بولے بھائی کو جو اس محکمہ کا وزیر تھا استعفیٰ دیناپڑا تھا۔ وہ پوری ہوجا ئے؟ رہے خواص وہ تو جس طرح باہر سے امپورٹیڈ پانی پیتے ہیں وہ نہابھی بوتلوں سے لیں گے اگر سوکے اٹھ گئے اور نماز کے لیے جانا ضروری سمجھا ؟
 یہ سب کیوں ہوا ؟ اس کے لیے کسی سقراط کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ؟ آپ کے پاس وہ کتاب موجود ہے جس کو ہم نے پسِ پشت ڈالدیا ہے اور ہم اس جرم میں معتوب ہیں ۔ لہذا ہر طرف عذاب کی شکل میں موت دستک دے رہی، ہلاکو اور چنگیز شکل میں داعش میدان میں آچکے ہیں جو اپنی افزائش نسل کے لیے عراق  کےایک شہر میں شادی دفتر بھی کھول چکے ہیں اپنی افزائش نسل کے لیے؟ جن کی معاون دولت کی فراہمی کے لیے وہ طاقتیں جن کے ہاں تیل پانی کی طرح بہتا ہے۔ اس کا حل کیا ہے صرف سزا دینے والے کی طرف رجوع کرنا یعنی توبہ کرنا جو اسی میں لکھا ہواہے۔ ورنہ مزید نت عذاب بھگتنے کے لیے ہم سب تیار رہیں ،کہ محاورہ ہے کہ گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے؟

Posted in Uncategorized

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے سامنے جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری جنر ل جناب لیاقت بلوچ صاحب کے چند ارشادات ہیں۔جو کہ ہم نے مورخہ 24 جولا ئی2014 ءکے جنگ اخبار میں پڑھے۔ ً جو یہ تھے کہ (١)گن پوائنٹ پرشریعت کے غلبے کی بات کرنے والے غلط راستے پر ہیں(٢) فاٹا پر تیسری بار آپریشن ہورہا ہے ،لیکن صورت ِ حال بہتر نہیں ہو رہی ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اور عالم اسلام کو تقسیم کیا جا رہا ہے لیکن مسلمان حکمراں خاموش ہیں (٣) دہشت گردی او ر فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر آئی ڈی پیز کا خیال رکھنا بھی ہمارا فریضہ ہے ً
چونکہ ہم جانتے ہیں کہ لیاقت بلوچ صاحب ہمیشہ سچ کہتے ہیں ۔ لہذا ان پر وہ مثال صادق آتی ہے کہ “ کھری بات سعد اللہ کہیں اور سب کے من سے اترے رہیں “ ماہرین لغات نے اس پر کبھی قلم فرسائی نہیں کی کہ کوئی سعد اللہ نامی شخص تھے بھی یا نہیں ممکن ہے یہ بھی صرف دو ہندو سورماؤ ں “آلہ اودل “ کے جواب میں اکبر کے درباریوں کی تیار کردہ داستانِ  “امیر حمزہ “  ہوجس کا اصل حضرت امیر حمزہ  رضِی اللہ تعالیِ سے کوئی تعلق نہیں ہو اور اس میں بیان کردار عمر و عیار کی طرح جس کی زمبیل میں بہت سے شہر آباد تھے یہ بھی ایسا ہی کوئی کردار ہو۔؟ ہمیں معلوم نہیں کہ اگر واقعی کوئی سعد اللہ صاحب تھے تو وہ کس صدی میں تھے اور انکا انجام کیا ہوا۔ کیونکہ سچ کہنے والے کو ہمیشہ برا بنتے تو دیکھا پھانسی چڑھتے دیکھا مگر جمہوریت میں انتخاب جیتتے نہیں دیکھا؟ رہے سچے اور عادل حکمراں اور وہ پارلیمانی جمہوریت رائج ہونے سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ لیاقت بلوچ صاحب جماعت کے امیر نہ بن سکے؟
لیکن ہمیں بلوچ صاحب کے یہ ارشادات بالکل پہیلی لگے ، ایسا جب ہوتا ہے کہ جب کوئی سچا انسان سچ کہنا چاہے اور مجبوریاں حائل ہوں تو اپنے خیا لات کو کاٹتا چھانٹتاہے اور اس کی وجہ سے جملے بے ربط ہوکر پہیلی نظرآ نے لگتے ہیں؟
سب سے پہلے (١) کو لیجئے کہ گن پوائنٹ پر شریعت کے غلبے کی بات کر نے والے غلط راستے پر ہیں ؟ یہ مبہم  اس لیے ہے کہ شریعت سے مراد دین ہے یا فقہ کیونکہ یہ اب دونو کے لیے رائج ہے۔ اگر ہم بھول نہیں رہے ہیں کہ بوڑھے ہوگءے ہیں۔  توجب جماعت اسلامی بنی اس وقت مولانا مودودی رحمہ اللہ تعالیِ  نے اس میں بڑی لچک رکھی تھی یعنی ہر مسلمان جو دنیا میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیئے کام کرنا چاہتا ،وہ اپنے عقائد پررہتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا تھا لہذا سب نے اس پرلبیک کہا علامہ اقبال (رح) جیسے صوفی منش آدمی نے بھی جماعت کے دعوے کے مطابق انہیں پنجاب میں آکر تبلیغ کرنےکی دعوت دی۔ اور انہوں نے گورداسپور کے علاقہ میں پہلی مثالی اسلامی بستی قائم بھی کی، جماعت ابھی پوری  طرح جڑ نہ پکڑ پائی تھی کہ پاکستان بن گیا۔ مولانا کو ہجرت کرنا پڑی اور یہاں آکر جب انہوں نے دیکھا کہ حکمراں اپنے وعدوں میں مخلص نہیں ہیں؟ تو اکیاون علماءکو جمع کرکے وہ بنیاد فراہم کی جس پر سب متحد ہو کر ملک میں رہ سکیں۔اس سے شیخ السلام مولانا شبیر عثمانی  (رح)کو تقویت ملی اور ان کے دباؤ کی وجہ سے قراردادِ مقاصد پاس تو ہوگئی مگر نافذ آج تک نہ ہوسکی۔؟

مولانا کےساتھ ان کے ہمسایہ بھی ہجرت کرکے پاکستان آگئے  بمع اپنے وکیل سر ظفر اللہ خان کے جنہوں نے اس بات کی وکالت کی تھی کہ ان کا مقدس مقام قادیان اور سکھوں کے مقدس مقامات گورداسپور کے علاقہ میں واقع ہیں لہذا اس کو پاکستان میں شامل نہ کیا جاے کیونکہ وہ خطرہ میں پڑ جائیں گےاور دلیل سائیمن کمیشن مان لیا بھی؟  بھارت کو فائدہ  یہ ہوا کہ اس کے نتیجہ میں اس کو کشمیر جانے کے لیئے زمینی راستہ مل گیا۔ پاکستان بن گیا نادیدہ ہاتھوں نے سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ بنا دیا۔  چونکہ ان کے خلیفہ وقت بھی  وہ محفوظ مقام چھوڑ کر پاکستان تشریف لے آئے تھے انہیں بھی نوازا گیا اور سرکاری طور ربوا میں بسا دیا گیا۔ عوام میں بے چینی پیدا ہوئی تو مولانا مودودی (رح) تحریکِ ختم نبوت  میں شامل ہو گئے اور سزائے موت تک پہونچے؟سعودی عرب کی کوششو ں سے رہا ئی ملی۔،  رہائی کے ساتھ جماعت کی پالیسی بھی بدل گئی کیونکہ سعودی عرب سے دوستی کے لیے یہ ضروری تھا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے پرانے لوگ جماعت چھوڑ گئے ۔ جن میں مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی ، ڈاکٹر اسرار الحق وغیرہ شامل تھے۔ اس کے بعد کتنے ہی دوراہے اور چورا ہے آئے مگر جماعت کا راستہ نہیں بد ل سکا ۔
جب  سےبدلی ہوئی جماعت سب کو ساتھ لیکر چلنے  کےبجا ئے اس کو بدعتوں سے پاک کر نے والوں کی جماعت بن گئی۔ اور  “لا اکراہ فی الدین “ سے ہٹ کرجبر والا راستہ اپنالیا ۔ کہ پہلے اقتدار پر قبضہ کیا جائے اور پھر دین کی آڑ میں سعودی شریعت قائم کی جا ئے جبکہ اس سے پہلے وہ اسوہ حسنہ (ص) پر چل رہے تھے کہ “ پہلے وہ لوگ پیدا کیئے جا ئیں جو دین  پر یقین ِ کامل رکھتے ہوں تاکہ وہ اسلامی نظام کے لیے قیادت فراہم کر سکیں “ جبکہ شریعت سے مراد نبی (ص) کے دور میں فقہ نہیں بلکہ دینِ اسلام تھا۔ یہ تھا وہ موڑ جس سے جماعت اسلامی آج تک نکل نہ سکی ،جبکہ چاہتی تو ہے اور یہ بیان اس کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔ آگے وہ فرماتے ہیں کہ فاٹا پرتین مرتبہ آپریشن ہوا مگر صورتِ حال میں بہتری نہیں آئی؟جبکہ میرے خیال میں یہ بہترین فوجی حکمت عملی تھی کہ شر پسندوں کو پہلے ایک جنت فراہم کردی جائے ، پھر ہر طرف سے گھیر گھار کر ان کو ایک جگہ جمع کردیا جائے تاکہ بیخ کنی میں آسانی ہو؟ لیکن حتمی کاروائی میں شدت پسندوں کے سرپرست حائل رہے جس کی وجہ سے دیر لگی لیکن اب وہ اپنے منطقی انجام کے قریب ہیں ۔البتہ شاخیں ختم کرنے میں وقت لگے گا جو دوب کی جڑوں کی طرح پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ جبک پروفیسر ابراہیم صاحب کی مخلصانہ ثالثی ناکام رہی بلکہ وہ اس سے اور بھی شیر ہو گئے تھے۔ بقول علامہ اقبال (رح) ع ۔“ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے  ہیرے کا جگر    مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر “
پھر فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کاہم خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن ڈی آئی پیز کا خیال رکھنا ہمارا فریضہ ہے۔ اس پر تو دورائے نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ اسلام نیکی میں تعاون اور برائی کے خلاف کھڑے ہونے کو کہتا ہے۔ شدت پسندی کے بیج بونے میں افغانستان جہاد میں جماعت نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ اتنی مستعد دکھائی نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی وہ طاقتیں جنہوں نے اس کی وجہ سے اس علاقہ میں قدم جما ئے تھے۔ جبکہ ان کے بوئے ہو ئے بیج پاکستان اکیلا کاٹ رہا ہے۔
اب رہ گئی تیسری بات  یہ کہ فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، عالم اسلام کو تقسیم کیا جارہا ہے لیکن مسلم حکمراں خاموش ہیں؟ اس کی وجو ہات بھی بلوچ صاحب کو معلوم ہیں؟ کہ جہاں سے مسلمان حکمراں کنٹرول ہو تے ہیں وہ جب کہتے ہیں تب مسلم حکمرانوں  کاچودھری بولنے کی اجازت دیتا ہے اس کے یہ بولتے ہیں۔ جبکہ حماس کے سلسلہ میں چودھری کہہ  رہا ہےاور ماروکیونکہ یہ مجھے چودھری نہیں مانتے ہیں؟ رہی یہ بات کہ عالم اسلام کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر پرانی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں عالم اسلام کو اس وقت تقسیم کیا گیا تھا جب خلافت ختم کر کے با دشاہتیں قائم کی گئیں تھیں۔اور ایک نیا فقہ طاقت کے ذریعہ حرم شریف پر نافذ کیا گیا تھا تاکہ فرقہ بندی اور شدت پسندی کو عالمی حیثیت مل جائے۔ جو اسے مل چکی ہے۔

 

 

Posted in Articles

جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
کبھی مومن کی دانشمندی مشہور تھی مگر جب سے ہم نے قرآن اور سنت کو چھوڑا تو ہم سے ہماری ایک ایک صفت ناراض ہوکر ہمارا ساتھ چھوڑتی چلی گئی، انہیں میں مومن کی فراست، دیانت، صداقت، حمیت اور اخوت شامل ہیں۔ ایک دور تھا کہ دنیا مومن کی فراست سے ڈرتی تھی۔ مگر آج نہ وہ مومن ہیں، نہ فراست ،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے ہمیں جو چاہتا ہے جدھر چاہتا ہے ہانک لیتا ہے بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہم ایک بھیڑوں کا گلہ ہیں کوئی بھی سبز باغ دکھا ئے تو ہم اس کے پیچھے چلد یتے ہیں اور سوچنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں پر یہ سبزہ زار دکھا رہا ہے وہاں بارش بھی ہوتی یانہیں؟ کبھی ہمارے سامنے جہاد ہو تا ہے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوتی ہے اور ہم بے وقوف بن رہے ہوتے ہیں مگر داعی سے پوچھتے نہیں کہ خود بھی وہ اس پر عامل ہے یا نہیں ؟کبھی ہمارے سامنے ذات اور برادری ہو تی ہے۔ کبھی زبان اور عصبیت ہوتی ہے اور ہم بغیر سوچے سمجھے ہر کسی کے چکر میں آجاتے ہیں؟اس سلسلہ میں جتنا نقصان ہم نے اٹھایا ہے، دنیا میں شاید کسی قوم نے نہیں اٹھایاہوگا؟ وجہ کیا ہے کہ ہمارے پاس جو دوچیزیں ہیں ہرایک کو پرکھنے کے لیے، ایک کتاب ِ بصیرت قرآن اور دوسری اسکی عملی تفسیر حضور (ص) کاا سوہ حسنہ۔ جو کہ ہمارے لیئے منبع ہدایت تھیں انہیں کو ہم نے پسِ پشت ڈالدیا ۔
اب عالم یہ ہے کہ جو کوئی نعرہ لگا ئے ہم اس کے پیچھے ہولیتے ہیں،بغیر یہ معلوم کیے ہوئے کہ یہ ممکن بھی ہے یانہیں۔اگرمیں تفصیل میں جاؤں تو اس چھوٹے سے کالم میں یہ سمو نا ممکن نہیں ہے۔ اور بعض حماقتیں تو ایسی ہیں یا تو آپ کو لطیفہ لگیں گی یا صریحاً جھوٹ ؟ مثلاً پچھلی صدی کے اوائل میں ہندوستان سے دس کروڑ مسلمانوں کو افغانستان ہجرت کرنے کا مشورہ، جس پر چند ہزار لوگوں نے عمل کیا اور خوار ہوئے؟ بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے کے لیئے جھانسہ کہ وہ سات سال پہلے والے بھاؤ واپس لے آئیں گے ؟جبکہ دنیا میں افراط زر کی وجہ سے چند فیصد گرانی ہر سال بڑھتی رہتی ہے،ترقی یافتہ ممالک اپنے بجٹ اسی حساب سے بناتے ہیں لہذا قیمتوں میں اتنی بڑی رجعت قہقری کسی صورت ممکن نہیں تھی؟ لیکن ہم نے بہکانے والوں کی آنکھوں سے دیکھا اور نتیجہ ہوا کہ عملی طور پر ان کی آڑمیں اسلام لانے کا وعدہ کرکے ضیاءالحق نے اقتدار پرقبضہ کرلیا جس کے بوئے ہوئے کانٹے ہم آج تک چن رہے ہیں؟ یہ تو تھے برِصغیر ہندو پاک کی تاریخ کے دو واقعات۔ اب عالم اسلام کو لیتے ہیں؟
بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ خلافت ِعثمانیہ جب قرآن اور سنت کو ہماری طرح چھوڑ بیٹھی تووہ اغیار اور شر پسندوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئی، اور اس کا پہلا کام یہ رہ گیا کہ خلیفہ اپنی ان گنت بیگمات میں گھرا رہے اور عیش کرکے غم غلط کرے ؟ اور  دوسرایہ رہ گیا تھا کہ جو شر پسند جس علاقے کو فتح کرلے اس کو سند ِ بادشاہت عطا کردے؟ ایسی صورت میں عدل پر رہنااور عدل قائم رکھنا جو خلیفہ کی ذمہ داری تھی اور جس کی رعیت عادی تھی، کہ ا سلامی روایات اس کے سامنے تھیں وہ خوبیاں حکمرانوں میں نہ پاکر ان میں بیچینی پیدا ہوئی؟ اس سے اغیار نے جوموقعہ کی تاک میں تھے فائدہ اٹھایا اور اپنے مہرے ان کی جگہ فٹ کردیے ۔ اگر مسلمان ، مسلمان ہوتے اور اسلامی تاریخ اورتعلیمات سے واقف ہو تے کبھی انہیں قبول نہ کرتے ؟اور نہ ہی یہ صورت ِ حال پیدا ہوتی جو آج کل صرف فلسطین میں ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا میں دیکھ رہے ہیں ہے؟ خلافت جیسی بھی تھی، اس کے ہونے سے اخوت اسلامیہ کا تصور باقی تھا؟ کوئی کسی خطہ کا بھی مسلمان ہو تا، ہر جگہ جا کر مستقل بس جاتا تھا جو کہ آج مسلمان ممالک میں ناممکن ہے ۔
خلافت کے خاتمے کے بعد جنکو بادشاہ بنا یا گیا پورے عالم اسلام میں سے اغیار کو صرف تین ہاشمی برادران ملے جن میں سے ایک کو شام والوں نے جمنے نہیں دیا، دوسرا عراق کابادشاہ تھا جس سے بعد میں عراقیوں نے جان چھڑالی اور تیسرے کو شرق اردن(جارڈن) ملا جو ابھی باقی ہے۔ جبکہ سابقہ فلسطین عزرائیل بنا جوکہ آجکل اسم بہ مسمیٰ ہے؟ اور انہیں کے ساتھ جن کو عرب کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا امام بنایا گیا اسکے محل ِ وقوع کی بناپر، یہ وہ قبیلہ تھا جو کہ اپنی قریش دشمنی کے لیے مشہور تھا۔ وہ قبیلہ پرستی اور بربریت کے زور پر آج تک قائم ہے؟ یہ نسلی عصبیت ہی تھی جس کی وجہ سے نجدی بارہویں ہجری تک اسلام نہیں لائے اور حضور (ص) سے لڑتے رہے اور آخری وقت تک جب کہ پورا عرب اسلام لے آیا، وہ تب بھی مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان کے سردار نے حضور (ص) کو شہید کرنے کی کوشش کی حضور (ص) نے اسے بد دعا دی اور واپس جاتے ہوئے وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرگیا ؟یہ پوری تفصیل تاریخ ابن کثیر (رح)میں موجود ہے وہاں پڑھ لیجئے؟
اب مسلم دنیا میں حالت یہ ہے کہ کوئی مسلمان ملک کسی مسلمان کو شہریت دینے کو تیار نہیں ہے؟ وہاں بھی نہیں جہاں لوگ حرم شریف میں عبادت میں مصروف رہ کر پہلے عمریں گزار دیتے تھے، جائداد خرید کرکے حجاج کے قیام اور مفت استعمال کے لیے مسافر خانے بنا کروقف کر دیتے تھے اب جو کہ مسمارکردی گئیں اور ان کی جگہ شہزادوں کے ہو ٹل بن گئے ہیں؟ جو کہ شاہی خاندان کی کمائی کا ذریعہ ہیں؟
