اللہ اکبر!اللہ اکبر! اللہ اکبر! ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ اکبر!اللہ اکبر! اللہ اکبر! ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں اور اس تاریخی فیصلہ کا کریڈٹ مختلف اشخاص اپنے من پسند لوگوں کے نام کر رہے ہیں لیکن اس تاریخی فیصلے کے بعد سارے منکروں اور فرعونوں کویہ ماننا پڑیگا کہ کوئی پیش بندی کام نہیں آتی اور کوئی قلعہ بندی کاربند نہیں ہوتی، بس وہی ہوتا ہے جو ا للہ سبحانہ تعالیٰ چاہتاہے۔ اور وہ جب چاہے جس فرعون کو چاہے ڈبودیتا ہے۔ صرف موسیٰ بدلتے رہتے ہیں ،فرعون بدلتے رہتے ہیں؟اس موضوع پر ساری دنیا کے کان کھولنے کے لیے باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول مشعل راہ ہے کہ “ میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹ جانے سے پہچانا“وہ کون سی پیش بندی تھی جو جناب نواز شریف نے اپنے تیس سالہ حاکمانہ تجربے کی بنا پر نہیں کی، بس بادشاہ بننے کی دیرتھی باقی سب کچھ موجودتھا صرف تاج پوشی اور اعلان ہونا باقی تھا۔ کہ عدلیہ نے انتہائی تحمل اور سعی ِ محکم کرکے قسط وار سہی مگر وہ فیصلہ کردکھایا جو قوم کے سارے ایماندار لوگوں کی خواہش تھی۔
کبھی کوئی سوچ سکتا تھاکہ پاکستان میں جس منصوبہ بندی سے اپنوں اور اغیار نے جواسلامی قدریں تبدیل کیں اور اخلاق بگاڑنے کی ستر سال میں کوششیں کی تھیں اور مطمعن ہوگئے تھے کہ اب یہ قوم کبھی ہمارے خلاف کھڑی نہیں ہوگی اور اس میں کوئی نیک اب آدمی ڈھونڈے سے نہیں ملتا تھا!جو کوئی اچھا کام کرسکے ۔ لیکن وہ اللہ جس کے نام پر 27 رمضان المبارک کو یہ ملک بنا تھا اسے پھر رحم آگیا اور اس نے دوبارہ قوم کو ایک بار اور آزمانے کا فیصلہ کرلیا کہ چلو تمہیں ایک موقع اور دیتے ہیں، جیسے تمہیں پہلے دیا تھا اور تم سے پہلے والوں کو تباہ کرنے سے پہلے دیا تھا، جو ہم ہمیشہ قوموں کو عذاب سے پہلے دیتے ہیں کہ وہ سدھر جائیں کیونکہ ہم کسی کو عذاب دیکر خوش نہیں ہیں۔اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا پاکستان کی تاریخ میں جانا پڑیگا۔
پہلی دستور سازاسمبلی جو ترجیحات کی بنیاد پر بنی تھی کہ قوم کے سامنے اللہ سے کیا ہوا پہلا وعدہ پورا کرنا تھا کہ “ اب جو ملک ملے گا “اس ملک میں ہم تیرا نام بلند کریں گے اور تیرا نظام قائم کریں ۔ ورنہ دنیا میں ایک اور نام نہاد جمہوری مسلمان ملک کا اضافہ کرنا تھا توا سے پارلیمنٹ کا نام دیا جاتا۔ جس کے صدر خود قائد اعظم محمد علی جناح (رح) بنے ایک تو موت نے انہیں مہلت نہ دی شدید علیل ہوگئے، دوسرے کچھ ہی عرصہ بعد ان کو کاروبار ریاست سے دور رکھنے کے لیے نادیدہ قوتوں کے منصوبوں کے تحت ایک دور دراز پہاڑی جگہ “ تربت “ منتقل کر دیا گیا! جہاں سوائے ایک انگریزوں کے زمانے کے بنے ہوئے سرکاری بنگلے کے کچھ بھی نہ تھا ۔ پھر جب انکی حالت انتہائی غیر ہوگئی تو کراچی لایا گیا ،جبکہ ا ن کے استقبا ل کے لیے وزیر اعظم اور وزیر تو کیا، کوئی سرکاری افسر بھی موجود نہیں تھا۔ ان کی امبولینس کا ٹائر پھٹ گیا ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی بندوبست نہ ہو سکا؟ اس کے بعدپاکستان کے پہلے وزیرا عظم بھی نہ جی سکے اور ا للہ کو پیارے ہوگئے۔
قصہ مختصرآخر اس نکمی دستور ساز اسمبلی کو جو 1953 ءتک دستور بنانے میں ناکام رہی تھی جس کے بارے میں 51 ہر مکتبہ فکر کے علماءنے یہ کہہ کر اور دستوربنا کر پہلے وزیرآعظم کو دیدیا تھا کہ ہم ایسا دستور چاہتے ہیں۔ بمشکل تمام وہ مولانا شبیر احمد عنثمانی صاحب کی کوششوں اور دباؤ کی بنا پر “ قراردد مقصد “ کے طور پر اسمبلی سے پاس ہوگیا مگر دستور نہیں بن سکا ۔ آخر غلام محمد نے جو اسوقت گورنرجنرل تھے۔ اس کے حال پر ترس کھا کر اسمبلی کو برطرف کردیا۔سند ھ چیف کورٹ غلام محمد کے آڑے آئی وہ اپیل میں فیڈرل کورٹ چلے گئے وہاں جسٹس “منیر“ نے عدلیہ کے وقار کو نظر انداز کردیا اور نظریہ ضرورت کا سہارا لیکر فیصلہ انکے حق میں دیدیا؟ وہ سلسلہ ستر سال تک چلتا رہا! ستر سال کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اس قوم پر پھر رحم آگیا ۔ اسلام کی تاریخ میں“ ستر “ کا ہندسہ بڑی اہمیت کاحامل ہے ۔ جیسے کہ حضور (ص) کے ستر مرتبہ روازنہ استغفار کرنے والی حدیث سے ظاہر ہے، فلسطین کو بھی پہلی دفعہ تباہ کرنے کے ستر سال بعد  ہی دوبارہ آباد کیاگیا تھا وغیرہ وغیرہ؟ یہاں بھی وہی عدلیہ آزادی کے ستر سال کے بعد حرکت میں آئی، اسے ا س معاشرے میں جہاں اللہ سے ڈرنے والے بظاہر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے ہیں، ایسے جج فراہم کردیئے  گئےجو اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ ایسے جے آئی ٹی کے ارکین فراہم کر دیئے جو کسی دباؤ یا لالچ میں نہ آئیں؟کیا یہ اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ اللہ پھر مہربان ہو گیا ہے اور اس نے اس قوم کو ایک موقع اور دیدیا ہے کہ قوم شکر ادا کرے اوراپنا وعدہ پورا کرے اور ملک میں اس کانام بلند کرے؟ مگر وہ اس طرح جس طرح سے اس نے اپنا نام بلند اور شکر اداکرنے کاحکم دیاہے۔ ویسا نہیں جیسا کہ اس نے پاکستان کی تاسیس کے بعد کلچر کے نام پر سیکھا ہے ۔ورنہ یہ قوم بھی اس کی سنت کے مطابق جو کبھی تبدیل نہیں کرتا، دوبارہ عتاب کا شکار ہوجا ئے گی “ اور مغضوب “ قوموں کی تاریخ میں ایک اور اضافے کا باعث ہوگی؟ اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھے (آمین)

