زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

پاکستانی قوم ہو یانہ ہو، مگر حکمراں بڑے مستقل مزاج ہیں ؟ سب کا ایک ہی نعرہ ہے کہ اگر ہم نہ ہوئے تو آسمان گرپڑے گا ملک تباہ ہوجا ئے گا؟ ہم سے بہتر اور ہم سے زیادہ لائق ِ حکمرانی کوئی اور ہے ہی نہیں؟ بعضے تو اس عقیدے پر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ میاں کے یہاں جاتے جاتے واپس آجاتے ہیں؟ مگر انہیں خدا یاد نہیں آتا؟ حالانکہ ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ موت کو سامنے دیکھ کربندے کو خدا یاد آجاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ ان کے لیے ہوگا جو خدا اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ دوسرا ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ جب لوگ قر آنی زبان میں “ عمر ِ ارذل کی طرف تیزی سے مراجعت فرمانے لگتے ہیں ، تو اسے اردو میں“ قبر میں پیر لٹکانا کہتے ہیں “آپ نے اکثر ایسے لوگوں کے لیے عوام الناس کوکہتے ہوئے سنا ہوگاکہ “ بڈھا قبر میں پیر لٹکا ئے بیٹھا ہے پھر بھی نہیں سدھر رہا ہے“ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمراں اس محاورے پر عامل ہیں ، جو نہ اردو کا ہے اور نہ عربی کا، بلکہ فارسی کا ہے جو آج کا ہمارا“ عنوان“ ہے ،جسے مغل ان کے لیے چھوڑ گئے اور زبانی سبق دے گئے ہیں کہ ڈنڈا مضبوط سا لیں اور مضبوطی سے اسے تھامے رہیں توا کبر اور اورنگزیب کی طرح پچاس سال تک حکومت کر سکتے ہیں؟ جنہوں نے ا بھی تک حکمرانی کے پچاس سال پورے نہیں کیے ہیں۔ ان کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے پچاس سال پورے کریں! جب تک عوام اور حزب ِ اختلاف دونوں ہی صبر کے ساتھ انتظار کریں ؟ اس لیے کہ ان کے بڑوں نے یہ طرح ہی کیوں ڈالی اور انہیں پچاس سال تک کیوں برداشت کیا؟ اب آپ یہ عذر ِ لنگ پیش کریں گے کہ اس میں ان کا کیا دخل تھا؟ وہ باہر سے آئے اورقابض ہو گئے پھر ان کی حکومت نسل در نسل چلتی رہی؟ بھائی بہت سے لوگ موجودہ حکومت کو بھی تشبیہ انہیں سے دے رہے ہیں؟ سوائے ایک کے کہ دارالحکومت کو “ تخت ِلاہور کہہ رہے ہیں جو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں کہلاتا تھا“ لہذا یہ تشبیہ فٹ نہیں بیٹھی جبکہ باقی سب تشبیہات فٹ بیٹھ ر ہی ہیں۔ اگر تھوڑا ساحسن ِظن رکھیں تو یہ بھی فٹ بیٹھتا ہے ا گر رنجیت سنگھ کے انصاف سے اس زمانے کے انصاف کا موازنہ کریں؟ کیوں کہ یہاں بھی وہ محاورہ صادق آجاتا ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں جبکہ یہاں دونوں ہی بخوبی رہ رہی ہیں؟ ورنہ یہاں بھی کونسی جمہوریت ہے ؟ جس میں آپ کو جمہوری اقدار کی تلاش ہے؟ موجودہ حکمراں تسلسل ہیں جنرلوں کی دور کا ،لہذا وہ مغل طرز حکومت پرعمل کر رہے ہیں تو ان کی مرضی اور مہاراجہ کا طرز حکومت اپنا ئیں تو ان کی مرضی، نہ آپ انہیں لا ئے ہیں نہ آپ انہیں ہٹا سکتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے ؟ جس سے یہ ثابت ہوا کے نہ لانے میں آپ کے ووٹ کو دخل ہے نہ ہٹانے میں آپ کے ووٹ کا دخل ہونا چاہیے ؟ اسی طرح آپ کو جواب طلبی کا بھی کوئی حق نہیں ہے؟ کیونکہ کہ کیا؟ آپ کے اجداد نے شاہ جہاں سے پوچھا تھا کہ وہ اپنی بیگم  صاحبہ کی قبر پر تاج محل کیوں بنوا رہا ہے؟ اور اس پرسات سال تک تمام منصوبے روک کر سات کروڑ روپیہ کیوں خرچ کیے ؟ لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں؟ اسے کیا معلوم تھا کہ قدر ت تاج محل کو اس کے لیے آگے چل کر نشانِ عبرت بنا دے گی وہ دور سے بیٹھا دیکھتا رہے گا اور جانے کو ترسے گا؟ پھر بعد میں آنے والے حکمراں اس پر ٹکٹ لگاکر پیسہ کما ئیں گے؟
تو اب آپ موجودہ حکمرانو ں سے کیسے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ تم یہ اورنج ٹرین میٹرو بسیں کیوں چلا رہے ہو ؟ جبکہ لوگوں کے پاس کھانے کو نہیں ہے ان کے پاس کاروبار بھی نہیں ہو گا، تو وہ جائیں گے کہاں! پھر ٹکٹ کے پیسے لائیں گے کہاں سے؟ کیا حکومت انہیں مفت پاس بنا دے گی کہ خالی پیٹ تفریح کرو؟ اور کھانہ کسی مخیر “ ملک صاحب “کے دستر خوان پر کھا لیا کرو۔ جبکہ حکمراں تو یہاں تک اب بات کے پکے ہیں کہ ہمارے جیسے ناسمجھ لوگوں نے تاریخی حوالے دے کر حکمرانو ں کو سمجھا یا کہ ١نیس جولائی مناسب نہیں ہے یوم سیاہ منانے کے لیے کہ یہ اپنے ہی خلاف یوم سیاہ منانا ہے ؟اس میں آ پ کو بہت بڑا مغالطہ ہوگیا ہے۔ مگر ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ پتھر پر لکیر ہوتا ہے انہوں نے اس سے پیچھے ہٹنا پسند نہیں کیا بلکہ تاریخ تبدیل کر نا یا نئی تاریخ مقرر کرنا بھی گوارا اس لیے نہیں کیا کہ یہ روایات ہماری تاریخ میں پہلے سے موجود ہے جو حکمراں آیا وہ تاریخ بدلتا رہا ؟ جبکہ انکا اصل گھر آجکل جہاں ہے اور جہاں پر فلیٹوں کا جھگڑا چل رہا ہے وہاں کا آدھا آئین مثالوں پر چلتا ہے۔ اور یہ ہی نہیں انہوں نے ایک اور مثال بھی قائم کردی کہ بار بار ٹی وی چینل دن بھر اعلان کرتے رہے کہ دن کی مناسبت سے وزیر اعظم تقریر فرمانے والے ہیں؟ لیکن دن چھوٹا پڑ گیا اور تقریر نہیں شروع ہوئی تو مائیں بچوں کو بھوکا ہی سلا کر سوگئیں ؟ ممکن ہے کہ شاہ کے وفاداروں کو خواب میں پوری رات تقریر سنائی دیتی رہی ہو؟ ہم بھی انتظار کرنے والوں میں شامل تھے کہ نہ جانے کیوں ہمیں خیال آگیا کہ اس کو لغت میں دیکھیں تو سہی کہ یہ محاورہ جو ہم بچپن سے کسی اڑیل ٹٹو یا بندے کے بارے میں سنتے اور بزرگوں کی نقل میں بولتے آئے ہیں لغت میں کہیں ہے بھی یا نہیں ؟ ہم نے فارسی کی لغات کی ورق گردانی بھی کرلی، اردو کی لغات بھی دیکھ لیں مگر یہ محاورہ کہیں نہیں ملا ؟ ایسے موقعہ پر علامہ گوگل جو کہ ہر موقع پر کام آجاتے ہیں سوچا کہ چلو ان کو تکلیف دیں ۔ پوچھا تو ہمیں ایسا لگا کہ وہ مضمون ہمارے ہی انتظار میں تھا اور جو نوائے وقت لاہورمیں کبھی لگا تھا اور جناب تنویر صاحب  کی تحقیق پر مشتمل ہے؟ جس میں اس محاورے کی پورے تفصیل کے ساتھ وجہ تسمیہ بیان ہوئی تھی؟ اس کے علاوہ جہاں کہیں دیکھا ؟تو کچھ نہیں ملا اور اس سلسلہ میں مولانا علامہ گوگل بھی بغلیں جھانکتے نظر آئے؟ ہم چاہتے تو آجکل ادبی چوری کو جائز سمجھا جاتا ہے؟ ہم بھی اس اطلاع کو چپ چاپ ہضم کرلیتے لیکن ہم جھوٹ کو جائز نہیں سمجھتے ، کیونکہ مسلمان ہیں؟ ہم نے پہلے تو اخبار نوائے وقت کے اس مفکر کا شکریہ ادا کیا اور اسکے بعد اپنے قارئین کو اس سے روشناس کرارہے ہیں۔ اس مضمون سے ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ محاورہ غیر ملکی نہیں ہے بلکہ اس کا منبع اور مخرج سب کچھ داتا کے شہر لاہور میں ہے تو ہمیں اس کی وجہ سے واقف ہو ئے کہ یہ ہماری لغات میں کیوں نہیں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم باہر والوں کی ہر چیز اپنی لغت میں شامل کر لیتے ہیں مگر اپنی چیزیں اور اپنے کارنامے اس لیے شامل نہیں کرتے کے وہ باہر والوں نے شامل نہیں کیئے ؟
آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ یہ محاورہ جن معنوں ہم 86سال کی عمر تک لغت میں نہ ہونے کے باوجود استعمال کرتے رہے اس نے لاہور میں ہی جنم لیا اس کے پیچھے ایک ولی صفت حکیم صاحب کی خوداری اور درباروں سے بیزاری کی داستان ہے جو پہلے زمانے میں ولیوں میں عام تھی کہ وہ درباروں سے بھاگتے تھے جبکہ اب انکی ہی اولاد درباروں کے پیچھے بھاگتی ہے؟ وہ حکیم صاحب جو بازارحکیمان میں کسی تنگ گلی میں رنجیت سنگھ کے دور میں رہا کرتے تھے۔ پہلے زمانے میں حکیم نہ جا نے کیوں آج کی طرح بے رحم نہیں بلکہ ولی ہواکر تے تھے ،اور عام طور پرعالم حکیم بھی ہوتے تھے، دن میں وہ دوا دیتے اور رات بھر جاگ کر شفاء کے لیے دعا کرتے تھے؟ یہ ہی وجہ تھی کہ اللہ نے ا ن کے ہاتھ میں شفا بھی دی ہوئی تھی؟ آجکل والا معاملہ نہیں تھا کہ مریض مر رہااور پرائیویٹ اسپتال والے کہتے ہیں کہ ہم ہاتھ جب تک نہیں لگا ئیں گے کہ جب تک اتنے لاکھ روپیہ جمع نہ کرادو ؟ انہیں شاید علاج شروع کرنے میں اسلامی اخوت مانع ہوتی ہوگی۔ البتہ جہاں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے لوگوں کو دنیا بھر کی برائی نظر آتی ہے ؟ ان کا طریقہ ہم نےالٹا دیکھا کہ وہ فوراً علاج شروع کردیتے ہیں یہ بعد میں طے ہوتا رہتا ہے کہ اس کے پاس پیسے ہیں یا نہیں اور طریقہ ادا ئیگی کیا ہو گا ۔ اگر وہ ادا نہیں کرسکتا ہے تو بھی اسے گھر جانے دیتے ہیں گر وی نہیں رکھتے؟
اس محاورے کے عالم وجود میں آنے کا قصہ یہ ہے کہ اس نام کے ایک حکیم صاحب تھے جنکی اولاد آج بھی معزز شہری ہے ان کے جد امجد کا اسم گرامی “ حکیم گل محمد  “تھا ،مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پشت پر پھوڑا نکلا آیا علاج کرایا مگر فائدہ نہیں ہوا( میرا خیال ہے کہ یہ کاربنکل قسم کا پھوڑا ہوگا جو شو گر کے مریضوں کو اکثر نکلتا ہے) کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ حکیم گل محمد صاحب سے علاج کرائیں جو کہ بازارِ حکیمان میں رہتے ہیں؟ مہاراجہ نے انہیں طلب فرمالیا انہوں نے جواب دیا کہ میں علاج تو کردونگا مگر مہاراجہ صاحب آپ کوخود یہاں آنا ہو گا؟ حکیم صاحب نے ان کے لیے شاہی فر مان جاری کردیا اور ایک عذر پیش کر دیا کہ گلیا ں تنگ ہیں میں وہاں نہیں آسکتا ؟ انہوں نے اس فرمان ِ شاہی کے پیچھے لکھدیا کہ “زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد “ زمین اپنی جگہ سے ہل سکتی مگر گل محمد نہیں“ یہ جملہ لکھنا گوکہ آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا مگر ان کو اپنے رب پر بھروسہ تھا؟ اس کو آنا پڑا اور ان کی شرط تسلیم کر نا پڑی؟ علاج ہوااور وہ صحت یاب ہو گیا۔ اس نے عام بادشاہوں کی طرح پوچھا ہوگا کہ مانگو کیا مانگتے ہو ؟ مگر انہوں نے فقیری کی لاج رکھ لی اور مانگا تو یہ مانگا کہ ہم وطنوں کے لیے علم مانگا اور پھر قاعدہ “ نور“ تیار ہوا جس میں تمام روزمرہ کام آنے والے علوم شامل تھے ؟ دیکھتے ، دیکھتے، وہاں تعلیم کا تناسب بہت بڑھ گیا؟ مگر ہم نے علم سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہ محاورہ ان کے ساتھ غلط معنوں میں استعمال کرنا شروع کردیا جبکہ وہ بہت بڑے اعزاز کے مستحق تھے۔ اور ہمیں اس محاورے کو اچھے معنی میں خود بھی استعمال کرنا چاہیے تھا؟ اب سب کو کوشش کرنا چاہیے کہ یہ اس تصیح کے بعد لغت میں شامل ہو تاکہ اس کا درست استعمال ہوسکے؟

