رواداری عمان سے سیکھئے؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

 پچھلے دنوں ایک کانفرنس عمان کے دار الحکومت مسقط میں منعقد ہو ئی جوکہ ہر سال ہوتی ہے اس کو منعقد ہوتے ہوئے تیرہ سال ہوگئے۔ جس میں وہ سارے دنیا کے مسلمان اسکالرز کو دعوت دیتا ہے تاکہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ مختلف العقیدہ اور مختلف مذاہب کے لوگ کس طرح مل کر رہتے ہیں ان میں چار پانچ سال سے پاکستان بھی شامل ہے؟ مگر اس سلسلہ میں اس کی شہرت اب تک بہت کم ہوئی !جبکہ یہ وہ دور ہے کہ اگر کوئی فتنہ خیزی کرے تو منٹوں میں دنیا میں خبر پھیل جاتی ہے کیونکہ اس میں سنسنی ہوتی ہے ،جس میں میڈیا کا ہرایک چینل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے؟ حتیٰ کہ شدت پسندی کی خبریں بھی جس سے کہ ساری دنیا پریشان ہے کہ مٹھی بھر شدت پسند سب کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حماقت کی خبریں بھی جیسے پچھلے دنوں ایک نو ماہ کے بچے کی خبر کہ وہ اقدام قتل میں شامل تھا اور دادا گود میں لیکر عدالت میں ضمانت کے لیے پیش ہوئے؟ حالانکہ پاکستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس لیے کہ جہاں تھانے نیلام ہو تے ہوں؟ وہاں بغیر نذرانہ لیے پولس کی طرف سے کسی کاروائی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، ہاں !اگر ان کو نذرانہ مل جائے تو رپورٹ لکھا نے والا عموماً پورے خاندان ہی کے نام لکھادیتا ہے! جن میں دشمن کی خواتین اور بچے سب ہی شامل ہوتے ہیں؟ لیکن میڈیا کے پاس پر امن رہنے کے اس تجربے کے لیے جو عمان کی خارجیت اورجارحیت سے فرار کی داستان ہے، جس کے لیے وہ صدیوں سے اپنی ہمسائیوں میں مشہور تھا؟ اسی سے پاکستان نے بھی گوادر اور پسنی وغیرہ 1958 میں تین ملین ڈالر ادا کرکے واپس لیے تھے؟ اسی کے امن کی طرف کامیاب سفر کی داستان لکھنے کے لیے کسی پاس وقت نہیں ہے کہ اس نے کیسے  صرف چالیس سال میں ایک پسماندہ ملک کی حالت بد ل دی۔ حکمراں کیا بدلا کہ وہاں سب کچھ بدل گیا؟
     میں پہلے اسلامی تاریخ میں خارجیت کی ابتدا کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کردیتا ہوں تاکہ آپ اس کی تاریخ سے واقف ہوجائیں کیونکہ خارجیوں کو اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید دین سے خارج تھے !اس لیے خارجی کہلائے جبکہ ایسا نہیں ہے ؟ ان کے بارے میں حضور (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا تھا کہ “ وہ لوگ ایسے ہونگے کہ تم سے بہتر قرا ءت کرتے ہونگے اور وہ تمہارے دور میں تمہارے ہی ہاتھوں قتل ہونگے “
 مخبر صادق (ص) کی پیش گوئی پوری ہوئی! حضرت عثمان (رض) کے دور میں جبکہ اسلامی سلطنت بہت بڑی ہوگئی تھی، انہوں نے بے انصافیوں کی کوکھ سے جنم لیا ،وجہ یہ تھی کہ دور دراز صوبوں میں عمال ِ حکومت کی بے راہ روی بھی عروج پر پہونچ گئی۔ عوام میں بے چینی پیدا ہوئی اور چاروں طرف سے شکایت کندگان مدینہ منورہ آکر جمع ہوگئے تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ ہو؟ انہیں خارجی کا نام اس لیے دیا کہ وہ باہر سے آئے تھے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کے اور حضرت عثمان (رض) کے درمیان میں پڑ کر معاملات طے کرادیئے ان کے مطالبات مان لیے گئے  اوروہ واپس چلے گئے ۔ لیکن مروان بن الحکم جوکہ جعلی دستخط کرنے کا ماہر، ہر فتنے کی جڑ، حضرت عثمان (رض) کا داماد اور سکریٹری تھا اس نے اپنے اوپر زد پڑتی دیکھ کر ایک سازش تیار کی جس کے نتیجہ میں ایک خط خارجیوں نے پکڑ لیا، جس میں  خارجیوں کوقتل کرنے کا حکم تھا؟ وہ واپس آ گئے اور مدینہ منورہ کادوبارہ محاصرہ کرلیا ۔ پھر نوبت یہاں تک پہونچی کہ وہ سوائے اپنے سب کو کافر قرار دیکر لو ٹ مار میں لگ گئے، جبکہ ان کے ساتھ سیکڑوں کی تعداد میں حافظ تھے اور ان کی قیادت کچھ حفاظ لیڈرکر رہے تھے انہیں کے ہاتھوں حضرت عثمان (ض) شہید کردیئے گئے۔
 پھرحضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دور خلافت آیا اس میں خارجیوں سے جنگ ِ نہروان ہوئی۔ پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے، انہیں سمجھانے اور راہِ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن جو بزرگ صحابہ کرام (رض) انہیں سمجھانے بھیجے گئے ا نہیں بھی خاجیوں نے شہید کردیا۔ پھر بھی حضرت علی (رض)نے  ہمت نہیں ہاری اس جنگ کو ٹالنا چاہا تاکہ خون ریزی نہ ہو اور انہیں عام معافی دیدی کہ جو لوگ میدان جنگ سے چلے جائیں ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جا ئے گا؟اسی فیصد لوگ منتشر ہو گئے جبکہ بیس ہزار میں سے چار ہزار میدان جنگ میں وہ رہ گئے جنہوں نے مرتے دم تک لڑنے کی ٹھانی ہوئی تھی وہ سب مارے گئے ۔ اس کے بعد ان کی باقیات ٹکریوں میں بٹ گئی اور مختلف ممالک کا رخ کیا اور پوری دنیا میں پھیل گئے، کئی جگہ وہ قابض بھی ہوگئے انہیں میں سے ایک گروہ عمان پر قابض ہو گیا۔اور الگ تھلگ رہتے ہوئے اپنی امامت قائم کرلی جو کہ خود کو خارجی کہلانے پر فخر محسوس کرتے تھے۔
حتیٰ کہ موجودہ حکمراں, سلطان قابوس بن سعید نے 43 سال پہلے اپنے والد کی جگہ لے لی۔ یہ انتہائی بیدار مغز حکمراں ثابت ہوئے۔ انہوں نے دنیا سے الگ تھلگ رہنے اور جنگ کرنے کے بجائے جس کے لیے تاریخ میں عمان مشہور تھا، دنیا کے ساتھ چلنے کی ٹھانی اور اپنے یہاں فرقہ پرستی کی کامیابی کے ساتھ بیخ کنی کرڈالی؟ جبکہ اس کے برعکس گزشتہ صدی میں سعودی عرب میں شدت پسندی کی داغ بیل اغیار نے ڈالی اور شدت پسندی کو سرکاری مذہب قرار دیدیا، نتیجہ وہی ہوا کہ ان کی فلاسفی کو ماننے والے، سب کو بد عتی اور مسلمان نہ سمجھتے ہو ئے دنیا میں بد امنی پیدا کیے ہو ئے ہیں؟
 جبکہ عمان ان کا پڑوسی ملک ہے دوسری طرف وہ ایران کا بھی پڑوسی ہے۔ اور عرب امارات کا بھی پڑوسی ہے۔ اور بلوچستان کے سامنے ہو نے وجہ سے وہ پاکستان کا بھی پڑوسی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے تعلقات اپنے سب ہمسایوں کے ساتھ بہت اچھے ہیں ؟ کیونکہ اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لہذا کوئی تحریک وہاں کسی ملک کے خلاف موجود نہیں ہے۔دوسرے وہ کسی ملک کے معاملات میں نہ خود مداخلت کریگا نہ کرنے دیگا۔ تیسرا یہ کہ سب عمانی برابر ہو نگے کوئی اول درجے، دوسرے درجے او رتیسرے درجے کا شہری نہیں ہوگا، کسی کو کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی؟ ہر مذہب کے بزرگوں کا ذکر عزت اور احترام کے ساتھ کیا جائے گا، ہر مذہب کی اپنی عبادت گاہیں ہونگی، لیکن عبادت گاہیں بنانے کے لیئے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی جبکہ حکومت اس کے لیے انہیں مفت زمین بھی فراہم کریگی ۔ لیکن لوگ گھروں میں مذہبی اجتماع منعقد نہیں کر سکیں گے؟ ہر قسم کا فتویٰ سوائے محکمہ اوقاف کے کوئی جاری نہیں کر سکے گا ۔ جس کے سربراہ وزیر اوقاف ہونگے ، ان کے تحت ایک مفتی اعظم ، ا سکے نائب مفتیان اور مشیر ہونگے۔ جو سائل کے اعتقاد کے مطابق فتوے دیں گے ۔ جس کے لیئے وہ تمام ٹیکنالوجی استعمال کر یں گے؟ یعنی ایکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے بھی فتوے لیے جا سکیں گے! مگر وزارت اوقاف یہ بھی دیکھے گی کہ فتویٰ مانگنے والوں کی نیت نیک ہے ! فتنہ پیدا کرنا تو نہیں ہے اور یہ بھی کہ شرع کے اندر ہیں۔ کمال یہ ہے کہ مفتی اعظم کے کسی فتوے کے خلاف عوام میں کوئی شکایت نہیں پائی جاتی؟
   اس مشینری کو تیار کرنے کے لیئے انہوں نے سعودی عرب کی طرح تمام دنیا کودعوت نہیں دی کہ آؤ وظیفہ لو اور ہمارے یہاں پڑھو ، تین سال کا کورس کرکے مفتی بن جاؤ اور دنیا میں پھیل کر ہمارا فقہ پھیلاؤ۔ اس کے بجائے دستار ِ فضیلت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بارہ سال کا طویل عرصہ رکھا جو کہ ایک عرصہ سے تمام اسلامی دنیا میں رائج ہے، جس میں ہر مکتبہ فکر کے طالب علم ، پہلے علم حاصل کرتے ہیں۔اور تمام مذاہب اور مکتبہ فکر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ ایک دوسرے کے عقائد سمجھیں اورنفرت کے بجائے ہم آہنگی پیداہو۔؟ رہا یہ سوال کہ وہ مفتی اور مفتی ِ اعظم کیسے منتخب کرتے ہیں! میں دعوے کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیسے منتخب کرتے ہونگے؟ کیونکہ یہ میرے علم میں نہیں ہے، مگر اس مفروضہ کی بنا پر کہ انہوں نے دستارِ فضیلت کے لیے شارٹ کٹ نہیں اپنایا لہذا مفتی کہلانے اور بننے کے لیے بھی وہی مروجہ طریقہ اپنا یا ہوگا جو کہ تمام عالمِ اسلام میں رائج ہے کہ پہلے طالب علم خود کودستارفضیلت کا اہل ثابت کرے ، اس کے بعدایک عرصہ دراز تک اپنی استعداد بڑھائے ،کیونکہ ہر ایک کی ذہانت اور یاد داشت مختلف ہوتی ہے! اور پھر علمائے وقت اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اسے فتویٰ دینے کی اجازت دیں؟ انہیں میں سے بزرگ ترین عالم کو مفتی اعظم حکومت چنتی ہوگی ،لیکن مجھے یقین ہے کہ ہماری طرح ان کے یہاں خودساختہ علامہ ، مفتی اور مفتیِ اعظم نہیں بنتے ہونگے؟
دنیا جو شدت پسندی کا حل تلاش کر رہی عمان اسکے لیے مشعل ِ راہ بن سکتا ہے اور وہ اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟اور شدت پسندی کے عذاب سے جان چھڑا سکتی ہے۔ 

 

