(325 – 312) قطعات شمس جیلانی

312
ہر اک کو پتا چلنا ہے؟ شمس جیلانی
 
کیوں بن جا تے ہو بندے سے درندےرمضان میں ۤآکر
کتنی خوشی ہوتی ہے جو دیتا ہےکوئی مال چھپاکر
جو کچھ بھی کیا جس نے ہے وہ فرشتوں نے لکھا ہے
لیکن ہر اک کوپتہ چلنا ہے حشر کے میدان میں جاکر
 
313
وہاں عذرِلنگ نہیں چلے گا۔۔۔ شمس جیلانی
 
دریا ئے علم سے کسی دیں کے خزانے سے پوچھ لو
آتا نہیں ہے دیں اگر تو کسی جاننے والے پوچھ لو
ہم کو پتہ نہیں تھاناقص جواب ہے ،عذرِ لنگ ہے !
گرکوئی نہیں ملے گوگل کےکار خانے سے پوچھ لو
 
314
عمل سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ہر ایک یہ ہی دیکھے ہے کہ کس نے کہا ہے
ہر بات میں ہر ایک کےحقیقت نہیں ہوتی !
ہردین کے مسئلہ میں تحقیق ہے شرط ِ اول
تحقیق جو کرلے تو فضیحت نہیں ہوتی
 
315
کرسی اور الزام۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
کرسی پر جوآئے گا موردِ الزام ہوگا
یہ مانا کہ جہاں میں بڑا اک نام ہوگا
کہاں تک بند رکھو گے مگرتم کان اپنے
مریں گے لوگ بھوکے مچا کہرام ہوگا
 
316
مسلمانوں نے توبہ پر عمل ترک کردیا؟۔۔۔شمس جیلانی
 
توبہ دوا تھی مرض کی وہ مرہم نہیں رہا
سب لوگ دیکھتے تب رب بر ہم نہیں رہا
پہلے شفا ملے تھی اہلِ یقیں کو شمس
اب تو پانی ملاملےہے وہ زم زم نہیں رہا
 
317
رمضان کے تقاضے۔۔۔ شمس جیلانی
 
بس لاالہ کا ذکر کرو اس کی بات کرو
ملے وقت جو تھوڑا ذکر ِاسم ذات کرو
ڈھونڈو تخلیقات رب کوکیا بنا یا ہے
ہےکا م اس کانہ تم فکرِکائینات کرو
 
318
بات رب کی مانو۔۔۔ شمس جیلانی
 
بھلائی کرو تم رب بھلائی کرےگا
ہمیشہ جس نے بھلائی کری ہے
تھی غلطی تمہاری اور بھول تھی
شیطان سے دوستی جو کری ہے
 
319
رکھو ہمیشہ یاد سبق ۤآقا حضور(ص) کا
 
صدقہ ضرور دو چاہے ہو دانہ کھجور کا
راوی ہیں اس کے یار ِغارحضرت ابوبکر
مفہوم ہے یہ ایک حدیثِ مشہور کا
 
320
شیوہ ِ قناعت کی برکت۔۔۔ شمس جیلانی
 
میں اک بندہ ِ ناقص ہو ں پتلا ہوں خطا کا
جھنجھٹ نہیں پالا کبھی مال اور متاع کا
جب بھی ضرورت ہو وہ بن مانگے ہے دیتا
میں بچپن سےہی قائل ہوں رب کی عطا کا
 
321
وجود باری تعالیٰ کا ثبوت بہار۔۔۔ شمس جیلانی
 
دنیا نہ جانے کس مخمسہ کا ابھی تک شکار ہے
جو مانتی نہیں مالکِ کائینات پرور دگا ر ہے
ہر سال ہی دیکھتی ہے وہ جو بدلتے ہوئے سماں
بتلا ئے تو سہی کہ لاتا کون خزاں اور بہار ہے
 
322
تقاضہِ عبدیت؟۔۔۔ شمس جیلانی
 
عبدیت یہ ہےعذابِ آگاہی سہتے رہو
زیر لب ہر گھڑی بس لا الہ کہتے رہو
آئے جو مشکل اس راہ میں سہتے رہو
ہے نہیں زیبا کہ جذبات میں بہتے رہو
 
323
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی
 
صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں
 
324
جہ عزاب بڑھتا ہوا ظلم ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ییشہ رہنماؤں کا زیادہ تر تو مال و زر کمانا تھا
کل جہاں کا بن گیا شیوہ بھوکوں اور ستانا تھا
ہے جہاں کا رب بھی کوئی یہ اللہ کو بتانا تھا
یہ بشکل ِکرونا جو عذاب آگیا آخر عذاب آنا تھا
 
325
 بندہ یوں خاکسار ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب  پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے
 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(251 – 311) قطعات شمس جیلانی

251
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

252
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

253
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

254
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

255
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

256
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

257
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

258
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

259
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

260
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

261
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

262
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

263
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

264
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

265
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

266
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

267
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

268
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

269
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

270
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

271
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

272
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

273
حسین خواب۔۔۔ شمس جیلانی

شمس حسیں خواب ہے ساتھ کنگلوں کے زمانہ ہوگا
پاک بستی پر وہی راج کریگا، شیوا کھانا کھلانا ہوگا
کتنے آئے وہاں خواب لیے وہ تھک کے کہیں بٹیھ گئے !
کہ دن بدلیں گے وقت آئے گا تب وہاں لوٹ کے جانا ہوگا

274
انسانی منڈی اور جگ ہنسائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ ہے پسند کرتا ہراک تحفہ بس گاڑھی کمائی کا
وہاں کھا ؤ کھلاؤ ہے بنا آئین جگ پر بادشاہی کا !
سجاکرمنڈی ِا نساں کوئی دیکھا ہے تم نے شرمندہ
وہ ہیں باعِث بدنامی جو موقع دیں جگ ہنسائی کا

275
موج ومستی کے نتائج۔۔۔۔شمس جیلانی

قوم ہے پھنس گئی یہ موج ومستی میں
کچھ سکون پاتے ہیں شہرت سستی میں
یہ پتہ ہی نہیں انہیں ہے اے شمس !
یہ روش لے جا ئے گی ان کو پستی میں

276
اول الذکر لاالہ اللہ۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے بہتر ذکر بس، ذکر ِ باری
یعنی جاگنا راتوں کو شب بیداری
قیامت میں یہ سب کو مات دیگا
بشرکے واسطے ہوگا دن وہ بھاری

277
ا نتخابی ہیجان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

الیکشن جب بھی آتے ہیں پیدا وہاں ہیجان ہوتا ہے
نہ پہلے سے لوگ رہتے ہیں نہیں پاکستان ہوتا ہے
جو ہیں غیر ملکو ں میں وہ سر کو پیٹ لیتے ہیں
باقی ہے حیا ہوتی نہیں باقی وہاں ایمان ہوتا ہے

278
رب کی نرالی شان۔۔۔ شمس جیلانی

بن مانگے جو ہے دیتا یہ رب کی شان ہے
قدر وہی ہے جانے جو کہ رکھتا ایمان ہے
شمس اتنا نوازا اس نے دل کے غنی ہوئے
نہ ہی زائد کی آرزو ہے نہ باقی ارمان ہے

278
بلندی اور پستی۔۔۔ شمس جیلانی

پڑا ٹھوکروں میں دیکھا اسی کے تاج شاہی!
تھا دیں پرجان دیتا جو کوئی اللہ کا سپاہی
بارعب تھے مسلماں اخوت کے رہ کر خوگر
لیکر کے سب کو ڈوبی خصلت ِ کم نگاہی

280
ہر دم ذکر ِپروردگار ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہر وقت زباں پر میری اللہ کا ذکر ہے
جینے کی آرزو ہے مجھے نہ مرنے کی فکر ہے
آتی جب ہےموت کی کسی دوست کی خبر
لگے کہ آواز دے رہی مجھے یہ میری قبر ہے

281
آئین ِ خداوندی۔۔۔ شمس جیلانی

پون صدی ہےگزری بن سکا نہ پاکستان ، پاکستان ہے
نہ وہاں قائم امن نہ ہے نہ دکھتا اس کا وہاں امکان ہے
ہے لکھا قرآن میں ہےگناہوں سے آنا قوموں پر عذاب !
اس کو بھگتے ہیں وہی جن کا نا پختہ رہے ایمان ہے

282
تہذیب ِ اسلامی۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمانوں میں تمیزِ میں اور تو باقی نہیں ہے
کہاں وہ تہزیب اسلامی وہ خو باقی نہیں ہے
جہاں پر شیوہ بن گیا ہر ایک کا ہے گالی بکنا
نہ آداب پہلے سے وہ طرز ِ گفتگو باقی نہیں ہے

283
ہ بندہ نواز ہے۔۔۔ شمس جیلانی
بندہ اگر ہے تو شمس، تو وہ بندہ نواز ہے
یہ دل سے کہہ رہا ہوں میں دل کی آواز ہے
اسوہ رسول(ص) پر بس تو چلتا رہ بے کھٹک
اس کو بھلاخوف کیا راضی جو کارساز ہے

284
نہ پہلی سی وفا باقی۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ہی علم باقی ہے نہ ہی عرفان باقی ہے
نہ جیبنے کی لگن باقی نہیں ارمان باقی ہے
نہ پہلی سی وفا باقی نہ اب انسان باقی ہے
نہ پاس ِ عہد باقی ہے نہ ہی ایمان باقی ہے

285
آج کا ذریعہ عزت؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےدوہی باعثِ ننگ تھے لکھے ہیں علامہ ؒ نے جن کے نام
اب اپنے پاس تو ننگے ہی ہر طرف ہیں جو کررہے ہیں کام
وہاں جا کرکے جو سزا ملے گی وہ ان کا مقدر اور ہے نصیب
جو ان میں جاملے ہےاسی کے واسطے ہے بس، اچھا یہاں مقام

286
جراءت تو دیکھئے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس جراءت کو دیکھ کرکے رہ جاتاہوں میں د نگ
چوری چکوری پیشہ، دعویٰ ہےاللہ ہمارے سنگ
قرآن کہہ رہا ہے کہ انہیں یہ ڈھیل دی ہوئی ہے
ہے اس واسطے ہوتی نہیں ہےابھی ان پر زمین تنگ

287
منبع فیض بنو بخیل نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

لگاؤباغ کچھ ایسا امیر و فقیر پھل کھائیں
نہ لگا ؤ باڑھ فقیر دیکھیں اور وہ للچا ئیں
دو تربیت ایسی ہمیشہ اپنے تمام بچو ں کو
سخی کہیں لوگ نہ ہر گز بخیل کہلا ئیں

288
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

289
تابع فرمان بن جاؤ۔۔۔ شمس جیلانی
تقبل اس کے وہاں جا کر تم سزابھگتو اور پجھتا ؤ

بس قدر اللہ کی جانوں خدارا تابع فرمان بن جاؤ
نہ دھوکا دو کسی کو بھی نہیں باتو ں میں ٹہلاؤ
اپنی زیست وقف کردو دین پھیلانے میں لگ جاؤ

290

دین کے لیے سعیِ پیہم ۔۔۔ شمس جیلانی
مشکل کوئی اس راہ میں آ ئے تو سہے جاؤ
سنے نہ سنے کوئی تم توحق بات کہے جا ؤ
جو قدم بڑھا ؤ تم سدا آگے کی طرف رکھنا
ہرگز نہ ٹھہرنا تم کہیں سوتے نہیں رہ جاؤ

291
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

292
معنی بنا قرآن۔۔۔شمس جیلانی

معنی بنا قرآن پڑھا بچہ سمجھے گا کیا
تعلیم ِ قرآں کے لیئے جوجیسا ملا،ملا
تعلیم ِ دین تو اس طرح رسم رہ گئی
انگلش پر خرچ ہوتا ہے ما ل و متا ع

293
پیام ِ الہٰی بشکل ِ کارونا۔۔۔ شمس جیلانی

شکل ِ کارونا میں بھیجا انسان کواللہ نے یہ پیغام ہے
مجھکو پہچانوں کہ اللہ اور رب میرا ہی تو نام ہے
راستہ سیدھا نبی(ص) کا ہے نہ اس میں ٹیڑھ نہ ابہام ہے
مالک الملک ہوں حکم پر میرے بنتا بگڑتا کام ہے

294
عامل قرآن۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک مسلمان عامل قرآن ہوکے رہے
جہاں رہے وہ وہیں آسمان ہوکے رہے
جسے بھی دیکھا وہی نبی(ص) کا پرتو تھا
چلن ایسا ہرجگہ میرِ کاروان ہوکے رہے

295
ب نے نوازا اپنی عطا سے ہے۔۔۔ شمس جیلانی
رب نے نوازا مجھکو اتنا اپنی عطاسے ہے
باقی رہا شغف نہیں مال و متاع سے ہے
منہ کو کلیجہ آتا ہے اس دن کو سوچ کر
دل ہے میرا دہلتا ہر چھوٹی خطا سے ہے

296
انسانیت سے شیطانیت تک۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کی لگا تاک میں رہتا ہے شیطان کمینہ
لالچ اسے پھسلاتا ہے آتا نہیں جینے کا قرینہ!
جب پہلی دفعہ جاتا ہے چرانےہے آجائے پسینہ
عادت جب ہو جائے تو کھل جا ئے ہے سینہ

297
اللہ مسلمان کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ شمس

نہ خود جھوٹا نہ جھوٹوں کا کہیں سردار ہو
وہ جہاں بھی رہتا ہو بس صاحب ِ کردار ہو
ہوپابند ِآئین ِ قرآں مانتا مردارکو مردار ہو
اخلاق ہو سرکار (ص) جیسا اس کا شمس
منہ سے جھڑتے پھول ہوں سبک گفتار ہو

298
وہ بندہ کوئی بندہ ہے؟ شمس جیلانی

وہ بندہ کوئی بندہ ہے جو اللہ کی رضا کا طلب گار نہیں ہے
وہ قوم کوئی قوم ہے جو کہ جذبہِ ملـی سے سرشار نہیں ہے
جس کی کھلتی ہے نہیں آنکھ تم جتنا اسے چلا ؤ اور پکارو !
بچوں کی ماؤں کی چیخوں سے ہوتی کبھی بیدار نہیں ہے

299
رائی کے بدلے میں بھلائی کرو۔۔۔ شمس جیلانی

بس زندہ تم رہو جہاں میں آب کی طرح
محرک رہو جہاں میں سیماب کی طرح
روندیں ہیں پیر سے سب دیتا ہے فائدہ
لیکن مٹتا نہیں بے فائدہ حباب کی طرح

300
ارونا کی تیسری آمد کاراز ناشکری۔۔۔۔شمس جیلانی

یہ کارونا کی تیسری لہر آئی کیوں تم نے اسے جانا نہیں
سب کا ہے وہی رب یہ راز تم نےا ب تلک پہچانا نہیں
ہے ہدایت اس میں یہ جو بچ گئے پہلے تھا وہ مہرباں
اب جو پوچھے راز دنیا اس کو بتلا تے ہو ئے شرمانا نہیں

301
دواشعار اوردو تضاد۔۔ شمس جیلانی

وہاں چلتا ہے خلوص کا سکہ
ہم ہیں کرتے فلوس کی باتیں
وہاں پرایک ہے وحدتِ ملی
یہاں فرقہ بندی اور ہیں ذاتیں

