ایک درمندِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
میرے ایک نادیدہ کرم فرما ہیں جناب مشتاق احمد صاحب جن کا تعلق وینکور سے ہے ۔ میں ہر ایک کاجواب فو راً دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں مگر وطن عزیز کی جو حالت ہے اس کی وجہ سے میں ان مسائل میں الجھا رہا اور میں ان کا جواب نہیں دے سکا۔ سب سے پہلے تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ وہ میرا کالم سب سے پہلے پڑھتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے جو سوالا ت اٹھا ئے ہیں جو تمام عالم کو محیط کیے ہو ئے ہیں ،ان پر بات کر تا ہوں۔ تاکہ تمام دنیا میں میرے پڑھنے والے اس سے مستفیض ہو سکیں۔ اس خط میں انہوں نے میرے ایک کالم میں لکھی ہوئی میری ان دوباتوں سے اختلاف کیا ہے کہ “ ماں باپ کو خبر بھی نہیں ہوتی وہ ڈالر کمانے میں لگے رہتے ہیں اور بیٹے اعراق میں جاکر پھٹ پڑتے ہیں اورلڑکیاں مجاہدین کی بیویاں بننے کے لئے شام پہونچ جاتی ہیں تب کہیں جاکر ان کے والدین کو خبر ہوتی ہے “ انہوں نے اس کا ذمہ دار بھی مدرسوں کو بنا یا ہے ؟ یہ وہ حقائق ہیں جو خبروں میں پچھلے دنوں آپ سب کی نظروں سے گزر چکے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سب مدرسے ایسے نہیں ہیں، والدین بچوں کوداخل کرنے سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لیں اگر وہ بچوں کی طرف سے اپنی مصروفیت کی بنا پرلاپروائی برتیں گے تو اس قماش کے لوگ تاک میں تورہتے ہی ہیں ؟
اس کے بعد انہوں نے لندن کے کسی مولوی کا ذکر کیا ہے کہ ان کا کسی اخباری اشتہار میں نام دو لائن کاتھا ۔ بھائی بات یہ ہے کہ پہلے علم کی خوشبو خود بخود پھیلتی تھی اس لیئے علماءمیں لمبے القاب لگانے کا رواج ہی نہیں تھا۔ اور وہ علم کو کاروبار کے طور پر نہیں ، بلکہ اس حدیث کے تحت حاصل کر تے تھے کہ حضور (ص) نے فرم یا کہ “ وہ فلاح پاگیا جس کو اللہ نے علم دیا ور اس نے اللہ کے لیے لوگوں میں بانٹا “ یہ چونکہ خالص اللہ کے لیے ہوتا تھا لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی خوشبو دنیا میں پھیلا دیتا تھا۔ اب جو لوگ علم حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ تر ان کی اپنی ذات کے لیے ہو تا ہے؟  اس لیےاپنا تعارف بڑھا چڑھا کر پیش کر نا پڑتا ہے تاکہ لوگ مرعوب ہوں، ان میں وہ القابات اورڈگریاں بھی شامل ہو تی ہیں جو دنیا کے کسی ادارے یا یونیورسٹی سے نہیں ملتیں؟ ان میں سے ایک تو بہت ہی عام ہے جو میں دہرانا نہیں چاہتاکیونکہ بہت سے دوست ناراض ہو جائیں گے۔ جولوگ کسی اور مقصد کے لیے علم حاصل کر تے ہیں ان کی نگاہ سے وہ حدیثِ قدسی شاید نہیں گزری جس کا ایک جز یہ ہے کہ ً قیامت کے دن ایک عالم میرے سامنے پیش ہوگا وہ کہے گا کہ میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا میں جواب دونگا کے نہیں تو نے شہرت کے لیے علم حاصل کیا تھا وہ تجھ کو میں نے دنیا میں عطاکردی،یہاں تیرا کوئی حصہ نہیں ہے “آگے انجام بھی اسی میں بیان فرمادیا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس انجام سے محفوظ رکھے؟
پھرا نہوں نے ایک اور عالم کا ذکر کیا ہے کہ وہ جب کنیڈا آئے تو شرما ئے شرمائے اور دو پٹے سے منہ ڈھکے رہتے تھے۔ اب کنیڈا کی ہوا لگی تو اندھوں میں کانے راجہ بن گئے، گھونگھٹ اتر گیا؟ اور زبان بھی چل پڑی “ بھائی یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ کچھ علماءایک رومال ڈالے رہتے ہیں اگر یہ اتباع رسول (ص) میں ڈالتے ہیں۔ تو ثواب کے حقدار ہیں اور اگر اس لیے ڈالتے ہیں کہ لوگ دور سے پہچان لیں کے یہ عالم ہیں؟ تو پھر وہ نام و نمود کے لیئے ہو گااوراوپر والی حدیث کے زمرہ آئے گا۔ اب تو بہت ہی قیمتی توب، حبے جبوں کا رواج عام ہو گیا ہے جن کی قیمت حسبِ حیثیت اور مراتب ہزاروں سے لیکر لاکھوں تک ہو تی ہے۔ ایسے لباسوں کو حضور (ص)  اورآئمہ کرام (رض) سے کوئی نسبت نہیں ہے ۔ ایسے لباس پہلے صرف با دشاہ پہنا کر تے تھے پھر ان کے دیکھا دیکھی درباری علماءپہننے لگے ۔ بادشاہ زیادہ تر غاصب اور ظالم ہوتے تھے ، جبکہ درباری علماءان کے ہر اقدام پر مہرِ تصدیق ثبت کر نے والے ہوا کرتے تھے؟ ان کے برعکس پہلی قسم کے علماءکوڑے کھانا قبول کرتے تھے مگر وہ درباری بننے سے گریزاں رہتے تھے۔
آگے انہوں نے یہ لکھا ہے کہ “ ایک بیسمنٹ کوئی کرایہ پر دے، تو سارے محلے میں پوچھتاپھر تا ہے، مگر عالموں کی قابلیت چیک کرنے کاکوئی رواج نہیں ہے، جس نے چند انچ کی ڈارھی اور ٹخنے سے اوپر شلوار پہن لی اور چند سورتیں یاد کر لیں اس کو عالم مان لیتے ہیں ً پھر میرے کالم کا حوالہ دیا ہے کہ ً جبکہ آپ لکھتے ہیں کہ پہلے تمام عمر گزار دیتے تھے تب کہیں جاکر، ان کوعلمائے وقت فتویٰ دینے کی اجازت دیتے تھے اور وہ مفتی کہلانے کے مستحق ہو تے تھے اب مدینہ یونیورسٹی سے چند سال میں مفتی کورس کر نے کے بعد سند مل جاتی ہے “
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے لیئے مسلمان خود ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم جو مسجد بنانے اور اس کو چلانے کے لیے افراد چنتے ہیں وہ اسمبلیوں کی طرح ذات اور برادری اور خاندان کی بنیاد پر چنتے ہیں۔ علم دین اور تقوے کے بنیاد پر نہیں ، تو جب وہی علما ءکا بھی انتخاب کرتے ہیں جوکہ دین سے نا بلد ہوتے ہیں تو یہ ہی نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ یا پھر اپنی لا علمی کی بنا پر یہ ہوگا کہ علماءکی تعلیمی قابلیت بغیر سوچے سمجھے ایسی رکھدی جا تی ہے کہ اس معیار کا کوئی عالم ہی نہ ملے ۔ پھر بھی غلطی سے کوئی مل جا ئے تو اس کی وہ خواری لگتی ہے کہ اللہ پناہ دے ؟ اس پر عجیب عجیب الزام لگتے ہیں “مثلاً وہ بیوی کے ساتھ بازار میں گھوم رہا تھا، یا برف باری کی وجہ سے اس نے اجما ئے بین الصلا تین (دونمازیں ایک ساتھ کیوں پڑھادیں) برفانی طوفان میں تو نہیں اس لیے کے برف مدینہ منورہ میں نہیں گرتی ہے ، البتہ بارش اور طوفان میں حضور (ص) سے یہ ایسا کرنا ثابت بھی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وجہ سے کوئی اچھا عالم ٹک نہیں پاتا ، اور اکثر مساجد بغیر اماموں کے چل رہی ہیں۔ جو ہیں وہ اتنے محطاط رہتے ہیں کہ جہاں نکاح پڑھانے جاتے ہیں تو خواتین کو ہال سے باہر نکلوا دیتے ہیں، بغیر یہ خیال کیے ہوئے کہ ان میں کچھ معذور خواتین بھی ہیں انہیں میرا مشورہ ہے کہ تھوڑا سا انکا بھی خیال رکھیں۔ قر آنی حکم کے مطابق  وہ آپ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں پھر انہیں بھی تلقین کریں جو کہ آپکا کام ہے۔ اس مرتبہ عید الضحیٰ کے مسئلہ پر جو مفتیان عظام نے جرا ءت دکھائی وہ سرا ہے جانے کے قابل ہے۔ اس لیے کہ ہر اچھی بات کو سراہنا چاہیے تاکہ ان کی ہمت افزائی ہو؟
پھر انہوں نے پیروں کی خبر لی ہے کہ یہ یلغار کیے ہوئے ہیں۔ دیکھئے ! چینٹے وہیں پا ئے جاتے ہیں جہا ں چینی با افراط ہو؟ یورپ توہم پرستی میں ہم سے بہت آگے ہے اور یہاں ملتے بھی ڈالر یا پونڈ ہیں لہذا ہر ایک کی خواہش ہے کہ یہاں آئے؟ اس میں بھی دونوں طرح کے لوگ ہیں کچھ حضور (ص) کے اس ارشاد کے تحت گھر بار چھوڑ کر نکلتے ہیں کہ حضور (ص) نے تمام مسلم امہ کو دین کا پیغام پہونچانے کی ذمہ داری سونپی ہوئی ہے۔ پہچان ان کی بہت آسان ہے۔ اگر انکی نگاہ آپ کی جیب کی طرف ہے تو اسے کٹنے سے بچالیں؟ اور اگرآپ کے دل کی طرف ہے ،تو واقعی وہ پیر ہیں پھر ان کی اور بھی مز پہچان یہ ہے کہ “ ان کا کو ئی فعل خلاف سنت نہ ہو اور یہ کہ پیر جاہل بھی نہ ہو ، جاہل بھی پیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہیں نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تزکیہ نفس شروع سے ان ہی کے ذریعہ چلا آرہا ہے پہلے یہ دونوں شعبے ایک ہی جگہ تھے۔ چونکہ حضور (ص) واحد نبی ہیں جن کے ذمہ تزکیے نفس کرانا بھی تھا۔ جس کی وجہ سے پہلے اپنے اوپر پورا دین انہوں (ص) نے  نافذکرکے دکھایا اور ان کی صحبت میں رہ کر وہ نفوس قدسی (رض) اپنے تقوے میں اتنے بلند ہوگئے کہ دنیا نے ایسے لوگ نہ پہلے دیکھے نہ ان کے بعد ؟ آپ نے جو حضور (ص) کے خواب میں زیارت کے سلسلہ میں ڈاکر طاہر القادری صاحب کاذکر ان الفاظ کے “ ساتھ کیا ہے کہ دنیا میں چند لوگ ایسے ہیں جن کو حضور (ص) کی زیارت خواب میں نصیب ہوتی ہے“ بے شک ہیں! مگر چند نہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور جنہوں نے تصوف کے مدارج طے کیئے ہیں انہیں یہ راز معلوم ہے ،مگر اسے راز رکھنا پہلی شرط ہے سوائے ان کے جو کہ تبلیغ پر معمور تھے اور انہیں ظاہر کر نے کا حکم تھا۔ وہ بہت تھوڑے سے لوگ ہیں، جیسے حضرت حسن بصری ، حضرت جنید بغدادی، حضرت عبد القادر جیلانی اور اسی قسم کی شہرت کے حامل دوسرے بزرگ ہا ئے گرامی رحم اللہ تعالیٰ۔ اگرڈاکٹر طاہر القادری صاحب انہیں میں سے ہیں تو اور بات ہے ۔ میری کم علمی اورکم ما ئیگی اس سلسلہ میں کچھ کہنے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہر مسلمان کو منع کیا گیا کہ “جس کا تمہیں علم نہ ہواس پر بات مت کرو “
آخر میں انہوں نے بڑا اہم سوال کیا کہ لوگ ہر سال بطور ملازم حجاج کے قافلوں کے رہنما بن کر جاتے ہیں۔ اور واپس آکر الحاج کہلاتے ہیں ؟ کیا حضور (ص) خود کو حاجی کہلاتے تھے ،آپ کیوں نہیں کہلاتے ہیں؟
دیکھئے یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ بہت سے رضاکار بھی بغیر کسی معاوضے کے حجاج کرام کی خدمت کرنے جاتے ہیں اور ان میں زیادہ تر طالب علم ہو تے ہیں۔ جو لوگ تنخواہ پر جاتے ہیں وہ بھی غلط نہیں کہے جا سکتے کہ حج کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنا فضل تلاش کر نے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اور وقوف عرفات کو حضور (ص) نے حج فرمایا ہے چونکہ وہ مقام ِ عرفات تک پہونچ جا تے ہیں تو حاجی تو ہو ہی جاتے ہیں۔ اب یہ کہ وہ حج ِ مبرور سے بھی نوازے گئے یا نہیں؟ وہ ان کی واپسی کے بعد ان کے عمل سے پتہ چل سکتا ہے۔ اگر ان میں وہ برا ئیاں ابھی تک باقی ہیں جو پہلے تھیں تو وہ دریائے رحمت تک پہونچے تو ،مگر اس سے سیراب ہو ئے بغیرواپس آگئے۔ دوسرے وہ ہیں جو جاتے ہی حاجی کہلانے یا تجارت کرنے یا زکات بٹورنے کے لیے ہیں، ان کے مقاصد اور ہیں۔ لہذا وہ اس حدیث کے زمرے میں آتے ہیں جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں۔ آپ نے جو مجھے سراہا ہے اور میری صحت یابی کے لیے دعاکی اسکے لیے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کاشکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اپنے دین کی فہم دی اور وہ مجھ سے یہ کام لے رہا ہے اور اس کے بعد آپ کاشکریہ بھی ادا کر تا ہوں کہ مجھے بندوں کا بھی شکریہ ادا کرنے کاحکم ہے۔ جو آپ نے مجھے دینی سوالات کے لیے سوالوجواب کا سلسلہ شروع کرنے کا حکم دیا تو عرض ہے کہ میں تو ایک طالب علم ہوں خود علم کامتلاشی ہوں۔ چونکہ میں مفتی نہیں ہوں اس لیے اسکا مجاز بھی نہیں ہوں۔

