مسلمانوں کو صرف مظلوم کی حمایت کاحکم ہے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ ہم ظالموں کا نہیں مظلوموں کا ساتھ دیں۔ سورہ جاثیہ کی آیت نمبر 19میں دونوں کا فرق یہ فرماکر واضح کردیاگیا ہے کہ “ظالم، ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ آپس میں دوست ہیں اور اللہ مومنوں کا ولی ہے؟ جبکہ ظلم کیا ہے؟ اسی کتاب ِمقدس میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے حقوق کو جھٹلانا ، غصب کرنا یا ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ ان میں سب سے بڑ ا ظلم اللہ سبحانہ کے حقوق کی عدم ادا ئے گی اورٹال مٹول حیلے بہانے اور ہیر پھیر ہے۔ جبکہ اللہ کے حقوق بندے پر کیا ہیں؟ اسکی عبادت کرنا۔ اور عبادت کیا ہے اس کے دیئے ہوئے ضابطہ حیات پر اپنے مقدور بھر عمل کرنا۔ اس دائرے میں رہتے ہوئے بندہ جو کچھ بھی کرے گا وہ عبادت ہے اور اس کا ثواب ہے۔ اگر وہ کسی کی طرف مسکراکر دیکھے تو وہ بھی عبادت ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صرف مسلمان بھائی کی طرف دیکھنا ہی صدقہ ہے جیساکہ حضور (ص)کا ارشاد گرامی ہے۔ مگر میرے خیال میں وہ رحمت عالم (ص) کے اسوہ حسنہ (ص) کو اپناتے ہوئے اگر غیر مسلم کی طرف بھی مسکراکر دیکھے تو بھی ثواب کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اس کے اخلاق سے غیرمسلم متاثر ہوگا۔ اور اس طرح اس کا یہ فعل اللہ کے دین کی سربلندی اور پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی بد اخلاقی سے پیش آئے گا تو وہ گناہ کا مستحق ہوگا۔ اس لیے کہ وہ اپنے آقا محمد مصطفیٰ (ص) کا حق ِ نمائندگی ادا نہیں کرسکا جن (ص) کے خلق عظیم کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خودتعریف فرمائی ہے۔اور حضور (ص) کااپنے بارے میں ارشاد گرامی ہے کہ میں (ص) مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اگر بندہ اسوہ حسنہ (ص) پر عامل ہے اور پھر پنج وقتہ نمازی بھی ہے تو “ نور اً علیٰ نور “ کے مصداق ہے۔ چونکہ اس کی ایک نماز دوسری نماز تک کفالت کرتی ہے، لہذا اسکی مثال ہادی ِبرحق (ص) نے فرما ئی کہ “ جس کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور وہ پانچوں وقت نہائے تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہ سکتی ہے “ صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کہ نہیں؟ تب ارشاد فرمایا کہ “ یہ ہی حال اس نمازی کا ہے جو پانچ وقت نماز پڑھے “ کیونکہ ححدیث ہے کہ “ ایک نمازدوسری نماز تک کفایت کرتی ہے۔ جبکہ دوسری احادیث میں ہے کہ نماز جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان کے روزے دوسرے رمضان تک اور ایک عید دوسری عیدتک کفایت کرتی ہے اس دوران اگر بندے سے کوئی گناہ کبیرہ بھی سرزد ہوجائے اور وہ فوراً توبہ کر لے اور وضوع کرکے دورکعات نفل اداکر لے تو وہ ایسا ہو جائے گا۔ جیسا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ بھولے سے غلطی ہوجانا بشریت ہے اور حضور (ص)) کے ارشاد کے مطابق میری امت کی بھول چوک معاف ہے۔ بندہ جو اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کریگا اس کے بدلے میں وہ وہاں کم ازکم ایک کے بدلے میں دس نیکیوں کی وجہ سے گناہوںوالے پلڑے کو پہلے ہی دابے ہوئے ہوگا۔ جب کہ نیکی کا ثواب سات سو گناہ تک بلکہ اور بھی زیادہ کا ذکر قرآن میں فرمایا گیاہے یعنی اجر بے حساب بھی ہوسکتا ہے، جس کا دار و مدار بندے کے خلوص اورنیت پر ہے۔ جو اپنے ہاتھ سے دے جائے گا وہ تو ہے ہی اسکا، اس کے علاوہ جو یہاں چھوڑ جائے گا وہ بھی صدقہ جاریہ ہوگا۔ جیسے نیک اولاد ؟
اس کے برعکس خدا اور بندوں کے حقوق کو تج دینا غلطی پر بضد ہونا اور ڈتے رہنا ظلم ہے؟
جنہوں نے دین خدا کو تج دیا ہو صرف اپنے غلط مفاد کے لیے دین کانام استعمال کرتے ہوں، بولتے جھوٹ ہوں ، کمائی حرام کی ہو، وہ اگر دن و رات سجدے میں پڑے رہیں۔ گلی گلی وعظ فرماتے پھریں۔ گناہِ ِجاریہ کے عذاب کے قیامت تک مستحق ہونگے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مال حرام سے کچھ بھی قبول نہیں فرماتا لہذا وہ جو راہ خدا میں دے کر جائیں گے وہ بھی رائیگاں جا ئے گااور جو اپنے پیچھے چھوڑ جا ئیں گے۔ وہ بھی جہنم میں لے جانے کا باعث ہوگا۔ چونکہ حضور (ص) نے فرمایا کہ “ ہر عمل کا نتیجہ نیت اور اس سے مرتب ہونے والے نتائج پر ہوتا ہے“۔ جسکی مثال حضرت (ع) آدم کے اس صاحبزادے جیسی ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کرکے پہلی دفعہ دوسروں کو اس برائی کی راہ دکھائی لہذ آئندہ جتنے بھی قتل قیامت تک ہونگے وہ اس میں ان کا حصہ دار ہوگا۔
اس تمہید کے بعد آئیے ہم اپنے چاروں طرف دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے؟ ہم چند ووٹوں یا نوٹوں کے لیئے اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں اور جانتے ہوئے ظالموں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتائج لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ ایسی ہی چند عشروں پہلے پاکستان حکمرانوں نے ایک غلطی کی کہ سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے دلدل میں پھنس گئے جس سے نکلنے کے لیے ابھی تک ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نکل نہیں پائے، یہ اسوقت کی ہماری غلط خارجہ پالیسی کانتیجہ تھا۔ اب داخلی پالیسی کے نتائج پر نظر ڈالیے۔ اس میں بھی ہم نے چند ووٹوں کے لیے اسلام کو ایک طرف اٹھا کر رکھدیا اور انصاف جیسا اہم فرض چھوڑ دیاکہ “ یہ اس کا بندہ ہے وہ اس کابندہ ہےہاتھ ڈالیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جرائم پیشہ لوگ پورے ملک میں دنداتے پھرے ،ہرقسم کاظلم ، قتل اور غارت گری کرتے رہے؟ مگر کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکا ؟  جبکہ یہ سب جانتے ہیں کون کیا کر رہا مگر کسی ظالم کا آج تک کچھ نہیں بگڑا؟ گوکہ اس روش کی دنیا میں بھی بے انتہا مثالیں ہیں ۔ مگر وہاں ابھی تک کچھ ملکوں میں عدل و انصاف بھی موجودہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ بالکل مفقود ہے؟ ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم ظالم کا ساتھ نہ دیں مظلوم کے ساتھی بنیں ، مگر ہم کرتے اس کا الٹ ہیں ۔
جب پہلی غلطی پاکستان نے کی وہ وقت کچھ اور تھا ، لیکن آج یہ و قت اور ہے۔ اِسمرتبہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت پاکستان کو سو دفعہ سوچنا چایئے کیونکہ ہم پھر اوروں کی جنگ میں فریق بننے جارہے ہیں، جبکہ یہ کلیہ ہی غیر اسلامی ہے کہ دوست کا دشمن دشمن اور دشمن کا دشمن دوست، کیونکہ اسلام میں ظالم کا دوستی میں کوئی ساتھ دے تو وہ بھی ظالم ہے۔جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ دونوں ہی حق پر نہیں ہیں نہ وہ جو بے گناہ لوگوں کی گردنیں مار رہے ہیں۔ نہ سعودی حکمراں، پہلے تو سرے سے اسلام میں بادشاہت ہے ہی نہیں؟ پھر اگر عرب کے قبائیلی نظام کے مطابق جس کی اسلام نے نفی کردی تھی۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ قبائل کے سردار اپنے اپنے علاقے یں بادشاہوں جیسے اختیار رکھتے تھے۔ تو بھی حضور (ص)  نےعرب میں حکمرانی کا حق قریش کو یہ فرماکر دیاتھا کہ عرب کسی اور کی قیادت پر متفق نہیں ہونگے ؟ اسی حدیث کو حضرت عمر (رض) سے سن کر انصار (رض) اپنے حق ِ خلافت دستبردار ہوگئے تھے۔ جبکہ ان کی قبر بانیاں اسلام کے لیے بے حساب تھیں۔
جبکہ اس کے برعکس نجدیوں کی پیغمبر ِ اسلام (ص) اور اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں بے مثال تھیں جو تاریخ میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کسی نجدی قبیلے نے حجاز (مکہ مدینہ) پر زمانہ جہالیہ میں بھی حکومت نہیں کی؟ سعودی کیسے قابض ہو ئے اور اس کار خیر میں ان کی کس نے مدد کی کس نے مکر فریب سے قابض کرایا وہ ہم سب جانتے ہیں ۔ پھر بھی اگر ہم انہیں جائز حکمراں مانتے ہیں کہ انہوں نے ایک علاقے پر جارحیت کے نتیجے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تواس کلیہ کو تسلیم کرنے کے بعد دنیا میں جہاں بھی غاصبانہ قبضے ہیں انہیں بھی ماننا پڑیگا ، پھر ہم کس منہ سے کشمیر یا فلسطین کی بات کرسکتے ہیں؟
پاکستان کے سامنے تین راستے ہیں راستے ہیں۔ایک خود صدر ِ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے  اپنے بیان میں دیا ہے کہً پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیئے “ جوکہ عین اسلامی ہے اس لیے یہ  نص ِقر آنی ہے کہ جب دومسلمان لڑ پڑیں تو ان میں کوشش کر کے صلح کرادی جائے۔نہ مانیں تو جو ظالم ہو اس کے خلاف لڑیں۔ یہ تھے اس سلسلہ میں اسلامی احکامات۔ اگر ان میں سے کوئی صورت نہ بنے؟ تو پھرغیر جانبدار ہوجائے میں ہی عافیت ہے،انہیں اپنی جنگ خود لڑنے دیں۔ نہ کہ یہ پہلے کی طرح خود اس جنگ میں کود پڑیں جو کہ ہماری نہیں ہے ۔ پھر قابل ِ مذمت دونوں ہی ہیں وہ بھی جو انہیں کے برانڈکا اسلام ان کے ہی خلاف استعمال کر رہے ہیں اور ظالم وہ بھی ہیں جوکہ دوسروں کے علاقوں پر جارحانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو عقل دے اور وہ اپنے اس ملک سے وابستہ مفادات کو نہ دیکھیں؟ بلکہ اپنے ملک کے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں ۔ اگر اس مرتبہ بھی وہی غلطی دہرائی تو پہلے کی طرح جنگ دوبارہ ہمارے ملک میں گھس آئیگی اور اس مرتبہ خدشہ ہے کہ کہیں وہ ہر گلی کوچے میں نہ لڑی جا ئے؟ ہاں! حکومت کا یہ کہنا درست
ہے اور اس پر پوری قوم اس کے ساتھ بھی ہوگی کہ اگر کسی نے حرمین شریفین کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھا تو بلا امتیاز مذہب اور ملت پوری قوم حکومت کی پشت پناہی کریگی؟
آجکل اللہ سبحانہ تعالیٰ نے موجودہ حکومت کو ایسی پوزیشن دی ہوئی کہ وہ قومی اسمبلی سے ہر قانون پاس کراسکتی ہے ۔ رہی سینٹ اگر حکومت نے اسکی اسکرینگ شروع کردی تو بہت تھوڑے ممبر بچیں گے جو باقی رہیں؟ لیکن تاریخ میں ان تمام لوگوں کے نام سنہری لفظوں سے لکھے جائیں گے۔ جو پاکستان میں بلا لحاظ سب کو انصاف فراہم کرکے امن وامان بحال کریں گے؟ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کارخیر میں ان کی مدد بھی فرمائے گا۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ “جو میری طرف ا یک قدم بڑھے میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں“

