جب رکن پارلیمان فریادی ہوئے؟۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

تمام ملک کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ دیکھیں پا ناما لیکس کا مسئلہ جو اسمبلی کی احتساب کمیٹی میں اٹھایاگیا ہے ۔ اس پر کیا ایکشن لیا جاتا ہے کیونکہ اس کے سربراہ قائدِ حزب ِ اختلاف ہیں اور بنی بھی وہ اسی لیے تھی کہ اگر حکومت اپنے حدود سے باہر نکلے تو اسے روکا جا ئے؟ مگر اللہ نے انکا پردہ رکھ لیا اورفیصلہ سنانے کی نوبت ہی نہیں آئی! جبکہ اسے سننے بڑے بڑے سورما اخبار روں اور ٹی وی کے نما ئندے آئے تھے ۔ اور دونوں طرف کے لیڈر بھی اس میں شمولیت کے لیے بڑی تیاری کرکے گئے تھے جن میں حزب اختلاف والے یہ سوچ کر گئے تھے کہ آج اڑیں گے، کسی کے پرزے ؟ مگر لوٹ آئے کہ تماشہ نہ ہوا ۔ اور شاہ پرست اگر ضرورت پڑے تو راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے آئے ہوئے تھے ؟ اس حادثہ پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ ہمیں ایوب خان کے پہلے والے مارشلا ءکا ایک واقعہ یاد تھا کیونکہ وہ شروع میں واقعی بے نظیر تھا، اس کا بڑا رعب اس لیے تھا کہ قوم کے لیے ملک گیر بنیاد پر یہ پہلا تجربہ تھا۔ لوگ سہمے ہوئے تھے اور انہوں نے ملاوٹ شدہ گھی اور تیل جیسی قیمتی چیزیں بھی نالیوں میں بہا دی تھیں جن میں بہت سو ں کی نقل کے ساتھ اصل بھی بہہ گئی تھی؟ اس کے تحت جب عدالتیں قائم ہوئیں تو سکھر میں جہاں کے ہمارے قائد ِ حزب اختلاف ہیں، چشم ِفلک نے یہ منظر دیکھا کہ ایک نامی گرامی وکیل صاحب اپنے منشی کے کاندھے پر کتابوں کا پلندہ اٹھوا کر لا ئے ! اسے دیکھ کر؟ جج نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتا یا کہ سر! یہ قانون کی کتابیں ہیں ۔ پہلا حکم جو صاحب ِ عدالت نے دیا وہ یہ تھا کہ ان کو با ہر رکھ آئیں ، پھر بات کریں؟ کہاوت ہے کہ حکم حاکم مرگ مفاجات ؟ بیچارے کیا کرتے ۔ اور دلیل کیا دیتے کہ قانون کی کتابیں جج صاحب نے باہر بھجوادیں تھیں؟
آمریت کسی بھی شکل میں ہو؟چاہیں پہلے وہ بادشاہت رہی ہو یا جمہوریت ؟ جب ان میں سے کوئی بے لگام ہو جاتا ہے تو اس کا ایک ہی انداز ِ حکومت ہوتا ہے کہ “ جو ہم کہیں وہ کرو ، جو ہم حکم دیں وہ مانوں، اور جو کہدیں بس وہی قانون ہے “ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ ایک سکریٹری صاحب جو ریٹائر ہونے کے بعد برے وقتوں کے لیے اس کمیٹی کی رہنمائی کو رکھے ہوئے تھے انہوں نے سب کی زبان بندی یہ کہہ کر فرمادی کہ کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا،بقول ایک عوامی ترجمان کے کہ اس اجلاس پر قوم کا بے انتہا پیسہ اور وقت خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اس کمیٹی کا تاریخ میں سب سے زیادہ حاضری سے بھر پور اجلاس تھا۔ اور صدر کمیٹی کے ہاتھ میں پروانہ دیدیا گیا کہ اس کمیٹی کو اس معاملہ کو سننے کا اختیار ہی نہیں ہے اور بات ختم ہوگئی۔ اس رہنمائی کا تقاضہ یہ تھا کہ صدر صاحب اجلاس ملتوی کرکے جلدی سے گھر چلے جاتے ؟مگر اجلاس ختم کیسے ہوتا کہ ایک سرکاری رکن پارلیمان اسمبلی کی شکایت ایجنڈے پر تھی انہیں انصاف مہیا کرنا تھا کہ “ کسی بنک نے انہیں کریڈٹ کارڈ نہیں دیا اوروہ انہیں ادھار نہیں دیتا ہے؟ جبکہ سب کو دیتا ہے “ ان کی فریاد سنی گئی اور اس پرکاروائی کے لیے اجلاس جاری رہا حکم کیا ہوا یہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس پرکسی نے روشنی ڈالنا مناسب نہیں سمجھا ،کیونکہ جو رپوٹنگ کے لیے گئے تھے وہ چھوٹی خبروں پر توجہ اس لیے نہیں دیتے کہ انہیں اس پر نیوزبلٹین میں جگہ نہیں ملتی ہے، مگر ہمیں وہ خبر بڑی اہم نظر آئی؟
کسی دانشور نے کہا کہ ایک ہی کھڑکی سے بہت سے لوگ جھانک کر سڑک کی طرف دیکھتے ہیں اور ہر ایک کو اس کے مطلب کی چیز دکھا ئی دے جاتی ہے؟ ہمیں اس میں کیا ملا آئیے اس پر آپ کے ساتھ سا جھا کرتے ہیں ؟ اس سے آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم بھی کوئی پناما میں کارو بار کرنے والے ہیں، دراصل ہم نے اس انگریزی جملہ کی اردو استعمال کی ہے جس کا استعمال آج کل عام ہے ۔ جیسے کہ معلومات شیر کرنا ، خبر شیر کرنا اور یہ شیر کرنا اور وہ شیر کرنا؟ جب کہ اردو میں شیر کا کام ہے شکار کرنا، اس میں اردو کا ایک اور محاورہ اور استعمال کرلیں جو شیر کے بارے میں ہی ہے کہ لومڑیاں یوں اس کے ساتھ ہوتی ہیں کہ جیسے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پا ؤں ہو تا ہے؟ ویسے ہی شیر کے مارے شکار میں سب کا حصہ ہوتا ہے؟ لہذا اس کے پیچھے کیڑے مکوڑوں کی طرح ہرکوئی چلتا ہے۔
لیکن ہمیں جب بڑی خبر نہیں ملی تو  یوں چھوٹی ہی بہت اہم لگی ؟ کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے یہاں تمام بنک قومی ملکیت میں لے لیے گئے تھے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب ایک کر کے قوم کو فروخت کرنے پڑے اور وہی کاروباری لوگ انہیں سے خرید کر دوبارہ اس سے زیادہ کامیا بی سے اب چلا رہے ہیں ۔یہ اس دور کی خوبی تھی کہ وہ اشرافیہ کی عادتیں خراب کر گیا ؟ کہ لوگ قرضہ لیتے  آتےہی نہ دینے اور معاف کرانے کے لیے تھے ، اور زیادہ تر چیک بھی واپس ہونے کے لیے ہی جاری کر تے تھے۔ لہذا اس دور میں اشرافیہ نے جو ریکارڈ بنا یا وہ اب نئے مالکوں کے کام آرہا ہے اور انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اتنا اچھا ریکارڈ رکھنے والے لوگوں کو ادھار نہ دیں تاکہ بنک سلامت رہے؟ ورنہ دو بارہ دیوالیہ ہو جا ئیں گے کیونکہ یہ احتیاط کا تقاضہ ہے؟ اب وہاں کا تو ہمیں پتہ نہیں کہ وہاں سے آئے ہوئے ایک نسل جتنا عرصہ گزر گیا ۔ مگر یہاں آکرکہ یہ دیکھا کہ اگر ایک چیک بنک میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے واپس ہوجا ئے تو وہ اس شخصیت کے لیے اتنا بڑا د ھبہ ہوتا ہے جو اس کی کریڈٹ ورتھی نیس (صاحب امانت)ہونے کو مشکوک ہی نہیں بلکہ ختم کردیتا ہے اور اگر تین چیک واپس ہو جائیں تو بنک اس کا کھاتا شکریہ ادا کر کے بند کر دیتا ہے ؟ اور دنیا محتاط ہو جا تی ہے کہ یہ قابل ِ اعتبار نہیں ہے؟ اس کے لیے کسی کوکہیں جانا نہیں پڑتا، ایسی کاروباری فرمیں موجود ہیں جو ایک منٹ میں کسی کے کریڈت ورتھی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر دیتی ہیں ۔ اب تو حالات یہاں تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ گوگل صاحب (google) کے سپرد کسی کا بھی نام کردیں وہ اس کے بارے میں سب کچھ بتادیں گے؟پھر بھی فراڈی یہاں بھی فراڈ کر جاتے ہیں اور وہ سب سے زیادہ کریڈٹ کارڈ میں ہو تا ہے ؟ لہذا وہ “ پاور لائن“ تو آپ کولاکھوں روپیہ کی دینے کےلیے تیار ہتے ہیں مگر کریڈٹ کارڈ بہت ہی پرکھنے کے بعد گھٹیلیوں کے بل چلتا ہو اآگے بڑھتا ہے ۔اور اس منزل تک برسوں میں کہیں پہونچتا ہے کیونکہ اس کی کو ئی ٹھوس گارنٹی نہیں ہوتی، سوائے اس کے اپنے کردار کے؟ جبکہ“ پاور لائین“ اور دوسرے قرضوں کے لیے جائداد کی گارنٹی ہوتی ہے ۔ یہ ہی چیز ہے کہ یہاں قسمت آزما کسی کا کارڈ اڑالیتے ہیں اور دو چار دن کے اند لاکھوں کا مال لیکر رفو چکر ہو جاتے ہیں؟ اور بنک والے بیچارے دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ کارڈ ہولڈر کی ذمہ داری صرف پچاس ڈالر تک ہے ۔اس سے بڑے فراڈ پر یہاں نقصان بیمہ کمپنی کا ہوتا ہے اور وہ بیمہ کمپنی بھگتی ہے۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ ہمارے اراکین پالیمان ایک شرط دستور میں موجود ہو نے کے با وجود وہاں یہاں جیسے کردارکی قلت میں مبتلا ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں بچاؤ؟ کیونکہ پھر فرشتے ہی اسمبلی میں آسکتے ہیں جب کہ یہاں یہ شرط با خوبی چل رہی کہ کسی عہدے پرآ دمی اسی صورت میں رہ سکتا ہے جبکہ وہ صاحب کردارر ہو، ذرا بہکا اور عہدے سے فارغ ہوجاتا ہے؟ یعنی ہرایک کا کریڈٹ ورتھی ہو نا ضروری ہے؟ مگر ہم بزعم خود اپنے خیال میں اپنے اندریہ جنس نایاب ہونے کے باوجود ان سے خود کو بہتر کہتے ہیں کہ وہ ان شرائط پر پورے اتر تے ہیں جن پر ہم نہ چلنا چاہتے ہیں نہ پورا اتر نا چاہتے ہیں جوکہ کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی مگر کہلاتے پھر بھی مسلمان ہیں۔

 