Posted in Uncategorized | Tagged

مرتا کیوں غریب ہے ہر لب پہ ہے سوال ؟ از۔۔۔شمس جیلانی

مرتا کیوں غریب ہے ہر لب پہ ہے سوال ؟ از۔۔۔شمس جیلانی
 یہ سوال بار بارہر ایک کے ذہن میں آتا ہے کہ آخر غریب ہی کیوں مرتا ہے۔ اس کاجواب بڑا سیدھا سا ہے یہ قانون ِ قدرت ہے کہ بغیر روئے ماں بھی اپنے بچے کودودھ  نہیں پلاتی جوکہ اسے بے انتہا عزیز ہو تا ہے۔ ہمیں چونکہ رونے کا طریقہ ہی نہیں آتا ۔ اس لیے ہم عزاب میں ہیں ؟ کیوں؟ اس لیے کہ ہم اس سے نہیں ڈرتے جس سے ڈرنے کا حق ہے؟ ان سب سے ڈرتے ہی جو شیطان کے پیرو ہیں؟ جبکہ قرآن میں خالق ِ کائینات نے بار بار فرما یا کہ اگر سارا زمانہ مل کر کسی کو نقصان پہونچانا چا ہے تو نہیں پہونچا سکتا؟ اور اگر میں کسی کونقصان پہونچانا چاہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہونچا سکتا۔ یہ بھی فرمایا کہ مومنوں کا ولی اللہ ہے جو انہیں اندھیرے سے رو شنی  کی طرف کھینچتا ہے ،اور اپنے سا تھ دوستی کی شرط یہ فرمائی کہ بس تم میری بات مان لیا کرو؟جبکہ کفار کا ولی شیطان ہے جو انہیں جہنم کی طرف کھینچتا ہےکیونکہ اسکی شرط یہ ہے کہ اپنے نفس کی بات مانو اور اللہ کی نافرمانی کرو؟
 جبکہ ہماری اکثریت مسلمان کہلانے کے باوجود ،اپنے نفس کی بات مانتی ہے؟ گاؤں کے چودھری یا وڈیرے کی بات مانتی ہے انہیں کے کہنے پر ووٹ دیتی ہے اور چاہتی ہے کہ منتخب ہو کر بجا ئے چوروں کہ امین آئیں؟ یہ قانون ِ قدرت کے خلاف ہے کہ آپ بوئیں تو جو اور پیدا ہو گندم۔ جبکہ مسلمان ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کسی کی مت مانوصرف خدا اور اس  کےرسول (ص) کی بات مانو؟ کیا ہم یہ اسکا الٹ نہیں کر رہے ہیں جو کہ ہم نے لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ پڑھ کر اللہ کے ساتھ عہد کیا تھا ؟ اگر ہم اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ تو کیا ہم سزا کے مستحق نہیں ہیں؟
اب رہا یہ مسئلہ کہ جو ہم پر مسلط ہیں وہ تو عمل میں عوام سے بد تر ہیں آخر یہ ان پر نوازشیں کیوں؟ اس کاجواب بھی قرآن دے رہا کہ ہم کچھ کو دے کر آزماتے کچھ سے لیکر آزما تے ہیں۔ چونکہ وہ ہر انسان کا خالق ہے لہذا اسے بہتر کون جانتا ہے کون لیکر اس کی طرف جھکتا ہے اورکون مشکل میں اس کی طرف جھکتا ہے ۔ ویساہی ہر ایک کے ساتھ وہ برتاؤ کرتا ہے؟ اگر وہ اس کا الٹ کرے تو یہ اس فرد کے ساتھ بے انصافی ہو گی ۔ جبکہ اس نے فرمادیا ہے کہ میں کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ، اور یہ بھی فرمادیا کہ میں کسی کے ساتھ ظلم بھی نہیں کرتا اور جوبھی ظلم کرتا ہے وہ اپنے نفس پر خود ہی کرتا ہے ؟ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صورت ِ حال کیوں ہے جس سے مسلم امہ من حیثیت القوم گزر رہی ہے؟
 جواب ایک ہے کہ ہم زبانی جمع خرچ بہت کرتے ہیں مگر اللہ کی بات نہیں مانتے؟پھر اسی قرآن میں بات نہ ماننے والوں کا حشر بھی بتایا ہے وہ مقام بھی  بتایاہے جہاں انہیں ابدی طور پر رکھا جا ئے گا؟وہ مجھے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں وہ آپ قرآن میں جاکر دیکھ لیں ،اگر دنیا کو سمیٹ نے اور کمانے سے فرصت ملے؟ اس سے آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں دنیا کمانے کو منع کر رہا ہوں، اس لیے کہ رہبانیت اسلام میں حرام ہے ، دنیا میں آکر اس کے کمانے کی کوشش کرنا ہمارا فر ض ہے؟ مگر یہ یاد رکھتے ہو ئے کہ دنیا میں ہمیں عقبیٰ بنانے کے لیے بھیجا ہے جو ہر مومن کی ابدی آرام گاہ ہے؟آپ اگر دنیا کما ئیں گے ہی نہیں ،تو خود دوسروں کے محتاج ہونگے ؟ جب بھیک مانگ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے ، خرچے چلا ئیں گے؟ تو اس میں سے بھلائی پر کیا صر ف کریں گے،  ثواب کیسے کمائیں گے،اپنی وہ ذمہ داریں کیسے پوری کریں گے؟ جس کے لیے صحابہ(رض) اور صحابیات (رض)بے چین رہتے تھے؟ یہاں دو مثالیں دیکر بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ ایک صاحب کو حضور (ص) نے مسجد میں کثرت سے بیٹھے دیکھا توکسی سے پوچھا کہ ان کا خرچہ کیسے چلتا ہے ؟تو لوگوں بتا یا کہ ان کا ایک بھائی ہے وہ انکا خرچہ اٹھاتا ہے! حضور(ص) نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے  کہیں بہتر تھا کہ بجائے بھا ئی پر بوجھ ڈالنے کے اپنا بوجھ خود اٹھاتے؟ وہ سنکر اپنی روزی خود کمانے لگے؟
 اس کے برعکس یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ حضور (ص) نے ایک دن راہ ِ خدا میں خرچ کر نے والوں کی بڑی تعریف کی اس کو سنکر مشہور فقیہ ِ اسلام حضرت عبد اللہ (رض) بن مسعود کی زوجہ محترمہ جو کہ ہنر مند خاتون تھیں اور اپنے ہنر سے جوکماتیں تھیں وہ گھر پر خرچ کررہی تھیں بہت رنجیدہ ہو ئیں! اور حضرت عبد اللہ بن مسعود(رض) سے ذکر کیا کہ آپ (رض) کچھ کماتے ہی نہیں ہیں جو میں راہ خدا میں صرف کرکے اپنی جنت بنا ؤں؟ انہوں (رض) جواب دیا کہ آپ میرے اور بچوں پر آج سے خرچ نہ کریں ان کا اللہ مالک ہے؟
لیکن اس دور میں اپنے طور پر ہر ایک کچھ کرتے ہو ئے اللہ سے ڈرتا تھا، کیونکہ حضور (ص) ان کے درمیان موجود تھے اور یہ سہولت حاصل تھی کے ا ن (ص) سے پہلے معلوم کر لیں پھر عمل کریں۔ انہوں (رض) کہا آپ (رض) جاکر معلوم کر آئیں! حضور (ص)جو فرمائیں گے و ہی میں کرونگی، انہوں(رض) نے فرمایا! نہیں تم (رض) خود ہی جاؤ اور معلوم کرو ؟جب یہ وہاں پہونچیں تو حضور (ص) مصروف تھے اور زنان خانے میں تھے؟ کہ اتنے میں حضرت  بلال (رض) باہر تشریف لائے تو انہوں (رض) نے حضور (ص) کی خدمت میں اپنا سوال بھیجا جبکہ ان سے پہلے اسی سوال کے جواب کے لیے ایک  اورصحابیہ(رض) بھی منتظر تھیں ۔ دونوں کا وہ پیغام لے کر گئے ،جب حضور (ص) نے پوچھا کہ یہ کس نے سوال کیا ہے؟ تو حضرت بلال(رض) نے بتایا کہ ایک تو حضرت عبد اللہ بن مسعود  (رض)کی بیوی ہیں اور دوسری ایک انصاریہ (رض) ہیں ۔ حضور(ص) نے فرمایا ان سے کہدو کہ دہرااجر ملے گا ایک خیرات کا اور دوسرا قرابتداری پر خرچ کرنے کا؟ان دونوں مسئلوں میں حضور (ص) نے یکساں فیصلہ صادر فرمایا جبکہ اوپر والے مسئلہ میں اس کے برعکس فیصلہ فرمایا ؟اس میں جو راز مضمر ہے وہ یہ ہے کہ وہاں وہ (رض) صرف اپنی جنت بنانے کے لیے کام کر رہے تھے اور بھائی پر بوجھ بنے ہوئے تھے، جبکہ حضرت عبد اللہ (رض)بن مسعود ، حضور(ص) سے علم حاصل کر رہے تھے اور ہمہ وقت علم  باٹنے میں مصروف تھے۔ تو یہاں وہ آیت لاگو ہوتی تھی جس میں حکم دیا  گیا ہےکہ جو راہ ِ خدا میں بیٹھ ر ہے ہیں اور ہاتھ بھی نہیں پھیلاتے ان کو ڈھونڈو اور مدد کرو؟ جبکہ پہلے میں یہ معاملہ تھا کہ وہ صرف اپنی ذات کے لیئے عبادت میں مصروف تھے جبکہ بھائی ،بھائی کی کفالت کا ذمہ دار نہیں ہے؟ جبکہ دوسرا مسئلہ جو ہے وہاں بھی بیوی کی کفالت کا شوہر کے ذمہ ہے؟ اگر وہ خرچ غیروں پر کرتیں ثواب اکہرا ملتا ،یہاں اپنے اقربا پر خرچ کرنے کاثواب بھی ملے گا، چونکہ علم بانٹنا صدقہ جاریہ ہے ،اور حضرت عبد اللہ کا علم آج بھی دنیا کو فیض پہونچا رہا ہے لہذا قیامت  تک وہ ثواب میں حصہ دار رہیںگی۔اس مسئلہ پر میں اس لیے میں تفصیل گیا کہ یہ آجکل ہر گھر کا مسئلہ ہے کیونکہ اب بیوی اور شوہر دونوں ہی کماتے ہیں تب کہیں جاکر گزر بسر ہوتی ہے ؟
اب واپس پھر اصل مسئلہ کی طرف آتا ہوں ؟ آج ہمارے پاس اسوہ حسنہ (ص) شکل میں تمام خزانہ موجود ہے اور حکم بھی یہ ہی ہے کہ جب بھی کوئی تم میں تنازع پیدا ہو تو اللہ اور رسول (ص کی طرف رجوع کرو ؟ مگر اللہ کی با ت ماننے ہم کو تیار نہیں، رسول(ص) کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں؟ جن (ص)کے بارے میں یہ آیت بھی موجود ہے کہ آپ(ص)  کےفیصلوں پر اگر یہ عمل نہ کریں تو مسلمان نہیں ہیں؟ جبکہ نافرمانوں کو اس نے کبھی منافق کا نام دیا اور پہچان یہ بتائی ہے کہ جو وہ کہتا ہے کرتا نہیں ہے۔ کہیں نافرمانوں کو کافر بھی کہا؟ اوریہ بھی کہا ہے کہ آپ ان کی شفاعت کرکے نہیں چھڑا سکیں جو جہنمی ہیں؟ ان کی فکر  چھوڑ دیں خود کو ہلکان نہ کریں ؟ سورہ زمر کی آیت (١٩) قرآن میں دیکھئے؟
 اب رہے مالدار ان کی دوقسمیں ہیں ایک تو وہ ہیں، جو حلال کماکر اور اللہ کی رضا کے لیئے خرچ کر رہے ہیں ؟ وہ تو جنتی ہیں اور اللہ کے ولی ہیں؟ان کا مقام جنت ہے،اور ان کو قرآن میں بار بار سراہا گیا ہے۔
 رہے دوسرے جو بے ایمانی سے اپنی تجوریا ں بھر رہے ہیں ان کے پاس جو رزق و وسائل کی فراوانی ہے وہ آپ کو ہر قسم کی ذہنی جسمانی اور مالی سزا دینے کے لیے ہے ۔ اس لیے کہ بقول اللہ سبحانہ تعالی وہ جھوٹے ہیں انہوں نے جب خالص اللہ کے لیئے کام ہی نہیں کیا تو اس سے امید بھی کیسی؟ اگر اس کی رضا پر چل رہے ہوتے تو پہلے اپنے ملال کا حلال ہونا یقینی بنا تے، پھر اسے اپے نام نمود کے بجائے خالص اللہ کے لیے خرچ کرتے ؟ وہ غریبوں پر سزا دینے کے لیے اس وقت تک مسلط رہیں گے ۔ جب تک عوام خود کو خدا کے تابع کرکے ان تمام پیر ِ تسمہ پاؤں سے نجات حاصل  نہیں کر تے ۔ بصورت َ دیگر وہ اسی طرح آپ کے کاندھوں سوار رہیں گے اور آپ کی گردن کے گردگھیرا روز ،بروز تنگ کرتے چلے جائیں گے۔ اللہ ہمیں عقل دے( آمین)
 

Posted in Uncategorized | Tagged

اکڑی گردن جھکا گیا وہ ہی؟از۔۔۔ شمس جیلانی

 ہم لوگ خوابوں کی دنیا کے لوگ ہیں؟خواب دیکھتے ہیں خوابوں میں رہتے ہیں۔خوابوں میں ہی جیتے ہیں اورسنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں؟ ایک دور تھا کہ مصطفیٰ کمال مسلمانوں کا ہیرو تھا؟اس کا  کارنامہ یہ تھا کہ ٹر کی جیسے مرد بیمار کو اس نے زندہ کردیا ؟جبکہ خلافت ختم کردی جوکہ پہلے ہی برائے نام تھی، یہ نعرہ قوم کو دیکر کہ ترکی صرف ترکوں کے لیے ہے مسلم امہ سے رشتہ توڑ کر یورپ میں زم ہونا چاہا ،جو خواب ہی رہا اورآج تک پورا نہیں ہوسکا؟ اس نے اسے ایک چھوٹے سے خطہ تک محدود کرلیا جو کبھی مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی، اور اس طرح مسلم قومیت کے تابوت  میں آخری کیل ٹھونک دی اور اسی پر بس نہیں کی عربی کوجدید ترکی سے نکال دیا ، قرآن کا ترکی ترجمہ پڑھنے کی اجازت تھی، سارے علما ءپر سخت نگرانی قائم کردی گئی، لباس بدل دیا گیا، عربی نام بدل دیئے گئے، اور اللہ کے قانون کے بجا ئے، اپنے الفاظ کو دستور کی شکل دیدی۔ اس میں اسکی خلافی ورزی پر پھانسی کی سزا بھی لکھدی گئی، فوج ملک کے سیاہ اور سفید کی مالک ہوگئی جو کہ موجودہ اسلامی حکومت سے پہلے تک رہی ؟ اس معاملے میں یہ کسی نے نہیں سوچا کہ ایک مسلمان اور نفرت دونوں اللہ کے لیے ہوتی ہیں ؟ اور مسلمانوں ہیرو وہی ہوسکتا ہے جو حضور (ص) کے اسوہ حسنہ  پرپوری طرح چلتا ہو۔
چونکہ اس وقت ذرائع تشہیر آج جیسے نہ تھے؟ وہ اسلام کی بیخ کنی کے باوجود تمام دنیا کے مسلمانوں کا ہیر وبن گیا؟ کیونکہ اغیار کا پروپیگندہ تھا کہ وہ تمہارا ہیرو ہے؟ اس وقت کا ہندوستان جو کل تک خلافت کے حق میں تحریک چلا رہا تھا جس میں مسلمانو ں کے تمام سر کردہ لیڈر شامل تھے ،جن میں مولانا محمد علی جوہر (رح) مرحوم جیسے لوگ بھی تھے ۔اور ہر ایک کی زبان پر ایک ہی شعر تھا “ بولیں اماں محمد علی(رح) کی جان بیٹا خلافت پر دیدو؟ ان کو چھوڑ کر سب اسی قاتلِ خلافت مصطفیٰ کمال کے گن گانے لگے؟اس کے نام پر بچوں کے نام رکھے جانے لگے مائیں یہ دعائیں کرنے لگیں اور امیدیں باندھنے لگیں کہ اللہ میرے بیٹے کو بھی کمال اتاترک جیسا بنا دے ، اور بچوں کو بچپن سے یہ تلقین کرنے لگیں کہ بیٹا تم بھی بڑے ہو کر کمال اتارک بننا ؟
    میں بھی ان میں شامل تھا وہ میرا ہی نہیں میرے والد ِ محترم کا بھی ہیرو تھا انہوں نے اس کے نام پر اپنے اخبار کا نام “ الکمال“ رکھا وہ 1938 ءمیں جب شائع ہونا شروع ہوا میں اس وقت صرف سات سال کا تھا۔ دوسری طرف وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے، وہیں سے وہ مولانا مودودی سے متاثر بھی ہوئے تھے، لہذا مجھے انہوں نے بچپن میں ہی مولانا مودودی (رح) کی کتابیں لاکر دیں اور ساتھ ہی وہ علامہ اقبال (رح) کے بھی بہت معترف تھے لہذا ان کا کلام بھی پڑھنے کو ملا۔ جبکہ میری نانی صاحبہ بہت ہی با عمل مومنہ تھیں، مجھے دن رات تلقین کرتی تھیں کہ بیٹا تم حضور (ص)کے نقش ِ قدم پر چلنا اور ہر معاملہ میں سمجھاتی رہتی تھیں کہ حضور (ص) یہ کام اس طرح کیا کرتے تھے تم بھی ایسا ہی کرنا؟ اور میں مذبذب تھا کہ کس کی سنوں! اور میں ہی نہیں پورے میرے ہم سن اس مسئلہ پر سب کے سب کنفیوژ تھے۔ کیونکہ ہمارے بڑے بہ یک وقت متضاد راستوں پر بڑھنا چاہتے تھے۔      کمال اتاترک سکولرازم کا علمبردار تھا۔ مولانا مودودی (رح) تقلید کے خلاف تھے اور اصل اسلام مسلمانوں کی زندگیوں میں نافذ کرنا ان کامشن تھا؟ مگر ان کے ماننے والے ان کی تقلید ان کی زندگی میں ہی کرنے لگے تھے، جس کو انہوں نے روکا نہیں؟ مولانا بدعتوں کے خلاف تھے مزار پرستی وغیرہ کے خلاف تھے، جب کہ وہ ساتھ ہی حسن بصری (رح) جیسے جلیل القدر بزرگو ں کو بھی اپنی تحریروں میں بطور حوالہ استعمال کرتے تھے۔ اس کے برعکس علامہ اقبال ملا ئیت کے خلاف اور تصوف کے حامی  تھےاورمولانا روم (رح) کے بے انتہا عقیدت مند تھے؟
میں نے ان سب کو اپنا تذبذب دور کرنے کے لیے پڑھا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے میری رہنمائی علامہ اقبال (رح) کے اس شعر کے ذریعہ فرمائی کہ “ جب تک نہ ہو ضمیر پر نزول ِ کتاب  عقدہ کشا ہے رازی نہ صاحب ِکشاف “ پھر میں نے جب حضرت عائشہ (رض) کی یہ حدیث پڑھی کہ حضور (ص) مجسم قرآن تھے۔ تو میں نے قرآن بھی پڑھا اور سیرت کو بھی پڑھا تواس طرح مجھ پرحق عیاں ہوا اور میرے دل میں یہ خواہش جاگی کے میں اتحاد بین مسلمین کے لیے کام کروں؟ جبکہ حضور (ص) کی سیرت لکھنا میری بچپن سے خواہش تھی لہذا میں نے حضور (ص) کی سیرت آسان پیرائے میں “ روشنی حرا سے “ کےنام سے لکھی اور اس کی بہت زیادہ پذیرائی ہو ئی تو میں نے ان صحابہ کرام (رض) کی سیرت جوکہ حضور (ص)کے بہت قریب تھے لکھی اور اہل ِ بیت کی بھی سیرتیں لکھیں ۔ پھر مجھے احساس ہواکے ہماری نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لہذ ا حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی سیرت لکھی اور آجکل صحابیات (رض) کی سیرت لکھ رہا ہوں جو مکمل ہونے کو ہے۔ ؟
  اپنے تجربہ کی روشنی میں میرا تمام طالب علموں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ قرآن اور سیرت د ونوں کو پڑھیں؟ تو راہ راست پر رہیں گے؟ اور عمل کرنے میں آسانی رہے گی؟ کیونکہ قرآن میں آپ کو حضور (ص) کے سلسلہ میں ویسے تو بہت سی آیتیں ملیں، گی مگر صرف یہ تین آیتیں دیکھ لیں تو کافی ہیں !جو کسی اور شخصیت اور بنی  (ع) کے لیے استعمال نہیں ہوئیں ؟ وہ ہیں کہ “ جولوگ مجھ (اللہ )سے محبت کے دعویدار ہیں ان سے فرما د یجئے کہ وہ آپکا ( ص) اتباع کریں“ پھر ایک اور آیت میں فرمایا کہ “ تمہارے لیے تمارے نبی (ص)کااسوہ حسنہ کافی ہے “ پھر تیسری آیت یہ کہ “ یہ نبی (ص) اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے سوائے اس کہ جو ان پر وحی کیا جائے “جبکہ نبی نے فرما یا کہ “ میرا ہی (ص) راستہ سیدھا راستہ ہے اس پر چلوگے توفلاح پا جاؤگے اس کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں کسی کو اٹھا کرمت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جا ؤگے“ ان آیات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسوہ حسنہ پر ہی عمل کرکے ہم  سارےکنفیوژن سے نکل سکتے ہیں؟
 اس تمہید کے بعد میں آج کے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ایسا ہی ایک بچہ ترکی چلا گیا جبکہ وہاں کچھ لوگ عقیدت میں ،کچھ ڈر سے کمال اتا ترک کی پرستش کرتے تھے، اس کی چاہت کو جلا ملی اور اس نے اپنا ہیرو ذہن صاف نہ ہونے کی وجہ سے کمال اتاترک  کومان لیا؟ اوربچپن سے اس نے یہ طے کرلیا کہ وہ بڑے ہوکر اتاترک بنے گا اس کے لیے جدو جہد کرنے لگا؟ جبکہ اصول ِقدرت یہ ہے کہ جو جس کام لیے جدو جہد کرتا ہے وہ اسے جلد یا با دیرحاصل ہو جاتی ہے۔ لہذا قدرت نے اسے موقع دیا اور وہ پاکستان کی صدارت تک پہونچ گیا ؟اس نے کچھ چھپایا نہیں صاف کہا کہ “ میرا ہیرو اتاترک ہے “ میں پاکستان کو ماڈرن بنا نا چاہتا ہوں ؟  چونکہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد دنیا کی اسے حمایت بھی حاصل کرنا تھی اور دنیا ان تحاریک سے تنگ تھی جو مسلمان شدت پسند کئی عشروں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا اس نے ماڈرناسلام کا نعرہ لگا یا، جبکہ اس نے پہلی کابینہ جو بنائی وہ ایماندار ترین کابینہ تھی؟ مگر مقامی معاشرہ ایماندار نہ تھا؟ کیونکہ وہ قوم جو 1947 ء میں تھی ،وہ اب مسلسل کنفیوژن کی وجہ سے  ویسی نہیں رہی تھی۔ اس تبدیلی کا ذمہ دار کون تھافیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں؟
 لہذا اس نے اپنے پاؤں جمانے کے لیے جنہیں ہمارے یہاں آجکل لوٹے یا الیکٹ ابیل کہا جاتا ہے ان کی ضرورت محسوس کی اور انہیں قابو میں لانے کے لیے وہ سارے حربے استعمال کیے جو کہ حکمراں  پہلے سےکرتے آئے تھے؟ کچھ نے اپنی آپ کو جیلوں سے بچانے کے لیے ، کچھ نے ہوس ِ زر اورجاہ و حشمت کے لیے اس کا ساتھ دیا وہی اس کے دور میں کرتا دھرتا بن گئے۔ اگر اس کے چارو ں طرف سلجھے ہو ئے لوگ ہو تے ذہن کے لوگ ہوتے تو اس کی پہلے دن سے مزاحمت ہوتی۔ مزاحمت نہ ہونے کی وجہ سے اسکی گردن اکڑتی چلی گئی حتیٰ کہ اس کادور ختم ہوا اسے سرنگوں اسی اللہ  نے  کیا،جس نی کبھی اقتدار دیا اوراکڑی ہوئی گردن انہیں کے سامنے جھکادی جوکبھی اسی کے ظلم و ستم کے شکار ہو ئے تھے۔؟اس کاذمہ کون ہے وہ کنفیوژن جو آج  تک بھی جاری ہے کہ دستور میں اسلام موجود ہے مگر کوئی عمل کرنے کو تیار نہیں اور جو حکومت میں آیا اس نے خلاءکو پر کرنے کے نام پر دھوکا دیا؟ وجہ یہ ہے کہ ہم صدیوں سے اپنا راستہ بھولے ہو ئے ہیں؟ چونکہ نہ دین سیکھتے ہیں نہ ہمیں قر آن سے دلچسپی، نہ سیرت سے دلچسپی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہر بات پر کہہ دیتے ہیں یہ ملا ئیت ہے؟ یہ بات ملا نے اپنی طرف سے کہہ دی؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مولوی اپنی طرف سے غلط بات نہیں کہہ سکتا! اس لیے کہ بلا سند کوئی بات کہے گا توپکڑا جا ئے گا ؟ پھر بھی کہے تو اس پر آپ عمل کرنے کے لیئے مکلف  بھی ںہیں۔ میں اکثر ایک عالم کا یہ جملہ دہراتا ہو ں کہ “ مولوی جو کہے اس پر عمل کرو ؟ جو وہ کرے اس پر عمل مت کرو “ اس میں یہ ہی رازکارفرماہے؟
    چونکہ اس کی مزاحمت نہیں ہوئی اس لیے کہ ہم ا پنی کم علمی کی وجہ سے کنفیوژڈ تھے اور ہیں۔ ابھی تک ہم یہ نہیں طے کر سکے پاکستان کا نظام حکومت کیا ہو نا چاہیئے جبکہ یہ ملک بنا اسلام کے نام پر تھا؟ لیکن ڈھونتے پھرتے ہیں کون کیسا پاکستان بنانا چاہتا تھا؟ جبکہ یہ ملک ترکی کے برعکس اسلام کی نشاط ِ ثانیہ کے نام پر بنا تھا؟ لہذا ہمیں بجائے اوروں کو دیکھنے کہ یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ ہمارا خالق! ہمیں کس رنگ میں دیکھنا چاہتا ہے؟ اسی رنگ میں ڈھل جانا چاہیے تھا۔ اس وقت جب یہ ملک بنا تھا ایثار اور ایمانداری عروج پر تھی؟ لوگوں نے اس کے راہ میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں؟ بغیر تنخواہ کے کام کیا بغیر سایہ کے کام کیا بغیر چھت کے رہے مگر ایک کیس بھی بد عنوانی کا نظر نہیں آیا۔ ہرانقلاب کا ہمیشہ یہ تقاضہ ہو تا ہے کہ کامیابی کے بعد بپھرے ہو ئے عوام کو تعمیر میں لگا دیا جائے؟ ہمارے یہاں ایسانہیں ہوا؟ پہلی پارلیمنٹ جو دستور ساز اسمبلی کہلاتی تھی وہ ملک کوسالوں تک دستور نہیں دے سکی اور ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ؟ کہ کونسا اسلام نافذ کریں، اس کا جواب بھی اسی وقت ہر مکتبہ فکر کے علماءنے دےدیا کہ یہ سا اسلام جس پر سب متفق ہیں ؟ وہ بھی کہیں اور سے نہیں لائے تھے۔ وہ مشترکہ قرارداد اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تھی؟جو قرآن اور احادیث کا مجموعہ تھی جس کو قر آن نے اسوہ حسنہ (ص) کہا ہے اور حضور(ص)نے اس کو اپنے اوپر اور اسلامی ریاست پر جاری اور ساری کر کے دکھاد یا تھا؟ جس کے بارے میں کوئی مسلمان بھی اگر واقعی مسلمان ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوں؟ جس کے لیئے چودہ سو سال سے ہر مبلغ  کہتا آرہا ہے کہ میں بھی حضور (ص) کا اتباع کرتا ہوں تم بھی ان ہی کا اتباع کرو بھلائی اسی میں ہے ؟ کوئی نہیں دکھا سکتا کسی کی کتاب میں کہ کسی نے  یہ کہا ہو کہ تم میرا اتباع کرو؟  اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے ۔(آمین) 