Posted in Articles | Tagged , ,

حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔ شمس جیلا نی

قارئین  گرا می۔عید گزرگئی آپ رو ا یتی طو ر پر تو حضرت ابرا ہیم  (ع)کا قصہ پڑھتے  اور سنتےرہے مگر میں آج جو رخ آپ کے سا منے پیش کر نے جا رہا ہو ں وہ غور طلب اور ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔  وہ ہےایک مثا لی خا ندا ن ! جس میں بھائیوں بہنوں اور بچوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ کیونکہ یہا ں آپ کو عا ئلی زندگی کا وہ بہترین نمو نہ نظر آئے گا جو کہ نہ صرف تو کل علی اللہ کا مظہر ہے بلکہ فریقین میں ایک عظیم اعتما د کا مظہر بھی اور یاد رکھئے کہ اعتماد فقط سچائی سے حاصل ہوتا جبکہ جھوٹ اس کی ضد ہے جو باہمی اعتماد کھودیتا ہے ۔ اگر ہم ان کی پیروی کریں تو ہما ری زند گی نہ صرف اپنے لیے جنت بن جا ئے گی۔ بلکہ اورو ں کے لیے بھی نمو نہ ہو گی ۔آپ سب یہ تو جا نتے ہیں کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو متعد با ر امتحا نا ت سے گذر نا پڑا، پہلی مرتبہ جب، جبکہ انہو ں نے اپنے آبا واجداد کو جو کہ بت پر ستی میں مبتلا تھے بڑی خو بصو رتی سے سبق دیا، وہ قر آن کی زبا ن میں سنئے۔ پہلے ایک ستا رے کو دیکھا اور فر ما یا کہ یہ میرا رب ہے ۔ لیکن تھو ڑی دیر کے بعد وہ معدو م ہو گیا تو فر ما یا نہیں ،نہیں معدو م ہو جا نے والا میرا رب نہیں ہو سکتا، اس کے بعد چا ند کو دیکھا اور فر ما یا کہ یہ میرا رب ہے ۔ مگر چند گھڑیو ں کے بعد وہ بھی غا ئب ہو گیا تو فرما یا یہ بھی میرا رب نہیں ہو سکتا ،پھر سورج کو طلو ع ہو تے ہو ئے دیکھا اور فر ما یا یہ میرا رب ہے۔ کیو نکہ یہ سب سے بڑا ہے(اور زیادہ چمکدار بھی ) مگر جب وہ بھی غرو ب ہو گیا تو فر ما یا کہ تغیر پذیرکوئی چیز رب نہیں ہو سکتی ۔ لہذا دعا فرمائی اے میرے رب! تو ہی راستہ دکھا ۔ رب چونکہ حدیث قدسی میں فر ما تا ہے کہ جو میری طرف ایک قدم بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہو ں۔ رب نے را ستہ دکھا دیا اور انہو ں نے علی الا علان کہنا شرو ع کر دیا کہ تم گمرا ہ ہو، جنہیں خو د اپنے ہا تھ سے گڑ ھتے ہوا ور انہیں ہی خدا بنا کے پو جتے ہو تم سا ا حمق کو ن ہو گا ؟ با دشا ہ نے اس جر م میں حکم دیدیا کہ ان کو زندہ آگ میں جلا دیا جا ئے ۔ وہ آگ میں ڈا ل دیئے گئے۔ اس مر حلے پر بعض روا یتیں یہ بھی ہیں کہ جبر ئیل علیہ السلام نے امداد کی پیس کش کی مگر وہا ں توکل کا یہ عا لم تھا فر ما یا نہیں! میرا رب مجھے کا فی ہے ۔اور رب نے کفا یت فرما ئی کہ براہ راست حکم فرمایا “ اے آگ! تو ڈھنڈی ہو جا  “ اس نے تعمیل ِ حکم کی اور وہ اللہ کی حمد کرتے ہوئے آگ سے نکل آئے ۔
یہ ہے قر آن کی زبا ن میں مسلما ن کی تعریف۔ اس لیے قر آن نے انکی زبا ن سے ان کو پہلا مسلم کہلا یا ۔اب آپ پو چھیںگے کہ آگ کا کا م تو جلا نا تھا پھر اس نے جلایا کیو ں نہیں ؟تو ایک با ت جا ن لیجئے کہ تما م صفا ت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہیں، جو کہ اس نے با نٹ رکھی ہیں ۔جیسے کہ ہمیں خلیفہ بنا یا ہو ا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ہمیں نا فر ما نی کی بھی چھوٹ دی ہو ئی ہے جبکہ دوسری مخلوق کو نہیں ہے ۔ لہذا ہم سب سے زیا دہ نا فر ما نی کرتے ہیں جبکہ اور کر ہی نہیں سکتے۔ یہا ں سے وہ سر خرو نکلے، یہ پہلا مر حلہ تھا جو انہیں پیش آیا۔ اور پھر تو مر حلے پر مر حلے پیش آتے رہے اور وہ سر کرتے رہے حتیٰ کہ خو د اللہ تعا لی ٰ نے فر ما یا کہ “ ہم نے کئی با تو ں میں آز ما یا مگر وہ پو رے اترے  “اس سے بڑی سند کی اورکہا ں گنجا ئش ہے ۔ یہ ہے ایک مو من کی شا ن۔
ویسے توہم بھی خو د کو مومن کہتے ہیں مگر ہم اپنی طرف دیکھیں تو فورا ً اپنے پیر نظر آجا ئیں گے۔آئیے اب آئیے سب سے بڑے امتحا ن کی طرف ۔ انکی پہلے سے ایک بیو ی مو جو د ہیں جن کا نا م حضرت سا ئرہ ہے لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور خود حضرت ابرا ہیم  (ع)بھی عمر کے اس حصہ میں ہیں جہا ں اولاد پیدا کر نے کی صلا حیت ختم ہو جا تی ہے۔ دوسری بیو ی حضرت حا جرہ (رض) سے ایک بچہ ہے جس سے ان کا نا م چلنے کی واحد امید ہے ۔ لیکن حضرت سا ئرہ کے لیے دو نو ں ما ں اوربیٹے کا وجو د ناقا بلِ بر داشت ہو جاتاہے اور وہ ان سے جان چھڑا نا چاہتی ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہیں ۔ اب آگے اس مسبب الا سبا ب کا اپنا منصو بہ شروع ہو تا ہے۔ وہ دنیا کو ایک ایسی دا ئمی عبا دت گاہ دینا چا ہتا ہے جو ہر قسم کے تغیر سے محفو ظ ہو ۔ حضرت حا جرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک وطن بھی عطا کر نا چا ہتا ہے۔ تاکہ وہ خلیل اللہ (ع) پر اپنے انعامات کی تکمیل کردے، اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی نسل میں سے پیدا فر مائے اور پھر ایک عظیم امت کو حکم دے کہ وہ قیامت تک دور بھیجتے رہیں اور ان کی سنت کو بھی زندہ رکھے ۔ لہذا حکم ہو تا ہے کہ ما ں اور بیٹے کو وادی ِغیر مزرو عہ میں چھو ڑ آ ؤ ۔ وہ تعمیل ِ ارشاد با ری تعا لی ٰ میں بلا چو ں وچراں روانہ ہو جا تے ہیں اور انہیں و ہا ں چھو ڑ کر الٹے پا ؤ ں وا پس مڑ نے لگتے ہیں تو حضرت حا جرہ پیچھے پیچھے تشریف لا تی ہیں اور پو چھتی ہیں کہ ہمیں آپ یہا ں کیو ں چھو ڑے جا رہے ہیں؟ کیا مجھ سے کو ئی کو تا ہی ہو ئی ہے یا اللہ تعا لیٰ کا حکم ہے۔ وہ خا مو ش رہتے ہیں کہ یہ اللہ وا لو ں کا خا صاہے کہ وہ کبھی اللہ تعا لیٰ کے را ز ظا ہر نہیں کر تے ۔ جس طر ح ہم یہ نہیں پسند کرتے کہ ہما را کو ئی دو ست ہمارے راز دنیا بھر میں گا تا پھرے ،اسی طرح وہ بھی یہ پسند نہیں فر ماتا کہ اس کے راز ظا ہر کیئے جا ئیں ،جو کہ اس نے تھو ڑے بہت کسی کو بتا دیے ہیں۔ کیو نکہ اس کے راز تو کا ئینا ت کے رازہیں ان کا اظہار دنیا کی تبا ہی کا با عث بھی ہو سکتاہے۔ وہ جواب نہیں دیتے ہیں۔ حتیٰ کے وہ تین دفعہ پو چھتی ہیں اب وہ مجبو ر ہو جا تے ہیں فر ما تے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے ۔ یہ سن کر انہیں اطمینان ہو جاتا ہے کہ اگراللہ کا حکم ہے تو وہ مسبب الا سبا ب ہے۔ اور انہیں یہ بھی ترد دنہیں رہتاکہ میرے پاس کچھ کھا نے کو نہیں، بچے کا ساتھ ہے، پینے کے لیے پا نی بھی نہیں ہے اور نہ سر پر سا یہ نا م کی کو ئی چیز ہے ہم دونوں زندہ کیسے رہیں گے ؟وہ انکے پا ؤں کی بیڑی نہیں بنتی ہیں۔ حا لا نکہ وہ جا نتی ہیں کہ اب ان کے شو ہر کی منزل ان کی سو کن حضرت سا ئرہ ہیں۔ شک جنم لے سکتا تھا وسوسے جنم لے سکتے تھے ،مگر وہ ایک جلیل القدر پیغمبر (ع) کی بیو ی اور دو ہو نے وا لے جلیل القدر پیغمبرو ں (ع) کی ما ں تھیں لہذا اللہ پر پو را بھرو سہ تھا۔ یہ ان کے توکل کی مثا ل تھی ،اور میا ں بیو ی کے با ہمی اعتما د کا بہترین نمو نہ بھی ۔
خدا پر جو اعتماد کرتا ہے خدا اس کی ہمیشہ کفا لت کرتا ہے۔ یہا ں بھی کی ،وہ پا نی کی تلا ش میں دو ڑ رہی تھیں بچہ پیا س سے تڑپ رہا تھا ،جب وہ آخری چکر لگا کر واپس تشریف لا ئیں تو دیکھا کہ بچہ جہا ں ایڑ یا ں رگڑ رہا تھا وہا ں پا نی کا چشمہ جا ری ہو گیاہے۔ پا نی دیکھ کر پرندے آگئے اور پرندو ں کو دیکھ کر قا فلہ آگیا اور اس طرح دنیا کے قدیم شہر “ ُام القریٰ  “کی بنیاد پڑی جو کہ پہلے بکہ کہلا یا اور پھر کثرت ا ستما ل سے مکہ ہو گیا۔ جس کو قیا مت تک کے لیے عبا دت گا ہ بنناتھا ،جس میں کفار کا دا خلہ قیا مت تک کے لیے ممنو ع ہے ۔ جس کو ابرا ہہ کا حشر دیکھنے کے بعد شا ید ہی کو ئی طا لع آزما دو با رہ ڈھا نے کی جرا ءت کرسکے۔
اب آئیے ایک اور امتحا نکی طرف۔ اس مرتبہ ایک عرصہ کے بعد وہ پھر تشریف لا تے ہیں ۔ اور ایک با لکل ہی انہو نی با ت فر ما تے ہیں کہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں بیٹے  کی قر با نی دو ں ۔ایسی مثال تاریخ عا لم میں کبھی سنی ہی نہیں گئی کہ اللہ تعا لیٰ نے کسی بندے کی جا نی قر با نی ما نگے، ہو وہ تو حیات عطا کر نے والا ہے ۔ مگر انہو ں (ع) نے اس انہو نی بات پر بھی حکم کے آگے سر جھکا دیا ۔ پھر وہ بیٹے سے با ت کرتے ہیں۔ بیٹے کی سعا دتمندی ملا حظہ فر ما ئیے کہ وہ بھی کو ئی سوال نہیں کرتے ،فر ما تے ہیں کہ اگر آپ کوحکم ہوا ہے تو آپ کر گذریے انشا اللہ مجھے صا برین میں پا ئیں گے ۔آگے تو آپ سب ہی کو پتہ ہے کہ ما ں بچے کو تیا ر کر دیتی ہیں، بیٹاکہتا ہے با با آپ اپنی آنکھوں پر پٹی با ند ھ لیجیے تاکہ ذبح کرتے وقت ترس نہ آئے، مگراللہ تعا لیٰ کو جا ن نہیں لینا تھی ۔ صر ف نیت اور خلو ص دیکھنا تھا ۔ لہذا اس نے اس قر با نی کو ان کی ذریت کو نوازنے کے لیے ذبیحہ عظیم سے بدل دیا ۔ یو ں یہ پورے کا پورا کنبہ باپ بیٹے اور بیوی علیہ الصلاة واسلام اپنے توکل اور با ہمی تعا ون سے اسقدر عظیم ہو گیا کہ اللہ تعا لیٰ نے انکے ہر ،ہر فعل کو شعا ئر ِ حج میں دا خل کر دیا اور میا ں بیوی کے اس اعتماد کی کہا نی کوہمیشہ کے لیے قر آن میں بھی محفو ظ کر دیا۔ جس کی حفا ظت کی ذمہ داری خو د اس نے لے رکھی ہے ۔اگر اس میں سے کوئی ایک بھی تعاون  نہ کرتا تو کیا یہ عظیم کا میا بی ممکن ہو سکتی تھی؟ اس میں جو سبق ہے وہ آپ کے سامنے غور و فکر کے لیئے چھو ڑتا ہو ں۔

