ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو۔ پتہ نہیں شاعر کی اس سے مراد کیا تھی ،اسے دوست نادان ملے تھے؟ یا وہ حضرت خود کسی کی جان کو دوست کی شکل میں کمبل بن گئے تھے۔ چونکہ شعر ذو معنی ہے لہذا اس کے دونوں پہلوؤں پر ہی بات کرلیتے ہیں ۔آزادی سے پہلے ہم ا یک ملک کے دوست بن گئے تھے جو ہمیں بنا نا نہیں چاہتا تھا۔ اس پر دل جو آگیا تھا اور کہتے ہیں کہ دل پر کوئی زور نہیں ہوتا؟نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دوستی حاصل کرنے کے لیے ہمیں بچھ جانا پڑا کیونکہ معاملہ نصف، نصف کا تھا یعنی ہم تو اسے پوری چاہتے تھے مگر وہ ہمیں گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ حالانکہ ہم اس کے رقیب کا دعوت نامہ جیب میں ڈالے دکھا نے کے لیے گھومتے رہتے تھے حتیٰ کہ ہم اسے اپنی آزادی کے بعد سے چار سال تک مستقل مزاجی سے دکھا تے رہے۔ آخر امید بر آئی۔ کیونکہ حالی کہہ گئے ہیں۔ کہ
ع پتھر پہ پانی پڑے مستقل مبادا کہ گِھس جا ئے پتھر کی سل۔ ہمارے وزیر اعظم نے وہ جیب میں اس وقت بھی احتیا ط ً رکھا ہوا تھا جب وہ ملنے جارہے تھے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ اندر کی خبر آپ تک کیسے پہونچی آپ روشن ضمیر تو نہیں ہیں؟ اس کا پہلا جواب تو ہے کہ ہم روشن ضمیر تو نہیں ہیں مگر با ضمیر ضرور ہیں ۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے یاداشت ہمیں اچھی عطا فرمائی ہم اوروں کی طرح بھولتے نہیں ہیں۔ اور دوسروں کی طرح صرف مطلب کی ہی کی نہیں سنتے ، بلکہ سب کی سنتے ہیں جب لکھتے ہیں تو عدل کرتے ہیں ۔ اسی بری عادت کی وجہ سے ہم ہمیشہ غیر جانب دار رہتے ہیں کسی نے اچھا کام کیا تو تعریف کر دیتے ہیں، برا کیا تو وہ بلا کم وکاست صفحہ قرطاس پر لے آتے ہیں ۔ہمارے سامنے ابھی بھی وہی منظر ہے اور وزیر اعظم کا جواب ،ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے کہ ایک صحافی نے جب ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ جناب وہ دعوت نامہ کیا ہوا جو پاکستان بنتے ہی ایک پڑوسی نے بھیجا تھا ؟ تو جواب ملا کہ “ ہاں! وہ میری جیب میں ہے “۔ ظاہر ہے وہ جھوٹ تھوڑی فرمارہے ہونگے۔ ساتھ لے جارہے ہونگے دکھانے کے لیے جبھی تو فرمایا ؟
اس صحافی نے ہمیں یقین ہے کہ اپنے اندر پوری جرا ت پہلے سمیٹ لی ہوگی یہ سوال پوچھتے ہوئے؟ آج کے صحافی اسے سمجھ نہیں سکیں گے، یہ وہ دور تھا کہ اس ملک کانام لینا گناہ تھا اس کے سفارت خانہ کے قریب سے گزرنا جرم تھا۔ اس زمانے میں پیمرا نہیں تھی مگر “ پ“ سے ہی پبلک سیفٹی ایکٹ تھا جو کئی صحافیوں کو جیل کی ہوا کھلا چکا تھا۔
بعد میں اللہ کاکرنا یہ ہوا کہ ہمارے محل ِ وقوع بنا پر دوست کو ہماری ضرورت پڑگئی ۔ جبکہ ہم تو پہلے سے ادھار کھائے بیٹھے تھے اور اس چکر میں اس کے دوست ہمارے دوست اس کے دشمن ہمارے دشمن پہلے ہی بن چکے تھے۔ تب کہیں جاکر ہماری یک طرفہ محبت کو شرف ِ قبولیت بخشا گیا ۔
وہ دن ہے اور آجکا دن ہے کہ نہ وہ کمبل چھوڑتا ہے نہ ہم اسے چھوڑتے ہیں ۔ کیونکہ اسے چھوڑنے میں ایک طبقے کا نقصان زیادہ اور فائدہ بالکل نہیں ہے؟ رہے عوام انہیں یہاں کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں ؟ کیونکہ ان کے لیے کرکٹ کے ایک دومیچ کرادینا ہی کافی تھا وہ اس میں ہی جیت کا سن کر بہل جا یا کرتے تھے۔ جبکہ دوست کی ضرورت عجیب ہے جس طرح درختوں کی جتنی چھٹائی کی جائے اس میں سے اتنے ہی کلے پھوٹتے ہیں ۔ وہ بطور مالی ان کو پالتا ہے ، پھرجب انہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو بھوکے کیا نہ کرتے وہ اسی کارخ کرلیتے ہیں اور اسے پھر آنا پڑتا ہے؟ ابھی وہ ایک عرصہ کے بعد واپس جانے کے لیے بستر باندھ ہی رہا تھا اورالقاعدہ اور پھر طالبان کا بمشکل تیا پانچا کرپایا تھا کہ اسلامی حکومت کے داعی ، داعش کی شکل میں نکل آئے، اب دوست کہہ رہا ہے کہ ہمیں اس کو ختم کرنے میں مزید پانچ سال لگیں گے جب تک اور کلے پھوٹ کر درخت بن چکے ہونگے، اس کی نرسری میں جوان کا دوست ہونے کی وجہ سے ہمارا بھی جگری دوست ہے ورنہ پہلے ہمارے بجا ئے وہ “ سیدی نہرو “ کے گن گایا کرتا تھا۔
اسکے مشورے بھی ماننے پڑتے ہیں جو بطور حکم ہمیں اور دوست کو بطور سفارش ملتے رہتے ہیں ۔کل ہی اس نے کہا ہے کہ شام اور عراق کے مسئلہ سے نکلنے کے زمینی فوج وہاں بھیجنے پڑیگی ، یہ وہ دوست ہے جس نے اپنے یوم ِ تاسیس سے لیکر آج تک نفرتوں کو فروغ دیا لیکن برا ہو مصلحتوں کا کوئی یہاں سچ کہنے والا نہیں۔ جبکہ ایسا ہی ایک واقعہ ہمیں ہندوستان کی تاریخ میں ملتا ہے کہ کلکتہ میں فسادات ہوئے تو الزام اس صوبے کے وزیر اعظم پر تھا جب گاندھی جی اسے ساتھ لیکر امن کے  لیےنکلے تو لوگوں نے کہا کہ قصائی کو تو آپ ساتھ لیے پھر رہے ہیں؟ اور چلے ہیں امن قائم کرنے؟ مگر یہ ساٹھ ستر سال پہلے کی بات تھی اس وقت ڈالر یاریال سے منہ بند کرنے کا رواج نہیں تھا۔ اس لیے اب ہم نے کسی کو یہ کہتے بھی نہیں سنا؟ قصائی ساتھ ہیں پھر بھی کوئی نہیں پوچھتا !یا دشمن ِ امن اور ہم آہنگی ساتھ ہیں ۔ تو امن کیسے قائم ہوگا؟ پتہ نہیں ہم اپنی جُنگ میں نہ جانے کیا کہہ گئے ،خدا کرے کہ کوئی کچھ نہ سمجھے؟ اس کے لیے اس مصرع میں ترمیم کرکے جو کہ اصل میں اس طرح ہے کہ ع تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو، اب اس کو اپنے لیے اس طرح کہہ دیتے ہیں کہ اپنی تو فکر کرنہ ان کی نبیڑ تو۔
خبریں یہ ہیں کہ پہلے پاکستان کی دیواروں پر میاں داعش نظر آئے ، لیکن حکومت نے کہا کہ نہیں وہ بچوں نے مذاق میں لکھ دیا ہوگا؟ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ وہ ہرڈھیلے کے نیچے سے نکل رہے ہیں ؟ مگر ان کی موجود گی ماننے کے لیے حکومت ابھی بھی تیار نہیں ہے نہ ہی یہ کہ وہ ہمارے اندر ہی موجود ہیں۔ کیونکہ ہماری روایت یہ ہے کہ ہم جب مانتے ہیں جب پانی سر سے اونچا ہوجا ئے؟ اس سے پہلے نہیں ۔ حالانکہ کتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے جو طالبان سے متعلق تھیں اور وہ صرف نام بدل کر سرگرم ِ عمل ہیں۔ اب انہیں کو اگر مال ملا، یا “ بدعتیوں “ کو قتل کرنے پر جنت کا وعدہ ہوا تو داعش بن جا ئیں گے بلکہ اب تک بن بھی چکے ہونگے۔ ایسے میں ملک میں انتشار ہوناایک انتہائی خطرناک صورت ِ حال ہے۔ جبکہ ہر طرف دھرنے جاری ہیں ۔ حکومت انہیں اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ جس کسی نے انہیں سہارا دیا تھا اس نے اپنا کام نکال لیا ہے اس سے انہیں اب ڈر نہیں ہے؟ دوسرے ان کا مطالبہ ہی ایسا ہے؟ اس لیے حکومت بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ جب سے ملک بنا ہے صحیح الیکشن ہوئے کب اور کرا ئے کس نے، تھوڑے دنوں کے بعد عوام بھول جاتے ہیں اور وہی لوگ اسی راستے سے پھر آجاتے ہیں جس سے کوئی انہیں لانا چاہتا ہے۔
اور یہ بھی کسی کی مرضی پر ہے منحصرہے کہ وہاں کون آئے گا۔ جبکہ ووٹ دینے کہ تہمت عوام پر آتی ہے؟ فخرو بھائی بڑے زعم سے آئے تھے ،چلے گئے سب کو معلوم ہے۔ اب نئے الیکش کمشنر بھی آگئے ہیں یہ بھی بہت اچھی شہرت کے مالک ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ا گر وہ اتنا ہی کرجائیں توبہت ہے کہ دستور کی شق 62 اور 63 جن کو فخرو بھائی نافذ نہیں کرسکے ،وہ کردیں کیونکہ یہ تازہ بہ تازہ اسلامی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رہ کر آرہے ہیں۔ ویسے تواس راہ میں مشکلات بہت ہیں اور جان ایک ہے اور انہیں چار ووٹوں میں سے دو ووٹ بھی حاصل کرنا ہیں۔ ویسے بھی ایک الیکشن کمشنر ہر پولنگ پر تو بیٹھنے سے رہا۔ جبکہ ابتدا یہاں سے ہوتی کہ پہلے مردم شماری ہواکر تی تھی اور اس میں جعلی نام ڈالدیے جاتے تھے اور اسی کی بنیاد پر ہر الیکٹ ابیل کے حلقے اس کی مرضی کے مطابق بنتے تھے۔ چلیے اب وہ بدعت تو چھوڑ دی ہے کہ اب بغیر مردم شماری کے ہی کام چل رہاہے۔ جس پر دنیا حیرت سے دیکھ رہی ہے؟ اسے کیا پتہ منصوبے کیسے بنتے ہیں اور الیکشن کیسے ہوتے ہیں؟ پہلے جعلی ووٹوں کا اندراج ہوتا ہے جو زیادہ تر محکمہ تعلیم کے اہلکار کرتے ہیں ۔ ان کی کیا مجال ہے کہ وہ موروثی امید واروں کے سامنے چوں بھی کرسکیں ، پھر پریزائیڈنگ آفیسرز پہلے ہی طے ہوجاتے ہیں کہ کون ،کون سے لینا ہیں جو مشکوک ہیں ان کا نام اس لسٹ سے نکالدیا جاتاہے۔اگر وہ امیدوار اسکرینگ سے  بچ بھی گئے تو پولنگ کے دوران ہی تھپڑ سے تواضع ہوتی ہے جبکہ دوسروں کی انڈوں پراٹھوں اور حلوے سے۔ پھر چاروں طرف ورکروں کی فوج دنداتی پھر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں انتخابات ایک ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں ۔ بھلا ایسی پارلیمان میں انتخابی قوانین میں تبدیلی لا نے کو کون راضی ہوگا اگر کوئی راضی ہو بھی جا ئے؟ تو اسے موروثی امیدوار (الیکٹ ایبل) جن پر سینٹ اورپارلیمان مشتمل ہے کب پاس ہونے دیں گے؟ ہاں البتہ کچھ غیب سے ظہور پزیر ہو جائے تو اور بات ہے۔ جس کی ہمارے اعمالوں کی بنا پر امید کم ہے۔

