کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے سامنے جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری جنر ل جناب لیاقت بلوچ صاحب کے چند ارشادات ہیں۔جو کہ ہم نے مورخہ 24 جولا ئی2014 ءکے جنگ اخبار میں پڑھے۔ ً جو یہ تھے کہ (١)گن پوائنٹ پرشریعت کے غلبے کی بات کرنے والے غلط راستے پر ہیں(٢) فاٹا پر تیسری بار آپریشن ہورہا ہے ،لیکن صورت ِ حال بہتر نہیں ہو رہی ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اور عالم اسلام کو تقسیم کیا جا رہا ہے لیکن مسلمان حکمراں خاموش ہیں (٣) دہشت گردی او ر فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر آئی ڈی پیز کا خیال رکھنا بھی ہمارا فریضہ ہے ً
چونکہ ہم جانتے ہیں کہ لیاقت بلوچ صاحب ہمیشہ سچ کہتے ہیں ۔ لہذا ان پر وہ مثال صادق آتی ہے کہ “ کھری بات سعد اللہ کہیں اور سب کے من سے اترے رہیں “ ماہرین لغات نے اس پر کبھی قلم فرسائی نہیں کی کہ کوئی سعد اللہ نامی شخص تھے بھی یا نہیں ممکن ہے یہ بھی صرف دو ہندو سورماؤ ں “آلہ اودل “ کے جواب میں اکبر کے درباریوں کی تیار کردہ داستانِ  “امیر حمزہ “  ہوجس کا اصل حضرت امیر حمزہ  رضِی اللہ تعالیِ سے کوئی تعلق نہیں ہو اور اس میں بیان کردار عمر و عیار کی طرح جس کی زمبیل میں بہت سے شہر آباد تھے یہ بھی ایسا ہی کوئی کردار ہو۔؟ ہمیں معلوم نہیں کہ اگر واقعی کوئی سعد اللہ صاحب تھے تو وہ کس صدی میں تھے اور انکا انجام کیا ہوا۔ کیونکہ سچ کہنے والے کو ہمیشہ برا بنتے تو دیکھا پھانسی چڑھتے دیکھا مگر جمہوریت میں انتخاب جیتتے نہیں دیکھا؟ رہے سچے اور عادل حکمراں اور وہ پارلیمانی جمہوریت رائج ہونے سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ لیاقت بلوچ صاحب جماعت کے امیر نہ بن سکے؟
لیکن ہمیں بلوچ صاحب کے یہ ارشادات بالکل پہیلی لگے ، ایسا جب ہوتا ہے کہ جب کوئی سچا انسان سچ کہنا چاہے اور مجبوریاں حائل ہوں تو اپنے خیا لات کو کاٹتا چھانٹتاہے اور اس کی وجہ سے جملے بے ربط ہوکر پہیلی نظرآ نے لگتے ہیں؟
سب سے پہلے (١) کو لیجئے کہ گن پوائنٹ پر شریعت کے غلبے کی بات کر نے والے غلط راستے پر ہیں ؟ یہ مبہم  اس لیے ہے کہ شریعت سے مراد دین ہے یا فقہ کیونکہ یہ اب دونو کے لیے رائج ہے۔ اگر ہم بھول نہیں رہے ہیں کہ بوڑھے ہوگءے ہیں۔  توجب جماعت اسلامی بنی اس وقت مولانا مودودی رحمہ اللہ تعالیِ  نے اس میں بڑی لچک رکھی تھی یعنی ہر مسلمان جو دنیا میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیئے کام کرنا چاہتا ،وہ اپنے عقائد پررہتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا تھا لہذا سب نے اس پرلبیک کہا علامہ اقبال (رح) جیسے صوفی منش آدمی نے بھی جماعت کے دعوے کے مطابق انہیں پنجاب میں آکر تبلیغ کرنےکی دعوت دی۔ اور انہوں نے گورداسپور کے علاقہ میں پہلی مثالی اسلامی بستی قائم بھی کی، جماعت ابھی پوری  طرح جڑ نہ پکڑ پائی تھی کہ پاکستان بن گیا۔ مولانا کو ہجرت کرنا پڑی اور یہاں آکر جب انہوں نے دیکھا کہ حکمراں اپنے وعدوں میں مخلص نہیں ہیں؟ تو اکیاون علماءکو جمع کرکے وہ بنیاد فراہم کی جس پر سب متحد ہو کر ملک میں رہ سکیں۔اس سے شیخ السلام مولانا شبیر عثمانی  (رح)کو تقویت ملی اور ان کے دباؤ کی وجہ سے قراردادِ مقاصد پاس تو ہوگئی مگر نافذ آج تک نہ ہوسکی۔؟

مولانا کےساتھ ان کے ہمسایہ بھی ہجرت کرکے پاکستان آگئے  بمع اپنے وکیل سر ظفر اللہ خان کے جنہوں نے اس بات کی وکالت کی تھی کہ ان کا مقدس مقام قادیان اور سکھوں کے مقدس مقامات گورداسپور کے علاقہ میں واقع ہیں لہذا اس کو پاکستان میں شامل نہ کیا جاے کیونکہ وہ خطرہ میں پڑ جائیں گےاور دلیل سائیمن کمیشن مان لیا بھی؟  بھارت کو فائدہ  یہ ہوا کہ اس کے نتیجہ میں اس کو کشمیر جانے کے لیئے زمینی راستہ مل گیا۔ پاکستان بن گیا نادیدہ ہاتھوں نے سرظفر اللہ خان وزیر خارجہ بنا دیا۔  چونکہ ان کے خلیفہ وقت بھی  وہ محفوظ مقام چھوڑ کر پاکستان تشریف لے آئے تھے انہیں بھی نوازا گیا اور سرکاری طور ربوا میں بسا دیا گیا۔ عوام میں بے چینی پیدا ہوئی تو مولانا مودودی (رح) تحریکِ ختم نبوت  میں شامل ہو گئے اور سزائے موت تک پہونچے؟سعودی عرب کی کوششو ں سے رہا ئی ملی۔،  رہائی کے ساتھ جماعت کی پالیسی بھی بدل گئی کیونکہ سعودی عرب سے دوستی کے لیے یہ ضروری تھا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے پرانے لوگ جماعت چھوڑ گئے ۔ جن میں مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی ، ڈاکٹر اسرار الحق وغیرہ شامل تھے۔ اس کے بعد کتنے ہی دوراہے اور چورا ہے آئے مگر جماعت کا راستہ نہیں بد ل سکا ۔
جب  سےبدلی ہوئی جماعت سب کو ساتھ لیکر چلنے  کےبجا ئے اس کو بدعتوں سے پاک کر نے والوں کی جماعت بن گئی۔ اور  “لا اکراہ فی الدین “ سے ہٹ کرجبر والا راستہ اپنالیا ۔ کہ پہلے اقتدار پر قبضہ کیا جائے اور پھر دین کی آڑ میں سعودی شریعت قائم کی جا ئے جبکہ اس سے پہلے وہ اسوہ حسنہ (ص) پر چل رہے تھے کہ “ پہلے وہ لوگ پیدا کیئے جا ئیں جو دین  پر یقین ِ کامل رکھتے ہوں تاکہ وہ اسلامی نظام کے لیے قیادت فراہم کر سکیں “ جبکہ شریعت سے مراد نبی (ص) کے دور میں فقہ نہیں بلکہ دینِ اسلام تھا۔ یہ تھا وہ موڑ جس سے جماعت اسلامی آج تک نکل نہ سکی ،جبکہ چاہتی تو ہے اور یہ بیان اس کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔ آگے وہ فرماتے ہیں کہ فاٹا پرتین مرتبہ آپریشن ہوا مگر صورتِ حال میں بہتری نہیں آئی؟جبکہ میرے خیال میں یہ بہترین فوجی حکمت عملی تھی کہ شر پسندوں کو پہلے ایک جنت فراہم کردی جائے ، پھر ہر طرف سے گھیر گھار کر ان کو ایک جگہ جمع کردیا جائے تاکہ بیخ کنی میں آسانی ہو؟ لیکن حتمی کاروائی میں شدت پسندوں کے سرپرست حائل رہے جس کی وجہ سے دیر لگی لیکن اب وہ اپنے منطقی انجام کے قریب ہیں ۔البتہ شاخیں ختم کرنے میں وقت لگے گا جو دوب کی جڑوں کی طرح پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ جبک پروفیسر ابراہیم صاحب کی مخلصانہ ثالثی ناکام رہی بلکہ وہ اس سے اور بھی شیر ہو گئے تھے۔ بقول علامہ اقبال (رح) ع ۔“ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے  ہیرے کا جگر    مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر “
پھر فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کاہم خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن ڈی آئی پیز کا خیال رکھنا ہمارا فریضہ ہے۔ اس پر تو دورائے نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ اسلام نیکی میں تعاون اور برائی کے خلاف کھڑے ہونے کو کہتا ہے۔ شدت پسندی کے بیج بونے میں افغانستان جہاد میں جماعت نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ اتنی مستعد دکھائی نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی وہ طاقتیں جنہوں نے اس کی وجہ سے اس علاقہ میں قدم جما ئے تھے۔ جبکہ ان کے بوئے ہو ئے بیج پاکستان اکیلا کاٹ رہا ہے۔
اب رہ گئی تیسری بات  یہ کہ فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، عالم اسلام کو تقسیم کیا جارہا ہے لیکن مسلم حکمراں خاموش ہیں؟ اس کی وجو ہات بھی بلوچ صاحب کو معلوم ہیں؟ کہ جہاں سے مسلمان حکمراں کنٹرول ہو تے ہیں وہ جب کہتے ہیں تب مسلم حکمرانوں  کاچودھری بولنے کی اجازت دیتا ہے اس کے یہ بولتے ہیں۔ جبکہ حماس کے سلسلہ میں چودھری کہہ  رہا ہےاور ماروکیونکہ یہ مجھے چودھری نہیں مانتے ہیں؟ رہی یہ بات کہ عالم اسلام کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر پرانی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں عالم اسلام کو اس وقت تقسیم کیا گیا تھا جب خلافت ختم کر کے با دشاہتیں قائم کی گئیں تھیں۔اور ایک نیا فقہ طاقت کے ذریعہ حرم شریف پر نافذ کیا گیا تھا تاکہ فرقہ بندی اور شدت پسندی کو عالمی حیثیت مل جائے۔ جو اسے مل چکی ہے۔

 

 