Posted in Articles

کشمیر جل رہا ادھر کا روبار چل رہا ہے۔۔ شمس جیلانی

ہمسایوں سے دوستی اچھی بات ہے؟ مگر گرتی ہو ئی لاشوں پر نہیں۔ ہمارے یہاں خیر سے وراثت میں ملے ہوئے ایک مولانا بھی موجود ہیں جن کی ہر حکومت میں شمولیت کی پہلی شرط کشمیر کمیٹی کی کرسیِ صدارت ہے جس پر وہ کبھی تشریف فرما تک نہیں ہو تے، اس کی گرد تک نہیں جھاڑتے، اور عالم یہ ہے منوں کے حساب سے اب تک اس پر گرد چڑھ چکی ہے؟ مجال ہے کہیں جو وہ اپنے ہونے کا کبھی کوئی میٹنگ بلا کر ثبوت دیں یاکبھی اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے جا کر احتجاج کرڈالیں شاید یہ گھوسٹ قسم کی(غیر مرئی) کمیٹی ہے جیسے ہمارے ہاں غیر مرئی قسم کی وزارتیں ، محکمہ جات ااورملازمین ہیں اور یہ بھی بقول جمہوریت پسندوں کے جمہوریت کا حسن ہے؟ رہے بیچارے وزیر آعظم وہ دائمی مریض ہیں بمشکل پچاس دن کے بعد لندن میں زیر علاج رہ کر گھر آئے ہیں! سب کا خیال تھا کہ شاید اب وہ اپنی غیر حاضری کی تلافی کریں گے مگر کسی دل کے مریض سے یہ امید احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ابھی تک دفتر کا رخ ہی نہیں کیا ممکن ہے کہ انہیں ڈاکٹروں نے ہلکا پھلکا کام یا آرام کرنے کا مشورہ دیا ہوجسکا بلٹین شائع ہونے سے رہ گیا ہو اوروہ بعد میں شائع ہو؟ لے دے کر کوئی اگر اپنی موجودگی کا ثبوت دے رہا ہے تو وہ فوج کے سپہ سالار جناب راحیل شریف ہیں جو آج کل ہر مرض کی دوا بنے ہوئے ہیں ، کسی سے ملنا ہو تو وہ ، کہیں جانا ہو تووہ۔ کسی مسئلہ پر بیان دینا ہو تو وہ ، یہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے مملکت خداد کو ایک صحت مند سپہ سالار جناب راحیل شریف کی شکل میں دے رکھا ہے ورنہ ،نہ جانے ملک کاکیا حال ہوتا ؟ جبکہ گھوس نقب لگانے کو ہر طرف پھر رہے ہیں؟ ان کا عالم یہ ہے کہ مال تومال وہ جنازوں تک پرسیاست سے باز نہیں آتے ؟ ایک خدا ترس شخص جس کی کمپٹیشن کی وجہ سے جو اس کی زندگی تنگ کیے رہے اب انہیں کو یاد آیاکے یہ تو ہمارا بندہ ہے کیونکہ یہ بھی اردو اسپیکنگ ہے۔ مسیحا کو حکمت عملی سے کام لینا پڑا اور ایدھی صاحب کی میت کا دیدار بھی بہت سے ان کے پرستاروں کو نصیب نہیں ہوا کہ وہاں بھی خدشہ تھا کہ کوئی میت اٹھانہ لے جائے۔ ادھر جو لوگ ان کی شاندار موت دیکھ کر حسد کی آگ میں جل رہے تھے؟ وہ اب دور کی کوڑی لا رہے ہیں۔ سوشیل میڈیا پرکبھی ان کو “زندیق “ کہا جارہا ہے کبھی ان کو کچھ اور کہا جارہاہے، کیونکہ غلطی سے ہم میں ایک ایسا آدمی پیدا ہو گیا تھا جو مدر ٹریسہ جیسے لوگوں کی صف میں بھی سب سے قد میں اونچا دکھائی دیتا تھا،جبکہ ان کے یہاں بہت سی مدر ٹریسا ئیں تھیں اور ہیں ، جبکہ ہمارے یہاں صدیوں سے کوئی بھی پیدا نہیں ہوا؟ اس صدی میں غلطی سے اگرایک پیدا ہو گیا ہے تو بھائی، اسے مسلمان رہنے دو! مرنے کے بعد تو انتقام نہ لو تاکہ ہم بھی کچھ دن فخر کر سکیں؟ دوسرے نہ جانے ہمارے ہاں کیا مسئلہ ہے کہ ہر بڑے آدمی کے بیٹے باپ سے شاکی رہتے ہیں، اور بعد میں وہ، ایسے ایسے انکشافات کرتے ہیں جو کہ پہلے کبھی نہ انہوں کیے نہ عوام نے سنے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں تفصیل جانے دیں ؟ خدا کرے کہ یہ خبر جھوٹی ہو کہ ان کے صاحبزادے صاحب نے بھی فرمایا کہ ایدھی صاحب کیوبا کے فیڈل کاسٹرو سے بہت متاثر تھے؟ کاش وہ کہتے کہ میرے والد صاحب تمام اسفیائے کرام (رض) کی راہ پر چلتے تھے جو کہ سب حضور (ص) کی راہ پر چلنے والے تھے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے مزاروں پر بھی ابھی تک بلا امتیاز سب کی خاطر مدارات ہوتی ہے جبکہ نہ کسی سے مذہب پو چھا جا تا ہے نہ مسئلک؟
ہماری عادت ہی خراب ہے ہمیشہ کی طرح شروع ہوئے کشمیر سے پہونچ گئے ایدھی صاحب کی طرف ؟ کہتے ہیں بعض لوگوں کا حسن ان کے لیے وبال جان بن جا تا ہے۔ اسی طرح کشمیر کی حالت یہ ہے کہ جو اپنے حسن کی وجہ سے مشہور ہے اوراس کا حسن اس کی جان کے لیے مصیبت بناہواہے؟ کہ “ جس نے ڈالی نظر بری ڈالی“ اسے ہر ایک اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ سال میں صرف ایک دو دفعہ وہاں جا کر ٹھہر جاتا ہے اور بس؟ دوسرے یہ کہ سونے کی چڑیا یہ یوں بھی ہے کہ دنیا بھر سے سیاح وہاں آتے ہیں اور وہاں مال لا تے ہیں جو اب ڈرکے مارے نہیں آرہے ہیں؟ نہ جانے کیوں انگریزوں کو اس کی یہ خوبی بہت زیادہ نہیں بھائی اور انہوں نے مہاراجہ کے ہاتھ چند لاکھ میں اسے بیچ دیا ؟ اور خود کوگرمیوں میں مسوری تک ہی محدود رکھا ۔ کہتے ہیں کہ مصیبت تنہا نہیں آتی اس پر ظلم یہ ہوا کہ ہندوستان کی باگ ڈور نہرو کے ہاتھ آگئی جو کشمیری پنڈت تھے اور وہ اپنے آبائی علاقے کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ کشمیری آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹک گئے۔ سب کو آزادی مل گئی مگر ان کا آزادی کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا؟ انگریز نے ہندوستان تو مسلم اور غیر مسلم آبادی کی بناپر تقسیم کر دیا، مگر ریاستوں کامعاملہ جن کی تعداد چھ سو تیرہ تھی اور بعض صرف سوا مربع میل تک محیط تھیں ؟ ان کے حکمرانوں کو یہ اختیار دیدیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں اس کے ساتھ الحاق کرلیں اور اس طرح ریاستیں دونوں ملکو ں کی شکار گاہ کے طور پر چھوڑ دی گئیں، غالباً یہ سوچ کر کہ جو بڑا ہے وہی غالب رہے گا؟ وہ رہا بھی، جبکہ چھوٹے کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں چھوڑا کہ وہ انہیں کی گود میں بیٹھے اور انہیں کہ ا شارے پر چلے کیونکہ بڑا پہلے سے روس کی گودمیں  بیٹھا ہوا تھا کیونکہ نہرو آل انڈیا مزدور یونین کا جنرل سیکریٹری تھا؟ جب کے کشمیریوں کے لیڈر شیخ عبد اللہ “ کشمیری گاندھی “کہلاتے تھے اورنہرو صاحب کے دوست تھے؟ وہ کانگریسی ہونے کی وجہ سے اسے ہندوستان میں شامل رکھنا چاہتے تھے۔ جبکہ مہاراجہ ہری سنگھ اس کو آزاد رکھ کر اپنے زیر انتداب رکھنا چاہتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ کشمیر کی سرحدیں کہیں سے بھی بھارت کے ساتھ نہیں ملتی تھیں۔ اس کے لیے تقسیم سے پہلے ہی انہوں نے پلاننگ شروع کر دی اور گورداس پور کا مسلم اکثریت کا علاقہ! قادیانیوں اور سکھوں کے اس مطالبہ کی بنا پر پاکستان سے کاٹ کر ہندوستان کو دیدیا کہ ان کے وہاں “ مقدس مقامات “ ہیں لہذا یہ علاقہ پاکستان کو نہ دیا جائے ؟ وکیل دونوں فریقوں کے چودھری سر ظفر اللہ تھے۔ یہاں ان کے یہ الفاظ غور طلب ہیں کہ جو انہوں نے ان دنوں اخبار نویسوں کو جواب دیتے ہوئے فرما ئے تھے کہ “ وکیل اپنے طور پر کچھ نہیں کرتا؟ وہ وہی کرتا ہے جو اسے اس کا موکل ہدایت دیتا ہے “ اس سے کئی سوال اٹھتے ہیں پہلا سوال تو یہ ہے کہ موکل کون تھا اور اس نے انہیں کیا ہدایت دی ؟ جبکہ یہ چیز ڈھکی چھپی نہ تھی کہ قادیانیوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ “سرکار ِ برطانیہ کی وفاداری ہمارے لیے بمنزلہ ایمان ہے ۔ جس میں ہم اپنے مذہب پر چل سکتے ہیں اور تبلیغ کرسکتے ہیں جبکہ کسی مسلمان ملک میں یہ ممکن نہیں ہے “ تو در پر دہ وہ کونسی مجبوری تھی کہ انہیں پاکستانی لیڈروں نے اپنا وکیل مقرر کیا اور یہ ہی نہیں انہیں بعد میں انعام کے طور پروزیر خارجہ بھی بنا دیا ۔ اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ لیاقت علی خان مر حوم نے پھر ایک خطہ زمین بھی اپنا مقدس مقام پاکستان میں بھی بنا نے کے لیے چنوٹ کاایک بڑاعلاقہ عطا کر دیا۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہ ملے اسوقت تک مجبوری کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا؟ تاریخ میں صرف ایک شخص کابیان ملتا ہے جو کہ اس وقت مرکز میں نہیں تھے بلکہ مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلیٰ تھے ، جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے اور پنجاب میں مارشلا ءلگا تو اخبار نویسوں نے سر ظفر اللہ خان کے بارے میں غلط خارجہ پالیسی کا ذمہ دار ہونے کی بنا پر ان سے سوال پوچھا کہ آپ اسے نکال کیوں نہیں دیتے ؟ تو انہوں نے بے بسی سے فرمایا کہ “ امریکہ مجھے نکال د یگا“ ۔ اب آئیے خارجہ پالیسی کی طرف اگر یہ کلیہ مان لیا جائے کہ کشمیر ہمارا اس لیے ہے کہ وہاں اکثریت مسلمان تھی؟ تو پھرپاکستان نے ہندو اکثریت کی ریاست جونا گڑھ کا الحاق کیوں منظور کیا ؟ حیدر باد دکن کی طرف ہاتھ کیوں بڑھا یا؟ پھر اسی اصول پر عمل پیرا رہناتھا ۔ پھر اس کا اندازہ کیے بغیر کہ نتائج کیا ہونگے کشمیر میں بجا ئے فوج بھیجنے کے مجاہدین کیوں بھیجدیے ؟ جس کی وجہ سے مہاراجہ مجبور ہوگیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لے ؟ کیونکہ وادیِ کشمیر میں عوامی حمایت مسلم لیگ کو کبھی حاصل نہ تھی نہ رہی؟ جس علاقہ میں حمایت حاصل تھی وہ علاقہ آج آزاد ہے اور آزاد “ کشمیر“ کہلاتا ہے۔ اس پر ظلم یہ ہوا کہ جنہیں مجایدین کا مقدس نام دیکر بھیجا گیا تھا وہ غیر تربیت یافتہ مختلف قبائل پر مشتمل ایک گروپ تھااور کردار کے اعتبار سے وہ اتنے اونچے نہ تھے، ان کے ہاتھو ں کچھ زیادتیاں ہوئیں؟ اس طرح ہندوستان کی مقامی حمایت اور بڑھ گئی ۔ مجاہدین کو پسپا ہونا پڑا؟ تب پاکستان نے فوج استعمال کر نا چاہی ؟ جس کو اس وقت کے کمانڈر جنرل گریسی نے بغیر اپنے کمانڈر انچیف کی منطوری کے جو کہ پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ تھا پاکستانی قیادت کا حکم کا ماننے سے انکار کر دیا ۔ اب عالم یہ ہے کہ کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان کے پاس ہے ،کچھ چائنا کے پاس ہے اور زیادہ تر انڈیا کے پاس ہے ۔ جنہیں تینوں میں سے کوئی بھی چھوڑ نے کوئی تیار نہیں ہے۔ جب کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں وادی کی صورت حال ابھی تک وہی ہے ہم کئی جنگیں لڑ چکے ہیں ان کی پاکستان سے لگاوٹ کا اعتراف جو لوگ پاکستانی جھنڈے لہرانے بنا پر کر رہے ہیں وہ جھنڈوں کو اپنے یہاں کی آ جکل کی صورت ِ حال پر قیاس کرلیں کہ ہماری سڑکوں پر لگے ہوئے کچھ بینرز کو کہا جارہا ہے کہ یہ مفاد پرستوں نے خود لگوا ئے ہیں ممکن یہ ہی معاملہ وہا ں بھی ہو ہمیں کہیں ہمارے جھنڈے لہراکر پھنسایا نہ جارہا ہو اور پھر65کی جنگ کی طرح نتیجہ بھگتنا پڑے۔ ؟ ان کا معاملہ بھی با لکل کردوں جیسا ہے ؟ کہ کئی ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں اور انہیں کوئی آزاد کر نے کو تیار نہیں ضرورت پڑتی ہے تو ہاتھ سب رکھ دیتے ہیں ؟ ضرورت نکل جاتی ہے تو سب وعدے بھول جا تے ہیں ؟وہ بھی آج سے نہیں صدیوں سے جانیں دیتے چلے آرہے ہیں ۔ کب تک یہ سلسلہ چلے گا اللہ ہی جانتا ہے۔ جبکہ بد حواسی کا ہمارا عالم یہ ہے یہ ہے کہ5ستمبر کے بجائے جوکہ کشمیر کے انڈیا سے الحاق کا دن ہے، پاکستی کابینہ نے اس دن یوم ِ سیاہ منانے کا فیصلہ کیاجو پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر کے ساتھ الحاق کا دن ہے۔ اس سے جوبات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بمشول وزیر اعظم پوری کابینہ مسئلہ کشمیر سے نا واقف ہے! جبکہ اب ہر قدم  پھونک پھونک کر رکھنا چاہیئے? حماقتیں پہلے ہی بہت ہوچکیں ہیں؟