Posted in Articles | Tagged ,

جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

یہ محاورہ بڑا قدیم ہے۔ یہ کب اور کس نے کہا تھا اسکا تاریخ ِادب میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قادر ہے۔ کبھی بادلوں کے کاندھوں پر رحمت بھیجتا ہے کبھی عذاب، جب کہ لوگ بادلوں کو دیکھ کر خوشی منا رہے ہوتے ہیں کہ خوشک سالی دور ہوجا ئے گی۔ اور ایسا ہی ایک قوم کے ساتھ ہوچکا ہے۔ جس نے اپنا وفد حرم شریف میں بارش کے لیے دعا کرنے بھیجا تھا،چونکہ قوم عیاش تھی، وفد بھی ویسا تھا وہ وہاں رنگ رنگیلیوں میں لگ گیا۔ جب میزبانوں نے انہیں کسی ترکیب سے یاد دلایاکہ تم کس مقصد کے لیے آئے تھے اور کر کیا رہے ہو؟ توانہیں ہوش آیا اور دعا کی تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں کئی قسم کے بادل دکھائے کہ ان میں سے پسند کرلو وہی بادل ہم وہاں بھیجدیں گے ! انہوں نے جو سب سے زیادہ سیاہ رنگ کا بادل تھا یہ دیکھ کر پسند کیا کہ اس میں پانی بھراہوا ہے یہ جل تھل کردیگا، مگر آواز آئی کہ تم نے اپنی قوم کے لیے وہ بادل پسند کیا ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے۔ جس سے وہاں کوئی زندہ نہیں بچے گا؟ وفد وہیں رہ گیا کیونکہ وہ دوڑتا بھی تو بادل اس سے پہلے پہونچ جاتے؟ اور بادلوں نے وہاں جاکر تباہی مچادی اور پوری قوم تباہ ہوگئی ۔
اس واقعہ سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جب تک اللہ کی نگاہ سیدھی نہ ہو بھلائی نہیں آسکتی ، کیونکہ معلوم نہیں کہ ہم جس کو رحمت سمجھ رہے ہیں وہ ہمارے لیے زحمت نہ بن جائے؟ اسی کو راضی کرنا چاہیے تا کہ وہ ہمارے حق میں بہترفیصلے کرے ورنہ پھر یہی صورت حال رہے گی کہ ع کوئی امید بر نہیں آتی   کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
ہمارا حال صدیوں سے یہ ہی ہے کہ کبھی یہ دامن پکڑ تے ہیں کبھی وہ دامن پکڑتے ہیں۔ پردہ اسکرین پر جو تصویریں اکثرخوشنما دکھائی دیتی ہیں انہیں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور جب انہیں چھونے کی کوشش کرتے ہیں تو انگلیاں پردہ سے ٹکرا جاتی ہیں۔ اسی صورت حال سے وطن عزیز پھر دوچار ہے۔ ملک پر سیاسی بادل چھا ئے ہوئے ہیں۔ ان سے کیا بر آمد ہوگا یہ مستقبل بتائے گا؟کیونکہ خوف ِ خدا دونوں طرف نہیں ہے۔ پیمانہ مختلف ہوسکتا ہے کہ ایک کے دل میں کچھ کم ہو اور دوسرے کہ دل میں کچھ زیادہ ،مگر ہمیں جو پیمانہ اسوہ حسنہ (ص) کی شکل میں ناپنے کے لیے دیاگیا ہے اس پر نہ ہم پورے اتر تے ہیں اور نہ ہمارے مسیحا؟ جہاں تک ہم سمجھے ہیں دونوں کا مقصد صرف مہلت حاصل کرنا ہے؟
حکمراں پارٹی یہ سوچ رہی ہے کہ ہم وقت پورا کریں اور اس میں منصوبے پورے کرلیں، تاکہ عوام کے سامنے ہم جا ئیں تو وہ خوشی خوشی ووٹ دیں۔ مگر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ جو چھلنی میں دوھ رہے ہیں ۔ اس سے چھن کر کچھ بچے گا تبھی تو عوام تک پہونچے گا؟ ہر عقلمند یہ ہی کہے گا کہ پہلے چھلنی کے چھید بند کرو؟ پھر اس میں دودھ ڈالو ؟
دوسری طرف اپوزیشن ہے وہ بھی یہ ہی چاہ رہی کہ موروثی حکمراں پارٹیوں کو اتنا خوار کرد ے اور تاخیر سے انہیں اتنا مجبور کردے کہ انتخابات غیر جانبدارانہ ہوں۔ اور منصوبہ کوئی بھی مکمل نہ ہوسکے تاکہ حکومت کی جھولی میں پاپ کارن (مکئی کی کھیلوں )کی طرح ووٹ خود ہی اچھل کر نہ جاپڑیں؟
اس پورے تماشے کہ پس پردہ کوئی تیسری طاقت بھی ہے۔ وہ اس سے ثابت ہے کہ حکومت دھمکاتی تو بہت ہے مگر کر کچھ نہیں پاتی ۔ جبکہ حزب اختلاف تاریخیں دیتی رہتی ہے اور بس ؟۔ جبکہ مشاورت تیسری طاقت کی چل رہی ہے جو دونوں کو نچا رہی ہے اور اپنے مفادات ہمیشہ کی طرح حاصل کر رہی کیونکہ دونوں دھڑے اسی کے ہی رہینِ منت ہیں؟ نتیجہ کیا نکلے گا یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ کہ ان گھٹاؤ سے وہ کچھ بھی برسا سکتا ہے۔ اب اگلی تاریخیں سیاسی میچوں کی پھر ملی ہیں۔
پہلے ببھی لمبے لمبے بیان دونوں طرف سے آئے کہ ہم یہ کردیں گے ہم وہ کردیں گے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ پہلی تاریخوں کی طرح یہ تاریخیں بھی نکل جا ءیں گی اور سب اسی تنخواہ پر کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے؟ اس کانتیجہ کیا ہوگا ۔ قوم پر قرضوں کا بوجھ اور بڑھ جا ئے گا۔ اور“ دکھ سہیں بی فاختہ اور کوئے انڈے کھائیں والی مثال صادق آئے گی “ جو 68 سال سے اس ملک پرحکومت کر رہے ہیں وہی حکومت کرتے رہیں گے؟ اور کٹ پتلیوں کا یہ تماشہ اسی طرح جاری رہے گا۔
میڈیا پہلے ایک تھا تو اس سے کچھ امید تھی مگر اب وہ بھی بٹا ہوا ہے۔ وہ روزانہ سیکڑوں اسکینڈل دکھا رہا ہے، موتیں دکھا رہا ہے بھوک اور بد ھالی دکھا رہا ہے۔ اس میں ایک آدھ کیس حکومت منتخب کرلیتی ہے اور وہ چینل جس نے سب سے پہلے خبر دی تھی ، اس کو اسکورنگ ملجاتی ہے کہ سب پہلے یہ خبر دینے کا اعزاز ہم نے حاصل کیا تھا۔ اتنے چور دروازے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی مرحلے پر یاتو بعد میں مکمکا ؤہوجاتا ہے۔ یا پھر لوگ عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے تھک کر خود ہی منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔ آجکل تھر کا مسئلہ میڈیا میں زیر بحث ہے ۔یہ بد قسمت خطہ صدیوں سے یہ عذاب بھگت رہا ہے۔ جہاں وسائل موجود ہی نہ ہوں۔ اور ان کے دردوں کا مداوا کرنے کے کوئی موڈ میں بھی نہ ہو۔ پھر یہاں بھی چھلنی آڑے آتی ہے کہ جو وہاں بھیجا جا ئے تو ان تک پہونچتا نہیں ہے ،جو تعمیر ہوتی وہ ریت میں غائب اور پیسہ یاروں کی جیب میں ؟
ہاں کوئی کر نا چاہے توکر سکتا ہے کہ 71کی جنگ میں انڈیا نے اس کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے رسل و رسائل کے لیے ریلوے کے پرانے لکڑی کے پھٹے استعمال کیے اور اس پر کولتار ڈالکر سڑکیں چند مہینوں میں بنالی تھیں۔ جوکہ وہ واپس جاتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد جو پاکستان کو آباد کاری فنڈ ملے تو سڑک بنانے کے ٹھیکے سیاسی رہنماؤ کو مل گئے ۔ اس سے ریت کی سڑک بنی جو بعد میں ہوا اڑا لے گئی۔
تیسرے فریق جماعت اسلامی کے امیرمولانا سراج الحق صاحب بھی اپنی جماعت میں نئی جان ڈالنے کی فکر میں ہلکان ہورہے ہیں۔ یہ کوئی ان ہونی بات بھی نہیں ہے فارسی مقولہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر نیا آنے والا نئی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ اگر اینٹ، سیمنٹ اور سریہ نہ بھی ہو، تو بھی خیالی قلعے تو تعمیر کر ہی سکتا ہے۔ میں نے یہ اس لیئے کہا کہ وہ بھی اپنے آئندہ جلسے میں اسلامی روڈ میپ دینے جارہے ہیں؟ بڑی اچھی بات ہے۔ مگر اس نظام کے چلانے کے لیے اسکی بنیادیات توجماعت ایک صدی میں تیار نہیں کرسکی، مگر جیسے سب جماعتیں اور آمر الیکٹ ابیل کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے ،اسی طرح جماعت کو بھی رجوع کرنا پڑا اور اس نے اپنے یہاں بھی درجہ بندی کرکے تین ،درجے پیدا کر لیے یعنی،متاثر ، متفق ،اور رکن۔ گزشتہ کئی انتخابات میں اس نے متفقوں کو ٹکٹ دے کر تجربہ بھی کیا جو امید افزا نہیں رہا، جماعت میں اپنے عہدیداروں کے انتخاب میں صرف ارکان کوووٹ کاحق ہے ۔ باقی کو نہیں۔ اگر متاثرین اور متفقین کام اچھے کریں تو کریدٹ جماعت لے لیتی ہے اگر بد عنوانی کریں تو اپنادامن یہ کہہ کر چھڑا لیتی ہے کہ وہ رکن نہیں ہیں ۔ جبکہ جماعت ابتدا میں بہت اچھی چلی تھی ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس میں شامل تھے شدت پسندی کوسوں دور تھی۔ اور حضور (ص) کےاسوہ حسنہ پر چل رہی تھی کہ پہلے نظام کو چلانے کے لیے کل پرزے تیار کیے جائیں پھر اقتدارمیں آئیں۔ اپنے اس دور میں جماعت نے ایسے افراد پیدا کیے جوکہ دنیا میں اب موجود نہیں ہیں مگر ان کے کار ناموں کی بنا پر ان کی آج تک ہرمکتبہ فکر میں بہت ہی عزت و احترام ہے۔ میرے خیال میں ایسے ہی لوگ اسلامی معاشرے کی تعمیر میں اینٹ، سیمنٹ اور سریہ کاکام دے سکتے تھے۔ جن کی تعداد اب جماعت میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلام کا روڈ میپ تو وہ عطا فرمادیں گے ،مگر اسے چلائے گا کون کیوںکہ ایک صدی میں معاشرہ میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ پچھلی صدی میں مسلمان اپنے مسائل کا حل اسلام میں تلاش کیا کرتا تھا، بے ایمان، بدعنوان دال میں نمک کے برابر تھے، معاشرے وہ نکّو بنے رہتے تھے۔ بہرام اور سلطانہ جیسے لوگ گوکہ بہت مخیر تھے مگر ڈاکو کہلاتے تھے ۔ آج وہ فخر سے تن کر چلتے ہیں ان کے بر عکس جو متقی ہیں ۔ وہ معاشرے میں نکّو بنے ہوئے ہیں اور ہیں بھی دال میں نمک کے برابر؟ جبکہ موجودہ اسلام کے حامی اور مخالف دونوں کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ خدارا ہمیں سلام سے بچاؤ ۔ اگر ہم اس پر عمل کریں گے تو ہمارے بچے بھوکے مر جائیں گے ،ہم کھائیں گے کیا؟ کیونکہ غلط راستے تو سارے بند ہوجائیں گے۔ جبکہ دوسری قومیں جو کہ مسلمانوں کو فرشتہ اور نجات دہندہ سمجھا کرتی تھیں۔ اسلامی تاریخ پڑھ کر اور یہ تاثر عام تھا کہ اسلام غریبوں کامذہب ہے اب وہ مسلمانوں کے موجودہ دونوں روپ دیکھ کر جس میں ایک طرف شدت پسندی ہے اور دوسری طرف بد عنوانی ۔ کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے بچاؤ۔ ایسے میں ہم سراج الحق صاحب کی کامیابی کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں اور بس؟

Posted in Articles | Tagged ,

فراست سے محروم مومن؟ ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

کسی زمانےمیں مومن کی فراست مشہور تھی، مگر آج کامسلمان اپنی حماقتوں کے لیے مشہور ہے ۔اور اس کی سزا بھگت رہا ہے۔ اگر شریف مکہ دوہزار نجدیوں کو ترس کھا کر جن پر مدتوں سے عمرہ اور حج بند تھا،اس لیے کہ وہ قریش کی با لا دستی ماننے کو تیار نہیں تھے اور شروع سے اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے تھے۔ لہذاحضور (ص) کے وصال تک انہوں نے بالا دستی تسلیم نہیں کی نہ ہی وہ ایمان لائے بلکہ مسلمہ کذا ب اپنے یہاں تخلیق کرلیا، اس سے پہلے ستر حفاظ کو شہید کیا، اور کئی بار دشمنانِ اسلام کے ساتھ ملکرمدینہ منورہ پر چڑھ آئے، وغیرہ وغیرہ۔ قصہ طویل ہے یہ سب تاریخ میں پرھئے یہاں میں نے ذکر اس لیے کیا کہ انہیں نے شدت پسندی کو دوبارہ زندہ کیا جو مسلمانوں سے پہلے ختم نہیں ہوسکی تھی اور ہلاکو نے کی تھی۔ یہ تاریخ میں نے مختصر طور پر یہاں بیان کی کیونکہ اس چھوٹے سے مضمون میں پوری تفصیل نہیں آسکتی؟ دوسری طرف فلسطینی عرب بجائے لالچ کے فراست سے کام لیتے اور سوچتے کہ یہ تمام دنیا سے ایک قوم سمٹی ہوئی  وہاں کیوں  چلی آرہی ہے۔ اور انکی غیر مزروعہ زمین کے منہ مانگے دام کیوں دے رہی ہے؟ تو آج فلسطین کی یہ حالت نہ ہوتی؟ اسی طرح اگر غیر تقسیم شدہ ہندوستان کے مسلمان لیڈر اللہ سے کیے ہوئے وعدوں سے پاکستان بننے کے بعد مکر نہ جاتے تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ مزید مثالیں دوں تو بات بہت طویل ہو جائے گی ۔ خود ہی چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سبق لیجئے اور عبرت پکڑیے۔
یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ مسلمانوں میں فراست کا فقدان ہے۔ اللہ خود قرآن میں فرماتا ہے کہ“ اگر وہ کچھ دینا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور وہ روکدے تو کوئی دلانہیں سکتا “ آج صورت حال یہ ہے کہ اس نے ہم سے فراست چھین لی ہے اوراپنی نصرت روکدی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا۔ کہ تم صرف اور صرف نبی (ص) کا اتباع کروگے۔ ہم نے ان (ص) کا اتباع چھوڑ کر اوروں کا اتباع شروع کردیاجوکہ وحی کے بغیر ہماری طرح کے انسان ہیں اور اس پر ظلم یہ کہ ان بزرگوں نے کبھی نہیں فرمایا،یا لکھا کہ ہمارا اتباع کرو؟ بلکہ وہ خود سختی سے حضور (ص) کا اتباع کرتے تھے اور اپنے ماننے والوں کو تاکید فرماتے تھے کہ تم بھی ان ہی کے اسوہ حسنہ (ص) پرچلو؟ اور اسوہ حسنہ پر چلنا ان کے لیے باعثِ فخر بھی تھا اور ہر بزرگ بزرگی کو پرکھنے کا معیار بھی۔
وجہ یہ ہے حضور (ص) کا ہر فعل تابع وحی تھا اسکی مزید تصدیق اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرماکر کردی کہ“یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے سوائے اس کے جو کہ اللہ کی طرف سے وحی کیا جا ئے “جب تک مسلمان حضور (ص) کی راہ پر چلتے رہے کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں۔ جب سے مسلمانوں نے اسوہ رسول (ص) کو چھوڑا ان میں وہ خوبیاں باقی نہیں ر ہیں جو کبھی مسلمانوں کا زیور تھیں۔ مثلا ً حضو ر (ص) صادق اور امین تھے، انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، یہ ہی وجہ تھی کہ یتیم اور یسیر ہوتے ہو نےوہ (ص) تمام سرداروں پر اس میدان میں بازی لے گئے؟ آج کے مسلمان اب نہ صادق ہیں نہ امین اور نہ ہی بننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ (ص) خودمکرم الاخلاق تھے اور معلم الاخلاق بن کر تشریف لا ئے تھے، یہاں آکر اسی ہی کی تعلیم دی، مسلمانوں نے اسوہ حسنہ (ص) کا یہ حصہ اپنا کر پوری دنیاکو اپنا گرویدہ بنا لیا۔آج کا مسلمان اخلاق سے کورا ہے لہذا وہ دوسروں کو کیا متاثر کریگا؟ تیسری صفت جو بہت ہی اہم ہے وہ ہے “ احسان “ جس کامتبادل لفظ ارد میں تو نہیں ہے ،انگلش کا لفظ “ایکسی لینس“ اس کے قریب ترہے جس کا سیدھا سا مفہوم یہ ہے کہ جو بھی جہاں جس حیثیت میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہو، وہ انتہائی خوش اصلوبی سے ادا کرے ؟کیونکہ یہ لفظ جس فعل کے ساتھ لگ جا ئے وہ فعل اپنی انتہا ئی بلندیوں کو ظاہر کرتا ہے ، جیسے کہ حسن تحریر ، حسن ِ تعمیر اور حسن تدبیر، حسن ِتبلیغ اور حسن تنظیم وغیرہ وغیرہ۔ حضور (ص) جنکا اسوہ حسنہ قرآن کی عملی شکل تھی، وہ اس میں بھی اپنے درجہ کمال کو پہونچے ہوئے تھے۔ وہ  اک اچھے فرزند تھے انکی والدہ اور دائی حلیمہ کو ان سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ اچھے باپ تھے، اچھے رشتہ دار تھے، اچھے شراکت دار ، تاجر  ، اچھے جنرل اور اچھے حکمراں تھے نیز اچھے ہمسایہ تھے۔ جبکہ مسلمانوں کا عالم یہ ہے کہ ان تمام افعال میں وہ درجہ زوال کو چھو رہے ہیں۔ جو کام دیدیتا ہے ،جو معاملہ کرتا ہے، غرضیکہ جو اعتماد کرتا ہے پچھتاتا ہے۔ چوتھی چیز “ صبر “ ہے جس کا سب سے بڑا ثمر عفو اور در گزر ہے ، برداشت ہے، وہ حضور (ص) میں بدرجہ اتم تھا، پہلی خاتون شہید، صحابیہ حضرت سمیّہ (ص) بنت خبیب اور ان کے شوہر حضرت یاسر  کو ان کے سامنے انتہائی بیدردی سے شہید کیا جا رہا ہے چونکہ لڑنے کا حکم اس وقت تک نہیں آیا تھا؟ وہ آل یاسر کو جنت کی بشارت تو دیتے ہیں ،مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
صبر کے لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ ان اللہ مع الصابرین (بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) حضور (ص) خود منصف تھے جوکہ پیدائش سے لیکر آخری دم تک رہے مسلمانوں کوسختی سے عدل کی تاکید فرمائی۔ جبکہ عدل کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایاکہ“ دیکھو کسی قوم کی دشمنی جذبہ انتقام کی وجہ سے تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے “ مسلمان اس سے آجکل بہت دور ہیں، بات بات پر مشتعل ہوجاتے ہیں گردنیں کاٹ دیتے ہیں زندہ جلا دیتے ہیں جبکہ قرآن کے مطابق ایک انسان کو(بلا قانونی جواز کے) قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنا ہے اور ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے۔ یہاں قانونی جواز کیا ہے ؟اس کی میں وضاحت کرتا چلوں کہ مثلا ً کسی نے کسی کو قتل کیا ہو؟ وہ مقدمہ  عدالت کے سامنے پیش ہو، الزام اور شہادتیں سننے کے بعد ثابت ہوجائے، یا قاتل کے اقرار کرنے پر مقتول کے ورثا سے عدالت پوچھے،اور انہوں نے اس کا خون بہا لینے سے انکار کردیا ہو؟ تب کہیں جاکر حکومت وقت سزائے موت پر عمل کرے گی ۔ جبکہ آج مسلمان اس کے برعکس خود ہی گواہ خودہی منصف بن کر اب تک بہت سے بے گناہوں کو سزا دے چکے ہیں۔ جن میں تماشائی بھی موجود ہوتے ہیں ۔ جن کا فرض ہے مسلمان ہونے کی وجہ سے اسکی جان بچاکر مشتعل لوگوں سے اسے چھٹائیں، نہ کہ خود بھی اس میں شامل ہوجائیں؟ ہماری حرکتوں پر اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی سنت تواترہ کے مطابق ڈراتا رہتا ہے ۔ کبھی ایک آفت سے کبھی دوسری سے ۔ کبھی دیکر کبھی چھین کر، مگر ہماری حالت سورہ اعراف کی آ یت نمبر 130کے مطابق اب سے کچھ عرصے پہلے تک تو یہ تھی کہ توبہ کی طرف راغب ہو جاتے تھے مسجدیں بھر جاتی تھیں، آفت ٹل جاتی تھی تو پھر جاتے تھے؟ مگر اب اسے قدرتی آفات کہہ چھوڑ دیتے ہیں، گویا کہ فرعون سے بھی آگے نکل چکے ہیں؟ اوپرہم نے جو تجربہ بیان کیا ہے ہم اپنے ہم عمروں کی اس  پرگواہی دلاسکتے ہیں کہ گزشتہ صدی تک جب بھی کوئی مشکل آتی تو لوگ توبہ کر کے مسجدوں کا رخ کر تے تھے۔ بلا ٹل جاتی تھی توبھول جاتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں لوگ رواجی نمازی ہوگئے، اب مسجدیں تو بھری ہوئی ہیں۔ مگر ان نمازیوں میں اس کے با وجود کہ قرآن کہتا ہے نماز برائیوں سے بچاتی ہے اور بھلا ئیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ وہ وصف پیدا نہیں ہوتا یعنی خوف ِ خد! جو پیدا ہونا چاہیئے تھا ۔ نتیجہ یہ ہےکہ ہر وہ کام کر رہے ہیں جو گزشتہ قومیں کرکے سزا پاچکی ہیں۔ مثلا ً جھوٹ ، وعدہ خلافی ، ٹھگی، چوری، ڈکیٹی ، اغوا برائے تاوان اور بے گناہوں کا قتل، پھر بھی یہ فخر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور جنت کے حقدار بھی۔ جب کہ نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ مسلمان خود کہہ رہے ہیں کہ اب ہم میں کوئی صادق نہیں ہے امین نہیں ہے لہذا دستور سے ایسی دفعات نکالدینا چاہیے ؟ یعنی قوانیں کو سزا کے طور پر بدلنا دینا چاہیئے کہ کوئی قانون خود کو کیوں غلط استعمال ہو نے دے رہا ہے۔ جبکہ اپنا یہ قصور ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ ہم خود قانون کی راہ میں روڑے اٹکانے کے عادی ہیں۔ اور انصاف نام کی کوئی چیز ملک میں نہیں ہے؟
ایک سکالر جو اپنی خود ساختہ تفہیم کی بنا پر آجکل خود اختیاری جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ ایک ایسے ٹی وی پر کہہ رہے تھے جوکہ بہ یک وقت ہر قسم کے  پروگرام پیش کرتا ہے؟ جہاں ایک پروگرام میں علماء کامذاق بھی اڑایا جاتا ہے یہ پوچھ کر کہ آپ نے اب تک کتنے عشق کیے؟ جبکہ دوسرے پروگرام میں بہترین تبلیغ بھی کی جاتی ہے وہاں ملک کے جید علماءمالکوں کو دعا ء بھی دیتے سنائی دیتے ہیں شاید وہ اس پر عمل کرتے ہیں کہ اچھے کام کی تعریف کرو اور برے کام کی مذمت؟۔ مگر آج تک ہم نے کسی کو مذمت کرتے نہیں دیکھا ،جس طرح چالیسویں کی ضیافت میں کسی مہمان کو شکریہ ادا کرتے؟ اسی چینل کے ایک پرو گرام میں اپنے ارشادات ِ عالیہ سے وہ لوگوں کو مستفید کرتے ہیں ان صاحب کا کہنا تھا کہ جب عوام خود اس کردار کے مالک نہیں، تو انہیں اپنے ہی جیسے لوگ ڈھونڈ کر منتخب کر نا چاہیے اس لیے کہ صادق اورامین فٹ نہیں ہونگے۔ انا للہ وانا علیہ راجون ہ اللہ تعالیٰ ہمیں فراست عطا فرما ئے تاکہ ہم را ہ راست پر آسکیں(آمین)