Posted in Articles

جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
کبھی مومن کی دانشمندی مشہور تھی مگر جب سے ہم نے قرآن اور سنت کو چھوڑا تو ہم سے ہماری ایک ایک صفت ناراض ہوکر ہمارا ساتھ چھوڑتی چلی گئی، انہیں میں مومن کی فراست، دیانت، صداقت، حمیت اور اخوت شامل ہیں۔ ایک دور تھا کہ دنیا مومن کی فراست سے ڈرتی تھی۔ مگر آج نہ وہ مومن ہیں، نہ فراست ،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے ہمیں جو چاہتا ہے جدھر چاہتا ہے ہانک لیتا ہے بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہم ایک بھیڑوں کا گلہ ہیں کوئی بھی سبز باغ دکھا ئے تو ہم اس کے پیچھے چلد یتے ہیں اور سوچنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں پر یہ سبزہ زار دکھا رہا ہے وہاں بارش بھی ہوتی یانہیں؟ کبھی ہمارے سامنے جہاد ہو تا ہے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوتی ہے اور ہم بے وقوف بن رہے ہوتے ہیں مگر داعی سے پوچھتے نہیں کہ خود بھی وہ اس پر عامل ہے یا نہیں ؟کبھی ہمارے سامنے ذات اور برادری ہو تی ہے۔ کبھی زبان اور عصبیت ہوتی ہے اور ہم بغیر سوچے سمجھے ہر کسی کے چکر میں آجاتے ہیں؟اس سلسلہ میں جتنا نقصان ہم نے اٹھایا ہے، دنیا میں شاید کسی قوم نے نہیں اٹھایاہوگا؟ وجہ کیا ہے کہ ہمارے پاس جو دوچیزیں ہیں ہرایک کو پرکھنے کے لیے، ایک کتاب ِ بصیرت قرآن اور دوسری اسکی عملی تفسیر حضور (ص) کاا سوہ حسنہ۔ جو کہ ہمارے لیئے منبع ہدایت تھیں انہیں کو ہم نے پسِ پشت ڈالدیا ۔
اب عالم یہ ہے کہ جو کوئی نعرہ لگا ئے ہم اس کے پیچھے ہولیتے ہیں،بغیر یہ معلوم کیے ہوئے کہ یہ ممکن بھی ہے یانہیں۔اگرمیں تفصیل میں جاؤں تو اس چھوٹے سے کالم میں یہ سمو نا ممکن نہیں ہے۔ اور بعض حماقتیں تو ایسی ہیں یا تو آپ کو لطیفہ لگیں گی یا صریحاً جھوٹ ؟ مثلاً پچھلی صدی کے اوائل میں ہندوستان سے دس کروڑ مسلمانوں کو افغانستان ہجرت کرنے کا مشورہ، جس پر چند ہزار لوگوں نے عمل کیا اور خوار ہوئے؟ بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے کے لیئے جھانسہ کہ وہ سات سال پہلے والے بھاؤ واپس لے آئیں گے ؟جبکہ دنیا میں افراط زر کی وجہ سے چند فیصد گرانی ہر سال بڑھتی رہتی ہے،ترقی یافتہ ممالک اپنے بجٹ اسی حساب سے بناتے ہیں لہذا قیمتوں میں اتنی بڑی رجعت قہقری کسی صورت ممکن نہیں تھی؟ لیکن ہم نے بہکانے والوں کی آنکھوں سے دیکھا اور نتیجہ ہوا کہ عملی طور پر ان کی آڑمیں اسلام لانے کا وعدہ کرکے ضیاءالحق نے اقتدار پرقبضہ کرلیا جس کے بوئے ہوئے کانٹے ہم آج تک چن رہے ہیں؟ یہ تو تھے برِصغیر ہندو پاک کی تاریخ کے دو واقعات۔ اب عالم اسلام کو لیتے ہیں؟
بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ خلافت ِعثمانیہ جب قرآن اور سنت کو ہماری طرح چھوڑ بیٹھی تووہ اغیار اور شر پسندوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئی، اور اس کا پہلا کام یہ رہ گیا کہ خلیفہ اپنی ان گنت بیگمات میں گھرا رہے اور عیش کرکے غم غلط کرے ؟ اور  دوسرایہ رہ گیا تھا کہ جو شر پسند جس علاقے کو فتح کرلے اس کو سند ِ بادشاہت عطا کردے؟ ایسی صورت میں عدل پر رہنااور عدل قائم رکھنا جو خلیفہ کی ذمہ داری تھی اور جس کی رعیت عادی تھی، کہ ا سلامی روایات اس کے سامنے تھیں وہ خوبیاں حکمرانوں میں نہ پاکر ان میں بیچینی پیدا ہوئی؟ اس سے اغیار نے جوموقعہ کی تاک میں تھے فائدہ اٹھایا اور اپنے مہرے ان کی جگہ فٹ کردیے ۔ اگر مسلمان ، مسلمان ہوتے اور اسلامی تاریخ اورتعلیمات سے واقف ہو تے کبھی انہیں قبول نہ کرتے ؟اور نہ ہی یہ صورت ِ حال پیدا ہوتی جو آج کل صرف فلسطین میں ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا میں دیکھ رہے ہیں ہے؟ خلافت جیسی بھی تھی، اس کے ہونے سے اخوت اسلامیہ کا تصور باقی تھا؟ کوئی کسی خطہ کا بھی مسلمان ہو تا، ہر جگہ جا کر مستقل بس جاتا تھا جو کہ آج مسلمان ممالک میں ناممکن ہے ۔
خلافت کے خاتمے کے بعد جنکو بادشاہ بنا یا گیا پورے عالم اسلام میں سے اغیار کو صرف تین ہاشمی برادران ملے جن میں سے ایک کو شام والوں نے جمنے نہیں دیا، دوسرا عراق کابادشاہ تھا جس سے بعد میں عراقیوں نے جان چھڑالی اور تیسرے کو شرق اردن(جارڈن) ملا جو ابھی باقی ہے۔ جبکہ سابقہ فلسطین عزرائیل بنا جوکہ آجکل اسم بہ مسمیٰ ہے؟ اور انہیں کے ساتھ جن کو عرب کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا امام بنایا گیا اسکے محل ِ وقوع کی بناپر، یہ وہ قبیلہ تھا جو کہ اپنی قریش دشمنی کے لیے مشہور تھا۔ وہ قبیلہ پرستی اور بربریت کے زور پر آج تک قائم ہے؟ یہ نسلی عصبیت ہی تھی جس کی وجہ سے نجدی بارہویں ہجری تک اسلام نہیں لائے اور حضور (ص) سے لڑتے رہے اور آخری وقت تک جب کہ پورا عرب اسلام لے آیا، وہ تب بھی مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان کے سردار نے حضور (ص) کو شہید کرنے کی کوشش کی حضور (ص) نے اسے بد دعا دی اور واپس جاتے ہوئے وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرگیا ؟یہ پوری تفصیل تاریخ ابن کثیر (رح)میں موجود ہے وہاں پڑھ لیجئے؟
اب مسلم دنیا میں حالت یہ ہے کہ کوئی مسلمان ملک کسی مسلمان کو شہریت دینے کو تیار نہیں ہے؟ وہاں بھی نہیں جہاں لوگ حرم شریف میں عبادت میں مصروف رہ کر پہلے عمریں گزار دیتے تھے، جائداد خرید کرکے حجاج کے قیام اور مفت استعمال کے لیے مسافر خانے بنا کروقف کر دیتے تھے اب جو کہ مسمارکردی گئیں اور ان کی جگہ شہزادوں کے ہو ٹل بن گئے ہیں؟ جو کہ شاہی خاندان کی کمائی کا ذریعہ ہیں؟
آج مسلمانوں کو شہریت ملتی ہے تو ان ملکوں میں جن کی طرف ہجرت کرنا ہمارے علماءکے نزدیک منع ہے؟ لہذا ہماری اکثریت ان کی میزبانی کے باوجود ،اور شہریت کے حصول کے بعد بھی پوری طرح ان ملکوں کی وفادار نہیں ہو پا تی؟ اور کوئی بھی اپنا جیسا ان کو چکر دیدے تو وہ فوراً متاثر ہو جاتے ہیں۔شر پسندوں کے بہکائے میں آکر نام نہادجہاد میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہو تے کہ جہاد ہے کیا اور اس کی شرائط کیا ہیں اور ہمیں غیر ملکوں میں رہنے کے آداب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں کے مقامی قوانین کی پابندی کرو، تو یہ بات نہ ہوتی؟مگر ہم کرتے کیا ہیں کہ جب سے افغانستان اور پاکستان نام و نہاد جہاد کا نشانہ بنے؟ ہماری نئی نسل بغیر یہ جانے کہ جہاد کے معنی کیا ہیں شرائط کیا ہیں بری طرح جہاد کی طرف راغب ہوگئی ؟جبکہ ان کے ماں باپ نے نئی نسل کی طرف سے ا نکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ ڈالر کمانے سے انہیں فرصت نہیں ہے؟آج کی نئی نسل تمام ملکوں کے لیے بلا امتیاز پریشانی کا باعث بن ہوئی ہے؟
میں پہلے بات اپنے ملک سے شروع کر تا ہوں جس کا میں شکر گزار ہوں کہ اس میں رہتے ہوئے مجھے وہ تمام سہولتیں حاصل ہوئیں جو میں کہیں اور رہ کر نہیں پاسکتا تھا، جیسے کہ سچ بولنا اور سچ دنیا تک پہونچانا؟ چونکہ قرآن نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ً بھلائی کا بدلا بھلائی ہے ً میں شکر گزار ہوں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بعد اس ملک کا اورمجھے اس کے شہری ہونے پر فخرہے ؟ مگر مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کنیڈا کا ہی ایک نوجوان جوکہ انتہائی ذہین تھا وہ عراق میں جاکر پھٹ پڑتا ہے، جوکہ کنیڈین شہری بھی تھا جب حکومت کناڈا کو اس کاشہری ہونے کی وجہ سے اس کے مرنے کی اطلاع ملتی ہے تو ماں باپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے نے یہ کار نامہ انجام دیا ہے۔ مگر انہیں یقین نہیں آتا کہ ان کا بیٹا ایسا کر سکتا ہے ؟ جبکہ وہ چھپن انسانوں کومارکر مر بھی چکا تھا؟ یہ ہے بیٹوں کا حال ؟
اب بیٹیوں کا حال دیکھئے کہ برطانیہ سے خبر آئی ہے کہ دوجڑواں بہنیں۔ شام پہونچ گئیں کہ انہیں یہ سمجھایا گیا، مجاہدوں کی بیوی بننا بہت بڑے ثواب کاکام ہے اور وہ ثواب کمانے کے لیے اور جنت بنانے کے لیے وہاں تشریف لے گئیں، جبکہ انکے ماں باپ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع پولس میں درج کرا ئی ہوئی تھی۔ وہاں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں ڈیرھ ہزار سے دوہزار تک برطانوی نوجوان شام جا چکے ہیں اوروہاں لڑرہے ہیں؟ ابھی عراق سے خبریں آرہی ہیں کہ وہاں کچھ حصہ پر خلافت قائم کر دی گئی ہے کسی ابو بکر نامی کی قیادت میں جن کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہے اور دنیا پر ہاشمی ہو نے کی وجہ سے امیرالمونین بننے کے وہ زیادہ مستحق ہیں ۔ جبکہ ان کا پسِ منظر یہ ہے کہ وہ القاعدہ کا ہی کبھی دھڑا تھے ۔ کچھ لین دین پر جھگڑا ہوا اور وہ علیحدہ ہو گئے؟ خدا کرے یہ خبر غلط ثابت ہو ؟ اگر وہ قر آن دیکھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ صرف ہاشمی ہونا کسی کا بھی خلافت پر استحقاق ثابت نہیں کرتا، جب تک کہ وہ دوسری شرائط پوری نہ کرتا ہو ان میں پہلی ترجیح تقویٰ  کوہے اور کسی ملک میں شر پھیلانا تقوے کی کونسی قسم ہے لوگوں کو قتل کرنا اور مزاروں کو اڑانا کونسا اسلام ہے ؟یہ پیغمبروں کے مزارات تو حضور (ص) کے زمانے میں بھی موجود تھے پھر خلفائے راشدین (رض) کے زمانے بھی موجود رہے مگر انہوں نے کبھی تعرض نہیں کیا تو پھر انکے عقائد کہیں اس ملک کے عقیدے کو تو ظاہر نہیں کر رہے ہیں جس کے تحت بد عت کے نام وہابیت کے ماننے والوں نے پورے سعودی عرب میں مزارات ڈھادیئے۔ پھر عراقیوں کی عقلوں کو کیا ہوا ہے جبکہ ان کو سابقہ تجربہ بھی ہے کہ ان کے حصہ میں ایک ہاشمی با دشاہ پہلے آچکے ہیں ؟ جن سے نے انہوں نے با مشکل جان چھڑائی تھی۔ کچھ حالیہ خبریں پاکستان سے آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز شریف صاحب کے محلات کے قریب دہشت گرد ڈیرہ ڈالے ہو ئے تھے۔ ان کے ارادے کیا تھے بعد میں معلوم ہوئے انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت پر جلوسوں اور وزیر اعظم کے محلات کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کو دیہات میں ایک ڈاکٹر صاحب کا مکان بآ سانی مل گیا کیونکہ انہوں نے کرایہ سے غرض رکھی، صرف دوضامن لے لیئے اور مکان دیدیا۔ انہیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح  پولس کو اطلاع کرنا چاہیے تھی کہ وہ معلوم کرتے، کہ ان کو وہاں آباد ہونے میں کیا دلچسپی ہے ۔ کیاپڑھے لکھے اور ذمہ دار شہریوں کو ایسا ہی ہونا چاہیئے؟ جبکہ ہماری پولس گروہ کی جڑ تک تب پہونچی کہ اس گروہ کی ایک فاحشہ عورت سے کسی نوجوان کا لین دین پرجھگڑا ہوااور اس نے اسے دھمکی دی کہ میں تجھے بم سے اڑادوں گی ؟ اس نے جا کر پولس سے شکایت کی پولس نے اس خاتون کو گرفتار کر لیا اور اسکے ذریعہ وہ تمام ملزموں تک پہونچی۔اس نازک وقت میں یہ بات قوم کوان سے بھی پوچھنا چاہیے کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں کہ انکی کامیابی کے امکانات کیا ہیں اور اگر وہ کل بتانے بات کریں! تو یقین مت کیجئے گا اس لیے کہ آپ مومن ہیں اور مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈساجاتا اورجبکہ وہاں کی روایت یہ ہے کہ کامیاب ہونے والے لوگ دوسرے دن بدل جاتے ہیں؟ یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے جسے عشرہ نجات کہتے ہیں۔ مفسرین کے مطابق یہ جہنم سے نجات کا عشرہ ہے؟ لیکن وہ معنی بدلنے پر بھی قادر ہے ۔اسکے سامنے توبہ کریں تو یقیناً اسے رحم آجائے گا کیوںکہ رحم کو اس نے اپنے غضب پرغالب کر رکھا ہے اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے کہ ہم آجکل جس عذاب سے گزرہے ہیں ، اس سے وہ نجات دیدے اور دنیا جنت بن جائے ۔(آمین)
 

 

Posted in Articles

آئیے رمضان کی بر کات حاصل کریں!۔۔۔شمس جیلانی

آئیے رمضان کی بر کات حاصل کریں!۔۔۔شمس جیلانی
آپ سب کو میری طرف سے رمضان ِ کریم مبارک ۔ دنیا کی باتیں تو ہم ہمیشہ ہی کرتے رہتے ہیں پتہ نہیں اگلے سال یہ ماہ مبارک ملے یا نہ ملے۔لہذا آئیے آج صرف رمضان کی باتیں کریں۔سب سے پہلے تو ہم اللہ سبحانہ تعا لیٰ کا شکر اد کریں کہ جس نے ہمیں اچھی صحت میں رکھتے ہوئے رمضان المبا رک سے نوازا۔ یہ معمو لی بات نہیں ہے اگر ہم سمجھیں ،نہ سمجھنے والو ں کے لیے یہ  نعمت کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیو نکہ وہ اس سے لاعلم ہیں ااور قرآن میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ بار بار ار شاد فر ما رہے ہیں کہ قر آن صرف صاحبِ عقل لو گو ں کے لیے ہے (یعنی یہ فاتر العقل اور کم عقلو ں کے لیئے نہیں ہے) اور دو سری جگہ ار شاد فر ما رہے ہیں کہ ہے کو ئی کہ اس پر غور کرے ، پھر یہ بھی فر ما یا جارہاہے کہ قرآن آہستہ ،آہستہ پڑ ھا کرو۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس ماہِ مبارک کے ہم سے تقاضے کیا ہیں اور ہمارے فرائض کیا ہیں۔ کیو نکہ قرار دینے والے نے اس ماہ ِ مبارک کویوں عظیم قرار دیاہے کہ اس میں اس نے ہمیں قر آن ِ کریم عطا فر ما یا۔اور قر آن کریم کیا ہے اس کے جوابا ت بھی خو د ہی دوعددعنا یت فر ما دیئے وہ یہ کہ ایک جگہ قرآن میں ہی  اسےشفا فی المومنین فر مایا اور دوسری جگہ شفا فی الناس فرما کر اس کے فوائد تمام انسانیت کے لیے عام فرما دیئے؟یہ اس لیئے کہ وہ رب المونین کے ساتھ، رب العالمین بھی ہے ، پھر اس کو اپنی پوری کائنات بھی چلا نا ہے، چونکہ جنت اور دوزخ دونوں کارازق بھی وہی ہے لہذا دونوں کو اسے بھرنا بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مومن کا حصہ دونوں جگہ ہے، دنیا میں بھی اور عاقبت میں بھی؟ جبکہ منافقوں اور منکروں کے لیے  دنیا تو ہےاگر وہ اس پر عمل کریں، مگر عاقبت میں ان کا حصہ یوں نہیں ہے کہ وہ اسے مانتے ہی نہیں ہیں۔ ہاں! منافق توبہ کرلیں اور منکر ایمان لے آئیں تو دوسری بات ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔
اگر آپ آنکھوں پر سے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو،غیر اسلامی ملکوں میں بہت سی اچھی باتیں ہیں اور ان کی بر کات بھی اپنے چاروں نظر آئیں گی؟ مثلا ً انصاف، انسانی ہمدردی اور جہاں بھی ہوں جس پوزیشن پر بھی ہوں وہاں اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کرنا۔ اس لیئے کہ انہوں نے اسلام سے دو اصول لے لیے، عدل اور احسان ؟ عدل کے معنی تو آپ سمجھتے ہیں اور ہر جمعہ کے خطبے میں سنتے بھی مگر احسان بہت وسیع ہے جو ہر فعل کو اکملیت کی طرف لے جاتے ہیں جیسے کہ حسن انتظام، حسن ِ تدبیر ، حسن ِ تحریر ، حسن تقریر اور حسن تعمیر وغیرہ ۔ ان دو قرآنی اصولوں کی جو دو برکات ہیں ان سے وہ مستفید ہورہے ہیں۔ ہم نے چونکہ انہیں تج دیا لہذا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم خوار ہیں۔ یہ بہت ہی دقیق موضوع ہے لہذا پھر کبھی، آج ہم رمضان کی مناسبت سے صرف مومنوں سے بات کریں گے،جو مومن تو ہیں مگر بے عمل ہونے کی وجہ سے اس سے فیض حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ ان کی اپنی کوتاہی ہے؟ شفا ءحاصل کر نے کے لیے کیا یہ کا فی ہے کہ نہ تو ہم پر ہیز کریں، نہ کھا نے پینے کی عا دتیں بدلیں اور نہ کڑوی لگنے کی وجہ سے دوا پئیں، تو کیا صرف دوا کی شیشی دیکھنے اور اجزائے تر کیبی پڑ ھ لینے سے ہمیں شفا ئے کلی حاصل ہو جا ئے گی ؟
جو صا حبِ عقل ہیں میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ شفاءحاصل کر نے کے لیے پہلے وہ غذاچھو ڑ نا ہو گی جس سے تکلیف لاحق ہو تی ہے۔ آپ نے یہا ں اکثر دیکھا ہوگا کہ جب ڈاکٹرو ں کے پاس جا تے ہیں تو پہلا سوال یہ ہو تا ہے کہ آپ کسی چیز سے الرجک تو نہیں ہیں اور وہ پہلا حل یہ بتاتے ہیں کہ اس کو چھوڑدیجئے کہ یہ چیز جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ یہاں جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ پہلے تووہ غذا چھو ڑناہو گی جو مرض کا با عث ہے۔ پھر دوا سے شفا ءکی امیدرکھیں۔ آگے کیا کریں وہ خود بتا رہا ہے کہ حرام سے پرہیز  حلال پر قناعت جسے ہم عرف عام میں حدود اللہ کہتے ہیں؟ پھر دیکھیں گے کہ آپ کے اوپر رحمتوں کی بارش شروع ہوجاے گی؟
جب تک یہ مضمون آپ کے ہاتھوں میں پہونچے گا تقریباً نصف رمضان المبارک گزر چکا ہوگا؟ لیکن ابھی نصف ماہ باقی ہے لہذا اس سے فائدہ اٹھائیے باقی دنوں کو گنوائیں نہیں۔ کیونکہ حضور (ص) کے ارشاد کے مطابق وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ رمضان پایا اور وہ جہنم سے اپنی نجات نہیں کرا سکا  “اس کے لیے حضور (ص) اپنے عمل اور تلقین سے صحابہ کرام سے (رض) ماہِ رجب المرجب سے تیاری شروع کرایا کرتے تھے؟ رجب کو اللہ کامہینہ فرماتے تھے،اور شعبان کو اپنا مہینہ اور رمضان کو امت کا مہینہ فرماتے تھے۔ چونکہ شعبان درمیان میں ہے لہذا رجب کو ماضی،اور شعبان کو آج یعنی حال اور رمضان کو آنے والے کل سے تشبیہ دیتے ہوئے فرما تے تھے کل گزر گیا آج گزر رہاہے لہذا جو کرنا ہے وہ آنے والے کل کے لیئے آج ہی بھیجدو، کیونکہ کل کا پتہ نہیں کہ وہ نصیب ہو یا نہ ہو؟ صحابہ کرام اسی پر عمل فرماتے زکات نکالتے روزے رکھتے اور نیکیوں میں مصروف ہوجاتے ،جب شعبان کی آخری تاریخ آتی توحضور (ص) چاند رات کو خطبہ دیتے جس کے راوی حضرت سلیمان فارسی ہیں جو کہ محدثین نے حضرت ابو نصر سے بالاَسناد نقل کیاہے ،اس کا اردو ترجمہ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا  “
اے لوگو! ایک عظیم المرتبت اور برکتوں والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے کی راتوں میں عبادت کو افضل قرار دیا ہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں ایک نیکی یا ایک فرض ادا کیا اس کا اجر اس شخص کی طرح ہو گاجس نے کسی دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کیئے۔ یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ نیکی پہونچانے کا ہے اس مہینے میں مومن کی روزی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔جس شخص نے کسی کو روزہ افطار کرایا اس کے گناہ بخش دیئے گئے اس کی گردن آتش دوخ سے آزاد کی جا ئے گی اور روزے دار کا ثواب کم کیئے بغیرافطار کرانے والے کو بھی روزے دار کے برابر ثواب ملے گا “
یہ عظیم اور مختصر خطبہ مفہوم میں جامعیت کا نادر نمونہ ہے؟ اگر میں اس کی تفہیم لکھوں تو اس کے لیے سیکڑوں صفحات چاہیئے۔مگر تنگئیِ اوراق مانع ہے۔آگے صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ جس کے پاس اتنا نہ ہو جو افطار کرا سکے تو فرمایا کہ اگر نصف کھجور یاایک گھونٹ دوھ یا ایک گھونٹ پانی سے بھی افطار کرادے تو ثواب اتنا ہی ہو گا ۔ مگر ہو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے۔ یعنی وہ اپنے کاروبار کے فروغ، یا کسی دوسرے مقصد کے حصول کے لیے نہ ہو ، ورنہ حاصل کچھ نہ ہو گا۔ کیونکہ عقبیٰ کے حصول کے لیئے آپ جو کچھ بھی نیکی کریں وہ اس کی خو شنودی کے لیئے ہوگی۔ دنیا میں بھی اس کاصلہ ملے گا اور عاقبت میں بھی، اس میں کہیں سے ذرا سی بھی ملاوٹ شامل ہوگئی تو ساری محنت اکارت جا ئے گی؟لہذا خلوصِ دل کے ساتھ جو لمحات بھی ملیں ان کو غنیمت جان کر پورے خلوص سے عبادت کریں۔ روزے رکھیں کہ اس کا ثواب خداہی جانتا ہے  وہی دیگاپھر ،نمازیں پڑھیں کہ ایک سجدے کا ثواب مختلف روایات کے مطابق پندرہ سو یا سترہ سو سجدوں تک ہے۔ پھر زکات اور صدقات کانمبر آتا ہے ایک روپیہ، درہم، ڈالر یا پونڈ کے بدلے سات سو گنا تک ہے ۔ پھر آگے وہ رات آرہی ہے جو کی ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔وہ اس آخری عشرے میں ہے جس میں حضور (ص) اور اکثر صحابہ کرام (رض) اعتکاف میں بیٹھتے تھے۔ پھر اس میں ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ جس طرح ایک نماز دوسری نماز تک کفیل ہوتی ہے اسی طرح ایک رمضان دوسرے رمضان تک کفیل رہتا ہے۔ا گر کوئی یہ سب کچھ یا اپنی وسعت کے مطابق جو کچھ کر سکے تو اس نے اپنی جان جہنم سے آزاد کرالی جو اس ماہ کا مقصد ہے۔ صحابہ کرام (رض) جب عشرہ اول یعنی عشرہ رحمت میں داخل ہوتے تو پہلے دومہینے نیکیوں میں گزار کر چکے ہوتے نیک تو تھے ہی حضور (ص) کی صحبتِ خاص میں رہ کر مزید جلا پاکر، عشرہ رحمت کی نعمتیں کولوٹتے ہوئے ، عشرہ مغفرہ میں داخل ہوتے تھے اور عشرہ نجات سے گزرتے ہوئے تقویٰ کے مزید مدارج طے کرتے ۔ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے حضور (ص) کی قیادت میں بارگا ہِ الٰہی میں پیش ہونے کے لیے عید گاہ بہت سی امیدیں لیے ایک راستے سے روانہ ہوتے اور وہاں سے اجرت میں پورے سال کے لیئے رحمتیں ،مغفرتیں اور نجات لی کر ، دوسرے راستے واپس آتے تھے تو جھولی رحمت سے بھری ہوتی ۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں بھی حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر چلا ئے تاکہ ہم اس ماہ ِ مبارک میں عید گاہ ان ہی کی طرح اپنی جھولیاں رحمتوں اور بر کتوں سے بھر کر واپس لوٹیں۔ آمین

