ابھی تو شرم خود شرمارہی ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی سندھ کی روایت یہ تھی وہاں کے کتے اتنے غیرت مند ہوا کرتے تھے کہ مالک کے “بجھا “(کسی کو بطور لعنت پانچوں انگلیاں دکھانا)دکھانے سے شرم سے مرجایا کرتے تھے؟ اور مالک کو جب پتہ چلتا تھا کہ اپنے کتے کے ساتھ اس سے ناانصافی ہوگئی ہے ، کتا قطعی بے قصور تھا اور اس نے غلط “ بجھا“ دکھا یا جو اسکے صاحب ِ غیرت ہونے کی وجہ سے اسکے لیے جان لیوا ثابت ہوا؟ تو وہ اپنے اظہار تاسف کے طور پر کتے کا مزار بناکر اس ظلم کی تلافی کرتا تھا؟جو کہ “ کتے جو قبہ “ (کتے کامزار )کے نام سے آج بھی موضع ساڈونی کے قریب ضلع سانگھڑ (سندھ) میں موجود ہے۔ اور یہ بھی رواج تھا کہ ہر برے آدمی کا نام جب کسی محفل میں آتا تھا لوگ توبہ ،توبہ کرتے ہوئے ناک اور کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے؟ آج کی طرح نہیں کہ اسکی تعریف کریں کہ “ایک مکاری سب پر بھاری “
جو لوگ وہاں کے قدیم باشندے نہیں ہیں وہ تو جو چاہیں کریں کیونکہ وہ سندھی تہذیب سے واقف نہیں ہیں؟ مگر مجھے تو حیرت ان پر ہورہی ہے کہ وہ بھی انہیں جیسے ہوگئے جو وہاں کے مقامی باشندے اورسندھی تہذیب کے امین تھے؟ اگر وہ اپنی راہ پرقائم رہتے تو انکی دیکھا دیکھی شاید باہر سے آنے والے بھی انہیں راہوں پر چلتے جن پر وہ چلتے آرہے تھے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میں 1948 کی دیتا ہوں کے کراچی میں جب بھانت بھانت کے لوگ پہونچے تو بس اسٹینڈ پر آوارہ لڑکے کھڑے ہوکران لڑکیوں پر آوازیں کس نے لگے جو حصولِ تعلیم کے لیے اسکول اور کالجوں کو جارہی ہوتی تھیں۔ یونیورسٹی اسوقت تک کراچی میں تھی نہیں لہذا اس میں موجود ،موجودہ مسائل بھی نہیں تھے کہ لوگ اب تو وہاں غیر تدریسی مشاغل کے لیے بھی جاتے ہیں جس میں سیاسی غلبہ اور دہشت گرد بننا بھی شامل ہے ۔ حتیٰ کہ اسوقت عدالتوں کے ازخود نوٹس لینے کا رواج ہی نہیں تھا ۔ کیونکہ حکومت خود کان اور آنکھیں رکھتی تھی اور انہیں کسی کی طرف سے مصلحت کے تحت بند نہیں کرتی تھی ۔ لہذا فوراً اس کے تدارک کے لیے حکومت کو سیفٹی ایکٹ یاد آگیا چونکہ دستور ابھی بنا نہیں تھا اور اس میں بائیس تک ترمیمیں بھی نہیں ہوئی تھیں نہ ا ٹھارویں ترمیم تھی؟ جو کسی کی ڈھال بن جائے؟ لہذا اسی قانوں کے تحت چیف منسٹر سندھ غلام علی تالپور (مرحوم) وزارتِاعلیٰ سے معزول کرکے مٹھی جیل میں اونٹ پر بٹھاکر بھیجد یتے تھے ،اور ابراہیم جلیس جیسے صحافی کو بھی جن کا قلم ذرا تیز تھا، بس یوں سمجھ لیں کہ یہ واحد قانون تھا جو ہر مرض کی دوا تھا یعنی محمود اور ایاز دونوں کے لیے ایک ہی قانون استعمال ہوتا تھا، لہذااسی کی تحت ایک قانوں بنانا پڑا تاکہ اس برائی سے نبٹا جاسکے ؟ یہ اس وقت چونکہ انوکھی بات تھی ،اس سے پہلے ایک کی ماں سب کی ماں اور ایک کی بیٹی یا بہن، سب کی بیٹی یا بہن ہوا کرتی تھی اور کوئی ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا؟ اس پر مزاحیہ شاعر ظریف جبلپوری مرحوم نے ایک قطعہ کہا تھا کہ
“ چچی لیلیٰ کی گر خفا ہوجاتی، ساری وحشت قیس کی ہوا ہو جاتی ، اس زمانے کے لوگ تھے “ حیا “ والے، بیٹا اس دور میں ہوتے تو سزا ہوجاتی“ اچھا ہوا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی اٹھا لیا اگر وہ آج کا ماحول دیکھتے تو جانے اورکیا کیا کہہ جاتے؟ اسوقت انہیں دینے کو صرف ایک ہی مثال ملی وہ بھی عرب کی، سندھ کی نہیں؟ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ سندھی تہذیب عرب سے بہت متاثر تھی،اوپر والی مثال تاریخ میں بہت مشہور ہے اور مورخین کا اس پر اختلاف بھی نہیں ہے کہ وہ ماں باپ عرب تھے جن کی بیٹی کا نام قیس نامی ایک شخص ہروقت جپتا رہتا، لیلیٰ کا کہیں آناجانا تک اس نے مشکل کررکھا تھا؟ وہ اسکی محمل کے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا اور ماں باپ صاحب ِ اقتدار ہونے کے باوجود اسے کچھ نہیں کہتے کہ “ پاگل ہے کیا کہیں ؟اگر آج کا دور ہوتا تو ایک اشارے کی دیر ہوتی اور مجنوں کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں گیا؟ بعد میں پھانسی سے پہلے کوئی ملزم اعترافات کی جو فہرست سو ادوسو آدمیوں کے قتل کی میڈیا کو دیتا تو اس میں اسکا نام بھی شامل ملتا؟ اور اس تمام واقعہ پر صرف صاحب معاملہ کایہ کہنا کافی ہوتا کہ یہ سب جھوٹ ہے؟اس کی بات کوتمام لوگ مانتے کہ وہ ان کا سردار جو ہوا؟اور ٹی وی پر بڑھ چڑھ کر اسکا دفاع کر رہے ہوتے؟
اسی طرح کسی دوسرے سردار پر کوئی اور اسکا ہی پرنا ساتھی لعنت ملامت کر رہا ہوتا اور اس کے بیڈ روم تک کے راز کھول رہا ہوتا اور وہ سردار صرف یہ کہدیتا کہ میں اس کی باتوں پر کیا کہوں؟
اس صورت ِ حال پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے؟ کیونکہ اب یہ تہذیب صرف سندھ تک نہیں پورے ملک میں پھیل گئی ہے، کوئی کسی سے کچھ اس لیے کہ نہیں کہتا کہ جمہوریت نام ہے مک مکاؤ کا؟ اسکا پہلا اصول یہ ہے کہ “ میں تیرا پردہ رکھوں تو میرا پردہ رکھ ؟ تجھے میری طرف سے چھٹی ہے، مجھے تیری طرف چھٹی ہو نا چاہیے“ اس لیے کہ اب مومنوں کی دوستی جوکہ صرف اللہ سحانہ تعاٰلیٰ کے لیے کبھی ہوا کرتی تھی وہ اب کہیں نہیں پائی جاتی ہے ۔البتہ عیبیوں کی دوستی اس سے زیادہ پائیدار ہے؟ اس کی وجہ سے حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں۔کہ پہلے لوگ برے کام پر “ نکو “ بن جاتے تھے اور عوام سے منہ چھپائے پھرتے تھے؟ اس لیے کہ انکی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اب چونکہ وہ اکثریت میں ہیں، لہذااب بے چاری شرم عوام سے منہ چھپائے پھر رہی ہے جو کہ کبھی شرفا کا سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتی تھی؟ کیونکہ وہ اب کسی کو کسی بات پر آتی ہی نہیں ہے؟ اگر شرم دلانے کی کوئی کوشش کرے تو شرم بڑی اذیت سے گزرتی ہے ؟ حتیٰ کہ معصوم بچوں سے بھی کوئی بزرگ کہیں کہ جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟ تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ “ آپ خود جو جھوٹ بولتے ہیں اور ہم سے کہلواتے ہیں کہ ابا ّ گھر پہ نہیں ہیں جب وہ آپ کو نہیں آتی، تو ہمیں بھی کیوں آئے“ ؟ اسی لیے ہادی اسلام  (ص)نے یہ فرمایا تھا جسکا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ “ دراصل حیا ہی ایمان ہے “ جبکہ وہ اب کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتی، ہم میں بھی نہیں ؟ جبکہ الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں ؟ نہ الزام لگانے والوں کو شرم ہے اور نہ انہیں جو مورد ِ الزام ہیں، حیا ہے؟ کہ یہ فعل فحاشی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ اور ہرقسم کی فحاشی کی تشہیر کی اسلام نے سخت مذمت کی ہے ، مگر اس کے ساتھ بھی ہمارا معاملہ وہی ہے جو بقیہ اسلام کے ساتھ ہے ؟ مگرہم یہ کہیں گے ضرورکہ “ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں “ رہی عمل کی بات وہ اللہ اور وہ خود جانیں ؟ کوئی دوسرا دخیل کیوں ہو؟ جبکہ ٹی والے ہر واقعہ کا اس طرح پوسٹ مارٹم کر رہے ہوتے ہیں اور اس کو اس طرح کرید رہے ہوتے ہیں جیسے کہ گدھ کسی مردہ لاش کو، تاکہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل نشر ہونے سے نہ رہ جائے اور ان کے سننے اور دیکھنے والے ان قیمتی معلومات سے محروم نہ رہ جائیں؟

Posted in Articles | Tagged

اردوردستورسے تنگ آکرعدالت میں ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