Posted in Uncategorized

ہر گزنہ ناپئے انہیں اسوہ رسول (ص) سے ۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ایک زمانہ تھا کہ لندن کو دنیا میں کلیدی اہمیت حاصل تھی۔ جوکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد باقی نہیں رہی پہلے اسکی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب نکلتا نہیں ہے۔ مگر اب بھی تمام ممالک کے لوگ اس کو سازشوں اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ان سب کی وہ ثانوی رہائش گاہ بھی ہے۔ آجکل وہاں ایسا ہی دو گروپوں کا اجتماعِ ضدین برپا ہے جو کہ پاکستان میں کبھی لڑے اور کبھی ملے رہتے ہیں ۔مگر جب لندن جاتے ہیں تو ایک ہوجاتے ہیں جو اس سے ظاہر ہے کہ ٹھہرنے کے لیے وہ ہوٹل بھی ایک ہی چنتے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی میڈیا کو اس پر اعتراض ہے کہ جب وہاں گھر ہے تو ہوٹلوں میں کیوں ٹھہرتے ہیں ،پاکستان جیسے غریب ملک پر بوجھ کیوں ڈالتے ہیں ؟اور ان کو ملاتے ہیں مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی سلطنت کے سربراہ (ص) سے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان (ص) کے اسوہ حسنہ کومسلمانو کے لیے کافی قراردیا ہے ۔ طفصیل اتنی طویل ہے کہ اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں آسکتی۔  آپکوایک جھلک دکھا ئے دیتا ہوں۔ وہ پہلے بھی فقیروں کی جھولی بھرتے تھے اپنی خالی رکھتے تھے پھر حکومت ملی توبھی خود فاقے سے رہتے تھے اور سائل کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے۔ بیت المال با قاعدہ بنا نے کی حاجت انہیں اس لیے پیش نہیں آئی کہ اسوقت ضرورت مند زیادہ تھے اور مال کم تھا، صبح سے شام تک جو کچھ ان (ص) کے پاس کہیں سے آتا شام تک کچھ باقی نہیں بچتا تھا۔ پھر ان کے بعد مسلمانوںکے سربراہ حضرت ابوبکر (رض) بنے انہوں نے مال رکھنے کے لیے ایک کوٹھری تو بنا ئی اور ایک بڑا سا تالہ بھی اسے لگا دیا۔ لوگ سمجھتے رہے کہ اس میں بہت مال ہو گا، مگر ان کے نزدیک اپنے مقابلے میں نبی (ص) کے اسوہ حسنہ کے مطابق عوام کی ضروریات زیادہ اہم تھیں ؟ جب ان کے وصال کے بعداسے کھولا گیا تو ا س میں صرف ایک درہم تھا۔ انہوں نے اپنا دور یہاں سے شروع کیا کہ حکمراں منتخب ہونے کے بعد بھی اپنا کاروبار نہیں چھوڑا اور حسب دستور جب پہلے دن وہ اپنے مال ِ تجارت کندھے پر ڈال کر بازار کی طرف چلے، تو لوگوں نے کہا کہ اے امیر المونین! اس طرح کام نہیں چلے گا ؟
بہتر یہ ہے کہ آپ اب کارو بار چھوڑ دیں اور کچھ بیت المال میں سے لے لیا کریں ۔ مگر انہوں نے شروع میں گوارا نہیں کیا ۔ آخر ایک مرحلہ وہ بھی آیا کہ اپنے دور کے کامیاب ترین تجار اور سابق امیر ترین شخص کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی! تو انہوں نے شوریٰ کے مشورے سے اتنا لینا شروع کیا کہ جس سے روکھی سوکھی چلتی رہے۔ وہ بھی اپنے آخری وقت میں حساب کرکے اور اپنا (رض) مکان بیچ کر ادا کر یا۔ حضرت عائشہ (رض) جو کہ ان کی بیٹی اور وہ ام المونین  تھیں جن کے حجرے میں حضور (ص) کا وصال ہوا۔ ان سے پوچھا کہ میرے آقا  (ص)کے کفن کے لیے کتنے پارچہ جات تھے؟۔ جواب ملا تین تو فرمایا کہ میرے پاس چار ہیں دو میں پہنے ہوئے ہوں دو دھوکر رکھتا ہوں، اس مرتبہ میں بیماری کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکا وہ دوتم دھوکر میرے کفن کے لیے استعمال کر لینا اور ایک نیا بازار سے خریدلینا! انہوں (رض) نے فرمایا کہ ہم تینوں کپڑے نئے کیوں نہ خرید لیں؟ فر مایا نہیں !میں ایک بھی نیا استعمال نہیں کر تا، مگر ہر مسلمان پر حضور (رض)کا اتباع فرض ہے۔ اور میرے پاس پرانا کپڑا تیسرا ہے نہیں ۔ ورنہ میرے نزدیک نئے کپڑوں کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔اسی پر عمل کیا گیا اور ان کے بعد بھی کسی کی جراءت نہ ہوئی کہ وہ ان کی وصیت کو تبدیل کر دیتا۔
اب دوسرے جانشین (رض) کی بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے دوبارہ تجربہ نہیں کیا اور شوریٰ کے کہنے پر اتنا لینے لگے، جس سے وہ عام آدمی جیسا کھانا کھا سکیں۔ ایک دن بیوی نے میٹھا بنا لیا، تو پوچھا یہ کہاں سے آیا؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میں نے خرچے میں سے کچھ پسِ انداز کر کے بنایا ہے ۔ کہنے لگے اگر تمہارا روزینہ اتنا ہے جو اس میں سے پس انداز کرلیتی ہو، تو اسے کم کر دیتا ہوں۔ لہذ ا اس کے بعداس سے کچھ کم دینا شروع کردیا۔ ان (رض) کے دورِ حکومت میں قحط پڑگیا تو انہوں (رض) نے وہ چیزیں جو انہیں مرغوب تھیں یہ کہہ کر اپنے دسترخوا ن سی ہٹا دیں جن کا کہ عرب میں استعمال عام تھا، جیسے کہ شہد، انہوں نے یہ فرماکر اپنے سامنے سے ہٹادیں کہ یہ اب عام لوگوں کو میسر نہیں ہیں۔ لہذا اب میں بھی انہیں استعمال نہیں کرونگا۔
ظاہر ہے کہ ایسا شخص (رض)  محل کیا بناتا دربان کہاں رکھتا؟ کبھی مسجد میں سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوجاتے ،کبھی کسی درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں اپنا عصاءسر کے نیچے رکھ کر سوجاتے ایسے میں ایک وفد با ریاب ہوا اس نے یہ دیکھا تو کہا کہ ً ایک دن یہ شخص  ضروردنیا کو فتح کر لے گا ً
ان کے زمانے میں سرحدیں پھیلتی چلی گئیں اس زمانے کی دونوں سپر پاورزکو انہوں (رض) نے شکست دیدی۔ جو مال ان کے خزانوں میں بیکار پڑا ہوا تھا۔ وہ مال غنیمت کے طور اتنا آیا کہ رکھنے کی جگہ نہ رہی، تو انہوں (رض) دنیا کے سامنے فلاحی مملکت کا تصور پیش کیا۔ بچوں، بیواؤ ں اور بوڑھوں کا، وظیفہ مقرر کر دیا ۔ فوج کو با قاعدہ تنخواہیں مقرر کیں اس سے پہلے با قاعدہ فوج نہیں تھی، وقت ِضرورت لوگ شامل ہو جاتے تھے، جب فتح ہوتی اور مال ِ غنیمت ہاتھ آتا تھا تو اس میں سے خمس نکال کر باقی مال، سواروں میں دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ تقسیم ہو ا کرتا تھا۔ تنخواہیں مقرر کرنے بعد فوجیوں کو حکم دیدیا کہ وہ اسلامی مملکت میں کہیں زمین نہیں خرید سکتے(تاکہ ان کا دل اپنے فرائض منصبی میں لگا رہے ، پلاٹو ں کے حصول ، تجارت اورمال کمانے میں نہ لگا رہے) جو اہلکار تھے ان کے لیے ایک معیار مقرر ہوا کہ وہ ڈیوڑھی نہیں بنا ئیں گے ،دربان نہیں رکھیں گے چَھنے ہو ئے آ ٹے کی روٹی نہیں کھا ئیں گے۔ موٹا جھوٹا پہنیں گے غیرہ وغیرہ۔
مساوات پر وہ (رض) اتنے عامل تھے۔ کہ جب بیت المقدس کے مذہبی رہنماؤں نے یہ شرط رکھی کہ ہم اس شہرکو پرامن طورپر سرنگوں کر نے کو تیار ہیں ،مگر شرط یہ ہے کہ ہماری کتابوں میں جو فاتح کی پہچان لکھی ہے ہم وہ ان میں پائیں؟ اس لیے وہ خود تشریف لا ئیں۔ انہوں نے خونریزی بچانے کے لیے دا رالحکومت چھوڑ دیا جس کو چھوڑنے سے پہلے شوریٰ نے انہیں منع کیا تھا،جب وہ ایران کے خلاف لڑنے جا رہے تھے۔ اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تجویز پر حضرت سعد (رض) بن ابی وقاص کو اپنی جگہ اس ہدایت کے ساتھ ایران بھیجا کہ تمہیں حضور (ص) سے قرابت کہیں مغرور نہ کر دے اور تم ہلاک ہوجاؤ؟ وہاں ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہنا کہ عوام تمہا رے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
لیکن اس مرتبہ وہ (رض) کسی کی بات نہیں مانے اور انہوں (رض) نے جانے کا فیصلہ کر لیا؟ جب یروشلم کے قریب پہونچے ،تو ایک منزل پہلے چند اسلامی جنرل آگے بڑھے اور کہا کہ یہاں امراءزرق برق لباس پہنتے ہیں اور ان کے ساتھ فوجی دستہ ہوتا ہے؟ آپ بھی لباس تبدیل فرمالیں اور ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ وہ یہ سن کر برہم ہوگئے فرمایا میں ایسے ہی جاؤ نگا۔( کیونکہ وہ پہلے ہی دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمارے اور ایران کے درمیان آگ کا سمندر حائل کردے تاکہ ہمیں ان کے خلاف لڑنا نہ پڑے، کیونکہ ان کی برا ئیاں ہم میں بھی آجا ئیں گی اور ہم بھی ہلاک ہو جا ئیں گے۔ اس کے توڑ کے لیے جیسا کہ ہم نے اوپر بتا یا کہ انہوں نے یہ انتظامات کیے )۔ جنرلوں کو واپس کر کے پھر وہ اس شان سے چلے کہ اونٹ ایک تھا،ایک دن و ہ سوار ہو تے تھے اور غلام اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتا تھا اوردوسرے دن غلام سوار ہوتا تھااور وہ نکیل پکڑ کر چلتے تھے۔ آج نکیل پکڑ کر چلنے کی ان (رض) کی باری تھی؟
اہلیان یروشلم فصیل پر سے کھڑے ہو ئے دیکھ رہے تھے۔ اور منتظر تھے کہ فوج ساتھ ہو گی دھول آسمان کو چھوتی ہو ئی نظر آئیگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے ہے اوردوسراس پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہاں جو مسلمان ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پہچان کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا مرحبا یا امیر المونین! تو انہیں اندازہ ہوا کہ جن کا انتظار تھا وہ ان ہی میں سے ایک ہے وہ یقیناً سوار ہو گا ۔ مگر مسلمانوں نے بتایا کہ جو سوار ہے وہ غلام ہے، جو نکیل پکڑے ہو ئے ہیں یہ امیر المومنین (رض) ہیں۔ ان کے مذہبی رہنما نے کہا کہ یہ ہی ان کی پہچان ہماری کتابوں میں تھی۔ وہ باہر آئے اور اپنے جلو میں ان (رض) کو لیے ہوئے قلعہ میں داخل ہو گئے۔ اسی میں نماز کا وقت آگیا، تو انہوں نے پیش کش کی کہ آپ یہیں ہماری عبادت گا میں نماز پڑھ لیجئے؟ انہوں (رض) نے کہا کے نہیں میں باہر جا کر پڑھونگا ،مجھے ڈر ہے کہ میرے (رض) بعد مسلمان کہیں اس کو مسجد نہ بنا لیں ۔ انہوں (رض) نے عبادت گاہ سے باہر نکل کر سیڑھیوں پر جاکر نماز پڑھی جہا ں لوگوں کے پاؤں پڑتے تھے۔کچھ بچھایا بھی نہیں، جا ءنماز کا ان کے دور میں رواج شروع نہیں ہوا تھا ۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی بھی ابھی کھجور کے چھپر کی تھی اور مسجد میں جب نمازی سجدہ کرتے تھے، تومتھے میں کنکریاں چبھ جا تی تھیں۔ یہ تھے حضرت عمر بن خطاب (رض) ۔ جو تاریخ میں فاروقِ اعظم کے نام سے مشہور ہیں۔ جنکے دور میں دجلہ اور فرات تک کا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ اسی لیے انہوں (رض) نے وہ تاریخی جملہ فرمایا تھا کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر جا ئے تو عمر ذمہ دار ہے؟
آخر اوروں طرح ان کا وقت بھی آپہونچا اور ایک منصفانہ فیصلے کی پاداش میں ایک ایرانی غلام ناراض ہو گیا، اس نے مسجد میں جاکر انہیں شہید کردیا۔ ان (رض) کی زبان مبا رک سے سب سے پہلی بات یہ نکلی کہ خدا شکر ہے کہ میرا قاتل مسلمان نہیں ہے؟ انہوں نے بھی پہلے والے کا اتباع کرتے ہو ئے حساب کتا ب کیا، جتنی رقم بیت المال سے اب تک لی تھی وہ اپنی ایک جائداد فروخت کر کے ادا کردی۔
انا للہ وانا علیہ راجعون ہ
آپ یہ پوچھیں گے کہ آپ نے یہ قصہ یہاں کیوں دہرایا ؟ پہلا جواب تو یہ ہے کہ ع ہرگز نہ ناپئے انہیں اسوہ رسول (ص) سے  جو سر تک اٹے ہوئے ہوں دنیا کی دھول سے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوٹل میں اس لیے ٹھہرتے ہیں کہ رعب پڑتا ہے اور وہ بھی سرکاری خرچے پر۔

