کوئی بولے نہ بولے، لفافہ بولتا ہے از ۔۔۔شمس جیلانی

ایک زمانے میں قیافہ شناسی بہت بڑا فن تھا اور ایک شاعر نے یہاں تک کہدیا کہ خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر؟ اس میں بھی ایسے ماہرِ فن موجود تھے جسے جاننے والے لفافہ دیکھ کرخط کا مضمون پڑھ لیتے تھے۔ یہ اپنی، اپنی مہارت کی بات ہے۔ بعض لوگ پوری زندگی گنواں دیتے ہیں مگر کچھ بھی نہیں بنتے اور کچھ ایسے ہیں کہ چاہیں تو ہتھیلی پر سرسوں جمادیں جیسے کہ پاکستان کا ایک خاندان کہ وہ چاہیں تو زنک آلود لوہا پکڑلیں اور وہ سونا بن جاتا ہے؟کوئی یقین کر سکتا ہے کہ “ ایک ناکام تھریشر“ کی “غازی تھریشر“ کے ہاتھوں شکست کے بعد دیکھتے دیکھتے ان کے کارخانوں کی قطاربن جا ئے گی۔ اگر وہ اپنے اس خاندانی راز میں دوسرے پاکستانیوں کو فی سبیل اللہ شریک کرلیں تو ہر پاکستانی کم از کم ایک کارخانے کا مالک توبن ہی سکتا۔ اب ا نہوں نے اتنا کچھ تو جمع کرلیا ہے! مزید جمع کرکے کیا کریں گے۔ یہ راز قوم کوبتا کراس کا بھلا کر دیں ۔ تو یہ اتنا بڑااحسان ہوگا کہ جو بھی اس پر عمل کریگا وہی ان جیسا ہو جا ئے گا اور بیس کروڑ عوام دعا دیں گے۔
ایک صاحب اور بھی بہت تیزی سے پاکستان میں بڑھے مگر ان کا میدان کارخانے لگانا نہیں بلکہ بستیاں بسانا تھا؟ لیکن انہوں نے ساتھ ہی ساتھ عوام کے لیئے اپنے خزانوں اور دسترخوانوں کے منہ کھولدیئے؟ اوروہ قیمتی راز بھی ٹی وی پر بتا دیا جس کی وجہ سے وہ وہاں کامیاب رہے کہ“ جہاں فائل رکتی ہے وہ اس کو پہیے لگا دیتے ہیں“ !حالانکہ کے یہ راز سب کو پہلے سے پتہ تھا اور اس پر سب عمل پیر ا بھی تھے؟ فرق اتنا سا تھا کہ دوسرے“ حاتم طائی “اس لیے نہیں بن سکے کہ وہ مل بانٹ کر نہیں کھاتے تھے ،سارا منافع خود ہی رکھ لیتے اگر وہ ان سے سبق لیں کچھ عوام پر بھی خرچ کریں تو وہ بھی حاتم طائی کہلاسکتے ہیں؟
آپ نے دیکھا کہ لوگ کہاں سے کہاں پہونچ گئے؟ جبکہ عوام اور کچھ خواص صرف اسی کام میں ا پنا وقت ضائع کررہے ہیں کہ ان کے پاس یہ پیسہ آیا کہاں سے؟ حالانکہ کسی کی پگڑی اچھالنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر کسی صاحب کو میری بات کایقین نہ ہو تو کسی مولوی صاحب سے جاکر پوچھ لیں کہ کسی بھائی کا پردہ رکھنا اچھا ہے یا پگڑی اچھالنا؟ “ان کا جواب یہ ہی ہوگا کہ پردہ پوشی اچھی چیز ہے۔“ اوراسی میں سبکی بھلائی اور خیر ہے۔ اگر اس معاشرے میں کسی اکا ،دکا پائے جانے والے ا یمااندار کی بھی، آپ عوام میں مثال دیں تو وہ یہ ہی جواب دیں گے کہ اسے موقع نہیں ملا ہوگا ؟اسی وجہ سے ابھی تک ایماندار ہے۔ جیسے کہ آجکل لفافے والے صحافیوں میں اور غیرلفافے والے صحافیوں میں واضح فرق نظر آتاہے کہ وہ کس طرح حقائق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں یہ ا نہیں کا حصہ ہے؟ ایک تصویر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کیسے لیک ہوئی؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کیمرے کادور ہے یہ کیمرہ ٹرک بھی توہوسکتا ہے جوکوئی بھی مظلوم بننے کے لیے دو تصویروں سے تیسری تخلیق کرا سکتا ہے؟

 

 

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اللہ سبحانہ تعالیٰ مسلمانوں کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

اس مرتبہ سوشیل میڈیا نے ایک کار نامہ نجام دیکر یہ ثابت کردیا کہ کوئی چیز جو اچھائی میں استعمال کی جا ئے وہ اچھی، اور جو برائی میں ستعمال کی جا ئے وہ بری ہے۔ کیونکہ ہر اچھائی یا برائی کا دار مدار نیت پر ہے۔ ہم نے متقی دولتمندوں کو ثواب اور دنیادونوں کمانے کا طریقہ بتایا تھا کہ اگر وہ اس نیت سے رمضان سے پہلے اشیائے ضرورت ذخیرہ کر لیں کہ ذخیرہ اندوز ڈریں ، اگر انہوں نے اپنے ذخیرے کا منہ تین دن کے لیے بھی کھول دیا تو ان کے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔ لیکن ہماری تجویز اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نوجوانوں کے ذہنوں تک پہونچا دی اور انہوں نے وہ کرشمہ کر دکھایا کہ عوام سے اپیل کر ڈالی کے تین دن کے لیے پھل افطاری میں نہ کھانے کا فیصلہ کرلیں تو پھل خراب ہونے والی چیز ہیں سڑنے لگیں گے اور ان کی قیمتیں خود بخود نیچے آجا ئیں گے؟ اس میں عوام نے ان کا ساتھ دیا اور انہوں نے پھل تین دن نہ کھانے کا اعلان کردیا؟ یہ ہی ہمارا مقصد تھا؟ اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ ہمارے نوجوان پوری طرح بیدار ہیں اور اس کامیابی سے انشا ءاللہ ان کے حوصلے اور بھی بلند ہونگے۔ اور وہ شاید عوام کے تعاون سے وہ کچھ حاصل کرلیں جو ہمارے سیاست داں نہیں کرسکے یعنی قوم اور اس کے لیڈروں کواخلاقی بلندیوں کی طرف واپس لے آئیں جو کہ آجکل خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد سمجھتے ہیں؟
ہم نے اپنے پچھلے کالم میں تحریر کیا تھا کہ ہم بجا ئے حالات حاضرہ پر تو ،تو،میں، میں کرنے کے اب مہینہ بھر صرف اور صرف رمضان پر بات کریں گے ۔ کیونکہ آج کے حالات بھی وہی ہیں جو حضور (ص) سے پہلے عرب کے تھے۔ سچ ناپید ہے جس کا مظاہرہ ملک میں عام ہے۔ مگر اس سے مطلب یہ نہ سمجھ لیں جیسے کہ ہمارے بھائی بند سمجھتے ہیں ۔ کہ بس یہ ہی مہینہ نیکیاں کرنے کا ہے۔اور رمضان کے بعد سب اس طرح واپس آجا تے ہیں جیسے پرندے سردیوں میں واپس لوٹتے دکھا ئی دیتے ہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم میں اور پرندوں میں بہت فرق ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں تو سمجھ ہی اتنی دی ہے کہ وہ جان لیں کہ موسم بدلنے والا ہے لہذا وہ اس کے حساب سے اپنی رہائش بد لیں تاکہ تباہیوں سے بچ سکیں۔ جبکہ ہمیں خلیفہ بنا کر پوری دنیا کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ ا س کے تقاضے اس طرح پورے کریں؟ جیسے کہ دنیا کے سب سے کامل ترین انسان(ص) نے پورے فرماکر دکھائے جنہیں بطور ہادیِ اسلام (ص) اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بھیجا؟ اور ہمیں قیامت تک کے لیئے ایک راستہ عطا فرما دیا کہ اس کے خلیفہ کو کیسا ہونا چاہیئے؟ اور ہم کو ہدایت عطا فرمادی کے تمہا رے سامنے ہر معاملہ زندگی میں بسر کر نے کے لیے جو مثال ہے وہ تمہا رے نبی(ص) کا اسوہ حسنہ ہے۔ اس کو اپنا لو اور فلاح پا جاو ؟ جبکہ ہمیں اپنی کتابِ مقدس میں یہ بھی بتا دیا کہ “ فلاح سے مراد کیا ہے؟ دوسری طرف یہ بھی بتادیا کہ تمہارا دشمن شیطان ہے وہ کیوں دشمن ہوا وہ سورہ بقرہ ،میں آدم (ع) کے قصہ میں موجود ہے۔ اس سے بچتے رہنا وہ تمہارا دوست کبھی نہ بن سکے گا کیونکہ تمہارے اور اس کے راستے مختلف ہیں ۔ اتنے مختلف کے جنتا مشرق اور مغرب میں فرق ہے۔ پھر ( سورہ ا لبقرا ہ کی آیت 256 اور 257) میں پہلے تو دین کے معاملہ میں جبر کے استعمال سے منع فرمایا پھروجہ بتائی کہ ہم نے دونوں راستے دکھادیئے ہیں۔ کہ اللہ اپنے دوستوں کو تاریکیوں سے روشنیوں کی طرف لے جاتا ہے اس لیے اس کا نبی (ص) جس طرف بلاتا ہے صرف اسی رستہ کو تھامے رہو؟ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو جہنم کی طرف کھینچتا ہے؟ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑے ر ہو اور فلاح کے راستہ پر چلتے ہو؟ یا اس پر گرفت ڈھیلی رکھتے ہوئے اور اپنے ازلی دشمن کے کہنے پر چلو؟ ان دونوں آیات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم کسی سے کوئی بات منوا لیں! وہ وقتی ہو گی ڈنڈا کمزور پڑا اور لوگ دین چھوڑ کر بھاگ جا ئیں گے ؟ اس کے بر عکس اپنا کردار اتنا بلند رکھوکہ تمہیں دیکھ کرہر ایک کو اللہ یاد آئے؟ با الفاظ دیگر مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہ ا سے دیکھ کر اللہ یاد آئے؟ لیکن ملت کچھ زیادہ گہرائی میں چلی گئی ا ور اس نے اس کا الٹ سمجھ لیا کہ اگر ہم صرف ظاہر میں متقیوں جیسا خود کو بنا لیں تو ہم میں یہ خوبی پیدا ہو جا ئے گی۔ اسی لیے اللہ نے اس کی نفی رمضان المبارک بھیج کر کردی اور اس کو بھیجنے کا مقصد یہ بتایا کہ روزے تم سے پہلے بھی ہم نے تمام امتوں پر فرض کیئے تھے اور اب تمہارے اوپر بھی فرض کیے ہیں تاکہ تم “متقی “بن جا ؤ؟ متقی بننے کا مقصد یہ نہیں کہ تم ثوب (توب) پہن لواور بس، بلکہ تم اس طرح ڈرنے والے بن جا ؤکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کرو؟ پھرتم میں وہ کردار صراحت کر جا ئے گا جو نبی (ص) کا تھا، اور وہ کردار کیا تھا۔( سورہ العقلم کی آیت 2تا7) “بے شک تو بہت بڑے خلق ِ عظیم مالک ہے “ یہ کون فرما رہا جواس انسانِ کامل (ص)کو بنا نے والا ہے۔ آگے فرما رہا ہے اب یہ بھی دیکھ لیں گے ،تو بھی دیکھ لے گا کہ کون مجنون ہے اور کون عقلمند ہے۔تیرا رب بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے اور راہ یافتہ لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ پھر ایک اور جگہ فرمایا کہ تمہارا کام صرف پیغام پہونچا دینا ہے ؟ کون ایمان لاتا ہے کون نہیں لا تا یہ دیکھنا ہمارا کام ہے اس لیے کہ ہدایت دینا یا نہ دینا ہمارا کام ہے۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اس کامل(ص) بندے کو نبوت پر فائز کرنے سے پہلے جو تمام عرب سے تسلیم کرایا ، وہ ان(ص) کا صادق اور امین ہونا تھا؟جبکہ اس سے پہلے ایک یتیم کی اس معاشرے میں کوئی اہمیت نہ تھی جس کو کہ قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کی رب نے وجہ شہرت کیا پسند فرمائی“ سچ بولنا “ اور ان کا پہلا معجزہ بھی یہ ہی تھا کہ پورا معاشرہ جھوٹا تھا اور وہ (ص)سچ بول کر ان کے درمیان ممتاز ہوئے اوراپنا لوہامنوایا؟ اسی بنا پر نبوت سے پہلے اہلِ عرب نے حضور (ص) کو اپنا اس میدان میں راہنما تسلیم کر لیا تھا۔ مگر جب وہ (ص) نبوت پر فائز ہوئے اور کفار کی انا اور تکبر کو ٹھیس پہنچی تو پورا معاشرہ چیخ اٹھا۔ لیکن ہر جگہ کافروں کو شکست حضور (ص)کے اسی کردار کی وجہ سے ہوئی کہ ہر ایک پوچھتا تھا کہ کیا انہوں(ص) نے پہلے کبھی جھوٹ بولا؟ تو دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ نہیں!چونکہ قر آن ہر دانشور سے مخاطب ہے ؟ سفہا سے نہیں؟ لہذا ہر دانشور پہلے یہ ہی پوچھتا تھا کہ جب یہ (ص) پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولے ؟ تو پھر یہ (ص) اللہ پر کیسے بہتان باندھ سکتے ہیں؟ جیسے کہ قیصر روم اور نجاشی وغیرہ نے یہ ہی سوال کیا؟ اور یہ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا پہلا مطالبہ اپنے ہر بندے سے یہ ہی ہے کہ وہ یہ مان لے کہ قرآن کے اندر کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ کتاب صرف متقیوں اور غیب پر یقین رکھنے والوں ، نمازقائم کرنے والوں  اوراس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے ہے؟ جب بندہ یہ مان لے گا تو اسے آگے چل کر اس کا ہر لفظ ماننا پڑیگا ۔ اس لیے کہ یہ کتاب ایک صادق اور امین (ص) پر اللہ سبحانہ کی طرف سے حضرت جبرئیل (ع) کے ذریعہ اتری ہے اور یہ پوری کی پوری تسلیم کرنا ہوگی ،یہ نہیں چلے گا کہ کچھ مان لی ،کچھ نہیں مانی ؟ پھر ماننا پڑیگا کہ“ جو مجھ سے محبت کے دعوے دار ہیں ان سے فرمادیجئے کہ وہ تمہاری (ص)اطاعت کریں“اور یہ بھی کہ تمہار ے لیئے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ (ص) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جوان پر ہماری ( اللہ سبحانہ تعالیٰ) طرف سے وحی کیا جائے؟ اور یہ بھی کہ جو یہ دیں لیلو ا ور جس سے منع کریں ا س سے رک جاؤ۔ صرف ان آیتوں کو ماننے کے بعد پوری طرح دین تک رسائی ہوتی ہے اور پورا دین مکمل ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی چونکہ ایک صفت “ بدیع السموات والارض “ہے چونکہ وہ قادر مطلق ہے وہی بغیر نمونے کے کوئی چیز تخلیق کرسکتا ہے صرف لفظ “ کن “ فرمانے سے، جبکہ انسان کو پہلے کوئی نمونہ چایئے ؟ جس کی راہ پر چل کر وہ آگے بڑھ سکے ؟ لہذا اخلاق کاایک نمونہ کامل بنا کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) کوپیدا فرمایا اور پورے عالم کے لیے اتمام حجت کردی کہ یہ رہے وہ (ص) ،ان (ص) کے کردار کو اپناکر رول ماڈل بن جا ؤ؟ ورنہ لوگ قیامت میں عذر پیش کرتے کہ ہم کس کے کیئے پر عمل کرتے؟ کیا فرشتوں کے کیئے پر؟ جو سوائے عبادت کے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ۔جبکہ تونے ہمارے ساتھ ضروریات زندگی لگا دیں؟ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمادیگا کہ ہم نے تمہارے درمیان ایک کامل انسان (ص) مبعوث کردیا تھا جوکہ بشر یت میں تمہارے جیسا تھا۔ اور جوکہ ہر وقت ہمارے سامنے تھا جہاں اسے کوئی مشکل پیش آتی ہم فوراً وحی کے ذریعہ راہنمائی کرتے تھے ۔ا س (ص) نے اس پر عمل کر کے دکھا یا تاکہ تم بھی عمل کر کے اپنی جنت بناؤ؟ اور ہم تمہیں انعام سے نوازیں؟ ورنہ سزا کے مستحق ہوگے۔ مگر یاد رکھو کہ ہم کسی کو سزا دیکر خوش نہیں، بس تم ہماری بات مان لیا کرو ؟ تمہارے اوپر ہماری رحمتیں برسننے کو ہر وقت تیار ہیں اس لیئے کہ ہم نے اپنے ا وپر رحم کو لازم کر لیا ہے اور اگر غلطی ہوجا ئے تو توبہ کر لیا کرو ؟ ہمیں ہمیشہ مہربان پاؤگے؟ اور سال میں ہم نے تمہیں ایک مہینہ عطا فر یا تا کہ اس میں روزے رکھو اور متقی بن جا ؤ۔ اس لیئے کہ جنت متقیوں کی دائمی قیام گاہ ہے اور جہنم منکروں اور مشرکوں کی دائمی قیام گاہ ہے؟ پھر حضور (ص) نے خبردار فرمادیا کہ “ میرا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اسی پر چلو فلاح پاجا ؤگے اس کے دونوں طرف اور بہت سے راستے ہیں ان پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھا کر بھی مت دیکھنا ورنہ بھٹک جا ؤگے“ انہیں (ص) نے ہم سے رمضان کے بارے میں فرمایا کے اس میں داخل ہونے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلو؟اگر کوئی برا ئی کی ہے تو توبہ کرلو۔ اگر حقوق العباد کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کی تلافی کردو، مال و زمین دبایا ہے واپس کردو اگر زبان سے ستایا ہے تو معافی مانگ لو۔تاکہ تم متقیوں والی عید منا سکو ۔ اللہ کا نام لیکرا س مہینہ میں داخل ہو جا ؤ؟ پہلا عشرہ رحمت ہے ۔ دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا جہنم سے نجات ہے۔ یہاں مشعل راہ وہ حدیث ہے کہ ایک دن حضور(ص) نے تین مرتبہ آمین فرمایا صحابہ کرام(رض) نے پوچھا تو حضور (ص) نے فرمایا کہ جبرئیل (ع) آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہلاک ہوا جس نے آپ کانام سنا اور درود نہیں بھیجی! اس عشرہ میں کثرت سے درود پڑھئے یہ وہ عبادت ہے جس کی تعداد مقرر نہیں فرمائی گئی ایک صحابی (رض) نے ایک تہائی وقت سے بات شروع کی مگر حضور (ص) اور زیادہ کی تلقین فرماتے رہے آخر میں انہوں(رض) نے کہا کیا پورے وقت دور پڑھوں تو فرما یا ہاں یہ کافی ہے ۔ پھر حضور (ص) نے دوسری آمین کے بارے میں بتایا کہ“ جس کے والدین یا دونوں میں سے ایک زندہ ہواور اس نے ان سے دعا کراکراپنی مغفرت نہ کرالی وہ ہلاک ہوا“ میں نے کہا “آمین “پھرا نہوں نے کہا کہ وہ بھی ہلاک ہوا جس نے رمضان کا آخری عشرہ پایا اور اپنی نجات نہ کرالی میں نے کہا( آمین) بس پہلا عشرہ گزررہا ہے۔ رحمت کی بارش جاری ہے پہلے توبہ کیجئے پھر اس پر استقامت فرمائیے اور؟ ماں باپ سے مغفرت کراکر آخری ہفتہ میں داخل ہوجا ئیے۔تاکہ اس کی برکتیں سمیٹ کر جس میں لیلة القدر بھی ہے جہنم سے نجات حاصل کرسکیں؟ یاد رکھئے کہ حضور (ص) نے پانچ چیزوں سے مکمل پرہیز بتا یا ہے۔ شرک، تکبر، رشتہ داریاں منقطع کرنا، زبان یا ہاتھوں سے کسی کو تکلیف پہونچا نا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسوہ حسنہ (ص) پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ۔۔۔از شمس جیلانی

سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چند دنوں پہلے 56 مسلمان ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی گئی جس میں سنا ہے کہ کچھ ملک شریک نہیں ہوئے، مگر رواداری اپنی جگہ تعداد پھر بھی چھپن ہی رہی ؟جس میں اصل مقصد تو یہ معلوم ہو تا تھا کہ سپر پاور کے صدر کو یہ باورکر ایا جائے کہ ہم ان سب کے نما ئندے ہیں لہذا ہم ہی عالمِ اسلام کے واحد لیڈر ہیں۔ لیکن ہم نے ایک عالم کی بات مان لی ہے جو بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہیئے تھی مگر بقیہ اسلام کی طر ہم بھولے ہوئے تھے! جس کا ذکر ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی کیا تھا کیونکہ اس میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو یہ تلقین فرما ئی تھی کہ “ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسنِ ظن رکھو “ لہذا اس کا خیال رکھتے ہوئے ہم اس کا مقصد وہی سمجھ رہے ہیں جوکہ سب کو بتایا گیا ہے؟ کہ “ یہ بین الاقوامی مسلم اتحاد کی طرف پہلا مثبت قدم ہے شدت پسندی کے خلاف “جبکہ یہ پہلا نہیں ہے اگر ہماری یاد داشت ہمیں دھوکا نہیں دے رہی ہے تو یہ تیسرا ہے پہلا رابطہ عالم اسلامی اور دوسری اسلامی کانفرنس تھی لیکن شدت پسندی کا تدارک ان کے مقاصد میں شامل نہ تھا کہ یہ کھیتی اسوقت تک پھل نہیں لائی تھی ؟ دوسرافرق یہ ہے کہ ان دوکے مرکزی دفتر مکہ معظمہ یا اس کے اطراف میں تھے اور اس کا مرکزریاض میں ہے؟ ممکن ہے کہ یہ کتابت کی غلطی رہی ہو؟ چونکہ حسن ظن کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ اپنے آدمیوں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے! رہی تو بہ کوئی جلدکرلے یا دیرمیں کرے اس کو ہمارے یہاں سراہ جانے کا حکم ہے اور اس کے بچھلی لغزشیں با لکل بھول جانے اور اسے یاد نہ دلانے کا حکم بھی ہے، پھر یہ بھی ہے کہ کسی کابوجھ قیامت کے دن کوئی اور نہیں اٹھائے گا؟ لہذا ہم اس کاوش پر ان تمام محرکین کو مبارکباد پیش کر تے ہیں کہ انہوں نے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بد امنی کو روکنے کی کوشش تو کی یہ اور بات ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے اس کامرکز “ریاض “ میں حفظ ماتقدم کے طور پر رکھا ؟ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ا س لیئے وہاں نہیں رکھا گیا کہ وہاں صدرٹرمپ نہیں جا سکتے تھے ،تو ان کو وہ دکھاتے کیسے؟ جبکہ شرکا ءکی صرف تعداد دکھانا مقصود تھی وہاں سب سے تقریر کروانا نہیں ۔ اب جو وہاں گئے تھے یہ ان کے سوچنے کی بات تھی کہ اگر انتظامیہ چھپن مہمان مقررین کو بولنے کا موقعہ دیتی ا وراگر وہ ایک ایک منٹ بھی لیتے تو چھپن منٹ درکار ہو تے۔ اور اگر دس دس منٹ لیتے تو 560 منٹ بنتے ؟اب آپ اس سے گھنٹے خود بنا لیجئے ؟ اگر وہاں کے باشندوں کے سونے اور اٹھنے کا نظام الا وقات دیکھیں لیں اور پھر اس میں قیلولے کاوقت بھی نکال دیں تو بھی کانفرنس کم از کم ہفتہ بھر کی ہو تی ،تو اس میں سب بول سکتے تھے؟ اور لاکھ دوستی سہی مگرٹرمپ صاحب انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتے تھے کیونکہ وہ دنیا کے مصروف ترین آدمی ہیں۔ رہی یہ بات کہ مہمانوں کو غلط فہمی کیوں پیدا ہوئی؟ یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح کے ہمارے تمام لیڈر عوام کو جمع کرنے کے لیے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ میں اس جلسے میں بہت اہم اعلان کرنے والا ہوں۔ مگر ہوتی سو دفعہ کی دہرائی باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے اسی طرح اگر مسلمانوں کے سب سے مقدس ملک کے رہنما نے یہ کہہ بھی دیاہوکہ اس میں سب بولیں گے اور سب سے صدر ٹرمپ مصافحہ بھی کریں گے؟ تو کونسا غضب ہو گیا؟ یہ ہی کھیل ایک آدھ کوچھوڑ کر سارے حکمراں روز ہی کھیلتے ہیں اگر ایک مرتبہ ان سب کے بڑے نے ان کے ساتھ کھیل لیاتو کیا ہوا؟ وہ تو پہلے ہی سے بزرگ ہیں جبکہ اوروں کی عمر پڑی ہے انہیں پھر بھی موقعہ ملے گا صدور کی قدم بوسی کا؟ اس پر سب سے زیادہ لب کشائی پاکستان میں ہو ئی! کہ اسلامی ایٹمک پاور کے حامل ملک کے سربراہ کو بولنے کا موقعہ نہیں ملا ؟ جبکہ ہمارے خیال پاکستان کا یہ گلہ بیجا تھا؟ کیونکہ وہ اس پر اعتراض کرتے ہوئے بھول گئے کہ انکے وزیراعظم صرف انہیں کے تو ہی نہیں ہیں کیونکہ ان کے تین ملکوں میں گھر اور بال بچے ہیں ان میں سے سعودی عرب ان کا محسن بھی ہے، ان میں دوسرے دو برطانیہ اورپاکستان بھی ہیں ؟ چونکہ ان کی حیثیت اس وجہ سے خود میزبان کی سی تھی؟ اسی لیے شاید انہوں نے برا نہیں مانا جس کی وضاحت پاکستان کے دفتر خارجہ نے بعد میں کر بھی دی کہ وہاں بیس ملکوں کے سربراہان بولے، پھر وقت ہی نہیں بچا؟ وہ کون سے ملک تھے اور کتنے بڑے تھے جو پاکستان پر سبقت لے گئے اسے جانے دیجئے؟ یقیقناً وہ مہمان ہونگے اور انہیں شرف ِ میزبانی حاصل نہ ہوگا،اور یہ کلیہ ہے کہ میزبان پہلے اپنے مہمانوں کو ترجیح دیتے ہیں ممکن ہے کہ خود جناب نواز شریف صاحب نے اپنی باری رضاکارانہ طور پر چھوڑ دی ہو؟ چونکہ صاحبِ معاملہ وہ ہیں اس لیے وہی اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں ؟مگر یہ ماننا پڑے گا کہ پوری دنیا کے کیمرے جناب ٹرمپ اور ان کی فیملی پر مرکوز تھے۔ اور ہاتھ جھٹکنے تک کی تصویر کشی ہو ئی۔ اور پھر موازنہ بھی بی بی سی سے سننے کو ملا کہ سعودی عرب جہاں سخت پردے کا رواج ہے اور روایت یہ رہی ہے کہ جو بھی مہمان خاتون بلا تفریقِ مذہب اور ملت وہاں تشریف لائیں تو ان کے سر ڈھکے ہوئے نظر آنے چاہیئے؟ مگر یہ پہلا خاندان تھا جو اس سے مستثنیٰ تھا؟ پھرانہوں نے وٹیکن کی مقدس سٹی میں جناب ِ پوپ کے سامنے ان کی با ریابی بھی دکھائی جہاں پر ان ہی خواتین کے سر ڈھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ہمارے ایک دانشور دوست کا کہنا یہ ہے کہ پوپ کا تو احترام تمام دنیا مقدس ہستی کے طور پر کرتی ہے لہذا ان کے سامنے سب آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں؟ جبکہ بقیہ لوگوں کے لیے جو پبلک لائف میں ہیں اپنی عزت خود کرانا پڑتی ہے؟ یہ ان کی رائے ہے وہ جانیں؟۔ ویسے اس دورے کی اہمیت بہت یوں تھی کیونکہ ٹرمپ صاحب کا یہ پہلا عالمی دورہ تھا ۔
اب ہم وہاں چلتے ہیں جہاں کہ سربراہان ِ مملکت کا جم ِ غفیر تھا؟ اگر ہماری تحریر وہاں تک پہونچ سکے، تو ہم اس کے دفتر میں یہ ایک تجویز پیش کریں گے کہ یہ نوزائیدہ ادارہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ شدت پسندی کے بت کو دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا کس کے سر ہے جو کہ ہلا کواور چنگیز خان نے کئی سو صدیاں پہلے دفن کردیا تھا۔ اس سے ان بزرگوں تک پہونچنے میں مدد ملے گی کہ وہ کون لوگ تھے! جنہوں نے دوبارہ اسے زندہ کیا اور نفرتوں کے ایسے بیج بوئے کہ جس سے چاروں طرف نفرتوں کی آگ بھڑک اٹھی اور بعد میں اس نے ساری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے لیا؟ جبکہ یہ ایک آدمی کام نہیں ہوسکتا۔ اس فتنہ میں بہت سی مساجد، یونیورسٹیاں،مدارس اور ان کے مدرس اور پشت پر کسی مربی کی زر ِ کثیر سے مالی امداد؟س کے بغیر اس کاحصول ناممکن تھا؟
اگر وہ تحقیقاتی کمیٹی اس کوشش میں کامیاب ہو گئی تو اس فتنہ کو جنم دینے والوں تک رسائی ہو جا ئیگی۔ اور جب مرض کی تشخیص ہوجا ئے تو اس کا علااج بھی آسان ہوجاتا ہے؟ ورنہ یہ ہی سمجھا جائے گا کہ یہ کاوش صرف ایک ملک کے خلاف تھی جس کا نام “مہمان نے بھی لیا اور میزبان نے بھی“ جو بقول ان کے عالم اسلام میں وجہ انتشار ہے؟ اور اس کے نتیجہ میں دنیا مزید انتشار کا تو شکار ہوسکتی ہے مگر اس سے امن کی بھی کوئی صورت نکلے گی؟ یہ اپنی سمجھ سے تو باہر ہے؟ جب ہماری سمجھ میں خود ہی نہیں آیا تو ہم سمجھا ئیں کیا ؟ چونکہ اب ہم اس مقدس مہینے میں داخل ہو چکے ہیں؟ جس کے بارے میں حضور(ص) نے فرمایا کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ نجات ہے۔ اس لیے ہمارے اگلے کالم اسی موضوع پر انشا اللہ ہونگے؟ کیونکہ اس مہینے میں نیکی کی جزا “ بغیرِ “حساب ہے، جس کی مقدار اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے یا پھر ان بندوں کو جو اس کا اہتمام کر رہے ہیں ؟ کیونکہ جزا کا انحصار اس پر ہے کہ وہ مالِ حرام ہے یا حلال جو اس ماہ میں متفرق  مدوں میں صرف کیا گیا؟ پھر دوسری شرط یہ ہے کہ وہ صرف خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے؟اور اس میں کوئی اور غرض تو شامل نہیں تھی۔ مثلا ً دکھاوا یااللہ کے سوا کسی اور کی خوشنودی حاصل کر نا۔ اگر آپ نے یہ ساری احتیاط مد ِنظر رکھی تو یقیقناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور یہ رمضان اگلے سال کے رمضانوں تک کفالت کر یں گے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیقِ عمل عطا فرمائے ۔(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