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

پاکستان کی سیاسی لغت میں غداری کے معنی ۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمیشہ سےمسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی لغت میں غداری کے معنی یہ ہیں کہ جو حکمرانوں پر انگلی اٹھائے وہ غدار اور جوگردن نیچی کرلے وہ وفادار ۔ اور بھی مختصر الفاظ میں بس یوں سمجھ لیں کہ  “ جوانکی تانا شاہی کو بے نقاب کرے وہ غدار“ حتیٰ کہ جو جمہوریت اور جمہور کی بات کرے وہ بھی غدار۔جبکہ دنیا میں غدار اسے کہتے ہیں جو ملک کے مفاد کے خلاف کوئی کام کرے، وہی صرف غدار کہلاتا ہے؟ اس کی سزا زیادہ تر ملکوں میں موت ہے۔ مگر پاکستان میں غداری کی عجیب عجیب قسمیں رائج ہیں مثلا ً “جو مودی کا یار ہے وہ غدار ہے“ایک مدت تک یہ بھی نعرہ گونجتا رہا کہ “جوامریکہ کا یار ہے وہ غدار ہے “جبکہ اس کے بغیر نہ کوئی وہاں آتا ہے نہ کوئی جاتا ہے۔ اس معاملہ میں یہ ملک اتنا بد قسمت ہے کہ ا یک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ اس کے فا ؤنڈر بھی غدار کہلائے، مثلا ً قرارداد پاکستان  1940 کے جو صاحب محرک تھےاور قوم نے انہیں“ شیر بنگال “کے خطاب سے بھی نوازا ہوا تھا“  وہ اس کے محرک تھےجس قرارداد میں صوبوں کی یونین بنانے کی بات تھی جس میں حدود بعد میں متعین ہونا تھیں نام بھی نہ تھاجس کو آجتک پاکستانی ہر سال مناتے  بھی ہیں ان کا نام تھا  مولوی اے کے  فضل الحق ۔ وہ نہ صرف پاکستان بننے کےبعد غدار کہلائے بلکہ انہیں جیل میں بھی ڈالدیا گیا جس پر محسن بھوپالی کو یہ کہنا پڑاکہ ع “ تلقین ِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج  راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے“ لیکن اللہ کا کر نا کچھ ایسا ہوا کہ وہی کچھ دن  کےبعد پاکستان کے وزیر داخلہ ہو کر تغلق ہاؤس کراچی میں سریرآرائے کرسی ہو گئے۔ اور ان کےساتھ یہ کھیل اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ اللہ کو پیارے نہیں ہوگئے۔ یہ ہی نوازشات ان پر بھی رہیں جن کانام حسین شہید سہروردی تھا۔جو 1946ءکی  “قرارداد پاکستان“ کے محرک تھے۔ وہ بنگال سے صوبائی وزیر اعظم تھے جس میں مسلم لیگ غالب اکثریت لے کر آئی تھی اور وہ ایک  اسپیشل ٹرین بھر کر غیر تقسیم شدہ  بنگال کے مسلم لیگی پارلیمانی پارٹی کے لیڈروں کو لیکر  دہلی آئے تھے، جس کا استقبال خود  دہلی کےاسٹیشن  پرجا کر قائد اعظم مرحوم نے کیا تھا۔ اور دہلی میں قیام  کےدوران آل انڈیا مسلم لیگ کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک بار پھر“ قرارداد پاکستان“ منظور ہوئی جس میں ملک کا نام بھی پاکستان لکھا گیا  تھااور اس کی حدود بھی۔ مگر وہ اس لیے “ قرارداد پاکستان“ کا درجہ نہ پاسکی کہ ملک کے اس وقت کے وزیر اعظم کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے “ مخالف“ کی پیش کردہ قرار داد کو قردادِ پاکستان کا درجہ دیا جائے۔
جس کا فائدہ بعد میں مجیب الرحمٰن  نےاٹھایا۔ یہ وہ واحد وزیرِ اعظم تھے جن کے پاس رہنے کو گھر پورے پاکستان میں نہ تھا اپنی بیٹی بیگم اختر سلیمان کے گھر میں رہتے تھے جو برٹش دور کے مشہور مسلمان جج جسٹس سر محمد سلیمان مرحوم کی بہوتھیں ۔ یہ ان کی حالت تھی جن کی کلکتہ میں واقع جائیداد اس وقت25 لاکھ روپیہ میں انڈین گورنمنٹ نے نیلام کردی تھی جبکہ بعد میں وہ ووٹوں کے ذریعہ پاکستان کے وزیرِا عظم بن گئے۔ لیکن جب انہوں نے “ زمینداری“ کے خاتمہ کی بات کی تو ان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا گیا؟ اُن پر ایبڈو لگایا گیا نا اہل  اور غدار قرار دیئے گے۔ جیل بھیجے گئے؟ یہ تو ان کا حال تھا جو قرارداد ِ پاکستان کے محرک اور قوم کے ہیرو تھے۔ ایک تیسری اہم شخصیت جنہوں نے تحریک پاکستان کو صوبہ سندھ میں اس قابل بنا یا کہ وہ وہاں صرف ایک سیٹ سے اکثریت لے سکے اور وقت آنے پر پاکستان میں شمولیت کے حق میں قرارداد پاس کر سکے ۔ وہ تھے جی ایم سید۔ جو کہ بعد میں غدار پائے کیونکہ وہ ایک درمیانہ درجہ کے زمیندار تھے۔ جب حالات بدلے اور پاکستان بنتا نظر آیا۔  تو سارے بڑےبڑے زمیندار راتوں راتوں مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ اورجی ایم سید کے صوبائی  پارلیمانی بورڈ کے دیئے ہوئے سارے ٹکٹ اپیل میں مرکزی پارلیمانی بورڈ نے منسوخ کرکے نئے آنے والوں کو دیدیے ۔  جب انہوں نےاس نا انصافی پر آواز اٹھائی تو ان کو مسلم لیگ سے نکا لدیا گیا غدار قرار دیدیا گیا۔ پھر جو بھی آیا انہیں اس نے جیل میں رکھا۔حتیٰ کہ وہ قید وبند کی زندگی سے آزاد ہو گئے۔ یہ تھا انکا حال جو مسلم لیگ کے “رمضانی“ قسم کے ہیرو تھے۔ جب پاکستان بنا تو صرف بنگال میں مسلم لیگ کوواضح اکثریت حاصل تھی وہ ایک آدھ کو چھوڑ کر رمضانیوں پر مشتمل تھی اس نے پہلی فرصت میں جیسے ہی اسے مو قعہ ملا  وہاں زمینداری ختم کردی جب کہ یہ ہی بات انہوں نے مغربی پاکستان کے لیے تجویز کی تو پھر کسی بنگالی کو مغربی پاکستان وزیر اعظم بنانے کو تیار نہ ہوا جب کہ وہ آبادی کے 54فیصد تھے۔ آزادی سے پہلے مغربی پاکستان کی صورت حال یہ تھی کہ  سندھ میں ایک ووٹ سے مسلم لیگ کی حکومت تھی ۔ بلوچستان صوبہ ہی نہ تھا۔ وہاں بلوچی گاندھی خان عبدالصمد مرحوم کا طوطی بول رہا تھا ااورحاکم ا یجنٹ ٹو دی گورنر جنرل تھا لاتعداد ریاستیں تھیں ، سوائے کوئٹہ میونسپلٹی کے کہیں بلوچستان میں کوئی منتخب حکومت نہ تھی۔ پنجاب جو بعد میں دوحصوں میں بٹا۔ تقسیم سے پہلے وہاں یونینسٹ عملی طور پر حکمراں تھے اور سر چھوٹو رام کی زیادہ تر حکومت رہی۔ پاکستان بنا تو وہاں دونوں طرف آگ لگ گئی اور پورا پنجاب خون کی ہولی کھیل رہا تھا اور بری طرح جل رہا تھا۔ جبکہ صوبہ سرحد میں سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کے برادرِ حقیقی ڈاکٹر خان کی صاحب کی نیم کانگریسی حکومت تھی۔ وہاں ریفرنڈم ہوا جب وہ ریفرنڈم  ہار گئے اور صوبہ سرحد پاکستان میں شامل ہو گیا۔ تو انہوں نے چاہا کے تعاون کریں مگر ان کی حکومت کو “غدار“ کہہ کر برطرف کردیا گیا پھر ان کی نظر بندیوں اور پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن انہں ڈاکٹر خان کو جب ویسٹ پاکستان میں تمام صوبوں اور ریاستوں کو توڑ کر ون یونٹ بنا یا گیا تو اس کا وزیر اعلیٰ بنادیاگیا۔ ان تمام چیزوں سے جو چیز ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھا کہ سہاگن وہی “ جسے پیا چاہے۔ورنہ غدار“ آج کل بھی تمام اپوزیشن کو غدار کہا جارہا ہے ۔ اور الزام یہ ہے کہ یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں کوئی ترقیاتی کام ہو؟ جس ملک “ چین “کی آج دھوم ہے وہ پاکستان سے صرف ایک سال بعد آزاد ہوا تھا وہ کہاں سے کہاں پہونچ گیا اور ہم کہاں ہیں۔ ہر حکومت مخالف کو غدار قرار دیکر؟ یہ قوم کی آنکھیں کھولنے  کے لیے بہت کافی ہے کہ“ کسی کی اصلی شخصیت وہ نہیں ہوتی جو عوام کو دکھائی جاتی ہے اور نہ دکھانے والے  کی اصل شکل وہ ہو تی ہے جوآپ کو دکھائی جاتی ہے ۔اس کا ادراک اس قوم کو کب ہو گا خدا ہی جانے!  عدالت نے بھی اپنافیصلہ پھر محفوظ کرلیا ہے؟ جبکہ حکمراں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ کچھ ہوا تو ہم عوامی عدالت میں فیصلے کے لیے چلے جائیں گے؟ عوام کس کی جھولی میں آئندہ الیکش میں ووٹ ڈالیں گے وہ عوام جانیں؟  کیا ان ہی کی ؟جو2013 کے انتخابات کے موقع پر خود چیخ ، چیخ کر کہہ رہے تھے کہ خدا کے واسطے ہمیں اس قانون سے بچاؤ  جس میں امیدوار کا “ صادق ا ورا مین“  ہونا شرط ہے؟اگر یہ لاگو رہا تو صرف “مولوی“  ہی الیکشن لڑسکیں گے کیونکہ ہم نہ صادق ہیں نہ امین ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں اور نہ ہی بنیں گے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اب وہاں نہ کوئی شرماتا ہے نہ استعفیٰ دیتا ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستاں کے صدر ِ محترم بڑے بھولے بھالے آدمی ہیں، مگر ہیں روشن ضمیر؟ یہ ضمیر بھی عجیب چیز ہے کہ نمک کی کان کی طرح جو اس میں گر جائے وہی بن جاتا ہے۔ اسے نفس سے بھی تشبیہ دیتے ہیں! اگر نفس کے ساتھ “امارہ“ لگادیں تو انسان ساری برائیوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے؟ اگر میانہ روی اختیار کرے تو یہ انسان کی غلطیوں پر اسے ملامت کرتا رہتا ہے لہذا “نفسِ لوامہ“ کہلاتا ہے اور اس کی ملامت پر انسان کان دھرے تو وہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے۔ تو وہی “نفسِ مطمعنہ“ کہلاتا ہے۔ اور اس کا ضمیرروشن ہوجاتاہے۔ ہم یہا ں جو واقعہ سنانے جا رہے ہیں وہ اس آخری قسم پر دلالت کرتا ہے ۔ یہ اس کی دین ہے کہ جسے چاہے ہدایت دے کہ انہوں نے آج سے ڈیرھ سال پہلے یہ فرمایا کہ“ یہ پناما نہ جانے کس کس کے پردے چاک کریگا“ اور اب جاکر وہ بات سو فیصد نہ سہی تو کچھ فیصد تو ضرور سچ ثابت ہو گئی اور اس طرح ان کی روشن ضمیری بھی مسلمہ ہو گئی ۔اکثر لوگوں نے اس وقت اس کے حوالے دیئے کہ صدرِ محترم نے یہ کیافرما دیا اور اس کا ضمیر صرف ونحو کے حساب سے کس کی طرف تھا؟ مگر اب وہ معمہ ، معمہ نہیں رہا۔ آج ہر ایک جان رہا ہے۔ مگر جاننے کے باوجود بھی اس کا ضمیر جن کی طرف ہے وہ اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
ہم نے پا کستان کے ا بتدائی دور1956 ءمیں ایک وزیر اعظم کو خود سے جا تے ہوئے دیکھا جن کا نام چودھری محمد علی مرحوم تھا ۔اسوقت دار الحکومت کراچی میں ہواکرتا تھا اور انہوں نے دوکام ایسے کیے تھے کہ ان پر قوم کو ناز کرنا چاہیئے تھا۔ پہلا تو یہ تھا کہ انہوں نے 1956 میں قوم کو اسلامی آئین بناکر دیدیا ،جو ان سے پہلے دستور ساز اسمبلی بناتے بناتے جب بوڑھی ہوگئی تو اس وقت کے گورنر جنرل نے جوخود بھی اپاہج تھے اسے فارغ کردیا ۔ دوسرا یہ تھا کہ غیر تسلیم شدہ علاقے کے مہاجروں کی ہمدردی میں دبلے تو سب ہوئے اور زبانی جمع خرچ سے لوگ ان میں ہر دل عزیز بھی بہت ہو گئے، لیکن سب نے اپنا الو سیدھا کیا اور کرتے رہے مگر کسی نے ان کے لیے کچھ کر کے نہیں دیا انہوں نے “ نا ن اگریڈ ایریا ریہیبلیٹیشن اینڈ کم پنسیشن ایکٹ 1956 بنا کر دیدیا کہ لو اب تم بھی کلیم کرسکتے ہو؟ ان کے پاس پاکستانی روایات کے مطابق وزارت عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت بھی  ہونا چاہیئے تھی ان کی ا س پر سردار عبد الرب نشتر مرحوم سے ٹھن گئی۔
اُنہیں مہاجروں نے ان کے بنگلے پر جاکر نشتر صاحب کے حق میں احتجاج کیا تو انہوں نے احاطے کی دیوار کے ساتھ کرسی پرکھڑے ہوکر باہر جھانک کر دیکھا اور اپنے خلاف احتجاج کرتے ہو ئے وہی لوگ نظر آئے جن کے لیے انہوں نے یہ ایکٹ بنایا تھا۔ تو انہوں نے انہیں خطاب بھی کیا، شاید انہوں نے یہ ہی کہا ہو گا کہ“ اچھا تم بھی“۔ اور وہیں کھڑے کھڑے استعفیٰ کا اعلان کر اور اپنا بریف کیس لیکر کوٹھی سے باہرچلے گیئے کہ چلو! میں نے اپنے کیے کا بدلہ پالیا۔
اس کے بعد پھر کوئی وزیرا عظم خود سے نہیں گیا جب تک کہ اس کو ڈولی ڈنڈا نہ کیا گیا ۔ البتہ اس کے بعد ایک صدر کو جا تے دیکھا جو اس واقعہ سے متاثر ہوکراحتیاط ًدار الحکومت ہی کراچی سے اسلام بعد لے گئے تھے کہ وہ مہاجروں کی پہونچ سے باہر ہو جائیں؟ ان کے خلاف پہیہ جام تحریک کراچی سے ہی شروع ہوئی وہ ڈٹے رہے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے ہی پوتے کو کھیل کھیل میں دادا حضور کا نام بڑی عزت سے لیتے دیکھا کہ ۔۔۔ کتا ہائے ہائے؟ تو وہ استعفیٰ دے کر چلے گئے ۔ کہ میں ایسی قوم کی قیادت نہیں کرتا؟ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی “ کہ اس زمانے کے لوگ حیاءوالے تھے “ ہر چھوٹی سی بات کا اثر دل پر لے جاتے تھے۔ اب ہر بات ان کے کان پر سے گزر جاتی ہے۔ اورا ن کے حواری کہتے رہتے ہیں کہ سب جھوٹ ہے۔ ہمیں اس پر ظریف جبلپوری مرحوم کا ایک قطع یاد آگیا جو انہوں نے غندہ ایکٹ پر 1948 ءمیں کہاتھا۔ہوا یہ کہ بس اسٹینڈ پر صبح ،صبح انتظار میں لڑکے بھی کھڑے ہوتے اور لڑکیاں بھی کھڑی ہوتیں تھیں اپنی اپنی درسگاہوں جانے کےلیے، مگر لڑکیا ں برقعہ اوڑھے ہوئے کیونکہ اسوقت تک شرفا کی اکثریت جوکہ سفید پوشوں پر مشتمل تھی برقعہ استعمال کرتی تھی۔ رہے خواص اور عوام وہ نہ پہلے پردہ کرتے تھے نہ بعد میں۔ اپوا بن تو گئی تھی مگر نو زائیدہ تھی ابھی تک خواتین میں پوری طرح بیداری نہیں پیدا کرسکی تھی ہنوز کوششیں جاری تھیں اگر پردہ حائل نہ ہوتا تو وہ آج کی طرح اپنے نوک دار سینڈل سے خود ہی نبٹ لیتیں؟ ماضی کی مس پنڈت شیلا پنتھ المعروف بہ “ رعنا“ لیاقت علی خان اس وقت کے وزیر اعظم کی بیگم اور “ا پوا “کی صدر تھیں ۔لڑکوں نے بس اسٹاپ کھڑے ہوکر لڑکیوں پر آوازیں کسنا شرع کردیں، تب ان کی سر کوبی کے لیئے پاکستان کی پہلی حکومت حرکت میں آئی اور غندہ ایکٹ نافذ ہوا۔اس وقت ظریف جبلپوری مرحوم نے قوم کو یہ قطع عطافرمایا جو بہت مشہور ہوا۔ع
چچی لیلیٰ کی گر خفا ہو جاتی
ساری وحشت قیس کی ہوا ہوجاتی
اس زمانے کے لوگ تھے حیا والے
بیٹا اس دور میں ہوتے توسزا ہو جاتی
اب نہ کوئی شرماتا ہے نہ استعفٰی دیتا ہے۔ ورنہ یہ صورت ِ حال نہ ہوتی کہ جی آئی ٹی کی رپورٹ کے خیر سے دس والیوم میں سے نوکو عوام کے ملاحظہ کے لیے عدالت نے عام کردیا ہے۔ مگر متعلقہ لوگ بجائے شرمانے کہ کہہ رہے ہیں کہ سب جھوٹ ہے اور ان کے حواری ان کے ساتھ ان سے بھی بلند آواز میں گارہے ہیں کہ سب جھوٹ ہے سب جھوٹ ہے ۔جبکہ عدالت جو کھال میں سے بال تک نکا ل لیتی ہے۔ وہ ابھی مہربہ لب ہے جب فیصلہ دے گی تو پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کر وٹ بیٹھ رہاہے۔آپ بھی انتظار کیجئے ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ کہ دیکھئے کن کن پردہ نشینوں کے مزید اسم ہائے گرامی آتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آگے چل کر عدلیہ حکمرانو ں کا یہ مطالبہ بھی مان لے گی کہ احتساب ہو تو سب کا ہو کیونکہ انصاف کا تقاضہ بھی یہ ہی ہے۔ اگر ایسا ہوگیا توپاکستان واقعی پاک ہوجائے گا۔ اور اٹھارا کروڑ عوام قیامت تک پاک کرنے والوں کو یاد رکھیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو(آمین)