قائد اعظم کو اردو نہیں آتی تھی کیونکہ ان کی مادری زبان گجراتی تھی۔ لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ یہ بنگالی ، پنجابی، سندھی اور پختونوں اور بلوچو ں میں بٹی ہوئی قوم اگر متحد رہ سکتی ہے تو صرف مذہب اور زبان کے نام پر ۔ جبکہ وہ اس سے بھی واقف تھے کہ جتنا اسلامی اثاثہ اردو میں ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں ہے ؟وجہ یہ تھی کہ عربوں کو اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ عجمیوں (غیر عرب ) مسلمانوں کو تھی۔ لہذا پہلے دن سے عجمیوں نے اپنی زبانوں میں اسے منتقل کرنا شروع کردیا جو ہنوز جاری ہے۔ چونکہ خلافت عباسیہ کے کمزور ہونے کے بعد علم کا محور مرکزی ایشائی علاقہ بنا اور وہاں کی زبان فارسی تھی ، مزید یہ کہ بادشاہوں کی علم دوستی کی بنا پر علم ِدین بہت تیزی سے فارسی میں منتقل ہونا شروع ہوا اور جب وہ ہندوستان تک پہونچے تو اپنے ساتھ وہ اثاثہ بھی لیتے آئے۔ اس لیے کہ سوائے ہمارے ہر ایک کو اپنی زبان سے لگاؤ ہوتا ہے۔ اور وہاں غیر ملکیوں کے امتزاج کی بنا پر ایک ایسی زبان پیدا ہوکر جوانی کی طرف بڑھ رہی تھی جو کہ ملک کے مختلف حصوں میں کہیں کی زبان نہ ہونے کے باوجود ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ البتہ رسم الخط دو مختلف تھے لشکری اسے ان کی اپنی مناسبت سے اردو کہتے اور زیادہ تر الفاظ وہ عربی اور فارسی کے استعمال کرتے تھے، جبکہ مقامی باشندے دیوناگری رسم الخط میں لکھتے تھے ، جس کو بعد میں سیاسی ضرورت کے تحت ہندوستانی کہنے لگے؟ جبکہ مسلمانوں نے فارسی رسم الخط یوں اپنایا کیونکہ عربی کے مقابلہ میں فارسی میں زیادہ حروف تھے۔ یہ ہی اس کی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے اس کو بعد میں شاعروں نے اپنا لیا ؟ یہ رواج بھی شمالی ہندوستان سے شروع ہوا اور پہلی شاہی سرپرستی بادشاہ علی قلی خان کی حاصل ہوئی ، میرا خیال ہے کہ فیروز تغلق نے جب اپنا دار الحکومت دہلی سے شمال میں منتقل کیا تو اسکے امراءاور مقامی لوگوں کے امتزاج سے یہ دہلی پہونچی اور اس کے کافی عرصہ کے بعد اس کو مغل بادشاہ ظفر نے خود بھی اپنی شاعر ی کی وجہ سے استعمال کیا اور اسطرح اسکے پاوں وہاں جمے ۔ جبکہ اسکی مذہبی سرپرستی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے خاندان نے شروع کی جوکہ اس سے پہلے فارسی میں تفسیر قرآن تحریر کرکے پہلے ہی مشہور ہوکر رہنمابن چکا تھا اور اسی خاندان کے حضرت شاہ رفیع الدین (رح) نے قرآن کا لفظ بہ لفظ پہلا اردو ترجمہ حاشیہ کے ساتھ کیا ؟
مگر مغلوں کے دور میں چونکہ فارسی سرکاری زبان تھی لہذا اس کو سرکاری زبان کی حیثیت نہیں مل سکی۔ پھر جب مغل حکومت کمزور ہوئی تو یہ نوابین اودھ کے ذریعہ اس وقت کے اودھ اور آج کی یوپی میں پہونچی ۔ اور امرائے دکن کے ذریعہ یہ حیدر آباد دکن اور اس کے اطراف میں پہونچی، مگر سب سے زیادہ پزیرائی اس علاقے میں اسے حیدر آباد دکن میں ہی ملی ۔ اسی طرح یہ لاہو ر پہونچی۔ مگر اسے پورے ملک میں فروغ انگریزوں نے دیا جن کے لیئے ہندوستان میں سیکڑوں زبانیں سیکھنا اور بولنا سب سے مشکل کام تھا۔ جب کہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کسی کے دل میں اتر نے کے لیے اس کی زبان جاننا ضروری ہے کیونکہ اس سے آپس میں اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے دوسری اسلامی قدروں کی طرح یہ سبق بھی انہوں نے حضور (ص) کی حیات طیبہ سے لیا ہوگا کیونکہ جب ان کے پاس دور دراز علاقوں سے وفود آتے تھے تو وہ اسی قبیلے کی زبان میں اس سے بات کرتے تھے۔ انگریزوں کے دور میں ہی کلکتہ جو ان کاپہلا دارالحکومت تھا وہاں انہوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا اور اردو کی باقاعدہ درس اور تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ یوں اسکو اشرافیہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ کیونکہ دین اور معاشرہ ہمیشہ حکمرانوں کا چلتا ہے۔
اسکے بعد جب تحریک آزادی شروع ہوئی تو صورت ِ حال یہ تھی کہ یہ ہی زبان عربی اور فارسی کے غلبہ کے ساتھ مسلمان بولتے تھے اور ہندو ہندی الفاظ کے غلبہ کے ساتھ بولتے تھے۔ جب مسلم لیگ نے دوقومی نظریہ پیش کیا تو اس کو اپنے منشور میں یہ کہہ کر شامل کرلیاکہ “مسلمانوں کا مذہب ان کی زبان ، طرز معاشرت سب علیٰحدہ ہے لہذا ان کو ان کے اپنے اکثریتی علاقوں میں حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جہاں ان کا اپنا مذہب اور اپنی زبان اور طرز معاشرت ہو“ یہ تاریخ کا وہ خطرناک موڑ تھا جہاں سے یہ زبان متنازع بن گئی، ورنہ ہندؤں کی سب سے زیاد تعلیم یافتہ برادری جو کائستھ کہلاتی تھی ہم سے کہیں اچھی اردو بولتی لکھتی اور پڑھتی۔ مگر مسلمان اس پر بجائے ان کی ہمت افزائی کرنے کہ جو ان کی تلفظ میں فطری کمزوریاں تھیں اس کو پڑھ کر اور یہ کہہ کرناک ، بھوئیں چڑھاتے رہے کہ “ بوئے کچوری می آید “(اس میں کچوریوں کی بدبو آرہی ہے) تحریک ِ آزادی کے دوران یہ زبان سب جگہ سمجھی جانے کی وجہ سے بہت کارآمد ثابت ہوئی؟ اور گاندھی جی جو قائد اعظم کی طرح گجراتی تھے انہو ں نے بھی اسے سیکھا اور استعمال کیا۔ بلکہ وہ تو یہاں تک چلے گئے کہ حضرت قائد اعظم (رح) اور با بائے اردو مولوی عبد الحق (رح) کو دعوت دی کہ ایسا کریں کہ قومی زبان ایک ہی رہے ، مسلمان دیوناگری رسم الخط سیکھ لیں اور ہندو جوکہ پہلے ہی اردو رسم الخط استعمال کر رہے ہیں ان میں سے جو نہیں جانتے ہیں وہ اردو رسم الخط سیکھ لیں؟ مگر نمعلوم وجوہات کی بنا پر دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ گاندھی جی آ خری وقت تک پاکستان کے مخالف رہے۔ جبکہ سیاست میں اردو کانام آنے کی وجہ سے مسلم لیگ نے اردوسے کافی فائدہ اٹھایا اور اسی وجہ سے اردو کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوئی؟
جب قیادت پنڈت نہرو کے ہاتھ میں آئی تو حالات یکسر بدل گئے ، جبکہ ان کی زبان اردو تھی؟ پھر باہمی نفرت نے اتنی شدت پکڑی کہ انہیں خود کہنا پڑا کہ ہم پاکستان دینے کے لیے تیار ہیں۔ لہذ انہوں نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں وہ تمام گھروندے ڈھا دیئے جس سے ا یک باہمی معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مراعات ملنا طے ہوئی تھیں اور ہندوستان کو ایک رہنا تھا؟ ۔ یہ وہ جملہ تھا جس نے ایٹم بم کا کام کیا کہ “ کیسا معاہدہ اور کس کامعاہدہ یہ تو آنے والی پارلیمنٹ طے کریگی کہ آئندہ ملک کا دستور کیسا ہوگا“ اردو بولنے والے اپنی مسلم لیگ دوستی کی بناپر غدار قرارپائے اور انہیں کے ساتھ اردو کو بھی اپنے تینوں قلعوں یعنی یوپی۔ دہلی اور حیدر آباد دکن سے دیس نکالا مل گیا؟ آزادی ملتے ہی چونکہ وہ پہلے ہی سے تیاریاں کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے راتوں رات پورے ملک میں سائن بورڈ بدل دیئے اور دیوناگری رسم الخط میں سنسکرت کے الفاظ کو ہندی کاجامہ پہناکر پوری طرح رائج ،بالکل اسی طرح زندہ کردیا جیسے کہ اسرائیل نے پانچ ہزار سال پرانی ابرانی زبان کو؟ نوبت ان کے یہاں، اس حد تک پہونچی کہ فرسٹ کلاس ویٹنگ روم کے مسافر بیت الخلا کارخ کرنے لگے اور بیت الخلاءکے متلاشی درجہ اول کے مسافر خانے میں جھانکنے لگے؟ تو نہرو جیسے کٹر ہندوستانی چیخ اٹھے اور اپنے ریلوے منسٹر پر ریلوے پلیٹ فارم پر ہی برس پڑے کہ “ منتری جی !ایسی زبان استعمال کرو کہ کم ازکم میں تو سمجھ سکوں “ ہندوستانیوں نے اپنی اس شدت پسندی کو جہاں تبدیل کرنا ضروری سمجھا وہاں نظر ثانن کرلی ؟جیسے کہ ان کی فلم انڈسٹری بالی وڈ جوکہ ہالی وڈ کی ٹکر پر تھی اور اب مرنے جارہی تھی۔ اس میں جو تبدیلی کی تھی وہ انہوں نے واپس لیکر اپنی ڈوبتی ہوئی صنعت کو بچالیا اور اسکے لیے فارسی اورعربی کے الفاظ اپنی ڈکشنری میں شامل کرلیے؟جبکہ اس کے برعکس ہمارے یہاں عملی کام کم اور نعرے زیادہ لگاؤ کا اصول رائج رہا؟ پہلے پاکستان کا اکثریتی صوبہ ناراض ہوا۔ جہاں اردو کا اتنا احترام تھا کہ اگر اردو میں لکھا ہوا ردی کاغذ بھی سڑک پر پڑاہوتا تو وہ چوم کر اور اٹھاکر کہیں رکھدیتے؟ اب اسی کو وہ پاؤں سے روند کر گزرنے لگے ۔
آخر بڑی مشکل سے 1956 کا دستور بنا جو کہ برابری کی بنیاد پر تھا؟ انہوں نے اپنی چار فیصد اکثریت اپنے مغربی پاکستان کے بھائیوں کے لیے چھوڑدی ۔ مغربی پاکستان کو برابر لانے کے لیے سب صوبوں اور ریاستوں کو ملاکر یک صوبہ بنا یا گیا؟ جس کی سرکاری زبان اردو بنانے کا اعلان ہوا۔ اس کے نتیجہ میں مقامی زبانوں کو چھیڑ دیا گیا اور سندھی جو مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مکمل تھی۔ ان کے یہاں بھی سندھی ختم کر کے اردو رائج کرنے  کی کوشش کی گئی تو یہاں بھی اردو معتوب ہوگئی۔ مختصر اًیہ کہ پاکستان دولخت ہوگیا ؟ اور ونٹ یونٹ پاکستان بن گیا۔ صوبے بحال کردیئے گئے۔ سندھ میں لسانی فسادات شروع ہوگئے؟ پھر1973 کا دستور بن گیا اور اس میں اردو کو بطور قومی زبان کے اپنانے کے لیے ایک مہلت رکھدی گئی جس پر کبھی عمل نہیں ہوا ؟ اور اس پر ظلم یہ ہوا کہ تمام اسکول قومیا لیے گئے اور بد انتظامی کی وجہ سے وہ سب کے سب اسکول فیل ہوگئے جہاں اردو پڑھائی جاتی تھی۔
جبکہ اشرافیہ شروع سے ہی سے عام اسکولوں کے بجائے اپنے بچوں کو انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلاکر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن اور امریکہ بھیجدیتی تھی؟ ہماری قیادت اس سلسلہ میں شروع سے ہی اپنے منشور کے سلسلہ میں مخلص نہ تھی؟ جس کی وجہ سے وہ کردار کا حصہ نہیں بن سکا۔ نہرو لیاقت معاہدے کے موقعہ پرجب پنڈت نہرو پاکستان آئے تو لیاقت علی خان سوٹ میں ملبوس تھے جبکہ نہرو شیروانی میں تھے؟ انہوں نے اردو میں تقیریر کی جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے انگریزی میں ۔اس پر انہوں نے طعنہ دیا کہ “ مسٹر لیاقت علی! یہ ہی وہ تہذیب ہے جسے تم بچانا چاہتے تھے “ہماری اس گومگوں کی پالیسوں نے جو ابھی تک جاری ہیں قوم کو کہیں کا نہیں چھوڑا؟ کبھی بات صاف نہ کی جس سے بد گمانیاں پیدا ہوتی رہیں ؟ دستور دیکھئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ یہ کسی ایسے ملک کا دستور ہے جہاں کے لوگ اس پر عمل کرکے اب تک فرشتے بن چکے ہونگے؟ مگرعملی طور پر کیا ہے ،اسے جانے دیجئے میں نہیں بتاؤںگا ، جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ مسلمانو ایسی بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے ،یہ بات اللہ کو سخت ناپسند ہے “ لیکن ہم لوگ کچھ بھی کریں اسکے باوجود اللہ کے پسندیدہ اور بر گزیدہ بندے ہیں ؟
اب ایک اردو کے عاشق جناب اقبال صاحب زر کثیر خرچ کرکے سپریم کورٹ تک پہونچ گئے ہیں( حالانکہ یہ کام انہیں کرنا چاہیے تھا جو اردو کے طفیل دولت میں کھیل رہے ہیں) اور خبر یہ ہے کہ عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلی پیشی پر حکومت سے یہ پوچھ کر بتائیں کہ اردو دستور کے مطابق قومی زبان کب بنے گی؟ جولوگ دستور کی اسلامی دفعات نافذ کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ اراکین چیخ اٹھتے ہیں کہ خدارا یہ قانوں ہم پر لاگومت کریں ورنہ ہم سب نا اہل قرار پا ئیں گے؟ جبکہ ،جن کے نفاذ کی کوئی مسلمان تو مخالفت کر ہی نہیں سکتا، اسکے ساتھ یہ سلوک ہے تو اردوتو  صرف زبان ہے جو جز دستور ہے جزِ ایمان نہیں ہے اسے کون برداشت کریگا؟ دیکھیں حکومت اسکے بارے میں کیا کہتی ہے اور عدالت کیا حکم دیتی ہے؟ ہمارا مشورہ حکومت کو یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ صاف صاف کہدے کہ دستور ہم نے اچھا دکھانے کےلیے بنایا ہے اور عمل کرنے کے لیے نہیں تاکہ عدالتوں کا وقت بھی بچے اور حکومت کو بھی دستور ِ پاکستان سے آزاد ہوکر کھل کھیلنے کاموقعہ ملے؟ تاکہ ہمارے بہت ہی مقتدر شاعر جناب رئیس امروہوی کی یہ پرانی خواہش پوری ہوجائے کہ ً اردو کاجنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ً اور ان کی بیچین روح کو سکون مل سکے؟