Posted in Articles | Tagged ,

کندہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے ایک دوست جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں بہت ہی پتے کی بات کہتے تھے کہ “ عیبیوں “ کی دوستی بڑی پائیدار ہوتی ہے ۔اب سے پہلے ہمیں اس پر اتنا یقین نہیں تھا۔ اب ہم اس کے سوفیصد نہیں بلکہ ایک سو ایک فیصد قائل چکے ہیں ۔ اورقائل ہمیں ان چند دنوں نے کر دیا جو ابھی گزرے ہیں ؟ یہ پہیلی ہے جس کو ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں؟ اتا پتا اتنا بتادیتے ہیں کہ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہتے ہیں وہاں کی پارلیمان میں ایک بل خود چرچل نے پیش کیا اور سب اس پر متفق ہوگئے۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ جمہوریت کے  “حسن “کے خلاف ہے،اپنا ووٹ اسکے خلا دیکر انہوں نے بقول ان کے جمہوریت کو بچا لیا؟ جبکہ ہمارے یہا ں باہمی مک مکاؤ جمہوریت کا “حسن “ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی عجیب آدمی تھے؟ عجیب عجیب باتیں کہا کرتے تھے۔ مثلا ً یہ کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح کام کرتی رہی ہیں تو ہم جرمن کو شکست دیدینگے؟  جبکہ ہمارے یہاں چلن یہ ہے کہ شکست ہتھکنڈوں سے دی جاتی ہے۔ پتہ نہیں اور کتنی باتیں انہوں نے ایسی ہی کہی ہونگی؟ مگر ہم ان میں سے صرف تین مندرجہ ذیل باتوں پر تبصرہ کرنے پر اکتفا کررہے ہیں جو بہت ہی مشہور ہیں ۔
ممکن ہے کہ پاکستان کی نئی نسل شاید انہیں نہ جانتی ہو اس لیے ہم تعارف کراتے چلیں کہ چرچل تھے کون ؟کیونکہ وہاں اب کتابیں اور علم پڑھنے پڑھانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہےرہیں ڈگریاں وہ ویسی ہی مل جائیں تو انہیں اس تکلف کی ضرورت کیا ہے ؟
ہاں !تو  چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران بر طانیہ کے وزیر اعظم اور برطانوی قوم کے ہیروتھے ۔ انکا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جرمن نسل پرستی کے طوفان سے نہ صرف اپنے ملک برطانیہ کو بچا یا بلکہ یورپ اور اسکا دائرہ اور وسیع کردیں تو انہوں نے پوری دنیا کو بچا یا۔ کرنے والا تو خدا ہے مگر یہ اس کی سنت  ہے جسے وہ تبدیل نہیں کرتاکہ وہ خود لڑنے کہیں نہیں جاتا؟ لہذاکسی برائی کے توڑ کے لیے اپنی مخلوق سے ہی کام لیتا ہے۔ کبھی پرند ے بھیجدیتا ہے ،کبھی ہوا ،کبھی پتھر، کبھی ایک چنگھاڑ یا پھر اسکے لیے کوئی مرد ِ بالغ نظرپیدا کر دیتا ہے؟ جس کے لیے صاحب ایمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ جیسے کہ فلسطین کی تباہی لیے بابل نینوا سے ایک انتہا ئی ظالم بادشاہ، یا پھرمسلمانوں کے لیے چنگیز اور ہلاکو ؟
یہاں اس نے ہٹلرکی نسلی برتری کے غرور کو توڑ نے کے لیے چرچل کو پیدا تو پہلے ہی اپنی مشیت کے مطابق کر رکھا تھا ۔ مگر ظاہر جب ہوا جب دنیا کے اس کڑے وقت میں وہ اسے اقتدار عطا فرماکر سامنے لایا، ورنہ دنیا اِس وقت ہٹلر کی نسل پرستی کے بوٹوںکے نیچے دبی تڑپ رہی ہوتی؟اس کی خوبی غالباً جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند آئی  وہ یہ تھی اور جو کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی کہ اسکی نگاہوں میں عدلیہ بہت اہم تھی۔ اسی وجہ سے اس نے جتنا فخر اور اعتماد اپنی عدالتوں پر کیا اور کسی خوبی پر نہیں کیا؟ جبکہ چرچل کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں تھیں مثلاً وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا لہذا قوم اور دنیا اسکی بات پر یقین کرتی تھی۔ جبکہ ہٹلر اسکا الٹ تھا کہ اس کے وزیر گوبل کا فلسفہ یہ تھا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ جھوٹ نے شکست کھائی۔ ہٹلرکی شکست اور اس تجربے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ آج ہم اور کئی جماعتیں اسی کے فلسفہ پر عامل ہیں ۔
چونکہ اب خوبیاں ہم میں کم پائی جاتی ہیں بلکہ نایاب ہیں۔ اسلیے ہم نے اپنے علماءکو ٹی وی پر یہ فرماتے بارہا سنا کہ ان کی ا چھائی مت بیان کرو؟ کیونکہ وہ ہماری طرح صاحب ایمان نہیں ہیں ؟ اب آپ پو چھیں گے کہ پھر تم کیوں بیان کر رہے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں اسکے باوجود کے وہ دانا وبینا ہے نصاری ٰکی اچھائیوں کا ذکر فرمایاہے اور اپنی مقدس کتاب قرآن میں جوکچھ فرمایا۔ ہمیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے؟  جبکہ ان کی  اچھائیوں کی عملی مثالیں بھی سامنے ہیں۔ مثلا ہر مشکل وقت میں ان کی جیبیں دنیا کے لیے کھلی رہتی ہیں، جبکہ ہم اس میں سے بھی اپنی جیبیں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں؟ جیسے کہ ان کی کمائی میں ہمارا حصہ ہے؟ دوسرے یہ کہ قرآن کی ایک صفت انسانیت کے  لیےباعث شفا ہونا ہے،  یہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ با الفاظ دگر جو بھی اسکی باتوں کو اپنا ئے گا وہ اس سے دنیامیں ضرور فائدہ اٹھا ئے گا، جبکہ صاحب ِ ایمان ہوتو دونوں جگہ اسکا حصہ ہے ۔ اور جو نہیں عمل کرے گا اپنا نقصان  خودکریگا۔ جبکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہمارے ذمہ سب کارزق ہے۔ مگر ہم پرندوں کو بھی گھونسلوں میں نہیں دیتے جب تک  کہ وہ اسکی تلاش میں اپنے گھونسلوں سے باہر نہ نکلیں؟
گوکہ اب ہمارے یہاں بھی کچھ نیئے مخیر پیدا ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے دستر خوان بھی کھولدیئے ہیں مگر وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتح والی بات ہے۔ رہی اللہ کی طرف سے دلانے والی بات تو بل گیٹ کو دیکھئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے سمجھ عطا فرمائی اور وہ ایک سافٹ ویر کی بدولت بے انتہا دولت کا مالک بن گیا اب وہ اس میں سے خرچ کر کے دنیا میں بہت سے رفاعی کام کر رہاہے ، ہمارے یہاں پولیو کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور ہم اس میں روڑے اٹکا کارہے ہیں کیونکہ چلتے کام میں روڑے اٹکانا ہمارا کام ہے ؟ جو یہ کار خیر انجام دے رہے ہیں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس پر انہیں ثواب جنت کی شکل میں ملے گا ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے تو کسی کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جب اتباع کرتے ہیں تو کردار نہیں دیکھتے بلکہ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ نہ جمہوریت کی جڑ کی طرف دیکھتے ہیں ، نہ دینِ اور اپنے رسول(ص) کا  اسوہ حسنہ یادرہتا ہے، جس پر عمل قرآن میں لازمی قرار دیا ہے اسکی جگہ مفاد پرستی لے لیتی ہے۔  ان خود اختیار کردہ خامیوں کی بنا پر ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے نہ اپنے نہ پرائے؟ ا نفرادی کردار جو ہے وہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔ جبکہ ایک آدھ معاملہ میڈیا اچھال دے تو باقی دنیا بھی جان لیتی ہے۔ جن کے ہاتھوں رہنمائی ہے وہ پہلے تو تردید کرتے رہتے ہیں ، پھرعدالتی فیصلوں کو نئے ہتھکنڈوں سے ٹالتے رہتے ہیں ایک دو دن نہیں بلکہ برسوں؟ جبکہ سچ اتنا بولتے ہیں کہ کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے؟ جیسے حالیہ مصالحتی پالیسی ، جس  کاخالق کوئی اور ہے؟ اس نے کان میں  شاید یہ کہدیا کہ اگر تم اسی طرح ان مختلف گروہوں کہ ناز اور نخرے اٹھاتے رہے اور ان کے عیب چھپاتے رہے ،تو ہمیں تم کو بھی برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومت فوراًمصالحتی پالیسی پر اتر آئی اور سینٹ کی سب سے اہم سیٹ اکثریتی پارٹی کو دینا تو بر بنائے مجبوری تھا ہی، جوکہ تمام ہم جنس پرندے ساتھ اڑانے کے لیے لازمی بھی ،مگر دوسری سیٹ بھی غیر ملکی حکم پر دینی پڑی وہ بھی ان کو جو کبھی کسی کے نہیں ہوئے ؟ کیوں اس کیوں کو آپ خود بوجھیئے؟
انہیں انتخابات کے دوران ایک حلیف پارٹی کے دفتر پر چھاپہ بھی پڑگیا ۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ووٹ اپنے جگہ سے نہیں ہلے ، نتیجہ وہی کا وہی رہا؟ اس کی طرف سے سوگ اعلان ہوا مگر دوسرے دن نہیں ہوا، بلکہ ایک اچھی شہرت رکھنے والے پولس آفیسر کا بیان ہماری نظر سے گزرا کہ جلد ہی ہم ہڑتالوں پر بھی قابو پالیں گے ؟  اتنا اعتمادکیوں کیسے پیدا ہوا؟ بھائی کچھ اپنی عقل بھی دوڑائیے ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آ گیا ہو اور ہمارے یہاں بھی وہ پردہ غیب سے نجات دہندہ بھیج دے؟ ورنہ چالیس سال سے ان کے اعمالوں پر جوپردہ پڑا ہوا تھا؟ جب بھی اٹھنے کو ہوا، یکایک پھر رک گیا؟ اخبار نویویسوں میں سے جس نے ہمت کی وہ مارا گیا ، اگر قاتل کوسزا بھی ہوگئی تو وہ بھی  بآسانی فرارہوکر شجر سایہ دار کے گھنے سایہ میں جا چھپا ،جہاں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اب وہی درخت خود فریادی ہے۔  اس کے نمائندہ کا بیان ہے کہ صوبائی کیپٹن کہہ رہا ہے کہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جبکہ وز یر داخلہ کہہ رہے ہیں ۔ نہیں ہم نے اعتماد میں لیا تھا۔ اب ان میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ،فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اگر رینجرز کی یہ اتھاریٹی بحال ہو گئی کہ وہ مخبری پر بڑے سے بڑے پر ہاتھ ڈالدے، تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں ۔ اب خربوزے دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑے گا، پولس میں بھی جرا ءت واپس آجا ئیگی اوردوسری نوکر شاہی میں بھی؟ جو ملزمان پکڑے گئے ہیں ان کے بیانات کی روشنی میں نہ جانے کیسے کیسے پردہ نشین سامنے آئیں گے اللہ جانتا ہے۔ ع  “ کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے “۔اس سے پہلے تو انہیں اوپر سے اجازت لینا پڑتی تھی جو نہیں ملتی تھی، خلاف ورزی پر انہیں اپنی تنزلی ،معطل ہونے اور برخاست ہونے کا ڈر رہتا تھا۔ اگر آئندہ ان کے عہدوں کو تحفظ ملا تو انشا اللہ پاکستان کے دن بدل جا ئیں گے۔ آئیے ہم سب مل کے اس کی کامیابی اور درازی عمر کے لیے لیے دعا کریں جوکہیں پردے کے پیچھے ہے؟

Posted in Uncategorized

کیا اسلام میں عورت ہو نا گناہ ہے؟ (قند مکرر) از۔۔۔ شمس جیلانی

آج دوخبریں ہمارے سامنے ہیں ایک چھوٹے بھائی پاکستان سے جو اسلامی جمہو ریہ پاکستان بھی کہلاتا ہے ۔ جہاں اس پر ابھی اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے؟ کیونکہ اسلام کے مختلف ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے، یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو مسلمانوں کے لئے لے کر وہ تشریف لائے تھے؟اس پر آپ نے روزانہ ٹی وی پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا اور اسی کا قانون یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ کہتے ہیں کہ قائد اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے یہ کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام ہی اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی  ہوتی ہیں بلا تفریق جلا کر جہالت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، جناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ،تو صدر مشرف کا لولا ، لنگڑا کیا ہوا دستور بھی چل رہا اور ضیا الحق کا اسلامی قانون بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی ہے جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے۔ جیسے کہ کفار مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ چند دن پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا، جبکہ مائیں صرف ماں ہو نے کی وجہ سے دفن ہو ئیں ۔ وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر تھوڑی ہیں۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکہ جھانکی کی بنا پر قتل کرتے ہیں ؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔ ہم وہ کوئی کام نہیں کرتے جو اسلام کہا ہے؟   جیسے کہ“ یہ حکم ہے کہ مرد اور عورتیں دونوں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
چونکہ با ت عورتوں کی ہے لہذا ہمارے ذہن میں اس خیال نے چٹکی لی کہ دیکھیں توسہی کہ آخر ان بیچا ریوں کے خلاف یہ سازش کب ہو ئی کس نے کی کہ انہیں “ عورت  “کانام دیاجو کہ صرف ہندو پاک میں را ئج ہے۔اگر ہندی میں جا ئیں جو کہ یہاں کی پرانی زبان ہے تو اسے “ مہلا “ کہتے ہیں پنجابی، پشتو اور سندھی اور بلوچی میں جائیں تو ان میں بھی وہ عورت نہیں کہلاتی تو پھر یہ لقب آیا کہاں سے؟۔ ہم نے سوچا ، چونکہ اسلام عرب سے آیا ہے لہذا ہو نہ ہو یہ عربی سے آیا ہوگا؟ عربی لغت میں تلاش کیا تو وہاں بھی عورت نہیں ملی، فارسی میں ڈھونڈا تو وہاں اقبال کا ایک شعر ملا کہ وجود “ زن  “سے ہے کا ئینات میں رنگ۔ لہذا ہم سوچ ،سوچ کر تھک گئے اور یہ مسئلہ نہیں حل کر پا ئے کہ آخر ان کو عورت کا لقب کب ملا اور دیاکس نے ؟ کیو نکہ جس طرح “ الجی “ عرب میں بت پرستی اور بہت سی برا ئیوں کا بانی تھا۔ اسی طرح اس سازش کابھی کو ئی نہ کوئی موجد تو ہو گا ؟ تاکہ اسے الزام دیں جس نے تمام اسلامی تعلیمات بدل کر رکھدیں اور ان سے وہ حقوق چھین لیئے جو اسلام نے عطا کیئے تھے؟ ہم نے ایک مرتبہ پھر عربی لغت سے رجو ع کیا تو ہمیں لفظ عورت تو اس میں نہیں ملا البتہ ایک قریب تریں لفظ “عورة “ مل گیا اس کے معنی ہیں پوشیدہ  “اعضا ء “یا پھر دوسرے معنی ہیں “ نا قص العقل قابل ، مذ مت۔ ہمیں تعجب ہوا کہ ان القابات کو مسلم “خواتین “ نے چپ چاپ کیسے قبو ل کر لیا اور انہیں خبر تک نہ ہو ئی؟ اس کے اثرات یہ مر تب ہو ئے کہ ایک طبقہ علما ء نے انہیں اسلام کے بر عکس بجائے معززخواتین کے “ عورة “ قرار دیدیا یعنی( پوشیدہ رکھنی والی چیز یعنی وہ چیز جسے ہر طرح اور ہر اک نگاہ سے پو شیدہ رکھا جائے۔ دوسرے طبقہ علماءنے اس پر مزید اضا فہ کیا کہ وہ نا قص العقل بھی ہے،جبکہ اسلام نے انہیں برابری دی تھی ۔ اب ان معنوں کے اطلاق کے بعد وہ بجا ئے انسان کے ایسی چھپانے والی چیز بن گئیں کہ جس کی آواز بھی باہر نہیں جانا چا ہیئے اور ظاہر ہے جو چھپانے والی چیز ہو اس کو سامنے کیسا لایا جا سکتا ؟حالانکہ سب سے زیادہ پردے کاحکم ان کے احترام کی بنا پرجو تھا، وہ اہل ِ بیت (رض) اور امہات المو نیں (رض) کو۔ تھا مگر وہ بھی پردہ کے پیچھے سے سائلوں کے سوالوں کا جواب دیدیتی تھیں سوائے امہ سلمہ (رض) حج پر بھی جاتی تھیں ۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تو اسی فیصد خوا تین کھیتوں اور باغوں میں کام کر تی تھیں۔ اکثر مساجد میں نماز کے لیئے جاتی تھیں ان میں امہات المو نین(رض) بھی شامل تھیں۔پھر د دسری ضروریات کے لیئے جنگل بھی جاتی تھیں ۔ اور جنگ میں پانی بھی پلا تی تھیں، زخمیوں کی مرحم پٹی بھی کرتی تھیں ۔حضور(ص) کے دور میں تو ایسی کو ئی پابندی نظر نہیں آئی جس میں کہ خواتین کو گھر میں بند کر دیا گیاہو ؟ آخر پھر یہ ہدایات آئیں کہا ں سے ؟ ہم اس کے سوا اور کیا کہ سکتے ہیں،کہ یہ علما ءاور خواتین کا معاملہ ہے وہ جانیں جو کہ اہل ِ معاملہ ہیں ہم کو ن کہ خوا مخواہ؟
دوسری خبر بڑے بھائی ہندوستان سے آئی ہے۔
ہندوستان کی ایک ریاست سے جو کبھی صوبہ مدراس کہلاتا تھا آجکل وہ چنو ئی ریاست کہلاتی ہے وہاں سے ایک خبر نظر سے گزری کہ وہاں پچھلے سال سے عورتوں اورصرف عورتوں پر پندرہ سو روپیہ ما ہانہ افطاری ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔ جبکہ مردوں سے ایسی کو ئی فیس نہیں لی جاتی ہے؟ انکے لیئے صلائے عام ہے جو چاہے آکر مسجد میں افطار کر سکتا ہے۔ جو چودہ سو سال سے اسلامی اخوت کا تقاضہ بنا ہوا ہے بلکہ عرب میں تو شیخوں نے افطار کے لیئے لوگوں کو پکڑ کر لانے والے نوکر رکھے ہو ئے ہیں کہ ہم نے خود دیکھا کہ شیخ َ مسجد نبوی  (رض)میں بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے کارندے روزہ داروں کو پکڑ پکڑ کے ،ان کے بچھے ہو ئے دسترخوان پر لا بٹھاتے ہیں کہ ثواب ملے گا۔ مگر یہاں معاملہ الٹ ہے کہ افطار کرو تو پیسے دو کیا ہندوستان میں اسلامی قدریں بدل گئیں؟
اس تفریق کے سلسلہ میں جب اس مسجد کے سکریٹری صاحب سے پو چھا گیا تو انہو نے بتایا کہ خواتین کو افطار کرانے میں کچھ مشکلات ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کیا ہیں۔تو اس پر انہوں نے روشنی نہیں ڈالی ۔ جن خواتین نے پریس سے فر یاد کی ہے انکی عمریں بیس اور ساٹھ کے در میان ہیں۔ لہذا بیس برس کے سن کی وجہ سے تو کوئی مسئلہ قرین قیاس  ہوسکتاہے ،مگر ساٹھ برس کی عمرتو بے ضرر ہو تی ہے۔ ہمارے خیال میں اور کوئی پرو بلم نہیں ہے ، صرف پروبلم ان کا عورت ہو نا ہے۔ اور وہ اس جہالت کا عطیہ ہے جو کہ اسلام کے ہندوستان میں داخل ہو نے سے پہلے توہادی بر حق  (ص)نے ختم کر دی تھی ،مگر یہاں آکر پھر مشرف بہ اسلام ہو گئی یعنی ہندو ازم سے ہم نے اسے پھر لے لیا اور اسی پر عامل ہو گئے ہیں۔ یہ اسی کا سارا کھیل ہے جوکہ ہندو پاک میں رائج ہے کہ خواتین مسجد میں نہ آئیں، قبرستان نہ جا ئیں نماز جنازہ نہ پڑھیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ حضور(ص) کی پھو پھی حضرت زینب (رض) جنگ احد کے موقعہ پر قبرستان میں بھی تشریف لے گئیں تھیں اور اپنے بھائی حضرت حمزہ(رض) کی نماز جنازہ بھی پڑھی تھی ؟ اس ٹیکس سے ہماری سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہیں آیا کہ اس سے خواتین کی حو صلہ شکنی مقصود ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں؟ پھر ہمیں گلہ یہ بھی ہے کہ اب مسلمانوں کا وہ کریکٹر نہیں رہا اور مسلم ما ئیں اچھے مسلمان پیدا نہیں کر رہی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر آپ اپنی اکیاون فیصد آبادی کو علم ِ دین اور مسجد سے دور رکھیں گے، تو آپ اس کے سواان سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ جب وہ خود ہی دین سے بے بہرہ ہو نگی تو علم ان میں کہاں سے آئے گا اور اپنی اولادوں کو کہاں سے وہ پہنچا ئیں گی ؟ جبکہ تمام ماہر ِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی گود ہی نہیں بلکہ ماں کی کوکھ بچے کی پہلی تر بیت گاہ ہو تی ہے۔ بچے کے اخلاق کی تربیت وہاں سے شروع ہو تی ہے۔ جہاں سے رحم ِ مادر میں وہ جگہ پاتا ہے۔ پھر یہ شکایت کیوں کہ ہماری آنے والی نسل فلمی ستاروں کا تو شجرہ فر فر بتا دیتی ہے مگر صحابہ کرام اور خلفا ئے راشدین (رض) کے نام تک نہیں جانتی ؟