رہنما ہیں کائیاں ،باعثِ رسوائیاں؟۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

آرمی چیف نے کل نئی نسل سے بڑی درمندانہ اپیل کی ہے کہ ہر کام فوج نہیں کرسکتی جبکہ ہر کام کے لیئے فوج کی طرف دیکھا جاتا ہے مطلب یہ تھا کہ اگر پوری قوم ملکر کام کرے جبھی کام چلے گا۔ پھر وہ یہ انکشاف کرنے پر بھی مجبور گئے کہ پہلے جب مجھے ٹارگیٹ بنایا گیا تو میرے بیٹے نے کہا آپ نے برا کیا؟ پھر جب میں نے اس کا جواب دیا تو اس نے کہاکہ آپ نے اچھا کیا؟ یہ ایسی عارفانہ باتیں ہیں کہ جوکہ عوام کی سمجھ سے باہر ہیں؟ جو بھی بات کرے اس کو کھل کر کہنا چاہیئے وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ پہلیاں بوجھنا عوام کے بس کا کام نہیں ہے؟ بات ان کی سمجھ میں آئیگی تو یقیناً وہ اپنی بیرو کریسی ور فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے جس خواہش کا انہوں نے اظہار کیا ہے؟ رہیں پہلیاں وہ دانشور ہی سمجھ سکتے ہیں؟ جو سمجھتے بھی ہیں مگر اظہار نہیں کرسکتے؟ اس لیے کہ ان کے فوراً منہ بند کردیئے جاتے ہیں۔ا س کے باوجود بھی وہ جرات دکھا رہے ہیں؟  یہ فوج کے لیے بڑا مشکل وقت ہے؟ اگر میں اور آگے بڑھوں تو یہ کہہ سکتا ہوں کے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ،میں بھٹو صاحب کا وہ مجذوبانہ نعرہ یاد دلانا چاہونگا جب پاکستان دولخت ہوا تھا اور انہوں نے شملہ معاہدے کے بعد فرمایا تھا کہ “ اگر اب فوج نے آنے کی کوشش کی تو میں انڈیا سے ٹینک پر بیٹھ کر آونگا ‘ لیکن وہ بھول گئے تھے کہ ایک ہستی اوپر بھی ہے جو بقول حضرت علی (ع) کہ “ صرف ا رادوں کے ٹوٹ جانے سے پہچانی جاتی ہے؟ لہذاوہ جنرل ضیا الحق سے مار کھا گئے؟ اور انہیں کچھ بھی کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ پھر موجودہ وزیراعظم جنرل مشرف کے ہاتھوں مار کھا گئے وہ بھی کچھ نہ کر سکے ؟رہے وعدے وہ یہاں کسی نے کبھی نہیں نبھائے؟ مگر اب موجودہ وزیر اعظم میں تبدیلی یہ ہے کہ وہ بلا قلعے کے شطرنج کھیل رہے ہیں؟ اسی لیئے انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنائی ؟ ممکن ہے کہ جو شطرنج کے کھلاڑی نہیں ہیں وہ نہ سمجھ پائے ہوں کہ قلعہ کے بغیر کھیلنے میں اور قلعہ بنا کر کھیلنے میں کیا فرق ہے تو عرض ہے کہ“ قلعہ بند کھلاڑی کے یہاں قلعہ بندی نظر آتی ہے لہذا دشمن پہلے قلعہ ڈھانے کی کوشش کرتا ہے “ اگر وہ قلعہ کے بغیر کھیل رہا ہے اور شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پانی پلا رہا ہے تو اس کی اگلی چال کا تعین کر نا ممکن نہیں ہے ۔ تاریخ میں چلے جائیں تو ایسے واقعات بہت ہیں کہ اپنی ریاستں خود مسلمانوں نے تباہ کر دیں ؟ رہے عوام وہ سب سے دھو کا کھائے ہوئے ہیں ہرا یک انہیں اپنے مطلب کے حصول کے لیئے استعمال کرتا ہے اور جب کامیاب ہو جاتا ہے تو انہیں استعمال شدہ “ نپکین“ کے تکڑے طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے۔لہذا وہ اس حدتک لا تعلق ہو چکے ہیں کہ کچھ بھی ہوتا رہے ان کی بلا سے؟ اب تک کی تاریخ یہ رہی ہے کہ عوام کے ذریعہ ہر ایک  دباؤ ڈالتا ہے؟ لیکن سمجھوتا بند کمروں میں کرلیتا ہے؟ یہ تماشہ ابھی بھی جاری ہے؟ لہذا وہ ہر ایک کو جھوٹا سمجھتے ہیں جو بعد میں ثابت بھی ہو جاتا ہے۔ رہے ً“لفظ صادق ور امین “یہ اردو کی لغت میں تو ملتے ہیں۔مگر پاکستان میں عنقا ہے؟ اس کے لیے میری بات پر مت جائے گذشتہ ا نتخابات کے دور کے اخبار اٹھا کرپڑھ لیجئے؟ ہر طبقہ کا کہتا تھا کہ“ نہ“ ہم صادق اورنہ ہی امین ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں نہ صداقت اور امانت پاکستان میں چل سکتی ہے“کیونکہ ہر شخص بے ایمانی کرنے پر مجبور ہے کہ پورا نظام ہی اس پر چل رہا ہے؟ یہ ایک مضبوط جال ہے جسے انگریزی میں“ نیٹ ورک کہتے ہیں “ اس کے تانے بانے ایک دوسرے سے جڑے ہو ئے ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے ،مگر پکڑا کوئی نہیں جاتا ؟ا س لیے کہ اس میں ا ن پردہ نشینوں نام آتے ہیں جو ان کے پیچھے ہیں کیونکہ پیسے وہاں تک پہونچتے ہیں ؟ زیادہ شور مچتا ہے تو چھاپے پڑنے شروع ہوجا تے ہیں ؟ جو کہ پہلے سے ہر کالا کاروبار کرنے والے سے طے شدہ ہے کہ تم جو چاہوکرو ؟ ہمیں ہر حالت میں اتنا دینا ہو گا؟ اور سال میں ایک دفعہ چالان بھی کرا نا ہو گالیکن ہم تمہیں نہیں،صرف تمہا رے کارندوں کو پکڑیں گے ؟ بعد میں ہم ثبوت ہی نہیں دینگے اور وہ چپکے سے چھٹ جا ئیں گے، بات ختم ہو جا ئے گی؟ چنددنوں پہلے میڈیا میں ایک خبر آئی تھی کہ ایک مقام پر چھاپہ پڑا وہاں سے ساڑھے پانچ ہزار گدھوں کی کھالیں بر آمد ہو ئیں ۔ کیونکہ آجکل گدھوں کی کمبختی آئی ہو ئی ہے؟کہ سنا ہے کہ ان کی کھال حسینوں کے افزائش حسن میں کام آتی ہے؟ چلیئے کھالیں تو وہاں کھپ جاتی ہیں، مگر انکا گوشت کہاں گیا جو ٹنوں کے حساب  سےہونا چاہیئے۔ اگر وہ لوگوں کہ پیٹوں میں نہ جا تا تو تعفن وجہ سے پورا شہر ہی سڑ جا تا ؟ کیونکہ وہاں کچرہ پھینکنے کا کوئی نظام ہی سرے سے موجود ہی نہیں ہے؟ وجہ یہ ہے اور پورا ملک اس لیے عدم تعاون کا جیتا جاگتا شاہکار بنا ہوا ہے؟ کہ ہم ہر کام الٹا کرتے ہیں!  چونکہ ہادیِ(ص) اسلام نے صفائی کو  “نصف ایمان فرمایا ہے“ اس لیے ہم کوڑا پڑوسی کے دروازے کے سامنے پھینکدیتے ہیں، جبکہ اس کو بھی سختی سے انہوں (ص)  نےمنع فرمایا ہے کہ“ اگر اپنے دروازے کے سامنے بھی کوڑا پھینکو اور س میں موسمی پھلوں کے چھلکے ہوں تو پہلے پڑوسیوں کے گھران پھلوں میں کچھ بھجوادو؟ تاکہ ان میں احسا س محرومی پیدانہ ہو“ جبکہ ہمارا عمل کیا ہے؟ ہم پڑوسیوں کو ہر کانہ اور اپنی برتری ثابت کر نے لیئے ان کے دروازے پر ڈالدیتے ہیں ؟ جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کوئی شریف آدمی اسے پھینکنا بھی چاہے تو جائے کہاں؟  جبکہ کوڑا اٹھانے کاکوئی انتظام ہی نہیں ہے۔ جہاں وہ لیجائیں اور پھینک دیں؟ شہر میں چاروں طرف  “کچرے کے ڈھیر ہیں اور وہ ہیں دوستو!  “ جبکہ اس کام کے لیئے ترقی یافتہ ملکوں میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر شہر کے باہر ڈمپنگ گراؤنڈہو تے ہیں یہ وہ زمین ہو تی ہے جو تھوڑی سی نشیبی ہو؟ اس کے لیے میونسپلٹی اپنا عملہ بٹھا دیتی ہے وہاں ٹیکس وصول کرتی ہے اور وہ کھڈا بھی بھر کر کا ر آمد بن جاتا ہے، جبکہ فالتو کوڑا بھی ٹھکانے لگ جا تاہے۔ ہر میونسپلٹی میں ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ شہرسے با قاعدہ کچرا اٹھایا جاتا ہے۔جس میں ہر گھر سے کچھ کارٹن رکھنے کی اجازت ہوتی ہے؟ اس طرح شہر صاف رہتا ہے؟ جبکہ سڑک پر کچرا پھینکنے پر سخت جرمانہ ہے ۔ جو ایک چھوٹے سے کاغذ کے تکڑے یا“ سگریٹ کے ٹوٹے“ پر بھی دوہزار ڈالر تک ہو سکتا ہے؟ لہذا ہر ایک محتاط رہتا ہے؟کراچی کے کچرے کو دیکھ کر بین لاقوامی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے؟ جی ہاں! یعنی اپنو ں میں ہی نہیں غیرو ں میں بھی اس قوم کے چرچے ہیں جہاں “ صفائی نصف ایمان ہے “ اور آبادی اٹھانوے فیصد مسلمان ہے؟ پانی کی نکاسی  کاکوئی انتظام ہی نہیں ہے مچھروں کی فزائش نسل کے لیے فضا بڑی ساز گار ہے؟ اس کے لیے عملہ بھی ہے محکمے بھی ہیں، مگر ان میں بھوت بھرتی کیئے ہوئے ہیں جوکہیں دکھا ئی نہیں دیتے جبکہ وقت ضرورت یا تنخواہ دن ان کی نمائش کردی جاتی ہے؟ اس وجہ سے تمام صفائی کام سالوں سے حکمرانوں کے ذمہ “ ا دھار “ہے اور یہ ادھار روز بروز بڑھتا جا رہاہے ، ہر خالی جگہ پر کچرے کی پہاڑیاں اُگ رہی ہیں جوکہ کراچی بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سنا ہے کہ “ یہ کام بھی اب کچھ علاقوں میں اپنے چینی بھائیوں کے سپرد کردیا گیا ہے“ کیونکہ وہ اس کے بدلے میں بقول پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے کچھ نہیں مانگتے ہیں ۔ یہ تصوراتی طور پر تو سچ ہو سکتا ہے۔ مگر عملی طور پر سچ نہیں ہو سکتا؟کیونکہ چین مدت ہو ئی سوشیلزم کا جامہ اتار کر پھینک چکا ہے اور اس نے عملی طور پر کیپٹل ازم اپنا لیاہے؟ یہ اور بات ہے کہ ہم میں احساس زیاں نہ رہا ہو؟ نظر تو ایسا آرہا ہے کہ جوکام روس اپنی پوزیشن ،مال، ااور گولہ بارود گنواکر حاصل نہیں کرسکا یعنی گرم پانیوں تک رسا ئی اس نے اسے مفت حاصل کر لیا؟ لیجئے بجٹ بھی آگیا ہے ، اعداد شمار بہت ہی امید افزا ہیں۔ اس کی صداقت اس سے ظاہر ہے کہ اس میں“ گدھوں“ کی تعداد بڑھتی ہوئی دکھائی ہے ،جبکہ اونٹوں اور گھوڑوں گھٹتی ہوئی دکھا ئی ہے؟ جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے؟
خدا نہ کرے کہ ہمیں وہ دن دیکھنا پڑے جسے نگریزی کے ایک محاورے میں کہا جاتا کہ “ کیمل ان شیخ آوٹ “  یہ اگر آپ کی سمجھ نہ آئےتو اپنے بچوں سے پوچھ لیں جنہیں آپ انگریزی اسکولوں میں انکا اور اپنا مستقل بنانے کے لیے پڑھا رہے ہیں ؟ جبکہ ہم نےاپنےعلماء کو ایک ٹی وی یہ تلقین فرما تے کہ اپنے بھائیوں کے بارے میں “ حسن ِ ظن“ رکھیں؟  ہمیں حکم بھی یہ ہی ہے مگر“ان بھائیوں“ کے لیے جوکہ آجکل ہم میں نا پید ہیں۔ اس کی تعمیل میں کیاآپ چوروں ڈکیتوں اورٹھگوں کے لیے آپنا دروازہ کھولنا پسند کریں؟ اللہ ہمیں سب کو عقل دے( آمین) کہ ہم جہاں بھی ہیں اسلام اور ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں جبکہ فلاح صرف اتبائے رسول (ص) میں ہے جس کو ہم نے چھوڑ رکھا ہے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