Posted in Uncategorized

۔۔۔ لیکن ہم عہد جا ہلیہ میں واپس چلے گئے از۔۔۔ شمس جیلانی

حضور (ص) نے خطبہ وداع میں فرمایا تھا کہ “ آج زمانہ اپنی جگہ پر واپس آگیا ہے “ اس جملہ کو سیاق اور سباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جا ئے تو بات سمجھنے کے لیے بہت آسان ہو جاتی ہے؟ لیکن سیاق اور سباق سے سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ میں بہت پیچھے جا نا پڑےگا یہاں تک کے اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم (ع) نے خود کو تمام امتحانوں سے گزارا اور اس سلسلہ میں قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں سند عطا فرمائی کہ “ ہم نے انہیں بہت سے مواقع پر آزمایا اور اس میں وہ پورے اترے “ تو انہیں اللہ سبحانہ نے اپنی سنت کے مطابق زندہ جاوید بنانے کے لیے دنیا کی پہلی عبادت گاہ کی تعمیر کا کام ان سے لینے کا فیصلہ کیا؟ پھر ان کے ہر عبادتی فعل کو ہمیشہ کے لیے اپنے حکم سے جاری کردیا؟ جو صرف ایک خدا کی عبادت پر مشتمل تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ان کے ماننے والوں نے اس میں بہت سی غلط رسمیں شامل کر لیں ؟ اور وہ اپنی اصل شکل کھو بیٹھا اس میں کچھ عربوں کی ہی بات نہیں بلکہ ہر قوم میں یہ ہی ہوتا آیا ہے کہ جو کچھ اپنے اجداد کو انہوں نے کرتے دیکھا وہ دین سمجھ کر شروع کردیا کہ یہ بھی عبادت کا ایک حصہ ہے؟ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ بجائے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنے کے یہ دن بھی اپنے ذاتی تفاخر اور نسبی برتری بیان کرنے پر صرف ہونے لگے۔ چونکہ اس علاقے کو حضور (ص) نے تشریف لاکراس طرح منور کرنا تھا کہ تاقیامت ان کا نام دنیا میں لیا جاتا رہے؟لہذا حضور (ص) کے تشریف لانے سے پہلے بڑے عرصے تک نہ یہاں کہ باشندے بہکے اور نہ حضرت اسمعٰیل (ع) کے بعد کسی نبی (ع) کی ضرورت پڑی۔ حضور (ص)سے کچھ ہی عرصے پہلے یہاں بہت سی نئی رسوم پیدا ہو ئیں اور انہوں نے دین کی جگہ لے لی۔ مثلا ً برہنہ طواف کرنا؟ جس میں حجاج کی مرضی کو دخل نہ تھا بلکہ ان کی مجبوری تھی کہ منتظمینِ کعبہ نے یہ قد غن لگا دی کہ حرم کا طواف صرف ایک مخصوص لباس میں ہی ہو سکتا ہے۔ اور وہ قریش کا لباس ہے جو ان کی نظر میں شرفا کا لباس تھا۔ لہذا جو اس قابل نہ تھے کہ ویسا لباس کسی طرح اپنے لیے مہیا کر سکیں ،وہ مجبور تھے کہ وہ بغیر لباس کے حج کر یںِ۔ برائی کی شروعات یہ تھی کہ ا یک خاندان شام سے بت لے آیا اور وہ کعبہ میں رکھدیے گئے ، بعد میں وہی خاندان تمام رواجوں کا بانی بنا اور اس نے دین میں بہت سی تبدیلیاں کیں جیسے کے قربان گا ہ جو شروع سے منیٰ میں تھی اس کے بجا ئے، اب جانور بتوں کے قدموں میں قربان کیے جا نے لگے۔ ہر تین سال کے بعد ایک سال تیرہ مہینے کا ہونے لگااور ان کا نما ئندہ اعلان کرنے لگا کہ آج یہ میرے ہاتھ میں ہے کہ جن مہینوں کو چاہوں میں حرام کردو ں اور جن کو چاہوں میں حلال کر دوں! وہاں موجود حاضرین اس کے دعوے کے جواب میں اس کی حاکمیت کو تسلیم کرتے اور وہ جس طرح چاہتا یا مفاد پرست چاہتے وہ انہیں تبدیل کردیتا ؟ اس کے اس حکم سے مہینے بد لتے رہتے اور مفاد پرستوں کو لوگوں کی عدم واقفیت کی بنا پر پرانے بدلے چکانے یا حجاج کو لوٹنے کاموقعہ ملتا رہا۔ جبکہ انجان لوگ یہ سمجھ کر سفر کرتے کہ یہ حرام مہینے ہیں اور ہم بدلہ لینے والوں، چوروں اور لٹیروں کے ہا تھوں سے محفوظ ہیں ؟ اسی طرح جانوروں کی انہوں نے قسمیں بنا دیں کہ یہ حلال ہیں یہ حرام ہیں؟ انہیں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ “ اشرافیہ عرفات نہیں جا ئیگی “ جبکہ دوسرے لوگوں کے لیے عرفات تک جانا لازمی ہوگا ۔ سن نو ہجری کا حج آخری مشرکوں اور مسلمانوں کا مشترکہ حج تھا، جو حضرت ابو بکر (رض) کی قیادت میں ذیقدہ میں ہوا۔ چونکہ اب را ہیں جدا ہو چکی تھیں اسلام غالب آچکا تھا اللہ کا نام ہرجگہ بلند کر نا اس سلسلہ کا آخری کام تھا لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی حج کے دوران حضور (ص) کی طرف سے سورہ توبہ کے مطابق اعلان کیا کہ آئندہ کوئی کافر حج نہیں کرسکے گا ؟ دوسرے حج کے سلسلہ میں لوگ پریشان تھے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں ارکان ِحج کیا ہیں ؟ اور بدعیتیں کیا ہیں ۔ لہذا اس کی عملی تعلیم کے لیے حضور (ص)نے فرمایا کہ میں حج کے لیئے جا رہا ہوں جو چاہے میرے ساتھ چلے اور حج کے ارکان سیکھ لے؟ وہ مدینہ منورہ کے باہر ایک مضافاتی مسجد میں تشریف لا ئے اور دوسرے دن عازم سفر ہوئے۔ اس میں پہلی تبدیلی تو یہ ہوئی کہ سب لوگ دو کپڑوں میں تھے جسے احرام کہہ رہے تھے ،اور حجاج کرام قریش کے مخصوص لباس میں ملبوس نہ ہوئے۔ باقی جیسا حضور (ص) ہر قدم پر عمل فرماتے رہے سب اتباع کرتے رہے۔ جس کو تفصیل سے تمام سیرت نگاروں نے لکھا ہے جس میں یہ احقر بھی شامل ہے جوکہ بہت طویل ہے وہاں پڑھ لیں؟
سب سے اہم تبدیلی ، یہ ہوئی کہ یہاں اب اپنی اور اجداد کی بڑائی کے بجا ئے صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بڑائی اختیار کی گئی، لباس ایک ہوا مقامات ایک ہو ئے، لغویات کو ترک کرنے کا حکم ہوا۔ لعو لہب ختم ہوا۔ “ وقوف عرفات “حج کا لازمی رکن قرار پایا اور حج کا دن سن ِ ہجری میں ذالحجہ کا نوادن دن مقرر ہوا جبکہ سال ہمیشہ کے لیے بارہ مہینہ کا قرار پایا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جو صاحب استطاعت تھے ان پر حج فرض ہواِ مگر اس کافیض صرف ان تک ہی محدود نہیں رہا ،جو صاحب نصاب تھے ، جو نہیں تھے ان کے لیے اس کے متبادل دو عیدوں میں سے ایک عید انہیں دنوں میں عطا کردی گئی سوائے حج کے کیونکہ وہ رحیم ہے اور کسی کو بھی اپنی رحمتوں سے محروم نہیں رکھتا؟
لیکن ہم چودہ سو سال گزرنے بعد اس پر قائم نہ رہ سکے؟ کیونکہ وہاں پر مفاد پرست دوبارہ غالب آگئے ۔ جہاں کوئی امتیاز نہ تھا وہا ں پھر وہی امتیازات پیدا ہو گئے۔ وہ لاکھوں غریب جو حرم کو چاروں طرف سے اس لیے اسے گھیرے رہتے تھے ۔ کہ حضور (ص) نے فتح مکہ کے موقعہ پر مکانو ں کا کرایہ حجاج کرام سے اپنی مرضی کے مطابق وصول کرنے سے منع فرماد یا ۔ اور اس کے نتیجہ میں وہاں لوگوں نے اپنے دروازے حجاج کرام کے لیے کھولدیئے تھے ؟ان کی دیکھا دیکھی تمام دنیا کے والیان ریاست اور صاحب استطاعت لوگوں نے حرم کے اطراف میں مسافر خانے جنہیں رباط کہاجاتا بنا کر غرباءکے لیے وقف کر دیے جو ان سے بھرے رہتے تھے، اب ان کی جگہ ہوٹلوں نے لے لی ؟ تاکہ روساءکو پیدل چلنے کی زحمت نہ ہو؟ اور غریب اتنی دور چلے گئے ہیں کہ مت پوچھیے ؟ یہ ہی وجہ ہے کہ اب حج میں مشقت اشرافیہ کے لیے نہیں رہی لہذا جب وہ لوٹ کر آتے ہیں تو بجا ئے تقویٰ کے حصول میں منازل طے کرنے کی بات کرنے کے،وہاں جو انہیں پیسہ کے زور پر سہولیات میسر تھیں اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسکا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ وہاں بڑا “ فن “ تھا۔ جبکہ خطبہ حج جو کبھی صرف اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے لیے مخصوص تھا اب اس میں بھی بادشاہ سلامت کا بھی ذکر ہوتا ہےِ۔ اسلام کا یہ اجتماع جو ان اجتماعات میں سب سے بڑا ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے امہ کو عطا فرما ئے ہیں ۔ جس میں حکم ہے کہ اگر دو آدمیوں ہوںتو اس میں سے ایک کو امیر بنالو تاکہ وہ امامت کرے ، پھر روزمرہ کے اجتماع، محلے کی مسجدیں اور ہفتہ میں جمعہ بڑی مسجد میں عبادت ۔پھر سال میں ایک بین الاقوامی اجتماع حج کی شکل میں ؟ اس میں ایجاد بندہ یہ ہے کہ اس میں عبادت کے سوائے حجاج اور کوئی بات نہ کریں ورنہ گرفتار کرلیئے جائیں گے اور پھر پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے؟ جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ “ اوقات ِ عبادات کے علاوہ تجارت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے “ نقصان امہ کا یہ ہوا کہ وہ درپش مسائل کو وہاں زیرِ بحث نہیں لاسکتی ؟ اور حج کے پورے فضائل حاصل نہیں کرسکتی ؟ جبکہ دین کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان کا ہر فعل بشمول سیاست اسلام کے مطابق ہو ؟ اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) جبکہ دوسری طرف مسلمان من حیثیت   ا لقوم لعو لہب کو ہی دین سمجھنے لگے ہیں  حرام مال ہے اور دکھاوا ہے،منڈیوں میں قیمتی جانوروں کے آگے رقاسائیں ناچتی ٹی وی پر دکھائی جارہی ہیں،پوری قوم بجائے عبادت کے گوشت کھانے میں مصروف ہے؟ ان کے نمائندے عوام سے بہت ہی سادگی سے پوچھ ر ہے ہیں کہ سنت ابراہیمی کی کو ئی شق باقی تو نہیں رہ گئی ؟ کاش ! وہ یہ طنز یہ کہتے تاکہ جو عامل ِ قرآن وسنت ہیں ان کو خوشی ہوتی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ہ

Posted in Articles

قصور انکا بتاتے تھے قصور اپنا نکل آیا؟ از ۔۔۔شمس جیلانی

آجکل الزامات در الزامات کی بڑی دھوم ہے ایسا لگ رہا کہ محرک ِ تحاریک شاید نعرہ بازی سے اسلام کا دور ِ قرونِ اولیٰ واپس لے آئیں گے ؟ آئیے دعا کریں کہ خدا کرے ایسا ہی ہو ۔ اگر یہ اتنا ہی آسان ہوتا اور صرف نعرے بازی سے بغیر عمل کے کامیابی ممکن ہوتی تو حضور (ص) جو ہمیشہ سب کو آسانیاں فراہم کر نے پر زور دیتے تھے، وہ  (ص)عمل پر زور کیوں دیتے اور نہ ہی عمل کرکے ،ہمیں عمل کرنے کی راہ دکھاتے؟  مگر اس کو کیا کہا جائے کہ قوم کہہ مکرنی کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ انہیں کچھ بھی کہیں کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا؟ کیونکہ ہر ایک اپنے گریبان میں جھانکے بغیر دوسرے کی آنکھ کا تنکا تلاش کر نے میں لگا ہوا۔ اگر ہم سب مصلحتوں سے بلند ہو کر مذہب پر عامل ہو جائیں اور ہر ایک اپنا احتساب خود کرکے میدان میں کودے تو سب کچھ ممکن ہے؟
ہماری ستر سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے قول اور فعل میں ہمیشہ تضاد رہا ہے ؟ اور تضاد، یو ں ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہا ہے الصفات کی ابتدائی آیات میں کہ “ اے ایمان والو! تم وہ باتیں  کیوں  کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو ، یہ بات مجھے سخت ناپسند ہے “ مگر ہم اپنا گریبان عموماً نہیں جھانکتے اور سارے نا پسندیدہ کام کرتے ہوئے اس فریب میں دوسری قوموں کی طرح مبتلا ہیں کہ ہم اس کی پسندیدہ قوم ہیں؟ اگر مندرجہ ذیل باتیں ہم میں نہ ہوتیں!تو ہم واقعی بہت اچھی قوم ہوتے ۔
مثلاً ہم سے یہ کہا گیا ہے کہ مضبوطی سے قر آن کو پکڑلو ؟ ہم اسے مضبوط پکڑے ہوئے تو ہیں کہ جزدان میں بند کرکے بلندی پر رکھ دیا ہے ؟ جبکہ ہمارے یہاں بات ہی اس مشہور حدیث سے شروع ہو تی ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے “ جس کا تقاضہ  ہے کہ ہر کام خالص اس کی رضا کے لیئے ہو؟ جبکہ ہم ہر کام بے دلی سے انجام دیتے ہیں۔ خوش دلی سے نہ ہم نماز پڑھتے نہ روزہ رکھتے ہیں ؟ نہ کوئی اور کام کرتے ہیں؟ نماز جب پڑھیں گے تو اس وقت جب کہ وقت گزر رہا ہوگا۔ اگر روزہ رکھیں گے تو اس طرح کہ پورے گھر والوں ہی کو نہیں ،بلکہ پورے شہر کو پتہ ہو گا کہ ہم روزے سے ہیں ۔ کیونکہ ہم بات بات پر لوگوں سے لڑیں گے اور کہتے پھریں گے ہم روزے دار ہیں ۔ جبکہ ہمیں یہ اس وقت کہنے کے لیے کہاگیا ہے کہ “ میں روزےدار ہوں“ جب کوئی اور نا دان ہمیں تنگ کر رہا ہو تو اس سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیں کہ “ ہم روزے دار ہیں “اور قر آن کی ایک دوسری آیت مزید رہنمائی کر رہی کہ “  اسےسلام کہہ کر رخصت ہو جا ئیں “۔ خیرات کے لیے ہمیں یہ کہا گیا کہ اس ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ؟ مگر عمل کیا ہے کہ دینے سے پہلے دوسرے ہاتھ کو خبر ہو یا نہ ہو، البتہ پورے شہر کو خبر ضرور ہو جاتی ہے کہ فلاں بھائی نے اتنی رقم فلاں نیک کام کے لیے دی ہے ۔ کیونکہ آجکل چیک دینے کا رواج ہے یاپھر وعدہ کر نے کا ، جسے انگریزی زبان میں پلیج کہتے ہیں ؟ یعنی دینے کا وعدہ کر لینا؟ اور بہت سے لوگ اتنے وعدے روزانہ کر تے ہیں کہ انہیں  وعدے یاد ہی نہیں رہتے بلکہ بعض تو اس میں اتنے دلیر ہیں کہ کہتے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جو  پورا کر نے کے لیے کیا جائے ؟ جبکہ قر آن کہہ رہا کہ “ تم سے قیامت کے دن وعدوں پر سوال ہو گا“  ایساکرنے والے شاید یہ سوچ کر کرتے ہوں  کہ اس میں سوال کرنے ذکر ہے “ سزا دینے کا نہیں ہے “ قصہ یہ ہےکہ ہم سب بے انتہا نڈر ہو چکے ہیں؟ مثال کے لیے آپ ہمارے انتخابی وعدوں کی تاریخ کو دیکھ لیجئے ؟ جب ہم ہدایت پاکر دوبارہ گمراہ ہوگئے تو اس کے نتائج نظر آنے شروع ہوئے؟ قوم نے سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہونچی کہ یہ سارے ادبار اسی کا ہی نتیجہ ہیں کہ ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بات نہیں مانی، کھلے عام نافرمانیاں کیں؟ لہذا اس کے سامنے جاکر گڑا گڑائے؟ از سرنواللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اگر تو ہمیں ایک خطہ زمین دیدے تو ہم اس پر مثالی اسلامی حکومت بنا کر دکھا ئیں گے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور اس نے ایک ملک دیدیا ، اگر ہم وعدہ پورا کرتے تو وہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر7 کے مطابق  “اورزیادہ دیتا “ لیکن ہم نے ملک ملنے کے بعد ارادہ ہی بدل دیا، شایداسے پورا نہ کرنے کا تہیہ کر لیا؟ حالانکہ پاکستان بنتے ہی جو پہلا قائد اعظم کی قیادت میں ادارہ تشکیل دیا گیا وہ تھی “ دستور ساز اسمبلی “جو ماشا اللہ ایک دو دن نہیں ، سالوں رہی اور اس کے کرتا دھرتا بھی وہی رہے جو کہ بانیوں میں شامل تھے سوائے ایک کہ جودستور ساز اسمبلی کے صدر اور ملک کے گورنر جنرل بھی تھے۔ جن کے بارے میں یہ واقعہ بڑامشہور ہے کہ جب کانگریس نے بھارت کا دستور بنانے کے لیے دستور ساز کمیٹی بنا ئی تو مولانا شبیرا حمد عثمانی (رح) صاحب ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ بھی ایک دستور ساز کمیٹی بنا دیں! تاکہ ہم پاکستان کا دستور بنا لیں؟ مگر انہوں نے فرما یا مولانا ان کے پاس تو دستور نہیں ہے اس لیے وہ دستور بنا رہے ہیں؟ ہمارے پاس تو دستور موجود ہے ! مولانا سے زیادہ کون جانتا تھا! کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے ؟مگر انہوں نے پھر بھی وضاحت چاہی کہ آپکی اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرما یا کہ “ قر آن“ ان کی نیت تو اس ادارے کو سب کام پر ترجیح دینے سے ہی ظاہر ہوگئی تھی؟ لیکن انہیں وقت نے مہلت نہ دی اور وہ تیرہ مہینے میں اللہ کو پیارے ہو گئے؟ اب ان کے بقیہ ساتھی تھے اور دستور تھا اس بنے بنائے دستور کو نافذ کرنے میں سالوں لگ گئے اور وہ بن کر نہ دیا ؟ پھرچشم َ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہی مولانا پھر اسی مسئلہ پر شدید برہم قائد اعظم (رح) کے ایک ساتھی سے اس تاخیر پر الجھ رہے ہیں؟ اور انکا جواب تھا کہ “ مولانا ! پہلے یہ توطے کرلیں کہ کونسا اسلام چا ہیے“ ان صاحب کو یہ بات اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھی؟ مگر وعدہ پہلے کر لیا اور سوچا بعد میں؟ قصہ مختصر ہم نے با لکل اس شخص کی طرح کیا جو تاڑ کے درخت پر چڑھ گیا پھل توڑنے، اور رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تو اس نے منت مانی کہ اے اللہ! تو مجھے بخیریت زمین تک پہونچا دے تو میرے پاس جو سب سے اچھااونٹ ہے تیری راہ میں قر بان کرونگا ۔ اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف پھسلنا شروع کیا، جب آدھا فاصلہ طے کرلیا تو اس نے سوچا کہ  وہ اونٹ تو بہت قیمتی ہے؟ گائے قر بان کر دونگا اور بتدریج گھٹتے ،گھٹتے مرغ کی قربانی تک آگیا؟ جب زمین سے پیر ٹکرائے تو دیکھا کہ چیونٹیاں جا رہی تھیں اس نے کہا کہ اللہ! جتنی تو کہے اتنی ہی میں ان میں سے قر بان کردوں ؟ ایسے متقی کو شیطانی جواب صرف شیطان سے ہی مل سکتا  تھا جو ملا! اس نے اسکو پہلے یہ راستہ دکھا یا اور اس کے اس عمل کو اس کی نگاہوں میں مزین کرکے بھی  دوبارہ دکھادیا اور اس نے  وعدے کے مطابق ایک کے بجا ئے سیکڑوں چیونٹیوں کو پیر سے کچل کر اپنی منت پوری کر لی؟ ہمارے کرتا دھرتاؤں نے اس آیت کا اگلا  حصہ پڑھا ہی نہیں تھا کیونکہ پورا قر آن پرھنے کی امت کو فرصت کہاں ہے؟ جویہ ہے کہ “ اگر کفر (نافر مانی) کرو گے تو میراعذاب بھی شدید ہے “ وہ دن اور آج کا دن ہے وعدے بہت ہو ئے اور پورے بہت کم ؟ لیکن سزا قوم بھگت رہی ہے کہ ہم نے تو تمہیں یہ حکم دیا تھا  کہ  “ تم  صرف بھلے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دوگے برے کاموں میں نہیں “    جبکہ قوم نے  اپنوں کی وعدہ خلافی کو درست سمجھ لیا اس لیے کہ اپنے ہیں؟ اس کے بعد کیسے کیسے وعدے ہوئے کیسے لوگوں نے کیے؟ اگر میں پوری تفصیل میں جاوں تو آپکو ایسے متقی لوگ بھی نظر آئیں گے جو قرآن پر سب کو عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے ؟ اور  انہوں نےعوام سے وعدے کیے کہ ہم تیس سال پہلے والے بازار کے بھاؤ واپس لے آئیں گے؟ جوکہ جب سے دنیا بنی کبھی کوئی واپس نہیں لاسکا،اللہ نے انہیں بھی اقتدار دیدیا صرف ہمیں تعلیم دینے کے لیے کہ ایسے وعدے مت کرو جو پورے نہ کرسکو؟ مگر ہم نے اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ؟ وہ وعدے پورے نہیں کرسکے ؟ آخری وعدووں کی مثال 2013 کے الیکشن ہیں اس میں وہ لوگ کامیاب ہو ئے جو سالوں کے بجا ئے دنوں میں وعدے پو رے کر نے کے وعدے کرکے  برسرِ اقتدارآئے تھے؟ جو زیادہ تر توانا ئی کے بارے میں تھے؟ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے؟ اگر وہ وعدہ کرنے میں محتاط ہوتے تو اس کاجائزہ پہلے سےلے لیتے تو وہ کبھی ایسے وعدے نہ کرتے جو جھوٹے ثابت ہونا ہی تھے ؟ نہ ہی جھوٹ میں ملوث ہوتے، نہ اعتبار کھوتے انہوں نے  بھی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور وعدہ کرتے رہے کہ ہمیں حکومت ملی تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے اللہ نے حکومت دیدی مگر لوگ وہاں جاتے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ وعدہ فردہ کہاں تک پورا ہو ا! اور مایوس لوٹ آتے ہیں؟ کاش کے لوگ بار بار مایوس نہ ہوتے کوئی تو ایسا آتا کہ اس معیار پر پورا اتر تا جو ایک مسلمان حکمراںکے لیے ضروری ہے  ؟ اب بھی احتساب کانعرہ لگا کر ؟ اس میں بھی نعرہ لگانے والوں نے وہی غلطی کی کہ پہلے اپنا دامن نہیں جھانکا ِ اگر جھانک لیتے تو یہ نتجائج سامنے نہیں آتے کہ وہ بھی اسی میں مبتلا نظر آئے جس میں پہلے والے مبتلا تھے اور جس میں نتیجہ کے طور پر ڈھائی نسلیں گزر جانے کی وجہ سے پوری قوم اب مبتلا ہو چکی ہے؟ ایسے میں وہ فرشتے آئیں گے کہاں سے، جب تک پوری قوم اجتمائی توبہ نہ کرے ؟  آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے عذاب سے محفوظ رکھے (آمین)