آج مسلمانوں کو شہریت ملتی ہے تو ان ملکوں میں جن کی طرف ہجرت کرنا ہمارے علماءکے نزدیک منع ہے؟ لہذا ہماری اکثریت ان کی میزبانی کے باوجود ،اور شہریت کے حصول کے بعد بھی پوری طرح ان ملکوں کی وفادار نہیں ہو پا تی؟ اور کوئی بھی اپنا جیسا ان کو چکر دیدے تو وہ فوراً متاثر ہو جاتے ہیں۔شر پسندوں کے بہکائے میں آکر نام نہادجہاد میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہو تے کہ جہاد ہے کیا اور اس کی شرائط کیا ہیں اور ہمیں غیر ملکوں میں رہنے کے آداب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں کے مقامی قوانین کی پابندی کرو، تو یہ بات نہ ہوتی؟مگر ہم کرتے کیا ہیں کہ جب سے افغانستان اور پاکستان نام و نہاد جہاد کا نشانہ بنے؟ ہماری نئی نسل بغیر یہ جانے کہ جہاد کے معنی کیا ہیں شرائط کیا ہیں بری طرح جہاد کی طرف راغب ہوگئی ؟جبکہ ان کے ماں باپ نے نئی نسل کی طرف سے ا نکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ ڈالر کمانے سے انہیں فرصت نہیں ہے؟آج کی نئی نسل تمام ملکوں کے لیے بلا امتیاز پریشانی کا باعث بن ہوئی ہے؟
میں پہلے بات اپنے ملک سے شروع کر تا ہوں جس کا میں شکر گزار ہوں کہ اس میں رہتے ہوئے مجھے وہ تمام سہولتیں حاصل ہوئیں جو میں کہیں اور رہ کر نہیں پاسکتا تھا، جیسے کہ سچ بولنا اور سچ دنیا تک پہونچانا؟ چونکہ قرآن نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ً بھلائی کا بدلا بھلائی ہے ً میں شکر گزار ہوں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بعد اس ملک کا اورمجھے اس کے شہری ہونے پر فخرہے ؟ مگر مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کنیڈا کا ہی ایک نوجوان جوکہ انتہائی ذہین تھا وہ عراق میں جاکر پھٹ پڑتا ہے، جوکہ کنیڈین شہری بھی تھا جب حکومت کناڈا کو اس کاشہری ہونے کی وجہ سے اس کے مرنے کی اطلاع ملتی ہے تو ماں باپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے نے یہ کار نامہ انجام دیا ہے۔ مگر انہیں یقین نہیں آتا کہ ان کا بیٹا ایسا کر سکتا ہے ؟ جبکہ وہ چھپن انسانوں کومارکر مر بھی چکا تھا؟ یہ ہے بیٹوں کا حال ؟
اب بیٹیوں کا حال دیکھئے کہ برطانیہ سے خبر آئی ہے کہ دوجڑواں بہنیں۔ شام پہونچ گئیں کہ انہیں یہ سمجھایا گیا، مجاہدوں کی بیوی بننا بہت بڑے ثواب کاکام ہے اور وہ ثواب کمانے کے لیے اور جنت بنانے کے لیے وہاں تشریف لے گئیں، جبکہ انکے ماں باپ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع پولس میں درج کرا ئی ہوئی تھی۔ وہاں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں ڈیرھ ہزار سے دوہزار تک برطانوی نوجوان شام جا چکے ہیں اوروہاں لڑرہے ہیں؟ ابھی عراق سے خبریں آرہی ہیں کہ وہاں کچھ حصہ پر خلافت قائم کر دی گئی ہے کسی ابو بکر نامی کی قیادت میں جن کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہے اور دنیا پر ہاشمی ہو نے کی وجہ سے امیرالمونین بننے کے وہ زیادہ مستحق ہیں ۔ جبکہ ان کا پسِ منظر یہ ہے کہ وہ القاعدہ کا ہی کبھی دھڑا تھے ۔ کچھ لین دین پر جھگڑا ہوا اور وہ علیحدہ ہو گئے؟ خدا کرے یہ خبر غلط ثابت ہو ؟ اگر وہ قر آن دیکھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ صرف ہاشمی ہونا کسی کا بھی خلافت پر استحقاق ثابت نہیں کرتا، جب تک کہ وہ دوسری شرائط پوری نہ کرتا ہو ان میں پہلی ترجیح تقویٰ  کوہے اور کسی ملک میں شر پھیلانا تقوے کی کونسی قسم ہے لوگوں کو قتل کرنا اور مزاروں کو اڑانا کونسا اسلام ہے ؟یہ پیغمبروں کے مزارات تو حضور (ص) کے زمانے میں بھی موجود تھے پھر خلفائے راشدین (رض) کے زمانے بھی موجود رہے مگر انہوں نے کبھی تعرض نہیں کیا تو پھر انکے عقائد کہیں اس ملک کے عقیدے کو تو ظاہر نہیں کر رہے ہیں جس کے تحت بد عت کے نام وہابیت کے ماننے والوں نے پورے سعودی عرب میں مزارات ڈھادیئے۔ پھر عراقیوں کی عقلوں کو کیا ہوا ہے جبکہ ان کو سابقہ تجربہ بھی ہے کہ ان کے حصہ میں ایک ہاشمی با دشاہ پہلے آچکے ہیں ؟ جن سے نے انہوں نے با مشکل جان چھڑائی تھی۔ کچھ حالیہ خبریں پاکستان سے آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز شریف صاحب کے محلات کے قریب دہشت گرد ڈیرہ ڈالے ہو ئے تھے۔ ان کے ارادے کیا تھے بعد میں معلوم ہوئے انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت پر جلوسوں اور وزیر اعظم کے محلات کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کو دیہات میں ایک ڈاکٹر صاحب کا مکان بآ سانی مل گیا کیونکہ انہوں نے کرایہ سے غرض رکھی، صرف دوضامن لے لیئے اور مکان دیدیا۔ انہیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح  پولس کو اطلاع کرنا چاہیے تھی کہ وہ معلوم کرتے، کہ ان کو وہاں آباد ہونے میں کیا دلچسپی ہے ۔ کیاپڑھے لکھے اور ذمہ دار شہریوں کو ایسا ہی ہونا چاہیئے؟ جبکہ ہماری پولس گروہ کی جڑ تک تب پہونچی کہ اس گروہ کی ایک فاحشہ عورت سے کسی نوجوان کا لین دین پرجھگڑا ہوااور اس نے اسے دھمکی دی کہ میں تجھے بم سے اڑادوں گی ؟ اس نے جا کر پولس سے شکایت کی پولس نے اس خاتون کو گرفتار کر لیا اور اسکے ذریعہ وہ تمام ملزموں تک پہونچی۔اس نازک وقت میں یہ بات قوم کوان سے بھی پوچھنا چاہیے کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں کہ انکی کامیابی کے امکانات کیا ہیں اور اگر وہ کل بتانے بات کریں! تو یقین مت کیجئے گا اس لیے کہ آپ مومن ہیں اور مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈساجاتا اورجبکہ وہاں کی روایت یہ ہے کہ کامیاب ہونے والے لوگ دوسرے دن بدل جاتے ہیں؟ یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے جسے عشرہ نجات کہتے ہیں۔ مفسرین کے مطابق یہ جہنم سے نجات کا عشرہ ہے؟ لیکن وہ معنی بدلنے پر بھی قادر ہے ۔اسکے سامنے توبہ کریں تو یقیناً اسے رحم آجائے گا کیوںکہ رحم کو اس نے اپنے غضب پرغالب کر رکھا ہے اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے کہ ہم آجکل جس عذاب سے گزرہے ہیں ، اس سے وہ نجات دیدے اور دنیا جنت بن جائے ۔(آمین)
 

 

Posted in Articles

آئیے رمضان کی بر کات حاصل کریں!۔۔۔شمس جیلانی

آئیے رمضان کی بر کات حاصل کریں!۔۔۔شمس جیلانی
آپ سب کو میری طرف سے رمضان ِ کریم مبارک ۔ دنیا کی باتیں تو ہم ہمیشہ ہی کرتے رہتے ہیں پتہ نہیں اگلے سال یہ ماہ مبارک ملے یا نہ ملے۔لہذا آئیے آج صرف رمضان کی باتیں کریں۔سب سے پہلے تو ہم اللہ سبحانہ تعا لیٰ کا شکر اد کریں کہ جس نے ہمیں اچھی صحت میں رکھتے ہوئے رمضان المبا رک سے نوازا۔ یہ معمو لی بات نہیں ہے اگر ہم سمجھیں ،نہ سمجھنے والو ں کے لیے یہ  نعمت کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیو نکہ وہ اس سے لاعلم ہیں ااور قرآن میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ بار بار ار شاد فر ما رہے ہیں کہ قر آن صرف صاحبِ عقل لو گو ں کے لیے ہے (یعنی یہ فاتر العقل اور کم عقلو ں کے لیئے نہیں ہے) اور دو سری جگہ ار شاد فر ما رہے ہیں کہ ہے کو ئی کہ اس پر غور کرے ، پھر یہ بھی فر ما یا جارہاہے کہ قرآن آہستہ ،آہستہ پڑ ھا کرو۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس ماہِ مبارک کے ہم سے تقاضے کیا ہیں اور ہمارے فرائض کیا ہیں۔ کیو نکہ قرار دینے والے نے اس ماہ ِ مبارک کویوں عظیم قرار دیاہے کہ اس میں اس نے ہمیں قر آن ِ کریم عطا فر ما یا۔اور قر آن کریم کیا ہے اس کے جوابا ت بھی خو د ہی دوعددعنا یت فر ما دیئے وہ یہ کہ ایک جگہ قرآن میں ہی  اسےشفا فی المومنین فر مایا اور دوسری جگہ شفا فی الناس فرما کر اس کے فوائد تمام انسانیت کے لیے عام فرما دیئے؟یہ اس لیئے کہ وہ رب المونین کے ساتھ، رب العالمین بھی ہے ، پھر اس کو اپنی پوری کائنات بھی چلا نا ہے، چونکہ جنت اور دوزخ دونوں کارازق بھی وہی ہے لہذا دونوں کو اسے بھرنا بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مومن کا حصہ دونوں جگہ ہے، دنیا میں بھی اور عاقبت میں بھی؟ جبکہ منافقوں اور منکروں کے لیے  دنیا تو ہےاگر وہ اس پر عمل کریں، مگر عاقبت میں ان کا حصہ یوں نہیں ہے کہ وہ اسے مانتے ہی نہیں ہیں۔ ہاں! منافق توبہ کرلیں اور منکر ایمان لے آئیں تو دوسری بات ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔
اگر آپ آنکھوں پر سے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو،غیر اسلامی ملکوں میں بہت سی اچھی باتیں ہیں اور ان کی بر کات بھی اپنے چاروں نظر آئیں گی؟ مثلا ً انصاف، انسانی ہمدردی اور جہاں بھی ہوں جس پوزیشن پر بھی ہوں وہاں اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کرنا۔ اس لیئے کہ انہوں نے اسلام سے دو اصول لے لیے، عدل اور احسان ؟ عدل کے معنی تو آپ سمجھتے ہیں اور ہر جمعہ کے خطبے میں سنتے بھی مگر احسان بہت وسیع ہے جو ہر فعل کو اکملیت کی طرف لے جاتے ہیں جیسے کہ حسن انتظام، حسن ِ تدبیر ، حسن ِ تحریر ، حسن تقریر اور حسن تعمیر وغیرہ ۔ ان دو قرآنی اصولوں کی جو دو برکات ہیں ان سے وہ مستفید ہورہے ہیں۔ ہم نے چونکہ انہیں تج دیا لہذا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم خوار ہیں۔ یہ بہت ہی دقیق موضوع ہے لہذا پھر کبھی، آج ہم رمضان کی مناسبت سے صرف مومنوں سے بات کریں گے،جو مومن تو ہیں مگر بے عمل ہونے کی وجہ سے اس سے فیض حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ ان کی اپنی کوتاہی ہے؟ شفا ءحاصل کر نے کے لیے کیا یہ کا فی ہے کہ نہ تو ہم پر ہیز کریں، نہ کھا نے پینے کی عا دتیں بدلیں اور نہ کڑوی لگنے کی وجہ سے دوا پئیں، تو کیا صرف دوا کی شیشی دیکھنے اور اجزائے تر کیبی پڑ ھ لینے سے ہمیں شفا ئے کلی حاصل ہو جا ئے گی ؟
جو صا حبِ عقل ہیں میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ شفاءحاصل کر نے کے لیے پہلے وہ غذاچھو ڑ نا ہو گی جس سے تکلیف لاحق ہو تی ہے۔ آپ نے یہا ں اکثر دیکھا ہوگا کہ جب ڈاکٹرو ں کے پاس جا تے ہیں تو پہلا سوال یہ ہو تا ہے کہ آپ کسی چیز سے الرجک تو نہیں ہیں اور وہ پہلا حل یہ بتاتے ہیں کہ اس کو چھوڑدیجئے کہ یہ چیز جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ یہاں جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ پہلے تووہ غذا چھو ڑناہو گی جو مرض کا با عث ہے۔ پھر دوا سے شفا ءکی امیدرکھیں۔ آگے کیا کریں وہ خود بتا رہا ہے کہ حرام سے پرہیز  حلال پر قناعت جسے ہم عرف عام میں حدود اللہ کہتے ہیں؟ پھر دیکھیں گے کہ آپ کے اوپر رحمتوں کی بارش شروع ہوجاے گی؟
جب تک یہ مضمون آپ کے ہاتھوں میں پہونچے گا تقریباً نصف رمضان المبارک گزر چکا ہوگا؟ لیکن ابھی نصف ماہ باقی ہے لہذا اس سے فائدہ اٹھائیے باقی دنوں کو گنوائیں نہیں۔ کیونکہ حضور (ص) کے ارشاد کے مطابق وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ رمضان پایا اور وہ جہنم سے اپنی نجات نہیں کرا سکا  “اس کے لیے حضور (ص) اپنے عمل اور تلقین سے صحابہ کرام سے (رض) ماہِ رجب المرجب سے تیاری شروع کرایا کرتے تھے؟ رجب کو اللہ کامہینہ فرماتے تھے،اور شعبان کو اپنا مہینہ اور رمضان کو امت کا مہینہ فرماتے تھے۔ چونکہ شعبان درمیان میں ہے لہذا رجب کو ماضی،اور شعبان کو آج یعنی حال اور رمضان کو آنے والے کل سے تشبیہ دیتے ہوئے فرما تے تھے کل گزر گیا آج گزر رہاہے لہذا جو کرنا ہے وہ آنے والے کل کے لیئے آج ہی بھیجدو، کیونکہ کل کا پتہ نہیں کہ وہ نصیب ہو یا نہ ہو؟ صحابہ کرام اسی پر عمل فرماتے زکات نکالتے روزے رکھتے اور نیکیوں میں مصروف ہوجاتے ،جب شعبان کی آخری تاریخ آتی توحضور (ص) چاند رات کو خطبہ دیتے جس کے راوی حضرت سلیمان فارسی ہیں جو کہ محدثین نے حضرت ابو نصر سے بالاَسناد نقل کیاہے ،اس کا اردو ترجمہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا  “