Posted in Articles | Tagged ,

وہ کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے؟۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

مورخہ4مارچ کے جنگ میں ایک خبر نظر سے گذری کہ وزیر مذہبی امور اور ہم آہنگی جناب سردار یوسف صاحب نے ارشاد فرمایا “ عنقریب پاکستان میں نماز کو لازمی قرار دیا جائے گا اسکولوں ،دفاتر اور چیمبر آف کامرس وغیرہ سب نمازوں کے اوقات میں بند رہا کریں گے جبکہ ابتدا پنڈی اور اسلام آباد ہوگی ؟ اذان تمام مساجد می بہ یک وقت ہوا کرے گی ۔ اس کے لیئے علماء کی ایک کمیٹی بنا ئی گئی ہے“ بڑی خوش آئند خبر ہے  پڑھ کرکہ دل باغ باغ ہوگیا کیونکہ کچھ نئی باتیں علم میں آئیں اور کچھ  نہ جانے  کیوں ذہن میں کھٹکیں۔ کھٹکنے والیوں میں ایک تو یہ ہے کہ یہ خبر اسی وقت کیوں جاری ہوئی جبکہ وزیر اعظم صاحب اپنے اعلیٰ درجہ کے وفد کے ساتھ بادشاہ کی دعوت پر سعودی عرب تشریف لے گئے تھے۔     البتہ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ کم ازکم ان کا نام تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ کوئی وزیر مذہبی امور اورہم آہنگی بھی ہیں اور وہ ہم آہنگی پیدا کرنےابھی تک ایک کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں؟ وہ کب سے ہیں معلوم نہیں؟ غالبا ً اتنے عرصے  سے توہونگے ہی جتنے عرصے سے موجودہ حکومت ہے؟  جبکہ ان کے دور میں ایک حج بھی ہوگیا اور نہ وہ خبر بنے نہ ان کی وزارت؟ اس سے پہلے یہ وزارت ہمیشہ اپنے اعلیٰ اور اہم کردار کی بنا پر خبروں میں ہی رہتی تھی،اور جاننے والے جانتے ہیں کہ کورٹ کچہریوں اور جانے کہاں کہاں رہتی تھی ؟ اس دور میں حج کے انتظامات بھی اعلیٰ کارکردگی کا نمونہ تھے۔ اسکی وجہ ممکن ہے کہ وزیر موصوف یا تو خاموشی سے کام کرنے کے عادی ہوں، یا پھر  نام ان انکا ہے اور چلتی کسی اور کی ہو جیسے اور کئی وزارتوں کے ساتھ ہے؟  بہر حال اگر وہ اس کے ساتھ  یہ بھی اعلان کردیتے کہ ہم پاکستان کو فوری طور پر فلاحی یا کم ازکم اسلامی ریاست بنا رہے ہیں ۔ جو وقت کی ضرورت تھی تو ملک کے لیےبہت اچھا ہوتا؟ کیونکہ مساجد تو ویسے ہی بھری ہوئی ہیں۔ مگر ان میں اسلامی قدریں مفقود ہیں ۔ اسلیے کہ سارا زور ظاہرداری پر ہے۔ تزکیہ نفس کا شعبہ صدیوں سے بند پڑا ہے۔ لوگ جو دکھائی دیتے ہیں زیادہ تر ویسے نہیں ہیں۔
کیونکہ عام رواج یہ ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ جبکہ الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں۔ اور قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں، جس میں یہ دو آیتیں موجود ہیں کہ “اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو“ اور اسکے بعد والی آیت  میں سخت انتباہ  بھی ہے کہ “ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے “ چونکہ ہمارے اقوال اور کردار میں بہت فرق ہے اس لیے ہمیں جو تیسرا بہت ہی اہم حکم ہے کہ ہم اپنے مسلمانوں بھا ئیوں کے بارے میں ہمیشہ خوش گمان رہیں ؟اس پر عوام عمل نہیں کرتے اور ہر اچھے فعل کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ لہذا ان اقدام کے سلسلہ میں اپنے تحفظات پر بات کرنے سے پہلے ہم اپنے تھوڑے تجربات قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔
پاکستان بننے  سے پہلے گمانِ یہ تھا کہ یہ ایک اسلامی مثالی حکومت ہوگی جوکہ مسلمانوں کاسرتمام دنیا میں فخر سے بلند کرے گی؟ جب کہ علماءکی اکثریت کہہ رہی تھی کہ جو خود باعمل نہیں ہیں وہ کیسے اپنے اطوار بدلیں گے؟
مختصراً عوام کو پہلی دفعہ امیدیں پیدا ہوئی تھیں منزل قریب نظر آرہی تھی اکثریت نے قیادت کی جھولی میں اپنے سارے ووٹ ڈال دیے۔ پاکستان عالم وجود میں آگیا پہلے تبدیلی یہ آئی کہ ہر ریلوے اسٹیشن پر قبلہ کا رخ بتانے کے قبلہ نما لگا دیئے گئے۔ اس کے بڑے اچھے نتائج بر آمد ہوئے۔ جو لوگ تقسیم کے بعد آئے ان کی روح یہ دیکھ کرخوش ہو جاتی تھی اور فوراً  ہرآنے والا الحمد للہ کہہ اسی ڈائریکشن میں پہلا سجدہ شکر بجا لاتا تھا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی(رح) ، ان چند علماءمیں سے تھے جو تحریک ِ پاکستان میں پیش،پیش تھے۔ پہلے تو کچھ دن دیکھا کیے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیونکہ سب کو غلط فہمی تھی ان کے شیخ السلام کہلانے کی وجہ سے کہ وزیر شرع یا قانون وہی بنیں گے، مگر بنے جوگندر ناتھ منڈل؟ جب انہوں نے دیکھا وہ پارلیمنٹ جس کانام دستور ساز اسمبلی رکھا گیا تاکہ وہ جلدی سے د ستور بنائے اور  فارغ ہوجائے؟ بجائے اس کے وہ اور سارے کر تی دکھائی دے رہی ہے مگر اس طرف نہیں آتی؟ تو انہوں نے آواز اٹھائی کہ ساتھیوں اصل کام کرو ؟تو جواب ملا کہ مولانا ہم کونسا اسلام نافذ کریں! مسلمان تو کسی ایک اسلام پر متفق ہی نہیں ہیں ۔ انہوں نے علماءکی ایک کمیٹی بنائی جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماءشامل تھے۔ سب نے بڑی عرق ریزی کے بعد ایک مجموعہ بنیادیات دیا کہ “ ہم سب اس اسلام پر متفق ہیں “ اس کے خلاف کسی بھی مکتبہ فکر کے  کسی عالم نے ایک لفظ نہیں کہا۔ مگر نہ جانے کیوں وہ مسودہ اسمبلی میں پیش نہیں ہوپارہا تھا ،اہلِ اقتدار ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے؟  بڑی مشکل سےمولانا کی اس دھمکی کے بعد کہ میں باہر جاکر تمام صورت ِ عوام کو بتادونگا؟ وہ مجموعہ “ قرارداد مقاصد“ کے نام  سےپاس تو ہوگیا مگر رکھا شیلف پر ہی رہا۔ کئی عشروں کے بعد جب ضیا الحق صاحب آئے تو انہونے اسے شیلف سے اٹھا کے 1973 ع  کے آئین کا حصہ بنادیا ، نماز لازمی کردی دفاتر میں چھٹی ہونے لگی چھوٹے ملازمین با قاعدگی سے نماز کے وقت باہر جانے لگے۔ کیونکہ انہیں کرکٹ کی کومنٹری بھی سننا ہوتی تھی اور بھی دوسرے نجی کام کرنا ہوتے تھے؟ افسر کوئی مسجد کو جاتا ہی نہیں تھا کہ انہیں پکڑے جانے کا ڈر ہو؟ وجہ یہ وہی تھی کہ اوپر تو وہی عالم  طاری تھا جو پاکستان سےپہلے  سے چلاآرہا تھا۔
صرف ایک نمونہ اس دور کا میں دکھا دیتا ہوں؟ محمد خان جونیجو مرحوم  اس وقت وزیر اعظم تھے۔  میر پور خاص کے مری قبیلے میں ایک موتہ ہوگیا تو تعزیت کے لیے وہ تشریف لے گئے ، اسی دوران مسجد میں اذان ہوگئی جوکہ بالکل سامنے تھی جہاں وہ تشریف فرما تھے۔ سب چلے گئے۔ جب وہ نہیں ہلے تو میں نے کہا کہ چلیے نماز کے لیے ! کہنے لگے آپ پڑھ آئے؟
وہ الحمد للہ ابھی تک دستور کاحصہ ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماتھے کاجھومر بھی، مگر زیرِ عمل وہ دفعات بھی نہیں آسکیں جس میں ہر رکن حکومت کے لیے امین اور صادق ہوناشرط ہے؟ تو اس وقت یکایک اس اپھار کی وجہ کیا ہے جو اس وقت منظر ِعام پر آیا، جس وقت وزیر اعطم صاحب سعودی عرب کے دورے پرہیں؟ اس میں بھی کہیں ً ڈو مور ً کا تقاضہ تو نہیں کار فرما ہے؟ کیونکہ وزیر با تدبیر اس سے تو واقف ہونگے کہ ملک آتش فشا ں کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اس کے نتیجہ میں کہیں پھٹ پڑا تو کیا ہوگا؟ ان کے پاس وہ کونسی جادو ئی چھڑی ہے کہ وہ سب کو ایک وقت پر اذان دینے اور نماز پڑھنے پر قائل کر لیں گے؟ جبکہ صورت  ِحال یہ ہے کہ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے ۔ فجر کی اذان میں جتنی جلدی ہوسکے وقت ہوتے ہی اذان دیدی جا ئے اور نماز ادا کر لی جائے، دوسرا کہتا ہے کہ نہیں بس اتنا وقت ہونا چاہیئے سورج نکلنے میں کہ اگر نماز میں غلطی ہو جائے تودہرا لی جائے؟ ظہر میں کچھ لوگ عصر اور ظہر ملاکر پڑھتے ہیں ۔ اسکے علاوہ سنیوں میں بھی عصر کی اذان کے اوقات مختلف ہیں ؟ رہی اب مغرب وہاں بھی اختلاف ہے؟  عشاءاسکے ساتھ بھی مسئلہ یہ ہی ہے کہ ایک مکتبہ فکر ملا کر پڑھتاہے ایک جلدی پڑھتا ہے ، جبکہ دوسرا وقت کی پرواہ نہیں کرتا ؟ یہ ہی سلسلہ کم اور بیش چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے؟ بڑی بڑی قد آور شخصیات بھی ہو گذریں جن کی بات پوری امہ مانتی تھی مگر وہ بھی یہ تفریق ختم نہیں کرا سکیں ؟ اب تو ہم میں ایسی کوئی قد آور شخصیت بھی نہیں ہے۔
جبکہ اس کام کے لیے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنا پڑے گی جسے برسوں چاہیے اثر ہونے تک؟ تب کہیں جاکر ایسی ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر ان کے ذہن میں سعودی عرب کی مثال ہے تو پھرا ور بات ہے؟کہ انہوں نے تو پہلے اپنے قبیلہ کو بدعت دور کرنے کے نام پر ابھارا، پھر حرم پر قبضہ کیا اور اس طرح مرکزی حیثیت حاصل کر نے کے بعد نماز اور اذان کایکساں وقت مقرر کرنے پر قادر ہوسکے؟ مگر اب وہ پہلے والا ماحول بھی نہیں، یہ قبائلی دور بھی نہیں ہے۔ جبکہ اسلام  “ہر جبریہ تبدیلی کے خلاف ہے“ لہذا یہ اسلام بھی نہیں ہے؟البتہ اس سے جو اتحادکی کوششیں ہورہی ہیں ان کو ضرور نقصان پہونچے گا۔ کیونکہ یہ عقیدوں کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ موجودہ وزیر با تدبیر جو فرما رہے ہیں پہلے والوں کی طرح کر نہیں سکیں گے۔ یہ تحریک ِ اذان  بھی ا قامت الصلواة کی طر  ح کامیاب نہیں ہوسکے گی بغیر جبر کے جبکہ جبر کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوتے؟ اسی لیے اسلام جبر کے خلاف ہے۔