Posted in Articles

کہا امکان کا ڈر ہے کہا امکان تو ہوگا؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ایک دور تھا جس میں مذہب کی ضد میں ہرقسم کی پابندیوں سے عوام کو آزاد کرانے کی ترقی پسندوں نے ٹھانی ہوئی تھی لہذا انہوں نے سب سے پہلے شاعروں کو ردیف اور قافیوں سے آزاد کرایا ؟ اسی دور میں کسی نے پیروڈی کے طور پر ایک آزاد نظم کہہ کر موسوم جناب سیف الدین کچلو کے نام کردی جوکہ عوامی قبولیت کا درجہ حاصل کرگئی شاید وجہ یہ رہی ہو کہ اسوقت تحریک ِ پاکستان اپنے عروج پر تھی اور اس وقت تحریک کی مخالفت میں لیڈروں میں وہ اکیلے رہ گئے تھے ؟ جو نہ جانے کیوں آج بہت یاد آرہی ہے کہ جس کا مقطع تھا  “کہا کچلو سے کہدینا کہا کچلو سے کہدونگا کہا شیطان کا ڈرہے کہا شیطان تو ہو گا؟ اور ردیف تھی طوفان وغیرہ جو انہیں کے نام سے مشہور ہوگئی، حالانکہ وہ سرے سے شاعر ہی نہ تھے ، اگر ہوتے تو کوئی اور بھی ایسی کئی غلطی کرتے، جوہمیں تو کہیں نہیں ملی جبکہ انہوں نے عمر بھی طویل پائی ابتدا انہوں نے تحریک ِ خلافت سے شروع کی پھر جب کانگریس نے پاکستان دینا تسلیم کر لیا تو تو وہ کمیونسٹ پارٹی میں چلے گئے اور 1863 میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ لوگ تفریحا ً کسی کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں،ا لبتہ کوئی مداری خود کو ، سچ مچ کا ” ہّوا ” منوالے تو بڑی مشکل ہوجاتی۔ اور ہر وقت تمام امکانات موجود رہتے ہیں ان میں ایک بات ضرور تھی کہ جیسے پاکستان میں بہت سے لوگ پاکستان کے مخالف  تھے وہ بھی پاکستان بننے کے بعد تائب ہو کر آگئے مگر وہ مخالفت میں اتنےپکے تھے کہ امرتسر سے انہو ں نے پاکستان بننے کے بعد بھی امرتسر سے انہوں آگ میں سے گزر کر دہلی جانا پسند کیا مگر پاکستان کی مخالف ترک نہیں کی اور شہر، شہرگھوم کراپنی تحریک چلاتے اور یہ اپیل کرتے رہے کہ کہ لوگ پاکستان کو تسلیم نہ کریں؟ یاد آنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک بہت ہی زیرک ٹی وی اینکر ایک لیڈر سے کچھ سچ اگلوانا چاہ رہے تھے۔ اور وہ انہیں غوطے دے رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اپنے لیڈر کے خلاف ایک گروپ نے بغاوت کردی ہے۔ جو پہلے بھی ایسے ہی ایک موقعہ پر دروغ گوئی کے مرتکب ہوچکے ہیں ۔  اور یہ ہی سب کچھ کرکے پارٹی اور اپنی سیٹ بچا چکے ہیں۔  اور وہاں جہاں ہر ایک کا ریکارڈ یہ ہے کہ جو صبح کہتا وہ دوپہر تک نہیں چلتا؟ یا تردید آجاتی ہے یا وہ معافی مانگ لیتا ہے۔ اس پر انہوں نے کوئی ایسا حتمی جواب نہیں دیا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان کے یا ان کے رہنما یاساتھیوں کا کہہ مکرنے کا امکان نہیں ہے؟
اور یہ انہیں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پاکستان میں ہر ایک کے ساتھ ہے؟ اس لیے کہ وہاں ہر ایک کو چونکہ کسی نہ کسی کے ذریعہ آنا ہوتا ہے؟ لہذا وہ اس کے بچاؤ میں درمیان میں آجاتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے دنوں امریکہ کا بیان آگیا کہ وہ پاکستان کی ایک جماعت کے دفتر گرانے کی پالیسی کو نا پسند کرتا ہے؟یہ درست ہے کہ جمہوریت میں کسی سیاسی جما عت کے دفاتر جموریت پسندوں کے لیے عبادت گاہوں کا درجہ رکھتے ہیں؟ مگر یہ تو تحقیق کرلی ہوتی کہ دوسروں کو الاٹ یا کسی دوسرے مقصد کے لیئے لیے ہوئے پلاٹوں پر دفاتر تعمیر ہوئے ہوں تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟مذہبِ جمہوریت میں تو ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا اس سلسلہ میں کیا فتویٰ ہے، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو مسجد بھی کسی اور کی زمین پر قبضہ کرکے بنا ئی جا ئے یا اس میں ناجائز  کمائی لگی ہو تو اس میں نماز جائز نہیں ہیں؟ اور بنا نے والا یہاں اپنے گناہ کا سزا  بھگتے گا اور روز قیامت  بھی۔ اس سلسلہ میں اسوہ حسنہ (ص) میں بھی بہت نمایاں عمل موجود ہے کہ تعمیر کرنے والوں کا درپردہ منصوبہ کوئی اور ہو ،انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص نہ ہوتو ایسی عمارت کو ڈھادیا جائے جس کی مثال مسجد ضرار ہے اور حکم قر آن میں موجود ہے؟ اتنی خوفناک بعیدوں کے باوجود مسلمان دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے نئی بستیاں آباد کر رہے ہیں ان میں مسجدیں بھی بنا رہے ہیں اور ان میں نمازی نماز بھی پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اسی مال میں سے لنگر بھی جاری ہیں اور کرنے والے مخیر بھی کہلا رہے ہیں ۔
کل صبح تو ہمیں جناب کچلو یاد آئے تھے جب یہ مضمون مکمل کرنے بیٹھے ؟ توآج ہمیں دوسرے انقلابی شاعر جناب حبیب جالب یا د آگئے جنہوں نے ہر دور میں جیلیں کاٹیں مگر موقعہ شناسی نہیں اختیار کی، انہوں نے ایوب خان کے دور میں ایک نظم کہی تھی کہ ع  “ ایک بھائی اندر ایک بھا ئی باہر بیچ میں ان کے گندھارا ،پو بارا بھئی پو با رہ، پورا بھئی پو بارا۔“اب پوچھیں گے کہ یہ کیوں یاد آئے تو وہ سن لیجئے کہ اس وقت سردار بہادر خانصاحب قائد حذب اختلاف تھے اور ان کے برادرِ حقیقی ایوب خانصاحب صدر تھے اور ان کے سمدھی جو کہ ایک ریٹائرڈ جنرل تھے ان کا ایک بہت بڑا صنعتی کمپلیکس تھا جس کا نام تھا گندھا را اور اس میں سب کے نام کسی نہ کسی طرح آتے تھے؟ اور آج کیوں یاد آیا؟ وہ اس لیے کہ ایک صاحب جن کی والدہ محترمہ ہمیشہ فوٹو سیشن میں ان صاحب کے ساتھ ہوتی ہیں جو ہر فوٹو سیشن میں گردان فر مارہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنے قائد سے پاکستان کی محبت میں قطع تعلق چکے ہیں ، جبکہ ان خاتون کے صاحبزادے جو لندن میں ہیں وہ فرما رہے ہیں ۔ کہ ما ئینس ون والا فارمولہ ہمیں منظور نہیں ۔ ایک اور صاحب کو ہم نے یہ کہتے بھی سنا !جب ان سے ایک اینکر نے یہ پوچھا کہ کل آپ کیا اپنے لیڈر کے خلاف قرارداد مذمت پیش کرنے جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلے ہم اس پر غور کریں گے کہ وہ وجو ہات کیا تھیں جن کی بنا پر ان کو اتنا غصہ آیا کہ “ ان کی زبان مبا رک سے وہ الفاظ نکل گئے جس کولوگ غداری کہہ رہے ہیں“ ان تمام باتوں سے ہر طرح کے امکانات نظر آرہے ہیں؟ اس سلسلہ میں رکھنے والوں ان کی لاج رکھ لی کی اپوزیشن اور حکومت دونوں نے مشترکہ قرارداد مذمت ان سے پہلے پیش کردی اب ان کے پاس ہاتھ اتھانے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور انہیں ہاتھ اٹھانے میں پریشانی اس لیے نہیں کہ وہ یہ کام کچھ  کم چالیس سال کرتے آرہے ہیں یعنی کسی کے کہنے پر ہاتھ اٹھانا اور دوسروں کا کام کر نا تھا؟
اب سنیئے اس سلسلہ میں سیاسی رواداروں کی باتیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک چانس اور انہیں دینا چا ہیے ؟ حالانکہ اس کے خلاف حدیث یہ ہے کہ “ مومن ایک سوراخ دو مرتبہ  نہیں ڈسا جا سکتا “  اسے نطر انداز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنا انجام نظر آرہا ہے؟ کیونکہ خبریں اب یہ بھی آنے لگیں ہیں کہ دفتر ڈھانے والے یکہ دکّا ہی سہی مگر اوروں کے دفتر بھی ڈھانے لگے ہیں جو ناجائز تھے۔ ایسا ہوا تو پھر قبضہ گروپ کا کیا بنے گا؟ جس میں کئی پارٹیوں کے حصے ہیں ؟ ہمیں تو اس کھیل کے پیچھے کچھ اور ہی نظر آرہا ہے ۔ اور وہ ہے لوگوں کے دلوں سے وہ خوف  دور ہونے روکنا؟جو ابھی تھوڑا بہت کم ہوا تھا کہ لوگ جان کے خوف سے ایک گروپ کی کراچی میں کسی بات سے انکار نہیں کر سکتے تھے وہ سب کے مفاد میں تھا کیونکہ ایک سے معاملہ کرنا ہمیشہ آسان ہوتالہذا سب کی کوشش یہ ہی ہے کہ کہیں وہ خوف دلوں سے نکل نہ جا ئے ؟ چاہیں اس کے نتیجہ میں ضرب عضب  نے بے مثال کامیابیاں حاصل کرکے جو لا ءانڈ آڈر پوزیشن بنا ئی ہے وہ ضائع ہو جائے ؟کیونکہ ہر ایک کو اس امکان سے اور اس کے نتیجہ  میں اپنے انجام سے ڈر ہے۔ پھر یہ بھی ہے  کہ وہ اپنے ہی نہیں پرایوں،  کے بھی کام آتے ہیں ؟ ایسے کار آمد لوگوں کا نیٹ ورک بر باد کر دینا تو کسی بھی سیاسی گروپ کے مفاد میں نہیں ہے؟ ادھر وہ آفسر پہلے ہی پریشان ہیں اور انکا ایک افسر اظہار بھی کر چکا ہے کہ یہاں ایمانداری کی سزا موت رہی ہے؟ جو ان کے ساتھی بہت سے پہلے بھگت چکے ہیں ریکارڈ یہ ہے کہ دو سو میں سے 199 اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، جنہوں نے ایمانداری سے پہلے کام کیا تھا؟ سیاستدانوں کا کیا ہے کہیں بھی اور کسی کے  ساتھ بھی پھر سے پینگیں بڑھالیں ۔ اور بھا ئی ، بھائی بن جا ئیں؟ ہر ایک اس امکان نے سے سہما یاہوا ہے؟ اور پوچھ رہا ہے کہ خانصاحب ہم اپنی تبدیلی کرالیں یا یہیں بیٹھے رہیں ؟ با لکل اسی قسم کا سندھ میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کچھ لوگوں کو ڈاکو ؤں نے پکڑ کر پہلے تو لے جاکر ایک ایسے پل کے نیچے بٹھایا جو برساتی نالے پر بنا ہوا تھا، پھر ان کی جیبیں خالی کرکے جب جانے لگے تو انہیں اپنی فکر ہوئی کہنے لگے کہ ابھی تو سردی کا موسم ہے اس کے بعد جب گرمی کا موسم آئے گا تو بارش ہوگی یہ نالا زور شور بہنے لگے گا اور ہمیں بھی پانی بہا لے جا ئے گا؟ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر ان کو“ چور“ کہیں تو چور برا مانیں گے، پھر پکاریں کس نام سے؟ توڈرتے، ڈرتے آواز دی کہ “ سائیں چور خانصاحب“ جب بارش کا موسم آجائے تو بھی ہم یہاں بیٹھے رہیں یا چلے جائیں ؟ انہیں چونکہ اپنے تعاقب میں ان کے آنے کا ڈر تھا کہ کہیں پیچھا نہ کریں ؟ انہوں نے ڈپٹ کر کہا نہیں وہیں بیٹھے رہو چپ کرکے؟