Posted in Uncategorized | Tagged

حدیث ِخواب ۔ از شمس جیلانی

  حدیث خواب کے نام سے امام ابن ِ کثیر  سورہ ص (38) کی آیت نمبر 69 اور 70کی تفسیر میں لا ئے ہیں۔ وہ آیتیں یہ ہیں۔ ماکان لی من علم م بالملاعلیٰ اذ یختصمون (69) ان یو حی الی الانما انا نذیرمبین ( 70)اس کا اردو میں لفظ با لفظ ترجمہ یہ ہے کہ ” نہیں  ہے مجھ کو  کچھ علم ساتھ  فرشتوں بلند  جسوقت  جھگڑتے تھے ( 69) نہیں وحی کی جاتی طرف میری مگر یہ کہ میں ڈرانے والا ظاہر (70) جبکہ ان آیات کا با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ ً  مجھے ان بلند رتبہ فرشتوں کا کیا علم ہوتا اگر مجھ پر (میرا رب ) وحی نہ فرما ئے (70) میں واضح طور پرآگاہ کر دینے والا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جائے (70) ” پھر مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ” ایک دن نمازِ فجر میں حضور (ص) نے (تشریف لانے میں ) بہت دیر کردی ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو نے کے قریب آگیا۔ پھر تیز قدم بڑھاتے ہو ئے آپ تشریف لا ئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے مختصر (سورتوں کے ساتھ) نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ہم سے فرمایاتھوڑی دیر ٹھہرو۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ًرات میں نماز تہجد پڑھ رہا تھا کہ مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا اور میں نے دیکھا کہ میں اپنے رب کے پاس ہوں۔ میں نے اپنے رب کو بہترین عمدہ صورت میں دیکھا۔ مجھ سے جناب باری تعالیٰ نے پوچھا کہ جانتے ہو فرشتے ملا اعلیٰ میں کس سلسلہ میں گفتگو کرنے میں محو ہیں میں نے عرض کیا کہ مجھے (ص) کیا خبر ! یہ سوال اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تین مرتبہ دہرایا ۔ جب میرا (ص) جواب نفی میں رہا تو میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عز و جل نے اپنادستِ مبارک رکھا۔یہاں تک انگلیوں کی ٹھنڈک میرے سینہ میں محسوس ہوئی اور مجھ (ص) پر ہر چیز روشن ہو گئی ، پھر مجھ سے فرمایا اب بتاؤ! ملا اعلیٰ میں کیا بات ہورہی ہے؟
میں (ص) نے عرض کیا گناہوں کے کفارے کی۔ پھر فرمایا کفارے کیا کیا ہیں! میں (ص) نے عرض کیا نماز با جماعت کے لیے قدم اٹھا کرجانا، نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل نہ چاہنے کے باوجود بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ (ص) سے میرے پروردگار نے پوچھا درجات کیا ہیں؟  میں نے عرض کیا کھانا کھلانا ، نرم کلامی اختیار کر نا اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھنا۔ اب مجھ  (ص)سے میرے رب نے پوچھا مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں (ص) نے عرض کیا نیکیوں کا کرنا، برائیوں کا چھوڑنا، مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش اور تیرا رحم اور جب تیرا ارادہ کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ہو؟ تو اس سے پہلے موت اور تیری محبت، تجھ سے محبت رکھنے والوں سے محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کر نے والے ہوں ، میں مانگتا ہوں ! اس کے بعد حضور (ص) نے فرمایا کہ یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھا ؤ، سیکھو اور سکھا ؤ۔
      میں نے اسے دیکھا تو میرے لیے اس حکم نبوی (ص) تاکید نظر اس کو بظور پیغام پھیلانے کی اس لیے  میں اسے ہدیہ ناضرین کررہا ہوںاس امید کے ساتھ کہ ناظرین بھی ایسا کر کے اجر کے مستحق ہونگے ۔
 جبکہ ابن ِ(رح) آگے یہ بحث چھیڑی ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ حضور (ص) نے جاگتے میں دیکھا  تھا؟ جو کہ ان کے خیال میں غلط ہے ؟اگریہ خواب بھی تھا ؟ تو میرے خیال  میں اس سے کوئی فرق اس کی اہمیت پر نہیں پڑ تا ۔اس لیے کہ نبی (ص) کا خواب بھی یکے از الہام ہے ۔
 اور اس میں کوئی کلام نہیں کر سکتا کہ اس میں جو سبق ہے وہ حق ہے، اور ہمیں وہ سیکھنے اور سکھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں جو کچھ بیان ہوا اس میں ہماری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے جوکہ سوال و جواب کی شکل میں ہے کیونکہ ان سب باتوں پر حضور (ص) تو پہلے ہی درجہ اکملیت کے پر تھے بلکہ کئی جگہ قر آن میں ان کو اپنے معمولات میں کمی کر نے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔
 اب آئیے میں بیان کی گئی ایک ایک نعمت کو مختصراً لیتے ہیں کیونکہ یہ چھوٹا سا مضمون پوری تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا؟ سب سے پہلے نماز ہمارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے جو ہم پر سب سے زیادہ بھاری ہے ؟ جس کے بے انتہا دینی اور دنیاوی فوائد ہیں جبکہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ عبادات کے سلسلہ میں دنیا کا ذ کر مت کرو؟ جبکہ دعائے مسنونہ میں جو حضور (ص) نے ہمیں سکھائی ہے دنیا پہلے ہے اور عقبیٰ بعد میں ہے اور ہمیں بھیجا بھی دنیا میں عقبٰی بنا نے کے لیے ہے مگر اس کو ہم بجا ئے مسافر خانہ سمجھنے کہ اس میں کھو جاتے ہیں اور “ الدار “ یعنی آخرت کا گھر سمجھ لیتے ہیں کیونکہ شیطان اور ہماری خواہشات ہمیں ہماری نظروں میں اسے ایسا ہی دکھاتی ہیں۔
    سب سے بڑا فائدہ نماز کا یہ ہے کہ ایک نماز ، دوسری نماز تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔ پھر جتنے قدم مسجد کی طرف اٹھتے ہیں انکا ثواب الگ ہے؟ اگر پہلے سے چلے جائیں اور اعتکاف کی نیت کرلیں تو جب تک اند ر قیام کریں اس کاثواب الگ بیان فرما دیا ہے ۔ کیونکہ یہاں بھی حضور (ص) کا دوسرا ارشادگرامی ہے کہ سب سے بہتر جگہ مسجد ہے اور سب سے بدترین جگہ بازار ہیں جبکہ ہم یہاں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور سلام پھیرتے ہی صفوں کو روندتے ہو ئے چلے جاتے ہیں کیونکہ جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ پھر وضو چونکہ نماز کی پہلی شرط ہے اس کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے! اس لیے کہ وہ پہلا امتحان ہوتا ہے نماز کے سلسلہ کا اور خصوصاً رات کے نمازیوں کے لیے جبکہ راتیں ٹھنڈی ہو تی ہیں ۔  ا س کے بعد حصول درجات کے ذرائع بتائے گئے ۔ اس میں اولیت بھوکوں کو کھانا کھلانے کی فرمائی گئی ہے جوکہ حقوق العباد کی طرف متوجہ کرتا ہے جس میں ہم آجکل سب سے پیچھے ہیں مساجد بھری ہوئی ہیں چند قدم پربازار ہیں جہاں وہ سب کچھ ہورہا ہے جو نہیں ہو نا چاہیے مثلا ًملاوٹ ، چور بازاری دھوکا دہی اور یہ سب کچھ نمازی ہی کر رہے ۔ جبکہ حقوق

العبادپر تا حیات حضور (ص) نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں ہمیشہ عمل فرماتے رہے۔ پھر نرم کلامی ،جو کہ لوگوں کے دلوں میں اتر نے کا ذریعہ ہے ، اس پرحضور (ص) کا اپنے ظہور سے لیکر وصال تک یہ ہی طریقہ کار رہا ۔ اس میں بھی ہم سب سے پیچھے ہیں اگر ہمارے اخلاق  دیکھنا ہوں تو سب سے بہتر مہینہ میں یعنی صبر اور برداشت کے مہینے رمضان المبارک میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہر ایک اپنا روزہ جتاتا ہو تا ہے اور کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے جبکہ یہ حدیث موجود ہے اگر تم اپنی زبان اور شرمگاہوں کی حفاظت کرو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضور (ص) اس میں بھی درجہ اکملیت پر تھے اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ اللہ سبحانہ تعالی ٰ نے ان کے حسن ِ خلق کی تعریف فرمائی ہے۔ جبکہ حضور (ص) نے خود بھی فرمایا ہے کہ مجھے مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا گیا ہے۔  یہاں پھر اول مسکینوں کا ذکر ہے کیونکہ یہ رحمت اللعالمین کا خاصہ ہے اور ہم ان کی امت ہیں اور ہمیں ان کے اسوہ حسنہ کی پیروی کا حکم ہے۔ پھر اس سے رحم مانگنے کاحکم ہے؟ جبکہ اللہ قر آن میں فرما رہا ہے کہ رحم کرو رحم کیے جاؤگے ؟ رحم ہمارے لیے کس سے مشروط ہوا ؟رحم کیئے جانے سے ،اس سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ “ صلہ رحمی کرنے سے عمر بڑھتی ہے، دوسری یہ بھی ہے کہ رشتوں کو منقطع کرنے والا سے رشتہ جوڑ نے والا بہتر ہے، اور یہ بھی جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے رشتہ جوڑو “ یعنی اپنی کو شش ترک مت کرو !جب کہ ہم بات بات پر ناراض ہو کر تعلقات منقطع کر لیتے ہیں۔ آگے جب پانی سر سے گزر جائے تو فتنے میں مبتلا قوم سے علیحدگی کا راستہ ہے، کیونکہ اس کے بعد عذاب یقینی ہے اس کابندو بست بھی خود ہی کرنا ہے کیونکہ پہلے تو نبی (ع) ہوا کرتے تھے اور انہیں اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ پہلے ہی نکال لیتا تھا؟ مگر اب نبوت ختم ہوجانے کے بعد، اب اپنی فکر خود کرنا ہے؟ پھر یہ سبق ہے کہ تمہاری محبت اور نفرت صرف اللہ کے لیے ہو؟ پھر ان کاموں کی لگن جو اللہ سے قربت کا ذریعہ ہوں۔ یہ چونکہ اچھے ماحول سے مشروط ہیں اس میں درپردہ اچھی صحبت کی بھی تلقین کی گئی ہے ۔ اس میں اللہ والوں کی صحبت بھی آجاتی ہے۔ اللہ ہم سب کو اسوہ حسنہ (ص) پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئے ۔ آمین

