ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں ۔۔۔شمس جیلانی

کوئی کچھ بھی لکھے جس پارٹی کے خلاف ہو گا وہ فوراً تہمت لگادیگی کہ یہ شخص ہماری پارٹی یا ہمارے لیڈر کے خلاف ہے۔ حال میں ہی ہمیں ایک ویڈیو ملی جو کہ ہمارے ایک کرم فرما کی طرف سے تھی، وہ ہمارے بہت ہی اچھے دوست اور معتقد ہیں ،جو اس سے ثابت ہے کہ۔ انہوں نے حج بھی ہماری حضور(ص)کی سیرت پر لکھی ہوئی کتا ب “روشنی حرا“ سے روشنی لیکر کیا اور اپنے سفر نامے میں بھی اس کا ذکر کیا ۔ وہ ویڈیو ا ن کے کسی عزیز کے کلام پر مشتمل تھی۔ جسے ہم نے گلہ بین السطور سمجھا؟ اس لیے کہ اس میں کہاگیا تھا کہ“ جناب نواز شریف صاحب کو قیامت تک یاد رکھا جا ئے گا۔ یہ بات سچ ہے اس سلسلہ میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں ۔ لہذا ہم بھی مانتے ہیں کہ یقیناً یاد رکھا جا ئے گا۔ کیونکہ جو بھی دنیامیں اپنے کسی کام وجہ سے نمایاں ہوتا ہے اسے ضروریادرکھاجاتا ہے۔ مگر یہ بعد کے مورخین پر منحصر ہو تا ہے کہ وہ اسےا چھا ئی سے یاد کریں یابرائی سے وہی کچھ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں اس کے نام کے ساتھ چپک کر رہ جاتا ہے ؟ جیسے نوشیرواں عادل “عدل“ میں یا ظلم میں چنگیز خان اورہلاکو؟ ہم میں خرابی یہ ہے کہ جب ہم قلم ہاتھ میں لے تے ہیں۔ تو قطعی طور پر غیر جانبدار ہو جاتے ہیں کیونکہ مومن کی دوستی یادشمنی صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیےہوتی ہے۔ کسی اور مقصد کے لیے نہیں ۔ اگر کوئی اچھا کام کرے تو ہم ا سے سراہتے ہیں اور برا کام کرے تو بلا کم وکاست وہ بھی لکھد یتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں ہمارا اللہ سچ بولنے اور اپنے بارے میں ہر غلط فہمی کو دور کرنے حکم دیتا ہے ،اس کے ہرحکم کے سا منے ہم کسی کی نہیں سنتے؟
اب آپ سوال کریں گے کہ آپ کی برادری کہ اور افراد ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اس کا جواب بھی یہ ہے کہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قناعت عطا فرما دی ہے اور یہ یقین بھی کہ عزت اور ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ بھی کہ ہم سے صرف ،ہمارے بارے میں پوچھا جائے گا، اوروں کے بارے میں نہیں ؟اس تمہید کے بعد ہم پھر ایک اورغلطی کرنے جا رہے ہیں کہ ہم سابق صدرِ پااکستان زرداری صاحب کے ایک طنزیہ اورمذاحیہ تبصرہ پربات کر رہے ہیں ۔ جو بہت چھوٹا ساہےاور انہوں نے خیبر پختون خوا کے وزیرِاعلیٰ کے بارے میں ارشاد فر مایا ہے کہ“ میں اس کے گاؤں میں کھڑا ہوں وہیں یہ جلسہ عام کر رہا ہوں ،جو اپنے گاؤں کو نیا اب تک نہیں بنا سکا وہ خیبر پختون خواکو کیا نیا بنا ئے گا“دیکھئے! قدریں کتنی بدل گئیں ہیں ۔ پہلے جو اپنا گھر سرکاری مال سے بنواتا تھا تو اسے بہت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا اور سب اس کی مذمت کرتے تھے۔ اب اس کا الٹ ہے۔ جو اس جملہ سے پتہ چل رہا ہے ؟یہ کہا ں سے شروع ہوا وہ تواللہ سبحانہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ ہر چیزاسی کے علم میں ہے۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں ایک “جنرل“ جوا سلامی نظام نا فذ کر نے آئے تھے ، انہوں نے اس کی ابتداکی؟ جوکہ یہاں سے شروع ہوئی کہ انہوں نے ہر رکنِ پارلیمان کو نصف کروڑ روپیہ سرکاری خزانے سے ترقیاتی فنڈ کے نام پرعطافرما دیا کہ وہ ا سے اپنی صوابدید پر جہاں چاہے جیسے چاہے خرچ کر سکتا ہے ؟زیادہ تر اراکین نے یہ کام کیا کہ اپنے ، اپنے گاؤ ں کوآنے والی سڑکیں اور اپنے گھروں کو بہتر کرلیا؟ ضیا الحق صاحب کاتو ہمیں علم نہیں کہ ہم ان کے دور میں یہاں چلےآئے تھے! ۔ آیاکہ ان کا بھی کوئی گاؤں کہیں تھا، اورا نہوں نے اپنے گاؤں کے بارے کیا کیا؟ مگر ایک صدر صاحب کو ہم جانتے ہیں کہ ان کے دورمیں متعدد شہروں میں ان کے ایوان صدر تھے اورا ن کی دیکھ بھال اور تمام خرچہ حکومت کے ذمہ تھا۔ جب صدر صاحب کا یہ حال ہو، توا ن کے وزریراعظم کیسے پیچھے رہتے ا نہوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور شاندار گھر بنایا؟ان کے بعد آنے والوں نے ان کی روایت کو زندہ رکھا! موجودہ صدر صاحب کا پتہ نہیں البتہ سابق وزیر اعظم صاحب کا کئی جگہ وزیر اعظم ہاؤس تھا۔ جبکہ وہ جہاں سے بیٹھ کرحکومت کیا کرتے تھے اس کی حفاظت پر جو عملہ متعین تھا اس کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ اب ہمیں پتہ نہیں کہ آجکل کیا صورتِ حال ہے کیونکہ میڈیاکو اچھالنے کے خبریں بہت ہیں جبکہ یہ خبر اور اس پر تحقیق پر وقت برباد کرنا وہ ضروری نہیں سمجھتی؟ ا للہ کرے ذوق طلب اور زیادہ؟ البتہ ہماراآپ سے وعدہ ہے کہ وہاں کے لیڈروں میں سے کوئی بھی بغیر کسی ہیر پھر کے، احتساب سےصافور شفاف نکل آیا تو ہمیں اسکی مداح خوانی میں ہمارے قارئیں انشا ء اللہ پہلی صف میں کھڑا ہوا پا ئیں گے؟ مگر “ شرط“ ہیر پھیر یاد رکھیئےگا۔ جس میں کسی کو کسی طرح ڈرانا دھمکانا وغیرہ سب شامل ہے۔

Advertisements
شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں ۔ازشمس جیلانی

حضرت اکبر الہ آبادی مرحوم جن نے کے شعر کا یہ پہلامصرع ہے جوکہ وہ ا ور قسم کی کتابوں کے لیے کہہ گئے تھے ۔ مگر یہ آج دو صدی بعدبھی فٹ ہے اس لیے ہم نے اسکو عنوان کے طور پر منتخب کیا ہے۔
اس کو کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا۔ مگر یہ لفظ ان کے لیے کچھ اچھا نہیں لگتا جوکہ بزعمِ خود، خودکو خادمِ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور اس کی بناپر مقدس کہلا تے ہیں جبکہ ا صل میں وہ نہ جانے کس کس کے خادم ہیں انہیں کو پتہ ہے ۔ لیکن کسی کوخود کو مقد س کہلانے کے لیے جس عمل کی ضرورت ہوتی ہے اسے اسلام میں تقویٰ کہتے ہیں ۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ چاہیں باد شاہ ہوامیر ہو یا کسی ملک کا وزیرا عظم ، غرضیکہ ہو وہ جو بھی ۔اس کا ہر قدم اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی اور حضور(ص) کے ا سوہ حسنہ کے مطابق ہو،ا ن کے خلاف نہ ہو ؟ جو بھی ا س شرط کو پورا کر تا ہو اس کے پاس کوئی عہدہ ہو نہ ہو چونکہ قر آن کے مطابق وہ ا للہ کا ولی ہے ا للہ اس کاولی ہے۔ لہذا وہ ہر اعتبار سے مقدس سمجھے جانے ا ور کہلانے کا مستحق ہے ۔اگر صرف کلمہ گو ہے اور عمل نہیں ہے تووہ کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کہ قرآن سے بھی ثابت ہے بہت سی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول سے بھی ثابت ہے کہ عمل کے بغیرا یمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔ اب اس لمبی تمہید کے بعد ہم آتے ہیں ا س خبر کی طرف جو امریکہ کے محکمہ خارجہ طرف سے جاری ہو ئی اور کسی نے اس کی تردید نہیں کی ،وہ خبر یہ ہے کہ“ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے حال میں ہی انکشاف کیا ہے کہ ہم نے اور سعودی عرب نے ملکر ایک مرکز قائم کیا ہے جس میں سعودی عربیہ اورا ن کے زیر اثر پڑھائے جانے والے اداروں کے نصاب کو کھنگال رہے ہیں اور ان میں سے شدت پسندی کی چھان بین کر کے نصاب سے نکال رہے ہیں“اس سلسلہ میں ہم نے اپنے ایک کالم میں کچھ عرصہ پہلے توجہ دلائی تھی کہ اب شد ید ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک صدی سے جو شدت پسندی کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جارہی ہے اس کے منبع کو تلاش کر کے پہونچا جا ئےاور وہ جہاں کہیں بھی پڑھا ئی جارہی ہے اس کو روکا جائے۔ جوا س لیے شامل نصاب کی گئی تھی کہ اس سے بدعت دور کرنے کہ نام پر ایک نئے فقہ کو جنم دیا جا ئے اور پوری دنیا کو اس نئے فقہ کا پیرو بنا کر خود تقدس مآب بن جا ئیں ۔چونکہ یہ کوششیں ایک صدی سے جاری تھیں اس کو پھیلانے والوں کے ساتھ ہر طر ح کی مالی معاونت بھی شامل تھی لہذا وہ تحریک بہت تیزی سے پھیلی اوریہ اس کا شاخسانہ ہے کہ اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں شدت پسند تحریکوں سے متاثر لو گ موجود ہیں ۔ چونکہ اس کے کارکن پڑھے لکھے بھی ہیں لہذا وہ زہریلا لٹریچر ان نامور مورخین کی کتابوں تک ہی محدود نہیں جنکی اس ملک کے کارخانو میں اب تک تلخیص ہو چکی ہے اور کسی نے ان سے پوچھا تک نہیں کہ دوسروں کی کتابوں میں ردو بدل کرنے کاا آپ کو حق کس نے دیا ہے؟ جن سے اب سوک میڈیا بھی روز ما لا مال ہورہی ہے۔ خدا شکر ہے کہ اسے نہ صرف امریکن قیادت نے ضروری سمجھا بلکہ دوسرے ملک بھی اس زہریلے لٹریچر کو اپنے اپنے یہاں تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہمیں ایک خبر چین سے بھی ملی ہے کہ ا نہوں نے بھی تمام اسلامی کتابیں مسجدوں اور لائبریریوں سے لے لی ہیں کہ ہم ا ن کوسینسر کر کے پھر واپس کر یں گے۔ حالانکہ یہ کام کرنے سے پہلے دنیا کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم جو یہ نفرت کا بیج بو رہے ہیں انکی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اس کا پھل کتنا کڑوا ہوگا۔ جبکہ قرآن میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ بار بار یہ فرما رہا ہے اور لوگوں کو متنبہ کر رہا ہے۔ کہ “ جو کچھ کوئی کرتا ہے اپنے لیے کرتا ہے اور س نے ا نسان کی مرضی پر چھوڑدیا ہے کہ“ وہ اپنے لیے برائی پسند کرتا ہے یابھلائی“ چلیئے اب بھی دنیا کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیاتو بھی کچھ برا نہیں ہے ۔ جبکہ نتیجہ بھگت یہ نسل رہی ہے جس کی غلطی نہیں ہے، غلطی ان کے بزرگوں کی ہے جنہوں نے یہ بیج بویا او ر اس کی آبیاری کی؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم نے سبق ہے سیکھا یہ اسوہ حسین(رض) سے ۔۔۔از۔۔شمس جیلانی