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

حادثہِ احمد پور شرقیہ۔ کاذمہ دارکون؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی

مکرم اخلاق حضرت محمدمصطفیٰ (ص) کے نام لیوا جوکبھی بہت ہی بلند اخلاق تھے اب ا تنے پست کیوں ہوگئے ہیں کہ کہیں سے بھی سوائے بری خبروں کے کوئی اچھی خبر نہیں آتی ۔ پاکستان کو دیکھئے تقریباً دوسال سے زیادہ عرصہ گزرگیا صبح کو ٹی وی کھو لیئے تو پانامہ ،اخبار کھولیئے تو پناما کسی محفل میں جائیے تو پناما زیر بحث ملیگا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام دوسرے مسائل دب کر رہ گئے ہیں۔ اگر حکمراں اپنی تمام رقم ایڈورٹائز پر خرچ کردیتے تو بھی اتنی شہرت نہ ملتی جتنی کہ انہیں مفت میں اس طرح مل گئی۔ قوم کا کتنا پیسہ ، وقت اوراعلیٰ عدالتوں کا کتنا وقت اس پر خرچ ہو ا ہوگا ، خود ہی قیاس فرمالیں۔ حاصل کیا ہو گا ۔۔۔۔ کچھ کہنا قبل از وقت ہے جوکہہ رہے ہیں ان کی مرضی  کہ انہیں کچھ  توکہنا ہے۔ پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد بہت زیادہ تھی اب اور بھی اضافہ ہو گیاہو گا۔ قومی مسائل اور دوسری فائلیں گرد میں اٹی ہوئی کہیں پڑی سڑرہی ہونگی ان کی کسی کو یاد دلانے کی فرصت ہی کہاں ہے؟ ۔
ہم سوچ رہے تھے حادثہ ِاحمد پور شرقیہ کے بارے میں کوئی اور ضرور کچھ لکھے گا  مگر کل ہم نے پاکستان کے وزیرِ تیل وگیس کو اس پراٹک کر اٹک بات کرتے دیکھا تو یہ معاملہ، جس میں اب تک دوسو چوبیس جانیں ضائع ہو چکی ہیں یادآ گیا۔ شاید وجہ یہ ہی ہے کہ آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ کسی کو انسانی جانیں جانے پر کوئی ملال نہیں ہے۔ عوام اور حکمران دونوں نے ہی بڑھتی ہوئی آبادی کا حل یہ ہی سوچا ہو اہے کہ مرنے دواللہ اور دیگا؟ ورنہ قومیں تو اپنے ایک ایک فرد پرجان دیتی ہیں۔ مگر وہاں ابھی تک تلاش ہورہی ہے کہ ا س حادثہ کا ذمہ دار تھا کون؟ مجھے یقین ہے کہ  وہ ہمیشہ کی طرح آخر میں کوئی چھوٹا سا پولس کا عہدیدار نکلے گا۔ جبکہ میرے خیال میں اس کے لیے پورا معاشرہ ذمہ دار ہے۔ اس لیے کہ  حادثہ کی وجہ جہالت ہےاور ذمہ دارغربت ہے۔ وہ لوگ ہیں جو پیسہ یہاں سے کما کر ملک سےباہر لے جاتے ہیں اور مقامی باشندوں کو نان شبینہ کے لیے ترستا چھوڑ جا تے ہیں ۔ اسلام جس نے قرآن میں متعدد جگہ ارتکاز دولت کی مذمت کی ہے ۔ اس کے برعکس اتنا ہی اس کے پیرو من حثیت القوم اس مرض میں مبتلا ہیں۔ آپ تمام اسلامی دنیا کا جائزہ لے لیں یہ ہی صورتحال ملے گی۔  ایٹمک طاقت کے حامل ملک پاکستان میں چلے جائیں !آپ کو بہت سے بچے جن کی عمریں اسکول جانے کی ہیں وہ کچرے کے ڈھیروں پر کھانے کی بوسیدہ چیزیں تلاش کر تے ہوئے ملیں گے، مافیا کے لیے بھیک مانگتے نظرآئیں گے۔ کیونکہ پرائیوٹ ااسکولوں میں تعلیم بہت مہنگی ہے ،جبکہ سرکاری تعلیمی ادارے نام کو ہیں جس میں پڑھائی کم اور چوری زیادہ ہے۔ وہاں بھی سیاست چلتی ہے اثر و رسوخ چلتے ہیں اس کے تحت جولوگ آتے ہیں وہ پڑھانے اسکول جا تے ہی نہیں، صرف تنخواہ لینے جاتے ہیں۔ جو بھی نئے اسکول کھلتے ہیں وہ کچھ دنوں کے بعد وڈیروں کے اوطاق بن جاتے ہیں مگر شرماتاکوئی نہیں ہے۔ جبکہ تعریفوں کے ڈونگرے لیڈروںکے مداحین برساتے رہتے ہیں ۔ان کے فعلوں کو حضرت فاروق اعظم (رض) سے مثال دیتے ہیں جو کہ اپنے دور خلافت میں فرماتے تھے۔ کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرجائے تو عمر (رض) ذمہ دار ہے۔وہ محلوں میں نہیں رہتے تھے جہاں عوام تو کیا خواص کی رسائی بھی ناممکن ہے ۔ ان کاحال یہ تھا کہ جہاں نیند آگئی کسی درخت کے سایہ میں “  پناکوڑا“ سر کے نیچے رکھا اور سو گئے۔ وہ قحط میں شہد کھانا بند کر دیتے تھے کہ عوام کو کھانے کو نہں مل رہا ہے۔ان کی حفاظت کے لیے لاکھو کی تعداد میں مختلف قسم کی سکوریٹی کے اندر سکورٹی ایجینسیز کا نظام نہیں تھا۔ ان کے لیئے ٹریفک بند نہیں ہو تا تھا ۔ ان میں بر داشت اتنی تھی کہ ایک عام خاتون حضرت خولہ (رض) بنتِ ثعلبہ ان کے ساتھیوں کے سامنے ٹوک دیتی تھیں کہ اے عمر (رض)! اللہ سے ڈرو؟ تم جو کچھ بھی آج ہو اسلام کی وجہ سے ہو۔ ورنہ تم کو میں نے تمہارے بچپن میں دیکھا تھا کہ تم عکاظ کے بازار میں بکریاں چرایاکرتے تھے۔ وہ ہاتھ باندھے اور سر جھکائے غور سے انکی باتیں سن رہے ہیں۔ تھوڑی بہت دیر نہیں کافی دیر تک ۔ جب وہ خاموش ہو کر چلی گئیں تو اپنے ساتھیوں کے پاس واپس تشریف لائے ، ساتھیوں نے کہا کہ اے امیر المونین (رض)! آپ نے ایک خاتون کے لیےاتنا وقت خرچ کردیا  جبکہ وہ آپ کو ناحق ڈانتی رہیں اور آپ خاموشی سے سنتے رہے؟فرمایا کہ اگر وہ اسی حالت میں پورا دن اور رات بھی گزاردیتیں تو میں سوائے نمازوں کے اوقات کے اسی طرح سنتا رہتا،جانتے ہو یہ کون تھیں؟ یہ وہ خاتون تھیں جن کی فریاد آسمان پر سنی گئی ۔ اور ظہار کے مسئلہ پر سورہ مجادلہ نازل ہوئی۔ سب ساتھی خاموش ہوگئے ؟  وہ بیت المال  کوبیت المال سمجھتے انہوں نے اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانے سے منع کردیا کہ میرے خاندان میں عمر (رض) ہی بہت ہے اس بارگراں کو قیامت میں  اپنے کندھوں پر اٹھانے  کے لیے۔ انہوں نے اپنے آخری وقت جوکچھ اپنے گزارے کے لیئے بیت المال سے لیا پائی پائی کا حساب کرکے رقم واپس کردی تھی؟ آج کے دور میں کوئی ایسا کہیں پایا جاتا ہے جسے ان (رض) سے مثال دی جائے؟ جواب مثال دینے والوں پر چھوڑتا ہوں؟ کہ شایدانکے علم ہو اور مجھے بتاکر میری معلومات میں اضافہ کریں۔
رہاذمہ داری کاسوال اگر وہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم عام ہو تی تو کھلے برتنوں میں پٹرول بھرنے والے (وہ جس نیت سے بھی بھر رہے تھے کہ نیتوں کے حال توصرف اللہ ہی جانتا ہے ! ممکن ہے  کہ پھٹے ٹینک میں واپس ڈالنے کے لیے جمع کر رہے ہوں) مگر وہ یہ ضرور جانتے ہو تے کہ کھلے برتنوں میں پٹرول بھر رہے ہیں اگر کسی تماشہ بین یا راہ گیر نے سگریٹ جلتی ہو ئی زمین پر پھینک دی تو آگ لگ جا ئیگی۔ تب یہ حادثہ کبھی رونما نہ ہوتا کیونکہ وہ اس کے قریب ہی نہ جا تے؟ کیا بجا ئے تعلیم کے اس کے بدلے میں ا نہیں رقم ِ کثیر دینے سے ان کے یتیم بچے، باپ والے اوران کی بیوہ مائیں سہاگن ہو سکیں گے۔ کاش اس ملک میں فعال قسم کے اسکول ہوتے جن کے ذریعہ ان میں بیداری پیدا کی گئی ہوتی کہ حادثات سے کیسے نبٹا جا تا ہے؟  ان کےپیٹ بھرے ہوئے ہو تے تاکہ بھوک کی وجہ سے ان میں لالچ نہ ہوتی، تو وہ اپنی جانوں کو جان کر ہلاکت میں نہ ڈالتے؟ اس سلسلہ میں حکومت ہنگامی حالت کے لیے کتنی مستعد تھی  وہ  اس سےظاہر ہے کہ بقول متعلقہ وزیر کے پانچ بجے واقعہ پیش آیا اور ڈھائی گھنٹے کے بعد  آگ لگی۔اب تحقیق طلب بات یہ ہے کہ کیا ڈرائیوریا ٹریفک پولس نے کسی ذمہ دار کو اطلا ع دی اور اس پر ایکشن کیا ہوا یا سب سوتے  ہی رہے اورسڑک پر تیل کاسمند ر بہتا رہا؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ ۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی

یہ محاورہ ہم سےعمر میں بڑا ہے کیونکہ ہم اسے بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ ایسا بھی ہوتاہے۔ مگر پہلے کبھی دیکھا نہیں۔ ممکن ہے کہ آپ میں سے کسی نے کسی کو ایسا کرتے دیکھا ہو، اگر کسی بھائی نے دیکھا ہو توہمیں بھی مطلع فرما دیں تاکہ ہم ا پنا ریکارڈ درست کرلیں۔ لیکن کہ اس میں سے موجودہ دور کو نکال دیں کیونکہ اس دور میں تو یہ اب عام  ہے۔  سب نے دیکھا کہ مالِ حرام سے پچھلے مہینے روزے کھلوائے گئے ،عمرے کرا ئے گئے۔ “نہ کھانے والے ٹھٹکے نہ جانے والے ٹھٹکے“ اگر کوئی صاحب اپنی گاڑھے پسینے کی کمائی سے یہ کام کرواتے تو ہم مان جاتے اور انہیں ذاتی طور پر مبارک باد دینے ان کی خدمت  میں حاضر ہوتے؟گوکہ درباروں میں حاضری ہمارا شیوہ ہی نہیں ہے اور یہ “ جوئے شیر“ لانے سے کم بھی نہیں ہے کہ وہاں عوام تو عوام وزراء تک کی رسائی نہں ہے۔ دوسرے “جوئے شیر“ خالص دودھ کی ہوتی ہے اور وہاں خالص دو ھ کاحصول ہی عام آدمی کے لیے ناممکن ہے ۔ ممکن ہے کہ “ جاتی امراہ“ کے باشندوں نے اپنی ہاں بھینس پال رکھی ہو ں ؟ان کو اور نعمتوں کی طرح خالص دودھ بھی میسر ہو۔ رمضان میں تو عمرہ کرانے کی بہت سی ورداتیں ہوئیں جوکہ حلال کے مال سے نہیں تھے۔ اگر کسی نے اپنی جیب کرایا ہو تو ہمیں علم نہیں کہ حکم یہ ہے کہ اس ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو “ ورنہ محنت ا ور دولت ا کارت جا ئے گی۔“کیونکہ حدیث یہ کہ “ جو کام دکھاوے یا کسی اور مقصد کے لیے کیا جا ئے وہ ریاکاری میں آتا ہے چاہیں شہادت ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ وہ بیکار چلا جا تا کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے نہیں ہوتا؟
خدا کا شکر ہے کہ پوری قوم جب سجدے میں گر گئی تواللہ سبحانہ تعالیٰ نے نمعلوم کس برزگ  یا بچےکی دعا قبول کرلی کہ “مدت کے بعد کرکٹ ٹیم ایک میچ جیت گئی“ جبکہ ہم نے تو یہ حدیث بھی پڑھ رکھی ہے کہ “ جب تم من حیثیت القوم برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دوگے اور برائی پر لوگوں کو ٹوکنا بھی چھوڑ دوگے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کوتمہارے اوپر حاکم مقرر کر دے گا،پھر تم دعائیں مانگو گے لیکن قبول نہیں ہونگی “ اس قبولیت سے جو بات ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ ابھی کچھ لوگ وہاں باقی ہیں جو برائی کو برائی سمجھتے اورکہتے ہیں؟  یہ اور بات ہے کہ وہ کہتے اور ٹوکتے نہ ہو ں، صرف دل سے برا مانتے ہوں جو کہ سب سے نچلے درجہ کی نیکی ہے۔ اللہ کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے ۔یا عمرے پر بھجوانے والے جانتے ہو نگے کہ کس، کس نے قومی بجٹ میں کہاں کہاں عمرہ کروانے کے لیے پہلے سے اپنی روشن ضمیری کی بنا پر اس مد میں رقم مخصوص کر رکھی تھی۔ اگر وہ کسی اور مد سے دی تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیانت کہ زمر ہ میں آتا ہے ۔ چلیں رمضان لمبارک تو گیا، اب ایک سال کے بعد پھرآئے گا اس دوران قوم کتنی ترقی کرتی ہے کون جا نے؟ اور ہم جیسے آوٹ آف ڈیٹ لوگ جانے دیکھنے کے لیے اسوقت تک زندہ بھی رہیں یانہ رہیں۔
مگر ہم نے کچھ دنوں پہلے رمضان کے بعد ایک کھیل ٹی وی پر دیکھا کہ ایک لمحہ پہلے ٹریفک سارجینٹ سفید وردی میں ملبوس ایک کار کوکسی بنا پر رکنے کا اشارہ کر بھی نہیں پایا تھا کہ اس کے بجا ئے اس کی کھوپڑی سڑک پر گیند طرح لڑکتی نظر آئی، مگر کار رکی نہیں۔ اسے کون چلا رہا تھا اس کا پتہ نہیں۔ لیکن کار کس کی تھی وہ سب کو معلوم ہے۔کہ وہ ایک شاہ کے مصاحب اور دوسرے وہاں کے گورنر صاحب کے قبیلہ کارکن تھی۔جبکہ وہ خود بھی خیرسے صوبائی اسمبلی کا رکن تھا۔ یہ اس کارمالک کے ساتھ انتہائی بے انصافی ہے کہ خطا اس کی کار کرے اورمالک کو گرفتار کرکے اسی صوبے کی پولس کے سپرد کردیا جا ئے تاکہ گھر جیسی سہولت اسے میسر رہے؟ لیکن اس سلسلہ میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر نے جو چابکد ستی دکھائی وہ ایک کہانی عام کر رہی کہ گاڑی  “ڈرائیور “ نہیں کوئی اور چلا رہا تھا ورنہ وہ پکڑا وادیا جاتااور بات ختم ہو جاتی۔ یہ کوئی اور ہی تھا جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بہ نفس نفیس سارجنٹ کے گھر جا کر اس کے “ورثا“ کی اشک شوئی کر نا پڑی اور جیب ِ خاص سے اسے ایک رقم ِ کثیر  بھی بطور عیدی دینا پڑی، پھر ایک معاہدہ وجود میں لا یا گیا ۔ جس میں دونوں میں طے پایا کہ مرحوم کو شہادت کا درجہ حکومت عطا کرے گی ؟ (جبکہ اس سے پہلے ہم اس سے واقف نہیں تھے کہ شہادت کا درجہ حکومت بھی عطا کرتی ہے؟) بیٹے کو نوکری دی جا ئے گی، رہنے کے لیے سول لا ئن میں اسے مکان بھی دیا جا ئے گا، وغیرہ وغیرہ ۔ا س کے بدلے میں مرحوم کا خاندان مقدمہ میں ظالم کی مدد کریگا۔ اللہ مرحوم ضیاالحق کو قبر میں کروٹ ، کروٹ جنت نصیب فرمائے کہ وہ ادھورا اسلامی نظام نافذ کرگئے ۔ جس سے ظالموں کے لیئے یہ گنجائش نکل آئی کہ مقتول کے ورثا کو“ دیت“ دیکر ظالم خود کو معاف کر وا سکتے ہیں۔ جس میں صرف اپنے ہی نہیں امریکن ملزم بھی با عزت رہا ہو کر چلے گئے۔ پھر اس معاملہ کو میڈیا نے حسب عادت اچھالا تو ہم نے تردید دیکھی جوکہ اس کے بیٹے کی طرف سے آئی تھی کہ انہوں نے سادھے کاغذ پر زبردستی انگھوٹھا لگوالیا ہے، ہم نے کوئی تصفیہ وغیرہ نہیں کیا ہے ۔  “میں اپنے باپ کے خون کا بدلہ لونگا“۔ جبکہ تعزیزیرات پاکستان میں  دفعہ 406الف کے تحت تھوڑی سی سزا ہوسکتی ہے۔ مگر اس میں سزائے موت جبھی دی جاسکتی ہے جبکہ ثابت ہو جا ئے کہ قتل عمد تھا  اور دفعہ 302  لگائی جائے۔ چونکہ عدالت نے اس مقدمہ کا ازخود خود نوٹس لےلیا ہے لہذا ہم اپنا قلم روک لیتے ہیں اس لیے کہ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں یہ ہی رواج ہے۔ جبکہ وطن ِ عزیز کا رواج کیا ہے اور سرکاری حلقے کیاکر رہے ہیں، وہ ایک دوسر ے مقدمہ میں آپ وی ٹی وی ٹاک شو اور اخباروں میں ملا حظہ فرمالیں ۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

پاکستان میں قیدیوں کی عید کیسی ہوگی؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