ا

Posted in Uncategorized

خود نہ بدلیں، مگرقرآن بدلنا چاہیں۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

کل ہم نے دو المناک خبریں پڑھیں ایک یہ تھی کہ ایک مسیح جوڑے کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا۔ دوسری خبر یہ تھی کہ گجرات میں ایک سب انسپکٹر نے طفیل حیدر نامی شخص کو تحقیقات کے دوران حوالات میں پڑی کلہاڑی سے قتل کردیا جوکہ بقول اس کے صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کر رہا تھا جو وہ برداشت نہیں کرسکا؟ پہلے والے واقعہ پر ایک مباحثہ بھی دیکھا جس میں شامل ایک مولوی صاحب تھے ، انسانیت کی ہمدرد ایک خاتون تھیں اور ایک وزیر تھے۔ پہلے دوفرد کہہ رہے تھے کہ ہم نے اس قانون میں یہ یہ ترمیمات کیں اگر وہ اسمبلی پاس کردیتی تو ایسا نہیں ہوتا؟ حالانکہ قوانیں کا وہاں کوئی مصرف ہی نہیں ہے جہاں کوئی ان پر عمل نہ کرنا چاہے؟ دوسرا مباحثہ اس پرتھا کہ جس میں آئین کی دفعہ62 اور63زیر بحث تھیں، جس سے چَھنے بغیر کوئی کسی اسمبلی نہیں جا سکتا۔ لیکن جس طرح چپراسی کی مٹھی گرم کرکے کوئی بھی کہیں تک پہونچ سکتا ہے ،یہاں بھی سب بندشیں دھری رہ جاتیں ہیں اور وہی لوگ واپس آجاتے ہیں جو تجربہ کار ہیں ؟
چونکہ دو نو ہی آجکل گرماگرم عنوان ہیں۔ لہذا ہم دونوں ہی پربات کر یں گے۔ کیونکہ جب تک کوئی طبیب بیماری نہ سمجھے وہ علاج تجویز نہیں کر سکتاہاں!  اگر عطائی ہے تو اور بات ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہو تا ہے ،چاہیں اس کے اس عمل سے دوسروں کے بچے تیم کیوں نہ ہو جا ئیں؟
پہلے والی خبر میں ایک نہیں تین گاؤں کے 600سو باشندے ملزمان میں شامل ہیں۔  جبکہ مظلومین پرالزام یہ ہے کہ انہوں نے اوراق مقدس کی بے حرمتی کی یہ واضح نہیں کہ ان میں جرم کا ارتکاب کس نے میاں نے یا بیوی نے؟ مگر سزا پانے والوں میں ایک ایسا بچہ بھی تھا جو ابھی اس دنیا میں نہیں آیا، کیونکہ وہ خاتون حاملہ تھیں۔ یہ عدل و انصاف کا وہ نمونہ ہے جو دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا؟
اوراس لیے بھی کہ مسلمان کی غیرت جو اسلام پہ عمل نہ کرنے سے نہیں جاگتی ہے وہ اوراق مقدس کی حفاظت کے لیے دوسروں کو مارنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ بغیر یہ تحقیق کیے کہ حقیقت کیا ہے؟ صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر اخبار پر آیات اور احادیث لکھی ہوتی ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ہمیشہ دین کو دلوں میں تازہ رکھنا چا ہیئے ، سب سے اچھے مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ ہر وقت موت کو یاد رکھتاہے، مگرہم عمرِ جا ویداں تو سب چاہتے ہیں ، موت شاید ہی کسی کویاد آتی ہو، اس میں سب شامل ہیں موت نہ اخبارات کے مالکان کو یاد ہے، نہ ایڈیٹروں کو یاد ہے اور نہ عام مسلمانوں کو یاد ہے۔ رہے عوام الناس ان کا یہ عالم ہے کہ وہ عربی میں جوکچھ بھی لکھا ہواسے اوراق ِ مقدس ہی سمجھتے ہیں ۔ جبکہ یہ ہی سارے اخبار بعد میں ردی میں بکتے ہیں، چونکہ پاکستان کی زیادہ ترآبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے وہ اس ردی کو خریدتے ہیں اور ان سے لفافہ بنانے والے لے جاتے ہیں۔ پھر وہ لفافے بنا کر بازار میں فروخت کرتے ہیں۔ اس میں دکاندارہر قسم کی چیزیں ڈال کر فروخت کرتے ہیں ، ٹھیلے والے سالم اخبار بھی ردی میں استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ کسی گھر میں بھی پہونچ سکتے ہیں۔ اور کسی کی موت کا پروانہ بن سکتے ہیں، اگر پڑوسی سے دشمنی ہو تو وہ بھی استفعادہ حاصل کرسکتا ؟ مگر ہماری غیرت َاسلامی اس پر کبھی نہیں جاگی کہ اخباروالے اپنے خریداروں سے پرانے اخبارواپس جمع کرکے ری سائیکل کر یں ،جو مہذب دنیا کا طریقہ ہے ؟ یہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کیا کنیڈا میں ایسا ہوتا ہے ؟ اول تو یہاں ہر قسم کی چیزوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے شہری ٹیکس اس سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں ، جو جتنے ذمہ دار ہیں دوسرے یہ  کہ اخبار میں مقدس آیات نہیں لکھتے؟
مگر اس کی تعلیمات پر عمل ضرورکرتے ہیں؟ مثلا یہ ملک فلاحی ریاست ہے ، جھوٹ یہاں نہیں، بد عنوانی نہیں عدل و انصاف ہے قانون کا احترام ہے یہ چیزیں انہوں نے ہم سے ہی لیں ہیں جوکہ ہم نے بیکار سمجھ کر سرد خانے میں ڈالدیں تھیں، اور اب ہمارے یہاں رائج نہیں ہیں اور نہ ہی آئندہ رائج کرنے کاارادہ ہے۔
اخبار والوں کوریسائی کل کرنے کی تجویز ہم نے اس لیے نہیں دی کہ ردی عام طور پر پاکی کے تقاضے پوری نہیں کرتی اور مسلمانوں کو صرف پاک چیزیں استعمال کرنے کاحکم ہے؟ لہذا صفائی کا تقاضہ ہے کہ ردی تلف کردی جائے، نہ ردی ہوگی نہ کوئی حاجی صاحب تھوک میں خریدیں گے، نہ چلر میں بیچیں گے نہ یہ مسئلہ پیدا ہو گا؟ ویسے بھی ردی کو ٹھکانے لگانا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے مسلمان ہو نے کی حیثیت سے۔ سب سے پہلے تو وہی ذمہ دار ہیں کہ جو لکھیں اس پر عمل نہ کریں اگر عمل کرتے توپھر ردی میں اسے بکتا دیکھ کر انہیں دکھ  ضرورہو تا۔
یہاں بھی ایک ٹھیلے والے کا ذکر ہے۔ بھٹے والے کا بھی ذکر ہے۔اور یہ بھی ذکر ہے کہ وہ “ بندھی “ مزدور تھے، بھٹے والوں کے اور ان کے درمیان پچاس ساٹھ ہزار پر تنازع چل رہا تھا۔ بھٹے والوں کے مظالم کی داستانیں وہاں عام ہیں جبکہ مشق ستم زیادہ تر مسلمان ہیں۔ جس طرح  وہا ں مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے اس سے سب واقف ہیں؟ لیکن آج تک محکمہ محنت نے کچھ نہیں کیا۔ ان سب کڑیوں کو ملالیا جا ئے تو پوری کہانی سامنے آسکتی ہے۔ مگر یہ کڑیاں کبھی نہیں ملیں گی اس، لیے کہ ایف آئی آر ( ابتدائی اطلاع جسے کہتے ہیں ) اسی پہ پورے مقدمہ کا دارومدار ہوتا ہے۔ وہ چھ سو آدمیوں کے خلاف ہے۔ جس میں ساٹھ اس میں نامزد ہیں۔یہ بات دیکھنے میں بڑی اچھی لگتی ہے مگر پانچ سے زیادہ تعداد پر بلوہ کا مقدمہ دفعہ 107کے ساتھ درج ہوتا ہے۔لہذا سابقہ روایات کے مطابق آج تک کوئی ایک بھی مجرم ثابت نہیں ہوسکا۔ اس سے کم ہوں تو302کے تحت کاروائی ہوتی ہے جس میں سزائے موت ہے۔ یہاں بھی پہلے ایک ہی دو تھے جنہوں نے ان کو چھت توڑ کر نکا لا اور بھٹے تک زد وکوب کرتے ہوئے لے گئے وہ کون تھے ، بھٹے والوں سے انکا تعلق کیا تھا، پھرانہوں نے جلانے کے لیے بھٹہ ہی کیوں منتخب کیا۔ یہ اس مقدمے کی بہت ہی اہم کڑیاں ہیں ۔ مگر کوئی جوڑےگا نہیں۔ یہ مقدمہ بھی گزشتہ تمام مقدمات کی طرح ختم ہو جا ئے گا ۔ کیونکہ عدالت سزا ان مقدمات میں دیتی ہے جہاں پوری ثبوت مہیا کیئے گئے ہوں ۔ا گر ثبوت ہی کمزور ہوں، گواہ بعد میں منحرف ہو جا ئیں، تو عدالت شبہ کا فائدہ ملزمان کو ہی دیتی ہے لہذا وہ بری کر دیتی ہے۔
چونکہ عوام کی اکثریت جا ہل ہے اور( موب اسپرٹ )عوام میں احتجاج کا رجحان جوکہ یہاں ایک صدی پہلے پاکستان بنا نے کے لیے بڑھایا گیا تھا، وہ روزبروز بڑھتا چلا جارہا ہے۔جبکہ ہمارے برعکس دوسری قوموں نے انہیں آزادی کے بعد تعمیر میں لگا دیا ،تو ترقی کر گئیں جس کی مثال ملک چیں ہے۔ لیکن ہمارے یہاں اسے اپنی کرسی قائم رکھنے کے لیے کام نکلنے بعد بھی ایسے ہی چھوڑدیا گیا جیسے کہ افغانستان میں مجاہدوں کی فوج ؟ جس کی سزا قوم کئی عشروں سے بھگت رہی ہے۔ وجہِ بیماری کیاہے ؟ یہ سب جانتے ہیں “ خود غرضی اور بد عنوانی “
جب پولس عہدے خریدے گی، تھانے ٹھیکے پر لے گی تو اسے کہیں سے پورا تو کر نا ہوگا اور جنہوں نے اہلکاروں سے رقم لی ہوگی انہیں بھی آنکھیں بند کر نا پڑیں گی۔ مباحثہ میں موجود وزیر صاحب نے اس کا بڑا اچھا حل بتایا کہ “پارلیمنٹ یہ غور کرے کہ ان دفعات کو کیسے پاکستانی قیادت کے مزاج کے مطابق بنا یا جا سکتا ہے “ وہ دفعات کیا ہیں ؟کہ انتخاب میں وہی امید وار حصہ لے سکتے ہیں جو صادق اورامین ہوں۔جبکہ ان میں ابھی تقویٰ شامل نہیں ہے، جوکہ لازمی ہے اور حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے ثابت ہے جسے اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی فرماتا ہے ، انہوں (ص) نے پہلے جو دو گورنر مقرر فرمائے۔ وہ تھے حضرت معاذ بن جبل  (رض)اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔ اور جو پہلے کلکٹر مقرر فرمائے وہ تھے ۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) جوکہ سنت سے کہیں بال برابر بھی انحراف نہیں کرتے تھے جن کی تعریف میں متعدد احادیث،تاریخ اور سیرت کی کتا بوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں وہاں پڑھ لیں۔ جس کا خیال بعد میں بھی آنے والوں نے رکھا۔ لیکن جب ترجیحات بدلی گئیں؟ تو پھر بگاڑ پیدا ہوا؟ جو ہنوز جاری ہے۔ جب ان کے قدردان نہ رہے تو نہ وہ تزکیہ نفس کرانے والے رہے نہ مدرسہ رہا نہ استاد ۔ البتہ وہ چبوترہ باقی ہے جہاں یہ پڑھتے پڑھاتے تھے،جو حضور (ص) کی ابدی آرام گاہ کے ساتھ ہے۔ وہاں زائرین بیٹھ کر تلاوت قرآن پاک ثواب کے لیے کرتے ہیں۔ جبکہ پہلے وہاں قرآن کو سمجھا، سمجھایا اور اس پر عمل کرنا سکھایا جاتا تھا ۔اب اسکا یہ ہی واحد مصرف رہ گیا ہے پڑھ لیا اور بس۔اور ہمارے پاس یہ عذر ہے کہ ہم میں ایسا کوئی ہے ہی نہیں۔ لائیں کہاں سے؟
اب ہم دوسرے مقتول کاذکرکے بات ختم کرتے ہیں۔کہ پہلے اسی قسم کے ادارے محبت سکھا یا کرتے تھے۔ صحابہ کرام (رض)اسی ادارے سے فارغ التحصیل تھے جس کے سربراہ رحمت اللعالمین(ص) تھے۔ انہوں نے سیکھا ہی یہ  تھا کہ محبت کو فروغ دو۔ لہذا وہ اتباع حضور(ص) میں محبتیں بانٹتے تھے۔ لہذا اسلام پھیلتا چلا گیا کیونکہ لوگ کرداروں سے متاثر ہوتے ہیں ۔ جبکہ بقول علی کرم اللہ وجہہ کے اچھی باتیں تو سبھی کرلیتے ہیں۔ اب نہ ایسے مدرسے اس کام استعمال ہوتے ہیں ، نہ وہ خانقاہیں نہ منبر؟ نئی نسل انہیں کی زہریلی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسموم ذہن لیے پیدا ہورہی ہے۔ یہ سب انسپکٹر بھی نئی نسل کا نقیب ہے۔ وہ گزرا جو قرآن منع کر رہا ہے کہ “ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے “ آج ہم سب یہ شعر صادق آتا ہے۔ یہ مسلماں ہیں کہ ایمان بدلنا چاہیں   خود نہ بدلیں مگر قر آن بدلنا چاہیں۔

