یہ فرمانِ خداوندی کی صداقت کامظاہرہ تھا۔۔۔ شمس جیلانی

لوگ پوچھ رہے ہیں یہ کیا تھا۔ جواب یہ ہے کہ یہ فرمان خداوندی کی صداقت کا مظاہرہ تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ آسمان میں مطلع صاف ہوتا ہے اور یکایک بادل چھاجاتے ہیں،اور ذراسی دیر میں برس کر اسی طرح غائب بھی ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی یہ ہی کیفیت پیدا ہوئی اور غائب ہوگئی، جبکہ صرف ایک قدم کافاصلہ رہ گیا تھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو رحم آگیا۔ اور اس نے پھر ثابت کردیا کہ وہ کسی کو سزا دے کر خوش نہیں ہے مگر اس کی بات مان لیاکرو۔ آپ میری بات کو نہیں سمجھ پائے ہونگے؟ چلیے میں اس کی وضاحت کردیتا ہوں؟ آپ کو یہ تو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کچھ برداشت کرتاہے جتنی لوگ روزانہ نافرمانی کرتے رہتے ہیں؟ کیونکہ اس نے رحمت ا پنے اوپر واجب کرلی ہے۔ا یسا نہ ہوتا تو یہ کاءِنات ایک لمحہ بھی نہ چلتی۔ مگر وہ تین حرکتیں برداشت نہیں کرتا ہے ایک شرک جو اکثریت کرتی رہتی ہے، مگر اس کی سزا وہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بتادیا ہے کہ اگر کوئی بغیر توبہ کے مرگیا تو دائمی طور پر اس کا مقدر جہنم ہے؟ دوسری حضور(ص)کاا حترام نہ کرنا جس کا ثبوت آپ زیادہ تلاش نہ کرنا چاہیں تو سورہ حجرات میں چلے جائیں وہاں مل جا ئے گا جوکہ بڑی تفصیل سے ہے اور امت کو اس سلسلہ میں خبردار کردیا گیا ہے کہ اس کا ہروقت  خیال رکھیں کیونکہ صاحبِ ایمان ہوتے ہوئے بھی آپ کے سارے اعمال ضائع ہو جا ئیں گے اور یہ پتہ قیامت کے دن چلے گا جب نامہ اعمال کورا دیکھیں گے؟ لیکن کبھی کبھی اس کی سزا یہاں بھی دے دیتا ہے جیسے کفارِ کو بدر میں۔تیسری حرکت ہے تکبر،جس کے بارے میں حضور (ص) کے بہت سے ا رشادات ہیں کہ اس کے قریب جانے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میری چادر ہے! اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش بھی مت کرنا یہ میں برداشت نہیں کرتا ہوں وہاں پر تو دائمی طور پر جہنم ہے ہی۔ کیونکہ حضور (ص) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ“ جو تکبر کرے گا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا“ مگر کبھی کبھی وہ فرعونوں کو یہاں بھی سزا دیدیتا ہے؟ اس کے ثبوت کے لیے قرآن کافی ہے۔
پاکستان میں ان دِنوں دونو ں کام بہ یک وقت ہوگئے؟ ایک تو حضور(ص)کے سلسلہ میں دستور میں ہیرا پھیری،کس نے کی کون ذمہ دار تھا ابھی تک پتہ نہیں؟ لیکن حضرت عمرؓ نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ جو اصل میں صاحبِ اختیار ہو گا وہ ذمہ دار ہوگا۔ جو ان کے ایک قول کے شکل میں موجود ہے کہ‘‘اگر فراط کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مرگیا تو عمرؓذمہ دار ہے“ کیونکہ حضرت عمرؓ اس وقت صاحبِ اختیار تھے۔ رہا تکبر وہ تو پاکستان میں عام ہے۔ جس کو آپ دیکھیں وہاں کلف لگا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگوں کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انکی گردن میں سریا پڑا ہوا ہے؟ مگر ہم اس محاورے سے اس لیے اتفاق نہیں کرتے کہ جو چیز‘‘ سریا‘‘ کے نام سے لغت میں لکھی ہوئی ہے وہ دھات کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں لوہے کی بنی ہوئی سلاخ کے لیے مستعمل ہے اور عموماً چھتوں کو تقویت دینے کے لیے سیمنٹ کے ساتھ استعمال ہوتی ہے ویسے اس کی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ جس چیز میں ڈالدی جائے وہ اس کو سیدھا رکھتی ہے اور تقویت دیتی ہے۔ جبکہ مغرور اور متکبر ہمیشہ اپنی گردن ٹیرھی رکھتا ہے لہذا یہ اس پر منطبق نہیں ہوتی۔ اس ادبی بحث میں ہم آپ کا مزید وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے اوراب اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ یہ معاملہ تھا کیا۔ جس کو ہم نے اپنے عنوان میں صداقتِ فرمانِ خداوندی کا مظہر کہا ہے۔
آپ نے ٹی وی پر ایک منظر دیکھا ہوگا کہ ایک صاحب بطور ملزم ایک عدالت میں پیشی کے لیے آئے تو ایک بہت بڑا قافلہ ساتھ تھا، جس میں سب وقت کے بڑے تھے موجود تھے جو ملزم سے اظہارِ وفاداری کے لیے آئے ہوئے تھے اورایک بڑے آدمی کے ہاتھ سے باوردی سپاہی پٹ رہا تھا؟اس سپاہی کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی ڈیوٹی دیتے ہوئے ایک بڑے کو روک لیا تھا کہ آپ اندر نہیں جاسکتے؟ ہمیں یادنہیں کہ انہیں صاحب کی دوسری پیشی تھی یا ان کے خاندان کے کسی دوسرے فرد کی ، جس پیشی پر یہ ہوا کہ وزیر داخلہ خود تشریف لے آئے مگر اب پولس کی جگہ رینجرز کی ڈیوٹی تھی اور وزیر داخلہ کا نام اس فہرست میں نہیں تھا جو اس کے پاس تھی،جبکہ اسے حکم تھا جن کے نام فہرست میں ہیں ان کے سوا کسی کو عدالت میں نہ جانے دیا جائے؟ رینجرز فوج کی ہی ایک قسم ہے۔ ان کے یہاں سولجر لیول میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت برتنے کا رواج نہیں وہ صرف حکم کے بندے ہوتے ہیں۔ا س بیچارے نے وزیر داخلہ کو روک دیا اور سب نے ان کو بپھری ہوئی حالت میں میڈیا سے خطاب کرتے دیکھا کہ وہ فرمارہے ہیں کہ‘‘ میں بنانا ریبلک کا وزیر داخلہ نہیں، مرکزی حکومت کا وزیر داخلہ ہوں۔ رینجر ز یہاں کیسے آ ئے اور کس کے حکم سے آئے۔ ڈائیریکٹر جنرل رینجر سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے سنا ہے کہ کسی پولس آفیسر کی درخواست پر جو اس نے پچھلی پیشی کے تلخ تجر بہ کی بناپر وزیرداخلہ سے بغیر پوچھے رینجرز کو خط بھیجدیا تھا لہذانہوں نے رینجرز فورس بھیجدی۔جس پر وزیر داخلہ نے ان کو بہت کچھ لکھ ڈالا اور محکمانہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے تو طرح دیدی یہ کہہ کرکہ سولجر کو شاباشی دینا چاہیے تھی بجا ئے شکایت کرنے کے۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دونوں سپاہیوں کی بے عزتی اور آہوں کاشاید خود نوٹس لے لیا کیونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ“ مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی“۔ پھر ہم نے یہ دیکھا کہ وہی عزت مآب وزیر داخلہ ان دھرنا دینے والوں کے سامنے کھڑے ہیں جن سے بات کرنے آئے تھے۔ اور انہیں بھی دھمکارہے ہیں۔ کہ میں وزیر داخلہ ہوں میں تین گھنٹے میں تم سے فیض آباد خالی کراسکتا ہوں؟ مگر میں نہیں چاہتا ہوں کہ اس میں خون بہے؟پھر کیا ہوا آپ کو سب کو پتہ ہے کہ سب کچھ ہوا۔ باری باری راہِ فرار کبھی پبلک اور کبھی پولیس اختیار کرتی رہی؟ جب پولیس کی ہرقسم ناکام ہوگئی تو رینجرز کے ڈائیریکٹر جنرل کو انہیں وزیر صاحب نے خط لکھا کہ رینجرز کو بھیج دیں اور مزید احتیاط کے لیے فوج کی ضرورت بھی محسوس ہوئی انہیں وزیر داخلہ نے تحریری درخواست کی؟ ان کے سامنے شاید تصور میں وہ منظر آگیا ہو گا۔جو صدام کے ساتھ ہوا، جو قذافی کے ساتھ ہو ااور دنیا کے بہت سے فرعونوں کے ساتھ ہو تارہا ہے جنہوں نے تکبر اختیارکیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمانڈر انچیف کو اپنا دورہ نامکمل چھوڑ کر عرب امارت سے آنا پڑا۔ اکیلے میں انہوں نے انہیں اونچ نیچ سمجھائی؟ اور بات افہام اور تفہیم پر ختم کرادی۔ ورنہ کچھ ہی دیر رہ گئی تھی کچھ ہونے میں؟ یہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت ہے جب بھی جوکوئی گناہ گار ہو اور وہ تکبر سے توبہ کرلے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ا پنے اوپر رحم واجب کر رکھا ہے وہ معاف فرما دیتا ہے۔ کیونکہ وہ رحیم اور کریم ہے؟

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements
شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اب اورکس بات کاانتظار ہے۔ شمس جیلانی