Posted in Articles | Tagged

پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرانے زمانہ میں گھوڑوں اور خصوصی طورپرعربی النسل گھوڑوں کو دنیا بھر کے گھوڑوں پر برتری حاصل تھی ۔ اسی لیے اس تجارت کوتاریخ میں ایک دوا می شہرت ہردور میں حاصل رہی ۔ پھر مشینی دور شروع ہوا اور گھوڑوں نے اپنی افادیت کھودی۔ تو پھر انیسویں صدی عیسوی میں جنہوں نے فرقہ پرستی کو اسلام میں دوبارہ رائج کیا، انہیں میں سے ایک نے نیویارک کے ایک اخبارکے ذریعہ اسے دوبارہ جلا بخشی ۔ جب اخباری دور شروع ہوا اور ذریعہ آمدنی اشتہارات بنے تو لمبے چوڑے دعوؤں کے ساتھ اشیاءفروخت کر نے کا رواج شروع ہوا اور اس کے ذریعہ چکر باز قسم کے لوگ سرگرم ہوگئے تو اسے ضابطہ اخلاق میں لانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی تبھی اس قانون کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے اپنے مضمون میں اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ لفظ “یعنی ہارس ٹریڈنگ “ استعمال کیا۔ جوکہ گھوڑوں کی افادیت ختم ہو نے کے بعد رفتہ رفتہ معدوم ہو تا جا رہا تھا۔ اس کا پس ِ منظر یہ ہے کہ جب گھوڑوں کی تجارت عروج پر تھی تو اس کے بیوپاری اس قدرزمین اور آسمان کے قلابے گھوڑوں کی تعریف میں ملایا کرتے تھے کہ اس تجارت کو بدنام کر کے رکھدیا تھااور ان کی اعانت اس کار ِ خیر میں اس دور کے شاعر بھی کیا کرتے تھے۔ جب گھوڑی دوڑتی تھی تو کبھی ناگن سے کبھی بجلی کوند نے سے مثال دی جاتی تھی، جبکہ گھوڑے بھی پیچھے نہیں رہتے تھے؟ ان کی بھی چال کے کئی نام تھے جب وہ میانہ روی اختیار کیے ہوئے ہوتے ، تو چال “دُلکی “ کہلاتی اور جب وہ دوسرے گیر میں آ جاتے تو “تیز گام “ اور جب سرپٹ دوڑ ر ہے ہوتے تو “ سرگام “ کہلاتی تھی جو شاعری کی انتہا تھی کہ یہ صفت راگ کی ایک قسم “ سرگم “ سے لی گئی تھی۔ گھوڑوں کے لیے باقاعدہ استاد مقرر ہوتے تھے جو ان کی تربیت کیا کرتے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں ان کی جلد میں چمک لانے کے لیے انہیں سنکھیا نامی زہر کا عادی بنا یا جاتا تھا۔
جب اسلام آیا تو اسے ایک پیر سے سلام کر نا بھی سکھایا گیا؟ دوسرے جھوٹ بول کرکے ہر قسم کی تجارت حرام کر دی گئی اور عرب بیوپاریوں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور نقص بتا کر گھوڑے فروخت کرنے لگے؟ ان میں یہ تبدیلی دیکھ کر دوسری قوموں میں تجسس پیدا ہوا تحقیق کرنے سے انہیں پتہ چلا کہ یہ اسلام کا فیض ہے؟ تو لوگ جوق درجوق اسلام لانے لگے؟ مگر بعد میں جب حکمراں عیش میں پڑگئے تو ہربرائی واپس آگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی ترویج و اشاعت بھی رک گئی ، کیونکہ اب وہ صاحب ِ کردار مبلغ نہیں رہے تھے نہ درسگاہوں میں، نہ مزاروں میں نہ بازاروں میں۔ پہلی والی تمام برائیاں ان میں دوبارہ آگئیں؟
مگر پاکستان میں اس لفظ نے رواج پایا ایوب خان کے دور میں جب میجر جنرل اسکندر مرزا صدر بنے اور انہوں نے راتوں رات ریبلکن پارٹی بنا ئی جوکہ صفت ِہارس ٹریڈنگ کی رہین منت تھی۔ کہ ایک رات پہلے تک جو پکے مسلم لیگی تھے، وہ صبح کو ریپبلکن پائے گئے۔ اور یہ کاروبار اتنا مقبول ہوا کہ پھر چلتا ہی رہا۔ یہاں میں ایک غلط فہمی دور کرتا چلوں کہ آجکل ہر جماعت یہ کہتی ہے کہ اصل قائد اعظم کی مسلم لیگ یہ ہی ہے۔ یہ اتنا ہی سچ ہے جیسے کہ تاریخ میں اور بہت سے سچ ہیں۔ کیونکہ قائد اعظم جس مسلم لیگ کے صدر تھے وہ آ ل انڈیا مسلم لیگ تھی جس کو پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ فرماکر توڑدیا تھا کہ اس کامشن پاکستان حاصل کرنا تھا ۔اب اس کی ضرورت نہیں رہی؟ پھر جو مسلم لیگیں بنیں وہ قائد اعظم کی حیات میں نہیں بعد میں بنیں۔ بہت سے مسلم لیگی ہندوستان میں رہ گئے جو یہاں آگئے تھے اور جو مقامی تھے انہوں نے ایک گروپ بنالیا جس کی قیادت ممتاز محمد خان دولتانہ کر رہے تھے۔ جبکہ ایوب خان ایک مدت تک پاکستان کے وزیراعظموں کی بیساکھی بنے رہے۔ اسکندر مرزا نے انہیں مارشلاءلگا کر اس کا سربراہ بنادیا تو انہوں نے اس کے چند ہی دن بعدیہ کہہ کر کندھا جھٹک دیا کہ اب میرا کندھا دکھنے لگا ہے اور ان کو ہوائی جہاز میں بٹھاکر لندن روانہ کردیا جہاں بیچارے چائے خانہ چلاتے رہے؟ اس واقعہ میں سبق ہے ان حکمرانوں کے لیے جو کسی دوسرے کے سہارے پر چل رہے ہوں؟ اسکندر مرزا کے جانے کے بعد ریپبلکن اپنی موت آپ مرگئی۔ ایوب خان نے سابق مسلم لیگیوں کاکنونشن بلا کر دوبارہ باقاعدہ پاکستان مسلم لیگ بنائی جس کے پہلے صدر چودھری خلیق الزماں مرحوم اور جنرل سکریٹری منظر عالم مرحوم بنے۔ چونکہ یہ کنونشن کے ذریعہ معرضِ وجود میں آئی تھی لہذا کنونشن مسلم لیگ کہلائی، جو بقیہ مسلم لیگیوں کا دھڑا تھا اور اس میں شامل نہیں ہوا تھا ،وہ کونسل مسلم لیگ کہلایا ۔ کچھ سالوں کے بعدایوب خان کا کندھا پھر دکھنے لگا سوچا کہ یہ تکلف بھی کیوں رہے؟ میں خود ہی اسکا بھی صدر کیوں نہ بن جاؤں لہذا وہ خودصدر اور بھٹو صاحب سکریٹری جنرل بن گئے۔ اور اس کے بعد سے مسلم لیگ انڈے بچے دیتی رہی ؟ ایوب خان نے ہی پاکستان کے عوام کو پارلیمانی جمہوریت کے لیے نا اہل قراردیا ۔اس کے بجائے بنیادی جمہوریت روشناس کرائی جس میں پہلے اپنے حلقہ میں بنیادی جموریت کے اراکین کو عام ووٹوں سے خود کو منتخب کرانا ہوتا تھا۔ اور انہیں اراکین کو پھر یونین کونسل ، میونسپل اداروں اور ضلعی کونسلوں، صوبائی اسمبلیوں اور قوم اسمبلیوں کوقائم کرنا ہوتا تھا اور انہیں جمہوروں کے ذریعہ صدر بھی منتخب کر نا ہوتا تھا جنکی تعداد اسی ہزار تھی۔
پہلی دفعہ ایوب خان صدر آسانی سے منتخب ہوگئے؟ دوسری مرتبہ ان کے مقابلہ میں لوگ محترمہ فاطمہ جناح کو لے آئے؟ تو کھل کر ہارس ٹریڈنگ سامنے آئی سستا زمانہ تھا ،ایک جمہورے کابھاؤ تین ہزار تک گیا پھر بھی اسے بار، بار کی نیازی چراغی سے، اچھی خاصی رقم مل جاتی تھی؟ ان کی اکثریت چونکہ رمضانیوں پر مشتمل تھی لہذاتھوڑی قناعت بھی تھی۔ طریقہ کار یہ تھا کہ ا نکو نقد رقم دیکر اور قر آن پر حلف لیکر کہیں قید کردیا جاتا تھا، پھر وہ سیدھے وہیں سے پولنگ اسٹیشن لا ئے جاتے اور ان کے ووٹ ڈلوا ئے جاتے۔؟پھر بھی محترمہ فاطمہ جناح کراچی اور مشرقی پاکستان میں جیت گئیں ۔ تو جھرلو جوکہ قائد ملت کے دور میں خان عبد القیوم خان ایجاد کرچکے تھے اور اسے بڑی کامیابی سے جب سے حکمراں استعمال کر رہے تھے ، کام میں لایا گیا، ہنگامے شروع ہوگئے۔ ایوب خان رخصت ہوئے ملک ٹوٹ گیا۔ پھر بھٹو صاحب نے 1973کاآئین بنایا جو بیسی پوری کرکے ,اب اکیسویں ترمیم کی طرف کے رواں دواں ہے۔ ہے ،جوبہت اچھا ہونے کے باوجود صرف عمل نہ ہونے کی وجہ سے گھر اور باہر دونوں جگہ تماشہ بنا ہوا ہے ۔ انتخاب اسی کو بروئے کار اب تک لاتے رہے اور الیکشن کراتے رہے ، مگر ووٹر روزبروز چالاک ہو تے گئے ۔ جب ٹریڈنگ پر قابو نہیں پایا جاسکااور ان کا بھاؤ آسمان کو چھونے لگا، جو کروڑوں تک پہونچ گیا تو پریشانی لاحق ہوئی پریشانی کا مقصد اصلاح لانا نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں وہ اس فکر میں ہیں کہ وہ“ پارٹی ٹکٹ “کے نام پر جتنا زیادہ سےزیادہ مال وصول ہوسکتا ہے وصول کرلیں ؟جو امیدواروں کو کھل رہا ہے۔ کیونکہ ٹکٹ ملنے کے باوجود انکی کامیابی یقینی نہیں ہے۔ اسلیے کہ انہیں ووٹروں کو بھی رقم دینا پڑتی اور اسکے بعد بھی یہ یقین نہیں ہے کہ وہ ووٹ انہیں کو دیں گے۔؟اس کا توڑ پارٹی رہنماؤں کو یہ نظر آیا کہ اٹھارویں ترمیم نے پارٹی لیڈروں کو جو اختیار دیا ہے کہ وہ جس کو چاہیں پارٹی سے نکالدیں اسکو بروئے کار لائیں؟ اس لیے وہ اب اکیسویں ترمیم کرکے یہ جاننے کا ذریعہ نکالنا چاہتے ہیں کہ ووٹ کس نے ان کے حکم پر نہیں دیا ؟ پھر اسکی خبر لیں ؟ جبکہ امیدواروں کو شکایت ہے کہ اب پلاٹ وغیرہ تو رہے نہیں ان پر قبضہ گروپ کے ذریعہ لیڈر قابض ہیں۔ وہ اپنے انتخابات پر خرچ کرنےکے لیے رقوم کہاں سے لائیں پھرکچھ منافع بھی ہو نا چاہیے۔ جبکہ لیڈر ایسی سزا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، کہ جن اراکین نے اپنے ووٹ بیچے تھے ۔ ان کے اراکین اسمبلی اور وزراءکام نہیں کرتے تھے اور انہیں ہری جھنڈی دکھا دیتے تھے؟ لوگ بڑی امیدوں کے ساتھ آتے یاد دلاتے کہ سائیں! ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا، شاید آپ نے ہمیں پہچانا نہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ نہیں! ہم نے اچھی طرح پہچان لیاتم نے تین ہزار لیے تھے ؟ آنے والابھری محفل میں ننگا ہو جا تا کیونکہ اس وقت تک لوگوں میں شرمانے کا رواج تھا۔
اب یہ ترمیم بھی پہلی ترامیم کی طرح پاس ہو جائے گی کیونکہ “ بڑے اسٹاک ہولڈرز “ کامفاد اسی میں ہے؟ رہی شرمانے کی بات وہ اب قصہ پارینہ ہوگئی ہے ۔اب تو ٹی وی پر بھی لوگ نہیں شرماتے ہیں اور کہتے ہیں اگر میں نے یہ کیا، تو نے وہ بے ایمانی کی تو مجھ سے بڑا بے ایمان ہے۔؟دیکھئے ہم نے کتنی ترقی کرلی اتنے برسوں میں؟ وہ جھوٹا ہے جو کہتا ہے پاکستان نے ترقی نہیں کی؟ لہذا لوگ شرمائیں گے تو نہیں البتہ پارٹی سے نکالے جانے سے ڈر جائیں تو اور بات ہے۔ ورنہ اس سقم کو دور کرنے کے لیے کوئی بائیسویں ترمیم لانا پڑے گی۔