Posted in Uncategorized

آئینہ ۔۔۔ ہربھیڑچال سے ڈرلگتا ہے۔ از شمس جیلانی

ایک خبر ہے کہ کلوریڈا کے ایک اسکول سے ایک لڑ کی کو اپنی ساتھی طالبہ کے سکون قلب یا احساس زیاں مٹانے کے سلسلہ میں اپنا سرمنڈانے پر اسکول سے نکال دیا گیا اور اس کو شخصی آزادی کی بہت سی تنظیمیں حقِ آزادی میں مداخلت قرار دے رہی ہیں۔ جبکہ جس کے لیے سرمنڈوایا تھا وہ اپنی ساتھی کی بہت ہی احسانمند ہے کہ اس نے اس کے لیے بہت بڑی قر بانی دی اور اسے اس سے اپنی اہمیت کا ادراک ہوا؟ اسکول سے نکالے جانے کی وجہ کیا ہے اس پر انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا ؟ ممکن ہے کہ انہیں یہ خطرہ ہو کہ ان کے باقی طالب علم اپنی ہیئت نہ بدل لیں اور سر منڈہ ہونا ان کے اسکول کا نشانِ امتیاز بن جائے ؟کیونکہ دنیا میں آجکل بھیڑ چال اپنے عروج پر ہے ۔ اگر کسی اداکار یا کھلاڑی وغیرہ کی ناک کسی حادثے میں یا کسی حرکت کی وجہ سے کٹ جا ئے تو لوگ اسے بھی اپنا نےمیں دیر نہ کریں ،اور دنیا میں چاروں طرف نکٹے ہی نکٹے نظر آئیں۔ جیسے کی آجکل ثابت جین کی پینٹ کو کسی مجنوں کے اتباع میں چتھڑے بنا کر لٹکانے کا رواج بن گیا ہے اور یہ کئی دہائیوں سے جاری ہے؟
اس سے پہلے سرمنڈانے کارواج صرف ہندو مردوں میں تھا جن کو دنیا کی سب سے قدیم تہذیب کہا جاتا ہے؟ ان کے یہاں بھی صرف وہ ہی سرمنڈا تے تھے جن کے یہاں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ ممکن ہے وہ بھی کسی ایسی ہی وجہ سے شروع ہوا ہو، یا پھر یہ رسم اس لیے ہو کہ جس کا سرمنڈا دیکھو توسمجھ لو کہ اس کے یہاں موت واقع ہوئی ہےاور تعزیت شروع کردو؟ اس میں جو بھول چوک کا امکان ہے ،اسکا نہ جانے کیسے مداوا کرتے ہونگے جبکہ لوگ غلطی کہہ بیٹھتے ہوں گے کہ بہت افسوس ہوا کس کا انتقال ہو گیا ۔ وہ ناراض ہو کر وجہ بتاتا ہوگا کہ میرے سرمیں تو گنج ہو گیا تھا اس وجہ سے میں نے سرمنڈوادیا ۔ اور ناخون بھی کتر وادیئے کہ بھگوان نے گنج بھی دیدیا تھا اور ناخون بھی بڑھادیئے تھے لہذا میں نے دونوں سے جان چھڑا لی ؟ کیونکہ یہ محاورہ میں سن رکھا تھا کہ اللہ گنجے کو ناخون نہیں دیتا ،جو کھجلا کراپنے گنج کا کھوج مارے؟
اسی سلسلہ میں ہمیں ایک اور مثال یاد آئی کہ ایک زمانہ میں پڑھے لکھے لوگ ڈھونڈے نہیں ملتے تھے، جبکہ مرنے کی اطلاع بذریعہ ڈاک آتی تھی ۔وہ بھی تین پیسے کے پوسٹ کارڈ کے ذریعہ لہذا اعلان مرگ کے لیے پوسٹ کارڈ کا کونا پھاڑ کر عام خطوط سے اسے ممتاز کردیا جا تا تھا۔ جس کو خط ملتا تھا وہ اگر مسلمان ہے تو پہلے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیتا تھا پھر کسی پڑھے لکھے کے پاس روتاہوا جاتا اور وہ پڑھ کر اعلان کر تا کہ آپ کے فلاں عزیز انتقال کر گئے ۔ جبکہ مرحوم کا چالیسواں بھی ہو چکا ہو تا تھا۔ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ادھر کوئی رخصت ہوا ادھر خبر مل گئی ۔ پھر جہاز کے کرائے ایسے موقعہ کے لیے ستے ہو تے ہیں اور مسافروں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ مگر ہرچیز کی طرح لوگو ں نے اسکا بھی غلط استعمال کرنا شروع دیایعنی اس رعایت سے نا جائز فائیدہ اٹھانے لگے؟ جب بھی کہیں جانا ہو تا تو کسی کو دوسری دنیا میں پہونچا دیتے۔ چونکہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہو تا ہے؟ والد صاحب یا والدہ صا حبہ ، ساس اور سسر جب کئی کئی مرتبہ انتقال فرمانے لگے توفضائی کمپنیوں کو عقل آئی اور انہوں نے اس مردہ خانہ کا پتہ معلوم کر نا شروع دیا جہاں موصوف یاموصوفہ اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے بیچینی سے انتظار کر رہےہوتے؟ پوسٹ کارڈ والی رسم تو اب ختم ہو گئی اور ڈاکخانے اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں کہ ان جگہ انٹر نیٹ لے لی اور اب فیس بک کی وجہ سے لوگ ہر موڑ سے اعلان کرتے ہوئے چلتے ہیں کہ میں اب وہاں پہونچ گیا ہوں اور سیدھے ہاتھ کو یابائیں کو مڑنے والا ہوں۔ کیونکہ اب یہ سہولت موبائل یا سیل فونوں کی وجہ سے ہر ایک کو حاصل ہو گئی ہے اوراگر دونوں کے پاس اایپل کا فون ہے تو پھ تو آنے والا گلی مڑتے ہی نظر بھی آ جا تا ہے؟ ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ان دیوانوں کا کیا ہوگا جو صنف ِ نازک کی زلف پر شعراءے کرام نے صدیوں پہلے بھر ڈالے ہیں اور ابھی تک بھر ےجارہےہیں۔ پچھلے زمانے میں زلفیں خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی تھیں اور لمبائی گزوں میں ناپی جاتی تھی۔ ایک آدھ کوئی سرمنڈی لڑکی کہیں بچیوں کے درمیان نظر آتی تو وہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ بیچاری بے ماں کی ہے! اسی لیے ابا نے سر میں جوئیں بھر جانے کے بعد بال کٹوادیئے ہیں ۔ ورنہ کسی بچی کے بھی بال کٹے ہو ئے نظر نہیں آتے تھے ۔ با الفاظ دیگر سر منڈانے کا حق صرف مردوں کو تھا۔ جبکہ مسلمانوں میں یہ تازہ حاجی ہو نے کی علامت سمجھا جاتا تھا،جبکہ “ حجانی “اس سے بھی مستثنیٰ تھیں کہ انہیں ایک لٹ کٹوانا پڑتی تھی۔ جوکہ نظر نہیں آتی تھی۔ لہذا لوگ جس کابھی سرمنڈا دیکھتے اسکو حاجی صاحب کہنے لگتے ،چاہیں اس نے اپناسر گرمی دانے نکلنے کی وجہ سے منڈوا دیا ہو اور وہ اپنے آبائی گاؤں چی چوں کی ملیاں سے آگے نہیں گیا ہواور کالاشاہ کاکو بھی نہ دیکھا ہو؟۔
جب سے ہم نے دنیاوی علوم کابائیکاٹ کردیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت آدم (ع) کو فرشتوں پربرتری علم کی وجہ سے حاصل ہو ئی تھی اور حضور (ص) کا ارشاد بھی بھلادیا کہ علم حاصل کرو چاہیں اس کے لیے چین جانا پڑے “ نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری لائبریریاں کھنگال کر اور اس میں سے ڈیمک زدہ کتابیں نکال کر دوسروں نے اپنے علم کو آگے بڑھایااور یورپ نے ترقی کر لی تب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی قیادت سفید نسل کے ہاتھ میں دیدی۔انہوں نے خود کو دیوتا سمجھنا شروع کردیا اور اپنے ہوٹلو ں، میں ٹرینوں میں دار الحکومت اورتمام کالو نیوں میں کالوں کی نشستیں تک علیحدہ کردیں کہ کہیں ان کےکپڑوں پر برابر بیٹھنے سے کالا رنگ نہ لگ جا ئے؟ایک زمانے تک انہیں یہ بالا دستی حاصل رہی پھر ان کے خلاف تحریکیں چلیں ۔
وہ سلطنت جس میں کبھی سورج غروب نہیں ہو تا تھا۔ وہ سمٹ کر اپنے جزیرے تک آگئی !تو اس کے نوجوانوں کواحساس زیاں ہوا اور انہوں نے سفید فاموں کی (وائٹ سپر میسٹ) تحریک بناڈا لی اور اسکی پہچان یہ ہی رکھی کہ سرمنڈا ہو نا چاہیے ، پھر تو یہ فیشن بن گیا اور یورپ میں لوگ بکثرت سرمنڈوانے لگے ؟ شاید یہ سرمنڈانا بھی سوگ کی علامت کے طور پر ہو۔ اب تازہ تاریخ اس بچی نے رقم کی ہے کہ اس نے اپنی دوست کی حمایت میں سرمنڈا وادیا ہے جو کہ اس کی سہیلی کی تو مجبوری تھی کہ کینسر ایک ایسا موذی اور نیا مرض ہے جو کہ ان میں شامل ہے جن کے بارے میں حضور(ص) نے فرما یا کہ “ قرب قیامت ایسی بہت سی بیماریا ں ہو نگی جن کا نام اور علاج دونوں نہیں معلوم ہوں گے “یہ بھی انہیں بیماریوں میں سے ہے جوکہ ایک عرصہ تک بے نام تھی اب ماہرین نے اسے کینسر کا نام دیدیا ہے۔ اور اس کا حتمی علاج تو ابھی تک دریافت نہیں ہوا مگر اب کیمو تھراپی کی وجہ سے وہ ہر حسینہ کے بال لے جاتی ہے ۔ اور لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بیچاری کینسر میں مبتلا ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کی سہیلی روش کو اپناتے ہوئے اور لوگ بھی اسکا اتباع شروع کردیں اور آگے چل کر ساری دنیا سرمنڈن کرانا شروع کر دے ؟
کیونکہ دنیا میں ہمیشہ سے بھیڑ چال ہے ، جسے آپ فیشن بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جب یہ پوری طرح رواج پاگیا تو آئندہ نسل زلف کے قصیدے سن کر جو شاعر کہہ گئے ہیں کہا کرے گی موصوف جھوٹ کتنا بولتے تھے ۔ اتنی لمبی زلف ہو ئی ہی نہیں سکتی؟ جیسے کہ آجکل جنگ عظیم دوئم سے پہلے کے بازار کے بھاؤ سننے کے بعد پوتے کہتے ہیں کہ دادا ابّا چھوٹ کتنا بو لتے ہیں ۔ کیونکہ ہر ایک اپنی معلومات کو ہی آخری سمجھتا ہے؟
بیوٹی پارلر کاکارو بار جو آجکل خوب چل رہا اور بنگال جس کی زلفیں سب سے زیادہ مشہور ہیں ،وہ وہاں سے بھی ناپید ہو جائیں گی کیونکہ وہاں اور یہاں سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے غربت اتنی بڑھ جائے گی کہ خواتین اپنی عافیت سر منڈا نے میں ہی سمجھیں گی! جبکہ یو رپ تقریباًپہلے ہی اس بار سے سبک دوش ہو چکا ہے۔ اب سب کے تراشیدہ بالو ں کی وجہ سے اور مردوزن کے ایک سے کپڑ ے پہنے ہو نے کی وجہ سے گھور کر دیکھنے بعد ہی وہ پہچانے جا سکیں گے کہ ان میں مرد کون ہے اور خاتون کون ہے؟ جبکہ ان کے یہاں گھورنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تھا تویہ کبھی ہمارے یہا ں بھی معیوب اور قر آن میں حکم بھی ہے کہ مرد اور عورتیں اپنی اپنی نگاہیں نیچے رکھیں، مگر ہم ہر ہدایت کا الٹ کرتے ہیں لہذا نگاہیں بلند رکھ تے ہیں؟ جیسے کہ ہمارے دستور میں لکھا ہوا بہت کچھ ہے۔اس میں امید وار کا امین ہونا بھی شرط ہے ،مسلمان ہونا بھی شرط ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں امین بھی ملتے ہیں ابو امین بھی ملتے ہیں مسلم اور ابو مسلم بھی ملتے ہیں ، مگر صرف نام کی حد تک رہی عمل کی بات؟ ہمیشہ کی طرح جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔
دیکھئے میں نے آپکے منہ کامزا کڑوا کردیا اب ایک لطیفہ سنا کہ بات ختم کرتا ہوں کہ بنگال میں ایک صاحب تشریف لے گئےجن کی داڑھی تھی ۔انہوں نے ایک بڑا ساکٹھل بنگالیوں کو کھاتا دیکھ کرلے لیا؟ مگر وہ کٹھل کھانے کے آ داب سےواقف نہ تھے، لہذا کٹھل بے ادبی سے کھایا اور وہ ان کی ریش مبارک میں چپک گیا، اگر وہ کسی بنگالی سے پو چھ کر کھاتے تو وہ اس مشکل میں نہ پھنستے، سامنے میڈیکل اسٹور تھاانہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وہ ڈاکٹروں والی روئی کا رول لیکر اس سے صاف کرلیں ، اس سے صاف کیا تو روئی بھی چپک گئی آخر انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ سامنے نائی کی دکان تھی اندر چلے گئےاور جب باہر نکلے تو بے ریش تھے۔ اس کے بعد ان پر یہ راز کھلا کہ یہاں زیادہ ترلوگ بے ریش کیوں ہیں ؟ وہ سمجھ گئے کہ یہ کٹھل بہت کھاتے ہیں یہ سب اسی وجہ سے داڑھی نہیں رکھتے؟