حق پر جان دیدو اور سوجاؤچین سے۔ سال کے بارہ مہینے ہمارے کالم اسوہ رسول( ص)پر ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ ہی ایک راستہ ہے امت کو تفریق سے بچانے کا اور بطور امتی ہمیں یہ حکم ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں کوئی سنے یا نہ سنے تم حق گوئی سے روگردانی نہ کرواور ہر حالت میں سچ کہتے رہو؟ اس امید پر‘‘ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات‘‘ اسی لیے ہم پورے سال اسوہ حسنہ (ص) پر بات کرتے ہیں کہ مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا؟ مسلمان آج احساس کمتری میں اس حدتک مبتلا ہیں کہ ا نہیں کہیں کوئی امید کی کرن اور امت میں رمق تک نظر نہیں آتی ؟ ایسا ہی دور وہ بھی تھا جب امتِ مسلمہ مایوس ہوچکی تھی ا سے امید کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دے رہی تھی، مسلمان عافیت اسی میں سمجھ رہے تھے۔ کہ گھروں میں خاموشی سے بیٹھے ر ہیں؟ مگر جن کو حضور (ص) نے اس امت پر نگراں بنایا تھا ان کے دل میں اْمت کی سب زیادہ فکر تھی انہوں نے ہار نہیں مانی! امت کو مردہ دلی سے نکالنے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ٹھان لی؟اور صرف اپنی ا کیلی جان نہیں بلکہ ان تمام افراد کی جانیں بھی، کہ ا ن کو بھی ساتھ لے لیاجو ان کے اپنے پیارے تھے۔ اس لیے کہ دشمن ان کا ہی، دشمن نہیں تھابلکہ تمام اہلِ بیت کا حضور(ص) کے وارث ہونے کی وجہ سے دشمن تھا۔ وہ ان ہی کی جان کی جان لینے پر اکتفا نہیں کرتا ، پھر بقیہ کی تلاش میں نکل کھڑا ہو تا۔ لوگ مشورہ دیتے رہے کہ آپ یہاں زیادہ محفوظ ہیں، مگر عین اسوقت جب پوری دنیا سمٹی ہوئی کعبہ کی طرف رواں اور دواں تھی وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے؟ا س لیے کہ انہیں یقین تھا کہ دشمن سے کچھ بھی بعید نہیں ہے ،جو بعد میں تاریخ نے ثابت کردکھایا۔ وہ جانتے تھے کہ صرف ان کی اکیلے جان دینے سے کام نہیں بنے گا۔ انہیں حرم کی بے حرمتی کا خطرہ تھا، مدینہ منورہ کی بے حرمتی کا خطرہ تھا۔ جبکہ انہیں اپنے نانا(ص) کی بات کا یقین تھا کہ وہ واقعہ ہوکر رہے گا جو انہیں پہلے سے ہی بتادیاگیا تھا ،وہ جگہ بھی بتادی گئی جہاں انہیں شہید ہونا تھا۔ کیونکہ نانا (ص) کے فرمودات کووہ پتھر پر لکیر سے بھی کہیں زیادہ یقینی سمجھتے تھے۔ اس سفر کے شروع کر نے اور راہ میں ملنے اور روکنے والوں کے مشوروں کے باوجود وہ رکے نہیں ؟ حتیٰ کہ ایک یمن کا سردار بھی آکر انہیں راہ میں ملا؟ اور اس نے کہا آپ وہاں تشریف نہ لے جائیں حالات بد دل چکے ہیں ۔میرے ساتھ تشریف لے چلیں میرے قبیلہ کی دس ہزار تلواریں وہاں آپ کے ساتھ ہونگی۔مگر ان جیسا صاحبِ ایمان خدا کو چھوڑ کر بندوں پر کیسے یقین کر لیتا؟ دوسرے وہ بلاوجہ خوں ریزی نہیں چاہتے تھے وہ حکومت بھی نہیں چاہتے تھے جو ہمارے جیسے لوگوں نے سوچا اور لکھا ہے۔ وہ صرف مرضیِ رب چا ہتے تھے۔ کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ انجام وہی ہو نا ہے۔ جو پہلے سے انکے علم میں ہے اور وہ ہوکر رہا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو یہ دنیا کو دکھانا تھا کہ اسلام جس طرح ‘‘انوکھا دین‘‘ ہے۔ بے ‘‘مثل رب‘‘ رکھتا ہے ویسا ہی نبی (ص)بھی رکھتا ہے اور نبی(ص) اب اپنی جس عترت کو امت پر نگراں بناکر چھوڑ گئے ہیں، اس کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ‘‘بھی ویسی ہی ‘‘بے مثل اور عظیم ‘‘ہے۔ دنیا نے یہ دیکھا اور مانا کہ وہ بھی سارے کہ سارے ‘‘ بے مثل ‘‘تھے۔ ان میں ایک بھی ایمان کی کمزوری ظاہر کرتا تو یہ ‘‘ذبحیہِ عظیم ‘‘ برپا ہونا ناممکن تھا۔ یہ وہ تھے جوکہ حضرت براہیم ؑ(ع) کے مکی کنبہ کی طرح سب کہ سب بندہِ تسلیم و رضا تھے اوروہ پیش گوئی پوری ہوگئی جو حضرت اسمعٰیل (ع)کے بجائے ذبیحہِ عظیم سے بدلی گئی تھی۔ اللہ کے پیارے نبی (ص) جسے اپنی عترت قرار دے کر گئے تھے۔ اس نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ قربانی دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی، پہلے کچھ نبی (ص) صرف اپنی جانی قربانی تک محدود رہے تھے۔ مگر یہ واحد نبی(ص) ہیں جن کی عترت نے بایک وقت بہتر تک کی قربانی دی اور صرف ان میں سے ایک فرد بچا جو جان دینے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوکر نکلا بھی! مگر اسے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ کیونکہ ا سے عترت باقی رکھنا اور اُن سے اتنی بڑھانا مقصود تھی کہ سورہ ‘‘ اناآعطیئنا ‘‘ کی تفسیر پوری ہوسکے۔ حضرت امام حسیں علیہ السلام نے ایک ساتھ بہتر قربانیاں دیدیں اور عملی طور پر یہ ثابت کردیا وہ نہ صرف خود جنت کے سردار بننے کے مستحق ہیں۔بلکہ ا ن کے نانا (ص) بھی اس اعزاز کے مستحق ہیں جو انہیں عطا ہواورا ن کی ماں (س) بھی خاتونِ جنت کہلانے کی مستحق ہیں اور والد (رض) بھی جس طرح انہوں نے زندگی گزاری اور خود کو حضور (ص) کا ہر طرح نائب ثابت کیااور وہ تمام والدین قابل فخر اور بے مثل ہیں جنہوں نے ایسے بچے پرورش کئیے جنکا کوئی ثانی کبھی تاریخ پیدا نہیں کر سکیگی۔ جو راہ خدا میں اپنی جانیں قربان کرنا کھیل سمجھتے ہوں ۔ وہ تا قیامت امت پر نگراں رہیں گے ان کا نام بلند رہے گا جو قرآن کی بہت سی آیات سے ثابت ہے، احادیث سے ثابت ہے۔ جبکہ قاتل دائمی عذاب کے مستحق ہونگے کیونکہ یہ بھی قرآن میں موجود ہے کہ کسی مسلمان کو بلا گنا ہ قتل کرنے والا جہنم کے دائمی عذاب کا مستحق ہوگا، جسے اللہ کبھی معاف نہیں کریگا؟جبکہ دوسری جگہ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ‘‘ بلا تفریق کسی انسان کوبھی بے گناہ قتل کرنا سارے جہان کو قتل کرنا ہے اور ایک جان بچانا ساری دنیا کو بچاناہے ‘‘ یہ سارا کرشمہ اہلِ بیت کی ا س تربیت کا تھا کہ انکا ایمان ‘‘عین القین‘‘ کی حد تک پہونچا ہوا تھا۔ جس نے ان کو اپنے ا للہ کی نگاہو ں میں بلند کیا اور نانا (ص)کا سر فخر سے بلند رکھا؟ اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کو بیدار کردیا اور دین کو بچالیا ۔اللہ ہمیں بھی ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فر مائے؟ ( آمین)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

خاقان عباسی اپنے آپ کو وزیرا عظم سمجھیں!۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