Posted in Articles | Tagged ,

پلے میں تمہارے دینے کے لیئے کیا ہے۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ہم بڑے مذبذب ہیں کہ اپنی یہ دردمندانہ عرضداشت کس کی خدمتِ عالیہ میں پیش کریں؟ کیونکہ جن کے پاس بقول ان کے منڈیٹ ہے ان کے پاس “ منڈپ “نہیں ہے۔ اور جن کے پاس منڈپ ہے وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس منڈیٹ نہیں ہے کہ اسی میں ان کی بہتری ہے۔ آپ مطلب سمجھ گئے ہوں  گےکہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ اردو آج تک سرکاری زبان بن ہی نہیں سکی عام کاروبار انگریزی میں ہی چلتا ہے جبکہ “ منڈپ “انڈین فلمیں دیکھنے کی وجہ سے بچہ بچہ جانتا ہے۔ اگر کوئی صاحب ایسے بد ذوق ہیں کہ جن کی سماعت ٹی وی سے روشناس ہونے کے بعد بھی اس لفظ سے بچی رہی تو ہندی میں “ منڈپ “ اسے کہتے جس کے نیچے ایک دن کی با دشاہت کے لیے کسی کودولہا بنایا جاتاہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ زیادہ تر یہ دن سب کو دکھا تا ہے کہ دیکھیں اب یہ کیا کرتاہے؟
یہ تذبذب ہمیں اس لیے لاحق ہوا کہ اِن سے کچھ کہیں گے تو یہ بغیر اُن سے پوچھے کچھ نہیں کریں گے اور اُن سے کچھ کہیں گے تو وہ اپنا صاحب ِ اختیار ہونا مانیں گے نہیں ۔ لہذا ہماری یہ عرضداشت گیند کی طرح کرکٹ کے میدان میں بلّو ں سے ٹکراتی رہے گی۔ ایسے میں اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کریں کیا؟کیونکہ ہمیں مسلم امہ کی بہی خواہی کا خبط بھی سوار ہے۔ اس لیے کہ ہمیں حکم ہی یہ ہے۔کہ اچھی باتوں کی ترغیب دلا ئیں اور بری باتوں سے منع کریں؟ اور یہ بھی کہ ہر ظالم کے سامنے کلمہ حق کہیں ،کوئی سنے یا نہ سنے مگر ہم اپنے فرض سے سبک دوش ہو جائیں۔اس کی وجہ سے بہت سے دوست ہم سے بچتے ہیں کہ وہ بھی کہیں ہم سے قربت کی بنا پرمعتوب نہ ہو جائیں ، اور ہم ان سے بچتے ہیں کہ کہیں ہماری وجہ سے بچارے مشکل میں نہ آجائیں ؟ مومن کی اللہ اور اس کے رسول (ص) نے پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ وہ دوسرے مومن کے ساتھ اللہ کے لیے محبت کرتاہے اور یہ بھی کہ جو اپنے لیے چاہے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی چاہے؟ مثلا ً ہم اپنے لیے جنت چاہتے ہیں تو اپنے بھائی کے لیے بھی چاہیں۔ اگر ہمیں یقین ہے کہ ہم راہِ راست پر ہیں تو بھائی کو بھی راہ راست کی طرف راغب کریں؟ تاکہ وہ بھی جنتی بن سکے۔ لہذا ہم اس یادداشت کو مکتوب الیہ کا نام لکھے بغیر انگریزی کایہ طریقہ اپنالیتے ہیں ۔ جووہ جب استعمال کرتے ہیں، جب مکتوب الیہ معلوم نہ ہو کہ کون ہے اور یہ کہاں کہاں جا ئےگا ، کس کس کی نظروں سے گزرےگا ۔ تاکہ “ اس کی جہاں ضرورت ہو، وہاں ضرورت مند استعمال کرلے “ جیسے کہ کبھی ہر مرض کی دوا امرت دھارا ہوا کرتی تھی،حالانکہ آج کے دور میں اب وضاحت کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ لوگ اردو سمجھنے والے کم ہوتے جارہے اور انگریزی لوگ زیادہ سمجھتے ہیں وہ اصطلاح ہے ۔ ” To whom It may concern ”
ہمیں یہ خبط اس لیے سوار ہوا کہ ہم نے ٹی پر پاکستانی حکمرانوں کی یہ “ اپیل کہ غیرملکوں میں آباد پاکستانی واپس آجائیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں بار بارسنی، جبکہ وہ خود اسکا الٹ کرتے ہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ“ مومنوں! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو ،اور یہ کہ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے “ جبکہ علمائے کرام یہ وعظ روزانہ سناتے رہتے ہیں کہ یہ مت کرو وہ مت کرو، مگر شادی ضرور چار کرلو؟ پھر لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ “ ہم سے تو ایک سنبھلتی نہیں یہ چار کیسے سنبھال لیتے ہیں۔ سود میں ملوث مت ہو؟ تمام ایسے اداروں سے دور رہوجہاں سود ی کاروبار ہوتا ہو ورنہ اللہ اور اسکے رسول (ص) سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ؟ اس کے برعکس کچھ یہ رعایت دیدیتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنک میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ مگر اس سیکشن میں ملازمت مت کرو جہاں سودی دستاویز تیار ہوتی ہوں کیونکہ حدیث نبوی کے مطابق “ سود لینے والا، دینے والا، اسے لکھنے اوراس پر گواہی کرنے والے جہنمی ہیں “ جب کہ ملک میں کیا دنیا میں صحیح معنوں میں بلاسودی بنکاری کہیں موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی اکثریت مسلمان ہے اگر کوئی بھی یہ کام نہیں کرے گااور اپنی جگہ جہنم میں نہیں بنا ئے گاتو پھر بینک چلے گا کیسے؟ اور آمدنی کہاں سے ہوگی ، باقی عملہ کی تنخواہ کہاں سے نکلے گی؟ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر اسلامی ملکو ں میں جانا حرام ہے وہاں رہنا حرام ہے؟ جو باہر ہیں وہ واپس آجائیں؟ کیا اس پروپیگنڈے سے ملک کی مالی حالت مزید نہیں تباہ ہو جائے گی ؟ پھر وہاں آنے کے بعد کریں کیا؟ ملازمت وہ بغیر رشوت ملے گی نہیں اور کھائے کھلائے بغیر چلے گی نہیں۔ کارو بار کریں،صنعتیں لگائیں، یا زمین خریدلیں، بلنڈنگ بنا کر کرایہ پر اٹھادیں؟ کاروبار کریں بھتہ ، تاوان برائے اغوا ءاور رشوتوں کی مدسے کچھ بچ سکے گا ؟جواب نفی میں ہے؟ آنے والوں کو پچتاوے کہ سوا ملے گا کیا؟ اگر جان بچ گئی تو پھر وہیں واپس جانا پڑیگا ۔ اگر زمین خرید لیں تو قبضہ گروپ سے کیسے بچے گی۔ عمارت بنا کر کرائے پر اٹھادیں تو قبضہ دینے کے بعد کرایہ دارسے کرایہ ملناتو دورکی بات ہے۔ قبضہ واپس زندگی میں تو ملے گا نہیں ؟
ان سب مسائل کا حل کیا ہے صرف اور صرف دین کی طرف واپسی ؟ جو عام آدمی کی تبلیغ سے ممکن نہیں ہے؟ یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوںکہ جنہوں نے دہلی کے اطراف میں ساتھ لاکھ میواتیوں کو جو نام کے مسلمان تھے، جب ان پر تبلیغ شروع کی تو ان کے پاس پیسے تھے وہ ہر صبح سڑک پر کھڑے ہوجاتے اور پوچھتے بھائی کہاں جارہے ہو؟ وہ بتاتے مزودری کرنے ،وہ پھر پوچھتے کہ کیا مزدوری ملے گی تو جواب ہوتا تھاکہ اتنی؟ تب وہ فرماتے کہ وہ میں دونگا؟ “ تم چالیس دن نمازیں پڑھ لو “ نتیجہ میں کچھ سدھر بھی جاتے تھے اور باقی پھر اپنے پرانے راستہ پرو اپس چلے جاتے تھے۔ مگر اس کو بڑے پیمانے پر چلانے کے لیے فلاحی ریاست چاہیے کسی مالدار ترین آدمی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوسکتے کہ وہ سب کی کفالت کرسکے چاہیں وہ کتنا ہی بڑا کالے دھن کمانے کا ماہر کیوں نہ ہو ؟
سب کو رزق دینا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکام ہے کہ وہ سب کا رازق ہے اور اس کے خزانے لا محدود ہیں۔اس نے اپنا نظام ہی اس طرح کا بنا یا ہے کہ کچھ سرمایہ دار بنیں کچھ مزدور بنیں؟ کچھ چور اور ڈاکو جیسے پیشے بھی اختیار کریں تاکہ پولس رکھنا پڑے اور دنیا ملکوں میں بٹی رہے۔تاکہ ہر ملک اپنی حفاظتی فوج رکھے؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کسی گروپ کا غلبہ نہ ہونے دے اسی لیے اسلام نے عدل پر سب زیادہ زور دیا کہ کوئی طاقت سر نہ اٹھا سکے۔ اگر سب چور بن جا ئیں تو بھی ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ چور بننے سے روکنے کے لیے خوف خدا اور حکومت کی طرف سے چور کی آباد کاری کا انتظام ضروری ہے؟ اسلام نے گھرے بغیر توبہ کے دروازے چور اور ڈاکوؤ پر بھی کھلے رکھے ہیں تاکہ وہ خود کو بدل سکیں۔ کیونکہ اچھا ماحول نہ ملے جو اسے بھلا آدمی رہنے کے لیے ضروری ہے، تو جس طرح وہ پہلے چور بنا تھا پھر چور یا ڈاکو بن جا ئے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی نے اپنے وفادار سپاہیوں کو بھی بے یار و مدد گار چھوڑدیا تو وہ اسی مالک کی کچھ زمین پر قبضہ کر کے راجہ یانواب اور با دشاہ بن بیٹھے؟ مسئلوں کا حل تلاش کیے بغر کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے دنیا بھر میں پھیلے کارندے ہیں جنہیں شرفِ حکمرانی بھی حاصل ہے۔ وہی عام انسان کی رگوں سے خون چوس کر پھل پھول رہا ہے ،اس کا اگر کوئی توڑ ہے تو وہ اسلام ہے جس میں فلاحی ریاست کا تصور موجود ہے اور یہ ہی اس کاجرم بھی ؟ جبکہ وہ نظام کہیں بھی دنیا میں موجود نہیں ہے اور مفاد پرستوں کی موجود گی میں آ بھی نہیں سکتا ہے؟ جب تک یہ خلاءباقی ہے یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوسکتا؟ جتنا آپ مسلمانوں کو ڈرائیں گے اتنا ہی وہ چاروں طرف ہاتھ پیر ماریں گے ؟مفاد پرست اور نام نہاد اسلام پرست اسی طرح سبزباغ دکھاتے رہیں گے اور وہ نادانی میں ان کا شکار بنتے رہیں گے۔ جب تک کہ کوئی اللہ کابندہ ایمانداری سے اس پر عمل پیرا نہ ہو صرف زبانی جمع خرچ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا؟ اس میں علماءاور حکمرانوں دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اچھا حکمران وہی ہے جو عادل ہو انسان کا درد محسوس کرے جس کی اسلام نے بڑی تعریف کی ہے اور اچھا عالم وہی ہے جو حضور (ص) کی طرح خود عمل کر کے دکھا ئے ورنہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے “ اچھی بات تو برا آدمی بھی کرلیتا ہے “ اگر یہ نہ کیا تو خصوصی طور پر سادہ لوح نو مسلم اپنی محدوداور شدت پسندوں کی فراہم کردہ معلومات کو اسلام سمجھتے رہیں گے اور ان کے آلہ کار بنتے رہیں گے ؟ اللہ سبھانہ تعالیٰ ہمارے کرتا دھرتاؤں اور دنیا بھر کے دانشوررو ں کوسمجھ بوجھ عطا فرمائے تاکہ موجودہ انارکی دور ہو (آمین)