Posted in Articles | Tagged ,

کچھ باتیں اپنی بہنوں سے ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

آج میں صرف اپنی بہنوں سے مخاطب ہوں چونکہ میں جانتا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ میری بہنیں پڑھتی ہیں اس مرتبہ میں جو کچھ کہنے جارہاہوں اسی امید پرکہ وہ اسے ہمیشہ کی طرح پورے یقین اور بہت ہی غور سے پڑھیں گی۔ کیونکہ میرے دَور کا معاشرہ تقریباً تباہ ہوچکا ہے آپ میں سے شاید ہی کچھ نے اسکے کچھ کھنڈرات دیکھے ہوں۔ جن بہنوں نے نہیں دیکھے ان کو سب سے پہلے تو میں یہ بتاتا چلوں کہ میں نے آج سے ستر سال پہلے خواتین کے ماہنامہ حریم لکھنئو سے لکھنا شروع کیا تھا جس کے ایڈیٹر نسیم انہونوی مرحوم تھے۔ان کے دل میں مسلمانوں کادرد تھا وہ ہمارے اسوقت کے میر کارواں تھے اور بدلتے ہوئے مسلم معاشرے کو دیکھ کر کڑھ رہے تھے۔ (جبکہ اب میر ِ کارواں پھر ایک درمند انسان جناب صفدر ھمدانی ہیں) اس دور میں دادیوں اور نانیوں کاراج  تھا، ان کی گود پہلا مدرسہ بنتی تھی وہ اپنادن قرآن شریف پڑھانے سے شروع کرتی تھیں اور ختم اول رات میں مشاہیر اسلام کے قصے سنا کرکرتی تھیں ۔ بلا امتیاز بچوں کے کانوں میں خاص طور سے انبیائے کرام  (ع) ،صحابہ اور صحابیات عظام  (رض)کی سیرت قصوں کی شکل میں ڈالتی تھیں۔فلم دیکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، شرفا دیکھتے ہی نہیں تھے۔ ہمارے دلوں مییں نہ جانے کیوں یہ اندیشہ تھا کہ معاشرہ اب بکھر نے کو ہے ؟بندھ باندھنا چاہتے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہوگیا خاندان بکھر گئے اور وہ مدرسے اوروہ گودیں خاندانوں کے بگڑنے سے خود بخود دم توڑ گئیں۔ مجھے ہجرت اختیار کرنا پڑی وہ وہاں رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے؟ اور میں ملکوں، ملکوں کی خاک ابھی تک چھانتا پھر رہا ہوں؟ مگر میرا قلم اس دوران بھی رینگتا رہا اور اب ذمہ داریوں سے پچیس سال پہلے سبکدوش ہونے کے بعد سے  پھردوڑنے لگا۔  میرا خیال ہےکہ اگر نانیاں اور دادیا ں دوبارہ اپنا کردار سنبھال لیں تو آج بھی بچے تعلیم کاتناسب بڑھ جانے کی وجہ سے دین کے لیے کہیں بہتر ثابت ہونگے۔ جوکہ دین کو نہ جاننے کی وجہ سے یاتو شدت پسندی کا شکار بن رہے ہیں یامذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ شدت پسندی کاجن پہلے بھی بوتل سے باہر آیا تھا اور دنیا اسکے سامنے بے بس ہوگئی تھی جس کواللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہلاکو جیسے ظالم کو بھیج کر ختم کیا۔1900 ع کے اوائل میں اپنے مکروہ عظائم کے لیئے اسکو اغیار نے پھر بوتل سے نکال لیا جس میں معاونوں میں ایک عالم اورایک عرب سردار شامل تھے انہوں نے اسے کامیابی سے  استعمال کیا اور اپنی 1933؟  میں مشترکہ حکومت قائم کرلی ؟اب صورت ِ حال یہ ہے کہ وہ خود اسکے شکار ہیں اور اس کے سامنے بے بس ہیں؟
جبکہ ہمارے یہاں یہ عجب مشکل ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ شدت پسندی غالب آجاتی ہے ۔ کبھی تو رسم و رواج اتنے غالب آجاتے ہیں کہ ہم دین کو لپیٹ کر ایک طرف رکھدیتے ہیں ؟ کبھی مذہب میں اتنی شدت پسندی آجاتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔ حالانکہ اسلام دین ِ وسطیٰ یعنی ایک اعتدال پسند مذہب ہے اوریہ آیت اس کی مظہر ہے کہ “ دین میں جبر نہیں “ یہ شدت پسندی کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمیں ہر میدان میں مسائل ہی مسائل کا سامنا ہے۔ جو روز بروز کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں ۔ مثال کے طور پر لڑکیوں کی شادیوں کا مسئلہ؟ یہ شکایت ہر جگہ عوام ہوتی جارہی ہے کہ نقاب پہننے والی لڑکیوں سے لڑکے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جبکہ لڑکیا ں نقاب اتارنے کو تیار نہیں ، تو بات بنے تو کیسے بنے؟ وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کے ذہن میں وہ خوف جگہ لے لیتا ہے ، کہ اس شادی کے نتیجہ میں انہیں اپنے عزیزوں سے بھی محروم ہونا پڑیگا۔ کیونکہ اسکے ساتھ وہ شدید قسم کا پردہ چھپا ہوتا ہے جو معاشرے سے کاٹ کر رکھدیتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اجتماعی خاندانی طریقہ رائج ہے لہذا ایسے گھرانوں میں اور بھی مشکلات ہیں جہاں دیور اور جیٹھ ساتھ رہتے ہوں؟حتیٰ کہ قریبی رشتہ داروں کو بھی شوہر گھر پر نہ ہو تو نا محرم عزیزوں کو ڈرائنگ روم تک بھی آنے کی اجازت نہیں ہوتی ؟ اگر وہ پردیسی ہے اور اپنے سگے بھائی سے ملنے آیا ہے اور وقت رات کا ہے اور جگہ دیہات ہے تو یہ مسافر کہا جائیگا کیا پھر دوبارہ وہ کبھی بھائی کے گھر آئے گا اور عزیزداری باقی رہے گی؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔
یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی کہ ہم نے رسم ورواج کو دین سمجھ لیا۔اور وہ زیادہ تر آجکل ان ملانیوں کے ذریعہ پھیل رہا ہے جو شدت پسند ہیں اور اصل دین سے نابلد بھی اور ہم ان کی کارستانیوں سے نابلد یوں رہتے ہیں کہ وہاں علماءاور گھر کے مرد پردے کی وجہ سے پر نہیں مارسکتے؟ جبکہ وہاں مسلمان خواتیں خصوصاً بچیوں کو شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی اسلام کے نام پر؟ اور طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ پہلے گھر کی بزرگ خواتین کو شکار کرتی ہیں؟ چونکہ وہ عمر کے اس حصہ میں ہوتی ہیں جہاں خوف خدا زیادہ دامنگیر ہوتا ہے۔ دوسری طرف جوبچے ادیان کا تقابلی مطالعہ درسگاہوں میں کر رہے ہیں انہیں اساتذہ ایسے ملے ہوئے ہیں جو انہیں فرقہ پرستی پڑھا رہے ہیں؟
اس لیے،میں اپنی بزرگ بہنوں کو یہ مشورہ دینا چاہوں گا کہ یہ بڑا اچھا جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ آخری وقت میں اپنی رحمت سے دلوں میں پیدا کرتا ہے تاکہ میرابندہ یا بندی سنبھل جائے ،اسکا نتیجہ جو مرتب ہوتا ہے وہ اس حدیث سے واضح ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ “ایک فرد زندگی بھر برائیاں کرتا ہے اور آخری وقت میں توبہ کر کے اس پر قائم ہوجاتا ہے توجنت کا حقدار بن جاتا ہے، اسکے برعکس ایک فرد زندگی بھر نیکیاں کرتا رہتا ہے اور آخری وقت میں گمراہ ہوکر جہنمی بن جاتا ہے “ اپنی عاقبت سنوارنے کےلیے  بزرگ بہنیں اپنی جگہ دوبارہ سنبھا ل لیں تو یہ ان کے لیے بھی بہتر ہوگا کیونکہ زندگی کو ایک مقصد مل جائے گا جبکہ ریٹائر منٹ  کےبعد بے مقصد جینا بہت مشکل ہوتا ہے! اپنے منصوبے پر دوبارہ غور کریں اور لمبے منصوبوں میں نہ جائیں مثلا ً جیسے کہ ملانیاں کہتی ہیں کہ پہلے آپ قرآن کاتلفظ درست کرلیں یعنی تجوید قر آن مکمل کرلیں پھر دوسرے کام کریں یہ پہلے ہونا چاہیے تھا؟ مگر اب آپ کے پاس وقت کم ہے؟ اسکے بجائے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنادین آتا ہے بس اسی پر عامل ہوکر وہی دوسروں کو پہنچا دیں، جس کا حکم حضور (ص) نے دیا ہے؟ دوسراعلم بڑھانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ حضور (ص) کی سیرت اپنی زبان میں پڑھیں اوراس پر عمل شروع کردیں اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے یہ فرماکر سند دیدی ہے کہ “ تمہارے لیئے تمہارے نبی کا اسوہ حسنہ (ص) کافی ہے “ چونکہ اسوہ حسنہ مجموعہ ہے تمام ہدایات کا۔ اسی کو اپنے نواسی نواسوں پوتی پوتوں اور ہمسایہ کو پہونچانا شروع کردیں ،اس طرح آپ اپنی آخرت بھی بنالیں گے اور وہی بچوں تک پہونچاکر صدقہ جاریہ بھی چھوڑ جائیں گی کیونکہ یہ حدیث مشعل راہ ہے کہ ایک دن حضور (ص) نے فرمایا کہ “ وہ فلاح پاگیا “صحابہ کرام  (رض)نے پوچھا کون؟ فرمایا ، “ جس کو اللہ نے دین کا علم دیا اور اس نے بانٹا، جس کو اللہ نے دولت دی اور اس نے اس کی راہ میں خرچ کی ، اور جس کو قناعت عطا ہوئی “
پھر قوم کو ان برے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو کہ یورپین ملکو ں میں ملانیو کی شدت پسندانہ تعلیم سے مرتب ہو رہے ہیں کہ بچے زیادہ تر غیر مسلموں میں شادیاں کر رہے ہیں جو تہذیب کے فرق کی وجہ سے اکثر ناکام ہو تی ہیں اور ان کی زندگی برباد کرنے کاباعث بنتی ہیں یہاں مردوں کی حد تک تو شدت پسندی پر نگاہ رکھنا آسان ہے۔ لیکن خواتین میں جو شدت پسند قسم کی خواتین تبلیغ کر رہی ہیں ان پر معتدل مسلمانوں کا نگاہ رکھنا بہت مشکل ہے ؟کیونکہ وہ پہلے ہی پردے کی آڑ لیکر تمام مردوں کاداخلہ بند کر دیتی ہیں اور دنیا سے الگ کر کے پھر وہ جو سبق پڑھاتی ہیں وہ شدت پسندی ہے اوران کے مرد خوش ہورہے ہوتے ہیں کہ ہماری خواتین اچھی با تیں سیکھ رہی ہیں۔ انہیں پتہ جب چلتا ہے کہ پانی سر سے اونچا ہو جاتا۔ جیسے کہ انگلینڈ میں عام ہے کہ لڑکیا ں یکایک گھر سے غائب ہوجاتی ہیں وہ پولس میں اغوا کی رپور ٹ درج کراتے ہیں! بعد میں خبر آتی ہے کہ وہ اپنی خوشی سے سیریا (شام ) مجاہدین کی بیویاں بننے چلی گئیں ہیں ۔ دوسری طرف صورت ِ حال یہ ہے کہ مسلم بچیاں یاتو شادی ہی نہیں کرتی ہیں اور ذہنی مریضہ بن کردین اور معاشرے دونوں کے لیے بیکار ہوجاتی ہیں! یا پھر اتنی آزاد ہوجاتی ہیں کہ غیر مسلموں سے شادی کرلیتی ہیں جو اسلام میں ان کے لیے جائز نہیں ہے ۔ لہذا اس افراط اور تفریط کو ختم کرنے کے لیئے مسلمان مردوں کو چاہیئے کہ وہ ان شدت پسند ملانیوں پر بھی نگاہ رکھیں، ورنہ آئندہ چل کر نئی نسل اسلام سے بہت دور چلی جائے گی ؟ اتنی دور کہ واپسی ناممکن ہو گی؟ اور اس سلسلہ میں ہر شخص انفرادی طور پر کوشاں ہو جائے، ممکن ہے کہ آپ پوچھیں کہ ایک فرد کی کوشش سے کیا ہوگا؟ آپ نے وہ مثل تو سنی ہوگی کہ ایک اور ایک مل کر گیارہ ہوجاتے ہیں؟ اسکو سمجھنے کے لیے میں ذیل میں تاریخ کا ایک حصہ پیش کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیں؟
میں یہاں اسکی دومثالیں پیش کررہا ہوں؛ انیسویں صدی میں قوم شرک و بدعات میں اتنی بہہ گئی تھی جس میں کہ صنف نازک تعلیم سے نا بلد ہونے کی وجہ سے سب سے آگے تھی؟ صرف ایک عالم نے ایک سردار کے ساتھ مل کر اصلاح کے نام پر حرم پر قبضہ کرلیا اپنا فقہ نافذ کرکے فائدہ اٹھایا اور یہ کوشش کی کہ ساری دنیا میں اپناہی مذہب پھیلائیں اور سب کو شدت پسندی عطا فرمائیں۔ دوسری طرف ہمارے یہاں ایک صوبے میں ظلم اتنا بڑھ گیاتھا کہ مسلم خواتین کو وراثت تک سے محروم کردیا گیا اور خلع کا حق بھی ان سے چھین لیا گیا ۔اس کے مقابلہ کے لیے دوسرے اکیلے عالم علامہ راشدالخیر ی (رح) اور صرف ایک “مسٹر “ سر محمد شفیع (رح) میدان میں آئے اور ایک بڑے خطرے کو ٹالدیا؟علامہ صاحب نے معتدد اصلاحی کہانیاں نانی عشّو،اصغری اور اکبری جیسی لکھیں اور سر محمد شفیع مرحوم نے جو کہ برطانوی حکومت میں بہت اہمیت رکھتے تھے ان کی مدد کی۔ بڑی جدو جہد کے بعد خواتین کےوہ دونوں حقوق وہاں بحال ہو ئے۔ بظاہر یہ دونوں باتیں بہت ہی معمولی سی لگتی ہیں۔ حالانکہ اس کے جو اثرات مرتب ہورہے تھے وہ بہت برے تھے۔ خواتین کو حصہ نہ دینا قر آن کے مطابق ایک ظلم ہے ،تمام مسلمان نسلاً بعد نسلاً اس ظلم کے مرتکب ہو کر ہر ظلم کرنے کے عادی ہو تے جا رہے تھے کیونکہ انسان کے قلب پر ایک حدیث کے مطابق “ پہلاگناہ کرنے پر ایک تل برابر کالا نشان پڑتا ہے پھر وہ گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے حتیٰ کہ پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے “ ہمارے یہاں یہ بات عام ہے کہ ظلم صرف مارپیٹ کو سمجھا جاتا ہے ؟مگر قرآن میں ظلم کی جو تعریف ہے وہ یہ ہے کہ “ظلم ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس سے کسی کو اس کے اصل حق سے محروم کردیا جا ئے “ مثلا ً اللہ سبحانہ تعالیٰ خالق ہونے کی وجہ سے لائق ِ عبادت ہے ،صرف اور صرف وہی قابل عبادت بھی ہم اس کے شریک خود گڑھ لیں؟
چنانچہ اس فعل کی مذمت علامہ نے اپنی تمام تصنیفات میں کی ، دوسری ظلم کی یہ صورت تھی کہ اگر بیوی چاہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے حقِ علیحد گی عطا کیا ہوا تھا۔جوکہ غصب کرلیاگیا، تو نتیجہ کے طور صرف علیحدگی کے لیے مسلم خواتین کی بہت بڑی تعداد مذہب تبدیل کرکے عیسا ئی بننے لگی۔ان دونوں بزرگوں نے بڑی شدومد سے تحریک چلائی جس سے مرداور خواتین دونوں میں بیداری پیدا ہوئی اور مسلمانوں کی اس ظلم سے برِ صغیر ہندوستان میں جان چھٹی۔ قوم  انہیں بھول گئی جبکہ پھل مدتوں سے کھا رہی۔ مگر یہ دونوں بزرگ بے لوث تھے ان کے اپنے کوئی مقاصد نہ تھے۔اس طرح اپنے  پیچھے ایک صدقہ جاریہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے؟  جسکا ثواب انہیں تا قیامت ملتا رہے گا۔