Posted in Uncategorized

اب بد زبانوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ شمس جیلانی

چند دن پہلے تین خبریں ایک ساتھ آئیں جن میں ایک اندوہناک خبر یہ بھی تھی کہ حضور (ص) کے روضہ مبارک اور جنت البقیع کے درمیا ں جو پولس چوکی تھی اس پر ایک شدت پسند پھٹ پڑا ؟ یہ انتہا ہے اور نتیجہ ہے اس شدت پسندی کا جو سعودی عرب کی تاسیس کے ساتھ شروع ہوئی؟جس کوکہ بڑی مشکل سے خوارج کے فتنہ کی شکل میں کئی سو سال تک جاری رہنے کے بعد چنگیزیوں نے ختم کیاتھا۔ جبکہ اس سے پہلے مسلمان اور عیسائی ملک کر اسے ختم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ میں نے دوسری قوموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ اسوقت ہندؤں اوریہودیوں کی حکومت اول تو تھی نہیں اور کہیں تھی تو خود مختار نہیں تھی۔ بدھ مت کو ماننے والے خود کو امن پرست کہتے تھے اور دنیا کے سامنے ان کاوہ رخ ابھی تک نہیں آیا تھا جو کہ آج کل برما میں دیکھا جا رہا ہے؟ اس وقت صرف دو ہی قومیں شدت پسندوں سے نبرد آزما ہوئیں۔ دوسری بھی اس وقت جبکہ خارجیوں نے مسلمانوں با دشاہوں اور علماءکو قتل کرتے کرتےہ فرانس کے بادشاہ کو بھی قتل کر ڈالا ۔ خارجی فرقہ بھی عمال کی نا انصافیوں کی وجہ سے معرضِ وجود میں آیا تھا جبکہ آج بھی نا انصافیوں کا دور دورہ ہے اورخاص طور پر عالم اسلام اس میں زیادہ مبتلا ہے۔ شدت پسندی کی ابتداءیہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ تھا اور حضرت عثمان (رض) خلیفہ تھے؟ اسوقت علماءکے بجائے حفاظ کازور تھا اور وہی ہر مسجد میں سرکاری طور پر حضرت عمر (رض) کے تراویح کو موجودہ شکل میں رائج کرنے کی وجہ سے امام بنے اور ہر مسجد میں تعینات ہوئے تھے؟ یہ قدرتی امر تھا کہ انہیں وفادار حکومت کا ہونا چاہیئے تھا اور کچھ عرصہ وہ رہے بھی، لیکن مروان بن الحکم کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے وہ حکومت کے خلاف صف آرا ہو گئے ۔ اور چاروں طرف سے اپنی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں لیکر دارالخلافہ پہونچے جو کے اسوقت تک مدینہ منورہ تھا۔ ویسے توا ن کے بہت سے مطالبات تھے مگر اس میں سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ مروان کو اس کے عہدے سے بر طرف کیا جائے اور انہیں جن دوسرے عمال کے خلاف شکایات ہیں ان کو بھی برطرف کیا جا ئے؟ خارجیوں میں مصر ی زیادہ تھے ۔ کیونکہ مصر میں سب سے زیادہ بیچینی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ان پر موجودہ دور کی طرح ٹیکسوں کا بار بہت زیادہ کردیا گیا تھا اور وہ اس کا ذمہ دار موجودہ عاملِ مصر حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو سمجھتے تھے ۔ جبکہ ان سے پہلے حضرت عمر و بن عاص عامل تھے جوکہ عوام میں بہت مقبول تھے، انہیں اسی وجہ سے بر طرف کردیا گیا کہ انہوں نے مصریوں پر ٹیکس لگانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اب اس اونٹنی کے تھنوں میں دودھ نہیں ہے؟ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں بر سر ِ اقتدار آئے اور انہوں نے مرکز ی ہدایت کے مطابق ٹیکس دگنا کرکے دکھا دیا؟ اس واقعہ پر کسی مورخ نے تو روشنی نہیں ڈالی ہے مگر میرے خیال میں اس سازش میں بھی دراصل مروان بن الحکم کا ہاتھ تھا؟ جوکہ حضرت عثمان (رض) کے دور میں تمام سیاہ اور سفید مالک بن بیٹھا تھا اور حضرت عثمان (رض)  کےنام اورجعلی دستخطو ں سےفرمان جاری کرنے کا عادی تھا اور اکثر عمال کو کبھی اپنی اور کبھی ان کی خواہش پر جاری کرتا رہتا تھا ۔ جبکہ حضرت عثمان (رض)  سےکوئی ایسا فرمان جاری کرنے کا تصور  تک کرنا میری لیے تو قطعی ناممکن ہے ؟ مگر نہ جانے کیوں تاریخ دانوں نے مروان کو اس معاملے میں با لکل نظر انداز کردیا جو کہ حضور (ص) سے ذاتی پر خاش رکھتا تھا اور بعد میں میں وہ سلطنت بنو امیہ کا بانی بھی بنا ، مدینہ کا عامل بھی بنا اور کچھ عرصہ خلیفہ بھی رہا؟
وجہ پرخاش یہ تھی کہ حضور (ص) نے اس کے باپ الحکم بن امیہ کو اس کی حرکات کی بنا پر مدینہ سے طائف شہر بدر کردیا تھا جبکہ اسکو تاحیات معاف نہیں فرمایا ، جبکہ حضرت عثمان (رض) کا وہ رشتہ دار تھا چونکہ وہ بہت ہی نرم طبیعت کے انسان تھے انہوں نے حضور (ص) کے بعد بھی حضرت ابو بکر (رض) کے دور میں اس کے لیے معافی کی کوششیں کی مگر انہوں نے اسے واپسی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ، پھر حضرت عمر (رض) دور میں بھی کوشش کی مگر اسے معافی نہیں ملی، جب حضرت عثمان (رض) کا دور آیا تب کہیں جاکر اس کے خاندان کو واپسی کی اجازت ملی“ نہ صرف اجازت “ بلکہ اس کو حضرت عثمان (رض) نے اسے اپنے شرف دامادی سے نوازا اوراسے اپنا کاتب (سکریٹری ) بھی بنا دیا  اس طرح وہ مہرِ خلافت کا امین بن گیا، مزید یہ کہ اس کو ایک لاکھ درہم جہیز میں عطا کیے اور اتنی ہی رقم ا سے بطور عطیہ عطا فرما ئی۔ اسی زمانے میں دربار ِ  خلافت سے مصریوں پر ٹیکس بڑھا نے کا خط لکھا گیا اور حکم عدولی پر عبد اللہ بن رواحہ جو کہ پہلے سے متنازعہ شخصیت تھے ان کو مصر کا عامل بنادیا گیا، جبکہ وہ ان میں شامل تھے جو آٹھ افراد فتح مکہ کے موقعہ پر واجب قتل قرار دیے گئے تھے ؟ انہیں حضرت عثمان (رض) نے اس دن اس صورت میں حضور (ص) کے سامنے پیش کیاکہ حضرت عثمان (رض) انہیں پناہ دے چکے تھے جبکہ اسلامی اصول یہ تھا کہ ایک مسلمان کا پناہ دینا سب کی طرف سے پناہ سمجھا تھا۔لیکن ان کے جرائم بڑے سنگین تھے، کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور وہاں آکر حضور (ص) کے درباری شاعروں میں شامل ہو ئے ۔ لیکن انہوں نے ایک غلام کے ساتھ زیادتی کی، جب انہیں قریش کی فرسودہ روایات کے زعم کے مطابق حضور (ص) سے معافی کی توقع نہ رہی تو وہ سزا کے خوف سے مکہ واپس چلے گئے ؟ اور وہاں جاکر حضور (ص) اور اسلام کے بارے میں الٹا پروپیگنڈہ اور جھوٹی اختراع پردازی شروع کردی اور ا سکو وہ اپنی دولونڈیوں کے ذریعہ ہر میلے ٹھیلے میں اور عکاظ کے بازار میں گھما پھراکر برسوں گواتا رہا؟ حضور (ص) نے اسے حضرت عثمان (رض) کی دی گئی پناہ کی وجہ سے با کراہیت معاف تو کردیا ،مگر اکثر صحابہ کرام (رض) نے اسے معاف نہیں کیا اور اسے “ حکم “ماننے سے انکاری رہے ۔ جن میں حضرت محمد بن ابوبکر (رض) بھی شامل تھے، جب حضرت عثمان (ص) کے دور میں حضرت معاویہ کو قبرص فتح کرنے کی اجازت ملی تو وہ پہلے اسلامی بحری بیڑے کے “امیرالبحر“ بنا دیے گئے۔ تب فوجی سرداروں کے ایک گروہ نے انہیں “ حکم “ماننے اوران کے زیر کمان جہاد کرنے سے انکارد کردیا؟ جس کی قیادت حضرت محمد بن ابوبکر (رض) کر رہے تھے؟ ۔ان کے علاوہ خارجیوں کو کوفہ ، موصل کے عمال سے بھی شکایات تھیں، حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ثالث بنادیا اور انہوں نے اس یقین دہانی کی بنا پر ان کو واپس بھیجدیا کہ جو ان کے مطالبات ہیں وہ حضرت عثمان (رض) پورے کریں گے؟ ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ انہیں ایک مشکوک سوار تیزی سے مصر کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیاجوکہ حضرت عثمان (رض) کا غلام ِ خاص تھا اور سوار بھی ان کی مخصوص اونٹنی پر تھا۔ انہوں نے اسے روکا تو اس کے پاس سے ایک خط ملا بر آمد ہواجو کہ گورنر مصر کے نام تھا کہ “ جب یہ لوگ تمہارے پاس پہونچیں تو انہیں قتل کردو “ خارجی واپس  وہاں سے پلٹ آئے اور یہ سفارت بغاوت میں بدل گئی ؟ یہاں سے خارجی تحریک نے جنم لیا اور پھر صدیوں تک چلتی رہی ان میں سے چار ہزار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں مارے گئے ،جبکہ بیس ہزار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عام معافی سے فائدہ اٹھا کر وہاں سے پوری مملکت اسلامیہ میں پھیل گئے ۔ چونکہ وہ خود حضور (ص) کی پیش گوئی کے مطابق “ بظاہر عام مسلمانوں سے بھی بہتر مسلمان تھے  “ مگر خارجی اس وجہ سے کہلاتے تھے کہ وہ دوسرے صوبوں کے با شندے تھے؟ اوران کا شدت پسندی میں یہ ہی عالم یہ تھا کہ وہ اپنے سوا ئے سب کو کافر اور واجب القتل سمجھتے تھے جوکہ انہوں نے کر کے بھی دکھایا۔ آج جیسے فدائین ان کے پاس بھی موجو د تھے ،جن سے وہ ناخوش ہوئے وہ جان سے جاتے، حتیٰ کہ دو خلیفہ راشد (رض) کے بعد خود حضرت معاویہ  بھی ان کے ہاتھوں شدید زخمی ہو ئے مگر زندگی تھی جو بچ گئے؟ اس تمام تفصیل میں میرے جانے کا مقصد تاریخ سے یہ ثابت کرنا ہے کہ شدت پسند ی وہ جن ہے جس کا نشانہ خود سرپرستی کرنے والے ہی بنتے ہیں۔ یہاں میں نے جومختصر اً بیان کیا ہے وہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ النہایہ ) کی جلد نمبر4 سے 10 تک پھیلاہوا ہے ) تاریخ یہ ہی ہے جس نے بھی شدت پسندی کی سر پرستی  کی وہ اس کے دشمن ہوتے رہے او ر پکے دوست کسی کے نہ بن سکے ؟ اسی شدت پسند انہ سوچ کو کہ “ ہمارے سوا سب کافر یا بدعتی ہیں سعودی عرب نے اپنے یوم ِ تاسیس سے اپنایا اور دنیا بھر میں رواج دیا اور آج وہ انہیں کو نشانہ بنا نے پر تلے ہوئے ہیں جنہوں نے ان کی دامے درہمے ہر طرح سرپرستی کی۔ تازہ خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم ہند نریندرمودی کے ایک اُپ منتری (وزیر مملکت) پریشان ہیں اور پریشانی کی وجہ سعودی اعزاز یافتہ“ جناب ذاکر نائیک “ ہیں جو ایک ایک دن میں لاکھوں کے مجمع کو خطاب کرتے ہیں اور اس میں چند آدمی لازمی طور پر روزانہ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور شبہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں جو سات شدت پسند ہوٹل پر حملہ آور ہوئے ان میں سے کم از کم دو نائیک صاحب کے پیرو کار تھے۔
جیسے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں انہیں بھی زیادہ دنوں تک دوست نہیں رکھا جاسکتا؟ بہتر ہے کہ دوسروں کے تجربات سے بشمول ِ بھارت دنیا والے فائدہ اٹھائیں اور اس فتنہ کو سب ملکر ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ورنہ یہ خدائی فوجدار ہزاروں کی تعداد میں ایسے ہی بم بن چکے ہیں جو ان کی جنت موعودہ، یا غربت کی وجہ سے رقم کے عیوض خود کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے مرشدوں کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یوں یہ تمام انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔ فرق  صرف اتنا ہے کہ اگر آج ان کی تو کل تماری باری ہے اللہ سبحانہ انہیں ہدایت دے اور ہم سب کو اس طفلانہ خیال سے بعض رکھے کہ شدت پسند کسی کے دوست ہوسکتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ جو لوگ زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں انہیں روکا جائے اور  یہ کام اقوام متحدہ کرے۔ ایسی تمام کتابوں کو ضبط کرلیا جو ان مذموم مقاصد کے لیے قطع اور برید شائع کی گئیں ہیں اور جن میں“ تحریف یاتخصیر “ کی گئی۔
، دوسرے یہ کہ مقامات مقدسہ کو محفوظ رکھنے کا حل یہ ہے کہ انہیں سعودی عرب سے علا حدہ کرکے کسی بین الاقوامی مسلم ٹرسٹ کے سپرد کردیا جائے جو سیاست سے بالا تر ہو ؟کیونکہ یہ علاقہ اسلام سے پہلے بھی کسی باد شاہ کے زیر تسلط نہیں رہا ، اسلام آنے کے بعد پہلے نبوت (ص) کے اور پھر خلافت کے طابع رہا اب نبی آخر الزماں (ص) آنے کے بعد نبوت ختم ہوچکی ہے۔ دنیا میں کوئی اور موجود نہیں ہے جو تمام ممالک اسلامیہ پر اقتدارِ اعلیٰ کا خلیفہ کی طرح دعویدار ہو ۔ لہذا اس پر کسی کا تسلط نہیں ہونا چاہیے یہاں میں یہ واضح کرتا چلوں کہ ًیہ نعرہ انتہائی گمراہ کن ہے کہ “ کسی کے اقتدار کا دفاع کرنامقامات مقدسہ کا دفاع کرنا ہے “ جبکہ  یہ دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ اس علاقہ پر کبھی اقتدار اعلیٰ سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے کسی اور کا نہیں رہا۔ حکمرانوں کے قبضہ میں اب جو ہے وہ کیسے ممکن ہوا اور کس کی مدد سے ہوا سب کو معلوم ہے ؟ کیونکہ یہ جگہ تمام مسلمانوں کو جان سے زیادہ عزیز ہے ؟ خدا نخواستہ کوئی حرمِ ِ کعبہ کی طرف جانے میں کامیاب ہوگیا اور جاکر پھٹ پڑا تو اسلامی دنیا جان دیدے گی مگر یہ حرکت برداشت نہیں کرے گی ؟ ممکن ہے کہ نتیجہ کے طور پر امن عالم تباہ ہوجائے یا اللہ سبحانہ تعالیٰ جو اس کا مالک حقیقی اور محافظ ہے واقعہ فیل جیسا کوئی دوسرا  طریقہ اختیار کرکے سب کو سزا دیدے ؟

 

Posted in Articles, Uncategorized

پچاس مفتیان ِ عظام کا ایک جرائت مندانہ فیصلہ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارا دعویٰ سچا ہے کہ دینِ اسلام قیامت تک کے لیے ہے جوکہ ہمارے نبی محمد مصطفی احمدِ مجتبیٰ (ص) قرآن کی شکل میں لیکر آئے تھے یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے؟ اس لیے کہ ہمارے نبی (ص) آخری نبی ہیں اور وہ جو کتاب لیکر آئے ہیں وہ بھی آخری کتاب ہے ؟ قرآن میں متعدد جگہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کفار سے پوچھا ہے کہ “ ا گر یہ اس پر بھی ایمان نہیں لا ئیں گے تو پھر کس پر ایمان لا ئیں گے“آپ سب ہی جانتے ہیں کہ سارے الوہی دستور تین چیزوں پر مشتمل تھے لہذااسلام بھی ؟اول اس کی بنیادیات ، دوئم اس کی وہ تفسیر جو لانے والے نے بتائی ، جبکہ ہمارے پیغمبر (ص) نے ہمیں عمل کر کے بھی دکھایا۔ اورتیسرا حصہ وہ ہے جس میں روزمرہ کی قانون سازی آتی ہے۔ دنیا میں یہ تینوں چیزیں مل کر کسی نظام کو چلاتی ہیں ان میں سے کسی بھی ایک کو ترک کردیا جائے تو پورا نظام ٹھہر جائے گا اور وقت کا ساتھ نہیں دے سکے گا؟ اس کے حلقہ اقتدار میں افرا تفری پھیل جا ئیگی ؟ جیسی کہ آجکل ہمارے یہاں پھیلی ہو ئی ہے؟ کہ ہر ایک اپنی مرضی سے تفسیر کر رہا ہے، قانون وہ ہے جواس کی زبان سے نکل جائے؟ جبکہ اسلام میں حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہے۔ ہم نے داعیِ اسلام (ص) کی تعلیمات میں سے ایک جز کو ترک کر دیا ہے ، وہ ہے روز مرہ کے لیے قانون سازی؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں احکامات کیا دیے تھے تاکہ ہماری یاداشت تازہ ہوجائے؟
پہلا حکم تو یہ تھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد نبی (ص) پر ایمان لانا لازمی ہے، اس کے بغیرکچھ بھی قابل قبول نہیں ہے؟ پھر یہ کہ ان (ص) کی اطاعت اللہ کی اطا عت ہے، پھر یہ فرمایا کہ جو یہ نبی دیں وہ لیلو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ پھر یہ فرمایا کہ “یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ ان پر جو ہمارے طرف سے وحی کیا جاتا ہے وہی فرماتے ہیں “ پھر نبی (ص) کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ “ آپ قرآن (اس خدشہ کی وجہ سے کہ بھول نہ جا ئیں جلدی جلدی نہ پڑھا کریں بلکہ آہستہ آہستہ پڑھیں ) اس کو آپ کایاد رکھنا اور اس کی تفسیر یہ دونوں ہماری ذمہ داریاں ہیں اور آخر میں ہم سے فرمادیا کہ “ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کااسوہ حسنہ کافی ہے “  جبکہ قرآن اپنی اصلی شکل میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے ، اسوہ حسنہ (ص) کی بھی ا یک ایک تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہے؟ ان دونوں میں ہر مسئلہ کا حل ہر موقعہ پر تلاش کرنے سے عموماً مل جاتا ہے یہ اور بات ہے کہ ہم تن آسانی کا شکارر ہیں یا، تو محنت ہی نہ کریں یا پھر حق کہنے یا کرنے میں بھی اللہ کے بجا ئے غیر اللہ سے ڈریں؟ اگر میں زیادہ تفصیل میں جا ؤنگا تو یہ چھوٹا سے مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔
اس سلسلہ میں صرف ایک واقعہ جوکہ متفقہ علیہ بھی ہے بیان کر دیتا ہوں۔ وہ ہے یمن کے لیے تاریخ اسلام میں پہلے عامل حضرت معاذ (رض) بن جبل کاتقرر اور ان کو تخویص کردہ ہادی ِ اسلام کی ہدایات؟ ان کو سب سے پہلی ہدایت تو یہ فرمائی کہ “دین میں سختی مت کرنا آسانیاں فراہم کر نا، پھر حضور (ص) نے ان سے سوال پوچھا کہ تم انصاف کیسے کروگے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے مسئلہ کا حل قرآن میں تلاش کرونگا ۔پھر دربار رسالت مآب (ص) سے سوال ہوا کہ اگر وہاں نہ ملاتو؟ “ فرما یا آپ (ص) کے اسوہ حسنہ میں تلاش کرونگا ۔پھر سوال فرما یا گیا کہ اگر وہاں بھی نہ ملا تو؟ جواب میں عرض کیا کہ میں پھر اپنی صوابدید پر ہی فیصلہ کرونگا۔ یہ جواب سن کر حضور (ص) نے ان کو گلے سے لگا لیا اور فر ما یا کہ جب تک اس پر امت پر قائم رہے گی ، فلاح پاتی رہے گی۔ اس طرح حضور (ص) ہمارے لیے رہتی دنیا تک کے لیے اجتہاد کا بحر بیکراں چھوڑ گئے تھے ؟ جب ہم فرقوں میں بٹ گئے تو اورں نے تو اسے جاری رکھا اور اس سے فیض یاب ہو بھی رہے ہیں ۔مگرہم جو سنی مسلمان کہلاتے ہیں اور اکثریت بھی ہمیں پر مشتمل ہے، بقول علامہ اقبال (رح) چند کلیوں پر قناعت کر گئے؟ اور روز مرہ کی قانون سازی کے لیے کوئی نیا طریقہ کار نہیں بنا یا؟ جب سے دین میں جمود پیدا ہوگیا اب ہزاروں مسائل ہیں ؟جو جمع ہو تے جا رہے ہیں مگر جواب کسی کا کسی کے پاس نہیں ہے؟
خوش آئند بات یہ ہے کہ بارہ تیرہ صدیوں کے بعد پاکستان کے پچاس مفتیان ِ کرام نے ایک مسئلہ پر اجتہاد کیا ہے جو کہ قابلِ ستائش ہے؟جس پر ایک طبقہ کے مستقبل کا دار ومدار ہے اور اس پر اگر مزید تحقیق ہو تو وہ طبقہ معاشرہ کے لیے قابل ِ قبول بن سکتا ہے اورجس کا علاج ہونے کے بعد وہ گناہ سے بھی بچ سکتا ہے؟ وہ طبقہ ہے مخنث جسے عرف عام میں خواجہ سرا کہا جاتا ہے، بہت سے انہیں کوئی نام ہی نہیں دیتے اور صرف تالیا ں بجا دیتے ہیں اور اس طرح ہنسی کا سامان پیدا کردیتے ہیں جبکہ قرآن میں سورہ حجرات کی آیت نمبر١١ میں منع کیا گیا ہے کہ“ نہ کوئی مرد کسی مرد کا ہنسی ٹھٹا اوڑائے نہ کوئی عورت کسی عورت کانہ کوئی قوم کسی قوم کا( اس لیے کہ تم نہیں جانتے اللہ کی نگاہ میں کون بہتر ہے) ، کیا برا ہے مسلمان ہوکر فاسق ہونا اور وہ لوگ ظالم ہیں ۔ابھی ان مفتیان عظام نے ہمت کرکے ان کومشروط طور پرشادیوں کی اجازت دیدی ہے۔ میں اس پر اس لیے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا کہ اسے میں نے پڑھا نہیں ہے مجھے یہ خبر میڈیا کے ذریعہ پہونچی ہے۔
چونکہ یہ پچاس مفتیان عظام کی کاوش ہے یقیناً اس میں دلائل وغیرہ سب ہی کچھ تفصیل کے ساتھ ہوگا۔ اس سے پہلے اس گروہ کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ نہ چاہتے ہو ئے بھی گناہ آلود زندگی گزاریں؟ کیونکہ والدین خود انہیں گناہ کی بستیوں کی نذر کردیتے تھے ؟ مسلمان باپ جسے اسلام حکم دیتاہے کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی پہچان دے تاکہ ان جانے میں وراثت اور شادی بیاہ کے دوسرے مسائل پیدا نہ ہوں ؟ وہ انہیں اپنانے سے انکار دیتا ہے ،ماں جو محبت کا سرچشمہ کہی جاتی ہے وہ اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں سے غیروں کے سپرد کردیتی ہے۔ اس فعل سے اس بچے کی وراثت بھی ساقط ہوجاتی تھی جوکہ بہت بڑا ظلم ہے ایسے لوگوں کو قرآن نے ظالم قرار دیا ہے؟ جبکہ وقت سے پہلے بچے کی پیدائش یا بچوں میں نقائص کاہونا اور علاج آجکل عام سی بات ہے؟ دوسرے بچوں کے علاج کے لیے ماں باپ اپنی پوری سی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح بچہ صحت یاب ہو جائے،چونکہ مڈیکل سائنس بہت آگے جا چکی ہے لہذا اکثر ایسے بچے صحت یاب بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر یہاں وہ اپنی ہی اولاد کے لیے دہرا معیار اپنا تے ہیں، پھر زندگی بھر ایک کڑہن کے ساتھ زندہ رہتے ہیں؟ کیونکہ ایسا بچہ پیدا ہونے پر وہ مخصوص گر وہ جو خود کواس قسم کے بچوں کے لیے خدائی ٹھیکیدار سمجھتا ہے ! خبر ملتے ہی دوڑا ہوا آتا ہے اور بچے کو لے جاکر اپنے گروہ میں شامل کرلیتا ہے۔ جبکہ جراحی کے ترقی کر جانے کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ عمل ِ جراہی کے ذریعہ صحت مند ہوسکتے ہیں، جیسے جڑواں بچے یا دوسرے اعضاءسے محروم بچے۔ مگر جنسی نقائص میں مبتلا بچوں کے والدین پر رسم ورواج کااتنا غلبہ ہے کہ وہ اپنے جگر کے تکڑوں کو اس ناپسندیدہ گروہ کے حوالے خاموشی سے کردیتے ہیں۔ جبکہ انسانیت کا تقاضہ یہ ہے کہ بیمار کو بیمار سمجھا جا ئے اور اپنی جہالت یا رسم ورواج کی وجہ سے کسی نفس کو ضائع نہ کیا جائے ؟ چلیے دیر سے سہی کچھ علما ٰ ءنے جراءت توکی مسائل کو حل کرنے کی؟ کیوں کہ اس سے آئندہ دوسرے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے میں مدد ملے گی؟ اور دوسری سمتوں میں بھی پیش رفت ہوگی ،مزید راہیں بھی کھلیں گی، جیسے کہ نارتھ پول سٹی کے لیے اوقات روزہ نماز ،جہاں سات مسلمان ہیں اور وہ مسجد بنا رہے ہیں اور اس سے ملحق کنیڈا کے دو صو بے برٹش کولمبیا اور البرٹا، یا پھر اسکینڈینیوین ممالک کا وہ حصہ جہاں چھ مہینے دن رہتا ہے اورچھ مہینے رات رہتی ہے۔ اس قسم کی کوششوں کی نئی نسل کو ہمت افزائی کرنا چاہیے، شاید اس طرح کوئی بین الاقوامی تنظیم علماءکی بن جا ئے اور وہ مسائل کا حل نکال لے اور امت کودرپیش تازہ مسائل کا حل دریافت کر نے میں آسانی ہوجا ئے ، کیوں کہ کھلے ذہن والے لوگ اس سلسلہ میں لب کشائی کر تے ہیں تو کہدیا جاتا ہے کہ وہ کوئی عالم تھوڑی ہیں، پھر ا نہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی ہیں تو بیچاروں کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے؟ کیونکہ عالم ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس نے درسِ نظامیہ سے دستار فضیلت حاصل کی ہو ؟چاہیں وہ علم میں صفر ہی کیوں نہ ہو ؟ الحمد للہ یہ پچاس مفتیان عظام جنہیں اللہ نے توفیق دی ہے با قاعد ہ فارغ التحصیل ہی نہیں بلکہ مفتی بھی ہیں۔ اس لیے یہاں یہ مسئلہ نہیں پیدا ہوگا ۔ اور اگر وہ ڈٹے رہے اور نئی نسل نے ان کی ہمت افزائی کی تو اور بھی بہت سے مسائل ہیں جو گزشتہ ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں ان کا حل بھی نکل آئےگا؟ کیونکہ اسلام میں حل ہر مسئلہ کاموجود ہے ؟ مگر اپنی عزت آبرو جان اورمال سب کو پیارا ہے؟ اگر ہم اولیت اور ترجیحات حضور (ص) کی ہدایات سے لیں تو “ پہلی شرط ہے دین میں آسانیا ں فراہم کر ناجبکہ ہم نے اسکا الٹ کرنےکی ٹھان رکھی ہے، دوسری ہے عدل ، طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے تلاش کرنا ہے قر آن میں، پھر اسوہ حسنہ (ص) میں اور اگر دونوں میں نہ ملے تو ان دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے اجمائے امت کے یا اجتہاد کے ذریعہ حل تلاش کرنا ہے؟ اگر ہم اس پر عمل کریں تو پھر یہ نہیں ہوگا کہ لاوڈ اسپیکر کی طرح ڈیرھ صدی کے بعد کہیں جا کر علمائے کرام اسے استعمال کر سکے، جبکہ وہ پوری دنیا میں اس وقت تک رائج ہو چکا ہو تھا اور آجکل مسلمان ملکوں میں سب سے زیادہ وہی استمال کررہے ہیں؟ جبکہ ابھی بھی بعض علماءاسے نماز میں استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں، اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین؟