پ

Posted in Articles | Tagged

روٹھے منانے کا موسم ؟از۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے زمانے میں زراعت پر سار ا دارومدار تھا فصل اچھی ہوگئی تو ساری تقریبات دھوم دھام سے ہوتی تھیں ورنہ اگلے سال پر ملتوی ہو جاتی تھیں، اگر فصل اچھی ہو تو پھر شادی بیاہ کا موسم اورروٹھنے منانے کا موسم بھی شروع ہو جا تا تھا۔ اس زمانے میں شادی کارڈ کا بھی رواج نہیں تھا شادی میں ،اصل کردارعموما ً نائی یا حجام جسے مسلمان نہ جانے کیوں خلیفہ بھی کہا کرتے تھے اسی کے ہاتھو ں انجام پاتے تھے۔ اسے خلیفہ کیوں کہا کرتے تھے وہ ہماری آجتک سمجھ میں نہیں آیا؟ اس میں ہندو بھی پیچھے نہیں تھے ان کے بھی کئی نام تھے وہ اسے راجا کہتے تھے، ممکن ہے کہ کوئی ظالم راجہ ایسا بھی گزرا ہو جو رعایا کی حجامت کر دیتا ہو کہ مالیہ کم ہونے کی شکایت تو سب کو ہی رہتی تھی جبکہ ریاستیں بہت تھیں۔ ہمارے یہاں ایک کے بارے میں تو تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عمال نے یہ خبر دی کہ لوگ جوق درجوق اسلام قبول کر رہے ہیں اس سے جزیہ کم ہو تا جارہا تو اس نے حکم دیا کہ جو اسلام لے آیا ہو اس سے بھی جزیہ وصول کیا جائے؟  اس زمانے جمہوریت تو تھی نہیں کہ الیکشن کا ناٹک ہوتا ۔با دشاہت اور بادشاہ تھے اور جنہوں نے خلافت راشدہ نہیں دیکھی تھی صدیوں تک لوگ بادشاہوں کو ہی خلیفہ کہتے رہے جبکہ خلیفہ خداسے ڈرنے والے ہوتے تھے اور با دشاہ اپنی پرچھائیں سے بھی ڈرتے تھے ،اسی لیے وہ کوئی وارث تخت رہنے ہی نہیں دیتے۔
جیسے کہ آجکل حکمرانوں کے انداز شاہانہ ہونے کے باوجود ہم اپنے رہنماؤں کو جمہورکانمائندہ کہتے ہیں جن کے انتخاب تک میں ہمار ااپنا کوئی دخل نہیں ہوتا اور حکمراں خود بھی کسے کا بچہ جمہورا ہوتو حکمراں بنتاہے۔ اگر یہاں خلف کے لغوی معنی لیے جائیں یعنی بعد میں آنے والا تو بھی اسے خلیفہ کہنا مشکل تھا؟ کیونکہ وہ تو اس دور میں ان بیٹوں کے لیے مخصوص تھا ،جوکہ نیک چلن ہوتے تھے، اور خلف ِرشید کہلاتے تھے ۔ اس کے برعکس جو بچہ نالائق ہوتا اس کو ناخلف کہتے تھے۔ ہاں اگر اسے اس کی اس خوبی کی بنا پر خلیفہ مان لیا جائے جوکہ اس کی انفرادیت تھی کہ وہ پیچھے کھڑے ہو کر حجامت بنا تاتھا، تو کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ہم نے اس کاذکر اپنے ایک دوست کے سامنے کیا تو کہنے لگے کہ آپ کی یہ توضیح بھی غلط ہے ! ہم نے پوچھا کیوں! فرمایا کہ اس زمانے میں تو مسلمان درزیوں کو بھی خلیفہ کہتے تھے؟ جن کے بارے میں کہاوت ہے کہ درزی اور سنار اپنی ماں سے بھی نہیں چوکتے ،یعنی کسی نہ کسی طرح سگی ماں کا بھی کپڑا یاسونا مار ہی جاتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی  ؟اس سے ثابت یہ ہوا کہ ان کی بھی آنکھوں میں کچھ لحاظ تھا۔ ؟ جبکہ آجکل جیب کتروں ،چوروں ،اور بشمول ڈاکوؤں کے سب آنکھ میں آنکھیں ڈال کر اور روبرو ہوکر لوٹتے ہیں۔ جبکہ کہلاتے وہی ہیں جو وہ چاہتے ہیں مثلا ً خادم وغیرہ ، جس سے عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں خادم سمجھنے لگتے ہیں ؟مگر ان کے خادم ہو نے کے راز اسوقت کھلتے ہیں جبکہ خدمت لینے کی کبھی ضرورت پڑجائے؟ہاں بات کر رہے تھے ،نائی کی کہ جس کے بارے میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ اس نے کہیں بٹتی ہوئی مٹھائی میں سے ایک کے بجائے چار حصے وصول کر لیے ! جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایک کے بجا ئے چار حصے کیوں لیے تو اس نے محتسب کو جواب دیا کہ سرکار گنیں ً میں اور میرا بھائی حجام، خلیفہ ، نائی، اس طرح میں چار حصوں کا مستحق ہوں شاید یہیں سے طبقہ اشرافیہ میں جائیداد اپنے بجائے رشتہ داروں کے نام پر رکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مگر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی قناعت پسند تھا ورنہ اس کے سپرد اس کے علاوہ بہت سی خدمات اور بھی تھیں، اور اپنے حصے زیادہ بنا سکتا تھا ۔ مثلاً اگرتک بندی کو شاعر ی مان لیا جائے تو وہ شاعر بھی ہوتا تھا جیساکہ ابھی آپ نے پڑھا۔ گانا بھی گاتا تھا، جہاں فنکار نہ ہوں تو وہ ضرورت پڑنے پر فنکار بھی بن جاتا تھا ۔
شادی کا دفتر بھی چلاتا تھا کہ آپس کے رشتوں کے علاوہ باہر سے جو رشتے آتے تھے وہ اسی کے معرفت آتے تھے اور اصیل النسل ہونے کی تصدیق کرنے کاکام بھی وہی انجام دیتا تھا۔ یہ بھی اسکے سپرد تھا کہ وہ سب کے شجرے یاد رکھے اور شادیوں کی تقریبات میں پڑھے تاکہ معلوم ہو جائے کہ لڑکی کس کی ہے اور لڑکا کس خاندان کا ہے ؟اسی وجہ سے گوتی کہلاتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ محاورہ مشہور ہوا کہ “ میری ڈھلیا میں روٹی تو سب میرے گوتی؟ اسکے علاوہ وہ چند گھڑیوں کے لیے ہی سہی مگر جراح کا کام بھی انجام دیتا تھا اور بچوں کو مشرف با اسلام کرتا تھا۔ اب وہ ہمہ صفت پیشہ ہی معدوم ہوگیا اور اس کے بجائے وہ باربر کہلانے لگا پھر مزید ترقی کی اور اس میں دونوں صنفیں شامل ہو گئیں ۔ تھیں تو پہلے بھی مگروہ نائن کہلاتی تھیں اورزیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ جب مساوات کا دور آیا تو وہ بیوٹی پارلر کے مالک یامالکن بن کر بجا ئے ۔حجامت کرنے اور بال کاٹنے کہ کھال کھینچنے لگے؟ گئے وقتوں ان کو ایک فہرست میزبان کی طرف سے دیدی جاتی تھی جس میں مدعو مہمانوں کے نام ہوتے تھے اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ گھر گھر جائے اور فہرست پر “ صاد “کراکر لائے اور یہ بھی بتائے کہ کس نے صاد کرنے سے انکار کیا اور وجہ کیا بتائی ؟ پھر میزبان کی طرف سے منانے کی کوشش شروع ہو جاتی۔ اب شادیوں کے موسم کی جگہ الیکشن نے لے لی ہے ۔اس میں بھی بعض لوگ وہی کردار دا کرتے ہیں مگر انہیں کوئی نام نہیں دیا جاتا ۔ اس میں وہ سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ جو عام حالات میں کسرِ شان سمجھا جاتاہے؟ شہر شہر انسانوں کی منڈیاں لگی ہوتی ہیں؟ مگر دکھا ئی نہیں دیتیں،البتہ وہ شہزادے جن کے برابر سے معمولی آدمی نکل جائے تو ناک پر انگلی رکھ لیتے ہیں وہ ان کے ہی قالین پر اپنے مٹی میں لتھڑے جوتوں کے ساتھ آتا ہے ، برابر بیٹھتا ہے سرگوشیاں کرتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے ماتھے پر شکن نہیں آتی۔ کیونکہ ان کے یہاں یہ بھی کہاوت رائج ہے کہ وقت ِ ضرورت گدھے کو بھی باپ بنا نے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عوام اسی میٹھی چھری سے بار بار ذبح ہو تے ہیں، مگر سبق کبھی حاصل نہیں کرتے۔چونکہ آجکل عام انتخابات نہیں ہیں ،اس لیے سرگرمیاں ہیں تو سہی مگر دکھائی نہیں دے رہی ہیں سوائے میڈیاکے ۔ آج کل بکروں کے ریٹ کہاں تک گئے بعد کو پتہ چلے گا۔ جبکہ حاجی صاحب سترہ لاکھ کی گائے اللہ کی راہ میں قر بانی کے لیے لیتے ہیں تو فورا ً تصویر اخبار اور ٹی میں بھی آجاتی ہے۔ چونکہ یہ ا لیکشن اشرافیہ کے ہیں رمضانیوں کے نہیں ، ان کے راز کھلنے کے بعد بھی نہیں کھلتے ،اس لیے کہ سب مسلمان ہیں اورانہیں مسلمان بھائی کاپردہ رکھنے کا حکم ہے؟

Posted in Articles | Tagged

شدت پسندتنظیموں کے تخلیق کار کون ؟۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

شدت پسندتنظیموں کے تخلیق کار کون ؟۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی    اس کی پہلی تخلیق گزشتہ صدی میں ہوئی است تخلیق کاروں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آئندہ چل کر اتنی مفید ثابت ہوگی جتنی کہ مختلف ناموں سے جاری تازہ تخلیقات ؟ حالانکہ اس وقت کی ضروریات اور تھیں اور آج کی اور،اسوقت صرف یہ پریشانی تھی کہ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک اطالوی اور جرمن گروپ اور دوسرا بقیہ ان کے مخالفین پر مشتمل گروپ ؟ سلطنتِ عثمانیہ جسے ہم خلافت عثمانیہ کہتے ہیں گو کہ عالم ِ سکرات میں اور برا ئے نام تھی! مگر مسلمانوں کی آواز سمجھی جاتی تھی،اسے رچرڈ شیر دل یاد تھا لہذا ان کے لیے یہ ہی گروپ بہتر تھا۔اسی وجہ سے وہ ہمیشہ جرمن گروپ کے ساتھ رہے۔ اوراسی جرم میں اسے ختم کر نے کے لیے ، دوسرے گروپ کو آلہ کاروںکی ضرورت پیش آئی تومسلمانوں میں کالی بھیڑوں کی تلاش شروع ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کی تباہی کے لیے دو مختلف ہتھیار استعمال کیئے گئے۔ یورپی اور افریقی حصہ کے لیے رنگ و نسل، جبکہ ایشائی حصہ کے لیے اسلام کے جعلی ایڈیشن کی تخلیق ؟اسکے لیے ابتدائی دور میں انسانوں کی پہونچ سے باہر جنگلوں میں اسلامی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں تاکہ دنیا کی نگاہوں سے روپوش رہ کر نیاایڈیشن لانے والی مشینری تیار ہو سکے۔

اس دور میں شایدکالی بھیڑیں کم تھیں۔ بہت دوڑ دھوپ کے بعد کہیں سے ہاشمی خاندان کے تین فرد،عراق،اردن اور شام کی بادشاہت کو مل گئے۔ اوردوسرا وہ قبیلہ  عرب کے لیےجس نے کبھی پیغمبر (ص)اسلام کی بالا دستی قبول نہیں کی جب تک کہ وہ مجبور نہیں ہوگیا،تب کہیں جاکر وہ حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں سرنگوں ہوا۔ کیونکہ وہ قبیلہ خود کو عرب کا اصل باشندہ سمجھتا تھا، جب کہ دوسروں کو باہر سے آنے والے ہونے کی وجہ سے غاصب؟ اس کو حجاز پرمسلط کیا گیااور مسلمانوں کو یہ باور کرایاگیا کہ اسلام میں بد عات بہت داخل ہو گئیں ہیں۔ اس گروہ میں۔ حنبلی فقہ کا زور تھا لہذا وہیں وہ جماعت تیار کی گئی جس کا نعرہ تھا کہ ” ہم حنبلی فقہ کو بدعات سے پاک کرنا چاہتے ہیں ” یہ تھی اس فتنے کی ابتدا ۔ لیکن تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ فرقہ پرستی کے لیے کامیابی کی شاہراہ ہے۔ جب اللہ نے تیل دیدیا تو عرب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ اب ہرچیز کو تیل کی روشنی میں دیکھا جانے لگا؟ انہیں  کو پہلے عرب کا چودھری، پھر بعد میں عالم ِسلام کا جودھری بنا دیا گیا۔ جب وہ روس اور امریکہ جنگ میں اور بھی معاون ثابت ہوا۔ تو دیکھتے دیکھتے وہ شجر ِشر اس تیزی بڑھا جیسے کہ آجکل تمام ہائی برڈ نسلیں بڑھتی ہیں ؟ اس کے بعدآوا گون کا سلسلہ شروع ہو گیاکہ جنہیں وہ چند دن پہلے تک مجاہد کہہ کر استعمال کر رہے ہوتے ،انہیں کے توپوں کے رخ یکایک اپنے مالکوں کی طرف پھر جاتے ؟ کیونکہ دنیا اب وہ نہیں رہی تھی۔ اس پر سرمایہ داری دوبارہ پوری طرح مسلط ہوچکی تھی ، اسکی جڑیں اس مرتبہ بہت گہری رکھی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے کمیونزم کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھائی اور اسکے توڑمیں مال بھی بہت خرچ کرنا پڑا تھا؟ اس کا حل اب دنیا پر بجائے فوجی شہنشاہیت کے معاشی شہنشاہیت کو مسلط کرنا تھا۔ کیونکہ اس میں بدنامی بھی نہیں ہوتی اور کوئی خرچہ بھی نہیں بلکہ الٹا تلوں میں سے ہی تیل نکلتا ہے؟ اور واہ ،واہ الگ ۔ صرف انکا ہی نہیں بلکہ ان کے مہروں کا بھی خرچہ عوام کے سر ۔
اسلام سے پہلے بھی یہ ہی صورت ِ حال تھی کہ معاشرے اور وسائل پر اشرافیہ قابض تھااور سرمایہ دار ہی معتبر سمجھا جاتا تھا۔ ایک دفعہ جس نے قرضہ لے لیا وہ زندگی بھر نہیں چھوٹتا تھا۔ چند ٹکوں کے عیوض یا طاقت کے زور پرانسان کا انسان غلام بن جاتا ،غلاموں کی اولاد بھی پیدائشی غلام ہوتی تھی کنیزوں کے لیے تو یہاں تک تھا کہ اگر کوئی اس کے مالک کو منہ مانگے دام بھی ادا کردے تو بھی وہ ملکیت سابق مالک کی ہی رہتی تھی۔ ہاں ! اگر خریداراتنا مخیر ہو کہ خرید کر آزاد کردے تو اسکی جان چھٹ سکتی تھی؟ اسلام نے آکر غلاموں اور کنیزوں کی گردن غلامی سے چھٹانا بہت بڑا ثواب ، سود حرام اور خاندانی دشمنیاں باطل قرار دیدیں ۔ قرض خواہوں کواصل رقم وصول کرنے کی اجازت ملی اور اگر کوئی مفلس ہو تو وہ بھی معاف کرنا بہت بڑا ثواب قراردیا گیا۔ خاندانی د شمنیاں جو صدیوں سے چلی آرہی تھیں معاف کردی گئیں۔ اور آئندہ کے لیے خون بہا کا طریقہ روشناس کرادیا گیا۔ دور جہالیہ کا سودا ورخون نبی اکرم (ص) نے معاف کرنے کی اپنے خاندان سے ابتدا فرمائی ۔ جو ا ن کے خاندان کا سود اور خون تھا  وہ معاف فرمادیا؟