وہ سب کچھ پاکستان میں ہو چکا جو ان مہذب ملکوں میں نہیں ہوتا جنکا تحفہ یہ جموریت ہے جن کے حوالے پاکستان کے حکمراں ہر روز دیتے ہوئے نہیں تھکتے ۔ جبکہ پاکستان کی عدلیہ نے اپنے انتہائی صابر ہونے کا ثبوت دیدیا ہے۔ پاکستانی دانشوروں کی اکثریت کا تجزیہ یہ ہے۔ کہ عدلیہ کو اس لیے برا بھلا کہا جارہا کے حکمرانوں کو کسی طرح وہ حکومت سے نجات دیدے تاکہ وہ اپنے آپ کو بطور شہید عوام کے سامنے پیش کر سکیں اور پھر وہ عوام کے پاس یہ کہتے ہوئے جائیں کہ بھائیوں جمہوریت کی مدد کرو۔ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ہمیں ا پنی مدت کبھی پوری نہیں کرنے دی گئی؟حالانکہ انہوں نے چند ماہ کم پانچ سال گزارلیے؟ یوں سمجھ لیں کہ پورا ہاتھی نکل گیا ہے ،صرف دم باقی ہے۔ جتنے وعدے الیکشن سے پہلے کیے، جو انہوں نے اپنے وعدوں کے مطابق ہفتوں میں پورا کرنا تھے وہ چار سال میں نہیں کرسکے؟ توخدارا سوچئے جب وہ پہلے معجزہ نہیں دکھا سکے تو آئندہ کیا معجزہ دکھا سکیں گے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ابھی جو جھوٹ بول رہے ہیں! وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ رہے معجزے وہ تو صرف اللہ والے ہی دکھایا کرتے ہیں وہ بھی اشد ضرورت کے تحت اور اللہ کے مخالفین کے مطالبے پر؟اوروہ بھی اللہ ہی کے ہاتھوں سرزد ہوتے ہیں ۔ جو پہلے بھی بظاہرنبیوں (ّع) کےہاتھوں سرزد ہوتے دکھا ئی دیتے تھے، مگر کرتا اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی تھا۔ کیونکہ وہ اس کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے، کائِنات کے ہر راز سے واقف ہے۔ ااس لیے تمام سائنسداں اس بات پر تو متفق ہیں کہ کائِنات کانظام اتنا مربوط ہے کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس میں خلل واقع ہوجائے تو پوری کائِنات تباہ ہو جا ئیگی۔ مگر اپنی بڑائی یا تعصب میں یا اپنے مفادات کی وجہ سے غیرمسلم سائنسدں اللہ کو نہیں مانتے ہیں۔ جبکہ ہم اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کی بات کوئی نہیں مانتے جس کا ہم سے ہمیشہ ہمارا دین تقاضہ کرتا ہے، یہ کس قسم کاماننا ہے جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟
چونکہ اس نے حضور (ص)کے بعد نبّوت ختم فرمادی ہے اور پوری امت کویہ حکم اس کے آخری نبی (ص) دے گئے ہیں کہ“ ہر آنے والا میرےبعد آنے والے ا نسانوں کو میرا پیغام پہونچادے۔۔۔۔الخ “اس طرح وہ لا منتہائی سلسلہ اپنے بعد چھوڑگئے ہیں جس نے اتنے ذرائع پیدا کر دیے ہیں جنکی گنتی نہیں ہے۔ اوراب علم وہاں تک پہونچ چکا ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس“ اے رب تیرا پیغام نہیں پہو نچا۔“لہذا اتمام حجت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو قیامت تک جاری رہے گا اور کرامات بھی جاری ہیں جوکہ اولیا ء کے ہاتھوں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ان کودکھانے والوں کے لیے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ“ وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں نہ رزقِ حرام کھاتے ہوں“ حضور(ص) نے ان کی پہچان یہ بتائی ہے کہ“ انہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے “ تو سوچیئے ان کے ہاتھوں سے کرامات کیسے سرزد ہو سکتی ہیں۔ جو دہائی دیتے ہوں جس سے سن تیرہ کے انتخابات کے دور کےاخبارات بھرے ہوئے ہیں۔کہ “ہمیں دستور کی اس شق سےبچا ؤ جس میں حکمرانوں کے سچااور امین ہونے پر زور دیا گیا ہےکہ ہم سے یہ پابندی نہیں ہو سکتی“ اسی لیے وہ جو وعدے پورے نہیں کرنے کے لیے کرتے ہیں ؟ چونکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ نیتوں کے حال جانتا ہے اور اس کی مدد انکے شاملِ حال نہیں ہوتی، لہذا وہ جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں۔ دوسرے وہ دوسری شرط مالِ حلال کی بھی پاپندی نہیں کرتے لہذا ان سے کرامات کیسے سرزد ہو سکتی ہیں؟ اس قسم کے لوگوں سے نبٹنے کے لیے بہت سی دفعات دستور میں موجود ہیں جن کے تحت سب اداروں نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔ وہ مزیدکس بات کا انتظار کر رہے ہیں۔کیا اس وقت کا جب ہمارا دشمن اس افرا تفری سے فائیدہ اٹھا کر کامیاب جا ئے ؟ کیونکہ وہ سرحدوں پر معصوم شہریوں کی لاشیں تو روزگرا رہا ہے اور کسی کا حق دوستی ادا کررہا ہے“ تاکہ ادارے کچھ کرتے ہوئے سو دفع سوچیں۔دوسری طرف وہ ان نمعلوم دہشت گردوں کے ذریعہ جن کے نام اسے معلوم ہیں؟ اس لیے کہ وہ انکی دامے درہمے سخنے مدد کر رہا ہے۔ان کا ٹارگیٹ حفاظتی افواج ہیں جن کو تقریباً وہ روزانہ ا نکے ذریعہ شہید کروا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو گا جو خالی جاتا ہو۔ ہمارے حکمراں اس کے خلاف زبان کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف خانہ پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کہ وزارت خارجہ میں بلاکر اس کے نمائندے کو روز ایک پھرا پکڑا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرحدوں کا دفاع تو فوج کا کام ہے؟ جواب یہ ہے کہ فوج اپنا فرض حتیٰ الا مکان ادا کر رہی ہے۔ مگر سرحد پار کرنے کاحکم توسول انتظامیہ ہی دیتی ہے۔ ورنہ کرنے والے کے خلاف تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح عدلیہ بھی ا حکامات تو جاری کر سکتی ہے؟ مگر اس پر عمل کون کرائے گا ؟ اس کا اہتمام سول انتظامیہ ہی کرتی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کے بارے میں بار بار کہہ چکا ہوں، جو خلافت عباسیہ کے خاتمہ سے پہلے تھی۔ جبکہ ہم میں سو چ ہی یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہونے کے ناطے ایک قوم ہیں۔صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے مفادات کیا ہیں۔ اوریہ دیکھتے ہیں کہ ا پنا بندہ ہے ؟اگر اپنا ہے توا سے سات خون معاف ہیں؟ پھر دیکھتے ہیں کہ وہ کھانے اور کھلانے والا بھی ہے یانہیں؟یہ اس کی وہ سب بڑی کوالیفکیشن ہیں جس کو ہم ووٹ دیتے وقت لازمی طور پر دیکھتے ہیں ؟
مجھے معلوم نہیں وہ وہاں جا کے کیا جواب دیں گے۔جب اللہ سبحانہ تعالیٰ پو چھے گا۔ کہ تمہارے بزرگوں نے مجھ سے ایک زمین کا تکڑا مانگا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ ہم اس میں آپکا نام بلند کریں گے؟ تم نے یہ نام بلند کیاہے؟ کہ دنیا تم پر ہنس رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گندم نما جو فروشوں سے محفوظ رکھے۔ اور اپنی رحمت کاملہ سے کسی کے دل میں وہ درد پیدا کردےجو کہ ملک کو بچا لے۔(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

آجکل عجیب ماجرا ہے جوکہ ہماری چھیاسی(86) سالہ صحافتی زندگی میں پہلے کبھی نہیں پیش آیا کہ ہم نے اپنے کالم کے لیے عنوان تلاش کیا ہو اور وہ ہمیں نہ ملا ہو۔ مگر آجکل یہ اکثرہورہا ہے کہ ڈھونتے ہیں اور جب ڈھونے سے نہیں ملتا تو ہمیں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ یاتو ہم لکھنا چھوڑ دیں یا اور لوگوں کی طرح ایک ہی موضوع کو لیے چلتے رہیں؟ کیونکہ وہاں کوئی نہ شرماتا ہے نہ برا مناتا ہےموضوع ملے تو ملے کہاں سے؟ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ سالوں سے ہم نے ا پناایک وقت مقرر کر رکھا اسی پر لکھتے رہے ہیں ۔ صرف ایک دفعہ کمپوٹر کی خرابی سے کالم کچھ لیٹ ہوگیا تو ہمارے پڑھنے والے یہ سمجھے کہ بڑے میاں انتقال کر گئے اور تعزیت کے لیےفون آنے لگے۔ مگر ہم نے اس پر بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔کہ شکرانے کا ہمیں یہ پہلو نظر آیا کہ اس نے ہماری زندگی میں ہی ہمیں یہ دکھادیا کہ ہمارے پڑھنے والےہمیں کتنا پیار کرتے ہیں ۔آج بھی جب ہم رات کوا ٹھے تو پریشان تھے کہ عنوان کیا ہو گا؟ جب ہمیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آئی تو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ تو مدد فر ما! اس نے فور اً مدد فرمائی اور غالبؔ مرحوم کایہ شعر ذہن میں ڈالدیا کہ ع “ کعبے کس منہ سے جاؤگے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی “ جیسے ہی ہمیں عنوان ملا بس پھر کیا تھا کہ واقعات کاایک ریلا ہمارے ذہن میں آگیا اور اب اس کی دین کے آگے شکر گزار تھے ۔مگر پریشان بھی کہ اس میں سے کیا لکھیں اور کیا چھوڑیں اور کچھ چھوڑتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا تھ کہ ہم کہیں کفران نعمت کے مرتکب نہ ہوجائیں؟ بخدا اس میں قطعی لفاظی نہیں ہے یہ حقیقت ہے کیونکہ ہم جھوٹ نہں بولتے۔ جبکہ ماڈرن مسلمان اس کو ہماری توہم پرستی کہیں گے ؟مگر ہم ایسا کرتے ہوئے ہمیشہ ہی اس سے ڈرتے رہےہیں اور اسے راضی رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ چونکہ اخبار میں ہمارے لیے جگہ محدود ہے۔ لہذا اس دعا کےبعد کہ تو مجھے معاف کردے میری اس مجبوری کو دیکھتے ہوئے اور اپنی رحمت سے اس خطا پر رخصت سے نوازے جو تو نے اپنے سارے بندوں کے لیے رکھی ہوئے کہ جہاں تک ہوسکے اتباع کرو؟ جہاں مجبوری حائل ہو وہاں رخصت ہے جیسے کہ پانی نہ ملے تو مٹی سے تیمم وغیرہ وغیرہ۔