Posted in Uncategorized

حالیہ غوغا آرائی ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ جوہڑ کی مچھلی سمند رمیں زندہ نہیں رہ سکتی اس لیے کہ سمندر میں جوہڑ جیسی غلاظت کہاں؟ شاید یہ ہی وجہ ہے کچھ لوگو ں کوفوجی عملداری زیادہ پسند ہے۔ جبکہ دوسرا محاورہ یہ بھی ہے کہ آزادی کا ایک لمحہ غلامی کے ہزاروں سال سے بہتر ہو تا ہے۔ پاکستان میں آجکل افواہوں کا بازار گرم ہے اور وجہ ہے ڈیرھ ارب ڈالر جو کہیں سے آئے ہیں مگر کیوں آئے ہیں یہ نہیں بتایا گیا؟
آئیے دیکھتے ہیں اس سلسلہ میں قرآن کیا کہتا ہے ۔ کیونکہ ہمیں یہ ہی حکم دیا گیا ہے جب تم میں کوئی تنازع پیدا ہو تو اللہ اور رسول  (ص)کی طرف رجوع کرو؟ قرآن اس سے سختی سے منع کررہا ہے کہ ذمہ داروں سے بغیر تصدیق کے کوئی بات پھیلائی جائے؟ کیوں اس لیئے کہ کہیں تمہیں خود یاکسی بے گناہ کو نقصان نہ پہونچ جا ئے اور بعد میں کفِ افسوس ملتے رہ جاؤ۔ دوسری طرف حضور (ص) نے اس کاتوڑ یہ فرمایا کہ اپنے بارے میں بد گمانی مت پیدا ہونے دو، (تاکہ افواہیں نہ پھیلیں) اور ایک نصیحت یہ بھی فرمائی کہ“ اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھو، اور یہ بھی فرمایا کہ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو؟
جبکہ حالیہ غوغا آرائی ۔ اس بات سے شروع ہوئی کہ پہلے تو ہمارے وزیر اعظم تشریف لے گئے سعودی عرب ،جہاں کہ ان کا گھر بار بھی ہے اور کاروبار بھی ہے۔ اور وہاں خدا کا گھر بھی ہے۔ جہاں غریب لوگ زندگی میں ایک مرتبہ جانے کی تمنا رکھتے ہیں اور اسی امید میں دنیا سے سدھار جاتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ فیضان ہے سعودی حکومت کی ہوس زر کا کہ اب حج اور عمرہ مہنگا ہوتے ہوتے غریب کی پہونچ سے باہر ہو گیا ہے۔ چونکہ امیروں کوزیادہ اور بار بار صفائی کی ضرورت پڑتی ہے ان کے لیئے آسان کردیا گیا ہے؟ جیسے کہ گردے کے مریضوں کو ہر روز ڈائیلاسس کی؟ اس کے لیے ان مسافرخانوں کی جگہ شاندار ہوٹلوں نے لیلی ۔ ورنہ پہلے تو یہ حالت تھی کے غریب ان مسافر خانوں میں بھوکے رہ کر حج کرلیا کرتے تھے جو تمام دنیا کے مخیر حضرات نے اپنی عاقبت سدھار نے کے لیے وہاں بنوارکھے تھے؟ کیونکہ انہیں عاقبت کا خیال زیادہ دامنگیر تھا جبکہ اب سارے حکمراں بخشے بخشائے پیدا ہوتے ہیں ۔یہ بات توخیر بیچ یونہیں آگئی۔
ہم بات کر رہے تھے غوغا آرائی کی! ہاں تو ان کے بعد پاکستان کے کمانڈر انچیف صاحب تشریف لے گئے جنہوں نے اس روایت کو پہلی دفعہ توڑا کہ زیادہ تر لوگ جو وہاں جاتے ہیں وہ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم عمرے کے لیے جارہے ہیں؟ جبکہ بہت سے کارِ جہاں لاحق ہوتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کا سہارا نہیں لیا سیدھی بات کی وہ شاہی خاندان سے ملنے جارہے ہیں ۔ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں ان کی صاف گوئی کی تعریف کی تھی۔ وہاں پہونچ کرپتہ نہیں ان میں وہ کونسی خوبی تھی جو سعودی حکمرانوں نے چند دنوں میں پرکھ لی اور ان کو اپنے سب سے بڑے قومی اعزاز سے نوا زا؟ اس کا جواب ایک ہی ہو سکتا جو ہم نے پہلے ہی دیدیا تھا کہ ہیرے کی پرکھ بادشاہ کو ہوتی ہے یا جوہری کو ہم نہ جو ہری نہ بادشاہ لہذا اس کو بلا تبصرہ چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
پھر سعودی وزرا ء کی ا فواج یکے بعد دیگرے یلغار کرتی رہیں۔ چونکہ یہ ملک پہلے ضیا ءالحق کے دور میں میدان جنگ بنا رہا ہے ، جوکہ سعودیوں کی کرم فرمائیوں کی وجہ سے بنا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ جہاں جاتے ہیں اپنا فقہ لے جاتے ہیں اور وہیں ورثے میں چھوڑ آتے ہیں! وہ ہمارے یہاں بھی پھٹ پڑنے والوں کی شکل میں چھوڑگیئے ؟ جس سے آجکل ہر ایک خائف ہے کہ کس کے ذاتی محافظوں میں سے کوئی نکل آئے اور احکامات شاہی کی خلاف ورزی پر جان سے ہاتھ دھونا پڑیں؟ ایسے میں یکایک ڈیرھ ارب ڈالر کاآجانا؟ لوگوں کے ماتھے ٹھنکنے کا باعث ہوا ،جو کہ ٹھنکنے چاہیئے تھے۔ کیونکہ حکمرانوں نے شفافیت کو بالائے طاق رکھا ؟ اور جب شفافیت کو بالا ئے طاق رکھا جا ئے تو اس حدیث کی خلاف ورزی کی حکومت مرتکب ہو ئی کہ غلط فہمیاں پیدا مت ہونے دو؟ جبکہ تبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ اگر ایک سنت زندہ کردو تو قسمت بد ل جاتی ہے، شکست تک فتح میں بدل جاتی ہے اور مسواک چبانے سے قلعے فتح ہوجاتے ہیں جس کی صداقت پر کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا؟ لیکن اس کادوسرا پہلو وہ بھی نہیں بیان کرتے کہ نبی (ص) کے ایک حکم کی خلاف ورزی شکست کا باعث بھی بن جاتی ہے؟
جبکہ قوم پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکی ہے لہذا اب چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پی رہی کہ کہیں منہ نہ جل جا ئے۔اگر اس مسئلہ پر خاموشی نہ اختیار کی جاتی اورسب کچھ پہلے ہی بتا دیا جاتا تو شاید یہ صورت ِ حال پیدا نہ ہو تی؟ اب اگر ہوئی ہے تو عوام پوچھ رہے ہیں کہ بتاؤ یہ تحفہ کس سلسلہ میں ہے اور کہاں سے آیا ، اگر یہ مدد ہے تو کیوں اور بدلے میں کیا دینا ہوگا؟۔ کیونکہ یہ بنیے کی ہٹی تو ہے نہیں کہ بغیر لکھت پڑھت کے اتنی بڑی رقم مل جا ئے، دوملکوں کامعاملہ ہے۔ یہاں پھر وہی کمزوری ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ “ جو لین دین کرو اس کو لکھ لیا کرو اور دو شاہد بھی بنا لیا کرو اور اس کی پوری تفصیل بھی ہو نا چاہیئے کہ وہ اسکے بدلے میں کیا لے گا،کب واپسی ہوگی کیسے واپسی ہوگی کون لینے آئے گا۔ یاتم خود پہونچاؤگے وغیرہ وغیرہ ؟ جبکہ یہاں سرے سے کسی معاہدے کا ذکر ہی نہیں کیا گیا؟ کیا یہ درست اسلامی طریقہ ہے؟
جبکہ ہمارے ہاں یہ روایات ہیں ۔ جو پہلے والے کرتے رہے ہیں کہ لوگوں کو پکڑ کے دیتے تھے اور پیسے ان کو مل جاتے تھے؟ وہ جاتے کونسے اکا ؤنٹ میں تھے اس کا علم لینے والوں کو تھا، عوام کوپتہ جب چلا کہ جب انہوں نے خود ہی اپنی کتاب میں یہ سوچ کر لکھا کہ ہما را کون کیا بگاڑ سکتا ہے؟ جبکہ کوئی کوئی تو ہمارے یہاں اتنا بھولا ہے کہ اس کے کھاتے میں کوئی کروڑوں روپیہ ڈال گیا اور اسے پتہ ہی نہیں چلا؟ بلا شبہ یہ تو کوتاہی ہے حکومت کی؟ جس پر دورائیں نہیں ہوسکتیں۔
اب ان کی بات کرتے ہیں؟ جو فوج کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم کہنا نہیں ماننا ؟ جبکہ فوج کا سپریم کمانڈر جمہوریت میں صدر ہو تا ہے۔ اور فوجی قانون یہ ہے کہ پہلے حکم کی تعمیل کرو پھر اپیل کرو ورنہ کورٹ ما رشل ہو جاتا ہے ؟ کیا یہ سبق دینا بغاوت پر اکسانے کے زمرے میں نہیں آتا؟ جب کہ یہ تلقین والے دیوتا ، اپنے کسی حکم عدولی کرنے والے کارکن کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ کراچی کے نو زائیدہ بچے بھی جانتے ہیں ۔ کیا وہ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں کہ باقی لوگ ان کے کارکنوں سے کہیں کہ وہ انکا حکم نہ مانیں؟ کیا وہ اس طرح دستور کی خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں۔ جو فوج کو بھڑکا رہے ہیں۔ یعنی تم کو حکم دیا جائے تو تم بات مت ماننا بغاوت کر دینا ؟ اس صورت میں کوئی حکومت چل سکتی  ہے؟ کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ خربوزہ رنگ پکڑتا ہے! ایسے میں خود ان کی پارٹی چل سکتی ہے؟ اسے بھی میں بلا تبصرہ چھوڑ تا ہوں۔
اب ان کی بات کرتے ہیں جوہر تھوڑے دنوں کے بعد کہنے لگتے ہیں کہ فوج ہی اچھی تھی؟ جبکہ پاکستان بننے سے اب تک فوج ہی رہی ہے جمہوریت اس ملک میں آئی ہی نہیں فوج کبھی ظاہرمیں ہوتی ہے کبھی پس پر دہ چلی جاتی ہے!
جبکہ ایک جنرل نے ملک توڑدیا وہ غدار نہیں کہلایا اس لیے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھتا کون؟ دوسرے نےعین اس وقت جمہوریت کی پیٹ میں چھرا گھونپ دیا،جب بات ہندوستان سے طے ہونے والی تھی کیا کسی نے پوچھا کہ تم نے یہ خود سری کیوں کی؟ اور اس کے نتیجہ میں جو جانی اور مالی نقصان پاکستانیوں اور کشمیریوں کا اب تک ہورہا ہے اسے اس کا ذمہ دار قرار دیکر ہے کوئی کہ اس پرمقدمہ چلا ئے ؟ اگر حکومت مقدمہ درج کرابھی دے تو سزا کس کو ملے گی ؟ عوام کو اور صرف عوام کو کہ اعلیٰ عدالتوں کے زیر تصفیہ مقدمات کا ڈھیر جو پہلے ہی بہت ہے اور بڑھ جائے گا؟ اوراس طاقتور ملزم کی سکیوریٹی پر اربوں روپیہ عوام کا خرچ ہو جاے گا؟ یہ سوال بھی آپ پر چھوڑتا ہوں؟
کیونکہ اسلام میں قانون سے بالا تر تو کوئی نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں قانون کا طابع کوئی نہیں! البتہ ملک اسلامی ہے دستور اسلامی ہے اور الحمدللہ ہم مسلمان بھی ہیں؟ لیکن ہماری جان اسلامی قوانین کے نفاذ سے نکلتی ہے۔ چلو اگر اسلامی قوانین پر نہیں چل سکتے جنکا صلہ دین اور دنیا دونوں ہیں؟ تو ان کی پیروی کرلو جو صرف دنیا کی بات کر تے ہیں اور تم ان کی پیروی کرتے بھی ہو۔ اور وہ مہذب بھی کہلاتے ہیں۔ ان کے یہاں انصاف کی حالت دیکھو! ان سے سبق سیکھو؟وہ یہ کہتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا ابطال ہے؟وہاں بھی انصاف فوراً ہی مل جاتا ہے۔ وہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے ،جبکہ ہمارے یہاں کوئی سچ نہیں بولتا؟ وہ دفتروں میں بیٹھ کر چائے نہیں پیتے، رشوت نہیں لیتے ؟دوستوں سے گپیں نہیں لڑا تے نماز کے نام پر پان کی مانڈلی پر کھڑے ہو کر کھیلوں کی رننگ کامنٹری نہیں سنتے ؟ ان سے جہاں اپنے مطلب باتیں سیکھتے ہو وہیں کچھ ان کی اچھی باتی بھی سیکھ لوتاکہ دنیا میں ہی سہی اچھی طرح جی سکو؟

 