گزشتہ کالم میں ہم اپنے خیال میں عید کے معاملات نبٹاچکے تھے۔  لیکن بعد  میں ہم کو یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ  اس مرتبہ بیچارے قیدیوں کی عید کیسے ہوگی۔حالانکہ آپ جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ ویسی ہی ہو گی جیسے کہ ہمیشہ ہوتی تھی؟ مگر اس مرتبہ آپکا یہ جواب تشفی بخش نہیں ہے۔کیونکہ اس عید سے پہلے تک ہر عید اس ا صول پر گزرتی تھی کہ“ جتناگڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا“اس لیئے کہ گزشتہ عید تک “جیل مینوئیل“ یہ تھا کہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ یعنی وہاں پر ہر سہولت پیسہ سے مل جاتی تھی۔ حتیٰ  کہ عید منانے کے لیے گھر بھی جا سکتے تھے ۔ جو اتنا نہیں خرچ کر سکتے تھے۔ وہ فون یا کمپیوٹر پر گھر والوں کی شکلیں دیکھ سکتے تھے، با تیں کر سکتے تھے مگر اس مرتبہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جیسے کہ اسلام لانے کے بعد تمام لوگ نیک  ہو گئے تھے اور جھوٹ بولنا اور کم تولنابند کردیا تھا ، نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں بدلا ہوادیکھ کر لوگ جوق درجوق مسلمان ہونےگئے؟ یہاں ایسا جب ہی ہو سکتا تھا کہ مسلمان اجتماعی توبہ کر کے رمضان سے فائدہ اٹھاتے۔ ہمارے راہنما ان کی قیادت کرتے اور ہمیں بدلا دیکھ کر دنیا اسلام لے آتی۔ لیکن ہم پورے رمضان چور بازاری کرتے رہے اور وہ سب کچھ کرتے رہے جو ہم پہلے سے کرتے آرہے تھے۔ اسی مال میں سے زکات اور خیرات بھی ادا کردی افطار بھی کرا دیے، جب کہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ “ وہ جسم جنت میں نہیں جائے گاجو حرام مال سے پلا ہو “ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جنہو ں نے ان جانے میں سفید دسترخوانوں پر بیٹھ کر یا میزوں پر کھڑے ہو کر افطاری کی انکا کیا قصور ہے؟ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ابھی تک تین سالہ کورس کرکے  ہم مفتی نہیں بنے جو کہ آجکل سعودی عرب سے لیکر ہندوستان اور پاکستان کے تمام مدرسوں جاری ہے۔ پہلے  یہ اختیار کسی عالم کو دستار ِ فضیلت بندھنے کے تیس چالیس سال کے بعد ہم عصر علماء اس کی صلاحیت دیکھ کر کسی  ایسے عالم کو پورے شہر یا ادارے کے لیئے“ مفتی“ مقرر کر دیدیتے کہ “ تم اب فتویٰ دے دیا کرو؟ ہم نے اس وقت کے مفتی بھی دیکھے کہ جن کے فتوؤں کی دھوم ہو تی۔ اب پنتیس سال کے مفتی بھی دیکھے۔ ہوا یہ کہ ایک نیا فقہ پیدا ہوا اسے پھیلانے کی لیے مفتیوں کی ضرورت محسوس ہوئی؟ اس کمی کو دور کرنے کے لیے انہوں نے تھوک کے حساب سے مفتی تیار کرلیے۔ا ن ہی میں سے درمیانی عمر کےا یک مفتی صاحب کو ٹی وی پر اس سوال کے جواب میں کہ “ کیا حرام پیسہ بھی ہم مسجد اور کارخیر میں استعمال کرسکتے ہیں“ ہم نے جواب میں یہ فتویٰ سنا کہ آجکل چونکہ حلال مال ملتا ہی نہیں ہے۔ لہذا کسی کے مال میں  “حلال کا غلبہ ہو“ تو بھی جائز ہے؟
حضرات آپ نے سوال کرکے ہمیں پٹری سے اتار دیا۔ ہم بات کر رہے تھے۔ جیل میں قیدیو کے عید منانے کی اور بات کہاں سے کہاں جا پہونچی؟اسلام قیدیوں کے ساتھ کس قسم کے برتاؤ کا حکم دیتا ہے۔ وہ “ یہ ہے کہ ان کو اپنے سے بھی اچھا کھانے کو دو“ جس کی مثال مسلمانوں کو حضور (ص) نےغزوہ بدر میں  عمل کر کے دکھا ئی۔ جبکہ ہمارے یہاں اگر حکومت  ایساکرے تو سارے نہیں تو کم ازکم ملک کی نوے فصد آبادی چھوٹے موٹے جرائم کرکے جیل چلی جا ئیگی؟ جیسے کہ امریکہ میں مفلس لوگ جاڑے گزارنے، موسم ِ سرما  میں  جیل چلے جاتے ہیں۔ رہیں گرمیاں تو وہاں پارک بہت ہیں ۔ کیونکہ وہاں جیل خانے جات ا صلاحی مرکز( correction centre )کہلاتے ہیں لہذاآرام  بہت ہے کھانا تک پرہیزی ملتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں جو “گڑ ڈالنے کے قابل نہ ہوں“ تو ریت ملی روٹی اور مسور کی  دال شکل کاپانی پی کر قیدی گزارا کرتے ہیں۔اب آپ پوچھیں گے کہ ایسی مشکل کیا آگئی ہے کہ آ پ قیدیوں کے لیے فکر مند ہیں ۔ ہوا  یہ کہ اس مرتبہ عید سے پہلے جیل پر چھاپہ پڑگیا تو میڈیا نے اچھالکر رکھدیا ،اب وہ نگرا ں ہے اخباارات بھرے پڑے ہیں کہ وہاں کیا کیا سہولیات میسر ہیں ۔ بس پیسہ ہو نا شرط ہے۔ اور اس پر انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ حکومت نے ابتک کوئی موثر کارو ائی نہیں کی؟  بھائی یہ معاملہ آج سے تھوڑی چل رہا ہے۔ پاکستان سے پہلے سے نہیں تو پاکستان بننے کے چند سال بعد سے تو جاری ہے۔ جو  بھی آیا  اس نے جاری رکھا کہ “ اگلوں کی نشانی ہے“ ااس پر ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا جو ہم نے کہیں پڑھاتھا پتہ نہیں سچ ہے یا جھوٹ۔ “ایک راجہ بلا کا ظالم تھا اور اس کا وزیراعظم بہت ہی نیک  دونوں کی راہیں جدا ہونے کے باوجود بہت اچھی نبھی ! راجہ مر گیا ، کیونکہ مر نا تو سبھی کو ہوتا ہے مگر سوچتا کوئی نہیں ہے۔اس زمانے میں نسلی باشاہت ہوتی تھی۔جمہوری بادشاہت نہیں اس کا بیٹا راجہ بنا پہلی مرتبہ جیل کے دورے پہ آیا ۔وزیراعظم نےایک بوڑھے کی طرف جو پہلے ہی مرنے  کےقریب تھا  ،اسے یہ کہکر متوجہ کرنا چاہا کہ “ یہ بھی کبھی جوان تھا جیل کی دال پی  پی کر اس کی یہ حالت ہوگئی ہے۔ آپ کے پتاجی نے کسی بات پر ناراض ہو کر اسے قید کردیا تھا۔ اس نے حکم صادر فرمایا  کہ “ اسےجیل میں ہی رکھو! کہ با با کی نشانی ہے“

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کینیڈامیں دو عیدیں ایک ساتھ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

آپ یہ عنوان دیکھ کر پریشان ہو رہے ہونگے کہ ہمارے لیے یہ کوئی انہونی بات تو نہیں ہے وہ تو ہم ماشاءاللہ ہر سال ہی دو تین تک کرتے ہیں،ہاں! کبھی سب ایک ہی دن عید منائیں تو حیرت کی بات ہوگی؟ اصل میں وہ بات نہیں ہے جو آپ سمجھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا کالم ہفتہ میں ایک ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم تعداد پر یقین نہیں رکھتے بلکہ معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ اور گھاس کاٹنا ہماری عادت نہیں ہے؟ اس دفعہ ایسا ہو ا کہ ایک ہی ہفتہ میں دو عیدیں آگئیں ایک تو آپ سب ہی جانتے ہیں جو روزے رکھ رہے ہیں یانہیں رکھ رہے ہیں ،تو بھی؟ اب آپ پھر پوچھیں گے کہ روزے کیوں نہیں رکھ رہے ہیں اور کیا وہ بھی مسلمان ہیں جو روزے بغیر کسی شرعی عذر کے نہیں رکھ رہے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ یہاں ایک مفتی صاحب آئے تھے۔برسوں پرانا رمضان کاکلینڈر تبدیل کرکے نیا دے گئے ،جس میں سحری کچھ اور پہلے کردی ۔ جبکہ حضور (ص) نے اس شکایت پر کہ وہ“ نماز با جماعت“ میں بڑی سورتیں پڑھتے ہیں، ایک جید صحابی (رض) کو سرزنش بھی کی تھی کہ “ کیا تم اسلام سے لوگوں کو بھگانا چاہتے ہو! لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو مشکلات نہیں “مگر وہ شاید انکی نظر سے نہیں گزری؟ اب ہمارے ہاں کسی کی ہمت نہیں پڑ رہی ہے کہ وہ اس برائی کو ختم کرسکے اور روزہ وینکور اور اس کے اطراف میں 19 گھنٹے کا ہو گیا ہے۔ رہا امت میں اختلاف وہ کچھ اور بھی بڑھ گیا ہے اب ایک کے بجا ئے تین کلینڈر استعمال ہورہے ہیں, جبکہ کچھ نے روزے ہی رکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ آپ پھر پوچھیں گے کہ آپ تو پوری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔ یہ مقامی مسئلہ آپ کے کالم میں کیوں؟ وہ اس لیے کہ امت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ا س میں مسلم امہ کے لیئے یہ سبقِ عبرت نظر آیا کہ بھائی جیسا چلتا ہے ویسے ہی چلنے دو ،برائی کی ابتدا تو کی جاسکتی ہے بھلائی کے نام پر۔ لیکن اسے ختم کر نے کے لیے “ اجمائے امت چاہئے “جو ہمارے یہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے جیسے ایک ملک نے بزعم خود پوری دنیا کو“ بدعت“ سے تو ہٹادیا اب وہ شدت پسند بن گئے ہیں اور بنانے والوں کے بھی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ بہت سے لوگوں نے روزے ہی چھوڑ دیئے ؟ بہر حال جنہوں نے رکھے انہیں بھی روزے مبارک ،جنہوں نے نہیں رکھے انہیں بھی عید مبارک ۔
یہ تو تھی پہلی عید اب دوسری عید جو کنیڈین کے لیے عید ہے کہ وہ اسی ہفتہ  کے اختتام  پراپنا ایک سو پچاسواں یوم آزادی منا رہے ہیں اور ہمارے قارئین کا تقاضہ ہے کہ ہم دونوں پر لکھیں۔ ہم انہیں مایوس نہیں کرنا چاہتے لہذا س پر بھی لکھ رہے ہیں۔ اس لیے کہ ہم کینڈین ہیں، اس پر ہمیں فخر بھی ہے پھر اسلام میں احسان کا بدلہ احسان ہے! جبکہ آجکل ساری دنیا “اسلام فوبیہ“ کو پھیلانے پر لگی ہوئی ہے لیکن یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے آپ کواپنی پالیسی کی بنا پر “ ملٹی کلچرل “ کہلا تا ہے اور جو کہتا ہے وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی بھارت جیسا ملک جوکہ سکولرازم کے نام پر بنا تھا۔وہ بھی ا پنا چولہ اتار کر پھینک چکا ہے۔ مگر کنیڈا اس کے لیے تیار نہیں ہے وہ اس پر قائم ہے کہ“ جان جائے مگرآن نہ جائے“ لہذا سب سے پہلے تو اس نے یہ کیا کہ اپنی سرحدیں آنے والوں کے کے لیئے بند نہیں کیں ، دوسرا کام یہ کیاکہ پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کردیا ، جس میں کسی قسم کی بھی نفرت پھیلانا جرم قرار دیدیا ۔حالانکہ ایسے ہی قانون بہت سے ملکوں میں نافذ ہیں مگر بس اتنی سی بات ہے وہ ان پر عمل نہیں کرتے؟ مگر یہ ملک ان کے برعکس ہے کہ یہاں کوئی جرم کرے تو بغیر سزا کے بچتا نہیں ہے؟ لہذا جب سے یہ قانون بنا ہے کوئی جرم ہوابھی نہیں، خدا کرے کہ اس ا نصاف اورامن پسند ملک میں امن رہے (آمین) ۔دوسرے یہ کہ اس سال بھی ممبران پارلیمان نے باقاعدہ رمضان المبارک کے آنے پر مسلمانوں کو اخبارات کے ذریعہ مبارک باد دی۔جبکہ حکومت نے پہلی دفعہ عید پراستعمال کرنے کے لیئے “ عید مبارک “ کے پوسٹل اسٹامپ رمضان میں جاری کردیے۔جس کے لیے نہ صرف رائٹ آنر ابیل جسٹن ٹریڈو ، انکی لبرل حکومت قابل ِ مبارکباد ہیں بلکہ کنیڈین عوام بھی قابل ِ ستائش ہیں جوا س مسئلہ پر پوری طرح اپنی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ لہذا انہیں بھی ایکسو پچاسواں سال ِ آزادی مبارک ۔ اور اس میں مسلمانوں کو بھی جوق در جوق حصہ لینا چایئے کہ وہ اسلام کے یہاں سفیر ہیں، جسے انہیں اپنے بہترین کردار سے بھی اچھے شہری بن کر ثابت کرنا چاہیئے؟