آئیے !اب آگے بڑھتے ہیں۔ پھر یہ ہوا کہ ہمارے ذہن میں ایک ٹی وی پر کچھ دن پہلے کا منظر آگیا ایک صاحب کی تصویر تھی جو جانی پہچانی تھی ان کے ہمراہ ایک بزرگ خاتون بھی تھیں۔ وہ حرم شریف میں اور حالتِ احرام میں تھے ،ان کے چہرے سے پریشانی ظاہر ہورہی تھی چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ا ن کی زوجہ محترمہ مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور دوسرے حالات بھی کچھ سازگار نہیں ہیں ایسے مواقعوں پر دل اللہ طرف جھک جاتا ہے؟ دوسرے ہمیں حکم بھی یہ ہی ہے کہ اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے خوش گمانی رکھو؟ ہم نے اسے رقت ِ قلب سمجھا ۔ اور سمجھے کہ وہ توبہ کر کے آئیں ہیں اور والدہ صاحبہ کو اس لیے ساتھ لائے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اولاد کے لیے ماں کی دعا سب سے زیادہ سنتا ہے۔ بلکہ حضور (ص)کی ایک صحیح حدیث کے مطابق اس کے لیے وعید بھی ہے کہ “وہ ہلاک ہوا جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک یادونوں کوپایا اس نے ان کے ذریعہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مغفرت نہیں کرالی؟ اور یہ ہی سبق ہم نے حضرت یوسف (ع)کے قصے میں بھی قرآن میں پڑھا ہوا تھا کہ انکے بھائیوں نے بھی یہ ہی ہے کیاتھا کہ جب وہ تائب ہوگئے تو انہوں نے اپنے والد اور والدہ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے دعا ئے مغفرت فر مائیے تا کہ ہمارے ان گناہوں کو اللہ سبحانہ تعالیٰ معاف فرمادے جو ہم سے سرزد ہوئے ہیں“ تو انہوں نے وقت مقر ر فرمادیا کہ تم فجر کے وقت آجانا ہم صبح کے وقت تمہارے لیے دعا کریں گے۔ ہم اپنی خوش گمانی میں یہاں تک پڑھ گئے کہ وہ توبہ کرنے کرکےاب اللہ کےگھر میں والدہ محترمہ کو بخشش کرانے کے لیے ساتھ لائے ہیں اور جو توبہ کی شرائط ہیں وہ پوری کر کے آئیں ہیں لہذا آئے بھی اپنے حلال پیسے سے ہونگے؟ کیونکہ توبہ کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ مومن بندہ یابندی جو بھی تو بہ کرے، پکی توبہ کرے اور وہ آئندہ نہ کرنے کا عہد بھی کرے؟ا ور اگر اس میں کسی قسم کے حقوق العباد بھی شامل ہوں تو پہلے ان کو ادا کرے ،جس کا بھی نقصان کیا ہو وہ اس کو پوراکرے یا اس سے معاف کرا ئے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے گناہ تو معاف کردیتا ہے مگر حقوق العباد معاف نہیں کرتا؟ یہ سب کرنے کے بعد حضور (ص) کی ایک حدیث کے مطابق تو بہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے ،جیسے کہ ابھی ماں کے پیٹ سےوہ پیدا ہوا ہو؟ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی واپسی پر اتنا خوش ہو تا ہے جیسے کہ کسی مسافر کا سامان سے لدا ہوا اونٹ کسی بیابان میں گم ہوگیا ہو اور وہ اچانک واپس آجائے۔ “یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خالق ہونے کی وجہ سے اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اورقرآن میں فر ماتا ہے کہ “ میں کسی کو سزادیکر خوش نہیں ہوتا۔ بس تم میری بات مان لیاکرو“
ہماری خوش گمانی یہاں تک بڑھی کہ ہم نے سوچا کہ وہ وطن واپس جاکر نہ صرف خود بد عنوانیوں کے خلاف مہم چلائیں گے۔ بلکہ باہر جو لوگ پیسہ لے کر گئے ہیں وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی واپس آجا ئے گااور ملک کا خزانہ بھر جائے گا، قرضے اتر جائیں گے، لوگ تمام برا ئیاں چھوڑ دیں گے۔ مگر ہماری ساری خوش گمانی اس وقت دم توڑ گئی جب وہ وطنِ عزیز پہونچے اور ان کو ہم نے ٹی وی پر دوبارہ ویسا ہی کا ویسا دیکھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ تمام دنیا کے زیادہ تر لوگ مالِ طیب کے بجا ئے مالِ خبیث خرچ کرکے وہاں پہونچتے ہیں اور کورے کہ کورے واپس آجاتے ہیں؟ کیونکہ وہ مالِ طیب پسند کرتا ہے مال ِ حرام پسند نہیں کرتا ایک حدیث کے مطابق منہ پر ماردیتا ہے ۔ عمل میں خلوص پسند کرتا ہے ۔ ریاکاری با لکل پسند نہیں کرتا۔اللہ ہم سب کو توبہ پر قائم رہنے ، حلال کمانے ا ور حلال کھانے اور حلال مال خرچ کرکے وہاں جانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ توبہ، حج اور عمرہِ مبرور عطا ہو( آمین) جس کی پہچان حضور (ص) نے یہ بتائی ہے کہ جو برائیاں اس میں پہلے تھیں وہ بعدمیں نہ رہیں؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

آوسہیلی بوجھیں پہیلی ! از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستان میں اسلامی جمہوری نظامِ ِحکومت ہے۔ جیسا کہ اس کے دستور میں لکھا ہوا۔ مگر جو آجکل وہاں نظام چل رہا ہے نہ وہ جمہوری ہے نہ اسلامی بلکہ صاحبِ اقتدار لوگو ں کا رویہ دیکھا جائے تو اسے “ زنبوری“ کہہ سکتے ہیں کیونکہ “ زنبور “کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ آپ نہیں سمجھے ہونگے! آپ نے کبھی “زنبور“ دیکھا ہے جس سے لوہے کو پکڑ کر مختلف شکلوں میں ڈھا لا جاتا ہے! چھا یہ تو دیکھا ہوگا کہ لوہار اس سے لوہا پکڑے ہوئے اپنی مرضی سے لوہے جیسی سخت دھات سے کچھ بنا رہا ہے۔ وہ بھی نہیں دیکھا یہ بھی نہیں دیکھا تووہ تو پنجابی فلموں میں ضرور دیکھا ہوگا کہ دیہات میں ایک لوہے کا اوزار ہاتھ میں پکڑ ے دانتوں کا ڈاکٹر کبھی عوام کے دانت کسی درخت کے نیچے بیٹھا نکال رہا ہوتا ہے یا پھر وہی قربانی سے پہلے اسی سے جانوروں کے دانت نکال کر قر بانی کے قابل بنا رہا ہوتا ہے ۔ پھر بھی نہ سجھیں تو کسی بھی انجیرنگ کالج میں جاکر پہلے سال کے طالب علموں کو دیکھ لیں کہ سب کو“زنبور“ پکڑنا لازمی ہے جبکہ طالب علموں کی تربیت ہی پتھر والے کوئلے سے بھٹی جلا کر شروع ہوتی ہے اور اسے لوہے کو نرم کرکے اس سے اوزار بناناسکھایا جاتاہے وہاں سے وہ ہشت پہلو چھینی، ہتھوڑا اور چپٹا پیچ کش بنا کر لاتے ہیں تب کہیں جاکر ان کی جان بھٹی سے چھٹتی ہے؟ مگر وہ تربیت ایسی ہوتی ہے کہ پھر سفید کپڑے پہن کر تاحیات وہ مال بناتے رہتے ہیں مگر بھٹی میں پھر کبھی نہیں دیکھے جاتے ؟
اب آئیے نظام کی طرف یہ اسلامی یوں نہیں ہے کہ اسلام میں حاکمیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوتی ہے حکمراں خادم ہوتا ہے بیت المال سے تنخواہ بھی وہ اتنی ہی لیتا ہے جس میں اس کی دال روٹی چل جائے وہ بھی پائی پائی کاحساب کرکے انتقال سے پہلے یاتو بیت المال میں جمع کردیتا ہے یا پھر وصیت کر جاتا ہے کہ میرا مکہ والا پرانا گھر فروخت کرکے جمع کرادینا، رہی اس کی ڈیوٹی تو نماز پڑھانے سے لیکر سب کی داد رسی کرنااور اگر ایک نیا کرتا بنالے تو عوامی سوالو کے جواب دیناکہ ایک چادر میں جبکہ کسی کا کرتا نہیں بنا تو آپ کا کیسے بن گیا، پھر بھی اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا اور کہنا کہ دریائے فراط کے کنارے اگرا یک کتا بھی بھوکا مرگیا تو میں ذمہ دار ہونگا۔ پھر اپنے بعد اپنے بیٹوں کے خلیفہ ہونے پر قد غن لگادینا کہ دس سالہ دورِ حکومت کاجواب دینے کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں، اپنے بیٹوں کو میں وارث بنا کر مزید اپنے خاندان کو زیر با کرنا نہیں چاہتا ۔ یہ تو ہے اسلامی حکومت اور حکمراں کی تعریف؟