امیر ِ جماعت اسلامی سراج الحق صاحب جب بھی کوئی بیان دیتے ہیں تو وہ اس بات کاخاص خیال رکھتے ہیں کہ ا س ذہنی تناؤ کے دور میں پڑھنے والوں کے لیے کچھ تفنّنِ طبع کا سامان بھی مہیا کردیں۔ اس میں شاید یہ تاثر بھی دینا مقصود ہو کہ وہ عالمِ ِخشک نہیں، بلکہ حسِ مزاح بھی رکھتے ہیں جوکہ ہمارے ہاں اس طبقہ میں نہیں پائی جاتی۔ا نکا حالیہ بیان ہمارے سامنے ہے کہ “خاقان عباسی صاحب خود کو وزیر اعظم سمجھیں“ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ خود کو وزیرآعظم نہیں سمجھتے ہیں ۔ کیا انہوں نے ان کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے نہیں دیکھا کہ وہ اسوقت کتنے پر اعتماد تھے جو کہ ان کے خود کووزیر اعظم ہونے اورماننے کا بین ثبوت ہے۔ پھر وہ غیر ملکی دوروں پر گئے توجہاں جاتے سکریٹری وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ ان کے ساتھ ہو تے ہیں ،لیکن انہوں نے ان کی ٹیک قبول نہیں کی، ہمارے سابق وزیر اعظم کی طرح ان کے ہاتھ میں کسی بڑے لیڈر سے ملا قات کرتے وقت پرچیاں بھی نہیں دیکھی گئیں ۔ پھر ہر جگہ سفیر ان کو ریسیو کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ جہاں جاتے ہیں ان کے اعزاز میں ظہرانہ یا عشائیے بھی دئے جارہے ہیں ۔ میرے خیال یہ ثبوت کافی ہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور خود کو وزیر اعظم سمجھتے بھی ہیں ۔
اصل میں وہ پچھلے چند سالوں سے ایک ایسا وزیر اعظم دیکھتے آرہے تھے۔ جو تھے تو وزیر اعظم، مگر جمہوری وزیر اعظم سے قطعی مختلف ؟ جو اسمبلی تک میں بھی کبھی اتفاق سے آتے تھے جس کی با قاعدہ خبر اخباروں میں آتی تھی کہ آج وہ پارلیمان میں تشریف لائے؟ مگر وہاں  بھی تیوری پر بل پڑے ہوتے تھے۔ انہیں کبھی ہم نے تو ہنستے نہیں دیکھا ممکن ہے، اکیلے میں ہنستے ہوں، جیسے کہ کچھ لوگ اکیلے میں روتے ہیں، مگر جوا کیلے میں ہنستا ہے اس کے بارے میں لوگ قیاس آرائیاں ایسی کرتے ہیں کہ سننے والوں کو بھی ہنسی آجاتی ہے۔ مختصر یہ کہ موصوف نہ عوام کو منھ لگاتے تھے نہ خواص کو یہ ان کی وہ انفرادیت تھی جو دنیا بھر کے وزرائے اعظموں میں نا یاب ہے۔ جبکہ ُان کے برعکس یہ ہنستے بھی ہیں مسکراتے بھی ہیں، صحافیوں کو پریس کانفرنسوں میں منھ توڑ جواب بھی دیتے ہیں، مگر وہ بھی مسکراتے ہوئے۔ دیکھیں یہ عوام میں مقبولیت حاصل کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟۔ کیونکہ وہاں کے عوام کی پسند اس سے الٹ ہے جو سابق وزیر اعظم کی مقبولیت سے ظاہر ہوتا ہے؟ اور اس کا ثبوت حلقہ نمبر 120 کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی ظاہرہو ہے؟ کہ اس میں ان کی تمام خوبیوں کے باوجو د جو بقیہ دنیا میں برا ئیاں سمجھی جاتی ہیں انہوں نے عظیم کامیابی حاصل کی؟ عوام نے بقول ان کی صاحبزادی صا حبہ کے یہ ثابت کردیا کہ “ دنیا کچھ بھی کہے ،عدالتیں کچھ بھی کہیں، عوام نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے وزیر اعظم نواز شریف ہیں “ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کے عوام برائیوں کو اچھا ئیاں  اوراچھا ئیوں کو برائیاں سمجھتے ہیں ،اور اسے پسند کرتے ہیں جوکہ ان کو جتنا زیادہ خوار کرے ۔ چونکہ یہ خوبیاں سراج الحق صاحب کو موجودہ وزیر اعظم میں نظر نہیں آرہی ہیں، شاید اسی لیئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود کو وزیر اعظم نہیں سمجھتے ہیں؟
جبکہ میرے خیال میں انہیں سمجھنا بھی نہیں چاہیے ،شاید اس کی وجہ وہ بیان ہو جو کہ مریم نواز صاحبہ نے دیا کہ “ دنیا کچھ بھی کہے مگر عوام وزیر اعظم نواز شریف کو ہی سمجھتے ہیں “۔ اور دنیا کا قائدہ ہے کہ جس کو عوام منتخب کریں اور وزیر اعظم سمجھیں وہی وزیر اعظم ہے۔ جبکہ سا بق وزیر اعظم کی یہ عادت چونکہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے ، گئی بھی تو بہت دیر میں جا ئے گی؟ جب تک  کہ انہیں انکے بد خواہ  یہ یقین دلاتے رہیں گے ،اس وقت تک انکا یقین اور پختہ ہوتا رہے گا کہ وہ واقعی عوام کے مقبول ترین لیڈر اور ابھی تک وزیر اعظم ہیں۔ رہے موجودہ وزیر اعظم ان کے مستقبل کی ہمیں فکر ہے اور ہماری دعا ہے کہ وہ مقبول نہ ہی ہو ں تو ان کے لیے بہتر ہے ۔ جیسے کہ ضیاءالحق صاحب محمد خان جو نیجو مرحوم کو بطور وزیر اعظم بے ضرر سمجھ کر لا ئے تھے ا ن کا پرانا ریکارڈ دیکھ کر کہ جب وہ پہلی دفعہ ون یونٹ میں ریلوے کے وزیر بنے تھے پیر صاحب پگارا کے نمائدہ کے طور تو پیر صاحب نے اپنے ایک مرید کو چٹھی دیکر ان کے پاس ملازمت کے لیے بھیجا ، ا نہوں نے اس کو اپنا مہمان رکھا جھنڈا لگی کار میں پورا لاہور دکھا یا کہ اسوقت وہ ون یونٹ کا دار الحکومت تھا۔ اور یہ کہہ کر اور با حسرت و یاس گلے لگا کر رخصت کردیا کہ“ جو میں کر سکتا تھا اور میرے بس میں تھا وہ تو میں نے کردیا؟ لیکن سائیں سے عرض کردینا کہ  حکم نواب آف کالا باغ ملک امیر خان (گورنر) کا چلتا ہے، لہذا نوکری دینا میرے بس میں نہیں ہے“ وہ انکا کامیاب ترین دور تھا بہت اچھی طرح وقت گزارا یہ ہی وجہ ِشہرت تھی کہ ضیا الحق صاحب کی نظر ِ انتخاب ان پر پڑی اور ان کو وزیر اعظم بنا دیا؟ وہ بھی امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے معلوم نہیں ، وہاں کیا ہوا “ شاید شاید بچو دیکھی ہو اور کسی نے کچھ کان میں کہدیاہو اس سے متاثر ہوگئے؟ کہ وہیں وہ خود کو وزیر اعظم سمجھنے لگے ؟ پھر کیا ہوا؟ وہ آپ تاریخ میں پڑھ لیں ؟ کیونکہ اسوقت  بھی  اصل طاقت کا سر چشمہ ضیاءالحق صاحب تھے اور نظریہ ضرورت کے تحت محمد خانصاحب کو انہوں نے وزیر عظم بنا رکھا تھا۔ اسی تجربہ روشنی میں خاقان عباسی صاحب کو انکے دوست محتاط رہنے دیں ، تو اچھا ہے۔ نواز شریف صاحب  بہ یک وقت دونوں کے پیرو ہیں وہی طرز حکمرانی اپنا ئے ہو ئے ہیں مگرآجکل وہ گاندھی ازم کا تتجربہ کر رہے ہیں کہ گاندھی جی کانگریس  کےکبھی دو آنے کے ممبر نہیں بنے، مگر چاہیں کانگریس کی صدارت ہو یا وزارت عظمیٰ ، عطاء لوگوں کو وہی کرتے تھے۔ البتہ آخری زمانے میں ان کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑپرگئی تھی اور چیلے منھ زوری کر نے لگے تھے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بقولِ شاعر “ اس طرح تو ہوتا اس طرح کے کاموں میں “