اے لوگو! ایک عظیم المرتبت اور برکتوں والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے کی راتوں میں عبادت کو افضل قرار دیا ہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں ایک نیکی یا ایک فرض ادا کیا اس کا اجر اس شخص کی طرح ہو گاجس نے کسی دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کیئے۔ یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ نیکی پہونچانے کا ہے اس مہینے میں مومن کی روزی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔جس شخص نے کسی کو روزہ افطار کرایا اس کے گناہ بخش دیئے گئے اس کی گردن آتش دوخ سے آزاد کی جا ئے گی اور روزے دار کا ثواب کم کیئے بغیرافطار کرانے والے کو بھی روزے دار کے برابر ثواب ملے گا “
یہ عظیم اور مختصر خطبہ مفہوم میں جامعیت کا نادر نمونہ ہے؟ اگر میں اس کی تفہیم لکھوں تو اس کے لیے سیکڑوں صفحات چاہیئے۔مگر تنگئیِ اوراق مانع ہے۔آگے صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ جس کے پاس اتنا نہ ہو جو افطار کرا سکے تو فرمایا کہ اگر نصف کھجور یاایک گھونٹ دوھ یا ایک گھونٹ پانی سے بھی افطار کرادے تو ثواب اتنا ہی ہو گا ۔ مگر ہو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے۔ یعنی وہ اپنے کاروبار کے فروغ، یا کسی دوسرے مقصد کے حصول کے لیے نہ ہو ، ورنہ حاصل کچھ نہ ہو گا۔ کیونکہ عقبیٰ کے حصول کے لیئے آپ جو کچھ بھی نیکی کریں وہ اس کی خو شنودی کے لیئے ہوگی۔ دنیا میں بھی اس کاصلہ ملے گا اور عاقبت میں بھی، اس میں کہیں سے ذرا سی بھی ملاوٹ شامل ہوگئی تو ساری محنت اکارت جا ئے گی؟لہذا خلوصِ دل کے ساتھ جو لمحات بھی ملیں ان کو غنیمت جان کر پورے خلوص سے عبادت کریں۔ روزے رکھیں کہ اس کا ثواب خداہی جانتا ہے  وہی دیگاپھر ،نمازیں پڑھیں کہ ایک سجدے کا ثواب مختلف روایات کے مطابق پندرہ سو یا سترہ سو سجدوں تک ہے۔ پھر زکات اور صدقات کانمبر آتا ہے ایک روپیہ، درہم، ڈالر یا پونڈ کے بدلے سات سو گنا تک ہے ۔ پھر آگے وہ رات آرہی ہے جو کی ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔وہ اس آخری عشرے میں ہے جس میں حضور (ص) اور اکثر صحابہ کرام (رض) اعتکاف میں بیٹھتے تھے۔ پھر اس میں ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ جس طرح ایک نماز دوسری نماز تک کفیل ہوتی ہے اسی طرح ایک رمضان دوسرے رمضان تک کفیل رہتا ہے۔ا گر کوئی یہ سب کچھ یا اپنی وسعت کے مطابق جو کچھ کر سکے تو اس نے اپنی جان جہنم سے آزاد کرالی جو اس ماہ کا مقصد ہے۔ صحابہ کرام (رض) جب عشرہ اول یعنی عشرہ رحمت میں داخل ہوتے تو پہلے دومہینے نیکیوں میں گزار کر چکے ہوتے نیک تو تھے ہی حضور (ص) کی صحبتِ خاص میں رہ کر مزید جلا پاکر، عشرہ رحمت کی نعمتیں کولوٹتے ہوئے ، عشرہ مغفرہ میں داخل ہوتے تھے اور عشرہ نجات سے گزرتے ہوئے تقویٰ کے مزید مدارج طے کرتے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے حضور (ص) کی قیادت میں بارگا ہِ الٰہی میں پیش ہونے کے لیے عید گاہ بہت سی امیدیں لیے ایک راستے سے روانہ ہوتے اور وہاں سے اجرت میں پورے سال کے لیئے رحمتیں ،مغفرتیں اور نجات لی کر ، دوسرے راستے واپس آتے تھے تو جھولی رحمت سے بھری ہوتی ۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں بھی حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر چلا ئے تاکہ ہم اس ماہ ِ مبارک میں عید گاہ ان ہی کی طرح اپنی جھولیاں رحمتوں اور بر کتوں سے بھر کر واپس لوٹیں۔ آمین

Posted in Articles