اب آئیے جموریت کی طرف وہاں بالا دستی عوام کی ہوتی ہے۔ اور اس میں بھی احتساب سے کوئی بالا تر نہیں ہوتا ۔ کسی پر ذرا سا دھبہ بھی لگ جائے تو وہ فوراً کرسی چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ رہا عدل وہ دونوں میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام میں اس بادشاہ یا قاضی کا بڑا مقام ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نظروں میں جو عادل ہو۔ جبکہ جمہوریت چار ستونوں پر کھڑی ہوئی ہو تی ہے “دستور “ رہنمائی کے لیے، انتطامیہ حکومت کے لیے اور عدلیہ اس کے احتساب کے اور فوج سرحدوں کی حفاظت کے لیے ؟ دور کیا جائیے ابھی امریکہ کے موجودہ صدر کی مثال سامنے ہے کہ وہ عدالتوں کی وجہ سے اپنے انتخابی وعدے ہی پورے نہیں کرپارہا ہے۔ اسے کتناغصہ آتا ہوگا؟ جبکہ ہمارے یہاں تو وعدوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے جس کو ہمارے حکمراں آئے دن اپنے عمل سے ثابت کرتے رہتے ہیں؟ جس میں آئین اور ملک سے وفاداری کا حلف بھی شامل ہے۔ مگر وہاں تو اسکا مستقبل ہی ختم ہوجاتاہے ،جو وعدہ پورے نہ کرسکے ۔لہذا وہ وعدہ کرنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ وہ پورا بھی کر سکتے ہیں یانہیں؟ جبکہ ہمارے یہاں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی پر واہ ہی کون کرتا ہے۔اگر پانچ دن کا وعدہ پانچ سال میں بھی پورا ہو جائے تو بڑی بات ہے؟ ۔ حکمراں کے لیے نماز پڑھانا تو بڑے دور کی بات ہے اگر وہ خود عید کی نماز پڑھتادکھائی دے جا ئے تو تصویریں اخبار میں آجاتی ہیں ۔ جمہوریت میں پارلیمان جمہوریت کی ماں سمجھی جاتی ہے، وہی حکمراں کی طاقت بھی سمجھی جاتی ہے ۔ جہاں پاکستان کا وزیر اعظم اگر کسی ضرورت کے تحت کبھی چلا جائے تو بھی ا س کی تصویر میڈیا میں آجاتی ہے۔ وہ بیچارہ بھی کیا کرے کہ یہ عوام کی پسند ہے کہ وہ اسی کو پسند کرتے ہیں جوا ن کو ٹھوکروں پر رکھے؟ کیونکہ بیچارے ابھی تک برطانیہ کی غلامی کے دور سے باہر ہی نہیں نکل سکےہیں ۔ رہے باقی سارے ڈرامے جوا حتساب کی شکل میں ہمیں دکھائے جارہے ہیں ۔ یہ مظلوم بن کر عوام کے سامنے جانے کا راستہ ہے تاکہ ووٹ اور پکے ہوجائیں الیکشن سر پر جو ہوئے؟ جموریت میں عدل سب کے لئے یکساں ہے اور وزیرِاعظم ایک ہوتا ہے، جبکہ وہاں تین ہیں؟ رہا قانون کا استعمال وہ سندھ کے لوگوں کے لیے اور ہے اور پنجاب کے لیے اور ہے۔ بالکل ریل گاڑی والی صورت حال ہے کہ بوگی ایک ہے اوپر والی برتھ کا مسافر لاہور کو اور نیچے وا لی برتھ کا مسافر ا مرتسر کو جارہا ہے؟ بس“ زنبور“ میں پھنسے ہوئے عوام تڑپ رہے ہیں۔ اسی لیے فارسی میں کہا گیا کہ“ خود کردہ را علاج ِ نیست“ جانے کتنے آئے اورعوام کو بیدار کرتے کرتے تھک کر چلے گئے۔ لیکن وہاں کے عوام آج تک نہ جاگے نہ اور آئندہ جاگیں گے۔ وہاں تومفلوج جسم کے ساتھ ایک گورنرجنرل نے ایک دو دن نہیں برسوں شاندار طریقہ سے حکومت کی ؟ یہ تو ماشاء اللہ کھایئے پیئے گھرانے کے لوگ ہیں وہ خود استعفیٰ کیوں دیں گے۔ ویسے کوئی نکال نہیں سکتا؟ بلکہ نکال نے والے کو کہیں اور یہ بھیجدیں گے؟ کچھ سمجھیں سہیلی؟ نہیں سمجھیں تو جانے دیں؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اونچے دعوے جھوٹے لوگ، مال کمائیں وعدہ خور۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

یہ محاورہ جو کہ آگے پیش کر رہے ہیں وہ اردو میں ہندی سے آیا ہے۔ اور ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ “ دکھ اٹھائیں بی فاختہ اورکوئے انڈے کھائیں “ اس کہاوت میں بڑی تلخ حقیقت پوشیدہ ہے۔ باقی دنیا کا توپتہ نہیں مگر برصغیر ہند و پاک میں مسلمانوں کی تاریخ اس سے بھری ہوئی ہے۔ جس کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے کہ جب مسلمانوں نے اٹھارہ سو ستاون میں انگریز کے ہاتھوں مایوس کن شکست کھانے کے بعد اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیا تو انہیں وجہ یہ ہی نظر آئی کہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام سے دور ہو گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک مذہبی گروپ علماکا اور دوسرا مسٹروں کا فعال ہوئے۔ دونوں نے باہمی تعاون کرنااور سا تھ، ساتھ چلنا چاہا،مگر ان میں سے ایک کی قیادت جلد ہی بدل گئی! چونکہ نظر یات میں دوری کی بہت بڑی خلیج تھی یوں ایک ساتھ بعد میں نہیں چل سکے۔ جبکہ ان میں سے ایک نے دارالعلوم دیوبند اور دوسرے نے مدرسہ علی گڑھ قائم کیا ۔ ایک کے بانی حضرت امداد للہ مہاجر مکی(رح) تھے اور انہوں نے اپنی خانقاہ کو مدرسے میں بدل دیا، مگر وہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد انگریزوں کی نگاہ میں کھٹکنے لگا ،مخبری ا پنوں نے ہی کی اور حضرت امداد اللہ مہاجر مکی (رح)کو ترکِ وطن کر کے مکہ معظمہ جانا پڑا۔ اسطرح وہ اپنی معتدل قیادت کھوکر آگے بڑھا لیکن اس نے بھی مولانا شبیرا حمد عثمانی (رح)جیسا ایک فرزند دیکر تحریکِ پاکستان میں حصہ بٹایا، جبکہ دیوبند کانگریس والے دھڑے میں شامل رہااور اِسوقت بھی دنیا کی مشہور درسگاہو میں شا مل ہے۔ د وسرے تھے حضرت سر سید حمد خان (رح) وہ سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ ،ساتھ مسلم امہ کا درد بھی دل میں رکھتے تھے۔ مگر ان کے پاس وسائل نہ تھے صرف دماغ اور کام کرنے کی لگن تھی لیکن وہ انگریزی زبان پڑھانے کے حامی تھے کیونکہ ی ا نکے خیال میں دنیاکی ابھرتی ہوئی زبان تھی جبکہ مسلمان انگریز دشمنی کی وجہ سے ان کی زبان کے بھی دشمن تھے، انہیں سخت مخالفت سے گزرنا پڑا ۔ لیکن انہوں نے ا متِ مسلمہ سے ہی چندہ لے کر مدرسہِ علی گڑھ بنایا جو آج دنیا کی مشہور یونیورسٹی ہے۔ لیکن بنا نے والوں کی نیت نیک تھی اس نے پاکستان کی تخلیق میں بھی بڑا کام کیا۔ جبکہ پاکستان بننے سے پہلے دونوں نے اسی سمت میں ایک اور کوششکی ، دونوں گروپوں نے ملک کر دارالعلوم ندوہ کی بنا ڈالی، مگر وہ بھی امت کو متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ، اس نے بھی حضرت سیدسلیمان ندوی(رح) کی شکل میں اپنا ایک نامور فرزند پاکستان کو دیا۔ ان تین گرہوں کے علاوہ بہت سے “ انڈے کھانے والے کوئیوں “ کے گروہ ہمیشہ موجود رہے ۔ جوکہ خود کو بناتے رہے اور اسلام کی جڑیں کاٹتے رہے۔
نعرے چونکہ سب اچھے لگاتے تھے۔ لوگ دھوکا کھا جاتے تھے ان کے اتنے قصہ ہیں کہ یہاں سما نہیں سکتے۔ چونکہ نام سب ایک سے تھے نعرے سب کے ایک سے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی وہ سلسلہ جاری رہا۔ جو بھی آیا اس نے ایک نعرہ لگایا، اور مسلمانوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اسے ہیرو بنا دیا، مگر کوئی آجتک کچھ نہ دے سکا؟ وجہ یہ تھی کہ نعرے اچھے تھے۔ مگر وہ مشینری ہمارے پاس صدیوں سے موجود نہیں تھی جس نے مدنی نظامِ حکومت تشکیل دیا تھا۔ وہ تھا ان کے دلوں میں خوفِ خدا ؟نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری اخلاقی حالت روز بروز گرتی چلی گئی ۔اور بقول علامہ اقبال (رح) ہم میں حضرت بلال(رض) جیسے لوگ تو ہیں مگر روحِ بلالی(رض) نہیں ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ ہم جان دیتےتو مال، وطنیت ، برادری وغیرہ کے لیے ہیں۔ مگر صلہ میں شہادت چاہتے ہیں ان کو بزعم خود شہید بھی کہتے ہیں۔ جبکہ حضور (ص) کے ایک غزوہ میں ایک غیر مسلم عین لڑائی کے وقت مسلمان ہوا اس نے اپنے کل مال کے لیے بھی وصیت کردی کہ میں مرجاؤں تو یہ بیت مال کو د یدیا جا ئے ؟اس کے بعد وہ اس بہادری سے لڑا کہ ا س کے جسم کا کوئی حصہ زخموں کے بغیر نہ بچا، صحابہ کرام(رض) کہنے لگے کہ یہ شخص جنتی ہے! حضور (ص ) نے فرمایا نہیں؟ صحابہ کرام (رض) میں تجسس پیدا ہو وہ ا س کی نگرانی کرتے رہے اور اس نے آخر کار زخموں کی تکلیف سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ جوکہ اسلام میں حرام ہے۔ جبکہ اسلام میں شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ مرنے والے کا مقصد صرف ا للہ کی خوشنودی ہو، وہی شہید کہلانے اور جنت میں جانے کا مستحق ہے ورنہ نہیں۔ مہاجر وہ کہلانے کا مستحق ہے جس نے خالص اللہ کے کے لیے ہجرت کی ہو۔ اسی طرح کوئی بھی عبادت کسی بھی اورمقصد کے لیے ہو یا حرام مال سے ہو؟ وہ ایسا ہے جیس کی مثال قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ جیسے چٹاں پر جمی مٹی میں کوئی پودا اگ آیا ہو، تیز بارش ہو ا ور وہ مع مٹی کے بہہ جائے“ چونکہ ہم اسلام کو سمجھتے ہی نہیں ہیں؟اپنی سادہ لوحی میں ہر لیڈر سے وعدہ کرلیتے ہیں اور جب وہ کہتا ہے جو میں کہوں تم وہ کروگے ،تم میرے لیے جان دو گے ۔ پھر دہرا تا ہے “ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جان دوگے ہاتھ کھڑے کرو! لوگ جوش میں کہدیتے ہاں!