Posted in Articles

یہ سیاسی بازی گراور ان کا اتحاد۔۔۔ شمس جیلانی

یہ سیاسی بازی گراور ان کا اتحاد۔۔۔ شمس جیلانی
ہمارے یہاں ایک پارک ہوا کرتا تھا جو پارک کے نام پر تہمت تھا جیسے کہ بعض ملک اسلام کے نام پر تہمت ہیں ؟کیونکہ اس میں کچھ بھی نہ تھا، ہروقت گرد اڑتی رہتی تھی اوراسے ہر قسم کے بازی گر، لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیئے استعمال کرتے تھے وہ کوئی ایک مسئلہ لے لیتے اور انہیں اس وقت تک الجھائے رکھتے جب تک کہ ان کی جیب ڈھیلی نہ کرالیں اور اس کے بعد چپکے سے کھسک جاتے؟ یہاں ایسے لوگ کون  ہیں جنہونے پورے ملک کو پارک بنا رکھاہے انہیں ان کے کردار سے آپ خود شناخت کیجئے ہم نہیں بتائیں گے ؟ مگر اس کے لیے شرط اول یہ ہے کہ  آپ عصبیت اور جانبداری کی عینک اتاردیں، ورنہ ہمیشہ کی طرح اپنے لوگ اچھے نظر آئیں گے اور آپ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت با لائے طاق رکھدیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک بار پھر فیصلہ غلط ہو جا ئے گا۔ پھر سیاسی مداری جو گمراہ کر رہے ہیں وہ فرشتے نظر آنے لگیں گے ، اور فرشتے جو کہ پہلے ہی نظر نہیں آتے وہ اور بھی نظرنہیں آئیں گے؟ صرف وہی نظر آئیں گے جن کا یہ آبائی کاروبار ہے جو مال لگا کر ایک کے سو یا اس سے بھی زیادہ کمانے کا گر جانتے ہیں ۔ کیونکہ ان کی غوغا آرائی سے اول  توتبدیلی آسان نہیں ہے۔ اور اگر آگئی تو چونکہ وہی الیکٹ ابیل  ہیں اور انہیں کی ہر ابھرنے والی پارٹی کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے وہ ٹکٹ لے لیں گے۔
اس کے بعدایک مرتبہ پھر طوفان سر پر اٹھالیں گے جس طرح کہ گزشتہ الیکشن میں سب چلا اٹھے تھے کہ اگر امانتدار ہونے کی دستوری اور اسلامی شرط قائم رہی تو سوائے مولویوں کہ کوئی اسمبلی میں نہیں آسکے گا؟ یہ دلیل خود انکی لاعلمی کا منہ بولتا ثبوت ہے ؟ اگر وہ طبقہ اتنا ہی اچھا ہوتا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا تو آج دین کی صورت حال یہ نہ ہوتی ؟جبکہ وہ ان سے ناحق ہی الر جک ہیں۔ لیکن ہماری عقل کو کیا ہوا ہے کہ ہمیں کسی کو انتخاب کرنے کا جب موقعہ ملتا ہے تو ہم یہ یکھتے ہیں کہ یہ ہمارے کہاں تک کام آئے گا؟ جبکہ اللہ ! سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ً وہ اپنی نصرت روک دے تو تم خوار ہو جاؤگے اور کوئی مدد کرنے والا مدد نہیں پہونچا سکے گا۔  جبکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا  ہےکہ ہم اسوہ حسنہ (ص) پر چلیں۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ نمائندوں کے انتخاب میں حضو ر (ص) کی ترجیحات اور طریقہ کار کیا تھا؟ پہلا نمائندہ حضور(ص) نے جب چنا جبکہ پہلا موقعہ اسلامی تاریخ میں آیاکہ نجران کے نصار یٰ سے جزیہ دینے پر معاہدہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمراہ کوئی ایماندار آدمی کر دیجئے جس کو ہم جزیہ ادا کر دیں؟ تو حضور (ص) نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی، اس وقت تمام جلیل القدر صحابہ (رض) موجود تھے جبکہ ان میں ہر ایک سوچ رہا تھا کہ یہ میں ہونگا !حضرت عمر (رض) کے بقول “ میں کئی مرتبہ اچک کر سامنے ہوا کہ شاید حضور(ص) مجھے تلاش کر رہے ہوں ؟مگر انہوں (ص) نے جب مطلوبہ شخص نہیں پایا تو فرمایا کہ کل آنا، میں تمہارے ساتھ ایسا شخص کرونگا جو اس امت کا امین ہے؟ دوسرے دن وہ وفد پھر آیاتو دوبارہ حضور(ص) نے چاروں طرف نگا ہ ڈالی تو پھر ہر ایک پر امید طاری ہوگئی کہ دیکھیں تو وہ کون ہے ؟ کیونکہ کوئی بھی وہاں پرموجو دشخص (رض)تقویٰ میں کسی سے کم نہیں تھامگر یہاں منتخب کرنے والے وہ( ص) تھے جن کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ علوم اور حکمت سے نوازا تھا ان (ص) کی نگاہِ انتخاب حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح پر جاکر ٹھہر گئی، انہوں (ص)نے انہیں طلب کرکے پہلا امین جزیہ کی وصولی کے لیئے مقرر فرما کر اور ان کے ساتھ یہ فرماکر انہیں کردیاکہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے میں تمہارے ساتھ ایسے شخص کو بھیج رہا ہوں جو اس امت کا امین ہے؟ ان کا کردار یہ تھا کہ جب شام میں کمانڈر انچیف یعنی لشکر اسلامی کے امین تھے تو وہاں طاعون پھیل گیا؟ اسی دوران حضرت عمر (رض)کو وہاں جانا تھا، مگر وہ راستے میں سے ہی واپس ہوگئے کہ ً حدیث مبارکہ تھی  “ جہاں وبا پھیلی ہوئی ہو وہاں دوسرے شہروں سے لوگوں کو نہیں جانا چاہیے “ جبکہ اسی حدیث کادوسرا حصہ یہ تھا کہ جہاں وبا پھیلی ہو ئی ہو وہاں کے لوگوں کو دوسرے شہروں میں نہیں آنا چا ہیئے “ جبکہ حضرت عمر (رض) انہیں ضائع نہیں کرنا  نہیں چاہتے تھے ان (رض) کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح وہاں سے وہ نکل آئیں۔ جبکہ انہوں (رض) نے اپنی زیر امانت فوج کو چھوڑ کر اور اس حدیث کی خلاف ورزی کرکے وہاں سے نکلنا پسند نہیں کیا؟ حضرت عمر (رض) نے آخری کوشش کے طور پر انہیں خط لکھا کہ “ میں آپ سے کچھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں آپ دارالخلافہ تشریف لے آئیں “ ؟انہوں(رض) نے یہ فرماکر انکار کر دیا کہ “ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کیا مشورہ کرنا ہے  “اور وہیں انہوں (رض) نے طاعون میں مبتلا ہو کر اپنی جان اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سپرد کی؟ یہ تھی ان کی شان امانت؟ اور انہیں ملت کا مفاد کتنا عزیز تھا وہ ان کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں(رض) حضرت خالد (رض) بن ولید کی جگہ کمانڈر انچیف حضرت عمر (رض) نے مقرر کیا تو یہ اس وقت  وہاں پہونچےجب دمشق میں فوج برسرِ پیکار تھی ۔ اس وقت بجائے ان سے چارج لینے کہ ان (رض) ہی کی قیادت میں ایک عام مجاہد کی طرح لڑنا پسند فرمایا کہ کہیں قیادت کی تبدیلی سے اسلام اور اسلامی ریاست کو نقصان نہ پہونچے، جب دمشق فتح ہوگیا تو انہوں نے اس حکم کو ظاہر فرمایا؟
پھر جب یمن فتح ہوا تو پہلا گورنر  حضور (ص) نےحضرت معاذ (رض) بن جبل کو مقرر کیا جن کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی نئی چیز کو اس اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک یہ کسی دوسرے صحابی (رض) سے معلوم نہ ہو کرلیں کہ حضور (ص) نے وہ چیز کس طرح تناول فرما ئی تھی، تیسری تقرری انہوں نے یمن کے کچھ حصے پر جنکی فرمائی وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ جن کے فضائل کے بارے میں حضور (ص) کے بہت سے ارشادات ہیں جو مختلف مواقعوں پر جو کہ غزوہ بدر سے تبوک تک اور بعد میں آخری مرتبہ قیام ِ خم تک تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس تمام بحث کا لب ِ لباب یہ ہے کہ حضور (ص)  کےپیشِ نظر ہمیشہ انتخاب کے لیئے تقویٰ ، دیانت ،شجاعت اور امانت رہی۔ جس پر امام ابن ِ تیمیہ (رح) نے بھی زور دیا ہے کہ جب تم اپنا حکمراں منتخب کر نے لگو تو اس میں تقویٰ اور بہادری دونوں تلاش کرو؟کیونکہ اس کی بزدلی امت کے لیئے ہوگی؟ جبکہ خالی تقویٰ اس کے اپنے لیئے ہوگا؟
اس کے برعکس ہم کہتے ہیں کہ “ نہیں! ہمیں متقی نہیں چاہیئے ہمیں بہت بڑا ڈپلومیٹ چاہیئے اور اسکی وضاحت یہ کر تے ہیں کہ وہ کیسا ہو؟ جو جھوٹ اور فریب میں سب کو شکست دیدے ۔ اور اس کی صلاحیتوں پر خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو ایک ہی سب پربھاری ہے؟ اس طرح ہم صریحا ً اسوہ حسنہ (ص) کی خلاف ورزی کرتے ہیں پھر یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا بھلا کریگا؟ جبکہ مومن کی دوستی اور دشمنی صرف اللہ کے لیئے ہوتی ہے؟
اب آپ دیکھئے کہ جو لوگ قیادت کے لیئے ہمارے سامنے آرہے ہیں کیا وہ اسوہ (ص) پر عامل ہیں ؟ مثلاً ایک صاحب جو خود کو عالم ولی اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں؟اس کسوٹی پران کے صرف دو عمل تول دیکھئے تضاد واضح ہوجائے گا ؟ غزوہ خندق میں مدینہ کے بچاؤ کے لیے ایک خندق حضرت سلیمان فارسی (رض) کے مشورے پر تیار کی جارہی ہے؟جو میلوں طویل ہے ؟ نہ راشن ہے نہ پانی ہے حضور(ص) بھی عام مجاہدوں کی طرح کھدائی میں لگے ہوئے ہیں سب کے معدے خالی ہیں اس کی وجہ سے کمریں جھکی جا رہی ہیں ۔ان سے بچاؤ کا طریقہ یہ نکالا کہ ہر ایک نے ایک پتھر پیٹ پر باندھ لیا ایک صحابی (رض) نے حضور (ص) سےذکر کیاکہ دیکھئے حضور(ص) میں نے پیٹ سے پتھر باندھا ہوا ہے؟ حضور(ص) نے اپنا کرتا اٹھاکر دکھایا تو اس پر ایک کے بجائے دو پتھر بندھے ہو ئے نظر آئے؟ یہاں غزوہ نہیں ہے، دھرنا ہے ۔سخت جاڑوں کا مہینہ ہے ، عوام کھلے آسمان کے نیچے ہیں ان میں بچے بھی ہیں خواتین بھی ہیں۔ مگر موصوف ایک ٹریلر میں جس میں ہر سہولت میسر ہے تشریف فرما ہیں؟ پھر آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ اسوہ حسنہ (ص) کے مطابق ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر ولیوں کے سردار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کردار دیکھئے کہ وہ کیا تھا، یا غوث الاعظم حضرت عبد القادر جیلانی (رح)  کاارشاد پڑھ لیجئے کہ  “اگر کسی کا ایک فعل بھی خلاف ِ سنت ہے تو وہ ولی نہیں ہوسکتا “ دوسری مثال دیکھ لیجئے ؟ حضور (ص) پر کتنے قاتلانہ حملے ہو ئے کیا انہوں (ص) نے اپنے حجروں کے چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کیں؟
اب وہی صاحب لوگوں سے، پولس سے اس وقت اپیل کر تے پھر رہے ہیں کہ حکومت کاکہا مت مانو!  جبکہ فوج پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے؟ اگر اس کے نتیجہ میں ملک کے اندر انارکی پھیل گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ کیا آپ نے سوچا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ۔ جبکہ ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ میرے خیال میں وہی بازی گروں والا پلان ہے جس کا فائدہ بازی گروں کو پہونچ سکتا ہے عوام کو نہیں ؟ جن کا ابھی سے عمل یہ ہو؟ کیا وہ اس قابل ہیں کہ ان پر اعتماد کیا جا ئے آخر ان کے پاس وہ کونسی ماورائے عقل طاقت ہے جو یہ معجزہ دکھا سکے؟ یہ مانا کہ موجودہ حکمراں برے ہیں مگر میں پوچھ سکتا ہوں کہ انہیں بھی چنا کس نے تھا؟ چونکہ میں گزشتہ ہفتے سانحہ لاہور پر لکھ چکا ہوں؟ اور مجھے کوئی تبدیلی آسانی سے آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے؟ سوچ لیں کہ کہیں کسی بھی غلطی کے دہرانے کے باعث ملک کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائے جبکہ مشہور حدیث ہے کہ ً مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا “  جبکہ آپ روز ڈسے جا رہے ہیں پھر بھی عقل استعمال نہیں کرتے کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر ڈسے جائیں اور پاکستان بھی خدا نہ کرے دوسرا عراق بن جا ئے ۔