Posted in Articles | Tagged , ,

مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

مورخہ23 اکتوبر 2014کو کنیڈا کی پارلیمنٹ میں جو واقعہ پیش آیا وہ تمام مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ جو لوگ مسلمان ملکوں میں رہتے ہیں وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ جن ملکوں کو وہاں دار الحرب کہا جاتا ہے ،وہاں وی آئی پی کلچر ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ یہاں نہ ہٹو بچو ہے، نہ کسی کے لیے روڈ بلاک ہو تی ہے۔ لہذا ہر ایک کی ہرایک شخص اور جگہ تک رسائی بڑی آسان ہے۔ اور پھر کنیڈا جیسا ملٹی کلچرل پہچان رکھنے والا ملک جہاں ہر ایک کوایک جیسے حقوق حاصل ہوں، وہاں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی پارلیمنٹ میں داخل ہو نے کی کوشش کریگا ؟ اس لیے یہاں حفاظتی انتظامات نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ تو دور کی بات ہے ۔ یہاں کسی وزیر کے لئے ، وزیر اعلیٰ کے لیے ،سکوریٹی کا انتظام نہیں ہوتا، وزیر اعظم کے لیے البتہ ایک آدھ آفیسر سفید کپڑوں میں ملبوس نظر آتا ہے۔ جو صرف اپنی چاروں گھومتی ہوئی نگاہوں سے پہچانا جاتا ہے۔
یہ ہی حال پہلے امریکہ کا بھی تھا، 911سے پہلے ہر آدمی وہائٹ ہا ؤس کے چاروں طرف آزادی سے گھوم پھر سکتا تھا، اور یہ تک دیکھ سکتا تھا کہ صدر امریکہ اپنے کسی مہمان کو پچھلے گیٹ سے رخصت کررہے ہیں یا استقبال کررہے ہیں ۔ باقی عمارتوں میں مع پارلیمنٹ باہرگھومتے پھرو، کوئی پوچھتاتک نہیں تھا۔ ابھی بھی وہاں یہ ہی عالم ہے کہ کچھ معمولی حفاظتی تدابیر مزید اختیار کی گئی ہیں ۔ جیسے کہ ابھی ہوا کہ وہاں بھی کسی نے اسی دن باونڈری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو ٹرینڈ کتوں نے اس کا استقبال کر کے بھگا دیا۔ اس سے پہلے لوگ امریکہ میں بھی جہاں چاہتے تھے نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اور کوئی کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ اسلام اس وقت تک ایک امن پسند اور اچھا مذہب سمجھا جاتا تھا ،حتیٰ کہ حساس مقامات پر بھی نماز پڑھنے سے کوئی نہیں روکتا تھا،ہم اسی دور میں ناسا کے ہیڈکوارٹر (ہوسٹن) میں گئے نماز کا وقت تنگ ہورہا تھا، ہم نے ایک پرانے راکٹ کے بازو کے نیچے کھڑے ہوکرباجماعت نماز اداکی۔ نہ کوئی سکوریٹی کامسئلہ پیدا ہوا نہ کوئی پوچھنے آیا۔ جبکہ 911 کے بعد ہوائی اڈے پر اسی امریکہ میں باجماعت نماز پڑھتے ہوئے اماموں کی ایک جماعت کو جو کسی میٹنگ میں شرکت کرنے جارہی تھی گرفتار کرلیاگیا۔،پھرنوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ جہاز میں بیٹھے ہوئے کوئی کہہ دے کہ مجھے اس آدمی سے ڈرلگا رہا ہے تو سکوریٹی کامسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہاں یہ بے اعتمادی کیوں پیدا ہوئی چند نا عاقبت اندیش نام نہاد مسلمانوں کی حرکتوں کی وجہ سے ۔ جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔
اب کنیڈا کی سنئے! ہم جب یہاں آئے تو اپنی سابقہ روش کے مطابق بجائے مسلم کمیونٹی تک محدود رہنے کہ اسے اپنا وطن جانا اور اپنے آپ کو حسب سابق خدمت ِ خلق کے لیے وقف کردیا تو وہاں کی طرح ہمت شکنی نہیں ہوئی، بلکہ ہمت افزائی ہوئی، ہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔ سب سے پہلے ہم ایک ملٹی کلچرل سو سایٹی میں شامل ہوئے، ہمارے سپرد ایک تقریب کا پورا انتظام تھا جسے کہ ایک مال میں منعقدہونا تھا ،جہاں چاروں طرف لوگ خرید وفروخت کر رتے پھر رہے تھے۔ اسی مال میں جو گول دائرے بنے ہوئے تھے تاکہ لوگ وہاں سانس لے سکیں ان میں سے ایک میں یہ تقریب منعقد ہو نا تھی ۔ ہم منتظر تھے کہ پاکستان کی طرح ہٹو بچو ہوگی کہ ایک صاحب نے ہماری توجہ دلائی ً پریمیر صاحب (وزیرِ اعلیٰ )تشریف لے آئے ہیں ،استقبال کرو !تو ہم نے دیکھا ایک صاحب عام سے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ ہلاتے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ نہ آگے کوئی ہے نہ پیچھے کوئی ہے؟ البتہ اخبار والے اپنے کیمرے لے کر ضرور آگے بڑھے جس سے ہم پہچان گئے کہ یہ ہی پریمیر ہیں ۔
جبکہ ہمارے یہاں معاملہ قطعی مختلف ہوتا ہے کہ وی آئی پیز کے گھوڑے تک قومی ایر لائین سے آتے جاتے ہیں؟ اور ہر رکن خود ہی نہیں بلکہ اس کے دوردراز کے رشتہ دار بلکہ اس کے اہلِ شہر تمام سرکاری وسائل استعمال کرتے ہیں اور قومی خرچے پر انہیں پورا پور ٹوکول دیا جاتا ہے۔ لہذا ہمیشہ پو لس کم پڑ جاتی ہے ۔ اکثر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے لیے پولس بچتی ہی نہیں ہے ۔ ابھی کراچی میں ایک جلسہ تھا تو ستار ایدھی صاحب کا دفتر جس میں خیراتی مال تھا لٹ گیا، آس پاس کوئی تھا ہی نہیں سب اس میں مصروف تھے ۔اگرہو تابھی تو کیا کرتا وہ کہیں چھپک جاتا اور واردات کے بعد آتا ؟ اسی طرح ایک سرکاری مشیر کی منگنی میں پہلے ہوا کہ دہشت گرد اپنے ٹارگٹ تک پہونچ گئے اور پولس وی آئی پیز کی ڈیوٹی میں جو منگنی میں شرکت کرنے گئے تھے مصروف تھی۔
خیر یہ تو وہاں کے اپنے رواج ہیں جو کہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں ۔ مگر وہ آزاد دنیا جس نے ہم پر ترس کھاکر شہریت دی ہے ؟اگر ہم اس پر رحم نہ کھائیں تو کم ازکم خود پر ہی رحم کھالیں کہ ہمارے ملکوں کے بجٹ کا بڑا حصہ باہر کام کرنے والوںکے ذریعہ پورا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے نام ونہاد مسلمان ممالک اگر کوئی ان کی تا حیات بھی خدمت کرے تو شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ کہیں ہم اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ اِنہیں بھی بار دکھائی دینے لگیں اور یہ بوجھ اتارنے کی سوچیں۔ کیونکہ جب یہاں سکوریٹی بڑھانا پڑے گی تو خرچہ تو عوم کی جیب پر آئے گا۔ جیسے کہ ١١٩ کے بعد ہوائی اڈوں کی حفاظت بڑھانے پر اکثرکم فاصلوں پر ٹکٹ سے ٹیکس زیادہ ہوگیا ہے۔
جبکہ ہمارے لوگ جو بھی مسجد میں آجا ئے اور کہے کہ میں اسلام قبول کر نا چا ہتا ہوں تو بچھ جا تے ہیں ۔ کوئی تحقیق نہیں کرتے کہ اس کا کریکٹر کیا ہے۔ جبکہ بعض لوگوں نے اس کو پیشہ کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے۔ شہر شہر گھومتے ہیں اور بے حساب لوگ مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔ ہم ان کی شمولیت پر نعرے بھی لگا تے ہیں ،پتہ جب چلتا ہے جب کو ئی واردات ہوجاتی اور میڈیا اچھالتا ہے کہ فلاں حال ہی میں مسلمان ہوا تھا۔ اور فلاں مسجد سے اس کا تعلق تھا۔ہماری اس فراخدلی سے وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو انہیں غلط استعمال کر کے اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ۔
اب ان صاحب کو ہی دیکھئے جن کا اصل نام Michael Zehaf-Bibeau  ہےجس سے انکا مذہب ، قبیلہ دونوں ظاہر ہیں۔ مگر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ کبھی کچھ اور کبھی کچھ لگایا ہوا تھا ۔اس میں احمد کنورٹیڈ (نومسلم)بھی شامل تھا۔ جب کہ وہ لبین نزاد کنیڈین تھے اور ان کا تعلق کیوبک سے تھا۔ مانٹریال میں اچھے خاصا ًاوڈ جاب ً کر رہے تھے۔ جس میں یہاں سب سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ یعنی ٣٣۔٣٥ ڈالر فی گھنٹہ تک جبکہ کلرک ساڑھے آٹھ ڈالر پاتا ہے۔ان کو کہیں سے کوکین کے نشے کی لت لگ گئی ۔ نشے کی خرابی یہ ہے کہ جو نشئی کے من میں سمجھا ئے وہی اسے بھائے، اچھا خاصا روزگار چھوڑ کر ان کے دماغ میں یہ سمائی کہ تھوڑے دن میں جیل رہ آؤ ں تاکہ میری اصلاح ہو جا ئے ۔ وہاں سے چل کر وہ ہمارے صوبے برٹش کولمبیا میں آگئے ،اور جیل جانے کی کوششوں میں لگ گئے۔ بار بار پکڑے گئے عدالتوں میں پیش ہوئے سزایں ہوئیں ، خلاف معمول انہوں نے جیل سے باہر آنے پر انکار بھی کیا، مگر اہلکار ایک اچھے خاصے آدمی کو جیل کا اہل کیسے مان لیتے ،جو نشہ پی لیتا تھا تو ہوش وحواس کھو دیتا تھا۔ وہیں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا وہ سات سال پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔وہ جیل اس لیے جانا چاہتے ہیں کہ وہاں علاج ہو جائے اور وہ واپس آکر اچھے شہری بن جا ئیں ؟ ان کی اس انوکھی چاہت نے نہ جانے کتنی کہانیوں کو جنم دیا چونکہ معاملہ انتظامیہ اور عدلیہ کے سامنے ہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کونسی وجہ تھی جو ان کوآ ٹوا کے قومی قبرستان لے گئی اور پھر انہوں نے پارلیمنٹ کا رخ کیا اورمارے گئے۔ یہ بھی اخباری رپورٹ ہے کہ وہ اس پر شاکی تھے کہ ان کے ساتھ کنیڈا میں کوئی اچھا بر تاؤ نہیں ہوا۔ جبکہ مسلمان ملکوں میں بہت قدرہے اور انہوں نے پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دی تھی جوکہ ان کرمنل ریکارڈ کی وجہ سے ہنوزجاری نہیں ہوسکا تھا ۔ نہ جانے وہ اور کیا غضب ڈھاتے کے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ ٹویٹر پر کسی دہشت گردکو کچھ دنوں سے پڑھ رہے تھے۔ واللہ عالم
مگر ہماری ایک کنیڈین شہری ہونے کی حیثیت سے ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو اس قسم کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ،مسجدوں کو مسافر خانہ نہ بننے دیں کہ جو آئے وہ ٹھہر جا ئے ۔ اسلام کو بھی اسطرح نہ فروغ دیں کہ جو آجائے اس کوبغیر تحقیق کے مشرف بہ اسلام کر لیں۔ پہلے اچھی طرح تحقیقات کریں کہ وہ کیوں مسلمان ہونا چاہتا ہے اس سے پولیس کلیرنس منگوائیں پھر کچھ کریں۔ کیونکہ اب مسلمانوں کو تعداد بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جو ہیں ان میں اسلامی اقدار اور اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگ اصل تعلیمات کو سمجھیں اور جذباتی ہوکر دہشت گردوں کے اعلیٰ کار نہ بنیں اور نتیجہ کے طور پر اسلام کی بدنامی کاباعث ہوں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو بصیرت اور ہدایت دے (آمین)