Posted in Articles

۔۔۔۔۔ پردہ اٹھنے کی منتظرہے نگاہ ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

اداکاری، سیاہ کری اورمکاری۔ ان تینوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جبکہ ادا کاری اگر اکیلی ہو تو دل بہلانے کے کام آتی ہے۔مگر اس کے ساتھ سیاست بھی مل جا ئے تو وہ سیا ہ کا ری میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں کے دونوں با تیں بہ یک وقت اپنانے سے شخصیت دہری ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں لہذا صفت ِبصار ت اور سماعت سے مزین ہونے کے باوجود دیکھنے ولا ااور سننے ولا فیصلہ کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ یہ سیاست کاری ہے یا اداکاری ہے۔ اس لیے کہ وہ کبھی سیاہ کاری، معاف کیجئے گا! سیاست کاری کو ادا کاری سمجھتا ہے تو کبھی اس کا الٹ سمجھتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پا تا کہ کسی کارکن کی موت پر خوف ِباری تعالیٰ سے رونے اوررلادینے والا مداری اسوقت سیاہ کاری کی طرف مائل ہے یا بغیر گلیسرین کی مدد لیے “ رو اور رلا رہا ہے “
ً اسی لیے دانشوروں نے دونوں پیشے ایک ساتھ اختیار کرنے والوں کو بار بار بھیس اور زبان بدلنے اور پارٹی بدلنے سے اجتناب برتنے کی ہدایت کی ہے اگر پھر بھی نہ مانیں تو معاشرے میں اپنا مقام کھوبیٹھتے ہیں؟ کیونکہ کسی شخصیت کے بھاری بھر کم ہونے کے لیے صرف گوشت اور پوست کا پہاڑ ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر لوگوں کے اعتماد کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔ جبکہ ہر وہ لفظ جس میں آخر میں ر ًکے ساتھ ً ی ً لگا ہوا ہو۔ تو وہ اس کی بات کا وزن چھین کراسے بے وزنی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس پر عامل شخص اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں میں اپنا وقار کھوبیٹھتاہے؟ اس سلسلہ میں بہت سے مشاہیر کے قصے مشہور ہیں کہ وہ اس کے تدارک میں کیا کیا جتن کرتے تھے تاکہ عوام کا اعتماد مجروح نہ ہو؟ حضرت علامہ اقبال (رح) کا ایک قصہ بہت مشہور ہے کہ ا یک صاحب ان سے ملنے آئے تو وہ جاوید منزل کے باہر درخت کے نیچے بنیان اور تہمد پہنے ہوئے آرام فرما تھے !اس نے جب علامہ اقبال سے اقبال کا پتہ پوچھا تووہ اسے انتظار کا فرماکر زنان خانے میں چلے گئے، پہلے اپنا حلیہ درست کیا پھر جاکر نشست گاہ میں تشریف فرماہوئے اور ملازم کے ذریعہ اندر ملا قاتی کو یاد فرما یا، گو کہ اب بھی وہ اسی شخصیت کے سامنے تھا مگر اس نے دیکھتے ہی پہچاننے میں دیر نہیں کی، کیونکہ یہ وہی سر محمد اقبال تھے جنہیں اس نے اخباروں ا ور جلسے جلوسوں میں دیکھا تھا ۔ اس واقعہ میں وہ سبق پوشیدہ ہے جو ہادی ِ اسلام (ص) نے مسلمانوں کوعطا فرمایا تھا کہ “ تمہیں اگر خدا نے نوازا ہوا ہے تو تمہارے عمل اور رہن سہن سے بھی ظاہر ہونا چاہیے “ ہمارے ایک اورمحسن جوکہ انتہائی نیک ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ایک معالج بلکہ اچھے انسان بھی تھے، اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا ءبھی دی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت مشہور تھے اور ان کانام بھی ڈاکٹر نامی تھا ، انکا طریقہ کا ر یہ تھا کہ وہ جب مریض کامعائنہ کر تے تھے تو اس سے یہ ضرور پوچھتے تھے کہ کام کیاکر تے ہو؟ وہ جیسی آمدنی ہوتی بتاتا ، وہ اس کی حیثیت کے مطابق ویسی ہی رقم نسخہ کے کسی کونے میں خفیہ کوڈ میں لکھد یتے اور کمپا ؤنڈراس سے اتنی ہی رقم وصول کرتا؟ جو کہتا میں بے روز گار ہوں اس سے وہ کچھ نہیں لیتے، یہاں بھی ان کی رحمدلی کے باوجود وہی فائیدہ اٹھاتے تھے جو سچے ہوتے تھے؟جبکہ دہری شخصیت والے اکثر مار کھا جا تے تھے کہ وہ  شیخی میں آکر لمبی ہانکتے اور انکا بل اسی حساب سے لمبا ہو جاتا ۔ ایک دفعہ وہ میرے شہر میں تشریف لائے تو ڈسپنسری پر بھی تشریف لا ئے ان کے ساتھ میں ایک بہت موٹا سیٹھ تھا جس کے لیے انہیں دوا چاہیئے تھی۔ میں نے پیش کردی اس نے بل پوچھا تو انہوں نے میرے بولنے سے پہلے بل 1957 کے دور میں ڈھائی سو روپیہ بتایا! جوکہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی؟ وہ اس نے مجھے چپ چاپ دیدی ؟ جب وہ چلا گیا تو رقم میں نے انہیں پیش کر دی ؟ کہنے لگے کہ تم اس سے کیا لیتے؟ میں نے جو رقم بتائی وہ بجائے روپیوں کے آنوں میں تھی؟ سن کر کہنے لگے کہ وہ سیٹھ اس کو کبھی استعمال نہیں کرتا، باہر نالی میں پھینک کر چلا جاتا؟ان دو واقعات میں عقلمندوں کے لیئے بہت سے سبق ہیں ؟
آج کل ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایک صاحب جو کہ کبھی کچھ نہیں تھے؟اور ان کی والدہ نے تنگ آکر انہیں اپنے بڑے بیٹے کے پاس اس دیش میں بھیجدیا، جہاں پوری دنیا جانے کی تمنا رکھتی ہے، اس ہدایت ساتھ کہ بیٹا یہ یہاں تو  کچھ کرتا نہیں ہے اور نہ آئندہ کرنے کی امید ہے؟ تو اسے اپنے پاس سے بلا لے! انہوں نے کوشش کی اور بلالیا؟ وہاں پہونچ کر نہ جانے کیوں انہوں نے اکثر پاکستانیوں کی طرح ٹیکسی ڈرائیوری اختیار کر لی جبکہ وہ کچھ اور کام بھی کر سکتے تھے۔ چونکہ اللہ بڑا کارساز ہے اور ہر معاملہ میں ہمیشہ اسی کی منصوبہ بندی کامیاب ہوتی ہے ! اگر وہ ڈرائیور نہ بنتے اور کوئی اور پیشہ اختیار کرتے تو یہ ہما کہاں ملتا جو اکثر ٹیکسی ڈرائیوروں کو عوامی سر وس سے وابسطہ ہو نے کی وجہ سے بآسانی مل جاتا ہے ۔ وہ “ ہما “ان کے سر پر بیٹھنے کے بجا ئے ان کی ٹیکسی میں کیا بیٹھا کہ انکا مقدر جاگ اٹھا۔ جبکہ روشنیوں کے شہر کو اس دن سے روگ لگ گیا۔
پھرجب سے لیکر22 اگست 2016 تک کاروبار اسی طرح چلتا رہا، چلا اورخوب چلا اور اس شہر پر ان کا طوطی بولتا رہا؟ وہاں پہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے غصہ کم ہونے کے آثار یوں تو اس دن سے نظر آنے لگے تھے جس دن سے بدعنوانیوں اور بد عنوانوں کے خلاف راحیل شریف صاحب سرگرم ہو ئے تھے۔ مگر 23اگست کو وہ اس شہر پر پوری طرح مائل ِ بہ کرم ہو گیا؟اور ان صاحب کا محلِ تصور جو کہ ہوا میں معلق تھاحالات ایسے پلٹے کہ وہ وہ کسی سیارہ کی طرح زمین سے آکر ٹکرا گیا ؟
آپ کہیں گے کہ یہ کیا پہلیاں بجھوارہے ہو؟ صاف کیوں نہیں بتاتے کہنا کیا چاہتے ہو ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پوری طرح وہاں جھاڑو نہیں پھری ہے۔ صفائی کا عمل ہنوز جاری ہے؟ پچھلے دنوں ایک انتہا ئی ذمہ دار سرکاری اہلکار نے ٹی وی پر ہماری طرح تمام اخبارات کے صفحات کالے کرنے والوں سے کہا تھا کہ “ابھی دیکھو اور انتظار کرو جو کہ خفیہ کوڈ میں تھا“ سمجھنے والے سمجھ گئے اور اتفاق سے ہم بھی انہیں میں سے ہیں ؟ وہ بیان یہ تھا کہ “ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ پکڑ دھکڑ تو ہورہی ہے جو انہوں نے اور ان کے حواریوں نے قبضے کرکے دفاتر یا شادی ہال وغیرہ بنا ئے تھے وہ بھی کچھ توپہلے ہی ڈھا ئے جا چکے ہیں کچھ ڈھا ئے جا رہے ہیں ، اس کے آگے بھی کچھ ہو گا یا ہمیشہ کی طرح ٹائیں ، ٹائیں فش ہوجا ئے گی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ پولیس کے“ ہر تفتیشی آفیسر کو پندرہ یوم کا وقت دیا جاتا ہے اسے پورا ہونے کے بعد جو نتیجہ سامنے آئے گا اس کے مطابق کار روائی ہوگی؟ اس میں بڑا پیغام تھا تمام جلد بازوں کے لیے کہ جلد ی مت کرو؟ پندرہ دن اور انتظار کرو ساری حقیقت سامنے آجا ئے گی؟ اب آپ ہی کہیئے کہ ہم بتلائیں کیا؟
آپ اس میں پھر الجھ گئے ہونگے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر معاملہ میں بیچ میں کیوں لے آتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہر مسلمان کا شیوہ یہ ہی ہونا چاہیئے؟ وہ خوابوں کی دنیا میں ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہً ہم کچھ بھی کریں لیکن ہمیں مسلمان ہونے کی وجہ سے استثنا حاصل ہے لہذا ہم پر عذاب آہی نہیں سکتا ؟
اسکے لیے ہم آپ کو ایک واقعہ اور سنا ئے دیتے ہیں جس میں کافی حد تک مماثلت ہے  “ ہم سے پہلے ایک قوم ہوا کرتی تھی ،رہتی بھی وہ اسی شہر میں تھی جوکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمایا تھا اور بہت چہتی بھی تھی؟اللہ تعالیٰ جب اس سے نا راض ہوا اور اس نے عذاب نازل کر نا چا ہا تو اس نے پہلے اپنی سنت کے مطابق حجت پوری کرنا چاہی تو اس شہر میں کوئی بھی اس قابل نہیں نکلا کہ جس کو کہ وہ نبی (ع) بنا کر بھیجتا ؟لہذا اس نے کنعان سے ایک نبی (ع)  کو حکم دیا کہ تم جا ؤاور وہاں کے لوگوں کو میرا پیغام دو کہ وہ سدھر جائیں؟ ورنہ میں ان پر ایسا ظالم مسلط کردونگا کہ وہ عذاب کرتے ہوئے مجھ سے بھی نہیں ڈرتا ، (تاکہ عذاب کے تقاضے پورے ہوسکیں) مختصر یہ کہ وہ تشریف لے گئے پیغام پہونچایا جب انہوں نے نہیں مانا تو اس شہرپر اس وقت کی دوسپر پاوروں  میں سے ایک کے بادشاہ نے حملہ کردیا اور اس نے وہاں پہونچ کر بچوں ، بوڑھوں اور ان کی عورتوں کو تو قتل کردیا اور چھ لاکھ مردوں میں جو کار آمد تھے ان کو بیگار کے لیے اپنے دارالحکومت لے گیا اور جاتے جاتے انکا شہر بھی زمیں کے برابر کرگیا؟ چونکہ ہمارے یہاں حضور (ص) کے بعد نبی نہیں آنا ہے۔ لہذا اس امت کے لیے اتمام ِ حجت کے لیے بجائے نبی (ع)  بھیجنے کہ اس امت کے چیدہ چیدہ علماءاور دوسرے لوگوں کو یہ فرض سونپا کہ وہ گمراہوں کو ڈرائیں؟ اگر وہ ڈر جا ئیں تو خیر ہے، ورنہ حضور (ص) کے صدقے بقیہ عزاب معاف کرکے، مسلمانوں کے لیے فرقہ پرستی کا عذاب مقدر فرمادیا ہے اس سے دوچار ہوگے۔ اس کے لیئے آپ تفسیرِ ابن کثیر میں سورہ الانعام کی آیت نمبر 65 ملاحظہ فرمالیں تسلی ہوجائے گی، مگر ایک احتیاط ضرور برتیں کہ پرانی تفسیر یں دیکھیں وہ نہ دیکھیں جن پر بریکٹ میں لکھا ہوکہ ہم نے مصنف کے مرحوم ہونے کی وجہ سے پوچھے بغیر یہ نوٹ لگادیا ہے کہ “ تفسیر کو مختصر کردیا ہے “( اس لیے کہ وہ بادشاہ ِ وقت ہیں ، جو چاہیں کریں  زندوں کی تحریریں روز سنسر کر کے کاٹتے یا ضبط کرتے رہتے ہیں ور اس کو کبھی نہ تحریف سمجھتے ہیں نہ بد دیانتی) چونکہ دین بادشاہوں کا چلتا ہے لہذا انکی دیکھا دیکھی پوری مسلم امہ وہ سارے کام اچھے سمجھ کر کر رہی جو انہیں اور ان کے شاگردوں کو کرتا دیکھتی ہے کیونکہ وہ آئے ہی بدعتیں دور کرنے اور دین کی اصلاح کے نام پر تھے۔ لہذا وہ جو کر رہے ہیں وہی ان کے جدید عقیدے کہ مطابق درست ہے؟

 

Posted in Uncategorized

ہے کوئی جو احتساب کی متروک سنت کو زندہ کرکے ثواب کمائے۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