جبکہ اس قسم کے وعدے کرنے کے لیے اگر وہ مسلمان ہے تو آزاد نہیں ہے؟ کیونکہ اس کا ہر فعل اللہ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کوئی شخص کچھ کہے گا وہ کریگا؟ کیونکہ اس کوصرف مظلوم کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسری کی مدد کرنے حکم ہے ، صرف بھلائی ہی کے کامو ں میں اپنا مال خرچ کر نے کا حکم ہے۔ جو مسلمان کسی نعرہ باز کے جوش دلانے پر اللہ کی قسم پر ہاتھ اٹھادیتے ہیں کہ ہا ں! ۔ وہ غلطی پر ہیں؟اب ہاتھ اٹھانے کے بعد دوہی راستے ہیں یا تو وہ ظالم کے ساتھی بن جا ئیں جو کہ مظلوم بن کر ان کے پاس آیا ہے اور دنیا نبھا لیں اور دنیا بنالیں۔ یا پھر دین عزیز ہے !تو توبہ کریں اور قسم ٹوڑنے کا کفارہ ادا کریں۔اللہ دین کو سمجھنے کی ہم سب کو فہم دے اورنیکیاں کرنے کی تو فیق بھی عطا فر مائے۔( آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

جو ہم چاہتے ہیں وہ تم مت چا ہو۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

کل پاکستان کے مرکزی وزیر داخلہ جناب اقبال احسن صاحب کابیان نظر سے گزرا کہ انہوں نے فرمایا “ عمران خان یہ چاہ رہے ہیں کہ ہم ان کو گرفتار کرکے ہیرو بنا دیں، ہم ان کی یہ خواہش پوری نہیں کریں گے “ ۔ یہ ان کا بیان ہے جو اس کابینہ میں سب سے زیادہ مدبر اور معقول سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ہم اسے پڑھ کر مایوس ہوئے۔کہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ“ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھا ئی کے لیےبھی چاہو“ بہت سے رہنما عمران خان کی طرح دل میں یہ خواہش لیے پھررہے ہیں کہ کوئی عدالت سزا سنادے یا گرفتار کرلے تو ہم ہیرو بن جائیں ؟اور عدالتیں ہیں کہ ان کی خواہشیں پوری کر کے نہیں دے رہی ہیں۔ کہ وہ کہیں مظلوم نہ بن جائیں ۔ مگر ایسے جو ہیں وہ تو مغرور مشہور ہیں ان کی بات اور ہے؟ ان میں سے اگر کوئی یہ بات کہتا تو ہم سمجھ جاتے کہ ان کے نزدیک ایک مستند لیڈر کی برابری کرنا اور وہ بھی کوئی نو زائیدہ لیڈر کرے وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں، انہیں یہ بات بھلا کیسے برداشت ہوسکتی ہے کہ ان کی کوئی برابری کرے۔ ان کے منھ کو آئے۔ یہ تو صرف اشرافیہ کام ہے۔ مگر احسن اقبال صاحب سے ہمیں ایسی امید نہ تھی کہ وہ اس طرح سوچیں گے کیونکہ باریش آدمی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سنت پر کاربند بھی ہیں۔ اور انہوں نے شاید یہ بھی پڑھا ہو ؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرما یا کہ“ تکبر میری چادر ہے جو اس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا سزا بھگتے گا۔
اقبال احسن صاحب کے اس بیان سے تمام جرائم پیشہ ا فرد کو کیا پیغام گیا ہو گا اور اس کے اثرات امن وامان کی صورتِ حال پر کیا مرتب ہونگے یہ سوچنا ہر شہری کاکام ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح تمام جرائم پیشہ افراد کی ہمتیں بڑھ جا ئیں گی۔ا ن میں سے جس کو بھی پکڑا جائے گا وہ کہدیا کرے گا کہ یہ سیاسی الزام ہے مجھے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا۔ پھر جلسہِ عام کرکے سڑکوں پر عوام کو جمع کریگا اور کہتا پھرے گاکہ “بتاؤ تو مجھے پکڑا کیوں ہے اور میرے ساتھ جو برتاؤ ہورہا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی“ جبکہ مثالیں تو موجود ہیں مگر وہ قانونی کتابیں کھول کر پڑھنے کی کوشش شاید خود جاان کر نہیں کرتے کہ اس سے ان کی معصومیت کو ٹھیس پہونچے گی؟ البتہ اس بات سے انکی ہم اتفاق کریں گے اور ملزموں کے ساتھ ان کی طرح VIP سلوک نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اور ملزموں کو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ چوالیس کاروں کے جلوس کے ساتھ عدلت میں حاضر ہوں ۔
پہلے ہی کوئی ملزم ملک میں پکڑا نہیں جاتا ہے اگر کبھی غلطی سے پکڑا بھی جاتا ہے۔ توجن کا وہ بندہ ہو وہ ان کے فون پر چھوٹ جاتا ہے۔ یا ڈراکر دھمکاکر مال خرچ کے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ کوئی بدقست ہی ہوگا کہ اس کے با وجود بھی دھر لیا جائے، پھر ہر ایک ہر طرف وہ دننداتا پھرے کہ مجھے گرفتار کرلو؟ یہ اس ملک کے لیے کوئی اچھی روش نہیں ہے جہاں جیلیں ملزمان کی جنت ہیں ۔ منشیات فروشی کی آماجگا ہیں وہ کیا کچھ ہیں اس کی تفصیل جو چاہے اخبارو میں پڑھ لے ۔ چونکہ پاکستان کے دستور میں ابھی تک “اسلامی“ جمہوریہ پاکستان لکھا ہو ہےاور پارلیمان کے دروازے پر“ کلمہ طیبہ بھی“ کاش کو ئی اس کا پاس کرے جس ملک میں اٹھانوے فیصد آبادی خود کو مسلمان کہتی ہے؟اس کی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ یہ سلوک ترک کر دے اور اپنے کام سے کام رکھے کہ جس کا وارنٹ جاری ہو پہلے انہیں خود پیش ہونے کا موقع دے؟ جو عدالت میں آنا کسر ِ شان سمجھتے ہوں انہیں گرفتار کر کے لائے؟ رہے مطلوبہ افرادا نہیں بھی چاہیئے کہ وہ اپنی عدالتوں کا احترام کر یں جیسا کہ مہذب ملکوں میں ہماری ہی تاریخ پڑھ کر انہوں نے اپنایا ہے، جو کبھی ہمارے دور میں ہوتا رہا ہے کہ خلیفہ راشد (رض) تک مدعی کے برابر جا کر عدالت میں کھڑے ہوجاتے تھے؟ نہ جج کرسی پیش کرتا تھا اور نہ ہی کوئی سہولت۔ ہم میں سے کوئی پہلے تو ایسا کام ہی نہ کرے کہ وارنٹِ گرفتاری نکلنے نو بت آئے۔ اور اگر کسی کا کسی غلطی کی بنا پر وارنٹ نکل بھی گیا ہے تو فوراً حاضر ہوجائے ! یہ ہی معزز لوگوں کی پہچان ہوتی ہے اسی میں ان کی شان پنہاں ہے۔ ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی بھی قابلِ ستائش نہیں ہے ۔ جو کہ عدالتوں کا منھ چڑائے۔ قانون کا مذاق اڑائے؟ اور نہ ہی یہ مسلمانوں کی پہچان ہے۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں ۔۔۔شمس جیلانی

کوئی کچھ بھی لکھے جس پارٹی کے خلاف ہو گا وہ فوراً تہمت لگادیگی کہ یہ شخص ہماری پارٹی یا ہمارے لیڈر کے خلاف ہے۔ حال میں ہی ہمیں ایک ویڈیو ملی جو کہ ہمارے ایک کرم فرما کی طرف سے تھی، وہ ہمارے بہت ہی اچھے دوست اور معتقد ہیں ،جو اس سے ثابت ہے کہ۔ انہوں نے حج بھی ہماری حضور(ص)کی سیرت پر لکھی ہوئی کتا ب “روشنی حرا“ سے روشنی لیکر کیا اور اپنے سفر نامے میں بھی اس کا ذکر کیا ۔ وہ ویڈیو ا ن کے کسی عزیز کے کلام پر مشتمل تھی۔ جسے ہم نے گلہ بین السطور سمجھا؟ اس لیے کہ اس میں کہاگیا تھا کہ“ جناب نواز شریف صاحب کو قیامت تک یاد رکھا جا ئے گا۔ یہ بات سچ ہے اس سلسلہ میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں ۔ لہذا ہم بھی مانتے ہیں کہ یقیناً یاد رکھا جا ئے گا۔ کیونکہ جو بھی دنیامیں اپنے کسی کام وجہ سے نمایاں ہوتا ہے اسے ضروریادرکھاجاتا ہے۔ مگر یہ بعد کے مورخین پر منحصر ہو تا ہے کہ وہ اسےا چھا ئی سے یاد کریں یابرائی سے وہی کچھ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں اس کے نام کے ساتھ چپک کر رہ جاتا ہے ؟ جیسے نوشیرواں عادل “عدل“ میں یا ظلم میں چنگیز خان اورہلاکو؟ ہم میں خرابی یہ ہے کہ جب ہم قلم ہاتھ میں لے تے ہیں۔ تو قطعی طور پر غیر جانبدار ہو جاتے ہیں کیونکہ مومن کی دوستی یادشمنی صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیےہوتی ہے۔ کسی اور مقصد کے لیے نہیں ۔ اگر کوئی اچھا کام کرے تو ہم ا سے سراہتے ہیں اور برا کام کرے تو بلا کم وکاست وہ بھی لکھد یتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں ہمارا اللہ سچ بولنے اور اپنے بارے میں ہر غلط فہمی کو دور کرنے حکم دیتا ہے ،اس کے ہرحکم کے سا منے ہم کسی کی نہیں سنتے؟