Posted in Articles | Tagged , ,

کام اب نہ کچھ کرنا ہوگا، دھرنا دھنا ہوگا

ہر بات پہ ابتودھرنا ہو گادھرنا ہوگا دھر نا ہو گا۔ لیکن اس کے برعکس جو اہلِ نظر ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ “ ظلم ہٹے گا جب ہی ہم سے ہم سب کو رب کی مرضی پر چلنا ہوگا“ عمران خان صاحب اور طاہر القادری صاحب سے بہت عرصہ سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں اور سب سمجھ رہے تھے کہ برے دن اب جانے والے ہیں؟ جبکہ ہم مذبذب تھے کیونکہ ہمیں شروع سے ہی بیل منڈھے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی۔ کیونکہ عمران خان کا قبلہ اور تھا اور قادری صاحب کا اور؟ ان کے مطالبے اور تھے اِن کے مطالبے اور ۔ مگر ہم نے یہ دیکھا کہ قادری صاحب نے اس حد تک لچک دکھا ئی کہ اپنے کیمپ میں رقص با ریش اپنے مریدوں کوکرنے کا حکم دیدیا ؟ اب آپ کہیں گے کہ یہ تہمت ہے اورحکم نامہ دکھا کر ثابت کرو۔ بھائی جواب یہ ہے کہ پیر طریقت کی مو جودگی میں مریدوں کا رقص منعقد ہو ئی ہی نہیں سکتا جب تک پیر حکم نہ دے۔ ان کایہ رقص خود اس بات کا ثبوت ہے کہ حکم دیا گیا ورنہ نورانی ہستیوں کو کو ٹی وی والے رقص کرتے ہو ئے کیسے دکھا سکتے تھے جب تک کہ مرید اپنے رقص سے ان کے دل نہ موہ لیتے۔ادھر بھی بچے یاجوان رقص کر رہے ہوتے تو ہم مان لیتے کہ وہ دوسرے کیمپ کے اپنے ہم سنوں سے متاثر ہو گئے ہونگے۔ کیونکہ سیانے کہہ گئے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ ہمارے جیسے سوچ رہے ہونگے کہ اب وہ کس کا دامن پکڑیں، کیونکہ جن (ص) کا دامن پکڑنے کا ہمیں حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا یہ فرماکر کہ “ تمہارے نبی کا اسوہ حسنہ تمہارے لیے کافی ہے “ وہ دامن تو مدت ہوئی ہم چھوڑ بیٹھے۔ جب سے بھٹک کر نئے نئے تجربے کر رہے ہیں ۔ جبکہ صورت ِ حال یہ ہے کہ اس کے بعد اب تک جس کا بھی دامن پکڑا، ناامید ی ہوئی، حالانکہ وقت کے دانشور اور مسلم رہنما یہ کہتے رہ گئے کہ جو خود عملی طور پرمسلمان نہیں ہیں ان کے پیچھے چل کر فلاح کیسے پا ؤگے؟
پچھلی صدی میں ہمارے ایک بزرگ نے یہ فتویٰ دیکر مزید راہیں کھول دیں کہ “ بڑی برائی سے چھوٹی برائی بہتر ہے“ نتیجہ یہ ہوا کہ اس طرح ہم سے وہ آئینہ بھی چھن گیا جو صدیوں سے ہمارے پاس چلا آرہا تھا کہ جو کہے کہ میرا اتباع کرو؟ تو پہلے یہ دیکھو کہ اس کا کوئی فعل اسوہ حسنہ (ص) کےخلاف تو نہیں ہے؟ بجا ئے اس پیمانے کہ اب یہ جاننا ہماری اپنی صواب دید پررہگیا کہ ہم خود دیکھیں کہ کون کم برا ہے؟ اور اس کا اتباع کریں لہذا آجکل لوگ دو دھڑوں میں بٹ گئے ہیں کہ ایک کے خیال میں وہ بہتر ہیں جو چھپ کر مجرے سنتے اور بیابانوں میں محافل رقص وسرود منعقد کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ اس کا حامی ہے کہ برائی بھی چھپ کر کر نا منافقت ہے بہتر وہ ہیں جو کھلم کھلا رقص کر رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ قوم مار پر مار کھا رہی، ہنوز تجربات جا ری ہیں اور ہم روز بروز اسوہ حسنہ (ص) سے دور ہو تے چلے جا رہے ہیں؟ جس طرح جو بوکر گندم نہیں حاصل کیے جاسکتے اسی طرح نبی کو چھوڑ کر اللہ کو راضی نہیں کیا جاسکتا؟
جو وقت اس وقت ہمارے اوپر پڑا ہے یہ اسی کانتیجہ ہے! وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ “ میں کسی کوسزا دیکر خوش نہیں ہوں بس تم میری بات مان لیا کرو “ وہ بات کیا ہے؟ ایمان لاکر احکامات پر عمل کر نا؟ اگر ہم اللہ کے پسندیدہ بندے بننا چاہتے ہیں تو نبی (ص) وہ نمونہ ہیں جو یہ فرماکر ہم کو قیامت تک کے لیے عطا کر دیا گیا ہے کہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے“ ان کی پوری زندگی ہما رے سامنے ہے ۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے ، رو ئے گڑ گڑائے کہ اے اللہ ! یہ مٹھی بندے جو تیرے نام لیوا ہیں اگر کام آگئے تو پھر تیرا کوئی نام لیوا نہیں بچے گا ۔اپنی نصرت سے ہمیں نوازدے “
قر آن گواہ ہے ،دعا قبول ہوئی اس نے نواز دیا ۔ وہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس سواری تک نہیں تھی ،اسلحہ نہیں تھا وہ ایک ہزار سے زائد بہترین مسلح فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری مثال میں نتیجہ ا س سے مختلف نکلا کہ انہیں مقدس ہستیوں (رض) میں سے کچھ تیر اندازوں نے نبی (رض) کے حکم کے خلاف کیا اور شکست کھائی، پھر اپنی غلطی پر نادم ہوئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی اور وہی شکست خوردہ فوج پھر جیت گئی۔ تیسری مثال غزوہ خندق کی ہے کہ دس ہزار سے زائد فوج مسلمانو ں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے آگئی اور اس نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ سابقہ تجربہ ان کے سامنے تھا اس مرتبہ انہوں نے پورا پورا خیال رکھا کسی نے بھی سر بہ مو حضور (ص) کے کسی حکم سے انحراف نہیں کیا ۔ ان کی ثابت قدمی سے متاثر ہو کر نہ صرف غنیم کو ہوا اور طوفان بھیج کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پسپا کردیا بلکہ مزید کرم یہ فرما یا کہ یہ خوش خبری عطا فرمادی کہ اب یہ تمہارے مقابل آئندہ اکٹھا ہو کر نہیں آسکیں گے ؟
حضور(ص) کے بعد بھی بہت سی مثالیں ہیں جہاں مسلمان قلیل تعداد میں ہو نے کے باوجود فتح یاب ہو ئے، مگر سب کے یہاں ایک بات مشترکہ تھی کہ وہ اسوہ حسنہ پرعامل ہوکرراتوں کو قرآن پڑھتے اور دعائیں مانگتے رہے؟ ایک لمحہ کے لیے بھی دل بہلانے کا انہوں نے اہتمام نہیں کیا سر تال پر قومی نغمے نہیں گا ئے ۔ یہ ہی وجہ ہماری مایوسی کی ہے کہ ہم نے نہ ہی قر آن میں اور نہ ہی تاریخ اسلام میں ڈسکو کلچر پر رحمت الٰہی کبھی نازل ہوتے دیکھی، پڑھی یا سنی؟
ہاں! ایسی حرکتوں پر پچھلی قوموں کے قصوں میں غضب نازل ہو تے ہوئے ضرور پڑھا اور اب دیکھ بھی رہے ہیں۔ چونکہ وہ اپنی سنت بدلتا نہیں ہے لہذا آپ ببول کے در خت سے انگور نہیں اگا سکتے؟ یہاں بھی ہوا اور طوفان ظالموں کو بھگانے کے لیے نہیں ،بلکہ مجاہدین کو اجاڑنے کے لیے متواتر آر ہے ہیں۔ جو ناراضگی کا اظہار ہے خوشی کا نہیں۔
اس پر بیجا ضد ہے کہ ہم نواز شریف کا استعفیٰ لیکر جا ئیں گے ؟ یہ عقل کا کم اورانا کا مسئلہ زیادہ معلوم ہوتا ہے ؟ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اگر وہ استعفیٰ دیدیں تو اس معاہدے کو نافذ کرنے کی ضمانت کون دے گا کیا پارلیمنٹ؟ پھر پارلیمنٹ کی ضمانت کون دے گا؟ وہ جن میں سے اکثر کے نزدیک عہدو پیمان سرے سے کوئی چیز ہی نہیں ہیں؟۔ اب رہا کوئی اور ادارہ اس کی ضمانت کون دیگا،  وہ جو نوے دن کے لیے آتا ہے اور نو سال کے بعد بمشکل جاتا ہے؟ اگر انا کی بنا پر یہ مہم ناکام ہوتی ہے تو کیا یہ دھرنے کے لیے لوگوں کو دوبارہ نکال کر اسلام آباد تک لا سکیں گے؟ بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں عمران خان بہت زیادہ مقبول ہو کر ابھریں گے؟ کیااس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ اور کوئی گم نام اللہ کا بندہ ان کے مقابلے میں آجا ئے اور وہ ڈسکو کے بجا ئے راتیں تلاوت میں گزارے، اس کی قیادت میں قوم بھی دین پر پہ عامل ہو جا ئے جس سے اللہ راضی ہو جائے پھر کیا ہوگا؟
دوسرے موجودہ حکومت کے وزیر اطلا عات بار بار یہ دھمکیاں بھی دے چکے ہیں کہ طاقت سے کام لیکر ہم ایک دن میں دھرنے ختم کر سکتے ہیں ؟ ان کی حکومت اپنی طاقت کا دو دفعہ مظاہرہ کر چکی بھی ہے؟ یہ ہی سہ بارہ کر گزرنا ان کے لیے مشکل نہیں ہے کیونکہ ان کے سامنے جو طرز ِ حکمرانی ہے وہ سعودی نژاد ہے، وہ دور گیا جب پاکستانی فوج انہیں جا کر بچا یا کر تی تھی۔ اب وہ ساری دنیا کو نچا رہے اور اپنے یہاں اب تک لاکھوں آدمیوں کو ٹھکانے لگا چکے ہیں ۔ لہذا یہاں بھی وہ اپنے مریدوں کی مدد کو آسکتے ہیں ؟ اللہ ہمارے عوام اور لیڈروں کو سوجھ بوجھ دے کہ وہ دور کا بھی دیکھ سکیں ؟ رہیں انسانی یا اخلاقی قدریں تو وہ وہاں کامیاب ہوتی ہیں جہاں خوفِ خدا ہو یا لوگ اپنی بدنامی سے ڈرتے ہوں؟
ہمیں خطرہ ہے کہ یہ دھرنے کا ہتھیار بھی کثرت استعمال کی وجہ سے اپنی قدر کھودے گا، اور ملک میں پہلے ہی کوئی کام نہیں ہوتا ہے آئندہ اور بھی نہیں ہوگا؟ ثبوت یہ ہے کہ پہیہ جام سے اب الطاف بھائی اس طرف مائل ہو گئے ہیں ۔ کیونکہ ان کے کھالوں کے کاروبار کو اس مرتبہ خاصہ نقصان ہو نے کا خطرہ ہے ۔ پہلے تو ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کے کارکن بکرے کو صرف کہہ د یتے تو وہ خود اپنی کھال اتار کر ان کے ڈپو پر پہونچا دیتا تھا ۔ صرف اسے پرچی دینا ہو تی تھی ،اب وہ بات نہیں ہے۔غالبا ً اسی کے توڑ کے لیے کو ئی تنظیمی میٹنگ ہو رہی ہو گی جس پر رینجرز نے چھاپہ مرکر ان کو للکارا ہے؟ جبکہ کراچی پہلے ہی ہڑتالوںکا مارا ہے، بھتوں کا مارا ہے اور اغوا برائے تاوان کا مارا ہے اب دھرنو ں کا مار ا بھی جلد ہی بن جا ئے گا۔ الطاف بھائی کا کہنا یہ ہے کہ دھرنوں میں مساوات کیوں نہیں برتی گئی ، اگر چھاپے مارنا تھے تو جماعت اسلامی کے اور پی پی پی کے دفاتر پر بھی ما رنے تھے؟ یہ مطالبہ بھی ان کے ہر مطالبہ کی طرح وزن رکھتا ہے ؟ہم نے اپنے ایک بہت پرانے سندھی دوست سے پوچھا کہ تم چار،چار بیو یوں کو کیسے رکھتے ہو، جبکہ آج کے دور میں اوروں سے ایک نہیں سنبھلتی ؟ کہنے لگے مساوات کے ذریعہ؟ “اگران میں سے کوئی ایک غلطی کرے تو میں سب کی پٹائی کر دیتا ہوں“ تاکہ ایک کو پٹتا دیکھ کر دوسری ہنسیں نہیں ۔ بعض ما ؤں کو بھی ہم نے دیکھا ہے کہ خطا ایک بچے کی ہوتی ہے اور وہ پٹائی سب کی کر تی ہیں۔ اور اس کو عدل جہانگیری بھی سمجھتی ہیں ؟

Posted in Articles | Tagged

واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔ شمس جیلانی

آج جو حصہ پاکستان کہلاتا ہے اور جو پہلے صرف مغربی پاکستان کہلا تا تھا ، شاید اپنی قسمت میں ہی اشرافیہ کی غلامی لکھا کر لا یا تھا۔ جہاں ابھی تک دنیا کا سب سے فرسودہ نظام چل رہا ہے اوراس کے نتیجہ میں اس پر آج تک وہ راج کر رہی ہے۔ اس سے پہلے جب مشرقی پاکستان اس میں شامل تھا یا وہ مغربی پاکستان میں شامل تھا۔ تو انہوں نے 1945 ءکے الیکشن میں ا شرافیہ سے جان چھڑالی تھی کیونکہ وہاں سے زیادہ تر درمیانہ طبقے اور نچلے طبقےکے لوگ اسمبلی میں بھیجے  گئےتھے۔ مگر ان کے ساتھ  پاکستان میں مرکز کی نہیں بنی او ر اس کے نتیجہ میں 1954 ء  کےصوبائی انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ کو عبرت ناک شکست دی اور تین سو دس کے ایوان میں صرف وہ چند سیٹیں حاصل کر سکی ۔     چونکہ وہ سرمایہ داری ،جاگیرداری اور زمینداری کے ڈسے ہو ئے تھے۔ لہذا ان کا منشور تھا کہ وہ کامیاب ہو کر یہ تمام برائیاں ختم کردیں گے جوکہ انہوں نے ختم کردیں اور ہندو اشرافیہ جو انگریز کی پالیسی کی وجہ سے مارواڑی بنیوں اور ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کی شکل میں صدیوں سے ان پر راج کر رہی تھی اس کو جڑ سے اوکھاڑ پھینکا ۔  پھراسی متحدہ محاذ کی ایک پارٹی عوامی لیگ کے سربراہ جناب حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیر اعظم بنے جبکہ ان کی حکومت میں مغربی پاکستان کی ریپبلکن پارٹی بھی شامل تھی جو کہ آج کی طرح اس وقت بھی اسی اشرافیہ کے آبا و اجداد پر مشتمل تھی؟
جب سہر وردی مرحوم نے لا ہور کے موچی دروازے میں ایک بہت جلسے عام سے خطاب کر تے ہو ئے فر مایا کہ یہاں کئی زمینداروں کے پاس پچھتر ہزار ایکڑ سے بھی زیادہ زمین ہے میں ان سے لیکر مزار عوں او ر ہاریوں میں تقسیم کر دونگا ؟تو ان کو صدر اسکندر مرزا نے ایوان صدر طلب کر کے پہلے ایوب خان کا چہرے کی زیارت کرائی اور ایوان صدر سے جب واپس جانے دیا جب استعفٰی لے لیا۔ وہ کہتے ہی رہ گئے کہ مجھے پارلیمنٹ کے سامنے جانے دیجئے۔اگر میں اعتماد ووٹ حاصل نہ کر سکا تو میں خود استعفٰی دیدونگا مگر ان کی ایک نہیں سنی گئی۔
جو جیسا کرتا ہے ویساہی بھرتا ہے ۔اس کے بعد اسکندر مرزا جو فوج کے بل بوتے پر صدر بنے ہو ئے تھے ۔اور فیروز خان نون جو سہروردی صاحب کی غیر مشروط سپورٹ پر وزیر اعظم تھے انہوں نے یکے بعد دیگرے دونوں کی چھٹی کر کے مارشل لاءلگا دیا ، عوام بہت خوش ہو ئے۔ چونکہ عوام کے کانوں میں یہ بات پڑ چکی تھی کہ زمینداری بھی ختم بھی ہو سکتی ہے۔ان  کےآنسو پوچھنے کے لیے انہوں نے ایک ہزار ایکڑ تک حد رکھی اور بڑے زمینداروں نے پٹواریوں وغیرہ سے ملکر جو اچھی زمین تھی وہ اپنے آئندہ پیدا ہو نے والے بچوں تک کے نام منتقل کردی؟ جو ناکارہ تھی وہ انہوں نے چھوڑدی وہ ایوب خان کی حکومت نے کاشتکاروں میں تقسیم کر دی؟
پھر ایوب خان کے ما رشل لاءکی کوکھ سے ہی بھٹو صاحب نے جنم لیا اور انہو نے طالع آزمائی شروع کی وہ انتہائی صلاحیتوں کے مالک اورذ ہین آدمی تھے۔ انہوں نے بھی عوام سے یہ ہی وعدہ کیا کہ میں زمین ہاریوں میں بانٹ دونگا۔ انہیں بے انتہا کامیابی  اپنے “ نعرے روٹی کپڑا اور مکان “ کی وجہ سے ہوئی اور وہ مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر گئے ۔ پاکستان کا نصف حصہ اس مرتبہ بھی مشرقی پاکستان کے نمائندوں کی شکل میں پھٹے حال لو گوں پر مشتمل تھا، جو عوامی لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو ئے تھے اور اس پوزیشن میں تھے کہ وہ کسی چھوٹے صوبے کو ساتھ لے لیتے تو حکومت بنا سکتے تھے؟ لہذا عافیت ان سے جان چھڑانے میں سمجھی گئی اور ان سے نجات حاصل کر کے بھٹوصاحب برسرِ اقتدار آگئے، انہوں نے بھی مزید آنسوپوچھنے کی کوشش کی، انہیوں نے زمینداری کی حد ایک ہزار ایکڑ یا 36 ہزار یونٹ سے گھٹاکر پانچسو ایکڑ (18000)یونٹ کر دی اور مالکان کو اجازت تھی کہ وہ اتنے عرصہ میں اپنے اہل ِ خاندان کے نام  زمین منتقل کر سکتے تھے۔ جو انہوں نے کر لی البتہ جو سرکاری زمینیں تھیں وہ ہاریوں کو نام منتقل ہو گئیں ان میں سے زیادہ انہیں زمینداروں کے بچو ں کے پاس گئیں ۔ کیونکہ بھٹو صاحب کا خاندان خود پچیس ہزار ایکڑکا مالک تھا اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی اشرافیہ میں سے  ہی تھے۔
ا ب عمران خان آگے بڑھے ہیں اور انہوں نے بھی اپنی پارٹی میں سب تو نہیں مگر کچھ سیٹیں چھٹ بھیوں کو دیں ۔جو کہ زیادہ تر جیت نہیں سکے ؟ انہوں نے بے انصافی کے خلاف چلائی اور آج کل دھر نا دیئے بیٹھے اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ لوگوں کو اپنے حقوق کا ادراک ہو چکا ہے اورجاگ کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ جیسے کہ اسوقت سہروردی صاحب کی للکار سے ہو ئے تھے۔ جس سے غریب عوام کے نا چاہتے ہو ئے بھی حکمرانوں کو آنسو پوچھنے پڑے؟
جس کے روز بروز ثبوت سامنے آرہے ہیں کہ اشرافیہ کا رعب روز بروز ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کل ایک ٹی وی پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب گنا رہے تھے کہ ایک گدھا گاڑی والا سندھ کے چیف منسٹر کے شاہی جلوس میں اپنی لا علمی کی بنا پر حائل ہوا تو ان کی شاہی سپاہ نے دھنائی کر دی ؟ عوام اس کی حمایت میں نکل آئے اور وزیر اعلیٰ نے خود عوام کے سامنے پیش ہو کر معذرت فرمائی، مگر انہوں نے سید باشاہ کی بات بھی نہیں مانی؟ مجبورا“ انہیں راستہ بد لنا پڑا؟ دوسرا واقعہ وہ بھی بہت مشہور ہوا کہ جس کے پسِ پردہ ایک نو دولتیہ سنیٹر تھے پاکستان ایر لائن کا جہاز ان کے لیے لیٹ کیا جارہا تھا؟ اور ممبر قومی اسمبلی کو جو باہر ان کا انتظار کر رہے تھے یا وہ وی آئی پی لا ؤنج میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے لو گوں کے غضب کا شکار بنے لوگوں نے انہیں اندر داخل نہیں ہو نے دیا؟ تیسری بات انہوں نے یہ بتا ئی کہ شریف خاندان کے افراد جہاں جارہے وہاں لوگ  “گو ، گو  “کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ ایک جگہ تو ان میں سے ایک صاحب پر جو تا بھی پھینکا گیا مگر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کے وہ ان کو لگا یا نہیں؟ جوتا پھینک  کرمارنے کی تاریخ بہت پرانی ہے اس سے بڑوں بڑوں کی خاطر ہو ئی جس میں مراثی سے لیکر پاکستان کے سابق صدور ، وزیرائے اعظم اور سپر پاور کے صدر تک شامل ہیں؟ مگر اس میں نشانہ ہمیشہ خطا ہو جاتا ہے اور تارگیٹ زیادہ یہ کہتے سنا گیا کہ میرے لگا تو نہیں یا میرے آدمیں اس کے جواب میں جو جوتا مارنے والے کی درگت بنا ئی وہ آپ نے نہیں دیکھی ؟ گو کہ کہن ا ور جوتا مارنا علامتی چیزیں ہیں؟ جو کہنے سے یا پھینکنے سے غیرت مندوں اور صرف غیرتمندوں پر اثر کرتی ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف دو ایسے آدمی گزرے ہیں ایک  جوعوامی مطالبہ پر مستعفی ہو گئے ایک تھے چو دھری محمد علی جن کا یہ احسان اتار نے کے لیئے مہاجروں نے ان کے بنگلے پر جا کر مطالبہ کیا کہ استعفیٰ دیدو؟ کیونکہ انہو نے باقی ہندوستان کے مہاجروں کی چھوڑی ہو ئی جائیداد کے لیے ایک  قانون بنا یا اور ان کو بھی مہاجر تسلیم کیا؟ جبکہ ان سے پہلے والوں اور زیادہ بعد والوں نے صرف باتیں بنا ئیں اور وہ مقبول بھی رہے اور ہیں؟  مگر اس سے جوآجکل خائف ہیں انکو سوچنا چاہیئے کہ بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ چودھری محمد علی کہا ں سے لا ئیں گے؟دوسرے تھے ایوب خان  جو استعفٰی مانگنے نہیں مگرانہوں  نے غیرت دلانے پر صدارت چھوڑدی؟
اب میدان عمران خان کے ہاتھ ہے ۔ آئندہ کیا ہوگا کون جانتا ہے کہ سب کے لیئے جو الیکٹ ابیل ہیں وہ ان کی مجبوری ہیں؟اور جب وہ انہیں ساتھ لے لیتے ہیں تو وہ لیڈر بھی مجبور ہو تے رہے ہیں لیکن اب امید اس لیے بڑھ رہی ہے کہ خود اس طبقہ نے اپنے ہاتھوں خود کشی کی ہے ۔ تمام زمین سے ہاریوں کو بے دخل کر کے اس کو میکنایئزڈ فارمنگ میں منتقل کر دیا ہے اور مزارعے یا ہاری جو پہلے شہر کی طرف دیکھتے تک نہیں تھے اب رہتے شہروں میں ہیں ۔ فصل کی کٹائی وقت گاؤں میں مزدوری کرنے چلے جا تے ہیں جبکہ ان کے ووٹ دیہاتوں میں ہی درج ہیں۔ بچے پڑھ لکھ کر بیدار ہو چکے ہیں ؟ اگر عمران خان اپنے وعدے پورے کر سکے تو تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے جا وداں ہو جا ئے گا۔
فل الحال تو یہ ماننا پڑیگا کے انہوں نے عوام میں جرا ءت اوربیداری پیدا کردی ہے۔اور علامہ صاحب کے با ریش ساتھیو تک کو نا چنے پر مجبور کر دیا ہے؟ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں ان کو گروپ کو ناچتا دیکھتے ہو ئے تحریک ہو ئی ہے ۔ یا وہ بزرگ اس صوفیوں کے  طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ملا متیہ کہلاتا تھااور لوگوں میں اپنے خلاف نفرت اس لیے پیدا کر تھا کہ لوگ ان کی عبادت میں خلل نہ ڈالیں ؟ مستقل میں ان دونوں گروپوں کے ساتھ چلنے کے امکان بہت کم ہیں کہ طاہر القادری صاحب کے خلاف سارے سعودی نواز ہیں جو میدان  میں کود نے کے لیے پر تول رہے ہیں ۔اور سعودی عرب کو یہ فخر حاصل ہے کہ پاکستان کے تینوں بڑے عہدے اس کی جیب میں ہیں ۔ اور لاکھوں مدرسوں میں پڑ ھنے والے طالب علم یا طالبان جو نام بھی نام دیں مگر وہ  سب اس کے ہیں ۔   لہذا یہ آسان نہیں ہے  کیونکہ حکومت سارے سعودیوں کے آزمودہ حربے بھی استعمال کریگی؟

Posted in Articles | Tagged

یہ آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے پنجاب کے مرد آہنِ ثانی جو کہ آجکل معطل ،رخصت پر یا پھر سب کچھ پس پردہ ہیں؟ کو چند یوم پہلے بڑی بے بسی سے یہ کہتے ہو ئے سناکہ عام بارشوں سے نبٹنے کا انتظام تو کرلیاتھا، لیکن اس موسم میں بارش ہزاروں ملی میٹر کے بجا ئے لاکھوں ملی میٹر تک چلی گئی لہذا آسمانی آفات کا حکومت مقابلہ نہیں کرسکی۔ دوسری بات یہ بھی کہی کہ انڈیا نے پانی چھوڑ دیا، مگر اس سلسلہ میں ان کا لہجہ اس مرتبہ ذرا دبا دبا سا تھا جبکہ اس حکومت کے مربی عالم نے بہت کھل کہا کر ہندوستان نے پانی چھوڑ کر پاکستان پر حملہ کیا ہے اور حکومت انڈیا کے اس حملہ کو اپنی مصلحت کی وجہ سے اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ اس پر یہ ہی کہا جاسکتا ہے میر تقی میر کے اس شعر میں ترمیم کر کے کہ “ ہم ہوئے تم ہو ئے کہ میر ہو ئے    سب اسی جھوٹ کے اسیر ہو ئے “
البتہ ایک بات مشترک ہے ان بیانات میں کہ سچائی کم اورجھوٹ زیادہ ہے۔ جوکہ ہمارے یہاں ہر ایک عادتاً بولتا ہے؟ جیسے کہ اس سے پہلے ہم سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ ارشاد ِ گرامی پیش کر نے کا شرف حاصل کر چکے ہیں کہ “ جھوٹ جمہوریت کا حسن ہے  “ یہ بیچاری جمہوریت کی اتنی بڑی توہین ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ شرم سے خود کشی نہ کر لے۔ وہ بھی پاکستان میں پھنس کر پجھتا رہی ہو گی کہ کہاں آگئی، جیسے کہ رضیہ غندوں میں گھری ہو ئی ہو؟ اس سے پہلے سابق صدر ِ مو صوف یہ بھی فر ماچکے ہیں کہ معاہدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے جن کی پابندی کی جا ئے۔ یہ اس سے بڑا جھو ٹ ہے وہ یہ کہہ کر اسلام کو بد نام کر چکے ہیں، کیونکہ قر آن جھوٹوں پر لعنت بھیج رہا ہے “ لعنت اللہ علیٰ الاکاذ بین “ ۔  اور حضور(ص) فرمارہے ہیں کہ جھوٹا ہم میں سے نہیں بد عہد ہم میں سے نہیں ہے، وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں  “ لطف کی بات یہ ہے کہ اس دیدہ دلیری پر نہ اس وقت کسی عالم نے اس کا نوٹس لیا اور اس جہالت کے خلاف کو ئی تحریک چلائی اور نہ ابھی جمہوریت پسندوں نے اس سفید جھوٹ پر احتجاج کیا جو جمہوریت کے نام پر دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام تھوپے ہو ئے ہیں۔
البتہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پنجاب کے مرد آہن ثانی نے جو کچھ فرمایا وہ جھوٹ کیسے ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم تو پانی ستر سال  سےسمندر میں بہا کر خوش ہو رہے تھے۔ ہندوستان نے اس کو بہتا دیکھ کر اسے اپنے یہاں بند باندھ کر قید کر لیا اور اس سے اپنی پیداوار دگنی تگنی کر لی؟ اگر نہ بنا تا تو اور بھی حالت بری ہوتی کیونکہ بند ہونے کے یہ فائدے ہیں کہ انہیں انسان کنٹرول کر سکتا ہے ؟ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہم نے بند کیوں نہیں بنا ئے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم نے جب سے“ صدق اور عدل  “ترک کیا،دنیا تو کیا کرے گی ، ہم آپس میں بھی ایک،دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔کیونکہ ہم نے پانی کے بٹوارے میں آپس ہی میں ڈنڈی مارکر چھوٹے صوبوں کو بد ظن کر رکھا ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے پہلے آثارات قدیمہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں ورثہ میں انگریز جو دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام برائے آب پاشی دے گئے تھے اس میں ستر سال سے سلٹ کلیرنس نہ ہو نے کی وجہ سے جو نہریں کبھی ہاتھی ڈبا ؤتھیں اب کتا بھی ان میں نہیں ڈوبتا ۔ جبکہ ہر سال وہ صفائی کے لیے بند بھی با قاعدگی سے دو ہفتے کے لیے ر ہتی ہیں بل بھی بنتے ہیں مگر سال بہ سال ریت کا لیول بڑھتا جا رہا ہے ، لہذا پانی کا دباؤ جہا ں پڑا نہروں کا ظرف جواب دے جاتا ہے اور بد ہضمی کی وجہ سے پھٹ پڑتی ہیں ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ وہ بجٹ کہاں جا تا ہے ؟ جواب ہے پیاروں کی پیٹ میں ۔؟ رہا یہ ارشاد ِ عالیہ کہ ہم نے عام حالات میں بارشوں سے نبٹنے کا انتظام کر رکھا تھا ؟ اس پر اگر تحقیق کی جائے تو پتہ چل جا ئے گا کہ اس محکمہ کے پاس وہ چند کشتیاں تھیں جو کہ دیکھ بھال نہ ہو نے کی وجہ سے نصف سے زیادہ نا قابل ِ استعمال تھی ۔اگر فوج اپنے ذرائع نہ استعمال کر تی تو ابھی عمران خان ایک اپاہج پر نو حہ خواں ہیں پھر نہ جانے کتنے بوڑھوں اور اپا ہجوں کو سسک سسک  کرمرنے کے لیے راہ میں یا دیہاتوں میں چھوڑ نا پڑتا ۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ زلزلے اور سیلاب ہماری ہی طرف ہر سال کیوں بھیجتا ہے؟ اس کا جواب قر آن میں موجود ہے۔ ایک آیت میں فرمایا گیا، جس کا اردو میں مفہوم یہ ہےکہ “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم گاہے بہ گاہے، آفات آسمانی بھیج کر تمہیں خبردار کرتے رہتے ہیں۔ ( تاکہ تم ڈر کر اپنے اعمال درست کر لو)۔ لیکن ہم کبھی انہیں آفات آسمانی کا نام دیتے ہیں کبھی ہمارے علماءتسلی دیتے ہیں کہ یہ آزمائش ہے جس سے اللہ سبحانہ تعالی اپنے نیک بندوں کو آزما تا ہے جسے عربی میں ابتلا کہتے۔ جبکہ وہ یہ کہتے ہو ئے   بھول جا تے ہیں کہ وہ نیک بندوں کے لیے ہوتی ہے؟ اور نیک بندوں کی تعریف کیا فرما ئی ہے قر آن نے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ “ انکا جینا اور مرنا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے ہو تاہے؟ جبکہ ہمارا مر نا اور جینا خواہشات اور مال اور دولت کے لیے  ہےاور ہم میں وہ خامیاں بہ یک وقت موجود ہیں جن میں سے ایک ایک پر پچھلی قوموں پر  عزاب نازل کر کے  انہیں نیست اور نابود کر دیاگیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ قصے قرآن میں سنا کر خبر دار کر چکا  ہےکہ انہوں نے یہ کیا تو ہم نے عزاب بھیج کر انہیں تبا ہ کر دیا اس کے لیے ہمیں فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی ! پہلی دفعہ زمین کوحکم دیدیا کہ تو اپنا پانی اگل دے اور آسمان کو حکم دیا کہ تو پانی بر سانا شروع کر دے اور اسطرح پوری دنیا کو تباہ کر دیا؟ پھر کسی قوم کو صرف ایک چنگھاڑ سے تبا ہ کر دیا، کسی کو آسامان سے آگ بر سا کر تباہ کر دیااورکسی کو نشان زدہ پتھر بر ساکرغرق کر دیا؟
اور ہمیں سب کو یہ حکم دیا کہ “ مجھے مانوں  میں مومنوں کا ولی ہوں اور کا فروں کا ولی شیطان ہے۔میں نے دونوں راستے واضح کر دیئے ہیں اب چاہو تو میرا کڑا مضبو طی تھام لو اور نور کی روشنی میں چلو یا شیطان کااتباع کرکے ظلمات کی طرف چلے جاؤ “ اور ظلم اور ظلمات کیا ہے؟  سب سے بڑا ظلم شرک ہے اور شرک کیا ہے کسی کو اللہ جیسے صفات کا مالک سمجھنا اور اس کے حرام کیئے ہوئے کو حلال ،اور حلال کیے ہو ئے کو حرام سمجھنا؟ یا کسی اور نظام کو اسلامی نظام کے سوا بہتر سمجھ کر اختیار کر نا؟ اس کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جو اسلامی ملک ہیں وہ تو قطعی طور پر پابند ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کر دہ نظام کو اپنے یہاں پوری طرح نافذ کریں اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے ورنہ باغیوں کی جو سزا ہے اس کے لیے تیار ہو جا ئیں ؟ جبکہ یہ بھی بتادیا ہے کہ میں کسی کو سزا دے کر خوش نہیں، بس تم میری با ت مان لیاکرو اس سے روگردانی مت کرو اگر کی تو پھر تمہارا حشر بھی یہ ہی ہو گا؟ لہذا تمارے لیے لازمی ہے کہ تم اپنے میں ایک جماعت رکھو جو بھلائی کی طرف بلا تی رہے اور برائی سے رو کتی رہے؟ اور جب معاشرے مں برا ئیاں بڑھ نے لگیں تو اسے طاقت کے زور پر روکے اور اگر سچائی مغلوب  ہوجائےاور برائی بڑھ جائے تو زبان سے منع کرو اور یہ بھی طاقت نہ ہو تو ان کے ساتھ گھلو ملو مت ان کے افعال سے نفرت کرو؟ اگر یہ کر نا چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق پوری قوم کو تبا ہ کردے گا؟ جب یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں تو حضور (ص) تکیہ لگا ئے ہو ئے تشریف فرما تھے ،وہ (ص) اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا ،جب ایسا ہوگا تو عزاب تمہیں چاروں طرف گھیر لیں ۔ کم نا اہلوں کے ہاتھوں میں اقتدار آجا ئے گا اور تم دعائیں مانگو اور تمہاری دعا ئیں قبول نہیں ہو نگی؟ کیا ہم اس منزل کے قریب نہیں پہونچ چکے ہیں ۔ کیونکہ ہم میں ڈھونڈے سے سچا نہیں ملتا، کوئی برائیوں پر مخلص منع کر نے والا نہیں ملتا؟ جو ہیں ان کا بھی یہ عالم ہے کہ دوسروں کو منع کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے  “تم وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو“ کیونکہ اس نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ پہلے خود یمان لا ؤپھر اس  پرعمل کرو اس کے بعد دوسروں  کوعمل کی تلقین کرو؟  جبکہ ہماری یہ حالت ہے کہ ستر سال میں اللہ کے ساتھ کیئے ہوئے اپنے وعدے پورے نہیں کرسکے بلکہ اس کے قوانین جو ہمارے دستور کا چوالیس سال سے حصہ ہیں ان کو نا فذ کر تے ہو ئے جان نکلتی ہے؟ تو کیا وہ ہمارے لیے اپنی سنت کو ترک کر کے ہم پر رحمتوں کی بارش کرے گا؟
اس کا حل وہی ہے جو اس  نےخود تجویز فرمایا ہے کہ توبہ اور اس پر استقامت؟ ابھی وقت نہیں گیا، ہے کوئی جو تائب ہو اور سمجھے رمض کو ؟ ورنہ سابقہ قوموں کی طرح تمہاری بھی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت دے (آمین)