حضور (ص) نے اپنے وصال کے وقت خود کو احتساب کے لیے پیش کرکے امت کو عملی سبق دیا تھا، جس پر خلفا ئے راشدین بھی عمل پیرا رہے اور اسکی مثال حضرت عمر (رض) کا مشہور واقعہ ایک چادر میں پیرہن والاہے۔ وہ خلیفہ وقت تھے انہوں نے اپنے احتساب پر کوئی بھی حیل و حجت نہیں کی ،اپنے صاحبزادے حضرت عبد اللہ (رض)  کو کہدیا کہ بیٹا تم جواب دو ! اور انہوں نے مجمع کے سامنے یہ فرما کر سوال کرنے والے کی تشفی کردی کہ میں نے اپنی چادر ابا کو دیدی تھی ؟ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ الزام لگا بھی اور ختم بھی ہوگیا؟ مگرپاکستان میں اسلامی جمہوریہ تو جلی حرفوں میں لکھا ہوا لیکن اسلامی طریقہ عدل اورخود احتسابی کو کوئی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ وہاں اس کے بجا ئے ابھی تک وی آئی پی کلچر نا فذ ہے جس میں حکمرانوں کو احتساب سے تحفظ حاصل ہے۔ لہذا انصاف میں اتنے رخنے ڈالنے کا رواج ہے کہ کوئی چاہے بھی توکچھ نہیں کر سکتا۔اور اکثر لوگوں کی زندگی میں معالات حل نہیں ہوتے۔ کیونکہ اشرافیہ مقدمہ ہارنا پسندی نہیں کرتی، کیونکہ اس سے اس کے تصوراتی تقدس پر حرف آتا ہے؟
آجکل پاکستان میں یہ بحث پھر چھڑی ہوئی ہے! تقدس کی بات ہواور گائے زیر بحث نہ آئے یہ ناممکن ہے حتیٰ کہ وہ بھی جو اپنے پورے دور اقتدار میں مقدس گائے ہونے کا پوری طرح فائیدہ اٹھاتے رہے اب تردید کر رہے ہیں کہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے، احتساب ہو تو سب کا ہونا چاہیئے ۔ مقدس گائے جس کا ذکر تاریخ میں قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ جہاں تک اس حقیر فقیر بندہ پر تقصیر کا خیال ہے، اس نظریہ کو دنیا میں روشناس کرانے کا سہرا آرین قوم کے عروج کے ساتھ جڑاہوا ہے۔ جسے وہ اپنے ساتھ ہندوستان لائے اور یہیں سے اس نے نظریہ ضرورت کے تحت ایک مذہبی عقیدے کی شکل اختیار کی، کیونکہ انہیں اس کی نسل ختم ہونے کا کاخطرہ تھا ۔ جب انگریز سونے کی چڑیا کو تلاش کرتے ہوئے ہوئے ہندوستان پہونچے تو یہاں وہ بھی گائے سے روشناس ہو ئے ،انہیں یہ لفظ اچھا لگا، تواپنے طریقہ کار کے مطابق جو یہ تھا کہ جو چیز انہیں اچھی لگتی تھی وہ اسے اپنے یہاں لے جاتے تھے یہ بھی لے گئے، جیسے کہ کوہ نور ہیرا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا حتی ٰ کہ فرعونوں کی ممیاں بھی مصر سے اٹھا لائے۔ اس طرح انہوں نے اسے مقدس گائے(  sacred cow ( کے نام سے اپنی لغت میں شامل کرلیا۔ پھر جب امریکہ تک ان کی رسائی ہوئی تو وہاں بھی وہ اپنے سا تھ لے گئے اور وہاں کی لغت میں ١نیسویں صدی عیسوی میں یہ لفظ شامل ہوا ۔ جبکہ اس کی پرستش کا ذکر بہت پرانا ہے۔ جو با ئیبل میں بھی ملتا ہے اور آخری الہامی کتاب قرآن میں بھی گئو سالہ سامری کی شکل میں موجود ہے۔ کہ جب بنی اسرائیل سمندر پار کر کے فرعون کے غرق آب ہونے کے بعد با عافیت سرزمین عرب میں پہونچے، تو بجائے اس کے کہ وہ اسی ان دیکھے مالک کا شکر ادا کرتے جس نے انہیں فرعون اور فرعونیوں سے نجات دلائی !انہوں نے وہاں کے مقامی لوگوں کو گائے کی بو جا کرتے ہو ئے دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کر بیٹھے کہ ہمیں بھی ایک ایسا ہی بت بنادیں جس کی ہم بھی مقامی لوگوں کی طرح پوجا کرسکیں۔حالانکہ وہ نبیوں کی اولاد تھے ان کے آباو اجداد نے کبھی غیر اللہ کی نہ پوجا کی اور نہ ہی اپنے معبود کو کوئی شکل دی۔ مگر برا ہو اس پیر پریشر ( peer pressure) کے دباؤکا کہ وہ بھی برے ماحول کا شکار ہوگئے۔ اس کے باجود کہ صدیوں سے اس نجات دہندہ کی تلاش تھی جو ایک نبی  (ع)آنے والے تھے ،مگر جب وہ آگئے ان کے خدا نے جن پر یہ یقین رکھتے تھے نو معجزے بھی دکھا دیے اسکے باوجود انہوں نے جو مطالبہ کیا وہ بقول حضرت موسیٰ  (ع)کہ “ انتہائی ا حمقانہ تھا“ ان کی اس پر ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھی وہ مطمعن نہ ہو ئے۔ اور جیسے ہی حضرت موسیٰ  (ص) ایک ماہ کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ انہوں نے سامری کی مدد سے ا س سونے سے گئوسالہ کی شکل کا ایک بت بنالیا جو قبطیوں کی ان کے پاس امانت تھااور وہ مجبوراً ساتھ لے آئے تھے ، چونکہ ان کا ضمیر اس وقت تک زندہ تھا وہ انہیں اس خیانت پر ملامت کر رہا تھا۔ یہ قصہ بہت سی جگہ قرآن میں آیا ہے۔ وہاں پڑھ لیجئے۔
ہندوستان میں پہلی دفعہ گائے کی تقدیس کا چرچا اس وقت سنا گیا جب کہ آرین، گائیں اپنے ساتھ ہندوستان لائے اور ایک مذہب بھی، بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ مقامی باشندوں کے ا ستیصال کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت انہوں نے برہم سماج اور برہما کا تصور پیش کیا، بہت سے مذہبی قانون بنائے وہیں ایک نظریہ یہ بھی عطا فر مادیا کہ گائے کا پیٹ مرنے والوں کی روحوں کا گودام( اسٹوریج) ہے لہذا ا سے ذبح نہ کیا جائے، اس طرح یہاں گائے کی پوجا ہو نے لگی وہ خود بھی مقدس سمجھی جانے لگی اور عقیدت یہاں تک بڑھی کہ اسے پن (وقف) کرکے چھوڑنے کا رواج عام ہوا اور یہ گائیوں اور اس کی نسل کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ جہاں چاہیں وہیں اپنا رزق خود تلاش کریں ،ان کے گوبر کو بھی لوگ ہاتھوں ہاتھ لینے لگے اور اس سے لیپ پوت کر کے اپنے گھروں کو پوتر (مقدس) بنانے لگے۔
ہم نے جب آنکھ کھولی تو یہ دیکھا کہ گائیں اور ان کے طفیل میں ان کے شوہر (بیل) اور بچے جہاں چاہتے اور جس دکاندار کی دکان پر چاہتے جاکر کھانا شروع کردیتے وہ ان کو چیخ کر بھگاتا رہتا، جبکہ ڈندا انہیں اٹھا کر دکھا سکتا تھا ، مارنہیں سکتا تھا! ورنہ پہلے ہی عوام کے ہاتھوں وہ خودمارا جاتا اگر بچ جاتا تو جیل کی ہوا کھانا پڑتی کہ برطانیہ کی حکومت میں بھی یہ قانونا ً جرم تھا۔ بس بیچارہ اپنی کھیتی اپنا کاروبار صرف بر باد ہوتے ہوئے دیکھ سکتا تھا، کر کچھ بھی نہیں سکتا تھا؟ اب ان کی حالت اور بھی ناگفتہ بہہ ہے کہ جب تک جنگلات کی بہتات تھی تو وہاں انہوں نے گئو شالے ان کے لیئے بنا رکھے تھے جہاں وہ وہ ناکارہ گائے اور بیلوں کو چھوڑ آتے تھے، بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سارے جنگل ہضم کر گئی۔ اب وہ ان کو پاکستان کی طرف اچھی خاصی قیمت لیکر ہانک دیتے ہیں اور وہ بغیر ویزہ کے پاکستان میں داخل ہوکر کہاں چلے جاتے ہیں اس پہ آپ تحقیق کیجئے؟ ورنہ اس سلسلہ میں ہمارے پچھلے کسی کالم میں پڑھ لیجئے، وہاں سے تمام جان کاری (معلومات) مل جائے گی۔ جب کہ ان کی فصلیں ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نیل گائے جیسے جنگلی جانور کو بھی جس کی شکل گھوڑے جیسی ہے اور پاؤں گائے جیسے ہیں صرف پیروں کی بنا پرمقدس قرار دیدیاتھا، نتیجہ یہ ہے کہ اب وہ ان کے کھیت چر جاتے ہیں اور وہ سوائے “ دیا ، دیا اور ہائے رام ہائے رام “ کرنے کہ اور کچھ نہیں کر سکتے ۔
یہ ہی صورت حال آجکل ہمارے یہاں ہے کہ کچھ لوگ مقدس گائے نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے داؤں پیچ سے ا ن شہروں تک پہونچ گئے جو کبھی مقدس اس لیے تھے کہ وہاں سب کا جان مال محفوظ تھا۔ وہیں اب معاملات الٹ گئے ہیں؟ نتیجہ یہ ہے کہ ڈنڈے باز جس پر بھی ہاتھ ڈال تے ہیں تو اسکی جڑیں مقدس گائے کے پیٹ میں ملتی ہیں ا ن میں جو مرگئے ہیں وہ بھی اور جو زندہ ہیں وہ بھی شامل ہیں کہ مردے پیٹ میں ہیں اور زندے ان کی دم پکڑے لائن میں لگے ہوئے ہیں ۔ لہذا یہ ڈنڈے بازوں کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے فرائض ِ منصبی ادا کرتے ہوئے کسی مقدس گائے کی انا کو ٹھیس پہونچائے بغیر احتسا ب کر سکیں۔جب کسی معاملہ کی جڑ تک پہونچنے کی کوشش کرتے ہیں تو کسی نہ کسی،گائے کو تکلیف پہونچتی ہے؟ اور وہ چیخنے لگتی ہے ، اکثر سینگ بھی تان کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ میں اکیلی تھوڑی ہوں، مجھ جیسی اور بھی بہت سی ہیں پہلے انکو کیوں نہیں پکڑتے ،ان کو ڈنڈے کیوں نہیں مارتے ؟ اسی کشمکش میں آج تک کسی کا احتساب ہی نہیں ہو سکا، کہ یہ نہیں طے ہوسکا کہ کس دور سے شروع کیا جائے؟ کوئی کہتا کے کہ 1947 سے احتساب شروع کرو ،کوئی کہتا ہے کہ اس دن سے شروع کرو جس دن سے ہم نے ایک پاکستان کے دو تکڑے کیئے تھے، پھر اقتدار کی خاطر قربانی پر قربانی دی۔ کوئی کہتا ہے کہ اس دن سے شروع کرو جس دن سے پاکستان مشرف با اسلام ہوا اور ایک آمر نے ہمیں ایک پرانے خاندان کی جگہ نیا حکمراں خاندان دے دیا ؟ یہ کورس کی شکل میں بھانت بھانت کی بولیاں سن کر اب ڈنڈے باز بھی بیچارے پریشان ہیں کہ نشانہ کس کو بنا ئیں۔ عدالتیں الگ پریشان ہیں با لکل اس وقت کی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام نے مقدمے کا فیصلہ تو سنادیا کہ گناہگاروں کو سنگسار کردیا جائے ۔ مگر جب سزادینے کا وقت آیا تو یہ فیصلہ بھی ساتھ دیدیا کے پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہوا۔ ایسے میں جبکہ وہاں موجود تیس ہزار علماءاور درویشوں میں سے کوئی بھی نہیں ملا جو آگے پڑھ کے کہتا کہ “ میں ہوں تو پتھر کون مارتا “ اب ہمارے یہاں بھی وہی صورت حال ہے کہ پہلا پتھر کون ما رے ، یا پہلا احتساب کہاں سے شروع کیا جائے؟ جس کی جڑ کسی مقدس گائے کے پیٹ یا دم سے نہ جڑی ہوئی ہو، رہیں مقدس گائیں اب ان کی تعداد اتنی ہوگئی ہے کہ گنتی مشکل ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ گائیں مقدس کیسے بنیں ؟ اس پر کوئی اور بھائی روشنی ڈالے؟ مگر ہم اس کی وضاحت کے لیے ایک واقعہ پیش کر دیتے ہیں کہتے ہیں کہ ایک شاہی جامع مسجد ،شاہی خرچے پر جب بن کر تیار ہو گئی تو اسکاافتتاح کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش شروع ہو ئی جس کی کبھی تہجد کی نماز نہ قضا ہو ئی ہو۔ مگر پورے شہر میں کوئی نہیں ملا ؟ اس سے آپ یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ ایسے آدمی دار الحکومت میں تھے ہی نہیں۔ تھے تو سہی مگر اول تو ان کی پولس کے پاس فہرست نہیں تھی کیونکہ وہ ان کے لیے کار آمد ہی نہیں تھے، جبکہ ا سلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی زندہ بستی ان سے کبھی خالی نہیں رہتی اور ہمارا یہ عقیدہ قرآن سے ثابت ہے کہ “ جہاں اچھے آدمی نہ رہیں وہاں عذاب نازل ہو تا رہا ہے“ کیونکہ جب تک ان کا وجود بستی میں رہے وہ اسکی بچت کا باعث بنے رہتے ہیں، اللہ سبحانہ تعالیٰ پہلے ا نہیں وہاں سے نکالنے کی سبیل فرماتا ہے پھر سزا دیتا ہے۔
اب آپ پوچھیں گے کہ وہ پھر سامنے کیوں نہیں آئے؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنی دکان نہیں سجاتے ؟لہذا وہ خود کو ظاہر ہی نہیں کرتے دوسرے بادشاہ کے حواریوں کو بادشاہ کا تقویٰ بھی ظاہر کرنا تھا؟ لہذا جب کوئی سامنے نہیں آیا تو وہ خودآگے بڑھااور بادشاہ نے افتتاح بھی کیا اور پہلی جماعت کی امامت بھی فر مائی۔ کہیئے بات آئی خیال شریف میں ! آئیے اب اس کے لغوی معنوں پر بات کرتے ہیں جن میں یہ آجکل مغرب اور ان کی دیکھا دیکھی پاکستانی اور دوسرے مسلمان حکمراں بھی استعمال کر رہے ہیں۔ جو اسلامی تعلیمات کے قطعی منافی ہے۔ کیونکہ اسلام کی اساس احتساب پر ہے۔ حضور  (ص)جن کے اسوہ حسنہ کو قرآن نے امت کے لیئے کافی قرار دیا ہے انہوں (ص) نے بھی اپنے دور میں اور وصال سے پہلے عوامی احتساب کے لیئے خود کو پیش کیا تھا۔ لہذا کوئی بھی احتساب سے بالاتر رہ کر مسلمان نہیں رہ سکتا؟ مگر ہم میں سے تقریباً سب نے یہ سنت مدت ہوئی ترک کردی ہے؟ ہے کوئی جو اس سنت کو زندہ کرے اور 100شہیدوں کا ثواب کما ئے کہ ساتھ میں یہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ ” اگر کوئی میری کسی متروک سنت کو زندہ کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا” ہے کوئی مسلمان جو سامنے آئے اور خود کواحتساب کے لیے پیش کرے؟