Posted in Articles

ایک تیر سے دو شکار۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

آپ نے یہ مثال سنی ضرور ہوگی ، ویسے ہر معاملہ میں ہمارے علماءجائز اور ناجائز کا فتویٰ دیتے رہے ہیں، مگر خصوصی طور پر اس سلسلہ میں جب بھی یہ کسی دور میں حکمرانوں یا رہنما ؤ ں نے انہیں استعمال کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ بڑی فراخ د لی دکھائی ؟ اور اس سلسلہ میں کنجوسی ہم نے تاریخ میں کہیں نہیں دیکھی ،ہونا بھی نہیں چاہیئے کیونکہ اسلام بخالت سے منع کرتا ہے۔ مسلم دنیا کی تاریخ تو بہت طویل ہے ۔ کیونکہ ہاں میں ہاں ،ملانابغیر سوچے سمجھے ہمارا وطیرہ رہا ہے۔ بلکہ کچھ نے توا سلام میں بادشاہت کا جواز بھی ڈھوندلیا ہے، اوریہاں تک بڑھ گئے کہ ایسی روایات بھی ڈھوندلی ہیں کہ بادشاہ کے ساتھ 21 ولیوں کی طاقت ہوتی ہے اور ظل ِ سبحانی (اللہ تعالیٰ کاسایہ ) بھی اسے بنا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی حکمراں اسلامی طریقہِ انتخاب سے منتخب ہوکر آیا ہو اور عادل ہو اور متقی ہو تو اسکی بڑی تعریف آئی ہے۔ وہ بے شک جنت میں حلقہ ابرار کے ساتھ ہوگا؟ مگربغیر تحقیق کے کہ ان کاکردار کیا ہے اس قسم الفاظ ان کے لیے استعمال کرنا میرے خیال میں تو گناہِ عظیم ہے۔ جس کی حضور (ص) نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کہنے سے پہلے یہ تتحقیق کرلیں کہ اس نے یا اسکے اجداد نے حکومت ہتھیائی تو کیسے ہتھیائی اوروہ بھی کیا ظلِ سبحانی تھے؟ جو ایک رات میں لاکھوں ڈالر جوئے میں ہار گئے تھے؟ اور وہ بھی جن کے اجداد نے حضور (ص) سے کہا تھا کہ تم (ص) ادھر کارخ نہ کرنا کیونکہ تم  (ص)آل سہیل میں سے ہو اور ہم آل مدار میں سے ہیں ہم کسی صورت اسلام قبول نہیں کریں گے۔ بعد میں انہیں کی طرف رخ کرنے کے جرم میں وہ 70حفاظ بئیر معونہ میں ان کے سردار امر بن طفیل کے ہا تھوں شہید ہوئے جو حضور (ص) نے وہاں تبلیغ کے لیے بھیجے تھے۔ پھر حضور (ص) کے زمانے میں ہی اپنے اوپر قریش کی برتری ختم کرنے کے لیے اپنے میں سے ایک جھوٹا نبی مسلمہ کذا ب پیدا کرلیا اور اسکے بھی ہاتھوں سے بہت سے مسلمان بہت بری طرح شہید ہوئے جبکہ قرآن میں مثلہ حرام کردیا گیا تھا ( البدایہ والنہایہ ابن کثیر)۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بدعت کے نام پر جو موجودہ سعودی حکومت کے دور میں مزارات مسمار کیے گئے اس کے پیچھے بھی قریش سے جذبہ انتقام کار فرماتھا ؟ خیر اس قصے کو بھی چھوڑ یے کہ کس کا کردار کیا تھااور کون کن کن ہتھکنڈوں سے بادشاہ بنا ؟چونکہ نجدی کبھی حجاز پر حکمراں نہیں رہے ،اس صورتِ حال کا تصور کیجئے کہ انہیں کتنی کراہیت کے ساتھ حجازیوں نے بطور حکمراں برداشت کیا ہوگا جبکہ حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہو کہ عرب کبھی غیر قریش کی قیادت قبول نہیں کریں گے؟۔ لیکن ہر ایک دور کے درباری اور حکمراں اس مثال کو بہت خوش اصلوبی کے ساتھ استعمال کرتے رہے ۔مثلا ً جب پاکستان بن رہا تھا تو یہ نعرہ کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ؟ پھر پاکستان بن جانے کے بعد جنرل ضیاءالحق صاحب کا ریفرنڈم میں یہ نعرہ کہ اگر اسلام چاہتے ہو تو مجھے ووٹ دو ، وغیرہ ، وغیرہ۔ جبکہ مسلمانوں نے یہ سب تجربات کر دیکھے لیکن اسلام ابھی تک پاکستان میں داخل نہیں ہوسکا اور سرحد کے باہر سے جھانک کر “ اے تا “ کر رہا ہے؟ اس سمت میں ابھی تک ہوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ حکمراں کہتے کچھ رہے اور کرتے کچھ رہے ہیں ۔
ہمارے ایک دوست بہت سادہ لوح تھے لیکن ساتھ میں مومن کی فراست بھی رکھتے ان کا نام تھا مولانا وصی مظہر ندوی  (رح)انہوں نے کبھی کہیں مار نہیں کھائی؟ اگر ان کی زندگی دیکھنا تھی تو وہ صحابہ کرام کا نمونہ تھے ، ضیاءالحق سے ملا قات کرنے گئے ،اور انہوں نے کہا کہ مولانا میں اسلام نافذ کرنے کو تیار ہوں آپ میرے وزیر مذہبی امور بن جا ئیے ، اور وہ بن گئے۔ ضاءالحق کو دس سال سے زیادہ حکومت کر نے کے لیے ملے۔ انہوں نے وہی مجموعہ تعزیرات ہند جو اب تعزیرات پاکستان کہلاتا 1935 سے انڈیا ایکٹ کے نام سے چلاآرہاتھا۔باقی رکھتے ہو ئے پاکستان میں اسلامی حدودنافذ کردیں ؟ جس سے کسی کو فائدہ ہوا ہو یانہ ہوا ہو؟ لیکن پولس کو ضرور ہوا کہ اگر ہاتھ اپنے بچانے ہیں ، تو ریٹ رشوت کادگنا ہو گا، ورنہ ہاتھ سے ہاتھ دھو بیٹھو؟ جبکہ جہاں تک ہمیں یاد ہے کوئی خبر کسی اخبار میں نہیں آئی کہ کسی کا ہاتھ کاٹا گیا ہو ؟ اس لیے کہ چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا اس صورت میں ہے جب اسلامی فلاحی ریاست ہو؟ ورنہ بھوکے آدمی نے اگر کسی کے فرج سے کچھ چرا کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لیا تو اس پر حد جاری کر نے میں علماءکااختلاف ہے اسی طرح ایک دوسری دفعہ کا بھی غلط استعمال ہو اجو قتل ِ عمد کے بارے میں ہے وہ “ ڈیوڈ “جیسے ملزموں کو چھوڑنے کے لیے استعمال ہوئی۔ تیسری چیز انہوں نے کوڑوں کی سزا رو شناس کرائی جو انہوں نے اور کہیں استعمال نہیں کی، مگر پی پی کے جیالوں کو کچلنے کے لیے ضرور با قاعدگی سے استعمال کی جس سے اس مرد ِ حق نے دنیا میں اسلام کا نام کافی بلند کیا اور چلتے چلتے سعودیوں کی دوستی میں پاکستان کو طالبان کے سپرد کر کے چلاگیا ۔ جسے پاکستان آج تک بھگت رہا ہے؟
ضیا ءالحق صاحب ایسے موقعہ پر جب وہ مجبور نظر آتے تھے، تو فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس کوئی گیڈر سنگی نہیں ہے جو میں تمام مسائل حل کردوں ( شایدبھولے آدمی تھے اسکا پس منظر نہیں جانتے تھے ورنہ وہ یہ کبھی استعمال نہ کرتے)؟ لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر انکساری جو مڑی ہوئی تھی وہ گیدڑ سنگی نہ سہی گیڈر سنگی کی ہمشیرہ ضرور تھی جس سے وہ آدمی کو شیشہ میں اتارلیتے تھے۔ کہ مولانا آخر وقت تک اس بات کے قائل رہے کہ اس بیچارے کو وقت ہی نہیں ملا ، ورنہ وہ اسلام ضرورنافذ کر دیتا ؟ حالانکہ ضیاءالحق کا دور ، خلیفہ دوئم حضرت عمر (رض) کے دورسے زیادہ تھا جنہوں نے ساری اصلاحات اور اسلام اتنے عرصہ میں پوری طرح نافذ کردیا تھا جس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ جبکہ اس دور میں وہ وسائل بھی نہیں تھے جو آج ہیں ؟ صرف ایک مثال لے لیتے ہیں جو فوج سے متعلق ہے۔ پہلے فوج کی تنخواہ مقرر نہیں تھی، انہوں نے مقرر کی اور فوج پر پابندی لگادی کہ وہ ممالک محروسہ میں زرعی زمین نہیں خرید سکے گی؟ جبکہ ضیاءلحق صاحب اس سلسلہ میں بھی انگریزوں کی پالیسی ، فوجیوں کوجاگیروں اور پلاٹوں وغیرہ سے نوازنا اپنائے رہے؟
دوسر شکارایک ناقابلِ تسخیر بزرگ رہنما نواب زادہ نصر اللہ خان تھے، ان کو بھی کوئی مسخر نہ کرسکا مگر ضیاءالحق صاحب نے انہیں بھی قائل کرلیا! وہ خود تو شامل نہیں ہوئے مگر انہوں نے اپنے چند وزیر دیدیے ،لیکن بعد میں وہ اس پر ہمیشہ پچھتاتے رہے۔
سہروردی اکادمی کا میں سکریٹری جنرل تھا ، اور ان کی صاحبزادی بیگم اختر سلیمان صدر نشین ، نوابزادہ صاحب کہیں ہوں سہروردی صاحب کی برسی کو کبھی ترک نہیں کرتے تھے اس میں ضرور تشریف لا تے تھے اس دور میں بھی تشریف لائے تو لوگوں نے ان کی توجہ ضیاءلحق صاحب کے وعدوں کی طرف دلائی اور سوال کیا کہ اب آپ اس حکومت کے خلاف تحریک کب چلا رہے ہیں ؟ تو کہنے لگے عنقریب شروع کرنے والا ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ“ نوابزادہ صاحب پہلے ہمیں اس بات پر فخر تھا کہ ایک ایسا آدمی ہمارے درمیان ہے جو کسی آمر کے ہاتھوں دھوکہ نہیں کھاسکتا؟ مگر اب یقین متزلزل ہوگیا ہے۔ تو کہنے لگے کہ ہاں! یہ مجھ سے غلطی ہوگئی“
تمہید بڑی طویل ہوگئی اسی کے مماثل آج کل ایک تحریک چل رہی ہے جس کو ہمارے کچھ دانشوروں، چندہ خوروں ، وظیفہ خواروں،اور خود پاکستان کی حکومت نے شروع کر رکھا ہے کہ سعودی بادشاہت کادفاع حر مین شریفین کا دفاع ہے؟ اور حرم خطرہ میں ہے ہم اس کو بچانے کے لیئے اپنی جانیں قر بان کردیں گے۔
حالانکہ یہ دو علیحدہ باتیں ہیں۔ پہلے تو یہ ہے کہ واقعہ “اصحاب ِفیل “ جو قرآن میں بیان ہوا ہے اس میں پوری دنیا کو چیلنج ہے کہ ایک سر پھرے نے حرم کے خلاف جراءت کی تو اس کاانجام کیا ہوا جو دنیا بھر کو ازبر ہے؟لہذا کوئی غیر مسلم تو اس کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اور رہے مسلمان ایسا کوئی بے حمیت ہو نہیں سکتا جو اس پر جان دینے سے کترائے ؟ مگر یہ کہنا بے انصافی ہے کہ بادشاہت کا دفاع حرمین شریفین کا دفاع ہے ۔ البتہ کہنے والوں کے اس فعل پر“ ایک تیر سے دوشکار کرنے والی مثال صادق آتی ہے“ اور ہم ایک دفعہ پھر پھنسنے جارہے ہیں؟ جبکہ سعودی عرب علاقے میں داروغہ کا کردار اپنائے ہوئے ہے لہذا آج اِس سے لڑتا ہے تو کل اُس سے لڑتا ہے؟ ہم اس کے لیے کس ، کس کو دشمن بنا ئیں گے؟ آخر یہ ہمیں سے مطالبہ کیوں ہوتا ہے کہ ہم اس کی لڑائی لڑیں ، ہمارے علاو ہ وہاں ہندوستانی ، بنگلا دیشی ، کورین۔ وغیرہ ملازمتوں میں ہم سے کہیں زیادہ ہیں ،جسکی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ سستے ملتے ہیں اور “ یس سر“ کرنے والے ہوتے جبکہ پاکستانی مہنگے بھی پڑتے ہیں اور برابری الگ کرتے ہیں ؟ دوسرے صرف مسلمانوں کی بات ہے تو پھر ترکی ہے ملائشیا ہے۔ انڈونیشیا ہے۔ ان سے وہ مدد کیوں نہیں مانگتے ، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب ہمارا واحد اور شروع دن سے مخلص دوست ہے۔ وہ ذرا یہ بھی بتادیں کہ شاہ فیصل سے پہلے اسکا رویہ پاکستان کے ساتھ کیا تھا؟ اسوقت کے سعودی باد شاہ کا یہ فرمان ریکارڈ پر ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کامستقبل ہندوستان کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ پھر دانشوروں کو یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ دنیا میں مسلم آمروں کے خلاف جن جن ملکوں میں تحریک چلی تو کوئی انہیں بچا نہیں سکا اور وہ ملک تباہ ہوگئے ان کی اجڑی تصاویر ہمارے سامنے ہیں نہ تیونس بچ سکا نہ لبیا اور نہ مراقش۔ اسی طرح اب جوشاہوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے تو یہاں بھی ان کو کوئی بچا نہیں سکے گا؟ یہ مکافات عمل ہے اسکے آگے کوئی بند نہیں باند ھ سکتا، جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں سعودی جاتے ہیں اپنا سعودی برانڈ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں جس کے نتائج سے دنیا اب بہت زیادہ خوف زدہ ہے، اس لیے اسکے پھیلنے کہ امکانات نہیں رہے ہیں؟ گوکہ بد گمانی اسلام میں منع ہے؟ مگر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ “ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں ہیں کہ ہمارے حکمرانو ں کامفاد ان کے ملک میں ہے “۔ واللہ عالم ۔ البتہ ہمارے خیال میں موجودہ صورت ِ حال میں فوج باہر بھیجنا اور مزید دشمن پیدا کرنا پاکستان کے لیے خود کشی کے مترادف ہوگا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اس عقلمندی سے محفوظ رکھے ۔آمین

Posted in Articles | Tagged ,

اب کون جانے ہمارے لیےاچھا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے آباو اجد اد اس ایک کے ہورہے تھے۔ اور انہوں نے یہ ادراک اس نسخہ کیمیا سے حاصل کیا تھا جو ہمارے پیغمبر (ص) پر نا زل کر کے اور ان کو ہمارے درمیان بھیج کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہم پر احسان ِ عظیم فرمایا تھا۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کوئی صرف اس سے ڈرنے لگے اور پانچوں وقت دعا مانگنے لگے کہ “ مں تیری ہی عبادت کر تا ہوں اور تجھی سے دعا مانگتا ہوں “ تو پھر وہ اس بندے کا ولی بن کر کفیل بن جا تا ہے ،وہی اس کے ہاتھ پا ؤں اور آنکھیں بن جاتا ہے۔ لہذا حدیث ِ قدسی کے مطابق“ وہ دیکھتا اسی کی آنکھ سے ہے“ ہر فعل اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں؟ اس سے غلطی کا امکان تقریبا ً ناممکن ہو جاتا ہے۔ پھر زمین اور آسمان سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ جب غیروں کو بھی اس کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ تو معاملہ الٹ جاتا ہے ؟ کیونکہ شرک اسے سخت ناپسند ہے۔ پھر وہی بندہ جو جو کل تک کسی سے نہیں ڈرتا تھا اب وہ اپنے سایہ سے بھی ڈرنے لگتا ہے؟ ایک سے زیادہ کابندہ بننے کے بعد وہ ایک طرح سے فٹ بال کی مانند ہو تا ہے۔جسے کبھی ا یک کھلاڑی ٹھوکر مارتا ہے تو وہ دوسرے کی طرف لڑکا چلاجاتا ہے۔دوسرا کک مارتا ہے وہ تیسرے کی طرف دوڑتا ہے اور لطف یہ کہ کوئی ان میں سے اس پر قسمیں کھانے کے باوجود اعتبار نہیں کرتا ۔ زندگی ان دنیاوی خداؤں کو منانے میں گزرجاتی ہے۔ ہم نے جب سے اس کادامن چھوڑا روز بروز خوار ہو تے چلے گئے۔
جس طرح مشہور ہے کہ جب چنگیز خانی لشکر بغداد کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ تو ہمارے دانشور اس پر بحث فرما رہے تھے کہ کوّا حرام ہے یا حلال؟ اس کا فیصلہ اس نے اسی دن بغداد پہونچ کراور عباسی خلیفہ کو ایک ہاتھی کے پاؤں میں باندھ کر شہر بھر میں گھماکر کیا۔
بچھلے دنوں ہم بھی ایسے ہی ایک مرحلے سے گزرے ہیں ،اس وقت ہمارے دانشور اس بحث میں لگے ہو ئے تھے کہ کراچی کے حلقہ نمبر دو سو چھیالیس میں کون جیتے گا ؟ اور جو سوچنے کی بات تھی اس پر بغیر سوچے  سمجھےخوش ہوکر تالیاں بجا رہے تھے کیونکہ اسکے لیے سوچنے کا وقت نہیں  تھا؟ وہ تھے چین اور پاکستان کےدرمیان اکیاون معاہدات۔ کیونکہ کسی بھی شیخ کے لیے اونٹ کو خیمہ میں داخلہ کی اجازت دینا تو آسان ہوتا ہے مگر اسے خیمہ سے نکالنا پھر شیخ  کےبس کی بات نہیں رہتی؟
جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سے خوش تھا تو اس نے بنی آدم کو بہترین علاقہ دیا ۔ مگر ہمارے تجسس نے اور قناعت کی کمی نے ہمیں ہمیشہ اس طرف متوجہ رکھا کہ ان پہاڑوں پیچھے کیا ہے۔ ہر فاتح آگے بڑھتا اور افغانستان کی زمین اسے الجھا لیتی ؟جبکہ ان پہاڑوں سے ادھر بسنے والوں کی خواہش ہمیشہ یہ رہی کہ ہم بھی ادھر جھانک کر دیکھیں اور گرم پانیوں تک پہونیں؟ اس کوشش میں گزشتہ صدی میں افغانستان ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بنا ۔ مگر روس کو فوجی طاقت سے اوروں  کی طرح نا کامی نصیب ہوئی ، اس کے بر عکس ہمارا ہی ایک پڑوسی جو ہمارے ایک سال بعد آزاد ہوا تھا۔  اس نےبجائے سیاسی طاقت بننے کے جاپان کی مثال اپنا ئی کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں تقریبا ً غلام بن چکا تھا مگر اس نے اپنی پوری صلاحتیں اپنی معاشی حالت بہتر بنا نے میں صرف کردیں اور اس نے یورپ کی مالی شہنشاہیت کو اسی کے ہتھیار سے زیر کرلیا۔ وہی پالیسی چیں نے اپنائی اور وہ اس دوڑ میں اس قدر آگے بڑھ گیا، کہ جو کام روس باوجود سپر پاور ہونے کہ نہیں کر سکا تھا وہ اس نے بغیر فوجی طاقت کے ہماری معاشی بد حالی سے فائدہ ٹھا کر حاصل کرلیا یعنی گرم پانیوں تک رسائی؟
اس کی پہلی اینٹ اس نے اس وقت رکھی جب سنگاپور کا ٹھیکہ ختم کراکر سابقہ حکومت سے گوادر کے بندر گاہ کا انتظام سنبھالا۔ اوراب اسے کا ریڈور بھی مل گیا۔ جبکہ ایک ہی کاریڈور ہمارے لیے  پہلے ہی عذاب بنا ہوا ہے ،جس کو راستہ دیناہماری بین القوامی ذمہ داری تھی اس لئے کہ وہ ملک سمندری راستہ نہیں رکھتا اور چارون طر ف سے دوسرے ملکوں سے گھرا ہوا تھا۔ ہم نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان میں خشک بندر گاہوں کاجال پورے ملک میں جب بلا امتیاز بچھا یا۔ تو صوبہ سرحد (خٰبر پختونخواہ) میں بھی ایسی ایک بندر گاہ بنادی۔  نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری امپورٹ بالکل ختم ہوگئی اس لیے کہ غیرملکی مال بازار میں سستا ملنے لگا، کیونکہ وہ بغیر ڈیوٹی ادا کیے ملتا تھا جبکہ پاکستانی بیوپاریوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی تھی لہذا انہیں نقصان ہوتا تھا۔  پہلے صرف راستے سے مال غائب ہونا شروع ہوا ایل سی کابل میں کھلتی رہی  اور ادائیگی وہاں سے  بھیجنے والوں کوہوتی رہی، مال ہمارے بازاروں میں بکتا رہا۔ پھر اس کاروبار نے مزید ترقی کی تو ہزاروں کی تعداد میں کنٹینر غائب ہو گئے جن کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ آئندہ اس کاریڈور کے فوائد کیا ہونگے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ کوئی معاشی طور پر بد حال ملک جو مالی بیساکھیوں کے سہارے جی رہا ہو اس کی تاریخ میں بہتری کی مثال کم ازکم ہمیں میں دھونڈے نہیں ملی۔ ا یسے ملک کی خود مختاری ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ جس کا مشاہدہ ہمیں آئے دن ہو رہاہے؟ کہ کبھی ایک داتا ناراض ہوتا ہے تو ہمارے وزیر اعظم اسکو منانے جاتے ہیں، کبھی دوسرا داتا ناراض ہو تا ہے تو اسے مناتے جاتے ہیں۔ ملک میں رہنے کاوقت ہی نہیں ملتا کہ ان کی طرف دیکھ سکیں؟ جبکہ ہم اپنے قدرتی جائے وقوع کی بنا پر اس پوزیشن میں تھے کہ ہماری سب مانتے، مگر کہاوت ہے کہ “ بھکاری کو انتخاب کاحق نہیں ہوتا“اس پہ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے بھی مفادات ملک سے باہرہیں اور کئی داتا ملکوں میں بھی ہیں ۔
یہ تھی ملک کی معاشی حالت اور اس کی خارجہ پالیسی؟ اب اندورنی حالات کی طرف آتے ہیں ، کہ جس حلقہ انتخاب پر سب کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اس سے کیا سبق ملا؟
اس کاجواب ایک ہی ہے۔ کہ ملک مں عدل نہ ہونے کی وجہ سے سب عدم تحفظ کاشکار ہیں۔اس لیے انہیں سیاسی اور بڑے لوگوں کا، پیروں کا،  نام ونحاد فقیروں کا، چوروں اور ڈاکوؤ ں کا تحفظ لینا اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ انسانی درندوں سے انہیں کون بچائے گا، جن کا کبھی پیٹ ہی نہیں بھرتا؟جب تک عدل ملنے کی امید نہ ہو ؟ حالات جوں کے توں رہیں گے۔
اول تو پورے نظام میں نیک لوگ دھونڈے سے بمشکل ملتے ہیں ؟ پھر انہیں حکمرانوں کے مشترکہ مفادات کی وجہ سے صرف دکھانے کے لیے دوچار چھوٹے پرندوں کا شکار کر نے کی اجازت ،کبھی کبھی ملتی ہے۔ اگر وہ بڑوں کو شکار کرنے کی کوشش کریں کیونکہ چھوٹوں کے ڈانڈے بڑوں میں ملتے ہیں؟ تو وہ انہیں یا تو ملازمت سے نکال دیتے ہیں یا وہ ناگہانی حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور کوئی ان کی خبر تک نہیں لیتا۔ اس سلسلہ میں بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ “ پہلے چور ااور ڈاکو عوام سے منہ چھپاتے تھے اب یہ عالم ہے کہ آفسیر آن ڈیوٹی جب کسی کو پکڑنے جاتے ہیں تو وہ نقاب پہنے ہوتے ہیں“ تاکہ پہچانے نہ جائیں اس لیے کہ ان کے سامنے ان کے پیشرو آفیسروں کا حشر ان کی یاد داشت میں کہیں چھپا ہوتا ہے ؟
ہمارے یہاں آج نہ اسلامی حمیت ہے نہ پاکستان اور پاکستانی قومیت؟ بس اپنے آدمی کو سو خون معاف ہیں۔ اپنا اپنا ہے۔ اس میں بولی ہے، ذات ہے، علاقہ ہے گاؤ ں ہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسلامی تشخص اور پاکستانی قومیت؟ اس پر طرہ یہ ہے کہ ہم کہلاتے مسلمان ہیں؟
ہم نے اب با امرِ مجبوری اپنے علماء کو ٹی وی پر یہ فتویٰ دیتے سنا ہے کہ اب حلال مال پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے لہذا اگر “غلبہ کسی  کےمال میں حلال کا ہو تو وہ بھی مسجداور اسلامی مدرسوں میں  لگایا جاسکتا ہے۔ حتیٰ کے امام حرم بھی بغیر تحقیق وہاں نماز پڑھانے تشریف لاسکتے ہیں ؟ انا للہ وانا علیہ راجعون ہ