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کوئی بولے نہ بولے، لفافہ بولتا ہے از ۔۔۔شمس جیلانی

ایک زمانے میں قیافہ شناسی بہت بڑا فن تھا اور ایک شاعر نے یہاں تک کہدیا کہ خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر؟ اس میں بھی ایسے ماہرِ فن موجود تھے جسے جاننے والے لفافہ دیکھ کرخط کا مضمون پڑھ لیتے تھے۔ یہ اپنی، اپنی مہارت کی بات ہے۔ بعض لوگ پوری زندگی گنواں دیتے ہیں مگر کچھ بھی نہیں بنتے اور کچھ ایسے ہیں کہ چاہیں تو ہتھیلی پر سرسوں جمادیں جیسے کہ پاکستان کا ایک خاندان کہ وہ چاہیں تو زنک آلود لوہا پکڑلیں اور وہ سونا بن جاتا ہے؟کوئی یقین کر سکتا ہے کہ “ ایک ناکام تھریشر“ کی “غازی تھریشر“ کے ہاتھوں شکست کے بعد دیکھتے دیکھتے ان کے کارخانوں کی قطاربن جا ئے گی۔ اگر وہ اپنے اس خاندانی راز میں دوسرے پاکستانیوں کو فی سبیل اللہ شریک کرلیں تو ہر پاکستانی کم از کم ایک کارخانے کا مالک توبن ہی سکتا۔ اب ا نہوں نے اتنا کچھ تو جمع کرلیا ہے! مزید جمع کرکے کیا کریں گے۔ یہ راز قوم کوبتا کراس کا بھلا کر دیں ۔ تو یہ اتنا بڑااحسان ہوگا کہ جو بھی اس پر عمل کریگا وہی ان جیسا ہو جا ئے گا اور بیس کروڑ عوام دعا دیں گے۔
ایک صاحب اور بھی بہت تیزی سے پاکستان میں بڑھے مگر ان کا میدان کارخانے لگانا نہیں بلکہ بستیاں بسانا تھا؟ لیکن انہوں نے ساتھ ہی ساتھ عوام کے لیئے اپنے خزانوں اور دسترخوانوں کے منہ کھولدیئے؟ اوروہ قیمتی راز بھی ٹی وی پر بتا دیا جس کی وجہ سے وہ وہاں کامیاب رہے کہ“ جہاں فائل رکتی ہے وہ اس کو پہیے لگا دیتے ہیں“ !حالانکہ کے یہ راز سب کو پہلے سے پتہ تھا اور اس پر سب عمل پیر ا بھی تھے؟ فرق اتنا سا تھا کہ دوسرے“ حاتم طائی “اس لیے نہیں بن سکے کہ وہ مل بانٹ کر نہیں کھاتے تھے ،سارا منافع خود ہی رکھ لیتے اگر وہ ان سے سبق لیں کچھ عوام پر بھی خرچ کریں تو وہ بھی حاتم طائی کہلاسکتے ہیں؟
آپ نے دیکھا کہ لوگ کہاں سے کہاں پہونچ گئے؟ جبکہ عوام اور کچھ خواص صرف اسی کام میں ا پنا وقت ضائع کررہے ہیں کہ ان کے پاس یہ پیسہ آیا کہاں سے؟ حالانکہ کسی کی پگڑی اچھالنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر کسی صاحب کو میری بات کایقین نہ ہو تو کسی مولوی صاحب سے جاکر پوچھ لیں کہ کسی بھائی کا پردہ رکھنا اچھا ہے یا پگڑی اچھالنا؟ “ان کا جواب یہ ہی ہوگا کہ پردہ پوشی اچھی چیز ہے۔“ اوراسی میں سبکی بھلائی اور خیر ہے۔ اگر اس معاشرے میں کسی اکا ،دکا پائے جانے والے ا یمااندار کی بھی، آپ عوام میں مثال دیں تو وہ یہ ہی جواب دیں گے کہ اسے موقع نہیں ملا ہوگا ؟اسی وجہ سے ابھی تک ایماندار ہے۔ جیسے کہ آجکل لفافے والے صحافیوں میں اور غیرلفافے والے صحافیوں میں واضح فرق نظر آتاہے کہ وہ کس طرح حقائق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں یہ ا نہیں کا حصہ ہے؟ ایک تصویر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کیسے لیک ہوئی؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کیمرے کادور ہے یہ کیمرہ ٹرک بھی توہوسکتا ہے جوکوئی بھی مظلوم بننے کے لیے دو تصویروں سے تیسری تخلیق کرا سکتا ہے؟

 

 

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اللہ سبحانہ تعالیٰ مسلمانوں کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