302
کارونا اعمال کی سزا۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا قرآن میں ان کو کرنا بتا ؤ تم ہی لکھا گناہ نہیں ہے
وہ کونساکام ہے باقی جو تم نے چھوڑا ابھی کرا نہیں ہے
یہ ہی وجہ ہے کہ قبول ہوتی تمہاری کوئی دعا نہیں ہے
ذرا سوچ کر بتا ؤ “یہ مستقل وبا کرونا “ سزا نہیں ہے

303
اللہ سے دعا۔۔۔ شمس جیلانی

کرتار ہوں میں دیں کا کام جب تک کہ مری زندگی رہے
پیاروں سے تیرے عشق اور دشمنوں سے سدا دشمنی رہے
میں تیرا ہی ہو رہوں جہا ں جا کے بسو ں میں شمس
ایسا نہ ہو اے رب کہ روح کہیں اور میرا دل کہیں رہے

304
عظمت انکسا ر میں ہے۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے پیار کر رہ کر اس کے گردحدوحصار میں
پائے گا تو کمی نہیں کبھی اس رب کے پیار میں
اترا کے چل کبھی نہیں اس کی زمین پر شمس
عظمت اسے سدا ملی جو کہ جھکا انکسار میں

305
رمضان کی آمد مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

مبارک انہیں ہوں روزے جو کہ تقویٰ شعارہیں
زیادہ نہ سہی کرو گنتی تو بھی بے شمار ہیں
یہ اور بات چاروں طرف نفسا نفسی مچی ہوئی
یہ ہی وجہ ہے آج ہم سب جگ میں جو خوار ہیں

306
پہچان تقویٰ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پہچانتا وہی ہے جس کو تھوڑا شعور ہوتا ہے
تقویٰ ہے گر کسی دل میں تو چہرے پر نور ہوتا ہے
ضد جب ہےخدا سےٹکراتی بات حد سے ہے گزرجاتی
طور جلکرکرضد موسیٰ پر جگ میں مشہور ہو تا ہے

307
غصہ پینا مومن کی پہچان ہے۔۔۔ شمس جیلانی

میں نے جب کچھ کہا سرکار میری بات کب مانی گئی
بس تیوری پر بل پڑ ے اور سا ری خندہ پیشانی گئی
بات کرتا ہو ں ہمیشہ جو ثابت ہو سیرت ِ سرکار (ص) سے
آپ اتنے برہم کیوں ہوئے ،کہ آپ کی ذات پہچانی گئی

308
ک چودھری نے کردیا رمضان سے پہلےہی اعلان ِ عید
پاکستان کو ہے مل گیا پنجاب سے پھر اک مردِ سعید
عربی ہے آتی نہیں نہ جانتا ہے وہ سنت و سیرت رسول(ص)
بھول بیٹھا زعم میں اپنے ہے جو روز ِ سزا اور یومِ وعید

309
عہدوں کا پاس کرو سوال کیا جا ئے گا“ شمس جیلانی

جو رکھتے نہیں یقین ہیں اللہ کی دید کا
رکھتے نہیں ہیں پاس وہی وعدہ وعید کا
لقمہ بنیں گے اس دن جہنم کی آگ کا
مطالبہ کریگی جب وہ “ ھل من مزید“

310
ہ اکڑ فوں کس بناپر؟۔۔۔ شمش جیلانی
جینے مرنے میں نہیں شامل مرضی ِ انسان ہے
نہ جانے کس زعم میں کہلاتا تو مرد ِمیدان ہے
جس زاویہ سےڈالو نگاہ لگتا ہے تو نا دان ہے
نہ فکر تجھکودیں کی ہےنہ اللہ کی پہچان ہے

311
مضان مبارک۔۔۔ شمس جیلانی
جس کی آمد کی خبر تھی وہ آگیا مہمان ہے
جس میں پنہاں رحمتیں نام بھی رمضان ہے
یہ رکھتا شب ِ توبہ بھی ہے اک رات میں
اب مانگ لو جو مانگنا ہے اللہ کا فرمان ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(201 – 250) قطعات شمس جیلانی

201
سپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی
تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے
بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے
کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے
ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

202
خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا
مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا
شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر
ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

203
پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا
اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا
کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر
غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

204
موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا
ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا
ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا
گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

205
امت کی حالت۔۔۔ شمس جیلانی

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں
اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں
بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز
کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

206
قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے
جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے
بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے
سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

207
کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے
کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے
مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے
پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

208
صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ
جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ
شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ
اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

209
میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ
یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ
شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے
یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

210
اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں
نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں
یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا
جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

211
برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں
برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں
ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں
سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

212
مسلمانوں کی حال۔۔۔شمس جیلانی

آگئے تم کیوں عدو کی باتوں میں
بٹ گئے قبائل میں اور ذاتو میں
کبھی تم جن کو زیر رکھتے تھے
اب پڑے ہو انہیں کی لاتوں میں

213
فہم دین کا کرشمہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوامیں نوے میں داخل تو اللہ و رسول(ص) کو سمجھا
اپنےدین کو جانا میں نے ہراس کے زریں اصول کو سمجھا
پھر رکھدیا میں نے اک طرف ساری فضول رسموں کو!
جب ملی ہدایت مجھے، نا قص بحث فضول کو سمجھا

214
نیا سال مبا رک ہو۔۔۔ شمس جیلانی

نیا سال ہے آیا ہومبارک ہر خوشی لائے
یہ جہان سارا پکارے گنا ہ سے بھر پا ئے!
کریں جوتوبہ تو روٹھا پروردگا من جائے
اب کارونا جیسا نہ کوئی عزاب پھر آئے

215
آخری دعا۔۔۔۔ شمس جیلانی

الٰہی زندہ رکھنا تو جب تک کہ میں فیض پہنچا ؤں
نہ لگے برائی کی تہمت پہلےمیں اس سے مرجا ؤں
روز حشر تورکھنا اے اللہ سرخرواپنے سامنےمجھ کو
نبی(ص) کا واسطہ تجھکو اس دن نہ تجھ سے شرما ؤں
( آمین)

216
چند اشعارحالات حاضرہ پر۔۔۔ شمس جیلانی

جو ظالم کا ہاتھ پکڑےاب کو ئی با قی نہیں رہا
اس واسطے وہ لایا کل جہان کواب زیر عتاب ہے
کرونا تو ایک چھوٹا سا نمونہ دکھے ہے شمس !
آنے کو ئی اور شاید بہت ہی بڑا سا عذاب ہے
ہو سکتا ہےکہ صدیو پر محیط ہو یہ دو رِعتاب
صدی کی کیا وقعت ہے وہ تو اس کو شتاب ہے

217
سب سے زیادہ پیارا رب۔۔۔ شمس جیلانی

ہراک مومن کو جو کہ دل و جان سے بھی اپنی پیارا ہے
سب الہاؤں سے زیادہ بہتر رب اور الہ بس ہما را ہے
جب پکاروجواب دیتا ہےگر کرکے توبہ ا سے پکارا ہے
کون سی شہ ہے اس سے پوشیدہ کیا نہیں آشکارا ہے

218
ا شعار کی آمد؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ جب توفیق دیتا ہے خیالوں کا جمع ا ژدھام ہوتا ہے
انہیں چن کر جو کوئی منتخب کرلےاسی کا نام ہوتا ہے
یونہیں سب ڈینگیں مارے ہیں کہ یہ افکار میرے ہیں
نہ ہو رب کی اگر مرضی تو ہفتوں تک پہیہ جام ہوتا ہے

219
رموزِ تصوف۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں تمہیں لوگو! کب کیسے اور کیا ہو تا ہے
اک اک میدان ہر بندہ ہی کو بس کرنا فتح ہوتا ہے
تفصیل ملتی سینوں میں ہے اور کتابوں میں نہیں
صرف جہاں پر تنہا اللہ اوراک بندہِ پرُ خطا ہوتا ہے

220
عجب عادت ۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عجب عادت ہے تمہاری کہ آرام نہیں ہوتا ہے
دن وہ بڑی مشکل سےگزرتا ہے اگر کام نہیں ہوتا ہے
ہمیشہ صبح دم اٹھناسنت ہے تمہارے نبی (ص) پیارے کی
جودن چڑھے تک سوئےر ہیں ان پر انعام نہیں ہوتا ہے

221
اَلْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِیمان؛ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوس زر میں ہر شخص کچھ اس طرح مسطور ہے
کہ اس جہاں کا بدلا ہوا اب پوری طرح دستور ہے
پہلے کی طرح اس سے کوئی شرما تا نہیں شمس
اس سے دیواریں سجی ہیں “مطلوب ہے مفرور ہے”
ترجمہِ عنوان۔ حیاء ایمان کا جز ہے۔

222
جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمان جھوٹا ہو نہیں سکتاسرکارﷺکا فرمان یہ مشہور ہے
جھوٹ چھٹتاہے نہیں اس واسطےاب ہم سے دلی دور ہے
عید و بقر عید کو ویسی ہی شکلیں تو بنا لیتے ہیں لوگ!
ظاہر بن جاتا ہے ویسا ہی مگر چہرے پر کہاں وہ نور ہے

223
آہ ! سب کےرفیق چل بسے۔۔۔شمس جیلانی

آدمی اچھے بہت تھےبا صَفا و با صِفات
سال بتیس تک رہا میرا،ا ن کا ،اچھا ساتھ
ہم ہر جگہ ساتھ تھےجب بھی جا تے کہیں
چلد یئے وہ چھوڑ کراتنی لائے تھے حیات !

224
ئینِ خدا ۔۔۔۔ شمس جیلانی
اے بندوں ذرا سوچو کہ حکم ِخدا کیا ہے
ہے اللہ سے فقط ڈرنا بندوں سے نہیں ڈرنا
پھرلازم اطاعت ہے سرکارِدوعالم کیﷺ
ہے ان کےہی لئےجینااوران کے ہی لیئے مرنا

225
انسان خطا کا پتلا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

کون کہتا ہے کہ مجھ سے کبھی تقصیر نہیں ہوتی
جو توبہ سے دھل وہ غلطی کہیں تحریر نہیں ہوتی
یہ بندے پر اللہ کی رحمت اوربخشش کے تقاضے ہیں
کرتے ہوئے برائی کی باقی کہیں تصویر نہیں ہوتی

226
مومن اور گالی گلوچ۔۔۔ شمس جیلانی

مومن اور گالی دے وہ یہ تقصیر نہیں کرتا
واللہ مومن کبھی مومن کی تحقیر نہیں کرتا
جہاں دیکھے برائی کو وہ ڈالے ہےوہاں پردہ
و ہ عیب چھپاتا ہے کبھی تشہیر نہیں کرتا

227
یا اللہ توفیق توبہ عطافرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

اک کرونا نے ہے کرڈالا یہ جہانِ کل زیر ِ و زبر
اب دعا ئیں تک سبھوں کی ہوگئیں ہیں بے اثر
دے ہمیں توفیق توبہ! ڈال پھرکچھ ایسی نظر
ہم سب کہ سب بن جا ئیں اب پھر مثال۔ خضر
( آمین)

228
وگئی تبلیغ بھی بے اثر۔۔۔ شمس جیلانی
جماعتیں مصروف ِ تبلیغ ہیں دربہ در
ٹالدیتے لوگ ہیں کہہ کر انہیں اگر مگر
قلب پتھرہوگئے ہوتا نہیں کچھ بھی اثر
تو دانا بینا اور ہے باخر کرعطا انکو اَجر
( آمین)

229
یااللہ ہمیں بصارت عطا فرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک بندے تھے ترے جس سمت بڑھے نصرت ہی نظر آئی ہے
جب سے باغی ہوئے ہر سمت میں ذلت ہی ملی یاکہ رسوائی ہے
ہم کو احساس دلا میرےمالک سامنے خندق ہے یا کہ کھائی ہے
کب شہنشا ہوں کے شہنشاہ سے کسی باغی نےخلعت پائی ہے !
(آمین)

230
خوش قسمت بچہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

خوش قسمت وہ بچہ ہے کہ ماں گود سے اچھی ہوئی تعلیم ہوتی ہے
مشیت ایزدی پر مرنا جینااس کی فطرت میں اور خوئے تسلیم ہوتی ہے
خدا کر دیتا ہے اس کو عطافہم دیں تفہم ِدیں بہتر تریں اپنی رحمت سے
سمجھ اس میں قرآن اور سنت کی اور پھر اچھی بھلی تفہیم ہوتی ہے

231
کر ِروزِ جزا۔۔۔ شمس جیلانی
وہ اللہ سے ڈرے گا کیا جو ڈرتا ہے نہیں روز ِ جزا سے
بچتا نہیں مجرم جہاں کوئی ہے گناہوں کی سزا سے
ڈرتے ہمیشہ ہی رہو دو لفظوں یعنی بیم و رجا سے
ملنا وہاں جنت تو ہے رب کی رحمت اور عطا سے

232
سب سے بہتر کاروبار۔۔۔ شمس جیلانی

مومن جو کماتا ہے کردیتا ہےخرچ راہ خدا میں
اس کے لیئے اس جیسا کوئی اوربیوپار نہیں ہے
برستے ہیں ہمیشہ ہی غیب سے اس پر خزانے !
دیکھااسے ہوتے کہیں پر کبھی خوار نہیں ہے

233
وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے
منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے
یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس
ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

234
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔ شمس جیلانی

حیرت مجھے ہے دنیا پر تب کیسی تھی اب ویسی نہیں ہے
جس آستیں کو بھی ٹٹو لوخوں میں کسی ظالم کےسنی ہے
ڈر کر جو بھی دیکھے ہے کرے ہے وہ ظالم کی ثنا شمس
کہتا ہے کیا دنیا میں اللہ نےبنا ئی ہے، اورکیا خوب بنی ہے

235
کرشمہ مودت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس دنیا نے تجھے چا ہا کیا شدت سے نہیں ہے
١ک دن سے نہیں دودن سے نہیںاک مدت نہیں ہے
جس جگہ سےگزراتومودت سدا پائی ہےکھڑی بس
اللہ کی رحمت ہےیہ زوربازوومشقت سےنہیں ہے

236
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پاگل سے نبھاناپیت یہ سدا سے محال ہے
جو کہ نبھا رہے ہیں اسے یہ انہیں کا کمال ہے
جاری ہیں بیٹھکیں وہا ں ہر روز صبح شام کو !
بٹتے وہاں پردیکھی جوتیوں میں بھی دال ہے

237
یہاں رہ کر وہا ں کے کام کرجاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

امینوں اور صدیقو ں میں شامل یہاں پراپنا نام کر جاؤ
شمس وہاں جا کر یہاں والوں کو اپنا بندہ بے دام کرجاؤ
رکھونعرہ یہاں پر کام اوراچھاکام ہی ہمیشہ مشن اپنا !
ملےجن کے بدلے میں وہاں جنت کچھ ایسے کام کر جا ؤ

238
رب پہ پیار آتا ہے۔۔۔شمس جیلانی

کروں ہوں یاد اسے تو میرے دل کو قرارآتا ہے
خدا کی دین ہے کہ میرا کہیں تو شمار آتا ہے
یہ اس کی دین ہے عطا وہی تو کرتا ہے ہمیں
میں جتنا سوچوں ہوں اس پر ہی پیار آتا ہے