۔۔۔مجھے ہے حکم اذاں ، لا الہٰ الا اللہ۔۔۔از شمس جیلانی

حضرت علامہ اقبال  (رح)نے اس ایک مصرع میں ہر مومن کو اپنا یہ فرض یاددلایا ہے کہ “ ساری دنیابھی منحرف ہوجائے ،ساری ترجیحات بدل جائیں۔ مگر ایک مومن کی ذمہ داریاں نہیں بد ل سکتیں؟ اس کا کام نہ مساعد ہ حالات میں بھی کلمہ حق ادا کرنا ہے؟ ہم اس مہینے سے گزر رہے ہیں جس میں مومن کبھی رمضان کی تیاریاں قطعی مختلف طریقہ سے کیا کرتے تھے اور تیاریاں کیا ہوتی تھیں کہ روزہ داروں کو روزہ کے سلسلہ میں زیادہ سے سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی مسکین کو بھی احساس ِ کمتری نہ پیدا ہونے دیا جائے، اسے اچھے سے اچھے کھانے دیئے جائیں عید پر پہننے کے لیے نئے کپڑے دیئے جائیں؟ کیونکہ اس کا بڑا ثواب ہے۔یہ نہیں جو آج کے دور میں ہے کہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا ئے جبکہ پہلے ہی وہاں غریبوں کے جسم پر کپڑے نہیں ہیں وہ بھی اتار لیے جائیں؟ دکاندر ذخیرہ اندوزی کرنے میں لگ جا ئیں اور بازار سے چیزیں غائب کردیں۔ نوکر شاہی رشوت کے ریٹ بڑھادے کہ اس کے بچوں کو اور صاحب کے بچوں کو عید کے موقع پر مزید قیمتی کپڑوں کی ضرورت ہے؟ “ جبکہ اس کے بجائے اسلامی ذخیرہ اندوزی کا رواج تھا “ آپ میری یہ بات سن کر چونک پڑیں گے کہ “ اسلامی ذخیرہ اندوزی بھی ہوتی ہے !“ کیونکہ ذخیرہ اندوزی کا لفظ ہی برا ہے اور جس کی مذمت اسلام نے بے انتہا ہے کی ہے ؟جو مسلمان ہی رمضان میں سب سے زیادہ کرتے ہیں اوراللہ سے زیادہ ڈرنے کے بجا ئے با لکل نہیں ڈرتے!۔ جس طرح کوئی پیدا برا نہیں ہو تا ،اسے حالات اور ماحول بنا تے ہیں۔ اسی طرح کو ئی لفظ بھی برا نہیں ہوتا ہے جب تک کہ اسے بری نیت سے بروئے کار نہ لایا جا ئے؟ آپ نے یہ حدیث ضرور سنی ہوگی جوکہ متفقہ علیہ ہے اور اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔“اگر کوئی مسلمان یہ سوچ کر ذخیرہ اندوزی کرے کہ میں اسے اس وقت سستے داموں بیچ کر ان لوگوں کا مقابلہ کرونگا جو روزہ داروں کی حیات تنگ کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی کر تے ہیں تو کرنے والے کو دہرا ثواب ملے گا ،ایک رمضان میں کار خیر کرنے کا دوسرے روزے داروں پرعرصہ حیات تنگ کرنے والوں کے دل میں یہ خوف پیدا کرنے کاکہ اس نے ایک دن کے لیے بھی اپناذ خیرہ نکال کر چیزیں سستی کر دیں توان کے تمام منصوبے ناکام ہو جائیں گے۔
اسلام کے پہلے دور میں ہرایک کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ روزہ داروں کو سہولیات پہونچا ئے، اب کیا ہیں ہر ایک اپنے گریبان میں جھانک دیکھے، اپنا بار بار جائزہ لے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات بدل گئیں ہیں ان کی ترجیحات یہ تھیں کہ“ ہم دنیا میں اپنی ابدی زندگی بنا نے آئے ہیں، جبکہ آج کے نام نہاد مسلمان کی ترجیحات یہ ہیں کہ وہ اپنا ااور بچوں کا شاندار مستقبل بنا نے آئے ہیں۔ جس کے بارے میں سورہ منافقین کی آیت نمبر (9 ) میں پہلے ہی خبردار کردیا گیا ہے کہ تمہں کہیں اولاد کی محبت فتنوں میں مبتلا نہ کردے ، جو اس چکر میں پھنس گئے تو وہ خسارے میں رہیں گے “ ان تمام خطرات کو دفع کرنے اور تمام ضرور ی پیش بندیاں کرنے کے بعد اور ان بلا ؤں سے دامن چھڑانے کے بعد پھر سب اپنا یہ جائزہ لیں کے ہم توحید کے کس مرتبے پر فائز ہیں ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرماکر بات ختم کردی ہے کہ “روزے کا اجر میں خود ادا کرونگا اور یہ بھی فرمادیا ہے کہ میں سب کچھ معاف کرسکتا ہوں مگر “شرک “معاف نہیں کرسکتا ، جبکہ شرک میں ریاکاری بھی آتی ہے ۔ ریا کاری کیا ہے ہر وہ کام جو دکھاوے کے لیے کیا جائے اس طرح یہ بھی شرک میں شامل ہے کہ وہ غیر اللہ کے لیے ہوتی ہے؟ کتنی ہی اچھی عبادت ہو اگر وہ غیراللہ کے لیے ہے تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے اپنا اجر ضائع کر دیا؟ اگر وہ خالص اللہ کے لیے ہے تو یقین کیجئے آپ نے میدان مارلیا اور ان میں شامل ہو گئے جنہوں نے صرف اس کی رضا کے لیے روزے رکھے اور مہینے بھر دوسرے بھلائی کے کام کرتے رہے ؟ جنہوں اس کے برعکس کام کیا کہ“ لوگ مجھے مخیر کہیں ا نہوں نے اپنا سب کچھ گنوا دیا“ انہوں نے بھی جنہو ں نے رشوت خوری کی چوری کی کم تولا ، جھوٹ بولا اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ؟سیکڑوں کے حساب سے دسترخان سجائے۔یا سیاسی مقصد کے لیے افطار پارٹیاں کیں؟ کیونکہ اُس سے نیت چھپی ہوئی نہیں ہے جس کو کہ اجر دیناہے۔ جبکہ شیطان اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ غلط کام کرنے والے کو اس کے کیے ہوئے برے کام بھی اس کی نظر میں اچھے کر کے دکھا ئے۔ اللہ سے دعاکریں کہ شیطان کے ہرحربے سے ہم کو محفوظ رکھے (آمین) ۔
پہلے آپ خود کو شیطان کی دستبرد سے محفوظ کرنے کی کوشش کریں پھر دیکھیں کہ غیب سے کیا نمودار ہوتا ہے؟ اگر آپ اپنی تشہیر نہ بھی کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی شہرت خود دنیا والوں تک پہونچا دیگا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی پہچان کیا ہوگی ؟ اس کا جواب بہت سیدھا سادہ سا ہے ور ایک ہی شکل میں ہے کہ آپ کا دل اپنی شہرت پر خوش تو نہیں ہو رہا ؟کیونکہ حدیث یہ ہے کہ “ کسی غیر کی پرستش کرنےوالا اور اپنی پرستش پر خوش ہونے والا دونوں جہنمی ہیں “ نہ غیر کی پرستش کیجئے اور اپنے نفس کی اس خواہش کو بھی روک کر رکھیں کہ وہ توصیف اور تعریف پر خوش تو نہیں ہورہاہے؟ جو کہ صرف اور صرف راز ہے آپ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے درمیان۔ جبکہ ماحول کا یہ عالم ہے کہ آج کل ہم بری طرح شرک میں مبتلا ہیں؟
ہم اپنے پچھلے کالم میں غیروں کی عقل کا ماتم کر رہے تھے کہ وہ کس حد جاچکیں ہیں کہ جانوروں کوپوجھتے ہیں؟ لیکن لکھتے ہوئے یہ بھول گئے تھے ۔ کہ ایسے لوگوں کی ہم بھی کمی نہیں ہے۔ جومنھگو پیر پر جاکر مگر مچھوں کو پوجتے ہیں، درختوں میں درخواستیں باندھتے پھر تے ہیں ۔ ہم نے ڈھیلا پیر بھی جب انڈیا میں تھے تو دیکھے کہ وہاں سے جو گذرتا تھا تو ایک ڈھیلا اس پر ضرور چڑھا کر جاتا کہ اس کاسفر بخیر گزرے، اس طر ح بعد میں وہ ڈھیلا پیر کا مزار بن جاتا ، لٹھا پیر کے مزار بھی پاکستان میں پائے گئے کہ بعد میں انکشاف ہوا کہ یہاں لٹھا دفن ہے۔ اس معاملہ میں بنگلا دیش بھی پیچھے نہیں تھا وہاں بھی لوگ سلہٹ میں واقع ایک کنوئیں سے پانی بھر بھر کے لے جاتے تھے۔ جوکہ جلال بابا (رح) کے مزار سے ملحق واقع تھا اس کی وجہہ تسمیہ یہ مشہور تھی کہ ایک زائر حرم کی گٹھری حرم شریف میں واقع چاہ زم زم میں گر گئی اور وہ اس کنوئیں سے بر آمد ہوئی لہذا اس کا رشتہ زمزم سے ہے۔ ہر قسم کے باباؤں کا بھی ہم نے ذکر کیا ،مگر پچھلے دنوں ہم یہ خبر سنکر دنگ رہ گئے کہ ایک بالکل ہی جاہل آدمی نے ، مال کمانے کا عجب طریقہ اپنا یا کہ اس نے لوگوں کوبتایا کہ مجھے خواب میں بشا رت ہو ئی ہے کہ فلاں جگہ ایک بہت ہی مقدس“ کچھوا “ موجود ہے جس پر بہت سے مقدس نام لکھے ہو ئے ہیں۔ وہاں وہ لوگوں کو لیکر پہونچا تو گواہوں کی موجودگی میں وہ عجیب الخلقت“ کچھوا“ جس کے پیٹھ پر الٹی سیدھی لکیریں بنی ہو ئی تھیں اس نے وہاں سے بازیاب کر لیا۔ وہ اسے لیکر پنے چک سنبڑھیال پہونچ گیا اور ایک گڑھا کھود کر اس کی خانقاہ بنادی پھر کیا تھا وہاں دھمال بھی شروع ہو گیا۔ دیگیں بھی چڑھنے لگیں ۔ اور اس کی چاندی ہو گئی۔ حتیٰ کہ لوگ اس سڑے ہوئے پانی کوبھی پینے لگے اور ساتھ میں بطور تبرک لے جانے لگے ۔ جوا نسانوں کے پینے کہ قابل تو کیا خود “کچھوئے بابا کے استعمال کے قابل بھی نہ تھا“ شدہ شدہ یہ خبر تھانے تک پہونچ گئی پولس بھی آگئی۔ مگر اسے جب پتہ چلا کے یہ رکن صوبائی اسمبلی کا آدمی ہے تو وہ الٹے پا ؤں واپس چلی گئی، یا پھر اپنے حصہ طے کرکے واپس چلی گئی وللہ عالم۔ جوکہ ہر میلے ٹھیلے سے اس کا حق بنتا ہے۔ یہ اس ملک کے حالات ہیں جو اللہ کے نام پر قائم ہوا تھا اور جس کے دستور میں لکھا ہوا ہے کہ یہاں حاکمیت ِ اعلیٰ اللہ کی ہو گی۔ اور اتباع صرف رسول (ص) کاہوگا۔جبکہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں سب کچھ معاف کرسکتا ہوں مگر شرک نہیں ؟لیکن ہمارے یہاں شرک کا کیا عالم ہے وہ اس زبوں صورت حال سے اخذ کرلیجئے جو حقائق ہم نے اوپر بیان کردیے ہیں ۔ اس حالت میں کسی طرح کی نصرت کی توقع کرنا چھلنی میں دودھ دوہ کر اپنی قسمت کوکوسنے کے مترادف ہے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

آیارمضان مسلمان پریشان؟ ۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

ہمارا بچپن تھا راج بر طانیہ کا تھا ملک میں ہندواکثریت تھی چونکہ مسلمان کاروبار کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیئے وہ اس کے قریب نہیں جاتے تھے وہ انہیں کے ہاتھ میں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہنددھرم میں کھتریوں کو تیسرے نمبر پر رکھاجاتاتھا۔ پہلے درجہ میں برہمن تھے جو برہما جی کے سر سے پیدا ہوئے دوسرا درجہ چھتریوں کا تھا جن کے ہاتھ میں تلوار تھی وہ راجپوت یاٹھاکر کہلاتے تھے جو بر ہما جی کے سینے سے پیدا ہوئے تھے ا ور آخری تھے اچھوت جو برہما جی کے پیروں سے پیدا ہوئے تھے۔ جن کاکام سب کی بیگار اور خدمت کرنا اور ظلم سہنا تھا،اس میں بقیہ کل قومیں شامل تھیں۔ ہم نے بھی برہما کو تو نہیں مانا مگر ان کی یہ سماجی تقسیم مان لی جس کی وجہ سے اسلام کو بے انتہا نقصان پہونچا اس لیے کہ اسلام کی ترقی رک گئی کیونکہ اگر کسی کو مسلمان ہونے کے بعد بھی اچھوت ہی رہنا تھا تو وہ مسلمان کیوں ہوتا جبکہ اسلام میں تو سب برابر تھے اور معیار تقویٰ ہے؟ یہاں ہم ان کا ذکر اس لیئے کر رہے ہیں کہ اس کے باوجود کہ وہ اسلام نہیں لائے، مگر پاپ (برائی) اور پن (بھلائی) دونوں کو مانتے تھے۔ اور رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے شہر کے تمام بنئے منوں کے حساب سے آم کا اچار بنواکر مسلمان گراہکوں کے گھر بھجوادیتے تھے۔ کہ کچھ نہ کچھ ثواب وہ بھی کمالیں روز داروں کی سیوا (خدمت )کر کے کہ پن (ثواب) کا کام ہے؟ بعد میں اللہ نے ہمیں اپنا ملک دیدیا جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ مگر انہوں نے نفرتوں کے باوجوداپنی یہ روش جاری رکھی ہوئی ہے جس کا تجربہ چند سال پہلے ہمیں ہوا جب بھارت یاترا پر گئے اور رمضان وہاں گزارے ؟۔ جبکہ اپنے ملک کا حال یہ ہے کہ جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے اپنے ہم مذہبوں کو سہولت مہیا کرنے کے بجائے ہم ذخیرہ اندوزی میں لگ جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہر چیز کے بھاؤ آسمان کو چھونے لگتے ہیں؟ جبکہ یہ ہمیں کہا گیا تھا کہ اچھے کام میں ایک دوسرے کی مددکرو اور برے کام میں نہیں۔جب میں یہ حالت دیکھتا ہوں تو سو چتا ہوں کیا ہم واقعی مسلمان ہیں، کیا ہم نے سوچ سمجھ کر سلام قبول کیا ہے؟ اگر کیا ہو تا تو کیا ہمارا کردار ایسا ہو تا؟کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر اپنی کتابِ مقدس کی سورہ البقر ہ کے شروع میں سمجھا دیا ہے کہ“ یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے اور یہ صرف ان کے لیے ہے جو تقویٰ یاتوا ختیار کرچکے ہوں یااختیار کرنا چاہیں“ لہذا اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے ہم من اور عن قبول کرلیں ۔ ہم اگر رسمی مسلمان نہ ہو تے تو ہم ان تعلیمات کو مانتے ہو تے؟ جب اسے مانتے تو یہ بھی مانتے کہ آگے قر آن کیا کہہ رہا ہے؟ آگے حضور (ص) سے رب فرمارہا ہے کہ“ جو مجھ سے محبت کے دعوے دارہیں ان سے فرما دیجئے کہ وہ آپ کا اتباع کریں“ پھر قرآن میں اور آگے بڑھیں تو یہ لکھا نظر آتا کہ “تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کا فی ہے، اور دوسری آیت یہ بھی کہ “ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے سوائے اس کے جو ان پر میری طرف سے وحی کیا جا ئے “مگر ہمیں مسلمانوں کے کردار سے اس کے ماننے کا ثبوت نہیں ملتا اگر ملتا بھی ہے تو صرف ظاہر داری کی حد تک مگرا س پر عمل نہیں ہے جیسے کہ مال ِ کثیر خرچ کرکے ہم حج کرنے جاتے ہیں جس کے بارے میں حضور (ص) نے فرمایا کہ“ جسے حج مبرور عطا ہوجا ئے تو وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“ اور اس کی پہچان یہ بتائی کہ“ اس کی واپسی پر وہ تمام خامیاں دور ہوجاتی ہیں جو اس میں پہلے تھیں“ مگر ہم کرتے کیا ہیں بس تن پر ثوب (توب) پہن لیا سر پر عمامہ باندھ لیا اور نام کے ساتھ حاجی لکھ لیا رہا عمل رہے ویسے ہی کہ ویسے ؟
یہ ہی حال نماز کا ہے جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ“ یہ ہر برائی سے دور رکھتی ہے۔“ جبکہ حضور  (ص)نے فرمایا کہ “ مومن اور غیر مومن میں فرق یہ ہے کہ مومن نماز پڑھتا ہے اور کافر نماز نہیں پڑھتا“ ہم میں سے بہت سے اس پر عمل پیر ا ہیں مسجدیں پہلے سے کہیں زیادہ بھری ہوئی ہیں کیونکہ الحمد للہ بہت سی جماعتیں اس کی تبلیغ پر اپنے شب وروز اور مال کثیر خرچ کر رہی ہیں۔ لیکن انہوں نے بھی اپنی جدوجہد میں سے اسلام کے سب سے اہم رکن کو چھوڑ دیا ہے جسے  “تزکیہ نفس “کہتے ہیں جوکہ صرف حضور(ص) کو عطا ہوا تھا اس لیے کہ یہ انکی اکملیت کا تقاضہ تھا اور ان کے بعد ہمیں چونکہ حضور (ص) کی نیابت کامنصب ہمیں بطور امتی سونپا گیا ، چونکہ کہ ان کے بعد کوئی نبی(ع)نہیں تھا۔ جو دوسرا رکن نظر انداز کیاگیا وہ بندوں کے ساتھ معاملات تھے(حقوق العباد ) اس لیے اس ادھوری تبلیغ سے وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جو نمازی کی پہچان ہے ابھی رمضان آنے پر دیکھئے گا جو کبھی پورے سال مسجد میں نہیں دکھا ئی دیتے ہیں وہ بھی وہاں نظر آئیں گے؟ لیکن اس سے پہلے ہم اس کے استقبال کی جو تیاریاں کرتے ہیں ملاحظہ فرماتے رہیں کہ ذخیرہ اندوزی شروع ہوجاتی ہے، ہر چیز بازار سے غائب ہوجاتی ہے۔ اسی مال سے ایک طرف تولوگ ثواب کے لیئے روزے کھلواتے نظر آئیں گے تودوسری طرف بازار کے بھاؤ آسمان سے باتیں کر رہے ہونگے ۔ اس لیے کہ ان کا ان اسلامی تعلیمات پرایمان نہیں ہے کہ “ جھوٹا ہم میں سے نہیں ہے ،ذخیرہ اندوز ہم میں سے نہیں ہے“ نتیجہ یہ ہے کہ ہم دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں اور ظلم اس پر یہ بھی کہ قسم بھی اللہ کی کھاتے ہیں کہ قسم اللہ! کی ہمیں یہ چیز اس بھاؤ پڑی ہے؟ (جبکہ رمضان شریف سے چنددنوں پہلے وہ اس سے آدھی قیمت میں پڑی ہوتی ہیں مگر خریدی انہوں نے اپنے بیوی اور بچوں کے نام سے ہوتی ہے ان ہی سے مہنگے داموں خریدکر حاجی صاحب برابر میں فروخت کر کے روزے داروں کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں)، جب کہ یہ احادیث ہر طرف کتبوں کی شکل میں آویزاں ہوتی ہیں کہ “کم تولنے والا ہم میں سے نہیں ہے، ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ، افسروں کو ناجائزمال کھلانے والا ہم میں سے نہیں ہے رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں، دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے“ جبکہ یہ تنبیہ بھی ہے کہ اس کے گلے میں ساتوں زمینی طبقوں کے طوق لاکر ڈالے جائیں گے جو کسی کی ذراسی بھی زمین نا جائز طریقہ سے قبضہ کرے گا۔اس طرح ہم اس رمضان کو کھودیتے ہیں حاصل کچھ نہیں کرتے! جس کے بارے میں حضور (ص)  کاارشاد یہ ہے کہ “وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان کا آخری عشرہ پایا اور اس نے اپنی جہنم سے نجات نہیں کرالی؟ اس پر بھی سب کے سب متفق ہیں کے رمضان رحمت کامہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندو ں پر رحمتیں عام کردیتاہے۔ مگر ہم بجائے اس کی رحمتوں سے فیض یاب ہو نے کہ اس مہینے میں سب سے زیادہ برائیاں خود کرکے ا نعامات دونوں ہاتھوں سے سمیٹ نے کہ بجا ئے غضب کودعوت دیتے ہیں؟ کیونکہ ہمارا وہ اخلاق ہی نہیں بن پاتا جو کہ حضور (ص) کے نقش قدم پر چلنے سے بن سکتا تھا۔ مثلاًانہوں نے فرمایا کہ میں مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ اور ہم پورے مہینے صبر کرنے کے بجا ئے مغلوب غضب دکھا ئی دیتے ہیں ہر ایک کو کاٹنے کودوڑتے ہیں کہ ہمارا روزہ ہے؟ بازاروں میں شور مچارہے ہوتے ہیں ، ہر ایک سے لڑرہے ہوتے ہیں کہ ہمارا روزہ ہے ۔جبکہ قرآن بازاروں میں شور مچانے کی سخت مذمت کرتا ہے اور عبادات جتانے سے منع کرتا ہے ، حضور (ص) اور مسلمانوں کی تعریف کرتا ہے کہ“ وہ بازروں میں شور نہیں کرتے“ لیکن ہم شور برپا کر نا اپنا حق سمجھتے ہیں جہاں بھی ہو تے ہیں؟ اور زیا دہ تر اس فارمولے پر عمل کرتے ہیں کہ بجا ئے دلیل کے آواز کے زور پر لوگوں کو مرعوب کرو ؟ جبکہ قرآن نے سورہ لقمان میں سب سے بری آوازگدھے کی بتا ئی ہے ۔ جاہلوں کی بات چھوڑ دیجئے ہمارے اعلیٰ تعلیم یا فتہ لوگ جن سے معاشرہ بنتا ہے انہیں ٹی وی ٹاک شو میں جا کر دیکھ لیجئے کہ کتنا چیخ رہے ہوتے ہیں اور جھوٹ کے دریا بہا رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ مہینہ وقت کی پابندی کا سبق دیتا ہے جس میں ہم دنیا کی قوموں سے بہت پیچھے ہیں، اللہ نے سورہ والعصر میں اس کی قسم کھا کر وقت کی اہمیت جتائی ہے اور“ ہمیں اپنا وقت صرف بھلائی میں خرچ کرنے کی تلقین کی ہے“حتیٰ کہ رمضان گزر جاتے ہیں عیدآجاتی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ اسکا انعام کیا ہے جس مزدور نے ایمانداری سے مزدوری کی؟ تو وہ جواب دیتے ہیں۔ کہ ا س کی اجرت فوراً ادا کر دینا چاہیئے اور اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتا ہے میں نے سب کو بخش دیا ۔ مگر یہاں بھی کسے! صر ف انہیں جنہوں نے مزدوری ایمانداری سے کی ہو؟ وہ وہاں کیا منہ لے کر جا ئیں گے جنہوں نے پورا مہینہ برائیوں میں گزارا ہوگا یا وہ دونوں کام ایک ساتھ کرتے رہے ہونگے؟پھر وہ اسی طرح عادتا ًعمل کرتے ہو ئے سورہ التکاثر تک پہونچ جا تے ہیں ۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے خبردار کردیا ہے کہ “ تم کیا اسوقت سمجھو گے جب قبر دیکھ لوگے“اس کی تفسیر میں ایک حدیث آتی ہے ۔ کہ “ قیامت کے دن سب چیز کا حساب لیا جا ئے گا؟ “سوائے ان کے جن کے پاس سرچھپانے کے لیے جھونپڑی ،تن ڈھاپنے کے لیے کپڑے اور پیٹ بھر نے کے لیے روٹی ہو۔ اس کے علاوہ اور کوئی چیز مستثنیٰ نہیں ہوگی۔ حتیٰ کہ وہ پانی بھی نہیں جو نماز کے لیے وضومیں بیجا استعمال ہوا ہو؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی فہم عطا فرمائے اور نیک کام کرنے اور برائیوں سے بچنے کی توفیق بھی تاکہ ہم اس مقدس مہینے سے فیض یاب ہوسکیں ۔(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

پریشنانی صرف عوم کامقدر ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

کہاوت ہے کہ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر مگر نقصان خربوزے کا ہی ہوگا؟ ایک مدت تک عوام بحث اورمباحثہ سنتے رہے  حتیٰ کہ اپنا قیمتی سال ضائع کردیا جب مقدمہ فائنل میں پہونچا تو فیصلہ محفقوظ ہوگیا۔ اللہ، اللہ کرکے تاریخ کا اعلان ہوا اسی دن سے یہ بحث شروع ہوگئی کہ فیصلہ کیاہوگا۔ اور سلسلہ میں عمائدین اور دانشوروں نے آراءاتنی فراخدلی دیں کہ  یہاں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا؟ مگر ہمیں ان میں دو آراءبہت پسند آئیں ایک وزیر اعظم صاحب کی کہ“ ہمیں عوام نے ووٹ کام کرنے کے لیے دیئےہیں؟ عدالتی فیصلوں کا انتظار کرنے کے لیے نہیں یعنی وہ اپنا کام کرتی رہیں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے؟ جبکہ دوسری صائب رائے سابق گورنر عشرت عباد صاحب کی تھی کہ فیصلہ جیسا بھی ہو گا وہ تاریخی ہوگا۔ جس وقت یہ مضمون آپ کے ہاتھ میں پہونچے گا فیصلہ آچکا ہوگا مگر ہم کیا کریں کہ ہمارا دن مقرر ہے جو ہم نے خود کیا ہوا ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا ،صرف ایک مرتبہ ہوا تھا تو ٹیلیفونوں کاتانتا بند ھ گیا کہ لوگ سمجھے کہ ہم جہان ِ فانی سے سدھار گئے۔ جب سے ہم اور بھی محتاط ہوگئے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار صدمہ نہیں پہونچا نا چاہتے ، رہے دشمن وہ ہم نے بنا ئے ہی نہیں کیونکہ ہمارے سامنے ہمیشہ قرآن کی وہ آیت رہتی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب (ص)  سےفرمایا کہ “  برائی کا بدلہ ہمیشہ بھلائی سے دو، معافی اور در گزر سے کام لو، تمہارے دشمن دوست بن جائیں گے! مگر یہ کام بڑا مشکل ہے اورجوان مرد ہی کرتے ہیں، اور جوواقعی بدلہ لینا چاہے وہ اتنا لے جوانصاف کا تقاضہ  ہےاس لیے کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ یہ آخری عبارت اس کی شان ِ نزول بیان کر رہی ہے۔ کہ یہ دراصل حضور (ص) کے لیے نہیں ، ہمارے لیے ہے، وہ تو پہلے ہی سے اس پر عامل تھے ۔ مگر ہم انتقام میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ روز زیادتیوں کی تاریخ رقم کرتے رہتے ہیں؟ معمولی بات پر خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ وہ آیت بھی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرما یا کہ “ معاف کرو تا کہ معاف کیئے جاؤ  “
کچھ دن پہلے ایک جج صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ یک ایسا فیصلہ ہوگاجو بیس سال تک یادر کھا جا ئے گا ،دوسرے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا کہ ہم نے جواپنے دور میں کام کیا ہے وہ چالیس سال تک یا درکھا جائے گا۔ ہمارے خیال میں فیصلہ کاایک رخ یہ بھی ہو سکتا جو کل بھارتی عدالتِ عالیہ نے کیا کہ ایک ملزم کو چھوڑ کر باقی سب کو ملزم قرار دیدیا اورمقدمہ ماتحت عدالت ب میں بھیجدیا؟ جو وہ پہلے بھی ایک دفعہ بھیج چکی تھی۔ جبکہ ماتحت عدالت نے سالوں مقدمہ چلا نے کے بعد سب کو بری کردیا تھا۔
مگر ہم عشرت عباد صاحب کی ا س دانشوری کی داد دینا چاہیں گے جو اس میں پنہاں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سندھ جیسے صوبے کے تقریباً گیارہ سال  تک کامیاب گورنر رہے؟ کہ ان کی  پیشگو ئی میں غلط ہونے کا امکان ہی نہیں ہوتا ہے؟ کیونکہ پاکستان میں عدالتی تاریخ لاجواب بھی ہے اورا سکا الٹ بھی ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ اس طرح کہ جب پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی پہلی پارلیمان کو بر طرف کیا تو سندھ کی چیف کورٹ نے اسکے خلاف فیصلہ دیااور جج امر ہوگئے ۔میں نے یہاں “ امر  کاًلفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں دوجج غیر مسلم اور ایک مسلمان جج جسٹس ظہیر الحسن لاری تھے۔ جو پاکستان کے معماروں میں سے تھے۔ اسوقت سپریم کورٹ نہیں بنی تھی فیڈرل کورٹ تھی حکومت اپیل میں چلی گئی اور وہاں چیف جسٹس منیر صاحب نے پہلی دفعہ نظر یہ ضرورت پاکستان میں متعارف کرا یا جوبعد میں رواج پا گیا کہ سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ کل عدم قرار دیدیا۔ اس حوالے سے صرف انہیں کا نام تاریخ میں ہے جنہوں خلاف فیصلہ دیا تھا ؟ جبکہ دو اور بھی جج صاحبان تھے جو ان تین کی طرح عوام میں شہرت نہیں پاسکے؟ جبکہ وہ بھی جج  تھے مگر مشہورجسٹس لاری، جسٹس کارنیلیس اور جسٹس منشی ہیں ، ۔کیونکہ برائی کوئی بھی اس زمانے میں ا پنانے کو تیار نہیں تھا بھلائی  سب اپنے نام کر نا چاہتے تھے ۔ نہ ہی لوگ دوسرو ں کے مارے شکارے اپنے نام کرنے کے ماہر تھے، جیسے کہ آپ آجکل دیکھ رہے ہیں کہ ہر لیڈر چائنا سے دوستی کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ میں نے کی ہے۔ مگر اس کا کہیں ذکر نہیں ہے جس نے کمیونسٹ چائنا جاکر جراءت دکھائی جن کانام حسین شہید سہروردی تھا جبکہ ان سے پہلے ایک وزیر اعظم چائنا جاتے ہوئے ہانگ کانگ سے بلایا جا چکا تھا چھوڑئیے تاریخ کو ۔
سنئے انتظار کی گھڑیاں ختم ہو ئیں اوراب فیصلہ سماعت فرمائیں جو کہ پانچ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے لہذا کم از کم ہفتہ بھر کا کھانا ساتھ رکھ کر بیٹھیں۔ فیصلہ کیا ہے ایسا سمجھ لیں کہ عمر عیار کی زنبیل ہے کہ جس میں سب کچھ ہے۔ اگر نہیں ہے تو فوری طور پرکوئی عوام کے لیے خوشخبری؟ عدلیہ بھی کیا کرتی کہ چھ ہزار دستاویزات مدعیان کی طرف سے پیش کی گئیں تھیں، اس بنیاد پر کہ پہلے ایک چیف صاحب نے ا خبار کے تراشے قبول کر کے انہیں دستاویزات کا درجہ عطا فر مادیا تھا۔ جبکہ موجودہ بنچ میں ایک جج صاحب کی رائے یہ تھی کہ اخبار پکوڑے باندھ کے دینے کے کام تو آسکتے ہیں مگر ثبوت میں پیش کر نے کے کام نہیں آتے؟ جب کہ ایک قانون دان اورممبرِ اسمبلی نے فرمایا کہ جو قطری شہزادے کاخط ہے وہ پکوڑے لپیٹ کر دینے کہ کام بھی نہیں آ سکتا یہ دعویٰ بنچ نے اسے رد کرکے مان لیا ۔ پہلے جج نہ ٹی وی دیکھتے تھے نہ اخبار پڑھتے تھے تاکہ وہ خبروں سے متاثر نہ ہوں؟ اب ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی شادی شدہ ہو اور ایک ہی گھر میں رہتا ہو میاں ، بیوی میں نا چاقی  بھی نہ ہو اور وہ ٹی وی سنے بغیر رہ سکے،کہاں تک کان بند رکھے گا۔ کل ہی ہندوستانی عدالت کا فیصلہ آیا تھا۔ جس میں ایک  کوچھوڑ کر باقی“ بی جی پی“ کہ تمام عہدے داروں کو ملزم قرار دیکر ذیلی عدالت کو دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے ؟ جن کو پہلے ذیلی عدالت بری کرچکی تھی۔ جبکہ موجودہ فیصلہ میں اصل ملزم انہیں قرار دیا ہے جو گجرات سے “ رام رتھ “ پر بیٹھ کر بابری مسجد کے خلاف نفرت پھیلانے کے ذمہ دار تھے؟اس وقت چونکہ موجودہ وزیر اعظم صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ ہونے وجہ سے اس قافلے میں شامل نہ تھے۔ اور مسلمانوں کے قتل عام ِ میں مصروف تھے لہذا انہیں غیر حاضری کا فائدہ دیتے ہو ئے بری کردیا کہ وہ تو موجود ہی نہیں تھے کیونکہ وہ تو وہاں “ مسلم نسل کشی “کا مقدس کام انجام دے رہے تھے۔ بیچارے بے قصور ہیں۔ کہیں اس فیصلہ کی روح اثر اندازی نہ کرے اور اس نے کہیں وہی کام نہ کیا ہو جو ایک کوئے نے “ قابیل “ کے لیے کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کا جنازہ کیسے دفن کرے ؟ اس تمام فیصلے کا لبِ لباب یہ ہے کہ جی آئی ٹی بناکر وزیر اعظم کو تھانیداروں اور آفیسروں کے سپرد کردیا! تاکہ اتنا وقت مل جائے کہ دوسرے الیکشن میں کامیاب ہوسکیں ،کیونکہ الیکشن میں کامیابی کا انحصار الیکشن مشنری کے موزوں کل اور پرزے بنا نے سے شروع ہوتا ہے سب سے پہلے تو حلقہ بندی کاکام ہوتا ہے؟ اس میں اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ حلقے ایسے کاٹے جائیں کہ اس میں اپوزیشن کی اکثریت نہ ہو؟۔ لہذا ہر حلقہ بندی  کےوقت برسرِ اقتدار پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کمیٹی کے لیے ممبر نامزد فرمائیں جو پریزائڈ نگ آفیسر وغیرہ مقرر کرتی ہے تاکہ وہ انکے مفادات کی دیکھ بھال کریں؟ اور وہ سارے آدمی اور خواتین پولنگ ااسٹیشن پر تعینات کروالیں ہیں جو انکے پسندیدہ ہوں ۔ اس کے بعد وہ کھیل شروع ہو تا ہے کہ آؤ سکھی الیکشن الیکشن کھیلیں؟ انشا اللہ یہ سال اسی کام میں نکل جا ئے گا ۔ اور وہی ہوگا جو کہ ایک وزیر با تدبیر کہہ رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں بھی ہم جیتیں گے۔ فیصلے کا کمال یہ ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں ہی خوشی منا رہے ہیں مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں کہ ہم جیتے ہیں حالانکہ عدلیہ نے فیصلہ میں ایسے کئی پہلو رکھے ہیں جوجیت ہار میں بدل سکتی ہے ،پھرا ن کانام  بھی تاریخ میں ہمیشہ یادرکھاجاائے گا ؟ صرف پی پی پی والوں کا کہنا ہے کہ فیصلہ ہم نہیں مانتے ؟ جوکہ مقدمہ میں فریق ہی نہیں تھے۔ اس پر ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا ایک صاحب جو ہمارے اس زمانے میں ساتھی تھے۔ جبکہ ایوب خان کا آخری دور تھا اب پتہ نہیں وہ حیات یا نہیں ہیں کیونکہ بعد میں وہ پیر پگارا صاحب کے پاس چلے گئے تھے ۔ ہم برے وقتوں میں بھی ان کے ساتھی اور ایوب خان کے حق میں جلوس نکالنا چاہتے تھے جبکہ سب ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے معززین شہر کی ایک میٹنگ بلائی اس کا ایجنڈہ یہ تھا کہ جلوس نکالا جائے یا نہ نکالا جائے ؟ اس نے ڈی سی کہا کہ بہتر یہ ہے  کہ رائے شماری پہلے ہاتھ ا ٹھواکر کرالی جائے کہ کتنے جلوس کے حق میں ہیں اور کتنے خلاف ؟ ڈپٹٰی کمشنر کے بات سمجھ میں آگئی اور اس نے رائے شماری کرائی تو وہ اکیلے جلوس کے حق میں نظر آئے؟ اس نے ایجنڈے کا حوالہ دیکر کہا کہ صاحب انہیں باہر نکال دیجئے کیونکہ یہ اس کے حق میں نہیں ہیں صرف میں ہوں لہذا مجھ سے بات کیجئے؟ ان کا معاملہ تو ہے یہ؟
اگر کسی کی سوچ یہ ہے کہ“ جی آئی ٹی“ کے سامنے کوئی جانے سے شرماجا ئے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ا سلام سے بہت دور جاچکے ہیں اور حضور  (ص)کا فر مان ہے  کہ “حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں “ رہایہ کہ فیصلہ  واقعی تاریخی ہے اور کسی ملزم کو مجرم بنا نے کے لیے دونوں فریقوں کو سننا نہ صرف قانون میں ضروری ہے بلکہ ارشادات نبوی  (ص) کے مطابق لازمی ہے ۔ اگر یہ تمام تقاضے پورے کیے گئے تو ہمارے خیال میں تو یہ فیصلہ بیس سال نہیں، بلکہ تاقیامت یاد رکھا جا ئے گا۔ اور اگر اس میں نظریہ ضرورت کی روح درآئی تو۔۔۔۔؟  پھراللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو اپنے ہر عذاب سے محفوظ رکھے( آمین)

شائع کردہ از Articles, Uncategorized | ٹیگ شدہ ,

ممنونیت ا چھی تو ہے ایسی بھی کیا؟از۔۔۔شمس جیلانی

پچھلے دنوں صدر پاکستان نے فرمایا تھا کہ “میری کوئی سنتا ہی نہیں“ اور پرسوں کوئٹہ میں فرمایا کہ “ ہم نے ملک میں بد عنوانی کے تمام دروازے ہی بند کر دیے ہیں “ا ن متضاد بیا نات کو دیکھ کر ہم سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ کس کو سچ مانیں کس کو غلط۔ اس لیے کہ ہمارے یہاں صدر ِ جمہوریہ انتہائی محترم ہوتا ہے اور اس کے ٹرم آف ریفرنس میں اس قسم کے بیانات جاری کرنا اس کے فرائض منصبی میں شامل ہی نہیں کیونکہ وہ آئینی سربراہ ہوتا ہے اورا س عہدے کے احترام کاتقاضہ یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں کہے جو میڈیا میں زیر بحث آئے ؟ پھر تضادکی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ممنونیت کی بھی اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کے ہم ممنونیت کے خلاف ہیں کیونکہ حضور(ص) کاا رشادِ گرامی یہ ہے کہ“ جو بندو ں کا شکر گزار نہ ہو وہ خدا کا کیا ہو گا “ لیکن اس بحث سے ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ممنونیت تو ہمارے ایمان کا جز ہے مگر توازن شرط ہے؟ مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں جس کو جو بھی عہدہ مل جائے وہ کبھی ٹی ۔او۔ آر۔ کا پا بند نہیں رہتا؟اب آپ پوچھیں گے کہ پاکستان کی سرکا ری زبان تو اردو ہے ؟ یہ ٹی ۔ او ۔ آرکیا بلا ہے؟ پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ جبکہ ہمیں قرآن میں اس پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرماکر متنبہ کیا ہے کہ “ مسلمانوں وہ کہتے کیوں ہو، جو کہ کرتے نہیں ہو اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے“ جب کہ ہماری ضد یہ ہے ہم وہی کریں گے جو ہماری مرضی ہوگی۔ اور پھر یہ بھی ضد ہمیں کہو بھی مسلمان ؟ جبکہ مسلمان آزاد نہیں ہوتا اسکی کل زندگی دائرہ اسلام کے اندر گھومتی ہے جوکہ اسوہ حسنہ (ص) گرد گھومتا ہے اور اسوہ حسنہ (ص) کیا ہے؟ وہ وحی جلی اور وحی خفی کا وہ عملی مظاہرہ ہے جو حضور (ص) نے ہمیں کر کے دکھایا اور ہم کو ان کا اتباع کرنے کے لیے ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پابند فرمادیا؟
گوکہ دستور کے تحت پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر عدالت عظمیٰ کی بار بار کی تنبیہ کے باوجود ہم کام سترسال سے انگریزی سے ہی چلا رہے ہیں ؟ رہے ٹی۔او ۔ آر کے معنی تو جواباً عرض ہے کہ یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے اور مخفف ہے ٹرمس آف ریفرینس (Terms of reference)جو کہ یورپ میں عام بولا جاتا ہے ۔وہاں ہر ایک اپنے عہدے کاچارج لے نے سے پہلے اس کا بغور مطالعہ کرتا ہے اور اگر کوئی نیا عہدہ تخلیق ہو تو بھی اس کا سب سے پہلے ٹرمس آف ریفرینس بنتا ہے پھر کسی کا اس پر تقرر ہوتا ہے؟چونکہ پاکستان میں یہ سب چیزیں موجود ہیں مگر ان پرعمل کرنے کا رواج نہیں ہے لہذا بہت سی چیزوں کی طرح یہ بھی بے مصرف تھا شیلف پر رکھا ہوا تھا؟ جبکہ پاکستان میں وزیر بے قلمدان بھی ہوتا تھا حاکم بے محکمہ بھی تھے ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ کوئی اگر کسی صاحبِ  اختیارکی بہن، کسی کا بیٹا یا بیٹی ہو تو اس کے اختیارات بغیر عہدے کے بھی لامحدود ہوتے ہیں؟ ایسے میں ٹرمس آف ریفرنس شہِ فضول ہونے کی وجہ سے شیلفوں میں دبا پڑا تھا، استعمال نہیں ہورہا تھا؟ پھر کسی نے نکالا اور وہ رواج پاگیا؟ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ“ پناما لیکس“ کے مقدمہ میں،کبھی بینچ کی تشکیل کے سلسلہ میں تو کبھی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں یہ بار بار زیر بحث آتا رہا اور چونکہ اب یہاں رواج پاگیا ہے لہذا آجکل ہر ایک کی زبان پر ہے؟ کیونکہ ہمارے ہاں قاعدہ یہ ہے کہ جس طرح کوئی کسی قسم کی چوری کوچوری نہیں سمجھتا! جیسے ادب وغیرہ، بشمول ِبھینس کی چوری کہ اسی طر ح کسی کے تکیہ کلام کو اپنا تکیہ کلام بنا لینا بھی معیوب نہیں سمجھتا ؟ مثال کے طور پر ایک ادارہ منہاج القرآن کے بزرگ سیاست میں وارد ہو ئے تو ان کا تکیہ کلام تھا “ کٹاگوریکلی “ (Catagorically )اسے لوگوں نے سنا اور اتنا پسند کیا کہ گرہ میں باندھ لیا اب آپ جس چینل پر بھی چلے جائیں وہاں آپ کو “کٹا گوریکلی “سننے کو ملے گا ۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہمیں صف بندی کی شکل میں تنظیم سکھائی گئی ہے نقل بھی با جماعت ہی کرتے ہیں ؟ لہذا ہم بھی آج ٹی۔ او۔ آر کی شکل میں ؟اپنے ہم وطنوں کا اتباع کر رہے ہیں تو تعجب کی بات کیا ہے۔ چونکہ ممنونیت پاکستان میں عام طور پر آجکل استعمال ہو رہی ہے لہذا ہم بھی آج دل کھول کر اس پر بات کر رہے ہیں تاکہ اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دے سکیں تو حیرت کی بات کیا ہے ؟جبکہ پاکستانی ہمیں پاکستانی ماننے کو تیار نہیں ہیں جو اس سے ثابت ہے کہ وہ ہمارے محنت سے کما ئے ہوئے ڈالر تو رکھ لیتے ہیں مگر ہمیں ووٹ کاحق دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اور وہ ہی کیا آجکل کو ئی بھی کسی کا حق ماننے اور دینے کو تیار نہیں ہے؟مثلا ً امریکہ کے نو منتخب صدر روس کے ویٹو پر تو چراغ پا ہیں جو اس نے شام کے خلاف ایک قرارداد پراستعمال کیا ہے؟ اور جواب میں انہوں نے انہیں جانے کیا کیا کہہ ڈ الا ؟ جب کہ امریکہ 1948 سے عزرائیل کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کرتا آرہا ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ جرم تقریبا سب نے ہی کیا ہے یہ اور بات ہے کہ کسی نے کم کسی نے زیادہ ؟ کیونکہ اقوام متحدہ کی بنیادرکھنے کے ساتھ ہی اس کے پانچ رکن ملکو ں کو جو مستقل رکن کہلاتے ہیں، یہ حق اس لیے دیا گیا تھا کہ اگر کوئی نا انصافی کرے تو دوسرا اس کو روک دے مگر ہوا یہ کہ وہ بجا ئے ظالموں کے خلاف استعمال ہونے کہ ان کے حق میں استعمال ہوتا رہا؟نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ادارہ جو اس لیئے قائم ہوا تھا کہ یہ تحفظ فراہم کرے ،کہ آئندہ جنگ نہ ہو ؟ اس کا اس کا الٹ کرنے پر مصر رہا اور اس کی قراردا دوں کی کوئی وقت بھی نہ رہی؟ بس جس مسئلہ پرسب متفق ہوگئے تو اس کو دنیا کے لیے “ ہوا “ بناڈلا اور تباہ کرکے بھی نہیں چھوڑا یا بعدمیں ًسواری ً (sorry)کہتے ہو ئے چلے گئے جیسے کہ صدام اور عراق کا معاملہ ، لبیا کا معاملہ ۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ تیسری بین الاقوامی جنگ بھی برپا ہو نے ہی کو ہے اور وہ کسی وقت بھی شروع ہوسکتی ہے۔ جس طرف بھی دیکھئے جنگ کی چنگاریاں سلگتی نظر آرہی ہیں ؟ ہمارے کچھ علما ءتو کہتے ہیں وہ آگ تو گزر چکی جس کی حضور (ص) نے یمن سے شروع ہونے کی پیش گوئی فر مائی تھی کہ “ وہ یمن سے شروع ہوکر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی “جبکہ کچھ علماءاس کے حامی ہیں کہ نہیں وہ ابھی ہونا باقی ہے ہماری ناچیز رائے ان کے پڑلے میں ہے؟ وہ اسوقت بھی سلگ رہی ہے اور اس کے مقابلے میں 39 مسلمان ملک اپنی فوجیں بھی اسکی سرحد پر جمع کر رہے ہیں؟ اس میں ایک جوہری طاقت رکھنے والا ملک بھی شامل ہے۔ دوسری طرف دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر یہ ہی رفتار رہی تو ساری دنیا کانظام ہی درہم بر ہم ہو جائے گا اور شاید یہ ہی جنگ پوری انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ نہ بن جا ئے؟  افسوس ان سیٹھوں پرجن کی تجوریاں بھری کی بھری رہ جائیں گی ، ان کو خرچ کرنے کا موقعہ بھی نہ ملے گا ؟ کہ اس کی راہ میں خرچ کر کے وہ سکہ وہ کماسکیں ؟ جو کہ اس وقت کاسکہ ہو گا اور جب ہرایک کی ا للہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہو گی۔ اس وقت نہ وکیلوں  کےہتھکنڈے چلیں گے نہ جھوٹے گواہوں کی گواہی چلے گی ۔ کیونکہ منصف ذاتی طور پر سب کچھ جانتا ہو گا ؟ مگر انصا ف کے تقاضے پو رے کر نے کے لیے؟ وہ ملزم کے ا پنے اعضا ءکو قوت ِ گویائی عطا کر دیگا جو اس کے خلاف بول رہے ہوں گے، وہ اس زمین کو بھی قوتِ گویائی دے دیگا جس پر گناہ سرزد ہو ئے ہو نگے؟ اس دن سب سے زیادہ خسارے میں وہی لوگ ہونگے جو یہاں آج تجوریوں پرتجوریاں بھر ر ہے ہیں وہ نہ ا ن کے کام آئیں گی، نہ ان کے وارثوں کے ؟ جب کہ چاروں طرف سے فریادی ٹوٹے پڑ رہے ہونگے؟ جوا س کے منکر ہیں ان کے لیے میں لمحہ فکریہ چھوڑ رہا ہوں کے اگر یہ سب نہیں ہونا ہے جو قرآن کہہ رہا ہے اور حضور (ص) فرما  گئے ہیں ؟ تو وہ صرف کسی ایک آدمی کو زندہ کر کے دکھا دیں جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوچکا ہو، اور روح نرخرے میں پھنسی ہوئی ہو ؟ میں ان کی بات مان لونگا ؟ یا وہ پھر یہ بات مان لیں کہ یہ سب کچھ ہونا ہے؟ اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اس لیے کہ دنیا کی بقا کاراز اسی میں ہے کہ“ جو اپنے لیے چاہو وہ اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو “ جب بھی کسی قوم نے انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ہے وہ ہمیشہ تباہ ہو ئی ہے ؟ اب حالات ایسے ہی پیدا ہوتے جا ر ہے ہیں کہ پوری دنیابے انصافی پر کمر بستہ ہے؟ تو بے انصافی کا مدا و کون کریگا ؟ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاارشاد گرامی ہے کہ “دنیا بغیر غذا کے تو زندہ رہ سکتی ہے مگر بغیر انصاف کے نہیں ؟ اللہ ہم سب کو اس عظیم تباہی سے محفوظ رکھے (آمین)