Posted in Articles

دعا کیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

آجکل ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ہم خلافت عباسیہ کے آخری دور میں ہیں ۔ اس سے نتیجہ آپ خود اخذ کرلیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ کیونکہ نئی نسل بشمول ماں پاپ اور اولاد کے اپنی تاریخ سے زیادہ، ہالی ووڈ اور بالی وڈ کی فلموں سے دلچسپی رکھتی ہے۔ جبکہ مخلوط خاندانی نظام ختم ہو چکا ہے جس میں نانیاں اور دادیاں رات کو بچوں کو گھیر کر بیٹھ جاتی تھیں اور ان کو اسلام اور تاریخِ اسلام سے روشناس کراتی تھیں۔ بچوں کے کانوں میں شروع سے ہی اللہ اور رسول  (ص)کانام پڑتا تھا۔ اور ان میں لگن پیدا ہوتی تھی کہ وہ بھی ویسے ہی بنیں جیسے کہ حضور (ص) کے راستے پر چل کر صحابہ کرام (رض) اور اصفیائے عظام (رح) ویسے متقی بنے ، جیسا کہ ہر مسلمان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے؟ اس لیے ہمیں اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اس وقت کی صورت ِ حال کیا تھی؟ “خدا خدا کرکے خلافت پھر سے بہال ہوئی تو خلیفہ کو ایک “ غدار“ مشیر کی شکل میں مل گیا جس کا نام ابن ِ الفمی یا ابن ِ علقمی تھا ؟ نام کو جانے دیجئے اس میں کیا رکھا ہے غدار ، غدار ہی ہوتا چاہیں اس کانام کچھ بھی ہو۔بظاہر وہ مشیر تھا مگر وہ خلیفہ سے بھی زیادہ طاقتور تھا۔ اس نے پہلا کام تو یہ کیا کہ اپنے ہی وزیر خارجہ کو جو کہ بہت ہی ایماندار تھا جب وہ ایک اہم سفارتی مشن پر جا رہا تھا تو اغوا کر کے اپنے ذاتی قید میں ڈالدیا ۔ پھراس نے ہلاکو کو دعوت دی کہ اب وہ بغداد پر حملہ کر دے۔ جبکہ وہ اس کے لیے پہلے ہی راستہ ہموار کر چکا تھا ،خلیفہ کو یہ یقین دلا کر کہ ہلاکو سے اب ہم نے معاہدہ کر لیا ہے وہ ہمارا دوست بن چکا ہے ،لہذا اتنی بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے فوج کو نصف کردیا جا ئے جو اس کی ایما کے مطابق ہوچکی تھی ؟ ملک میں یکجہتی کے بجا ئے فرقے وارانہ فسادات ہورہے تھے۔ فضا ہر طرح اس کے لیے ساز گار تھی۔ جب ا سے مشیر ِ خاص کی طرف سے اشارہ ملا تو وہ بغداد پر چڑھ دوڑا اور پلک جھپکتے ہی اس نے بغداد فتح کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ؟ خلیفہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہوا ؟ اس کے بعد جوبھی شخص جس نے اس کی بغدادفتح کرنے میں مدد دی تھی اس کے پاس انعام لینے آیا تو اس نے ان میں سے کسی کو بھی نہیں بخشا سب کو یہ کہہ کر دار پر چڑھا دیا کہ جب تم اپنو ں کے نہیں ہوئے تو میرے کیا ہوگے؟ اس میں بہت بڑا سبق ہے ان کے لیے جو قر آنی تعلیمات کے خلاف جا کر کے ،اوراپنوںکو چھوڑ کر کے غیروں کو اس امید پر “ ولی“ بنا تے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں گے؟ میں نے یہاں لفظ “ ولی “کا وہ ترجمہ نہیں کیا جو کہ اکثر لوگ اردو میں “ دوست “کرتے ہیں ؟ جبکہ معنوں کے اعتبار سے دوست اور ولی میں بڑا فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو کہ قادر الکلام ہے، جو لفظ جہاں استعمال کیا ہے؟ وہ اپنے معنوں کے اعتبار سے اتنا جامع ہے کہ قیامت تک کے لیے کا فی ہے؟ جبکہ ہمارا اردو زبان یاکسی اور زبان میں اختیارکردہ ترجمہ اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا اور کسی مخلوق کے لیے اس کمی کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے؟ میرے خیال میں غیر وں سے دوستی کے سلسلہ میں اسلام منع نہیں کرتا بلکہ اچھے اخلاق اور اچھے بر تا ؤ کی تاکید کر تا ہے؟ ہاں غیروں کو ولی نہیں بنا سکتے کیونکہ بعض فرائض اگر کوئی صاحب ِایمان نہ ہو توانجام نہیں دے سکتا؟ جیسے کہ اسلامی وقف (اسلامک ٹرسٹ) کا منتظم یا رکن ، کسی بچی یا یتیم بچے کا ولی وغیرہ ۔
آج ہمارے یہاں اس دور سے بڑی مماثلت یوں ہے کہ لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں سے دوستی کر کے فوجی اخراجات کم کر لیے جا ئیں؟۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جنہوں نے دوستی کی ان کا انجام کیا ہوا؟ کشمیر کی مثال بھی انہیں نظر نہیں آتی جو دوستی کے ذریعہ سے ڈسا گیا؟ ۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر ہم من حیثیت القوم اچھے ہوتے تو تمام ادارے بھی اچھے ہو تے اور کسی کو کسی سے شکایت ہی نہ ہوتی ؟ اس کے با وجود اپنی اس کمی کو نہ ہی ہم میں سے کو ئی محسوس کرتا ہے اور نہ ہی من حیثیت القوم اس کے تدارک کے لیے سوچتاہے؟نئی نسل اپنی تاریخ سے ناواقفیت کی بنا پر مان لے ،تو مان لے، مگر میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ادارے اس کے ذمے دار ہیں؟ کیونکہ میں نے جو دیکھا وہ یہ تھا کہ پاکستان جس دن بنا اس سے پہلے سے لوگ اپنا سب کچھ اس پر نثارکرنے کو تیار تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ اہلکاروں کے لیے رہنے کو جگہ نہیں تھی، دفاتر قائم کرنے کے لیے عمارتیں نہیں تھیں دفتر زیادہ تر فوجی بیرکس میں قائم کیئے گئے تھے؟ لا تعداد مکان اور دکانیں بمع سامان تارک ِ وطن تالے لگا کر چھوڑ گئے تھے۔ کہیں تالے نہیں ٹوٹے ، رشوت نہیں چلی؟   جبکہ پاکستان آپٹ کرنے والے فوجیوں کو ایک منصوبے کے تحت دوسری جنگ عظیم کے دو سال پہلے ختم ہو جانے کے باوجود واپس نہیں بلا یا گیا، انہیں ابھی تک باہر ہی رکھا گیا۔ اس کے با وجود جو تھوڑی سی نفری موجودتھی اس نے مسلمانوں کو جلتے ہو ئے شہرو ں اور خطرناک راستوں سے گزار کر بھارت سے نکالا اور با حفاظت پاکستان کی سرحدوں تک پہونچا یا مگر ِ کہیں سے کوئی شکایت نہیں ملی۔ فوجی اور غیر فوجی اہلکاروں کو پاکستان آکر ایک عرصہ تک تنخواہیں نہیں ملیں، انہوں نے اپنے زیورات فروخت کر کے کام چلا یا اور ہر حالت میں ادارے چلا تے رہے؟
جبکہ اس کے برعکس اس وقت بھی کچھ لوگ اپنے اپنے حلقہ انتخاب بچا نے کے لیے پریشان نظر آئے اور پولس اور فوج کے کام میں حائل ہوئے ۔ زبردستی پاکستان میں مشرقی پنجاب سے آنے والوں کو اپنے علاقوں میں آباد ہو نے سے روکا ، اور ٹرینوں پر بٹھاکر سندھ اور بھالپور کی طرف روانہ کروادیا ، اس سلسلہ ملتان میں مہاجر وں پرگولی بھی چلائی گئی۔ اس طرح اداروں کو اپنے مفاد کے لیے سیاست میں ملوث کیا گیا، سوچئے اس کاا ذمہ دار کون تھا ۔ پھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ کوئی لنگر خانے کاسر براہ یاکارکن ہو اور وہ خود بھوکا رہے اور دوسروں کے مفادات بچانے کے لیے لوگوں پر ظلم کرے اور اپنے لیے کچھ نہ کرے؟ بگاڑ یہیں سے شروع ہوا، حالات یہاں سے خراب ہوئے؟ اسے معلوم کرنے کے لیے کہ اس صورت ِ حال کا ذمہ دار کون تھا؟ ایک کمیشن بننا چاہیے تاکہ قوم کی آنکھیں کھل سکیں ؟ کہیں سیاست داں تو نہیں تھے کہ انہوں نے اپنے اقتدار کا تکیہ انہیں پر رکھا اور اس طرح انہوں ہی نے اداروں کو سیاست میں ملوث کیا؟ جواب آپ پر چھو ڑتا ہوں؟ میرا مشورہ ہے کہ تاریخ غور سے اور غیر جانبدر ہو کر کے پڑھیئے تاکہ آپ کسی نتیجہ پر پہونچ سکیں ؟
آج جو پوزیشن ہے اس میں پاکستان کی بقا کا انحصار فوج پر ہے ورنہ جو حالت آج سے دو سال پہلے سندھ، کراچی ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی تھی۔ وہی پھرہو جا ئے گی۔ اور اس تمام کیے کرا ئے پر پانی پھر جا ئے گا؟ جو قوم اور فوج نے قر بانیاں دے کر ان دو سال میں حاصل کیا ہے وہ سب ضائع ہوجا ئےگا؟ جبکہ دستور میں ترامیم کرکے اسے پہلے ہی نا کارہ بنا دیا گیا ہے ۔جس میں مرکز کو کمزور کردیاگیا ہے اور صوبوں کو پوری خود مختاری حاصل ہے؟ جبکہ یہ طرز حکومت ان کے لیے ہے جو اپنے ملک کے خیر خواہ ہوں، ان کے لیے نہیں جن کے لیے ا قتدار کما ئی کا ذریعہ ہو ؟ ایسے لوگو ںکے لیے جو جمہوریت کے چمپین کہلاتے ہیں وہ بھی آج کل اتنے نرم نہیں ہیں جتنے کہ ہم ہیں ۔ جب کے ہم میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ آج سے نہیں برطانیہ کے زمانے سے یہ ہی کاروبار چلا آرہا ہے، جنہیں سندھ میں پتھاریدار کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ رابطہ ہیں سماج دشمن عناصر اور اشرافیہ کے درمیان؟ ایسے میں فوج کیا کرستی ہے، پولیس کیا کر سکتی ہے کیونکہ یہاں تو ہر ایک دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنا چاہتا ہے۔ جب کہ آئی جی سندھ نے چند دن پہلے بڑی حسرت اور یاس سےکہا کہ “ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ آئندہ نہیں ہوگا جیسے پہلے ہوا کہ ایک دفعہ کرا چی پولس نے ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دی مگر ہوا یہ کہ بعد میں 200پولس آفیسروں میں سے 199شہید کردیے گئے جبکہ حکومت بدل گئی؟ کل کمانڈر انچیف کا شکوہ پڑھا کہ “ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا “ آخر یہ با اختیار لوگ جب مجبور ہیں تو قانون نافذ کیسے ہوگا کون کریگا۔ جس سے پوچھو وہ اپنی مجبوریاں گناتا ہے۔ ہر ایک اپنی جگہ مجبور ہے جو کچھ جہاں کہیں بھی ہو رہا وہ کسی نہ کسی کی زیرِ سرپرستی ہو رہا ہے۔ اب نوبت بہ ایں جا رسید کہ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوششیں ہورہی ہیں ؟ تاکہ عدلیہ اپنے فرائض آزادی سے نہ ادا کر سکے ؟ یہ کوئٹہ کا واقعہ وکیلوں پر حملہ سماج دشمن عناصر کی طرف سے ایک ٹریلر ہو سکتا یہ دکھانے کے لیے کہ ابھی تووکیلوں کی باری آئی ہے، جو عدلیہ کے ہاتھ پیر ہیں اور عدلیہ بنتی ہے انہیں میں سے ہے؟ پھر اور ں کی باری بھی آسکتی ہے؟دعا کیجئے کہ للہ سبحانہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے (آمین)