Posted in Uncategorized

انتخابات جھرلو سے جوڈیشل کمیشن تک ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

انتخا
یہ عجیب اتفاق ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی ابتدا صوبہ سرحد سے مرد ِ آہن خان قیوم خان کے ہاتھوں ہوئی ، جبکہ مرکز میں پاکستان کی بانی کابینہ حکمراں تھی؟ ہوا یہ کہ وہاں جب پاکستان بنا تو خان عبد الغفار خان کا طو طی بول رہا تھا اور صوبے سرحد میں کانگریس کی منتخب حکومت تھی۔ کچھ حالات ایسے ہوئے کہ وہاں بعد میں ریفرنڈم ہوا اور عوام نے فیصلہ پاکستان کے حق میں دیدیا؟ یہ بھی بہت سے مخمصوں میں سے ایک مخمصہ تھا جو پاکستان میں پیدا ہوا؟ دنیا میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ صوبوں میں کسی کی حکومت ہواور مرکز میں کسی اورجماعت کی، دوسرے یہ کہ کہ اگر کسی مسئلہ پر ریفرینڈم ہو تو ہاری ہوئی حکومت اکثر خود ہی مستعفی ہو جاتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں جو آیا اس نے کبھی کرسی مرضی سے نہیں چھوڑی لہذا نہ مرکزی حکومت ،صوبائی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار تھی اور نہ ہی صوبائی حکومت استعفیٰ دینے کو تیار تھی۔ “ مسئلہ وہی ہوگیا تھا کہ ایک ماں کو خبر سنائی گئی جس کا بیٹا فوج میں ملازم تھا کہ جرمن اور بر طانیہ میں جنگ شروع ہو گئی !تو کہنے لگی کہ خدا خیر کرے! میرا بیٹابھی ضدی اور بہادر ہے اور جرمنی بھی“
خان عبد الغفار کے بھائی ڈاکٹرخان صاحب وزیر اعلیٰ سرحد تھے۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ مرکزی حکومت کے ساتھ معاملات سلجھ جائیں مگر بات نہ بن سکی اور ان کی حکومت برطرف کردی گئی۔ پھر مسلم لیگی لیڈر خان عبد القیوم صوبے کے کرتا دھرتا بنے ؟ انہیں کی حکومت کے زیر نگرانی انتخابات ہوئے۔ جیت ہمیشہ ان کی قسمت میں رہی اور وہ سالوں تک وزیر ِ اعلیٰ رہے۔انہوں نے جو انتخاب جیتنے کا ہنر ایجاد کیا اس کانام حاسدوں نے “ جھرلو “ رکھدیا حالانکہ یہ پاکستان بننے کے بعد پہلی ایجاد تھی اس کو سراہا جانا چاہیے تھا۔میرے خیال میں وہ جیت تو ویسے بھی جاتے اس کے استعمال کے بغیر، مگر خان عبد الغفار کی پارٹی اچھی خاصی تعداد میں اسمبلی میں ہوتی اور ان کے لیے مردِ ِ آہن بننے کے امکانات کم ہوجاتے ؟ انہوں نے یہ خطرہ مول لینا مناسب نہیں سمجھا اور نظریہ ضرورت کے تحت “جھرلو “ کا استعمال ناگزیر خیال کیا ۔
ممکن ہے کہ ہماری نئی نسل نہ سمجھے کہ جھرلو ہے کیا چیز ؟ تو انہیں سمجھاتا چلوں کہ اس زمانہ میں ریڈیواور ٹی وی وغیرہ آج کی طرح عام نہ تھے ۔ اس کے بجائے بازی گر گلی گلی تماشہ دکھاتے پھر تے تھے ان کے پاس ایک پٹارہ ہو تا اور اس کے اوپر کپڑاپڑا ہوتا، ہاتھ اس کپڑے کے اندر ڈالتے اور ایک چھوٹا ڈنڈا ہاتھ میں رکھتے جو اس کے اوپر گھماتے! اسی کے زور پرکبھی چیزیں پیدا کر دکھاتے ،کبھی انہیں کوگم کرکے پٹاری خالی دکھا دیتے اور پھر اسی میں سے دوبارہ بر آمد کرلیتے ۔ یہ ایک طرح کی ہاتھ کی صفائی تھی، اس ایجاد کو انتخابات میں اپنا نے کہ بعد اس میں یہ ہونے لگا کہ “ ووٹ پڑتے کسی کو اور نکلتے کسی اور کے ڈبے میں سے اور انتخاب وہ جیتّا جس کو وہ چاہتے “ ضرورت ایجاد کی ماں ہے پھر اس میں مزید اضافے ہوتے رہے۔
صرف ایک مثال دیکر بات ختم کرتا ہوں؟ ایک کھاتے پیتے گھرانے کی خاتوں جوکہ سماجی ورکر تھیں اور ساتھ ہی بھاری بھرکم بھی ۔ وہ اپنی خدمتِ خلق کے باعث اپنے علاقے میں خاصی مقبول تھیں؟ ان کو ایک حکومت مخالف پارٹی نے پیشکش کی آپ ہمارے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے کھڑی ہوجائیں؟ “کہنے لگیں کہ کھڑی تو ہوجاؤ ں! مگر مجھ سے پہاڑ پر سے اترانہیں جائے گا! کہیں ہاتھ پیر نہ تڑوابیٹھوں“ ان سے جب پوچھا گیاکہ یہ کیاپہیلی ہے اور انتخابات سے کوہ پیمائی کا تعلق ؟ تو کہنے “ لگیں کہ قیوم خان الیکشن والے دن مخالف امید واروں کو پکڑ کرپہاڑوں پر چھڑوادیتے ہیں؟ چھڑواتو وہ دیں گے ،مگر میرے لیے اترنا مشکل ہو گا“
یہ تھی پاکستان میں پہلے صوبائی الیکشن کی داستان، بعد میں اسے قوم نے اجتماعی طور پر قبول کرلیا ۔جو ڈنڈے کے زور پر آجاتا وہ کبھی ریفرنڈم کراتا اور کبھی انتخابات، ووٹر بائیکاٹ بھی کرتے تو بھی “ جھرلو“ والی ایجاد کی بنا پر کامیاب وہی ہوتا؟ حتیٰ کہ لوگ شفاف انتخابات کو ترس گئے۔ بہت عرصے کے بعد ایک مرتبہ غلطی سے فوج نے شفاف انتخابات کرائے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک پارٹی نے اسو قت کے فوجی حکمرانوں کو یہ باور کرادیا تھا کہ ہم سب سے منظم جماعت ہیں اورہمیں جیتیں گے، مگر نتائج مختلف نکلے اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے دو نو بازؤں میں جو خلاءتھا وہ نا انصافیوں کی وجہ سے یوں مزید بڑھ گیا کہ اکثریتی پارٹی کوحکومت نہیں بنا نے دی اور ملک ٹوٹ گیا ؟اس کے بعد سے کسی نے یہ خطرہ مول نہیں لیا؟اور مرضی کے مطابق نتائج نکالتے رہے۔
اب یہ عالم ہے کہ زیادہ تر حلقوں میں ایک ہی خاندان حکمراں ہے جو ان کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ پہلے اگر دادا تھے تو اب پوتے یا پڑ پوتے ہیں۔ اسمبلی میں ہی نہیں بلکہ تمام عوامی عہدوں پر وہی قابض ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ووٹر کی بات سر آنکھو ں پر مگر پرنالہ وہیں گرتا ہے جہاں اسے گر نا چاہیئے؟
جن کے وفادار تین چار نسلوں سے چلے آرہے ہوں، ان کی پشتینی وفاداریاں ایک دن میں تبدیل نہیں ہو سکتیں ؟ شروعات یہاں سے ہوتی ہے کہ جو گدی نشینی کے طور پر رکن اسمبلی ہوتا ہے؟ پہلے تو و ہ اپنی مرضی سے حلقہ بندی کراتا ہے، وہ علاقے نکلوادیتا ہے جو کسی وجہ سے اس سے ناخوش ہوں ؟ پھر بات اور آگے بڑھتی ہے؟ الیکشن کا سارا عملہ دیہاتی علاقوں میں محکمہ تعلیم سے ہی آتا ہے جوکہ خاندانی وفاداروں پر مشتمل ہے پھر بھی ان کی پوری احتیاط سے چھان بین کے بعد انہیں ا س کارِ خیر کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جو کہ آگے چل کر نہ صرف ٹھپے لگانے میں مدد کرتے ہیں بلکہ اگر ان کی کمی پڑ جائے تو یہ خدمت وہ خود بھی انجام دیدیتے ہیں؟ پھر بھی کوئی غلطی سے غلط آفیسر آجائے اور مزاحم ہو تو وہ بلا امتیاز جنس و نسل تھپڑکھاتا یا کھاتی ہے؟ رہا شہروں کا معاملہ تو حلقہ بندی کے دوران، ان کے تکڑے کر کے دیہاتوں میں ضم کر لیتے ہیں۔ جو شہر بہت بڑے ہیں ؟ وہاں یہ کام ٹیچروں کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کے وفادار ملازمین کر تے ہیں۔
جو کچھ سن 2013 کے الیکشن میں ہوا وہ کوئی نئی بات نہ تھی ، ہمیشہ ہی سے ایسا ہو تا آیا تھا ، مگر اس مرتبہ مقابلے پر ناتجربہ کار نوجوان تھے۔ انہیں یہ بالکل تجربہ نہیں تھا کہ مقبولیت ہونے کے باوجود بغیر جھر لو کہ الیکشن نہیں جیتا جاسکتا ہے۔ وہ شاطروں کی بنی بنائی بساط پر کھیلنے آگئے ،مگر نتائج ان کے حق میں نہیں نکلے ؟ جبکہ شاید اصل شاطر وں نے حفظ ما تقدم کے طور پر یہ سو چا کہ چلو مل بانٹ کر حکومت کرو؟ مرکز اور سب سے بڑا صوبہ ہم لے لیتے ہیں“ ایک صوبہ ان کو بھی دیدو تاکہ یہ بھی منہ بند رکھیں ۔ مگر انہوں نے صوبہ تو لے لیا اور اسی کو بنیاد بنا کر اپنی تحریک وہیں سے شروع کردی جہاں پہلی دفع جھرلو روشناس ہوا تھا۔ انتہائی شدو مد کے ساتھ وہ جدوجہد کرنے لگے۔ شاید انہوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ لیا ہو اتھاکہ “ قناعت نہ کر عالم رنگ بو پر  زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں“ اب اسی صوبہ کے حکمراں اس بات پر مصر ہیں کہ الیکشن شفاف ہونے چاہئے ۔اس میں وزن یوں زیادہ ہے کہ جہاں سے جھرلو ایجاد ہوا وہی صوبہ واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے کہ ہم بھر پائے ؟ ان کی کوششیں کامیاب ہو تی نظر آرہی ہیں اور وہ جوڈیشل کمیشن بنوانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں ؟ شاید پاکستانیوں کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سن لی ہے۔ کہ ہر طرف سے ماحول ساز گار دیکھا ئی دے رہا ہے۔ آئیے ہم بھی منتظر رہتے ہیں اور آپ بھی منتظر رہیں کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہو تاہے۔ خدا کرے کہ جو کچھ ہو وہ ملک کے لیے اچھا ہی ہو؟ (آمین)