Posted in Uncategorized

ظالموں رمضان المبارک میں تو انسان بن جاؤ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی

ہم ہر بات کا الٹ کرتے ہیں جبکہ عہد جاہلیہ میں بھی رمضان شروع ہوتے ہی جنگ و جدال بند ہوجاتا تھا ۔ ہم نے نئی طرح ڈالی ہے کہ جہاں رمضان شریف شروع ہو ئے اس دن سے ہنگامے بھی شروع ہوگئے۔ اس کے پیچھے کون ہے یہ سوال پیدا ہورہا ہے اصل میں اس کے پیچھے وہ درندے ہیں جو اپنے سواکسی کو مسلمان نہیں سمجھتے ۔دشمن ہماری ہی تاریخ پڑھ کر اس راز سے واقف ہوا کہ کچھ ہمارے ہی ساتھیوں نے ہمیں سے باغی ہوکر اسلام میں اصلاح کے نام پر فتنہ خارجیہ پیدا کیا جو مدتوں تک چلتا اور قتل اور غارت کرتا رہا جس کو چنگیزیزیوں نے ختم کیا۔بس اسی فتنہ کے دوبارہ بیج بوکر انہوں نے آبیاری کردی؟ میری اس معروضات پر بہت سے لوگ کہیں گے کہ پھر رمضان میں غزوہ بدر کیوں ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفاراس وقت اسلام دشمنی میں اتنے پاگل ہوگئے تھے کہ جسطرح ہم آجکل پاگل بنے ہوئے ہیں۔کہ انہوں نے بھی اپنی قدریں جو حضرت ابراہیم (ع) سے چلی آرہی تھیں پہلی دفعہ چھوڑ کر رمضان میں جنگ یوں لڑی گئی کہ وہ اسلام کانام مٹانا چاہتے تھے اور اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عذاب نے ایساپکڑا کہ نہتے مسلمانوں کے ہاتھو ں ان کے بہتر سردار مارے گئے اور بہتر ہی گرفتار ہوئے۔ یہاں یہ ہی کچھ کئی عشروں سے ہم کر رہے ہیں اور قر آن میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا؟
اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ امن کے لیے سب سے زیادہ کوشاں ادارے! یعنی رینجرز کو جوکہ فوج کی ہی ایک شکل ہے جس نے اس فتنے کو پچھلے دو سالوں سے بڑی کامیا بی سے اسی فیصد ختم کردیا تھا اسے باوجوہ سب نے ملکر غیر فعال بنا دیا ہے۔ ایسا کیا کیوں کیا اور اسکے پیچھے کون ہے؟ اس میں بعض لوگ تو اس لیے حائل ہیں کہ وہ پاکستان کوا یک جمہوری ملک سمجھتے ہیں۔ اور عوم کو وہ سہولیات عطا کرنا چاہتے ہیں جو جمہوری ملکوں کے باشندوں کو حاصل ہیں ۔ جبکہ نہ یہاں عوام دوسرے جمہوری ملکوں جیسے ہیں، نہ خواص جمہوری ملکوں جیسے ، اور نہ ہی لیڈر جمہوری ملکوں جیسے ہیں ۔ ان سب کے بیچ میں سب سے زیادہ مقدس پاکستان کا وہ دستور ہے جس میں ہر دور میں ترامیم ہوتی رہی ہیں جن کی تعداد اب تک بائیس ہوچکی ہے ؟ جبکہ اس کا ٹائیٹل انتہا ئی خوبصورت اور دل آویز ہے جس میں جلی حرفوں سے لکھا ہوا ہے کہ یہاں “ حکمرانی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی اور یہ بھی کہ قرآن اور سنت کے مطابق ہوگی۔ جوقوانین اس وقت قر آن و سنت کے مطابق نہیں ہیں انہیں دس سال کے اندر اسلامی سانچے میں ڈھالا جا ئے گا “ اسی دستور میں کچھ خصو صی دفعات عطا فرما دی گئیں تھیں، جن میں لکھا ہوا ہے کہ حکمراں کیسے ہونگے “ان کے لیے شرط اول یہ ہے کہ وہ امین ہوں“ جس کے خلاف تمام حکمراں با جماعت ٣ ا کے الیکشن سے پہلے دہائی دیتے سنے گئے کہ “ خدارا ہمیں اس چھلنی سے مت گزارو اس پر ہم میں سے کوئی بھی پورا نہیں اتر سکتا “ اوراس صورت میں جو قیادت آ ئے گئی وہ صرف علماءکی ہوگی “ جبکہ نہ جانے کیوں علماءکی قیادت نہ سیاستدانوں کو پسند ہے نہ عوام کو، جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انہیں ووٹ ہی نہیں دیتے۔ لہذا سب کے بے حد اصرار پر ان دفعات کو بغیر دستور میں تبدیلی کیئے معطل کردیا گیا ؟ پھرنہ جانے کیوں اس سے سب نے، اور خصوصاً شعبہ عدل نے بھی چشم پوشی اختیار کر لی؟ شاید وجہ یہ رہی ہو کہ سب جانتے تھے کہ علما ئے باعمل کا اتنی بڑی تعداد میں فراہم ہونا مشکل ہے، ایک ہزار سے زیادہ علما ءبا عمل کہاں سے آ ئیں گے جو اسمبلیوں میں رکنیت پوری ہو؟ کیونک سب ایک تجربہ اس سے پہلے کر چکے تھے کہ مشرف صاحب نے رکنیت کے لیے گریجویٹ ہونا لازمی قرار دیدیا تھا اور اس کے لیے درس نظامی کے ہر فاضل کو جوکہ علماءعام طور پر ہوتے ہی ہیں ،گریجویٹ کے مساوی قرار دیدیا ۔ اس میں نہ جانے کیسے ان میں اچھی خاصی تعداد علماءوالی سند لیکر اسمبلی میں پہونچ گئی،۔جنہیں کہ علم القرآن وسنت اور فقہ تو بہت دور کی بات ہے، سورہ اخلاص جیسی چھوٹی سورہ بھی یا دنہیں تھی۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں ا ور اہلِ راز ہی جانتے ہیں کہ علما ئے کرام میں کالی بھیڑیں کیسے آئیں؟ جنہوں نے سندیں ہدیہ کیں اور اپنے علاقے کے جاہل ممبروں کو اپنے آبائی اور پشتینی کانسی ٹیونسی سے محروم کر نا پسند نہیں کیا! شاید ترس کھاکر بروقت ڈگریاں عطا فرمادیں تاکہ انہیں کوئی جہالت کا طعنہ نہ دے؟ اس کے نتیجہ طور پر جو حکمراں آئے تو وہ ایسے ہی تھی جیسے انہوں نے خود کو بتایا تھا۔ مگرکم از کم انہوں نے خود کو مسلمان ثابت کردیا ! کیونکہ حدیث شریف کے مطابق “ مسلمان سب کچھ ہو سکتا جھوٹانہیں “۔ اگر اس مرتبہ بھی وہ کوئی چکرچلا کر اور اس امتحان سے گزر اسمبلی میں آجاتے تو مشرف صاحب کی سابق اسمبلیوں کی طرح عدالتو ں کے چکر لگانے میں پورا عرصہ گزر جاتا دوسرے کم ازکم انہوں نے اس سے ایک بات ثابت توکی کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں “ یہ تو ہم نے ایک دفعہ اور بھی دستور کے چند سیکشنوں کی بات کی تھی! اس کے علاوہ بھی بہت سے قوانین دستور میں موجود ہیں جن پر عام طور پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ لیکن اگر کوئی قائد کا ساتھی ہو تو وہ کسی بھی آمر یا ظالم کی مشکل کشائی ان سے کر سکتا ہے اور اسے کام میں لاکر چلتی گاڑی کو بریک لگا سکتا ہے یابریک تھرو دے سکتا ہے یہ سب کچھ کرنا اس کی صوابدید پر ہوتا ہے جیسی ضرورت پڑے؟ اسی سے نظریہ ضرورت کے تحت پہلی دفعہ کام لیا گیا تھا۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ نیا میدان تیار ہورہا ہے اورایک گروہ اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی بچانے کے لیے رو بعمل ہوگیا ہے !کیونکہ دنیا نے انہیں پہچان لیا ہے۔کہ شر پسندی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ اور دوا کہاں سے ملے گی۔موت اس مرتبہ ایک بیچارے قوال کی آگئی جس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے تھا کہ وہ انسان بھی تھا اور دامہ درہمے انسانیت کی خدمت بھی کرتا رہتا تھا۔ اس نے لالو کھیت میں آنکھ کھولی تھیں اور آج تک اس نے وہ علاقہ اورہمسایہ نہیں چھوڑے جبکہ وہاں رہنا کچھ بن جانے کے بعد دل اور گردے کا کام ہوتا ہے ؟ کیونکہ ہم اپنے ایک رشتہ دار سے واقف ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی لالو کھیت میں گزاری ،مگر بعد میں جب ان کی لڑکیا ں بڑی ہوگئیں اور وہاں کی رہائش کی وجہ سے رشتے نہیں آئے، کیونکہ اس میں سماجی تقسیم حائل تھی؟ تو انہوں نے یہ جانے بغیر نقل ِ مکانی کی ٹھانی کہ موت ان کی گھات میں ہے ؟ اس نے ان کا انتطار بھی نہیں کیا ،ابھی وہ منتقل بھی نہیں ہو پائے تھے کہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ شاید ان کی روح محلہ چھوڑ نے کو تیار نہیں ہوئی جیسے مغرب میں پہلے ماں باپ بڑے چا ؤ سے اپنے بچوں کو لیکر آتے ہیں ان کو وہاں تعلیم دلاتے ہیں۔ پھر واپس جاناچاہتے ہیں تو بچے جانے کو تیار نہیں ہوتے ؟ اسی طرح جو لوگ رمضانیوں میں رہنے کے عادی ہوں، تو وہ نقل مکانی سے بہت گھبراتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وہاں وسائل کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں کیونکہ وہاں روز ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں مگر کوئی دقّت نہیں ہوتی جس چیز کی ضرورت ہو پڑوسیوں کے یہاں سے مل جاتی ہے اور کبھی تو کوئی پڑوسن کسی گھر سے دھواں اٹھتے نہیں دیکھتی تو وہ خود جاکر اور ہانڈی کا ڈھکنا اٹھا کر دیکھ لیتی ہے ، اور روز مرہ کی چیزیں پہونچا آتی ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان کی مذمت کی گئی ہے “ جو اپنی چیزیں دوسروں کو برتنے کو نہیں دیتے ۔ ویسے بھی یہ سہولتیں ایسے شہرمیں بہت کام آتی ہے جہاں آئے دن ہڑتالیں ہو تی رہتی ہیں۔ جبکہ وہ وہا ں جاکر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں جہا ں برابر میں پڑوسی مر جا ئے اور جب تک فضا میں تعفن نہ  پھیلے تب تک اس کے مرنے کا علم نہیں ہوتا؟ آج سے چند دن پہلے جب ہم سوکر اٹھے تو پہلی خبر صابری قوال کے قتل کے شکل میں پڑھی اس سے پہلے پیمرا نے دو چار دن پہلے کچھ لوگوں اور دو چینلز پر پابندی بھی عاید کی تھی کہ وہ اشتعال انگیز گفتگو کر رہے تھے۔ یہ کاروائی کس کے اشارے پر کی ہمیں پتہ نہیں!  یہاں جب پرایئویٹ چینل آئے تو مشرف صاحب کا دور دورہ تھا؟ وہ اسلام کو ماڈر ن نائزڈ کر نا چا ہتے تھے لہذا سب کو دل کھول کر چھوٹ دی گئی کہ پاکستان کو ماڈرن ثابت کرسکیں۔ ہر ایک کو پاکستان اور نظریہ پاکستان پر کھلے حملوں کی عام اجازت تھی گو کہ ڈرون حملوں کی طرح وہ کہیں ضابطہ تحریر میں نہیں لائی گئی تھی کہ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ برطانیہ کا آدھا دستور ضابطہ تحریرمیں آئے بغیر نافذ ہو سکتا ہے تو ہما را کیوں نہیں ہوسکتا ہے؟ وہ آئے بھی رخصت بھی ہوگئے؟ مگر اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا کیونکہ زرداری صاحب “ مکمکاو “ اورکام چلا ؤکے عادی تھے؟ جبکہ موجودہ حکمراں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے فارمولے پر عمل پیراہوکر حکومت کرنےکی پالیسی اپنا ئے ہوئے ہیں؟ پس اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ عوام بیچاروں کا کوئی پرسان حال نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم اپنے پہلے دو ادوار میں بھی عوام کی پہونچ سے باہر رہ کر ہی حکومت کرتے تھے اور عوام نے انکا طرز حکمرانی دیکھااور برت کر ان کو دو تہائی اکثریت دی ہے لہذا انشاللہ وہ آئندہ بھی انہیں کو ووٹ دیںگے۔ یہ طرز وہ ہے جوکہ انگریزوں نے کبھی رائج کیا تھا اور کامیاب ترین طرز حکمرانی سمجھا جاتا ہے؟جسے انہوں نے تقریبا ً دو ڈیرھ سوسال بخوبی چلایا کہ براہ راست حکومت نہ کرو! بلکہ بل واسطہ حکومت کرو تاکہ بد نامی بیچ والو ں کے سر آئے اور پھل خود کھا ؤ؟ اسی پر یہ بھی عمل پیرا ہیں ۔ نعرے جمہوریت کے کام آمریت کے ہیں اس طرح تمام ادارے ایک ہی پیج پر ہیں؟آ گے کیا ہونے والا وہ کسی کو پتہ نہیں ؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ؟ اس تمام بحث و مباحثہ میں ایک ادارے کے نائب سربراہ کی بات کچھ میرے دل کو لگی جو انہوں نے کامران خان کے شو میں اس سوال کے جواب میں دبے دبے لہجے میں کہی تھی کہ کافی بچے ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں ؟ لہذا ہمیشہ رمضان میں چھوٹی موٹی واردتیں بڑھ جاتی ہیں ؟جسے انہوں نے ریکارڈ سے بھی یہ کہہ کر ثابت کیا تھاکہ پچھلے سال بھی رمضان میں جرائم بڑھ گئے تھے؟ اب بات وہیں جاکر رک جاتی ہے کہ حکمراں بجائے شہروں کو پیرس بنا نے کے، کہ جو دیکھے وہ واہ واہ کرے؟ رشوت خوری اور بد عنوانی کو ختم کر دیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے ؟ پھر پہلے کی طرح ملازمتیں رقم کی بناد پر نہیں، قابلیت کی بنیاد پر ملنے لگیں گی، تو نہ کوئی قرضہ لیکر یااپنی آبائی زمنیں پیچ کر ملازمتیں خریدے گا ۔ نہ پولس اسٹیشن نیلام میں لےگا ۔ نہ  ہی کوئی بے ایمانی کریگا۔ مگر اس میں ً ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ نہیں چل سکے گا۔ جس میں حکمرانوں کی دولت میں اس تیزی سے اضا فہ ہوسکے جس میں گزشتہ چند عشروں میں ہوا ہے؟ میں اس مضمون کو اپنے ہی اس شعر پر ختم کرتا ہوں۔ ع
ہوس ِزر ہے عارضہ  ایسا  جس میں اکتفا نہیں ہوتا
سب کو حالات ہی بنا تے ہیں کوئی پیدا برا نہیں ہوتا