239
موت کام کا وقت معین ہے۔۔۔ شمس جیلانی

ہر بندہ لکھا کرا لایا وہاں سے اپنی اک منزل تو ہے
سارے اعضا کہہ رہے ہیں اب جینا ذرا مشکل تو ہے
شمس اس کی مرضی پر ہی جینا اور ہے مرنا منحصر
کون جانےکب دھڑکنا چھوڑدے اک پرانا دل تو ہے

240
اخلاقی قدروں کا زوال۔۔۔ شمس جیلانی

جب خیانت بڑھی تودیانت گئی
ہو دنیا سے رخصت امانت گئی
ہراک تاک میں ہے لے کپڑے اتار
اعانت گئی اور استعانت گئی

241
تقاضہ توحید پرستی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وحدت پرست ہوں وردِ زباں اللہ و رسولﷺ ہے
بات طول کھینچے ہے مرے خیال میں بحث فضول ہے
کبھی لاتا نہیں ہوں بیچ میں کسی اور کا میں ذکر
نہ تورات مجھ کو یاد ہے نہ ہی انجیل و زبور ہے

242
تربیت اور گود۔۔۔۔ شمس جیلانی

گود ایسی ملی جو روک دے خطا میں کروں
چاہے تھی گرہ میں باندھ لے جوعطا میں کروں
سر پر ہو مرے بزرگوں کا سایہ سدا ہی بس
ہر ایک در ِعلم وا ملے جس کو میں فتح کروں

243
سچےاور جھوٹوں کے مطیع؟۔۔۔ شمس جیلانی

سچو ں سے کبھی جھوٹو ں کی اطاعت نہیں ہو تی
ہےخبر ہی جھوٹی جس میں صداقت نہیں ہو تی
مومن سدا ڈھونڈے ہے کہ سچ مل جا ئے کہیں پر
اک بار تو ممکن ہے ہمیشہ یہ حماقت نہیں ہو تی

244
زحمت میں رحمت ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس قانون ِقدرت ہے یہ، گنا جو کرے گا سزا پا ئے گا
بلا ئیں یوں بھیجتا ہے کہ انسان دیکھے، سدھر جا ئے گا
گر کرے گا جو تو بہ پھراسی در سے آخر وہ فلا ح پائے گا
رحمتیں رب دن رات برسائے گا اور انساں سکوں پا ئے گا

245
اے کاش پیرو رسولﷺ کے ہوتے۔۔۔ شمس جیلانی
اے کاش پیرو ہم صرف اپنے رسول ﷺکے ہوتے
ہوتا خلق بھی ان سا ﷺ بندے اصول کے ہوتے
رضائے رب پر ہی ہم شمس جوراضی بہ رضا رہتے
نہ ہوتے مفتوح ہم فاتح کل عرض وطول کے ہوتے

246
چاہیئےاک سجدہ طویل۔۔۔ شمس جیلانی

شمس بس ہرگز نہیں دنیا سے دھوکا کھا ئیے
رب جب ہو سامنے سجدے میں بس گر جا ئیے
طول اتنادیں اسے کہ گزرجا ئے پھر ساری عمر!
جب موت آجا ئے نظر قدموں میں ہی مر جا ئیے

247
مدد کرو مدد کیئے جاؤگے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

اپنا وطیرہ یہ رہا گرتے جسے بھی دیکھا کندھے چڑھا لیا
کہہ ،توفیق رب نے دی مجھے، سر اس کے آگے جھکا لیا
رکھتا گمان پکا ہوں دربارِ رب سے آئے گی اک دن یہ صدا
شمس جا کر بسا اب جنت توکہ تو نے ہے رحمت کو پالیا

248
بیکار کی باتیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ لڑائی کی نہ جھگڑے کی نہ ہی تکرار کی باتیں
اچھی مجھے لگتی ہیں فقط سرکار ﷺکی باتیں
کرنے کومجھے رہتے ہیں اوربہت پند و نصائح
اس واسطے کرتا میں نہیں کبھی بیکار کی باتیں

249
حکمت ِ سراپا ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرحکمت سے ہیں ہوتی سب میرے سرکار کی باتیں
صرف گفتار ہی نہیں ان میں ہیں بلند کردار کی باتیں
ہم حکمت کو بھی ڈھونڈیں ہیں جاکر کے یورپ میں
جبکہ ہیں مومن کو بہت کافی، سیدِ ابرارﷺکی باتیں

250
اسلامی توکل۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ کس دیں پر چلتے ہیں یہ کس دنیا میں رہتے ہیں
یہ ہلاکت کو حماقت سے توکل جو لوگ کہتے ہیں
حکم یہ ہے باندھو اونٹ کو پھرآؤدر بار رسالتﷺ میں
یہ کھلا جو چھوڑ آتے ہیں حماقت اس کو کہتے ہیں

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(151 – 200) قطعات شمس جیلانی

151
آخری حل۔۔۔۔ شمس جیلانی

کرسکتا وہ ہی کچھ ہے ہاتھ میں جس کے ہے ساری کائینات
کوئی مفلس کیا کرے گا جو پھر رہا ہے کہیں پر خالی ہاتھ
اب جنگ ہو یا امن ہو لگ رہا دنیا کا انجام کچھ اچھا نہیں
ایک ہی حل با قی بچا ہے بن کے بندہ مان لو اس رب کی بات

152
سلام میں مسکرانا ۔۔۔۔شمس جیلانی

شمس بالتحقیق یہ بھی صدقہ ہے
جو ہنس کے ملتے ہیں مسکراتے ہیں
ڈھونتے پھرتے ہیں انہیں ملے کوئی
خود بھوکے رہ کر انہیں کھلاتے ہیں

153
خدمتِ خلق۔۔۔شمس جیلانی

اپنی جنت وہاں بنا تے ہیں
دوسروں کے جو کام آتے ہیں
مخلوق ہے کنبہ عیال اللہ
بھوکا رہ کر اسے کھلاتے ہیں

154
باعث رسوائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

پہنچا وہ ثریا تک جس نے یہ روش اپنائی
ہے مومن ہی فقط جانے عظمتِ سحر گاہی
بس جلدی اٹھو یاروں جلدی اٹھو بھائی
دیر تک سونا ہے باعثِ ذلت و رسوائی

155
م کھانا کم سونا؟ شمس جیلانی

کم کھانا کم سونا ایسا پنہاں کچھ راز ہے
جانے اسے وہی ہے جو خالق وکار ساز ہے
جب دینے پہ آئے وہ تو دے بے انتہا رزق
اللہ ہے جسکا نام اور وہ جو بندہ نواز ہے

156
ضعف ایمانی۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ جسے چاہے نہیں اس کو بلا ہے نہیں کھاتی
ہے وقت سے پہلے توموت کسی کو نہیں آتی
دکھلا کرکے بلا ئیں وہ ڈراتا ہے انہیں شمس
سب بھگتےہیں نتیجہ قوم یہ ایماں نہیں لاتی

157
عاقل کی بات ۔۔۔شمس جیلانی

عاقل کی کوئی بات پرانی نہیں ہوتی
جوزیست گزارے وہ فانی نہیں ہوتی
وہ چھوڑکے جاتا ہےیہاں صدقہ جاری
یوں سامنہ اللہ کے پشیمانی نہیں ہوتی

158
بیاں معتبر نہیں ۔۔۔ شمس جیلانی

ہر شہ بے اثر ہے کسی میں اثر نہیں
دعوے کرے لاکھ نہیں اور مگر نہیں
ہمہ صفت فقط بس اللہ کی ذات ہے
جو کہےاس کے سوا بیاں معتبر نہیں

159
جد وجہد لازمی ہے۔ شمس جیلانی

شمس کلیہ یہ ہے وہی کاٹے ہے جو کہ فصل بوتا ہے
وہ فصل کیا خاک کا ٹے گا؟ جو کہ ہر وقت سوتا ہے
بشر کو عطا ہوتا و ہی ہے سعی کرتا ہے وہ جس کی
ہے ناداں وہ کہ بعد میں افسوس کرتا ہے یا روتا ہے

160
عطا ئے عجیب۔۔۔ شمس جیلانی

جو لٹائے راہ میں اسکی بے شمار دیتا ہے
جوکرے شمار تو کرکے اسے شمار دیتا ہے
عجیب داتا ہےمانگو تو ہےوہ خوش ہوتا
اگرہزار بار جو مانگو وہ ہزار بار دیتا ہے

161
تغیرات ِ زمانہ۔۔۔شمس جیلانی

وہ دور ہم نےدیکھا ہےجبکہ ہم بھی ایک بچے تھے
محل بہت کم تھے،گھر،گھروندے وہ بھی کچے تھے
لیکن اس دور میں ملتاکوئی جھوٹا بات تھی مشکل
قناعت تھی دیانت تھی اور سارے لوگ سچے تھے

162
قناعت پسندی۔۔۔ شمس جیلانی

میں دین کا خادم ہو ں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
اس راہ میں کاوش کوئی جاتی کبھی بیکار نہیں ہے
اے شمس بچپن سےوطیرہ میں نے رکھا ہے قناعت
جو مانگوں سوااس کے یہ دل اُس کاروادار نہیں ہے

163
خوفِ محشر ۔۔۔ شمس جیلانی

اس واسطے یہ شمس زمانے سے جدا ہے
ہر لمحہ رَ کھے سامنے جو رب کی رضا ہے
ہر وقت ہی خوف سے لرزاں ہے رہے وہ !
کھٹکااسےلاحق ہے ہونا بپا روز ِ جزا ہے

164
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

کیا نہ دیا اللہ نے بڑا احسان ہے صا حب
ناشکرا مگر پھر بھی بڑاانسان ہےصا حب
شمس ‘ اللہ اکبر ‘ سے مردے ہوئے زندہ
اس نعرہ مقدس میں بڑ ی جان ہے صاحب

165
اللہ تو اللہ ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ تو اللہ ہے اسی کی الگ شان ہے صاحب
مدر نیچر اسے کہلو یہ بھی پہچان ہے صاحب
اک جرثومے کو کیا بھیجا ہےکل دنیا ہوئی ہلکان
سامنے اس کے دھرا رہ گیاکل سا مان ہے صاحب

166
فلاح اسی میں ہے۔۔۔ شمس جیلانی

آئینِ خدا کو بندہ کوئی جھٹلا نہیں سکتا
تو بہ کے بنا بندہ کو ئی فلاح پا نہیں سکتا
بہتر یہ ہی ہے سرکو جھکادو اللہ کے آ گے
تاحکم خدا یہ جرثومہ بھی جا نہیں سکتا

167
فرشتے سلام کرتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں رہ کر وہاں کے جو مرد کام کرتے ہیں
خدائے پاک بڑھا کر انہیں امۤام کرتے ہیں
مچھلیاں تک ان کے لئیے دعا ئیں کرتی ہیں
فرشتے آتے اور جاتے ہر دفعہ سلام کرتے ہیں

168
منافق کی پہچان اور انجام۔۔۔ شمس جیلانی

جو کہتا ہے وہ کرتانہیں منافق کی یہ پہچان ہے صاحب
یہ میں نہیں کہتا ہوں نبی(ص)پاک کا فرمان ہے صاحب
پھر یہ بھی لکھاہے کہ درک ِ اسفل ہے منفاق کا ٹھکانہ
ثابت یہ حقیقت ہے وہ بھی از روئے ِقر ان ہے صا حب

169
ا نقلابِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں پہ جب تک ہم عامل قر آن ہوکر رہے
رہے زمیں پراسوقت تک آسمان ہوکر رہے
جو چھوڑا دین کو ہم نے ، تو ُرل گئے ہم بھی
بہاریں روٹھ گئیں اور خزاں نشان ہوکر رہے

170
عالمِ بے عمل۔۔۔ شمس جیلانی

عالمِ بے عمل کہاں لکھا ہے کہ صاحب اکرام صاحب
جواس کو بھی ولی مانیں تو یہ دین پر الزام صاحب
حیرت ہےکیا ہوگیا اس عقلِ مسلماں کو بھی اے شمس
ایسوں کی بھی یہ قوم بنی اب بندہ بے دام ہے صاحب

171
سچائی کا صلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جو سچ ہیں بولتے انہیں صادق شمار کرتے ہیں
خدا ئے پاک اور اس کےکُل فرشتے پیار کرتے ہیں
نیک بندوں میں ہمیشہ ان کا شمار رہتا ہے
ہر ایک بات پر ان کی سب اعتبار کرتے ہیں

172
مومن اورجہد ِمسلسل۔۔۔ شمس جیلانی

بہتر یہ ہی کہ نہ گناہ ہر گز کیا کریں
ہو جا ئے گر خطا تو توبہ کیا کریں !
مُسَلسَل دیں شکست شیطاں لعین کو
حاصل فتح اس پہ یوں فوراً کیا کریں

173
میرے سرکار ﷺکیسے تھے۔۔۔ شمس جیلانی

کسی نے پوچھا صدیقہ ؓسے نبیﷺ ذیشان کیسے تھے
کہاقرآں پڑھا تم نےوہ ﷺبس قرآن جیسے تھے
یہ زمانہ آج بھی ہے ڈھونڈتا پھر تانقشِ قدم انکےﷺ
بہر صورت وہ ﷺ کامل تھے مگر انسان جیسے تھے

174
سرکار کیسے تھےﷺ۔۔۔ شمس جیلانی

بتاؤ ں تم کو کیا اے لوگوں میرے سرکارﷺ کیسے تھے
لکھا لا ئے رب سے تھے سرداری سردارﷺایسے تھے
یہ تھااجداد کا شیوہ کہ وہ گزرتے خوشبو پھیلاتے
تھے چمکتے مثل ِسورج وہ صاحب ِکردار ایسے تھے

175
عقیدہ اور عمل ایک سا۔۔۔شمس جیلانی

بہت بودا ہے شمس یہ دنیا کا سہارا
بہتر ہے ہم اس کے ہورہیں وہ ہمارا
عقیدہ اوراپنا عمل بھی ایک سا ہو!
رہےاللہ لبس ہمیں جی جاں سے پیارا

176
اوش اپنی نصرت رب کی۔۔۔ شمس جیلانی

ہے جیسا راستہ چنتا کوئی مردود یا مسعود ہوتا ہے
جو چا ہے اپنے لئیے چن لے ماحول کل موجود ہوتا ہے
ہے پتہ بندے کوجب چلتا کہ فرشتے جاں نکا لیں ہیں
روح نکل کر ہی نہیں دیتی کہ راستہ مسدود ہوتا ہے

177
اللہ دعا فرما ئیے۔۔۔ شمس جیلانی

دیکھنے میں تونظر ہے آرہی ، یہ زمیں ہے بے حد حسیں
لیکن سرکتی جا رہی ہے رفتہ رفتہ پیروں نیچے کی زمیں
چھوڑ کر ہم نے خود ہی اسوہ حسنہ ﷺخود کو رسواکرلیا
للہ دعا فرما ئیے رحمت اللعالمیں، رحمت اللعالمیں ﷺ

178
جات اسوہ حسنہ ﷺ میں ہے شمس جیلانی

مجھے اسوہ ﷺحسنہ کے سوا کوئی رستہ نہیں معلوم
پہلے سے کوئی تھا بھی وہ اب ہوگیا معدوم
فرما دیا سرکار ﷺ نے چلے آؤ مرے پیچھے
کیا قصّے لیئے بیٹھی ہے یہ امت مرحوم

179
تغافل سا تغافل۔۔۔ شمس جیلانی

جیسے ہے بڑھا علم یہ دنیا تجھے پہچان رہی ہے
جومحبوبﷺ نے فرما یا تیرے ابھی مان رہی ہے
اک جر ثو مے سے ساری اکڑ ہو گئی رخصت !
کرتا ہےیہ کون بس بن یونہیں انجان رہی ہے