Posted in Uncategorized

عمران خان کا دورہ کراچی۔۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ہمارے یہاں کبھی پہلے کچھ جماعتیں تانگے والی جماعتیں بھی کہلاتی تھیں؟ اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ کچھ رہنما جیسے حضرت علامہ مشرقی مرحوم (رح) جو کہ اعلیٰ تعلیمیافتہ اور ایک بڑی پارٹی کے رہنما ہونے کے باوجود تانگہ کو سواری طور پر استعمال کرتے تھے ، دوسرے بعض پارٹیاں تھیں بھی اتنی چھوٹی کہ ان کے اراکین کی تعداد چار یا اس سے بھی کم ہوتی تو انہیں طنزیہ تانگہ پارٹی کہتے تھے۔ جبکہ اسوقت اکثریت اراکین اور وزاءکی کارنشین نہیں تھی ۔ اسی پاکستان میں ایسے وزیر بھی ہو گزرے ہیں جو وزیر ہوتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے ہوسٹل فریزر ہوسٹل کراچی میں رہتے تھے۔ جب وہ اپنی اس قیام گاہ سے باہر نکلتے تو نیچے فریادیوں کی لا ئن لگی ہوتی۔ پہلے وہ ان سے تحریری شکا یتیں وصول کرتے پھر سائیکل رکشا میں بیٹھ کر پہلے اپنا پرچم ہاتھ میں پکڑ لیتے اور رکشا ڈرائیور سے کہتے کہ چلو بیٹا! نہ ان کے آگے پائلٹ ہو تا موٹر سائیکل پر نہ پولس مبائل ہوتی نہ حفاظتی انتظامات جبکہ تھے وہ بھی وزیرداخلہ برائے مملکت؟ وہ بھی وزارت کر گئے اور نیک نامی کے ساتھ چلے گئے اور باقی زندگی کس حالت میں رہے جوکہ بہت بعد کی خبر سے ثابت  ہوتاہے کہ انہو ں نے اپنی گائے فروخت کر کے بیٹی کی شادی کی ان کا نام تھا جلال بابا۔ بعد میں ایسے وزیرِ داخلہ بھی رہے جن کی بد عنوانیوں کے چرچے روزانہ ٹی وی ٹاک شو میں رہتے ہیں؟
اس وقت ناہی ملک میں نو گو ایریاز کی بدعت روشناس ہوئی تھی، نہ ہی عوامی رہنما ؤں سے ملنے میں کوئی رکاوٹ تھی؟ آج بہت سے لوگوں کویہ باتیں الف لیلیٰ کی داستان نظر آئیں گی اورمیری بات کایقین نہیں کریں گے، سوائے ان کے  کہ جو جانتے ہیں  کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور نہ غلط لکھتا ہوں؟ باالکل اسی طرح جیسے کہ بہت سے پوتے یانواسے اپنے داد یانا کو پہلی جنگ عظیم سے پہلے کے بھاؤ بتاتے ہوئے سنتے ہیں، تو اگر وہ سعادتمند ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں اور دوسرے بہن بھائیوں کو آنکھ کے اشارے سے کہتے ہیں کہ دیکھا، دادا یا نا نا کھینچ رہے ہیں۔اگر منھ پھٹ ہیں تو منہ پرکہہ دیتے ہیں کہ دادا ابا ایسا نہیں ہوسکتا!
چونکہ اس وقت میڈیا تک ہر ایک کی پہونچ نہیں تھی حالانکہ مولانا ظفر علی خان (رح) مرحوم “کا پیسہ اخبار “ ملتا بھی ایک ہی پیسہ میں تھا۔دوسرے زیادہ تر اخباروں میں بازار کے بھاؤ شائع کرنے کا بھی رواج نہیں تھا ۔ اس لیے بزرگوں کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک ناقابل یقین بات کا بچوں کو یقین دلا سکیں۔ مگر ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں وہ اتنا پرانا نہیں ہے۔ ابھی دارالحکومت اسلام آباد منتقل نہیں ہو اتھا،پرانی سندھ اسمبلی میں ہی مرکزی پارلیمان نے مہاجروں کی طرح پنا ہ لے رکھی تھی، اسی سے ملحق تغلق ہاؤس تعمیر ہو چکا تھا جس میں وزرا ءکے دفاتر ہوا کرتے تھے۔اسکندر مرزا صدر تھے ، انہوں نے ایک صوفی منش آدمی کو وزیر بنادیا؟ جبکہ پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک لوہار کے بیٹے تھے۔ جس کا انکشاف بھی انہوں نے خود ہی کیا کہ جیسے ہی وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو انہوں نے جاءنماز بچھائی اور سجدہ کرنے سے پہلے انکشاف کیا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد، اسکندر مرزا کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ایک لوہار کے بیٹے کو وزیر بنا دیا۔ اب رہا ثبوت وہ یہ  ہےکہ اس دور کے اخباروں میں سے جنگ ابھی تک شائع ہورہا ہے اس کی سن57 اور58 ءکی فائیلوں میں ملاحظہ فرمالیں۔
آپ پوچھیں گے کہ آپ کو یہاں اس ذکر کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ تو جواب دو ہیں پہلی  بات تو یہ کہ جنہوں نے اپنے پیچھے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں وہ کہلانے کی حد تک ہی نہیں بلکہ واقعی   بڑےآدمی تھے اور ان کے کردار ہمیں آئینے میں اپنا منہ دیکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہیئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسی ہی ان ہونی کچھ دن پہلے پاکستان میں ہوگئی جو کہ ترقی یافتہ ملکوں میں تو عام ہے، اسی لئے وہ خبر نہیں بنتی؟ مگر پاکستان میں شاذ ہے ۔ چونکہ ہمارے یہاں ایسی بدعتیں رائج نہیں ہیں، ہمارے علماء منع کرتے ہیں کہ یورپ کی اچھائی بیان مت کرو، کہ ہم بھی کہیں ویسے ہی نہ ہو جائیں، اس لیئے ہم اس کی تفصیل نہیں بیان کرتےہیں البتہ جنہیں رب نے اپنے “ فضل“ سے نوازا ہے وہ گھومنے تو وہاں جاتے ہی رہتے ہیں ایک مرتبہ اسوقت بھی چلے جائیں جب وہاں انتخابا ت ہورہے ہوں اور خود دیکھ لیں کہ وہاں انتخاب کیسے ہوتے ہیں اور یہ کہ ہم نے جو جمہوریت ان سے لی ہے وہ کیسے چلاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم کیاظلم کر رہے ہیں ؟
۔ پچھلے دنوں ہوا یہ کہ ان دو لیڈروں میں  سےایک جن میں اسوقت تک شدید اختلافات تھے اور ایک حلقے میں جہاں ضمنی انتخابات ہونے والے تھے حریف تھے ان میں سے ایک نے یورپ کی اس بدعت کو نہ صرف اپنایا بلکہ انہیں بھی بہت پیچھے چھوڑدیا؟ یعنی اپنے گھر میں ان کے لیڈر کے استقبال کی تیاریاں کرنے کا اپنے کارکنوں کو حکم دیدیا، کہ وہ بجا ئے ڈنڈوں سڑے ٹماٹراور گندے انڈوں کے ان پرپھولو کی پتیاں نچھاور کریں؟ یہ بڑی حیرت انگیز تبدیلی تھی۔ ان کی  سابقہ افتاد طبع  کو جانتے ہوئے دوسرے رہنما اور ان کے کارکن بار بار منزل ِ یقیں  سے بھٹکتے رہے کہ کہیں تردید نہ آجائے ،غلط نہ سنا ہو، ٹی وی پر ہر وقت کان لگا ئے رہے۔ کیونکہ جس طرح مورخین میں ہما رے ہاں عام  طورپر اختلاف رہتا ہے اسی طرح پاکستانی لیڈروں میں بھی سوائے مشترکہ ذاتی مفادات کے اور کہیں اتفاق نہیں ہوتا۔ الزامات کے تیر ایک دوسرے پر چلتے رہتے ہیں ۔ ہر ایک ،ایک دوسرے کے عیب گناتا رہتاہے۔ جبکہ مدت سے دنیا بھر کے اور قسم قسم کے الزامات ان پر اور ان کی جماعت پر لگتے رہے تھے کہ انہوں نے نو گو ایریا بنا رکھے ہیں وہ، الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ،وہ ہمیشہ نہیں نہیں کرتے رہے حتیٰ کہ وہ عادت ِ ثانیہ بن گئی اور یہ عادت بعد میں وہ گل کھلاتی ہے کہ لوگ آنکھوں سے دیکھ کر بھی، بار بار آنکھیں ملتے ہیں کہ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں ۔اسی لیے اسلام نے اسکو گناہ ِ کبیرہ میں شامل کیا ہے۔
اسکی  ہم  ایک آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی مثال دیکر آگے بڑھتےہیں۔ ایک صاحب کی جھوٹ بولنے اور بات سے پھر جانا کثرت َ استعمال کی وجہ عادت ثانیہ بن گئی تھی، ایک وکیل نے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی وہ ان سے مختلف سوال کرتا رہا وہ ہر بات جواب میں کہتے رہے کہ غلط ہے؟ جب وکیل نے دیکھا کہ لوہا تپ چکا ہے تو اس نے ان کے بیٹے کانام لیکر پوچھ لیا کہ وہ آپکا بیٹا ہے یانہیں؟ اور وہ اسے بھی غلط کہہ گئے اور زندگی بھر کے لیے بیٹے کو خجالت کا شکار کر گئے؟
اس مرتبہ اسی جماعت کے لیڈر نے عملی مظاہرہ کرنے کی ٹھانی اور بدگمانی دور کرنے کی کوشش شروع کردی آدمی کرنا چاہے تو کیانہیں کرسکتا  ہے،  انہوں نے مخالف جماعت کے لیڈر عمران خان کو دعوت دیدی کے وہ وہاں آئیں اور ہمارے کارکن ان کا استقبال کریں گے؟ جبکہ اس سے پہلے ماحول بڑا تلخ تھا، نہ صرف دونوں غلط زبان استعمال کر رہے تھے ، بلکہ جوتم پھٹول کا سا ماحول تھا اورکارکنوں کے درمیان کبھی  کبھی لپا ڈپی بھی ہونا روزمرہ میں شامل ہو چکی تھی اور یہ ٹی وی پر ٹاک شو میں تو روزمرہ کی بات تھی۔ مگر انہوں نے اس مرتبہ یہ ثابت کیا وہ ایک منظم  جماعت کے لیڈر ہیں جو حکم دیں کارکن اسکے آگے سر جھکا دیتے ہیں؟ جو اس سے ثابت ہے کہ رہنما کے ایک حکم سے تمام صورت حال تبدیل ہو گئی ؟کہ الطاف بھائی نے انہیں حکم دیدیا ہے کہ جب عمران خان وہاں پہونچیں تو پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا ئیں ۔ یہ ہی نہیں بلکہ انہوں نے ان کی بیگم صاحبہ  کے لیے بھی، دو من پھول اور دو ہی لاکھ نوے ہزار کا سونے کا سیٹ پیش کرنے کاعندیہ دیا ، جبکہ عمران خان جناح میدان تک تو گئے جہاں انکی جماعت کے شہدا کی یادگاریں ہیں؟ اور وہاں ان کا استقبال بھی ہوا مخالف جماعت کے رہنما گلے بھی ملے۔ مگر نہ جانے کیوں وہ ٠90 انکے گھرتک نہیں گئے جہاں کہ بقیہ تقریب مکمل ہونا تھی بلکہ جلد بازی میں الٹا الزام میڈیا میں لگادیا ، یعنی میڈیا سے شکا یت کرڈالی کہ زیور نہیں ملا ؟جس کے جواب میں ان کی بیگم نے پتی ورتا (شوہر پرستی)کا اظہار کیا کہ مجھے خانصاحب جیسا شوہر مل گیا ہے ایک بیوی کو اچھا شوہر مل جائے کافی ہے اچھے شوہر سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔مگر الطاف بھائی نے جوکہا تھا وہ پورا کرنے کا حکم دیا بعد میں میڈیا پر خبر آگئی کہ اب جب ان کے پارلیمانی کارکن پارلیمان میں جا ئیں گے تو یہ ان کےگھر جاکر پیش کریں گے؟ اب ہم لگے ہاتھوں الطاف بھائی سے درخواست کریں گے کہ وہ عوام میں کس قدر مقبول ہیں جو انہوں ثابت بھی کردیا کہ قوم ان کے ایک حکم کی منتظر رہتی ہے تو ؟ وہ اس سے فائدہ اتھاتے ہو ئے اپنے کارکنوں کو حکم دیدیں کہ وہ توبہ کر کے آج سے پکے مسلمان بن جا ئیں تاکہ سب کی عاقبت بھی سدھر جا ئے اور تاریخ میں ان کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جا ئے اور اپنے بعد ایک ایسا صدقہ جاریہ چھوڑ جائیں کہ قیامت میں بھی ان کا پلڑا بھاری رہے اسی طرح ان کے ماننے والوں نے اگر ان کے حکم پراللہ اور رسول  (ص)کے احکامات کی تعمیل بھی کی تو سب کی دنیا بنی ہوئی تو ہے ہی ،عاقبت بھی سنور جائے گی۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Posted in Articles

آخرکار بڑی رکاوٹ بھی ہٹ گئی۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

اس پر مورخین میں ہمیشہ کی طرح شدید اختلاف ہے کہ ایک بڑے نے اپنی بڑائی دکھائی اور رضاکارنہ طور پر رکاوٹ خود ہٹادی یاکہ جب نادیدہ طاقت کے حکم پر کراچی میونسپل کارپوریشن کے بلڈوزر روانہ ہوئے اور خبر بام ودر تک پہونچی تو اجازت مل گئی؟ دونوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں بڑوں کی یہ روش ہوتی تو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہی کیوں ہوتیں ؟ کیونکہ ہم تو الحمد للہ مسلمان ہیں، ہمیں  حکم  یہ ہےکہ کوئی سڑک پر سے پتھر یا کانٹا ہٹادے تو اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے۔ جو جتنا بڑا دفتر یا آدمی ہو وہاں فائل آگے بڑھنے میں ذرا دیر لگتی ہے اسی لیے تاخیر ہوئی۔ دونوں فریقوں کی باتوں میں وزن ہے۔ اور یہ فیصلہ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عدالت میں بروز قیامت ہوسکے گا کہ جس نے رکاوٹیں سڑکوں پر کھڑی کیں وہ کس سزا کا مستحق  ہےاور جس نے ہٹائیں وہ کس جزا مستحق ہے؟ کیونکہ نیتوں کا حال تو صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی جانتے ہے۔
ویسے اگر تاریخ کا مطالعہ کریں توچونکہ ہر جگہ بڑا مثالی رکھتا ہے اس لیے اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ لوگ اس کا اتباع کرتے ہیں؟ جیسی جو طرح ڈالتا ہے وہ بطور گناہ  یاثواب اس کے کھاتے میں قیامت تک لکھی جاتی رہے گی ۔ اس میں صرف انساں کی تخصیص ہی نہیں بلکہ انسان کے اپنے بنائے ہو ئے بتوں میں بھی بڑے بت کا ٹوٹنے میں نمبر بعد میں آتا ہے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں دیکھئے کہ انہوں نے سب چھوٹے بت توڑدالے اور بڑ ا رہنے دیا؟ تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ بڑائی صرف اللہ کے لیئے ہے دوسرے یہ کہ پوجنے والے شرمندہ ہوں کہ وہ کسے پوج رہے تھے، اس میں سبق ہے اگر اپنے ہاتھ سے بت بناکر پوجنے بھی لگو تو ایک دن وہ فنا ہو جائیں گے اور پوجنے والوں کو پچھتاوا اٹھانا پڑے گا۔ تیسرے یہ کہ اگر بڑا بت واقعی بڑا ہو تا، تو پہلے تو اپنے چھوٹے ساتھیوں کو ٹوٹنے ہی نہیں دیتا اوربچال لیتا، چوتھے یہ کہ یہ تم نے کیاڈھکوسلے بنا رکھے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جو واحد اور قابل عبادت ہے اس کو چھوڑ کر کبھی اس کو پوجنے لگتے ہو کبھی اس کو پوجنے لگتے ہو کہ یہ ہمیں بچا لے گا یا وہ ہمیں بچالے گااسلام میں یہ شرک ہے اورناقابل ِمعافی جرم بھی کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ میں شرک کبھی معاف نہیں کرونگا؟ مگر افسوس یہ کہ اگر اسکے مجرم آپ تلاش کریں تو آپ کو سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہی ملیں گے۔چلیں پاکستانی تاریخ سے ایک واقعہ اور بیان کرکے بات کو ختم کرتے ہیں تاکہ ہم جیسے عبرت حاصل کرنے والے عبرت پکڑیں۔
جب بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے ، توانہیں ایک پیر صاحب کے علاقہ میں دورہ کرنا تھا جن کی گدی سندھ میں سب سے بڑی ہے اور لاکھوں مرید ان کو اس لیے نذرانہ دیتے ہیں کہ اگر کہیں وہ پھنس جا ئیں تو ان کانام ان کی چھٹی یاان کا فون انہیں بچالے؟ چونکہ بھٹو صاحب اپنے پہلے الیکشن میں بڑے بڑے پرانے سیاسی بتوں کو توڑ کر کامیاب ہو ئے تھے اور ان کی مقبولیت کا گراف اتنا اوپر چلا گیا تھا کہ اگر انہوں نے اس الیکشن میں کسی کھمبے کو ٹکٹ دیدیا تو وہ بھی کامیاب ہو گیا ۔ انہوں نے ان پیر صاحب کا غرور توڑنے کے لیئے اپنا ہیلی کاپٹرڈیڑھ گھنٹے جان کر لیٹ کر دیا ،سخت گرمی میں وہ دھوپ میں کھڑے رہے جب بھٹو صاحب ہیلی کاپٹر سے اترے اور پیر صاحب پیشوائی کو آگے بڑھے ،تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ کیا ابھی بھی تمہارے مرید تمہیں اتنا ہی مانتے ہیں؟ پیر صاحب بے بس تھے خاموشی سے سنا جواب نہ دے سکے۔
انہیں تو بھٹو صاحب نے نصیحت کی! مگر خود تھوڑے ہی دنوں بعد بھول گئے اور عوام کو چھوڑ کر خود اسی راستہ پر چل پڑے ۔ پھر کیا ہوا وہی جو ہمیشہ سے ہو تا آیا ہے۔ اس کے بعد ان کے وارثوں نے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑی؟ کئی دفعہ کرسی چھنی ،کئی دفعہ پھرسے ملی؟وہ بجائے عوام سے قریب تر ہونے کے دور ہوتے چلے گئے۔
آخر میں نوبت یہاں تک پہونچی کہ عوام کا اپنے محل کے قریب سے انہیں گزرنا بھی شاید اگوارا نہ تھا۔اسی لیے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک بھی ان پر بند کر دی۔ جو سات سال تک بند رہی۔ تاکہ وہ اور ان کے ساتھی دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رہیں ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے اندر ان کے علاوہ چالیس ساتھیوں کے گھر اور بھی تھے ویسے یہ تعداد تاریخ اور ادب میں بھی بہت ہی اہم ہے۔  چونکہ اپنے مسلمان بھائیوں کے سلسلہ میں خوش گمانی کاحکم ہے ،ہمارے خیال میں غالباً یہ تعداد انہوں نے اس لیے رکھی کہ ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ سونے سے پہل پتہ کر لے کہ چالیس گھرتک کوئی ہمسایہ بھوکا نہ ہو اور اس پر کھانا حرام ہو جائے؟ لہذا اس معاملہ میں وہ یہ تعداد پوری کرکے خود کفیل ہوگئے، کہ کم ازکم حقوق ہمسایئگی کے گناہ سے تو بچے رہیں گے کیونکہ اس کی بڑی تاکید ہے۔
یہاں وہ عوام کو اس حدتک بھول گئے کہ جن کے گھر ان محلات شاہی کے دوسری طرف ہیں انہیں متبادل راستہ اختیار کر کے اپنے گھر پہونچنے میں کتنی دیر لگے گی ؟ کیونکہ یہ عوام کا مسئلہ تھا ان کا نہیں۔ اور عوام کے مسائل کے بارے میں جبکہ سوچنے کا وہاں رواج شروع ہی سے نہیں تھا۔
ایک ان ہی کی بات کیا ؟ وہاں تو ہر ایک کو اپنی حفاظت خود کرنا ہوتی ہے ۔ حکومت اور اس کے ادارے ہیں توسہی مگر اُس کام کے لیے نہیں جس کی وہ تنخواہ لیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر چھوٹے بڑے نے اپنے گرد حصار بنا رکھے تھے “ نو گو ایریا “موجود تھے۔ کچھ تو ایسے تھے جہاں پرندہ تک پر نہیں مارسکتا تھا اور اس طرح یہ تعداد ہزاروں میں جاپہونچی ؟ کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا اور دین امراء کاچلتا ہے۔ شہر کی اکثر گلیاں بند ہوگئیں ۔ جا بجا رکاوٹیں کھڑی کر کردی گئیں چوکیداروں کی روزی لگی ہوئی تھی۔ کیونکہ بچوں تک نے ڈکیتی جیسا معزز پیشہ شغل کے طور پر اختیار کر لیاتھا۔ جو بڑے تھے انہوں نے بطور پیشہ بھتہ برائے تاوان اور جو بہت بڑے تھے ان کے لیے اور بھی بڑامیدان تھا۔
نتیجہ ہوا کہ وہ کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، وہاں جاتے ہوئے لوگ گھبرانے لگے۔ ایسے میں تجار اور سیاح وہاں کیا آتے۔ انصاف کا یہ عالم تھا۔ کہ ان لوگو کے خلاف جو کئی عشروں سے کسی نہ کسی طرح حکومتوں میں شامل تھے ، جو کوئی آواز اٹھاتا وہ مارا جاتا ۔ اول تو اسکی رپوٹ کہیں درج نہیں ہوتی تھی اورا گر ہوبھی جاتی تو گواہ منحرف ہوجاتے ، نہیں ہوتے تومارے جاتے، وکیل مارے جاتے، منصفوں کو دھمکیا ں ملتیں وہ مقدمہ چلانے سے انکار کردیتے ۔یاملک سے باہر، لمبی چھٹی پر چلے جاتے، پھر مدعا علیہ خوشیاں مناتے کہ ہم باعزت بری ہوگئے ؟ جو اخبار نویس یامیڈیا سے متعلق شخص حقائق عوام کے سامنے لانے کی ہمت کرتا تو پھر زندہ نہیں رہتا۔ چونکہ سب کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ تھے،اس لیے کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔صنعتیں کراچی سے منتقل ہونے لگیں بے روزگاری بڑھتی گئی۔ہر ایک نے اب ضرورتاً رائفل اٹھالی۔ سدھار کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ مجھ سے ناشکرے کہہ رہے تھے، یہ عذاب جب ہی ٹلے گا جبکہ لوگ اجتماعی توبہ کرلیں۔ جبکہ وہاں لوگ برائی کو برا جاننے کے عادی ہی نہیں رہے تھے۔ لہذا مید کی کوئی کرن دکھا ئی نہیں دے رہی تھی۔
لیکن جو وہاں پر بچے ہوئے اللہ والے تھے وہ پوشیدہ طور پر دعائیں مانگ رہے تھے چونکہ وہ ان کی ضرور سنتا ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سن لی اور پوشیدہ طور پر قیادت کچھ ایسے لوگوں کو دیدی جنہیں پیسہ عزیز نہیں تھا۔ ایمان اور ملک عزیز تھا۔ جبکہ ہماری قیادت دہشت گردوں سے مذاکرات کے حق میں تھی اور مصروف بھی تھی۔ انہیں پورا موقعہ دیاگیا کہ وہ اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو وہ سایے حرکت میں آگئے اورپہلے تو جرائم پیشہ لوگوں کی اس جنت کو ختم کیا جو تاسیس پاکستان سے بھی پہلے سے چلی آرہی تھی۔ پھر ان سایوں کے حوصلے اور بڑھے اور انہوں نے کراچی جو کہ پاکستان کی شہ رگ تھا۔ اس کو جرائم سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے حوصلے کی داد دینا پڑےگی کہ انہوں نے بہت ہی ٹھنڈے مزاج سے کام لیا اور جب دیکھا کہ وہ اس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں کہ سارے بت توڑسکیں تو انہوں نے بلا امتیاز جرائم پیشہ لوگوں کی پناہ گاہوں پر چھاپے مارنے شروع کردیے اور جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ پوری طرح حالات پر قابو پاچکے ہیں؟ تو انہوں نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔ کچھ نے تو وقت کی رفتار بدلتے دیکھ کر خودہی ہٹا لیے۔ صرف ایک بچا تھا جو سب سے بڑا تھا۔ اور جس کو اپنی سیاسی مہارت مقنا طیسی شخصیت پر یقین تھا اس نے روش نہیں بدلی۔ حتیٰ کہ تنگ آکر سایوں نے بلڈوزر ڈویژن کی کمان سنبھال لی تو غلط فہمی کچھ دور ہوئی اور وہ سڑک جو سات سال سے بند تھی بند کرنے والوں نے  بقول انکےخود ہی کھولدی۔ اسی کو کہتے ہیں کہ“ جادو وہ جو سرپر چڑھ کر بولے“
آئیے دعاکریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سایوں کومزید توفیق عطا فرمائے (آمین)

Posted in Articles | Tagged ,

مسلمانوں کو صرف مظلوم کی حمایت کاحکم ہے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ ہم ظالموں کا نہیں مظلوموں کا ساتھ دیں۔ سورہ جاثیہ کی آیت نمبر 19میں دونوں کا فرق یہ فرماکر واضح کردیاگیا ہے کہ “ظالم، ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ آپس میں دوست ہیں اور اللہ مومنوں کا ولی ہے؟ جبکہ ظلم کیا ہے؟ اسی کتاب ِمقدس میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے حقوق کو جھٹلانا ، غصب کرنا یا ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ ان میں سب سے بڑ ا ظلم اللہ سبحانہ کے حقوق کی عدم ادا ئے گی اورٹال مٹول حیلے بہانے اور ہیر پھیر ہے۔ جبکہ اللہ کے حقوق بندے پر کیا ہیں؟ اسکی عبادت کرنا۔ اور عبادت کیا ہے اس کے دیئے ہوئے ضابطہ حیات پر اپنے مقدور بھر عمل کرنا۔ اس دائرے میں رہتے ہوئے بندہ جو کچھ بھی کرے گا وہ عبادت ہے اور اس کا ثواب ہے۔ اگر وہ کسی کی طرف مسکراکر دیکھے تو وہ بھی عبادت ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صرف مسلمان بھائی کی طرف دیکھنا ہی صدقہ ہے جیساکہ حضور (ص)کا ارشاد گرامی ہے۔ مگر میرے خیال میں وہ رحمت عالم (ص) کے اسوہ حسنہ (ص) کو اپناتے ہوئے اگر غیر مسلم کی طرف بھی مسکراکر دیکھے تو بھی ثواب کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اس کے اخلاق سے غیرمسلم متاثر ہوگا۔ اور اس طرح اس کا یہ فعل اللہ کے دین کی سربلندی اور پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی بد اخلاقی سے پیش آئے گا تو وہ گناہ کا مستحق ہوگا۔ اس لیے کہ وہ اپنے آقا محمد مصطفیٰ (ص) کا حق ِ نمائندگی ادا نہیں کرسکا جن (ص) کے خلق عظیم کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خودتعریف فرمائی ہے۔اور حضور (ص) کااپنے بارے میں ارشاد گرامی ہے کہ میں (ص) مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اگر بندہ اسوہ حسنہ (ص) پر عامل ہے اور پھر پنج وقتہ نمازی بھی ہے تو “ نور اً علیٰ نور “ کے مصداق ہے۔ چونکہ اس کی ایک نماز دوسری نماز تک کفالت کرتی ہے، لہذا اسکی مثال ہادی ِبرحق (ص) نے فرما ئی کہ “ جس کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور وہ پانچوں وقت نہائے تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہ سکتی ہے “ صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کہ نہیں؟ تب ارشاد فرمایا کہ “ یہ ہی حال اس نمازی کا ہے جو پانچ وقت نماز پڑھے “ کیونکہ ححدیث ہے کہ “ ایک نمازدوسری نماز تک کفایت کرتی ہے۔ جبکہ دوسری احادیث میں ہے کہ نماز جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان کے روزے دوسرے رمضان تک اور ایک عید دوسری عیدتک کفایت کرتی ہے اس دوران اگر بندے سے کوئی گناہ کبیرہ بھی سرزد ہوجائے اور وہ فوراً توبہ کر لے اور وضوع کرکے دورکعات نفل اداکر لے تو وہ ایسا ہو جائے گا۔ جیسا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ بھولے سے غلطی ہوجانا بشریت ہے اور حضور (ص)) کے ارشاد کے مطابق میری امت کی بھول چوک معاف ہے۔ بندہ جو اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کریگا اس کے بدلے میں وہ وہاں کم ازکم ایک کے بدلے میں دس نیکیوں کی وجہ سے گناہوںوالے پلڑے کو پہلے ہی دابے ہوئے ہوگا۔ جب کہ نیکی کا ثواب سات سو گناہ تک بلکہ اور بھی زیادہ کا ذکر قرآن میں فرمایا گیاہے یعنی اجر بے حساب بھی ہوسکتا ہے، جس کا دار و مدار بندے کے خلوص اورنیت پر ہے۔ جو اپنے ہاتھ سے دے جائے گا وہ تو ہے ہی اسکا، اس کے علاوہ جو یہاں چھوڑ جائے گا وہ بھی صدقہ جاریہ ہوگا۔ جیسے نیک اولاد ؟
اس کے برعکس خدا اور بندوں کے حقوق کو تج دینا غلطی پر بضد ہونا اور ڈتے رہنا ظلم ہے؟
جنہوں نے دین خدا کو تج دیا ہو صرف اپنے غلط مفاد کے لیے دین کانام استعمال کرتے ہوں، بولتے جھوٹ ہوں ، کمائی حرام کی ہو، وہ اگر دن و رات سجدے میں پڑے رہیں۔ گلی گلی وعظ فرماتے پھریں۔ گناہِ ِجاریہ کے عذاب کے قیامت تک مستحق ہونگے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مال حرام سے کچھ بھی قبول نہیں فرماتا لہذا وہ جو راہ خدا میں دے کر جائیں گے وہ بھی رائیگاں جا ئے گااور جو اپنے پیچھے چھوڑ جا ئیں گے۔ وہ بھی جہنم میں لے جانے کا باعث ہوگا۔ چونکہ حضور (ص) نے فرمایا کہ “ ہر عمل کا نتیجہ نیت اور اس سے مرتب ہونے والے نتائج پر ہوتا ہے“۔ جسکی مثال حضرت (ع) آدم کے اس صاحبزادے جیسی ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کرکے پہلی دفعہ دوسروں کو اس برائی کی راہ دکھائی لہذ آئندہ جتنے بھی قتل قیامت تک ہونگے وہ اس میں ان کا حصہ دار ہوگا۔
اس تمہید کے بعد آئیے ہم اپنے چاروں طرف دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے؟ ہم چند ووٹوں یا نوٹوں کے لیئے اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں اور جانتے ہوئے ظالموں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتائج لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ ایسی ہی چند عشروں پہلے پاکستان حکمرانوں نے ایک غلطی کی کہ سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے دلدل میں پھنس گئے جس سے نکلنے کے لیے ابھی تک ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نکل نہیں پائے، یہ اسوقت کی ہماری غلط خارجہ پالیسی کانتیجہ تھا۔ اب داخلی پالیسی کے نتائج پر نظر ڈالیے۔ اس میں بھی ہم نے چند ووٹوں کے لیے اسلام کو ایک طرف اٹھا کر رکھدیا اور انصاف جیسا اہم فرض چھوڑ دیاکہ “ یہ اس کا بندہ ہے وہ اس کابندہ ہےہاتھ ڈالیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جرائم پیشہ لوگ پورے ملک میں دنداتے پھرے ،ہرقسم کاظلم ، قتل اور غارت گری کرتے رہے؟ مگر کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکا ؟  جبکہ یہ سب جانتے ہیں کون کیا کر رہا مگر کسی ظالم کا آج تک کچھ نہیں بگڑا؟ گوکہ اس روش کی دنیا میں بھی بے انتہا مثالیں ہیں ۔ مگر وہاں ابھی تک کچھ ملکوں میں عدل و انصاف بھی موجودہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ بالکل مفقود ہے؟ ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم ظالم کا ساتھ نہ دیں مظلوم کے ساتھی بنیں ، مگر ہم کرتے اس کا الٹ ہیں ۔
جب پہلی غلطی پاکستان نے کی وہ وقت کچھ اور تھا ، لیکن آج یہ و قت اور ہے۔ اِسمرتبہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت پاکستان کو سو دفعہ سوچنا چایئے کیونکہ ہم پھر اوروں کی جنگ میں فریق بننے جارہے ہیں، جبکہ یہ کلیہ ہی غیر اسلامی ہے کہ دوست کا دشمن دشمن اور دشمن کا دشمن دوست، کیونکہ اسلام میں ظالم کا دوستی میں کوئی ساتھ دے تو وہ بھی ظالم ہے۔جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ دونوں ہی حق پر نہیں ہیں نہ وہ جو بے گناہ لوگوں کی گردنیں مار رہے ہیں۔ نہ سعودی حکمراں، پہلے تو سرے سے اسلام میں بادشاہت ہے ہی نہیں؟ پھر اگر عرب کے قبائیلی نظام کے مطابق جس کی اسلام نے نفی کردی تھی۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ قبائل کے سردار اپنے اپنے علاقے یں بادشاہوں جیسے اختیار رکھتے تھے۔ تو بھی حضور (ص)  نےعرب میں حکمرانی کا حق قریش کو یہ فرماکر دیاتھا کہ عرب کسی اور کی قیادت پر متفق نہیں ہونگے ؟ اسی حدیث کو حضرت عمر (رض) سے سن کر انصار (رض) اپنے حق ِ خلافت دستبردار ہوگئے تھے۔ جبکہ ان کی قبر بانیاں اسلام کے لیے بے حساب تھیں۔
جبکہ اس کے برعکس نجدیوں کی پیغمبر ِ اسلام (ص) اور اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں بے مثال تھیں جو تاریخ میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کسی نجدی قبیلے نے حجاز (مکہ مدینہ) پر زمانہ جہالیہ میں بھی حکومت نہیں کی؟ سعودی کیسے قابض ہو ئے اور اس کار خیر میں ان کی کس نے مدد کی کس نے مکر فریب سے قابض کرایا وہ ہم سب جانتے ہیں ۔ پھر بھی اگر ہم انہیں جائز حکمراں مانتے ہیں کہ انہوں نے ایک علاقے پر جارحیت کے نتیجے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تواس کلیہ کو تسلیم کرنے کے بعد دنیا میں جہاں بھی غاصبانہ قبضے ہیں انہیں بھی ماننا پڑیگا ، پھر ہم کس منہ سے کشمیر یا فلسطین کی بات کرسکتے ہیں؟
پاکستان کے سامنے تین راستے ہیں راستے ہیں۔ایک خود صدر ِ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے  اپنے بیان میں دیا ہے کہً پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیئے “ جوکہ عین اسلامی ہے اس لیے یہ  نص ِقر آنی ہے کہ جب دومسلمان لڑ پڑیں تو ان میں کوشش کر کے صلح کرادی جائے۔نہ مانیں تو جو ظالم ہو اس کے خلاف لڑیں۔ یہ تھے اس سلسلہ میں اسلامی احکامات۔ اگر ان میں سے کوئی صورت نہ بنے؟ تو پھرغیر جانبدار ہوجائے میں ہی عافیت ہے،انہیں اپنی جنگ خود لڑنے دیں۔ نہ کہ یہ پہلے کی طرح خود اس جنگ میں کود پڑیں جو کہ ہماری نہیں ہے ۔ پھر قابل ِ مذمت دونوں ہی ہیں وہ بھی جو انہیں کے برانڈکا اسلام ان کے ہی خلاف استعمال کر رہے ہیں اور ظالم وہ بھی ہیں جوکہ دوسروں کے علاقوں پر جارحانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو عقل دے اور وہ اپنے اس ملک سے وابستہ مفادات کو نہ دیکھیں؟ بلکہ اپنے ملک کے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں ۔ اگر اس مرتبہ بھی وہی غلطی دہرائی تو پہلے کی طرح جنگ دوبارہ ہمارے ملک میں گھس آئیگی اور اس مرتبہ خدشہ ہے کہ کہیں وہ ہر گلی کوچے میں نہ لڑی جا ئے؟ ہاں! حکومت کا یہ کہنا درست
ہے اور اس پر پوری قوم اس کے ساتھ بھی ہوگی کہ اگر کسی نے حرمین شریفین کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھا تو بلا امتیاز مذہب اور ملت پوری قوم حکومت کی پشت پناہی کریگی؟
آجکل اللہ سبحانہ تعالیٰ نے موجودہ حکومت کو ایسی پوزیشن دی ہوئی کہ وہ قومی اسمبلی سے ہر قانون پاس کراسکتی ہے ۔ رہی سینٹ اگر حکومت نے اسکی اسکرینگ شروع کردی تو بہت تھوڑے ممبر بچیں گے جو باقی رہیں؟ لیکن تاریخ میں ان تمام لوگوں کے نام سنہری لفظوں سے لکھے جائیں گے۔ جو پاکستان میں بلا لحاظ سب کو انصاف فراہم کرکے امن وامان بحال کریں گے؟ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کارخیر میں ان کی مدد بھی فرمائے گا۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ “جو میری طرف ا یک قدم بڑھے میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں“