 

Posted in Uncategorized

سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی

سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کو جھٹلائے۔۔ شمس جیلانی
پورے سال ہم سب سیاست پر لکھتے رہتے ہیں جو اکثربلا تحقیق ہوتا ہے؟ جس کے لیئے سختی سے قرآن میں وعید ہے کہ جب تک تمہیں با وثوق ذرائع سے تصدیق نہ ہو جائے کسی خبر کو یونہیں نہ اڑاتے پھراکرو؟ اس عمل ِ قبیح کی بہت ہی سخت الفاظ میں ممانعت حضور (ص) نے اپنے خطبہ وداع میں فرمائی کہ “جس طرح آج کا یہ دن حرمت والا ہے اسی طرح مسلمان کی عزت ،آبرو اور مال مسلمانوں پر حرام ہے “ حضور (ص)نے یہ پہلے ہی فرما دیا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ کسی بات کو بلا تحقیق وہ آگے بڑھادے ؟ اور یہ بھی کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا؟
جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو جھٹلانا یہ بھی ہے کہ بظاہر کوئی اپنا نام مسلمانوں میں لکھوائے مگر اپنے عمل سے اسے جھٹلائے ، اس کے نبیوں (ع) کو جھٹلائے کتابوں کو جھٹلائے؟ جبکہ مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ ان سب پر یقین رکھتا ہو، مگراسلامی قوانین کو تمام دنیا کے قوانین سے بہتر سمجھتا ہو، کیونکہ یہ خدا کے آخری نبی (ص) کے ذریعہ ہم تک پہونچے ہیں؟ اس کے لیے ضروری ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہو، کہ روزانہ صبح سے شام تک جو کچھ اس نے کیا ہے خود اپنا احتساب کرے اور دیکھے کہ اس نے اس دوران کوئی اللہ کی نافرمانی تو نہیں کی؟ بشریت ہے بفرضِ محال اگر ہوگئی ہوتو! اس کا حل یہ ہے کہ اس وقت تک نا سوئے جب تک کہ توبہ کرکے کم ازکم اتنی ہی نیکیاں نہ کرلے۔ کیونکہ برائی ایک ہی لکھی جاتی ہے وہ بھی سرزد ہونے پر اور اگر کوئی اللہ سے ڈرکر رک جائے تو برائی بھی ثواب میں بدل دی جاتی ہے۔اس کے برعکس نیکی صرف ارادہ کرنے پر ایک شمار ہوتی اور اسے پورا کرنے پرکم ازکم دس اور اگر بندہ خدا کے ساتھ واقعی پر خلوص ہے تو “ بغیر ِ حساب “ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خلوص کی پہچان کیا ہے ؟ بڑا سیدھا سا جواب ہے کہ آپ جسے بہت چاہتے ہیں اگر وہ ناراض ہوجا ئے تو حالت یہ ہوتی ہے کہ اس وقت تک نیند نہیں آتی جب تک کے اسے منا نہ لیں ۔ یہ ہی حالت اسوقت ہوناچاہیئے اگر آپ نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اپنے کسی عمل سے ناراض کیا ہے تو اس کو توبہ کرکے منانہ لیں بے چین رہیں ؟ کیونکہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول (ص) کو اپنی جان سے بھی زیادہ چاہے۔ حضور (ص) نے فرمایا کہ جب کوئی گناہ کرے اورتوبہ کرلے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ جیسے کہ کو ئی مسافر جنگلِ بیابان میں ہواسکا تمام اسباب اور پانی ایک ہی اونٹ پر لدا ہو، وہ گم ہوجا ئے اورا چانک خود بخود واپس آجائے؟۔ جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد توبہ قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی کہ کبھی انسان اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو؟ ہم اس مہینے میں آگے بڑھ رہے ہیں، اب جو جاری عشرہ ہے وہ مغفرتوں کا ہے، اس میں بھی پورے رمضان ِ مبارک کی طرح ہر نیک عمل کا اجر بے حساب ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ پکار پکار کرکہہ رہا ہے کہ “ ہے کوئی جو اس ماہ مبارک میں اپنی مغفرت کرالے اور جہنم  سے نجات پالے ؟ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں جب یہ مضمون آپکے ہاتھوں میں پہونچے گا تو اس ماہ مبارک کا پہلا عشرہ توگزر چکا ہو گا ؟ جو عشرہ رحمت کہلاتا ہے ۔اب ہم اس عشرے میں داخل ہوچکے ہیں جس کو عشرہ مغفرہ کہتے ہیں جنہوں نے گزشتہ عشرہ سے فائیدہ اٹھایا وہ قابل ِ تحسین ہیں؟ لیکن جو سستی یا کسی اور وجہ سے پیچھے رہ گئے ان کے لیے بھی ابھی تک وقت نہیں گزرا ہے، موقعہ ہے کہ اس عشرے میں بھلے کام کرکے اگلے عشرہ میں جب داخل ہوں تو دوزخ سے نجات حاصل کرلیں اور حدیث کے مطابق “ ہلاک ہونے سے بچ جا ئے“ جبکہ مسلمان کے لیے بھلائی کا میدان بہت وسیع ہے ! اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “رحم کرو تاکہ رحم کیے جاؤ ، معاف کرو تاکہ معاف کیے جاؤ “اگر کسی کے ساتھ برائی کی ہے تو معافی مانگ لو اگر کسی پرظلم کیا ہے تواسے منالو ؟ یہاں ہم ظلم صرف اس فعل کو ہی کہتے ہیں کہ ہم نے کسی کو ستایا ہو ؟ جبکہ عربی میں لفظ ظلم کی معنوی تفصیل بہت طویل ہے! اس میں کسی کو کسی طرح سے بھی جھٹلانا یا کسی کے حقوق کا انکار کرنا جس کا وہ مستحق ہے ظلم ہے ؟ سب سے بڑا ظلم اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے حقوق کو جھٹلانا ہے ؟ جو کہ اپنی تمام مخلوق اور خصو صاًانسان پرسب سے زیادہ مہر بان ہے کہ اس نے اسے اپنا خلیفہ بنایا، کیونکہ یہ شرف سوائے انسان کے اور کسی کو اس نے عطا نہیں فرمایا؟ جس کی عطا کر دہ ساری نعمتیں گننا بھی انسان کی پہونچ سے باہر ہے،وہ صرف ہم سے یہ کہتا ہے بس میری بات مان لیا کرو؟ وہ بھی وہ اپنے لیے نہیں فرماتا، کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے بلکہ یہ طلب ہمارے ہی لیے ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ “ جو اچھا کام کریگا وہ اپنے لیے کریگا جو برا کام کرے گا وہ بھی اپنے لیے ہی کریگا؟ میں سب کو دیتا ہوں کسی سے بدلہ میں مانگتا کچھ نہیں ہوں “ یہاں وہ فرمارہا ہے کہ“ میں نے تمہیں یہ مہینہ عطا فرمایا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کر کے متقی بن جاؤ؟ اور پھر وہاں پہونچ کر اس دائمی جنت کے مزے لوٹو جہاں کبھی موت نہیں آئے گی جہاں تمام نعمتیں بے جدوجہد کے ملیں گی کبھی گھٹیں گی نہیں“ پھر بھی اس سے زیادہ بد قسمت کون ہو گا کہ اس اعلانِ عام سے فائیدہ نہ اٹھائے بلکہ گناہوں میں ڈوبا رہے کبھی اپنے لیے تو کبھی دوسروں کے لیے؟ کبھی اولاد کے نام پر، کبھی ذات اور برادری کے نام پر، کبھی پارٹی کے نام پر کبھی ہم عقیدہ ہونے کی وجہ سے ؟ یہ جانتے ہو ئے کہ ساتھی ظالم ہیں ؟ گوکہ اسلام رشتہ توڑنے والوں کی مذمت کرتا ہے اور قرابت داروں کی مدد کرنے پر دگنا ثواب بھی دیتا ہے؟ مگر بھلائی کے کاموں میں برائیوں میں مدد کرنے پر نہیں؟ جبکہ سہولت یہاں تک ہے کہ اگر کوئی ظالم ہے تو آپ اسکی مدد بھی کر سکتے ہیں، وہ کیسے؟ حدیث ِ پاک کے مطابق “ اسے ظلم سے روک کر “ دیکھئے ثواب کمانے کی یہاں بھی گنجائش ہے آپکو بھی اور آپکے اس عزیز دوست کو بھی جو اس ماہ میں ظلم کا مرتکب ہورہا ہے وہ توبہ کرکے برائی سے رک جائے؟
روزمرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہم سب ظلم پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں! رشوت خوری اور بڑھ جاتی ہے ، چونکہ سب کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں؟ لہذا کمانے کے نئے نئے طریقہ نکالے جاتے ہیں ؟ جس پر سزا بھی اسی حساب سے ہونا چاہیئے تھی جس حساب سے ثواب ہے، مگر اللہ تعالیٰ چونکہ رحیم ہے سزا دینے پر خوش نہیں ہے ؟ یہ اس کی رحیمی ہے کہ سزا وہی رہتی ہے اسی طرح اس مہینے میں بھی داہنے داہنے ہاتھ والا فرشتہ انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ شاید یہ توبہ کر لے اور جہنم کے بجائے جنت بنا لے؟ پھر بھی کوئی نہ مانے تو مجبوراً وہ بائیں ہاتھ والے فرشتے کوگناہ درج کر نے کی اجازت دیدیتا ہے؟ یہ کیا اس رب کی مہربانیوں کو جھٹلانا نہیں ہے؟ اس کی دی ہوئی سہولت سے فائدہ نہ اٹھانا بھی کفران نعمت ہے جو کوئی عبد ِشکور نہیں کر سکتا ،کوئی ناشکرا ہی کرسکتا ہے؟ صرف کوئی نافر مان ہی کر سکتا ہے جھوٹا ہی کر سکتا ؟ کیونکہ جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ پر یقین ہوگا وہ یہ ہرگز نہیں کریگا؟ وہ تو سال بھر اس مہینے کے انتظار میں گزارتا ہے اور بے انتہا ثواب کمانے کے لیے رقومات جمع کر کے رکھتا ہے اور اس موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے کہ ماہ ِ رمضان شریف آئے تومیں لوگوں کی خدمت کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کرڈالوں اور ان گنت ثواب کماؤ ں اور خود کو اس مہربان سے جس کا کوئی مہربانی میں ثانی نہیں ہے! ان میں شامل کرالوں جو “ بغیر ِحساب قیامت کے دن جنت میں داخل ہونگے ؟ اس انسان کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہے جو اس سوچ پر عمل کر رہا ہو؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ،اس کی کتاب اور اس کے نبی تینوں پر یقین رکھتا ہو ۔ اور یہ کہ وہ مجھ پر نگراں ہے ہر فعل میرا اس پر عیاں ہے، بے شک وہ جنتی ہے اسے جنت کے آٹھوں دروازے قیامت کے دن پکار رہے ہوں گے کہ اے اللہ کے پیارے بندے تو مجھ میں داخل ہو کر مجھے اپنی قدم بوسی کاشرف عطا فرما ۔ جبکہ ان تینوں میں سے کسی کو جھٹلانے والا، اللہ کو جھٹلانے والا ہے والا علما ءکے نزدیک کافر ہے ؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ میں اپنی سنت نہیں بدلتا اور اپناوعدہ پورا کرنے والا مجھ سے زیادہ کوئی نہیں ہے؟ اگر ہم پھر بھی اس کی بات نہ مانیں تو ہم سے زیادہ بد قسمت کون ہے جس نے اس ماہ مقدس پر یقین نہ کر کے یوم قیامت پر یقین نہیں کیا؟ ہم نے شک میں رہتے ہوئے سارا وقت کھودیا ؟ بلکہ اس مہینے میں برائیوں میں اور بڑھ گئے اس لیے کہ ہمارے اخراجات بڑھ گئے تھے اس طرح ہم نے اس ماہ ِ مقدس میں بھی ظلم کیا۔ اگر بغیر توبہ کہ اس میں سے ہم نے بجائے مال ِ حلال کے مال حرام کی دیگیں چڑھا بھی دیں تو بجا ئے کسی ثواب کے عذاب کے ہی مستحق ہونگے اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیزوں کو قبول کرتا ہے؟ کوئی ناپاک چیز اس کے دربار میں شرف قبولیت نہیں پاسکتی، کیونکہ کوئی کھو ٹا سکہ اس کے یہاں چلتا ہی نہیں ہے جو کہ ظلم سے ،حرام کاری سے ،دھوکا دہی سے ، ذخیرہ اندوزی سے اورگراں فروشی سے حاصل کیا گیا ہو؟ کتنی ہی اچھی افطاریاں کرائیں اس کے نام پر لنگر خانے کھول دیں ؟ یہ سب جتن کرنے والوں کے وہ قیامت کے دن منہ پر ماردے گا؟۔ کیونکہ اس ظلم کی وجہ سے گناہوں کا پلا بھاری ہوگا؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اس انجام سے بچا ئے جس کو حضور (ص) اس دن سب سے بڑامفلس( کنگال) قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کے پاس دینے کے لیے حقداروں کو کوئی نیکی بچے گی نہیں، تب وہ اپنے ان پیاروں سے مانگے گا جنکے لیے اس نے ظلم کیے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں تو آج خود ہی ضرورت ہے تمہیں کہا ں سے دیں؟

 