Posted in Articles | Tagged ,

جیسے راجہ ویسی پرجا ،سے جیسی پرجا ویسے راجہ تک ۔۔۔۔ از شمس جیلانی

جیسے راجہ ویسی پرجا ،سے جیسی پرجا ویسے راجہ تک  ۔۔۔۔ از شمس جیلانی

پرانے وقتوں سے یہ محاورہ رائج ہے کہ جیسے راجہ ویسی پرجا، کیونکہ اس زمانے میں نہ تو الیکشن تھا نہ سلیکشن تھا نہ الیکشن کمیشن تھا اور نہ ہی نتائج تبدیل کرنے والی نادیدہ مخلوق؟ بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس کادستور رائج تھا جس نے تھوڑی سے فوجی جمع کر لی کسی ہمسایہ حکومت کا تختہ الٹا لوٹ مار کا بازار گرم کیا اور وہ بادشاہ بن گیا۔ آگے یہ اس کی صوابدید اور حالات پر منحصر تھاکہ وہ اپنی حکومت کو کہاں تک لیجاتا ہے؟ کسی کو سرتابی کی مجال نہ تھی لہذا یہ محاورہ لاگو ہوتا تھا کہ جیسا راجہ ویسی پرجا ؟اللہ سبحانہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے نبی(ع) بھیجتا رہااور انہیں کے ذریعہ سے پہلے دھمکاتا اور پھر ڈراتا رہااور نہیں مانے تو سزا دیتا رہا، سزا میں ابتدائی دور میں آسمانی عذاب نازل ہوتے رہے۔ لیکن جب دنیا میں بستیاں بڑھ گئیں تو ا ُنہیں باد شاہوں کے ہاتھو ں سے کام لینا شروع کر دیا اگر لوگ سدھر جاتے اور توبہ کرکے درخواست کرتے تو انہیں نیک بادشاہ عطا فرما دیتا ، اور جب بگڑ جاتے تو پھر نبی (ع) بھیج کر پہلے ڈراتا اورنہیں مانتے تو ان پر ظالم بادشاہ مسلط کر دیتا ۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں جن کا ذکر تاریخ میں تفصیل سے اور مختصراً قر آن میں ہمیں ڈرانے کے لیئے ہواہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جا ؤنگا لیکن صرف چند مثالیں اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کر کے بات کو آگے بڑھاتا ہوں؟
پہلی مثال حضرت موسیٰ (ع) اور بنی اسرائیل کی ہے جس سے آپ سب ہی واقف ہیں ۔ بنی اسرائیل ایک ظالم با دشاہ (فرعون) کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے جو ان کے ساتھ ہر ظالمانہ سلوک روا رکھتا تھا، ان کی آہ وبکاہ رائیگاں نہیں گئی اور اللہ سبحانہ تعالی نے حضرت موسی (ع) کو وہاں کے لیے نامزد فرمایا اور ان کی نجات کے لیے روانہ فرمایا، قدم پر معجزے دیکھے ، عذاب دیکھے مگر فرعون باز نہ آیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے ڈبوکر ہلاک کر دیا؟ سب کچھ بنی اسرائیل نے بھی اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے ہوئے دیکھا ؟اپنے اوپر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بے مثال مہربانیاں دیکھیں اوربرتیں، مگر انہوں نے خود کو بدل کر نہیں دیا کبھی بچھڑا پوجنے لگے کبھی کچھ اور کرنے لگے۔ اس شرک کی سزا بھگتی کہ اپنے ہی رشتہ داروں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا پڑا؟ پھر اللہ سبحانہ کو رحم آگیا معاف کردیا۔ ملک ِ فلسطین عطا فرمادیا ، مگر انہوں نے لڑنے سے انکار کردیا کہ “ وہاں کے لوگ بہت طاقتور ہیں جو وہاں قابض ہیں لہذا تم (ع) اور تمہارا اللہ جائے اور خود ان سے جاکر لڑو اور ہمیں ملک فتح کرکے دیدو تو ہم بشوق جا بسیں گے ورنہ نہیں؟اسکی پاداش میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر چالیس برس کی دربدری سنادی؟ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (ع)اور حضرت ہارون(ع) اللہ کو پیارے ہوگئے،اور پرانی نسل کا کوئی فرد باقی نہیں رہا تو وہ اس وقت کے نبی حضرت یوشع (ع) بن نون کے پاس درخواست گزار ہو ئے۔ کہ اللہ سے دعا کریں ہمارے لیے بادشاہ مقرر فرمادے جس کی قیادت میں ہم لڑیں !  اللہ سبحانہ تعالیٰ نے معاف فرماکران کے لیے بادشاہ نامزد فرمادیا اور وہ لڑے اور فلسطین کے مالک بن گئے۔ اسکے بعد انہیں دو نامو ر اور نیک بادشاحضرت داود(ع)اور حضرت سلیمان (ع) عطا فرما ئے۔ جب وہ پھر اپنی بچھلی روش پر گامزن ہوگئے، تو اللہ سحانہ تعالیٰ نے پھر ایک نبی حضرت ارامیہ (ع) کو کنعان سے بھیجا کہ جاؤ اور سمجھا ؤ کہ اگر وہ لوگ بعض نہ آئے تو میں ان پر ایسا  ظالم بادشاہ مقرر کرونگا جو مجھ سے بھی نہیں ڈرے گا (تاکہ عذاب کے تقاضے پورے ہوسکیں)، وہ اپنی قوم کو جانتے تھے انہوں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ میرے ہاتھوں سے میری قوم کو تباہ مت کرا ؟ مہربانی فرما میری جگہ کسی اورکو بھیجدے؟ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ نہیں تمہیں (ع) جاؤاور میرا پیغام پہنچا ؤ؟ وہ وہاں پہونچے مگر وہ انہیں خاطر میں نہیں لائے؟اور اللہ سبحانہ تعالی نے بخت نصر کو بھیجدیا جو انتہائی ظالم تھا ،اس نے فلسطین کو تباہ و برباد کر دیا ان کی کتاب مقدس اور معابد نیست نابود کردیئے، بوڑھوں اور بچوں کو قتل کردیا چھ لاکھ نوجوان بیگار کے لیے پکڑ کر اپنے دار الحکومت بابل لے گیا۔اور ان کا یہ گھمنڈ خاک میں ملا گیا کہ ہم نبیوں(ع) اولاد ہیں؟ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کو رحم آیا ۔ایک نیک بادشاہ اس  پرچڑھ دوڑا،اس نے قیدی رہا کردیے فلسطین ستر سال کے بعد اس کے ہاتھوں پھر سے آباد ہواحضرت ارامیہ (ع) نے اسے تباہ ہوتے دیکھا، تو فرمایا کہ یہ اب کبھی آباد نہیں ہوگا ،لیکن انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سوسال کے بعد اٹھا کے بسا ہوا شہر دکھاد یا؟
تاریخ طویل ہے۔ اس کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں معزول کر کے ہم میں ایک نبی (ص) بھیجا جن کے سب منتظر تھے کہ وہ انسانیت کانجات دہندہ ہونگے اور سب نبیو ں (ع) پر ان کو فضیلت حاصل ہوگی وہ ساری دنیا اور قیامت تک کے لیے ہونگے؟ وہ (ص) تشریف لائے انہیں بھی سب سے پہلے اپنی ہی قوم نے جھٹلایا ؟ مگرا للہ کاوعدہ تھا کہ انہیں فتح حاصل ہوگی ،جو ہوئی ۔ انہوں نے مکمل دین پہلے خود پر نافذ کرکے دکھایاپھر ہمیں ان کے اتباع کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حکم دیا، جس پر انکی (ص) نظر پڑگئی وہ متقی ہوگیا، انہوں نے وہ نفوس قدسی (رض) تیار کیے جن کی مثال دنیا میں نہ پہلے تھی نہ قیامت تک ہوگی۔ اللہ نے اس وقت مسلمانوں کے ہاتھوں دو دو عالمی طاقتوں کو شکست دلوائی ایک عرصہ حکومت کی؟
پھر ہم بھی گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے کہ ہم اس کے حبیب (ص) کی امت ہیں لہذا ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟ جب کہ اللہ پہلے ہی قرآن میں پچھلی قوموں کے حالات سناکر ہمیں آگاہ کر چکا تھا کہ انہوں نے یہ کیا ان کو یہ ، یہ سزائیں ملیں۔ اب دیکھتے ہیں تم کیا کرتے ہو ئے؟ مگرہم نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا، چونکہ ہمارے یہاں اب کوئی نبی نہیں آنا تھا ان کے بجا ئے مجدد (رح)ہردور میں آتے اور ہمیں سمجھاتے رہے؟ بہت سے ظالم بادشاہ مسلط ہوتے رہے؟ آخر میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے چنگیز اور ہلاکو کو ہم پر مسلط کردیا جو ظلم میں بخت نصر سے بھی بڑھ گیا؟ دوسری قومیں ہم پر قابض ہوتی چلی گئیں ہم چیخے چلا ئے اسے پھر رحم آگیا ۔ اور اس نے لوگوں کے دلوں میں ڈالدیا کہ حکومت کرنے کا حق عوام کو ہے؟
یہاں سے محاورہ بدلا  “ جیسے راجہ ویسی پرجا  “ اس کی جگہ اس محاورے نے لے لی کہ ً جیسی پرجا ویسے ہی راجہ “ اسی کے ساتھ وہ دور بھی ختم ہوگیا جب یہ کہا جاتا تھا کہ “ دین بادشاہوںکا چلتا ہے“ کیونکہ معاملہ اب ووٹوں پر تھا؟ اس کے نتیجہ کے طور پر ان با دشاہتوں کا سورج غروب ہونا شروع ہواجن کے یہاں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یک ایک کرکے چھپن مسلمان ممالک دنیا کے نقشے پرا بھر آئے ان میں ایک دنیا کی سب بڑی بڑی اسلامی مملکت عالم وجود میں پاکستان کے نام سے آئی اور27 رمضان مبارک کو عالم وجود میں آئی۔ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حالات ایسے پیدا کیے کہ اسے دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمک پاور کہلانے کا فخربھی حاصل ہوا؟ مگر ہم نے جو اللہ سے وعدے کیے تھے وہ آج تک پورے نہیں کیے وہ طو عاً یا کر ہن دستور کاحصہ تو بنے مگر ہمارے یہاں عمل میں نہیں آسکے ؟ اور ہم بدستور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ہم اللہ کی پسندیدہ بندے اس لیے ہیں کہ اس کے حبیب (ص) کی امت ہیں، چاہیں ہم کچھ بھی کرتے ر ہیں؟ اور وہ ہم سب کچھ کر رہے جن کے باعث گزشتہ امتوں پر عذاب آئے؟اس عقیدے کی رد میں قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں۔ احادیث ، ہیں خلفائے راشدین کے اقوال ہیں؟ چونکہ یہ چھوٹا سامضمون اس کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ میں صرف سورہ آل ِ عمران (3)کی آیات نمبر 160 پیش کر رہاہوں۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اگر اللہ تمہاری مدد کرے توتم پر کوئی غالب نہیں آسکتا،اور اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ناممکن ہے کہ نبی ( ص)سے خیانت ہوجائے اور ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا،پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا ، پورابدلا دیا جائے گا اور وہ ظلم نہ کیئے جائیں گے “ یہاں میں نے ابن ِ کثیر (رح) کی تفسیر کا ترجمہ پیش کیا ہے، وہ اس کی تفسیر میں حضور (ص) کی کئی احادیث لائے ہیں ۔ان میں سے چند پیش کرتا ہوں ؟ مسند احمد میں ہے کہ حضور (ص) نے فرمایا کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا شخص وہ ہے جس نے پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین اگر ایک ہاتھ بھی اپنی طرف کرلی تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا۔ مسند احمد سے دوسری حدیث یہ ہے کہ جسے ہم حاکم بنا ئیں اگر اس کا گھر نہ ہوتو گھر بنالے اگر بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے ،اس کے علاوہ کچھ ا ور لے گا تو خائین ہے۔ایک حدیث ابو داود سے ہے وہ دل د ہلا دینے والی ہے، جس میں خائن کی شفاعت سے حضور (ص) انکار ی ہیں؟ جوکہ ابن جریر(رح) سے منقول ہے۔ کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ  “ میں تم سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہو ئی بکری اٹھائے آئے گا، میرا (ص)نام لیکر مجھے پکارے گامیں (ص) کہدونگا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا ، میں (ص)پہونچا چکا ہوں۔ میں اسے بھی پہچانتا ہوں جو اونٹ اٹھائے ہوئے آئے گا اور وہ چلا رہا ہوگاوہ میرا نام لیکر پکارے گا محمد (ص) محمد(ص) میں کہونگا اللہ کے پاس میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا ؟آگے ہے کہ پھر گھوڑ ے والا گھوڑالیکر آئے گا اور سب کو حضور (ص) کا جواب یہ ہی ہوگا کہ میں تیرے کسی کام اللہ تعالیٰ کے پاس نہیں آسکتا اس لیئے کہ میں (دین) پہونچا چکا ہوں۔مختصر یہ کہ اس حدیث اور اس آیت سے متعلق تمام احادیث جوکہ تفسیر ابن ِ کثیر (رح) می ہیں وہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔خیانت پر بدترین سزائیں ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ؟حضرت عبادہ بن ثابت (رض)  کو حضور (ص)جب عامل مقرر کیا اور نصیحت فرمائی تو انہوں )رض) نے یہ فرماکر معذرت کرلی میں حاکم نہیں بنتا ۔
جبکہ ہمارے حکمراں اسے معیوب ہی نہیں سمجھتے؟ رہے انہیں حکومت میں بھیجنے وہ بھیجتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ ان کے جائز کم اور نا جائز کام زیادہ کریں تو جو اپنے ووٹروں کے لیے بے ایمانی کرے گا؟ وہ اپنے لیے کیوں نہیں کرے گااور جن حکام سے وہ بے ایمانی کرائے گاوہ اپنے بال بچوں کے لیے کیوں نہیں کریں گے؟ جب سب ملکر یہ کریں گے، تو قبضہ کنگ اور قبضہ گروپ کیوں نہیں بنیں گے اور خدا جو اپنی سنت تبدیل نہیں فرماتا اپنی سنت کے مطابق سزا کیوں نہیں دے گا؟جبکہ آنکھیں کھولنے کے لیئے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول کہ عمل کے بغیر ایمان کچھ نہیں اور ایمان بغیر عمل کچھ نہیں پھر حضرت عمر (رض)کی وہ نصیحت جو انہوں نے حضرت سعد (رض) بن ابی وقاص کو فرمائی تھی ایران کا حاکم مقرر کرتے ہوئے، کہ دیکھنا کہیں حضور(ص) سے رشتہ داری تمہیں مغرور نہ کردے اور تم  (رض)ہلاک ہوجا و  “کیونکہ اللہ سے کسی کا طاعت سوا کوئی اور رشتہ نہیں ہے“
آج تمام عالم اسلام میں جو محشر بپا ہے یہ وہ عذاب ہے جس کے لیے ہم نے خود ہی دعوت دی ہے۔ رمضان شریف کا مقدس مہینہ شروع ہونے والا ہے اور حضور (ص) کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ “ وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان کا مقدس مہینہ پایا اور اپنی بخشش نہیں کرالی“ اگر ہم سب انفرادی طور پر ہی متقی بن کر اپنی جہنم سے نجات کرالیں تو یہ سب بلا ئیں انشا اللہ دور ہوسکتی ہیں ؟پہلے میں اجتماعی تو بہ کی بات کرتا تھا اس میں قباحت یہ ہے کہ با قاعدہ تحریک چلانے ضرورت ہے جس  کےلیئے بہت بڑے وسائل کی ضروری ہیں؟ چونکہ رمضان ِ مقدس میں ہماری اکثریت مسلمان ہو جاتی ہے۔ لہذا ہم انفرادی طور پر اگر تائب ہوکر اس قائم پر ہوجا ئیں تو اللہ یقیناً معاف فرما دے گا کیونکہ یہ ہی اس کی سنت رہی ہے اور وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ “میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں بس تم میری بات مان لیاکرو“