شائع کردہ از Articles

لووہ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ ا ز ۔۔۔شمس جیلانی

کہ “ آپ لوگ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں “ جبکہ ا نہوں نے اور ان سے پہلے آنے والوں نے بھی اپنے کیئے ہوئے وعدے کبھی پورے نہیں کیئے جوا یک قوم سے تو تقریباً سب نے نہیں کیے ، وہ قوم ہے  “کرد “کہ ہر عالمی اور غیر عالمی طاقت نے ان سے ہمیشہ یہ کہہ کر مدد تو لی کہ تم اس جنگ میں ہماری مدد کرو، ہم تمہیں جنگ کے ختم ہونے کے بعد آزادی دلائیں گے۔ انہوں نے مدد کی اور پھر جو بھی فاتح تھا وہ انہیں محکوم چھوڑ کر چلتا بنا ، ان کی بات تو خیر سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں سے ایک ماں نے یہ تاریخی غلطی کی کہ ا یسے بیٹے کو جنم دیا جس نے تمام دنیا کو چنے چبادیئے اس کانام تھا “ صلاح الدین ایوبی“ مگرا فغان قوم جو چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے ہے، ا س نے سوائے بھارت کے کسی اور ملک پر کبھی فوج کشی نہیں کی۔ وہ جب بھی کرتے تھے تو صرف بھارت پر کہ اس پرکبھی وہ خود چڑھ دوڑتے تھے اس لیے کہ وہ سونے کی چڑیا کیوں کہلاتا تھا ۔ کبھی اپنے بھائی جو وہاں حکمراں تھے ان کی مدد کو چلے جاتے تھے ان کے بلانے پر۔ پھر ان  کو اپنے فوجی اخراجات بھی تو پورے کرنا ہوتے تھے تو وہ  دہلی کو لوٹ کرپورا کرلیتے تھے۔ اس پر ان کے ایسے ہی ایک  بھائی محمد شاہ کو کہنا پڑا تھا کہ “ شامتِ اعمال ماں بصورتِ نادر گرفت “ یعنی یہ میرے اعمالوں کی وجہ تھی کہ نادرشاہ کی صورت میں عزاب نے آپکڑا ۔ مگر اس احساس کے باجود اور یہ جاننے کے باجود، اپنی ہٹ کے مسلمان اتنے پکے تھے کہ اپنا راستہ کبھی نہیں بدلا اور عذاب نے اپنی مددت پوری کی ۔ یہ ہی حال چچنیا کے ساتھ ہے۔ کہ اسٹالین نےاس پوری قوم کوان کے ملک سے نکال کر سائیبریا  بھیج دیا تھا۔
پھر روس نے اپنے سب ممالک ِ محروسہ کو آزادی  دی مگر ان کو نہیں دی، وہاں ایسی ہی آزادی ہے ۔ جیسے پاکستان میں افغانستان وغیرہ میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع میں ہمیں سچ کی بنا پرجو کامیابی ہوئی تھی اسے دوسری قوموں نے ہمیں دیکھ کر اپنالیا لہذا ہم نے اسےچھوڑدیا جیسے کہ پرانے کپڑے بڑے لوگ اتار  کرپھینکد یتےہیں۔ مگر ان کے یہاں بھی جرمنی میں پچھلی صدی میں ایک ایسا جھوٹاپیدا ہوا کہ اس نے یہ فلسفہ ایجااد کیا کہ“ اتنا جھوٹ بولوکہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں اور اس نےا س پر عمل کرکے بھی دکھایا! مگر ا سکا اپنا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا۔ بعد میں نہ جانے کیوں اسے اس کے ہم نسلوں نے اپنا لیا اور ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی بطور فیشن کے اپنا لیا ۔
جبکہ ہادیِ اسلام (ص) کا فرما ن ہے کہ“ مسلمان میں تمام دنیا بھر کی خرابیاں ہوسکتی ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا ً“۔ ایک صاحب حضور(ص) کے پاس تشریف  لائےا ور انہوں نے حضور (ص) سے سب کچھ بیان فرمادیا جو وہ برائیاں کرتے تھے! اور صحابہ کرام (رض) ان  کےاس گستاخانہ رویہ پر پیچ وتاب کھاتے رہے۔ لیکن حضور (ص) کی عادت ِ کریمہ تھی کہ وہ کسی کی بات میں بھی درمیان میں بغیر پوری بات سنے لقمہ نہیں دیتے تھے۔ جبکہ ان کے برعکس آج کل ٹاک شو میں دیکھ لیجئے کہ ان کے ماننے والے جنکو ان کے اتباع کا حکم ہے کسی کو بات ہی نہیں کرنے دیتے ہیں؟ خیریہ بات تو ایسے ہی درمیان میں آگئی تھی کہ یہ آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ جب وہ صاحب اپنی بات پوری کرچکے اور آخیرمیں حضور(ص) سے اس سلسلہ میں رہنمائی چاہی کہ آپ مجھے حکم فرمائیں کہ میں ان میں سے پہلے کونسی برا ئی چھوڑوں ؟تو حضور (ص) نے فرمایا صرف جھوٹ چھوڑدو! دوسرے دن وہ جب حاضرِ ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ اب میں کیاکروں؟ جھوٹ چھوڑ نے کاتو میں وعدہ کر چکا ہوں جھوٹ بولونگا تو اللہ انہیں بتادے گا؟ ورنہ جھوٹ بولدیتا ۔وہ واپس چلے گئے کہ پہلے کوئی برائی نہ کروں تو کل پھر آؤں نگا ، دوسرے دن وہ جب تشریف لائے تو بدلے ہوئےا نسان اور پکے مسلمان تھے۔ لیکن بعد میں ہمارے دور کے مسلمانوں نے ا س واقعہ سے کوئی سبق نہیں لیا۔ بلکہ ایک لیڈر نے تو جن کا چند مہینے پہلے تک طوطی  بول رہا تھا، اب چونکہ عدالت نے ا ن کی طوطو بند کردی ہے۔  لہذاب ان کے ا رشادات عالیہ سنا ئی نہیں دیتے ورنہ انہیں نے ایک نیا نعرہ دیا تھا۔ کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ جبکہ ہمیں قرآن میں حکم یہ ہے کہ “ دیکھو کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدل سے نہ ہٹادے؟ شاید اسی امید پرٹرمپ صاحب نے پرانی راکھ کو کریدنے کی کوشش کہ اور شاکی ہوئے کہ آپ  لوگ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں ؟ جس کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 44میں شدیدمذمت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ا ور دوسری بہت سی آیتوں میں بھی مذمت کی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے بجا ئے ان پر عمل کرنے کے قرآن کو جزدان میں لپیٹ کر شیلف میں سب سے ا وپری خانہ میں رکھدیا ہے تاکہ بچوں کے ہاتھ نہ لگے؟ اس کانتیجہ یہ ہے کہ اب ہم میں کوئی نہ سچ بولتا ہے نہ ایک دوسرے پر مسلمان خود آپس میں ا عتماد کرتے ہیں اور نہ کوئی اور ان پر اعتبار کرتا ہے۔ جبکہ پہلے پوری دنیا ان پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتی تھی کہ ان میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ اگر کوئی ایک دفعہ جھوٹاثابت ہوجاتا تو تا حیات اس کی گواہی نہ ماننے کاحکم تھا۔ تاوقتیکہ وہ تو بہ نہ کرلے ۔ اب سارے کہ سارے جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور کہتے رہتے ہیں کہ سب جھوٹ ہے۔عوام جانتے ہیں کہ ہمارے لیڈر سب کےسب جھوٹ بولتے ہیں ۔ مگر وہ ووٹ دیتے ہوئے جھوٹے اور سچے کو نہیں پرکھتے، صرف اپنے مفادات ، ذات، برادری اور صوبے کا خیال رکھتے ہیں لہذا وہی الیکشن میں ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں ۔ اورآئندہ بھی ہونگے کیونکہ ہمارے لیڈر ہی نہیں اکثریت خود بھی جھوٹ بولتی ہے اور اب ان میں جھوٹ بولنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ؟

شائع کردہ از Articles

نواز شریف کی اپیل مسترد ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

نواز شریف صاحب کا خاندان ایک مرتبہ پھرا پنا مقدمہ عدالت میں ہار گیا؟ا ب انہیں مظلوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا جوکہ وہ بڑے عرصہ سے بننا چاہتے تھے آگے کیا ہوگا یہ اللہ  ہی جانتا ہے؟ چونکہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے یہ فیصلہ تومتوقع تھا کہ کل ہی سے صحافت کے نجومیوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ فیصلہ جمعہ کو ہو جائے گا؟ اور ہمارے یہاں یہ ایک عام عقیدہ ہے جو توہم پرستی کا نتیجہ ہے کہ حکمراں پر جمعہ بھاری ہوتا ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کے لئے تو جمعہ انتہائی مقدس دن ہے۔ غیر مسلموں اور منافقوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ بھاری ہو تا ہو ؟اب اگلا قدم کیا ہو گا وہ ہم بتا ئے دیتے ہیں ۔ جو ہمیں اس دورہ سے معلوم ہوا ہے کہ پہلے چھوٹے صاحب برطانیہ گئے اور اب ترکی تشریف لے گئے ہیں۔ برطانیہ غالبا ً وہ اس لیئے گئے تھے کہ ان کے لیے کچھ گنجائش ہے کہ امریکہ کے صدر ان کی حمایت کرد یں؟ وہاں سے وہ نا امید ہوئے تو اب برادر ملک ترکی تشریف لے گئے بیں تا کہ وہ ان سے پوچھ کر آئیں کہ آپ نے کس ترکیب سے عوام کو متحرک کیااور اپنا اقتدار بچایا؟ وہ اس وقت وہاں کسی عطائی حکیم طرح گئے ہیں جو کہ ساری دنیا کو ایک ہی نسخہ بتاتا ہے ۔ جب کے ایسا نہیں ہے ہر مریض کی کیمسٹری ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔
ترکی کے حالات اور تھے پاکستان کے حالات ا ور ہیں۔ وہاں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے خلافت ِ عثمانیہ کا تختہ ا لٹ کر مسجدوں تک سے اسلام کو نکالدیا تھا۔ قوم نے فوجی انتداب سے نکلنے کے لیے ایک صدی تک جدو جہد کی اوردو بارہ عوام اسلام لانے کی کوششوں میں کامیاب ہو گئے ۔ مگر فوج نے پھر اس حکومت کا تختہ ا لٹ دیا اور اس مرتبہ وزیر اعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا تاکہ کوئی اور دوبارہ جراءت نہ کرسکے؟ ۔ ان کی اسلامی پارٹی جدوجہد کر تی رہی اور اس نے پھر ووٹوں کے ذریعہ فتح پالی، اب دوبارہ فوج کی طرف سے نظام الٹنے کی کوشش تھی، جو عوام نے ناکام بنا دی ۔ جبکہ پاکستان کی تاریخ الٹ ہے کہ یہاں فوج نے بھارت کے اس خواب کو کبھی پورا نہیں ہو نے دیا کہ پاکستان اس کی ایک طفیلی ریاست بن جائے جو کہ شروع سے ا س کا منصوبہ تھا؟ پاکستان میں شروع کے چند سیاستدانوں کو چھوڑ کر بعد کے سارے سیاستدانوں کی تاریخ قطعی مختلف ہے وہ ہے وعدوں سے فرار اور کماؤ کھاؤ، کھلاؤ کی پالیسی؟
جبکہ یہ ریاست بنی ہی اسلام کے نام پر تھی مگر سیاستدانوں نے بننے کے کچھ عرصہ کے بعد سے خود کو مسلمان کہلانے سے بھی شرما نا شروع کردیا اور جبکہ فوج اس کا الٹ کرتی رہی اور جانیں دیتی رہی، سیاستدانوں نے ہمیشہ اس کی کردار کشی کی کوششیں جاری رکھیں۔ لہذا وہاں والا نسخہ یہاں کامیاب نہیں ہو سکتا اس لیئے کہ یہاں کے حالات قطعی مختلف ہیں ۔  اوراس لیے بھی کہ لوگوں کے دلوں میں عملی مسلمان نہ ہو نے کے باوجود اسلام کی لگن باقی ہے اور وہ یہ مانتے ہیں کہ ہماری ساری پستی ہمارے پکاّ مسلمان نہ ہو نے کی وجہ سے ہے۔اور جہاں اسلام کا کسی بھی نظر یہ سے مقابلہ ہوا تاریخ گواہ ہے کہ وہاں صدیوں تک کوشش کرنے کے باوجود اسلام دلوں سے نہیں نکلا ۔گذشتہ تاریخ کو جا نے دیجئے ۔موجودہ دور کو دیکھ لیجئے کہ بوسنیا سامنے ہے۔ اور بہت سے ملک سامنے ہیں ۔ مگرا ن کے دلوں سے اسلام نہیں گیا ۔
میں نے ایک سابق کمیونسٹ ملک کے بارے میں جوکہ آجکل آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہے ، وہاں کی ایک خاتون سے پو چھا جو میرے ہمراہ ایک دفتر میں کام کرتی تھیں کہ ، سچ سچ بتا ئیے !کہ آپ کے یہاں سب سے بڑا مذہب کونسا ہے؟ توا نہوں نے بتایا کہ اسلام ۔ میں نے تعجب سے پو چھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں کی آبادی کا بہت بڑا حصہ دنیا کے نزدیک بدھ مت کے ماننے والوں پر مشتمل ہو اوروہاں کاسب سے بڑا مذہب اسلام ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مسلمانوں نے اپنی روش کبھی پوری طرح نہیں چھوڑی، وہاں جیسے ہی کمیونزم کا زور ٹوٹا وہ دوبارہ پوری طرح ا سلام پر عمل پیرا ہوگئے جبکہ دوسرے  مذاہب کے لوگ دونسلیں گزرنے کے بعد لامذہب ہو گئے ہیں۔ اس لیئے اسوقت وہاں پرملک میں سب سے بڑا مذہب اسلام ہے۔
نواز شریف صاحب کے خاندان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تین مرتبہ اقتدر میں آنے کا موقعہ دیا، وہ آئے بھی ضیاءالحق کے جانشین بن کے تھے اور نعرہ تھا کہ “میں ان کا مشن پو را کرونگا“ ۔جبکہ ضیاءالحق کہتے تھے میں پاکستان میں اسلام نافذ کرونگا“ مگر اس کے معنی عوام نے وہی لیئے جوتھے اور نواز شریف صاحب نے وہی سمجھے جو ضیاءالحق صاحب نے سمجھا ئے تھے ۔ ان کو تو ا للہ نے بعد میں خود سمجھ لیا اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ تاریخ میں موجود ہے۔جو بھی اللہ تعالیٰ سے ہر پھیر کرے گا اس کو بھی اپنا انجام ان کے ساتھ پڑھ لینا چاہئے۔ ہاں! کوئی توبہ کرکے اپنی نیت بد ل لے تو اس کے لیے دروازے کھلے ہوئے بیں؟اور جب وہ نارض ہو جا ئے تو کوئی حیلہ کام نہیں آتا کوئی کوشش کام نہیں آتی۔ صدام کا حشر سامنے ہے، قذافی کا حشر سامنے ہے یہ میں نے چند تازہ مثالیں، یاد تازہ کرنے کے لیے دیں ہیں۔ پاکستان کی اللہ نے ہمیشہ حفاظت کی ہے دشمن کے ہاتھوں سے بچا تا رہا ہے اور اس مرتبہ پر وہی عدلیہ ہے جس نے نظریہ ضرور ایجاد کیا تھا ؟ وہ اس سے کام لے رہا ہے جواب قطعی بدلی ہو ئی ہے ۔ جبکہ سپہ سالار صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم قانون کا ساتھ دیں گے؟ لہذا ایسے کسی آدمی کا کامیاب ہونا جوکہ پاکستان کو بھارت کی ایک طفیلی ریاست بنا نا چاہتا ہو ناممکن ہے کیونکہ عوام کبھی ساتھ نہیں دیں گے۔ اس لیے کہ اسلام نے مظلوم کا ساتھ دینے کا انہیں حکم دیا ہے؟ ظالم کا نہیں اور عوام کی نگاہوں میں ماڈل ٹاؤن والاواقعہ ابھی تازہ ہے۔  حلقہ نمبر 102 لاہور  وہ کسی طرح جیت بھی جائیں تو بھی جنرل ا لیکشن میں نہیں جیت سکیں گے۔