اس مرتبہ سوشیل میڈیا نے ایک کار نامہ نجام دیکر یہ ثابت کردیا کہ کوئی چیز جو اچھائی میں استعمال کی جا ئے وہ اچھی، اور جو برائی میں ستعمال کی جا ئے وہ بری ہے۔ کیونکہ ہر اچھائی یا برائی کا دار مدار نیت پر ہے۔ ہم نے متقی دولتمندوں کو ثواب اور دنیادونوں کمانے کا طریقہ بتایا تھا کہ اگر وہ اس نیت سے رمضان سے پہلے اشیائے ضرورت ذخیرہ کر لیں کہ ذخیرہ اندوز ڈریں ، اگر انہوں نے اپنے ذخیرے کا منہ تین دن کے لیے بھی کھول دیا تو ان کے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔ لیکن ہماری تجویز اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نوجوانوں کے ذہنوں تک پہونچا دی اور انہوں نے وہ کرشمہ کر دکھایا کہ عوام سے اپیل کر ڈالی کے تین دن کے لیے پھل افطاری میں نہ کھانے کا فیصلہ کرلیں تو پھل خراب ہونے والی چیز ہیں سڑنے لگیں گے اور ان کی قیمتیں خود بخود نیچے آجا ئیں گے؟ اس میں عوام نے ان کا ساتھ دیا اور انہوں نے پھل تین دن نہ کھانے کا اعلان کردیا؟ یہ ہی ہمارا مقصد تھا؟ اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ ہمارے نوجوان پوری طرح بیدار ہیں اور اس کامیابی سے انشا ءاللہ ان کے حوصلے اور بھی بلند ہونگے۔ اور وہ شاید عوام کے تعاون سے وہ کچھ حاصل کرلیں جو ہمارے سیاست داں نہیں کرسکے یعنی قوم اور اس کے لیڈروں کواخلاقی بلندیوں کی طرف واپس لے آئیں جو کہ آجکل خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد سمجھتے ہیں؟
ہم نے اپنے پچھلے کالم میں تحریر کیا تھا کہ ہم بجا ئے حالات حاضرہ پر تو ،تو،میں، میں کرنے کے اب مہینہ بھر صرف اور صرف رمضان پر بات کریں گے ۔ کیونکہ آج کے حالات بھی وہی ہیں جو حضور (ص) سے پہلے عرب کے تھے۔ سچ ناپید ہے جس کا مظاہرہ ملک میں عام ہے۔ مگر اس سے مطلب یہ نہ سمجھ لیں جیسے کہ ہمارے بھائی بند سمجھتے ہیں ۔ کہ بس یہ ہی مہینہ نیکیاں کرنے کا ہے۔اور رمضان کے بعد سب اس طرح واپس آجا تے ہیں جیسے پرندے سردیوں میں واپس لوٹتے دکھا ئی دیتے ہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم میں اور پرندوں میں بہت فرق ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں تو سمجھ ہی اتنی دی ہے کہ وہ جان لیں کہ موسم بدلنے والا ہے لہذا وہ اس کے حساب سے اپنی رہائش بد لیں تاکہ تباہیوں سے بچ سکیں۔ جبکہ ہمیں خلیفہ بنا کر پوری دنیا کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ ا س کے تقاضے اس طرح پورے کریں؟ جیسے کہ دنیا کے سب سے کامل ترین انسان(ص) نے پورے فرماکر دکھائے جنہیں بطور ہادیِ اسلام (ص) اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بھیجا؟ اور ہمیں قیامت تک کے لیئے ایک راستہ عطا فرما دیا کہ اس کے خلیفہ کو کیسا ہونا چاہیئے؟ اور ہم کو ہدایت عطا فرمادی کے تمہا رے سامنے ہر معاملہ زندگی میں بسر کر نے کے لیے جو مثال ہے وہ تمہا رے نبی(ص) کا اسوہ حسنہ ہے۔ اس کو اپنا لو اور فلاح پا جاو ؟ جبکہ ہمیں اپنی کتابِ مقدس میں یہ بھی بتا دیا کہ “ فلاح سے مراد کیا ہے؟ دوسری طرف یہ بھی بتادیا کہ تمہارا دشمن شیطان ہے وہ کیوں دشمن ہوا وہ سورہ بقرہ ،میں آدم (ع) کے قصہ میں موجود ہے۔ اس سے بچتے رہنا وہ تمہارا دوست کبھی نہ بن سکے گا کیونکہ تمہارے اور اس کے راستے مختلف ہیں ۔ اتنے مختلف کے جنتا مشرق اور مغرب میں فرق ہے۔ پھر ( سورہ ا لبقرا ہ کی آیت 256 اور 257) میں پہلے تو دین کے معاملہ میں جبر کے استعمال سے منع فرمایا پھروجہ بتائی کہ ہم نے دونوں راستے دکھادیئے ہیں۔ کہ اللہ اپنے دوستوں کو تاریکیوں سے روشنیوں کی طرف لے جاتا ہے اس لیے اس کا نبی (ص) جس طرف بلاتا ہے صرف اسی رستہ کو تھامے رہو؟ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو جہنم کی طرف کھینچتا ہے؟ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑے ر ہو اور فلاح کے راستہ پر چلتے ہو؟ یا اس پر گرفت ڈھیلی رکھتے ہوئے اور اپنے ازلی دشمن کے کہنے پر چلو؟ ان دونوں آیات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم کسی سے کوئی بات منوا لیں! وہ وقتی ہو گی ڈنڈا کمزور پڑا اور لوگ دین چھوڑ کر بھاگ جا ئیں گے ؟ اس کے بر عکس اپنا کردار اتنا بلند رکھوکہ تمہیں دیکھ کرہر ایک کو اللہ یاد آئے؟ با الفاظ دیگر مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہ ا سے دیکھ کر اللہ یاد آئے؟ لیکن ملت کچھ زیادہ گہرائی میں چلی گئی ا ور اس نے اس کا الٹ سمجھ لیا کہ اگر ہم صرف ظاہر میں متقیوں جیسا خود کو بنا لیں تو ہم میں یہ خوبی پیدا ہو جا ئے گی۔ اسی لیے اللہ نے اس کی نفی رمضان المبارک بھیج کر کردی اور اس کو بھیجنے کا مقصد یہ بتایا کہ روزے تم سے پہلے بھی ہم نے تمام امتوں پر فرض کیئے تھے اور اب تمہارے اوپر بھی فرض کیے ہیں تاکہ تم “متقی “بن جا ؤ؟ متقی بننے کا مقصد یہ نہیں کہ تم ثوب (توب) پہن لواور بس، بلکہ تم اس طرح ڈرنے والے بن جا ؤکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کرو؟ پھرتم میں وہ کردار صراحت کر جا ئے گا جو نبی (ص) کا تھا، اور وہ کردار کیا تھا۔( سورہ العقلم کی آیت 2تا7) “بے شک تو بہت بڑے خلق ِ عظیم مالک ہے “ یہ کون فرما رہا جواس انسانِ کامل (ص)کو بنا نے والا ہے۔ آگے فرما رہا ہے اب یہ بھی دیکھ لیں گے ،تو بھی دیکھ لے گا کہ کون مجنون ہے اور کون عقلمند ہے۔تیرا رب بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے اور راہ یافتہ لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ پھر ایک اور جگہ فرمایا کہ تمہارا کام صرف پیغام پہونچا دینا ہے ؟ کون ایمان لاتا ہے کون نہیں لا تا یہ دیکھنا ہمارا کام ہے اس لیے کہ ہدایت دینا یا نہ دینا ہمارا کام ہے۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اس کامل(ص) بندے کو نبوت پر فائز کرنے سے پہلے جو تمام عرب سے تسلیم کرایا ، وہ ان(ص) کا صادق اور امین ہونا تھا؟جبکہ اس سے پہلے ایک یتیم کی اس معاشرے میں کوئی اہمیت نہ تھی جس کو کہ قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کی رب نے وجہ شہرت کیا پسند فرمائی“ سچ بولنا “ اور ان کا پہلا معجزہ بھی یہ ہی تھا کہ پورا معاشرہ جھوٹا تھا اور وہ (ص)سچ بول کر ان کے درمیان ممتاز ہوئے اوراپنا لوہامنوایا؟ اسی بنا پر نبوت سے پہلے اہلِ عرب نے حضور (ص) کو اپنا اس میدان میں راہنما تسلیم کر لیا تھا۔ مگر جب وہ (ص) نبوت پر فائز ہوئے اور کفار کی انا اور تکبر کو ٹھیس پہنچی تو پورا معاشرہ چیخ اٹھا۔ لیکن ہر جگہ کافروں کو شکست حضور (ص)کے اسی کردار کی وجہ سے ہوئی کہ ہر ایک پوچھتا تھا کہ کیا انہوں(ص) نے پہلے کبھی جھوٹ بولا؟ تو دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ نہیں!چونکہ قر آن ہر دانشور سے مخاطب ہے ؟ سفہا سے نہیں؟ لہذا ہر دانشور پہلے یہ ہی پوچھتا تھا کہ جب یہ (ص) پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولے ؟ تو پھر یہ (ص) اللہ پر کیسے بہتان باندھ سکتے ہیں؟ جیسے کہ قیصر روم اور نجاشی وغیرہ نے یہ ہی سوال کیا؟ اور یہ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا پہلا مطالبہ اپنے ہر بندے سے یہ ہی ہے کہ وہ یہ مان لے کہ قرآن کے اندر کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ کتاب صرف متقیوں اور غیب پر یقین رکھنے والوں ، نمازقائم کرنے والوں  اوراس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے ہے؟ جب بندہ یہ مان لے گا تو اسے آگے چل کر اس کا ہر لفظ ماننا پڑیگا ۔ اس لیے کہ یہ کتاب ایک صادق اور امین (ص) پر اللہ سبحانہ کی طرف سے حضرت جبرئیل (ع) کے ذریعہ اتری ہے اور یہ پوری کی پوری تسلیم کرنا ہوگی ،یہ نہیں چلے گا کہ کچھ مان لی ،کچھ نہیں مانی ؟ پھر ماننا پڑیگا کہ“ جو مجھ سے محبت کے دعوے دار ہیں ان سے فرمادیجئے کہ وہ تمہاری (ص)اطاعت کریں“اور یہ بھی کہ تمہار ے لیئے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ (ص) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جوان پر ہماری ( اللہ سبحانہ تعالیٰ) طرف سے وحی کیا جائے؟ اور یہ بھی کہ جو یہ دیں لیلو ا ور جس سے منع کریں ا س سے رک جاؤ۔ صرف ان آیتوں کو ماننے کے بعد پوری طرح دین تک رسائی ہوتی ہے اور پورا دین مکمل ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی چونکہ ایک صفت “ بدیع السموات والارض “ہے چونکہ وہ قادر مطلق ہے وہی بغیر نمونے کے کوئی چیز تخلیق کرسکتا ہے صرف لفظ “ کن “ فرمانے سے، جبکہ انسان کو پہلے کوئی نمونہ چایئے ؟ جس کی راہ پر چل کر وہ آگے بڑھ سکے ؟ لہذا اخلاق کاایک نمونہ کامل بنا کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) کوپیدا فرمایا اور پورے عالم کے لیے اتمام حجت کردی کہ یہ رہے وہ (ص) ،ان (ص) کے کردار کو اپناکر رول ماڈل بن جا ؤ؟ ورنہ لوگ قیامت میں عذر پیش کرتے کہ ہم کس کے کیئے پر عمل کرتے؟ کیا فرشتوں کے کیئے پر؟ جو سوائے عبادت کے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ۔جبکہ تونے ہمارے ساتھ ضروریات زندگی لگا دیں؟ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمادیگا کہ ہم نے تمہارے درمیان ایک کامل انسان (ص) مبعوث کردیا تھا جوکہ بشر یت میں تمہارے جیسا تھا۔ اور جوکہ ہر وقت ہمارے سامنے تھا جہاں اسے کوئی مشکل پیش آتی ہم فوراً وحی کے ذریعہ راہنمائی کرتے تھے ۔ا س (ص) نے اس پر عمل کر کے دکھا یا تاکہ تم بھی عمل کر کے اپنی جنت بناؤ؟ اور ہم تمہیں انعام سے نوازیں؟ ورنہ سزا کے مستحق ہوگے۔ مگر یاد رکھو کہ ہم کسی کو سزا دیکر خوش نہیں، بس تم ہماری بات مان لیا کرو ؟ تمہارے اوپر ہماری رحمتیں برسننے کو ہر وقت تیار ہیں اس لیئے کہ ہم نے اپنے ا وپر رحم کو لازم کر لیا ہے اور اگر غلطی ہوجا ئے تو توبہ کر لیا کرو ؟ ہمیں ہمیشہ مہربان پاؤگے؟ اور سال میں ہم نے تمہیں ایک مہینہ عطا فر یا تا کہ اس میں روزے رکھو اور متقی بن جا ؤ۔ اس لیئے کہ جنت متقیوں کی دائمی قیام گاہ ہے اور جہنم منکروں اور مشرکوں کی دائمی قیام گاہ ہے؟ پھر حضور (ص) نے خبردار فرمادیا کہ “ میرا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اسی پر چلو فلاح پاجا ؤگے اس کے دونوں طرف اور بہت سے راستے ہیں ان پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھا کر بھی مت دیکھنا ورنہ بھٹک جا ؤگے“ انہیں (ص) نے ہم سے رمضان کے بارے میں فرمایا کے اس میں داخل ہونے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلو؟اگر کوئی برا ئی کی ہے تو توبہ کرلو۔ اگر حقوق العباد کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کی تلافی کردو، مال و زمین دبایا ہے واپس کردو اگر زبان سے ستایا ہے تو معافی مانگ لو۔تاکہ تم متقیوں والی عید منا سکو ۔ اللہ کا نام لیکرا س مہینہ میں داخل ہو جا ؤ؟ پہلا عشرہ رحمت ہے ۔ دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا جہنم سے نجات ہے۔ یہاں مشعل راہ وہ حدیث ہے کہ ایک دن حضور(ص) نے تین مرتبہ آمین فرمایا صحابہ کرام(رض) نے پوچھا تو حضور (ص) نے فرمایا کہ جبرئیل (ع) آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہلاک ہوا جس نے آپ کانام سنا اور درود نہیں بھیجی! اس عشرہ میں کثرت سے درود پڑھئے یہ وہ عبادت ہے جس کی تعداد مقرر نہیں فرمائی گئی ایک صحابی (رض) نے ایک تہائی وقت سے بات شروع کی مگر حضور (ص) اور زیادہ کی تلقین فرماتے رہے آخر میں انہوں(رض) نے کہا کیا پورے وقت دور پڑھوں تو فرما یا ہاں یہ کافی ہے ۔ پھر حضور (ص) نے دوسری آمین کے بارے میں بتایا کہ“ جس کے والدین یا دونوں میں سے ایک زندہ ہواور اس نے ان سے دعا کراکراپنی مغفرت نہ کرالی وہ ہلاک ہوا“ میں نے کہا “آمین “پھرا نہوں نے کہا کہ وہ بھی ہلاک ہوا جس نے رمضان کا آخری عشرہ پایا اور اپنی نجات نہ کرالی میں نے کہا( آمین) بس پہلا عشرہ گزررہا ہے۔ رحمت کی بارش جاری ہے پہلے توبہ کیجئے پھر اس پر استقامت فرمائیے اور؟ ماں باپ سے مغفرت کراکر آخری ہفتہ میں داخل ہوجا ئیے۔تاکہ اس کی برکتیں سمیٹ کر جس میں لیلة القدر بھی ہے جہنم سے نجات حاصل کرسکیں؟ یاد رکھئے کہ حضور (ص) نے پانچ چیزوں سے مکمل پرہیز بتا یا ہے۔ شرک، تکبر، رشتہ داریاں منقطع کرنا، زبان یا ہاتھوں سے کسی کو تکلیف پہونچا نا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسوہ حسنہ (ص) پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ۔۔۔از شمس جیلانی

سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چند دنوں پہلے 56 مسلمان ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی گئی جس میں سنا ہے کہ کچھ ملک شریک نہیں ہوئے، مگر رواداری اپنی جگہ تعداد پھر بھی چھپن ہی رہی ؟جس میں اصل مقصد تو یہ معلوم ہو تا تھا کہ سپر پاور کے صدر کو یہ باورکر ایا جائے کہ ہم ان سب کے نما ئندے ہیں لہذا ہم ہی عالمِ اسلام کے واحد لیڈر ہیں۔ لیکن ہم نے ایک عالم کی بات مان لی ہے جو بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہیئے تھی مگر بقیہ اسلام کی طر ہم بھولے ہوئے تھے! جس کا ذکر ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی کیا تھا کیونکہ اس میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو یہ تلقین فرما ئی تھی کہ “ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسنِ ظن رکھو “ لہذا اس کا خیال رکھتے ہوئے ہم اس کا مقصد وہی سمجھ رہے ہیں جوکہ سب کو بتایا گیا ہے؟ کہ “ یہ بین الاقوامی مسلم اتحاد کی طرف پہلا مثبت قدم ہے شدت پسندی کے خلاف “جبکہ یہ پہلا نہیں ہے اگر ہماری یاد داشت ہمیں دھوکا نہیں دے رہی ہے تو یہ تیسرا ہے پہلا رابطہ عالم اسلامی اور دوسری اسلامی کانفرنس تھی لیکن شدت پسندی کا تدارک ان کے مقاصد میں شامل نہ تھا کہ یہ کھیتی اسوقت تک پھل نہیں لائی تھی ؟ دوسرافرق یہ ہے کہ ان دوکے مرکزی دفتر مکہ معظمہ یا اس کے اطراف میں تھے اور اس کا مرکزریاض میں ہے؟ ممکن ہے کہ یہ کتابت کی غلطی رہی ہو؟ چونکہ حسن ظن کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ اپنے آدمیوں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے! رہی تو بہ کوئی جلدکرلے یا دیرمیں کرے اس کو ہمارے یہاں سراہ جانے کا حکم ہے اور اس کے بچھلی لغزشیں با لکل بھول جانے اور اسے یاد نہ دلانے کا حکم بھی ہے، پھر یہ بھی ہے کہ کسی کابوجھ قیامت کے دن کوئی اور نہیں اٹھائے گا؟ لہذا ہم اس کاوش پر ان تمام محرکین کو مبارکباد پیش کر تے ہیں کہ انہوں نے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بد امنی کو روکنے کی کوشش تو کی یہ اور بات ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے اس کامرکز “ریاض “ میں حفظ ماتقدم کے طور پر رکھا ؟ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ا س لیئے وہاں نہیں رکھا گیا کہ وہاں صدرٹرمپ نہیں جا سکتے تھے ،تو ان کو وہ دکھاتے کیسے؟ جبکہ شرکا ءکی صرف تعداد دکھانا مقصود تھی وہاں سب سے تقریر کروانا نہیں ۔ اب جو وہاں گئے تھے یہ ان کے سوچنے کی بات تھی کہ اگر انتظامیہ چھپن مہمان مقررین کو بولنے کا موقعہ دیتی ا وراگر وہ ایک ایک منٹ بھی لیتے تو چھپن منٹ درکار ہو تے۔ اور اگر دس دس منٹ لیتے تو 560 منٹ بنتے ؟اب آپ اس سے گھنٹے خود بنا لیجئے ؟ اگر وہاں کے باشندوں کے سونے اور اٹھنے کا نظام الا وقات دیکھیں لیں اور پھر اس میں قیلولے کاوقت بھی نکال دیں تو بھی کانفرنس کم از کم ہفتہ بھر کی ہو تی ،تو اس میں سب بول سکتے تھے؟ اور لاکھ دوستی سہی مگرٹرمپ صاحب انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتے تھے کیونکہ وہ دنیا کے مصروف ترین آدمی ہیں۔ رہی یہ بات کہ مہمانوں کو غلط فہمی کیوں پیدا ہوئی؟ یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح کے ہمارے تمام لیڈر عوام کو جمع کرنے کے لیے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ میں اس جلسے میں بہت اہم اعلان کرنے والا ہوں۔ مگر ہوتی سو دفعہ کی دہرائی باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے اسی طرح اگر مسلمانوں کے سب سے مقدس ملک کے رہنما نے یہ کہہ بھی دیاہوکہ اس میں سب بولیں گے اور سب سے صدر ٹرمپ مصافحہ بھی کریں گے؟ تو کونسا غضب ہو گیا؟ یہ ہی کھیل ایک آدھ کوچھوڑ کر سارے حکمراں روز ہی کھیلتے ہیں اگر ایک مرتبہ ان سب کے بڑے نے ان کے ساتھ کھیل لیاتو کیا ہوا؟ وہ تو پہلے ہی سے بزرگ ہیں جبکہ اوروں کی عمر پڑی ہے انہیں پھر بھی موقعہ ملے گا صدور کی قدم بوسی کا؟ اس پر سب سے زیادہ لب کشائی پاکستان میں ہو ئی! کہ اسلامی ایٹمک پاور کے حامل ملک کے سربراہ کو بولنے کا موقعہ نہیں ملا ؟ جبکہ ہمارے خیال پاکستان کا یہ گلہ بیجا تھا؟ کیونکہ وہ اس پر اعتراض کرتے ہوئے بھول گئے کہ انکے وزیراعظم صرف انہیں کے تو ہی نہیں ہیں کیونکہ ان کے تین ملکوں میں گھر اور بال بچے ہیں ان میں سے سعودی عرب ان کا محسن بھی ہے، ان میں دوسرے دو برطانیہ اورپاکستان بھی ہیں ؟ چونکہ ان کی حیثیت اس وجہ سے خود میزبان کی سی تھی؟ اسی لیے شاید انہوں نے برا نہیں مانا جس کی وضاحت پاکستان کے دفتر خارجہ نے بعد میں کر بھی دی کہ وہاں بیس ملکوں کے سربراہان بولے، پھر وقت ہی نہیں بچا؟ وہ کون سے ملک تھے اور کتنے بڑے تھے جو پاکستان پر سبقت لے گئے اسے جانے دیجئے؟ یقیقناً وہ مہمان ہونگے اور انہیں شرف ِ میزبانی حاصل نہ ہوگا،اور یہ کلیہ ہے کہ میزبان پہلے اپنے مہمانوں کو ترجیح دیتے ہیں ممکن ہے کہ خود جناب نواز شریف صاحب نے اپنی باری رضاکارانہ طور پر چھوڑ دی ہو؟ چونکہ صاحبِ معاملہ وہ ہیں اس لیے وہی اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں ؟مگر یہ ماننا پڑے گا کہ پوری دنیا کے کیمرے جناب ٹرمپ اور ان کی فیملی پر مرکوز تھے۔ اور ہاتھ جھٹکنے تک کی تصویر کشی ہو ئی۔ اور پھر موازنہ بھی بی بی سی سے سننے کو ملا کہ سعودی عرب جہاں سخت پردے کا رواج ہے اور روایت یہ رہی ہے کہ جو بھی مہمان خاتون بلا تفریقِ مذہب اور ملت وہاں تشریف لائیں تو ان کے سر ڈھکے ہوئے نظر آنے چاہیئے؟ مگر یہ پہلا خاندان تھا جو اس سے مستثنیٰ تھا؟ پھرانہوں نے وٹیکن کی مقدس سٹی میں جناب ِ پوپ کے سامنے ان کی با ریابی بھی دکھائی جہاں پر ان ہی خواتین کے سر ڈھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ہمارے ایک دانشور دوست کا کہنا یہ ہے کہ پوپ کا تو احترام تمام دنیا مقدس ہستی کے طور پر کرتی ہے لہذا ان کے سامنے سب آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں؟ جبکہ بقیہ لوگوں کے لیے جو پبلک لائف میں ہیں اپنی عزت خود کرانا پڑتی ہے؟ یہ ان کی رائے ہے وہ جانیں؟۔ ویسے اس دورے کی اہمیت بہت یوں تھی کیونکہ ٹرمپ صاحب کا یہ پہلا عالمی دورہ تھا ۔
اب ہم وہاں چلتے ہیں جہاں کہ سربراہان ِ مملکت کا جم ِ غفیر تھا؟ اگر ہماری تحریر وہاں تک پہونچ سکے، تو ہم اس کے دفتر میں یہ ایک تجویز پیش کریں گے کہ یہ نوزائیدہ ادارہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ شدت پسندی کے بت کو دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا کس کے سر ہے جو کہ ہلا کواور چنگیز خان نے کئی سو صدیاں پہلے دفن کردیا تھا۔ اس سے ان بزرگوں تک پہونچنے میں مدد ملے گی کہ وہ کون لوگ تھے! جنہوں نے دوبارہ اسے زندہ کیا اور نفرتوں کے ایسے بیج بوئے کہ جس سے چاروں طرف نفرتوں کی آگ بھڑک اٹھی اور بعد میں اس نے ساری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے لیا؟ جبکہ یہ ایک آدمی کام نہیں ہوسکتا۔ اس فتنہ میں بہت سی مساجد، یونیورسٹیاں،مدارس اور ان کے مدرس اور پشت پر کسی مربی کی زر ِ کثیر سے مالی امداد؟س کے بغیر اس کاحصول ناممکن تھا؟
اگر وہ تحقیقاتی کمیٹی اس کوشش میں کامیاب ہو گئی تو اس فتنہ کو جنم دینے والوں تک رسائی ہو جا ئیگی۔ اور جب مرض کی تشخیص ہوجا ئے تو اس کا علااج بھی آسان ہوجاتا ہے؟ ورنہ یہ ہی سمجھا جائے گا کہ یہ کاوش صرف ایک ملک کے خلاف تھی جس کا نام “مہمان نے بھی لیا اور میزبان نے بھی“ جو بقول ان کے عالم اسلام میں وجہ انتشار ہے؟ اور اس کے نتیجہ میں دنیا مزید انتشار کا تو شکار ہوسکتی ہے مگر اس سے امن کی بھی کوئی صورت نکلے گی؟ یہ اپنی سمجھ سے تو باہر ہے؟ جب ہماری سمجھ میں خود ہی نہیں آیا تو ہم سمجھا ئیں کیا ؟ چونکہ اب ہم اس مقدس مہینے میں داخل ہو چکے ہیں؟ جس کے بارے میں حضور(ص) نے فرمایا کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ نجات ہے۔ اس لیے ہمارے اگلے کالم اسی موضوع پر انشا اللہ ہونگے؟ کیونکہ اس مہینے میں نیکی کی جزا “ بغیرِ “حساب ہے، جس کی مقدار اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے یا پھر ان بندوں کو جو اس کا اہتمام کر رہے ہیں ؟ کیونکہ جزا کا انحصار اس پر ہے کہ وہ مالِ حرام ہے یا حلال جو اس ماہ میں متفرق  مدوں میں صرف کیا گیا؟ پھر دوسری شرط یہ ہے کہ وہ صرف خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے؟اور اس میں کوئی اور غرض تو شامل نہیں تھی۔ مثلا ً دکھاوا یااللہ کے سوا کسی اور کی خوشنودی حاصل کر نا۔ اگر آپ نے یہ ساری احتیاط مد ِنظر رکھی تو یقیقناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور یہ رمضان اگلے سال کے رمضانوں تک کفالت کر یں گے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیقِ عمل عطا فرمائے ۔(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,