180
صدقہ رسول (ص) شمس جیلانی

یہ جو کچھ ہے شمسؔ آج سب صدقہ ِ حضورﷺ ہے
کم ہیں جہاں میں لوگ جنہیں حق کا شعور ہے
گزر ہے دن اور رات سب کا حمدو ثنا میں بس
ان کا ﷺجو کہ غلام ہے وہ کب اللہ سے دور ہے

181
ناز ہےغلامی پر۔۔۔ شمس جیلانی

کرتا ہوں ذ کر ان ﷺکا پیاروں ، کا دین کا
کرکے گمان بیٹھا ہوںمیں جنت حسین کا
اس کے سوا ہے پاس اساسہ کوئی نہیں
ہے فخر کہ غلام ہو ں صا دق امینﷺ کا

182
توبہ گناہ کا کفارہ ہے۔۔۔ شمس جیلانی

کس سے زمانے میں حماقت نہیں ہوتی
مومن وہ نہیں امید شفاعت نہیں ہوتی
کرتے رہو توبہ تم اے شمس مسلسل
ظالم کو گناہ کرکے ندامت نہیں ہوتی

183
اللہ کی شان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

لاریب شک نہیں ہےکہ وہ رب مہربان ہے
پرَ ویسے اب کہاں ہیں مگر اونچی اڑان ہے
کندھے جھکے تھے پہلے کمر مثلِ کمان ہے
پھر بھی قلم رواں ہے یہ اللہ کی شان ہے

184
کوئی گناہوں کا معترف نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

زمانے کا چلن بدلا قافلہ رستے میں کھڑا ہے
ہر گھر سے ابھی اٹھ رہی اُف، آہ ، اور بکاہ ہے
ناراض ہےلگتا جس ہاتھ میں دنیا کی بقا ہے
پھر بھی نہیں کہتا کوئی گناہوں کی سزا ہے

185
اب بھی مان جاؤ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جینے میں نہ لذت ہے نہ مرنے کا مزہ ہے
پژمردہ زمانہ ہے اور یہ مسوم فضا ہے
بندے کی بصیرت پر ہے شک سا گزرتا
کہہ دے کوئی یہ کہ نہیں کوئی خدا ہے

186
عادتِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مومن کی تو عادت ہے راضی بہ رضا رہنا
اس راہ مین جو مشکل ہو جپ چاپ اسے سہنا
کیا کچھ نہ ملے اس کو گنتی ہے نہیں اُس کی
بس بالا ئے تصور ہے جو کہ وہ پہنے وہاں گہنا

187
بہاریں روٹھنے کی وجہ۔۔۔ شمس جیلانی

سوچا کبھی کیا تم نے کہ کیوں روٹھی بہار ہے
کچھ تو کیاہے ایسا کہ سر کاندھو ں پہ بار ہے
جو ماں سے بھی کرے زیادہ بندوں سے پیار ہے
ہےبین ثبوت اس کا کہ خفا ہوگیا پرور دگار ہے

188
ازم ہے بزرگوں پر سراہیں وہ انہیں جو اچھا کام کرتے ہیں
جو اپنا ہی نہیں بزرگوں کا بھی کا بھی اونچا نام کرتے ہیں
انہیں میں ڈاکٹر ریحان ہیں جو کہ خلف ہیں حضرت اسد کے
یوں لا ئقِ ستائش ہیں سیرت نبوی(ص) کو جہاں میں عام کرتے ہیں

189
بندہ نواز۔۔۔ شمس جیلانی

بندےبنو تو تم، وہ بندہ نواز ہے
اللہ عظیم ہے اور وہ کار ساز ہے
اسکو ہی پکارو حاجت روا ہے وہ
لازم اس کے واسطے دینا آواز ہے

190
جناب ِصفدر ھمدانی کی ستر ہویں سال گرہ پر
خیر سے حضرتِ صفدر ہوئے آج ستر سال کے
لوگ عنقاہیں جہاں میں اِس پرانی چال کے
ان کے اندر قناعت شمس اِس قدر ہے موجزن
نہ ہی وہ طالب دنیا رہے نہ ہی پجاری مال کے…

191
کج بحثی سے اجتناب کرو ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ کا حکم یہ ہے جاہل اگر جو ٹکرے کہنا سلام ہے
حضرت مولانا روم کا بھی کا سب کویہ ہی پیام ہے !
“ چالیس اگر ہوں علماء ان کو ایک دلیل ہے بہت“
جوجاہل سے عاقل ٹکرے اس کا خجالت مقام ہے

192
یہ کرونائی تہذیب ۔۔۔ شمس جیلانی

عجب روش ہے سب منہ چھپائے پھرتے ہیں
غیر ہی نہیں، بنے اپنے، پرائے پھر تے ہیں!
سرِ راہ مل جا ئےکوئی بھی شناسا شمس
نگاہ بد لی سب آنکھیں چرائے پھر تے ہیں

193
خیر اور شر میں فرق۔۔۔ شمس جیلانی

جو اہلِ خیر ہں سرکو جھکا کر چلتے ہیں
جو اہلِ شر ہیں وہ گردن اٹھا کر چلتے ہیں
یہ ہی فرق اچھوں بروں میں ہے اے شمس
برے جو لوگ ہیں فتنے جگا کرچلتے ہیں

194

وشیار باش۔۔۔ شمس جیلانی

خفا ہونے نہیں دینا کسی کو ہے منانا مشکل
یہ دور ِ کرونا کسی گھر بھی ہے جانا مشکل
شمس اس بات کا بس رکھو ہمیشہ ہی خیال
دوستی کرنا ہے آسان مگر اسکا نبھانا مشکل

195
مقام عبرت۔۔۔ شمس جیلانی

یہ جہاںمقام ِ عبرت ہے سوچئے تو سہی
کرے برا جو کام اس کو ٹوکئیے تو سہی
ماۤل اس کا یہ ہے کہ دیدار کو ترستے ہیں
کرکے توبہ آنسو اپنے پوچھئیے تو سہی !

196
ایک سوال؟۔۔۔ شمس جیلانی

وہ کئی بار آئے بلا ئے بٹھا ئے نکا لے گئے
ہے فطرت کچھ ایسی نہ طیور سنبھالے گئے
گلہ ہے انہیں یہ پوچھتے ہیں لوگ کیوں
جو کہ دولت تھی لوٹی وہ تم کہاں لے گئے

197
گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں
کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں
بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں
پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

198
پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے
پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے
دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے
وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

199
خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا
خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا
خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے
سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

200
آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے
ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے
ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس
آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(101 – 150) قطعات شمس جیلانی

101
دعاعباس رضا زیدی کی نویں سالگرہ پر

میری دعا ہےکہ عباس کی عمر خدا دراز کرے
سراپا علم کرے اورعالمِ جید وہ کار ساز کرے
دے علم وہ ایسا کہ راضی رہے خدا جس سے
نانا صفد رو کنبہ ہی نہیں، کل جہان ناز کرے

102
ماں نہیں یقین ہے؟ شمس جیلانی

گماں نہیں یقین ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
وہ حقیر بندوں میں اپنے مجھکو شمار کرتا ہے
یہ اس کی دین ہے قناعت عطا کری مجھ کو
سر بھی ایسا کہ سجدے جو بےشمار کرتا ہے

103
بلاؤں سے ذریعہ نجا ت توبہ۔۔۔ شمس جیلانی

بھیج بلا،یاددلاتا ہے بندوں کودامن گناہوں میں سنا ہے
خود ہی معاف بھی کرتا ہے وہ جو لائق حمد و ثنا ہے
بس گرجاؤ تم سجدے میں کہ واحد وہی جائے پناہ ہے!
ہر اس کام سے توبہ کرو کہ مومن کو جو کرنا منع ہے

104
فکر ِمآل ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہوگا اب کیا مآلِ ملت یہ خوف مجھ کو ستارہا ہے
ہو ئےجو ہیں خشک آنسو، وہ خوں کے آنسو رلا رہا ہے
بلائیں ٹلیں گی کیسے خوف ہے جو کہ بیکل بنا ر ہا ہے
نہ کرتا توبہ ہے آج کوئی ، نہ ہی رب کو جاکر منا رہا ہے

105
ترقیِ درجات۔۔۔ شمس جیلانی

میرامشاہدہ ہے جس سے راضی ہو رب دیں کا کام لیتا ہے
یہاں کرے ہے صبر جو، اسکووہاں پر بے حد انعام دیتا ہے
نہ کسی سےلڑتا ہو وہ نہ بحث و تکرار ہو روش اس کی
تب دلوں میں اپنے بندوں کے وہ ا سے اعلیٰ مقام دیتا ہے

106
تلاش ِفلاح گناہوں میں؟۔۔۔ شمس جیلانی

ہم سمجھے تھے قوم ہےدانا ،کر توبہ رضا ڈھونڈ رہی ہے!
عقدہ یہ کھلا ہم پہ وہ گنا ہوں میں فلاح ڈھونڈ رہی ہے
بشکلِ جرثومہ اُدھر ہر بندہ ِخطا کارکوبلا ڈھونڈ رہی ہے
یعنی کہ قضا ڈھونڈرہی ہے بحکم ِ خدا ڈھونڈ رہی ہے

107
وجود باری تعالیٰ۔۔۔۔۔شمس جیلانی

کہہ گئے ہیں بزرگ شاعر “کوئی تو ہے جو نظام ِہستی چلا رہا ہے“
یہ دور ہےدور ِسائنس بظاہردیکھوکہ روبوٹ بیٹھا کشتی چلا رہا ہے
جھا نکوگہرایوں میں پتہ چلےگا پس پردہ انسان بیٹھا گُل کھلا رہا ہے
ملحد پھر بھی کہدے خدا نہیں ہے! وہ جگ کو خود پر ہنسا رہا ہے

108
حیرانی سی حیرانی۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں مجھے اف حیرانی سی حیرانی ہے
ہوگئی پختہ ابھی لو گوں میں بے ایمانی ہے
میں تو سمجھا تھا ہراک لب پہ اب توبہ ہوگی
ہے کرشمہ کہ بڑھاکچھ اورکار ِ شیطانی ہے

10
مسجد آیا صوفیہ میں چھیاسی سال کے بعدجمہ

یہ مسجد چھیاسی سال سے ویران تھی پڑی
بوٹوں کی ایڑھیاں کرتی تھیں بے عزتی بڑی
یہ اک مرد آہنی کمال اتا ترک کی تھی دَین
طیب اردگان نےواپس کیا ملت کو اپنی چین

110
علم جتنا بڑھا جہالت بڑھی شمس

کون مانے گا اس سے جلالت بڑھی
جو چھوڑا اسوہ نبی خجالت بڑھی
ایسی تعلیم شمس ہے کس کام کی
علم جتنابڑھتا اورجہالت بڑھی

111
کلیہ القاب۔۔۔ شمس جیلانی
جن کا لب پہ آئے ذکر سب پڑھیں درود سلام ہیں !
یہ لوگ وہ ہیں جو کہ سب کہ سب ،علیہ اسلام ہیں
بس راز وہ ہی جانے ہے جو واقفِ راز ہے اے شمس
اُن کو خبر ہے کیا؟ بندہِ عقل ہیں، اسی کے غلام ہی
112
مومن اور شیطان۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کوئی ایسا نہیں کہ تاک میں شیطان نہیں ہے
بات بس اتنی ہے کہ اس کی اسے پہچان نہیں ہے
شمس کر نہ سکے جوکہ اپنی نمازو ں کی حفاظت
مشکل ہے اسےوعدو ں کا نباہ کرنا، آسان نہیں ہے

113
حج اور عید مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

نہ چہروں پروہ رونق ہے نہ ہی عبادت میں مزہ ہے
یہ حج وعید ہے یاکہ امت کےگنا ہوں کی سزا ہے
نہیں آتی نظر ہے قوم یہ آمادہِ توبہ ابھی تک!
وہ دیکھوجبلِ رحمت ہےافسردہ, اور خالی پڑا ہے

114
سعودی خطبہ حج کے مضمرات؟ شمس جیلانی

حیرت ہے جو سزا کو امتحاں بتا رہے ہیں
تھی جن سےامیدِرہنمائی وہی بہکارہے ہیں
توبہ بنا اور معافی، یہ سنت ِرب نہیں ہے !
اسطرح تو خود ہی کشتی ڈبانے جا رہے ہیں

115
عر مذلت کی وجہ۔۔۔ شمس جیلانی

میں اس رب کو پیار کر تا ہوں ہاتھ میں جسکے عزت و ذِلّت ہے
یہ ہی سرشت ِ انساں ہے اور ہر بشر کی لکھی ہوئی جبلّبت ہے
خود بنا کر بتوں کو پوجے ہے یہ اس میں آئی کہاں سے علّت ہے
جو ہمیشہ سے عار ہے اس کو اور اب وہ باعث ِ قعَر ِمذلّت ہے

116
رب پیارا ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

جو خالق ہے ، مالک ہے ،واحد سہارا ہے
ہمیں تو ہر سہارے سے ہمارا رب پیارا ہے
جس کا نام لینے سے ملتا ہے سکوں دل کو
ملا جس سے ہمیں اللہ اکبر کا یہ نعرہ ہے

117
چوری اور سینہ زوری۔۔۔ شمس جیلانی

گڈ مارننگ جو کہتے ہں ہر اک سلام پر
جُل دیتے رہے ہیں وہ اکثر اللہ کے نام پر
رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہی دیں کےکام پر
ہیں جگ کو نچا رہے وہ اب زور ِکلام پر

118
اظہا ِ تشکر۔۔۔ شمس جیلانی

تونے سب کچھ عطا کیا مجھکو
دین ِ برحق سکھا دیا مجھکو
اے خداتو بتا کہ کیا مانگوں
سیدھا رستہ دکھا دیا مجھ کو

119
دیار ِ غیر کی جھلک۔۔۔ شمس جیلانی

ڈھونڈیں سہی یہاں بھی مل جا ئے گا وہی طرز ِ گفتگو
چھینکےکوئی تویہ بھی ہیں کہتے کہ “گاڈ بلیس یو“
چالان بھی یہ کرتے ہیں تو سر کہہ کر ادب کے ساتھ
پائی نہیں ہے ہم نے ان میں بڑائی کی کہیں بھی خو

120
خبردار۔۔۔ شمس جیلانی

ڈرتا نہیں وہ ہے جو جھوٹ کو سچ کی طرح بول رہا ہے
ڈرتا نہیں وہ بھی ہے جو کہ فضاؤں میں زہرگھول رہا ہے
شمس ہو جا ؤ خبردار بچا وقت ہے باقی بہت تھوڑا !
بس چھانے کو عزابوں کا اندھیرا ہے جو پر تول رہا ہے

121
تبلیغ ِدین۔۔۔شمس جیلانی

سورہ والعصر پڑھ لیں معدبانہ عرض ہے
شرما ئیں ہیں ناحق کیا ہم میں یہ مرض ہے
جبکہ یہ حکم ِ خالق ِ ذوالعرش و ارض ہے
کہ تبلیغ ِ دین بھی تو ہر مسلماں پہ فرض ہے

122
یوم پاکستان مبارک ۔۔۔ شمس جیلانی

رمضان کی ستاسویں شب کو بناملکِ پاکستان ہے
نیک ساعت میں بنا یا اس رب کی یہ بھی شان ہے
ایک دن جنت بنےگا مجھ کو ہے اللہ پر اپنے یقیں
یہ بھی وقتی بات ہے جو طرف پھیلا ہوا ہیجان ہے