Posted in Uncategorized

تھر میں قحط۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

میں یہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میں نے اپنے لکھنے کے لیے ہفتے میں ایک دن مقر کر رکھا وہ سنیچر کا دن ہے ۔ ہر روز میں دو وجو ہات کی بنا پر نہیں لکھتا کہ اس میں تعداد تو بڑھ سکتی ہے مگر معیار قائم نہیں رہ سکتا دوسرے یہ بھی چاہتا ہوں کہ اور لوگوں کو بھی لکھنے کا موقعہ ملے، اگر میں روز لکھوں تو دوسروں کے لیے وقت کہاں بچے گا یہ ہے میری مجبوری ؟میں نے سوچا تھا کہ آ جکل وطن ِ عزیز سے اچھی خبری آرہی ہیں یکجہتی کی خبریں ۔امن و آشتی کی خبریں اور معاشی استحکام کی خبریں ۔اس سے ایک سبق مل رہا ہے کہ مسلم امہ نے شاید اللہ کی رسی کو دوبارہ پکڑنے کوشش شروع کردی ہے اور اپنے زوال کی وجہ جان لی ہے ہمیں حسنِ ظن رکھتے ہو ئے اپنے بھائیوں کی کوششوں کو سراہنا چا ہیے جو اس سمت میں ہوں! چاہیں وہ کو ئی بھی کر رہا ہو مگرامت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد کی بات کر رہاہو اور ان سے بچنا چاہیئے جو فرقہ واریت کے نام پر اپنی چودھرائٹ بچا نے کے لیے نفاق کی بات کریں وہ چاہیں کتنے ہی معزز اور مقدس ہوں؟ کیونکہ بطور مسلمان ہماری یہ ہی ذمہ داری بنتی ہے؟ اس پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں لہذا اگلے ہفتے سہی ۔
اب میں تھر پارکر کے قحط کی طرف آتا ہوں۔ جس پر وہ سب لکھ چکے ہیں اور ٹی وی پربھی بحث اور مبا حثے کرچکے ہیں ،جنہوں نے تھر کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا ؟ ۔ لہذا نہ وہاں کے مسائل سے وہ واقف ہیں نہ وہاں کے حقائق کاعلم رکھتے ہیں۔
انیسویں صدی کے آخر تک سندھ پر تالپور خاندان حکمراں تھا اور سندھ بہت سی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ جب لوگ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دشمن ہو ں تو پھر کسی حملہ آور کو فتح میں کیا مشکل  پیش آ سکتی ہے۔ لہذا انگریز وں نے اس کو تر نوالہ سمجھا اور جب پورا ہندوستان فتح کرلیا تو آخر میں میں کرنل چارلس نیپیر نے پورے سندھ کو فتح کرلیا ، بعد میں اس کے چاراضلاع  بنا دیئے اور تالپوروں کی ایک ریاست خیر پور باقی رہنے دی جونواب کی انگریزسے وفاداریوں کا صلہ تھا۔ ان چار اضلاع میں ایک تھر پاکر بھی 1882 ءبنا جس کا صدر مقام میر پور خاص تھاجبکہ رقبہ کے اعتبار سے  یہ سب سےبڑا ضلع تھا اور اس میں بارہ تحصیلیں یا سندھی زبان میں تعلقے تھے۔ انگریزوں نے جب ہندوستان کو فتح کرنے کے بعد اپنی انتظامی ضرورت کے تحت ہندوستان کو تقسیم کیا تو سندھ کو بمبئی کے صوبے میں شامل کر دیا ؟مسلمانوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اس کو واپس صوبے کی حیثیت دلو ائی ۔ اتنے میں پاکستان بن گیا اور تھر پارکر پاکستان کا حصہ بن گیا۔
جس کی جغرافیائی صورت حال یہ تھی کہ عمر کوٹ تک زمین بہتر تھی جہاں سکھر بیراج بننے کے بعد کھیتی باڑی ہونے لگی ۔ جیسے ہی آپ امر کوٹ سے تھوڑا آگئے بڑھیں زیادہ نیں صرف چند سو گز تو آپ  کوقدرتی تقسیم دکھائی دے گی کہ ریت الگ اور اچھی زمین الگ، پھر اس کے بعد ہندوستان کے صوبے بشمول راجستان، ہریانہ اور رن آف کچھ ،لامنتاہی ریگستان ہے۔ تھر میں داخل ہونے کے لیے ریگستان کی سرحد کے ساتھ کئی مقامات ہیں جن میں سے ایک کنری بھی ہے۔ وہاں آنے جانے کے لیئے ایک زمانے میں صرف اونٹ واحد ذریعہ تھے ۔ لیکن  1945ءکی جنگ عظیم کے بعد جو فوجی ٹرک تھے جنہیں یہاں کی عام زبان میں کیکڑا کہا جا تا ہے۔ وہ ملٹری نے ناکارہ قرار دیکر نیلام کر دیے، تووہی تھر میں آمد و رفت میں سہولت کا باعث ہوئے ۔اس کی کیبن فرسٹ کلاس ہو تی ہے اور بقیہ ٹرک میں غلے کی بوریاں ان پر انسان، بھیڑ، بکری اور مرغی وغیرہ باہمی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں کی پیدا وار بشرط بارش مکئی، جوار باجرا اور گوار ہے اسی میں سے گوار ان کی انکی آمدنی کا ذریعہ ہے جس کی مانگ گوار گم بنانے کی وجہ سے دنیا میں بہت ہے ۔ سب سے پہلے پاکستان بننے کے بعد تھر پارکر سے دو تحصیلیں سانگھڑاور کھپرو کاٹ کر اور دوتحصیلیں نواب شاہ سے سنجھورو اور شہداد پور لے کر سانگھڑ ضلع بنا دیا یا گیا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دور میں مزید پانچ تحصیلیں کاٹ کر کچھ نئے ضلع بنا دیئے گئے جن کی تعداد اب سب مل کر  چار سے بڑھ کرتئیس ہوگئی ہے۔
اب جو علاقہ تھر کہلاتا ہے وہ پرانےضلع کی چار تحصیلیں ہیں ،مٹھی، چھاچرو ، ڈیپلو اور نگر پارکر جبکہ مٹھی ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے اور اس میں سے بھی کچھ حصہ کاٹ کر پانچویں تحصیل اسلام کوٹ بنی ہے۔ اس میں سوائے ڈیپلو کے جہاں ارباب حکمرا ں ہیں اور ڈیپلو میں میمن ہیں۔ باقی علاقے میں اکثریت میں نچلی ذات کے ہندو یعنی کولہی اور بھیل وغیرہ آباد ہیں ۔ جو انتہائی غریب ہیں۔
مٹھی تک سنا ہے اب سڑک بن گئی ہے۔اور واٹر سپلائی کا انتظام بھی ہوگیا ہے اور چھوٹا سا ضلعی اسپتال بھی ہے ۔اس کے علاوہ وہاں کوئی اور سہولت موجود ہے تو برائے نام ہے کیونکہ وہ تنخواہ وہاں سے لیتے ہیں اور رہتے کہیں اور ہیں۔ پینے کے پانی کی ، آنے جانے اور سامان کے ترسیل کی کوئی دوسری سہولت موجود نہیں ہے۔ اک چھوٹا سا اسپتال چیل بند پر بنا ہوا۔ یہ بند انگریزوں نے تھر کو سیلاب سے بچا نے کے لیئے بنا یاتھا۔ اس سے آگے صرف اونٹ یا انہیں کیکڑوں کے ذریعہ سے رسائی ممکن ہے۔ اس وقت تھر کاجو متاثرہ علاقہ ہے وہ  زیادہ ترچھاچھرو تحصیل ہے؟ جس کی آبادی دس لاکھ بتا ئی جارہی ہے۔ چونکہ اکثریت وہاں کی خانہ بدوش ہے لہذا اسے یقینی نہیں کہا جا سکتا؟ اور یہ اس علاقے کی بد قسمتی ہے کہ وہاں زیر زمین پانی اول توہے نہیں اور اگر ہے تو بہت گہرائی میں ہے یا پھر کڑوا ہے؟
ان کی گزر بسر صرف بارش پر ہے جب با رش ہوتی ہے تو ریت کی پہاڑیاں جو عام دنوں میں ہوا ادھر ادھر اڑائے پھرتی ہے ایک جگہ اپنے باشندوں کی ٹھہر جاتی ہیں اور تھر اتنا سر سبز ہو جاتا ہے کہ وہ کشمیر کا منظر پیش کرتا ہے ،تالاب بہت بڑے ہیں وہ بھی بھر جاتے ہیں انہیں میں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں، جو ذرا پڑھا لکھاطبقہ ہے وہ پانی میں پوٹیشیم پر میگنیٹ جس کو وہاں لال دوا ئی کہتے ہیں ڈال کر پیتا ہے، پانی مٹی  کےگھڑوں میں گھریلو استعمال کے لیئے اسی تالاب سے بھر کر لا تے ہیں جس کے منہ پر کپڑابندھا رہتا ہے جو اصل میں فلٹر کا کام دیتا ہے۔ ان تالابوں کے انسان اور جانوروں کے مشترکہ استعمال کی وجہ سے وہاں “ گنی وارم  “کی بیماری عام طور پر لاحق ہو تی ہے جس کو وہ “ وارے جی “ بیماری کہتے ہیں یہ کیڑا جسامت میں پتلا دھاگے کی طرح اور لمبا ئی میں گزوں پر مشتمل ہو تا ہےجس کا لاراوا معدے میں پہونچ کر نس میں داخل ہو جاتا ہےوہیں پرورش پاتا ہے اور کہیں سے بھی نکل سکتا ہے مثلا “ آنکھ کی پلکوں سے“ مقامی لوگ اس کا کوئی علاج نہیں جانتے سوائے  جھاڑ پھونک اوراس کے کہ اس کو چھوٹی سی ایک تیلی میں لپیٹ دیتے ہیں اور جتنا وہ باہر نکلتا ہے روزانہ اسے لکڑی میں لپیٹتے جا تے ہیں بہت تکلیف دہ بیماری ہےاور کم از کم از کم چھ مہنے تک مریض صاحب ِ فراش رہتا ہے۔ اسکے علاوہ پانی ہی کی وجہ سے اور بھی بہت سی آنتوں اور جگر وغیرہ کی بیماریاں کثرت سے  ہیں ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بارش ہو تو ایک طرف تو ان کے لیے رحمت  ہےمگر دوسری طرف بیماریوں کا باعث بھی ہے کہ وہ رات کو سو نہیں سکتے کیونکہ وہا ں ایک سانپ برسات میں نکلتا ہے اس کو وہ“ پیون“ کہتے ہیں وہ رات میں  آکر سینے  پربیٹھ جاتا ہے؟ اور انسان کی سانس سے اپنی سانس کا تبادلہ کر تا رہتا ہے۔ جیسے ہی صبح ہوتی روشنی نکلتے ہی وہ اندھا ہو جاتا ہے، اگر روشنی سے پہلے اسکاپتا چل گیا تو اس کو ایسی جگہ رکھتے ہیں جہاں روشنی  نہ پہونچے تو وہ علاج سے بچ جاتا ہے ورنہ مرجاتا ہے۔
وہاں 1971کی جنگ بعد کچھ تبدیلی آئی تو یہ کہ وہاں سے ٹھاکر جو عملی طور پر حکمراں تھے انڈیا چلے گئے ۔ اور ان جگہ افسر شاہی کی مد د سے مسلمان وڈیروں لے لی۔ چونکہ اکثریت نچلی ذات کے ہندؤں کی ہے ان کے حصے میں کچھ نہیں آیا نہ ہی ان کی قسمت بدلی۔ یہ وہ بد قسمت خطہ ہے کہ ہر تین سال بعد قحط پڑتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو سیلاب آجاتا ہے۔ جبکہ انکا اصل کاروبار گلہ بانی ہے۔ جانور زیادہ تر انڈیا سے اسمگل ہو کرآ تے ہیں جن کا نذرانہ مقرر ہے جو وہ سرحد کے نگہبانوں کو ادا کرتے ہیں اور وہی پورے پاکستان کو سپلائی ہو تے ہیں اسکے علاوہ اسمگلنگ عام ہے جو اونٹوں کے ذریعہ ہوتی وہ انتے تربیت یافتہ ہیں کہ ادھر سے جو ان پر لادھ دیا  جائےتو ادھر چھوڑ آتے ہیں اور ادھر سے جو بار ہوتا ہے وہ ادھر چھوڑ دیتے ہیں ۔ پہلے تو پکڑے ہی نہیں جاتے اگر پکڑے جائیں تو اونٹ؟
جب بارش نہ ہو تو نہ ان کے  لیےپانی ہو تا ہے نہ جانوروں کے لیئے لہذا نقل مکانی کر کے یہ میر پور خاص وغیرہ کی طرف آجاتے ہیں جانور اونے پونے بیچ دیتے ہیں اورخود محنت مزدوری کر کے پیٹ  بھرتے ہیں۔ چونکہ راستے ہی نہیں ہیں۔ صرف فادر جیپ وہاں جا سکتی ہے جو کہ ایک گیلن میں آٹھ میل دیتی  ہے؟ آفیسر وہاں جب ہی جاتے جب کوئی حکمرانوں میں سے آئے جبکہ حکمران طبقہ زیادہ تر ہیلی کاپٹر سے جا تا ہے؟ اسی لیے آج تک وہاں کوئی وزیر اعظم نہیں گیا ، اس اعتبار سے میری معلومات اگر غلط نہیں ہں (کیونکہ میں پچیس سال سے ملک  سےباہر ہوں) تو نواز شریف صاحب پہلے وزیر اعظم ہیں۔ حتی ٰ کہ شوکت عزیز بھی نہیں گئے، جو کہ وہاں سے تو نہیں البتہ ڈیپلو سے منتخب ہو ئے تھے اور ان کو ارباب غلام رحیم نے اپنے علاقے سے منتخب کرایا تھا۔
اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہو ئی کہ چھیاسٹھ سال میں کسی نے بھی ان کی خبر نہیں لی اس لیے کہ رواج ہی نہیں تھا وہ علاقہ صدیوں سے دو قبیلوں کے درمیان بٹاہوا تھا ایک رانا چندر سنگھ کا خاندان جو کہ چھاچھرو کی طرف ہے جہاں ہندوستان سے1971ء کی جنگ تک گوشت تو بڑی بات ہے انڈا بھی نہیں ملتا تھا! سرخ پیاز، مسور کی دال لال رنگ میں گوشت سے مماثلت کی بنا پر نہیں ملتی تھی ! جبکہ دوسرا خاندان اربابوں کاتھا جو ڈیپلو میں کلوہی کی طرف ہیں غلام محمد بیراج سے سیراب ہوتا ،امریکن اقسام کے خربوزے اور گنا پیداوار ہے ۔
مگر ان دونوں خاندانوں  میں بڑی یگانیت بلکہ رشتہ داری  تک تھی جس کی بنا اکبر نے ڈالی تھی کہ کچھ ٹھاکرانیاں اربابو ں کے ساتھ  با قاعدہ بیاہی گئی تھیں جوکہ ایک نسل پہلے تک تھیں۔ ؟جبکہ ہندوستانی فوجوں نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو رانا لچھمن سنگھ جوکہ ٹھاکر تھا اس نے ہندوستانی فوجوں کی رہنمائی کی اور وہ وہاں تک پہونچے تو انہوں نے اس تھوڑے  سےعرصے میں ہی ریلوے کے پرانے سلیپر بچھا کر اور اس پر کولتار ڈال کر سڑک بنا لی تھی جو جاتے ہوئے اپنے ساتھ اکھاڑ کر لے گئے اور ان کے ساتھ رانا لچھمن سنگھ بھی چلا گیا ۔
پھر ایک سابق ایم این اے کو بھٹو صاحب کے دور میں  اس فنڈ میں سے جو ہندوستان سے واپس آنے والوں کی آباد کاری کے  لیےملا تھا۔ ممتاز بھٹو صاحب نے سابقہ بنیادوں پر سڑک بنا نے  کاٹھیکہ دیا جسکو دیکھنے کے لیئے ہم لوگ گئے،تو اس کا کوئی نشان نہ تھا۔ جب ہم نے لو گوں سے پو چھا کہ سڑک کہاں گئی تو انہوں نے بتا یا کہ سائیں نے اپنے ٹریکٹر سے دونوں طرف سے ریت جمع کر کے سڑک بنادی تھی جو ہوا آئی اور ا ڑ اکر لے گئی ۔ جہاں لوگ جاتے ہی نہ ہوں جہاں کا ہر پڑھا لکھا طبقہ مجبور ہو کہ کہیں اور جا کر ملازمت کرے ۔ کیونکہ تھر کے دو شہروں کا تعلیم میں تناسب بہت زیادہ ہے ،ایک مٹھی کے بنیے جو اعلٰی ذات کے ہندو ہیں اور دوسرے ڈیپلو کے میمن جو مسلمان ہیں؟  جو سندھ میں سرکاری ملازمتوں میں  کثیر تعدادہیں۔ اور بنگال طرح زیادہ تر ٹیچر ہیں ۔
چونکہ اب میڈیا کی وجہ سے وہاں تک رسائی ہوگئی ہے لہذا شاید کوئی حل نکل آئے۔ اس مسئلہ پر تمام ملک کے سائنسدانوں کی ایک کانفرنس ہو نا چاہئے تاکہ وہ سروے کریں۔ شاید کہیں میٹھے پانی کے ذخائر ہوں اور نکل آئیں۔ جیسے کے ہندوستان نے کیا کہ اس دریا کو دریافت کرلیا جو کہ کسی زلزلہ وجہ سے زیر زمین چلا گیا تھا اور وہ ادھر سے بہتا ہو کبھی چولستان تک آیا کرتا تھا وہی ساری زمین سیراب کرتا تھے۔ اس کی گزر گاہ پر ٹیوب ویل لگا کر بھارت نے راجستان اور ہر یانہ کے بہت بڑے حصے کو سر سبز بنالیا؟ راستے تو نکل آتے ہیں بشرط ِ کہ کوئی کچھ کر نا چاہے۔ دوسرا مسئلہ سڑکوں کا ہے کہ گندم مٹھی تک تو پہونچ گئی آگے کیوں نہیں جاسکی ؟ جواب یہ ہے کہ جاتی کا ئے پر؟ پھر حکمرانوںکی فرصت کا سوال بھی ہے کہ ان کے پاس اتنا وقت بھی تو ہو کہ وہ فوٹو سیشن کراسکیں؟