شائع کردہ از Articles

٣٢ مارچ ،قرار داد پاکستان سے یوم اسلامی جمہوری تک۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

ہمیشہ کی طرح کچھ لوگوں کی فرمائش ہے کہ میں اس موقع کی مناسبت سے کچھ لکھوں کیونکہ  “آپ جب بھی لکھتے ہیں تو کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے“ میرے لیے پہلی مشکل تو یہ ہے کہ میرا مقررہ دن ہفتہ ہے اور اس مرتبہ ٣٢ مارچ پیر یعنی دو شنبہ کو ہے ۔دوسرے میں جب بھی کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں تو میرے سامنے فوراً میرے آقا (ص) کا وہ فرمان آجاتا ہے کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ اس وعید کے ذہن میں آنے کے بعد میرا قلم مجبور ہوجاتا ہے کہ جو کہوں سچ کہوں اور صرف وہی کہوں جو ان گناہگار آنکھوں سے خود دیکھا ہو، معتبربزرگوں سے سنا ہو، یاپرانی یاداشتوں میں موجود ہو اور خود تصدیق کرلی ہو۔ مجھ سے کچھ لکھنے کی فرمائش خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی سچ بولنے والے اور سننے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں ۔ اور یہ فرمان ِ باری تعالیٰ ہے کہ “ جہاں تھوڑے سے بھی اچھے  لوگ باقی ہوں وہاں اسوقت تک عذاب نہیں بھیجا جاتا جب تک کہ ان کو وہاں سےنکال نہ لیا جائے“
اس وضاحت کے بعدعرض ہے کہ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے 1857ع کی جنگ ِ آزدی یا بقول انگریزوں کے بغاوت کے بعد ، ہندوستانی مسلمانو میں شدت سے یہ احساس ابھرا کہ مسلمانوں کی کمبختی اور زوال کی وجوہات دوہیں ,ایک تو اسلام سے دوری اور دوسری جہالت۔ اس سلسلہ میں علماءنے ایک اپنا کنونشن بلایا اور حضرت امداد اللہ مہاجر مکی (رح ) کو جو کہ اپنے و قت کے سب سے معتمد روحانی بزرگ تھے امیرالمونین منتخب کیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسے قبول فرمایا بلکہ اپنی خانقاہ کوبھی جو کہ دیوبند کے مقام پر تھی ، درسگاہ میں تبدیل کردیا ،ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر گاوں اور شہر میں زیادہ سے زیادہ مدارس بنا ئے جائیں۔ جبکہ وہ ابھی تک محفوظ اسلیے تھے کہ انگریز کی نظر میں خانقاہیں بے ضرر تھیں؟ لیکن جیسے ہی یہ تبدیلی انگریزوں کے علم میں آئی انکا وجود ان کے دل میں کھٹکنا لازمی تھا۔ حضرت امداد اللہ (ع) کے بہی خواہوں نے اس سے پہلے کہ انگریز انہیں گرفتار کرلیں باخبر کردیا۔ اور وہ بخیریت مکہ معظمہ پہونچنے میں کامیاب ہو گئے جوکہ اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ جبکہ انکے جانشین گرفتار ہوگئے جوکہ چند ماہ بعد رہا ہوئے تو قیادت بدلنے کی وجہ سے اور وہ بیل منڈے نہ چڑ ھ سکی ، مسلمان پھر بھی ہاتھ پاؤں مارتے رہے ،عجب عجب تحریکیں سامنے آئیں،جن میں سے ایک ہندوستان سے ہجرت کر کے کسی مسلم ملک میں چلے جانا تھی۔ پڑوس میں افغانستان تھا امان اللہ خان کازمانہ تھاکسی نے یہ نہیں سوچا کہ افغانستان اتنی بڑی آبادی کو کیسے قبول کرسکتا ہے۔ ابھی چند ہی ہزار نے ادھر کا رخ کیا تھا کہ انہیں سرحد سے واپس آنا پڑا ؟
چونکہ مسلمانوں کی کوئی منظم تحریک نہ تھی ، اس وقت وہ بالکل اس مریض کی طرح تھے جو عطائی اطباءکے ہتھے چڑھ جائے اور ہر ایک اسے کوئی نہ کوئی علاج بتا دے۔ بہت سی تحریکیں چلیں مگر ان میں یکجہتی نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئیں۔ سرسید احمد  خان بھی جہالت کو وجہ مانتے تھے، انہوں نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرنا چاہا جو ان کے خیال میں ہندوستانی مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کا باعث تھی؟ کیونکہ انہوں نے انگریزی اور تمام جدید علوم کابائیکاٹ کر رکھا تھا۔ جب کہ باقی قومیں انگریزی کو اپنا کر اس دوڑمیں آگے بڑھ گئی تھیں۔ اس کو چلانے کے لیے ایک مسلم ایجوکیش کانفرنس بلاکر اسے 1875ع میں ایک کمیٹی کی شکل دیدی۔ دوسری طرف انگریز ہندوستان میں فتوحات کر تے چلے گئے تھے۔ ان کا صدرمقام شروع سے کلکتہ تھا اور اس کی حدود ایک طرف تو یوپی تک پہونچی ہوئی تھیں اوردوسری طرف بر ما بھی اس میں شامل تھا ، گورنر جنرل کنٹرول کرتا تھا جوکلکتہ میں مقیم تھا۔ انتظامی ضرورت کے تحت اس بڑے علاقے کو صوبوں میں تقسیم کرنا ان کی مجبوری تھی! برما ، علیحدہ ہوا ، آسام ،اڑیسہ، بہار علیحدہ ہوامگر کوئی ہل چل پیدا نہیں ہوئی، لیکن جیسے ہی انہو ں نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا یعنی مشرقی بنگال اور مغربی بنگال تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا کیونکہ اس تقسیم کی وجہ سے ایک مسلم اکثریتی صوبہ مشرقی بنگال کی شکل میں1905 معرض ِ وجود میں آگیا تھا ۔ وہاں کے مسلمانوں نے تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی مدد کے لیے یکجا کرنا چاہا۔ جبکہ صورت ِ حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی کوئی منظم جماعت موجود ہی نہ تھی ۔ان کی نگاہیں بھی مسلم ایجوکیشن کی طرف گئیں اور اسکی ہی کوکھ سے مسلم لیگ ڈھاکہ کے سلیم اللہ ہال میں نواب سر سلیم اللہ کی کاوشوں سے معرض وجود میں آئی۔ بنگال کی تقسیم تو حکومت نے 1911 ع میں ختم کردی گئی لیکن یہ تقسیم مسلم لیگ کی شکل میں ایک جماعت مسلمانوں کو دے چکی تھی، جس کانام آل انڈیا مسلم لیگ تھا۔ قائد اعظم !مسلم لیگ کے ابتدائی دور میں شامل نہیں ہوئے اس لیے کہ وہ کانگریس کے رہنما تھے اور ہندو مسلم اتحاد ان کا مشن تھا۔ اسوجہ سے سب انہیں بہت ہی عزت اور احترام کی نگاہے سے دیکھتے تھے۔ اور سفیراتحاد انہیں ہندؤں سے خطاب ملا ہوا تھا۔
جب گاندھی جی افریقہ سے ہندوستان آگئے اور انہوں نے ہندؤں کے دو دھڑوں کو متحد کرنا شروع کیا تو وہ انسان سے اوتار (مہاتما) کا درجہ حاصل کر گئے۔ اور قائد اعظم کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آنے لگا۔ تب انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جبکہ یہ طریقہ کافی عرصہ سے یہ چلا آرہا تھا کہ اکثر مسلمان لیڈر کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے بہ ہک رکن تھے اور اکثر دونوں جماعتوںکے اجلاس بھی ایک ہی جگہ پر ایک ہی وقت میں منعقد ہوا کرتے تھے ۔ پھرہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے اسلیے کہ مقاصد جدا تھے۔
جب کہ اسوقت آبادی کا تناسب کچھ اس طرح تھا کہ اعلیٰ ذات کے ہندو پندرہ کروڑ۔ اچھوت (نیچی ذات کے ہندو) دس کروڑ ، مسلمان دس کروڑ اور متفرق اقوام پانچ کروڑ۔ گاندھی جی کی کوششوں سے ہندوؤ ںکے دونو دھڑے چھوت چھات کے ختم ہونے سے ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔  جب آہستہ آہستہ تلخی بڑھی توہندومسلم فسادات شروع ہوگئے۔
اسوقت بنگال اور آسام میں مسلمان وزرائے اعظم (وزراءاعلیٰ)  تھے  1940 میں قرارداد پاکستان لاہور میں پیش کرنے میں بنگالی پیش پیش تھے، جو متفقہ طور پر اجلاس ِلاہور میں پیش ہوکرکر پاس ہوئی، اجلاس 22  مارچ کو شروع ہوا اور یہ پاس 24کوہوئی ۔مگر امت ِ وسطیٰ نے میانہ روی اختیار کی اور نہ جانے کیوں  23کو اپنایا۔ اس کے محرک مولوی فضل الحق اور تائید کنندہ اقلیتی صوبہ کے رہنما چودھری خلیق الزماں تھے۔ مگر اس قرارداد میں نہ تو نام تھا نہ اسکی حدود ۔ یہ سب چیزیں 1946ءکی قرارداد میں شامل ہوئیں وہ قرارداد بھی اسوقت کے بنگالی وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھی جبکہ تائید اسکی بھی چودھری خلیق الزمان نے کی سہروردی بنگال کے تمام منتخب نمائندوں کے ہمراہ دہلی پہونچے جس کا استقبال قائدِ اعظم نے اسٹیشن پر خود فرمایا ۔
ادھر سندھی بھی مسلم صوبہ بڑی جدوجہد کے بعد سندھ کے نام سے بمبئی سے الگ کرک بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح پاکستان کے مغربی حصے میں صرف یہ ہی ایک قلعہ مسلم لیگ کو ملا ،جہاں ایک ووٹ سے اکثریت تھی مغربی حصہ میں پاکستان میں شامل ہونے کی پہلی قرارداد سندھ اسمبلی نے پیش کی اور پاس ہوئی ۔جبکہ پنجاب میں چونکہ مسلمانوں کو صرف ایک فیصد سے برتری حاصل تھی لہذا زیادہ تر وہاں مخلوط حکومت ہی رہی ، سرحد میں مسلم اکثریت میں ہو تے ہوئے بھی کانگریس کی حکومت تھی۔ بلوچستان کو ابھی صوبے کا درجہ ہی نہیں ملا تھا، وہاں بھی خان آف قلات پاکستان کے حق میں نہ تھے جوکہ سرداروں کے سردار بھی تھے ، ایک بلوچی سردار عبد الصمد اچکزئی بلوچی گاندھی کہلاتے تھے۔ یہ تو تھی تاریخ ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جو مسلم لیگ کے اصل محرک تھے۔ ان کے نام اب پاکستان کی تاریخ میں نما یاں نہیں رہے کیونکہ بقول کچھ کے دنیا میں پہلی دفعہ اکثریت نے اقلیت سے جان چھڑالی۔ جبکہ اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان بھی اس دن سے شروع ہوا جبکہ چودھری محمد علی وزیر اعظم تھے اورحسین شہید سہروردی قائد ِ حزب اختلاف۔ پاکستان کو پہلا آئین انہیں دونوں کی کوششوں سے ملا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کانام بھی؟ اس میں بھی سہروردی صاحب کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے بنگالیوں کو اس پر راضی کرلیا جو کل آبادی کا 54 فیصد تھے اور اکثر یت میں تھے کہ نصف پر مان جائیں یعنی 50فیصدنمائندگی قبول کر لیں 98میں ایوب خان نے 56 کا آئین توڑکر مارشلاءلگادیا تو یہ یوم جمہوریہ کے بجائے ان کے دور میں نام بدل کر یوم پاکستان کہلاتا رہا۔  پھرجنرل یحییٰ خان آگئے ان کے دور میں ملک ٹوٹ گیا۔ بھٹو صاحب نے 73کا آئین دیاان کے ہی دور میں دوبارہ جمہوریت بحال ہو ئی تو یہ پھر یوم دستور کہلانے لگا۔
ہمارے یہاں چونکہ سانحات ہمیشہ معمہ بنے رہے ہیں اس لیے ایک المیہ یہ ہے بھی ہے کہ اب تک یہ نہیں طے ہوسکا کہ کون کس سے الگ ہوا۔؟ جبکہ وجہ وہی ہے جو آج بھی ہماری کمزوری ہے یعنی کہ ہم نے مسلمان ہوتے ہوئے عدل کو چھوڑرکھا جس کی تاکید ہمیں اللہ اور اس کے رسول دونوں نے کی ہے اور سب کچھ کھوکر بھی اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا؟ یہ تحریر اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سمجھ  دے، عدل قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو مزید کسی حادثے سے محفوظ رکھے (آمین)