123
آہ اظہر سید مرحوم ۔۔۔ شمس جیلانی

جو پیش منظر کل تلک تھا اب پس منظر گیا
آہ اظہر سید جیسامیرادوست، ساتھی مرگیا
ہر جگہ ہو تے ہم اے شمس اکثر ساتھ ساتھ!
اب اسے ڈھونڈوں کہا ں وہ تو ابدی گھر گیا

124
اف یہ سیاہ بختی ۔۔۔شمس جیلانی

سیاہ بختوں کو کب کو ئی بھی اپنا مال دیتا ہے
اگر کچھ مانگنے آئیں تو کر بہانہ ٹال دیتا ہے
مگر کرلے وہی توبہ تو بن جاتا ہے پھر ویسا
قسمت جو پلٹتی ہے وہ اچھا اسےمآل دیتاہے

125
آمد ِبہار۔۔۔ شمس جیلانی

یہ اس رب کی دین ہے کہ ہرطرف چھائی بہار ہے
جو غنچے چٹک رہے ہیں اور فضا مشک بار ہے
تم ہر گز نہ گن سکوگے انعا مات اس کے شمس
اتنی عنا یتیں ہیں نہ کوئی حد ،نہ ان کا شمار ہے

126
آئین ِ رب۔۔۔ شمس جیلانی

آئین صرف اس کا ہے جس میں سکون و قرار ہے
وہ خالق ہے حکیم بھی ہے بےحد ہی با وقار ہے
مانے جو اس کی بات وہ فلاح پاجا ئے ہے شمس!
ہیں لوگ رب کی مانتے ہی نہیں یہ وجہ انتشار ہے

127
حضرت امام حسین علیہ اسلام۔۔۔ شمس جیلانی

سنتے ہیں ان کو نانا ﷺسے آیا تھا اک پیام
مقتل میں خود چلے گئے جو حضرت ِ امام
اس راز کو سمجھنا ، فقط ہے ولی کا کام
سمجھے گا وہ کیا خاک جو ہو عقل کا غلام

128
مشیتِ ایزدی ۔۔۔ شمس جیلانی

مشیتِ ایزدی تھی جگمگتا رہے یہ نام
جو کر بلا کو چلدیئے ہو بے خطرامام
تھامرکے پھانسی چڑھنامقدر یزید کا
اوردیں کے پاسباں حسین علیہ اسلام

129
خشش مرحون ِ رحمت۔۔۔ شمس جیلانی

اس کے حقیر بندوں میں، میں خود کو شمار کرتا ہوں
وہ مجھسے پیار کرتا ہے اورمیں اس سے پیار کرتا ہوں
کروں میں شمس بھلا ناز کس طرح کسی ریاضت پر!
کروں جو ایک ہوں نیکی ، تو غلطی ہزار کرتا ہوں

130
دت سے جاری ذکراتھا اسی ذبیح ِ عظیم کا
تھا فیصلہ ازل سے یہ اس اللہ رحیم و کریم کا
مقصود تھا دکھانا رتبہ اسے حضرت ِامام بس
اور بننا تھا آلہ کار یزید کو شیطا ں رجیم کا

131
نانا ﷺنے جوکہا تھا اسے سچ کر، اپنی منزل کو پا لیا

عظمت ملی انہیں قربان خود کوکردیا دیں کو بچا لیا
کیا مشیتِ ایزدی تھی انہیں معلوم تھی وہ شمس!
اس پر انعام جو تھا وہ کنبہ زہرہ ؑ نے بڑھ کر اٹھا لیا

132
حضرت امام حسین علیہ اسلا۔۔۔شمس جیلانی

رستہ دکھا یا گیا جہان کوامام کاایک ہی عمل
جیسے شفاف جھیل میں کھلا ہوا ہوکوئی کَنوَل
پھرزندہ اورجاوید کر گئی انہیں آکر وہیں اَجل
اب لا ئے گا یہ جہان کہاں سے ان کا کوئی مِثل

133
یاد ِحسین علیہ السلام۔۔۔ شمس جیلانی

ظالم تھے جتنے لوگ وہ کوئی نہیں بچا!
وہ بھی نہ سانس لےسکے اک لمحہ چین کی
مقبول ِبارگاہ ہوئی بد دعاحضرت حسین کی
جگ کو ہے یادابتلاء نانا کے نورِعین کی

134
خزینہ حکمت ہیں اللہ رسول (ص) کی باتیں

بشر سے بنا تی ہیں انساں اللہ رسول (ص) کی با تیں
لیکن پسند لوگ ہیں کرتے اکثر فضول کی باتیں
سوا گناہوں کے شمس جن سے کچھ نہ ہوحاصل !
کیوں فضول کرتے ہیں یہ عرض و طول کی باتیں

135
باعث رسوائی۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےسجدے میں گر پڑو تم رب کے سامنے
پھرآجائیں گے فرشتے بھی گرتوں کو تھامنے
بد عنوانیوں میں بڑھ گئے بےانتہا ہیں شمس
یوں رسوا کیا ہے ہم کو ہمارے ہی کام نے

136
بھولا ہوا ہےکام۔۔۔۔ شمس جیلانی

آکر کے بھول بیٹھا ہے کرنا تھا جو کہ کام
دانے تو گن رہا ہے مگر ہے بھولا ہوا امام
وہ کام جو بیاں قرآن میں تفصیل سے ہوئے
جس پر اسے تھا ملنا جنت میں کچھ مقام

137
تربیت میں میانہ روی ۔۔۔ شمس جیلانی

کری جو تربیت اچھی بچے جنت لے کے جاتے ہیں
کری جو تربیت کھوٹی و ہ جہنم گھر بناتے ہیں
محتاط رہنا ہے اگر ہو واسطہ معصوم ذہنوں سے
بڑے نادان ہیں وہ لوگ جو کہ سختی دکھاتے ہیں

138
در بیانِ وعدہ خلافی۔۔۔ شمس جیلانی

کچھ کہہ تود یتے ہیں جوش میں آکر باتیں بڑی
یہ یاد رہتا ہے نہیں کہ اس پر سزائیں ہیں کڑی
وعدہ پورا کریں لوٹ کرآتی نہیں ہے وہ گھڑی
ایسے ہی لوگوں سے جا ئےگی وہاں دوزخ بھری

139
جینے کاراز۔۔۔شمس جیلانی

دنیامیں شمس جینے کا یہ اچھا راز ہے
اس کی رضا پر چلئے جو کہ کا ر ساز ہے
لا ہول پڑھتے رہیے جب بھی شبہ پڑے
شیطاں سے بچتے رہئےوہ دھوکے باز ہے

140
گر ہو اللہ کاباغی؟ شمس جیلانی

اللہ کے باغی کوکہیں چین سے سوتے نہیں دیکھا
تکتارہےگو بیٹھا ہوا ہاتھوں کی ہر وقت وہ ریکھا
پاتال تک جاتا ہے فرشتوں نے جہنم میں جو پھنیکا
کروٹ جو بدلتا ہےفورا“ ہی لگ جا ئے ہے سینکا

141
زیست عزت کے ساتھ۔۔۔ شمس جیلانی

زیست بس وہی ہے گزر جا ئے جو عزت کے ساتھ ہے
تگ و دو کرواس کے لئے جو حیات بعد از ممات ہے
شمس یہ بھی کیا زندگی ہے کہ شاکی رہے سدا وہ رب
ہرکام وہ کرو ہو اسکے واسطے ہاتھ جس کے نجات ہے

142
نسخہ کیمیا۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں زندہ جو رہنا چا ہتے ہو اگرخیر سے تم
نہیں مانگوسوا رب کے کچھ بھی غیر سے تم
رکھو تم دوستی شمس بس اہلِ حرم سے
ہمیشہ دور بھاگو لہو لعب اور دَیر سے تم

143
دربیان تصوف ۔۔۔شمس جیلانی

تصوف ہرگز نہیں پہن کر توب شانو ں پر زلف لہرانے کانام
ہے تصوف اسوہ حسنہِ سرکار ﷺ کو پورا ہی اپنانےکانام
جب شکل دیکھئے کوئی بھی صو فی کی ہے نظر آجائےرب !
ہے یہ کہاوت رنگ میں اللہ کے پورا ہی رنگ جانے کا نام

144
ا چھا کام۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے اچھا کام یہ اس کی مرضی پرچلو
نہ ہی تم غلطی کرواور نہ وہاں جاکر بھرو
رکھو یقیں وہ معاف کردیگا بڑا رحمٰن ہے
دین پر اس کے جیئو اسکی مرضی پر مرو

145
انعام ِ خدا وندی۔۔۔ شمس جیلانی

جو کچھ لکھا رہا ہے تیرا ہی کام ہے
جو لب پہ حمد ،نعتِ خیر الانعام ہے
توجو سراپا مہر ہے رب تیرانام ہے
جاہل کو عالم کردیا تیرا انعام ہے

146
غصہ نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ شمس عجب شہ ہے کہ غصہ نہیں آتا
غصہ نہ کرو بھائی اوروں کو ہے سمجھاتا
غصہ وہ بری شہ ہے عقل ماند ہے پڑجاتی
غصے میں انساں بھی شیطان ہے بن جاتا

147
آپ بیتی۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس زندہ ہی کہاں تھا بیوی کے مر جانے کے بعد
آدمی زندہ ہی رہتا ہے کہاں ساتھی بچھڑ جانے کےبعد
تنہائی کاٹنے دوڑے ہے کچھ اس طرح اس انسان کو
کہ اس کو گھر بھی ویرانہ نظر آتا ہے گھر آنے کے بعد
نوٹ۔۔۔آج ہماری شادی کی انہتر ویں سال گرہ ہے۔
پینسٹھ سال ہم نے ساتھ گزارے اور یہ ویڈیو اس کی
یادگار ہے۔

148
عظمت ِ ماں باپ۔۔۔ شمس جیلانی

سامنےاف بھی نہ کرنا بات کو ئی بھی لگے ان کی بری
اللہ نے فر مادیا قرآن میں ہے ماں باپ کی عظمت بڑی
دونوں میں سے پاؤ جسے اس سے کرالو بخشش یہیں
ان کو گر ناراض بھیجا ہے انہیں کے واسطے دوزخ بنی

149
خطاوار کون ہے؟ شمس جیلانی

ہر صاحب اختیار ہے یوں قابل ِ سزا
جب خوفِ خدا گیا کچھ بھی نہیں بچا
ہر مرض کی دوا ہے بس کلمہِ لا الہ
دنیا یہ چکھ رہی ہے گستاخی کا مزہ

150
ماں باپ ذریہ جنت۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ہی وہ ہیں جو تم کو دوڑنا چلنا سکھاتےہیں
تمہاری ہر حماقت پر جو ہنستے کھلکھلا تے ہیں
ہیں ناداں جو بڑےہوکر ا نہیں کو بھول جاتے ہیں
اور عاقل وہ کر خدمت صلہ جنت جو پاتے ہیں

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

عمران خان کا کارونا کی تیسری لہر پر مغز خطاب۔۔۔ شمس جیلانی

ع کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ بعض کہتے ہیں کے جانے والے شاعر کو آنیوا لے واقعات کا علم پہلے سے ہو جاتا ہے۔ اس شعر سے یہ ہی اندازہ ہورہاہے کہ غالب ؔ کوعلم تھا کے میرے بعد میں بہت تیزی سے ہر مسئلہ پر فیصلہ کرنے والے حکمراں آئیں گے، جیسے کہ ان کے دور میں پہاڑی ریاست نیپال میں ہوا کرتے تھے کہ وہاں جنگلات بہت تھے اور روز انہ آگ لگتی رہتی تھی جو وہاں نگراں رہتے تھے وہ جب ٹھیکیداروں سے ملکر کافی درخت کاٹ چکے ہوتے تھے تو جنگل میں آگ خود بخود بڑھک اٹھتی تھی؟ پھر وہ بادشاہ کو خط لکھ دیا کرتے تھے کہ جنگل میں آگ لگ گئی ہے اور سال بھر کے بعد اس کے پاس سے جواب آجاتا تھا کہ آگ بجھا دو اور اس تکڑے میں نئے درخت لگادو تاکہ جنگل ہرا بھرا رہے؟ اور غالب کو یہ بھی ضرور معلوم ہوگا کہ ہندوستان میں ایک ملک پاکستان بنے گا تو وہاں بھی جب سال بھر کے بعد ایک وبائی بیماری میں حکمراں مبتلا ہونگے تو وہ اسی طرح اپنے عوام کو خبردار کیاکریں گے کہ تیسری جو لہر وارد ہوئی ہے وہ پچھلی قسموں سے زیادہ خطر ناک ہے ہم خود بھی اس میں مبتلا ہوگئے ہیں کیونکہ ہم نے لاپر واہی برتی؟ مگر تم احتیاط ضرور کرنا اور ہم سے عبرت حاصل کرنا کہ ہم نے جو سینیٹ کے الیکشن کی وجہ سے لاپر واہی کی وہ ہمیں نہیں کرنا چاہیئے تھی اب اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ چونکہ ہمارے وسائل اتنے نہیں ہیں کہ ہم اپنی دکان بند کرکے بیٹھ جائیں خود بھی کھائیں اور بٹھا کر پوری قوم کو بھی کھلا ئیں۔ اس لئیے بزرگ کہہ گئے ہیں اور بزرگوں کی بات ماننا بھی سعادت ہے؟ جو ہمارے پاس مولانا حالی ؔ کے فرمودات کی شکل میں موجود بھی ہے کہ ع ً دکاں بند کرکے رہابیٹھ جو دی اس نے بالکل ہی لٹیا ڈبو کیئے جا ؤ کوشش میرے دوستو مبادا پزیرائی ہو یا نہ ہو لہذا ہم کوشش تو حسب ِ سابقہ پوری طرح کرتے رہیں گے لیکن ہمارے محدود وسائل کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے تم، ہم سے کچھ زیادہ امید مت رکھنا۔؟اسی غزل کا ایک مصر ع اور بھی ہے جو وہی فرما گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ًپتھر پہ جو پانی پڑے متصل مبادا کے گھس جا ئے پتھر کی سل۔ ریختہ میں اس کی پیروڈی بھی ملتی ہے۔اس پر آپ لوگ شاید عمل نہ کرسکیں ؟ تو پھربزرگ کہہ گئے ہیں کہ عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ابھی تو آپ دعا مانگئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جلد ہمارے حکرانوں اور انتظامیہ کوصحت یاب کرے اور صحت ِ کاملہ عطا فرمائے (آمین) تاکے ہم اپنا تیزی سے فیصلے کرنے کا میعار بدستور قائم رکھ سکیں۔
لیکن ہمارا دل یہ سب کچھ ماننے کو قطعی تیار نہیں ہے۔ کیونکہ ہم ہر بات کو منجانب اللہ سبحانہ تعالٰی سمجھتے ہیں، ہم ہمیشہ کی طرح اپنے آپ کو الگ محسوس کر رہے ہیں۔ یہ سوچ رہے ہیں کہ پچھلی دفعہ جو پاکستان بچا رہا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پاکستانیوں اور انکے حکمرانو ں کو ایک اور انعام سے نواز کر انہیں موقع دیا تھا کہ وہ بمع حکمرانو ں کے خود کو سدھار لیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو یہ آخری موقع دیا ہے اس پر اس کا شکر ادا کریں؟جو وہ نہیں کرپائے؟ بلکہ جب دنیا نے اس راز کو جاننا چا ہا اور ان کے پاس یہ معلوم کرنے وفود آئے کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ پاکستانی دنیا کے مقابلے میں کم متاثر کیوں ہوئے؟تو انہوں نے بجا ئے شکر ادا کرنے اور وہ نوازشات گنانے کے جو کے پاکستان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اب تک عطا کیں تھیں انہیں الٹا یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم اور ہماری انتطامیہ بہت ماہر ہیں جوکہ اس وبا کے تدارک کا باعث ہو ئے۔ دوسرے پاکستا نیوں کی قوت مدافعت بہت زیادہ ہے اس وجہ سے بھی ہم محفوظ رہے یہ زیادہ قوت مدافعت ملاوٹ شدہ غذا سے کیسے بڑھتی ہے یہ راز بھی نہیں بتایا۔ اگر اس کے بجا ئے وہ یہ کہتے کہ ہم شکرگزار ہیں اپنے رب کے اور یہ ہم پر اللہ کا کرمِ خاص ہے۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ خوش ہوجا تے کہ میرے بندوں نے شاید توبہ کاارادہ کرلیا ہے جوکہ میرا شکر اداکیا اور تائب ہوگئی ہے لہذا موسیٰ (ع) اور تمام دوسرے پیغمبروں اور نبیوں ؑکے بشمول حضورﷺ کے وعدوں کے مطابق سورہ ابراہیم کی آیت 7کے مطابق فرشتوں کو یہ حکم صادر فرمانے کہ انہیں اور زیادہ عطا کرو تاکہ یہ اور زیادہ میرا شکر ادا کریں اور میں اس سلسلہ میں مزید انعامات کی شکل میں ان پر اپنی مہربانیاں جاری رکھوں؟ لیکن انہوں نےجب ناشکری کی تو گوشمالی کا حکم صادر فرمادیا؟ جبکہ دنیا پاکستانیوں کی انتظامی صلاحیتیوں اور موجودہ کردار کے بارے میں ان سے کہیں بہتر اور بہت زیادہ جانتے ہیں تھے وہ اس سے کیا متاثر ہوتے؟ البتہ پاکستانیوں نے دنیا پر دین کی تبلیغ کرنے کا ایک موقع ضائع کردیا؟دوسری طرف گوشمالی کے لئے تیسری لہر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بھیجدی اور اسی آیت کا وہ حصہ رو بہ عمل لانے کا اس نے فرشتوں کو حکم دیدیا جس میں لکھا ہوا ہے کہ اگر تم نے نا شکری کی تو ہمارا عذاب بھی شدید ہے؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور توبہ کر کے سدھرنے کی توفیق عطا فر آئے (آمین) کیونکہ عذاب کی توبہ سے ٹلنے کی قرآن میں مثال تو موجود ہے مگر شیخیوں سے عذاب دور ہونے کی کوئی مثال موجودنہیں ہے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