Posted in Uncategorized

حالت تشویش ناک ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستان کے ایک موقر روز نامہ نے خبر دی ہے کہ سابق صدر پاکستان جناب مشرف نے ایک درخواست عدالت میں پیش کی ہے۔ کہ میں بظاہر تو تندرست اور توانا لگتا ہوں مگر میری حالت تشویش ناک ہے ۔ یہ جملہ ذو معنی ہے اگر ہم اس کا ضمیر صحت کی طرف مان لیں تو پھر ڈاکٹروں کی آرا ءپر یاخود اپنی صوابدید کی بناپر، فیصلہ عدالت کوکرناہے جو وہ کرے وہ اس کی مرضی؟ لہذا ہم اسے بلا تبصرہ چھوڑ تے ہیں ۔ البتہ اس کے ہم دوسرے معنی لیں، تو بیماری کے علاوہ، انسان کے اپنے افعال اسے اتنا کڑوا بنا دیتے ہیں کہ اسے اپنے چاروں طرف خطرات ہی خطرات نظر آتے ہیں۔ اس پر ہمیں ایک لطیفہ یاد آگیا جوکہ واقعہ بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں یہ روش عام ہے! ایک صاحب اپنے جگری دوست کے گھر گئے ،تو انہوں نے اندر سے کہلا بھیجا کہ “ وہ گھر پر نہیں ہیں “ جبکہ یہ انہیں کھڑی میں سے جھانکتا ہوا دیکھ چکے تھے؟ ان کی اس حرکت نے سالوں کے دوستانے کو لمحوں میں ختم کردیا۔ اگر یہ جھوٹ نہ بولتے اور اسلامی طریقہ اختیار کرتے کہ تین دفعہ آواز دے کر واپس چلے جاتے تو دونوں میں سے کوئی گناہ گار بھی نہ ہوتااور نہ ہی یہ صورتِ حال پیدا ہو تی جو آگے چل کر آپ پڑھیں گے؟ کچھ دنو ں کے بعد جب یہ ان کے گھر آئے تو انہوں نے بجا ئے نوکر سے کہلانے کہ خود ہی کھڑکی میں سے سر نکال کر کہا کہ میں گھر پر نہیں ہوں؟ اِنہوں نے بہت ہی بے تکلفی سے کہا کہ یار کیوں مذاق کر رہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تم عجیب آدمی ہو کہ میں نے تمہارے نوکر کی بات کا اعتبار کر لیا اور تم میرا اعتبار نہیں کر رہے ہو جبکہ میں خود تم سے کہہ رہا ہوں کہ میں گھر پر نہیں ہوں! اور یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے کھڑکی بند کرلی۔ اسی پر کسی شاعر نے شاید کہا کہ ع اک ذراسی بات پر برسوں کے یارانے گئے؟ اب آپ کہیں گے کہ دونوں گناہگار کیسے ہو ئے؟ پہلے صاحب تو یوں ہو ئے کہ اسلام میں جھوٹ گناہ ِ کبیرہ میں شامل سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ حضور (ص) نے فرمایا کہ مسلمان میں دنیا کے تمام عیب ہو سکتے ہیں “ مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ اگر وہ عملی طور پر بھی مسلمان ہوتے تو انہیں یہ معلوم ہو تا کہ اس موقعہ پر کیا کرنا ہوتا ہے؟ اور اگر دوسرے صاحب اسلام پر عامل ہوتے تو وہ صبر سے کام لیکر ان کو معاف کردیتے اور ان کاپردہ رکھتے؟ تو ثواب کے مستحق ہوتے ، مگر دونوں نے اس معاملہ میں اسلامی احکامات کو مد ِ نظر نہیں رکھا (جو کہ مسلمان کہلاتے ہوئے ہم عمو ما ً نہیں رکھتے ) اور وہ دونوں اجر سے محروم ہوگئے کیونکہ یہ تعلقات توڑنے کے مرتکب ہو ئے۔ جبکہ پھر ارشاد گرامی ہے کہ رشتوں کو توڑنے والے سے جوڑ نے والا بہتر ہے ؟    یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ کسی شخص سے زیادہ اس کے اپنے بارے میں کون جانتا ہے؟ لہذا مشرف صاحب جو کہہ رہے ہیں سچ ہی کہہ رہے ہونگے کہ مسلمان کو اپنے بھائی کے بارے میں حسن ظن رکھنا چا ہیئے۔ اس لیے بھی کہ وہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں ۔ جس میں انہوں نے اپنی صدق بیانی کا دعویٰ کیا ہے حتیٰ کہ ا سکا نام ہی “ سچ اور صرف سچ “ چناہے۔ جس کے بازار میں آنے پر ہم نے تبصرہ لکھا تھا کہ“ یہ یادوں کی برات کے بعد اس معیار کی دوسری کتاب ہے جو پاکستان میں ہی شائع ہوئی“ مگر جانے کیوں لوگ ان کے اعمال سے اتنے نالاں ہیں کہ اس کو سچ ماننے سے انکار کردیا؟ جبکہ اوپر بیان کردہ کلیہ کے تحت ہم نے اسے سچ ہی مانا؟ اور اس لیے بھی کہ کوئی بھی اپنی وہ پوشیدہ باتیں عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں ہو تا ہے جو وہ لائے، جبکہ وہ کسی عوامی عہدے پر بھی ہو؟ ہمارے خیال میں اس کی سچائی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی جوانی کے کچھ معاشقے بھی لکھے ہیں جوکہ کو ئی بھی شادی شدہ مرد شادی ہونے کے بعد کبھی نہیں دہراتا اور پھر عمر کے اس حصہ میں پہونچ جا نے کے بعد جبکہ وہ نانا اور دادا بن چکا ہو؟ اس کے علاوہ انہوں نے مزید جرا ءت یہ دکھائی کہ اپنے بزرگوں کو بھی نہیں چھوڑا شاید اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہوں کہ وہ پیدائشی طور پر ماڈرن مسلماں ہیں؟ مگر لوگوں نے ان کو سچا مان کر نہیں دیا؟   ممکن ہے کہ حالت تشویش ناک ہو نے کی وجہ یہ بھی ہو کہ انہیں جس پزیرائی کی امید تھی وہ انہیں اور کتاب کو نہیں ملی۔ اور اب ضمیر ملامت کرتا ہو کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ یہ بھی کلیہ ہے جب ضمیر ملامت کرتا ہے اور انسان کو اپنی کی ہو ئی زیادتی یا گناہ یاد آتے ہیں ۔ تو دل دھڑکنے لگتا ہے جبکہ وجہ سے مریض خود ہی واقف ہوتا ہے جوکہ چند لمحوں کی کیفیت ہوتی ہے اس میں اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے توبہ کی تو فیق دیدی تو پھر وہ کیفیت دائمی ہو جاتی ہے اور اس کا اظہار آنکھوں سے بھی ہو تا ہے کہ بات بات پر آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اور جس کو اللہ توبہ کی توفیق نہ دے ، وہ سر جھٹک کر واپس اپنی دنیا میں چلا جاتا ہے۔  پھر دل کی حالت عجیب ہوتی ہے کہ آہستہ دھڑکے تو ہر صاحب دل پریشان ہو جاتا ہے اور زور سے دھڑکے تو بھی پریشان ہو جاتا ہے۔ خصوصاً جب کوئی پریشانی لاحق ہو تو بھی بڑی زور سے دل دھڑکنے لگتا ہے اور ہر مریض اس پر ہاتھ رکھ کر دھڑکنے گنتا رہتا ہے۔ جبکہ وہ صحت مند ہو تا ہے اور کسی کے ساتھ برائی کر تا ہے تو لوگ اس سے کہتے بھی ہیں کہ بھائی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو! اگر تم اس کی جگہ ہوتے تو تم پر کیا بیتتی، یا تم کیا کرتے ،مگر وہ کہنے کے باوجود نہ دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھتا ہے نہ کسی کی سنتا ہے۔  پھر اس کے علاج کا مرحلہ بھی بڑا مشکل ہوتا ہے اور وہاں کا معاملہ تو ہمیں اب یاد نہیں کہ دیار ِغیر میں ہیں! البتہ یہاں جب معالج مریض کے ساتھ کھیلنا شروع کرتا ہے تو انجیو گرافی سے پہلے صفحات کے صفحات چھپے ہوئے دیتا ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے وہ ہوسکتا ہے لہذا اس کو پڑھ لو اور ستخط کرکے دیدو ؟ کیونکہ انجیو گرافی کی اجازت اگر دیتے ہو تو انجو پلاسٹی کی بھی لکھ کر دیدو شاید ضرورت پڑ جائے؟ پھر وہ وصیت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کیونکہ بیہوشی کے بعد وصیت میں جو ایگزیکیوٹر ( وصیت کے نفاذ کا ذمہ دار ) ہوتا ہے اس کی ضرورت پڑتی ہے؟ جبکہ و صیت عموما ہوتی ہی ہے ؟ اگر نہیں ہے تو کہتے ہیں وہ بھی لکھوا لو کیونکہ ممکن ہے ہمیں کچھ اور بھی کرنا پڑے، مثلا ً سینہ کو کھولنا وغیرہ؟ اور ہم وہ سب کچھ اس سے پوچھ کر، کر گزریں جو آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہو اور آپ کو وصیت کا بھی موقعہ نہ ملے؟ پھر اگر انہوں نے حالت اور خرابی کی طرف جاتے دیکھی تو جس عقیدہ کا آدمی ہوتاہے اس عقیدہ کے مولوی کو بلا لیتے ہیں !اور مرنے والے کو مرنے سے پہلے سے یقین ہو جاتا ہے کہ اب میرا آخری قت آگیا؟ کیونکہ مولوی کسی عقیدے کا ہو تو آتے ہی توبہ یا اعتراف کی تلقین کرتا ہے ؟ جو اوروں کے یہاں وہ کان میں کہتا ہے اور موقعہ پر ہی معافی پاجاتا ہے کہ اس کے پاس معاف کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں ۔ مگر مسلمانوں کے یہاں معاف کرنےکے اختیارات اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا مرتے وقت توبہ کی قبولیت پر اختلاف ہے؟ کہ آیا وہ قبول کرتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ جو اس مرحلے پر توبہ کی قبولیت کے خلاف ہیں وہ فرعون کی مثال دیتے ہیں ؟ قرآن میں ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اس کی توبہ رد کردی کہ ہم تمہیں دنیا کے لیے نشان عبرت بنا نا چاہتے ہیں کیونکہ تم عذاب دیکھ تو بہ کر رہے ہو؟ اس لیے توبہ قبول نہیں ؟ دوسرے گروہ جو دین اور دنیا ساتھ لے کر چلتا ہے ۔ اس کی رحمت کی طرف متوجہ کرا تا ہے؟ اور اس طرح تدفین اور فاتحہ کی مد میں کچھ دنیاوی منفعت بھی ہو جاتی ہے۔  جبکہ پاکستانی معاشرے میں صورت ِ حال مختلف ہے وہاں مریض کو مر نے سے پہلے مارنے کا بندو بست اس کے احباب کردیتے ہیں جنکی ورثے پر نظر ہو تی ہے ۔ اور وہ دوست بھی جو مقروض ہو تے ہیں، یا پھرشاندار چالیسویں پرنظر ہو تی ہے؟ پہلے جو عیادت کو آتا ہے تو دیکھتے ہی کہتا ہے خاص طور سے خواتین ،کہ دیکھو پیلا ٹپکا پڑ گیا ہے پیچارے کا منہ نکل آیا ہے؟ جیسے کہ اس کا منہ پہلے تھا ہی نہیں ؟ پھر ہر آنے والا بھی اسے موت یاد دلا دیتا ہے کہ بھائی کچھ کہا سنا ہو تو معاف کر دینا کیا پتہ اب دنیا میں ملا قات ہو یانہ ہو! حالانکہ وہاں سب کی ملاقات ہونا ہے اگر کوئی جنتی اپنے دوست کو وہاں نہیں پا ئے گا تو وہ پوچھے گا کہ وہ کہاں ہے؟ تو اس کے سامنے دوزخ کا وہ حصہ ظاہر کردیا جا ئے گا جہاں اس پر عذاب ہو رہا ہوگا؟ وہ دوست دیکھے گا اور پہچانے گا کہ یہ تو وہاں ہے؟ میں اسے یہاں تلاش کر رہا تھا؟ حالانکہ اس کے کام بہت اچھے تھے؟ چونکہ ہم قر آن پڑھتے نہیں ہیں لہذا وجہ معلوم نہیں ہوسکے گی ! جو یہاں پڑھ کر جارہے ہیں کہ وہ سمجھ جائیں گے کہ شایداس نے کوئی کام خالص اللہ کے لیے کیا ہی نہیں تھا ؟ کچھ نے شہرت کے لیے کیا کچھ نے ووٹوں کے لیے کیا وغیرہ وغیرہ؟ جبکہ اس نے کوئی کام آخرت کے لیے کیا ہی نہیں تو پھر صلے میں جنت ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔   کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں اس بات کو بار بار بیان فرمایا ہے کہ ہر اچھا کام خالص میرے لیے کرو اگر مجھ سے صلہ چاہتے ہو؟ نہ دیوبندیت کے فروغ کے لیے کرو، نہ بریلویت کے فروغ کے لیے کرو؟ نہ ہی مالکیت اور شافعیت کے فروغ کے لیے کرو ، نہ ہی حنابلہ اور وہابیت کے لیے کرو؟ کیونکہ ان کے اماموں میں سے کسی نے نہیں فرما یا کہ میرا اتباع کرو سب نے خوداتباع رسول  (ص)کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف انہیں (ص) کی اتباع کا حکم دیا ہے اور انہیں کے اسوہ حسنہ (ص) کو امت کے لیے کافی فرمایا ہے نیز انہیں (ص) کی ہربات پر یہ فرماکر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے سوائے اس کے جوان (ص) پر میری طرف سے وحی کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن اور اسوہ حسنہ سمجھنے کی توفیق عطا فرما ئے اور دوسروں کا انجام دیکھ کر عبرت پکڑنے کی بھی تاکہ ہم سب سچائی پر کار بند رہ سکیں۔

 

Posted in Articles

چھیاسٹھ سال سے ہر کام ادھار پر چل رہا۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ملا نصیر الدین بھی تھے عجیب، کہ ملاّ ہونے کے باجود زاہد خوش نہ تھے اور ہر معاملے میں ہنسنے ہنسانے کا سامان پیدا کرلیتے تھے لہذا ہم اس کو یاد کر کے آج تک ہنس اور ہنسا رہے ہیں کہ خود میں اپنے اوپر ہنسنے اور ہنسانے کی ابھی تک جر اءت پیدا نہیں کر سکے۔ ادھر ادھر ڈھونتے پھرتے ہیں جہاں کچھ نظر آجائے اپنے قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو کبھی ہم نے پڑھا تھا وہ آج یاد آگیا کہ ملا جی ایک گھوڑے کے مالک بھی تھے، جسے دور سے دیکھتے تو یہ پہچاننا مشکل ہو تا تھا کہ واقعی یہ سچ مچ کا گھوڑا ہے یا یاکاٹھ کا، جیسے کہ بچے ٹانگوں میں ڈنڈا دبا کر دیہاتوں میں دوڑتے ہیں اور اس طرح اپنی شہ سواری کا شوق پورا کرتے ہیں ۔ ہم نے خود تو د نہیں دیکھا مگر ایک صاحب کے لیے مشہور تھا، جو ذرا کھسکے ہو ئے تھے! کہ وہ اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں ایک ڈنڈا پھنسا لیتے تھے اور ایک چابک بھی ہاتھ میں رکھتے تھے، تاکہ سواری کا پورا پورا لطف اٹھائیں؟ وہ ڈنڈے کو چابک مارتے جاتے اور اسی رفتار سے خود تیز دوڑ تے،  یوں گھنٹوں کی مسافت منٹوں میں طے کرلیتے؟ ہاں تو بات چلی تھی ملا جی کے گھوڑے کی بچوں نے جب ملا جی کو شہر کی طرف آتے دیکھا تو انہیں حسب معمول چاروں طرف سے گھیر لیا اورخبار نویسوں کی طرح سوالوں کی بو چھاڑ کردی، ان میں سے کسی نے پوچھا کہ کیا ملا جی آپ گھوڑے کو کھانے کو نہیں دیتے! جو اس کی یہ حالت ہو گئی ہے؟ ملا جی نے کہا کہ کاغذ پینسل نکا لو اور لکھو میں بولتا ہوں !جوکہ بڑی لمبی فہرست تھی جس میں گھاس و دانے کے علاوہ مغزیات ، مقویات اور مکھن  وغیرہ سب  کچھ موجود تھا جب وہ مکمل ہو گئی؟تو بچوں نے پوچھا ملا جی یہ تو بتائیے کہ اس کی حالت  پھراتنی پتلی کیوں ہے ؟ ملا جی نے بڑی سچائی سے کام لیا اور فرمایا اس لیے کہ میری طرف اس کا چھ ماہ کا راشن ادھار ہے؟  ہمارے یہاں بھی کچھ ایسا ہی ماجرہ ہے کہ 66 سال سے بہت کچھ ادھار ہے جبکے ہے اللہ کا دیا سب کچھ ؟ جیسے کہ ہمارا دستور ملک بننے کے بعد بمشکل پچیس چھبیس سال کے بعد بنا، وہ بھی آدھا ملک گنوا کر کیونکہ پہلے تو دستور بن کر ہی نہیں دے رہا تھا جب دستور بننے لگے تو آمروں کو پسند نہیں آئے اور کچھ بننے سے  پہلےاور کچھ بعد میں انہوں نے اپنے بوٹوں  سےروند ڈالے۔ رہی یہ بات کے اکثریت کیوں علیحدہ ہوئی؟  وہ اس لیے کہ بے صبر تھی مزید انتظار نہیں کر سکی اور مع اپنی عدوی اکثریت کے الگ ہو گئی۔ اگر وہ جلد بازی نہ کرتی تو وہ بھی ہماری طرح آج مزے کر رہی ہوتی۔ مگر اسے تو ہر بات کی جلدی تھی! جیسے کہ لڑکیوں کے والدین پریشان رہتے ہیں کہ جلدی سے بر مل جائے اور وہ اپنے فرائض سے فارغ ہو جائیں؟  ملک بنتے ہی سب سے پہلے اس نے زبان کا مسئلہ چھیڑ دیا پھر اپنے یہاں جاگیرداری اور زمینداری کا خاتمہ کر دیا۔ بابا یہ تو  بادشاہت کی قسم ہے اور بادشاہ اللہ کا سایہ ہو تا ہے ؟ اسی لیے بادشاہوں کے ساتھ (ظل ِ سبحانی) یعنی سایہ ِ خدا لکھتے ہیں! جبکہ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ ہر بادشاہ کے ساتھ اکیس ولیوں کی طاقت ہوتی ہے؟ وہ ناشکری تھی کہ اس نے اپنے سر سے یہ بوجھ اتار پھینکا؟ دیکھئے بھگت رہی ہے نہ، اس کفران نعمت کی سزا؟ سب سے بڑا نقصان اسے یہ ہوا کہ بادشاہوں کے سائے سے کیا نکلی کہ اسلام کے سائے سے نکل گئی ، اب ترس رہی ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کو کبھی اسلامی ملک نہیں کہہ سکے گی اس لیے کہ انکے آزادی دہندہ بھارت اور اس کے درمیان معاہدے کی شرائط میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ وہ خود کو ہماری طرح اسلامی جمہوریہ نہیں کہلا سکتی؟ جبکہ ہم کچھ کریں یا نہ کریں لیکن کہنے کی حد تک تو ڈنکے چوٹ پر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی ہے! کیونکہ دستور میں لکھا ہوا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی۔ جس میں ہر ایک کو روز گار مہیا کرنے کی حکومت کی ذمہ ار ہو تی ہے۔ جس میں ہر ایک عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ ہر ایک قانون کی نگاہ میں بھی برابر ہو تا ہے، جہاں تک آزادیِ اظہار کی بات ہے ہر ایک کو آزادی ہو گی؟  جبکہ قومیں صدیوں میں بنتی ہیں؟ اور ہماری ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ “جلدی کا کام شیطان کا ہو تا ہے “ الحمد للہ ہمارے یہاں 98فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اس کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمیں شیطان کے اتباع سے منع کیا گیا ۔اس لیئے ہر کام میں وقت لگتا ہے؟ رہے شیطانی کام وہ ہر ایک کا انفرادی فعل ہے جس کی دستور نے اجازت دی ہوئی ہے کیونکہ وہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے؟ مگر ہمارے یہاں ابھی تک بے صبرے لوگ موجود ہیں انتظار نہیں کرتے چیختے چلاتے رہتے ہیں؟ جبکہ ہر کام کے لیے ایک وقت معین ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو کام کو کوئی ہونے سے روک نہیں سکتا !ابھی کچھ سال پہلے اللہ کا کرنا یہ ہواکہ نئی ٹیکنالوجی آگئی اور میڈیا تمام زنجیریں توڑ کر خود بہ خود آزاد ہوگئی ؟ پھر ہم سب نے اس کے ساتھ مل کر تحریک چلا ئی تو ساٹھ سال کے بعد عدلیہ کو آزاد کرالیا؟ سانس تو لینے دو بھائی! باقی دستور کی دفعات پر بھی عمل کر نے لگیں گے جیسے کہ امین وغیرہ کی دفعات یا باقی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی شقیں، شکر  کروکہ ابھی تک ہمارے دستور کے ماتھے پر اسلامی تو لکھاہوا ہے !  اسلامی جمہوریت بھی ایک دن آجائے گی، ڈیم بھی بن جا ئیں گے، بجلی گھر بھی بن جا ئیں گے، بے روز گاری بھی دور ہو جا ئے گی، بد امنی بھی ختم کر دیں گے پھر رشوت خوری اقربا ء پروری اپنی موت آپ مر جا ئے گی کہ اسلام میں اسکی گنجائش ہی نہیں ہے ابھی جلدی کیا ہے تجوریاں تو بھرلینے دو؟ بس جہاں اتنا انتظار کیا ہے ساٹھ سال اور انتظار کر لو، کیونکہ حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ تو ہے نہیں؟ نہ جنرل ضیاءالحق کے بقول گیڈر سنگی ہے؟ دیکھو !ہمارے یہاں کتنے بھولے بادشاہ ہوگزرے ہیں کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم تھاکہ ایک پنڈت  گیڈر سنگھی کے کس استعمال کی وجہ سے مشہور ہوا وہ اسے کس کام کے لیے استعمال کر تا تھا؟   آپ سب نے یہ محاورہ  توسنا ہوگا کہ روم ایک دن میں نہیں بنا ؟ تاریخ پڑھیں گے تو معلوم ہو جا ئے گا کہ وہ صدیوں میں کہیں جا کربنا تھا! ہمیں تو ابھی ایک صدی بھی نہیں ہوئی کہ ہم نے آج سے نصف صدی پہلے اسلام آباد بنا لیا، چھ ارب ڈالر کا قرضہ لیکر ؟ اب آپ پوچھیں گے کہ فائدہ کیا ہوا؟ اس کے جواب دو ہیں ایک تو یہ کہ مسلمان کرگزر نے کے بعد سوچتے ہیں پہلے سوچنابنیوں کا کام ہے؟ دوسرا یہ ہے کہ جنرل ایوب خان کی دور اندیشی یا روشن ضمیری کی داد دینا پڑے گی؟کہ وہ کراچی والوں کے احتسا ب اور جمہوریت پسندی سے پہلے ہی واقف ہو گئے تھے؟ انہیں ملک کے دو حصوں سے اپنے دور میں ہمیشہ شکایت رہی کہ “ میں کہیں بھی چلا جاؤں وہاں کے لوگ اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا مطالبہ کرتے ہیں ، مجھ سے پانی کے نکلے مانگتے ہیں، سڑکیں اور صنعتی علاقے بنا نے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر بنگال جاؤ یا کراچی تو وہ جمہوریت مانگتے ہیں؟ بنگالیوں کا تو ہم ذکر کر چکے ہیں کہ وہ جلد باز تھے اور وہ انہیں کے شاگرد رشید جنرل یحییٰ خان کے دور میں جان چھڑا گئے۔ جبکہ ان کے استاد جنرل ایوب خان کراچی سے بہت پہلے دارالحکومت اسلام آباد لے جاکر کراچی کو خود چھوڑ گئے تھے؟ اس کے بعد جنرل ضیا الحق آئے اور کراچی والو ں کو الطاف بھائی بطور تحفہ دے گئے جن کو بعد میں اسلام آباد کی طرح فوج نے ہی عوامی پہونچ سے باہر بنادیا ؟ اب صرف وہ وہاں سے فون پر خطاب فرماتے ہیں کہ آج اس سلسلہ میں ریلی نکالنا ہے اور کل اس سلسلہ میں ہڑتال کر نا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ شہر کبھی اتفاق سے ہی کھلتا ہے زیادہ تربند ہی رہتا ہے کیونکہ دن بجتے ہی نہیں ہیں جو کوئی کام ہو؟ اگر جنرل ایوب خان دور اندیش نہ ہو تے تو پاکستانی د فتروں میں ویسے ہی لوگ کام نہیں کرتے ہیں اگر کراچی سے دار الحکومت نہ لے جاتے تو ملک گھٹنوں کے بل چلنے سے پہلے ہی گر پڑتا؟ کم از کم  ابھی تک چل تو رہا ہے جیسے بھی سہی؟      آجکل ہم  پھروہی باتیں سن رہے ہیں کہ یہ حکومت اگر فوج کے ساتھ آن بورڈ نہ ہو تو حکومت کادھرن تختہ کردو ؟ اور انہیں سے کہہ رہے ہیں جن کی حکومت ہمیشہ سے تھی ہے اور رہے گی؟ جبکہ فرق اتنا ہو تا ہے کہ کبھی وہ پسِ پردہ ہوتی ہے کبھی سامنے نظر آتی ہے؟ کوئی جنرل جب اسے بدنام کر دیتا ہے اور مقبولیت کا گراف اتنا گر جاتا ہے کہ نوبت یہاں تک پہونچ جاتی ہے کہ فوجی وردی اتار کر سڑکوں اور بازاروں میں جانے لگتے ہیں۔ تو وہ پس ِ پردہ چلے جاتے ہیں؟ لیکن جب چاہیں لوٹ آنے کے لیے کہ ان کے پاس ڈنڈا ہے؟صرف عوام کو یہ قصہ ِ پارینہ یاد کرانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے دور میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں ۔ اور اس طرح یہ آواگون چھیاسٹھ سال سے جاری ہے؟ کب تک جاری رہے گا یہ اللہ ہی جانتا ہے؟ کیونکہ ہم اب برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں ہیں؟ اللہ ہمیں بصیرت عطا فر مائے (آمین)