Posted in Articles | Tagged ,

کندہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے ایک دوست جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں بہت ہی پتے کی بات کہتے تھے کہ “ عیبیوں “ کی دوستی بڑی پائیدار ہوتی ہے ۔اب سے پہلے ہمیں اس پر اتنا یقین نہیں تھا۔ اب ہم اس کے سوفیصد نہیں بلکہ ایک سو ایک فیصد قائل چکے ہیں ۔ اورقائل ہمیں ان چند دنوں نے کر دیا جو ابھی گزرے ہیں ؟ یہ پہیلی ہے جس کو ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں؟ اتا پتا اتنا بتادیتے ہیں کہ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہتے ہیں وہاں کی پارلیمان میں ایک بل خود چرچل نے پیش کیا اور سب اس پر متفق ہوگئے۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ جمہوریت کے  “حسن “کے خلاف ہے،اپنا ووٹ اسکے خلا دیکر انہوں نے بقول ان کے جمہوریت کو بچا لیا؟ جبکہ ہمارے یہا ں باہمی مک مکاؤ جمہوریت کا “حسن “ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی عجیب آدمی تھے؟ عجیب عجیب باتیں کہا کرتے تھے۔ مثلا ً یہ کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح کام کرتی رہی ہیں تو ہم جرمن کو شکست دیدینگے؟  جبکہ ہمارے یہاں چلن یہ ہے کہ شکست ہتھکنڈوں سے دی جاتی ہے۔ پتہ نہیں اور کتنی باتیں انہوں نے ایسی ہی کہی ہونگی؟ مگر ہم ان میں سے صرف تین مندرجہ ذیل باتوں پر تبصرہ کرنے پر اکتفا کررہے ہیں جو بہت ہی مشہور ہیں ۔
ممکن ہے کہ پاکستان کی نئی نسل شاید انہیں نہ جانتی ہو اس لیے ہم تعارف کراتے چلیں کہ چرچل تھے کون ؟کیونکہ وہاں اب کتابیں اور علم پڑھنے پڑھانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہےرہیں ڈگریاں وہ ویسی ہی مل جائیں تو انہیں اس تکلف کی ضرورت کیا ہے ؟
ہاں !تو  چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران بر طانیہ کے وزیر اعظم اور برطانوی قوم کے ہیروتھے ۔ انکا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جرمن نسل پرستی کے طوفان سے نہ صرف اپنے ملک برطانیہ کو بچا یا بلکہ یورپ اور اسکا دائرہ اور وسیع کردیں تو انہوں نے پوری دنیا کو بچا یا۔ کرنے والا تو خدا ہے مگر یہ اس کی سنت  ہے جسے وہ تبدیل نہیں کرتاکہ وہ خود لڑنے کہیں نہیں جاتا؟ لہذاکسی برائی کے توڑ کے لیے اپنی مخلوق سے ہی کام لیتا ہے۔ کبھی پرند ے بھیجدیتا ہے ،کبھی ہوا ،کبھی پتھر، کبھی ایک چنگھاڑ یا پھر اسکے لیے کوئی مرد ِ بالغ نظرپیدا کر دیتا ہے؟ جس کے لیے صاحب ایمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ جیسے کہ فلسطین کی تباہی لیے بابل نینوا سے ایک انتہا ئی ظالم بادشاہ، یا پھرمسلمانوں کے لیے چنگیز اور ہلاکو ؟
یہاں اس نے ہٹلرکی نسلی برتری کے غرور کو توڑ نے کے لیے چرچل کو پیدا تو پہلے ہی اپنی مشیت کے مطابق کر رکھا تھا ۔ مگر ظاہر جب ہوا جب دنیا کے اس کڑے وقت میں وہ اسے اقتدار عطا فرماکر سامنے لایا، ورنہ دنیا اِس وقت ہٹلر کی نسل پرستی کے بوٹوںکے نیچے دبی تڑپ رہی ہوتی؟اس کی خوبی غالباً جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند آئی  وہ یہ تھی اور جو کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی کہ اسکی نگاہوں میں عدلیہ بہت اہم تھی۔ اسی وجہ سے اس نے جتنا فخر اور اعتماد اپنی عدالتوں پر کیا اور کسی خوبی پر نہیں کیا؟ جبکہ چرچل کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں تھیں مثلاً وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا لہذا قوم اور دنیا اسکی بات پر یقین کرتی تھی۔ جبکہ ہٹلر اسکا الٹ تھا کہ اس کے وزیر گوبل کا فلسفہ یہ تھا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ جھوٹ نے شکست کھائی۔ ہٹلرکی شکست اور اس تجربے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ آج ہم اور کئی جماعتیں اسی کے فلسفہ پر عامل ہیں ۔
چونکہ اب خوبیاں ہم میں کم پائی جاتی ہیں بلکہ نایاب ہیں۔ اسلیے ہم نے اپنے علماءکو ٹی وی پر یہ فرماتے بارہا سنا کہ ان کی ا چھائی مت بیان کرو؟ کیونکہ وہ ہماری طرح صاحب ایمان نہیں ہیں ؟ اب آپ پو چھیں گے کہ پھر تم کیوں بیان کر رہے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں اسکے باوجود کے وہ دانا وبینا ہے نصاری ٰکی اچھائیوں کا ذکر فرمایاہے اور اپنی مقدس کتاب قرآن میں جوکچھ فرمایا۔ ہمیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے؟  جبکہ ان کی  اچھائیوں کی عملی مثالیں بھی سامنے ہیں۔ مثلا ہر مشکل وقت میں ان کی جیبیں دنیا کے لیے کھلی رہتی ہیں، جبکہ ہم اس میں سے بھی اپنی جیبیں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں؟ جیسے کہ ان کی کمائی میں ہمارا حصہ ہے؟ دوسرے یہ کہ قرآن کی ایک صفت انسانیت کے  لیےباعث شفا ہونا ہے،  یہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ با الفاظ دگر جو بھی اسکی باتوں کو اپنا ئے گا وہ اس سے دنیامیں ضرور فائدہ اٹھا ئے گا، جبکہ صاحب ِ ایمان ہوتو دونوں جگہ اسکا حصہ ہے ۔ اور جو نہیں عمل کرے گا اپنا نقصان  خودکریگا۔ جبکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہمارے ذمہ سب کارزق ہے۔ مگر ہم پرندوں کو بھی گھونسلوں میں نہیں دیتے جب تک  کہ وہ اسکی تلاش میں اپنے گھونسلوں سے باہر نہ نکلیں؟
گوکہ اب ہمارے یہاں بھی کچھ نیئے مخیر پیدا ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے دستر خوان بھی کھولدیئے ہیں مگر وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتح والی بات ہے۔ رہی اللہ کی طرف سے دلانے والی بات تو بل گیٹ کو دیکھئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے سمجھ عطا فرمائی اور وہ ایک سافٹ ویر کی بدولت بے انتہا دولت کا مالک بن گیا اب وہ اس میں سے خرچ کر کے دنیا میں بہت سے رفاعی کام کر رہاہے ، ہمارے یہاں پولیو کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور ہم اس میں روڑے اٹکا کارہے ہیں کیونکہ چلتے کام میں روڑے اٹکانا ہمارا کام ہے ؟ جو یہ کار خیر انجام دے رہے ہیں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس پر انہیں ثواب جنت کی شکل میں ملے گا ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے تو کسی کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جب اتباع کرتے ہیں تو کردار نہیں دیکھتے بلکہ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ نہ جمہوریت کی جڑ کی طرف دیکھتے ہیں ، نہ دینِ اور اپنے رسول(ص) کا  اسوہ حسنہ یادرہتا ہے، جس پر عمل قرآن میں لازمی قرار دیا ہے اسکی جگہ مفاد پرستی لے لیتی ہے۔  ان خود اختیار کردہ خامیوں کی بنا پر ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے نہ اپنے نہ پرائے؟ ا نفرادی کردار جو ہے وہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔ جبکہ ایک آدھ معاملہ میڈیا اچھال دے تو باقی دنیا بھی جان لیتی ہے۔ جن کے ہاتھوں رہنمائی ہے وہ پہلے تو تردید کرتے رہتے ہیں ، پھرعدالتی فیصلوں کو نئے ہتھکنڈوں سے ٹالتے رہتے ہیں ایک دو دن نہیں بلکہ برسوں؟ جبکہ سچ اتنا بولتے ہیں کہ کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے؟ جیسے حالیہ مصالحتی پالیسی ، جس  کاخالق کوئی اور ہے؟ اس نے کان میں  شاید یہ کہدیا کہ اگر تم اسی طرح ان مختلف گروہوں کہ ناز اور نخرے اٹھاتے رہے اور ان کے عیب چھپاتے رہے ،تو ہمیں تم کو بھی برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومت فوراًمصالحتی پالیسی پر اتر آئی اور سینٹ کی سب سے اہم سیٹ اکثریتی پارٹی کو دینا تو بر بنائے مجبوری تھا ہی، جوکہ تمام ہم جنس پرندے ساتھ اڑانے کے لیے لازمی بھی ،مگر دوسری سیٹ بھی غیر ملکی حکم پر دینی پڑی وہ بھی ان کو جو کبھی کسی کے نہیں ہوئے ؟ کیوں اس کیوں کو آپ خود بوجھیئے؟
انہیں انتخابات کے دوران ایک حلیف پارٹی کے دفتر پر چھاپہ بھی پڑگیا ۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ووٹ اپنے جگہ سے نہیں ہلے ، نتیجہ وہی کا وہی رہا؟ اس کی طرف سے سوگ اعلان ہوا مگر دوسرے دن نہیں ہوا، بلکہ ایک اچھی شہرت رکھنے والے پولس آفیسر کا بیان ہماری نظر سے گزرا کہ جلد ہی ہم ہڑتالوں پر بھی قابو پالیں گے ؟  اتنا اعتمادکیوں کیسے پیدا ہوا؟ بھائی کچھ اپنی عقل بھی دوڑائیے ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آ گیا ہو اور ہمارے یہاں بھی وہ پردہ غیب سے نجات دہندہ بھیج دے؟ ورنہ چالیس سال سے ان کے اعمالوں پر جوپردہ پڑا ہوا تھا؟ جب بھی اٹھنے کو ہوا، یکایک پھر رک گیا؟ اخبار نویویسوں میں سے جس نے ہمت کی وہ مارا گیا ، اگر قاتل کوسزا بھی ہوگئی تو وہ بھی  بآسانی فرارہوکر شجر سایہ دار کے گھنے سایہ میں جا چھپا ،جہاں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اب وہی درخت خود فریادی ہے۔  اس کے نمائندہ کا بیان ہے کہ صوبائی کیپٹن کہہ رہا ہے کہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جبکہ وز یر داخلہ کہہ رہے ہیں ۔ نہیں ہم نے اعتماد میں لیا تھا۔ اب ان میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ،فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اگر رینجرز کی یہ اتھاریٹی بحال ہو گئی کہ وہ مخبری پر بڑے سے بڑے پر ہاتھ ڈالدے، تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں ۔ اب خربوزے دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑے گا، پولس میں بھی جرا ءت واپس آجا ئیگی اوردوسری نوکر شاہی میں بھی؟ جو ملزمان پکڑے گئے ہیں ان کے بیانات کی روشنی میں نہ جانے کیسے کیسے پردہ نشین سامنے آئیں گے اللہ جانتا ہے۔ ع  “ کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے “۔اس سے پہلے تو انہیں اوپر سے اجازت لینا پڑتی تھی جو نہیں ملتی تھی، خلاف ورزی پر انہیں اپنی تنزلی ،معطل ہونے اور برخاست ہونے کا ڈر رہتا تھا۔ اگر آئندہ ان کے عہدوں کو تحفظ ملا تو انشا اللہ پاکستان کے دن بدل جا ئیں گے۔ آئیے ہم سب مل کے اس کی کامیابی اور درازی عمر کے لیے لیے دعا کریں جوکہیں پردے کے پیچھے ہے؟

Posted in Uncategorized