اب آپ سوال کریں گے کہ آپ کی برادری کہ اور افراد ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اس کا جواب بھی یہ ہے کہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قناعت عطا فرما دی ہے اور یہ یقین بھی کہ عزت اور ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ بھی کہ ہم سے صرف ،ہمارے بارے میں پوچھا جائے گا، اوروں کے بارے میں نہیں ؟اس تمہید کے بعد ہم پھر ایک اورغلطی کرنے جا رہے ہیں کہ ہم سابق صدرِ پااکستان زرداری صاحب کے ایک طنزیہ اورمذاحیہ تبصرہ پربات کر رہے ہیں ۔ جو بہت چھوٹا ساہےاور انہوں نے خیبر پختون خوا کے وزیرِاعلیٰ کے بارے میں ارشاد فر مایا ہے کہ“ میں اس کے گاؤں میں کھڑا ہوں وہیں یہ جلسہ عام کر رہا ہوں ،جو اپنے گاؤں کو نیا اب تک نہیں بنا سکا وہ خیبر پختون خواکو کیا نیا بنا ئے گا“دیکھئے! قدریں کتنی بدل گئیں ہیں ۔ پہلے جو اپنا گھر سرکاری مال سے بنواتا تھا تو اسے بہت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا اور سب اس کی مذمت کرتے تھے۔ اب اس کا الٹ ہے۔ جو اس جملہ سے پتہ چل رہا ہے ؟یہ کہا ں سے شروع ہوا وہ تواللہ سبحانہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ ہر چیزاسی کے علم میں ہے۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں ایک “جنرل“ جوا سلامی نظام نا فذ کر نے آئے تھے ، انہوں نے اس کی ابتداکی؟ جوکہ یہاں سے شروع ہوئی کہ انہوں نے ہر رکنِ پارلیمان کو نصف کروڑ روپیہ سرکاری خزانے سے ترقیاتی فنڈ کے نام پرعطافرما دیا کہ وہ ا سے اپنی صوابدید پر جہاں چاہے جیسے چاہے خرچ کر سکتا ہے ؟زیادہ تر اراکین نے یہ کام کیا کہ اپنے ، اپنے گاؤ ں کوآنے والی سڑکیں اور اپنے گھروں کو بہتر کرلیا؟ ضیا الحق صاحب کاتو ہمیں علم نہیں کہ ہم ان کے دور میں یہاں چلےآئے تھے! ۔ آیاکہ ان کا بھی کوئی گاؤں کہیں تھا، اورا نہوں نے اپنے گاؤں کے بارے کیا کیا؟ مگر ایک صدر صاحب کو ہم جانتے ہیں کہ ان کے دورمیں متعدد شہروں میں ان کے ایوان صدر تھے اورا ن کی دیکھ بھال اور تمام خرچہ حکومت کے ذمہ تھا۔ جب صدر صاحب کا یہ حال ہو، توا ن کے وزریراعظم کیسے پیچھے رہتے ا نہوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور شاندار گھر بنایا؟ان کے بعد آنے والوں نے ان کی روایت کو زندہ رکھا! موجودہ صدر صاحب کا پتہ نہیں البتہ سابق وزیر اعظم صاحب کا کئی جگہ وزیر اعظم ہاؤس تھا۔ جبکہ وہ جہاں سے بیٹھ کرحکومت کیا کرتے تھے اس کی حفاظت پر جو عملہ متعین تھا اس کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ اب ہمیں پتہ نہیں کہ آجکل کیا صورتِ حال ہے کیونکہ میڈیاکو اچھالنے کے خبریں بہت ہیں جبکہ یہ خبر اور اس پر تحقیق پر وقت برباد کرنا وہ ضروری نہیں سمجھتی؟ ا للہ کرے ذوق طلب اور زیادہ؟ البتہ ہماراآپ سے وعدہ ہے کہ وہاں کے لیڈروں میں سے کوئی بھی بغیر کسی ہیر پھر کے، احتساب سےصافور شفاف نکل آیا تو ہمیں اسکی مداح خوانی میں ہمارے قارئیں انشا ء اللہ پہلی صف میں کھڑا ہوا پا ئیں گے؟ مگر “ شرط“ ہیر پھیر یاد رکھیئےگا۔ جس میں کسی کو کسی طرح ڈرانا دھمکانا وغیرہ سب شامل ہے۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں ۔ازشمس جیلانی

حضرت اکبر الہ آبادی مرحوم جن نے کے شعر کا یہ پہلامصرع ہے جوکہ وہ ا ور قسم کی کتابوں کے لیے کہہ گئے تھے ۔ مگر یہ آج دو صدی بعدبھی فٹ ہے اس لیے ہم نے اسکو عنوان کے طور پر منتخب کیا ہے۔
اس کو کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا۔ مگر یہ لفظ ان کے لیے کچھ اچھا نہیں لگتا جوکہ بزعمِ خود، خودکو خادمِ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور اس کی بناپر مقدس کہلا تے ہیں جبکہ ا صل میں وہ نہ جانے کس کس کے خادم ہیں انہیں کو پتہ ہے ۔ لیکن کسی کوخود کو مقد س کہلانے کے لیے جس عمل کی ضرورت ہوتی ہے اسے اسلام میں تقویٰ کہتے ہیں ۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ چاہیں باد شاہ ہوامیر ہو یا کسی ملک کا وزیرا عظم ، غرضیکہ ہو وہ جو بھی ۔اس کا ہر قدم اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی اور حضور(ص) کے ا سوہ حسنہ کے مطابق ہو،ا ن کے خلاف نہ ہو ؟ جو بھی ا س شرط کو پورا کر تا ہو اس کے پاس کوئی عہدہ ہو نہ ہو چونکہ قر آن کے مطابق وہ ا للہ کا ولی ہے ا للہ اس کاولی ہے۔ لہذا وہ ہر اعتبار سے مقدس سمجھے جانے ا ور کہلانے کا مستحق ہے ۔اگر صرف کلمہ گو ہے اور عمل نہیں ہے تووہ کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کہ قرآن سے بھی ثابت ہے بہت سی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول سے بھی ثابت ہے کہ عمل کے بغیرا یمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔ اب اس لمبی تمہید کے بعد ہم آتے ہیں ا س خبر کی طرف جو امریکہ کے محکمہ خارجہ طرف سے جاری ہو ئی اور کسی نے اس کی تردید نہیں کی ،وہ خبر یہ ہے کہ“ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے حال میں ہی انکشاف کیا ہے کہ ہم نے اور سعودی عرب نے ملکر ایک مرکز قائم کیا ہے جس میں سعودی عربیہ اورا ن کے زیر اثر پڑھائے جانے والے اداروں کے نصاب کو کھنگال رہے ہیں اور ان میں سے شدت پسندی کی چھان بین کر کے نصاب سے نکال رہے ہیں“اس سلسلہ میں ہم نے اپنے ایک کالم میں کچھ عرصہ پہلے توجہ دلائی تھی کہ اب شد ید ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک صدی سے جو شدت پسندی کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جارہی ہے اس کے منبع کو تلاش کر کے پہونچا جا ئےاور وہ جہاں کہیں بھی پڑھا ئی جارہی ہے اس کو روکا جائے۔ جوا س لیے شامل نصاب کی گئی تھی کہ اس سے بدعت دور کرنے کہ نام پر ایک نئے فقہ کو جنم دیا جا ئے اور پوری دنیا کو اس نئے فقہ کا پیرو بنا کر خود تقدس مآب بن جا ئیں ۔چونکہ یہ کوششیں ایک صدی سے جاری تھیں اس کو پھیلانے والوں کے ساتھ ہر طر ح کی مالی معاونت بھی شامل تھی لہذا وہ تحریک بہت تیزی سے پھیلی اوریہ اس کا شاخسانہ ہے کہ اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں شدت پسند تحریکوں سے متاثر لو گ موجود ہیں ۔ چونکہ اس کے کارکن پڑھے لکھے بھی ہیں لہذا وہ زہریلا لٹریچر ان نامور مورخین کی کتابوں تک ہی محدود نہیں جنکی اس ملک کے کارخانو میں اب تک تلخیص ہو چکی ہے اور کسی نے ان سے پوچھا تک نہیں کہ دوسروں کی کتابوں میں ردو بدل کرنے کاا آپ کو حق کس نے دیا ہے؟ جن سے اب سوک میڈیا بھی روز ما لا مال ہورہی ہے۔ خدا شکر ہے کہ اسے نہ صرف امریکن قیادت نے ضروری سمجھا بلکہ دوسرے ملک بھی اس زہریلے لٹریچر کو اپنے اپنے یہاں تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہمیں ایک خبر چین سے بھی ملی ہے کہ ا نہوں نے بھی تمام اسلامی کتابیں مسجدوں اور لائبریریوں سے لے لی ہیں کہ ہم ا ن کوسینسر کر کے پھر واپس کر یں گے۔ حالانکہ یہ کام کرنے سے پہلے دنیا کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم جو یہ نفرت کا بیج بو رہے ہیں انکی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اس کا پھل کتنا کڑوا ہوگا۔ جبکہ قرآن میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ بار بار یہ فرما رہا ہے اور لوگوں کو متنبہ کر رہا ہے۔ کہ “ جو کچھ کوئی کرتا ہے اپنے لیے کرتا ہے اور س نے ا نسان کی مرضی پر چھوڑدیا ہے کہ“ وہ اپنے لیے برائی پسند کرتا ہے یابھلائی“ چلیئے اب بھی دنیا کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیاتو بھی کچھ برا نہیں ہے ۔ جبکہ نتیجہ بھگت یہ نسل رہی ہے جس کی غلطی نہیں ہے، غلطی ان کے بزرگوں کی ہے جنہوں نے یہ بیج بویا او ر اس کی آبیاری کی؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم نے سبق ہے سیکھا یہ اسوہ حسین(رض) سے ۔۔۔از۔۔شمس جیلانی

حق پر جان دیدو اور سوجاؤچین سے۔ سال کے بارہ مہینے ہمارے کالم اسوہ رسول( ص)پر ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ ہی ایک راستہ ہے امت کو تفریق سے بچانے کا اور بطور امتی ہمیں یہ حکم ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں کوئی سنے یا نہ سنے تم حق گوئی سے روگردانی نہ کرواور ہر حالت میں سچ کہتے رہو؟ اس امید پر‘‘ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات‘‘ اسی لیے ہم پورے سال اسوہ حسنہ (ص) پر بات کرتے ہیں کہ مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا؟ مسلمان آج احساس کمتری میں اس حدتک مبتلا ہیں کہ ا نہیں کہیں کوئی امید کی کرن اور امت میں رمق تک نظر نہیں آتی ؟ ایسا ہی دور وہ بھی تھا جب امتِ مسلمہ مایوس ہوچکی تھی ا سے امید کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دے رہی تھی، مسلمان عافیت اسی میں سمجھ رہے تھے۔ کہ گھروں میں خاموشی سے بیٹھے ر ہیں؟ مگر جن کو حضور (ص) نے اس امت پر نگراں بنایا تھا ان کے دل میں اْمت کی سب زیادہ فکر تھی انہوں نے ہار نہیں مانی! امت کو مردہ دلی سے نکالنے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ٹھان لی؟اور صرف اپنی ا کیلی جان نہیں بلکہ ان تمام افراد کی جانیں بھی، کہ ا ن کو بھی ساتھ لے لیاجو ان کے اپنے پیارے تھے۔ اس لیے کہ دشمن ان کا ہی، دشمن نہیں تھابلکہ تمام اہلِ بیت کا حضور(ص) کے وارث ہونے کی وجہ سے دشمن تھا۔ وہ ان ہی کی جان کی جان لینے پر اکتفا نہیں کرتا ، پھر بقیہ کی تلاش میں نکل کھڑا ہو تا۔ لوگ مشورہ دیتے رہے کہ آپ یہاں زیادہ محفوظ ہیں، مگر عین اسوقت جب پوری دنیا سمٹی ہوئی کعبہ کی طرف رواں اور دواں تھی وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے؟ا س لیے کہ انہیں یقین تھا کہ دشمن سے کچھ بھی بعید نہیں ہے ،جو بعد میں تاریخ نے ثابت کردکھایا۔ وہ جانتے تھے کہ صرف ان کی اکیلے جان دینے سے کام نہیں بنے گا۔ انہیں حرم کی بے حرمتی کا خطرہ تھا، مدینہ منورہ کی بے حرمتی کا خطرہ تھا۔ جبکہ انہیں اپنے نانا(ص) کی بات کا یقین تھا کہ وہ واقعہ ہوکر رہے گا جو انہیں پہلے سے ہی بتادیاگیا تھا ،وہ جگہ بھی بتادی گئی جہاں انہیں شہید ہونا تھا۔ کیونکہ نانا (ص) کے فرمودات کووہ پتھر پر لکیر سے بھی کہیں زیادہ یقینی سمجھتے تھے۔ اس سفر کے شروع کر نے اور راہ میں ملنے اور روکنے والوں کے مشوروں کے باوجود وہ رکے نہیں ؟ حتیٰ کہ ایک یمن کا سردار بھی آکر انہیں راہ میں ملا؟ اور اس نے کہا آپ وہاں تشریف نہ لے جائیں حالات بد دل چکے ہیں ۔میرے ساتھ تشریف لے چلیں میرے قبیلہ کی دس ہزار تلواریں وہاں آپ کے ساتھ ہونگی۔مگر ان جیسا صاحبِ ایمان خدا کو چھوڑ کر بندوں پر کیسے یقین کر لیتا؟ دوسرے وہ بلاوجہ خوں ریزی نہیں چاہتے تھے وہ حکومت بھی نہیں چاہتے تھے جو ہمارے جیسے لوگوں نے سوچا اور لکھا ہے۔ وہ صرف مرضیِ رب چا ہتے تھے۔ کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ انجام وہی ہو نا ہے۔ جو پہلے سے انکے علم میں ہے اور وہ ہوکر رہا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو یہ دنیا کو دکھانا تھا کہ اسلام جس طرح ‘‘انوکھا دین‘‘ ہے۔ بے ‘‘مثل رب‘‘ رکھتا ہے ویسا ہی نبی (ص)بھی رکھتا ہے اور نبی(ص) اب اپنی جس عترت کو امت پر نگراں بناکر چھوڑ گئے ہیں، اس کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ‘‘بھی ویسی ہی ‘‘بے مثل اور عظیم ‘‘ہے۔ دنیا نے یہ دیکھا اور مانا کہ وہ بھی سارے کہ سارے ‘‘ بے مثل ‘‘تھے۔ ان میں ایک بھی ایمان کی کمزوری ظاہر کرتا تو یہ ‘‘ذبحیہِ عظیم ‘‘ برپا ہونا ناممکن تھا۔ یہ وہ تھے جوکہ حضرت براہیم ؑ(ع) کے مکی کنبہ کی طرح سب کہ سب بندہِ تسلیم و رضا تھے اوروہ پیش گوئی پوری ہوگئی جو حضرت اسمعٰیل (ع)کے بجائے ذبیحہِ عظیم سے بدلی گئی تھی۔ اللہ کے پیارے نبی (ص) جسے اپنی عترت قرار دے کر گئے تھے۔ اس نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ قربانی دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی، پہلے کچھ نبی (ص) صرف اپنی جانی قربانی تک محدود رہے تھے۔ مگر یہ واحد نبی(ص) ہیں جن کی عترت نے بایک وقت بہتر تک کی قربانی دی اور صرف ان میں سے ایک فرد بچا جو جان دینے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوکر نکلا بھی! مگر اسے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ کیونکہ ا سے عترت باقی رکھنا اور اُن سے اتنی بڑھانا مقصود تھی کہ سورہ ‘‘ اناآعطیئنا ‘‘ کی تفسیر پوری ہوسکے۔ حضرت امام حسیں علیہ السلام نے ایک ساتھ بہتر قربانیاں دیدیں اور عملی طور پر یہ ثابت کردیا وہ نہ صرف خود جنت کے سردار بننے کے مستحق ہیں۔بلکہ ا ن کے نانا (ص) بھی اس اعزاز کے مستحق ہیں جو انہیں عطا ہواورا ن کی ماں (س) بھی خاتونِ جنت کہلانے کی مستحق ہیں اور والد (رض) بھی جس طرح انہوں نے زندگی گزاری اور خود کو حضور (ص) کا ہر طرح نائب ثابت کیااور وہ تمام والدین قابل فخر اور بے مثل ہیں جنہوں نے ایسے بچے پرورش کئیے جنکا کوئی ثانی کبھی تاریخ پیدا نہیں کر سکیگی۔ جو راہ خدا میں اپنی جانیں قربان کرنا کھیل سمجھتے ہوں ۔ وہ تا قیامت امت پر نگراں رہیں گے ان کا نام بلند رہے گا جو قرآن کی بہت سی آیات سے ثابت ہے، احادیث سے ثابت ہے۔ جبکہ قاتل دائمی عذاب کے مستحق ہونگے کیونکہ یہ بھی قرآن میں موجود ہے کہ کسی مسلمان کو بلا گنا ہ قتل کرنے والا جہنم کے دائمی عذاب کا مستحق ہوگا، جسے اللہ کبھی معاف نہیں کریگا؟جبکہ دوسری جگہ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ‘‘ بلا تفریق کسی انسان کوبھی بے گناہ قتل کرنا سارے جہان کو قتل کرنا ہے اور ایک جان بچانا ساری دنیا کو بچاناہے ‘‘ یہ سارا کرشمہ اہلِ بیت کی ا س تربیت کا تھا کہ انکا ایمان ‘‘عین القین‘‘ کی حد تک پہونچا ہوا تھا۔ جس نے ان کو اپنے ا للہ کی نگاہو ں میں بلند کیا اور نانا (ص)کا سر فخر سے بلند رکھا؟ اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کو بیدار کردیا اور دین کو بچالیا ۔اللہ ہمیں بھی ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فر مائے؟ ( آمین)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

خاقان عباسی اپنے آپ کو وزیرا عظم سمجھیں!۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

امیر ِ جماعت اسلامی سراج الحق صاحب جب بھی کوئی بیان دیتے ہیں تو وہ اس بات کاخاص خیال رکھتے ہیں کہ ا س ذہنی تناؤ کے دور میں پڑھنے والوں کے لیے کچھ تفنّنِ طبع کا سامان بھی مہیا کردیں۔ اس میں شاید یہ تاثر بھی دینا مقصود ہو کہ وہ عالمِ ِخشک نہیں، بلکہ حسِ مزاح بھی رکھتے ہیں جوکہ ہمارے ہاں اس طبقہ میں نہیں پائی جاتی۔ا نکا حالیہ بیان ہمارے سامنے ہے کہ “خاقان عباسی صاحب خود کو وزیر اعظم سمجھیں“ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ خود کو وزیرآعظم نہیں سمجھتے ہیں ۔ کیا انہوں نے ان کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے نہیں دیکھا کہ وہ اسوقت کتنے پر اعتماد تھے جو کہ ان کے خود کووزیر اعظم ہونے اورماننے کا بین ثبوت ہے۔ پھر وہ غیر ملکی دوروں پر گئے توجہاں جاتے سکریٹری وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ ان کے ساتھ ہو تے ہیں ،لیکن انہوں نے ان کی ٹیک قبول نہیں کی، ہمارے سابق وزیر اعظم کی طرح ان کے ہاتھ میں کسی بڑے لیڈر سے ملا قات کرتے وقت پرچیاں بھی نہیں دیکھی گئیں ۔ پھر ہر جگہ سفیر ان کو ریسیو کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ جہاں جاتے ہیں ان کے اعزاز میں ظہرانہ یا عشائیے بھی دئے جارہے ہیں ۔ میرے خیال یہ ثبوت کافی ہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور خود کو وزیر اعظم سمجھتے بھی ہیں ۔
اصل میں وہ پچھلے چند سالوں سے ایک ایسا وزیر اعظم دیکھتے آرہے تھے۔ جو تھے تو وزیر اعظم، مگر جمہوری وزیر اعظم سے قطعی مختلف ؟ جو اسمبلی تک میں بھی کبھی اتفاق سے آتے تھے جس کی با قاعدہ خبر اخباروں میں آتی تھی کہ آج وہ پارلیمان میں تشریف لائے؟ مگر وہاں  بھی تیوری پر بل پڑے ہوتے تھے۔ انہیں کبھی ہم نے تو ہنستے نہیں دیکھا ممکن ہے، اکیلے میں ہنستے ہوں، جیسے کہ کچھ لوگ اکیلے میں روتے ہیں، مگر جوا کیلے میں ہنستا ہے اس کے بارے میں لوگ قیاس آرائیاں ایسی کرتے ہیں کہ سننے والوں کو بھی ہنسی آجاتی ہے۔ مختصر یہ کہ موصوف نہ عوام کو منھ لگاتے تھے نہ خواص کو یہ ان کی وہ انفرادیت تھی جو دنیا بھر کے وزرائے اعظموں میں نا یاب ہے۔ جبکہ ُان کے برعکس یہ ہنستے بھی ہیں مسکراتے بھی ہیں، صحافیوں کو پریس کانفرنسوں میں منھ توڑ جواب بھی دیتے ہیں، مگر وہ بھی مسکراتے ہوئے۔ دیکھیں یہ عوام میں مقبولیت حاصل کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟۔ کیونکہ وہاں کے عوام کی پسند اس سے الٹ ہے جو سابق وزیر اعظم کی مقبولیت سے ظاہر ہوتا ہے؟ اور اس کا ثبوت حلقہ نمبر 120 کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی ظاہرہو ہے؟ کہ اس میں ان کی تمام خوبیوں کے باوجو د جو بقیہ دنیا میں برا ئیاں سمجھی جاتی ہیں انہوں نے عظیم کامیابی حاصل کی؟ عوام نے بقول ان کی صاحبزادی صا حبہ کے یہ ثابت کردیا کہ “ دنیا کچھ بھی کہے ،عدالتیں کچھ بھی کہیں، عوام نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے وزیر اعظم نواز شریف ہیں “ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کے عوام برائیوں کو اچھا ئیاں  اوراچھا ئیوں کو برائیاں سمجھتے ہیں ،اور اسے پسند کرتے ہیں جوکہ ان کو جتنا زیادہ خوار کرے ۔ چونکہ یہ خوبیاں سراج الحق صاحب کو موجودہ وزیر اعظم میں نظر نہیں آرہی ہیں، شاید اسی لیئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود کو وزیر اعظم نہیں سمجھتے ہیں؟
جبکہ میرے خیال میں انہیں سمجھنا بھی نہیں چاہیے ،شاید اس کی وجہ وہ بیان ہو جو کہ مریم نواز صاحبہ نے دیا کہ “ دنیا کچھ بھی کہے مگر عوام وزیر اعظم نواز شریف کو ہی سمجھتے ہیں “۔ اور دنیا کا قائدہ ہے کہ جس کو عوام منتخب کریں اور وزیر اعظم سمجھیں وہی وزیر اعظم ہے۔ جبکہ سا بق وزیر اعظم کی یہ عادت چونکہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے ، گئی بھی تو بہت دیر میں جا ئے گی؟ جب تک  کہ انہیں انکے بد خواہ  یہ یقین دلاتے رہیں گے ،اس وقت تک انکا یقین اور پختہ ہوتا رہے گا کہ وہ واقعی عوام کے مقبول ترین لیڈر اور ابھی تک وزیر اعظم ہیں۔ رہے موجودہ وزیر اعظم ان کے مستقبل کی ہمیں فکر ہے اور ہماری دعا ہے کہ وہ مقبول نہ ہی ہو ں تو ان کے لیے بہتر ہے ۔ جیسے کہ ضیاءالحق صاحب محمد خان جو نیجو مرحوم کو بطور وزیر اعظم بے ضرر سمجھ کر لا ئے تھے ا ن کا پرانا ریکارڈ دیکھ کر کہ جب وہ پہلی دفعہ ون یونٹ میں ریلوے کے وزیر بنے تھے پیر صاحب پگارا کے نمائدہ کے طور تو پیر صاحب نے اپنے ایک مرید کو چٹھی دیکر ان کے پاس ملازمت کے لیے بھیجا ، ا نہوں نے اس کو اپنا مہمان رکھا جھنڈا لگی کار میں پورا لاہور دکھا یا کہ اسوقت وہ ون یونٹ کا دار الحکومت تھا۔ اور یہ کہہ کر اور با حسرت و یاس گلے لگا کر رخصت کردیا کہ“ جو میں کر سکتا تھا اور میرے بس میں تھا وہ تو میں نے کردیا؟ لیکن سائیں سے عرض کردینا کہ  حکم نواب آف کالا باغ ملک امیر خان (گورنر) کا چلتا ہے، لہذا نوکری دینا میرے بس میں نہیں ہے“ وہ انکا کامیاب ترین دور تھا بہت اچھی طرح وقت گزارا یہ ہی وجہ ِشہرت تھی کہ ضیا الحق صاحب کی نظر ِ انتخاب ان پر پڑی اور ان کو وزیر اعظم بنا دیا؟ وہ بھی امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے معلوم نہیں ، وہاں کیا ہوا “ شاید شاید بچو دیکھی ہو اور کسی نے کچھ کان میں کہدیاہو اس سے متاثر ہوگئے؟ کہ وہیں وہ خود کو وزیر اعظم سمجھنے لگے ؟ پھر کیا ہوا؟ وہ آپ تاریخ میں پڑھ لیں ؟ کیونکہ اسوقت  بھی  اصل طاقت کا سر چشمہ ضیاءالحق صاحب تھے اور نظریہ ضرورت کے تحت محمد خانصاحب کو انہوں نے وزیر عظم بنا رکھا تھا۔ اسی تجربہ روشنی میں خاقان عباسی صاحب کو انکے دوست محتاط رہنے دیں ، تو اچھا ہے۔ نواز شریف صاحب  بہ یک وقت دونوں کے پیرو ہیں وہی طرز حکمرانی اپنا ئے ہو ئے ہیں مگرآجکل وہ گاندھی ازم کا تتجربہ کر رہے ہیں کہ گاندھی جی کانگریس  کےکبھی دو آنے کے ممبر نہیں بنے، مگر چاہیں کانگریس کی صدارت ہو یا وزارت عظمیٰ ، عطاء لوگوں کو وہی کرتے تھے۔ البتہ آخری زمانے میں ان کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑپرگئی تھی اور چیلے منھ زوری کر نے لگے تھے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بقولِ شاعر “ اس طرح تو ہوتا اس طرح کے کاموں میں “

شائع کردہ از Articles