Posted in Articles

لاقرباء،اسلام آباد۔۔۔ شمس جیلانی

اس عنوان اور نام کی ندرت کی وجہ سے آپ چونکیئے گا نہیں، دراصل یہ اسلام آباد سے نکلنے والے ایک ادبی مجلے کا نام ہے، اور اس نے ًاقربا ً سے پہلے اپنے ساتھ” ال “لگا کر اپنی شناخت ان سے الگ کرلی ہے تاکہ لوگ اس کا رشتہ اسلام آبادی اقرباءپرستوں سے نہ جوڑ سکیں۔ دوسرے دونوں میں فرق بہت بڑاہے کہ وہ قومی اساسوں کو خرد برد کرکے ٹیکس کی رقم پر اقربا پروری کرتے ہیں ،جبکہ یہ جس ادارے کے تحت شائع ہو رہا ہے اس کا نام الا قربا ءفا ؤنڈیشن ہے اور اردو کے پرستاروں کے لیے معیاری ادب پیش کر رہا ہے۔      حالانکہ یہ صرف اقربا پروری بھی کرتا تو بھی اس کا ہر قدم ازروئے اسلام مستحب ہو تا اس لیے کہ دینِ اسلام میں اپنے اقربا ءکو نوازنا پہلی ترجیح اور ایک مستحسن فعل ہے۔
جبکہ اس کے بر عکس بیت المال یا سرکاری وسائل پر اقربا پروری کرنا قابل ِ مذمت ہے اسی لیے وہ ہر گناہ کی طرح چھپ کی جاتی ہے اور میڈیا والے اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں اوروہ اس سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی پول کھولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک کلیہ ہے کہ ہر برائی بد بو دار ہوتی ہے اور اس سے ایسے بھبکے اٹھتے ہیں کہ ہر ایک کواپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں ۔ پہلے تو ایسے مقامات سے لوگ ناک دو انگلیوں سے دبا کر وہاں سے گزر جاتے تھے، یا اپنی جیب سے خوشبو دار رومال نکال کرناک پر رکھ لیتے لیتے اور آگے بڑھ جاتے تھے ۔ لیکن اب وہاں لوگ اس کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ بدبو محسوس ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض تو سونگھتے پھرتے ہیں اورمنبع غلاظت تک پہونچ کر ہی دم لیتے ہیں تاکہ اس سے فیض یاب ہو سکیں ؟جبکہ اقربا پروری اپنی جیب پر ہو تو مستحب ہے اور اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھی جاتی ہے۔ وہ بھی چھپائے نہیں چھپتی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے ایسی خوشبو عطا فرماتا ہے کہ اس کی فرحت خیزی ہر ایک کو متاثر کرکے دوسروں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنتی ہے کہ وہ بھی اسی طرح اللہ اور رسول  (ص)کا اتباع کریں؟
الاقرباءفا ؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد تو ہمیں معلوم نہیں مگر جو ان کا عمل ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے کرتا دھرتاؤں کا تعلق یقینا ادب سے ہے جو انہوں نے ا پنے یوم تاسیس سے ادب کی خدمت شروع کررکھی ہے اور غالب حصہ اس میں معیاری ادب کا ہے، جبکہ زیر نظر مجلہ 212 صفحا ت پر مشتمل ہے اور اس میں سے صرف چار صفحات اقربا پروری کے زمرے میں آتے ہیں جو ہر طرح سے مستحسن ہے۔
ا س میں لکھنے والوں میں جتنے نام شامل ہیں وہ سب اردو کے جانے پہچانے لوگ ہیں اور قد میں مجھ سے کہیں اونچے ہیں؟ لیکن یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں ان میں سے بہت کم لوگوں کو ذاتی طور پر جانتاہوں،اس لیے کہ عرصہ چھبیس سال سے میں کنیڈا میں ہوں۔ لہذا میں صرف دو حضرات کے بارے میں لکھ رہا ہوں ، کیونکہ بغیر جانے کسی کے بارے میں لکھنے یا ضمانت دینے سے ہمیں منع کیاگیا ہے کیونکہ اس میں جھوٹ سرزد ہونے کا امکان ہے، اور اس سلسلہ میں یہ طویل حدیث مشعل راہ ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ  “مسلمان میں سب خامیاں ہوسکتی ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا  “ جبکہ جھوٹ کو ہم نے ابھی اپنے روزمرہ میں شامل کرلیا ہے۔
اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے میں جن کے بارے میں لکھ رہا ہوں! ایک تو اس ادارے کے صدر نشین جناب سیدمنصور عاقل صاحب ہیں جن کو میں نے ان کے دو چبھتے ہوئے اداریے پڑھ کر پہچانا کیونکہ تحریر خود بھی شہادت دیتی ہے، وہ اداریے جن سے میں متاثر ہوا ہوں “ ایک کراچی اور لاہور کی تشنہ مقاصد بین الاقوامی ادبی وثقافتی تقریبات “ ہے اور دوسرا  “قندیل علم ۔ ظلم اور جہالت کے حصار میں “  جن سے وہ درد جھلکتا ہے جو کہ ان کے دل میں پاکستان اوراردو کے لیے ہے؟ جبکہ دوسری شخصیت ہمارے کرم فرما جنا ب اویس جعفری صاحب ہیں، جن کے ذریعہ یہ پرچہ ہم تک پہونچا۔ جعفری صاحب سے ہماری بہت پرانی یاد اللہ ہے۔ اس لیے کہ وہ میرے ہمسایہ ہیں ، میں وینکور میں ہوں اور وہ سیاٹل میں۔ان دونوں مقامات کا موسم وغیرہ سب ایک ہے ہاں !حکومتیں مختلف ہیں۔ لیکن سرحدیں برائے نام ہیں، شہریوں کے آنے جانے پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے ۔بس پہچان کے لیے ان کی طرف امریکہ کا پرچم لہرارہا ہے اور میری طرف کنیڈا کا۔
جبکہ جعفری صاحب کی پہچان یہ ہے کہ وہ وہاں اردو کی جوت جگائے ہوئے ہیں اور ہمیں ان سے دوستی کے علاوہ ان کی مہمانی اور میزبانی دونوں کا شرف بھی حاصل ہوچکا ہے؟ بس یوں سمجھ لیجئے کہ وہ لکھنوی تہذیب کا منہ بولتا ثبوت ہیں اب ایسے لوگ دنیا میں کہاں؟ جبکہ لکھنویت خود لکھنئو میں بھی نہیں رہی؟کہ حضرت گنج اور امین آباد جو کبھی شہر کی جان سمجھے جاتے تھے اب ان پر لالو کھیت کا گمان ہو تا ہے۔ ویسے تو یہ شہر بہت قدیم ہے اور ہندؤں کے اوتار رام جی کے بھائی لکشمن جی نے آباد کیا تھا اور اپنے نام پر ہی نام بھی رکھا تھا، وہی نام بگڑ کر موجودہ نام اختیار کر گیا۔ مغلوں کے کمزور پڑنے کے بعد یہ شاہان اودھ کا دار الحکومت بنا پھر انگریز کی علمداری میں آیا تو یوپی کا دا ر الحکومت بنا اور دونوں ادوار میں بہت ترقی کی، مجھے تین وجو ہات کی بنا پر یہ شہر بہت پسند تھا ایک اس کی تاریخی عمارات؟ دوسرے اس سے شرفِ ہم سائیگی کہ میرا وطن پیلی بھیت اپنے جنگلات اور شکار گاہوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہاں کے لوگ ہمارے یہاں اکثر شکار کھیلنے آتے تھے اور ہم وہاں تہذیب سیکھنے جاتے تھے کیونکہ ان دنوں مسلمانوں کو کوئی اور کام تھا ہی نہیں؟ تیسرے یہ کہ وہ گہوارہ ادب تھا اورمیں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بھی 1944 میں نسیم انہو نوی مرحوم کے ” حریم “سے کیا تھا ؟ جوکہ شوکت تھانوی مرحوم کے برادر ِنستی تھے۔ لہذا اویس جعفری صاحب سے محبت ہونا قدرتی بات ہے خاص طور سے ان کا مذہب سے لگاؤ اور ان کے اندر پوشیدہ ندرت پسندی مجھے برسوں سے انکا گرویدہ بنا ئے ہوئے تھی وہ تھا ان کامشاعروں کی نظامت کرتے ہوئے شاعروں کا منظوم تعارف جس کی طرح ڈالنے والے وہی تھے، جو اب عام ہوچکا ہے۔ ابھی میں نے جنوری تامارچ کے شمارے میں ان کا حضرت حسان (رض) بن ثابت کے بارے میں جو جامع مضمون دیکھا تومجھے ایسا لگا کہ وہ معلومات کا خزانہ ہے۔ میں نے ان  (رض) پر اس سے بہتر مضمون سیرت نگار ہوتے ہوئے اپنی زندگی میں نہیں پڑھا ،میری ان سے دوستانہ درخواست ہے کہ وہ فن سیرت کی  طرف توجہ دیں تو انشا اللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی اور ان کا نام بھی حضور (ص) کے غلاموں میں شامل ہو جائے گا۔
اس شما رے میں باقی مضامین اور شاعری بھی اعلیٰ معیار کی ہے۔میرے خیال میں یہ اردو ادب میں ایک اچھا اضافہ ہے جبکہ زرِ تعاون بھی زیادہ نہیں صرف چالیس ڈالر یا تیس پا ؤنڈ سالانہ ہے ۔ اور ملنے کا پتہ ہے۔ الاقرباءفاؤنڈیشن ، مکان نمبر٤٦٤اسٹریٹ نمبر ٥٨،آئی٣\٨،اسلام آباد ( پاکستان )

 

Posted in tabsarah | Tagged ,

بر بریتِ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار کو ن ہے۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