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہرمسئلہ کو اٹھانے کے لیے حادثہ ضروری ہے۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستانی قوم ہر مسئلہ کو اٹھانے کے لیے حادثے کی محتاج ہے؟ یہ بات اس لیے کہنا پڑی کہ جب کوئی حادثہ ہوجائے جب ہی عوام اور خواص دونوں کی آنکھیں کھلتی ہیں ور نہ وہ آرام سے چادر اوڑھے سوتے رہتے ہیں۔ جس کا ثبوت سرگودھا میں ایک مزار پر بیس انسانوں کا قتل ہے؟ اس توہم پرستی کے ہاتھوں ایک مدت سے پاکستانی ڈسے جارہے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعدجب کوئی حادثہ رونماہوجاتا ہے تو کچھ ہل چل ہو پیدا جاتی تی ہے؟ پکڑ دھکڑ بھی ہوتی ہے لیکن اس میں کچھ شیرینی ایسی ہے کہ ہر برائی کی طرح یہ برائی بھی اپنے محور پر بہت تیزی سے پھر سے گھومنے لگتی ہے۔ کئی بار پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ کبھی سو سالہ بنگالی بابا پکڑے گئے۔ ااور جب انکی وگ اتاری گئی تو اندر سے نوجوان نکلا؟ تھوڑے دن خبروں میں آئے پھر کوئی اور واقعہ ہوگیا؟ سب کی توجہ اس طرف مبذول ہوگئی اور بنگالی بابا پھر وہیں بیٹھ کر کاروبار کرنے لگے ، جنہیں نہیں پتہ تھا وہ بھی جان گئے کہ بابا ہیں با کمال آدمی؟ جبھی تو چھوٹ گئے کہ بجائے جیل کے گدی پر بیٹھے ہیں اور اس طرح ان کے دھندے میں اور بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جو کہنے کی حد تک توتوحید پرستی کی دعوےدارہے؟ لیکن عملاً توہم پرستی کی وجہ سے وہ اتنے شریکوں کو پوجتی ہے جن کی تعداد خود انہیں بھی نہیں معلوم ؟ چونکہ یہ کاروبار ہر قسم کے ٹیکس اور لائسنس سے مبرا ہے۔ لہذا یہ ا ربوں اور کھربوں روپیہ بغیر ٹیکس ادا کیے بے حساب مال بنارہے ہیں ۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کچھ توایسے ہیں کہ ان کے ضلعوں میں سارے بڑے افسر ان کی آشیر واد کے بغیر تعینات ہو ئی ہی نہیں سکتے؟ وہاں آفیسرعہدے کا چارج بعد میں سنبھالتے ہیں۔ پہلے سائیں کے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں منصب دار ہوا کرتے اور وہ پانسو سے شروع ہوکر یک ہزاری، پنج ہزار ی اور لاکھوں تک پہنچ جاتے تھے۔ اب اس میدان بھی جو کبھی ایک مرید سے شروع ہوا ہوگا اور پھر گدیوں کے وراثت میں تبدیل ہونے کی بنا پر مریدوں کی تعداد لاکھوں تک پہونچ جاتی ہے ؟کیونکہ شادیاں تک گدیداروں میں آپس میں ہوتی ہیں اور اکثر گدیاں جہیز میں ملنے کی وجہ سے مریدوں کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرجاتی ہے؟ چھوٹی گدیاں بھی بہت ہیں ا گر ہم انہیں گنیں تو یہ مضمون ان صفحات میں سما ئے گا نہیں؟ لہذا صرف ایک صوبے سندھ کی دو بڑی گدیوں کا ذکر کر کے بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گدی کے مریدوں کی تعداد کہتے ہیں پچیس لاکھ ہے اور دوسری کے مریدوں کی تعداد اٹھارہ لاکھ ہے جن میں بارہ لاکھ پاکستان میں اور چھ لاکھ انڈیا میں ہیں ۔ صرف قدرے چھوٹی گدی کوہی لے لیں تو اگر سوروپیہ فی کس سالانہ بھی نذرانہ  پاتے ہوں تو آپ گن لیں کہ آمدن کتنی ہوگی ؟ مگر آپ کو پتہ ہو نا چاہیے کہ آجکل وہاں فقیر بھی سو روپیہ نہیں لیتا ؟ ان میں سے ایک کی روایات آج سے تین عشرے پہلے تک یہ تھی کہ اگر کوئی مرید دعوت کرنا چاہے تو ان کے خلیفہ ایک وقت کے ناشتہ پر بمع چیدہ چیدہ مریدین کے تشریف لانے کی فیس دس ہزار روپیہ، ظہرانے پرجانے کے لیے25 ہزار اور عشایہ کو رونق بخشنے پر ایک لاکھ نقد وصول کرتے تھے موجودہ آمدنی آپ اس سے اخذ کرلیں؟ یہ پیرا مریدی اتنی بلندی پر کیسے پہونچی ؟ وہ اسطرح ہے کہ صرف اسی امت کے نبی (ص) کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بطور خاص اس اعزاز سے نوازا تھا جو ان سے پہلے کسی اور نبی (ع) کو نہیں عطا کیا گیاکہ “ وہ تزکیہ نفس بھی کرائیں “ تاکہ متقیوں کا ایک طبقہ پیدا ہو سکے اور وہ اسلا می نظا م چلانے کے لیے اپنے تقوے کی بنا پر کارآمد ثابت ہوں ؟ اس کے ذریعہ حضور (ص) نے جو صحابہ کرام شکل میں جماعت تیار کی وہ ایسی تھی کہ وہ فرشتوں سے بھی آگے نکل گئے تھے؟ چونکہ حضور (ص) کے بعد کوئی نبی (ع) نہیں آنا تھا لہذا حضور (ص) نے اس میں سے دوجماعتیں بنا دیں ایک نے انتظامیہ کی جگہ سنبھالی اور دوسری نے مسلمانوں کو تزکیہ نفس سکھانے کے لیے خود کو وقف کیاجو پوری دنیا میں پھیل گئے اور وہی اسلام کو پھیلانے کا باعث بھی بنے؟ یہ وہ لوگ تھے جوکہ محبت سب سے کرتے تھے اور نفرت کسی سے بھی نہیں اور انہوں نے پنے پرکھنے کا معیار یہ ر کھا تھا کہ اگر ان میں سے کسی کا بھی ا یک فعل خلاف ِ اسوہ حسنہ (ص) ہو تووہ شیطان ہے ولی یا پیر نہیں ہوسکتا؟ ان کے مریدوں میں سے جو اس مرتبہ کوپہونچ جاتے انہیں اپنے پیروں کی طرف سے خلافت ملتی اور انہیں کو رشدوہدایت کو عام کر نے کے لیے دعوت دینے کی اجازت ملتی ،وہ دوسرے لوگوں کو اپنا جیسا بنانے کے لیے اپنے مریدوں کو کہاکرتے تھے کہ جو پیر کہے اس پر عمل کرو، اس سے سوال مت کرو اور اس کے بارے میں خوشگمان رہو؟ چونکہ پرائمری درجہ کا طالب علم یونیورسٹی کا مقالہ نہیں سمجھ سکتا؟ اس کو علامہ اقبال (رح) نے اپنے ایک شعر میں بہت اچھی طرح سمجھایا ہے کہ “ اقبال یہاں ذکر نہ کرلفظ خودی کا  موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات “ مگر ان بزرگوں کے بعد آنے والوں نے اسی ایک جملہ کو پکڑ لیا کہ جو پیر کہے وہ کرو ؟ اوراس سے سوال بھی نہ کرو اور اپنے دل میں بد گمانی کو بھی اس کے خلاف جگہ نہ دو؟ اب کس کی مجال تھی کے کوئی ان کا محاسبہ کرے؟ لہذا ان میں بگاڑ پیدا ہوتا چلاگیا ۔ پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے پیروں کے پاس جاتے تھے۔تا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پورا کریں کہ فرض تو فرض ہیں۔ اس کوادا کرنے سے آدمی مومن ہو جا تا ہے ؟مگر جو میری قربت چاہے وہ نوافل ادا کرے تاکہ وہ میرے قریب آجا ئے ؟ ۔“ پھر میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں، اسکے پاؤں بن جاتا ہوں۔۔۔۔ الخ (مشہور حدیث ِ قدسی) اس طریقہ سے انہوں نے کمال حاصل کرکے وہ کردکھایا جو پہلے انبیائے کرام  (ع)نے کرکے دکھایا تھا اور حدیث کاعملی نمونہ پیش کردیا کہ علمائے امت محمدیہ انبیائے بنی (ع) اسرائیل کے برابر ہیں؟ یہاں شاید میری بات لوگوں کی سمجھ  میں نہ آئے کہ یہ تو علماءکے بارے میں کہا گیا ہے میں نے اولیا ئے کرام کے بارے میں یہ بات کیسے کہدی؟ ان کی اطلاع کے لیے عرض کردوں کے اس دور میں جب تصوف عروج پر تھا تو وہ عالم پہلے بنتے تھے اور طریقت میں بعد میں قدم رکھتے تھے جیسے کہ حضرت عبدالقادر جیلانی کی مثال ہے کہ پہلے علم ِ دین حاصل کیا پھر علم طریقت اور انکا نمبر فقہ حنبلیہ میں اس کے بانی حضرت امام احمد (ص) کے بعد دوسرا تھا اور یہ ہی حال باقی دوسرے اولیا ئے کرام تھا۔ جن بزرگوں نے اسلام کو پوری دنیا میں پھیلایا اور انہیں بزرگوں کی کرامات اور علم سے تاریخ اور تصوف کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ کیونکہ ان کی نظر مریدوں کے قلب پر ہوتی تھی؟اب ان کی جگہ جب سے وراثتی پیر آئے اور وہ بھی پیر بن گئے جن کو حضور کے اسوہ حسنہ (ص) سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا؟ پھر مریدی اس حد تک چلی گئی کہ نذرانہ پیش کرو اور مرید بن جاؤ،بس سال کے سال نذرانہ دیکر تجدید کرالیاکرو؟ اب زیادہ تر لوگ مرید اس لیے بنتے ہیں کہ پیر صاحب کی سرکار دربار میں بات چلتی ہے ،چٹھیاں، چلتی ہیں  اورنام چلتا ہے؟ ہر مرید کو سو خون معاف ہیں ہر کوئی ان پر ہاتھ ڈلتے ہوئے خوف کھاتا ہے؟لہذا جس طرح بازار میں جعلی دوائیں ہیں اسی طرح جعلی پیری اورمریدی بھی چل رہی ہے جو لوگ پاکستان سے آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آجکل وہاں “ کالے جادو کا بڑا زور ہے “ اور اس کے باعث گھروں میں لڑائیاں اورجھگڑے بڑھ گئے ہیں ۔ جبکہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ میری مرضی کے بغیر کسی کو کوئی مصیبت نہیں پہونچ سکتی “ جو اس کے برعکس مانتے ہیں انہیں توحید پرستوں کی اس آیت کی موجودگی میں آپ کس صف میں کھڑا کریں گے؟ کہیں ان میں تو نہیں جس میں اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر گناہ معاف کرسکتا ہوں ، مگر “ شرک “معاف نہیں کرسکتا؟ مگر ہم ان تعلیمات کو بھول گئے ہیں۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ ہم ان جعلی پیروں میں وہ خواص ڈھوندتے ہیں ۔ جو کبھی ان میں ہوا کرتے تھے اور ان کے چکروں میں پھنس جاتے ہیں ؟ جس طرح جعلی دواؤں سے آدمی مرتوسکتا ہے۔ مگر صحت یاب نہیں ہوسکتا؟ اسی طرح جعلی یا سیاسی پیروں سے“ تزکیہ نفس حاصل ہونا بھی ناممکن ہے“ رہے  “اللہ والے “ وہ آج بھی ہیں مگر وہ کاروباری نہیں ہوتے، ان کی دکانیں نہیں ہوتیں، وہ پیسہ نہیں مانگتے جھوٹ نہیں بولتے یہ ہی ان کی پہچان ہے ؟ کیونکہ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ایک پورا نظام ہے جیسا کہ قرآن میں حضرت خضر اور موسیٰ (ع) کے قصے سے ثابت ہے؟ اگر وہ نہ رہیں تو وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ عذاب نازل فرمادیتا ہے جس پر قرآن کی دوسری کئی آیات شاہد ہیں۔ مگر ان کو ڈھونڈھنے کے لیے بھی وہی طریقہ اپنانا پڑے گا جو کہ پہلے زمانے سے لوگ کرتے آئے ہیں کہ خو د پہلے مومن بنیں پھر مزید درجات کے حصول کے لیے ان کی تلاش کریں۔ اگر عوام الناس سدھر جائیں گے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ عذاب اٹھالے گا اور اپنے وعدے کے مطابق مومنوں پر اپنی رحمتیں عام کر دیگا ۔ اس کی راہ میں کوشش کر کے دیکھئے ۔ اس کے دروازے ہر وقت ہر ایک فرد اور قوم کے لیے کھلے ہوئے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں کھرے اور کھوٹے کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کیاحقیقت پسندی بھی کوئی چیز ہے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