Posted in Uncategorized | Tagged , ,

ایک درمندِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
میرے ایک نادیدہ کرم فرما ہیں جناب مشتاق احمد صاحب جن کا تعلق وینکور سے ہے ۔ میں ہر ایک کاجواب فو راً دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں مگر وطن عزیز کی جو حالت ہے اس کی وجہ سے میں ان مسائل میں الجھا رہا اور میں ان کا جواب نہیں دے سکا۔ سب سے پہلے تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ وہ میرا کالم سب سے پہلے پڑھتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے جو سوالا ت اٹھا ئے ہیں جو تمام عالم کو محیط کیے ہو ئے ہیں ،ان پر بات کر تا ہوں۔ تاکہ تمام دنیا میں میرے پڑھنے والے اس سے مستفیض ہو سکیں۔ اس خط میں انہوں نے میرے ایک کالم میں لکھی ہوئی میری ان دوباتوں سے اختلاف کیا ہے کہ “ ماں باپ کو خبر بھی نہیں ہوتی وہ ڈالر کمانے میں لگے رہتے ہیں اور بیٹے اعراق میں جاکر پھٹ پڑتے ہیں اورلڑکیاں مجاہدین کی بیویاں بننے کے لئے شام پہونچ جاتی ہیں تب کہیں جاکر ان کے والدین کو خبر ہوتی ہے “ انہوں نے اس کا ذمہ دار بھی مدرسوں کو بنا یا ہے ؟ یہ وہ حقائق ہیں جو خبروں میں پچھلے دنوں آپ سب کی نظروں سے گزر چکے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سب مدرسے ایسے نہیں ہیں، والدین بچوں کوداخل کرنے سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لیں اگر وہ بچوں کی طرف سے اپنی مصروفیت کی بنا پرلاپروائی برتیں گے تو اس قماش کے لوگ تاک میں تورہتے ہی ہیں ؟
اس کے بعد انہوں نے لندن کے کسی مولوی کا ذکر کیا ہے کہ ان کا کسی اخباری اشتہار میں نام دو لائن کاتھا ۔ بھائی بات یہ ہے کہ پہلے علم کی خوشبو خود بخود پھیلتی تھی اس لیئے علماءمیں لمبے القاب لگانے کا رواج ہی نہیں تھا۔ اور وہ علم کو کاروبار کے طور پر نہیں ، بلکہ اس حدیث کے تحت حاصل کر تے تھے کہ حضور (ص) نے فرم یا کہ “ وہ فلاح پاگیا جس کو اللہ نے علم دیا ور اس نے اللہ کے لیے لوگوں میں بانٹا “ یہ چونکہ خالص اللہ کے لیے ہوتا تھا لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی خوشبو دنیا میں پھیلا دیتا تھا۔ اب جو لوگ علم حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ تر ان کی اپنی ذات کے لیے ہو تا ہے؟  اس لیےاپنا تعارف بڑھا چڑھا کر پیش کر نا پڑتا ہے تاکہ لوگ مرعوب ہوں، ان میں وہ القابات اورڈگریاں بھی شامل ہو تی ہیں جو دنیا کے کسی ادارے یا یونیورسٹی سے نہیں ملتیں؟ ان میں سے ایک تو بہت ہی عام ہے جو میں دہرانا نہیں چاہتاکیونکہ بہت سے دوست ناراض ہو جائیں گے۔ جولوگ کسی اور مقصد کے لیے علم حاصل کر تے ہیں ان کی نگاہ سے وہ حدیثِ قدسی شاید نہیں گزری جس کا ایک جز یہ ہے کہ ً قیامت کے دن ایک عالم میرے سامنے پیش ہوگا وہ کہے گا کہ میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا میں جواب دونگا کے نہیں تو نے شہرت کے لیے علم حاصل کیا تھا وہ تجھ کو میں نے دنیا میں عطاکردی،یہاں تیرا کوئی حصہ نہیں ہے “آگے انجام بھی اسی میں بیان فرمادیا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس انجام سے محفوظ رکھے؟
پھرا نہوں نے ایک اور عالم کا ذکر کیا ہے کہ وہ جب کنیڈا آئے تو شرما ئے شرمائے اور دو پٹے سے منہ ڈھکے رہتے تھے۔ اب کنیڈا کی ہوا لگی تو اندھوں میں کانے راجہ بن گئے، گھونگھٹ اتر گیا؟ اور زبان بھی چل پڑی “ بھائی یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ کچھ علماءایک رومال ڈالے رہتے ہیں اگر یہ اتباع رسول (ص) میں ڈالتے ہیں۔ تو ثواب کے حقدار ہیں اور اگر اس لیے ڈالتے ہیں کہ لوگ دور سے پہچان لیں کے یہ عالم ہیں؟ تو پھر وہ نام و نمود کے لیئے ہو گااوراوپر والی حدیث کے زمرہ آئے گا۔ اب تو بہت ہی قیمتی توب، حبے جبوں کا رواج عام ہو گیا ہے جن کی قیمت حسبِ حیثیت اور مراتب ہزاروں سے لیکر لاکھوں تک ہو تی ہے۔ ایسے لباسوں کو حضور (ص)  اورآئمہ کرام (رض) سے کوئی نسبت نہیں ہے ۔ ایسے لباس پہلے صرف با دشاہ پہنا کر تے تھے پھر ان کے دیکھا دیکھی درباری علماءپہننے لگے ۔ بادشاہ زیادہ تر غاصب اور ظالم ہوتے تھے ، جبکہ درباری علماءان کے ہر اقدام پر مہرِ تصدیق ثبت کر نے والے ہوا کرتے تھے؟ ان کے برعکس پہلی قسم کے علماءکوڑے کھانا قبول کرتے تھے مگر وہ درباری بننے سے گریزاں رہتے تھے۔
آگے انہوں نے یہ لکھا ہے کہ “ ایک بیسمنٹ کوئی کرایہ پر دے، تو سارے محلے میں پوچھتاپھر تا ہے، مگر عالموں کی قابلیت چیک کرنے کاکوئی رواج نہیں ہے، جس نے چند انچ کی ڈارھی اور ٹخنے سے اوپر شلوار پہن لی اور چند سورتیں یاد کر لیں اس کو عالم مان لیتے ہیں ً پھر میرے کالم کا حوالہ دیا ہے کہ ً جبکہ آپ لکھتے ہیں کہ پہلے تمام عمر گزار دیتے تھے تب کہیں جاکر، ان کوعلمائے وقت فتویٰ دینے کی اجازت دیتے تھے اور وہ مفتی کہلانے کے مستحق ہو تے تھے اب مدینہ یونیورسٹی سے چند سال میں مفتی کورس کر نے کے بعد سند مل جاتی ہے “
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے لیئے مسلمان خود ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم جو مسجد بنانے اور اس کو چلانے کے لیے افراد چنتے ہیں وہ اسمبلیوں کی طرح ذات اور برادری اور خاندان کی بنیاد پر چنتے ہیں۔ علم دین اور تقوے کے بنیاد پر نہیں ، تو جب وہی علما ءکا بھی انتخاب کرتے ہیں جوکہ دین سے نا بلد ہوتے ہیں تو یہ ہی نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ یا پھر اپنی لا علمی کی بنا پر یہ ہوگا کہ علماءکی تعلیمی قابلیت بغیر سوچے سمجھے ایسی رکھدی جا تی ہے کہ اس معیار کا کوئی عالم ہی نہ ملے ۔ پھر بھی غلطی سے کوئی مل جا ئے تو اس کی وہ خواری لگتی ہے کہ اللہ پناہ دے ؟ اس پر عجیب عجیب الزام لگتے ہیں “مثلاً وہ بیوی کے ساتھ بازار میں گھوم رہا تھا، یا برف باری کی وجہ سے اس نے اجما ئے بین الصلا تین (دونمازیں ایک ساتھ کیوں پڑھادیں) برفانی طوفان میں تو نہیں اس لیے کے برف مدینہ منورہ میں نہیں گرتی ہے ، البتہ بارش اور طوفان میں حضور (ص) سے یہ ایسا کرنا ثابت بھی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وجہ سے کوئی اچھا عالم ٹک نہیں پاتا ، اور اکثر مساجد بغیر اماموں کے چل رہی ہیں۔ جو ہیں وہ اتنے محطاط رہتے ہیں کہ جہاں نکاح پڑھانے جاتے ہیں تو خواتین کو ہال سے باہر نکلوا دیتے ہیں، بغیر یہ خیال کیے ہوئے کہ ان میں کچھ معذور خواتین بھی ہیں انہیں میرا مشورہ ہے کہ تھوڑا سا انکا بھی خیال رکھیں۔ قر آنی حکم کے مطابق  وہ آپ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں پھر انہیں بھی تلقین کریں جو کہ آپکا کام ہے۔ اس مرتبہ عید الضحیٰ کے مسئلہ پر جو مفتیان عظام نے جرا ءت دکھائی وہ سرا ہے جانے کے قابل ہے۔ اس لیے کہ ہر اچھی بات کو سراہنا چاہیے تاکہ ان کی ہمت افزائی ہو؟
پھر انہوں نے پیروں کی خبر لی ہے کہ یہ یلغار کیے ہوئے ہیں۔ دیکھئے ! چینٹے وہیں پا ئے جاتے ہیں جہا ں چینی با افراط ہو؟ یورپ توہم پرستی میں ہم سے بہت آگے ہے اور یہاں ملتے بھی ڈالر یا پونڈ ہیں لہذا ہر ایک کی خواہش ہے کہ یہاں آئے؟ اس میں بھی دونوں طرح کے لوگ ہیں کچھ حضور (ص) کے اس ارشاد کے تحت گھر بار چھوڑ کر نکلتے ہیں کہ حضور (ص) نے تمام مسلم امہ کو دین کا پیغام پہونچانے کی ذمہ داری سونپی ہوئی ہے۔ پہچان ان کی بہت آسان ہے۔ اگر انکی نگاہ آپ کی جیب کی طرف ہے تو اسے کٹنے سے بچالیں؟ اور اگرآپ کے دل کی طرف ہے ،تو واقعی وہ پیر ہیں پھر ان کی اور بھی مز پہچان یہ ہے کہ “ ان کا کو ئی فعل خلاف سنت نہ ہو اور یہ کہ پیر جاہل بھی نہ ہو ، جاہل بھی پیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہیں نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تزکیہ نفس شروع سے ان ہی کے ذریعہ چلا آرہا ہے پہلے یہ دونوں شعبے ایک ہی جگہ تھے۔ چونکہ حضور (ص) واحد نبی ہیں جن کے ذمہ تزکیے نفس کرانا بھی تھا۔ جس کی وجہ سے پہلے اپنے اوپر پورا دین انہوں (ص) نے  نافذکرکے دکھایا اور ان کی صحبت میں رہ کر وہ نفوس قدسی (رض) اپنے تقوے میں اتنے بلند ہوگئے کہ دنیا نے ایسے لوگ نہ پہلے دیکھے نہ ان کے بعد ؟ آپ نے جو حضور (ص) کے خواب میں زیارت کے سلسلہ میں ڈاکر طاہر القادری صاحب کاذکر ان الفاظ کے “ ساتھ کیا ہے کہ دنیا میں چند لوگ ایسے ہیں جن کو حضور (ص) کی زیارت خواب میں نصیب ہوتی ہے“ بے شک ہیں! مگر چند نہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور جنہوں نے تصوف کے مدارج طے کیئے ہیں انہیں یہ راز معلوم ہے ،مگر اسے راز رکھنا پہلی شرط ہے سوائے ان کے جو کہ تبلیغ پر معمور تھے اور انہیں ظاہر کر نے کا حکم تھا۔ وہ بہت تھوڑے سے لوگ ہیں، جیسے حضرت حسن بصری ، حضرت جنید بغدادی، حضرت عبد القادر جیلانی اور اسی قسم کی شہرت کے حامل دوسرے بزرگ ہا ئے گرامی رحم اللہ تعالیٰ۔ اگرڈاکٹر طاہر القادری صاحب انہیں میں سے ہیں تو اور بات ہے ۔ میری کم علمی اورکم ما ئیگی اس سلسلہ میں کچھ کہنے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہر مسلمان کو منع کیا گیا کہ “جس کا تمہیں علم نہ ہواس پر بات مت کرو “
آخر میں انہوں نے بڑا اہم سوال کیا کہ لوگ ہر سال بطور ملازم حجاج کے قافلوں کے رہنما بن کر جاتے ہیں۔ اور واپس آکر الحاج کہلاتے ہیں ؟ کیا حضور (ص) خود کو حاجی کہلاتے تھے ،آپ کیوں نہیں کہلاتے ہیں؟
دیکھئے یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ بہت سے رضاکار بھی بغیر کسی معاوضے کے حجاج کرام کی خدمت کرنے جاتے ہیں اور ان میں زیادہ تر طالب علم ہو تے ہیں۔ جو لوگ تنخواہ پر جاتے ہیں وہ بھی غلط نہیں کہے جا سکتے کہ حج کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنا فضل تلاش کر نے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اور وقوف عرفات کو حضور (ص) نے حج فرمایا ہے چونکہ وہ مقام ِ عرفات تک پہونچ جا تے ہیں تو حاجی تو ہو ہی جاتے ہیں۔ اب یہ کہ وہ حج ِ مبرور سے بھی نوازے گئے یا نہیں؟ وہ ان کی واپسی کے بعد ان کے عمل سے پتہ چل سکتا ہے۔ اگر ان میں وہ برا ئیاں ابھی تک باقی ہیں جو پہلے تھیں تو وہ دریائے رحمت تک پہونچے تو ،مگر اس سے سیراب ہو ئے بغیرواپس آگئے۔ دوسرے وہ ہیں جو جاتے ہی حاجی کہلانے یا تجارت کرنے یا زکات بٹورنے کے لیے ہیں، ان کے مقاصد اور ہیں۔ لہذا وہ اس حدیث کے زمرے میں آتے ہیں جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں۔ آپ نے جو مجھے سراہا ہے اور میری صحت یابی کے لیے دعاکی اسکے لیے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کاشکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اپنے دین کی فہم دی اور وہ مجھ سے یہ کام لے رہا ہے اور اس کے بعد آپ کاشکریہ بھی ادا کر تا ہوں کہ مجھے بندوں کا بھی شکریہ ادا کرنے کاحکم ہے۔ جو آپ نے مجھے دینی سوالات کے لیے سوالوجواب کا سلسلہ شروع کرنے کا حکم دیا تو عرض ہے کہ میں تو ایک طالب علم ہوں خود علم کامتلاشی ہوں۔ چونکہ میں مفتی نہیں ہوں اس لیے اسکا مجاز بھی نہیں ہوں۔

Posted in Articles | Tagged , ,

حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔ شمس جیلا نی

قارئین  گرا می۔عید گزرگئی آپ رو ا یتی طو ر پر تو حضرت ابرا ہیم  (ع)کا قصہ پڑھتے  اور سنتےرہے مگر میں آج جو رخ آپ کے سا منے پیش کر نے جا رہا ہو ں وہ غور طلب اور ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔  وہ ہےایک مثا لی خا ندا ن ! جس میں بھائیوں بہنوں اور بچوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ کیونکہ یہا ں آپ کو عا ئلی زندگی کا وہ بہترین نمو نہ نظر آئے گا جو کہ نہ صرف تو کل علی اللہ کا مظہر ہے بلکہ فریقین میں ایک عظیم اعتما د کا مظہر بھی اور یاد رکھئے کہ اعتماد فقط سچائی سے حاصل ہوتا جبکہ جھوٹ اس کی ضد ہے جو باہمی اعتماد کھودیتا ہے ۔ اگر ہم ان کی پیروی کریں تو ہما ری زند گی نہ صرف اپنے لیے جنت بن جا ئے گی۔ بلکہ اورو ں کے لیے بھی نمو نہ ہو گی ۔آپ سب یہ تو جا نتے ہیں کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو متعد با ر امتحا نا ت سے گذر نا پڑا، پہلی مرتبہ جب، جبکہ انہو ں نے اپنے آبا واجداد کو جو کہ بت پر ستی میں مبتلا تھے بڑی خو بصو رتی سے سبق دیا، وہ قر آن کی زبا ن میں سنئے۔ پہلے ایک ستا رے کو دیکھا اور فر ما یا کہ یہ میرا رب ہے ۔ لیکن تھو ڑی دیر کے بعد وہ معدو م ہو گیا تو فر ما یا نہیں ،نہیں معدو م ہو جا نے والا میرا رب نہیں ہو سکتا، اس کے بعد چا ند کو دیکھا اور فر ما یا کہ یہ میرا رب ہے ۔ مگر چند گھڑیو ں کے بعد وہ بھی غا ئب ہو گیا تو فرما یا یہ بھی میرا رب نہیں ہو سکتا ،پھر سورج کو طلو ع ہو تے ہو ئے دیکھا اور فر ما یا یہ میرا رب ہے۔ کیو نکہ یہ سب سے بڑا ہے(اور زیادہ چمکدار بھی ) مگر جب وہ بھی غرو ب ہو گیا تو فر ما یا کہ تغیر پذیرکوئی چیز رب نہیں ہو سکتی ۔ لہذا دعا فرمائی اے میرے رب! تو ہی راستہ دکھا ۔ رب چونکہ حدیث قدسی میں فر ما تا ہے کہ جو میری طرف ایک قدم بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہو ں۔ رب نے را ستہ دکھا دیا اور انہو ں نے علی الا علان کہنا شرو ع کر دیا کہ تم گمرا ہ ہو، جنہیں خو د اپنے ہا تھ سے گڑ ھتے ہوا ور انہیں ہی خدا بنا کے پو جتے ہو تم سا ا حمق کو ن ہو گا ؟ با دشا ہ نے اس جر م میں حکم دیدیا کہ ان کو زندہ آگ میں جلا دیا جا ئے ۔ وہ آگ میں ڈا ل دیئے گئے۔ اس مر حلے پر بعض روا یتیں یہ بھی ہیں کہ جبر ئیل علیہ السلام نے امداد کی پیس کش کی مگر وہا ں توکل کا یہ عا لم تھا فر ما یا نہیں! میرا رب مجھے کا فی ہے ۔اور رب نے کفا یت فرما ئی کہ براہ راست حکم فرمایا “ اے آگ! تو ڈھنڈی ہو جا  “ اس نے تعمیل ِ حکم کی اور وہ اللہ کی حمد کرتے ہوئے آگ سے نکل آئے ۔
یہ ہے قر آن کی زبا ن میں مسلما ن کی تعریف۔ اس لیے قر آن نے انکی زبا ن سے ان کو پہلا مسلم کہلا یا ۔اب آپ پو چھیںگے کہ آگ کا کا م تو جلا نا تھا پھر اس نے جلایا کیو ں نہیں ؟تو ایک با ت جا ن لیجئے کہ تما م صفا ت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہیں، جو کہ اس نے با نٹ رکھی ہیں ۔جیسے کہ ہمیں خلیفہ بنا یا ہو ا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ہمیں نا فر ما نی کی بھی چھوٹ دی ہو ئی ہے جبکہ دوسری مخلوق کو نہیں ہے ۔ لہذا ہم سب سے زیا دہ نا فر ما نی کرتے ہیں جبکہ اور کر ہی نہیں سکتے۔ یہا ں سے وہ سر خرو نکلے، یہ پہلا مر حلہ تھا جو انہیں پیش آیا۔ اور پھر تو مر حلے پر مر حلے پیش آتے رہے اور وہ سر کرتے رہے حتیٰ کہ خو د اللہ تعا لی ٰ نے فر ما یا کہ “ ہم نے کئی با تو ں میں آز ما یا مگر وہ پو رے اترے  “اس سے بڑی سند کی اورکہا ں گنجا ئش ہے ۔ یہ ہے ایک مو من کی شا ن۔
ویسے توہم بھی خو د کو مومن کہتے ہیں مگر ہم اپنی طرف دیکھیں تو فورا ً اپنے پیر نظر آجا ئیں گے۔آئیے اب آئیے سب سے بڑے امتحا ن کی طرف ۔ انکی پہلے سے ایک بیو ی مو جو د ہیں جن کا نا م حضرت سا ئرہ ہے لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور خود حضرت ابرا ہیم  (ع)بھی عمر کے اس حصہ میں ہیں جہا ں اولاد پیدا کر نے کی صلا حیت ختم ہو جا تی ہے۔ دوسری بیو ی حضرت حا جرہ (رض) سے ایک بچہ ہے جس سے ان کا نا م چلنے کی واحد امید ہے ۔ لیکن حضرت سا ئرہ کے لیے دو نو ں ما ں اوربیٹے کا وجو د ناقا بلِ بر داشت ہو جاتاہے اور وہ ان سے جان چھڑا نا چاہتی ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہیں ۔ اب آگے اس مسبب الا سبا ب کا اپنا منصو بہ شروع ہو تا ہے۔ وہ دنیا کو ایک ایسی دا ئمی عبا دت گاہ دینا چا ہتا ہے جو ہر قسم کے تغیر سے محفو ظ ہو ۔ حضرت حا جرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک وطن بھی عطا کر نا چا ہتا ہے۔ تاکہ وہ خلیل اللہ (ع) پر اپنے انعامات کی تکمیل کردے، اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی نسل میں سے پیدا فر مائے اور پھر ایک عظیم امت کو حکم دے کہ وہ قیامت تک دور بھیجتے رہیں اور ان کی سنت کو بھی زندہ رکھے ۔ لہذا حکم ہو تا ہے کہ ما ں اور بیٹے کو وادی ِغیر مزرو عہ میں چھو ڑ آ ؤ ۔ وہ تعمیل ِ ارشاد با ری تعا لی ٰ میں بلا چو ں وچراں روانہ ہو جا تے ہیں اور انہیں و ہا ں چھو ڑ کر الٹے پا ؤ ں وا پس مڑ نے لگتے ہیں تو حضرت حا جرہ پیچھے پیچھے تشریف لا تی ہیں اور پو چھتی ہیں کہ ہمیں آپ یہا ں کیو ں چھو ڑے جا رہے ہیں؟ کیا مجھ سے کو ئی کو تا ہی ہو ئی ہے یا اللہ تعا لیٰ کا حکم ہے۔ وہ خا مو ش رہتے ہیں کہ یہ اللہ وا لو ں کا خا صاہے کہ وہ کبھی اللہ تعا لیٰ کے را ز ظا ہر نہیں کر تے ۔ جس طر ح ہم یہ نہیں پسند کرتے کہ ہما را کو ئی دو ست ہمارے راز دنیا بھر میں گا تا پھرے ،اسی طرح وہ بھی یہ پسند نہیں فر ماتا کہ اس کے راز ظا ہر کیئے جا ئیں ،جو کہ اس نے تھو ڑے بہت کسی کو بتا دیے ہیں۔ کیو نکہ اس کے راز تو کا ئینا ت کے رازہیں ان کا اظہار دنیا کی تبا ہی کا با عث بھی ہو سکتاہے۔ وہ جواب نہیں دیتے ہیں۔ حتیٰ کے وہ تین دفعہ پو چھتی ہیں اب وہ مجبو ر ہو جا تے ہیں فر ما تے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے ۔ یہ سن کر انہیں اطمینان ہو جاتا ہے کہ اگراللہ کا حکم ہے تو وہ مسبب الا سبا ب ہے۔ اور انہیں یہ بھی ترد دنہیں رہتاکہ میرے پاس کچھ کھا نے کو نہیں، بچے کا ساتھ ہے، پینے کے لیے پا نی بھی نہیں ہے اور نہ سر پر سا یہ نا م کی کو ئی چیز ہے ہم دونوں زندہ کیسے رہیں گے ؟وہ انکے پا ؤں کی بیڑی نہیں بنتی ہیں۔ حا لا نکہ وہ جا نتی ہیں کہ اب ان کے شو ہر کی منزل ان کی سو کن حضرت سا ئرہ ہیں۔ شک جنم لے سکتا تھا وسوسے جنم لے سکتے تھے ،مگر وہ ایک جلیل القدر پیغمبر (ع) کی بیو ی اور دو ہو نے وا لے جلیل القدر پیغمبرو ں (ع) کی ما ں تھیں لہذا اللہ پر پو را بھرو سہ تھا۔ یہ ان کے توکل کی مثا ل تھی ،اور میا ں بیو ی کے با ہمی اعتما د کا بہترین نمو نہ بھی ۔
خدا پر جو اعتماد کرتا ہے خدا اس کی ہمیشہ کفا لت کرتا ہے۔ یہا ں بھی کی ،وہ پا نی کی تلا ش میں دو ڑ رہی تھیں بچہ پیا س سے تڑپ رہا تھا ،جب وہ آخری چکر لگا کر واپس تشریف لا ئیں تو دیکھا کہ بچہ جہا ں ایڑ یا ں رگڑ رہا تھا وہا ں پا نی کا چشمہ جا ری ہو گیاہے۔ پا نی دیکھ کر پرندے آگئے اور پرندو ں کو دیکھ کر قا فلہ آگیا اور اس طرح دنیا کے قدیم شہر “ ُام القریٰ  “کی بنیاد پڑی جو کہ پہلے بکہ کہلا یا اور پھر کثرت ا ستما ل سے مکہ ہو گیا۔ جس کو قیا مت تک کے لیے عبا دت گا ہ بنناتھا ،جس میں کفار کا دا خلہ قیا مت تک کے لیے ممنو ع ہے ۔ جس کو ابرا ہہ کا حشر دیکھنے کے بعد شا ید ہی کو ئی طا لع آزما دو با رہ ڈھا نے کی جرا ءت کرسکے۔
اب آئیے ایک اور امتحا نکی طرف۔ اس مرتبہ ایک عرصہ کے بعد وہ پھر تشریف لا تے ہیں ۔ اور ایک با لکل ہی انہو نی با ت فر ما تے ہیں کہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں بیٹے  کی قر با نی دو ں ۔ایسی مثال تاریخ عا لم میں کبھی سنی ہی نہیں گئی کہ اللہ تعا لیٰ نے کسی بندے کی جا نی قر با نی ما نگے، ہو وہ تو حیات عطا کر نے والا ہے ۔ مگر انہو ں (ع) نے اس انہو نی بات پر بھی حکم کے آگے سر جھکا دیا ۔ پھر وہ بیٹے سے با ت کرتے ہیں۔ بیٹے کی سعا دتمندی ملا حظہ فر ما ئیے کہ وہ بھی کو ئی سوال نہیں کرتے ،فر ما تے ہیں کہ اگر آپ کوحکم ہوا ہے تو آپ کر گذریے انشا اللہ مجھے صا برین میں پا ئیں گے ۔آگے تو آپ سب ہی کو پتہ ہے کہ ما ں بچے کو تیا ر کر دیتی ہیں، بیٹاکہتا ہے با با آپ اپنی آنکھوں پر پٹی با ند ھ لیجیے تاکہ ذبح کرتے وقت ترس نہ آئے، مگراللہ تعا لیٰ کو جا ن نہیں لینا تھی ۔ صر ف نیت اور خلو ص دیکھنا تھا ۔ لہذا اس نے اس قر با نی کو ان کی ذریت کو نوازنے کے لیے ذبیحہ عظیم سے بدل دیا ۔ یو ں یہ پورے کا پورا کنبہ باپ بیٹے اور بیوی علیہ الصلاة واسلام اپنے توکل اور با ہمی تعا ون سے اسقدر عظیم ہو گیا کہ اللہ تعا لیٰ نے انکے ہر ،ہر فعل کو شعا ئر ِ حج میں دا خل کر دیا اور میا ں بیوی کے اس اعتماد کی کہا نی کوہمیشہ کے لیے قر آن میں بھی محفو ظ کر دیا۔ جس کی حفا ظت کی ذمہ داری خو د اس نے لے رکھی ہے ۔اگر اس میں سے کوئی ایک بھی تعاون  نہ کرتا تو کیا یہ عظیم کا میا بی ممکن ہو سکتی تھی؟ اس میں جو سبق ہے وہ آپ کے سامنے غور و فکر کے لیئے چھو ڑتا ہو ں۔

Posted in Articles | Tagged , ,

کام اب نہ کچھ کرنا ہوگا، دھرنا دھنا ہوگا

ہر بات پہ ابتودھرنا ہو گادھرنا ہوگا دھر نا ہو گا۔ لیکن اس کے برعکس جو اہلِ نظر ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ “ ظلم ہٹے گا جب ہی ہم سے ہم سب کو رب کی مرضی پر چلنا ہوگا“ عمران خان صاحب اور طاہر القادری صاحب سے بہت عرصہ سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں اور سب سمجھ رہے تھے کہ برے دن اب جانے والے ہیں؟ جبکہ ہم مذبذب تھے کیونکہ ہمیں شروع سے ہی بیل منڈھے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی۔ کیونکہ عمران خان کا قبلہ اور تھا اور قادری صاحب کا اور؟ ان کے مطالبے اور تھے اِن کے مطالبے اور ۔ مگر ہم نے یہ دیکھا کہ قادری صاحب نے اس حد تک لچک دکھا ئی کہ اپنے کیمپ میں رقص با ریش اپنے مریدوں کوکرنے کا حکم دیدیا ؟ اب آپ کہیں گے کہ یہ تہمت ہے اورحکم نامہ دکھا کر ثابت کرو۔ بھائی جواب یہ ہے کہ پیر طریقت کی مو جودگی میں مریدوں کا رقص منعقد ہو ئی ہی نہیں سکتا جب تک پیر حکم نہ دے۔ ان کایہ رقص خود اس بات کا ثبوت ہے کہ حکم دیا گیا ورنہ نورانی ہستیوں کو کو ٹی وی والے رقص کرتے ہو ئے کیسے دکھا سکتے تھے جب تک کہ مرید اپنے رقص سے ان کے دل نہ موہ لیتے۔ادھر بھی بچے یاجوان رقص کر رہے ہوتے تو ہم مان لیتے کہ وہ دوسرے کیمپ کے اپنے ہم سنوں سے متاثر ہو گئے ہونگے۔ کیونکہ سیانے کہہ گئے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ ہمارے جیسے سوچ رہے ہونگے کہ اب وہ کس کا دامن پکڑیں، کیونکہ جن (ص) کا دامن پکڑنے کا ہمیں حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا یہ فرماکر کہ “ تمہارے نبی کا اسوہ حسنہ تمہارے لیے کافی ہے “ وہ دامن تو مدت ہوئی ہم چھوڑ بیٹھے۔ جب سے بھٹک کر نئے نئے تجربے کر رہے ہیں ۔ جبکہ صورت ِ حال یہ ہے کہ اس کے بعد اب تک جس کا بھی دامن پکڑا، ناامید ی ہوئی، حالانکہ وقت کے دانشور اور مسلم رہنما یہ کہتے رہ گئے کہ جو خود عملی طور پرمسلمان نہیں ہیں ان کے پیچھے چل کر فلاح کیسے پا ؤگے؟
پچھلی صدی میں ہمارے ایک بزرگ نے یہ فتویٰ دیکر مزید راہیں کھول دیں کہ “ بڑی برائی سے چھوٹی برائی بہتر ہے“ نتیجہ یہ ہوا کہ اس طرح ہم سے وہ آئینہ بھی چھن گیا جو صدیوں سے ہمارے پاس چلا آرہا تھا کہ جو کہے کہ میرا اتباع کرو؟ تو پہلے یہ دیکھو کہ اس کا کوئی فعل اسوہ حسنہ (ص) کےخلاف تو نہیں ہے؟ بجا ئے اس پیمانے کہ اب یہ جاننا ہماری اپنی صواب دید پررہگیا کہ ہم خود دیکھیں کہ کون کم برا ہے؟ اور اس کا اتباع کریں لہذا آجکل لوگ دو دھڑوں میں بٹ گئے ہیں کہ ایک کے خیال میں وہ بہتر ہیں جو چھپ کر مجرے سنتے اور بیابانوں میں محافل رقص وسرود منعقد کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ اس کا حامی ہے کہ برائی بھی چھپ کر کر نا منافقت ہے بہتر وہ ہیں جو کھلم کھلا رقص کر رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ قوم مار پر مار کھا رہی، ہنوز تجربات جا ری ہیں اور ہم روز بروز اسوہ حسنہ (ص) سے دور ہو تے چلے جا رہے ہیں؟ جس طرح جو بوکر گندم نہیں حاصل کیے جاسکتے اسی طرح نبی کو چھوڑ کر اللہ کو راضی نہیں کیا جاسکتا؟
جو وقت اس وقت ہمارے اوپر پڑا ہے یہ اسی کانتیجہ ہے! وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ “ میں کسی کوسزا دیکر خوش نہیں ہوں بس تم میری بات مان لیا کرو “ وہ بات کیا ہے؟ ایمان لاکر احکامات پر عمل کر نا؟ اگر ہم اللہ کے پسندیدہ بندے بننا چاہتے ہیں تو نبی (ص) وہ نمونہ ہیں جو یہ فرماکر ہم کو قیامت تک کے لیے عطا کر دیا گیا ہے کہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے“ ان کی پوری زندگی ہما رے سامنے ہے ۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے ، رو ئے گڑ گڑائے کہ اے اللہ ! یہ مٹھی بندے جو تیرے نام لیوا ہیں اگر کام آگئے تو پھر تیرا کوئی نام لیوا نہیں بچے گا ۔اپنی نصرت سے ہمیں نوازدے “
قر آن گواہ ہے ،دعا قبول ہوئی اس نے نواز دیا ۔ وہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس سواری تک نہیں تھی ،اسلحہ نہیں تھا وہ ایک ہزار سے زائد بہترین مسلح فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری مثال میں نتیجہ ا س سے مختلف نکلا کہ انہیں مقدس ہستیوں (رض) میں سے کچھ تیر اندازوں نے نبی (رض) کے حکم کے خلاف کیا اور شکست کھائی، پھر اپنی غلطی پر نادم ہوئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی اور وہی شکست خوردہ فوج پھر جیت گئی۔ تیسری مثال غزوہ خندق کی ہے کہ دس ہزار سے زائد فوج مسلمانو ں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے آگئی اور اس نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ سابقہ تجربہ ان کے سامنے تھا اس مرتبہ انہوں نے پورا پورا خیال رکھا کسی نے بھی سر بہ مو حضور (ص) کے کسی حکم سے انحراف نہیں کیا ۔ ان کی ثابت قدمی سے متاثر ہو کر نہ صرف غنیم کو ہوا اور طوفان بھیج کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پسپا کردیا بلکہ مزید کرم یہ فرما یا کہ یہ خوش خبری عطا فرمادی کہ اب یہ تمہارے مقابل آئندہ اکٹھا ہو کر نہیں آسکیں گے ؟
حضور(ص) کے بعد بھی بہت سی مثالیں ہیں جہاں مسلمان قلیل تعداد میں ہو نے کے باوجود فتح یاب ہو ئے، مگر سب کے یہاں ایک بات مشترکہ تھی کہ وہ اسوہ حسنہ پرعامل ہوکرراتوں کو قرآن پڑھتے اور دعائیں مانگتے رہے؟ ایک لمحہ کے لیے بھی دل بہلانے کا انہوں نے اہتمام نہیں کیا سر تال پر قومی نغمے نہیں گا ئے ۔ یہ ہی وجہ ہماری مایوسی کی ہے کہ ہم نے نہ ہی قر آن میں اور نہ ہی تاریخ اسلام میں ڈسکو کلچر پر رحمت الٰہی کبھی نازل ہوتے دیکھی، پڑھی یا سنی؟
ہاں! ایسی حرکتوں پر پچھلی قوموں کے قصوں میں غضب نازل ہو تے ہوئے ضرور پڑھا اور اب دیکھ بھی رہے ہیں۔ چونکہ وہ اپنی سنت بدلتا نہیں ہے لہذا آپ ببول کے در خت سے انگور نہیں اگا سکتے؟ یہاں بھی ہوا اور طوفان ظالموں کو بھگانے کے لیے نہیں ،بلکہ مجاہدین کو اجاڑنے کے لیے متواتر آر ہے ہیں۔ جو ناراضگی کا اظہار ہے خوشی کا نہیں۔
اس پر بیجا ضد ہے کہ ہم نواز شریف کا استعفیٰ لیکر جا ئیں گے ؟ یہ عقل کا کم اورانا کا مسئلہ زیادہ معلوم ہوتا ہے ؟ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اگر وہ استعفیٰ دیدیں تو اس معاہدے کو نافذ کرنے کی ضمانت کون دے گا کیا پارلیمنٹ؟ پھر پارلیمنٹ کی ضمانت کون دے گا؟ وہ جن میں سے اکثر کے نزدیک عہدو پیمان سرے سے کوئی چیز ہی نہیں ہیں؟۔ اب رہا کوئی اور ادارہ اس کی ضمانت کون دیگا،  وہ جو نوے دن کے لیے آتا ہے اور نو سال کے بعد بمشکل جاتا ہے؟ اگر انا کی بنا پر یہ مہم ناکام ہوتی ہے تو کیا یہ دھرنے کے لیے لوگوں کو دوبارہ نکال کر اسلام آباد تک لا سکیں گے؟ بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں عمران خان بہت زیادہ مقبول ہو کر ابھریں گے؟ کیااس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ اور کوئی گم نام اللہ کا بندہ ان کے مقابلے میں آجا ئے اور وہ ڈسکو کے بجا ئے راتیں تلاوت میں گزارے، اس کی قیادت میں قوم بھی دین پر پہ عامل ہو جا ئے جس سے اللہ راضی ہو جائے پھر کیا ہوگا؟
دوسرے موجودہ حکومت کے وزیر اطلا عات بار بار یہ دھمکیاں بھی دے چکے ہیں کہ طاقت سے کام لیکر ہم ایک دن میں دھرنے ختم کر سکتے ہیں ؟ ان کی حکومت اپنی طاقت کا دو دفعہ مظاہرہ کر چکی بھی ہے؟ یہ ہی سہ بارہ کر گزرنا ان کے لیے مشکل نہیں ہے کیونکہ ان کے سامنے جو طرز ِ حکمرانی ہے وہ سعودی نژاد ہے، وہ دور گیا جب پاکستانی فوج انہیں جا کر بچا یا کر تی تھی۔ اب وہ ساری دنیا کو نچا رہے اور اپنے یہاں اب تک لاکھوں آدمیوں کو ٹھکانے لگا چکے ہیں ۔ لہذا یہاں بھی وہ اپنے مریدوں کی مدد کو آسکتے ہیں ؟ اللہ ہمارے عوام اور لیڈروں کو سوجھ بوجھ دے کہ وہ دور کا بھی دیکھ سکیں ؟ رہیں انسانی یا اخلاقی قدریں تو وہ وہاں کامیاب ہوتی ہیں جہاں خوفِ خدا ہو یا لوگ اپنی بدنامی سے ڈرتے ہوں؟
ہمیں خطرہ ہے کہ یہ دھرنے کا ہتھیار بھی کثرت استعمال کی وجہ سے اپنی قدر کھودے گا، اور ملک میں پہلے ہی کوئی کام نہیں ہوتا ہے آئندہ اور بھی نہیں ہوگا؟ ثبوت یہ ہے کہ پہیہ جام سے اب الطاف بھائی اس طرف مائل ہو گئے ہیں ۔ کیونکہ ان کے کھالوں کے کاروبار کو اس مرتبہ خاصہ نقصان ہو نے کا خطرہ ہے ۔ پہلے تو ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کے کارکن بکرے کو صرف کہہ د یتے تو وہ خود اپنی کھال اتار کر ان کے ڈپو پر پہونچا دیتا تھا ۔ صرف اسے پرچی دینا ہو تی تھی ،اب وہ بات نہیں ہے۔غالبا ً اسی کے توڑ کے لیے کو ئی تنظیمی میٹنگ ہو رہی ہو گی جس پر رینجرز نے چھاپہ مرکر ان کو للکارا ہے؟ جبکہ کراچی پہلے ہی ہڑتالوںکا مارا ہے، بھتوں کا مارا ہے اور اغوا برائے تاوان کا مارا ہے اب دھرنو ں کا مار ا بھی جلد ہی بن جا ئے گا۔ الطاف بھائی کا کہنا یہ ہے کہ دھرنوں میں مساوات کیوں نہیں برتی گئی ، اگر چھاپے مارنا تھے تو جماعت اسلامی کے اور پی پی پی کے دفاتر پر بھی ما رنے تھے؟ یہ مطالبہ بھی ان کے ہر مطالبہ کی طرح وزن رکھتا ہے ؟ہم نے اپنے ایک بہت پرانے سندھی دوست سے پوچھا کہ تم چار،چار بیو یوں کو کیسے رکھتے ہو، جبکہ آج کے دور میں اوروں سے ایک نہیں سنبھلتی ؟ کہنے لگے مساوات کے ذریعہ؟ “اگران میں سے کوئی ایک غلطی کرے تو میں سب کی پٹائی کر دیتا ہوں“ تاکہ ایک کو پٹتا دیکھ کر دوسری ہنسیں نہیں ۔ بعض ما ؤں کو بھی ہم نے دیکھا ہے کہ خطا ایک بچے کی ہوتی ہے اور وہ پٹائی سب کی کر تی ہیں۔ اور اس کو عدل جہانگیری بھی سمجھتی ہیں ؟

Posted in Articles | Tagged

واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔ شمس جیلانی

آج جو حصہ پاکستان کہلاتا ہے اور جو پہلے صرف مغربی پاکستان کہلا تا تھا ، شاید اپنی قسمت میں ہی اشرافیہ کی غلامی لکھا کر لا یا تھا۔ جہاں ابھی تک دنیا کا سب سے فرسودہ نظام چل رہا ہے اوراس کے نتیجہ میں اس پر آج تک وہ راج کر رہی ہے۔ اس سے پہلے جب مشرقی پاکستان اس میں شامل تھا یا وہ مغربی پاکستان میں شامل تھا۔ تو انہوں نے 1945 ءکے الیکشن میں ا شرافیہ سے جان چھڑالی تھی کیونکہ وہاں سے زیادہ تر درمیانہ طبقے اور نچلے طبقےکے لوگ اسمبلی میں بھیجے  گئےتھے۔ مگر ان کے ساتھ  پاکستان میں مرکز کی نہیں بنی او ر اس کے نتیجہ میں 1954 ء  کےصوبائی انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ کو عبرت ناک شکست دی اور تین سو دس کے ایوان میں صرف وہ چند سیٹیں حاصل کر سکی ۔     چونکہ وہ سرمایہ داری ،جاگیرداری اور زمینداری کے ڈسے ہو ئے تھے۔ لہذا ان کا منشور تھا کہ وہ کامیاب ہو کر یہ تمام برائیاں ختم کردیں گے جوکہ انہوں نے ختم کردیں اور ہندو اشرافیہ جو انگریز کی پالیسی کی وجہ سے مارواڑی بنیوں اور ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کی شکل میں صدیوں سے ان پر راج کر رہی تھی اس کو جڑ سے اوکھاڑ پھینکا ۔  پھراسی متحدہ محاذ کی ایک پارٹی عوامی لیگ کے سربراہ جناب حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیر اعظم بنے جبکہ ان کی حکومت میں مغربی پاکستان کی ریپبلکن پارٹی بھی شامل تھی جو کہ آج کی طرح اس وقت بھی اسی اشرافیہ کے آبا و اجداد پر مشتمل تھی؟
جب سہر وردی مرحوم نے لا ہور کے موچی دروازے میں ایک بہت جلسے عام سے خطاب کر تے ہو ئے فر مایا کہ یہاں کئی زمینداروں کے پاس پچھتر ہزار ایکڑ سے بھی زیادہ زمین ہے میں ان سے لیکر مزار عوں او ر ہاریوں میں تقسیم کر دونگا ؟تو ان کو صدر اسکندر مرزا نے ایوان صدر طلب کر کے پہلے ایوب خان کا چہرے کی زیارت کرائی اور ایوان صدر سے جب واپس جانے دیا جب استعفٰی لے لیا۔ وہ کہتے ہی رہ گئے کہ مجھے پارلیمنٹ کے سامنے جانے دیجئے۔اگر میں اعتماد ووٹ حاصل نہ کر سکا تو میں خود استعفٰی دیدونگا مگر ان کی ایک نہیں سنی گئی۔
جو جیسا کرتا ہے ویساہی بھرتا ہے ۔اس کے بعد اسکندر مرزا جو فوج کے بل بوتے پر صدر بنے ہو ئے تھے ۔اور فیروز خان نون جو سہروردی صاحب کی غیر مشروط سپورٹ پر وزیر اعظم تھے انہوں نے یکے بعد دیگرے دونوں کی چھٹی کر کے مارشل لاءلگا دیا ، عوام بہت خوش ہو ئے۔ چونکہ عوام کے کانوں میں یہ بات پڑ چکی تھی کہ زمینداری بھی ختم بھی ہو سکتی ہے۔ان  کےآنسو پوچھنے کے لیے انہوں نے ایک ہزار ایکڑ تک حد رکھی اور بڑے زمینداروں نے پٹواریوں وغیرہ سے ملکر جو اچھی زمین تھی وہ اپنے آئندہ پیدا ہو نے والے بچوں تک کے نام منتقل کردی؟ جو ناکارہ تھی وہ انہوں نے چھوڑدی وہ ایوب خان کی حکومت نے کاشتکاروں میں تقسیم کر دی؟
پھر ایوب خان کے ما رشل لاءکی کوکھ سے ہی بھٹو صاحب نے جنم لیا اور انہو نے طالع آزمائی شروع کی وہ انتہائی صلاحیتوں کے مالک اورذ ہین آدمی تھے۔ انہوں نے بھی عوام سے یہ ہی وعدہ کیا کہ میں زمین ہاریوں میں بانٹ دونگا۔ انہیں بے انتہا کامیابی  اپنے “ نعرے روٹی کپڑا اور مکان “ کی وجہ سے ہوئی اور وہ مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر گئے ۔ پاکستان کا نصف حصہ اس مرتبہ بھی مشرقی پاکستان کے نمائندوں کی شکل میں پھٹے حال لو گوں پر مشتمل تھا، جو عوامی لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو ئے تھے اور اس پوزیشن میں تھے کہ وہ کسی چھوٹے صوبے کو ساتھ لے لیتے تو حکومت بنا سکتے تھے؟ لہذا عافیت ان سے جان چھڑانے میں سمجھی گئی اور ان سے نجات حاصل کر کے بھٹوصاحب برسرِ اقتدار آگئے، انہوں نے بھی مزید آنسوپوچھنے کی کوشش کی، انہیوں نے زمینداری کی حد ایک ہزار ایکڑ یا 36 ہزار یونٹ سے گھٹاکر پانچسو ایکڑ (18000)یونٹ کر دی اور مالکان کو اجازت تھی کہ وہ اتنے عرصہ میں اپنے اہل ِ خاندان کے نام  زمین منتقل کر سکتے تھے۔ جو انہوں نے کر لی البتہ جو سرکاری زمینیں تھیں وہ ہاریوں کو نام منتقل ہو گئیں ان میں سے زیادہ انہیں زمینداروں کے بچو ں کے پاس گئیں ۔ کیونکہ بھٹو صاحب کا خاندان خود پچیس ہزار ایکڑکا مالک تھا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی اشرافیہ میں سے  ہی تھے۔
ا ب عمران خان آگے بڑھے ہیں اور انہوں نے بھی اپنی پارٹی میں سب تو نہیں مگر کچھ سیٹیں چھٹ بھیوں کو دیں ۔جو کہ زیادہ تر جیت نہیں سکے ؟ انہوں نے بے انصافی کے خلاف چلائی اور آج کل دھر نا دیئے بیٹھے اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ لوگوں کو اپنے حقوق کا ادراک ہو چکا ہے اورجاگ کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ جیسے کہ اسوقت سہروردی صاحب کی للکار سے ہو ئے تھے۔ جس سے غریب عوام کے نا چاہتے ہو ئے بھی حکمرانوں کو آنسو پوچھنے پڑے؟
جس کے روز بروز ثبوت سامنے آرہے ہیں کہ اشرافیہ کا رعب روز بروز ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کل ایک ٹی وی پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب گنا رہے تھے کہ ایک گدھا گاڑی والا سندھ کے چیف منسٹر کے شاہی جلوس میں اپنی لا علمی کی بنا پر حائل ہوا تو ان کی شاہی سپاہ نے دھنائی کر دی ؟ عوام اس کی حمایت میں نکل آئے اور وزیر اعلیٰ نے خود عوام کے سامنے پیش ہو کر معذرت فرمائی، مگر انہوں نے سید باشاہ کی بات بھی نہیں مانی؟ مجبورا“ انہیں راستہ بد لنا پڑا؟ دوسرا واقعہ وہ بھی بہت مشہور ہوا کہ جس کے پسِ پردہ ایک نو دولتیہ سنیٹر تھے پاکستان ایر لائن کا جہاز ان کے لیے لیٹ کیا جارہا تھا؟ اور ممبر قومی اسمبلی کو جو باہر ان کا انتظار کر رہے تھے یا وہ وی آئی پی لا ؤنج میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے لو گوں کے غضب کا شکار بنے لوگوں نے انہیں اندر داخل نہیں ہو نے دیا؟ تیسری بات انہوں نے یہ بتا ئی کہ شریف خاندان کے افراد جہاں جارہے وہاں لوگ  “گو ، گو  “کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ ایک جگہ تو ان میں سے ایک صاحب پر جو تا بھی پھینکا گیا مگر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کے وہ ان کو لگا یا نہیں؟ جوتا پھینک  کرمارنے کی تاریخ بہت پرانی ہے اس سے بڑوں بڑوں کی خاطر ہو ئی جس میں مراثی سے لیکر پاکستان کے سابق صدور ، وزیرائے اعظم اور سپر پاور کے صدر تک شامل ہیں؟ مگر اس میں نشانہ ہمیشہ خطا ہو جاتا ہے اور تارگیٹ زیادہ یہ کہتے سنا گیا کہ میرے لگا تو نہیں یا میرے آدمیں اس کے جواب میں جو جوتا مارنے والے کی درگت بنا ئی وہ آپ نے نہیں دیکھی ؟ گو کہ کہن ا ور جوتا مارنا علامتی چیزیں ہیں؟ جو کہنے سے یا پھینکنے سے غیرت مندوں اور صرف غیرتمندوں پر اثر کرتی ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف دو ایسے آدمی گزرے ہیں ایک  جوعوامی مطالبہ پر مستعفی ہو گئے ایک تھے چو دھری محمد علی جن کا یہ احسان اتار نے کے لیئے مہاجروں نے ان کے بنگلے پر جا کر مطالبہ کیا کہ استعفیٰ دیدو؟ کیونکہ انہو نے باقی ہندوستان کے مہاجروں کی چھوڑی ہو ئی جائیداد کے لیے ایک  قانون بنا یا اور ان کو بھی مہاجر تسلیم کیا؟ جبکہ ان سے پہلے والوں اور زیادہ بعد والوں نے صرف باتیں بنا ئیں اور وہ مقبول بھی رہے اور ہیں؟  مگر اس سے جوآجکل خائف ہیں انکو سوچنا چاہیئے کہ بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ چودھری محمد علی کہا ں سے لا ئیں گے؟دوسرے تھے ایوب خان  جو استعفٰی مانگنے نہیں مگرانہوں  نے غیرت دلانے پر صدارت چھوڑدی؟
اب میدان عمران خان کے ہاتھ ہے ۔ آئندہ کیا ہوگا کون جانتا ہے کہ سب کے لیئے جو الیکٹ ابیل ہیں وہ ان کی مجبوری ہیں؟اور جب وہ انہیں ساتھ لے لیتے ہیں تو وہ لیڈر بھی مجبور ہو تے رہے ہیں لیکن اب امید اس لیے بڑھ رہی ہے کہ خود اس طبقہ نے اپنے ہاتھوں خود کشی کی ہے ۔ تمام زمین سے ہاریوں کو بے دخل کر کے اس کو میکنایئزڈ فارمنگ میں منتقل کر دیا ہے اور مزارعے یا ہاری جو پہلے شہر کی طرف دیکھتے تک نہیں تھے اب رہتے شہروں میں ہیں ۔ فصل کی کٹائی وقت گاؤں میں مزدوری کرنے چلے جا تے ہیں جبکہ ان کے ووٹ دیہاتوں میں ہی درج ہیں۔ بچے پڑھ لکھ کر بیدار ہو چکے ہیں ؟ اگر عمران خان اپنے وعدے پورے کر سکے تو تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے جا وداں ہو جا ئے گا۔
فل الحال تو یہ ماننا پڑیگا کے انہوں نے عوام میں جرا ءت اوربیداری پیدا کردی ہے۔اور علامہ صاحب کے با ریش ساتھیو تک کو نا چنے پر مجبور کر دیا ہے؟ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں ان کو گروپ کو ناچتا دیکھتے ہو ئے تحریک ہو ئی ہے ۔ یا وہ بزرگ اس صوفیوں کے  طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ملا متیہ کہلاتا تھااور لوگوں میں اپنے خلاف نفرت اس لیے پیدا کر تھا کہ لوگ ان کی عبادت میں خلل نہ ڈالیں ؟ مستقل میں ان دونوں گروپوں کے ساتھ چلنے کے امکان بہت کم ہیں کہ طاہر القادری صاحب کے خلاف سارے سعودی نواز ہیں جو میدان  میں کود نے کے لیے پر تول رہے ہیں ۔اور سعودی عرب کو یہ فخر حاصل ہے کہ پاکستان کے تینوں بڑے عہدے اس کی جیب میں ہیں ۔ اور لاکھوں مدرسوں میں پڑ ھنے والے طالب علم یا طالبان جو نام بھی نام دیں مگر وہ  سب اس کے ہیں ۔   لہذا یہ آسان نہیں ہے  کیونکہ حکومت سارے سعودیوں کے آزمودہ حربے بھی استعمال کریگی؟

Posted in Articles | Tagged