(55 – 100) قطعات شمس جیلانی

55

انسان خطا کا پتلا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

کون کہتا ہے کہ مجھ سے کبھی تقصیر نہیں ہوتی

جو توبہ سے دھل وہ غلطی کہیں تحریر نہیں ہوتی

یہ بندے پر اللہ کی رحمت اوربخشش کے تقاضے ہیں

کرتے ہوئے برائی کی باقی کہیں تصویر نہیں ہوتی

56

مومن اور گالی گلوچ۔۔۔ شمس جیلانی

مومن اور گالی دے وہ یہ تقصیر نہیں کرتا

واللہ مومن کبھی مومن کی تحقیر نہیں کرتا

جہاں دیکھے برائی کو وہ ڈالے ہےوہاں پردہ

و ہ عیب چھپاتا ہے کبھی تشہیر نہیں کرتا

57

یا اللہ توفیق توبہ عطافرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

اک کرونا نے ہے کرڈالا یہ جہانِ کل زیر ِ و زبر

اب دعا ئیں تک سبھوں کی ہوگئیں ہیں بے اثر

دے ہمیں توفیق توبہ! ڈ ال پھرکچھ ایسی نظر

ہم سب کہ سب بن جا ئیں اب پھر مثال۔ خضر

( آمین)

58

ہوگئی تبلیغ بھی بے اثر۔۔۔ شمس جیلانی

جماعتیں مصروف ِ تبلیغ ہیں دربہ در

ٹالدیتے لوگ ہیں کہہ کر انہیں اگر مگر

قلب پتھرہوگئے ہوتا نہیں کچھ بھی اثر

تو د انا بینا اور ہے باخر کرعطا انکو اَجر

( آمین)

59

یااللہ ہمیں بصارت عطا فرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک بندے تھے ترے جس سمت بڑھے نصرت ہی نظر آئی ہے

جب سے باغی ہوئے ہر سمت میں ذلت ہی ملی یاکہ رسوائی ہے

ہم کو احساس دلا میرےمالک سامنے خندق ہے یا کہ کھائی ہے

کب شہنشا ہوں کے شہنشاہ سے کسی باغی نےخلعت پائی ہے !

60

خوش قسمت بچہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

خوش قسمت وہ بچہ ہے کہ ماں گود سے اچھی ہوئی تعلیم ہوتی ہے

مشیت ایزدی پر مرنا جینااس کی فطرت میں اور خوئے تسلیم ہوتی ہے

خدا کر دیتا ہے اس کو عطافہم دیں تفہم ِدیں بہتر تریں اپنی رحمت سے

سمجھ اس میں قرآن اور سنت کی اور پھر اچھی بھلی تفہیم ہوتی ہے

61

فکر ِروزِ جزا۔۔۔ شمس جیلانی

وہ اللہ سے ڈرے گا کیا جو ڈرتا ہے نہیں روز ِ جزا سے

بچتا نہیں مجرم جہاں کوئی ہے گناہوں کی سزا سے

ڈرتے ہمیشہ ہی رہو دو لفظوں یعنی بیم و رجا سے

ملنا وہاں جنت تو ہے رب کی رحمت اور عطا سے

 

62

سب سے بہتر کاروبار۔۔۔ شمس جیلانی

مومن جو کماتا ہے کردیتا ہےخرچ راہ خدا میں

اس کے لیئے اس جیسا کوئی اوربیوپار نہیں ہے

برستے ہیں ہمیشہ ہی غیب سے اس پر خزانے !

دیکھااسے ہوتے کہیں پر کبھی خوار نہیں ہے

 

63

وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے

منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے

یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس

ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

 

64

وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے

منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے

یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس

ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

 

65

وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے

منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے

یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس

ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

 

66

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پاگل سے نبھاناپیت یہ سدا سے محال ہے

جو کہ نبھا رہے ہیں اسے یہ انہیں کا کمال ہے

جاری ہیں بیٹھکیں وہا ں ہر روز صبح شام کو !

بٹتے وہاں پردیکھی جوتیوں میں بھی دال ہے

 

67

یہاں رہ کر وہا ں کے کام کرجاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

امینوں اور صدیقو ں میں شامل یہاں پراپنا نام کر جاؤ

شمس وہاں جا کر یہاں والوں کو اپنا بندہ بے دام کرجاؤ

رکھونعرہ یہاں پر کام اوراچھاکام ہی ہمیشہ مشن اپنا !

ملےجن کے بدلے میں وہاں جنت کچھ ایسے کام کر جا ؤ

 

68

رب پہ پیار آتا ہے۔۔۔شمس جیلانی

کروں ہوں یاد اسے تو میرے دل کو قرارآتا ہے

خدا کی دین ہے کہ میرا کہیں تو شمار آتا ہے

یہ اس کی دین ہے عطا وہی تو کرتا ہے ہمیں

میں جتنا سوچوں ہوں اس پر ہی پیار آتا ہے

 

69

موت کام کا وقت معین ہے۔۔۔ شمس جیلانی

ہر بندہ لکھا کرا لایا وہاں سے اپنی اک منزل تو ہے

سارے اعضا کہہ رہے ہیں اب جینا ذرا مشکل تو ہے

شمس اس کی مرضی پر ہی جینا اور ہے مرنا منحصر

کون جانےکب دھڑکنا چھوڑدے اک پرانا دل تو ہے

 

70

اخلاقی قدروں کا زوال۔۔۔ شمس جیلانی

جب خیانت بڑھی تودیانت گئی

ہو دنیا سے رخصت امانت گئی

ہراک تاک میں ہے لے کپڑے اتار

اعانت گئی اور استعانت گئی

 

71

تقاضہ توحید پرستی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وحدت پرست ہوں وردِ زباں اللہ و رسولﷺ ہے

بات طول کھینچے ہے مرے خیال میں بحث فضول ہے

کبھی لاتا نہیں ہوں بیچ میں کسی اور کا میں ذکر

نہ تورات مجھ کو یاد ہے نہ ہی انجیل و زبور ہے

 

72

تربیت اور گود۔۔۔۔ شمس جیلانی

گود ایسی ملی جو روک دے خطا میں کروں

چاہے تھی گرہ میں باندھ لے جوعطا میں کروں

سر پر ہو مرے بزرگوں کا سایہ سدا ہی بس

ہر ایک در ِعلم وا ملے جس کو میں فتح کروں

 

73

سچےاور جھوٹوں کے مطیع؟۔۔۔ شمس جیلانی

سچو ں سے کبھی جھوٹو ں کی اطاعت نہیں ہو تی

ہےخبر ہی جھوٹی جس میں صداقت نہیں ہو تی

مومن سدا ڈھونڈے ہے کہ سچ مل جا ئے کہیں پر

اک بار تو ممکن ہے ہمیشہ یہ حماقت نہیں ہو تی

 

74

سچےاور جھوٹوں کے مطیع؟۔۔۔ شمس جیلانی

سچو ں سے کبھی جھوٹو ں کی اطاعت نہیں ہو تی

ہےخبر ہی جھوٹی جس میں صداقت نہیں ہو تی

مومن سدا ڈھونڈے ہے کہ سچ مل جا ئے کہیں پر

اک بار تو ممکن ہے ہمیشہ یہ حماقت نہیں ہو تی

 

75

اے کاش پیرو رسولﷺ کے ہوتے۔۔۔ شمس جیلانی

اے کاش پیرو ہم صرف اپنے رسول ﷺکے ہوتے

ہوتا خلق بھی ان سا ﷺ بندے اصول کے ہوتے

رضائے رب پر ہی ہم شمس جوراضی بہ رضا رہتے

نہ ہوتے مفتوح ہم فاتح کل عرض وطول کے ہوتے

 

76

چاہیئےاک سجدہ طویل۔۔۔ شمس جیلانی

شمس بس ہرگز نہیں دنیا سے دھوکا کھا ئیے

رب جب ہو سامنے سجدے میں بس گر جا ئیے

طول اتنادیں اسے کہ گزرجا ئے پھر ساری عمر!

جب موت آجا ئے نظر قدموں میں ہی مر جا ئیے

 

77

مدد کرو مدد کیئے جاؤگے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

اپنا وطیرہ یہ رہا گرتے جسے بھی دیکھا کندھے چڑھا لیا

کہہ ،توفیق رب نے دی مجھے، سر اس کے آگے جھکا لیا

رکھتا گمان پکا ہوں دربارِ رب سے آئے گی اک دن یہ صدا

شمس جا کر بسا اب جنت توکہ تو نے ہے رحمت کو پالیا

 

78

مدد کرو مدد کیئے جاؤگے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

اپنا وطیرہ یہ رہا گرتے جسے بھی دیکھا کندھے چڑھا لیا

کہہ ،توفیق رب نے دی مجھے، سر اس کے آگے جھکا لیا

رکھتا گمان پکا ہوں دربارِ رب سے آئے گی اک دن یہ صدا

شمس جا کر بسا اب جنت توکہ تو نے ہے رحمت کو پالیا

 

79

ییکار کی باتیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ لڑائی کی نہ جھگڑے کی نہ ہی تکرار کی باتیں

اچھی مجھے لگتی ہیں فقط سرکار ﷺکی باتیں

کرنے کومجھے رہتے ہیں اوربہت پند و نصائح

اس واسطے کرتا میں نہیں کبھی بیکار کی باتیں

80

حکمت ِ سراپا ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرحکمت سے ہیں ہوتی سب میرے سرکار کی باتیں

صرف گفتار ہی نہیں ان میں ہیں بلند کردار کی باتیں

ہم حکمت کو بھی ڈھونڈیں ہیں جاکر کے یورپ میں

جبکہ ہیں مومن کو بہت کافی، سیدِ ابرارﷺکی باتیں

 

81

اسلامی توکل۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ کس دیں پر چلتے ہیں یہ کس دنیا میں رہتے ہیں

یہ ہلاکت کو حماقت سے توکل جو لوگ کہتے ہیں

حکم یہ ہے باندھو اونٹ کو پھرآؤدر بار رسالتﷺ میں

یہ کھلا جو چھوڑ آتے ہیں حماقت اس کو کہتے ہیں

82

وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ

جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ

نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے

جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

 

83

جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے

شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے

فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی

ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

 

84

مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں

واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں

ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں

شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

 

85

منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں

ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں

شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے

راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

 

86

شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں

واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں

شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں

گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

 

87

کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے

خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے

وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ

یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

 

88

ندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے

رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے

پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ

منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

89

مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا

دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا

اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے

مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

 

90

اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا

الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں

جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)

تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا

بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا

کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ

کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

91

ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے

جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟

آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں

کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

 

92

دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا

یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا

آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا

کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

 

93

حسین خواب۔۔۔ شمس جیلانی

شمس حسیں خواب ہے ساتھ کنگلوں کے زمانہ ہوگا

پاک بستی پر وہی راج کریگا، شیوا کھانا کھلانا ہوگا

کتنے آئے وہاں خواب لیے وہ تھک کے کہیں بٹیھ گئے !

کہ دن بدلیں گے وقت آئے گا تب وہاں لوٹ کے جانا ہوگا

 

94

کارِ خیر کی نئی قسم ؟ شمس جیلانی

شمس کمزور لوگو ں کی زمیں پہلے تو ہتھیالی

پھرجہاں میں برائی سے بھلائی کی طرح ڈالی !

بلانے پر امامت کو امام ِکعبہ بھی دوڑے چلے آئے

کیئے جاری کئی لنگر دنیا کی بڑی مسجد بنا ڈالی

 

95

انسانی منڈی اور جگ ہنسائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ ہے پسند کرتا ہراک تحفہ بس گاڑھی کمائی کا

وہاں کھا ؤ کھلاؤ ہے بنا آئین جگ پر بادشاہی کا !

سجاکرمنڈی ِا نساں کوئی دیکھا ہے تم نے شرمندہ

وہ ہیں باعِث بدنامی جو موقع دیں جگ ہنسائی کا

 

96

موج ومستی کے نتائج۔۔۔۔شمس جیلانی

قوم ہے پھنس گئی یہ موج ومستی میں

کچھ سکون پاتے ہیں شہرت سستی میں

یہ پتہ ہی نہیں انہیں ہے اے شمس !