غالباً آجکل حقیقت پسندی نام کی کوئی چیز ہمارے یہاں نہیں پائی جاتی ؟ جیسا کہ پچھلے دنوں کے ایک حادثے سے ہمیں پتہ چلا جو کہ پاکستان میں ایک ٹرین کو پیش آیا تھا؟ وہ یہ تھا کہ ایک آئیل ٹینکر کا ایکسل ٹوٹ گیا جسکی بنا پر وہ ریلوے کی پٹری کے رمیان میں جاکر کھڑا ہوگیا۔ اس گیٹ پر گیٹ کیپر تو موجود تھا جبکہ گیٹ نہیں تھا؟ اس نے افسران ِبالا کو اطلاع دینا چاہی مگر اس کی اطلاع پر حسب روایت کسی نے کان نہیں دھرے ؟ اور ایک ایکسپریس ٹرین جس کو وہاں سے گزرنا تھا اسکو بروقت اطلاع نہیں ملی ، نتیجہ کے طور پر اس کا لائن پر کھڑے آئیل ٹینکر سے تصادم ہوگیا،جس سے آئیل ٹینکر کے تین تکڑے ہو گئے اور تیل ریلوے لائن پر پھیل گیاجس نے آگ پکڑلی جس کے نتیجہ میں اس ٹرین کا ڈرائیور اور اس کا نائب شہید ہوگئے؟ ٹرک کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ، جرم یہ ہوگا کہ اس نے ایکسل کو وہاں کیوں ٹوٹنے دیا  جواس سلسلہ میں اس سے پوچھ گچھ ہورہی ہے اور پوچھ گچھ کیوں ہوتی ہے وہ ہم آپ سب جانتے ہیں کہ پولس آفیسر وں کو تھانےمفت نہیں ملتے بلکہ وہ ٹھیکے پر حاصل کرتے ہیں؟ اور اس گیٹ کیپر کو بھی حراست میں لیلیاگیا جو کہ فریاد ی تھا ؟ جرم غالباًیہ ہوگا کہ اس نے بروقت اطلاع دینے کی کوشش کیوں کی تھی۔ اس حادثہ میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے کیونکہ اس میں چھ بوگیا ں بھی جل کر خاک گئیں ۔ حادثہ پر جو میڈیا کی طرف سے تبصرے ہوئے وہ بڑے دلچسپ تھے۔ کہ “ اربوں روپیہ کا ریلوے کا بجٹ ہے۔ مگر انظا میہ ایک حاد ثہ نہیں روک سکی لہذا متعلقہ وزیر کو مستعفی ہو جاناچاہیئے اور یہ ہی نعرے اپوزیشن بھی لگارہی ہے ۔جس میں وہ اپوزیشن کی جماعت بھی شامل ہے جس کے دور ِ حکومت کے آخر میں ریلوے صرف جزوی طور پر چل رہی تھی ٹرینیں بند تھیں جو چل بھی رہی تھیں ان کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب منزل ِ مقصود تک پہونچیں گی؟ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طبقہ جس کا بسوں اور ٹرکوں کا کروبار تھا وہ ریلوے ریلوے کا حریف تھا۔ انہیں میں سے ایک صاحب ریلوے کے وزیر بن گئے؟ اسی دور میں یا ان سے پہلے ریلوے کے کماؤ پوت “ شعبہ گڈس “کو تباہی سے دوچار کیا گیا؟ کب وہ ہمیں معلوم نہیں ؟ کیونکہ ہم تو اسے ستائیس سال پہلے منافع میں چلتا ہوا چھوڑ آئے تھے؟
البتہ اِن وزیر کی صاحب کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے محض اس بنا پر ایک خاتون ریلوے آفیسر کومعطل کردیا تھا کہ انہوں نے ان کے ڈھائی سو آدمی ریلوے میں کیوں نہیں رکھے ؟ جب وہ فریادی ہوئیں اور عدالتِ عالیہ میں چلی گئیں توو زیر صاحب نے ٹی وی پر آکر فرمایا کہ “ یارا گر ہم لوگوں کے کام نہیں کریں گے تو ہمیں ووٹ کون دے گا اور منتخب کیسے ہونگے “ اس نے یہ کہہ کہ کر میرے سارے آدمی رکھنے سے انکار کردیا کہ میں نے سارے امید وار میرٹ پر رکھے ہیں، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ “ گینگ مین “ کے لیے میرٹ کیا ہو تا ہے “ ایسی حالت میںریلوے کو جس نے بھی لیا اور دوبارہ با قاعدہ چلنے کے قابل بنا یا وہ قابل ِ تحسین و ستائش توہوسکتا ہے؟ مگر اس سے استعفیٰ مانگنا میڈیا کی لاعلمی پر دلیل اور ظلم ہے ۔؟ جس سے اس کی بیخبری کا پتہ چلتا ہے؟ کہ وہ وہاں کے زمینی حقائق سے بھی قطعی واقف نہیں ہے۔ ابھی تک جو محکمے پچھلے دور میں فیل ہو ئے تھے۔ ان میں سفارشی لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں نہ کوئی بھی بمع سٹاف کے خریدنے کو تیار ہے اور نہ ہی کوئی چلا نے تیار ہے۔ کیونکہ سفارشی لوگ کہیں کام نہیں کیا کیاکرتے ؟ اس لیے  کہ انہیں بجائے اپنے کام کے رسوخ پر بھروسہ ہو تا ہے؟ ہمارا خیال ہے  “اس گیٹ مین“ نے اپنی سی پوری کوشش کی ہو گی لیکن جو صاحب ڈیوٹی پرہونگے وہ کسی اور کام میں مصروف رہے ہونگے ؟یا ڈیوٹی پر سرے سے موجود ہی نہیں ہو نگے؟ اگر ایسی صورت حال میں استعفٰی لینے کا سلسلہ شروع کیا  گیاتو کوئی بچے گا ہی نہیں۔ اور وہ ادارے جو ابھی کچھ رینگنے لگے ہیں وہ پھر کھڑے ہو جا ئیں گے۔ گیٹسں کی کہانی یہ ہے کہ تقریبا ً ایک ہزار کے قریب گیٹ ایسے ہیں جن پر پھاٹک نہیں ہیں ۔ مگر گیٹ مین موجود ہیں ان کا کام یہ ہے کہ وہ جب ٹرین گذر رہی ہو تو ہری اور لال جھنڈی لیکر کھڑے ہوجائیں اور لوگوں اور ٹریفک کو لا ئین پر سے گزرنے نہ دیں ؟ ہمارے یہاں کے لوگ اتنے قانون کے پابند ہیں کہ وہ اکثر اسکی دی ہو ئی اطلاع پر یقین نہیں کرتے بلکہ انہیں جب تک یقین نہیں آتاہے جب تک وہ ٹرین کو اپنی آنکھوں سے ملا حظہ فرمالیں ؟ ایک آدمی اس قسم کی مخلوق کوکس طرح کنٹرول کرسکتا ہے جسے پولس اور فوج کنٹرول نہیں کرسکتی جبکہ اربو ں کھربوں کا بجٹ اان کے پاس ہوتا ہے؟ تو بیچارہ گیٹ مین اسے کیسے کنٹرول کر سکتا ہے۔ اب رہاان سب ریلوے گیٹسں پر پھاٹک لگانا! تو اسکے لیے ایک بڑی رقم اور سالوں کا عرصہ درکار ہے؟
یہ ٹرین بھی نہ ہوتی اگر انگریز نہ آتے ؟ مغل بادشاہوں نے تو کوئی ایسابیکار کام کیا ہی نہیں جس سے عوام کو فائدہ پہونچتا ؟ اگر ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کوئی بادشاہ ملتا بھی ہے تو وہ بھی مغل نہیں بلکہ پٹھان تھا جس نے گرینڈٹرنک روڈ کلکتہ سے پشاور تک بنا ئی جبکہ اس کا دورِ حکمرانی انتہائی قلیل تھا۔ا وراس تھوڑے عرصے میں اس نے وہ کام کردکھایا کہ ہندوستان کے مسلمان سر اٹھاکر کہہ سکیں کہ ہم نے بھی ہندوستان میں رفاعی کام کیا کیا ہے؟ ورنہ تاریخ میں ان کے اپنے اور اپنی بیویوں کے مزارات توملیں گے مگر فلاحی کام تلاش کرنے سے بھی نہیں ملےگا؟ سوائے چند مساجد اور مسافر خانوں کے؟ یہ ہے وہ دردناک حقیقت جو ہم شروع سے دیکھتے چلے آرہے ہیں ؟ آنکھ بچاکر گزر جائیں تو اور بات ہے ۔ کسی اسپتال پر کسی گنگارام کا نام لکھا ہے تو کسی“ پیاؤ “  پر پرسرام کا۔ ہمیں کہیں شاہجانی پیاؤ نظر آٰیا۔ اور ہم اسی وضع داری پر آج بھی قائم ہیں ۔ کہیں بھی ہوں کسی ملک کے فلاحی کام میں کبھی دلچسپی نہیں لیتے ۔ جبکہ بعض مملکوں نصف  سے زیادہ کام رضا کاروں پر چلتا ہے ؟حالانکہ سب سے زیادہ اس کی تلقین اور اس پر عمل ہادی برحق محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ (ص)  نے کرکے دکھلایااور انہوں (ص) نے نبوت پہلے اپنے (ص) چالیس سال عبادت ا ور خدمت خلق میں گزارے؟ پھر نبوت  کے بعد بھی ان کا مشن یہ ہی رہا جسے انہوں نے تا حیات جری رکھا اور بعد میں اپنے (ص) صحابہ کرام کے لیے چھوڑا جس کو انہوں نے پروان چڑھایا دنیا کو فلاحی ریاست کا تصور پیش عطا کرکے۔
مگر موجودہ دور میں ہم آ ج تک اس میدان میں کوئی خاص نام نہیں کماسکے سوائے ستار ایدھی مرحوم کے؟ ایسے میں کوئی وزیر بیچارا بھی کیا کریگا ؟ کہ وہ کسی کے آدمی کوبھی چاہیں وہ ملزم ہو اس کے سرپرست کے رسوخ کی وجہ سے معطل کرنے تک پر قادر نہیں ہے، اور نہ ہی برخواست کرنے پر ؟ من حیثیت القوم ہما ری جو حالت ہے وہ ہم سب پر عیاں ہے؟ لہذا فرشتے آئیں گے کہاں سے جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہ کریں؟ ورنہ بروں میں آپ چھے ٹٹولیں گے تو جو زیادہ برا ہے وہی ہاتھ میں آئےگا، جیسے کہ پتھروں کو ٹٹولاجائے تو سب سے بڑا پتھر ہی ہاتھ میں آتا ہے ؟ جہاں خوف خدا نہ ہو ، لوگوں میں حیاءنہ ہو، جس سے معاشرہ کاخوف دلوں پیدا ہوتا ہے، تو پھر کوئی کسی سے ڈریگا کیوں ؟ اور معاشرے میں سدھارکی صورت کیا ہوگی؟ میری سمجھ سے تو باہر ہے ؟ آپ ہی بتا ئیے؟ ایسی صورت میں رہے حادثے وہ ہمیں ڈرانے اور جگانے کے لیے اللہ کی طرف سے آتے رہتے ہیں جیسے زلزلے اور طوفان وغیرہ  آتے رہتے ہیں تاکہ ہم کان دھریں، جسکا انکشاف اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد جگہ فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث حضور (ص) نے بھی  عطافرمائی ہے کہ قرب ِ قیامت میں سب سے پہلے اللہ کی حکمرانی دنیا سے اٹھ جا ئیگی ، کیونکہ اسے چھوڑ کر لوگ طبقہ عمراءکو پکڑلیں گے، اور اسی طرح درجہ بدرجہ پستی سے پستی کی طرف جاتے رہیں گے؟ ہم اسی دور سے آجکل گزر رہے ہیں ؟ اسکا علاج کیا ہے ؟ انفرادی اور اجتماعی توبہ ؟ جو ہم کرنے کو تیار نہیں ہیں ؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی طبقہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ ہم بگڑچکے ہیں ،ہم غلطی پر ہیں ؟ اس لیئے ہمارا اللہ سے رشتہ  بہت کمزور ہوگیاہے۔ا س سلسلہ میں حضرت عمر (رض) کی نصیحت حضرت سعد (رض) بن ابی وقاص کو جو انہوں نے کی تھی بہت اہم ہےجب انہیں ایران کے محاذ پر بھیج رہے تھے ً دیکھیں آپ کا حضور (ص) سے رشتہ کہیں آپ کو ہلاک نہ کردے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکسی سے کوئی رشتہ، رشتہِ اطاعت کے سوا نہیں ہے“

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,