بر بریتِ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار کو ن ہے۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
ہمیں ایک بہت پرانا قصہ یاد آگیا ممکن ہے کہ اس ڈرامہ کے خالقوں کے بارے میں کسی نے کہیں پڑھا ہو یا سنا ہو کیونکہ ہم نے پہلے بھی ایک دفعہ یہ قصہ انہیں کالموںمیں لکھا تھا۔ یہ مفروضہ ہم نے اس لیے قائم کیا ہے کہ عوام میں شاید ہی کوئی اس عمر کا ہو جس نے یہ واقعہ خود دیکھا ہو یا سنا ہو؟ کیونکہ یہ ہمارے بھی بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک صاحب میرٹھ میں کوتوالِ شہر تھے انہوں نے وہاں کا صرافہ بازار لوٹنے کامنصوبہ بنایا اور اس کے لیے وہ وقت مقرر کیا کہ جس دن اور جس وقت انہیں اپنی سالانہ چھٹیاں گزار کر اور واپس آکرچارج لینا تھا۔ لہذا جب ان کا قائمقام کوتوال چارج دینے کے لیئے ان کی آمد کا منتظر بیٹھا ہوا تھا، وہ بجائے ادھر کا رخ کرنے کہ ایس پی صاحب سے ملنے اور شہر کی مخدوش صورتِ حال صاحب کے گوش گزار کرنے کے لیے چلے گئے، صاحب کو انہوں نے ان کو بتایا کہ ً مجھے اطلاع ملی ہے ، جو آپ کو بھی ملی ہو گی کہ شہر کا غنڈہ عنصر سرکش ہوگیا ہے اور وہ سر اٹھا رہا ہے ً ابھی وہ وہیں تھے کہ ان کے منصوبے کے مطابق کام شروع ہوگیا اور صاحب کے پاس فون آگیا کہ صرافہ بازار لٹ رہا ہے۔
چونکہ اسوقت کسی پاس بھی چارج نہیں تھا ایکشن لینے میں دیر ہوئی اتنے میں صرافہ بازار لٹ چکا تھا؟ اس کے بعد انہوں نے چارج سنبھال لیا ۔ڈاکو ؤں میں سے پکڑا کوئی نہیں گیا کہ ً سیاں خود ہی کوتوال تھے ً کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور ایک بہت بڑا زرعی فارم بنا ڈالا پھر کیا تھا وارے کے نیارے ہوگئے ۔ان کے ایک صاحبزادے پاکستان آکر پہلے کراچی میں قبضہ گروپ کے بانی بنے، پھر کئی ملکوں میں وہ پاکستان کے سفیر بھی رہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ یہاں یہ واقعہ آپ کیوں سنا رہے ہیں ؟ اس لیے کہ اس میں اور واقعہ ماڈل ٹاؤن مماثلت مجھے نظر آئی کہ یہاں بھی وہی وقت چنا گیا کہ جب نئے انسپکٹر جنرل پولس آگئے تھے جو اچھی شہرت کے مالک ہیں،مگر انہوں نے ابھی چارج نہیں سنبھالا تھا اور پہلے والوں کا تبادلہ ہو چکا تھا؟ یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ وہ کرسی نہ بھری ہوئی تھی نہ خالی تھی؟ اب پتہ یہ لگانا ہو گا کہ پھر یہ کارنامہ کس کا تھا اور پولس کوکو ن استعمال کر رہا تھا؟ اور اس نے یہ ہی وقت کیوں چنا ؟ کیونکہ ابھی طاہر القادری صاحب کے آنے میں تو کئی دن تھے۔ رہیں رکاوٹیں یہ کلچر تو سب سے پہلے کراچی میں ضیاءالحق کے زمانے میں ایجاد ہوا تھااور وہیں سے اس کی بنیاد پر نو گو ایریا بنے اور کراچی ایک کے بجا ئے کئی ریاستوں میں بٹ گیا ؟ جب بوری لاشیں ملنے لگیں اور حکومت ملزمان کو پکڑنے میں ناکام ہوئی تو تنگ آکر اس وقت کی عدالتیں بھی حکم دینے لگیں کہ لوگ اپنی حفا ظت کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرلیں ۔
یہ رکاوٹ بھی بقول ان کے ایک کا رکن جن کے ہاتھ میں ایک عدالت کے حکم نامہ کے تحت بنا تھا اور جوکہ وہ ایک ٹی وی کے چینل پر ناظرین کودکھا رہے تھے، جس میں پوری تفصیل موجود تھی جو وہ سنا رہے تھے کہ ً ہم نے یہ کورٹ کے احکامات کے مطابق سالوں پہلے بنوائے تھے جس کی تفصیلات بھی پولس نے عطا کیں تھیں اور یہ عین اس کے مطابق بنے تھے؟ جوکہ رواج بدلنے کے بعد اب تجاوزات کی شق کے تحت آگئے تھے؟ کیونکہ عدلیہ نے انہیں وہیں غلط قرار دیدیا تھاجس شہر سے ان کی ابتدا ہوئی تھی، مگر یہ فیصلہ کراچی کے لیے تھا اور ابھی تک قبول ِ عام کی سند نہیں حاصل کر سکا تھا۔ وہاں بھی تجاوزات ابھی تک موجود تھے؟ اور عدالت عالیہ اس پر بار بار برہمی کا اظہار کرچکی تھی؟
جبکہ دوسرے شہروں میں بشمول لاہور اس کی تنسیخ کے لیے کوئی حکم صادر نہیں ہوا تھا ؟ جو اس سے ثابت ہے کہ بقول ان کے جب پولس وہاں پہونچی اور انہوں نے پولس سے وہ حکم نامہ مانگا تو وہ دکھانے میں ناکام رہی ؟ اب سوال پھر یہ پیدا ہو تا ہے کہ انہیں کس بنا پر کورٹ نے اجازت دی تھی؟ اس لیئے کہ یہ مدرسہ واحد مدرسہ تھا جس کاجرم اس کے نا م “منہاج القر آن “ سے ظاہر ہے؟ کیونکہ یہ ان مدرسوں میں سے تھا جن کی تعداد دال میں نمک کے برابر ہے جوانتہا پسندی کے دور میں رواداری کی تعلیم دے رہیں لہذا اس کی انتظامیہ کو شدت پسندوں کی طرف سے خطرہ تھا ۔ جبکہ شدت پسندوں کے سامنے حکومت بے بس تھی اور ان کے خلاف کوئی کاروائی کر تے ہو ئے گھبراتی تھی ۔ لہذا حکومت سے کیا کہتے کہ وہ ان کی حفاظت کرے؟ جبکہ انہوں نے اپنے رہنماؤں کے لیئے چاروں طرف خود ہی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں ۔ جو پاکستان میں بھی ابھی دیکھی جا سکتی ہیں ۔ یہ ہے پورا پس، منظر اس واقعہ کا جوکہ اندوہناک سانحہ میں بدل گیا یابدلا گیا ؟
رہے طاہر القادری صاحب وہ توآتے جاتے ہی رہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان کی ننظیم پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب فرصت ہوتی ہے تو پاکستان کا رخ بھی کر تے ہیں اور میڈیا میں چھانے کے لیے کوئی شوشہ چھوڑدیتے ہیں؟وہ گزشتہ سال بھی آئے تھے، بہت کامیاب جلوس بھی نکالا مگر واپس چلے گئے؟ جلوس کے بعد دھرنے کی خوبی یہ تھی کہ اتنی شدید سردی میں وہ کنٹینر کے اندر تھے جبکہ عوام باہر تھے جن میں خواتین اورشیر خوار بچے بھی شامل تھے۔ لیکن عقیدت کا یہ عالم تھا کہ لوگ انہیں چھوڑ کر بھاگے نہیں۔ جس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ ان کے بھی خاصے عقیدت مند وہاں موجود ہیں؟ لیکن اس وقت ان کا واسطہ زر داری صاحب جیسے ٹھندے آدمی سے تھا کہ انہوں نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے کیونکہ ان کا اصول تھا کون دیتا ہے اور کون لیتا ہے، وعدہ کرلینے میں کیا حرج ہے؟نتیجہ یہ ہوا کہ دھرنا ختم اور مولانا واپس، ابھی بھی ایسا ہی ہوسکتا تھا اگر شاہ کے مصاحب شاہ سے آگے نہ بڑھ جاتے تو واپس چلے جاتے کہ مصروف آدمی ہیں؟ مگر وہ تھے کون جو اس مشقِ ستم کے ذمہ دار بنے ؟ یہ معاملہ چونکہ ٹربینل کے سامنے ہے وہ خود ہی سچ اور جھوٹ کا پتہ چلا لے گا۔ چونکہ آج کی میڈیا ہر نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے جو بھی غیر معمولی قسم کی ہو، لہذا اس نے رکھی بھی اور وہ دکھائی بھی جا رہی ہے ۔پہلے بھی عدلیہ اس سے استفادہ حاصل کرتی ہے اب بھی چاہو تو کر سکتی ہیے اور ٹربیونل بھی اپنی مدد کے لیے چاہے تو بلا سکتا ہے۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی معلوم ہو جائے کہ اس کےپیچھے کون تھا اور عوامل او مقاصد کیا تھے، بعض لوگوں خیال ہے کہ اس کا مقصد دھرنا پرستوں کو ڈرانا تھا؟ جو اس سے ثابت بھی ہو رہا ہے کہ جس بے دردی سے نہتے لوگوں پر گولیا ں بر سائی گئیں اس پر پوسٹمارٹم رپورٹیں گواہ ہیں کہ گولیاں سینے پر یاگردن اور سر پر ماری گئیں، حالانکہ مسلح افراد کے لیے بھی حکم ہے کہ گولی ان کے نچلے حصے پر ماری جا ئے مگر یہاں اس کے برعکس اموات زیادہ تر سینے پر گو لی لگنے سے واقع ہوئیں بلکہ دو خواتین کی جو کہ تقیریریں کر رہیں تھیں ایک کی جبڑے پر گولی لگنے سے اور دوسری کی گردن میں گولی لگنے موت واقع ہوئی ؟ اس سے کیا ظاہر ہورہا ہے وہی چپ کرانے والا اور جبڑا توڑنے والا محاورہ دونوں بروئے کار لائے گئے؟ جبکہ مجمع کا نہتا ہونا اس سے ثابت ہے کہ پولس میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا؟ ہم ایک دن پہلے تک تعریف کر رہے تھے کہ حکومت بہت اچھا کھیل رہی ہے؟ جبکہ حکومت مخالف کہہ رہے تھے کہ حسب سابق دیکھ لینا کوئی نہ کوئی یہ حکومت ایسی غلطی کر جا ئے گی کہ آپ کو اپنی رائے واپس لینا پڑے گی ؟ اب ہم شاہ پرستوں کی اس عقلمندی کے بعد لوگوں سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں؟ کیونکہ ہم کیا کوئی عقلمند آدمی ایسے موقعہ پر یہ غلطی نہیں کر سکتا کہ جب فوج ایک علاقہ پر بر سرِ پیکار ہو؟ اسوقت ملک میں اپنے عوام کو اپنی حمایت میں کھڑا نے کرنے کے انہیں ، اپنے خلاف مشتعل کردیں اور موقعہ پرستوں کو یہ کہنے کا موقعہ مل جا ئے کہ جس تحریک میں خون شامل ہو جا ئے وہ کامیاب ہو جاتی ہے؟ وہ ایک بات کہنا بھول جاتے ہیں کہ خدانہ کرے اس میں انکا اپنا خون بھی شامل ہو؟ کیونکہ ان کے اقتدار کا زینہ بننے کے لیے بھولے عوام ہی کافی ہیں، جیسے کہ جناب زرداری کے لیے ان کے دور ِ اقتدار میں روزانہ سات کالے کالے بکروں کی روزانہ قربانی جس کے بل بوتے پر وہ اپنا دور بخیر و خوبی گزار گئے؟
ہمارا مشورہ ہے کہ ایسے دوچار گر موجودہ حکومت بھی ان سے سیکھ لے تاکہ یہ بلا ٹل جا ے؟ ابھی ابھی تازہ خبر آئی ہے کہ جناب شہباز شریف صاحب نے بہت افسوس کااظہار کرتے ہوئے اپنے وزیرِ با تدبیر جناب رانا ثنا الہ صاحب کو حکم دیا ہے کہ وہ وزارت سے استعفیٰ دیدیں؟اور انہوں نے استعفیٰ دے بھی دیا؟ پتہ نہیں کہ یہ گر انہوں نے زرداری صاحب کے استاد بھٹو صاحب سے سیکھا کہ پہلے جناب ممتاز بھٹو کے ہاتھوں سندھ میں انتہائی سختی کروائی اور جب عوام اور لیڈران ِ کرام ان کے خلاف ہوگئے تو فرمایا کہ ممتاز! جب سب کہہ رہے ہیں تو تم استعفیٰ دیدو؟ یا پھر شطرنج سے یہ لیا ہوگا کہ جب بادشاہ کو مات ہورہی ہو تو مہروں کی قر بانی دیکر بچا یا جاتا ہے۔ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت زندہ رہے اور حکومت مشکلات پر قابو پالے (آمین) تاکہ عوام کو پھر ہمیشہ کی طرح الف سے قاعدہ نہ شروع کرنا پڑے؟

Posted in Articles

وہ بھی تو کسی کے پوت تھے؟۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

وہ بھی تو کسی کے پوت تھے؟۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
پچھلے دنوں تاریخ کا اندو ہ ناک واقعہ پاکستان میں رونما ہوا جس میں کچھ انسان زندہ جل گئے؟ نہ ہی اس پر میڈیا نے انتظامیہ کی وہ خبر لی جو کہ اسے لینا چاہیئے تھی نہ اور نے؟ کیونکہ اس کی ذمہ دار وہ مقدس گائیں تھیں؟ جن کے کنٹرول میں تھوڑی دیر کے لیے ہوائی اڈا آیا تھا مگر انہیں سونے کی اتنی جلدی تھی کہ بغیر چیک کیے ہوئے ہوائی اڈے کو کلیر قراردیدیا۔ اس طرف کا رخ ہی نہیں کیا جہاں کہ آگ بھڑک رہی تھی جبکہ گم شدگان میں پانچ افراد انہوں نے ظاہر بھی کیے تھے؟ میں نے مقدس گائیوں کالفظ اس لیئے استعمال کیا کہ گائیں مقدس بھی ہو تی ہیں اور بھولی بھی؟جبکہ بقول علامہ اقبال (رح) وہ نوکدار سینگ بھی رکھتی ہیں، اور ان سے اپنے دفاع کام لیتی ہیں اور کوئی زیادہ تنگ کرے تو اسکے پیٹ میں گھونپ دیتی ہیں۔ حالانکہ اگر اس کی عقل کی داد دینا ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو اللہ میاں کی گائے ہے؟ جبکہ ہمارے یہاں یہ لفظ زیادہ مستعمل نہیں تھا اس کے بجائے انہیں فرشتوں سےتشبیہ دی جاتی تھی، ان کی نادیدہ حرکتوں کی وجہ سے،جوکہ بڑا نامناسب لفظ تھا؟ اس لیئے کہ فرشتے تو معصوم ہوتے ہیں ہر طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کے طابع فرمان ہوتے ہیں؟ مگر نہ جانے کیوں ابھی تک اس پر کسی نظر نہیں پڑی اور اسکے خلاف کوئی تحریک کسی نے نہیں چلائی ؟ قصہ مختصراس کی خبر اس وقت کسی کو نہیں ہوسکی جب تک کہ ان کے لواحقین اور خاص طور سے ایک نوجوان بیٹے کی ماں اور باپ نے ہوائی اڈے پہونچ کر دہائی نہیں دی کہ ہمارے بیٹے نے فون کیا ہے کہ وہ کولڈ اسٹوریج میں پھنسا ہوا ہے اور کچھ لوگوں نے ساری پابندیا ں توڑکر اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے اندر جانے کوشش نہیں کی اور انہیں روک دیا گیا؟ جو وہاں موجود ٹی وی نمائندوں نے دنیا کو دکھایا؟ بعد میں پوسٹ مارٹم سے خبر ملی کہ ان کو تو پہلے ہی گولی مارکر شدت پسندوں نے شہید کر دیا تھا؟ وہاں ان کا چیخنا چلانا صرف نظر ہے؟ مگر آفریں ہے ان ماں اور باپ کو جو ایسے موقع پر بھی جھوٹ سے کام لے رہے تھے کہ یہ بہانہ کر کے کولڈ اسٹوریج کی دیواریں صرف اپنی تسلی کرنے کے لیے تڑوادیں؟ ممکن یہکہ یہ اس دور کی بات ہو کہ وہ صرف زخمی تھا اور اس میں ابھی جان تھی جب اس نے اپنے ماں باپ کو فون پر اطلاع دی اور اہل، اختیار کی غفلت کی بنا پر اس کی جان گئی؟
یہ اس ملک میں ہوا جہاں کے حکمراں انتہائی متقی لوگ ہیں اور ان پر یہ الزام ہے کہ وہ اپنے گزشتہ دور میں امیر المونین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے جوکہ ایک کتا نواز ترقی پسند جنرل کو پسند نہیں آئے اور اس نے تختہ الٹ دیا؟ انہوں نے یہ خبر پڑھی ضرور ہوگی مگر نوٹس یوں نہیں لیا کہ سابقہ تجربہ مانع تھا؟ ورنہ انہیں خلیفہ راشد حضرت عمر (رض) جن کے دور کو سب کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین کے دور حکومت میں سب سے بہتر دور تھا اور وہ جو کچھ اس وقت ہمیں سکھا گئے وہ آج تک دوسرے عمل کر کے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، انہیں کا ارشادِ گرامی ہے کہ اگر ایک “ کتا “ بھی فرات کے کنارے بھوک سے مرگیا تو عمر (رض) اس کا ذمہ دار ہو گا “اس پر شاید وہاں کسی نے غور نہیں کیا کہ اس میں ذکر ہے کتے کا انسان کا نہیں ۔دوسرے بھوک سے مرنے کا ذکر ہے کسی کی غفلت کی وجہ سے وجہ سے جل کر مرنے کا نہیں؟اور ہمارے یہاں انسان کی وقعت اب وہ نہیں ہے جو دنیا میں ہے۔ جبکہ ہم انہیں الزام دیتے ہیں کہ ان کے کتے عمدہ سے عمدہ کھانا کھاتے ہیں گود میں رہتے ہیں اور پلنگوں پر ریشمی بستروں میں سوتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ خوبی ہم نظر انداز کر جاتے ہیں کہ وہ ایک انسانی جان بچانے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ہم انسانوں کو جل کر مرنے کے لیے چھوڑ کر سوجاتے ہیں؟
جہاں تک پاکستان میں حکمرانوں سے انصاف ملنےکا تعلق ہے، وہ انصاف فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جو ان کے ذاتی طور پر بار بار نوٹس لینے سے ظاہر ہے ،مگر یہ اور بات ہے کہ وہ قدم اٹھاتے تو ہیں مگر واقعہ رونما ہونے کے بعد؟ اس کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ایک باسی اور ایک تازہ بہ تازہ یہ بھی ہے کہ ان کے رائے ونڈ کے محلات میں ایک جنگلی بلا ان کے پالتو مور کو کھا گیا تو ڈی ایس پی جو حفاظت پر معمور تا اس کو سزا دی گئی۔ تازہ یہ ہے کہ باغِ شاہی سے دو سپاہیوں نے امرود توڑ کر کھالیئے تو انہیں سزا دی گئی؟
حالانکہ وہ سزا کے مستحق نہ تھے؟ کیونکہ وہ بھوکے تھے ؟ اور بھوک مٹانے کی حدتک چوری جائز اور قابلِ سزا نہیں ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ بھوکے تھے؟ یہ معلوم کرنا بہت آسان ہے اگر آپ وہاں کے رسم و رواج سے واقف ہیں؟ وہ یہ ہے کہ وہاں کسی کا بھی بغیر رشوت کےگزاراہ نہیں خصوصا ً پولس کا تو بالکل نہیں ہے؟لہذا جن میں سکت ہے وہ مال لگاتے ہیں تھانے مہنگے داموں خریدتے ہیں اور مال کماتے ہیں؟ وہ پہلے ہی بھرے پیٹ ہو تے ہیں، دوسرے سرمایہ داروں کی طرح ان کے پیٹ بڑھتے جاتے ہیں؟ مگر جن کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ کسی بڑے صاحب کےسالے یا بیٹے بھی نہیں ہیں؟ تووہ یاتو پولیس لائین میں لگا دیئے جاتے ہیں یا پھر بڑے لوگوں کے محلوں اور سکوریٹی پر جو کہ اکثریت میں ہیں اور ہمیشہ بھوکے ہی رہتے ہیں۔
اب دوسرا سوال آپ یہ کریں گے کہ میڈیا نے اس سانحہ کو اہمیت کیوں نہ دی ؟تو جواب یہ ہے کہ اس نے پچھلے دنوں اپنی ضرورت سے زیادہ ملی ہوئی آزادی کے زعم میں بہت آگے بڑھ کر دکھادیا جس کا نتیجہ ایک گروپ آجکل بھگت رہا ہے؟ اب دوسروں کان ہو گئے ہیں؟ اور چونکہ یہاں بھی الزام انہیں پر آرہا تھا لہذا وہ جو کہ پہلے پروگرام روک کر بریکنگ نیوز چلایا کرتے تھے اور اینکر خواتین اپنے نما ئندے سے پو چھتی تھیں کہ اس آدمی یا عو رت کو تم نے خود مرتے ہو ئے دیکھا ، اس کے کپڑے کس ڈیزائین کے تھے ، وہ چیخ اور چلا رہے تھے، وغیرہ وغیرہ؟ لیکن وہ پہلے تو اس خبر پر خاموش رہی اور جاننے کی بھی کوشش نہیں کی وہ گمشدہ ہیں تو ہیں کہاں اور جب ان کے ور ثا خود وہاں پہونچ گئے تو بھی وہ اتنی سر گرم نہ تھی جتنی کہ پہلے ایسے موقعوں پر نظر آتی تھی؟
اب یہ عالم ہے کہ جس طرح کھلاڑی اور بلے باز ایک دوسرے پر الزام اچھالتے ہیں؟ کہ اُس نے کوتاہی اِس نے کوتاہی کی،میں تو بہت مستعدی سے کھیلا ؟یہاں بھی سیاسی کھلاڑیوں کا وہی حال ہے کہ ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مرکزی وزیرِ داخلہ تک خاموش تھے کہ سندھ کی صوبائی حکومت کے وزیر اطلا عات نے ان پر الزام لگا دیا کہ انہوں نے فون تک نہیں کیا؟ یہ با لکل ایسا ہی ہو ا کہ آبیل مجھے مار؟ اس نے اینٹ پھینکی تو جواب میں وہاں سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں حقیقت بیانی سے کام لینا چا ہیے؟ ہم نے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ صوبا ئی حکومت کو مراسلے بھیجے جس میں پرانے ہوائی اڈے کے گییٹوں کو سکوریٹی رسک قرار دیا گیا تھا؟ مگر صوبائی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا؟ انہیں یہ کہتے ہوئے یہ بھی خیال نہیں آیا کہ صوبائی وزیراعلیٰ پہلے ہی شکوہ کناں ہیں کہ ان کے پاس اختیارات کی کمی ہے؟ زیادہ تر امور گورنر ہاوس میں غیر دستوری طور پر طے ہو تے ہیں، الزام دیتے ہو ئے انہیں ان کی عمر کا خیال بھی رکھنا چا ہیے تھا۔ میں آپ بیتی کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے بڑے ہیں میں دوتین گھنٹے کام کر نے کے بعد تھک جاتا ہوں تو ان کا کیا حال ہو گا؟پھر وہ مطالبہ بھی ایسا کر رہے ہیں سچ بولنے کا جہاں کہ سچائی کو ترک کیئے ہو ئے مدت گزر گئی؟ ایسے میں یہ مطالبہ قطعی غیر مناسب اور جوئے شیر لانے کے مترادف ہے؟ جبکہ وہ اپنی پیرانہ سالی کے با وجود ہوائی اڈے پر بروقت پہونچے تو ؟ ویسے پہونچے تو گورنر صاحب بھی ،مگر جب کہ وہاں وہ لوگ روسٹ ہو چکے تھے؟ اس کے گواہ ہم خود ہیں کہ ہم نے انہیں لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے دیکھا؟ ابھی فائر بریگیڈ اور متعلقہ حکام پہونچنے والے ہیں اور انہیں دیوار توڑکر نکال لیں گے ،دیوار ٹوٹی بھی مگر اس کے چھ گھنٹے کے بعد؟ وہ کرتے بھی کیا مرنےہی والےاتنے بے صبر ے تھے کہ انہوں نے دیوار ٹوٹنے کا انتظار نہ کیا۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہاں سکوریٹی پر موجود لوگوں نے اپنی جانوں پر کھیل انہیں روکا اورکام آئے، ورنہ وہ کھانے پینے کا سامان لیکر وہاں کئی دن تک رہنے کے لیے آئے تھے۔ اور وہاں سے پوری طرح واقف تھے ۔ جہاں تک واقفیت کا تعلق ہے؟ تو وہاں واقف کوئی ہو یا نہ ہو اگر کوئی وردی پہن کر سنیر آفیسر ان کے در میاں پہونچ جا ئے اور بیج بھی سنیرٹی ظاہر کر تا ہو تو سلوٹ کر نا ماتحتوں کا فرض ہے ۔ورنہ بعد میں ماتحت کوناک رگڑنی پڑتی ہے ۔ایسے میں سکوریٹی چیک کرنے کا وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جبکہ وہ تو آئے بھی وردی پہن کر تھے؟ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ سرکاری وردیاں کہاں سے مل جاتیں ہیں جو مجرم پہنے پھرتے ہیں؟ تو بھائی جہاں بھوک ہو وہاں لوگ سب کچھ بیچنے کو تیار رہتے ہیں ۔ دوسرے اب یہ درخت اتنا تن آور ہو چکا کہ ہر جگہ ان کے ہمدرد موجود ہیں؟ اب آپ پوچھیں گے اس کا حل کیا ہے ؟ جواب سب کو معلوم ہے کہ سب من حثیت القوم توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کریں وہ غفور الرحیم؟ مگر وہ پہلے برائی کو برائی تو سمجھیں تب کہیں جاکرتو بہ کا نمبر بعد میں آئے گا؟

Posted in Articles

احتجاج ، احتجاج، احتجاج۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

احتجاج ، احتجاج، احتجاج۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
ہر قوم کی اپنی ایک خصوصیت ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کی خصوصیت احتجاج ہے۔ یہ خصوصیت اس کی کیسے بنی اس کے لیئے تھوڑا سا تاریخ میں پیچھے کی طرف جانا ہو گا؟ دنیا میں جب مسلمان رو بہ زوال ہو ئے تو ہر جگہ سے ہر مقام سے انکی رجعتِ قہقری شروع ہو گئی، یہ لفظ آپ نے کتابوں میں پڑھاہو گا اور لوگوں کو اس پر عمل کر تے ہو ئے بھی دیکھا ہوگا۔ مگر یہ عمل ہے کیا ؟ اس سے ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی کم ہی واقف ہو نگے اس لیے کہ یہ پرانی اردو ہے جس سے ہماری نئی نسل نابلد ہے ۔ اس عمل کو دیکھنا ہو تو سندھ میں آپ کسی وڈیرے یا رئیس کی اوطاق پر چلے جا ئیں ، پنجاب میں چودھری کی بیٹھک پراور صوبہ پختون خواہ میں کسی خان صاحب کے حجرے پر یا پھر کسی زندہ پیر کی خانقاہ یا مزار پر چلے جائیں، یا پھر ریلوے انجن کہیں چلتی حالت میں مل جائے تو آپ اس کی لوکوشیڈ سے واپسی پر دیکھ لیں کہ وہا ں سب ایک ہی عمل کرتے نظر آئیں گے کہ وہ ہر بارگاہ میں داخل سیدھے پیرہو تے ہیں مگر واپسی الٹے پاؤں ہوتی ہے؟ اس میں سے موخر الذ کر یعنی ریلوے انجن کی تویہ مجبوری ہے کہ اسے مڑنے کے لیے زیادہ جگہ وہ بھی گولائی کی شکل میں درکار ہوتی ہے، مگر انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ایسا کیوں کر تا ہے؟
جواب ہے لالچ ، ڈر ،اور عقیدت وجہ ہے۔ جس کی روح کبھی یہ رہی ہوگی کہ بزرگوں کی طرف پیٹ نہ ہو؟ جبکہ اب انکی اولادوں کے شر سے ڈرتے ہیں ۔ یہ مثل بڑی مشہور ہے۔ کہ تجھ سے ڈر نہیں لگتا تیرے پھیلوں سے ڈر لگتا ہے؟ یہ تو تھی رجعت قہقری کی وضاحت، اب ہم آتے ہیں اس پر کہ اس کا آج کے موضوع سے کیا تعلق ہے؟ ہوا کہ جب تک ہم اللہ سے ڈرتے رہے تو آگے بڑھتے چلے گئے کیونکہ ہر نبی کادعوت یہ تھی کہ “تم میرے بتائے ہوئے راستے پر چلے تو اللہ تمہیں نوازے گا! بارشیں ہو نگی فصلیں شاندار ہو نگی اور فارغ البالی آئے گی “ لہذا جب بھی کوئی قوم نبیوں (ع) کے راستے پر چلی تو وہ آگے بڑھتی چلی گئی ۔ پھر جب عیش و عشرت میں پڑی تو اسے رجعت قہقری کا مرض لاحق ہو گیا اور ہر میدان سے پچھلے پاؤں واپسی شروع ہو گئی ۔ یہ ہی صورت ِ حال ہمارے یہاں بھی ہوئی کہ جب تک ہم میں خوفِ خدا باقی رہا اس وقت تک آگے بڑھتے چلے گئے ،جب نڈر ہو گئے، تو رب نے بھی اپنی سنت کے مطابق بے نیازی شروع کردی؟ پھر ہمارا کام ایک ہی رہ گیا کہ جو زمین کا حصہ ہم کھو تے گئے اس پر احتجاج کر تے چلے چلائیں؟ نتیجہ کے طور پر ہمارا مزاج ہی احتجاجی بن گیا؟
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جب ایک زمین کا تکڑا ہمیں دوبارہ ملا تھا تو اس کی تعمیر میں لگ جاتے کیونکہ احتجاج قوموں کے لیئے خون گرم رکھنے کا بہانا ہو تا ہے غلامی کے زمانے میں! مگر آزاد ہونے والی قوموں کی تاریخ یہ ہے کہ ان کے لیڈر قوم کو تعمیر پر لگا گر اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔چونکہ ہمارے یہاں لیڈر خود شروع سے ہی اپنے ہی عوام سے خائف رہے۔ لہذا انہوں نے یہ ہی مناسب سمجھا کہ حسبِ سابق ان کو احتجاجوں میں مصروف رکھو تاکہ یہ حکمرانوں کی طرف نہ دیکھیں اور نہ پوچھیں کہ وعدے کیا ہوئے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم احتجاج میں لگے رہے اور ہمارے بعد آزاد ہو نے والی قومیں آگے بڑھتی چلی گئیں ،جیسے کہ ہما را ہمسایہ اور دوست چین، یا ہمارا دشمن عزرائیل۔
بعد میں آنے والے لیڈروں کو ایک کھیل ہاتھ آگیا کہ جو بھی آتا وہ ہمیں سبز باغ دکھاتا پھل خود کھاتا اور خود سے کبھی نہیں جاتا جب تک کہ نکالا نہ جائے یا اوپر سے بلاوا نہ آجائے؟ کچھ لوگ اسلام کے نام پرکھیلتے رہے اور آخر میں وہ بیج بوگئے جو کہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں؟ انہیں کی کوکھ سے ایک ترقی پسند طالب علم لیڈردیکھتے ہی دیکھتے کراچی پر قابض کرادیئے گے؟ جو پاکستان کی شہ رگ تھا ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے کہ کسی کا سر دکھے تو پیہہ جام،لیڈر کو قبض ہو جائے توپیہہ جام۔ خوبی یہ ہے کہ جب سے انہیں اس اہم شہر میں جما یا گیا ؟ کسی نے نہیں پوچھا کہ آپکا قدم آگے کی طرف اب تک کونسا بڑھا؟ مگر لطف یہ ہے کہ انکی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اس لیے کہ لوگ ان سے نہیں ان کے پھیلوں سے ڈرتے تھے ہیں۔ بیچ میں یک برا وقت آیا تو ان کے چاہنے والے فرشتوں نے انہیں ملک سے باہر پہونچا دیا کہ وہاں پناہ لیلو اور عیش کرو ؟
کسی ملک میں انسانی بنیاد پر پناہ لینا اور ہر ملک کا پناہ دینایو این کے قوانین کے تحت لازمی ہے؟ لیکن جو پناہ کے لیے آتا ہے وہ اپنے سارے شناختی کاغذات زیادہ تر ہوائی جہاز کے بیت الخلا ءمیں پھینک کر اس سے جان چھڑا لیتا ہے۔جس کے بعد وہ ایسا مال ہو جاتا ہے جو کہ اپنی پہچان کھودیتا ہے؟ میزبان ملک اس کو اپنے ملک سے نکال بھی نہیں سکتا کہ کوئی ملک بغیر شناخت کے اسے قبول نہیں کرتا ، اس طرح یہ سمجھ لیجئے کہ اس کا اپنے ملک سے ناتہ توٹ جاتا ہے ؟ پہلے تو پہونچتے ہی اس کا وظیفہ سرکار سے ملنا شروع ہو جاتا ہے بغیر کوئی کام کیئے ؟ وہ بھی بادشاہ ظفر کے استاد ذوق کی طرح نہیں جو کہ صرف چار روپیہ سکہ رائج وقت تھا بلکہ وہ اس کی ضرورت سے زیادہ ہو تا ہے؟ پھر مقدمہ چلنا شروع ہو تا ہے اس میں اس کا عام طور پر الزام یہ ہوتا ہے کہ میں اگر واپس گیا یا مجھے بھیجا گیا تو میری جان کو خطرہ ہے اور اس صورت میں جو بھی اپنے ملک کے خلاف چاہے الزم لگا دے اپنا مقدمہ ثابت کر نے کے لیے۔یہ ہی سب کچھ موصوف نے بھی کیا ہوگا ! ورنہ بر طانیہ کی کسی کورٹ کو مطمعن کر نا مشکل کام ہے ؟ البتہ ہمیں وہ منظر یاد ہے جو آپ کو بھی یاد ہو گا کہ وہی لیڈر ٹی وی پر آکر بر طانوی پاسپورٹ لہرا رہا تھا کہ یہ مجھے مل گیا ہے اور اپنے ماننے والوں سے مبارکباد وصول کر رہا تھا؟ پھر وہاں وہ خود اختیار کردہ جلا وطنی کے باوجود ٹیلیفون کے ذریعہ اپنے ماننے والوں کے دلوں پر راج کرتا رہا، وہ اور اس کے ساتھی مال بنا تے رہے اور انہوں نے طرح طرح کے نئے طریقہ مال بنا نے کے لیے ایجاد بھی کیے۔ اب مسئلہ مال چھپانے کا تھا ۔ لہذا اسے سکے جمع کر نے شوق ہو گیا،وہ سکے بڑھتے گئے؟جس کی بھنک وہاں کے حساس اداروں تک پہونچ گئی؟ پھر تحقیقات کی خبریں آتی رہیں۔ اور اس کو جھٹلایا جا تا رہا نوبت یہاں تک پہونچی جو آپ کے سامنے ہے؟تو اس سے کچھ پہلے اس چیز کا خیال آیا جوبائیس سال تک نہیں آیا کہ وہ پاکستانی شہری ہے اور اس کو پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے کا حق ہے؟ وہ بھی گھر پہونچانے کا بندو بست کردیا گیا تھا کہ ہا ئی کمشنر صاحب کی چھٹی ہو گئی؟
موجودہ حکومت نے پہلے تو ٹال مٹول سے کام لیا پھر خبریں آنے لگیں کہ اصولی طور پر طے ہو گیا ہے،صرف جاری ہو نا باقی ہے؟ اور ان کے حمایتی جو کہہ رہے ہیں اور ان میں وہ اینکربھی شامل ہیں جو لال بجھکڑ سمجھے جاتے ہیں ،کیونکہ پاکستان اور برطانیہ میں دہری شہریت رکھی جا سکتی ہے لہذا پاکستانی پاسپور ٹ اور شناختی کارڈ حاصل کرناان کا حق ہے؟
جس طرح میں اوپر عرض کرچکا کہ اس طرح باہر نکل کرسیاسی پناہ لینے والا اور ملک پر جھوٹے الزامات لگاکر شہریت لینے والا اپنے سابقہ ملک پر کیا پھر بھی کو ئی حق رکھتا ہے؟ اس کے لیئے قانونی وضاحت کی ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اگر قانون میں کوئی سقم ہے تو اسے دور کر ے؟چونکہ وہ دہری شخصیت والے جو پاکستان سے غیر ملکوں میں قانونی طور پرآے ہیں وہ اوروہ جو پاکستان پر الزام لگا کر آئے ہیں کہ ان کی جان کو وہاں خطرہ ہے برابر نہیں ہوسکتے؟ دوسرے یہ کہ مال وہاں بنا کر باہر کی بنکوں میں جمع کرنے والے اور یہاں قانونی طور پر کما کر اپنی گاڑھے پسینے کی کما ئی پاکستان بھیجنے والے برابر نہیں ہو سکتے؟ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟
اس لیئے کہ کراچی بند ہو جائے گا اور اربو ں روپیہ کا نقصان ہو گا، لیکن اب جو مقبولت کا گراف ہے وہ کچھ اور کہہ رہا؟ جیسی امید تھی ویسا کچھ نہیں ہوا اب وہ خود اپیل کرتے پھر رہے ہیں کہ شہر بند مت کرو؟ حالانکہ شہر بند کرا نے کے لیئے چند پتھروں کی ضرورت ہو تی ہے، لوگ خود ہی اپنے کاروبار بند کر کے چلے جاتے ہیں ؟ اب رہے دھر نے والے ؟اتنی سالوں سے جو فائدہ اٹھارہے ہیں کیا وہ اتنے بھی نہیں ہونگے تعداد میں؟ جبکہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ فرشتوں نے منع کردیا تھا کہ بہت ہوگئی اب ہم کراچی کو بند نہیں کرنے دیں گے اکانومی بیتھ جا ئے گی پھر ہماری تنخواہیں کہاں سے آئیں گی۔ تازہ خبریہ ہے کہ وہ جیل سےواپس بھی آگئے ہیں۔ اور بقول ان کے انہیں یہ فخر حاصل ہو گیا ہے کہ وہ پہلے پاکستانی لیڈر ہیں جو لند ن کی جیل پلٹ ہوئے ہیں ۔اس پر مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں ۔ جو چاہے آپ کا حسن ِ کرشمہ ساز کرے۔

Posted in Articles | Tagged

نواز شریف کا دورہ بھارت۔۔۔ شمس جیلانی

نواز شریف کا دورہ بھارت۔۔۔ شمس جیلانی
آجکل سب سے گرم موضوع ِ بحث دو مسائل ہیں؟ ایک تو ایک ماہ پرانا ہو چکا ہے مگر اس کی تازگی نہیں جاتی کیونکہ دیدہ اور نادیدہ ہاتھ اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہم پہلے اس پر لکھ بھی چکے ہیں پھر وہ عدالتوں میں زیرِسماعت ہے ۔جبکہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کی تہذیب یہ ہے کہ جو معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو تو لبوں پر مہر لگ جاتی ہے جیسے کہ لائٹ ریڈ ہونے پر یاکسی  لیول کراسنگ پر انسان کے قدم رکھتے ہی ٹریفک رک جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ ضروری نہیں ہے اس لیے کہ یہ شخصی آزادی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے؟ دوسری طرف ہم میں یہ نقص ہے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کے قوانین کا پورا احترام کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں ہمارے دین کا تقاضہ یہ ہی ہے۔ رہے دوسرے وہ کیا کرتے ہیں وہ انکا ذاتی فعل مجھے اس سے غرض نہیں۔
   دوسراموضوع ہے جناب نواز شریف کی بھارت یاترا؟ آج اسی پر بات کر تے ہیں؟ دورے پر جانے سے پہلے ہی دو رائے تھیں کچھ کہہ رہے تھے کہ انہیں جانا چا ہیئے کچھ کہہ رہے تھے نہیں ؟عام لوگوں کی بات تو اور ہے کیونکہ وہ دین سے انتنے واقف نہیں؟ مگر جب ہم نے ایک عالم کی زبانی “ نہیں “سنا جو ایک مذہبی جماعت کے رہنما ہیں اور اس جماعت کے نام سے جو اس کی سب سے اہم صفت ظاہر ہوتی ہے وہ اسلام کی دعوت دینا ہے! تو ہمیں بڑی حیرت ہو ئی؟ کیونکہ ایسی جماعت کے امیر کو تو ہر بات کہتے ہوئے اور کرتے ہوئے اسوہ حسنہ (ص) سامنے رکھنا چایئے ؟یہاں کئی چیزیں ہیں جو اس مشورہ پر ہمیں عجیب سی لگیں؟ پھر سوچا کہ ایسی کسی عالم سے تو غلطی نہیں ہو سکتی ،ہم چونکہ طالب علم ہیں لہذا ہمیں سے ہی سمجھنے  میں غلطی ہو ئی ہو گی ؟شاید وہ اسے پڑھ کر کے ہماری اس علمی کمی کو پورا کردیں؟
 پہلی بات تو یہ ہے کہ دعوت قبول کرنا حضور(ص) کی وہ سنتِ تواترہ ہے جو حضور (ص)  نےکبھی ترک نہیں فرمائی حتیٰ  کہ دشمن کی دعوت بھی نہیں؟ پھر پڑوسی کے حقوق کے بارے میں بہت سی احادیث ہیں ،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان نہیں جس کے شر سے پڑوسی محفوظ نہ ہواور حکم یہ بھی ہے کہ کوئی دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو   خوامخواہ جنگ مت کرو؟
  یہاں دعوت تھی پڑوسی کی طرف سے وہ بھی تاریخ ساز یعنی آج تک کبھی اس پڑوسی ملک کے کسی وزیر اعظم نے اپنے یہاں تقریب ِ حلف بر داری میں پاکستانی وزیر اعظم کو نہیں بلایا اور نہ ہی نواز شریف صاحب سے پہلے کوئی اس قسم کی تقریب میں گیا؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وزیر اعظم کا سابقہ ریکارڈ مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں ہے؟ وہ تو خیر مسلمان ہے ہی نہیں؟ مگر ہمارے یہاں جبکہ الحمد للہ نوے فیصد سے زیادہ مسلمان بستے ہیں ان کے انتخابی وعدے کچھ اور ہوتے ہیں اور جب اقتدار مل جا ئے تو وہ اکثر انہیں بھول جاتے ہیں یا تبدیل کر دیتے ہیں یہ فرماکر کہ وہ انتخابی وعدے تھے؟ حتیٰ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیئے ہو ئے وعدے بھی تین کم ستر سال سے التوا میں ہیں؟
   تو ایک موقع اسے بھی اپنا جیسا سیاسی لیڈر سمجھ کر دیدیں کہ اس نے بھی ممکن ہے اتخابی نعرے لگائے ہوں اور  سیاسی وعدے کیئےہوں، آزما لینے میں کیا حرج ہے؟ جب کہ اسی جماعت کے وزیر اعظم ،نواز شریف صاحب کے پچھلے دور میں دونوں ملکو ں کو اتنا قریب لے آئے تھے کہ فاصلہ دو چار قدم رہ گیا تھامگر ایک صاحب نے کارگل پر حملہ کر کے اس کو سبوتاژ کردیا ؟ ورنہ آج تاریخ کچھ اور ہوتی؟ جبکہ ان کی جماعت کو پہلی دفعہ بھارت کی تاریخ حکومت ملی تھی اور اتنی بڑی اکثریت بھی اسے حاصل نہیں تھی؟ اب اسی جماعت کو دوسری دفعہ اکثریت ملی ہے اور بہت بڑی اکثریت ملی ہے اگر وہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے تو برا کیاہے؟
 اب رہی یہ بات کے نواز شریف صاحب وہاں سے لیکر کیا آئے تو جواب ہے کہ باہمی خیر سگالی ۔ جوکہ دونوں کی باڈی لینگوج سے  وہاں بار ،بار ظاہر ہوا؟  جتنی انہیں اہمیت ملی وہ بھی اس حقیقت کی مظہر ہے کہ سارک ممالک تو بہانہ تھے ، اصل مقصد اس کی آڑ میں نواز شریف صاحب کو بلانا تھا۔ کیونکہ تقریب کے دوران نہ تو ان میں سے کسی کے ساتھ اتنی لمبی ملاقات ہو ئی اور نہ ہی ون ٹو ون پندرہ منٹ کی ملاقات ہو ئی؟جبکہ تقریب کے دوران بھی اوروں کی طرح نواز شریف صاحب سے بھی ایک چھوٹی سی ملاقات ہو چکی تھی “ جس پرایک سوال میں بھارتی وزیر اعظم نے اخبار نویسوں کو یہ بتایا کہ اس میں نواز شریف صاحب نے صرف جذباتی باتیں کیں “انہوں نے جذباتیت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور اسلام آباد سے لاہور ان سے ملنے ہفتے کہ ہفتے آتے ہیں،  اس مرتبہ جب آئے اور میری والدہ کو مجھے مٹھائی کھلاتے ہوئے انہوں نے ٹی وی پر دیکھا تو وہ آنسو بھر لا ئیں؟
چونکہ اس کے پسِ منظر میں انکی والدہ کی یاد داشت میں کونسا منظر در آیا تھا وہ ہمیں پتہ نہیں ؟ ممکن کیا !بلکہ یقین ہے کہ وہ اس راز سے یقینی طور پر واقف ہونگی کہ پہلے جب ان کے بیٹے نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تو کچھ عناصر کو وہ پسند نہ آیا! اس کے نتیجہ کے طور پر ان کے بیٹے کو جیل جانا پڑا اور بمشکل اس شرط پر جان بخشی ہوئی کہ وہ دس سال کے لیے جلاوطن ہو جائے ؟ اور اسی کے ساتھ ان کو اور ان کے خاندان کو بھی ملک بدر ہو نا پڑا ؟لہذا وہ سوچ رہی ہوں گی کہ بیٹا تم پھر وہی کر نے جارہے ہو، کیا نتائج سوچ لیے ہیں؟
 بہر حال سوچ انکی کچھ بھی ہومگر خیر سگالی کاجواب وہاں سے خیر سگالی سے ہی دیا گیا یعنی بھارتی وزیرآعظم نے بطور تحفہ ان کی والدہ کے لیے شال بھیجی؟ جو ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ ہندو رسم و رواج میں جب کسی خاتون کے سرپر دوپٹہ ڈالتے ہیں، اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسکو اپنے خاندان کا ایک فرد تسلیم کرلیا اور اس کا ہمیشہ مان رکھا جاتا ہے؟ جولوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ وہ کیا لیکر آئے تو میرا جواب پھر وہی ہو گا کہ خیر سگالی جس میں یہ تحفہ بھی شامل ہے؟ جو کہ اس بد اعتمادی کی فضا میں جو دونوں ملکوں کے درمیان پہلے دن سے موجود ہے ایک بہت بڑی کامیابی ہے؟
 اب رہا یہ مسئلہ کہ شدت پسندی کو اس میٹینگ میں ہندوستان کی طرف سے کیوں زیر بحث لا یا گیا ؟ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے، تمام عملہ وہی ہے جو پہلے تھا اس کی فائل میں جو فیصلہ طلب چیزیں ہیں اس کو وہی زیر بحث لانا تھیں ؟ جیسے جیسے تعلقات آگے بڑھیں گے اس میں تبدیلی آتی جا ئے گی اگر ان عناصر کی طرف اجازت دی گئی جو کہ بہتر تعلقات نہیں چاہتے ہیں؟اب رہا یہ اعتراض کہ نواز شریف صاحب  نے کشمیر کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اگر نکتہ چیں غور کرنا چاہیں تو مسائل کے ساتھ “ سب  “کا لفظ استعمال ہوا ،اردو قوائد کے اعتبار سے “سب “ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرلیتا ہے ،جبکہ ون ٹو ون میٹنگ  میں کیا ہوا کسی نے روشنی نہیں ڈالی اور ان کی وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کردیا کہ  “ ہر بات بتانے کی نہیں ہوتی؟ یہ جواب دنیا کی سب سی جموریت کاجواب ہے؟ اس میں ایک سبق ہمارے لیے بھی  ہےکہ میڈیا بجائے قیاس آرائیوں کے کچھ راز ، راز بھی رہنے دے؟ قرآں بد گمانیوں کو منع کرتا ہے اور پردہ پوشی کی تاکید کرتا ہے؟
     اب آپ مجھ سے پوچھیں گے ،جو کہ آپ کا حق ہے کہ آپ یہ سب کچھ کس امید پر کہہ رہے ہیں؟ جواب بہت سیدھا سا ہے کہ میرے سامنے اسی سال کا تجربہ ہے کہ جو مانگیں ہارڈ لائنز (ہندو شدت پسندوں کی) تھیں وہ سیکولر کانگریس نے بطور قانون نافذ کیں اور اسی کے دور میں ہوئیں ۔ اس لیے کہ انہیں عوام کے آگے جھکنا پڑا؟اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔جمہوریت میں ایسا ہی ہو تا ہے؟ ورنہ نتیجہ کے طور پر ا یوان حکومت سے نکلنا پڑتا ہے؟کیونکہ ہر قوم اپنے مذہب سے محبت کرتی ہے ، اگر مجبور نہ ہو تو اس کو پامال ہوتے نہیں دیکھ سکتی ہے اس میں ہم بھی شامل ہیں؟
 اب میں وہاں چند مثالیں دیکر بات کو ختم کر تا ہوں ۔ گاندھی جی نے قائدِ اعظم اور با با ئے اردومولوی عبد الحق مرحوم کو ایک خط لکھا کہ ہندوستان کی زبان اردو ہی رہے ،مگر ایسا کریں کہ ہندو جو اسے ہندوستانی کہتے ہیں اور اردو رسم الخط کو جانتے بھی ہیں سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے لکھتے پڑھتے ہیں؟ جو نہیں بھی جانتے ہیں وہ اردو رسم الخط سیکھ لیں اورمسلمان دیوناگری رسم الخط سیکھ لیں ۔ لیکن اس خط کا انہیں جواب نہیں ملا؟ زبان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ہندوستان آزاد ہوگیا ، شدت پسندوں کے دبا ؤ کی بنا پر اس کے باوجود کہ کانگریس اردو کے حق میں تھی اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو تھے جنہیں سنسکرت زدہ ہندی نہیں آتی تھی جبکہ ان کے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم تھے ۔ایوان میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا تو صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے جوکہ ایک مسلمان خاتون کاووٹ تھا یہ قانون پاس ہو گیا؟ غرضیکہ اسی طرح گئو کشی پر بندش کا مسئلہ ، ان کے مذہب میں مقدس چو پائیوں نیل گائے اور بندر اور واحد پرند، مور کے تحفظ کا مسئلہ، بعد میں بابری مسجد کا مسئلہ جس پر کانگریس سیکولر ہونے کے باوجود اسکے بر عکس عمل کرنے یا آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہو ئی۔ اس لیے کہ ڈر تھا کہ حزب ِاختلاف اس کو الیکشن میں مسئلہ نہ بنالے؟ جب کے وہی حزب ِ اختلاف واجپائی صاحب کے دور میں پہلی دفعہ آئی تو اس نے زمینی حقائق سمجھتے ہوئے اپنا رویہ مختلف رکھا،کیونکہ وہ ہندو اکثریت کی نما ئندہ تھی اسے ڈر نہیں تھا کہ سیکولر کانگریس اس کے  خلاف اس کےنعرے اپنا ئے گی؟  کو شش کرنے میں کیا حرج ہےممکن ہے کہ کوئی نیا حل سامنے آجائے  ،اس لیے کہ دنیا امید پر قائم ہے؟

 

Aside | Posted on by | Tagged