شائع کردہ از Articles

کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

جناب نواز شریف کے اندر سے ا س تربیت کی بو آرہی ہے جوکہ انہیں ضیا الحق مرحوم سے ملی ہے۔ انہوں نے بھی یہ ہی کیا تھاکہ کہنا کچھ تھا اور کرنا کچھ اور چاہتے تھے۔ لہذ اسی کشمکش میں رہے اور کچھ کر نہ سکے حتٰی ٰکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا ۔جبکہ آج نواز شریف صاحب تک ان کے احسنات کے انکاری ہیں۔ اسی وجہ سے جناب اعجازا الحق صاحب کو یہ کہنا پڑا کہ آمروں کے تیس سال میں سے وہ کم از کم 10سال وہ تو نکال دیتے جس میں“ وہ کچھ سے بہت کچھ ہوکر ابھرے“انہیں شایدعلم نہیں ہے کہ نواز شریف صاحب کو بھول جانے کی عادت ہے ،اگر وہ انہیں بھول گئے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بقول انکے پہلے انہوں نے اپنے والدِ محترم کے کہنے پر زانوئے تلمیذ جناب طاہرا لقادری صاحب کے سامنے طے کیا جو اتنا بڑھا کہ ان کو اپنے کاندھے پر بٹھا کر“غار ِ حرا“ تک لے گئے۔ پھر انہیں چھوڑ کر انہوں نے ضیاءالحق صاحب کی شاگردی اختیار کرلی وہاں سے ان کا راستہ سعودی حکمرانوں تک پہونچنے کے لیے استوار ہوا۔اصل میں وہ ان میں سے ہیں کہ اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں جوکہ دوسرے ملکوں میں معیوب ہو تو ہو ،پاکستان میں معیوب نہیں ہے۔ وہ ا س سلسلہ میں کہاں تک جاسکتے ہیں مجھے معلوم نہیں کیونکہ مجھے کبھی ان سے قرب حاصل نہیں رہا ،اس لیے  کہ وہ عمر میں میرے بیٹوں کے برابر ہیں۔مگر انکی ا فتادِ طبع کی بنا پر یہ معلوم ہے کہ اگر ان پر دباؤ زیادہ پڑا تو وہ کسی طرف اور کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں ۔اس کے لیے وہ خود نہیں،انکی ا فتادِ طبع ذمہ دار ہے۔وہ بیچارے تو معصوم ہیں کہ وقت نے جس طرف ہانک دیا چلے جائیں گے؟لہذا وہ کبھی  “مودی“ کی طرف دیکھتے ہیں ،کبھی سعودیوں کی طرف دیکھتے ہیں کبھی امریکہ اور برطانیہ کی طرف۔ یعنی صورت ِ حال یہ ہے کہ کسی شاعر نے جیسے ہے کہا کہ “ کعبہ میرے آ گے ہے کلیسا میرے پیچھے “ اس پالیسی میں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ  “لڈو دونوں ہاتھوں میں رہتے ہیں “ یہ اور بات ہے کہ ایسے آدمی کاکوئی بھی اعتبار نہیں کرتا اور وہ نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کااور اب مسیحا پریشان ہیں جو کہ پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کو کیسے بچائیں کیونکہ وہ عوام کی طرف دیکھتے ہیں جہاں کبھی امید کی کرن نظر آتی تھی،  تو اب وہ بھی  مفاد پرستی ، مفاد پرستوں اور عصبیت کے طابع ہوچکے ہیں؟ جس پر بڑے  نہ سہی چھوٹے ہی سہی وہ اجتماعات گواہ ہیں جو حالیہ جلسوں میں نواز شریف نے جمع کیے؟
اور انہوں پچھلے دنوں جب وہ غیر مرئی قوتوں کے خلاف احتجاج کر نے نکلے تو صرف ایک جملہ سیکڑوں صفحے کے فیصلے میں سے انتخا ب کیا کہ “ بھائیو! کیا باپ کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی جرم میں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ جواب ان کے حق میں آنا ہی تھا؟کہ لوگ کہتے کیاکہ ا نہوں نے بھی باقی صفحہ پڑھے ہی نہیں تھے؟ جس میں اور بھی بہت کچھ لکھا ہوا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیے کبھی ضیاالحق مرحوم نے فرمایا تھا کہ تمہیں نظام ِ مصطفیٰ چاہیئے ہے تو وہ میں دونگا۔ مجھے ووٹ دو؟وہ کیا دے کر گئے وہ تاریخ میں دیکھ لیں اور یہ ہی انہوں نے کیا کہ کیا وعدے کیے اور ان میں سے کتنے پورے کیئے اور کتنے وقت میں پورے کیے وہ بھی وہیں مل جائیں گے۔ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ ایک جھوٹ سو سچ کوکھا جاتا ہے؟ وہ برزرگوں کی باتیں تھیں اب تو جیت ہمیشہ جھوٹ کی ہوتی ہے۔ صرف ایک بار یہ بات غلط ثابت ہوئی جب کہ اس پالیسی کے موجد  “گوبل“ جس نے پہلی دفعہ یہ اصول دنیامیں روشناس کرایا تھا کہ “ ایک بات کواتنی مرتبہ دہراؤ کہ لوگ جھوٹ کو سچ سمجھنے لگیں “ا سی بنا پر اس نے ا پنے  “آقا ہٹلر“ کو یقین دلایا کہ یہ بہت ہی کامیاب پالیسی ہے میں ذمہ دار ہوں اور غلط ثابت ہوتو مجھے وزارت سے نکالدینا ۔ مگر آقا کی آنکھیں جب کھلیں ،تو انہوں نے دیکھا کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکے ہیں غیرتمند آدمی تھے کہ گوبل کے اندوہناک انجام کا انتظار بھی نہیں کیا اور انہوں نے خودکشی کرکے نجات حاصل کرلی کیونکہ ان کے ہاں وہ شاید حرام نہیں تھی ۔ جبکہ ہمارے یہاں خودکشی اور جھوٹ دونوں ہی حرام ہیں ۔
آج نواز شریف صاحب کااہم نے ایک ا ور بیان دیکھا کہ سوشیل میڈیا یہ تاثردے رہی ہے کہ میرے ،آرمی سربراہوں سے تعلقات کشیدہ ہیں ،عوام محتاط رہیں کہ سب سے تو نہیں ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کچھ سے ہیں ضرور ؟ ظاہر ہے کہ ایک آدمی سب کو تو خوش نہیں رکھ سکتا۔ کہ شیطان ہر وقت بہکاتا رہتا ہے۔ رہا انسان وہ ہے ہی خطا کا پتلا ہے۔ پھر ہماری یاداشت میں وہ تمام بیانات در آئے جو رواجی نہ تھے اور فوج کے بہت ہی مقتدر ادارے نے جاری کیے تھے۔ جس کا تدارک نواز شریف صاحب کی حکومت نے کیا بھی، بعد میں کچھ ان میں سے متنازعہ بھی بنے کچھ وزیر وںکی بھی قربانی ا نہیں دینا پڑی جو آوا گون کے ہندوفلسفے کے مطابق ابھی دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں؟ دراصل فوج کسی آدمی کانام نہیں ہے وہ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس کی تعداد لاکھوں میں ہے، ان میں سے ہر ایک نے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے، وہاں کوئی ایک آدمی کچھ نہیں کرسکتا۔ اسے ان لاکھوں آدمیوں کی آراءکا بھی ا حترام کرنا پڑتا ہے جو اس کی ماتحتی میں ہوتے ہیں وہ انہیں کسی حالت میں نظر انداز نہیں کرسکتا جبکہ ماتحت بھی ایسے ہوں کہ جن کی بہت اکثریت کے مفادات صرف پاکستان سے وابستہ ہو ں تو اس کے لیے ان حالات میں قیادت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسے پردہ پوشی بھی کرنا پڑتی ہر بات وہ کھل کر نہیں کرسکتا کہ ملک کی حفاظت ذمہ داری بھی اس کے کاندھوپر ہوتی ہے۔ اس لیئے ہمیں سپہ سالار صاحب کا یہ بیان بہت اہم لگا جس میں انہوں نے براہ راست عوام کو پہلی دفعہ مخاطب کیا جبکہ قوم یوم ِ پاکستان منارہی تھی، جن میں دوباتیں عوام کے لیئے بہت اہم تھیں ایک تو یہ کہ“ تحریک ِ ردِ فساد پورے قوم کی جنگ ہے اور اسی میں سب کا مفاد ہے دوسری یہ کہ ہمارے نوجوان “ داعشً کی زد  میں ہیں اورا ن کو بچانا من حیثیت القوم ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جس سے مخاطب ہیں اسے کچھ یاددلارہے ہیں اور کچھ تو ہے  جس کی پردہ داری ہے“  اللہ سبحانہ تعالیٰ قوم کو سدھرنے کی توفیق عطافرمائے( آمین)