آئندہ کے لیے اگر کوئی بدلہ لینے پر بضد ہی ہوتو بلدلہ و ہی رکھا، جتنا کہ مظلوم کو نقصان پہونچا ہو؟ دین کی ا ساس،عدل ،مساوات اور بہترین کارکردگی پر رکھی  ۔ نتیجہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام بغیر کسی جبر کے پھیلتا چلا گیا اور اسلامی حدود ِ مملکت میں امن ا ور امان قائم ہوگیا اور فارغ البالی آگئی۔ جبکہ باقی دنیا صدیوں تک انہیں برائیوں میں جکڑی رہی۔ چونکہ خوف خدا ، خود احتسابی، علم حاصل کرنا اور تقسیم کرنا مسلمانوں پر فرض ہے لہذاعلوم جدید میں بھی انہوں نے جھنڈے گاڑدیے ،پھر عیش میں پڑ گئے اور نتیجہ کے طور پر رجعت قہقری شروع ہوگئی۔ انہیں کے ہاتھوں لائی ہوئی علمی بنادیات سے دوسروں نے روشنی حاصل کی اور اپنے یہاں صنعتی انقلاب لے آئے۔ اس پر سرمایہ کاری سود خوروں نے کی ،نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی سیاہ اور سفید کے مالک وہی سرمایہ کار بن گئے۔
چونکہ ہر عمل کا رد عمل ہوتاہے؟ اس کے رد میں دانشوروں نے جن کی اکثریت مذہبی رہنماوں سے پہلے ہی نالا ں تھی کیونکہ ان کو سرمایہ دار اپنے نمائندوں کے ذریعہ بری طرح استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کمیونزم جیسی تھیوریاں پیش کیں جس میں خدا کا تصور نہیں تھا،جس کاخوف انسان کو تنہائی میں بھی برائی سے روکتا ہے۔لہذا وہ اپنے قیام کے ساٹھ ستر سال کے بعد ناکام ہو گیا؟ اور اس کی ناکامی کے بعد اپنی جہالت اور سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کی شکل میں مسلط حکمرانوں کی وجہ سے لوگ نادانی میں انہیں سودخوروں کے آلہ کار بن گئے؟ جبکہ خدا نے ہمیشہ سے خیرو شر دنیا میں رکھے اور لوگوں کو آزدی دیدی کہ وہ جس طرف چاہیں جائیں۔ اگر آپ تاریخ میں جائیں تو کم از کم دوسپر پاور ہمیشہ رہیں۔ کبھی ایک کا بادشاہ اچھا ہوتا تھا کبھی دوسری مملکت کا اور تاریخ اپنے آپ کوبدلتی رہتی تھی؟
کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے؟ حالانکہ دنیا میں نہ کہیں وہ مسلمان ہیں جنہیں معیاری کہا جاسکے اور نہ ہی کہیں اسلامی حکومت ہے۔؟مگر اسلام کا سنہرا دور جو چند عشروں پر محیط ہی سہی تاریخ میں موجود تو ہے۔ اس پر کمیونزم کی طرح طاقتور ہونے سے پہلے نگاہ رکھنا ضروری سمجھاگیا۔؟اس کا توڑ یہ نکالا گیاکہ اسلام کے دنیا کے سامنے وہ ایڈیشن پیش کیے جا ئیں؟ جن کی کرتوتیں دیکھ کر دنیا چیخ اٹھے کہ خدا کےلیے ہمیں ان  سے بچاؤ؟اور وہی دنیا کے نجات دہندہ بن کر باربا، ابھریں۔ اس لیے کسی بھی نام نہاد مسلمان ملک کو چین سے مت رہنے دو وہ آپس میں لڑتے اورنپٹتے رہیں؟ اب حالت یہ ہے کہ نام مختلف ہوتے ہیں، مگر جو بھی روٹھا ہوا گروپ کہیں سے بھی ابھرتا ہے؟ چونکہ اندرونی جڑیں ایک ہیں جس طرح ہر پرند ہ اپنے بالو پر کی بنا پر اڑان سے پہچانا جاتا ہے اور ۔ ہر ایک میں والدین کی شباہت ملتی ہے؟  یہاں بھی جنہوں نے نفرتوں کی بنیاد 1933 ع میں رکھی تھی ان کی شباہت نظر آتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ ابتداءتھی یہ انتہا ہے اور یہ بھی مماثلت ہے کہ تیل چونکہ آج کل سونا ہے، یہ انہیں علاقوں میں راتوں رات قابض ہو جاتے ہیں، جہاں تیل ہی نہیں بلکہ ریفائنریاں بھی ہیں ۔ جہاں سے وہ تیل اونے پونے بیچتے ہیں اور مرنے اور مارنے کے لیے اسلحہ بھی انہیں سے خریدتے ہیں۔ اور اس سے، اس مکتبہ فکر کو کارندے بھی فراہم کر تے یں۔جن کے نزدیک یہ کام نیک ہے اور صلہ جنت ہے؟
جبکہ اپنے ان اعمالوں کے باعث قرآن سے یہ ہر طرح جہنمی ثابت ہوتے ہیں ۔ قرآن کی حفاظت کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے خودفرمایا ہے لہذا شروع دن سے وہ لوگوں کے سینوں محفوظ ہے ،جو ایک سینے سے منتقل ہوکر اب کڑوڑوں حفاظ کے سینوں میں ہروقت محفوظ  رہتا ہے؟ اس لیے شر پسند صرف اس پر قادر ہیں کہ اس کی تفسیر بدل کر معنی اپنی مرضی کے نکال لیں؟ اور یہ ہی معاملہ احادیث اور اسلامی تاریخ کے ساتھ ہے۔ ہر مومن کی طرح میرا یقین ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے؟ یہ ہوکر رہے گا چاہے جب بھی ہو۔؟اور جس طرح پہلے کفاران عرب و عجم کی ساری دولتیں اور کاوشیں اسکے خلاف دیواریں کھڑی کرنے میں ناکام رہیں ایک بار پھر ناکام ہونگی ۔اور وہ تبدیلی بھی وہی لا ئیں گے جو حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے سر و مو انحراف نہ کریں ، کیو نکہ مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح عامل ہو ورنہ وہ مسلمان نہیں کچھ اور ہوسکتا ہے؟
میرا یہ مشورہ ان تمام لوگوں کوبلا تفریق ِ مذہب و ملت ہے کہ وہ اسلام کو حضور (ص) کے عمل میں تلاش کریں۔ تو آسانی سے منزل مقصود مل سکتی ہے؟ کیونکہ حضور (ص) کاعمل تمام  ترالوہی ہدایت کا مجموعہ ہے اور اسلام اسی کانام ہے۔ اس سلسلہ میں کسی ملک ،کسی شہر کے نام سے متاثر نہ ہوں کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کتب جو وہاں شائع ہورہی ہوں وہ درست بھی ہوں ؟جبکہ ابھی پرانی تفسیریں ، احادیث کی کتابیں، اور تاریخیں موجود ہیں۔ انہیں ڈھونڈیں اور رہنمائی حاصل کریں ۔ وہ یقیاً تلاش کر نےوالوں کو مل جا ئیں گی ۔کیو نکہ یہ میرے رب کا ارشاد ہے کہ” جو کوئی میری طرف ایک قدم بڑھے، تو میں دس قدم بڑھتا ہوں ۔۔۔؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ خوا ہستگاران علم و حقیقت کو اپنی ہدایت سے نوازے ۔آمین

Posted in Articles | Tagged

خبروں میں جھوٹ اور سچ کی تلاش ؟۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی

پاکستان میں اسوقت 29 جنوری کی شام ہو چکی ہے جب کہ ہمارے یہاں یعنی وینکور میں 29 جنوری کی صبح کا سورج طلوع ہو ا ہے ۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ نے بجائے شہر کانام لکھنے کے کنیڈا کیوں نہیں لکھدیا ؟ وجہ یہ ہے کہ نکتہ داں مجھے جھوٹا ثابت کردیتے؟ کیونکہ جب کنیڈا کہو تو پاکستان میں صرف ٹورنٹو مشہور ہے؟ جو تقریبا ً کنیڈا کے مرکز میں واقع ہے ۔جبکہ وینکور میں اور ٹورنٹو میں تین گھنٹے کا اوقات میں فرق ہے۔جبکہ یہ کنیڈا کے مغرب میں ہے اور مشرق میں ایک جزیرہ جو صوبہ بھی ہے اس میں اور وینکور میں ساڑھے چار گھنٹے کا فرق ہے۔ تمہید لمبی ہوگئی وجہ وہی ہے کہ نکتہ چینوں سے ڈر لگتا ہے؟
آج جو ہم نے عالمی اخبار کھولا تو پنجاب کے گورنر کے استعفیٰ کی خبر تھی اور انہوں نے اپنی بے اختیاری کا جہاں یہ فرماکررونا رویا کہ یہاں قبضہ گروپ کا رکن گورنر سے زیادہ با ختیار ہے وہیں یہ بھی فرمایا کہ یہاں جھوٹ بہت ہے؟ چونکہ وہ کافی عرصہ انگلینڈ میں رہ کر اور وہاں سچ کے ذریعہ کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کر کے اسکے عادی ہوگئے ہیں ،شاید وہ اس سے واقف نہیں تھے کہ وطن عزیز اسکی مختلف سمت میں چل کر خاصی ترقی کر گیا؟ ہمارا ماتھا جبھی ٹھنکا تھا جب انہوں نے یہ خدمت قبول کی تھی۔ اب وہ فرمارہے ہیں کہ میں نے بغیر کسی کو اعتماد میں لیے ہوئے صدر کو اپنا استعفیٰ بھجوادیا ہے اور یہ کہ استعفٰی کسی نے مانگا نہیں میں نے خود دیا ہے ۔ لیکن ان کے بیان کی یہ بات خوش آئند ہے کہ وہ ہمت نہیں ہارے اور عوام کو یقین دلایا کہ وہ واپس لندن نہیں جائیں گے بلکہ وطن عزیزکی خدمت کریں گے۔ ایوان صدر کہہ رہا ہے کہ استعفیٰ ہمیں ملا نہیں اس کے عموما ً معنی یہ ہوتے ہیں کہ ابھی ظاہر کرنا عوام کے مفاد میں نہیں ہے؟ ورنہ دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے وہاں کے ڈاکخانے کو آزمایا ہو اور بجائے الیکٹرانک ذرائع استعمال کر نے کہ ڈاکخانے سے بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ بھیجا ہو ؟ خدا کرے کہ وہ صدر صاحب کو مل جائے اور وہ بر طانوی اور پاکستانی عوام کی نظروں میں بطور صادق اور امین سرخرو ہوجائیں جس بری عادت کی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ راست گوئی وہاں کسی کو بھی پسند نہیں ہے۔ (خدا کاشکر ہے کہ یہ خبر آئی ہی گئی کہ انکا استعفیٰ مل بھی گیا اور قبول بھی کرلیاگیا۔ ہم انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں وہ خوش قسمت ہیں کہ اتنی جلدی انکا استعفیٰ منظور ہوگیا )۔
جبکہ بہت سو ں کے استعفے سالوں اٹکے رہتے ہیں؟ لہذاوطن ِ عزیز میں کوئی چٹھی، وی آئی پی، یا ٹرین کہیں وقت پرپہونچ جا ئے تو لوگ مبارکباد دینے ہار پھول لےکر جاتے ہیں ۔ اب تو پتہ نہیں ٹرین کے بارے میں؟ جب ہم 26سال پہلے وہاں تھے تو ایک لطیفہ بڑا مشہور تھا، اس پیسنجر ٹرین کے بارے میں جو کراچی سے پنڈی تک جاتی تھی، ہر اسٹیشن پررکتی ہوئی؟ چونکہ ہمارے یہاں وی آئی پی کلچر ہے اس لیے اسکے ساتھ عوامی ہونے کی وجہ سے عوام جیسا برتاؤ ہوتا تھا ۔ اسکو سائڈ لائین پر ڈال کرایکسپریس ٹرینیں پاس ہوتی رہتی تھیں اور وہ بیچاری صابر اور شاکر تھی لہذا وہ کبھی کہیں وقت پر نہیں پہونچتی تھی ۔ایک دن شہداد پور کے باشندوں نے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ وہ وقت پر پہونچ گئی تو وہاں کے لوگو ں نے یہ سوچا کہ اس میں نئے آنے والے اسٹیشن ماسٹر کا شاید کوئی دخل ہوگا، وہ مبارکباد دینے پہونچ گئے؟ مگر انہوں نے سچ بول کر ان کی غلط فہمی دور کردی کہ نہیں جی یہ تووہ ٹرین ہے جس کو کل آنا تھا؟ نوٹ۔ چونکہ لطیفہ ہے ہم اسکے سچ ہونے کی یقین دہانی نہیں کراسکتے ؟
پھر سوچا کہ چلو آج ساری خبروں کا تجزیہ کرڈالیں۔ جو اخبار جنگ میں چھپیں ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کو اردو کے دو اخبار ورثہ میں ملے تھے ۔ایک جنگ دوسرا انجام۔ جنگ زندہ رہا کہ دور اندیش تھا، انجام نے اپنی پرانی روش نہیں چھوڑی لہذا زیادہ نہیں جی سکا اس کے پہلے مالک عمر فاروقی مرحوم ناکام ہوئے پھر اسے انعام درانی صاحب نے خرید لیا جو کہ روہیلکھنڈی پٹھان تھے؟ کہاں خانصاحبی اور کہاں اخبار نویسی، وہ انکے ہاتھوں جلد ہی اپنے انجام کو پہونچ گیا ؟جبکہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں میرصاحب بھی عزت ِ سادات بچائے ہوئے کامیابی سے چل رہے تھے اور یہ انہیں کا جگرا تھا کہ اس میدان میں کامیابیوں پر کامیابیاں نسل در نسل حاصل کیں ؟ ہر وہ خبر معتبر سمجھی جاتی تھی جو جنگ میں چھپے ،جس طرح اکبر الہ آبادی مرحوم نے کبھی انگریزی اخبار پانیر کے بارے میں فرما یا تھا کہ خبر وہی جو پانیر میں چھپے؟ اس وقت انڈیا میں وہ معتبر سمجھا جاتا تھااور ابھی تک نکل بھی رہا ہے۔ چونکہ عرصے سے جنگ پڑھتے آرہے ہیں ۔لہذا آج بھی حسب عادت پہلے عالمی اخبار پڑھنے کے بعد پھر اسے کھولا ؟
وہاں ہم نے ایک دوسری خبر دیکھی کہ جس میں الطاف بھائی نے شکایت کی تھی کہ پہلے دن سے مہاجروں کو پاکستان میں قبول نہیں کیا گیا؟ ہم پھر سوچنے بیٹھ گئے کہ اس کو سچ مانیں یا اپنے ذاتی تجربے کو جھوٹ ؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے ابھی بھی ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کو انڈیا نے تسلیم نہیں کیا؟ جبکہ حقیت یہ ہے کہ اگر وہ نہ تسلیم کر تا تو آج اس کا ہائی کمشنر ہمارے یہاں اور ہمارا ہائی کمشنر اس کے یہاں کیوں ہوتا؟ ہمیں آزادی ایک دن پہلے ملی تھی جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے اس نے پاکستان کوتسلیم کیا؟ چونکہ ہم اسکے دعویدار نہیں جب کہ ہم سے کم عمر  کےلوگ آج کے دور میں قائد اعظم کے ساتھی بنے ہوئے ہیں اور اس کی بنا پر لال بجھکڑ کہلاتے ہیں؟ مگرہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ“ لیکر رہیں گے پاکستان کے نعرے لگا نے والوں میں ہم بھی شامل تھے“ لوگ اسوقت پوچھتے تھے کہ تم تو یہاں رہ جاؤگے تمہیں وہاں کیا ملے گا؟ کیونکہ اسوقت تک نہ کسی نے تبادلہ آبادی کا سوچا تھا ،نہ ہی کسی کے سامنے کوئی ذاتی خواہش تھی؟ جواب سب کا ایک ہی ہوتا تھا کہ جو ہندوستان کے مسلمانوں کا دیرینہ خواب ہے وہ پورا ہو جائے گا کہ ہمارے مسلمان بھائی آزاد ہو کر حسب ِوعدہ ایک مثالی اسلامی حکومت قائم کرلیں گے۔ جو دنیا کے لیے نمونہ ، مسلمانوں کے لیے فخر اور تقویت کا باعث ہوگی؟ ان کی طاقت ہماری طاقت ہوگی؟ ان میں سے کچھ پورے بھی ہوئے سوائے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کے ۔ کرتے کیا کہ حالات ایسے ہوگئے کہ پھر مسائل سے فرصت ہی نہیں ملی؟
لوگوں کو تبادلہ آبادی کرنا پڑا ؟ سب سے پہلا تو مسئلہ نئے ملک کو چلانے کا آیا تو تمام ہندوستان کے مرکزی ملازمین سے پوچھنا پڑا کہ تم کہاں خدمت کرنا پسند کروگے ۔تب بہت بڑی مسلم اکثریت نے پاکستان میں خدمت کرنے کو پسند کیا اور انہیں آپٹیز نام دیاگیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے بہ حسرت و یاس انہیں رخصت کیااور انہیں پاکستان میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا؟۔
جی ہمارا بھی چاہا کہ جاکر نئے ملک کی خدمت کریں مگر دل مار کے بیٹھ گئے کہ آبائی جائداد پاؤں کی بیڑی بنی ہوئی تھی؟ جب زمینداری انڈیا میں ختم کردی گئی کہ مسلمان زمیندار زیادہ تھے اور خاتمہ ان کے منشور میں شامل تھا۔ تو سبق زممینداروں نے بھی مشرقی پاکستان کا رخ کیا کیونکہ وہاں اس وقت پاسپورٹ نہیں تھاسرحدیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہاں انہیں نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ کثرت آبادی کے باوجود اپنے پاس جگہ دی ۔ جبکہ اس سے پہلے وہ ملازمین جنہوں نے پاکستان کی خدمت کرنا پسند کیا تھا ان کو ان وہ خوش آمدید کہہ ہی چکے تھے ۔ مغرب میں سندھ کی سرحد کھلی ہوئی تھی وہاں سے لوگ پاکستان آئے سندھیوں نے بھی خوش آمدید ایک کیا،کئی سالوں تک کہا لوگ اسٹیشنوں پر کھڑے رہتے کھانا لیے ہوئے؟ جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن جن کو میز بانی کاشرف حاصل ہوا ان سے سنا ضرور ۔ جبکہ ہم بعد میں بذریعہ بحری جہاز کراچی آگئے اور سندھ میں رہے اور میز بانی او ر بھائی چارے کو نہ صرف دیکھا بلکہ بھائیوں کی طرح برتا بھی۔
البتہ پنجاب کا معاملہ ذرا مختلف تھا کہ وہاں دونوں طرف پاکستان بنتے ہی آگ لگ گئی سرحدیں کھلی رکھناخطرناک تھا لہذا با قاعدہ تبادلہ آبادی اور تبادلہ ریکارڈ بھی ہوا۔ وہاں سے جانے والوں کی چھوڑی ہوئی جائداد آنے والوں کو ملی، زمینو اورگھروں وغیرہ میں آنے والوں کو ان کا استحقاق دیکھ کر آباد کردیاگیا؟ اب وہاں مہاجر نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہ ہی حال صوبہ سرحد کا ہوا کہ جو پٹھان ہندوستان کے کسی حصہ سے بھی آئے وہ اپنے قبائل میں ضم ہوگئے؟ اگر پاکستانی مہاجرین کوقبول نہ کرتے تو یہ کیسے ممکن تھا؟ ہمارے علم میں تو اس جی ایم سید کا یہ جرم بھی ہے کہ اس نے تمام ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کی تھی۔کہ اب سندھ صوبہ بن گیا ہم نے اپنی جان چھڑالی ہے؟ ہمارے مسلمان بھائی ہندوستان سے آکر یہاں سرمایہ کاری کریں اور ہماری مدد کریں۔ جب بہار میں فسادات ہوئے تو ان کو خوش آمیدید کہنے کے لیے ۔کراچی میں 1946ع میں بہار کالونی بنائی گئی جو ابھی تک موجود ہے۔
آگے ایک اعلان اورپڑھا وہ بھی روایتی تھا۔ کہ الطاف بھائی نے اعلان فرمایا ہے کہ وہ آج کے بعد ایم کیو ایم سے لاتعلق ہو جا ئیں گے۔ حیدر آباد یونیورسٹی کے سنگ بنیاد پر آخری خطاب فرمارہے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبر پڑھی کہ نائین زیرو پر کارکنان بے حد اصرار کے لیے جمع ہورہے ہیں ۔  جبکہ ہمیں امید تھی کہ وہ اس کڑے وقت میں کارکنوں کا مطالبہ ردنہیں کریں گے۔ اور اپنا استعفیٰ ضرور واپس لے لیں گے۔  (اللہ نے ہماری یہ دوسری آرزو بھی پوری کردی )
آج شاید قبولیت کادن ہے کہ ہماری دعائیں یا سوچیں پوری ہوئیں ۔ اب تیسری دعا مانگتے ہیں کہ شاید وہ بھی پوری ہو جائے کہ سارے مسلمان سچ بولنا شروع کردیں اس لیے کہ مخبرِصادق محمد مصطفیٰ (ص) نے جھوٹ کو گناہو ں کی جڑ قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ“ مسلمان میں ساری برائیاں ہو سکتی ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ ایک صاحب دربار رسالت میں پیش ہوئے جن میں ساری برائیاں تھیں؟ انہوں نے پوچھا کہ حضور (ص) پہلے کیا چھوڑوں! فرمایا “ جھوٹ“ انہوں نے وعدہ کرلیا ۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ بغیر جھوٹ کہ صرف بھلائی ہوسکتی ہے، برا ئی نہیں کیونکہ برائی کو چھپانا پڑتا ہے۔ لہذا وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوکرمتقی (رض) بن گئے۔ آئیے! دعاکریں کہ “اللہ ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری مصیبتیں دور ہوں “ ( آمین )

Posted in Articles | Tagged ,

آہ ! شاہ عبد اللہ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ نوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ حکم ہے۔ کہیں کہ “انا للہ وانا الیہ راجعون ہ  “ حدیثیں اور رواج یہ ہے کہ ہم دعائے مغفرت بھی کریں اور کہیں اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے (آمین )۔ اگر ہوسکے تو جنازے میں شرکت بھی کریں، نمازِ جنازہ بھی جو فرض کفایہ ہے اس میں شرکت کریں اور قبرستان جانے کا بڑا ثواب احادیث میں یا ہے۔ اس میں شاہ اور گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے؟ جبکہ یہ علم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہے کہ کون کیا ساتھ لے گیا کیونکہ اعمال کا جو وزن ہے، وہ نیتوں پر منحصر ہے لہذا ثواب کا فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ عمل میں کس قدر خلوص تھا، وہ خالصتاً اللہ کے لیے تھا یانہیں تھا۔ جس کا علم اس نے صرف اپنے ہی پاس رکھااور فرشتوں کو بھی عطا نہیں فرمایا ؟
البتہ یہ بتلادیا کہ حکمراں اگر مومن اورعادل ہو تو اس کی جگہ جنت الفردوس ہے۔ جو نبیوں (ع)، شہیدوں (ع) اور صدیقوں (ع) کا مقام ہے ۔اس کے برعکس اگر حکمراں ظالم اور جابر ہواتو عذاب بھی اسی حساب سے عظیم ترین ہے اور ہم نشین بھی اسے ویسے ہی ملیں گے جیسا کہ وہ خود ہوگا؟
ان کا دور حکومت دس سال رہا انہوں نے 80 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالااور نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
عمر کے اس دور کو قرآن نے وہ دور کہا ہے کہ جس میں انسان کی اکثرصلاحتیں قدرتی طور پرپر دم توڑدیتی ہیں ابن ِ کثیر ( رح)نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بہت بڑے حوالے سے لکھا ہے یہ عمر 72 سال سے شروع ہوجاتی ہے۔؟  اسے دیکھتے ہوئےان کا یہ کارنامہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بیس یونیورسٹیاں، لا تعداد کالج اور بتیس ہزار نئے اسکول دیے۔
اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے مسلم دانشوروں کی طرح مرض پہچان لیا تھا۔ کہ مسلم قوم کے زوال کی وجہ جہالت ہے اور جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا۔ قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔
ان سے پہلے کے بادشاہوں نے ملک اور بیرون ملک صرف مذہبی تعلیم پر زور دیا اور بیرون ملک بھی مذہبی اداروں کی ہی سرپرستی کی جس کامقصد ایک مخصوص مکتبہ فکر کو رواج دینا تھا جوکہ ہمیشہ دنیا میں باعث فساد ہوا اور کسی دور میں بھی پسندیدہ نہیں رہا، کیونکہ اس سے فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس شاہ عبداللہ کے دور میں یہ فرق پیدا ہوا کہ انہوں نے زیادہ زور علمِ دُنیا پر دیا۔ تاکہ ملک کی ضروریات کے مطابق ماہرین اورسائنسداں خود پیدا کر سکیں جوکہ ایک مثبت تبدیلی اور حکمت عملی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین اس فرق کو سمجھ کر انہیں کی پالیسی کو اور آگے بڑھا ئیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اور باقی دنیا کے مسلم حکمرانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی توفیق عطا ئے فرمائے (آمین)
کیونکہ یہ حکم بھی ہے اور کلیہ بھی ہے کہ موت کسی بھی انسان کی ہو انسان اپنی موت کو یاد کرلیا کرے اور اپنا احتساب بھی کرتا رہے؟ ایسے وقت میں جو گذ شتہ دور کے حکمرانوں نے کہا  یا کیاوہ مشعل راہ ہے؟ مثلاً سکندر اعظم نے یہ کیا کہ دنیا والوں کی عبرت کے لیے مرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ خالی کفن سے باہر رکھنے حکم دیا۔ سیف اللہ حضرت خالد (رض) بن ولید نے اپنا بدن لوگوں دکھایا کہ دیکھو موت اسی طرح آتی ہے اور اسی وقت آتی ہے جو وقت لکھاہوا ہے۔ میں ساری عمر شہادت کی آرزو میں لڑتا رہا جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں زخموں کا نشان نہ ہو مگر میں بسترِ مرگ پر اپنی جان دے رہاہوں۔ خلیفہ حضرت عبد العزیز (رح) جن کے دور کو کو خلافت راشدہ میں شامل کیا جاتا ہے ، انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے اپنا کفن منگوایا اور حاظرین کو دکھایا کہ دیکھو میں یہ ساتھ لیے جارہا ہوں؟ آہ ! شاہ عبد اللہ۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ نوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ حکم ہے۔ کہیں کہ ً انا للہ وانا الیہ راجعون ہ  ًاور رواج یہ ہے کہ ہم دعائے مغفرت بھی کریں اور کہیں اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے (آمین )۔ اگر ہوسکے تو جنازے میں شرکت کابھی کریں، نمازِ جنازہ بھی جو فرض کفایہ ہے اس میں شرکت کریں اور قبرستان جانے کا بڑا ثواب احادیث میں ہے۔ اس میں شاہ اور گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے؟ جبکہ یہ علم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہے کہ کون کیا ساتھ لے گیا کیونکہ اعمال کا وزن جو ہے، وہ نیتوں پر منحصر ہے لہذا ثواب کا فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ عمل میں کس قدر خلوص تھا، وہ خالصتاً اللہ کے لیے تھا یانہیں تھا۔ جس کا علم اس نے صرف اپنے ہی پاس رکھااور فرشتوں کو بھی عطا نہیں فرمایا ؟
البتہ یہ بتلادیا کہ حکمراں اگر مومن اورعادل ہو تو اس کی جگہ جنت الفردوس ہے۔ جو نبیوں، شہیدوں اور صدیقوں کا مقام ہے ۔اس کے برعکس اگر حکمراں ظالم اور جابر ہواتو عذاب بھی اسی حساب سے عظیم ترین ہے اور ہم نشین بھی اسے ویسے ہی ملیں گے جیسا کہ وہ خود ہوگا؟
ان کا دور حکومت دس سال رہا انہوں نے 80 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالااور نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
عمر کے اس دور کو قرآن نے وہ دور کہا ہے کہ جس میں انسان کی اکثرصلاحتیں قدرتی طور پرپر دم توڑدیتی ہیں ابن ِ کثیر نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بہت بڑے حوالے سے لکھا ہے یہ عمر 72 سال سے شروع ہوجاتی ہے۔؟ لہذاان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بیس یونیورسٹیاں، لا تعداد کالج اور بتیس ہزار نئے اسکول دیے۔
اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی اور مسلم دانشوروں کی طرح مرض پہچان لیا تھا۔ کہ مسلم قوم کے زوال کی وجہہ جہالت ہے اور جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا۔ قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔
ان سے پہلے کے بادشاہوں نے ملک اور بیرون ملک صرف مذہبی تعلیم پر زور دیا اور بیرون ملک بھی مذہبی اداروں کی ہی سرپرستی کی جس کامقصد ایک مخصوص مکتبہ فکر کو رواج دینا تھا جوکہ ہمیشہ دنیا میں باعث فساد ہوا اور کسی دور میں بھی پسندیدہ نہیں رہا، کیونکہ اس سے فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ان کے دور میں یہ فرق پیدا ہوا کہ انہوں نے زیادہ زور علمِ دُنیا پر دیا۔ تاکہ ملک کی ضروریات کے مطابق ماہرین اورسائنسداں خود پیدا کر سکیں جوکہ ایک مثبت تبدیلی اور حکمت عملی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین اس فرق کو سمجھ کر انہیں کی پالیسی کو اور آگے بڑھا ئیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اور باقی دنیا کے مسلم حکمرانوں کوتوفیق عطا ئے فرمائے (آمین)
کیونکہ یہ حکم بھی ہے اور کلیہ بھی ہے کہ موت کسی بھی انسان کی ہو انسان اپنی موت کو یاد کرلےا کرے اور اپنا احتساب بھی کرتا رہے؟ ایسے وقت میںجو گذ شتہ دور کے حکمرانوں نے کہا وہ مشعل راہ ہے۔ مثلاً سکندر ا عظم نے یہ کیا کہ دنیا والوں کی عبرت کے لیے مرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ خالی کفن سے باہر رکھنے حکم دیا۔ سیف اللہ حضرت خالد بن ولید نے اپنا بدن لوگوں دکھایا کہ دیکھو موت اسی آتی ہے اور اسی وقت آتی ہے جو وقت لکھاہوا ہے۔ میں ساری عمر شہادت کی آرزو میں لڑتا رہا جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں زخموں کا نشان نہ ہو مگر میں بسترِ مرگ پر اپنی جان دے رہاہوں۔ خلیفہ حضرت عبد العزیز جن کے دور کو کو خلافت راشدہ میں شامل کیا جاتا ہے ، انہوں اپنے انتقال سے پہلے اپنا کفن منگوایا اور حاظرین کو دکھایا کہ دیکھو میں  صرف یہ ساتھ لیے جارہا ہوں؟

Posted in Articles | Tagged , ,