Posted in Articles

تمام نائبان رسول (ص) کے لیے لمحہ فکریہ! از۔۔۔ شمس جیلانی

حضور (ص) کی تمام حیات طیبہ جو عوام ا لناس اور اور صحابہ کرام (رض)کے درمیان گزری اس میں وہ ہمیشہ دوباتوںکے لیے کوشاں رہے جس میں پہلی تو یہ تھی کہ دین اسلام کو تمام دنیا قبول کر لے۔ جس کی تصدیق قرآن نے بار بار کی؟ اور ساتھ ہی ان کو اس پر مطلع فرمایا کہ آپ سب کے لیئے پریشان نہ ہوں،ہدایت انہیں کو ملے گی جن کو کہ “میں عطا کرنا چاہونگا “ آپ اس غم میں کیا اپنے آپکو ہلاک کرلیں گے؟ اس کی ایک عملی مثال اس مسئلہ پرحضور (ص) کی وہ دعا ہے جو حضور نے حضرت عمر (رض) ، اور ابو جہل دونوں میں سے ایک کے لیے کی تھی کہ “ ان میں سے ایک کو مشرف بہ اسلام فرمادے“ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضرت عمر  (رض)کو مشرف بہ اسلام فرمادیا۔ جبکہ دوسرا ابو جہل کے لقب سے دنیا میں مشہور ہوا اور اسے ذلت کی موت مقدر تھی وہ میدان بدر میں نصیب ہوئی ۔حالانکہ ایک دور تھا جس میں اسلام دشمنی میں یہ دونوں ہی مشہور تھے ذہین بھی دونوں ہی بے انتہا تھے؟ مگر ایک نے سلام قبول کرنے سے انکار کردیا ،جبکہ حضرت عمر (رض) نے قبول فرما لیا۔ آج جب حضرت عمر (رض) کانام کسی مسلمان کے سامنے لیا جاتا ہے تو اس کی زبان سے بے ساختہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکل جاتا ہے اور ان کے وہ کارنامے یاد کرکے اسکا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جو وہ اسلامی فلاحی ریاست کی شکل میں دنیا کو دیکرگئے۔ جس کی ان سے پہلے معلوم تاریخ میں کہیں مثال نہیں تھی ؟ اس سے نبی ِ صادق (ص) کے اس ارشاد گرامی کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے کہ میرے  (ص)بعد اگر کوئی نبی (ع) ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ جبکہ جہاں تک دنیاوی علم کا تعلق ہے۔ ابو الحکمہ جو بعد میں بگڑ کر ابو الحکم ہوگیا وہ زمانہ جاہلیہ میں اس شخص کا لقب تھا جس کو ہم “ ابو جہل“ کے نام سے جانتے ہیں ۔ اور یہ لقب اس کے اس علم کی وجہ سے ملا تھا جسے وہ اپنی خداداد ذہانت کی بنا پر ا پنے ساتھی طالب علموں سے مقابلہ میں بہت جلد بہت سے علوم پر عبور حاصل کر کے آگے نکل گیا تھا؟ اور اس طرح اس خطاب کا مالک بنا۔ کیونکہ عربی زبان میں کنیت جیسا کہ ہم بارہا لکھ چکے ہیں دو طرح کی ہوتی ہے ایک نسبی اور دو سری صفاتی ۔جبکہ حضرت عمر (رض) کے کارنامے بلا تخصیص مذہب اور ملت تمام عالم انسانیت کو ازبر ہیں ۔ ان کے برعکس جو ابو الحکمہ تھا، وہ تکبر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے “ابو جہل “ آج بھی کہلاتا ہے۔ کیونکہ قر آن کہہ رہا ہے کہ جو چیز انسانو ں کو فائیدہ پہونچا تی ہے وہ قیامت تک قائم رہے گی اور بطور صدقہ جاریہ اپنے موجد کے کھاتے میں لکھی جاتی رہے گی۔ آج آپ جو دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں فلاحی مملکتیں چل رہی ہیں یہ حضرت عمر (رض) کی رہین منت ہیں ۔ اگر میں تفصیل میں جاؤں تو انہوں نے دنیا کو اتنا کچھ دیا ہے جس کی ایک طویل فہرست ہے؟ اگر اختصار اختیار کروں اور مسلمانوں کی حد تک محدود رہوں اور اس میں سے بھی صرف عبادات کی حد تک قلم کو محدود کرلوں تو اللہ والوں سے سال میں ایک مہینہ جو مساجد میں رونق رہتی ہے وہ انہیں کے دم سے ہے اور یہ کروڑوں مسلمانوں کو جو زبانی قر آن یاد ہے وہ بھی انہیں کے اجتہاد کی وجہ سے ہے! اگر وہ تراویح کو یہ شکل نہ دیتے جو آج ہے تو مسلمانوں میں حفاظ کی یہ تعداد کہاں ہوتی؟ کیونکہ تراویح کو رواج دینے کے لیے انہوں نے حکومتی سرپرستی میں طبقہ حفاظ پیدا کیا اور ان کے وظیفہ مقرر فرمائے۔ اگر وہ یہ نہ کرتے تو آجکل جو مساجد بھری نظر آتی ہیں ان میں یہ چہل پہل نہ ہوتی ؟ کیونکہ حضور (ص) نے صرف تین رات تراویح با جماعت پڑھائی تھی اور اس طرح امت کی رہنمائی کے لیے ایک اشارہ چھوڑا تھا؟ کیونکہ یہ وہ دور تھا کہ قرآن نازل ہورہا تھا اوردین نا مکمل تھا ؟ حضور (ص) اپنی امت کے لیے آسانیا ں پیدا فرما نا چاہتے تھے تاکہ جولوگ نئے نئے دین میں آرہے ہیں انہیں اسلام میں مشکلات کم اور آسانیاں زیادہ نظر آئیں اور جب وہ اس طرح اپنے ایمان میں پکے ہوجائیں گے پھر ان کو مشکل عمل بھی آسان ہو گا؟ لہذا وہ ایک اشارہ یہ فرماکر چھوڑ گئے کہ “کل رات تمہاری بے چینی مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی مگر میں دوسرے دن با جما عت تراویح پڑھانے کے لیے اس لیے باہر نہیں آیاکہ کہں تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس پر پورے نہ اتر سکو “ چونکہ ان کے بعداس کی فرضیت کا مسئلہ نہیں تھا۔ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک محفل میں فرشتوں کا رمضان شریف میں بیت المعمور میں عبادت اور تلاوت قرآن کا ذکر کیا اسے ان سے سن کر انہوں نے اس کو عملی شکل دیدی؟ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہواکہ کروڑوں مساجد جو دنیا میں موجود ہیں ان میں سے اکثر میں رمضان شریف میں قر آن پڑھنے اور سننے میں مسلمان مصروف رہتے ہیں ! جبکہ قر آن کی خوبی یہ ہے کہ جب بھی اسے غور سے پڑھا جا ئے تو ہر دفعہ ایک نئی بات معلوم ہو تی ہے۔ جو لوگ بایک وقت اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کیئے ہوئے ہیں اور حافظ بھی ہیں انہیں کسی آیت کو کسی موقعہ پر پیش کرنے میں دیر نہیں لگتی؟ جبکہ جو صرف حافظ یا عالم ہیں وہ ان کی طرح قرآن سے ااستفادہ حاصل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ انہیں کسی مطلوبہ آیت کی تلاش میں کچھ وقت لگتا ہے؟
اسی طرح حضور (ص) کی بصارت افروز نگاہیں جوہمارے مقابلے میں بہت دور تک دیکھ سکتی تھیں وہ دیکھ رہی تھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اور مذاہب کی طرح اس دین کوبھی منجمد کرکے مشکل بنادیا جائے؟ حضور (ص) ہمیشہ اپنے صحابہ کرام کو ایک ہی بات تلقین فرماتے تھے۔ کہ “دیکھو دین میں آسانیاں پیدا کرنا اس کو مشکل مت بنا نا ؟ یہاں تک کہ اگر کوئی بہت بڑی سورت نماز میں پڑھتا تو وہ یہ فر ما کرا س کی ہمت شکنی فرماتے تھے کہ کیا تم لوگوں کو دین سے بھگانا چاہتے ہو ؟ جب حضرت معاذ یمن کی طرف بطور پہلے عامل اور نائب ِ رسول (ص) تشریف لے جارہے تھے۔ تو حضور (ص) کئی میل تک ان کی باگ پکڑ کر چلتے رہے ۔ سوالات پوچھتے اور ہدایات عطا فرماتے رہے ؟پہلے پوچھا کہ تم وہاں انصاف کیسے کروگے ؟انہوں نے جواب دیا کہ ً میں اسے پہلے قر آن میں تلاش کرونگا، اس میں نظر نہیں آیا تو آپ کی سنت میں تلاش کرونگا۔ پھر پوچھا کہ اگر اس میں بھی نہ ملا تو؟ جواب دیا کہ پھر میں اپنے طور پر فیصلہ کرونگا ؟ یہ سن کر حضور (ص) بہت خوش ہو ئے اور یہ فرما کر گلے سے لگا لیا کہ یہ امت اس وقت تک گمراہ نہیں ہو گی جب تک وہ اس پر قائم رہے گی۔ آج عالم یہ ہے کہ بہت سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہمیں ان کا جواب دینے والا کوئی کہیں نہیں ملتا ؟ کیونکہ ہرایک ذمہ داری لینے سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس طرح دین مشکل بنتا جارہاہے مثال کے طور پر سحور کے ٹائم میں ایک گھنٹے کی کمی خودساختہ کمی کرنے کی وجہ سے اب کئی کلینڈر استعمال ہورہے ہیں ؟ جبکہ مسلمان بفضل تعالیٰ دنیا کے ہر کونے میں پہونچ گئے ہیں۔ جیسے کہ ہمارے قریبی شہر “ قطب جنوبی “ پروہاں بھی سات مسلمان ہیں جنہوں نے جگہ لیلی ہے اور وہ مسجد بنا رہے ہیں۔ ان کے لیل نہار ہما رے جیسے نہیں ہیں ۔ اسی طرح اسکینڈی نیوین ممالک ہیں، جن کے ایک حصہ میں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہوتی ہے، وہ روزے کیسے رکھیں نماز کیسے پڑھیں ؟ اس کا جب جواب علماءسے پوچھتے ہیں تو انہیں جواب ملتا ہے کہ ہمسایہ ملک کانظام الاوقات لیلو؟ جو وہاں تو چل سکتا ہے جہاں وقت میں معمولی فرق ہو؟ جہاں غیر معمولی فرق ہو تو اس کے لیے ایک مرکزی کونسل ہونا چا ہیئے جو ایسے اسکالرز پر مشتمل ہو، جو اسلامی تعلیمات میں بھی ماہر ہوں اور جدید علوم میں بھی؟ میں ایک طالب علم ہوں! مجھے حضور (ص)  کے ارشادات میں اس کے حل کے لیے ایک اشارا ملا! وہ یہ ہے کہ ایک روز حضور (ص) نے قرب قیامت کی باتیں کر تے ہوئے فرمایا کہ “ ایک دور ایسا آئے گا کہ کبھی دن ایک لمحہ کا ہوگا اور کبھی چالیس دن کا “ تو صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ اگر وہ دور ہم میں سے کوئی پا جا ئے تو نماز کیسے ادا کر ے(ایک لمحے میں پانچ نمازیں کس طرح، اور چالیس دن میں بھی پانچ نما زیں) تو جواب میں حضور (ص) نے ارشاد فرما یا کہ تب ندازے سے نظام اوقات مقرر کر لینا؟ یہ حدیث میں نے ایک مفتی صاحب کے سامنے  جوکہ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ا لتحصیل ہیں مسجد میں پیش کی تو انہوں نے فرمایا کہ “ یہ حدیث ہے تو مگر! ۔۔۔ “آگے وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ اس کے آگے مجبوری حائل تھی کیونکہ جو بھی اس سلسلہ میں پہل کریگا وہ نکو بن جائیگا؟
اس کا حل ایک ہی ہے کہ کوئی اس کا مستقل حل دریافت کیا جا ئے تاکہ اراکان اسلام پر مسلمان کاربند رہ سکیں ؟ میں پہلے بھی علما ئے کرام کی توجہ اس طرف دلا چکا ہوں، پھر اپنی معروضات پیش کر رہا ہوں؟کہ نئی نسل مشکلات دیکھ کر دین سے راہ ِ فرار اختیار کر رہی ہے جس میں یہ کہہ کر والدین بھی معاون بن رہے ہیں کہ روزہ انیس گھنٹے کا ہے دن بڑے ہیں، گرمی بہت ہے اسکول بھی کھلے ہوئے ہیں اگلے سال رکھ لینا۔ جبکہ عادتیں بچپن سے ہی پختہ ہوتی ہیں اگر ارکان اسلام آج چھوڑ دیئے تو کل ان کے لیے ان پر عامل ہونا بہت مشکل ہوگا؟ اور اس طرح بے عمل مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ جو پہلے ہی ما شاءاللہ کافی ہے؟

Posted in Articles

وہ ہلاک ہوا جس نے ماہ رمضان گنوادیا؟ ۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

حضور (ص)اور تمام صحابہ کرام ماہ ِ رجب سے رمضان کی تیاریاں شروع کردیتے تھے ۔ ان کے لیے رجب خیر ، خیرات کا مہینہ تھا! اور وہ زیادہ تر زکات رجب میں ہی ادا کرتے تھے تاکہ ضرورت مند اپنا بجٹ بنا کر رمضان اور پھر عید کے لیے تیار یاں اور بندوبست کرلیں۔اس کے بعد شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھ کر رمضان کے لیے مشق کریں تاکہ روزے رکھنے کے عادی ہو جائیں، نہ رمضان میں عبادتوں میں کساہلی آئے نہ کوئی پریشانی لا حق ہو؟ یعنی جو کچھ پریشانی آنا ہے اس کا مشاہدہ روزہ رکھ کر ماہ ِ شعبان میں ہی ہوجا ئے اور اگر ممکن ہواس کا تدارک کرلیا جائے؟ اس کے لیے بہت سی احادیث ہیں۔ جن میں صحابہ کرام اور صحابیات (رض) کا یہ تاثر عام ہے جن میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض)  بھی شامل ہیں ۔ کہ ماہ شعبان میں حضور (ص) اتنے تواتر سے روزے رکھتے تھے کہ ہمیں یہ خیال گزرتا تھا کہ وہ شایدکوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے لیکن رمضان شروع ہونے سے پہلے وہ یکایک روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ تاکہ شعبان اور رمضان کی پہچان باقی رہے۔ اس میں کسی اضافے کی میں نے ضرورت اس لیے نہیں سمجھی کہ اس وقت ہم تکڑیوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے اوراسلام تھا ہی اتباع رسول    (ص) کا نام یعنی اسوہ حسنہ پر چلنے کانام ؟ رہے باقی راستے حضور (ص) نے یہ فرما کر امت کو ان کے پردے اٹھا کر جھانکنے تک سے منع فرمادیا تھا۔کہ “صحیح اور سیدھاراستہ صرف میرا راستہ ہے اسی پر چلنا ہی صراط مستقیم ہے اس کے علاوہ اس راستے کے دونوں طرف تمہیں اور بھی بہت سے راستے نظر آئیں گے جن پر پردے پڑے ہوئے ہونگے تم ان پردوں کو اٹھا کر جھانکنے کی بھی کوشش مت کرنا ورنہ بھٹک جا ؤگے “
لیکن ہم نے اسے نظر انداز کردیا اب ہمارے ہاں تربیب کچھ اس طرح ہے کہ رجب سے بھی پہلے سے ذخیرہ اندوزی اور دوسری تمام تدابیر اختیار کرلیتے ہیں تاکہ ہم روزہ داروں کی زندگی آسان بنانے کے بجائے جتنی مشکل ہوسکے، مشکل کردیں !اس کارِ خیر میں ہم من حیثیت القوم اس طرح حصہ لیتے ہیں۔ ؟ کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں؟ کیا یہ کردار واقعی اسلامی ہے ؟ اگر لوگ تھوڑا سا غور کریں تو وہ روزہ داروں کو اس طرح سہولیت فراہم کر سکتے ہیں کہ جو صاحب ِ حیثیت ہیں، پہلے وہ تمام چیزیں اپنے پاس ذخیرہ کرلیں جو کی جاسکتی ہیں۔ مثلا ً کھجوریں ، چنا ، گندم دالیں وغیرہ اس سے ذخیرہ اندوزوں کی ہمت شکنی ہو گی اور وہ اپنے ذخائر سے مارکیٹ کوکنٹرول نہیں کر سکیں گے ، اگر وہ رمضان کے دوران صارفین کے لیے محدود تعداد میں آہستہ ،آہستہ معمولی منافع یا اللہ توفیق دے تو بغیر منافع کے روزہ داروں کو یہ سہولت فرا ہم کرکے اپنی دین دونوں بنالیں یعنی جنت کما لیں ۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ صرف خلوص دیکھتا ہے اور ایک نیکی کا ثواب جو عام دنوں میں دس گناہ ہے اس ماہ میں بے حساب عطافرماتاہے۔ دوسرے اس سے فائدہ یہ ہو گا کہ ذخیرہ اندوز جو حکومتوں سے مکمکا کرلیتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہیں؟ وہ اس سے ڈرتے رہیں گے کہ متقی لوگوں کی اس کاروائی سے کہیں ان کا مال گوداموں میں پڑا ہی نہ رہ جا ئے، غلہ اور کھجوروں کو گھن کھا جائے؟ بہت سے لوگ مجھ سے سوال کریں گے کہ میاں! تمہاری اس تجویز پر عمل کون کرے گا ،جبکہ پوری قوم زیادہ سے زیادہ مال بنا نے کے چکر میں ہو؟ بہر حال ہم تو اس کے قائل ہیں کہ اپنے بھائیوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے ؟ لہذا ہم نے یہ سوچ کر یہ تجویز پیش کر دی ہے کہ کوئی ایک بھی اللہ کابندہ جسے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بے انتہا مال دیا ہے اس کارِخیر میں کود پڑا اور میدان میں آگیا تو پھر اس کی دیکھا دیکھی اگلے سال اس سے بہت سے چراغ جل جائیں گے اور وہ سب مل کر ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کا ناطقہ بند کر دیں گے؟ دوسرے رمضان شریف میں مسلمانوں کا زور راتوں کو جاگنے اور قرآن پڑھنے پڑھانے اور سنے سنانے پر صرف ہوتا ہے۔ ان میں بہت سے ان اوصاف کے حامل لوگ ہونگے جوسورہ الزمر کی آیت نمبر 18کےعامل ہونگے جن کی تعریف وہاں یہ فرمائی گئی ہے کہ وہ اچھی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے چن کر عمل کرتے ہیں اور یہ ہی اہل ِ جنت ہیں جونوازے جائیں گے “ چونکہ قرآن میں ان کا ذکر ہے تھوڑے سہی مگر ہونگے ضرور ؟ یہ اور بات ہے کہ وہ فوٹو سیشن کے لیے کام نہ کرتے ہوں؟ چونکہ وہ صرف اللہ کے لیے کام کر تے ہیں لہذا ان کا نام اخباروں میں نہ آتا ہو؟ اس لیے ہمیں وہ بظاہر دکھائی دیتے نہ ہوں؟ لہذا ہم اس رائے پر قائم رہنے کے لیے حق بجانب ہیں کیونکہ یہ ہمارے رب کے لفاظ ہیں اور ہمارااان پر ایمان ہے۔
جبکہ ہمارے یہاں خوش گمانی کا خانہ اس لیے آجکل سرے سے موجود ہی نہیں ہے کہ جو کوئی بھی کام کرتا ہے وہ یہاں دنیا کے لیے ہی کرتا ہے۔ نہ وہاں جاکر یوم حساب پر یقین رکھتا ہے اور نہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ کیونکہ لوگ ہرکام میں گھپلا کرتے ہیں ؟ میدے اتنے مضبوط ہیں کہ زکات ہضم کر جاتے ہیں، قربانی کی کھالیں کھاجا تے ہیں ؟ حاجیوں کو ٹھگ لیتے ہیں ،جن میں سے تین کو دس سال سے لیکر تیس سال تک کی سزا ابھی کل ہی سنائی گئی ہے ؟ جن میں ایک سابق وزیر مملکت مذہبی امور ، دوسرے ڈائریکٹر جنرل حج اور تیسرے ایک بچپئی؟ جن کے بغیر کوئی کام وہاں چلتا ہی نہیں ؟ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کوئی بھی افتاد آئے چندہ مانگنے کے لیے پوری قوم با جماعت کھڑی ہوجاتی ہے جبکہ دینے کے لیے غیر مسلم سب سے زیادہ آگے بڑھ کر چندہ جمع کر کے دیتے ہیں !لیکن جب وہ حساب مانگتے ہیں تو چندہ لینے والے ٹال مٹول پر اتر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض تو اس امید پر دنیا سے ہی گزر جاتے ہیں کہ حساب اب ملے کہ تب ملے ؟ اس سے جو غیروں میں بد گمانی پیداہو تی ہے اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ دوسری مرتبہ وہ چندے کی اپیلوں پر کان ہی بند کر لیتے ہیں ۔ جبکہ اپنے اس سلسلہ میں پہلے ہی اتنے بدگمان ہو چکے ہیں کہ وہ خوش گمانی کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے؟ جو ہماری اس مثال سے آپ پرواضح ہوگا جو لطیفہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ “ ایک جماعت جو خدمت خلق او رسیاست دونوں ساتھ چلاتی ہے اس لیے کہ مسلمان کی پوری زندگی ضابطہ اسلامی کے تابع رہنا چا ہیے؟ اس کا ایک کارکن ایک شخص سے کھال مانگنے گیا تو وہ کہنے لگا ۔ کہ میں تمہیں کھال کیوں دوں! تم بھی تو کھال بیچ کر جلسہ ہی کرو گے نا، میں بھی سیاسی آدمی ہوں اپنی کھال بیچ کر خود ہی جلسہ کیوں  نہ کرلوں ؟ ایسے دور میں ایسی تجاویز پیش کر نا گوکہ وقت کا زیاں ہے۔ مگر شاعر ہماری طرح یاہم شاعروں کی طرح خوش فہم واقع ہوئے ہیں؟ دیکھئے علامہ اقبال (رح) کسی خوش فہمی میں ہی فرما گئے ہیں کہ “ ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ “ یا پھر  “ ذرا نم تو ہونے دو بڑی زر خیز ہے مٹی؟ ہم  بھی انکی پیروی میں۔ اس امید پریہ کہتے رہتے ہیں ۔ “شاید کہ اتر جا ئے کسی دل میں میری بات “ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے توفیق عطا کردے کوئی اس پہ عمل کر بیٹھے اور ہماری یہ تجویز ہمارے لیے صدقہ جاریہ کا ذریعہ بن جا ئے۔ خصوصاً ان ملکو ں میں جہاں ہم اسلام کے سفیر ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ وہ کردار پیش کریں جس کو دیکھ کر دوسرے اسلام کی طرف راغب ہو ں ؟تاکہ ان کے ساتھ ہم بھی ثواب کے حقدار بنیں ؟ جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے بھائی چندہ لیکر حساب نہ دیں اور ٹال مٹو ل سے مقامی لوگ اتنے بد ظن ہوجا ئیں کہ وہ اس کا الٹا اثر لیں؟ تو اس طرح ہم اس عذاب کے بھی مستحق ہو نگے کہ ہمارے اس فعل سے اللہ کے دین کے پھیلنے میں ہم رکاوٹ بنے؟کاش اس کے بارے میں بھی مسلمان بھائی ایسا کرنے سے پہلے کچھ سوچیں ؟کیونکہ صرف زبانی جمع خرچ سے نہ کو ئی اچھا اس دنیا میں بنا ہے نہ بن سکتا ہے ا ور اس دنیا میں تو با لکل ہی نہیں، جہاں وہ مالکِ کل ہمارے ہر فعل اور اس کے پورے پس ِ منظر اور نیت تک سے واقف کرسی ِ انصاف پر اس دن تشریف فرما ہو؟
الحمد للہ! ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک موقعہ ہماری زندگی میں رمضان البارک کی شکل میں پھر عطا فرمایا ہے۔ لہذا حضور (ص) کے ارشاد کے مطابق ہم ہلاک ہو نے سے بچ جا ئیں تو بہتر ہے اور اس کی وہی ایک صورت ہے کہ تو بہ کر لیں ؟ اور اپنی مغفرت کروالیں؟ ویسے تو تمام احادیث ہم میں سے بہت سوں کو زبانی یاد ہیں خصوصا ً ہمارے علما ئے کرام کو تو جانتے ہی ہیں ۔ مگر وقت آنے پر بعض اوقات یاد نہیں آتی ہیں؟اور آدمی گھبراہٹ میں سب کچھ بھول جا تا ہے۔ چونکہ امت پر وقت پڑا ہوا ہے! ہم اس مشہور حدیث کو پیش کر کے یاد داشت کو تازہ کر دیتے ہیں کہ “ایک دن حضور (ص) نے تین مرتبہ آمین فرمایا ؟ صحابہ کرام نے وجہ پو چھی تو فرما یا کہ ابھی جبرئیل (ع) تشریف لا ئے تھے۔ انہوں نے فر ما یا کہ وہ ہلاک ہوا ، جس نے آپ کا اسم ِ مبارک سنا اور درود شریف نہیں پڑھی ! میں نے کہا آمین، پھر فرما یا کہ وہ بھی ہلاک ہوا کہ جس نے اپنے ماں یا باپ میں سے کسی ایک کو پایا اور اپنی مغفرت نہیں کرالی ! میں نے کہا آمین۔ پھر فرمایا کہ وہ بھی ہلاک ہوا جس نے رمضان کا آخری عشرہ پایا اور اپنی مغفرت نہیں کرالی، میں نے پھر آمین کہا!
آئیے ماہ رمضان شروع ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ اور رمضان سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے؟ (آمین)
اس لیے اس میں سے ایک موقع تو ہم روز ہی کھوتے رہتے ہیں ۔ جس کو کہ آج کی میڈیا نے ہمارے لیے بہت آسان کر دیا ہے یعنی حضور (ص) کے اسم مبارک کے آنے اورسننے پر درود شریف پڑھنا اور ثواب کمانا؟ رہا دوسرا موقعہ وہ مجھ جیسے طوالت عمر کے با عث کھوچکے ہیں کہ ماں باپ ہماری طویل عمری کے باعث داغ ِ مفارقت دے چکے ہیں۔ جبکہ رمضان المبارک کے دن تیزی سے گز رہے ہیں اور آخری عشرہ آنے ہی کو ہے ؟ اگر یہ عشرہ بھی گنوا دیا تو ہماری ہلاکت میں کیا کمی رہ جا ئے گی۔ جبکہ علماءاس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان کا آج کل سے بہتر ہونا چاہیے ہر کام میں اس کی جیت ہی جیت ہے۔ “ مر جا ئے تو شہید جیتا رہے تو غازی“ اگر ہم پھر بھی جنت نہ بنا سکیں تو ہم سابد قسمت کون ہے؟

 

Posted in Articles

کیا کسی نے جھوٹ سے ہے فیض پایا اب تلک؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے یہاں جب سے قدریں بد لی ہیں۔ اس دن سے ہم ان تمام اسباق کو بھو ل گئے ہیں۔ جن کی قرآن میں مذمت آئی ہے اور ہادی ِ اسلام (ص) نے جن کی سختی سے مذمت کی ہے؟ مثلا ً یہ کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا؟ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک شخص آیا اور اس نے اپنے تمام عیوب گناڈالے جو سننے میں اتنے گھناؤنے تھے کہ صحابہ کرام (رض) بہت برہم ہوئے مگر حضور(ص) بہت ہی غور سے اس کے انکشافات سماعت فرما تے رہے ۔ حتیٰ کہ جب وہ اپنی بات مکمل کرچکا تو سوالی ہو ا کہ میں یہ سب کام کرتا ہوں ، اب میں تائب ہونا چاہتا ہوں ان میں سے پہلے کون سا کام چھوڑوں ؟ حضور (ص) نے جواب میں فرمایا سب سے پہلے جھوٹ بولنا چھوڑ دو؟ اس نے وعدہ کرلیا کہ وہ آج سے جھوٹ نہیں بولے گا جب دوسرے دن وہ خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا تو پریشان ہوگیا کیوں کیونکہ اس کا ضمیر جاگ چکا تھا؟ پریشان تھا میں حضور (ص) کے سامنے جھوٹ بول نہیں سکتا اگر بولوں گا تو اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں مطلع فرما دیگا وہ بغیر ملے ہی نماز پڑھ کر واپس چلاگیا۔ا س ارادے کے ساتھ کہ میں اب ان  (ص)کے سامنے کل پیش ہونگا ،جب بقیہ بھی برے کام چھوڑدوں  گا۔ اس ایک واقعہ میں ہمارے لیے کئی سبق ہیں پہلا تو یہ ہے کہ اگر کوئی بات کررہا ہو تو سنے والے کو ہمہ تن گوش ہوکر سننا چاہیے جیسے کہ کوئی طبیب خاموش ہوکر مریض کی پوری بات سنتا ہے۔ کیونکہ اسے علامات سن کر دوا تجویز کرنا ہوتی ہے۔ لہذا وہ پوری توجہ سے مریض کی پوری بات نہ سنے تو علاج میں غلطی کا امکان ہے ؟ چونکہ ہر طبیب کو مریض سے بھی ہمدردی ہوتی ہے، اپنی عزت اور پیشے سے بھی دلچسپی ہوتی جس پر اس کی پریکٹس چلنے اور نہ چلنے کا انحصار ہوتا ہے۔ طبیب اگر مسلمان ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ گندے سے گندے مریض کے ساتھ بھی ہمدردی رکھے نفرت کسی سے نہ کرے کون جاانے کہ اللہ نظر میں وہ اس سے بہتر ہو جیسے ایوب (ع) ؟ جبکہ ہمارے مبلغین جن کو حکم ہے۔ تبلیغ حکمت کے ساتھ کرو ۔ وہ اپنے تقوے کے گھمنڈ میں صرف کسی کی ظاہری شکل اور صورت دیکھ کر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ یہ چونکہ میرا جیسا نہیں ہے لہذا گمراہ ہے۔ انکے پاس تقوے کا معیار وہ ہوتا ہے جسے عرف ِ عام میں ظاہرداری کہا جاتا ہے جو اسلام میں تو منع ہے ۔ وہ صرف مرزا ظاہر دار بیگ کے یہاں تو درست سمجھا جاسکتاہے۔ کیونکہ وہ ایک افسانہ نویس کاا تراشا ہو افسانوی کردار ہے مگر مسلمان کے لیے ممنوع ہے۔ جبکہ جو اللہ والے تھے یا ہیں اور جن کے ذریعہ دنیا میں اسلام پھیلا وہ برے سے برے آدمی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اس کی خدمت میں لگ جاتے تھے کہ یہ ہمارا مہمان ہے اور اس کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ پھر وہاں سے وہ کندن بن کر نکلتا تھا؟ اور ان کے مشن کو آگے بڑھاتا تھا اور اس طرح چراغ سے چراغ جلتا رہتا تھا؟  اگرآج ہم انہیں خانقاہوں میں جھانکیںتو نوے فی صد  میں ایک مغرور شخص مریدوں سے پاؤں دبواتا ہوا ملے گا؟
اگر مسجد کے دروازے پر کوئی بیٹھا رہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ؟ لیکن جیسے ہی وہ دروازے کے اندر داخل ہوگا تو ہر نگاہ اسکے پورے جسم کا سینسر کر رہی ہوگی کہ اس میں برائیاں کہاں کہاں ہیں اور مسجد میں تمیز سے وہ بیٹھا ہے یا نہیں، ٹانگیں پھیلا ئے ہوئے تو نہیں بیٹھا ہے فوراا سے ٹوک دے گا ۔ اس سے یہ بھی نہیں پوچھے گا کہ تمہیں کوئی معذوری تو نہیں ہے جس کی وجہ سے پیر پھیلا ئے بیٹھے ہو؟ جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ لاکھوں آدمی تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں ۔ لیکن مسلمان ایک بھی نہیں کر پاتے سوائے ان کے جو کہ پیشہ ور ہیں اور وہ ہر تھوڑے دن کے بعد شہر بدلکر کسی مسجد میں پہونچ کر مسلمان ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح وقتی طور پر کچھ منفعت اٹھاکر دوسرے شہر کی راہ لیتے ہیں ۔ اور سند کے طور پر ان اداروں کے کرتا دھرتا اعداد شمار تیار کرتے رہتے ہیں۔ جو ہر وقت یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام بہت تیزی پھیلنے والا مذہب بنتا جارہا لہذا خبردار رہو ؟۔ رہے نم نہاد مسلمان اسی کو آگے بڑھا کر خوش ہوتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ بھلا ہمارے کردار دیکھ کر کون مسلمان ہو گا؟ وہ اس طرح ا سلام کونقصان پہونچانے والوں کے مکروہ مشن کو ان جانے میں آگے بڑھانے میں معاونت کرتے ہیں۔ اگر یہاں وہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے مدد لیتے تو انہیں پہلے اپنے کردار سے متاثر کرتے پھر تالیف قلوب کا اہتمام کرتے اور جب کسی کو مسلمان بنا لیتے اور پھر اس کے ساتھ ربط بھی رکھتے تو انہیں یہ معلوم ہو جاتا کہ واقعی کوئی انہوں نے مسلمان بنایا ہے یا نہیں ۔ اسی طرح بہت سی لڑکیا ں اور لڑکے اسلام میں شادی کے لیے اضافے کا باعث بنتے ہیں ، جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ خود ہی عملی طور پر مسلمان نہیں ہیں۔ وہ  اسےایک رواج سمجھ کر کلمہ پڑھ لیتے ہیں اور وہ بھی انہیں کی طرح کے مسلمان ہو جاتے ہیں۔ اور جب ان کے ساتھ مساجد میں امتیازی سلوک ہو تا ہے تو وہ اس سے بھی پھر جاتے ہیں ۔ ایک ایسے ہی نومسلم کاواقعہ ہے کہ وہ اپنے سسر کے انتقال پر مسجد گئے وہاں ان کی گوری چمڑی دیکھ کر امام صاحب نے نماز جنازہ سے نکالدیا اور وہ صاحب اپنی اس توہین پر مسجد اور اسلام  دونوں ہی چھوڑگئے۔ یا پھر وہ لوگ ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے انہیں شدت پسند بناتے ہیں جن کے خیال ان کے سوا سب غلط ہیں ۔ اور واجب القتل بھی ۔ جب لوگ ان کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے ہیں یا دھماکو میں مارے جاتے ہیں۔  توان کے افعال دیکھ اور دوسروں سے طعنے سن کر نئی نسل یہ کہنے لگتی ہے کہ اگر یہ اسلام ہے تو عملی مسلمان بننے سے ہماری توبہ ہے؟ ایسے بچوں کی تعدد اتنی تیزی سے بڑھ رہی کہ اس کا تدارک نہ کیا گیا تو اوروں کی طرح عبادت گاہوں میں جانے والے نہیں ملیں گے؟ رفتہ ، رفتہ پرانی نسل ختم ہو جائے گی اور نئی جانا چھوڑ دے گی، چندہ ملنا بند ہو جائے گا تو مساجد بھی خود بخود بند ہو نے لگیں گی۔اس وقت شاید قوم کی آنکھیں کھلیں جبکہ بہت دیر ہوچکی ہوگی؟ اب ہم مسلمانوں کے سیاسی اور دوسرے معاملات کو لیتے ہیں کہ وہ دنیا پر اپنے کردار سے کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں ؟
جبکہ اسلام نے کوئی گوشہ زندگی ہدایت کے بغیر نہیں چھوڑا لیکن ہم جہاں اور اسلامی قوائد پر قائم نہیں ہیں وہیں سیاست اور معاملات پر بھی نہیں ہیں؟ موجودہ دنیا بری طرح تکڑیوں بٹی ہوئی ہے ان کے پاس تو ضابطہ اخلاق ہے ہی نہیں یہ ان کی مجبوری ہے؟ ہمارے پاس تو سب کچھ ہے مگر ہم اس پر چل نہیں رہے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں ایمان لانا پہلی شرط ہے؟ اسکا تقاضہ یہ ہے کہ جلوت اور خلوت جہاں بھی ہو ں ہمیں یہ یقین ہونا ضروری ہے اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے؟ اس سے امانت اور دیانت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے اور انسان فرشتوں کو پیچھے چھوڑجاتا ہے ۔ آج جبکہ پوری قوم چوری کے مرض میں مبتلا ہے۔ لوگ جھوٹے حلف نامے پیش کرنے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں۔ کہ حج پر بھی جھوٹے حلف نامے پیش کرکے کہ ہم پہلے کبھی نہیں گئے ہر سال حج پر جاتے ہیں اور اس طرح ان کی حق تلفی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ جو ابھی تک حج نہیں کرسکے ہیں ۔  وہ ایسا کیوں کرتے ہیں اس لیے کہ اس سے رعب پڑتا ہے؟ اور مال بھی بنتا ہے۔ اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دوکاج ؟ اور واپس آکر سال بھر پھر وہی کام کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں جبکہ حج مبرور کی پہچان یہ ہی ہے کہ اس میں وہ خرابیاں باقی نہ رہیں جو پہلے تھیں۔ اسمگلنگ وہ لوگ گناہ نہیں سمجھتے ۔ چیزوں میں ملاوٹ حرام نہیں سمجھتے ڈنکے کی چوٹ کرتے ہیں۔ اب نہیں معلوم کہ کیا حال ہے مگر جب ہم وہاں تھے تو دودھ ہول سیل مارکیٹ میں جس بھاؤ بکتا تھا اسی بھا ؤ شہر بھر کی خوردہ دکانوں پر بھی بکتا تھا؟ ایسا کیسے ممکن تھا ؟ کیا دودھ فروشوں نے خدمتِ خلق اختیار کرلی تھی اور سب فرشتے بن گئے تھے جنہیں کوئی حاجت ہی نہ ہو؟۔ سبھی جانتے تھے کہ ایسا تبھی ممکن تھا کہ ہر دودھ فروش اپنی مرضی سے پانی ملالیتا تھا جتنی اس کی ضروریات زندگی تھیں ، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ ؟ کیونکہ اس میں میونسپل کارپوریشن والوں کی مٹھی  بھی گرم کرنا پڑتی تھی۔ ان کا خرچہ بھی اسی میں سے نکلتا تھا۔ محکمہ مال میں سب چھوٹا عملدار پٹواری ہے جو بڑا بدنام ہے کہ وہ چوری کرتا ہے ؟ دوسرے تھانے بدنام ہیں کہ وہ رشوت لیتے ہیں، جنکے ہاتھ میں ڈنڈا ہے جو قنون کے محافظ ہیں ؟ جبکہ سب سے بڑا عہدہ وزیرا عظم کا ہے۔ جس طرح مشہور ہے کہ ہاتھی کے پاؤں سب کا پاؤں وہی معاملہ یہاں بھی ہے۔ لیکن اس پہ کوئی بات نہیں کرتا کہ یہ سب مال خرچ کرکے عہدے خریدتے ہیں کمانے کے لیے آتے ہیں ان میں جن کے پاس بچت ہے وہ دوسروں ملکوں میں رکھتے ہیں یعنی وہ اس پر عامل ہیں کہ سارے  انڈےایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہیئے؟ اس کے لیے انہیں متعدد ملکوںا پنے گھر بار رکھنے پڑتے ہیں ۔ رہی فارن پالیسی وہ متوازن اس لیے نہیں ہوسکتی کہ انہیں جس کا پلڑا بھاری پڑجا ئے اس کی  بات ماننا پڑتی ہے؟ یہ بڑوں کی مجبوریاں ہیں۔ اب چھوٹوں کی مجبوریاں دیکھیے کہ ان میں سے پٹواری زندگی بھر تنخواہ ہی نہیں لیتے کیونکہ وہ “ رسائی  “میں جاتی ہے اور  یہ صرف پے بل پر دستخط کرنے کے گناہ گار ہوتے ہیں؟ جس میں سب کا حصہ ہوتا ہے ؟ اس پر بھی مطالبہ جاری رہتا ہے ۔ ڈو مور (Do more)؟اگر وہ قصائی نہ بنیں تو پھر کیا کریں؟ رہے تھانےدارانہیں تھانے نیلام میں خریدنے پڑتے ہیں؟ وہ رقم کہاں جاتی ہے سب کو پتہ ہے مگر بدنام یہ دوہی ہی محکمہ ہیں؟ جبکہ انہیں ہی کی نہیں ہر محکمہ کی یہ ہی حالت ہے؟ سفید پوشوں کا اب یہ حال ہے کہ ان کے سامنے دو رراستے ہیں ۔ یا تو رات کی تاریکی میں ڈکیتی کر یں یا پھر دن کے اجالے میں بھیس بدل کر بھیک مانگیں ۔ یہ سب کیوں ہے صرف اس لیے کہ ہم نسلی مسلمان ہیں اصلی مسلمان نہیں ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہوں،اسوہ حسنہ  (ص)پر چلتے ہو ں ؟ نتیجہ یہ ہے کہ جھوٹ پر ہمارا تکیہ ہے اور ہر وقت بجائے عقبیٰ کہ دنیا میں جان اٹکی رہتی ہے؟ جبکہ نہ ہم کسی پر اعتبار کرتے ہیں نہ کوئی ہم پر اعتبار کرتا ہے۔ کیونکہ وعدے سب  سےکرتے ہیں، مگر وفا کسی سے نہیں کرتے؟ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو من حیتیت ا لقوم ہمارے زوال کا باعث ہیں ۔

Posted in Articles, Uncategorized

آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی

آج ہم نے سوچا کہ آپ سے کچھ پرانی باتیں کریں اور آئینے میں اس طرح شکلیں دکھائیں کہ اس میں سب کو اپنی ،ا پنی تصویر یں نظر آئیں تا کہ خود کو کسی کو بھی پہچاننے میں پریشانی نہ ہو؟ پہلے تو آپ کااس آئیں ،بائیں ،شائیں سے تعارف کراتے ہیں ؟ یہ ایک محاورہ ہے جوکہ فیروز الغات میں بھی شامل ہے۔ اب آگے چل کراس کا پس منظر پیش کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے! ایک دور تھا کہ اس میں ہر ایک کا تکیہ کلام ہو ا کر تا تھا اور لوگ اپنی آسانی کے لیے اسی کو عرفیت بنا لیتے اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے وہی اصل نام کی جگہ لے لیتا تھا۔ ایسے ہی ایک صاحب تھے جن کا اصل نام کچھ اور تھا مگر پورے جگ میں “جناب “ کے نام سے جانے جاتے تھے وجہ وہی تھی کہ وہ ہر بات یہاں سے شروع کرتے تھے کہ “  توجناب  “بات یہ تھی کہ   لہذا لوگوں نے انکا نام ہی جناب رکھدیا تھا۔ اور وہ کچھ ایسا مشہور ہوا  کہ اگر ان کے اصل نام سے ان کے دروازے پر پہونچ کر کوئی صاحب ان کا نام لیکر پوچھتے کہ یہ فلاں صاحب کا دولت کدہ ہے ؟ تو گھر و الے لا علمی کا اظہار کر دیتے اور جانے والے کو کو نامرد واپس آنا پڑتا ، اس کے علاوہ ان کے دو تکیہ کلام اور بھی تھے ، ان میں سے ایک یہ ہی  جوکہ آج کاعنوان ہے “ آئیں بائیں شائیں “  یہ محارہ وہ جب بولتے جبکہ کوئی دوران ِ گفتگو جھوٹ کا سہا را لیتا اور یکے بعد دیگرے پینترے بد ل رہا ہو تا۔ تو وہ اس کی عزت فزا ئی  فرماتے کہ کیوں “ آئیں بائیں شائیں“ بک رہے ہو! کام کی بات کرو ؟ اور تیسرا تکیہ کلام وہ اس وقت بولا کرتے تھے۔ جب کوئی اشراف میں سے نہ ہوتے ہوئے نو دولتیہ اشرافیہ میں شامل ہو جائے۔ تو کہتے تھے کہ “ تو بکریوں کا چر واہا ، اونٹوں کے کان ٹٹولنے چلا ہے“ اب وہ وضع دار لوگ ہیں نہیں۔ اور نہ ہی ایسے لوگ آج کل پائے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہ ہو تو آپ ٹی وی پر جاکر ایک تجزیہ نگار کو سن سکتے ہیں جو ابھی تک اپنی وضعداری نبھا رہے ہیں؟ اور ہر بات “ حضور والا “ سے شروع کرتے ہیں۔
اب آیئے اصل بات کی طرف ! جہاں یوم ِ تاسیس ِ پاکستان بہت سوں کے لیے مشکلات لایا ،تو وہیں کچھ کے لیے نئے مواقع پیدا کر ئے کا باعث بھی ہوا۔ مشکلا ت ان کے تھیں لیے جنہیں جعل سازی نہیں آتی تھی! وہی گھاٹے میں رہے اور جو ہوشیار تھے،انہوں نے بغیر جھگیوں کے محل اور بھٹوں اور بھٹیوں کے بدلے کارخانے الاٹ کرالیے۔ ہم نے ایک وضع دار رئیس کو مٹفورڈ روڈ ڈھاکہ پرجوکہ اسوقت نواب پور روڈ کہلانی لگی تھی ( اب معلوم نہیں کیا کہلاتی ہوگی؟ کیونکہ ہوا بدلتی ہے تو وفاداریاں اور نام بدل جاتے ہیں)؟ شیر وانی چوڑی دار پیجامہ اور دوپلو ٹوپی زیبِ تن کیے اور سر پر فیرنی کی تشتر یاں سینی  میں سجائے فروخت کرتے دیکھا ؟ پھر ہم نے مغربی پاکستان پہونچ کر ایک بہت بڑے رئیس کو جیکب لا ئنز ایریا میں جھگی میں رہتے دیکھا۔ اس کے بعد سندھ میں ایک باپ کو دیکھا کہ جس نے اپنے شیر خوار بچے کے نام سے بہت بڑا کلیم کر رکھا تھا، کیونکہ اس کااپنا نام کسی نواب کے نام سے نہیں ملتا تھا، جبکہ بیٹا کسی نواب کا ہم نام تھا؟ اس نے بیٹے کے نام سے کلیم کرکے کافی زرعی حاصل کر لی اور خود اس کا منیجر بنا اور کاروبارِ زندگی ٹھاٹ سے چلانے لگا؟  بیٹا اپنے والد محترم کی اس کارستانی کے نتیجہ میں نواب بن گیا۔ چونکہ اس دور میں انٹر نیٹ آیا نہیں تھا لہذا یہ وکی لیکس اور پنا مہ لیکس جیسے واقعات معرض وجود میں آنے کا امکان ہی نہیں تھا۔ اس لیے بعد میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ آرام سے باپ منیجر بنے رہے اور بیٹے نے بعد میں نواب بن کر پوری دنیا کا اعتماد حاصل کر لیا۔ کام چلتا رہا ؟
اب وہ دور نہیں ہے ۔ اس لیے کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ ایک کم سن بچہ بغیر اپنی ولدیت استعمال کیے کیسے معتبر ہو سکتا ہے۔ دوسرے لوگ خوداپنے دفاع میں بیان بدلتے رہتے ہیں اس میں اور بھی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اگر لوگ تھوڑی احتیاط  برتیں اور پہلے میٹنگ منعقد کر کے باجماعت جھوٹ بولیں تو پھر تضاد پیدا نہیں ہوگا۔ مگر بعض لوگوں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ایک گھر میں نہیں رہتے ؟ بلکہ ایک ملک میں بھی نہیں ر ہتے کئی کئی ملکوں میں رہتے ہیں ؟ اس لیے پرانے خاندانوں کی طرح دن میں کئی بار ملنے کے بجائے سالوں نہیں ملتے۔ رہی یہ سہولت کہ فون پر بات کرلیں تو اس میں ٹیپ ہو جانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ مجبوراً وہ “ آئیں بائیں شائیں “ کرتے ہیں ۔ اور کوئی “ جناب“ مل جائیں تو الجھ جاتے ہیں اور جب کہ وہ بات کی جڑ تک پہونچ جاتا  ہےاور کہتا ہے کہ کیوں “ آئیں بائیں شائیں  “ بک رہے ہو؟ سیدھی بات کرو؟ اور کبھی کبھی ان کی ڈینگیں سن کر کہدیتا ہے کہ بکریوں کا چر وہا ، اونٹوں کے کان ٹٹولتا ہے ؟ مجھے کیا الو سمجھ رکھا کہ میں یقین کرلونگا؟
کسی بھی ملک میں سہی چاہیں ا س کا باپ اس ملک کے بادشاہ کا دوست ہی کیوں نہ ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ بغیر باپ کی ضمانت اور دستخطوں کے  نابالغ بیٹا اتنا معتبر ہوجائے کہ باپ کے دوست کارخانہ لگا نے کے لیے اسے اتنی بڑی رقم فراہم کر دیں؟ اور پھر وہ چند سالوں میں اتنا مال بھی بغیر ہیر پھیر کے کمالے کہ سب کے قرضے بھی واپس کر دے اور آف شور کمپنی بنا کر اربوں روپیہ کی جائیداد بھی بنالے؟ اور وہ بھی یورپ میں؟ یورپ والوں کے ویسی ہی سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ اس لیے کہ وہاں بچہ جب تک اٹھارہ یا اکیس سال کا نہ ہو جائے اس کے اپنے دستخط برائے بیعت ہوتے ہیں اور اس کے دستخط کے ساتھ ساتھ ماں یا باپ کو تصدیق کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر اسے ڈرائیونگ لائیسنس یا خود اپنی تعلیم کے لیے قرضہ ملتا ہے ؟
اگر جھوٹ بولنے سے پہلے متعلقین ایک خاندانی میٹینگ کسی طرح منعقد کر لیں تو با آسانی کامیابی سے جھوٹ بول سکتے ہیں ؟ اس صورت میں جھوٹ کے پکڑے جانے کی امکانات نہ ہونے کے برابر ہونگے۔ اس کو بھی ہم ایک مقدمے کی مثال دیکر بات کو آگے بڑھاتے ہیں ؟ یہ کوئی اسی نوے سال پہلے کی بات ہے کہ اسوقت کا ہندوستان لاکھوں بادشاہتوں میں بٹا ہوا تھا۔ کیونکہ انگریزوں کا دور تھاوہ حکومت درمیانہ لوگو ں کے ذریعہ ہی چلاتے تھے ۔براہ راست  حکومت کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ لہذا ہر جگہ نواب راجہ مہاراجے اور زمیندار اپنے اپنے علاقے میں حکمران ہو تے تھے۔ دو ہمسایہ زمینداروں میں تعلقات خراب تھے، ایک نے دوسرے  کےگاؤں میں وہاں کے کاشتاروں کو رات کی تاریکی بھگالے جانے کا منصوبہ بنا یا اس کوشش میں اس کے آدمی پکڑے گئے ۔ اس وقت زمیندار موجود نہیں تھا اس کا بیٹا نا تجربہ کار تھا،اس نے ان کے کندھے پر لوہیاہل رکھکر تھانے بھجوادیا کہ یہ ہل چرا کر لے جارہے تھے۔ جو ان کے خاندانی وکیل صاحب تھے انہوں نے مقدمہ لے تو لیا، مگر انہیں اپنی عزت بھی عزیز تھی ۔لہذا تاریخ لیکر کہلا بھیجا کہ اس میں جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں اگر آپ چاہیں تو کسی اور کو وکیل کر لیں ؟ دوسری طرف اگر زمیندار ہار جاتا تو ناک کٹ جاتی ؟ اس نے اس سے بڑا وکیل کر لیا کیونکہ اس زمانے میں وکیل کرنے کارواج تو تھا مگر “ جج “ کرنے کا رواج نہیں تھا۔ ا س نے زمیندار سے کہا کہ آپ تو موجود تھے  نہیں بہتر یہ ہے کہ میرے پاس اپنے صاحبزادے کو بھیجدیں؟ جب صاحبزادے ان کے پاس پہونچے تو انہوں نے کہا بیٹا سچ سچ مجھے بتا ؤ کہ واقعی یہ ہل چرانے آئے تھے ؟ اس نے جواب دیا نہیں! ۔ وکیل نے کہا کہ بیٹا یقین کرو تم ہی جیتو گے ؟ جبکہ جو پکڑے گئے  تھےانہوں نے بھی اپنے دفاع میں جھوٹ کاہی سہارا لیا ہوا تھا کہ انکا کہنا تھا وہا ں ہم “ مہاشے “ پوسا جاٹو “ کے یہاں پنچاہت تھی اس میں شرکت کرنے گئے تھے کہ زمیندار کے آدمیوں نے ہمیں پکڑ کر تھانے بھجوادیا۔ جب مقدمہ جراح کے مرحلہ پر پہونچا تو وکیل صاحب نے بند کمرہ میں سماعت کی درخواست کی جو مجسٹریٹ نے منظور کرلی کیونکہ وکیل بہت بڑا تھا اور کورٹ سیکنڈ کلاس مجسٹریٹ کی تھی، جبکہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں ہی جھوٹے تھے ۔ وکیل نے ایک ایک کو بلاکر جرا ح کی پہلے تو اس نے ایک سےپوچھا کہ تم پوسا کے گھر پنچایت کے لے گئے تھے، اس کے گھر کے سامنے  جوتالاب ہےا س کے کون سے کنا رے کی طرف سے گئے تھے؟ کسی نے داہنا بتا یا کسی نے با یا ں بتایا ۔ پھر پوچھا تم اس کے گھر کے آنگن میں نیم کا درخت  تھااس کے نیچے بیٹھے تھے یا اندر سائیبان میں ۔ کسی سے پوچھا کہ جو پا کر کا درخت تھا اس کے نیچے بیٹھے تھے؟ جب ان پر جراح مکمل ہو گئی تو وکیل صاحب نے تھانے دار سے جرح کی؟ انہوں نے ان سے سوال کیا کہ  کیاآپ نے موقعہ کا معائنہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہاں جی ہاں ! پھران سے پوچھا کہ پوساکے  گھر کےسامنے کیا کوئی تالاب ہے ؟انہوں نے کہا نہیں ۔ پھر انوں نے پو چھا کہ کیا اس کے آنگن میں کوئی در خت ہے تو انہوں نے بتا یا کہ نہیں ۔چونکہ اس زمانے میں عدالت میں جھوٹ بولنے پر سزا ہوجاتی تھی۔ کورٹ نے سزا سنادی ؟ اور وہ اپنے ہی جھوٹ کے ہاتھوں مارے گئے۔

Posted in Articles