Posted in Articles

یوں وفا اٹھ گئی زمانے سے؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی

معاشرہ کیا بگڑا کہ وفا کے رشتے بھی بدل گئے ، آپ کہیں کا بھی ا خبار اٹھاکردیکھ لیں، کسی بھی ٹی وی چینل پر خبریں لگا لیں۔ آپ کو یہ ہی ملے گا کہ باپ نے بیٹی کو مارڈالا،بھائی نے بہن کو قتل کردیا ، بیٹے کو باپ نے قتل کردیا گوکہ یہ ابھی کم ملتا ہے ،مگر ملتا ہے کہ بیٹے نے باپ کو قتل کردیا۔ سسرال والوں نے بہو کو جلاکر یا تیزب چھڑک کر مارڈالا ،یا کوئی خاتون ڈیپریشن کا شکار تھیں یا جہالت کا شکارتھیں اور لوگ کہہ رہے تھے کہ تمہارے اوپرجن کاا اثر ہے؟ روحانی علاج کے لیے مولوی صاحب کے پاس یا کونسلنگ کے لیے گئیں؟ لیکن بجا ئے انہوں نے ذکر اللہ کی تلقین کرنے کے جس سے کہ قر آن کے مطابق “ قلب سکون پاتے ہیں“ انہیں اپنے ساتھ نکاح کی دعوت دیدی جبکہ وہ دادا کی عمر کے تھے۔ یا پھر ان کے چکر میں آکر اپنی وہ عزت گنواں بیٹھیں؟ وغیر ہ غیرہ۔ کبھی آپ نے سوچا کے یہ کیوں ہے؟ یہ یوں ہے کہ ہم دنیا میں اتنے مگن ہوگئے ہیں کہ ہم نے عقبیٰ کا خیال ہی ترک کر دیا ہے؟ یہ وہی صورتِ حال ہے جس کے بارے میں کسی نے باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ “اگر دین پر عمل نہ کیا جا ئے تو کیا ہوگا ؟ “تو ان کا جواب تھاکہ “ نہ تیری خیر ہے نہ میری خیر ہے “ ہوتا کیا ہے کہ جب کوئی خود غلط راستے پرچلتا ہے۔ تو قرآن کے مطابق اللہ سبحانہ تعالیٰ اس پر ظالم مسلط کردیتا ہے “ اور پھر لا منتا ہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جو اس جال میں ایک دفعہ پھنس گیا تو پھر وہ نکل نہیں پاتا ۔ ظلم ایک دلدل کے مانند ہے جو کہ اپنے اندر سے نکلنے نہیں دیتا؟ ایک چھوٹا سا جرم خود غلطی سے یا کسی ظالم کے کہنے سے کردیا تو بات قتل تک پہونچے گی پھر وہ بندہ زندگی بھر بلیک میل ہوتا رہیگا، اگر اس کا ضمیر کبھی جا گا بھی اور اس نے کچوکے لگائے توبھی وہ اس میں سے نکل نہیں سکے گا بلکہ اور دھنستا جائے گا ؟ اس لیے کہ ہر ظا لم کو ظلم کرنے کے لیے اپنے سے بڑے ظالم کا سہارا لینا پڑتا ہے، پھر اس سے بڑا ظالم اس سے بڑے ظالم کے زیر سایہ ہو تاہے؟ بس یوں سمجھ لیجئے کہ یہاں وہی مثال صادق آتی ہے کہ “ وہ اگر چھوڑنا بھی چاہے تو کمبل اسے نہیں چھوڑتا “ لہذا سب سے آسان طریقہ جینے کا یہ ہی کہ کبھی انسان لالچ میں آکر خدا کو نہ چھوڑے، اور کبھی لالچ کا شکار نہ ہو،کیونکہ لالچ ہی وہ بلا ہے جو انسان کو شیطان بنا دیتا ہے ،کبھی خود کو اس کے شکنجے میں نہ آنے دے، اور گناہ کرتے ہوئے یہ کبھی نہ بھولے کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے؟ اگر خدا کے اس تصور کو ایک لمحہ کے لیے چھوڑ ا تو اس پر شیاطین بھوکے بھیڑیوں کی طرح چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اور وہ اسے اچک کر اپنے سبز باغوں تک لے جاتے ہیں۔ پھر کمبل کو وہ چھوڑنا بھی چاہے تو نہیں چھوڑ سکتا؟ اور بعد میں کہیں پھنس گیا اور پکڑا گیا تو سارے ظالم کہدیں گے کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ؟اب وہ لاکھوں جرائم کا اقرار کرتے ہوئے  سب سےبڑے ظالم کا نام لے گا؟ لیکن اس ظالم کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہوگا کہ وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ،یا تو وہ جیل میں پڑا سڑتا رہے گا یا پھر پولیس کو بھی اپنی کچھ کا رکردگی دکھانا ہوتی ہے، اسی کے اعترافات اسے پھانسی کے پھندے تک پہونچا دیں گے ۔
اب دور اتنا مشکل آگیا ہے کہ بچے اس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں ۔ اس کی وجہ ماں باپ کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیت ہے والدین صبح اٹھ کر چلے جاتے ہیں، دن بھر گھر سے غائب رہتے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ گھر پر کیا ہورہا ہے۔ جوکہ بزعم خود اچھے مکان ،اچھے طرز زندگی کے لیے اور بچوں کے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کی اصل وجہ وہ رشک و حسد ہے جس کو اسلام نے سختی سے منع کیا ہے ، جس میں ہم بری طرح مبتلا ہے۔ کیونکہ یہ کوئی نہیں جانتا سوائے خدا کے کہ وہ اسے کیوں نواز رہا ہے ۔ جبکہ اس کی پہچان بڑی آسان ہے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور دیکھے کہ اس کے تعلقات اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیسے ہیں اور سی پر اسے قیاس کرے ،جس کی ریس میں وہ غلط روی اختیار کر رہا ہے؟ ۔اگر اِس کے باجود کہ وہ متقی ہے اور تکلیف میں مبتلا ہے تو یہ تصوف کی زبان میں “ ابتلا “ ہے اور للہ سبحانہ تعالیٰ اسے مزید نوازنا چاہتا ہے؟ اس کے بر عکس اگراللہ سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور پھر بھی اللہ اسے نواز رہا ہے،وہ یا کوئی اورنوازا جا رہا ہے تو یہ قر آن کے مطابق “ اسے مزید عذاب کا مستحق بنا ناکے لیے ہے ۔ لہذا اس کی نقالی، اس کی راہ پر چلنے والے کو وہیں پہنچا دے گی جہاں یہ پہونچا ہوا ہے، ہم سے چونکہ قنا عت اٹھ چکی ہے، خوف خدا اٹھ چکا ہے۔ مذہب اول تو اب رواجوں کانام ہے جو باقی بچا ہے وہ بھی لوگوں کے دلوں سے شدت پسندوں کی کارستانیاں سنا کر سنا کر دل سے نکا لا جا رہا ہے کیونکہ وہ بھی کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟   وجہ یہ ہے کہ اسلام ہی ہے جو لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کرتا ہے ۔ آخرت کا خیال پیدا کرتا ہے لوگوں پر خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہے تنگ دستی میں مہلت دینے یا قرض معاف کرنے کی تلقین کرتا ہے؟ جو نظام ِ سرمایہ داری کے قطعی خلاف بلکہ اس کی موت ہے! اس پروپیگنڈہ کا توڑ ماں باپ اس لیے نہیں کرپاتے کہ وہ خود نہ مذہب پرعامل ہیں اور نہیں زیادہ تر مذہب سے واقف ہیں لہذا تمام برائیاں خود کرتے ہیں، پھر بچوں کو تبلیغ کرتے ہیں کہ بیٹا تم ایسا مت کرنا ؟ جس پر کوئی خود عامل نہ ہو اس کی تبلیغ عموما“ بے اثر ہوتی ہے۔ نظام ِ سرمایہ داری کی بنیاد انسانی مجبوریوں پر ہے ،انسانی خون اس کی غذا ہے؟ اس نظام میں مجبوریا ں سب سے اہم کردارا دا کرتی ہیں؟ پھر یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ سفید پوش ہوں تو بچے بگڑ جاتے ہیں کیونکہ ان کے مطالبات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ بری طرح سود میں پھنس جاتے ہیں اور پھر نکل نہیں پاتے ،اور انکے تمام خواب خاک میں مل جاتے ہیں اوراگر غریب ہیں تو جب ماں باپ روٹی کھلانے کے قابل نہیں رہتے تو بچوں کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک آتے ہیں، یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کو آوارہ کتے کھا جائیں گے؟ بھٹے والوں کے ہاتھوں گروی رکھ آتے ہیں تاکہ ان کو بھی پیٹ بھر روٹی ملتی رہے اور ماں باپ کی اپنی بھی کفالت ہوتی رہے؟ یہ آج کا معاشرہ جس میں ہم جی رہے ہیں ۔اس کی وجہ سے خود غرضی اتنی بڑھ گئی ہے کہ باہمی اعتماد اٹھ چکا ہے؟ چونکہ ہر قسم کی پردہ پوشی کے لیے ہر ایک کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے ؟ جس کے بارے میں قر آن کی سورہ جاثیہ کی آیت (7) میں اللہ سبحانہ تعالیٰ “ ویل(تف) فرماتا ہے ہر جھوٹے اور گناہگار کے لیے “ اس لیے کوئی کسی جھوٹے کااعتبار نہیں کرتا ؟ ہر ایک ، ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تمام رشتے اس کی وجہ سے پامال ہو چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری حالت ِ زار پر رحم فرما ئے؟ تاکہ ہم صراط ِمستقیم پر واپس آسکیں۔ اپنے اس مضمون کو اپنے ہی اس شعر پر ختم کرتا ہوں جو حسب ِ حال ہے کہ
ع اب دل بہلتا نہیں فسانے سے یوں وفا اٹھ گئی زمانے سے؟

 

Posted in Articles

کاش ہم مانتے کہ نبی (ص) کامقام کیا ہے۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی

ہمارے یہاں دو قسم کے لوگ ہیں؟ ایک تو وہ ہیں جنہیں بدعت کی فکر پچھلی صدی سے کھائے جارہی ہے، نتیجہ کے طور پر ان کی شدت پسندی پوری ملت کے لیے انتشار کا باعث بنی ہوئی؟ دو سرے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ عمل کی ضرورت ہی نہیں ہے بس نبی (ص) سے محبت رکھو؟ باقی رہی بخشش وہ خود حضور (ص) کرالیں گے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن میں فرما رہا ہے کہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کااسوہ حسنہ کافی ہے؟ اور نبی (ص) فرمارہے ہیں کہ “ میرا ہی راستہ صحیح ہے اور وہی صراط مستقیم ہے اس پر سیدھے چلتے رہو محفوظ اور مامون رہو گے، اس کے دونوں طرف تمہیں دروازے نظر آئیں گے جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان پردوں کو اٹھاکر بھی مت جھانکنا، ورنہ گمراہ ہو جا ؤگے“ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نقش ِقدم تو ڈھوندتے ہیں مگر صرف ان کی زیارت کر نے اور چومنے کے لیے ،لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر عمل کر نے کے لیے نہیں؟ جبکہ عمل کے لیے وہی دروازے منتخب کرتے ہیں جوراستے کے دونوں طرف ہیں اور ان پر حضور (ص) کے ارشادات کے مطابق “ پردے پڑے ہوئے ہیں۔ آج ہم صرف دو حدیثوں پر بات کریں گے جو بہت ہی مشہور ہیں اور جن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم قعر مذلت میں پڑے ، سسک رہے ہیں ؟ پہلی تو یہ ہے کہ “ ۔۔۔۔۔۔ جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا “ دوسری حدیث یہ ہے کہ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو“
آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ ہم ان پر کتنے عامل ہیں ؟ میں نے چند دن پہلے دیکھا اور پڑھا کہ ایک صاحب جو مسلمان ہیں ؟ جب عدالت میں تھے اور ضمانت رد ہو جانے کی وجہ سے جیل بھیجے جارہے تھے، تو اپنی صاحبزادی کو دیکھ کر روہانسو ہو گئے، یہ قدرتی امر ہے کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے؟ مگر ہمارے لیے اچنبے کی بات یہ تھی کہ ہم نے اسوقت انہیں روہانسو ہوتے ہوئے نہیں دیکھا کہ جب وہ لوگوں کو نہتے شہریوں پر گولیا ں بر سانے کا حکم دے رہے تھے؟ انہیں اس وقت قوم کی کسی بیٹی پر ترس نہیں آیا؟ جبکہ اس حکم کے نتیجے میں کتنی ہی بیٹیاں یتیم ہو ئیں، صرف اس لیے کہ انہیں اوپر سے حکم تھاکہ“ تمہیں یہ جلوس ہر صورت ناکام بنا نا ہے “ چاہیں جتنے بھی ا نسان مارے جائیں؟ جو کہ انصاف کے قتل پر احتجاج کرنے کے لیے دوسرے دن نکلنے والا تھا؟ جبکہ سب سے زیادہ عدل کا حکم اسلام دیتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برائی کے کاموں میں نہیں؟ ایسا کیوں ہوایہ صرف اس وجہ سے کہ وہ شخص خود کو مہاجر کہتا تھا؟ جبکہ ان کا لیڈر اور یہ خود مہاجروں کے نما ئندے کہلاتے تھے۔ حالانکہ اسلام کے معیار پر تینوں ہی پورے نہیں اتر تے تھے۔ ایک تو حضور (ص) کے بجائے کمال اتاترک کاپیرو تھا، جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے بھی جانے دیجئے اس کے عمل کو دیکھئے وہ گھڑوں کے حساب سے شراب پینے اور اپنے دور میں اپنے وزراءکوکھلی چھوٹ دینے والا شخص تھا؟ جو جلسے گاہوں میں شراب کی بوتیں ایک دوسرے سے ٹکرا کرنعرے لگا رہے تھے کہ یہ ہے ماڈرن اسلام؟ اللہ اپنے دین کا محافظ ہے اس نے اپنا دین اس کے ہاتھ سے محفوظ رکھا اور اسے ناکام اور نامراد دیش نکالا عطا فرمایا ۔ یہ سب کیوں ہوا اور اس نے کیسے کیا؟ اس کی وجہ سورہ زخرف کی آیت نمبر 36دیکھئے جواب مل جا ئے گا، جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ جو کوئی گمرا ہ ہونا چاہے اس پر وہ شیطان مسلط کردیتا ہے اور وہ جب تک اس کے ساتھ دوست بن کر رہتا ہے جب تک کے اسے جہنم میں ابدی طور پر نہ ڈالدیا جائے؟
پھر سورہ جاثیہ کی آیات 19 سے 21 تک ملا حظہ فرمائیں ۔ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ ظالموں کے دوست ظالم ہوتے ہیں، مومنوں کا دوست اللہ ہے وہ صرف اسی پر یقین کرتے ہیں “ جبکہ ہم ہمیشہ ظالموں کے ساتھی رہتے ہیں، ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں؟ کیا ہم ان آیات کے دائرے میں نہیں آتے؟ جواب قارئین پر چھوڑتا ہوں؟ یہ وہ ہیں جن کے سامنے ترجیحات وہ نہیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (ص) چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم ان (ص) کے ہیں ؟ جبکہ رسول کریم (ص) خود لا تعلقی فرمارہے ہیں یہ فرماکرکے کہ “ جھوٹا ہم میں سے نہیں ، خائن ہم میں سے نہیں ، کم تولنے والا ہم میں سے نہیں، ۔۔۔ الخ۔ جبکہ اللہ سحانہ تعالیٰ ایک آیت میں فرمارہا ہے کہ “ حضور (ص) کچھ امتیوں کو جہنم میں جاتے ہوئے دیکھ کر فرما ئیں گے یہ میرے امتی ہیں؟ انہیں کہاں لے جارہے ہو؟ تو جواب ملے گا کہ یہ آپ (ص) کے امتی نہیں ہیں، آپ کے بعد انہوں نے جو کیا آپ اس سے نا واقف ہیں“ ایک اور آیت میں حضور (ص) کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خودسے شکایت کرنا بھی بیان فرما یا ہے۔ کہ “ میری امت نے قر آن چھوڑ دیا ہے“ قر آن کیا ہے؟ یوں سمجھ لیجئے کہ اسے کئی جگہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نور سے تشبیہ دی ہے۔  جبکہ مومن کی تعریف یہ فرمائی گئی ہے کہ وہ ہر جگہ اس کے نور سے راہنمائی حاصل کرتا ہوا جنت مں پہونچے گا۔حتٰی کہ پل صراط پر سے بھی وہی گزر سکیں گے جن کے آگے آگے نور چل رہا ہوگا؟ دوسرے کچھ دور ساتھ چل کر جب روشنی ان کی بجھ جا ئیگی توا پنے ہم سفروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں اپنی تھوڑی سے روشنی دیدو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں؟ وہ کہیں گے کہ ہماری روشنی تمہارے کام نہیں آسکتی؟ تم واپس جا ؤ اور روشنی یہاں سے نہیں ملتی، اپنے لیے وہیں سے لیکر آؤ؟ میرا اس تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو یہاں کی زندگی میں اتنے مگن ہیں اور سب کچھ بھولے ہوئے ہیں۔ اس قول کو بھی یادرکھنا چاہیے جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ماننے والوں میں بھی بہت مشہور ہےکہ “ ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے اور عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ہے “ اور یہ ہی اس بحث کاما حاصل ہے؟
شاید ان کو اللہ تعالیٰ معاف کردے جو غیر ملکوں میں ہیں۔ اس لیے کہ وہ مجبور تھے اور ہیں کیونکہ انہیں وہاں کے احکامات کی پابندی کا بھی حکم ہے؟ مگر جو لوگ مسلمان ملکوں میں رہ رہے ہیں ،یابغا وت کرکے خود مختار ٹکڑیاں قائم کرلی ہیں اور وہاں یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟ وہ اب بھی سدھر جا ئیں تو بہتر ہے تاکہ وہاں کسی سے روشنی انہیں نہ مامگنا پڑے ، اور نہ ہی اعمالِ صالح مانگنا پڑیں؟ کیونکہ یہ چیزیں انہیں وہاں کوئی اس دن کوئی نہیں دے گا، کسی سے نہیں ملیں گی؟ اس لیے کہ سب اس دن تنگی کا شکار ہونگے ؟ اورجو کچھ زادِ راہ لےکر گئے ہونگے وہ بھی اپنی نظروں میں خود کم نظر آرہی ہوگی اور وہ بھی اس کی رحمت کے امیدوار ہونگے ؟ جبکہ جو خالی ہاتھ نا فرمانیوں کے ساتھ گئے ہوں گے ان کی طرح پر امید بھی نہیں ہونگے، کیونکہ کوئی ممتحن سادے پرچے پر کبھی پاس نہیں کرتا؟ رعایتی نمبراسی حد تک ملتے ہیں جہاں کچھ نمبروں کی کمی ہو؟ اوراللہ سبحانہ تعالیٰ بار، بار فرماچکا ہے کہ “ تم کیا سمجھتے ہو کہ تم ان کے برابر ہوسکتے ہو ، جو میرے متقی بندے ہیں ؟ یہ ناممکن ہے“ سورہ جاثیہ کی آیت نمبر 21  میں یہ مضمون یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔    لوگوں کی اس غفلت پر وہ لو بہت حیران ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عمریں قرآن سمجھنے اور سمجھانے میں صرف کردیں؟ا یک صاحب جو تقریبا ً پچیس سال سے میرے ساتھی ہیں، ہمیشہ آخر میں ان کا مجھ سے یہ ہی سوال ہو تا ہے؟ کہ یہ جو لوگوں کو قتل کر رہیں ، لوگوں کے مال غصب کر رہے کیا انہیں ان احکامات کا علم نہیں ہے؟ ان کے لیے میں سورہ جاثیہ کی آیات کا مفہوم سنا دیتا ہوں؟ کہ ہاں یہ جانتے ہیں انہوں نے پڑھا بھی ہے۔
لیکن یہ اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں ؟اگر رکھتے ہوتے ، تو کبھی ایسا نہیں کرتے ؟ کیونکہ انہیں اللہ کا اپنے اوپر نگراں ، حاضر، ناظر، سمیع اور بصیر ہونے پر یقین ہوتا؟ تو ان کے ہاتھ ان کے پاؤں تمام برائیوں سے رک جاتے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں قر آن فہمی اور سوہ حسنہ (ص) پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئے۔( آمین)

Posted in Articles

زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

پاکستانی قوم ہو یانہ ہو، مگر حکمراں بڑے مستقل مزاج ہیں ؟ سب کا ایک ہی نعرہ ہے کہ اگر ہم نہ ہوئے تو آسمان گرپڑے گا ملک تباہ ہوجا ئے گا؟ ہم سے بہتر اور ہم سے زیادہ لائق ِ حکمرانی کوئی اور ہے ہی نہیں؟ بعضے تو اس عقیدے پر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ میاں کے یہاں جاتے جاتے واپس آجاتے ہیں؟ مگر انہیں خدا یاد نہیں آتا؟ حالانکہ ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ موت کو سامنے دیکھ کربندے کو خدا یاد آجاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ ان کے لیے ہوگا جو خدا اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ دوسرا ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ جب لوگ قر آنی زبان میں “ عمر ِ ارذل کی طرف تیزی سے مراجعت فرمانے لگتے ہیں ، تو اسے اردو میں“ قبر میں پیر لٹکانا کہتے ہیں “آپ نے اکثر ایسے لوگوں کے لیے عوام الناس کوکہتے ہوئے سنا ہوگاکہ “ بڈھا قبر میں پیر لٹکا ئے بیٹھا ہے پھر بھی نہیں سدھر رہا ہے“ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمراں اس محاورے پر عامل ہیں ، جو نہ اردو کا ہے اور نہ عربی کا، بلکہ فارسی کا ہے جو آج کا ہمارا“ عنوان“ ہے ،جسے مغل ان کے لیے چھوڑ گئے اور زبانی سبق دے گئے ہیں کہ ڈنڈا مضبوط سا لیں اور مضبوطی سے اسے تھامے رہیں توا کبر اور اورنگزیب کی طرح پچاس سال تک حکومت کر سکتے ہیں؟ جنہوں نے ا بھی تک حکمرانی کے پچاس سال پورے نہیں کیے ہیں۔ ان کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے پچاس سال پورے کریں! جب تک عوام اور حزب ِ اختلاف دونوں ہی صبر کے ساتھ انتظار کریں ؟ اس لیے کہ ان کے بڑوں نے یہ طرح ہی کیوں ڈالی اور انہیں پچاس سال تک کیوں برداشت کیا؟ اب آپ یہ عذر ِ لنگ پیش کریں گے کہ اس میں ان کا کیا دخل تھا؟ وہ باہر سے آئے اورقابض ہو گئے پھر ان کی حکومت نسل در نسل چلتی رہی؟ بھائی بہت سے لوگ موجودہ حکومت کو بھی تشبیہ انہیں سے دے رہے ہیں؟ سوائے ایک کے کہ دارالحکومت کو “ تخت ِلاہور کہہ رہے ہیں جو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں کہلاتا تھا“ لہذا یہ تشبیہ فٹ نہیں بیٹھی جبکہ باقی سب تشبیہات فٹ بیٹھ ر ہی ہیں۔ اگر تھوڑا ساحسن ِظن رکھیں تو یہ بھی فٹ بیٹھتا ہے ا گر رنجیت سنگھ کے انصاف سے اس زمانے کے انصاف کا موازنہ کریں؟ کیوں کہ یہاں بھی وہ محاورہ صادق آجاتا ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں جبکہ یہاں دونوں ہی بخوبی رہ رہی ہیں؟ ورنہ یہاں بھی کونسی جمہوریت ہے ؟ جس میں آپ کو جمہوری اقدار کی تلاش ہے؟ موجودہ حکمراں تسلسل ہیں جنرلوں کی دور کا ،لہذا وہ مغل طرز حکومت پرعمل کر رہے ہیں تو ان کی مرضی اور مہاراجہ کا طرز حکومت اپنا ئیں تو ان کی مرضی، نہ آپ انہیں لا ئے ہیں نہ آپ انہیں ہٹا سکتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے ؟ جس سے یہ ثابت ہوا کے نہ لانے میں آپ کے ووٹ کو دخل ہے نہ ہٹانے میں آپ کے ووٹ کا دخل ہونا چاہیے ؟ اسی طرح آپ کو جواب طلبی کا بھی کوئی حق نہیں ہے؟ کیونکہ کہ کیا؟ آپ کے اجداد نے شاہ جہاں سے پوچھا تھا کہ وہ اپنی بیگم  صاحبہ کی قبر پر تاج محل کیوں بنوا رہا ہے؟ اور اس پرسات سال تک تمام منصوبے روک کر سات کروڑ روپیہ کیوں خرچ کیے ؟ لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں؟ اسے کیا معلوم تھا کہ قدر ت تاج محل کو اس کے لیے آگے چل کر نشانِ عبرت بنا دے گی وہ دور سے بیٹھا دیکھتا رہے گا اور جانے کو ترسے گا؟ پھر بعد میں آنے والے حکمراں اس پر ٹکٹ لگاکر پیسہ کما ئیں گے؟
تو اب آپ موجودہ حکمرانو ں سے کیسے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ تم یہ اورنج ٹرین میٹرو بسیں کیوں چلا رہے ہو ؟ جبکہ لوگوں کے پاس کھانے کو نہیں ہے ان کے پاس کاروبار بھی نہیں ہو گا، تو وہ جائیں گے کہاں! پھر ٹکٹ کے پیسے لائیں گے کہاں سے؟ کیا حکومت انہیں مفت پاس بنا دے گی کہ خالی پیٹ تفریح کرو؟ اور کھانہ کسی مخیر “ ملک صاحب “کے دستر خوان پر کھا لیا کرو۔ جبکہ حکمراں تو یہاں تک اب بات کے پکے ہیں کہ ہمارے جیسے ناسمجھ لوگوں نے تاریخی حوالے دے کر حکمرانو ں کو سمجھا یا کہ ١نیس جولائی مناسب نہیں ہے یوم سیاہ منانے کے لیے کہ یہ اپنے ہی خلاف یوم سیاہ منانا ہے ؟اس میں آ پ کو بہت بڑا مغالطہ ہوگیا ہے۔ مگر ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ پتھر پر لکیر ہوتا ہے انہوں نے اس سے پیچھے ہٹنا پسند نہیں کیا بلکہ تاریخ تبدیل کر نا یا نئی تاریخ مقرر کرنا بھی گوارا اس لیے نہیں کیا کہ یہ روایات ہماری تاریخ میں پہلے سے موجود ہے جو حکمراں آیا وہ تاریخ بدلتا رہا ؟ جبکہ انکا اصل گھر آجکل جہاں ہے اور جہاں پر فلیٹوں کا جھگڑا چل رہا ہے وہاں کا آدھا آئین مثالوں پر چلتا ہے۔ اور یہ ہی نہیں انہوں نے ایک اور مثال بھی قائم کردی کہ بار بار ٹی وی چینل دن بھر اعلان کرتے رہے کہ دن کی مناسبت سے وزیر اعظم تقریر فرمانے والے ہیں؟ لیکن دن چھوٹا پڑ گیا اور تقریر نہیں شروع ہوئی تو مائیں بچوں کو بھوکا ہی سلا کر سوگئیں ؟ ممکن ہے کہ شاہ کے وفاداروں کو خواب میں پوری رات تقریر سنائی دیتی رہی ہو؟ ہم بھی انتظار کرنے والوں میں شامل تھے کہ نہ جانے کیوں ہمیں خیال آگیا کہ اس کو لغت میں دیکھیں تو سہی کہ یہ محاورہ جو ہم بچپن سے کسی اڑیل ٹٹو یا بندے کے بارے میں سنتے اور بزرگوں کی نقل میں بولتے آئے ہیں لغت میں کہیں ہے بھی یا نہیں ؟ ہم نے فارسی کی لغات کی ورق گردانی بھی کرلی، اردو کی لغات بھی دیکھ لیں مگر یہ محاورہ کہیں نہیں ملا ؟ ایسے موقعہ پر علامہ گوگل جو کہ ہر موقع پر کام آجاتے ہیں سوچا کہ چلو ان کو تکلیف دیں ۔ پوچھا تو ہمیں ایسا لگا کہ وہ مضمون ہمارے ہی انتظار میں تھا اور جو نوائے وقت لاہورمیں کبھی لگا تھا اور جناب تنویر صاحب  کی تحقیق پر مشتمل ہے؟ جس میں اس محاورے کی پورے تفصیل کے ساتھ وجہ تسمیہ بیان ہوئی تھی؟ اس کے علاوہ جہاں کہیں دیکھا ؟تو کچھ نہیں ملا اور اس سلسلہ میں مولانا علامہ گوگل بھی بغلیں جھانکتے نظر آئے؟ ہم چاہتے تو آجکل ادبی چوری کو جائز سمجھا جاتا ہے؟ ہم بھی اس اطلاع کو چپ چاپ ہضم کرلیتے لیکن ہم جھوٹ کو جائز نہیں سمجھتے ، کیونکہ مسلمان ہیں؟ ہم نے پہلے تو اخبار نوائے وقت کے اس مفکر کا شکریہ ادا کیا اور اسکے بعد اپنے قارئین کو اس سے روشناس کرارہے ہیں۔ اس مضمون سے ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ محاورہ غیر ملکی نہیں ہے بلکہ اس کا منبع اور مخرج سب کچھ داتا کے شہر لاہور میں ہے تو ہمیں اس کی وجہ سے واقف ہو ئے کہ یہ ہماری لغات میں کیوں نہیں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم باہر والوں کی ہر چیز اپنی لغت میں شامل کر لیتے ہیں مگر اپنی چیزیں اور اپنے کارنامے اس لیے شامل نہیں کرتے کے وہ باہر والوں نے شامل نہیں کیئے ؟
آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ یہ محاورہ جن معنوں ہم 86سال کی عمر تک لغت میں نہ ہونے کے باوجود استعمال کرتے رہے اس نے لاہور میں ہی جنم لیا اس کے پیچھے ایک ولی صفت حکیم صاحب کی خوداری اور درباروں سے بیزاری کی داستان ہے جو پہلے زمانے میں ولیوں میں عام تھی کہ وہ درباروں سے بھاگتے تھے جبکہ اب انکی ہی اولاد درباروں کے پیچھے بھاگتی ہے؟ وہ حکیم صاحب جو بازارحکیمان میں کسی تنگ گلی میں رنجیت سنگھ کے دور میں رہا کرتے تھے۔ پہلے زمانے میں حکیم نہ جا نے کیوں آج کی طرح بے رحم نہیں بلکہ ولی ہواکر تے تھے ،اور عام طور پرعالم حکیم بھی ہوتے تھے، دن میں وہ دوا دیتے اور رات بھر جاگ کر شفاء کے لیے دعا کرتے تھے؟ یہ ہی وجہ تھی کہ اللہ نے ا ن کے ہاتھ میں شفا بھی دی ہوئی تھی؟ آجکل والا معاملہ نہیں تھا کہ مریض مر رہااور پرائیویٹ اسپتال والے کہتے ہیں کہ ہم ہاتھ جب تک نہیں لگا ئیں گے کہ جب تک اتنے لاکھ روپیہ جمع نہ کرادو ؟ انہیں شاید علاج شروع کرنے میں اسلامی اخوت مانع ہوتی ہوگی۔ البتہ جہاں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے لوگوں کو دنیا بھر کی برائی نظر آتی ہے ؟ ان کا طریقہ ہم نےالٹا دیکھا کہ وہ فوراً علاج شروع کردیتے ہیں یہ بعد میں طے ہوتا رہتا ہے کہ اس کے پاس پیسے ہیں یا نہیں اور طریقہ ادا ئیگی کیا ہو گا ۔ اگر وہ ادا نہیں کرسکتا ہے تو بھی اسے گھر جانے دیتے ہیں گر وی نہیں رکھتے؟
اس محاورے کے عالم وجود میں آنے کا قصہ یہ ہے کہ اس نام کے ایک حکیم صاحب تھے جنکی اولاد آج بھی معزز شہری ہے ان کے جد امجد کا اسم گرامی “ حکیم گل محمد  “تھا ،مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پشت پر پھوڑا نکلا آیا علاج کرایا مگر فائدہ نہیں ہوا( میرا خیال ہے کہ یہ کاربنکل قسم کا پھوڑا ہوگا جو شو گر کے مریضوں کو اکثر نکلتا ہے) کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ حکیم گل محمد صاحب سے علاج کرائیں جو کہ بازارِ حکیمان میں رہتے ہیں؟ مہاراجہ نے انہیں طلب فرمالیا انہوں نے جواب دیا کہ میں علاج تو کردونگا مگر مہاراجہ صاحب آپ کوخود یہاں آنا ہو گا؟ حکیم صاحب نے ان کے لیے شاہی فر مان جاری کردیا اور ایک عذر پیش کر دیا کہ گلیا ں تنگ ہیں میں وہاں نہیں آسکتا ؟ انہوں نے اس فرمان ِ شاہی کے پیچھے لکھدیا کہ “زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد “ زمین اپنی جگہ سے ہل سکتی مگر گل محمد نہیں“ یہ جملہ لکھنا گوکہ آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا مگر ان کو اپنے رب پر بھروسہ تھا؟ اس کو آنا پڑا اور ان کی شرط تسلیم کر نا پڑی؟ علاج ہوااور وہ صحت یاب ہو گیا۔ اس نے عام بادشاہوں کی طرح پوچھا ہوگا کہ مانگو کیا مانگتے ہو ؟ مگر انہوں نے فقیری کی لاج رکھ لی اور مانگا تو یہ مانگا کہ ہم وطنوں کے لیے علم مانگا اور پھر قاعدہ “ نور“ تیار ہوا جس میں تمام روزمرہ کام آنے والے علوم شامل تھے ؟ دیکھتے ، دیکھتے، وہاں تعلیم کا تناسب بہت بڑھ گیا؟ مگر ہم نے علم سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہ محاورہ ان کے ساتھ غلط معنوں میں استعمال کرنا شروع کردیا جبکہ وہ بہت بڑے اعزاز کے مستحق تھے۔ اور ہمیں اس محاورے کو اچھے معنی میں خود بھی استعمال کرنا چاہیے تھا؟ اب سب کو کوشش کرنا چاہیے کہ یہ اس تصیح کے بعد لغت میں شامل ہو تاکہ اس کا درست استعمال ہوسکے؟

Posted in Articles