شائع کردہ از Articles

کچھ سوچیئے کچھ غور کیجئے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستان بننے سے پہلے ہمارا رویہ اسلام کے ساتھ کچھ اور تھاجو بننے کے بعد بدل کر معذرت خواہانہ ہو گیا؟ جبکہ “اسرائیل“ بعد میں بنا اور اس نے ہمارے برعکس وہ رویہ اپنایاجو ہمارے لیے لاکھ ناپسندیدہ سہی، مگر وہ اس کو نافذ کرتے ہوئے کبھی نہیں شرمایا، اب انہیں کے نقش قدم پر انڈیا چل رہا ہے۔ جس کے بانی اب نریندر مودی ہیں۔ ایک زمانے تک میں نے ہمیشہ پاک انڈیا دوستی کی بات کی اس کی وجہ یہ تھی کہ لیڈر کچھ بھی کہتے رہے ،مگر عوام چونکہ صدیوں سے ساتھ رہ رہے تھے وہ اتحاد کے حامی تھے۔مگراب سیاسی صورت حال مودی کے سیاست میں داخلے کے بعد قطعی تبدیل ہوچکی ہے۔ اور“   آجکل عوام کی اکثریت اورلیڈر شپ ایک ہی پیج پر ہے “ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ا ب صورت ِ حال وہ نہیں ہے۔ حالانکہ ایک چھوٹی سی اقلیت پہلے بھی مہاسبھا کی شکل موجود تھی مگر اس کی بات ماننے والے نہ ہونے کے برابر تھے۔
جب سے نریندر مودی جیسے لوگ سیاست میں آئے اورا نہوں نے پہلے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کراکر کامیاب تجربہ کیا اورنتیجہ میں مقدمہ چلے اور اس میں وہ باعزت بری ہوگئے تو وہ لوگ تو مطمعن ہوگئے۔ مگر اس سے ہندوستان کے جمہوری ہونے سکو لر اسٹیٹ ہونے ، اور اس کی عدلیہ کے مصف ہونے کا تصور معدوم ہوگیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ“ جب سیاں بھئے کوتول تو ڈر کا ہے کا “ لہذا انہوں نے اپنے اس روٹھے ہوئے گروپ کو منانے کی کوشش کی جوانہیں تنگ کر رہا تھا اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ملکر صوبوں میں زیادہ تر اپنی حکومت بنائے ہوئے تھا۔ کیونکہ ان میں اور اونچی ذات کے ہندؤں میں کوئی چیز مشترک نہ تھی نہ ہی دیوتا نہ ہی مندر اور نہ ہی رنگ اور نسل جبکہ انہوں نے صدیوں سے اپنی ہی دی ہوئی تھیوری کے تحت انہیں اچھوت بنا رکھا تھا؟ وہ ا س میں کامیاب ہوگئے  اورانہوں نے اپنا پانچ ہزار سال پرانا نظام نافذ کرنے کے لیئے ، کام شروع کردیا، مثلاً گائے کو دوبارہ اتنا مقدس قرار دینا کہ آجکل پوری مسلم قوم وہاں زیرِ عتاب ہے کہ انکی طرح گائے کو کیوں نہیں پوجتی۔ لہذا انہیں ستانا جان سے مارنا “پن “ (کارِ ثواب بنا ہو ا ہے) جبکہ مودی صاحب کا انتخابی وعدہ ہے کہ میں مسلمانو کے ساتھ وہی کرونگا جوگجرات میں نے کیا تھا۔ اور پاکستان سے بھی اسی طرح نبٹونگا ، جس کا مظاہرہ آجکل سرحد پر اندھا دھند فائرنگ سے کر رہے ہیں۔
گائے دوبارہ اتنی مقدس ہوگئی ہے کہ پہلے بوڑھی گائیوں سے جان چھڑا نا ایک مسئلہ تھا اور وہ پاکستان کی طرف ہانک دی جاتی تھیں اور انہیں کچھ رقم مل جاتی تھی، اببوڑھی گایوں کارآمد بنانے کے لیئے ان کا پیشاب اس فیصلہ کے تحت ہریانہ میں بازاروں میں فروخت ہورہا ہے جہا ں لوگ بوتل بند یہ مقدس مشروب نوش جان فرمارہے ہیں ۔
میں نے جب کشمیر کے ا س حصہ میں جوکہ پاکستان بننے سے پہلے “پروا نڈیا“ تھا۔ دیکھا کہ پاکستانی پرچم وہاں لہرا رہے ہیں تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہندوستان مسلمانوں کے لیے جہنم بن چکا ہے وہ ہر وقت خوف کی حا لت میں جی رہے ہیں، وہ تفصیل طویل ہے۔ اب وہ اپنی غلطی پر پشیمان ہیں ۔ جنہوں نے ساتھ رہنے کافیصلہ کیا تھا۔ یہ دور ہندوستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نہیں آیا یہ سب سے پہلے جب آیا جب گاندھی جی افریقہ چھوڑ کر ہندوستان پہونچے تھے اور انہوں نے ہندو جاتی کو متحد کرنے کی کوشش شروع کی اور اچھوتوں کو جو کہ ہندو تھیوری کے مطابق برہما جی کے پیر سے پیدا ہو ئے تھے۔ اپنے برابر بٹھانا شروع کیا۔ جبکہ اس وقت ہندوستان کی قیادت مسلمان لیڈروں کے ہاتھ میں تھی جن میں قائد اعظم محمد علی جناح، مولانامحمد علی جوہر وغیرہ شامل تھے۔ اس نوازش کی وجہ یہ تھی کہ اونچی ذات کے ہندؤں کی تعداد اس وقت پندرہ کروڑ تھی جبکہ دس کروڑبرہماجی کے پیروں سے پیدا ہونےوالا طبقہ اور دس کروڑ مسلمان اور متفرق پانچ کروڑ تھے۔ چونکہ ہندو دھرم میں یہ گنجائش ہے کہ جوا اچھا کام کرے وہ اوتار بن جاتا ہے اور گاندھی جی ا چھا کام کر رہے تھے لہذا آتے کے ساتھ ہی وہ مہاتما بن گئے۔ کانگریس کے مسلمان لیڈراپنی مقبولیت تیزی سے کھوتے چلے گئے! انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ اوتار نہیں بن سکتے؟ نتیجہ کے طور سب کانگریس چھوڑتے چلے گئے سوائے مولانا ابولکلام آزاد اور رفیع احمد قداوائی کے۔
نریندر مودی وہ دور واپس لے آئے ہیں اور وہ جلد ہی اوتار بن جائیں گے ۔ یہ ان کاا پناا ندورونی معاملہ ہے مگر وہ مسلمانوں کواس صورت میں قبول نہیں ہے کہ ان کو تیسرے درجہ کا شہری قرار دیدیں ان کا قتل عام کر یں اور سڑکوں پر انہیں گالیاں دیں ،لہذا جو چند برادریاں پہلے مسلمانوں کے اپنے ساتھ غلط رویہ کی وجہ سے شاکی تھیں اور کانگریس میں تھیں جیسے کشمیری اور انصاری برادری وہ اب غیر مطمعن ہیں۔ یہ ہی کشمیر میں موجودہ بیچنی کی وجہ ہے ۔ لیکن اب فرق یہ ہے کہ اس وقت مہذب کہلانے والی دنیا کسی سے نفرت کرنا پسند نہیں کرتی تھی جبکہ آج وہ صورت ِ حال نہیں ہے ۔ا س کی وجہ مسلم شدت پسندوں کی سرگرمیاں ہیں جو ایک ملک نے کبھی پھیلائی تھی ابھی بھی اس کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے وہ پڑھا رہی ہیں ۔ جبکہ وہی ملک اب امن پسند بن بیٹھا ہے۔ کیونکہ ا ب یہ جن اس کے قبضہ سے بھی باہرہے ۔ اس کھیل میں سب زیادہ نقصان مسلمانوں کوہوا جوا من پسند مذہب ہے۔ا نکی بھی نئی نسل شدت پسندوں سے متاثر ہورہی ہے آئندہ چل کرکیا ہوگا یہ ا للہ ہی جانتا ہے ۔ بجا ئے اس کے کہ اسکاحل ڈھونڈیں مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پر لگے ہوئے ہیں ۔ بالکل وہی صورت حال ہے جب کہ اسپین سے نکالے گئے تھے۔ خدانہ کرے کہ تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرا دے ۔ لہذاپوری مسلم امہ کو آپس میں لڑنے کے بجائے ملکر اور سرجوڑ کر بیٹھنے اور حل سوچنے کی ضرورت ہے نہ کہ لڑنے اور ایک دوسرے کے خلاف پروپگنڈہ کرنے کی۔ جبکہ مسلمانوں کودنیا کی واحد سپر پاور کی طرف سے  بھی ڈو مور کا تقاضہ اور دھمکیاں مل رہی ہیں۔

شائع کردہ از Articles

یوم ِ دفاعِ پاکستان ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

اس دفعہ پھر یوم ِ پاکستان منایا گیا! میں نے یہاں پھر کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ ہماری تاریخ یہ ہےکہ ، یہ دن ہم کبھی بہت زور شور سے مناتے ہیں اور کبھی ناغہ بھی کرلیتے ہیں۔ یہ سب کچھ موقع اور محل پر منحصر ہے کہ اس سال حکمرانوں کی ضروریات کیا ہیں ۔ اگرا ن کا اقتدار خطرے میں ہے تو ملک بھی خطرے میں ہے اس لیے منانا ضروری سمجھتے ہیں۔اگر دوستی کی پینگیں پڑوسی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں ۔ تو ملتوی بھی کر دیتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ ہماری زندگیوں میں ہمیشہ “نظریہ ضرورت “ کار فرما رہتا ہے لہذا ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ جب بہت ہی مشکل وقت آجا ئے, تو اللہ کو یاد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور جب وہ مشکلات دور کردے تو ہم اسے اور اس سے کیے ہوئے وعدوں کوبھی بھول جاتے ہیں؟ ایسا وقت آج سے پچپن سال پہلے یعنی 6ستمبر 1965میں بھی آیا تھا۔ جو ہمیں یاد دلانے کے لیے تھاکہ ہم نے کچھ وعدے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیے تھے وہ ہم نے پورے نہیں کیے؟ وہ وعدے کیا تھے۔ وہ یہ تھے کہ “ اے اللہ ہم اپنی کرتوتوں کی وجہ سے دنیا پر اپنا اقتدر کھو بیٹھے ہم ذلیل اور خوار ہوچکے ہیں ,تو ہمیں زمین کا ایک تکڑا عطا کر دے۔ جس پر ہم تیرا نام پہلے کی طرح بلند کریں اور پھر سے پوری طرح تیرے بندے بن جائیں اور ہم اس پرپھر خلفائے راشدین جیسی ایک مثالی اسلامی اور فلاحی حکومت قائم کرلیں ۔ جب ہم پہلے جیسے دنیا کے لیے بن جا ئیں گے ۔تو ہمارے اعلیٰ کر داروں کو دیکھ کر اور ان سے متاثر ہوکر دوسری قومیں بھی جوق در جوق ا سلام میں داخل ہو جائیں گی اور پھر سے یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جا ئے گی۔ چونکہ اس کاعلم ہر چیز کو محیط کیے ہوئیے ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہی کریں گے جو مجھے بھول کر کرتے آئے ہیں ۔ لیکن اسے ہماراا صل چہرہ دنیا کو دکھانا تھا ہمیں ایک ملک پھردیدیا؟ اس نے اس کی بنیاد بھی معجزانہ طور پر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں رکھی اور مملکت قائم بھی اس طرح ہو ئی کہ جو لوگ اپنے مسلم لیگ کے ساتھ کیئے ہوئے معاہدے سے پھر چکے تھے اور طاقت کے نشے میں کل تک یہ کہہ رہے تھے کہ ہم تمہیں کچھ بھی نہیں دیں گے، ہماری آنے والی پارلیمنٹ یہ طے کرےگی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا؟ “آج وہی خود قائدین ِ مسلم لیگ پر زور دینے لگے اور کہنے لگے کہ“ یہ لو اپناپاکستان اور ہماری جان چھوڑو “
ملک مل گیا اب پھر ہماری وعدے پورے کرنے کی باری تھی۔ ہم اسے مملکتِ خداد کہتے تھے اور حقیقت میں تھا بھی ایسا ہی کہ یہ مملکت اسی کی مہربانی سے ہی بنی تھی۔  ہم اسے ایک دستور تک نہیں دے سکے کیونکہ خطرہ تھا کہ“ ہماری نیتیں ظاہر نہ ہوجائیں “۔ اس کی وجہ سے ہماری پارلیمنٹ سالوں تک دستور ساز اسمبلی کہلاتی رہی ۔ جبکہ اس ریاست کی شان یہ تھی کہ بھارت سے چھوٹی ہونے کے با وجود وہ بھارت کو سینڈوچ بنا ئے ہوئے تھی۔ جبکہ ہمارا اور اس کا آبادی کا تناسب بھی ایک اور تین تھا ۔ اور اس نے مزید مہربانی یہ فرمائی کہ پہلے جیسی اخوت بھی عوام کے دلوں میں ڈالدی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی رب نے اس طرح ہمیں نوازا تو ہم اپنے سے سو گنا بڑی اکثریت کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ وہی دور جاری تھا کہ ایسے میں ہم پر پڑوسی ملک حملہ کر بیٹھا اور اس کے ایک جنرل نے ناشتہ واہگہ کی سرحد پر اورلنچ( دوپہر کا کھانا )لاہور تناول فر مانے کا اعلان فرما دیا؟ اس وقت پھر ہمیں خدا یاد آیا، پاکستان پر ایک جنرل کی حکومت تھی اس نے یہ کہہ کر پاکستانی قوم کو کلمے کا واسطہ دیکر پکارا کہ“ دشمن نے لا الہ پڑھنے والیٰ قوم کو للکارا ہے اس کوسبق سکھادو؟ اس کی ایک آواز پر قوم ایک پیج پر اپنے تمام اختلافات بھلا کر جمع ہوگئی۔ اور بھارتی جنرل کا وہ خواب ادھورا رہ گیا۔ کیونکہ دونوں بازؤں نے ایک جیسی حمیت اور حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ اس وقت عوام کی یہ حالت تھی کہ جو چیز بھی حکومت نے خود یا ملکی دفاع کے نام پر کسی اور نے مانگی؟ ہر فرد اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے فوراً فراہم کرنے پر آمادہ ملا؟ ہر طرف سے ایثار کے وہ مظاہرے ہوئے۔ جن سے اس وقت کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان کو قلم بند کرنے کے لیے ا یک دو نہیں ہزاروں جلدیں چاہیئے ، اس چھوٹے سے مضمون میں وہ سب واقعات نہیں سما سکتے۔
ہم ہمیشہ کی طرح پھر اپنے وعدؤں سے پھر گئے، اور اپنے وعدوں کے مطابق اوروں کو کیا متاثر کرتے، خود اپنوں ہی کوانصاف نہ دے سکے؟ جو کہ اسلام کی اساس ہے جس کا سبق ہمیں ہر جمعہ کو خطبے میں دیا جاتا ہے اور جو بلاتفریق ِ مذہب و ملت سب کے ساتھ یکساں کرنے کاہمیں قرآن کی ایک دوسری آیت میں تاکیدی حکم  بھی ہے کہ؟ “ دیکھو!کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا نصافی پر مائل نہ کر دے “
پھر کیا ہوا؟ جب سے ذلت اور رسوائی ہمارا دوبارہ مقدر بن  چکی ہے اور ہم روز بروز اخلاقی پستی کی طرف جارہے ہیں ۔ ہمارے سپہ سالار نے اس دفعہ پھر قوم کو آواز دی ہے جس میں سچائی ہے درد ہے؟ اورہمارے وزرا ءبھی 1965کی اسپرٹ دوبارہ لانے کی بات کر رہے ہیں ۔ مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانک رہے ہیں کہ ہم میں اس وقت جیسی آپس میں محبت اور اخوت بھی ہے ؟ یہ جبھی واپس آسکتی ہے کہ ہم خدا سے اور بندوں سے کیئے ہوئے وعدؤں کانہ صرف زبانی احترام کریں ،بلکہ عملی طورپران کو پورا بھی کریں ؟ کیونکہ دلوں میں دوبارہ ا لفت ڈالنا اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کام ہے ،یہ اور کسی کے بس کی بات نہیں ہے؟ اور اس ملک کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، جس ملک کی 95 فیصدآبادی خود کو مسلمان کہلاتی ہے کہ اسے منایا کیسے جاتا ہے؟ اب بھی دلوں پر ہاتھ رکھ کر حکمراں سوچنے کی زحمت کریں ۔ اگر طریقہ حکمرانوں اور قوم کو یاد نہیں رہا ہے۔ تو علماء سے پوچھ لیں وہ اس مسئلہ پر انشا ءاللہ میرے ساتھ اس بات پر بھی متفق ملیں گے کہ“ اگر ہم نے ا پنے اس سے کیے ہوئے وعدے پورے کر کے پہلے اسے راضی نہ کیا اوراس کی نصرت ساتھ نہ لی تو پھر کوئی بھی ہماری نہ مدد کرسکے گااور نہ ہی بچاسکے گا؟  اللہ حکمرانوں کو عقل دے ایمان دے (آمین)

 

شائع کردہ از Articles