Posted in Uncategorized

جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

       پرانے زمانے میں آگ سے آگ سلگا ئی جاتی تھی، پھر اسے اچھی طرح بھڑکاتے تب کہیں جاکر کھانا پکانے کی نوبت آتی۔اگر وہ بجھ جاتی تو دوبارہ جلانے کے لیے یاتو برابر والے گھر یا بستی سے مانگ کر لاتے تھے۔ ورنہ ایک درخت عرب میں پایا جا تا تھا جس کی دو شاخوں کو آپس میں رگڑ کر پیدا کر تےتھے۔ اس کا ذکر قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے فردیا تھا۔ اُس وقت یہ حیرت کی بات تھی کیونکہ اس کی وجہ انسانوں کو معلوم نہ تھی ۔ جبکہ وہ صرف عرب میں ہی پایا جاتا تھا یا دنیا کے اوربھی خطے بھی اس سے کام لیتے تھے یہ ابھی تک صیغہ راز میں ہے ۔ لیکن اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آگے سلگانے کے لیے کافی وقت اور سفر درکار ہو تا ہوگا۔ اسی لیئے چنگاری کو اسوقت بہت سنبھال کر اور راکھ کے ڈھیر میں بہت گہرا دبا کر رکھتے تھے۔ کیونکہ گھر گھاس پھوس کے تھے اور آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگتی تھی؟ اس کے بعد انسان نے چقماق ( پتھر) معلوم کر لیا اور آگ پیدا کر نا بہت آسان ہو گیا۔ پھر ماچس کا دور آیا جس سے آگ جلانے کے لیے “ تِیلی دکھانے کا“  محاورہ معرض وجود میں آیا۔ لیکن بجلی کی دریافت کے بعد اب یہ وجہ ہر بچے کو بھی معلوم ہے کہ دوچیزوں کو مستقل رگڑ نے سے حدت پیدا ہوتی ہے جو آگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ جس کا آئے دن آگ بھڑکنے کا مشاہدہ جہاں جنگلات ہیں وہاں عام ہے۔ بجلی کی مزید ترقی سے پھر یہ دریافت ہوا کہ اگر چنگاری کو کچھ فاصلے سے جمپ کرائی جائے تو بھی آگ پیدا ہوسکتی ہے ؟لہذا تیلی دکھانے کی اب ضرورت بھی نہیں رہی آجکل ہم اور ہمارے علاوہ جو فضاؤں میں اڑرہے ہیں وہ اسی دریافت کا کرشمہ ہےاس پر طرہ یہ کہ سب کچھ دور بیٹھ ریموٹ سے کنٹرول ہو تا ہے لہذا کوئی دیکھائی بھی نہیں دیتا؟ چونکہ یہ بہت ہی وسیع مضمون ہے اگر تفصیل میں جا ئیں تو صفحات ناکافی ہونگے ،دوسرے ڈر بھی ہے کہ ہمارے علماءیہ کہتے ہیں کہ قر آن سائینس کی کتاب نہیں؟ ۔ جبکہ ہم جیسے جاہلوں کو ہر علم کی بنیا دغور کرنے سے وہیں نظر آتی ہے ،جو ابھی تک نظر نہیں آئی وہاں تک انسانی علم نہیں پہونچا؟ چلیے اس بحث کو چھوڑ کر بزرگوں کا قول لیتے ہیں کہ چنگاری ہمیشہ دبا کے رکھو، ورنہ آگ لگ سکتی ہے۔ نواز شریف صاحب سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ آگ کی بھٹی کیسے سلگائی جاتی ہے اور پتھر کیسے بھٹی کو سلگانے میں مدد گار ہوتے ہیں اور جب لوہا تپ جا ئے تو انتہائی ٹھوس دکھائی دینے کے باوجود وہ پھلجھڑی بن کر ہوامیں تحلیل ہو جاتا ہے؟
انہوں نے نہ اپنے تجربات سے فائدہ اٹھایا نہ بزرگوں کے اقوال سے، جو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ خون ِ ناحق رائیگاں نہیں جاتا،نقل میں کوئی عقل نہیں ہو تی ،دوسرے یہ کہ بڑا نوالہ کھالو۔ مگربڑی بات نہ کرو، پھر آگے قرآن ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے “ تکبر میری چادر ہے اس سے دور رہو“
 انہوں نے پہلے تو چنگاری کو حقیر سمجھ کر اس پر راکھ ڈالنے کے بجا ئے اسے اوپر آنے اور بھڑکنے دیااور جب بات اتنی بڑھی کہ خون بہانا پڑگیا تھا؟ تو بھی وہ اگر اس وقت  انصاف کی راہ میں حائل نہ ہو تے تو بات اتنی نہ بڑھتی، مگر وہ جہاں آٹھ سال جلا وطن رہے ہیں؟ ان کے فلسفہ سے اتنے متاثر ہو چکے ہیں کہ انہوں نے طرز حکمرانی بھی وہی اپنا لیا کہ صرف اپنے قبیلہ کو حکمراں رکھو، ہر عہدہ انہیں کو دو ؟یہ نہیں سو چاکہ وہ ایسے کسی قبیلہ کے سربراہ نہیں ہیں، جس کا قبیلہ عربوں جیسی روایتی قبائیلی عصبیت کی بنا پر ان کا ساتھ دے؟
 اس کے برعکس پاکستانی ایک قوم ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کے شیدائی ہیں وہ بھی اصلی اسلام کے کسی اور چھاپ کے نہیں ۔ لہذا ان میں “ نیکو کار “ پیدا ہو تے رہیں گے۔ اور اسلامی قدروں کی بات کریں گے اور حکمرانوں کی خواہشات کے مطابق عوام پرظلم نہیں توڑیں گے کیونکہ ظالم کا ساتھ دینے والے بھی ظالموں کے زمرے آتے ہیں ، دوسرے چاہیں عوام خود دین پر عامل ہوں یا نہ ہوں ؟ مگر پھر بھی وہ دہرائیں گے ضرور حضرت ابو بکر (رض) کے الفاظ  “ میں جب تک قرآن اور سنت پر چلوں تو میرا اتباع کر نا ، جب مجھے غلط راستے پر دیکھو تو روک دینا؟ حضرت عمر (رض) کے الفاظ  “ اگر ایک کتا بھی فرات کے کنارے بھوکا مر جا ئے تو عمر ذمہ دار ہے، پھر انہیں حضرت عثمان (رض) کے الفاظ بھی یا دہیں کہ “ چاہیں میری جان چلی جائے میں اپنے لیے مسلمانو ں کاخون بہتانہیں دیکھ سکتا  “ وہ باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول دہرا ئیں گے کہ “ انسان کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر عدل کے بغیر نہیں “ کیونکہ وہ اپنے حکمرانوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ یہاں بسم اللہ ہی غلط تھی کیونکہ ضیا ءالحق کی شاگردی اور اس کے انجام سے بھی انہوں نے کچھ نہیں سیکھا ؟ جو سب کو پیچھے چھوڑ کر اور یہ نعرہ لیکر آئے تھے کہ “ میں اسلام  کوعملی طور پر نافذ کرونگا ،جو پہلے والے نے دستور میں دفعات ہو نے کے باوجود نافذ نہیں کیا  “اور ان کی منکسر المزاجی بھی نہیں اپنا ئی کہ تمام طاقت کا سرچشمہ ہو نے کہ با جود وہ ہر ایرے غیرے کو دروازے تک لینے اور چھوڑ نے آتے تھے؟ جبکہ میاں صاحب سے ملنے کے لیے عوام تو عوام، سینٹ، پارلیمنٹ اوروزاءتک ترستے ہیں؟ بلکہ اس کے برعکس اس بات پر خاموش رہ کر اور اس کے خلاف آواز نہ اٹھاکر مجرمانہ غفلت برتی کہ “ اگر یہ دفعات نافذ کر دی گئیں تو سوائے مولویوں کے اسمبلیوں میں کوئی نہیں آئے گا؟ اور اس کے نتیجہ میں کسی غیبی اشا رے کی بنا پر تمام چھان بین بند کر دی گئی کہ قابلِ انتخاب لوگ جو سب پارٹیوں کی اساس تھے وہ اس پر پورے نہیں اترتے تھے؟ اس پر ظلم انہوں نے یہ کیا کہ خود ایسے وعدے کرڈالے جن پر عمل نہیں کر سکتے تھے ؟ جبکہ وہ اس پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے تجربہ نہیں تھا کیونکہ وہ کئی مرتبہ کے وزیر اعلیٰ اور تیسری مرتبہ وزیر اعظم ہو کر تشریف لا ئے ہیں، یہ درست ہے کہ ان کے اصل مخالف عمران خان بھی اپنی وعدے پورے نہیں کر سکے ؟ مگر وہ یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں ،قائد اعظم کی طرح کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ “ میری جیب کے سارے سکے کھوٹے ہیں “
 انہوں نے تاریخ سے بھی سبق نہیں لیا کہ یہاں آج تک جو بھی آیا، یا جس نے تختہ الٹا اسلام کے نام پر ہی الٹا کسی نے اصل اسلام لا نے کی بات کی کسی نے مساوات ِاسلامی کی بات کی اور کسی نے ماڈرن اسلام کی؟ اب بھی دو کھلاڑی میدان میں ہیں ۔ میرے نزدیک ان میں سب سے اہم طاہر القادری صاحب ہیں ۔ کیونکہ وہ اسلامی انقلاب کی بات کر رہے ہیں۔ واضح رہے میں کبھی ان کے معتقد ین میں شامل نہیں رہا، ثبوت یہ ہے کہ ہمیشہ ان کے خلاف لکھتا رہا ہوں ؟ لیکن میں اس کا قائل ہوں کہ یہ دیکھو کہ وہ کیا کہہ رہاہے، یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے؟
 چند دن پہلے ٹی وی پرایک بہت ہی بزرگ صحافی جو کہ کبھی عمران خان کے طرف دار تھے ،اب پتہ نہیں کہ ہیں یا نہیں؟ کہہ رہے تھے کہ جتنے بریلوی تھے وہ تو نکل چکے اب مزید نہیں نکلیں گے اور عمران خان نے ان کا ساتھ دیکر اپنی سیاسی تنزلی کا آغاز کردیا ہے ؟ اس طرح وہ تاثر دے رہے تھے کہ علامہ طاہر القادری بریلویوں کے ترجمان ہیں ۔ اس کا مقصد شاید اہلِ تشیع کے بعد اب بریلویوں اور دیوبندیوں میں سر پھٹول کرانا ہے ۔ جبکہ طاہر القادری نہ بریلوی ہیں نہ دہلوی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ہی سب کچھ ہیں ۔ جن کو انہیں وجو ہات کی بنا پر پر کوئی فرقہ بھی پسند نہیں کر تا، سوائے ان کے اپنے ماننے والوں کے؟ اگر موصوف کی مراد اس سے وہ اسلام ہے جو صوفیا ئے کرام سے چلا آرہا ہے جس کے آخری سرخیل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) یا دیوبند کے بانی حضرت امدا اللہ مہاجر مکی (رح) تھے تو وہ غلطی پر ہیں؟ وہ تو ابھی تک اس صوبے میں بھی برابر ہیں جو ان کے مخالفین کا گڑھ ہے؟ جو اس بیان سے ظاہر ہو تا ہے کہ جو مر کزی رویت ہلال کمیٹی کے چیر مین مفتی منیب الرحمان صاب نے فرمایا کہ “ ہماری اور ان کی مساجد تعداد میں برابر ہیں ،اسی سے وہ باقی پاکستان کابھی اندازہ کرسکتے ہیں۔ اگر اس سے مراد وہ فرقہ ہے جو مولانا احمد رضا خان  بریلوی (رح) کا اتبا ع کرتا ہے تو یہ نہ خود کو ان کا پیرو کہتے ہیں نہ وہ انہیں اپنا کہتے ہیں۔البتہ یہ ماننا پڑیگا کے ایک زمانے میں نواز شریف صاحب ہی طاہر القادری صاحب کو میدان میں لا ئے تھے۔ جوکسی وجہ سےبعد میں ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوگیا۔ جس کا قوم اب خمیازہ بھگت رہی ہے۔ جب میں یہ سطور اخبار کو بھیج رہا ہوں ابھی تک صورت حال میں سوائے اس کے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور وہ اس قتل عام پرحکمرانوں کی پیٹ ٹھونک رہی ہے؟ کیونکہ اگر فائلیں کھلیں تو چھٹی سب کی ہو جا ئے گی سوائے دوبارہ انتخابات کے کوئی اور چارہ کار نہیں ہو گا، اسے مزید سہارہ دینے کے لیے افواہوں کا زور ہے ، بے انتہا مقبولیت ثابت کر نے کے لیے نئے سروے لا ئے جا رہے ہیں جو مضحکہ خیز ہیں اگر خون بہانے کے بعد بھی کسی کی مقبولیت کا گراف بڑھ سکتا ہے؟ تو پھر بجا طور پر کہنا پڑے گا کہ پاکستانی قوم اس طرزِ حکمرانی کی بطور عذاب مستحق ہے؟ صورت ِ حال انتہا ئی متنازع ہے ۔ کبھی ان کا پوا بھاری ہوجاتا ہے کبھی ان کا ، دونوں طرف سے دعوؤں اورالزاموں کی بھر مار ہے۔  جبکہ ملک کی کسی کو فکر نہیں ہے جومعاشی طور پر پہلے ہی بد حال تھا اب مزیر تباہ ہورہا ہے؟ دنیا لین دین کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے گھبرارہی ہے لہذا محب الوطنی تقاضہ یہ ہے کہ ذاتی عناد چھوڑ کر اس تعطل کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ جس کی بظاہر دونوں طرف سے امید نہیں ہے ۔آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے( آمین)

Posted in Uncategorized

جھوٹ اور سچ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

 جس درمند انہ الفاظ میں ہمارے صفدر ھمدانی صاحب نے اپنا مضمون اس موضوع پر لکھا ہے۔ دل چاہا رہا ہے کہ میں کچھ نہ لکھوں اور وہی اس قوم کی تاریخ کے ماتھے پر قیامت آویزان رہے۔ مگر رسم ِ دنیا یہ ہے کہ قارئین ہر روز کچھ نیا چاہتے ہیں ۔ مگر میرے سامنے لکھتے ہوئے وہی مسئلہ آتا ہے کہ میں ان کے بعد کیا لکھوں؟ وہ لندن میں بیٹھے ہیں مجھ سے زیادہ با خبر ہیں پھر صحافت میں تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ ہے ان کے پاس  تازہ خبر کی حصول کے ذرائع بھی زیادہ ہیں۔ دوسرے ابھی تک لندن کی وہ مرکزی حیثیت باقی ہے جو کبھی تاج بر طانیہ کے تحت نصف دنیا سے زیادہ ہو نے کی وجہ سے حاصل تھی؟ پھر ہمارے حکمرانوں کے گھر اور کاروباربھی وہی ہیں اور حزب اختلاف کے تمام لیڈروں کے گھر بھی وہیں ہیں۔ بلکہ ایک صاحب تو ان کے شہری ہو نے کہ با وجود اس پوزیشن میں ہیں۔ جب چاہیں پاکستان کی شہ رگ منقطع کر دیں، پہیہ جام کر کے؟ جبکہ میں جہاں اقامت پذیر ہو ں یہ شہر اس کے باوجود کہ سالوں سے رہائش کے لیے بہترین قرار پا رہا ہے مگر اس کی حیثیت لندن کے مقابلہ میں ایک گا ؤں سے زیادہ نہیں ہےاور سورج مشرق طلوع ہو کر یہاں صرف غروب ہو نے کے لیے آتا ہے ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جب وطن ِ  عزیزمیں دن ہو تا ہے تو یہاں رات ہوتی ہے ۔یہاں اور وہاں میں بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔ خبریں یہاں پہونچتے پہونچتے میری طرح پرانی ہوجاتی ہیں۔بہر حال آپ لوگوں کی سمع خراشی کرنا میری ذمہ داری ہے لہذا میں یہ مضمون آپکی نذر کر رہا ہو ں کہ وقت ٹالے ٹلتا نہیں اور کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی پڑتا ہے۔
      پندرہ دن سے ایک ڈرامہ بر پا ہے دھر نے کی شکل میں؟ دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی تو پوں کے  دہانے کھولے ہو ئے ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے ہیں ۔ پورے ملک کی اکانو می ہی نہیں بلکہ ہرچیز کو داؤں پر لگا رکھا ہے۔ اس دھرنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قوم کی طرح یہ بھی دو گروپوں میں بٹا ہوا ہے۔ صرف ایک چیز ان میں مشترک ہے وہ نواز شریف کی دشمنی ؟
ان میں ایک پاپ کارن پارٹی ہے وہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نیا نقشہ پیش کر رہی ہے ۔اس میں کیمروں کے سامنے خواتین کو اپنے منہ کالے پیلے کیئے اور ناچتے ہو ئے دکھا یا جاتا ہے؟ اگر دوسرے دھرنے کی طرف جائیں تو وہاں باریش بزرگ اپنی نورانی سفید براق داڑھیوں کے ساتھ محو ِ رقص نظر آتے ہیں۔ جبکہ نہ یہ اسلامی تہذیب ہے اور نہ ہی یہ پاکستان نام کے ساتھ لگا کھاتی ہے ؟ہم نے سنا تھا کہ طریقت میں ایک فرقہ ہوا کرتا تھا۔ جو خود ملامتیہ کہلاتا تھا۔ وہ اللہ والے تھے اور نہیں چاہتے تھے کے لوگ ان کے پیچھے لگیں اور ان  کی عبادات میں حائل ہو ں لہذا خود کو اپنے سے دور رکھنے کے وہ رقص کرتے تھے تاکہ جان چھوڑ دیں۔ دوسراگروہ ناچنے والوں کا اہلِ طریقت میں بہت بعد میں پیدا ہوا جو خود کو حضرت مولانا روم کا پیرو بتاتا ہے اور ان مزاروں پر رقص کر تا نظر آتا ہے جن سے رقص کا تعلق کسی تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے جبکہ تمام اہلَ طریقت پوری  طرح شرع کے پابند ہو تے تھے اور مریدوںکو اسلام کی تعلیم دیتے تھے؟ اس پر طرہ یہ ہے کہ سب اپنا رشتہ اس عظیم ہستی سے جوڑ تے ہیں ان کے نام دھمال ڈالتے ہیں جو طریقت کے بانی تو تھے مگر وہ اس فعل کے کبھی مر تکب نہیں ہوئے؟
   دو ہفتے گزر گئے الحامی نعرے جاری ہیں کہ “ میرا دل کہہ رہا ہے ابھی چند گھنٹوں میں یا آئندہ چو بیس گھنٹے میں اچھی خبر آنے والی ہے  “اور جب وہ بات غلط ثابت ہو جاتی تو کہتے ہیں کہ ہم اتنے گھنٹے کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کر یں گے ، وہ لائحہ  عمل کیا ہے وہ راز آج تک نہیں کھل سکا ؟ جیسے کہ اکثر نوسر باز آواز لگاتے ہیں ؟ہم نے اپنے بچپن میں ایک نوسر باز کو آواز لگاتے سنا  “بھائیوں میں آپ کوابھی بتا تا ہوں کہ بارہ بجے چیل انڈا کیوں چھوڑتی ہے “اور پھر کہتا کہ میں انہیں بتا ؤنگا جومیری یہ دوا کی پڑیا خریدے گا ۔ سب سے ایک ایک روپیہ وصول کر تا اور ان ان سے اجازت چاہتا کہ“ یہ روپیہ آپ نے خوشی سے دیا وہ کہتے کہ ہاں پھر پوچھتا میں  “اسکو جیب میں رکھ لوں “ سب کہتے ہاں اور وہ اپنی  رکھ دکان سمیٹ ، چلا جا تا ؟
 چونکہ انسان تجسس لیکر پیدا ہوا ہے ؟دوسرے دن پھر اس کو نئے لوگ مل جاتے اور وہ ہی کھیل دوبارہ دہراتا ۔ رہی نماز وہ ان نہ ان کے ہاں پابندی ہے نہ ان کے یہاں؟ جھوٹے حکمراں بھی ہیں، جھوٹو ں کی اکثریت ہے۔ جبکہ حضور (ص) فرمایا کہ جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا ؟ لیکن جہاں لنکا میں سبھی باون گز کے ہوں وہاں کسی سے گلا کیا جاسکتا ہے؟
میں نہیں جانتا کہ کہ آپ کے ہاتھ میں جس وقت تک یہ تحریر پہونچے گی تو کوئی تبدیلی آچکی ہو گی یانہیں ۔ مگر میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ ڈگڈگی کوئی اور بجا رہا ہے؟ اس کا مظاہرہ جس طرح کل ہوا وہ آنھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے کہ اک پیغام آیا، آرمی چیف کی طرف سے اور جو لیڈر لائحہ عمل دینے والے اپنے کنٹینر چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ جس کا جواب نہیں؟ بات چیت شروع بھی ہو گئی ،اس میں چودھری نثار بھی شامل ہو گئے ؟ اور اس کے بعد اس کی تردید بھی آگئی کہ سب جھوٹ تھا؟ جو دیکھا خواب تھا جو سنا افسانہ تھا؟ اس سے میرے اس گمان کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ڈگڈگی کہیں اور بجتی ہے اور بندروں کا رقص یہاں جارہی ۔ آجکل رییموٹ کنٹرول کا دور ہے اور مداری اتنے ہیں جو نظر آتے ؟ ایسے میں کوئی بھلا بتالائے  کہ ہم بتلا ئیں کیا؟
ابھی تک اللہ نے بچا یا ہوا ہے۔ان دھرنوں کو اگر خدا نہ خواستہ کچھ ہو گیا اور کہیں بم پھٹ گیا ؟یا گولی چلا نے پہ کوئی تیار ہوگیا تو ان کا کون والی وارث ہو گا؟ جن کے سروں سایہ اٹھ گیا؟ ہمیں پتہ نہیں کہ جو لوگ حکومت کی بر بریت کی بنا پر ماڈل میں شہید ہو ئے یا زخمی اور اپاہج ہوئے ان کے بچو ں کی حسب وعدہ علامہ صاحب  نےخبر گیری کی یا نہیں؟ اگر کی تو بڑی اچھی بات ہے  کیونکہ وہ تو خود کو سرکار (ص)کا غلام کہتے ہیں اور انہیں وعدہ نبھانا چاہیئے  تھا؟ کیونکہ حضور (ص) فرمایا کہ وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں ؟
 حکومت اور حزب اختلاف کے قول میں اتنا تضاد ہے جو پنجاب میں بھی نظر آرہامر کز میں بھی نظرآ رہا ہے؟ پختون خواہ میں  بھی نظر آرہا ہے۔اورفقیر کی گدڑی میں بھی نظر آرہا ہے کہ خود کنٹینر میں ہے اور عوام کھلے میدان اور بارش میں؟
جب تک ہمارا اپنا کردار درست نہ ہو مجھے تبدیلی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ آسانی  سےاستعفیٰ دے کر چلے جا ئیں گے۔ کہ الیکش میں دھاندلی ہو ئی ہے، یا عدالت نے ان کو الزام دیا ہے؟ یہ دنیا کے مہزب ملکوں میں تو ہو تا ہے ۔ مگر ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور ایسا ہوا بھی ہے تو شاذ نادر ہے؟ اگر قوم قر بانی دے بھی اور اس سے کچھ حاصل نہ ہو تو صرف حکرانوں کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہو سکتا ؟ کیونکہ کنکروں سے جب کنکر ٹٹولیں گے تو بڑا ہی پتھر ہا تھ میں آئے گا کنکروں کے ڈھیر میں کھوجنے سے ہیرا نہیں ملا کرتا؟ ہیرا جب ہی مل سکتا ہے جب پہلے عوام الناس ہیرا بن جا ئیں پھر ان میں منتخب ہو کر ہیرے آسکتے ہیں ااور اسلام کی نشاة ثانیہ ہو سکتی ہے جو کہ پاکستان کے حصول کامقصد تھا؟ اللہ قوم کو بصیرت دے کہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں (آمین)

 

Posted in Uncategorized

پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان دوست باخبر ہیں۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

  ہم نے دو تین دن پہلے ایک تصویر اس خبر کے ساتھ دیکھی کہ آرمی چیف نے شہباز شریف صاحب اور چودھری نثار صاحب سے ملاقات کی ہمارا ماتھا وہیں پر ٹھنکا؟ کیونکہ یہ دونوں حضرات پاکستانی میڈیا کے مطابق جناب نواز شریف سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ چودھری نثار صاحب تو ظاہر ہے  کہ وزیرِ داخلہ ہیں اور بچھلے دور میں مشرف کو کمانڈر انچیف بنوانے کی غلطی کر کے نتیجہ بھگت بھی چکے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف صاحب کی سرکار ی حیثیت تو ویسی نہیں ہے، مگر دولہا کا چھوٹا بھائی جیسے کہ شہ بالا بن کر کچھ نہ ہوتے بھی وہ نصف دولہا شمار ہوتا ہے اور اگر دولہا زیادہ پھولوں سے لدا پھندا ہو تو اور اسے راستہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ اندھے کی لاٹھی کا بھی کام دیتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی وہ اس کی مان بھی لیتا ہے کبھی جھڑک دیتا ہے یا چانٹا رسید کر دیتا ہے۔ یہاں بھی ان کو وہی حیثیت حاصل ہے۔
اس ملاقات میں خاص بات یہ تھی کہ کمانڈر انچیف کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ بس بہت ہوچکی؟ ایسا لگتا تھا کہ وہ حکومت کے اس سلوک پر خوش نہیں ہیں جو اس نے طاہر القادری صاحب کے حامیوں پر پہلے گولی برسا کر کا رنامہ انجام دیااور اب انہیں ہرطرف سے محصور کرکے اور کھانا پانی بند کرکے  دوسرا کارنامہ انجام دیا۔ اس لیے کہ عوام کے نزدیک کسی دشمن کا بھی کھانا پانی بند کر نا یزیدی کام سمجھا جاتا ہے وہ اس پر خوش نہیں ہوتے۔ کیونکہ فوج اس وقت حالت جنگ میں ہے وہ یہ نہیں چاہتی کہ گاؤں، گاؤں اور شہر، شہر باغیوں کے ہزاروں جزیرے بن جا ئیں اور اس کو اصل کام چھوڑ کر ادھر بھا گنا پڑے جبکہ وہ فتح کے بہت قریب ہے؟
ہمارا خیال ہے کہ پہلے انہوں نے آہستہ سے سمجھایا ہوگا پھر وہ کہنے آئے ہونگے کہ “ انف ا ز انف “ جو حکومت کے عدالت عظمیٰ میں جانے اور چیف جسٹس صاحب کےویک اینڈ پر چھ بینچیں بنانے  کےحکم سے ظاہر ہو رہا ہے۔  جبکہ  مزید وضاحت  اس حکوم سےہورہی ہے کہ “ کوئی ادارہ آئین سے تجاوز نہ کرے۔“یہ تو ہمارا اپنا تجزیہ تھا ۔
کیونکہ یہ بڑا خطرناک کھیل ہے؟ اگر انصاف کے تمام دروازے بند کر دیں اور کسی بے ضرر جانور کو بھی ہر طرف سے محصور کر دیں تو وہ مارنے مرنے پر تیار ہو جا تا ہے۔ وہ صورت حال تو اب دور ہوگءی؟ کیونکہ فوج کی تاریخ یہ ہے کہ کمانڈر انچیف اس وقت تک ماتحت ہو تا ہے صدر یا وزیر اعظم کا، جب تک کہ اس کابطور کمانڈر انچیف نوٹیفکیشن جاری نہ ہوجائے اور اسے چارج نہ مل جائے؟ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ وہ آتا ان کی مرضی سے ہے اور جاتا اپنی مرضی سے ہے؟ پاکستان کی اٹھتر سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ اور ہمیشہ سے  یہ  “چو ہا بھاگ بلی آئی کا کھیل جاری ہے“ اسٹیبلش منٹ کے دونوں ہاتھوں میں لڈو رہتے ہیں؟ ایک میں حکومت اور دوسر ے میں حزب اختلاف ۔جبکہ طاقت کا سرچشمہ وہ چھوٹا سا ڈنڈا ہو تا ہے جو کمانڈر انچیف کی بغل میں دبا ہوتا ہے؟ اسی سے چیک اینڈ بیلینس کا کام لیکر اسے دونوں کو محرک رکھنا ہوتا ہے تاکہ کوئی حد سے تجاوز نہ کر پائے۔ میں کسی پر الزام نہ لگاتے ہوئے یہ بلا خوف ِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ  تحریکیں بھی کسی کی ہدایت پر تھیں اور جو بھی ہوا وہ بھی اسی کی ہدایت اور اسی کی شہ پر ہوا۔ مگر ہر چیز اپنے وقت پر صحیح رہتی ہے۔ نظام الاوقات میں کہیں کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔
    یہ تو تھی اندرونی صورت ِ حال جب سے ہم ایٹمک پاور بنے ہیں ہمارے دوستں کو سب سے فکر  اسی کی رہتی ہے لہذا وال اسٹریٹ جنرل فکر مند ہے کہ یہ ہتھیار کہیں غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جا ئے؟ ور اسی کے مطابق فوج دونوں دھڑوں میں مصالحت کی کو شش کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بہتر کون ہوسکتا،مصالحت کنندہ ؟ کیونکہ دونوں ہی نامکمل ہیں اس کی حمایت کے بغیر اور نہ ہی انکا کوئی مستقبل ہے۔ خدا خیر کرے کہ راستہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے اور مصالحتی کوششیں کامیاب ہو جائیں جوکہ ظاہر ہے کہ “ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہونا چاہیئے ؟ جبکہ یہ بھی ممکن ہے بغیر کسی نتیجہ کے  یہ بھی ختم ہو جائے کیونکہ کرٹ میچ بھی تو کبھی کبھی ڈرا ہو جاتا ہے؟ جیسے کہ پی پی پی کے دومیں طا ہرالقادری صرف وعدے لیکر چلے آئے تھے؟
کیونکہ پاکستان کی ساست اتنی الجھی ہو ئی ہے کہ کوئی اس کا بندہ ہے تو کوئی اس کا بندہ ہے۔ جبکہ اللہ کا بندہ کوئی نہیں ہے جس کےنام پر یہ ملک بنا تھا؟ ہر شخص یہ ہی سمجھتا ہے کہ اتنا کر نا کافی ہے کہ گھر میں قرآن شریف طاق میں رکھدیا جا ئے اور ایوان حکومت میں دستور کی اسلامی دفعات کو طاق مں رکھدیا جائے۔ سب یہ بھولے ہو ئے ہیں کہ بچھلی قوموں کی چالبازیوں پر اللہ سبحانہ تعالی انہیں کیا سزا دی ؟

 

Posted in Uncategorized

مسلمان پاکستان سے پہلے اور بعد میں۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

    جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو یہ دیکھا کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کر رہے تھے کیونکہ یہ انگریزوں کا طرز حکمرانی تھا کہ جن حصوں میں مسلمان اکثریت میں تھے وہاں ہندو حکمرانی کا کا انجام دیں اور جہاں ہندو اکثریت میں ہوں وہاں مسلمان۔ مزہ یہ تھا کہ سب بھائیوں کی طرح رہتے تھے اور سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بھی۔ یوں مسلمان اکثریت کے جن کو بخوبی قابو میں کیے ہوئے تھے۔  اس پرکمال یہ تھا کہ سب ایک دوسرے کے تیو ہاروں میں شریک ہوتے تھے مگر انہیں احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ الگ شناخت بھی رکھتے ہیں؟ لیکن ایک نادیدہ حصار تھا جس کے اندر مسلمان قلعہ بند تھے اور وہ اس کے ذریعہ اپنی شناخت بر قرار رکھتے تھے اور کبھی اتنے خلط ملت نہیں ہوئے جیسے کہ غیر محسوس طریقہ سے آج ہندو تہذیب کے چنگل میں اب ثقافت کے نام پر ہیں کہ ہندوستاں میں نوبت شادی بیاہ تک پہونچ گئی پاکستان نے یہاں تک تو ترقی نہیں کی مگربچے بچے کی زبان پر ہندوستانی گانے ہیں اور مہندی سے لیکر نکاح تک کی تمام تقریبات پاکستانی تہذہیب کا حصہ بن چکی ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ، ان میں اچھوں کا تناسب بہت زیادہ تھا کہ اس وقت برائی کو برائی سمجھا جاتا تھا اور اس پر نگراں بزرگ تھے اور ان کا سب احترام کرتے تھے وہ کسی نام پر بھی غیر اسلامی ثقافت کو رائج نہیں ہونے دیتے تھے؟   جبکہ برے گنتی کے چند لوگ ہوتے تھے۔وہ کوئی برائی اگر کرتے بھی تھے تو چوری چھپے؟ مسلمانوں کے پیشِ نظر یہ فخر تھا کہ ہم راہ ِ راست پر ہیں اورایک ہی بات کی لگن تھی کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیسے ہو ؟ اس پر مسلمانوں میں دو رائیں نہیں تھیں اور تمام فرقے متفق تھے۔
 حالانکہ فرقے تھے تو اس سوقت بھی تھے مگر فرقہ بندی نام کی کہیں کوئی برائی موجود نہ تھی۔ کہ ایک آواز کہیں سے اٹھی کہ “یہ بد عتی اور وہ بد عتی “ جس سے خلیج پیدا ہو کر بڑھنے لگی، پہلے سنیوں میں تفرقہ بازی پیدا ہوئی اور ملت دیوبندی اور بریلوی عقائد میں بٹ گئی۔ پھرسن چالیس کی دہائی میں شیعہ سننی کشیدگی پیدا ہوئی؟
 لیکن اسی دوران پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور انہیں نعرہ دیاگیا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اللہ الا اللہ ، سب نے آواز سےآواز ملائی اور فضا “ اللہ اکبر “ کے نعروں سے گونجنے لگی۔ ہندوستان بھر میں اس کارد ِ عمل ہوا اور ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے لہذا اکثریت کے خوف سے مسلمان پھر متحد ہوگئے، اس وقت بنگال سے صرف مولوی فضل الحق مرحوم کی آواز گونجی جوکہ متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے کہ “ اگر ایک مسلمان کو بھی کہیں نقصان پہونچا تو ہم اس کا بدلہ لیں گے “ اس کے صلے میں مسلم امہ نے انہیں شیر بنگال کے خطاب سے نوازا۔ مسلمانوں نے ازسر ِ نو اپنا تنقیدی جائزہ لیا جو تھوڑی بہت برائیاں تھیں ان کو بھی دور کرنا چاہا سوائے نام نہاد “ بد عتوں “ کے کیونکہ یہ مختلف فرقوں کے عقائد کا معاملہ تھا؟ بلا تفریق مساجد بھر گئیں امت نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور وہ سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ یہ اسی اتحاد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان بن گیا، بنا بھی اس مقدس مہینےاور رمضان شریف کی مقدس ترین رات میں یعنی ستائیسویں رات کو۔
 یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مسلمانوں کو تیاری کا موقعہ ہی نہیں ملا؟ اتنے میں دونوں طرف فسادات پھوٹ پڑے اور دونوں طرف سے آبادی کا انخلا شروع ہوگیا جوکہ کسی کے خواب اور خیال میں بھی نہ تھا، چونکہ مسلمان فوجوں کو جان کر اغیار نے ملک سے باہر ڈالا ہوا تھا لہذا مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ،سڑکیں غیر محفوظ ہو گئیں، ریلوے جو اس وقت سب سے بڑا نقل و حمل کا ذریعہ تھی وہ راستہ بھی مخدوش ہوگیا ،دونوں طرف خون میں نہائی ہوئی ٹرینیں بچی کچھی لاشوں کو لیکر آنے جانے لگیں، کچھ  لوگ ان کو غیر محفوظ دیکھ کر قافلوں کی شکل میں چلے ان پر بھی راستے میں حملے ہوئے؟ لیکن جن کی موت نہیں لکھی تھی وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پہونچنے میں کامیاب ہوگئے؟ مقامی لوگوں نے انصارِ مدینہ کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کا استقبال کیا؟
اس پورے عرصے میں کوئی عصمت دری کا واقعہ نہیں ہوا ، زندوں اورمردوں کی جبیں ٹٹولنے کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا، جو آج کل عام ہے نہ ہی چوری، نہ ڈکیتی، دھوکہ دہی کاواقعہ پاکستانی علاقہ میں پیش آیا۔
    کہتے ہیں کہ بگاڑ ہمیشہ اوپر سے شروع ہو تا ہے۔ پہلا بگاڑ وہاں سے شروع ہوا جب کہ مسلم رہنماؤں نے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں اس کی حکمرانی ہوگی؟ اسی کے ساتھ ٹال مٹول سے کام لینا شروع کیا ؟ پھر ہرایک اسلام کے لانے اور احتساب کے نام پر آتا رہا ہے؟ مگر ہم اسلام سے اتنے ہی دور ہوتے چلے گئے ، جتنے کہ پہلے قریب تھے؟ اب ہم پستی کے اس گڑھے کے قریب ہیں جو قرآنی زبان میں دوزخ کہلاتی ہے اور اس کی تپش ہم سب کو جھلسائے دے رہی ہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وعدہ خلافیوں کی بنا پر اپنی نصرت روک لی ہے۔ وہ محبت جو ہمارے دلوں میں تھی جس سے مواخات مدینہ ہوئی تھی مہاجر اورانصار کے درمیان،  جس کو مثال بنا کر انصار ِ پاکستان نے ان مقدس نفوس (رض) کے اتباع میں جو خود کو بطور ماڈل پیش کیا تھا وہ جذبہ نہ صرف دھندلاتا چلا گیا بلکہ آج ناپید ہے ۔ جھوٹ وعدہ خلافی نا انصافی وہ لعنتیں ہیں جو باہمی اعتماد کی دشمن ہیں۔ ان کیوجہ سے آج ہم میں باہمی اتحاد اور اعتماد مفقود ہے؟ پہلے ہم ہر مسلمان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرلیتے تھے۔ مجھے سندھ میں رہنے کی وجہ سے وہاں کاتجربہ ہے کہ کسی کے دروازے پر چلے جاؤ اور کہہ دو کہ ہم مہمان ہیں؟  گھر پر مرد بھی نہ ہو، تو بھی خواتین کھانا دیدیتیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ہمدردی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ دھوکہ دہی کی واردات نہ کر جائیں چور اور ڈاکوؤں کے ساتھی نہ ہوں؟
   ہمارے رہنماؤں نے یہ سوچ کر کہ وعدہ کرکے پھرنا برائی نہیں ہے، اسی روش کو عوام کے ساتھ بھی جاری رکھا کہ الیکشن کے لمبے چوڑے وعدے کرو اور پھر کانوں میں روئی دے لو،اور کہہ دو کہ وعدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے؟ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں؟علماءکا اتحاد بنا وہ کہیں کہیں پر بر سرِ اقتدار بھی آیا، لیکن کیا وہ حسب وعدہ پرانے بھاؤ اور خلافت راشدہ واپس لاسکے، جو انہوں نے بھٹو صاحب کے دور میں عوام سے وعدے کیئے تھے؟ضیاءا لحق ایک قدم اورآگے گئے کہ انہوں نے اقتدار پرقبضہ کرتے وقت کہا کہ دوسرے صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے، میرا وعدہ ہے کہ میں اسلام کو پاکستان میں عملی طور پر ہر شعبہ میں نافذ کرونگا ! مگروہ گیارہ سال میں نہیں کرسکے؟ پھرمشرف صاحب تشریف لے آئے انہوں نے عوام کو اسلام کی ڈگر سے ہٹا کر پاکستان کو ماڈرن بنا نا چاہا، وہ بھی جذوی طور پر کامیاب ہو سکے اوران کے گرد وہی لوگ جمع ہوسکے جو مفاد پرست تھے کیونکہ ابھی تک یہ ملت اس کے باوجود کہ اس میں تمام خرابیاں آگئیں ہیں ! اپنی تمام پریشانیوں کاحل اسلام میں ہی ڈھونڈتی ہے۔ جبکہ عمل کے اعتبار سے اسلام سے بہت دور چلی گئی ہے؟ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے اللہ جانتا ہے؟
   وجہ وہی ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی وہی کام کیا جو جانے والے کرتے آئے تھے۔ یعنی جھوٹے وعدے، بجلی کا بحران ہم چٹکی بجا تے ہی حل کر دیں، بد عنوانیاں دور کر دیں گے، سب کو روزگار مہیا کردیں گے؟ جبکہ انہیں معلوم تھا کہ بجلی گھر ایک دن میں نہیں بنا کرتے، اس سلسلہ میں گزشتہ حکومت کی ناکامی بھی دیکھ چکے تھے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر تے نہیں ہواور اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے(سورہ الصف آیات ١،٢)
اب جو رہنما بطور حزب ِاختلاف میدان میں ہیں وہ بھی وہی کام کر رہے ہیں یعنی گمراہ کن وعدے ؟ ان میں ایک جماعت وہ بھی شامل ہے جو کہ ایک صوبہ پر حکمراں ہے۔ وہ بھی اپنے وعدے وہاں پورے نہیں کر سکی گوکہ اس نے مخلصانہ کوشش کی،اور نہ ہی کوئی ان حالات میں پورے کرسکتا کیونکہ جب معاشرہ پورا کا پورا بد عنوان ہو تو وہ کل اور پرزے کہاں سے آئیں گے جو انقلاب بر پا کر کے اسے چلا سکیں؟ یہ ا نقلاب بھی جس کے آج کل نعرے لگ رہے ہیں اور تاریخیں دی جارہی ہیں یا تو مزید خون خرابے پر متنج ہونگے؟ اور اگر کسی اور کے اشارے پر ہورہے ہیں تو وہی ہو گا جو اب تک ہو تا آیا؟ کہ ً بی فاختہ ہمیشہ کی طرح انڈے دینگی اور سہیں گی بعد میں انہیں کوئے کھا جا ئیں گے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ اس کاحل کیا ہے وہ بھی قرآن نے ہمیں بتایا ہوا ہے کہ “ اگر تم سے کوئی غلطی ہوجائے تو مجھ  (اللہ )سے ہی رجوع کرو توبہ کر کے آؤگے تو میں معاف کردونگا۔ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما ئے ( آمین) اس یوم ِ استقلال سے من حیثیت القوم اس پر عمل پیرا ہوں۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ راضی ہو جا ئے اور عذاب ٹل سکے۔
 مگر یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ کیونکہ ہم برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں جو توبہ کریں۔ لیڈروں میں سے بشمول اسلامی جماعتوں کے دستور کی اسلامی دفعات کے نفاذ کی کوئی بات نہیں کرتا سوائے طاہر القادری  صاحب کے جوکہ اس پر خود عمل کرتے ہوئے ہمیں دکھائی دیتے؟ا جب تک ایسا کوئی  نہیں ملے گا، جو اسوہ حسنہ (ص) کو اپنائے کام کیسے بنے عوامی دباو اس سلسلہ میں پیدا کیسے ہوگا جبکہ مسلمان کہلانے کے باوجود عوام الناس کی اکثریت برائی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے؟

Posted in Uncategorized

مسلمان پاکستان سے پہلے اور بعد میں۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

    جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو یہ دیکھا کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کر رہے تھے کیونکہ یہ انگریزوں کا طرز حکمرانی تھا کہ جن حصوں میں مسلمان اکثریت میں تھے وہاں ہندو حکمرانی کا کا انجام دیں اور جہاں ہندو اکثریت میں ہوں وہاں مسلمان۔ مزہ یہ تھا کہ سب بھائیوں کی طرح رہتے تھے اور سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بھی۔ یوں مسلمان اکثریت کے جن کو بخوبی قابو میں کیے ہوئے تھے۔  اس پرکمال یہ تھا کہ سب ایک دوسرے کے تیو ہاروں میں شریک ہوتے تھے مگر انہیں احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ الگ شناخت بھی رکھتے ہیں؟ لیکن ایک نادیدہ حصار تھا جس کے اندر مسلمان قلعہ بند تھے اور وہ اس کے ذریعہ اپنی شناخت بر قرار رکھتے تھے اور کبھی اتنے خلط ملت نہیں ہوئے جیسے کہ غیر محسوس طریقہ سے آج ہندو تہذیب کے چنگل میں اب ثقافت کے نام پر ہیں کہ ہندوستاں میں نوبت شادی بیاہ تک پہونچ گئی پاکستان نے یہاں تک تو ترقی نہیں کی مگربچے بچے کی زبان پر ہندوستانی گانے ہیں اور مہندی سے لیکر نکاح تک کی تمام تقریبات پاکستانی تہذہیب کا حصہ بن چکی ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ، ان میں اچھوں کا تناسب بہت زیادہ تھا کہ اس وقت برائی کو برائی سمجھا جاتا تھا اور اس پر نگراں بزرگ تھے اور ان کا سب احترام کرتے تھے وہ کسی نام پر بھی غیر اسلامی ثقافت کو رائج نہیں ہونے دیتے تھے؟   جبکہ برے گنتی کے چند لوگ ہوتے تھے۔وہ کوئی برائی اگر کرتے بھی تھے تو چوری چھپے؟ مسلمانوں کے پیشِ نظر یہ فخر تھا کہ ہم راہ ِ راست پر ہیں اورایک ہی بات کی لگن تھی کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیسے ہو ؟ اس پر مسلمانوں میں دو رائیں نہیں تھیں اور تمام فرقے متفق تھے۔
 حالانکہ فرقے تھے تو اس سوقت بھی تھے مگر فرقہ بندی نام کی کہیں کوئی برائی موجود نہ تھی۔ کہ ایک آواز کہیں سے اٹھی کہ “یہ بد عتی اور وہ بد عتی “ جس سے خلیج پیدا ہو کر بڑھنے لگی، پہلے سنیوں میں تفرقہ بازی پیدا ہوئی اور ملت دیوبندی اور بریلوی عقائد میں بٹ گئی۔ پھرسن چالیس کی دہائی میں شیعہ سننی کشیدگی پیدا ہوئی؟
 لیکن اسی دوران پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور انہیں نعرہ دیاگیا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اللہ الا اللہ ، سب نے آواز سےآواز ملائی اور فضا “ اللہ اکبر “ کے نعروں سے گونجنے لگی۔ ہندوستان بھر میں اس کارد ِ عمل ہوا اور ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے لہذا اکثریت کے خوف سے مسلمان پھر متحد ہوگئے، اس وقت بنگال سے صرف مولوی فضل الحق مرحوم کی آواز گونجی جوکہ متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے کہ “ اگر ایک مسلمان کو بھی کہیں نقصان پہونچا تو ہم اس کا بدلہ لیں گے “ اس کے صلے میں مسلم امہ نے انہیں شیر بنگال کے خطاب سے نوازا۔ مسلمانوں نے ازسر ِ نو اپنا تنقیدی جائزہ لیا جو تھوڑی بہت برائیاں تھیں ان کو بھی دور کرنا چاہا سوائے نام نہاد “ بد عتوں “ کے کیونکہ یہ مختلف فرقوں کے عقائد کا معاملہ تھا؟ بلا تفریق مساجد بھر گئیں امت نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور وہ سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ یہ اسی اتحاد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان بن گیا، بنا بھی اس مقدس مہینےاور رمضان شریف کی مقدس ترین رات میں یعنی ستائیسویں رات کو۔
 یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مسلمانوں کو تیاری کا موقعہ ہی نہیں ملا؟ اتنے میں دونوں طرف فسادات پھوٹ پڑے اور دونوں طرف سے آبادی کا انخلا شروع ہوگیا جوکہ کسی کے خواب اور خیال میں بھی نہ تھا، چونکہ مسلمان فوجوں کو جان کر اغیار نے ملک سے باہر ڈالا ہوا تھا لہذا مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ،سڑکیں غیر محفوظ ہو گئیں، ریلوے جو اس وقت سب سے بڑا نقل و حمل کا ذریعہ تھی وہ راستہ بھی مخدوش ہوگیا ،دونوں طرف خون میں نہائی ہوئی ٹرینیں بچی کچھی لاشوں کو لیکر آنے جانے لگیں، کچھ  لوگ ان کو غیر محفوظ دیکھ کر قافلوں کی شکل میں چلے ان پر بھی راستے میں حملے ہوئے؟ لیکن جن کی موت نہیں لکھی تھی وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پہونچنے میں کامیاب ہوگئے؟ مقامی لوگوں نے انصارِ مدینہ کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کا استقبال کیا؟
اس پورے عرصے میں کوئی عصمت دری کا واقعہ نہیں ہوا ، زندوں اورمردوں کی جبیں ٹٹولنے کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا، جو آج کل عام ہے نہ ہی چوری، نہ ڈکیتی، دھوکہ دہی کاواقعہ پاکستانی علاقہ میں پیش آیا۔
    کہتے ہیں کہ بگاڑ ہمیشہ اوپر سے شروع ہو تا ہے۔ پہلا بگاڑ وہاں سے شروع ہوا جب کہ مسلم رہنماؤں نے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں اس کی حکمرانی ہوگی؟ اسی کے ساتھ ٹال مٹول سے کام لینا شروع کیا ؟ پھر ہرایک اسلام کے لانے اور احتساب کے نام پر آتا رہا ہے؟ مگر ہم اسلام سے اتنے ہی دور ہوتے چلے گئے ، جتنے کہ پہلے قریب تھے؟ اب ہم پستی کے اس گڑھے کے قریب ہیں جو قرآنی زبان میں دوزخ کہلاتی ہے اور اس کی تپش ہم سب کو جھلسائے دے رہی ہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وعدہ خلافیوں کی بنا پر اپنی نصرت روک لی ہے۔ وہ محبت جو ہمارے دلوں میں تھی جس سے مواخات مدینہ ہوئی تھی مہاجر اورانصار کے درمیان،  جس کو مثال بنا کر انصار ِ پاکستان نے ان مقدس نفوس (رض) کے اتباع میں جو خود کو بطور ماڈل پیش کیا تھا وہ جذبہ نہ صرف دھندلاتا چلا گیا بلکہ آج ناپید ہے ۔ جھوٹ وعدہ خلافی نا انصافی وہ لعنتیں ہیں جو باہمی اعتماد کی دشمن ہیں۔ ان کیوجہ سے آج ہم میں باہمی اتحاد اور اعتماد مفقود ہے؟ پہلے ہم ہر مسلمان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرلیتے تھے۔ مجھے سندھ میں رہنے کی وجہ سے وہاں کاتجربہ ہے کہ کسی کے دروازے پر چلے جاؤ اور کہہ دو کہ ہم مہمان ہیں؟  گھر پر مرد بھی نہ ہو، تو بھی خواتین کھانا دیدیتیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ہمدردی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ دھوکہ دہی کی واردات نہ کر جائیں چور اور ڈاکوؤں کے ساتھی نہ ہوں؟
   ہمارے رہنماؤں نے یہ سوچ کر کہ وعدہ کرکے پھرنا برائی نہیں ہے، اسی روش کو عوام کے ساتھ بھی جاری رکھا کہ الیکشن کے لمبے چوڑے وعدے کرو اور پھر کانوں میں روئی دے لو،اور کہہ دو کہ وعدے قر آن اور حدیث نہیں ہوتے؟ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں؟علماءکا اتحاد بنا وہ کہیں کہیں پر بر سرِ اقتدار بھی آیا، لیکن کیا وہ حسب وعدہ پرانے بھاؤ اور خلافت راشدہ واپس لاسکے، جو انہوں نے بھٹو صاحب کے دور میں عوام سے وعدے کیئے تھے؟ضیاءا لحق ایک قدم اورآگے گئے کہ انہوں نے اقتدار پرقبضہ کرتے وقت کہا کہ دوسرے صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے، میرا وعدہ ہے کہ میں اسلام کو پاکستان میں عملی طور پر ہر شعبہ میں نافذ کرونگا ! مگروہ گیارہ سال میں نہیں کرسکے؟ پھرمشرف صاحب تشریف لے آئے انہوں نے عوام کو اسلام کی ڈگر سے ہٹا کر پاکستان کو ماڈرن بنا نا چاہا، وہ بھی جذوی طور پر کامیاب ہو سکے اوران کے گرد وہی لوگ جمع ہوسکے جو مفاد پرست تھے کیونکہ ابھی تک یہ ملت اس کے باوجود کہ اس میں تمام خرابیاں آگئیں ہیں ! اپنی تمام پریشانیوں کاحل اسلام میں ہی ڈھونڈتی ہے۔ جبکہ عمل کے اعتبار سے اسلام سے بہت دور چلی گئی ہے؟ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے اللہ جانتا ہے؟
   وجہ وہی ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی وہی کام کیا جو جانے والے کرتے آئے تھے۔ یعنی جھوٹے وعدے، بجلی کا بحران ہم چٹکی بجا تے ہی حل کر دیں، بد عنوانیاں دور کر دیں گے، سب کو روزگار مہیا کردیں گے؟ جبکہ انہیں معلوم تھا کہ بجلی گھر ایک دن میں نہیں بنا کرتے، اس سلسلہ میں گزشتہ حکومت کی ناکامی بھی دیکھ چکے تھے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر تے نہیں ہواور اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے(سورہ الصف آیات ١،٢)
اب جو رہنما بطور حزب ِاختلاف میدان میں ہیں وہ بھی وہی کام کر رہے ہیں یعنی گمراہ کن وعدے ؟ ان میں ایک جماعت وہ بھی شامل ہے جو کہ ایک صوبہ پر حکمراں ہے۔ وہ بھی اپنے وعدے وہاں پورے نہیں کر سکی گوکہ اس نے مخلصانہ کوشش کی،اور نہ ہی کوئی ان حالات میں پورے کرسکتا کیونکہ جب معاشرہ پورا کا پورا بد عنوان ہو تو وہ کل اور پرزے کہاں سے آئیں گے جو انقلاب بر پا کر کے اسے چلا سکیں؟ یہ ا نقلاب بھی جس کے آج کل نعرے لگ رہے ہیں اور تاریخیں دی جارہی ہیں یا تو مزید خون خرابے پر متنج ہونگے؟ اور اگر کسی اور کے اشارے پر ہورہے ہیں تو وہی ہو گا جو اب تک ہو تا آیا؟ کہ ً بی فاختہ ہمیشہ کی طرح انڈے دینگی اور سہیں گی بعد میں انہیں کوئے کھا جا ئیں گے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ اس کاحل کیا ہے وہ بھی قرآن نے ہمیں بتایا ہوا ہے کہ “ اگر تم سے کوئی غلطی ہوجائے تو مجھ  (اللہ )سے ہی رجوع کرو توبہ کر کے آؤگے تو میں معاف کردونگا۔ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما ئے ( آمین) اس یوم ِ استقلال سے من حیثیت القوم اس پر عمل پیرا ہوں۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ راضی ہو جا ئے اور عذاب ٹل سکے۔
 مگر یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ کیونکہ ہم برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں جو توبہ کریں۔ لیڈروں میں سے بشمول اسلامی جماعتوں کے دستور کی اسلامی دفعات کے نفاذ کی کوئی بات نہیں کرتا سوائے طاہر القادری  صاحب کے جوکہ اس پر خود عمل کرتے ہوئے ہمیں دکھائی دیتے؟ا جب تک ایسا کوئی  نہیں ملے گا، جو اسوہ حسنہ (ص) کو اپنائے کام کیسے بنے عوامی دباو اس سلسلہ میں پیدا کیسے ہوگا جبکہ مسلمان کہلانے کے باوجود عوام الناس کی اکثریت برائی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے؟

Posted in Articles