 

Posted in Articles

عبرت سے دیکھئے انہیں جوعبرت نگاہ ہوں۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

بہت سے لوگوں کو ان کے دور ِ اقتدار میں ان کے درباری یہ باور کرا دیتے ہیں کہ حضور آپ کا تو آج تک کوئی ثانی ہی پیدا نہیں ہوا؟ ۔ مگر  وقت اتنا بے رحم ہے کہ کوئی کسی کے اقتدار سے جانے کے بعد ایک لمحہ کے لیے بھی اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتا ۔ اس کی سب سے پہلے مذمت اسلام نے کی اور صحابہ کرام کا یہ وطیرہ تھا کہ اگر کوئی ان کی تعریف ان کے منہ پرکرتا تو اس کے منھ میں خاک ڈالد یتے۔ مگر بعد میں نام نحاد مسلمانوں نے اسے اسقدر فروغ دیا کہ چاپلوسی ایک فن بن گیا اور ایک مغل بادشاہ کو جو علم سے نابلد تھا اس کے درباری ، اسے اوتار بنا نے میں کامیاب ہو گئے ، اس نے دین الٰہی اکبر شاہی ایجاد کرلیا اور اسے بھی با قاعدہ درباری اور رعیت سجدے کرنے لگی؟ اگر اس نے قرآن پڑھا ہوتا تو وہ گمراہ نہ ہوتا؟ کیونکہ چاپلوسی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عبرت کے لیے اتنی بار دہرایا ہے کہ کوئی مسلمان اس سے متاثر نہیں ہوسکتا! چونکہ پچھلی قوموں اور فرعونوں کے قصے مسلمانوں کے لیے ضرب المثل بن گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ایک بہت بڑے بزرگ کے ساتھ پیش آیا کہ شیطان ان کے پاس شکل بدل کر آیااور کہا کہ “ آج سے آپ عبادت چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ سب معاف کر دیئے ہیں “ انہوں نے اسے پہچان لیا اور لاحول پڑھا ! تو اس نے چلتے چلتے پھر اپنا پتہ پھینکا کہ “ تجھے تیرے علم نے بچا لیا “ تاکہ وہ علم پر مغرور ہو جائیں ؟ انہوں نے فرما یا بھاگ جا تیرے منھ میں خاک میرے خدا نے تجھ سے مجھے بچا لیا ؟   حالانکہ فرعون کچھ اچھے بھی رہے ہونگے مگر ایک برے فرعون نے سب کو بد نام کر دیا۔ یہ لقب جو کبھی مصر کے بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا۔ جس طرح “قیصر “ روم کے بادشاہ کا ، “ کسریٰ “ایران کے با دشاہ کا اور “ تبع “ یمن کے با دشاہ کا ۔ لیکن اب اردو لغات میں داخل ہو نے کے بعد فرعون صرف با دشاہ کا نام نہیں رہا ۔ بلکہ برے طرز حکمرانی کی وجہ سے قر آنی قصے کے طور پر بار بار وہاں استعمال ہوا ۔ حتیٰ کہ اردو زبان کی لغت میں اب یہ بطور ایک لفظ کے داخل ہوگیا اور رعونت اسی سے نکل کر اس کی صفت بن گئی۔  لیکن بندے اسے ابھی بھی برا ئی نہیں مانتے اور اتنی قرآنی مذمت کے با وجود مسلمان کہلاتے ہو ئے بھی ،رعونت نہیں چھوڑتے ۔ حالانکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیئے تھا۔اور کوئی چھوڑتا یا نہ چھوڑتا کم ازکم مسلمان تو چھوڑ دیتے ؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرما کر خبردار کردیا کہ “تکبر میری چادر ہے اس کے قریب بھی نہ پھٹکو ورنہ ذلیل کر دیئے جا ؤگے “اور اس کے رسول (ص) نے فرمایا کہ “جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی غرور ہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا“ مگر ہم ہیں کہ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں جس نے کلمہ پڑھ لیا وہ جنت میں جا ئے گا۔ زیادہ سے زیادہ صرف تھوڑے دن جہنم میں رہنا پڑے گا۔ جبکہ یہ ہی دعویٰ ایک دوسری قوم کابھی ہے کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں تھوڑے دن جہنم میں رہ کر جنت میں چلے جا ئیں گے ۔ لیکن ان سے اللہ سبحانہ تعالیٰ ثبوت مانگ رہا اپنی کتابِ مقدس قرآن میں کہ اس کی سند تو لاؤ ! کیا پچھلی کسی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے؟ جبکہ ہم بھی اسی کشتی کے سوار ہیں کہ ہمارے قر آن میں بھی یہ کہیں نہیں لکھاہے۔ اس کے برعکس سورہ محمد (4) کی آیات 1 تا9 میں ان کی مذمت لکھی ہے یہ فرماکر کہ “ جو روشنی پاکر اس سے پلٹ جا ئیں ان کے اعمال ضائع کر دیئے جا ئیں گے “ ان میں وہ بھی شامل ہیں جو قر آنی احکامات نافذ کر نے میں لیت و لعل  سےکام لیں یا سد ِ راہ بنیں اور وہ بھی شامل ہیں جو کہ بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرتے پھریں، وہ بھی اللہ کے نام پر۔ تفسیرِ ابن ِ کثیر میں لکھا ہے کہ صحابہ کرام (رض) اس سے پہلے اس خیال کے حامی تھے کے جس نے کلمہ پڑھ لیا اسکے گناہوں سے اللہ سبحانہ تعالیٰ در گزر فرما ئے گا۔ اس آیت کے نزول کے بعد انہیں بھی اپنی فکر دامن گیر ہو گئی۔وہ بھی دنیا سے ڈرتے ہو ئے گئے، جبکہ ہم ان کی خاک ِ پاکے برابر بھی نہیں ہیں۔ اس قسم کے واقعات آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں ۔ جبکہ گناہوں کی سزا لوگ یہاں مجرموں کوپاتے ہوئے دیکھتے ہیں ؟مگر اس پر عبرت نہیں پکڑ تے؟ ہم سے پہلے جن قوموں پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عذاب بھیجے ان میں زیادہ تر یہ ہی تھے کہ کبھی ہوا چلا دی کبھی ایک چیخ سے پوری بستی تباہ کر دی وغیرہ وغیرہ اور انہیں نشان عبرت بنا دیا ۔ فرعون کے بارے میں بھی یہ ہے کہ “ اس کو ڈبو کر ہم نے اس کی لاش کو باعث عبرت بنا یا اور کل تک جو مظلوم تھے وہ اس کو اور اس کے لاؤ ،لشکر کو ڈوبتا ہوا دیکھتے رہے “  لیکن امت محمدیہ (ص) کے لیے اس نے یہ طریقہ اپنایا کہ اس کی اپنے فرشتوں سے مدد کی اور“ فرمایا ہما رے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ کفار کو تباہ کرنے کے لیے فوج بھیجیں بلکہ ہم نے فلا ں قوم کو اس طرح تباہ کیا اور فلاں کو اس طرح تباہ کیا ؟مگر تمہا رے لیے ہم نے یہ لکھا ہے کہ تمہارے ہاتھوں مکہ کے کافروں کو سزا دلائیں! اس سے تمہا را امتحان بھی مقصود ہے کے تم کتنے ثابت قدم رہتے ہو “ تاکہ تمہیں مزید نوازا جا ئے۔ جبکہ مفسریں نے اس پر بہت تفصیلی بحث کی ہے کہ اس نے قر آں میں اپنی دو صفات بہت سی جگہ بیان فرما ئی ہیں ایک تو “ فا طر السما وات “ ہے تو دوسری “ بدیع السماوات“ جبکہ وہ زیادہ تر اپنی پہلی والی صفت کو بروئے کار لا تا ہے۔ جو کہ اس کے فاطرت السماوات ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ کسی کام کو کر نا ہے کہ اس میں ایک عرصہ لگتا ہے؟ ۔ جیسے کہ چھ دن میں پوری کا ئینات بنا نا، جبکہ اس پر بھی وہ قادر ہے کہ وہ “ کن “فرما کر بنا دیتا ۔ لیکن حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے بنا یا جبکہ جن کی نہ ماں تھیں نہ باپ تھے ۔ حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا؟ جن کے والد نہیں تھے ۔ صرف والدہ تھیں۔ اسی طرح یہ بھی اسکی مرضی ہے کہ جس ظالم کو چاہے یہاں سزا دے یا وہاں یا پھر دونوں جگہ سزا دے، یہاں بھی اور وہاں بھی؟مثالیں سامنے ہیں مگر بندہ سبق نہیں لیتا اور عبرت حاصل نہیں کرتا؟  آئے دن دیکھتا ہے کہ کل تک جو جیل میں ہو تا ہے پھر ملک بدر ہو جا تا ہے اور پھر وہی حکمراں بن جا تا ہے اور اس کے سامنے وہ ملزم بنا کھڑا ہو تا ہے جو اس وقت اسے جیل میں ڈال کر حکمراں بنا تھا ۔ اس نے جن ججوں کو کبھی برطرف کردیا تھا، انہیں ججوں کے سامنے انصاف کی آج بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ مگر رعونت پھر بھی نہیں چھوڑتا۔ اس لیے کہ کچھ چاپلوسوں کی چاپلوسی اسے حقیقت کا ادراک نہیں ہونے دے رہی ہے؟ دراصل وہ نہ خداکو مانتا ہے نہ اس کی کتاب کو مانتا ہے اور نہ ہی یوم آخرت کو مانتا ہے جو اس کے سابقہ بیانات اور اقدامات سے ظاہر ہے۔  ان دو کے علاوہ تیسرا ثبوت یہ ہے کہ ماننے پر بندگی لازم آتی ہے اور بندہ آزاد نہیں ہو تا، وہ اپنے مالک کے حکم کا پابند ہو تاہے۔ وہاں اس کو یہ حق نہیں ہوتا کہ میں یہ نہیں مانوں گا وہ نہیں مانوں گا ۔ایسے کسی ظالم کی حمایت کر نے اس کو پناہ دینے اور ان کی سکوریٹی پر بے دریغ بیت المال کو خر چ کرنے والوں کے پاس کیاجواز ہے؟ جو وہ روز آخرت میں پیش کریں گے،جبکہ وہ لوگ بیت المال کے اس سے کہیں زیادہ مستحق ہیں جو بھوکوں مررہے ہیں۔ یہ ان سب کے سامنے سوالیہ نشان ہے جنہیں اللہ اوریوم آخرت پر یقین ہے۔ جنہیں اللہ نے آج اقتدار دیا یا ، اور وہ بھی جو زیرِ عذاب ہیں اور تاخیری ہتھکنڈے استعمال کر کے بیت المال پر بار بن رہے ہیں۔    جبکہ کچھ کے پاس جواز یہ ہے کہ وہ کسی خاص زبان بولنے کی وجہ سے نشانہ بنا یا جا رہا ہے؟ وہ بھول گئے کہ چند برس پہلے اس نے کیا ،کیا ، کیا تھا۔ ابھی زیادہ دن بھی تو نہیں ہوئے؟ ان میں سے بہت سے ان مظالم کے چشم ِ دید گواہ ہیں؟ جبکہ قر آن گواہی چھپانے کو منع کرتا ہے چاہیں وہ باپ، بیٹے، بھائی اور خود اپنے ہی خلاف ہی کیوں نہ ہو ؟ ہم میں ہر ایک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے دیکھے اور پھر غور سے قر آن کو پڑھے اگر نہیں پڑھا ہے !کہ ہم پھر بھی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ؟ اللہ ہم سب کو قر آن سمجھنے اور عمل کر نے کی تو فیق عطا فرما ئے (آمین)

 

Posted in Uncategorized