یہ روش لے جا ئے گی ان کو پستی میں

 

97

اول الذکر لاالہ اللہ۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے بہتر ذکر بس، ذکر ِ باری

یعنی جاگنا راتوں کو شب بیداری

قیامت میں یہ سب کو مات دیگا

بشرکے واسطے ہوگا دن وہ بھاری

 

98

ا نتخابی ہیجان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

الیکشن جب بھی آتے ہیں پیدا وہاں ہیجان ہوتا ہے

نہ پہلے سے لوگ رہتے ہیں نہیں پاکستان ہوتا ہے

جو ہیں غیر ملکو ں میں وہ سر کو پیٹ لیتے ہیں

باقی ہے حیا ہوتی نہیں باقی وہاں ایمان ہوتا ہے

 

99

رب کی نرالی شان۔۔۔ شمس جیلانی

بن مانگے جو ہے دیتا یہ رب کی شان ہے

قدر وہی ہے جانے جو کہ رکھتا ایمان ہے

شمس اتنا نوازا اس نے دل کے غنی ہوئے

نہ ہی زائد کی آرزو ہے نہ باقی ارمان ہے

 

100

بلندی اور پستی۔۔۔ شمس جیلانی

پڑا ٹھوکروں میں دیکھا اسی کے تاج شاہی!

تھا دیں پرجان دیتا جو کوئی اللہ کا سپاہی

بارعب تھے مسلماں اخوت کے رہ کر خوگر

لیکر کے سب کو ڈوبی خصلت ِ کم نگاہی

 

 

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

عمران خان کے نام آخری خط۔۔۔شمس جیلانی

یہ خط ان خطوط کی آخری کڑی ہے جوآپ کے وزیر اعظم بننے سے پہلے اخباروں میں میری طرف سے شائع ہوتے رہے ہیں، جو سب آپ کے حق میں تھے اور وجہ یہ تھی کہ آپ مدینہ جیسی ریاست بنا نا چاہتے تھے؟یہ آخری اس لیئے ہے کہ یوٹرن لینا میرے لیے ممکن نہیں ہے اور دوسرے میں عمر کے بھی جس حصے میں ہوں اس کے حساب سے بھی آخری ہو سکتا ہے؟
ہم سے ممکن ہے نہیں یہ کہ ا پنے قلم کو موڑ دیں۔ اس سے بہتر ہے کہیں ہم شمس ؔلکھنا چھوڑدیں،لیکن لکھنا بھی نہیں چھوڑ سکتے ہیں؟وجہ یہ ہے کوئی بندہِ مومن آزاد نہیں ہوتا اور ہمیں حکم ہے کہ اسکا پیغام سب کو پہنچا ئیں جس کے لیے ہم نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے دوسرے مومن کا ہر فعل بشمول دوستی اور دشمنی صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے ہوتا ہے، یہ ہی وجہ تھی کہ ہم ڈھائی سال تک خاموش رہے کہ دیکھیں آپ کرتے کیا ہیں! جبکہ آپ نے پہلے کانٹے صاف کرنے کے بجا ئے جو کہ کلیہ ہے کہ پہلے کانٹے صاف کرو پھر مچھلی کھاؤ؟ آپ نے کانٹے باقی رکھتے ہوئے، مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کردی؟ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام گرانی کی مار سہہ نہ سکے اور آپ کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے چلاگیا۔ اس لیے کہ انہیں تو روز کمانا اور کھانا ہوتا ہے؟ اگر انہیں یہ خوشخبری دی جا ئے کہ دس سال کے بعد بجا ئے سوکھی روٹی کے بچے بچے کو بریانی ملا کرے گی؟ تو ان کے سامنے سوال یہ ہوگا کہ وہ اتنے عرصے بغیر کھائے زندہ کیسے رہیں گے،ہر عقلمند آدمی یہ سوچے گا ضرور؟ اگر آپ کی محبت میں نہ بھی سوچے تو اپنا خالی پیٹ اور بھوکے بلکتے ہوئے بیوی بچے اسے سوچنے پر مجبور کردیں گے؟ یہ ہی ہوا کہ آپ کے اس رویہ سے مفاد پرستوں کو عوام کی ہمدردی ستانے لگی اور انہوں نے موقع پاکر زہر اگلنا شروع کردیا؟ نتیجہ وہ ہوا جو کہ آجکل دنیا دیکھ رہی جبکہ پاکستان جس صورت ِ حال سے گزر رہا ہے، افسوس ناک ہی نہیں انتہائی خطر ناک ہے ایسے حالات میں ڈھائی سال انتظار میں گزارنا بہت بڑی بات تھی؟ رہا یہ کہ انتشار پھیلانے والو ں کاٹھکانہ کہاں ہو گا؟ وہ سورہ رعد کی آیت نمبر 25 کی تفسیر میں پڑھ لیں؟مگر ہم سے ایک غلطی ہوگئی کہ ہم بھی یہ سمجھ کر کے کہآخری کہ موقع ہے عوام بڑی امیدوں اور ارمانوں کے ساتھ عمران خان کو لیکر آنا چاہ رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہوا کہ میں مدینہ جیسی ریاست بنا ؤنگا ان کے ساتھ آپ کی حمایت کر بیٹھے اور یہ بھول گئے کہ“ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے سب اسی زلف کے اسیر ہوئے“ اس جیسے ماحول میں وہ لوگ کہاں سے آئیں گے جو اقتدارکو بوجھ سمجھتے ہوں جو مدینہ جیسی ریاست بنا نے کے لیئے چاہیئے ہوتے ہیں۔ رہے آپ تو اسے چلانے کے لیے کل پرزے کہاں سے لائیں گے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی ریاست تو بنانا بہت بڑی بات ہے آپ اس کا سنگ بنیاد بھی نہ رکھ سکے؟اور ایسی دنیا میں کوئی ترکیب ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی کہ بنیاد کے بغیر عمارت تعمیر ہوجا ئے۔ اس پر طرہ یہ کہ آپ نے آتے ہی پہلا یو ٹرن یہ کہہ کر لے لیا کہ یو ٹرن لینا کوئی بری بات نہیں ہے؟ جبکہ اسلام میں یہ سب سے معیوب حرکت سمجھی جاتی ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو قرآن میں بار بار ہدایت دیتا ہے کہ اپنے عہد کی پابندی کرو۔ وہ تھا آپ کا یہ پہلا ارشاد کہ اگر ہٹلر یو ٹرن لے لیتا تو ناکام نہ ہوتا اس کے بعد آپ نے اتنے یو ٹرن لیے کہ ملک کو بھول بھلیوں میں پھنسا دیا؟ اب آپ شاید خود راستہ بھول کر اس میں گم ہوگئے ہیں حتیٰ کہ آپ خود کو بھی عملی مسلمان نہیں بنا سکے؟ جس سے کہ آپ کو کوئی نہیں روک سکتا تھا نہ اتنی جراء ت کسی میں تھی، جیسے کہ آپ کو حضور ﷺ روضہ مبارک پر ننگے پاؤں جاتے ہوئے کسی نے نہیں روکا اور آپ کا یہ کارنامہ تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جا ئے گا۔ پھر نہ جانے آپ کو کیا ہوا کہ کبھی اس طرف دیکھتے نظر آئے،تو کبھی اس طرف دیکھتے نظرآئے؟ جب عوام اس طرف دیکھتے ہیں تو نواز شریف جیل جاتے نظر آئے ،جوآپ کا قوم سے وعدہ تھا کہ میں سب کااحتساب کرونگا کسی کو نہیں چھوڑونگا این۔آر۔او کسی کو نہیں دونگا؟ مگر وہ آپ کے بچپن کے دوست تھے ان کی وہ حالت دیکھ کر آپ کی کابینہ کو بھی رحم آگیا اور بقول آپ کے ایک خاتون وزیر تو رونے لگیں؟ آخر بشریت جو ہوئی؟“جبکہ اسلام حدود جاری کرتے ہوئے رحم کھانے کو منع کرتا ہے“ اس کے لئیے پنجاب کے محکمہ صحت کو ذر یعہ بنایا گیا؟ اورنو از شریف صاحب پاکستانیوں کا منہ چڑاتے ہوئے اور مسکراتے،اور انگور کھاتے پاکستان سے پرواز کرتے ہو ئے نظر آئے۔ اس سلسلہ میں ان کو تمام سہولتیں آپ ہی کی حکومت نے فراہم کیں ورنہ کس نے کیں؟ ایک آخری سوئی نکالنے کو رہ گئی تھی، کیونکہ اس کی وجہ سے ذمہ داری براہ راست آپ کی حکومت پر آتی تھی؟وہ بھی جی کڑا کرکے آپ نے خود ہی نکال دی کہ انکا ای، سی، ایل سے نام نکال دیا گیا اور وہ لندن چلے گئے۔ حالانکہ ان کا پہلا ریکارڈ آپ کے سامنے تھا کہ وہ کس طرح تین دفعہ پہلے باہر جاکر اور واپس حکومت میں آچکے ہیں؟ مگر وہ سب کچھ باہمی رضامندی کے بغیر کس طرح ہو ا اور شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں کی رائے کیسے ان کے حق میں شامل ہوگئی وہ مجھے نہیں معلوم۔ البتہ آثار کہہ رہے ہیں کہ اب وہ چوتھی مرتبہ بھی واپس آئیں گے اور جلد ہی آئیں گے اور عوام یہ تماشہ بھی پھر دیکھیں گے؟۔ جبکہ وہ ملک سے باہر بھیجے گئے تھے تو بقول پاکستانی میڈیا کے وزیر اعظم بہت غصے میں تھے؟ امید ہے جب وہ واپس آئیں گے تو بھی اسی طرح بہت غصہ میں ہونگے۔ اگر آپ اسلام اپنے اوپر ہی نافذ کر لیتے تو آپکو یہ حدیث ضروریاد ہوتی کہ“اگر غصہ آجا ئے تو اس جگہ سے ٹل جا ؤ،اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جا ؤ اور اگر بیٹھے ہوئے تو لیٹ جاؤ؟ اور غصہ میں کوئی فیصلہ نہ کرو۔ مگر شاید آپ نے یہ کہاوت بھی کبھی نہیں سنی کہ غصے میں انسان اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے؟ اگر آپ نے سنی ہوتی تو غصے کو ایک طرف رکھ کر بات کر تے؟ اس پر طرہ یہ کہ جیسے کہ اب تک ساری حکومتیں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدے کرکے یو ٹرن لیتی ر ہی ہیں اسی طرح ویسا ہی آپ نے بھی یو ٹرن لے لیا۔ اور اس سے کیئے ہوئے وعدے پورے نہ کر کے مزید مصیبتیں خود مو ل لے لیں؟ تعلقاتِ بندگی اگر اس سے استوار رکھتے تو کم ازکم اس سے ضرور بنا کر رکھتے پھر وہ مدد بھی ضرورت کرتا اور اس کی نصرت ساتھ ہوتی کہ وہ مالک ا لملک ہے اس کام ہی یہ ہے کہ کسی کو تخت پر سے اتارنا اور کسی کوتخت پر بٹھاناہے؟ جبکہ کوئی غلطی کرکے توبہ کرلے اور اس کی راہ پر دوبارہ چلے تو بھی اس کا وعدہ ہے کہ ہرطرف سے ہن برسے گا،بصورت دیگر اس کا عذاب بھی شدید ہے۔ رہے عوام بیچارے وہ پہلے بھی پستے رہیں اب پھر وہ پس گئے، معاشرہ ویسا کا ویساہی رہا۔ ملک میں احتساب اور انقلاب کا خواب خاک میں مل گیا۔ یہ سب کچھ آپ کی حکومت ہونے کے باوجود کیسے ممکن ہوا وہ آپ کو ہی پتہ ہوگا۔ کیونکہ آپ کی مرضی کے بغیر یہ نئے قسم کااین، آر، او، نامکن تھا۔ آگے کیا ہوگا وعدہ خلافی کے بعد،وہ اللہ ہی جانتا ہے؟ جبکہ ہر قسم ک معافیہ بھی ناراض ہے تمام محکمہ جات بھی ناراض ہیں کہ آپ نے زخمی تو سب کو کیا شکار کسی کو نہ کرسکے۔ غرض کہ دوست بھی ناراض دشمن بھی ناراض ہیں اور رب بھی ناراض۔ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کرلیں تاکہ حالات آپ کے حق میں ہوجا ئیں اورآپ اپنے وعدے پور ے کرسکیں؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ایک ہی راستہ بچا ہے۔ شمس جیلانی

و ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ ہم غیر ملکوں میں آتو گئے ہیں، مگر اپنے دین کو بچا کر رکھنے کے لئے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ہر گھر کے “ اولی الامر“ میں سے کوئی بھی صرف پندرہ منٹ کے لیے ہی سہی ایک مدرسہ قائم کر لے۔ ورنہ آئندہ آنے والے مسلمانوں کے اس سوال کے جو اب میں جو کہ وہ مسلمانوں جیسا نام دیکھ یا سن کر پوچھیں گے کہ کیا آپ بھی مسلمان ہیں؟ تو وہ جواب میں یہ کہا کریں گے کہ“ ہم تو نہیں ہیں مگر ہمارے اجداد تھے“۔ یہ میں خواب کی باتیں نہیں کر رہا ہوں! یہ وہ حقائق ہیں جن سے نئے آنے والے آج کل دوچار ہوتے ہیں اور یہ روز کا مشاہدہ ہے۔ چونکہ میں کنیڈا میں ہوں لہذا میں یہاں کے واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرسکتا ہوں اگر تمام پیش آنے والے واقعات سنا ؤں تو آپ حیرت میں رہ جا ئیں گے اور ان سے ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے؟ مگر اب بیکار ہے، اس لئے کہ کتاب اب کسی کو مفت بھی دو تو بھی نہیں پڑھتا۔ البتہ سوشیل میڈیا بچا ہے جس کے ذریعہ ہم خود کو بچا نے کے لئے ہاتھ پیر مار سکتے ہیں۔ جو بچ گئے انکی بھی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے پہلے کنیڈا آنے والے یورپین امیگرنٹ کے بعد چینی، ہندوستانی، لبنانی اورسکھ مذ ہب کے ماننے والے تھے۔ لبنانیوں نے ایڈمنٹن میں پہلی مسجد بنا ئی جسے اب دوسرے چلا رہے ہیں جوکہ اللہ نے ان کی جگہ بھیجدیئے کیونکہ یہ ہی اس کی سنت ہے؟ اس لیئے کہ انہوں نے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدی اور اس کا نتیجہ وہ ہوا جو کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ ان کے برعکس سکھ برادری نے اپنی زبان ، تہذیب اور مذہب نہیں چھوڑا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان کی قوم زندہ ہے وہ خود زندہ ہیں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں ہیں مگر ان سے اگر آپ پوچھیں گے آپ کون ہیں جواب ملے گا کہ ہم “پنجابی“ ہیں۔ جہا ں کہیں بھی وہ گئے سب سے پہلے اپنی عبادت گاہیں بنا ئیں جن کے ساتھ لنگرخانے جاری ہیں جو سب کے لیئے کھلے ہوئے ہیں کمیونٹی ہال ہیں جہاں گرنتھ صاحب (ان کی مقدس کتاب) کا درس ہروقت جاری رہتا ہے۔ لہذا نہ ان کے بچے اپنے دین سے دور ہوئے نہ ہی اپنی تہذیب اور زبان سے وہ محروم ہوئے اس لیئے کہ ان کی مادری زبان ہی مذہبی زبان بھی ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہ اپنی زبان کو فروغ دینے کرنے کی کوشش کرتے ہیں،پنجابی اسکول کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بچے اور بلا تفریق خواتین اور مرد ان عبادت گاہوں میں بطور رضا کار کام کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ اپنی عبادت گاہوں کو دیتے ہیں یہ ہی ان کی کامیابی کےراز ہیں؟ ہمارے یہاں یہ کام ہمارا صرف ایک فرقہ کر رہا ہے وہ ہے اثنا عشری عقیدے کے لوگ جن کا مرکز عراق میں ہے وہ سب اپنے مرکز کو خمس بھیجتے ہیں۔اور یہاں بطور رضاکار بھی اپنی امام بار گاہوں میں جا کر کام کر تے ہیں اور کوئی بھی مذہبی تقریب ترک نہیں کرتے جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور جمعرات کو بھی امام بارگا جاتے ہیں۔ جبکہ انہیں کہیں امام بارگاہ بنا نے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کا مرکز ان کی مدد کرتا ہے یہ دوسری مثال ہے۔ یہ دو مثالیں اس لئیے پیش کیں کہ انسان کہیں بھی رہے، کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔ انکا دین بھی محفوظ رہ سکتا ہے زبان اور کلچر بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بشرط کہ ِ وہ اپنے دین اور کلچر کی حفاظت کرنا چاہیں۔ اگر یہ نہیں کریں گے توان کی پہچان کا وہی عالم ہوگا جو میں نے اوپر بتایا کہ “ ہم نہیں ہمارے اجداد مسلمان تھے “ ایسا کیوں ہوا وہ اس وجہ سے کہ ہم اپنی بقا کے لیئے کچھ زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو یہ صورت ِ حال ِ پیدا نہ ہوتی؟ جبکہ ہمارے یہاں بلا تفریق فرقہ ہر ایک کی ذمہ داریاں مقرر ہیں۔ جہاں بچے ذمہ دار ہیں والدین کی خدمت کرنے کے لیے، وہیں والدین ذمہ دار ہیں ان کی اسلامی طریقہ پر پرورش کرنے کے لیے؟ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہمیں لوٹ کر اللہ کے سامنے واپس بھی جانا ہے؟ اس سلسلہ میں وہاں جب سوال ہوگا تو ہم کیا جواب دیں گے۔یہ سوچنے کے لیئے میں والدین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سوچ لیں کہ وہاں جاکر اپنی صفائی میں کیا عذر پیش کریں گے؟ جبکہ بچے تو یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جا ئیں گے کہ ہم کیا کرتے ہمارے والدین نے اپنی ذمہ داریا ں پوری ہی نہیں کیں اور ہمیں کچھ بتا یا ہی نہیں؟ اب بھی عمل کا وقت ہے آپ نے یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ“ ریت میں منہ چھپالینے سے طوفان نہیں ٹلا کرتے“ یہ ہمارا المیہ ہے ہم نے کسی معاملے میں بھی وقت سے پہلے نہیں سوچا؟ہم ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد سوچنے کے عادی ہیں۔ میں نے شروع میں ایک لفظ استعمال کیا تھا “ اولی الامر “ اس کے لئے آپ سورہ نسا ء کی آیت نمبر59 پڑ ھ لیجئے۔ اس آیت میں تین شخصیتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اور انکےا تبا ع کا حکم دیا گیا ہے۔“ اللہ سبحانہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ اور اولی الامر منکم۔ “ شروع میں، میں نے اولی لامر کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تفسیر پر فقہ میں بڑا اختلاف ہے کہ اس سے مراد کیا ہے؟۔ جبکہ قرآن پاک میں اللہ اور رسول ﷺ کریم کے بعد یہ لفظ آیا ہے۔ یہاں میری مراد وہ شخصیت ہے جس کی بات کہیں چلتی ہو؟ جس کی گھر بھی ایک اکائی ہے؟ کیونکہ جس کی بات ہی نہ چلتی ہو اسے یہاں مخاطب کرنا ہی بیکار ہے؟۔ اگراس بحث کو میں یہاں چھیڑوں تو فقہ کی طرف جانا پڑے گا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بعدجن کاﷺ ذکر کیا ہے وہ ہمارے لیئے کتنے اہم ہونا چاہیئے اور معاشرہ میں انکا (ص)کا کیا مقام ہونا چاہیئے ہر صاحب فہم سوچ سکتا ہے؟۔ کیونکہ ہماری تاریخ میں اولی الامر ایسے بھی تھے، ہیں اور پہلے بھی ہو گزرے ہیں جنکا کہیں حکم نہیں چلتا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے کہ ان کی موجودگی کے باوجود جوسردار بھی جتنے حصہِ زمین پر قبضہ کرلیتا اس کو وہ بادشاہت کی سند دیدیتے تھے۔دین میں اللہ سبحانہ تعالٰی نے اپنے بعدحضور ﷺ کو جگہ عطا فرما ئی ہے۔لہذا حکم اور ترتیب کے لحاظ سے رہنمائی لینا چاہیئےصرف حضور ﷺ سے ۔چونکہ اللہ سبحانہ نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ تمہارے نبی کے اسوہ حسنہ (ص) میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے سورہ الاحزاب آیت نمبر٣٣ ۔ اس لئیے ہونا تو یہ چا ہیئے تھا کہ ہر ایک ہر معاملہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھتااور ان کے نقشِ پاتلاش کر کے اس پر عمل کرتا مگر افضلیت چونکہ علما ء اور ان کے فتوؤں کو حاصل ہے؟ لہذا نہ کوئی اسوہ حسنہ (ص) کو تلاش کرتا ہے نہ اس پر بات کرتا ہے۔ حالانکہ جو علم ان کے پاس تھا وہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ پھر انہوں نے عمل کر کے بھی دکھا یا کہ یہ کیسے کیا جا ئے گا؟ جبکہ ہمیں ہدایت دوسرے عطا کر رہے ہیں کہ ہم کیا اور کیسے کریں ۔ یہ ہے وہ فرق جوکہ دین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔مثلاً جتنی مکی سورتیں ہیں ان میں عذاب کا ذکر زیادہ ہے آج کے حالات میں وہ سنانے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ جبکہ مدینہ منورہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں۔ ان میں رحمت اور ثواب کا ذکر زیادہ ہے۔ تو کلیہ یہ ہوا کہ جب لوگ سرکش ہوں تو انہیں ڈرا جا ئے اورجب لوگ اطا عت کی طرف مائل ہوں تو انہیں خوشخبریاں دی جا ئیں۔ لیکن علما ء اور خاص طور پرگدی نشین مشائخ موجودہ مسلمانوں کی تمام برا ئیاں دیکھتے ہوئے بھی بس ایک ہی جملہ کہتے رہتے ہیں کہ “اللہ بڑا رحیم ہے وہ معاف کر دے گا۔“ بے شک وہ ایسا ہی ہے اس میں کسی مسلمان کی دو را ئیں نہیں ہوسکتیں“ لیکن ساتھ میں توبہ کا طریقہ کار بھی بتایا جا ئے کہ اس کا طریقہ کیا ہے۔ جبکہ وہ فرما رہا ہے کہ“ میں اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا“۔لہذا اس کے سامنے معافی کے لئے پیش ہونے سے پہلے جو بندوں کے حقوق کسی نے مارے ہیں پہلے وہ انہیں جاکرمنا ئے۔ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے پکی توبہ کرنے کے لیئے پیش ہو تو وہ معاف فرما دے گا۔ کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہں ،بس تم میری بات مان لیا کرو؟ بغیر توبہ کی شرائط پوری کیئے ہو ئے اس کے سامنے پیش ہونے کے لیئے مشورہ دینا نہ جانے کس قانون کے تحت ہے؟ یہ مشورہ دینے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ جوکہ امت کی غلط راہ روی کاباعث ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

مسلم قوم کا المیہ یہ ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس کو متحد کرنے کے لئیے جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ حتیٰ کے اتحاد کی کوشش کرنے والےلوگ اپناقد اور قامت کھوبیٹھے۔ وجہ پراگر آپ غور کریں گے تو آپ کو اس نتیجہ پر پہنونچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ مسلم امیہ سورہ الانعام آیت نمبر65کے تحت عذاب کا شکار ہے۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نےتین عذابو ں ذکر فرمایا ہے کہ میں اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوں پیروں کے تلے سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوںاور تمہیں ٹکڑیاں کر کے آپس میں لڑا دینے پر قادر ہوں۔حضورﷺ کی درخواست پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دو پہلےعذابوں سےاس کو تباہ نہ کرنے کا وعدہ فرمایا، مگر ایک عذاب کے لیے فرمایا کہ یہ اس امت کا مقدر ہو چکا ہے وہ ٹکڑیاں کرکے آپس میں لڑانا۔گزشتہ مرتبہ ہم نے اپنے کالم میں بتایا تھا کہ تقدیرِ مبرم اٹل ہوتی ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے۔ لہذا جتنے لوگوں نے بھی مسلم امہ کو متحد کرنے کی کوشش وہ سب ناکام رہے۔انہیں میں سے ایک نام ہم نے جو ذکر کیا تھا وہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کا تھا۔ انیسویں صدی کی مسلمانوں میں جہالت دور کرنے اور مدارس قائم کرکے جہالت دور کرنے کے سلسلہ میں کلیدی حیثیت گھٹ کر آزاد دائرہ المعارف کی وکی پیڈیا کے مطابق اب صرف دیوبند کے ایک معمولی استاد رہ گئے ہیں۔جبکہ دیوبند کے سلسلہ میں قدم قدم پر حضورﷺ نے رہنمائی فرما ئی؟لہذا اب امید رکھنا کہ کوئی کبھی مسلمانوں کو متحد کرسکے گا۔ قرب قیامت سے پہلے ناممکن ہے۔ اس خادم نے بھی اپنی زندگی کے 90 سال خرچ کیئے نتیجہ صفر رہا۔لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں بھائیوں اپنا اپنا کام کرو،یہ خواب اس جاری عذاب کی موجودگی میں ناممکن ہے۔ کہ تمام دنیا کے مسلمان ملک ایک ہو جائیں یاسارے مسلمان ایک ہو جائیں ۔ بجائے اس کے اب مسلمانوں کو مشورہ یہ دیں کہ شیخ اپنی اپنی دیکھ؟ تو اب ایک راستہ رہ جاتا ہے اور یہ ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ حالانکہ زیادہ نے ہجرت اپنے ذاتی مفاد کے لئیے تھی۔ چونکہ صرف نیت تبدیل کر نے سے اللہ رحمت حاصل کر نے کا ایک مو قعہ باقی ہے۔لہذا جو جہاں ہے وہا ں رہتے ہو ئے روزانہ تھوڑا وقت اپنے بچوں کی تربیت اور تبلیغ کے وقف کردیں اور اسلامی ہجرت کے ثواب کے مستحق بن جا ئیں۔ اس کے لئیے کسی عالم کے پاس جا نے کی ضرورت نہیں ہے؟
اس ایک آیت میں جوکہ سورہ النہل کی آیت125 ہےاللہ سبحانہ تعالیٰ نے پورا تبلیغی کورس اس ایک آیت جمع کردیا ہے ایک مسلمان مبلغ کے لئیے چاہئیں وہ عام تبلیغی مسلما ن ہو یا عالم دو نو ں کی ہدایت کے لئے حکمت سے پر پورا کورس موجود ہے کہ چونکہ اس ایک آیت میں جس کا اردوترجمہ اور تفسیر کا لب لباب یہ ہے کہ جب کسی کواللہ کے دین طرف بلا ؤ تو ہمیشہ یہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہوں پہلی حکمت دوسری بات کرنے کا بہترین انداز جس میں موقع محل سب آجاتا ہے۔لیکن ہم اس پر غور تب ہی کرسکتے ہیں۔ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے تھوڑا سا وقت تبلیغ کے لیئے نکال لیں جس کی سب سے زیادہ حضور ﷺ نے تاکید فرما ئی ہے جس کا خطبہ حج وداع گواہ ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ تم میں ایک جماعت ہونا چاہیئے جو لوگوں کو برائی سے روکے اور اچھا ئی کی تلقین کرے۔ ویسے الحمد للہ اس نام کی ایک جماعت بھی قائم ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے بانی کی قبر کو روشن رکھے جنہوں اس کی بنیاد رکھی ورنہ وہ نہ ہوتے تویہ بھی نہ ہوتی اللہ تعالیٰ جس سے جو چا ہتا ہے کام لیتا ہے۔ جبکہ وہ بھی بالواسطہ شاگرد حضرت امداد مہاجر(رح) مکی کے ہی تھے جو بانیِ دیوبند تھے مگر وہ ناکام رہے نتیجہ یہ ہوا کہ استاد پیچھے رہ گئے وہ آگے نکل گئے؟۔ انہوں نے صرف اپنے ذاتی وسائل پر یہ کام شروع کیا تھا۔ وہ بھی ان لوگو ں پر جو اسلام کے الف اور ب بھی نہیں جانتے تھے جوکہ میؤ کہلاتے کوئی ساتھ لاکھ کے قریب آبادی تھی وہ بھی دہلی کے آس پاس۔ اور وہ اتنے طاقتور تھے کہ جب چا ہتے تھے دلی کو لوٹ لیتے تھے۔انہوں نے ابتدا ء یہاں سے کی کہ وہ کسی گذر گاہ پر کھڑے ہوجا تے اور جب مزدور صبح کو مزدوری کی تلاش میں جاتے نظر آتے تو ان سے پوچھتے کہاں جارہے ہو تو وہ بتا تے کہ مزدوری کی تلاش میں وہ معلوم کرتے کہ کتنی مزدوری لوگے وہ بتا دیتے اور وہ کہتے کہ وہ مزدوری میں تم کو دونگا آج پانچوں وقت کی نماز پڑھو اور اس طرح وہ چالیس دن کا کورس کروادیتے۔ پھر وہ عادی ہوجاتے توفرماتے دیکھو اب نماز چھوڑ نا مت؟ اس کے بڑے فائد ہیں اس طرح چراغ سے جلتا رہا اور کارواں بڑھتا رہا ایک مخلص انسان کی کوشش نے کتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع کردیئے ان کی صحیح تعداد توکسی کو بھی معلوم نہیں، مگرمیرا اندازہ ہے کہ وہ کم سے کروڑوں میں ہے۔مگر ابھی تک ان کا نصاب وہی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ان کے یہاں اسے کچھ زیادہ کار آمد بنا نے کی اتنی کوشش نہیں ہوئی جتنی رقم وہ لوگ اپنی جیبِ خاص سے خرچ کر کے سالانہ مختلف ممالک میں جمع ہو تے ہیں اس طرح اپنا وقت اور مال خرچ کرتے ہیں اپنا کاروبار چھوڑ کرپوری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اس پر قومی وسائل خرچ ہورہے ہیں آج سے نہیں ایک مدت گزرگئی۔ وجہ کیا ہے کہ ہم میں آپس ہم آہنگی نہیں ہے۔ حالانکہ سب کا مقصد ایک ہی وہ ہے اللہ کے دین کی خدمت کرنا اور اس طرح اللہ کی خوشنودی حاصل کر نا۔ وجہ کیا ہے وجہ وہی ہے کہ ہم ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہر ایک اپنی مشہوری یااپنے فرقے کی سر بلندی چاہتا ہے۔ جب کے صرف اللہ کے لئیے کام کرتے ہوتے تو انہیں اپنی یا اپنے فرقہ کی شہرت کی پر واہ نہیں ہوتی؟ اور آج نتا ئج کچھ اور ہوتے؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما ئے(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں