عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ ہے۔۔۔۔شمس جیلانی

اللہ کو یہ بھی سخت ناپسند ہے کہ بندہ اللہ کا کہلائے اور عزت انسانوں سے چاہے؟ اگر تمام دنیا مل کر بھی عزت دینا چا ہے اور کسی کو اللہ عزت نہ دینا چا ہے تو وہ عزت نہیں حاصل کرسکتا؟تو اس کوشش کا کیا فائدہ کے لوگ غیر اللہ کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں؟ سورہ مریم کی آیت نمبر 96 دیکھ جا ئیے وہاں جا کر آپ کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کا پورا طریقہ کار مل جائے گا کہ کس طرح وہ اپنے بندو ں کو عزت عطا فرماتا ہے اور کس طر ح ذلت ۔ اس آیت کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ بے شک جو ایمان لائے ہیں اور نیک کام کیئے ہیں ان کے لئیے اللہ رحمٰن محبت پیدا کردیگا (96)اس کی تفسیر میں ابن کثیر ؒ کئی احادیث لائے ہیں فرمان ہے کہ” توحید جن بندوں کے اندررچی ہوئی ہے اور ان کے اعمال میںاس کا نور ہوتا ہے ضروری بات ہے کہ (ان کے لئے ہم اپنے بندوں کے دلوں میں محبت پیداکردیں)۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ جب کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے توحضرت جبرئیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں اس بندے سے محبت کرنے لگا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ۔اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت کرنے لگا تم بھی اس سے محبت کرنے لگو لہذا کل فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔جب کسی بندے سے اللہ ناراض ہوتا ہے توحضرت جبرئیل ؑ کو بلاتا ہے فرماتا ہے کہ میں اس سے ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ (تب) حضرت جبرئیل بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں پر ندا کردیتے ہیں کہ فلاں بندہ دشمن ِالہٰی ہے تم بھی اس سے بیزار رہنا لہذا آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر پھیلتی ہے(بخاری اور مسلم وغیرہ)
پھر آگے چلکر وہ مسند احمد سے ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہوجاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ عز جل جبرئیل سے فرماتا ہے فلاں بندہ مجھے خوش کرنے کی کوشش کر رہا میں اس سے خوش ہوگیا ہوں میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنا شروع کردیں۔اسی مفہوم کی دو احادیث ابن کثیر نے ؒ اور بھی بیان کی ہیں جن کو میں طوالت کی بنا پر نہیں دہرارہا ہوں۔ اس اس پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ“ پس مطلب اس آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے بندے سے اللہ خود محبت کرنے لگتا ہے اور زمین پر بھی ان کی مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ نیک بندے بھی ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کاذکر ِ مرنے کے بعد بھی باقی رہتا ہے جبکہ حضرت حرم بن حیانؒ کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے۔ جبکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ بندہ جو بھلائی یا برائی کرتا ہے وہی چادر اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو اوڑھا دیتے ہیں۔ یہیں ابن کثیر(رح) ایک حکایت اور بھی لائے ہیں جو کہ حضرت حسن بصریؒ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے سوچا کہ وہ دن و رات اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارے گا تاکہ لوگوں میں مقبول ہوجا ئے؟ وہ مسجد میں سب سے پہلے پہنچتا اور سب سے بعد میں جاتا،اسی طرح اسے سات ماہ گزرگئے مگر ہرایک کو کہتے سنا کہ ریاکار ہے اس کے بعد اس نے ریاکاری کے خیال سے تو بہ کی اور اس نے کہامیں آئندہ ہر کام صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کرونگا؟ تھوڑے ہی دنوں کے بعدلوگ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے کہ وہ واقعی اللہ والا ہوگیا ہے اور پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی؟ ان تمام باتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی کہ عزت اور ذلت اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے،نہ فرشتوں کے ہاتھ میں ہے نہ ستاروں کی رہین منت ہے نہ ہی کسی ملک کے صدر یا بادشاہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں اردوکا یہ محاورہ بھی غلط ہوجاتا ہے کہ “ انسان چار آدمیوں سے بھاری ہوتا ہے چار پیسوں سے نہیں؟ جبکہ حققت یہ ہے کہ مومن صرف اللہ کی رضا سے عزت دار ہوتا ہے اور جب بھی سوچ میں فرق آجائے تو اللہ سبحانہ اپنی توجہ بھی واپس لے لیتا ہے، حتیٰ کہ وہ کچھ بھی نہیں رہتا؟لہذااگر عزت چاہتے ہو تو بھلے کام کرواور وہ بھی خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئے سب کچھ خود بخود مل جا ئے گا۔رہی ریاکاری یاکسی اور مقصد کے لئے اچھے کام؟ اس کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ریاکاری کا روزہ، روزہ نہیں، ریاکاری کی نماز، نمازنہیں،ریاکاری کی خیرات، خیرات نہیں۔ماضی میں مومنین خصوصاً ہندو پاکستان میں تو بہت سے پسندیدہ بنے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی مقبولیت عطا فرمائی خصوصاً پاکستان میں اور جب انہوں نے وعدہ خلافی کی تو سب کچھ اللہ تعالیٰ نے واپس لے لیا۔لیکن حال میں مثال یہ ہے کہ عمران خان کوجنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ پہلے بے انتہا مقبولیت اور عزت وعظمت عطا فرمائی اور جب وہ وعدے پورے نہیں کر سکے تواس نے سب کچھ وآپس لے لیا؟ لہذا ان کی جگہ جو بھی ان کی جگہ آئے وہ یہ سوچ سمجھ کر آئے کہ یہ کرسی یعنی پاکستان کی وزارت عظمیٰ کانٹوں سیج بھی بن سکتی ہے پھانسی کا پھندہ بھی بن سکتی ہے جبکہ دارا اور ذوالقرنین بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے بنا سکتا ہے کیونکہ عزت اور ذلت صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ ان سے خوش رہتا ہے جو لوگ اس کی خوشنودی کا کام کرتے ہیں؟ ان سے نہیں وہ جو اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ یا ریاکاری کے لئے بھلائی کرتے ہیں کہ ان کو لوگ کو حاتم طائی ثانی کہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہر مومن کوغیر اللہ کی خوشنودی سے کام کرنے سے بچائے جس سے سوائے ذلت اوررسوائی کے کچھ نہیں ملتا؟ (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

مقصدِرمضان حصول ِ تقویٰ۔۔۔۔شمس جیلانی

اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ رمضان کا مقصد حصول ِتقویٰ ہے وہ شروع بھی ہوچکا ہے اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ رمضان میں شیطان قید کردیا جاتا ہے؟ میں سوچ رہا ہوں کہ پھر یہ شیطانی کام ٓ آج کل کون کر رہا جو د دنیا میں پہلے سے زیادہ زور شور سے ہر برائی جاری رکھے ہوئے ہے اصولاً تو ہر برائی بند ہو جانا چاہیئے تھی؟ میں نے تلاش کیا اس کا جواب بھی قرآن سے ہی ملتا ہے کیونکہ مہنگائی عروج پر ہے اور حد سے بڑھا ہوامنافع حرام ہے، اسی طرح اس مقصد کے لئیے ذخیرہ اندوزی جو کی گئی تھی حرام ہے۔ چونکہ اب یہ کام انسانوں میں جو شیطان ہیں وہ کر رہے ہیں اور زیادہ زور شور سے کر رہے ہیں؟ جب سورہ الناس کانزول ہوا تو اللہ سے پناہ مانگنے کا شیطانوں کے ساتھ ساتھ انسانی شیطانو سے بھی پناہ مانگنے کا حکم ہوا تو صحابہ ؓ کرام نے پوچھا کہ حضور ﷺ انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں توحضور ﷺ نے جواب دیانعم! یعنی ہاں۔ اب آپ نگاہ دوڑائیے کہ یہ کام کس کا تھا کون اس کے خلاف اپنی تحریک نہ چلا کر اپنے فرائض ادا نہیں کر رہا ہے؟ میں اس طبقہ کا نام نہیں لونگا تحقیق کرکے یہ معلوم کرنا آپ کا کام ہے۔ ہاں میں یہ ضرور کہونگا کہ اس حلقے کی طرف سے ابھی تک کوئی اپیل نہیں آئی کہ بھائیوں یہ کام چھوڑدو حرام ہے اس سے کی ہوئی کمائی بھی حرام ہوگی نہ اس کمائی سے رکھے روزے ادا ہونگے نہ زکات ادا ہوگی نہ تو اس سے مسجد بن سکے گی نہ مولوی اور موذن صاحبان کی تنخواہ ادا ہو سکے گی کہ سب لو گ یہ جان کر کہ حرام آمدنی ہے لینے سے انکار کر دیں گے؟ تو پھر تم ایسے پیسہ کیاکروگے کیا کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایسے پیسے یا اس سے، نیاز یا افطاری کے جاری دستر خوان قبول نہ کرنیکا شروع سے ہی اعلان کر کھا ہے لہذا اپنے مالوں کو حرام نہ بنا ؤ جو تمہارے کسی کام نہ آسکیں؟اگر مسلماں اللہ کی یہ بات مان لیں تودنیا سے ساری برائیاں اٹھ جائیں مگرمشکل یہ ہے کہ یہ اللہ کو مانتے ہیں اس کے احکامات کو نہیں مانتے؟ کچھ سو چیئے تو سہی کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟اللہ ہمیں ہدایت عطا فرما ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

یہ بھی انسان ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں وحیوش۔۔۔۔شمس جیلانی

چند روز پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مقام پتوکی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ انسان تو کیا اسے دیکھ کر شاید دنیا بھر کے وحشی بھی شرما گئے ہونگے کہ اتنی بے حسی جہاں پتوکی کے باشندوں نے دکھائی کے وہ درندوں سے بھی ممکن نہیں تھی۔ویسے تو یہ لوگ پنجاب کے مشہور جنگل چھانگا مانگا کے ہمسایہ ہیں شاید اجدادکا جذبہ عود کر آیا ہو؟ مگر اب تو ایک اچھا خاصا شہر ہے جہاں کبھی پاکستان کے ایک سابق وزیر آعظم نے اس ڈر سے پچاس ساٹھ سال پہلے اپنے کچھ خریدے ہوئے ووٹر لیجاکر وہاں مہمان رکھے تھے تب اس کو دنیا میں پہلی مرتبہ شہرت حاصل ہوئی تھی۔ جبکہ اس سے پہلے وہ شیشم کا جنگل تھا جسے پنجابی زبان میں ٹالی کہتے تھے جس کی لکڑی فرنیچر بنانیکے کام آتی تھی اور اب اس کا درخت ایک لاکھ سے بھی زیادہ قیمت پاتا ہے بشرط کہ وہ کہیں مل جائے؟۔ مگر اب وہ عام طور پر نہیں ملتاہے۔ برا ہوا رشوت خوری کا کہ وہ درخت آہستہ آ ہستہ غائب ہوتے چلے گئے اور اس کے ہمسایہ مالدار؟ ہم نے ستر سال پہلے اسے دیکھا تو وہ واقعی جنگل تھااور بڑا آرگنا ئز جنگل تھا کیونکہ انگریز حال میں ہی گئے تھے اوراسے ایسا بنا کر چھوڑ گئے تھے؟اچونکہ دولت ہمیشہ برائیاں لاتی ہے اور دولت کی آمد اس سے ثابت ہے کہ وہاں شادی ہال بن گئے؟اور توجہ پتوکی نے ایک مرتبہ پھر مبذول جب کرائی جو کہ میڈیا کے لیئے پورے کوریج کی تمام دنیامیں مستحق بنی کہ وہا ں ایک پاپڑ بیچنے والے کو اس کی موت شادی ہال کھینچ لائی اور شادی ہال میں ہی واقع ہوئی ؟براتیوں کو شاید یہ برا لگا کہ انہیں اس نے اتنا گھٹیا کیوں سمجھا کہ ہم پاپڑ کھانے والے لوگ ہیں اور اس طرح اس نے ہماری توہین کی؟ غالبا“ اسی بات پر تو تو میں میں ہوئی چونکہ اس سے پہلے کی کوئی گواہی نہیں ہے یہ پتا نہیں چلا کہ وجہ تنازع کیا تھی شہادت یہاں سے ملتی ہے کہ ایک راہ گیر نے اسے تھڈے کھاتے دیکھا پھر میڈیا نے اس کی لاش پڑی ہوئی دیکھی کہ اتنے میں کھانے کا اعلان ہوگیا اور لوگ حسب عادت کھانے پر ٹوٹ پڑے حالانکہ لاش کھانے والوں کو دیکھتی رہی لیکن کھانے والوں نے اپنے کام سے کام رکھا؟ اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی؟ اس کے بعد کیا ہوا وہ خبر آگے اس لیئے نہیں بڑھ سکی کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں رہی اورجنہوں نے کچھ کرنے کے احکامات دیئے تھے وہ حکمراں ہی متنازع ہوگئے۔ چونکہ میڈیا کو خبر کی سنسنی خیزی سے دلچسپی ہوتی وہ باقی نہیں رہی لہذا آگے کسی نے کچھ نہیں لکھا کہ کیا ہوا؟ مگر یہ واقعہ بے حسی کا ریکارڈ قائم کر گیا کہ وہاں ایسا بھی ہوتا ہے لہذا قارئین انتظار فرمائیں کے کوئی حکومت آجائے تویہ معاملہ بڑھے آگے بڑھے اور اس سلسلہ میں تازہ ترین خبریں آنا شروع ہوں۔تو پڑھنے کو ملیں؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

ہرایک کو دعا دینے کے لئیے ہاتھ نہ اٹھا ؤ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ جانے ہمارے یہاں یہ تصور کہاں سے آیا کہ کسی فقیرکو کسی شاہ صاحب کو حتیٰ کہ روحانی دوکاندارسے بھی جاکر کہوکے وہ دعاکردیں اور پھراس دعا سے لوگ امید بھی ر کھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ معاف کر دیگا یا ان کے کہے سے وہ کام کردے گا؟ چاہیں وہ چور بازاری کر رہا ہوں، زخیرہ اندوزی کر رہا ہو یا دکھا وے کی عبادت کر رہا جس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمادیا کہ “ یہ ہم میں سے نہیں ہے یادوسری حدیث میں یہ فرما دیا کہ“ ریاکاری کی نماز نہیں،ریاکاری کا روزہ،روزہ نہیں، ریاکاریکی خیرات، خیرات نہیں ًیہ تصور قطعی غلط ہے اور جو واقعی اہلِ اللہ ہیں وہ ہرایک کے لئیے ہاتھ بھی نہیں اٹھاتے بلکہ کوئی اور پتہ بتا دیتے ہیں کہ وہاں چلے جاؤ تمہارا کام ہوجائیگا یہ اکثر زیادہ تر تو تنزیہ ہوتا ہے یا ان کو کشف سے کچھ معلوم جاتا ہے؟ اس لیئے اللہ والے ہر آنے والے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے اور نہ انہیں اٹھا نا چاہیئے؟ اگر اٹھائیں بھی تو دعا یہ ہونا چاہیئے کہ اے اللہ تو اس کو ہدایت دے اور توبہ کی توفیق عطا فرما تاکہ اسکا دل پلٹ جائے اور وہ نیک بندوں میں شامل ہوجا ئے؟ یہ میں اس لیئے عرض کر رہا ہوں کہ اگلا مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جو کہ عبادت کا مہینہ ہے تمام برائیاں چھوڑ کرخود کو گناہوں سے توبہ کرکے پاک کر لینے کا مہینہ ہے۔یہاں حضور ﷺکی ایک حدیث ہے کہ وہ ہلاک ہوا جس کے سامنے میراﷺ نام آیا اور اس نے درود نہیں پڑھی، دوسرے وہ جس نے رمضان کا آخری عشرہ بھی گزار دیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مغفرت نہیں کرالی؟ اور تیسرا وہ جس کو ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک نصیب ہو اور اسے نے اپنی مغفرت کی دعا نہیں کرالی۔ اب یہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ جو ان کے پاس دعا کے لیئے آئیں تو کہیں بیٹا رمضان کا مہینہ بخشش کا مہینہ ہے اس کی رحمت جوش میں آئی ہوئی میں دعا جب کرونگا کہ تم صدق دل سے تو بہ کرلو! اور اللہ سے اس پر استقامت کی توفیق کی در خواست کرو تاکہ ثابت قدم رہ سکو؟ پھر دعا کے لیئے ہاتھ اٹھاؤ؟ تب تمہارے ساتھ میں ہاتھ اٹھاؤنگا ورنہ نہیں کوئی اوردر دیکھو؟ کیونکہ ملت ابراہیمی میں تو یہ رواج تھا جو سورہ مریم میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے مگر آخر میں دوسری جگہ قرآن میں ہی امت محمدﷺیہ کے لئے حضور ﷺکو بھی جوکہ رحمت اللعالمین ہیں حکم دیدیا گیا تھاکے آپ ﷺکافروں کے لیئے دعا ئے مغفرت نہ فرمائیں؟لہذا امت دعائے ہدایت تو کرسکتی ہے مگر دعائے مغفرت نہیں کرسکتی ہے؟ ہاں اگر آپ کسی غیر مسلم کو مشرف بہ اسلام کرلیتے ہیں تو آپ اس کے لیئے جو چاہے دعاکر سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں اس حد تک احتیاط رکھی ہے کہ قر آن میں ایک دوسری آیت میں شفاعت کرنے والوں کو بھی خبر دار فرمایا ہے کہ “وہ بات بھی معقول کہیں “ اس سے بات واضح ہوگئی ہے کہ جنکو شفاعت کرنے کی اجازت ہو گی وہ مشروط ہوگی کہ بات معقول بھی فرما ئیں؟ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کا نامہ اعمال سادھا ہو اور وہ پیر صاحب کی خدمت میں یا والدین کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کرالیں۔ اور گناہ ان کے معاف ہوجا ئیں اور رمضان گزرتے ہی وہ اس سے بدتر ہوجا ئیں جو کہ پہلے حالت تھی؟ جبکہ رمضان کا مقصد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ تم متقی ہوجاؤ؟ اس کے لیئے اللہ نے وہ ماحول پیدا کردیا ہے اور ہمیں حکم بھی دیا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا ؤ جو کہ ایک آیت میں ہے کہ تبلیغ حکمت کے ساتھ یعنی لوہے کو جب بھی اللہ کی طرف موڑنے کی کوشش کرو کہ وہ اسلام کے لئے نرم ہوچکا ہو۔ انشا اللہ تبلیغی ذہن رکھنے والے لوگ کوشش کر کے دیکھیں کامیابی ہوگی؟ ورنہ یہ مہینہ بھی پہلے مہینوں کی طرح گزر جا ئے گا اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اس مہینے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)ہ

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

اپنے اعمالِ صالح خود ضائع کرنے والے لوگ؟۔۔۔ شمس جیلانی

یں نے اس مرتبہ جان کر یہ مضمون آپ کے سامنے پیش کیا ہے کہ اپنے اپنے حلال مالوں سے بھی سب ہوشیار رہیں کہ اگلا مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں ہر ایک کچھ نہ خرچ کرنا چاہتا ہے۔ جس کاثواب بشرطِ خلوص جہاں بے حساب ہے وہیں دینے والے کی ذراسی غلطی پر کچھ بھی نہیں رہتاہے۔ اور قیامت کے دن اس کا حال ایک آیت کے مطابق یہ ہوگا جیسے کہ ً پیاسے کو دورسے ریت کا سراب پانی سے بھرا تالاب نظر آتا ہے۔ جبکہ پاس جائیے تو اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ہمارے یہاں مانگنے والے رمضان کو کمانے کا موسم کہتے ہیں۔ جہاں فقیروں کی چاندی ہوتی ہے وہیں پیشہ ور فنڈریزرس کی بھی چاندی ہوتی ہے اور وہ لوگ دور دور سے کرائے پر بڑے بڑے معاوضے پربلا ئے جاتے ہیں جو جتنی بڑی شہرت کے مالک اپنے اس فن میں ہوتے ہیں؟ اور وہ لوگ ایسے سبز باغ دکھاتے ہیں کہ حاضرین اور خاص طور سے بہنیں اپنے ہوش و ہواس کھوبیٹھتی ہیں مال اور زیورات دیتے وقت اس بارے میں اپنے شوہروں تک سے پوچھنے کی زحمت نہیں کرتیں جوکہ آگے چل گھریلو تلخیوں کا باعث ہوتے ہیں؟
سورہ الکہف کی آیت نمبر102 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ سخت بیزاری سے ارشاد فرما رہا ہے کہ ” کیا گمراہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میرے ہی غلاموں سے مدد لیکر وہ جنت میں پہنچ جا ئیں گے؟ میں نے ان کے اور ان کے لئیے معبودوں کے لیئے دائمی جہنم بناکر تیار کرکھی ہے؟ متعدد حدیثوں میں یہ مضمون آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ صرف میرا طریقہ صراط ِمستقیم ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک آیت اس کے بارے میں نازل فرما کر اس پر مہر ثبت کردی ہے کہ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺ کے اسووہ حسنہ میں نمونہ ہے؟ لہذا طے شدہ بات یہ ہے کہ جو کام اللہ کے حکم اور اس کے نبی ﷺ کے بتا ئے ہوئے طریقہ پر انجام دیا جا ئیگا وہی قیامت کے دن قابل ِ قبول ہوگا۔ جبکہ نبی ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ شیطان اس سے مایوس ہوچکا ہے کہ میری امت بتوں کی عبادت کرے گی لہذا اس نے دوسرے نمونے تیار کر رکھے ہیں جو کہ زیادہ تر ریا کاری یعنی دکھاوے پرمشتمل ہیں؟اور اس کی راہ میں خرچ کرنے والے یہ قیاس کررہے ہونگے کے ہم نے بہت بڑی رقم دیکر بہت بڑا ثواب کمایا ہے لیکن وہا ں جب نامہ اعمال کھلے گا تو سوائے صفر کے کچھ نہیں ہوگا؟ فرشتے کہیں گے کہ باری تعالیٰ یہ تو ہر وقت تیری عبادت میں مصروف رہا،تیری راہ میں خرچ کرتا رہا، تو جواب میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما ئے گا کہ اس نے اس میں میرے غلاموں کو بھی شریک کرلیا تھا کہ وہ آج کے دن میرے یہاں سفارش کریں گے اور میں شراکت پسند نہیں کرتا لہذا میں نے سب انہیں کے کھاتے میں ڈالدیا ہے ان میں سے کچھ بھی مجھے قبول نہیں تھا؟یہ غلطی بہت پکے مسلمانوں سے بھی اتنی ہوجاتی ہے! کہ انہیں خود کو معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں غلطی ہوئی کہ جو کچھ انہوں نے دیا اللہ تعالیٰ طرف سے رد ہوتا چلا گیا اور وہ جان بھی نہ سکے کہ حرام کے مال پر تو جہنم ہے ہی ہے ان کی حلال کی کمائی بھی محض اس وجہ سے ضائع ہوگئی کہ یا تو حضورﷺ کے بتا ئے ہوئے طریقہ پر نہیں کی اور یاریاکاری اور شرک کے باعث وہ مقبول ِ بارگاہ الہٰی نہیں ہوئی اور وہا ں جمع کچھ نہیں ہوا۔ مومن عقلمند وہ ہیں جو کہ حضور ﷺ کی ہدایت کے مطابق اس پر عمل کرتے ہیں کہ جو سیدھے ہاتھ سے اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے اپنے الٹے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔ یہاں بہت سے لوگ یہ کہیں گے کہ اس امت کی بھول چوک تو معاف ہے اور اللہ بڑا رحیم ہے؟ یہ دلاسہ اکثر پیشہ ور فنڈ ریزر استعمال کرتے ہیں؟ جبکہ کسی کام کو جانتے ہوئے کرنا بھول چوک نہیں ہوتاہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں بار بار ذکر کرچکا ہے کہ میں کسی قسم کا شرک قبول نہیں کرتا، جو کام بھی کرو خالص میرے لیئے ہو،اس میں کوئی اور شریک نہ ہو؟ مزید احتیاط کا تقاضہ اور اس کا حل یہ ہے کہ فند ریزنگ کرنابھی ہے تو اعلان اس طرح ہوکہ ایک بھائی یا بہن نے اتنی رقم دی مگر وہ اپنانام ظاہر کرنا نہیں چاہتے؟ مگر کبھی کوئی کسی فنڈ ریزنگ میں جا ئے تو سیکڑوں نہیں ہزاروں میں ایسے صرف ایک دو اعلان ملیں گے؟ نینیانوے فیصد ناموں کا اعلان با قاعدہ ہوتا ہے اگر اعلان کرنے والا نہ بھی چاہے تو بھی اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ تمہیں اس کا ثواب ملے گا جتنے لوگ تمہارا اعلان سن کر مال دیں گے؟ اور وہ شرما حضوری میں اعلان کرنے کی اجازت دیدیتے ہیں کہ اتنا بڑا عالم جو کہہ رہاہے وہ غلط تھوڑی کہہ رہا ہوگا؟ یہاں ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ اگر کوئی زبردستی اعلان کر بھی دے اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے تو ایک شرط ہے جو آپ کی خیرات کو ابھی بھی بچا سکتی ہے کہ اعلان سننے کے بعد آپ کو خوشی محسوس نہ ہو؟ جو کہ انتہائی مشکل عمل ہے۔جب یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شرک کی سختی سے مذمت کی تو صحابہ کرامؓ جیسے لوگ کہنے لگے کہ ہم خودکواس سے خوشی کو بھی محسوس کرنے سے نہیں روک سکیں؟ تو حضور ﷺ نے جواب دیا کہ پھر اپنا ٹھکانہ جہنم بنالو؟ اب آخری بات کرکے میں بات ختم کرتا ہوں اور مسئلہ ہے رمضان شریف میں مانگنے والوں یعنی پیشہ ور فقیروں کی یلغار؟ ویسے بڑے شہروں تو وہ ہمیشہ رہتی ہے۔ اس موقعہ پر مہمان فقیر بھی بہت آجاتے ہیں۔ اور یہ ویسے تو ایک نیٹ ورک بن گیا جو پولیس سے ملکر بنتا ہے۔ اس میں“ ٹھیئے “بکتے ہیں جیسی جگہ ویسا کرایہ ٹھیکیدار لیتا ہے۔ ہے جب ہم کو یہ سب معلوم ہے پھر بھی انہیں دیتے ہیں بتائیے جانتے ہوئے اگر مال گٹر میں ڈال رہے ہیں تو وہ بھلا راہ خدا میں کیسے شمار ہوگا؟ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے آپ دیتے ہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ“ دکھاوے کی عبادت کوئی عبادت نہیں روزہ روزہ نہیں، نماز، نماز نہیں خیرات نہیں ً“اس کا حل بھی وہی ہے کہ جولوگ زکات کے مستحق ہیں ان کو تو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمادیا ہے اور ترتیب بھی بتادی ہے۔ کہ نزدیکی عزیز پہلے۔ پھر یتیم۔ پھر مساکین اور اس بعد مسافر ان میں اور تو سب واضح ہے مگر مساکین کی توضیح ضروری ہے کیونکہ اردو میں مسکین ہر غریب کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو آپ جانتے ہیں یا آپ کے دور یا قریب کے رشتے دار ہیں آپ کو پتہ ہے کہ ان کی آمدنی اتنی نہیں ہے کہ ان کا با خوبی گزارا ہوجا ئے انہیں جتانا ضروری نہیں اسطرح دیجئے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے اور نہ ان کی مشہوری کریں اس طرح آپ کے پاس رقم بچے گی ہی نہیں کہ کسی مانگنے والے کو دینے کا سوال پیدا ہو۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوالی آپ کے دروازے سے خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چا ہیئے۔ یہ اس دور کا حکم تھا جب پیشہ ور سوالی نہیں بلکہ ڈھونڈے سے بھی سوالی نہیں ملتتے تھے۔ اب جبکہ پیشہ ور بھکاری موجود ہیں تو آپ یا میں یا کوئی اور کہاں تک احتیاط کریگا کہ کوئی خالی ہاتھ واپس نہ جائے ؟اسے کہنا ہی پڑیگا کہ بابا معاف کرو۔ مگر نرمی سے کہیئے بد تمیزی سے نہیں جو حکم ہے؟ ممکن ہے اس میں آپ کسی ضرورت مند کو نہ دھکار دیں۔ ہمارے یہاں ایک اور بھی چیز ہے جسے صدقہ کہتے ہیں یاد رکھئے صدقہ ہر اس خیرات کوکہتے ہیں جو آپ جتنا چاہیں اپنی آمدنی سے خرچ کریں مگر راہ خدا میں خرچ کرنے کے قائدے وہی رہیں گے کہ دکھاوا نہیں،،کسی اور کو خوش کرنا بھی نہ ہو۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

نیکی کر اور کنوئیں میں ڈال۔۔۔ شمس جیلانی

یہ بڑی مشہور کہاوت ہے کہ نیکی کر اور کنوئیں میں ڈال۔ کچھ لوگ اسے اس طرح بھی کہتے ہیں کہ نیکی کر اور دریا میں ڈال۔ مگر میں نے اس کی پہلی شکل اختیار اس لیئے کی ہے کہ اس میں گہرائی زیادہ ہے جبکہ دریاوالی بات میں وہ بات پیدانہیں ہوتی کیونکہ اس میں ہر چیز تیرتی ہوئی سامنے نظرآ تی ہے اور جاتی ہوئی بھی نظر آتی ہے۔ جبکہ کنوئیں میں اندھیرا ہوتا ہے اس میں پھینکنے کے بعد اس کے پھینکے والے کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ وہ چیزکہاں گئی اوراس کا حشر کیا ہوا؟ اگروہ کسی کو جتانا بھی چاہے یا فوٹو سیشن کرانا چاہے جو کہ آجکل عام رواج ہے تو وہ کچھ کرا نہیں سکتا اور جو فعل مشہوری کی خواہش کے نتیجہ میں ریاکاری میں آتا ہے اورجس کا ثواب نہیں ہے اس سے وہ بچا رہتا ہے جبکہ جتانا اس بھی زیادہ بدتر ہے اس سے اس کو اذیت بھی پہنچتی ہے اور اس کی عزت نفس بھی مجروع ہوتی ہے۔ چونکہ میں ہر معاملہ میں دینی تقاضوں کو ترجیح دیتا ہو ں لہذا میں نے کنواں منتخب کیا۔ ہمارے یہاں سیدھا ساایک اصول ہے کہ ہر وہ نیکی جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی خوشنودی کے علاوہ کوئی اور بھی مقصد شامل ہوجا ئے۔ تووہ نیکی ضائع ہوجاتی ہے اس کے برعکس جو کام اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بتا ئے ہوئے طریقہ پر اس کے حدود کے اندر رہتے ہوئے جسے عرف عام میں اسلام کہتے ہیں ،کر رہے ہیں تو اگر آپ خود بھی کھا رہے ہیں،ہمسایہ کو بھیج رہے ہیں یا دوستوں اور عزیزوں کو بھیج رہے ہیں تو بھی، اور قریبی عزیزوں کو کھلا رہے ہیں مثال کے طور پر بچوں بیوی وغیرہ کوکھلارہے ہیں تو دہرا ثواب ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہو حلال۔ حرام خود کھانا سوائے مجبوری کے یااور وں کو کھلانا گناہ ہے اس میں تھوڑا سا اختلاف ہے کہ اتفاق سے کوئی مہمان آگیا تو میزبان اسے کھانے شریک کرسکتا ہے ؟تو جواب اثبات میں ہے کہ حضور ﷺ نے اجازت عطا فرمائی کہ اس نے مجبوری میں اپنے کھانے کے لئیے حاصل کیا تھا اب وہ اس کی ملکیت ہے؟۔ جبکہ کوئی دوسرا مقصد شامل ہوجا ئے مثلاً جیسے کہ ووٹروں کو روزہ افطا کرانا بہت بڑا ثواب ہوتے ہوئے اب ثواب نہیں رہا کیونکہ اس میں غیر اللہ شامل ہوگیا؟ حالانکہ وہ سب شرطیں پوری کرتاہو کہ مال بھی حلال ہے اور رمضان شریف میں روزہ کھلوانا مقصد ذاتی ہے لہذا گناہ ہے؟ چونکہ اس میں غیر اللہ شامل ہوگیا لہذا یہاب شرک ہے جوکہ قابل ِ معافی ہی نہیں ہے؟ اسی طرح زمینوں پر قبضہ کرکے جو پاکستان میں پہلا قدم ہو تا ہے پہلے اس پر مسجد بناتے ہیں اور نیک کام سمجھتے ہیں ثواب نہیں گناہ ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ جو کسی کی زمین پر نا جائز طریقہ سے قبضہ کرے قیامت کے دن اسے اپنے کاندھے پر لادھ کر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے لانا ہوگا یہ ایسا گناہ ہے جسے کرنے والے کایہاں تو گناہ ہے ہی ہے جس کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں وہاں مسجد کو لوگوں سامنے اٹھا کے لانے میں جس ذلت سے وہ دوچارہوگا وہ میں ہر ایک کے سوچنے کے لئے چھوڑ تا ہوں۔ جبکہ اسے وہ نمازی دیکھ رہے ہونگے جو کے اس کی بنا ئی ہو ئی مسجد میں یہاں نماز پڑھ کر وہاں گئےہونگے؟ البتہ جو اللہ ہی کوئی نہیں مانتا وہ قیامت کو کیا مانے گا؟ اب آپ حرام کو اور آگے لے جائیں گے تو آپ کے اپنے چاروں طرف حرام ہی حرام نظر آئے گا۔ اگر آپ کہیں ملازم ہیں اور رشوت لے رہے ہیں وہ تو ہے ہی ہے حرام۔ اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کر رہے ہیں اس کے علاوہ آپ جو اس سے اس وقت کی اجرت لیں گے جس میں بیٹھ کر دوست یا کلائینت کو چائے پلائی ہے وہ اجرت حرام ہوگی۔ یا خود مالک بارہ بجے تک سوکر اٹھے گا کر تو چونکہ اس نے اپنے فرائض احسن طریقہ سے ادا نہیں کیئے تو اس آیت کی خلاف ورزی ہوگی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عدل اور احسان کرنے حکم دیتا ہے۔ ہمارے یہاں عدل کے معنی بھی اردو میں اور احسان کے معنی بھی اردو میں لیتے ہیں اگر آپ اس کے معنی اسی زبان لیں گے جس میں کہ یہ قرآن شریف آئی ہے تو بہت وسیع ہیں۔ اگر پوری امہ اس کے معنوں کا خیال رکھے اور حضور ﷺ کی ایک ہی حدیث کو مضبوطی سے پکڑ لے کہ ً جو اپنے لیئے چاہو وہی اپنے بھائی کے لئیے چاہو ً تو آپ کا دعوت میں بڑی بری بوٹیا ں چھانٹ کے اپنے سامنے رکھنے سے ہاتھ خود بخود رک جا ئیگا؟ اور اگر صرف سر ہلا کر چھوڑ دیں گے تو کوئی بات ہی نہیں ہوگی۔ لکھنے تو اس موضوع بہت کچھ ہے؟ مگر سنتا کون ہے۔ کیونکہ ہم مانتے تو سب کو ہیں؟ مگر مانتے کسی کی نہیں ہیں؟
اللہ ہم سب کو ہدایت دے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

چند آیات جو کہ ہرفرقے کے قائدین کے لئے رہنما ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں ہم وہ چند آیتیں پیش کر رہے ہیں جو کہ ہر فرقے کے تبلیغ کرنے والو ں کے لئے راہنما ہیں جن کی طرف ایک آیت میں ہم نے کئی بار اشارہ کیا ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی ﷺ کو مخاطب فرما تے ہوئے تعلیم فرمارہا ہے کہ جب بھی تبلیغ کرو تو ہمیشہ حکمت کے ساتھ کرو؟ مگر ان باتوں سے ہماری اکثیریت واقف نہیں ہے۔ نہ ہی وہ وقت کا خیال کرتی ہے اور نہ ہی موقع اور محل کا خیال رکھتی ہے،نتیجہ وہ نہیں حاصل ہوپا رہا ہے جو اتنا سرمایہ اتنی محنت اور مال تبلغ پر خرچ کرنے کے بعدہونا چاہیئے؟ اب یہاں سورہ الاسراء کی آیت (52) نمبر میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو ہدایت فرمائی اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانوں اپنی محفلوں میں گفتگو اچھے طریقہ سے کیا کرو؟ جس کا ہم عام طور پر پہلےتو محفلوں میں خیال ہی نہیں رکھتے!جہاں ہم بات کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم وہاں بھول جاتے ہیں کہ آپس میں ہم میں شیطان اس وقت فساد پھیلا رہا ہوتا ہے اور شیطان مسلمانوں کاکھلا دشمن ہے۔ ہماری گفتگو اکثر ایسی ہوتی ہے جوکہ اچھے اثرات مرتب نہیں کرتی؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جسکی وجہ سے بات کا اثر نہیں ہوتا کہ کہنے والا خود سامعین کو اس پر عامل نظر نہیں آتا۔ دوسری بات وہاں دوسرے لوگوں کی برائی اور غیبت اور ہنسی مذاق کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کسی کی غیبت کو بیان کرنے سے اگر کوئی شخص وہاں محفل کو ہنسادیتا ہے تو دوسری طرف بیجا مذاق کی وجہ سے اس کی اپنی شخصیت کو بری طرح گھٹا دیتا ہے۔ نتیجہ آپ خود مرتب کرسکتے ہیں کہ یہ باتیں کسی مخالف فرد یافرقے تک پہنونچیں گی۔ تووہاں سے نہلے پر دہلے کے مترادف جو جواب ہوگا وہ اس سے کڑا ہو گا اور اگر ایک دوسرے کی برائیاں اور ایک دوسرے کی عزت ا سی طرح اچھلتی رہے گی تو باہمی تعلقات پر آگ پر تیل چھڑکنے کاکام دے گی؟ اور کبھی مسلمان آپس میں متحد نہیں ہوسکیں گے؟ اس کے برعکس مسلمانوں کا خیر خواہ کوئی ایک بھی فرد وہاں موجود ہوا؟جو کہ اس محفل سے یہاں ہوکر آیا ہو اور یہاں آکر یہ کہہ دے کہ تم تو اس کے خلاف ایسا بول رہے ہو وہ تو تمہاری بڑی تعریفیں کررہا تھاتو اس پر گھڑوں پانی پڑ جا ئیگا کہ ایسی بات میں نے اپنی زبان سے نکالی کیوں؟ اس کا جواز یہ ہے کہ اسلام جہاں ہر فرد کو خوداپنے خلاف بھی سچی بات کہنے کا حکم دیتا ہے وہیں وہ دو دوسرے آدمیوں میں یادوفرقوں میں صلح کرانے کے لیئے جھوٹ بولنے تک کی اجازت بھی دیتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک “اتحاد بین المسلمین“ کی کتنی زیادہ اہمیت ہے جو ہم چند ٹکوں یا دنیا کے چند فائدوں کے خاطر غلط باتیں کہہ کر برباد کر دیتے ہیں۔ ابلیس کے ٹارگیٹ تمام محافل تو ہیں ہی ہیں، جبکہ مسلم گھرانے یعنی میاں بیوی اس سے بھی زیادہ ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس روزانہ اپنا اجلاس منعقد کرتا ہے اور اپنے کارندوں سے سوال کرتا ہے کہ تم نے امت مسلمہ کو لڑانے کے لیئےکیا کیا جتن کیئے ہیں ؟۔ وہ ان سے ان کے کارنامے سن کر ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے اور سب سے زیادہ ان شاگردوں کو شاباش دیتا ہے، جنہوں نے میا ں بیوی میں برائی کرائی ہو؟ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اگر کسی گھر میں برائی پیدا ہوجا ئے تو اس گھر کی ترقی تو بڑی بات ہے وہاں ذہنوں کاسکون تک ختم ہوجاتا ہے؟ اورجس گھر میں ذہنی سکون نہ ہو وہ گھر ہی تباہ اور برباد ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں مسلمانوںمیں کالا جادو عام ہے“ لوگو نے بڑی بڑی دکانیں کھول رکھی ہیں اور شیطان کے کارندے اس کام میں بری طرح مصروف ہیں ۔ جبکہ جادو کرنے والے اور کرانے والے دونوں ہی جہنمی ہیں یہ بھی عظیم فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے۔اور حضور ﷺ نے ہر فتنے کو قتل سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔ اور ہمیشہ اپنی حیات ِ مبارکہ میں امت کو سمجھا تے دیکھااور سنا ہے کہ “دیکھو آپس میں میرے بعد لڑنا مت اگر سرداروں کی تلواریں ایک بار میان سےنکل آئیں تو دوبارہ میان میں نہیں جا ئینگی؟ صحابہ کرام ؓ فرمایا کرتے تھے کہً حضور ﷺ ہم کیسے لڑسکتے ہیں کہ ً قرآن پاک ہمارے پاس ہے آپﷺ کی سیرت ہمارے پاس ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا کرتے کہً یہ دونوں چیزیں اسوقت تمہارےؓ گلے سے نیچے نہیں اتریں گے۔ وہ صورت حال اب آپ کے سامنے موجود ہے کہ جس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے اسوہ کو امت کے لئیے نمونہ بتا یاہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسے اپنے سامنے رکھتے ہیں اوراپنے لئے مشعل راہ بنا ئے ہوئے ہیں؟ ہم تو آجکل اس کو پڑھنا درکنار گھروں میں رکھنا بھی غیر ضروری سمجھتے ہیں؟ جبکہ حضور ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ صراط المستقیم میرا اسوہ حسنہ ہے ا س کے دونوں طرف بہت سے دروازے ہیں جن پر پر دے پڑے ہوئے ہیں تم اس سیدھے چلے جاؤپردہ اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے۔ حضرت امام زین العابدین ؑ کاقول ہے کہ ہم لوگ اپنے زمانے میں اسوہ ﷺ کو اس طرح پڑھتے تھے طرح جس لوگ قرآن شریف کو پڑھتے ہیں۔ اب قرآن بھی کسی کسی گھر میں مل جاتا ہے مگر زیادہ تر جذدان میں؟ مگر اسوہ ﷺ تو کسی گھر میں اب ملتا ہی نہیں ہے۔اور یہ تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا پڑھنا کیوں ضروری ہے؟۔وہ اس لئے ضروری ہے کہ قرآن اور صاحبﷺ ِ دونو ں ملکر اسلام کو مکمل دین بنا تے ہیں کیونکہ حضور ﷺ اس کو ہمیں اپنے اوراپنے ساتھیوں کے اوپر نافذ کراکر اور ہر طرح مکمل کرکے دکھاچکے ہں۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئےان دونو ں کا مجموعہ قابل ِ قبول ہے جس کو قر آن دین میں اس نے دین ِ“ اسلام فرمایا ہے“۔ورنہ نہیں؟ اللہ ہم سب کو ان نکات کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

چند آیات جو کہ ہرفرقے کے قائدین کے لئے رہنما ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں ہم وہ چند آیتیں پیش کر رہے ہیں جو کہ ہر فرقے کے تبلیغ کرنے والو ں کے لئے راہنما ہیں جن کی طرف ایک آیت میں ہم نے کئی بار اشارہ کیا ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی ﷺ کو مخاطب فرما تے ہوئے تعلیم فرمارہا ہے کہ جب بھی تبلیغ کرو تو ہمیشہ حکمت کے ساتھ کرو؟ مگر ان باتوں سے ہماری اکثیریت واقف نہیں ہے۔ نہ ہی وہ وقت کا خیال کرتی ہے اور نہ ہی موقع اور محل کا خیال رکھتی ہے،نتیجہ وہ نہیں حاصل ہوپا رہا ہے جو اتنا سرمایہ اتنی محنت اور مال تبلغ پر خرچ کرنے کے بعدہونا چاہیئے؟ اب یہاں سورہ الاسراء کی آیت (52) نمبر میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو ہدایت فرمائی اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانوں اپنی محفلوں میں گفتگو اچھے طریقہ سے کیا کرو؟ جس کا ہم عام طور پر پہلےتو محفلوں میں خیال ہی نہیں رکھتے!جہاں ہم بات کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم وہاں بھول جاتے ہیں کہ آپس میں ہم میں شیطان اس وقت فساد پھیلا رہا ہوتا ہے اور شیطان مسلمانوں کاکھلا دشمن ہے۔ ہماری گفتگو اکثر ایسی ہوتی ہے جوکہ اچھے اثرات مرتب نہیں کرتی؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جسکی وجہ سے بات کا اثر نہیں ہوتا کہ کہنے والا خود سامعین کو اس پر عامل نظر نہیں آتا۔ دوسری بات وہاں دوسرے لوگوں کی برائی اور غیبت اور ہنسی مذاق کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کسی کی غیبت کو بیان کرنے سے اگر کوئی شخص وہاں محفل کو ہنسادیتا ہے تو دوسری طرف بیجا مذاق کی وجہ سے اس کی اپنی شخصیت کو بری طرح گھٹا دیتا ہے۔ نتیجہ آپ خود مرتب کرسکتے ہیں کہ یہ باتیں کسی مخالف فرد یافرقے تک پہنونچیں گی۔ تووہاں سے نہلے پر دہلے کے مترادف جو جواب ہوگا وہ اس سے کڑا ہو گا اور اگر ایک دوسرے کی برائیاں اور ایک دوسرے کی عزت ا سی طرح اچھلتی رہے گی تو باہمی تعلقات پر آگ پر تیل چھڑکنے کاکام دے گی؟ اور کبھی مسلمان آپس میں متحد نہیں ہوسکیں گے؟ اس کے برعکس مسلمانوں کا خیر خواہ کوئی ایک بھی فرد وہاں موجود ہوا؟جو کہ اس محفل سے یہاں ہوکر آیا ہو اور یہاں آکر یہ کہہ دے کہ تم تو اس کے خلاف ایسا بول رہے ہو وہ تو تمہاری بڑی تعریفیں کررہا تھاتو اس پر گھڑوں پانی پڑ جا ئیگا کہ ایسی بات میں نے اپنی زبان سے نکالی کیوں؟ اس کا جواز یہ ہے کہ اسلام جہاں ہر فرد کو خوداپنے خلاف بھی سچی بات کہنے کا حکم دیتا ہے وہیں وہ دو دوسرے آدمیوں میں یادوفرقوں میں صلح کرانے کے لیئے جھوٹ بولنے تک کی اجازت بھی دیتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک “اتحاد بین المسلمین“ کی کتنی زیادہ اہمیت ہے جو ہم چند ٹکوں یا دنیا کے چند فائدوں کے خاطر غلط باتیں کہہ کر برباد کر دیتے ہیں۔ ابلیس کے ٹارگیٹ تمام محافل تو ہیں ہی ہیں، جبکہ مسلم گھرانے یعنی میاں بیوی اس سے بھی زیادہ ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس روزانہ اپنا اجلاس منعقد کرتا ہے اور اپنے کارندوں سے سوال کرتا ہے کہ تم نے امت مسلمہ کو لڑانے کے لیئےکیا کیا جتن کیئے ہیں ؟۔ وہ ان سے ان کے کارنامے سن کر ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے اور سب سے زیادہ ان شاگردوں کو شاباش دیتا ہے، جنہوں نے میا ں بیوی میں برائی کرائی ہو؟ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اگر کسی گھر میں برائی پیدا ہوجا ئے تو اس گھر کی ترقی تو بڑی بات ہے وہاں ذہنوں کاسکون تک ختم ہوجاتا ہے؟ اورجس گھر میں ذہنی سکون نہ ہو وہ گھر ہی تباہ اور برباد ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں مسلمانوںمیں کالا جادو عام ہے“ لوگو نے بڑی بڑی دکانیں کھول رکھی ہیں اور شیطان کے کارندے اس کام میں بری طرح مصروف ہیں ۔ جبکہ جادو کرنے والے اور کرانے والے دونوں ہی جہنمی ہیں یہ بھی عظیم فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے۔اور حضور ﷺ نے ہر فتنے کو قتل سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔ اور ہمیشہ اپنی حیات ِ مبارکہ میں امت کو سمجھا تے دیکھااور سنا ہے کہ “دیکھو آپس میں میرے بعد لڑنا مت اگر سرداروں کی تلواریں ایک بار میان سےنکل آئیں تو دوبارہ میان میں نہیں جا ئینگی؟ صحابہ کرام ؓ فرمایا کرتے تھے کہً حضور ﷺ ہم کیسے لڑسکتے ہیں کہ ً قرآن پاک ہمارے پاس ہے آپﷺ کی سیرت ہمارے پاس ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا کرتے کہً یہ دونوں چیزیں اسوقت تمہارےؓ گلے سے نیچے نہیں اتریں گے۔ وہ صورت حال اب آپ کے سامنے موجود ہے کہ جس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے اسوہ کو امت کے لئیے نمونہ بتا یاہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسے اپنے سامنے رکھتے ہیں اوراپنے لئے مشعل راہ بنا ئے ہوئے ہیں؟ ہم تو آجکل اس کو پڑھنا درکنار گھروں میں رکھنا بھی غیر ضروری سمجھتے ہیں؟ جبکہ حضور ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ صراط المستقیم میرا اسوہ حسنہ ہے ا س کے دونوں طرف بہت سے دروازے ہیں جن پر پر دے پڑے ہوئے ہیں تم اس سیدھے چلے جاؤپردہ اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے۔ حضرت امام زین العابدین ؑ کاقول ہے کہ ہم لوگ اپنے زمانے میں اسوہ ﷺ کو اس طرح پڑھتے تھے طرح جس لوگ قرآن شریف کو پڑھتے ہیں۔ اب قرآن بھی کسی کسی گھر میں مل جاتا ہے مگر زیادہ تر جذدان میں؟ مگر اسوہ ﷺ تو کسی گھر میں اب ملتا ہی نہیں ہے۔اور یہ تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا پڑھنا کیوں ضروری ہے؟۔وہ اس لئے ضروری ہے کہ قرآن اور صاحبﷺ ِ دونو ں ملکر اسلام کو مکمل دین بنا تے ہیں کیونکہ حضور ﷺ اس کو ہمیں اپنے اوراپنے ساتھیوں کے اوپر نافذ کراکر اور ہر طرح مکمل کرکے دکھاچکے ہں۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئےان دونو ں کا مجموعہ قابل ِ قبول ہے جس کو قر آن دین میں اس نے دین ِ“ اسلام فرمایا ہے“۔ورنہ نہیں؟ اللہ ہم سب کو ان نکات کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

اسلام میں پوری طرح داخل ہوجا ؤ۔۔۔ شمس جیلانی

یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 208 ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اسلام میں پوری پوری طرح داخل ہوجا ؤ؟ جس طرح کوئی بھی باپ بیٹے سے مطالبہ کرتا ہے، کوئی بھی حاکم ہر محکوم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اطاعت کرنا ہے تو پوری طرح میری کرو۔ اسی طرح اس آیت میں اللہ سبھانہ تعالیٰ جو خالق ِکا ئینات ہے مالکِ کائینات بھی ہے وہ ہر اس شخص سے مطالبہ کرتا ہے کہ یا میری راہ پر چلو، یا شیطان کی راہ پر چلو جو کہ گمراہ کرنے والااور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے جبکہ ایک دوسری سورہ بقر کی ہی آیت میں وہ فرماتا ہے کہ میں اندھیرے سے روشنی کی طرف بلاتا ہوں اور شیطان جہنم کی طرف بلا تا ہے میں نے دونو ں راستے واضح کردیئے ہیں اب یہ بندے کی مرضی ہے کہ وہ کس طرف جانا چاہتا ہے اس طرف چلا جا ئے، کیونکہ اسلام میں جبر نہیں ہے؟اپنی اور بھلائی اور برائی وہ خود سوچے سمجھےاورسیکھے۔اس آیت کی تفسیر میں چلے جائیں تو پوری وضاحت مل جا ئیگی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے ؟اور اس میں سارے فریق انتہائی شدت پسندی پر عامل ہیں ، جبکہ صحیح راستہ میا نہ روی ہے۔ جس کو حضور ﷺ نےفرمایا کہ جو میرا راستہ ہے۔ مگر ہم اس پر چونکہ عمل ہی نہیں کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم نہ ادھر میں ہیں۔ اور نہ ادھر ہیں، میں مگر کہلاتے پھر بھی خود کو مسلمان ہیں جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سچے دل سے ہر مومن کو اپنا یہا ں پر پوری وفادار دیکھنا چاہتا ہے کہ جان چلی تو کوئی بات نہیں۔ جب کہ ایک آیت بھی موجود ہے کہ اگر کفاروں کے مطالبے پر کوئی جان بچانے کے لئے غلط بات بھی کہنے پر مجبور ہو جا ئے تو کہہ سکتا جبکہ اس آیت کا مکہ کے ابتدائی دور میں نزول ہوچکا تھا۔اور ایک ہی خاندان کے تین افراد ابو جہل کی قید میں تھے اور تینوں سے ایک ہی مطالبہ کر رہا تھا اور وہ تھے بھی تینوں ماں بیٹے او والد؟ جن کے نام حضرت عمار سمیہ اور یاسررضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ ان میں سے ماں اور والد نے تو شہید ہونا پسند فرمالیا مگر وہ الفاظ ادا کرنا پسند نہیں کئے؟ مگر حضرت یاسر (رض) نے وہ کہہ کر جان چھڑالی اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے حضور ﷺ نے پوچھا کہ جب تم یہ کہہ رہے تو تمہارے دل کی حالت کیا تھی؟ تو انکا جواب تھا کہ وہ ایمان کی حالت میں تھا۔ نہ ان ؓسے انہوں ﷺ قسم اٹھوائی نہ تجدید ایمان کرائی اور ان کو معاف کردیا؟ کیونکہ اسوقت کے مسلمان جھوٹ نہیں بولا کرتے تھے۔ دوسرے اگر جھوٹ کوئی بو لتا بھی تو اللہ سبحانہ بذریعہ وحی حضور ﷺ کومطلع فرما دیتے تھے؟ حضورﷺ نے بجائےان پر ناراض ہونے کہ بجائے الٹا کچھ دنو ں کے بعد ان کو جنتی ہونے کی بشارت دیدی کہ “ تم شہید ہو گے اور اس طرح ہوا کہ جب مدینہ منورہ کی مسجد بن رہی تھی اور حضور ﷺ بھی بہ نفس ِ نفیس مدد فرما رہے تھے تو کچھ لوگوں نے ان پر اینٹیں زیادہ لادیں تو انہوں آکر شکایت فر مائی کہ حضور ﷺ یہ مجھے زیادہ وزن لاد کر مراڈالیں گے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ“ تم ان کے ہاتھوں نہیں مرو گے، بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوگے جبکہ وہ حق پر ہونگے“ اور ایسا ہی ہوا جبکہ وہ انتہائی ضعیف تھے ہوچکے تھے ان میں تلوار اٹھانے کی طاقت بھی نہ تھی مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے جنگ صفین میں شہید ہوئے؟ اس کے بر عکس ایک واقعہ غزوہ بدر میں صحابہ کرام کو پیش آیاکہ دو آدمی جو کنوئیں پر وہاں پانی لینے آئے تھے پکڑلیئے انہوں نے پہلے توسچ بولا کہ ہم پانی لینے آئیں ہیں اور ابو سفیان کے آدمی نہیں ہیں۔ حضور ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے انہوں ؓنے انہیں جھوٹا سمجھا اور ان کو مارا پیٹا تو انہوں نے خود کو ابو سفیان کا آدمی تسلیم کرلیا۔حضور ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ ان کو چھوڑدو انہوں نے جب سچ کہا تو تم نے ان کو جھوٹا سمجھا اور جب جھوٹ بولا تو ان کو سچا مان لیا؟ اس کے بعد حضور ﷺ کا وصال کیا ہوا کہ لوگ حضور ﷺ سے دور ہوتے چلےگئے۔ حضور ﷺ زمانے میں صرف چند اسکالر تھے جن کو فتویٰ دینے کی اجازت تھی۔ لیکن جب حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں تراویح با جماعت ہر مسجد میں شروع کرادی تو ان کو حفاظ کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے با قاعدہ وظیفہ اور تنخواہیں حفاظ کو دینا شروع کیں اب نہ حفاظ کا معیار وہ رہا جو کہ صفہ پر بیٹھ کر تعلیم پانے والوں معیار تھا؟ مساجد کے اماموں کو فتوے جاری کرنے کا موقعہ مل گیا دوسری طرف عمالِ حکومت اب وہ نہیں رہے بلکہ ان کا معیار بھی وہ نہیں تھا جو حضور ﷺ زمانےمیں نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کو شکایات پیدا ہونے لگیں اور قیادت حفاظ کے ہاتھوں میں آگئ۔ اور انہوں نے اپنے ماننے والوں کے ذریعہ مدینہ منورہ کا گہراؤ کرنا شروع کردیا اور شدت پسندی کایہ عالم ہو گیا کہ وہ صرف اپنے آپ کو ہی مسلمان سمجھتے تھے، اپنے علاوہ اور کسی کو نہیں۔ اس کے بعد مسلمان فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔وہی سلسلہ آج تک جاری ہے کبھی تیز ہوجاتا ہے کبھی سست پڑجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دشمناں اسلام عناصر کو موقع مل گیاکہ وہ مسلمانو ں کو مسلمانوں کے ہی خلاف استعمال کریں جو ابھی تک کہیں نہ کہیں جنگ کی شکل میں جاری ہے۔ اس کا حل یہ ہی ہے کہ لوگ حضور ﷺ نقش قدم پر واپس آجا ئیں۔ اس علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ ایک قول حضرت امام ؒ مالک کا مشہور ہے کہ اسلام کی نشاتہ ِ ثانیہ تو ہوگی مگر اسی طرح جس طرح کہ یہ آیا تھا۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

اسلام میں ظلم کے معنی۔۔۔ شمس جیلانی

ایک حدیث ہے کہً سب سے برا انسان وہ ہے جس کے پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔ ہم نے پاکستان کا وہ دور بھی دیکھا ہے کہ شہر بند پڑے تھے اور ان کے مکین نقل مکانی کرکے ہندوستان جا چکے تھے۔ گھروں یا کاروبار پر حکومتی اہلکار کو جب اطلاع کوئی پہنچا تھاکہ فلاں شخص ہندوستان چلا گیا تو وہ جاتے اور کپڑے کا ایک تکڑا تالے اوپر لپیٹ کر اوپر اسے چپڑا پگھلا کے اس پر ڈال دیتے بس اتنا کرنے پر مکان سیل ہوجاتا اس سیل؟ کا رعب اتنا تھا کہ مجال تھی کی کہ کوئی سیل توڑ کر متروکہ جائیداد پر قابض ہوجا ئے اور یہ ہی صورت حال ایک دن نہیں سالوں رہی۔ نہ کہیں چوریا ں ہورہی تھیں نہ لوگ کسی مکان کے دروازے یا کھڑکیا ں لوہے کے گارڈر یا لکڑی کےشہتیر وغیرہ نکال کر لوگوں کی موجود میں لے جارہے لے جا رہے تھے۔ یہ تھی اس وقت قانون کی پوزیشن وجہ یہ تھی ابھی ابھی ملک چھوڑ کر انگریز گئے تھے ان کی بڑی دھاک تھی؟ جبکہ نہ پوری طرح حکومت کام کر رہی تھی نہ ہی اہلکار پوری طرح اپنی جگہ لے سکے تھے؟۔ چاہتے تو گھر کہ گھر اٹھاکر لے جاتے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔ مگر اب اسی پاکستان کا یہ حال ہے کہ لوگ کرایہ پر اپنا مکان دینے سے ڈرتے ہیں کہ بعد میں نہ مکان ملے گا نہ کرایہ ؟اور اگر کوئی تالہ لگا کر گھر کو ذرا دیر کے لئیے چلاجا ئے تو اندر سے دروازے کی کنڈی لگی ہوتی ہے اور باہر مالک کو جواب ملے گا کہ گھر میں خواتین ہیں اندر تشریف لا نے کی کوشش نہ کریں؟ یہ صورت ِ حال گھروں کے ساتھ ہی نہیں ہے کہ غیر محفوظ ہیں ۔ بلکہ ہر قسم کی جائیداد بشمول کارخانہ جات، زرعی زمین وغیرہ کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر کسی کاگھر پڑوسی کو پسند آگیا تو قبضہ گروپ کے سربراہ سے رجوع کرے گااور اس سے معاملات طے ہوگئے تو قبضہ کر لے گا۔ ایسے میں پاکستان کے ان باشندوں سے وہاں واپس آکر سرمایہ کاری کی اپیل کرنا اور ان سے یہ امید رکھنا احمقوں کی دنیا میں رہنے کے سوا ور کچھ نہیں ہے؟ ہر پاکستانی پاکستان آنا چا ہتا ہے؟ مگر کس کی یقین دہانی یا پشت پناہی پر؟ وہ بھی اس حکومت کی جس کی خود سرکاری پراپر ٹی پر قبضہ گروپ گرنے لاکھوں ایکڑ زمین کچے میں اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے وہ ان سے اپنا قبضہ نہیں چھڑا سکی ،ہزاروں سکولوں اور ہسپتالوں کی بلڈنگز چودھری، وڈیرے یا رئیس کی اوطاق یا نشست گاہیں بنی ہوئی ہیں، ان کےجانوروں کے باڑے بنے ہوئی ہیں؟ جولوگ زیادہ جذباتی تھے اور شروع شروع میں عمران سے لوگوں کوبڑی امیدیں تھیں کہ وہ ضرور کچھ کر کے دکھا ئیں گے۔ وہ بھی وہاں کچھ کرکے نہیں دکھا سکے کہ ہر کوئی کسی کابندہ ہے ان بندوں کو کسی بارے میں پتہ چلا کہ یہ باہر سے مال لیکر آیا ہے وہ انہیں ہاتھوں لٹ گیا؟ ان پر ہاتھ ڈال کر کون اپنی موت کو بلا ئے گا اور کسی سے وعدے کرکے پوری کرے گا؟ وہ بھی ان حکمراں کے وعدے جوکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے نئے نئے وعدے کرکے 75 سال سے آتے رہے اور ناکامی کا کلنک کا ٹیکہ اپنے ماتھے پر لگوا کر گھر جاتے رہے اور جاتے رہیں گے۔ اور لوگ پوچھتے رہیں گے آخر یہ پاکستان ٹھیک کب ہوگا؟ جبکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ“ ہمیں جب کسی قوم کو سزا دینا ہوتی ہے تو ہم اس کے بڑے لوگوں کوگمراہ کردیتے ہیں پھر وہ ہمارے احکامات کھلی خلاف ورزی کرنے لگتے ہیں جب بات ان پرپوری طرح ثابت ہوجاتی ہے تو پھر ہم اس جگہ کو طے وبالا کردیتے ہیں سورہ بنی اسرائیل 16 ؟ وہ صورت حال وہاں صرف پیدا ہی نہیں ہوچکی ہے۔ بلکہ اپنے عروج پہنچ چکی ہے؟ اس کے بعد دوسری مشہور آیت پڑھ لیجئے کہ وہ اپنی سنت کو کبھی تبدیل نہیں فرما تا۔اور اس کی سنت کیا ہے آپ پچھلی آیت میں پڑھ چکے ہیں؟ اب رہامسئلہ کہ ہم حضور ﷺ کی امت ہیں؟ یہ غرہ اور قوموں کو بھی تھا ان کا حشر کیا ہوا؟ ہمیں بھی ہے۔ اس کے وضاحت حضرت عمر ؓ نے اسوقت فرمائی تھی جبکہ وہ خلیفہ تھے اور حضرت سعد(رض) بن ابی وقاص کو ایران کا گورنر بنا کر بھیجتے ہوئے نصیحت فرما ئی تھی پیش کر کے بات ختم کردیتا ہوں ٍ اے سعدؓ کہیں تمہیں یہ زعم ہلاک نہ کر دے کہہ تمہاری رسول ﷺ اللہ سے رشتے داری ہے۔ اللہ سے کسی کا کوئی رشتہ نہیں ہے سوائے اطاعت کے ً“ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوم کی اصلاح کے سلسلہ میں کیا کام ہورہا ہے اور کون رہا تاکہ عذابات کی اس صورت حال سے نجات ملے؟ میرے خیال میں ایسا کوئی شخص ابھی تک وہاں نہ پیدا ہوا ہے اور نہ عالم وجود میں آیا ہے جیسا کہ اللہ سبھانہ تعالیٰ حضورﷺ کو سورہ نحل کی آیت نمبر 125 میں حضور ﷺ کو حکم دے رہا ہے آپ ﷺ آپ لوگوں کو خوف اور احسن طریقہ کے ساتھ ڈراتے رہیں انہیں ہدایت دینا نہ دینا یہ ہمارا کام ہے “

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں