پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرانے زمانہ میں گھوڑوں اور خصوصی طورپرعربی النسل گھوڑوں کو دنیا بھر کے گھوڑوں پر برتری حاصل تھی ۔ اسی لیے اس تجارت کوتاریخ میں ایک دوا می شہرت ہردور میں حاصل رہی ۔ پھر مشینی دور شروع ہوا اور گھوڑوں نے اپنی افادیت کھودی۔ تو پھر انیسویں صدی عیسوی میں جنہوں نے فرقہ پرستی کو اسلام میں دوبارہ رائج کیا، انہیں میں سے ایک نے نیویارک کے ایک اخبارکے ذریعہ اسے دوبارہ جلا بخشی ۔ جب اخباری دور شروع ہوا اور ذریعہ آمدنی اشتہارات بنے تو لمبے چوڑے دعوؤں کے ساتھ اشیاءفروخت کر نے کا رواج شروع ہوا اور اس کے ذریعہ چکر باز قسم کے لوگ سرگرم ہوگئے تو اسے ضابطہ اخلاق میں لانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی تبھی اس قانون کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے اپنے مضمون میں اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ لفظ “یعنی ہارس ٹریڈنگ “ استعمال کیا۔ جوکہ گھوڑوں کی افادیت ختم ہو نے کے بعد رفتہ رفتہ معدوم ہو تا جا رہا تھا۔ اس کا پس ِ منظر یہ ہے کہ جب گھوڑوں کی تجارت عروج پر تھی تو اس کے بیوپاری اس قدرزمین اور آسمان کے قلابے گھوڑوں کی تعریف میں ملایا کرتے تھے کہ اس تجارت کو بدنام کر کے رکھدیا تھااور ان کی اعانت اس کار ِ خیر میں اس دور کے شاعر بھی کیا کرتے تھے۔ جب گھوڑی دوڑتی تھی تو کبھی ناگن سے کبھی بجلی کوند نے سے مثال دی جاتی تھی، جبکہ گھوڑے بھی پیچھے نہیں رہتے تھے؟ ان کی بھی چال کے کئی نام تھے جب وہ میانہ روی اختیار کیے ہوئے ہوتے ، تو چال “دُلکی “ کہلاتی اور جب وہ دوسرے گیر میں آ جاتے تو “تیز گام “ اور جب سرپٹ دوڑ ر ہے ہوتے تو “ سرگام “ کہلاتی تھی جو شاعری کی انتہا تھی کہ یہ صفت راگ کی ایک قسم “ سرگم “ سے لی گئی تھی۔ گھوڑوں کے لیے باقاعدہ استاد مقرر ہوتے تھے جو ان کی تربیت کیا کرتے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں ان کی جلد میں چمک لانے کے لیے انہیں سنکھیا نامی زہر کا عادی بنا یا جاتا تھا۔
جب اسلام آیا تو اسے ایک پیر سے سلام کر نا بھی سکھایا گیا؟ دوسرے جھوٹ بول کرکے ہر قسم کی تجارت حرام کر دی گئی اور عرب بیوپاریوں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور نقص بتا کر گھوڑے فروخت کرنے لگے؟ ان میں یہ تبدیلی دیکھ کر دوسری قوموں میں تجسس پیدا ہوا تحقیق کرنے سے انہیں پتہ چلا کہ یہ اسلام کا فیض ہے؟ تو لوگ جوق درجوق اسلام لانے لگے؟ مگر بعد میں جب حکمراں عیش میں پڑگئے تو ہربرائی واپس آگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی ترویج و اشاعت بھی رک گئی ، کیونکہ اب وہ صاحب ِ کردار مبلغ نہیں رہے تھے نہ درسگاہوں میں، نہ مزاروں میں نہ بازاروں میں۔ پہلی والی تمام برائیاں ان میں دوبارہ آگئیں؟
مگر پاکستان میں اس لفظ نے رواج پایا ایوب خان کے دور میں جب میجر جنرل اسکندر مرزا صدر بنے اور انہوں نے راتوں رات ریبلکن پارٹی بنا ئی جوکہ صفت ِہارس ٹریڈنگ کی رہین منت تھی۔ کہ ایک رات پہلے تک جو پکے مسلم لیگی تھے، وہ صبح کو ریپبلکن پائے گئے۔ اور یہ کاروبار اتنا مقبول ہوا کہ پھر چلتا ہی رہا۔ یہاں میں ایک غلط فہمی دور کرتا چلوں کہ آجکل ہر جماعت یہ کہتی ہے کہ اصل قائد اعظم کی مسلم لیگ یہ ہی ہے۔ یہ اتنا ہی سچ ہے جیسے کہ تاریخ میں اور بہت سے سچ ہیں۔ کیونکہ قائد اعظم جس مسلم لیگ کے صدر تھے وہ آ ل انڈیا مسلم لیگ تھی جس کو پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ فرماکر توڑدیا تھا کہ اس کامشن پاکستان حاصل کرنا تھا ۔اب اس کی ضرورت نہیں رہی؟ پھر جو مسلم لیگیں بنیں وہ قائد اعظم کی حیات میں نہیں بعد میں بنیں۔ بہت سے مسلم لیگی ہندوستان میں رہ گئے جو یہاں آگئے تھے اور جو مقامی تھے انہوں نے ایک گروپ بنالیا جس کی قیادت ممتاز محمد خان دولتانہ کر رہے تھے۔ جبکہ ایوب خان ایک مدت تک پاکستان کے وزیراعظموں کی بیساکھی بنے رہے۔ اسکندر مرزا نے انہیں مارشلاءلگا کر اس کا سربراہ بنادیا تو انہوں نے اس کے چند ہی دن بعدیہ کہہ کر کندھا جھٹک دیا کہ اب میرا کندھا دکھنے لگا ہے اور ان کو ہوائی جہاز میں بٹھاکر لندن روانہ کردیا جہاں بیچارے چائے خانہ چلاتے رہے؟ اس واقعہ میں سبق ہے ان حکمرانوں کے لیے جو کسی دوسرے کے سہارے پر چل رہے ہوں؟ اسکندر مرزا کے جانے کے بعد ریپبلکن اپنی موت آپ مرگئی۔ ایوب خان نے سابق مسلم لیگیوں کاکنونشن بلا کر دوبارہ باقاعدہ پاکستان مسلم لیگ بنائی جس کے پہلے صدر چودھری خلیق الزماں مرحوم اور جنرل سکریٹری منظر عالم مرحوم بنے۔ چونکہ یہ کنونشن کے ذریعہ معرضِ وجود میں آئی تھی لہذا کنونشن مسلم لیگ کہلائی، جو بقیہ مسلم لیگیوں کا دھڑا تھا اور اس میں شامل نہیں ہوا تھا ،وہ کونسل مسلم لیگ کہلایا ۔ کچھ سالوں کے بعدایوب خان کا کندھا پھر دکھنے لگا سوچا کہ یہ تکلف بھی کیوں رہے؟ میں خود ہی اسکا بھی صدر کیوں نہ بن جاؤں لہذا وہ خودصدر اور بھٹو صاحب سکریٹری جنرل بن گئے۔ اور اس کے بعد سے مسلم لیگ انڈے بچے دیتی رہی ؟ ایوب خان نے ہی پاکستان کے عوام کو پارلیمانی جمہوریت کے لیے نا اہل قراردیا ۔اس کے بجائے بنیادی جمہوریت روشناس کرائی جس میں پہلے اپنے حلقہ میں بنیادی جموریت کے اراکین کو عام ووٹوں سے خود کو منتخب کرانا ہوتا تھا۔ اور انہیں اراکین کو پھر یونین کونسل ، میونسپل اداروں اور ضلعی کونسلوں، صوبائی اسمبلیوں اور قوم اسمبلیوں کوقائم کرنا ہوتا تھا اور انہیں جمہوروں کے ذریعہ صدر بھی منتخب کر نا ہوتا تھا جنکی تعداد اسی ہزار تھی۔
پہلی دفعہ ایوب خان صدر آسانی سے منتخب ہوگئے؟ دوسری مرتبہ ان کے مقابلہ میں لوگ محترمہ فاطمہ جناح کو لے آئے؟ تو کھل کر ہارس ٹریڈنگ سامنے آئی سستا زمانہ تھا ،ایک جمہورے کابھاؤ تین ہزار تک گیا پھر بھی اسے بار، بار کی نیازی چراغی سے، اچھی خاصی رقم مل جاتی تھی؟ ان کی اکثریت چونکہ رمضانیوں پر مشتمل تھی لہذاتھوڑی قناعت بھی تھی۔ طریقہ کار یہ تھا کہ ا نکو نقد رقم دیکر اور قر آن پر حلف لیکر کہیں قید کردیا جاتا تھا، پھر وہ سیدھے وہیں سے پولنگ اسٹیشن لا ئے جاتے اور ان کے ووٹ ڈلوا ئے جاتے۔؟پھر بھی محترمہ فاطمہ جناح کراچی اور مشرقی پاکستان میں جیت گئیں ۔ تو جھرلو جوکہ قائد ملت کے دور میں خان عبد القیوم خان ایجاد کرچکے تھے اور اسے بڑی کامیابی سے جب سے حکمراں استعمال کر رہے تھے ، کام میں لایا گیا، ہنگامے شروع ہوگئے۔ ایوب خان رخصت ہوئے ملک ٹوٹ گیا۔ پھر بھٹو صاحب نے 1973کاآئین بنایا جو بیسی پوری کرکے ,اب اکیسویں ترمیم کی طرف کے رواں دواں ہے۔ ہے ،جوبہت اچھا ہونے کے باوجود صرف عمل نہ ہونے کی وجہ سے گھر اور باہر دونوں جگہ تماشہ بنا ہوا ہے ۔ انتخاب اسی کو بروئے کار اب تک لاتے رہے اور الیکشن کراتے رہے ، مگر ووٹر روزبروز چالاک ہو تے گئے ۔ جب ٹریڈنگ پر قابو نہیں پایا جاسکااور ان کا بھاؤ آسمان کو چھونے لگا، جو کروڑوں تک پہونچ گیا تو پریشانی لاحق ہوئی پریشانی کا مقصد اصلاح لانا نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں وہ اس فکر میں ہیں کہ وہ“ پارٹی ٹکٹ “کے نام پر جتنا زیادہ سےزیادہ مال وصول ہوسکتا ہے وصول کرلیں ؟جو امیدواروں کو کھل رہا ہے۔ کیونکہ ٹکٹ ملنے کے باوجود انکی کامیابی یقینی نہیں ہے۔ اسلیے کہ انہیں ووٹروں کو بھی رقم دینا پڑتی اور اسکے بعد بھی یہ یقین نہیں ہے کہ وہ ووٹ انہیں کو دیں گے۔؟اس کا توڑ پارٹی رہنماؤں کو یہ نظر آیا کہ اٹھارویں ترمیم نے پارٹی لیڈروں کو جو اختیار دیا ہے کہ وہ جس کو چاہیں پارٹی سے نکالدیں اسکو بروئے کار لائیں؟ اس لیے وہ اب اکیسویں ترمیم کرکے یہ جاننے کا ذریعہ نکالنا چاہتے ہیں کہ ووٹ کس نے ان کے حکم پر نہیں دیا ؟ پھر اسکی خبر لیں ؟ جبکہ امیدواروں کو شکایت ہے کہ اب پلاٹ وغیرہ تو رہے نہیں ان پر قبضہ گروپ کے ذریعہ لیڈر قابض ہیں۔ وہ اپنے انتخابات پر خرچ کرنےکے لیے رقوم کہاں سے لائیں پھرکچھ منافع بھی ہو نا چاہیے۔ جبکہ لیڈر ایسی سزا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، کہ جن اراکین نے اپنے ووٹ بیچے تھے ۔ ان کے اراکین اسمبلی اور وزراءکام نہیں کرتے تھے اور انہیں ہری جھنڈی دکھا دیتے تھے؟ لوگ بڑی امیدوں کے ساتھ آتے یاد دلاتے کہ سائیں! ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا، شاید آپ نے ہمیں پہچانا نہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ نہیں! ہم نے اچھی طرح پہچان لیاتم نے تین ہزار لیے تھے ؟ آنے والابھری محفل میں ننگا ہو جا تا کیونکہ اس وقت تک لوگوں میں شرمانے کا رواج تھا۔
اب یہ ترمیم بھی پہلی ترامیم کی طرح پاس ہو جائے گی کیونکہ “ بڑے اسٹاک ہولڈرز “ کامفاد اسی میں ہے؟ رہی شرمانے کی بات وہ اب قصہ پارینہ ہوگئی ہے ۔اب تو ٹی وی پر بھی لوگ نہیں شرماتے ہیں اور کہتے ہیں اگر میں نے یہ کیا، تو نے وہ بے ایمانی کی تو مجھ سے بڑا بے ایمان ہے۔؟دیکھئے ہم نے کتنی ترقی کرلی اتنے برسوں میں؟ وہ جھوٹا ہے جو کہتا ہے پاکستان نے ترقی نہیں کی؟ لہذا لوگ شرمائیں گے تو نہیں البتہ پارٹی سے نکالے جانے سے ڈر جائیں تو اور بات ہے۔ ورنہ اس سقم کو دور کرنے کے لیے کوئی بائیسویں ترمیم لانا پڑے گی۔

Posted in Articles | Tagged ,

پلے میں تمہارے دینے کے لیئے کیا ہے۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ہم بڑے مذبذب ہیں کہ اپنی یہ دردمندانہ عرضداشت کس کی خدمتِ عالیہ میں پیش کریں؟ کیونکہ جن کے پاس بقول ان کے منڈیٹ ہے ان کے پاس “ منڈپ “نہیں ہے۔ اور جن کے پاس منڈپ ہے وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس منڈیٹ نہیں ہے کہ اسی میں ان کی بہتری ہے۔ آپ مطلب سمجھ گئے ہوں  گےکہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ اردو آج تک سرکاری زبان بن ہی نہیں سکی عام کاروبار انگریزی میں ہی چلتا ہے جبکہ “ منڈپ “انڈین فلمیں دیکھنے کی وجہ سے بچہ بچہ جانتا ہے۔ اگر کوئی صاحب ایسے بد ذوق ہیں کہ جن کی سماعت ٹی وی سے روشناس ہونے کے بعد بھی اس لفظ سے بچی رہی تو ہندی میں “ منڈپ “ اسے کہتے جس کے نیچے ایک دن کی با دشاہت کے لیے کسی کودولہا بنایا جاتاہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ زیادہ تر یہ دن سب کو دکھا تا ہے کہ دیکھیں اب یہ کیا کرتاہے؟
یہ تذبذب ہمیں اس لیے لاحق ہوا کہ اِن سے کچھ کہیں گے تو یہ بغیر اُن سے پوچھے کچھ نہیں کریں گے اور اُن سے کچھ کہیں گے تو وہ اپنا صاحب ِ اختیار ہونا مانیں گے نہیں ۔ لہذا ہماری یہ عرضداشت گیند کی طرح کرکٹ کے میدان میں بلّو ں سے ٹکراتی رہے گی۔ ایسے میں اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کریں کیا؟کیونکہ ہمیں مسلم امہ کی بہی خواہی کا خبط بھی سوار ہے۔ اس لیے کہ ہمیں حکم ہی یہ ہے۔کہ اچھی باتوں کی ترغیب دلا ئیں اور بری باتوں سے منع کریں؟ اور یہ بھی کہ ہر ظالم کے سامنے کلمہ حق کہیں ،کوئی سنے یا نہ سنے مگر ہم اپنے فرض سے سبک دوش ہو جائیں۔اس کی وجہ سے بہت سے دوست ہم سے بچتے ہیں کہ وہ بھی کہیں ہم سے قربت کی بنا پرمعتوب نہ ہو جائیں ، اور ہم ان سے بچتے ہیں کہ کہیں ہماری وجہ سے بچارے مشکل میں نہ آجائیں ؟ مومن کی اللہ اور اس کے رسول (ص) نے پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ وہ دوسرے مومن کے ساتھ اللہ کے لیے محبت کرتاہے اور یہ بھی کہ جو اپنے لیے چاہے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی چاہے؟ مثلا ً ہم اپنے لیے جنت چاہتے ہیں تو اپنے بھائی کے لیے بھی چاہیں۔ اگر ہمیں یقین ہے کہ ہم راہِ راست پر ہیں تو بھائی کو بھی راہ راست کی طرف راغب کریں؟ تاکہ وہ بھی جنتی بن سکے۔ لہذا ہم اس یادداشت کو مکتوب الیہ کا نام لکھے بغیر انگریزی کایہ طریقہ اپنالیتے ہیں ۔ جووہ جب استعمال کرتے ہیں، جب مکتوب الیہ معلوم نہ ہو کہ کون ہے اور یہ کہاں کہاں جا ئےگا ، کس کس کی نظروں سے گزرےگا ۔ تاکہ “ اس کی جہاں ضرورت ہو، وہاں ضرورت مند استعمال کرلے “ جیسے کہ کبھی ہر مرض کی دوا امرت دھارا ہوا کرتی تھی،حالانکہ آج کے دور میں اب وضاحت کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ لوگ اردو سمجھنے والے کم ہوتے جارہے اور انگریزی لوگ زیادہ سمجھتے ہیں وہ اصطلاح ہے ۔ ” To whom It may concern ”
ہمیں یہ خبط اس لیے سوار ہوا کہ ہم نے ٹی پر پاکستانی حکمرانوں کی یہ “ اپیل کہ غیرملکوں میں آباد پاکستانی واپس آجائیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں بار بارسنی، جبکہ وہ خود اسکا الٹ کرتے ہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ“ مومنوں! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو ،اور یہ کہ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے “ جبکہ علمائے کرام یہ وعظ روزانہ سناتے رہتے ہیں کہ یہ مت کرو وہ مت کرو، مگر شادی ضرور چار کرلو؟ پھر لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ “ ہم سے تو ایک سنبھلتی نہیں یہ چار کیسے سنبھال لیتے ہیں۔ سود میں ملوث مت ہو؟ تمام ایسے اداروں سے دور رہوجہاں سود ی کاروبار ہوتا ہو ورنہ اللہ اور اسکے رسول (ص) سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ؟ اس کے برعکس کچھ یہ رعایت دیدیتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنک میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ مگر اس سیکشن میں ملازمت مت کرو جہاں سودی دستاویز تیار ہوتی ہوں کیونکہ حدیث نبوی کے مطابق “ سود لینے والا، دینے والا، اسے لکھنے اوراس پر گواہی کرنے والے جہنمی ہیں “ جب کہ ملک میں کیا دنیا میں صحیح معنوں میں بلاسودی بنکاری کہیں موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی اکثریت مسلمان ہے اگر کوئی بھی یہ کام نہیں کرے گااور اپنی جگہ جہنم میں نہیں بنا ئے گاتو پھر بینک چلے گا کیسے؟ اور آمدنی کہاں سے ہوگی ، باقی عملہ کی تنخواہ کہاں سے نکلے گی؟ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر اسلامی ملکو ں میں جانا حرام ہے وہاں رہنا حرام ہے؟ جو باہر ہیں وہ واپس آجائیں؟ کیا اس پروپیگنڈے سے ملک کی مالی حالت مزید نہیں تباہ ہو جائے گی ؟ پھر وہاں آنے کے بعد کریں کیا؟ ملازمت وہ بغیر رشوت ملے گی نہیں اور کھائے کھلائے بغیر چلے گی نہیں۔ کارو بار کریں،صنعتیں لگائیں، یا زمین خریدلیں، بلنڈنگ بنا کر کرایہ پر اٹھادیں؟ کاروبار کریں بھتہ ، تاوان برائے اغوا ءاور رشوتوں کی مدسے کچھ بچ سکے گا ؟جواب نفی میں ہے؟ آنے والوں کو پچتاوے کہ سوا ملے گا کیا؟ اگر جان بچ گئی تو پھر وہیں واپس جانا پڑیگا ۔ اگر زمین خرید لیں تو قبضہ گروپ سے کیسے بچے گی۔ عمارت بنا کر کرائے پر اٹھادیں تو قبضہ دینے کے بعد کرایہ دارسے کرایہ ملناتو دورکی بات ہے۔ قبضہ واپس زندگی میں تو ملے گا نہیں ؟
ان سب مسائل کا حل کیا ہے صرف اور صرف دین کی طرف واپسی ؟ جو عام آدمی کی تبلیغ سے ممکن نہیں ہے؟ یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوںکہ جنہوں نے دہلی کے اطراف میں ساتھ لاکھ میواتیوں کو جو نام کے مسلمان تھے، جب ان پر تبلیغ شروع کی تو ان کے پاس پیسے تھے وہ ہر صبح سڑک پر کھڑے ہوجاتے اور پوچھتے بھائی کہاں جارہے ہو؟ وہ بتاتے مزودری کرنے ،وہ پھر پوچھتے کہ کیا مزدوری ملے گی تو جواب ہوتا تھاکہ اتنی؟ تب وہ فرماتے کہ وہ میں دونگا؟ “ تم چالیس دن نمازیں پڑھ لو “ نتیجہ میں کچھ سدھر بھی جاتے تھے اور باقی پھر اپنے پرانے راستہ پرو اپس چلے جاتے تھے۔ مگر اس کو بڑے پیمانے پر چلانے کے لیے فلاحی ریاست چاہیے کسی مالدار ترین آدمی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوسکتے کہ وہ سب کی کفالت کرسکے چاہیں وہ کتنا ہی بڑا کالے دھن کمانے کا ماہر کیوں نہ ہو ؟
سب کو رزق دینا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکام ہے کہ وہ سب کا رازق ہے اور اس کے خزانے لا محدود ہیں۔اس نے اپنا نظام ہی اس طرح کا بنا یا ہے کہ کچھ سرمایہ دار بنیں کچھ مزدور بنیں؟ کچھ چور اور ڈاکو جیسے پیشے بھی اختیار کریں تاکہ پولس رکھنا پڑے اور دنیا ملکوں میں بٹی رہے۔تاکہ ہر ملک اپنی حفاظتی فوج رکھے؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کسی گروپ کا غلبہ نہ ہونے دے اسی لیے اسلام نے عدل پر سب زیادہ زور دیا کہ کوئی طاقت سر نہ اٹھا سکے۔ اگر سب چور بن جا ئیں تو بھی ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ چور بننے سے روکنے کے لیے خوف خدا اور حکومت کی طرف سے چور کی آباد کاری کا انتظام ضروری ہے؟ اسلام نے گھرے بغیر توبہ کے دروازے چور اور ڈاکوؤ پر بھی کھلے رکھے ہیں تاکہ وہ خود کو بدل سکیں۔ کیونکہ اچھا ماحول نہ ملے جو اسے بھلا آدمی رہنے کے لیے ضروری ہے، تو جس طرح وہ پہلے چور بنا تھا پھر چور یا ڈاکو بن جا ئے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی نے اپنے وفادار سپاہیوں کو بھی بے یار و مدد گار چھوڑدیا تو وہ اسی مالک کی کچھ زمین پر قبضہ کر کے راجہ یانواب اور با دشاہ بن بیٹھے؟ مسئلوں کا حل تلاش کیے بغر کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے دنیا بھر میں پھیلے کارندے ہیں جنہیں شرفِ حکمرانی بھی حاصل ہے۔ وہی عام انسان کی رگوں سے خون چوس کر پھل پھول رہا ہے ،اس کا اگر کوئی توڑ ہے تو وہ اسلام ہے جس میں فلاحی ریاست کا تصور موجود ہے اور یہ ہی اس کاجرم بھی ؟ جبکہ وہ نظام کہیں بھی دنیا میں موجود نہیں ہے اور مفاد پرستوں کی موجود گی میں آ بھی نہیں سکتا ہے؟ جب تک یہ خلاءباقی ہے یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوسکتا؟ جتنا آپ مسلمانوں کو ڈرائیں گے اتنا ہی وہ چاروں طرف ہاتھ پیر ماریں گے ؟مفاد پرست اور نام نہاد اسلام پرست اسی طرح سبزباغ دکھاتے رہیں گے اور وہ نادانی میں ان کا شکار بنتے رہیں گے۔ جب تک کہ کوئی اللہ کابندہ ایمانداری سے اس پر عمل پیرا نہ ہو صرف زبانی جمع خرچ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا؟ اس میں علماءاور حکمرانوں دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اچھا حکمران وہی ہے جو عادل ہو انسان کا درد محسوس کرے جس کی اسلام نے بڑی تعریف کی ہے اور اچھا عالم وہی ہے جو حضور (ص) کی طرح خود عمل کر کے دکھا ئے ورنہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے “ اچھی بات تو برا آدمی بھی کرلیتا ہے “ اگر یہ نہ کیا تو خصوصی طور پر سادہ لوح نو مسلم اپنی محدوداور شدت پسندوں کی فراہم کردہ معلومات کو اسلام سمجھتے رہیں گے اور ان کے آلہ کار بنتے رہیں گے ؟ اللہ سبھانہ تعالیٰ ہمارے کرتا دھرتاؤں اور دنیا بھر کے دانشوررو ں کوسمجھ بوجھ عطا فرمائے تاکہ موجودہ انارکی دور ہو (آمین)

پ

Posted in Articles | Tagged

روٹھے منانے کا موسم ؟از۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے زمانے میں زراعت پر سار ا دارومدار تھا فصل اچھی ہوگئی تو ساری تقریبات دھوم دھام سے ہوتی تھیں ورنہ اگلے سال پر ملتوی ہو جاتی تھیں، اگر فصل اچھی ہو تو پھر شادی بیاہ کا موسم اورروٹھنے منانے کا موسم بھی شروع ہو جا تا تھا۔ اس زمانے میں شادی کارڈ کا بھی رواج نہیں تھا شادی میں ،اصل کردارعموما ً نائی یا حجام جسے مسلمان نہ جانے کیوں خلیفہ بھی کہا کرتے تھے اسی کے ہاتھو ں انجام پاتے تھے۔ اسے خلیفہ کیوں کہا کرتے تھے وہ ہماری آجتک سمجھ میں نہیں آیا؟ اس میں ہندو بھی پیچھے نہیں تھے ان کے بھی کئی نام تھے وہ اسے راجا کہتے تھے، ممکن ہے کہ کوئی ظالم راجہ ایسا بھی گزرا ہو جو رعایا کی حجامت کر دیتا ہو کہ مالیہ کم ہونے کی شکایت تو سب کو ہی رہتی تھی جبکہ ریاستیں بہت تھیں۔ ہمارے یہاں ایک کے بارے میں تو تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عمال نے یہ خبر دی کہ لوگ جوق درجوق اسلام قبول کر رہے ہیں اس سے جزیہ کم ہو تا جارہا تو اس نے حکم دیا کہ جو اسلام لے آیا ہو اس سے بھی جزیہ وصول کیا جائے؟  اس زمانے جمہوریت تو تھی نہیں کہ الیکشن کا ناٹک ہوتا ۔با دشاہت اور بادشاہ تھے اور جنہوں نے خلافت راشدہ نہیں دیکھی تھی صدیوں تک لوگ بادشاہوں کو ہی خلیفہ کہتے رہے جبکہ خلیفہ خداسے ڈرنے والے ہوتے تھے اور با دشاہ اپنی پرچھائیں سے بھی ڈرتے تھے ،اسی لیے وہ کوئی وارث تخت رہنے ہی نہیں دیتے۔
جیسے کہ آجکل حکمرانوں کے انداز شاہانہ ہونے کے باوجود ہم اپنے رہنماؤں کو جمہورکانمائندہ کہتے ہیں جن کے انتخاب تک میں ہمار ااپنا کوئی دخل نہیں ہوتا اور حکمراں خود بھی کسے کا بچہ جمہورا ہوتو حکمراں بنتاہے۔ اگر یہاں خلف کے لغوی معنی لیے جائیں یعنی بعد میں آنے والا تو بھی اسے خلیفہ کہنا مشکل تھا؟ کیونکہ وہ تو اس دور میں ان بیٹوں کے لیے مخصوص تھا ،جوکہ نیک چلن ہوتے تھے، اور خلف ِرشید کہلاتے تھے ۔ اس کے برعکس جو بچہ نالائق ہوتا اس کو ناخلف کہتے تھے۔ ہاں اگر اسے اس کی اس خوبی کی بنا پر خلیفہ مان لیا جائے جوکہ اس کی انفرادیت تھی کہ وہ پیچھے کھڑے ہو کر حجامت بنا تاتھا، تو کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ہم نے اس کاذکر اپنے ایک دوست کے سامنے کیا تو کہنے لگے کہ آپ کی یہ توضیح بھی غلط ہے ! ہم نے پوچھا کیوں! فرمایا کہ اس زمانے میں تو مسلمان درزیوں کو بھی خلیفہ کہتے تھے؟ جن کے بارے میں کہاوت ہے کہ درزی اور سنار اپنی ماں سے بھی نہیں چوکتے ،یعنی کسی نہ کسی طرح سگی ماں کا بھی کپڑا یاسونا مار ہی جاتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی  ؟اس سے ثابت یہ ہوا کہ ان کی بھی آنکھوں میں کچھ لحاظ تھا۔ ؟ جبکہ آجکل جیب کتروں ،چوروں ،اور بشمول ڈاکوؤں کے سب آنکھ میں آنکھیں ڈال کر اور روبرو ہوکر لوٹتے ہیں۔ جبکہ کہلاتے وہی ہیں جو وہ چاہتے ہیں مثلا ً خادم وغیرہ ، جس سے عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں خادم سمجھنے لگتے ہیں ؟مگر ان کے خادم ہو نے کے راز اسوقت کھلتے ہیں جبکہ خدمت لینے کی کبھی ضرورت پڑجائے؟ہاں بات کر رہے تھے ،نائی کی کہ جس کے بارے میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ اس نے کہیں بٹتی ہوئی مٹھائی میں سے ایک کے بجائے چار حصے وصول کر لیے ! جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایک کے بجا ئے چار حصے کیوں لیے تو اس نے محتسب کو جواب دیا کہ سرکار گنیں ً میں اور میرا بھائی حجام، خلیفہ ، نائی، اس طرح میں چار حصوں کا مستحق ہوں شاید یہیں سے طبقہ اشرافیہ میں جائیداد اپنے بجائے رشتہ داروں کے نام پر رکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مگر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی قناعت پسند تھا ورنہ اس کے سپرد اس کے علاوہ بہت سی خدمات اور بھی تھیں، اور اپنے حصے زیادہ بنا سکتا تھا ۔ مثلاً اگرتک بندی کو شاعر ی مان لیا جائے تو وہ شاعر بھی ہوتا تھا جیساکہ ابھی آپ نے پڑھا۔ گانا بھی گاتا تھا، جہاں فنکار نہ ہوں تو وہ ضرورت پڑنے پر فنکار بھی بن جاتا تھا ۔
شادی کا دفتر بھی چلاتا تھا کہ آپس کے رشتوں کے علاوہ باہر سے جو رشتے آتے تھے وہ اسی کے معرفت آتے تھے اور اصیل النسل ہونے کی تصدیق کرنے کاکام بھی وہی انجام دیتا تھا۔ یہ بھی اسکے سپرد تھا کہ وہ سب کے شجرے یاد رکھے اور شادیوں کی تقریبات میں پڑھے تاکہ معلوم ہو جائے کہ لڑکی کس کی ہے اور لڑکا کس خاندان کا ہے ؟اسی وجہ سے گوتی کہلاتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ محاورہ مشہور ہوا کہ “ میری ڈھلیا میں روٹی تو سب میرے گوتی؟ اسکے علاوہ وہ چند گھڑیوں کے لیے ہی سہی مگر جراح کا کام بھی انجام دیتا تھا اور بچوں کو مشرف با اسلام کرتا تھا۔ اب وہ ہمہ صفت پیشہ ہی معدوم ہوگیا اور اس کے بجائے وہ باربر کہلانے لگا پھر مزید ترقی کی اور اس میں دونوں صنفیں شامل ہو گئیں ۔ تھیں تو پہلے بھی مگروہ نائن کہلاتی تھیں اورزیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ جب مساوات کا دور آیا تو وہ بیوٹی پارلر کے مالک یامالکن بن کر بجا ئے ۔حجامت کرنے اور بال کاٹنے کہ کھال کھینچنے لگے؟ گئے وقتوں ان کو ایک فہرست میزبان کی طرف سے دیدی جاتی تھی جس میں مدعو مہمانوں کے نام ہوتے تھے اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ گھر گھر جائے اور فہرست پر “ صاد “کراکر لائے اور یہ بھی بتائے کہ کس نے صاد کرنے سے انکار کیا اور وجہ کیا بتائی ؟ پھر میزبان کی طرف سے منانے کی کوشش شروع ہو جاتی۔ اب شادیوں کے موسم کی جگہ الیکشن نے لے لی ہے ۔اس میں بھی بعض لوگ وہی کردار دا کرتے ہیں مگر انہیں کوئی نام نہیں دیا جاتا ۔ اس میں وہ سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ جو عام حالات میں کسرِ شان سمجھا جاتاہے؟ شہر شہر انسانوں کی منڈیاں لگی ہوتی ہیں؟ مگر دکھا ئی نہیں دیتیں،البتہ وہ شہزادے جن کے برابر سے معمولی آدمی نکل جائے تو ناک پر انگلی رکھ لیتے ہیں وہ ان کے ہی قالین پر اپنے مٹی میں لتھڑے جوتوں کے ساتھ آتا ہے ، برابر بیٹھتا ہے سرگوشیاں کرتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے ماتھے پر شکن نہیں آتی۔ کیونکہ ان کے یہاں یہ بھی کہاوت رائج ہے کہ وقت ِ ضرورت گدھے کو بھی باپ بنا نے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عوام اسی میٹھی چھری سے بار بار ذبح ہو تے ہیں، مگر سبق کبھی حاصل نہیں کرتے۔چونکہ آجکل عام انتخابات نہیں ہیں ،اس لیے سرگرمیاں ہیں تو سہی مگر دکھائی نہیں دے رہی ہیں سوائے میڈیاکے ۔ آج کل بکروں کے ریٹ کہاں تک گئے بعد کو پتہ چلے گا۔ جبکہ حاجی صاحب سترہ لاکھ کی گائے اللہ کی راہ میں قر بانی کے لیے لیتے ہیں تو فورا ً تصویر اخبار اور ٹی میں بھی آجاتی ہے۔ چونکہ یہ ا لیکشن اشرافیہ کے ہیں رمضانیوں کے نہیں ، ان کے راز کھلنے کے بعد بھی نہیں کھلتے ،اس لیے کہ سب مسلمان ہیں اورانہیں مسلمان بھائی کاپردہ رکھنے کا حکم ہے؟

Posted in Articles | Tagged

شدت پسندتنظیموں کے تخلیق کار کون ؟۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

شدت پسندتنظیموں کے تخلیق کار کون ؟۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی    اس کی پہلی تخلیق گزشتہ صدی میں ہوئی است تخلیق کاروں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آئندہ چل کر اتنی مفید ثابت ہوگی جتنی کہ مختلف ناموں سے جاری تازہ تخلیقات ؟ حالانکہ اس وقت کی ضروریات اور تھیں اور آج کی اور،اسوقت صرف یہ پریشانی تھی کہ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک اطالوی اور جرمن گروپ اور دوسرا بقیہ ان کے مخالفین پر مشتمل گروپ ؟ سلطنتِ عثمانیہ جسے ہم خلافت عثمانیہ کہتے ہیں گو کہ عالم ِ سکرات میں اور برا ئے نام تھی! مگر مسلمانوں کی آواز سمجھی جاتی تھی،اسے رچرڈ شیر دل یاد تھا لہذا ان کے لیے یہ ہی گروپ بہتر تھا۔اسی وجہ سے وہ ہمیشہ جرمن گروپ کے ساتھ رہے۔ اوراسی جرم میں اسے ختم کر نے کے لیے ، دوسرے گروپ کو آلہ کاروںکی ضرورت پیش آئی تومسلمانوں میں کالی بھیڑوں کی تلاش شروع ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کی تباہی کے لیے دو مختلف ہتھیار استعمال کیئے گئے۔ یورپی اور افریقی حصہ کے لیے رنگ و نسل، جبکہ ایشائی حصہ کے لیے اسلام کے جعلی ایڈیشن کی تخلیق ؟اسکے لیے ابتدائی دور میں انسانوں کی پہونچ سے باہر جنگلوں میں اسلامی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں تاکہ دنیا کی نگاہوں سے روپوش رہ کر نیاایڈیشن لانے والی مشینری تیار ہو سکے۔

اس دور میں شایدکالی بھیڑیں کم تھیں۔ بہت دوڑ دھوپ کے بعد کہیں سے ہاشمی خاندان کے تین فرد،عراق،اردن اور شام کی بادشاہت کو مل گئے۔ اوردوسرا وہ قبیلہ  عرب کے لیےجس نے کبھی پیغمبر (ص)اسلام کی بالا دستی قبول نہیں کی جب تک کہ وہ مجبور نہیں ہوگیا،تب کہیں جاکر وہ حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں سرنگوں ہوا۔ کیونکہ وہ قبیلہ خود کو عرب کا اصل باشندہ سمجھتا تھا، جب کہ دوسروں کو باہر سے آنے والے ہونے کی وجہ سے غاصب؟ اس کو حجاز پرمسلط کیا گیااور مسلمانوں کو یہ باور کرایاگیا کہ اسلام میں بد عات بہت داخل ہو گئیں ہیں۔ اس گروہ میں۔ حنبلی فقہ کا زور تھا لہذا وہیں وہ جماعت تیار کی گئی جس کا نعرہ تھا کہ ” ہم حنبلی فقہ کو بدعات سے پاک کرنا چاہتے ہیں ” یہ تھی اس فتنے کی ابتدا ۔ لیکن تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ فرقہ پرستی کے لیے کامیابی کی شاہراہ ہے۔ جب اللہ نے تیل دیدیا تو عرب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ اب ہرچیز کو تیل کی روشنی میں دیکھا جانے لگا؟ انہیں  کو پہلے عرب کا چودھری، پھر بعد میں عالم ِسلام کا جودھری بنا دیا گیا۔ جب وہ روس اور امریکہ جنگ میں اور بھی معاون ثابت ہوا۔ تو دیکھتے دیکھتے وہ شجر ِشر اس تیزی بڑھا جیسے کہ آجکل تمام ہائی برڈ نسلیں بڑھتی ہیں ؟ اس کے بعدآوا گون کا سلسلہ شروع ہو گیاکہ جنہیں وہ چند دن پہلے تک مجاہد کہہ کر استعمال کر رہے ہوتے ،انہیں کے توپوں کے رخ یکایک اپنے مالکوں کی طرف پھر جاتے ؟ کیونکہ دنیا اب وہ نہیں رہی تھی۔ اس پر سرمایہ داری دوبارہ پوری طرح مسلط ہوچکی تھی ، اسکی جڑیں اس مرتبہ بہت گہری رکھی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے کمیونزم کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھائی اور اسکے توڑمیں مال بھی بہت خرچ کرنا پڑا تھا؟ اس کا حل اب دنیا پر بجائے فوجی شہنشاہیت کے معاشی شہنشاہیت کو مسلط کرنا تھا۔ کیونکہ اس میں بدنامی بھی نہیں ہوتی اور کوئی خرچہ بھی نہیں بلکہ الٹا تلوں میں سے ہی تیل نکلتا ہے؟ اور واہ ،واہ الگ ۔ صرف انکا ہی نہیں بلکہ ان کے مہروں کا بھی خرچہ عوام کے سر ۔
اسلام سے پہلے بھی یہ ہی صورت ِ حال تھی کہ معاشرے اور وسائل پر اشرافیہ قابض تھااور سرمایہ دار ہی معتبر سمجھا جاتا تھا۔ ایک دفعہ جس نے قرضہ لے لیا وہ زندگی بھر نہیں چھوٹتا تھا۔ چند ٹکوں کے عیوض یا طاقت کے زور پرانسان کا انسان غلام بن جاتا ،غلاموں کی اولاد بھی پیدائشی غلام ہوتی تھی کنیزوں کے لیے تو یہاں تک تھا کہ اگر کوئی اس کے مالک کو منہ مانگے دام بھی ادا کردے تو بھی وہ ملکیت سابق مالک کی ہی رہتی تھی۔ ہاں ! اگر خریداراتنا مخیر ہو کہ خرید کر آزاد کردے تو اسکی جان چھٹ سکتی تھی؟ اسلام نے آکر غلاموں اور کنیزوں کی گردن غلامی سے چھٹانا بہت بڑا ثواب ، سود حرام اور خاندانی دشمنیاں باطل قرار دیدیں ۔ قرض خواہوں کواصل رقم وصول کرنے کی اجازت ملی اور اگر کوئی مفلس ہو تو وہ بھی معاف کرنا بہت بڑا ثواب قراردیا گیا۔ خاندانی د شمنیاں جو صدیوں سے چلی آرہی تھیں معاف کردی گئیں۔ اور آئندہ کے لیے خون بہا کا طریقہ روشناس کرادیا گیا۔ دور جہالیہ کا سودا ورخون نبی اکرم (ص) نے معاف کرنے کی اپنے خاندان سے ابتدا فرمائی ۔ جو ا ن کے خاندان کا سود اور خون تھا  وہ معاف فرمادیا؟

آئندہ کے لیے اگر کوئی بدلہ لینے پر بضد ہی ہوتو بلدلہ و ہی رکھا، جتنا کہ مظلوم کو نقصان پہونچا ہو؟ دین کی ا ساس،عدل ،مساوات اور بہترین کارکردگی پر رکھی  ۔ نتیجہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام بغیر کسی جبر کے پھیلتا چلا گیا اور اسلامی حدود ِ مملکت میں امن ا ور امان قائم ہوگیا اور فارغ البالی آگئی۔ جبکہ باقی دنیا صدیوں تک انہیں برائیوں میں جکڑی رہی۔ چونکہ خوف خدا ، خود احتسابی، علم حاصل کرنا اور تقسیم کرنا مسلمانوں پر فرض ہے لہذاعلوم جدید میں بھی انہوں نے جھنڈے گاڑدیے ،پھر عیش میں پڑ گئے اور نتیجہ کے طور پر رجعت قہقری شروع ہوگئی۔ انہیں کے ہاتھوں لائی ہوئی علمی بنادیات سے دوسروں نے روشنی حاصل کی اور اپنے یہاں صنعتی انقلاب لے آئے۔ اس پر سرمایہ کاری سود خوروں نے کی ،نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی سیاہ اور سفید کے مالک وہی سرمایہ کار بن گئے۔
چونکہ ہر عمل کا رد عمل ہوتاہے؟ اس کے رد میں دانشوروں نے جن کی اکثریت مذہبی رہنماوں سے پہلے ہی نالا ں تھی کیونکہ ان کو سرمایہ دار اپنے نمائندوں کے ذریعہ بری طرح استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کمیونزم جیسی تھیوریاں پیش کیں جس میں خدا کا تصور نہیں تھا،جس کاخوف انسان کو تنہائی میں بھی برائی سے روکتا ہے۔لہذا وہ اپنے قیام کے ساٹھ ستر سال کے بعد ناکام ہو گیا؟ اور اس کی ناکامی کے بعد اپنی جہالت اور سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کی شکل میں مسلط حکمرانوں کی وجہ سے لوگ نادانی میں انہیں سودخوروں کے آلہ کار بن گئے؟ جبکہ خدا نے ہمیشہ سے خیرو شر دنیا میں رکھے اور لوگوں کو آزدی دیدی کہ وہ جس طرف چاہیں جائیں۔ اگر آپ تاریخ میں جائیں تو کم از کم دوسپر پاور ہمیشہ رہیں۔ کبھی ایک کا بادشاہ اچھا ہوتا تھا کبھی دوسری مملکت کا اور تاریخ اپنے آپ کوبدلتی رہتی تھی؟
کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے؟ حالانکہ دنیا میں نہ کہیں وہ مسلمان ہیں جنہیں معیاری کہا جاسکے اور نہ ہی کہیں اسلامی حکومت ہے۔؟مگر اسلام کا سنہرا دور جو چند عشروں پر محیط ہی سہی تاریخ میں موجود تو ہے۔ اس پر کمیونزم کی طرح طاقتور ہونے سے پہلے نگاہ رکھنا ضروری سمجھاگیا۔؟اس کا توڑ یہ نکالا گیاکہ اسلام کے دنیا کے سامنے وہ ایڈیشن پیش کیے جا ئیں؟ جن کی کرتوتیں دیکھ کر دنیا چیخ اٹھے کہ خدا کےلیے ہمیں ان  سے بچاؤ؟اور وہی دنیا کے نجات دہندہ بن کر باربا، ابھریں۔ اس لیے کسی بھی نام نہاد مسلمان ملک کو چین سے مت رہنے دو وہ آپس میں لڑتے اورنپٹتے رہیں؟ اب حالت یہ ہے کہ نام مختلف ہوتے ہیں، مگر جو بھی روٹھا ہوا گروپ کہیں سے بھی ابھرتا ہے؟ چونکہ اندرونی جڑیں ایک ہیں جس طرح ہر پرند ہ اپنے بالو پر کی بنا پر اڑان سے پہچانا جاتا ہے اور ۔ ہر ایک میں والدین کی شباہت ملتی ہے؟  یہاں بھی جنہوں نے نفرتوں کی بنیاد 1933 ع میں رکھی تھی ان کی شباہت نظر آتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ ابتداءتھی یہ انتہا ہے اور یہ بھی مماثلت ہے کہ تیل چونکہ آج کل سونا ہے، یہ انہیں علاقوں میں راتوں رات قابض ہو جاتے ہیں، جہاں تیل ہی نہیں بلکہ ریفائنریاں بھی ہیں ۔ جہاں سے وہ تیل اونے پونے بیچتے ہیں اور مرنے اور مارنے کے لیے اسلحہ بھی انہیں سے خریدتے ہیں۔ اور اس سے، اس مکتبہ فکر کو کارندے بھی فراہم کر تے یں۔جن کے نزدیک یہ کام نیک ہے اور صلہ جنت ہے؟
جبکہ اپنے ان اعمالوں کے باعث قرآن سے یہ ہر طرح جہنمی ثابت ہوتے ہیں ۔ قرآن کی حفاظت کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے خودفرمایا ہے لہذا شروع دن سے وہ لوگوں کے سینوں محفوظ ہے ،جو ایک سینے سے منتقل ہوکر اب کڑوڑوں حفاظ کے سینوں میں ہروقت محفوظ  رہتا ہے؟ اس لیے شر پسند صرف اس پر قادر ہیں کہ اس کی تفسیر بدل کر معنی اپنی مرضی کے نکال لیں؟ اور یہ ہی معاملہ احادیث اور اسلامی تاریخ کے ساتھ ہے۔ ہر مومن کی طرح میرا یقین ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے؟ یہ ہوکر رہے گا چاہے جب بھی ہو۔؟اور جس طرح پہلے کفاران عرب و عجم کی ساری دولتیں اور کاوشیں اسکے خلاف دیواریں کھڑی کرنے میں ناکام رہیں ایک بار پھر ناکام ہونگی ۔اور وہ تبدیلی بھی وہی لا ئیں گے جو حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے سر و مو انحراف نہ کریں ، کیو نکہ مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح عامل ہو ورنہ وہ مسلمان نہیں کچھ اور ہوسکتا ہے؟
میرا یہ مشورہ ان تمام لوگوں کوبلا تفریق ِ مذہب و ملت ہے کہ وہ اسلام کو حضور (ص) کے عمل میں تلاش کریں۔ تو آسانی سے منزل مقصود مل سکتی ہے؟ کیونکہ حضور (ص) کاعمل تمام  ترالوہی ہدایت کا مجموعہ ہے اور اسلام اسی کانام ہے۔ اس سلسلہ میں کسی ملک ،کسی شہر کے نام سے متاثر نہ ہوں کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کتب جو وہاں شائع ہورہی ہوں وہ درست بھی ہوں ؟جبکہ ابھی پرانی تفسیریں ، احادیث کی کتابیں، اور تاریخیں موجود ہیں۔ انہیں ڈھونڈیں اور رہنمائی حاصل کریں ۔ وہ یقیاً تلاش کر نےوالوں کو مل جا ئیں گی ۔کیو نکہ یہ میرے رب کا ارشاد ہے کہ” جو کوئی میری طرف ایک قدم بڑھے، تو میں دس قدم بڑھتا ہوں ۔۔۔؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ خوا ہستگاران علم و حقیقت کو اپنی ہدایت سے نوازے ۔آمین

Posted in Articles | Tagged

خبروں میں جھوٹ اور سچ کی تلاش ؟۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی

پاکستان میں اسوقت 29 جنوری کی شام ہو چکی ہے جب کہ ہمارے یہاں یعنی وینکور میں 29 جنوری کی صبح کا سورج طلوع ہو ا ہے ۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ نے بجائے شہر کانام لکھنے کے کنیڈا کیوں نہیں لکھدیا ؟ وجہ یہ ہے کہ نکتہ داں مجھے جھوٹا ثابت کردیتے؟ کیونکہ جب کنیڈا کہو تو پاکستان میں صرف ٹورنٹو مشہور ہے؟ جو تقریبا ً کنیڈا کے مرکز میں واقع ہے ۔جبکہ وینکور میں اور ٹورنٹو میں تین گھنٹے کا اوقات میں فرق ہے۔جبکہ یہ کنیڈا کے مغرب میں ہے اور مشرق میں ایک جزیرہ جو صوبہ بھی ہے اس میں اور وینکور میں ساڑھے چار گھنٹے کا فرق ہے۔ تمہید لمبی ہوگئی وجہ وہی ہے کہ نکتہ چینوں سے ڈر لگتا ہے؟
آج جو ہم نے عالمی اخبار کھولا تو پنجاب کے گورنر کے استعفیٰ کی خبر تھی اور انہوں نے اپنی بے اختیاری کا جہاں یہ فرماکررونا رویا کہ یہاں قبضہ گروپ کا رکن گورنر سے زیادہ با ختیار ہے وہیں یہ بھی فرمایا کہ یہاں جھوٹ بہت ہے؟ چونکہ وہ کافی عرصہ انگلینڈ میں رہ کر اور وہاں سچ کے ذریعہ کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کر کے اسکے عادی ہوگئے ہیں ،شاید وہ اس سے واقف نہیں تھے کہ وطن عزیز اسکی مختلف سمت میں چل کر خاصی ترقی کر گیا؟ ہمارا ماتھا جبھی ٹھنکا تھا جب انہوں نے یہ خدمت قبول کی تھی۔ اب وہ فرمارہے ہیں کہ میں نے بغیر کسی کو اعتماد میں لیے ہوئے صدر کو اپنا استعفیٰ بھجوادیا ہے اور یہ کہ استعفٰی کسی نے مانگا نہیں میں نے خود دیا ہے ۔ لیکن ان کے بیان کی یہ بات خوش آئند ہے کہ وہ ہمت نہیں ہارے اور عوام کو یقین دلایا کہ وہ واپس لندن نہیں جائیں گے بلکہ وطن عزیزکی خدمت کریں گے۔ ایوان صدر کہہ رہا ہے کہ استعفیٰ ہمیں ملا نہیں اس کے عموما ً معنی یہ ہوتے ہیں کہ ابھی ظاہر کرنا عوام کے مفاد میں نہیں ہے؟ ورنہ دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے وہاں کے ڈاکخانے کو آزمایا ہو اور بجائے الیکٹرانک ذرائع استعمال کر نے کہ ڈاکخانے سے بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ بھیجا ہو ؟ خدا کرے کہ وہ صدر صاحب کو مل جائے اور وہ بر طانوی اور پاکستانی عوام کی نظروں میں بطور صادق اور امین سرخرو ہوجائیں جس بری عادت کی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ راست گوئی وہاں کسی کو بھی پسند نہیں ہے۔ (خدا کاشکر ہے کہ یہ خبر آئی ہی گئی کہ انکا استعفیٰ مل بھی گیا اور قبول بھی کرلیاگیا۔ ہم انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں وہ خوش قسمت ہیں کہ اتنی جلدی انکا استعفیٰ منظور ہوگیا )۔
جبکہ بہت سو ں کے استعفے سالوں اٹکے رہتے ہیں؟ لہذاوطن ِ عزیز میں کوئی چٹھی، وی آئی پی، یا ٹرین کہیں وقت پرپہونچ جا ئے تو لوگ مبارکباد دینے ہار پھول لےکر جاتے ہیں ۔ اب تو پتہ نہیں ٹرین کے بارے میں؟ جب ہم 26سال پہلے وہاں تھے تو ایک لطیفہ بڑا مشہور تھا، اس پیسنجر ٹرین کے بارے میں جو کراچی سے پنڈی تک جاتی تھی، ہر اسٹیشن پررکتی ہوئی؟ چونکہ ہمارے یہاں وی آئی پی کلچر ہے اس لیے اسکے ساتھ عوامی ہونے کی وجہ سے عوام جیسا برتاؤ ہوتا تھا ۔ اسکو سائڈ لائین پر ڈال کرایکسپریس ٹرینیں پاس ہوتی رہتی تھیں اور وہ بیچاری صابر اور شاکر تھی لہذا وہ کبھی کہیں وقت پر نہیں پہونچتی تھی ۔ایک دن شہداد پور کے باشندوں نے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ وہ وقت پر پہونچ گئی تو وہاں کے لوگو ں نے یہ سوچا کہ اس میں نئے آنے والے اسٹیشن ماسٹر کا شاید کوئی دخل ہوگا، وہ مبارکباد دینے پہونچ گئے؟ مگر انہوں نے سچ بول کر ان کی غلط فہمی دور کردی کہ نہیں جی یہ تووہ ٹرین ہے جس کو کل آنا تھا؟ نوٹ۔ چونکہ لطیفہ ہے ہم اسکے سچ ہونے کی یقین دہانی نہیں کراسکتے ؟
پھر سوچا کہ چلو آج ساری خبروں کا تجزیہ کرڈالیں۔ جو اخبار جنگ میں چھپیں ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کو اردو کے دو اخبار ورثہ میں ملے تھے ۔ایک جنگ دوسرا انجام۔ جنگ زندہ رہا کہ دور اندیش تھا، انجام نے اپنی پرانی روش نہیں چھوڑی لہذا زیادہ نہیں جی سکا اس کے پہلے مالک عمر فاروقی مرحوم ناکام ہوئے پھر اسے انعام درانی صاحب نے خرید لیا جو کہ روہیلکھنڈی پٹھان تھے؟ کہاں خانصاحبی اور کہاں اخبار نویسی، وہ انکے ہاتھوں جلد ہی اپنے انجام کو پہونچ گیا ؟جبکہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں میرصاحب بھی عزت ِ سادات بچائے ہوئے کامیابی سے چل رہے تھے اور یہ انہیں کا جگرا تھا کہ اس میدان میں کامیابیوں پر کامیابیاں نسل در نسل حاصل کیں ؟ ہر وہ خبر معتبر سمجھی جاتی تھی جو جنگ میں چھپے ،جس طرح اکبر الہ آبادی مرحوم نے کبھی انگریزی اخبار پانیر کے بارے میں فرما یا تھا کہ خبر وہی جو پانیر میں چھپے؟ اس وقت انڈیا میں وہ معتبر سمجھا جاتا تھااور ابھی تک نکل بھی رہا ہے۔ چونکہ عرصے سے جنگ پڑھتے آرہے ہیں ۔لہذا آج بھی حسب عادت پہلے عالمی اخبار پڑھنے کے بعد پھر اسے کھولا ؟
وہاں ہم نے ایک دوسری خبر دیکھی کہ جس میں الطاف بھائی نے شکایت کی تھی کہ پہلے دن سے مہاجروں کو پاکستان میں قبول نہیں کیا گیا؟ ہم پھر سوچنے بیٹھ گئے کہ اس کو سچ مانیں یا اپنے ذاتی تجربے کو جھوٹ ؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے ابھی بھی ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کو انڈیا نے تسلیم نہیں کیا؟ جبکہ حقیت یہ ہے کہ اگر وہ نہ تسلیم کر تا تو آج اس کا ہائی کمشنر ہمارے یہاں اور ہمارا ہائی کمشنر اس کے یہاں کیوں ہوتا؟ ہمیں آزادی ایک دن پہلے ملی تھی جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے اس نے پاکستان کوتسلیم کیا؟ چونکہ ہم اسکے دعویدار نہیں جب کہ ہم سے کم عمر  کےلوگ آج کے دور میں قائد اعظم کے ساتھی بنے ہوئے ہیں اور اس کی بنا پر لال بجھکڑ کہلاتے ہیں؟ مگرہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ“ لیکر رہیں گے پاکستان کے نعرے لگا نے والوں میں ہم بھی شامل تھے“ لوگ اسوقت پوچھتے تھے کہ تم تو یہاں رہ جاؤگے تمہیں وہاں کیا ملے گا؟ کیونکہ اسوقت تک نہ کسی نے تبادلہ آبادی کا سوچا تھا ،نہ ہی کسی کے سامنے کوئی ذاتی خواہش تھی؟ جواب سب کا ایک ہی ہوتا تھا کہ جو ہندوستان کے مسلمانوں کا دیرینہ خواب ہے وہ پورا ہو جائے گا کہ ہمارے مسلمان بھائی آزاد ہو کر حسب ِوعدہ ایک مثالی اسلامی حکومت قائم کرلیں گے۔ جو دنیا کے لیے نمونہ ، مسلمانوں کے لیے فخر اور تقویت کا باعث ہوگی؟ ان کی طاقت ہماری طاقت ہوگی؟ ان میں سے کچھ پورے بھی ہوئے سوائے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کے ۔ کرتے کیا کہ حالات ایسے ہوگئے کہ پھر مسائل سے فرصت ہی نہیں ملی؟
لوگوں کو تبادلہ آبادی کرنا پڑا ؟ سب سے پہلا تو مسئلہ نئے ملک کو چلانے کا آیا تو تمام ہندوستان کے مرکزی ملازمین سے پوچھنا پڑا کہ تم کہاں خدمت کرنا پسند کروگے ۔تب بہت بڑی مسلم اکثریت نے پاکستان میں خدمت کرنے کو پسند کیا اور انہیں آپٹیز نام دیاگیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے بہ حسرت و یاس انہیں رخصت کیااور انہیں پاکستان میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا؟۔
جی ہمارا بھی چاہا کہ جاکر نئے ملک کی خدمت کریں مگر دل مار کے بیٹھ گئے کہ آبائی جائداد پاؤں کی بیڑی بنی ہوئی تھی؟ جب زمینداری انڈیا میں ختم کردی گئی کہ مسلمان زمیندار زیادہ تھے اور خاتمہ ان کے منشور میں شامل تھا۔ تو سبق زممینداروں نے بھی مشرقی پاکستان کا رخ کیا کیونکہ وہاں اس وقت پاسپورٹ نہیں تھاسرحدیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہاں انہیں نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ کثرت آبادی کے باوجود اپنے پاس جگہ دی ۔ جبکہ اس سے پہلے وہ ملازمین جنہوں نے پاکستان کی خدمت کرنا پسند کیا تھا ان کو ان وہ خوش آمدید کہہ ہی چکے تھے ۔ مغرب میں سندھ کی سرحد کھلی ہوئی تھی وہاں سے لوگ پاکستان آئے سندھیوں نے بھی خوش آمدید ایک کیا،کئی سالوں تک کہا لوگ اسٹیشنوں پر کھڑے رہتے کھانا لیے ہوئے؟ جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا لیکن جن کو میز بانی کاشرف حاصل ہوا ان سے سنا ضرور ۔ جبکہ ہم بعد میں بذریعہ بحری جہاز کراچی آگئے اور سندھ میں رہے اور میز بانی او ر بھائی چارے کو نہ صرف دیکھا بلکہ بھائیوں کی طرح برتا بھی۔
البتہ پنجاب کا معاملہ ذرا مختلف تھا کہ وہاں دونوں طرف پاکستان بنتے ہی آگ لگ گئی سرحدیں کھلی رکھناخطرناک تھا لہذا با قاعدہ تبادلہ آبادی اور تبادلہ ریکارڈ بھی ہوا۔ وہاں سے جانے والوں کی چھوڑی ہوئی جائداد آنے والوں کو ملی، زمینو اورگھروں وغیرہ میں آنے والوں کو ان کا استحقاق دیکھ کر آباد کردیاگیا؟ اب وہاں مہاجر نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہ ہی حال صوبہ سرحد کا ہوا کہ جو پٹھان ہندوستان کے کسی حصہ سے بھی آئے وہ اپنے قبائل میں ضم ہوگئے؟ اگر پاکستانی مہاجرین کوقبول نہ کرتے تو یہ کیسے ممکن تھا؟ ہمارے علم میں تو اس جی ایم سید کا یہ جرم بھی ہے کہ اس نے تمام ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کی تھی۔کہ اب سندھ صوبہ بن گیا ہم نے اپنی جان چھڑالی ہے؟ ہمارے مسلمان بھائی ہندوستان سے آکر یہاں سرمایہ کاری کریں اور ہماری مدد کریں۔ جب بہار میں فسادات ہوئے تو ان کو خوش آمیدید کہنے کے لیے ۔کراچی میں 1946ع میں بہار کالونی بنائی گئی جو ابھی تک موجود ہے۔
آگے ایک اعلان اورپڑھا وہ بھی روایتی تھا۔ کہ الطاف بھائی نے اعلان فرمایا ہے کہ وہ آج کے بعد ایم کیو ایم سے لاتعلق ہو جا ئیں گے۔ حیدر آباد یونیورسٹی کے سنگ بنیاد پر آخری خطاب فرمارہے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبر پڑھی کہ نائین زیرو پر کارکنان بے حد اصرار کے لیے جمع ہورہے ہیں ۔  جبکہ ہمیں امید تھی کہ وہ اس کڑے وقت میں کارکنوں کا مطالبہ ردنہیں کریں گے۔ اور اپنا استعفیٰ ضرور واپس لے لیں گے۔  (اللہ نے ہماری یہ دوسری آرزو بھی پوری کردی )
آج شاید قبولیت کادن ہے کہ ہماری دعائیں یا سوچیں پوری ہوئیں ۔ اب تیسری دعا مانگتے ہیں کہ شاید وہ بھی پوری ہو جائے کہ سارے مسلمان سچ بولنا شروع کردیں اس لیے کہ مخبرِصادق محمد مصطفیٰ (ص) نے جھوٹ کو گناہو ں کی جڑ قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ“ مسلمان میں ساری برائیاں ہو سکتی ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ ایک صاحب دربار رسالت میں پیش ہوئے جن میں ساری برائیاں تھیں؟ انہوں نے پوچھا کہ حضور (ص) پہلے کیا چھوڑوں! فرمایا “ جھوٹ“ انہوں نے وعدہ کرلیا ۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ بغیر جھوٹ کہ صرف بھلائی ہوسکتی ہے، برا ئی نہیں کیونکہ برائی کو چھپانا پڑتا ہے۔ لہذا وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوکرمتقی (رض) بن گئے۔ آئیے! دعاکریں کہ “اللہ ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری مصیبتیں دور ہوں “ ( آمین )

Posted in Articles | Tagged ,

آہ ! شاہ عبد اللہ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ نوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ حکم ہے۔ کہیں کہ “انا للہ وانا الیہ راجعون ہ  “ حدیثیں اور رواج یہ ہے کہ ہم دعائے مغفرت بھی کریں اور کہیں اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے (آمین )۔ اگر ہوسکے تو جنازے میں شرکت بھی کریں، نمازِ جنازہ بھی جو فرض کفایہ ہے اس میں شرکت کریں اور قبرستان جانے کا بڑا ثواب احادیث میں یا ہے۔ اس میں شاہ اور گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے؟ جبکہ یہ علم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہے کہ کون کیا ساتھ لے گیا کیونکہ اعمال کا جو وزن ہے، وہ نیتوں پر منحصر ہے لہذا ثواب کا فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ عمل میں کس قدر خلوص تھا، وہ خالصتاً اللہ کے لیے تھا یانہیں تھا۔ جس کا علم اس نے صرف اپنے ہی پاس رکھااور فرشتوں کو بھی عطا نہیں فرمایا ؟
البتہ یہ بتلادیا کہ حکمراں اگر مومن اورعادل ہو تو اس کی جگہ جنت الفردوس ہے۔ جو نبیوں (ع)، شہیدوں (ع) اور صدیقوں (ع) کا مقام ہے ۔اس کے برعکس اگر حکمراں ظالم اور جابر ہواتو عذاب بھی اسی حساب سے عظیم ترین ہے اور ہم نشین بھی اسے ویسے ہی ملیں گے جیسا کہ وہ خود ہوگا؟
ان کا دور حکومت دس سال رہا انہوں نے 80 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالااور نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
عمر کے اس دور کو قرآن نے وہ دور کہا ہے کہ جس میں انسان کی اکثرصلاحتیں قدرتی طور پرپر دم توڑدیتی ہیں ابن ِ کثیر ( رح)نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بہت بڑے حوالے سے لکھا ہے یہ عمر 72 سال سے شروع ہوجاتی ہے۔؟  اسے دیکھتے ہوئےان کا یہ کارنامہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بیس یونیورسٹیاں، لا تعداد کالج اور بتیس ہزار نئے اسکول دیے۔
اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے مسلم دانشوروں کی طرح مرض پہچان لیا تھا۔ کہ مسلم قوم کے زوال کی وجہ جہالت ہے اور جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا۔ قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔
ان سے پہلے کے بادشاہوں نے ملک اور بیرون ملک صرف مذہبی تعلیم پر زور دیا اور بیرون ملک بھی مذہبی اداروں کی ہی سرپرستی کی جس کامقصد ایک مخصوص مکتبہ فکر کو رواج دینا تھا جوکہ ہمیشہ دنیا میں باعث فساد ہوا اور کسی دور میں بھی پسندیدہ نہیں رہا، کیونکہ اس سے فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس شاہ عبداللہ کے دور میں یہ فرق پیدا ہوا کہ انہوں نے زیادہ زور علمِ دُنیا پر دیا۔ تاکہ ملک کی ضروریات کے مطابق ماہرین اورسائنسداں خود پیدا کر سکیں جوکہ ایک مثبت تبدیلی اور حکمت عملی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین اس فرق کو سمجھ کر انہیں کی پالیسی کو اور آگے بڑھا ئیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اور باقی دنیا کے مسلم حکمرانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی توفیق عطا ئے فرمائے (آمین)
کیونکہ یہ حکم بھی ہے اور کلیہ بھی ہے کہ موت کسی بھی انسان کی ہو انسان اپنی موت کو یاد کرلیا کرے اور اپنا احتساب بھی کرتا رہے؟ ایسے وقت میں جو گذ شتہ دور کے حکمرانوں نے کہا  یا کیاوہ مشعل راہ ہے؟ مثلاً سکندر اعظم نے یہ کیا کہ دنیا والوں کی عبرت کے لیے مرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ خالی کفن سے باہر رکھنے حکم دیا۔ سیف اللہ حضرت خالد (رض) بن ولید نے اپنا بدن لوگوں دکھایا کہ دیکھو موت اسی طرح آتی ہے اور اسی وقت آتی ہے جو وقت لکھاہوا ہے۔ میں ساری عمر شہادت کی آرزو میں لڑتا رہا جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں زخموں کا نشان نہ ہو مگر میں بسترِ مرگ پر اپنی جان دے رہاہوں۔ خلیفہ حضرت عبد العزیز (رح) جن کے دور کو کو خلافت راشدہ میں شامل کیا جاتا ہے ، انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے اپنا کفن منگوایا اور حاظرین کو دکھایا کہ دیکھو میں یہ ساتھ لیے جارہا ہوں؟ آہ ! شاہ عبد اللہ۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ نوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ حکم ہے۔ کہیں کہ ً انا للہ وانا الیہ راجعون ہ  ًاور رواج یہ ہے کہ ہم دعائے مغفرت بھی کریں اور کہیں اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے (آمین )۔ اگر ہوسکے تو جنازے میں شرکت کابھی کریں، نمازِ جنازہ بھی جو فرض کفایہ ہے اس میں شرکت کریں اور قبرستان جانے کا بڑا ثواب احادیث میں ہے۔ اس میں شاہ اور گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے؟ جبکہ یہ علم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہے کہ کون کیا ساتھ لے گیا کیونکہ اعمال کا وزن جو ہے، وہ نیتوں پر منحصر ہے لہذا ثواب کا فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ عمل میں کس قدر خلوص تھا، وہ خالصتاً اللہ کے لیے تھا یانہیں تھا۔ جس کا علم اس نے صرف اپنے ہی پاس رکھااور فرشتوں کو بھی عطا نہیں فرمایا ؟
البتہ یہ بتلادیا کہ حکمراں اگر مومن اورعادل ہو تو اس کی جگہ جنت الفردوس ہے۔ جو نبیوں، شہیدوں اور صدیقوں کا مقام ہے ۔اس کے برعکس اگر حکمراں ظالم اور جابر ہواتو عذاب بھی اسی حساب سے عظیم ترین ہے اور ہم نشین بھی اسے ویسے ہی ملیں گے جیسا کہ وہ خود ہوگا؟
ان کا دور حکومت دس سال رہا انہوں نے 80 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالااور نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
عمر کے اس دور کو قرآن نے وہ دور کہا ہے کہ جس میں انسان کی اکثرصلاحتیں قدرتی طور پرپر دم توڑدیتی ہیں ابن ِ کثیر نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بہت بڑے حوالے سے لکھا ہے یہ عمر 72 سال سے شروع ہوجاتی ہے۔؟ لہذاان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بیس یونیورسٹیاں، لا تعداد کالج اور بتیس ہزار نئے اسکول دیے۔
اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی اور مسلم دانشوروں کی طرح مرض پہچان لیا تھا۔ کہ مسلم قوم کے زوال کی وجہہ جہالت ہے اور جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا۔ قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔
ان سے پہلے کے بادشاہوں نے ملک اور بیرون ملک صرف مذہبی تعلیم پر زور دیا اور بیرون ملک بھی مذہبی اداروں کی ہی سرپرستی کی جس کامقصد ایک مخصوص مکتبہ فکر کو رواج دینا تھا جوکہ ہمیشہ دنیا میں باعث فساد ہوا اور کسی دور میں بھی پسندیدہ نہیں رہا، کیونکہ اس سے فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ان کے دور میں یہ فرق پیدا ہوا کہ انہوں نے زیادہ زور علمِ دُنیا پر دیا۔ تاکہ ملک کی ضروریات کے مطابق ماہرین اورسائنسداں خود پیدا کر سکیں جوکہ ایک مثبت تبدیلی اور حکمت عملی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین اس فرق کو سمجھ کر انہیں کی پالیسی کو اور آگے بڑھا ئیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں اور باقی دنیا کے مسلم حکمرانوں کوتوفیق عطا ئے فرمائے (آمین)
کیونکہ یہ حکم بھی ہے اور کلیہ بھی ہے کہ موت کسی بھی انسان کی ہو انسان اپنی موت کو یاد کرلےا کرے اور اپنا احتساب بھی کرتا رہے؟ ایسے وقت میںجو گذ شتہ دور کے حکمرانوں نے کہا وہ مشعل راہ ہے۔ مثلاً سکندر ا عظم نے یہ کیا کہ دنیا والوں کی عبرت کے لیے مرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ خالی کفن سے باہر رکھنے حکم دیا۔ سیف اللہ حضرت خالد بن ولید نے اپنا بدن لوگوں دکھایا کہ دیکھو موت اسی آتی ہے اور اسی وقت آتی ہے جو وقت لکھاہوا ہے۔ میں ساری عمر شہادت کی آرزو میں لڑتا رہا جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں زخموں کا نشان نہ ہو مگر میں بسترِ مرگ پر اپنی جان دے رہاہوں۔ خلیفہ حضرت عبد العزیز جن کے دور کو کو خلافت راشدہ میں شامل کیا جاتا ہے ، انہوں اپنے انتقال سے پہلے اپنا کفن منگوایا اور حاظرین کو دکھایا کہ دیکھو میں  صرف یہ ساتھ لیے جارہا ہوں؟

Posted in Articles | Tagged , ,

ناموسِ رسالت کا دشمن کون ہے؟۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

آپ نے دیکھا ہوگا اور سنا بھی ہوگا کہ اگر کوئی بیٹا اپنے باپ دادا کی روش کے خلاف کام کرے، تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو اپنے خاندان کے بر عکس نکلا اور اس نے تو باپ دادا کانام ہی ڈبو دیا؟ جبکہ نبی (ع) ہر امت کے لیے باپ سے زیادہ ہے۔ اس سلسلہ میں حضور (ص) کا ارشادِ گرامی ہے کہ “جو مجھے اپنے باپ دادا، بیٹا بیٹی ، جان اور مال سے زیادہ نہ چاہے وہ مومن ہی نہیں ہے “۔ جبکہ ہم سب حضور(ص) سے الفت کے دعویدار توہیں جوکہ ہمارے بات بات پرمشتعل ہو جانے سے ظاہر ہوتا ہے۔ مگر ان تقاضو ں کو پورا کرنے کے لیے تیار نہیں جو مسلمان ہونےکی وجہ سے ہم پر لازم آ تے ہیں کیونکہ زبانی جمع خرچ میں پاس سے کچھ نہیں جاتا ۔ اگر ملک میں ایمرجینسی ہو مارشلا ءہو جو کچھ بھی صورت ِ حال ہو پھر بھی جلوس نکالنے اسکی قیادت کرکے خود کوچمکانے کا ایک موقعہ مل جاتا ہے؟
کل اور آج کی خبریں دیکھئے ، ساری دنیا میں جلوس نکل رہے ہیں وہ بھی جلوس نکال رہے ہیں جن کی حفاظت کے لیے کئی کئی موبائل پولس وین چلتی ہیں۔ کیوں؟ اسلیے کہ انہوں نے بھیڑیئے کالباس اتار کے بھیڑ کی کھال پہن لی ؟۔ اس میں وہ بھی پیچھے نہیں رہے جو خود اعتراف کرتے رہے ہیں کہ اگر امین اور صادق والی اسلامی دفعہ نافذکردی گئی تو ہم میں سے کوئی کہیں آئی ہی نہیں سکتا صرف مولوی آئیں گے، مگر آج ناموس ِرسالت کی حفاظت کے لیے وہی ارکان ِپارلیمنٹ انہیں مولویوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جلوس کی شکل میں باہر نکل آئے؟
کاش کہ وہ اسی جذبے کے تحت ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یہ کہتے کہ ہم اسلام کی بدنامی کا باعث ہورہے ہیں اپنے غلط کردار کی وجہ سے ۔ لہذا اس دستور کو پوری طرح نافذ کر دیتے ہیں جس کے ماتھے پر لکھا ہوا ہے کہ“ حکمرانی یہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی اور کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا، جو قوانین غیر اسلامی ہیں ان کو دس سال کے اندر اسلامی بنانا ہے اس کے بجا ئے اکتالیس گزرگئے ہیں اب مزید تاخیر کے بغیر فوراًتبدیل کر کے نافذ کیے دیتے ہیں“ لیکن یہ بڑا مشکل کام ہے، اس سے یہ آسان لگا کہ باہر آئے فوٹو سیشن ہوا پریس کانفرنسیں ہوئی اور واپس پارلیمنٹ میں چلے گئے ۔ اس لیے کہ اس میں سب سے پہلے تو انکے اپنے مفاد ات متاثر ہوتے ہیں، بہت سی مراعات ختم ہوجاتیں ، جھوٹی شان ختم ہوتی ہے؟ پھر دوستوں کی ناراضگی کا ڈر الگ ہے ۔
جب کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے سب سے زیادہ مجھ سے ڈرو ؟اگر مجھ سے ڈروگے تو کسی سے ڈرنے کی ضرورت اس لیے نہیں پڑے گی کہ میں اور میری نصرت تمہاری پشت پر ہوگی۔اگر میں نہ چاہوں تو ساری دنیا تمہیں ملکر بھی نقصان نہیں پہونچا سکتی اور سب ملکر تمہاری مدد کرنا چاہیں اور میں نہ چاہوں۔توتمہیں کوئی فائدہ نہیں پہونچا سکتا۔ اور میں تمہیں سزا دیکر خوش نہیں۔ بس اتنا کرو کہ میری بات مان لیاکرو؟اور بات کیاہے کہ میرے رسول (ص) کا اتباع کرو، میں نے تمہیں ایک مکمل دین ،مکمل کتاب اور کامل انسان اور نبی (ص) تمہارے لیے نمونہ بنا کر بھیج دیا ہے۔ جس نے تمہیں میرا ہر حکم اپنے اوپر نافذ کرکے دکھا بھی دیا ہے۔ تم نے اس(ص) کا ہر دور دیکھا۔ جب اسکے پاس کچھ نہیں تھا تب بھی وہ (ص) صادق ،امین صابراور شاکر تھا۔ اسے کسی نے کبھی کسی موقع پر غضب ناک نہیں دیکھا۔ میں نے ہر طرح امتحان لیا اس نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا؟ اور یہ معاملہ اسکی اپنی ذات تک محدود نہیں تھا بلکہ جومٹھی بھر اس (ص) کے ماننے والے تھے ان پر ہر طرح کا ظلم کفار نے روا رکھا؟ انہیں ریگستان کی دھوپ میں پیاسا زمین پر گھسیٹامگر ان کی زبان سے العطش العطش سے پہلے اور بعدمیں احد احد کی صدائیں آتی رہیں ۔ ظالموں نے خواتین کو بھی معاف نہیں کیا راہ خدا میں پہلی شہید خاتون حضرت سمیّہ (رض) کے ساتھ یہ ظلم بچشم ِ خود دیکھا کہ ابو جہل مصر ہے ان سے کہہ رہا کہ اس دین کو چھوڑ ے، ورنہ میں نے سزا دینے کے لیے یہ دو اونٹ منگوالیے ہیں انہوں نے اسکی بات ماننے سے انکار کردیا تو اس نے ان کا ایک پاؤں ایک اونٹ کی ٹانگ سے اور دوسرے اونٹ کی ٹانگ دوسرے پاؤں سے باندھ کر پھر ایک مرتبہ ڈرایا، پھر بھی حضرت سمیہ (رض) دین کے خلاف ایک لفظ کہنے کوتیار نہیں ہوتی ہیں تو اونٹوں کو اسکے حکم پر مختلف سمتوں میں ہانک دیا گیا اور ان کے بیچ میں سے دو تکڑے ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کے شوہر بھی اس کی خواہش پوری نہیں کرتے ہیں وہ بھی شہید ہو جاتے ہیں۔ حضور (ص) اس پر بھی صبر فرماتے ہیں اورصرف یہ جملے ادا فرماتے ہیں کہ خاندان یا سر (رض) جنتی ہے۔ کیونکہ اس وقت تک لڑنے کے لیے رب سے انہیں حکم نہیں ملا تھاہر حالت میں صبر کرنے کا حکم تھا۔ ہم اسوہ حسنہ (ص) کو سامنے رکھ کر یہ سوچیں کہ ہم میں ان جیسے صبر کا ہزرواں حصہ بھی ہے ۔؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
یہ تو ایک مثال تھی حضور (ص)کی سیرتِ مبارکہ سے جبکہ وہ ایسی ہزاروں مثالوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ بھی ہمارے لیے سبق ہے کہ انہوں (ص) نے اقتدار میں آنے کے بعد بھی کسی  سےانتقام نہیں لیا ،کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا؟ جبکہ ہم (ص)نے ان کا بتایا ہواراستہ چھوڑ دیا ہے نتیجہ کے طور پرزیر عذاب ہیں اور آج اپنے کردار کی بنا پر انہیں (ص) اور ان کے دین کو بدنام کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ آج بھی ایماندار مورخ ان کے کردار کو سراہنے کے بعد بڑے افسوس کہتے ہیں کہ ان (ص)کو ان کے ماننے والوں سے کوئی نسبت نہیں ہے؟یہ کیا ہم ان کے نام کو بٹہ نہیں لگارہے ہیں ؟ ان کو اذیت نہیں پہنچا رہے ہیں۔ جس کے بارے میں وہ (ص)خود فرما رہے ہیں کہ “ جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کواذیت پہنچائی“ کیا ہم اپنے کردار درست کر کے اس گناہ سے بچ نہیں سکتے۔ جہاں یہ انتباہ سورہ حجرات میں ساتھ میں موجود ہو کہ “ نبی کے سلسلہ میں محتاط رہو اپنی آواز بھی بلند مت کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں خبر بھی نہ ہو اور تمہارے تمام اعمال ضائع ہوجا ہو جائیں ؟
مگر ہم نے قرآن سے لا پروائی برتی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے چھپن ملک بھی ہیں ڈیرھ ارب کے قریب آبادی بھی ہے اٹامک پاور بھی ہیں اور دنیا کی بڑی افواج رکھنے والی قوموں میں بھی ہمارا شمار ہوتا ہے۔ مگر ہم سوائے احتجاج کے کچھ نہیں کرسکتے ہیں ۔ اس لیے کہ اسوہ حسنہ (ص) سے ہٹے ہو ئے اور آپس میں بٹے ہوئے ہیں ؟ کسی ایک مسئلہ پر بھی اتفاق ِ رائے نہیں ہے۔ اس کا حل کیا ہے اسی دامن رحمت میں واپسی ،پھر ویسا ہی بننا جیسا ہمارا بنانے والا ہمیں دیکھنا چاہتا ہے؟ وہ ہم میں یہ دورخی نہیں دیکھنا چاہتا کہ آدھے تیتر ہیں آدھے بٹیر ہیں کیونکہ وہ فرماتا کہ سب سے بہتر رنگ میرا (اللہ) کا ہے بس اسی رنگ میں رنگ جاؤمیں تمہیں دوبارہ اپنالونگا، مگر ہم نہ اس کا رنگ اپنانے کوتیار ہیں ، نہ اس کے نبی کا اسوہ حسنہ (ص) اپنا نے کو تیار ہیں ۔ بس اس طرح چاروں طرف بھٹک رہے ہیں جیسے کہ کوئی مسافر اپنی راہ کھو بیٹھا ہو ۔ نتیجہ یہ ہے کہ سب سے ڈرتے ہیں سوائے اللہ سے ڈرنے کے ۔ جب کہ اس نے قرآن میں مثال دی ہے کہ وہ غلام بہتر ہے جس کا ایک مالک ہو؟یا وہ بہتر ہے جس کے ایک سے زیادہ مالک ہوں اور ہرایک اپنی طرف گھسیٹتا ہو؟
ظاہر ہےایسے میں کوئی ایک بھی راضی نہیں رہ سکتا۔ وہی حالت اب ہماری ہے کبھی ایک کہتا ہے کہ ڈو مور (Do more ) کبھی دوسرا کہتا ہے کہ ڈومور ، جبکہ ہم نے بلا تفریق ہرایک سے اپنا ناطہ جوڑ رکھا ہے یہ دیکھے بغیر کہ انکے راستے مختلف ہیں اور ہر ایک کے اچھے بننے کی کوشش کر رہے ہیں ،جبکہ ا یسا ناممکن ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے؟ کبھی اس کے پاس بھاگ کر جاتے ہیں تاکہ اس کو مطمعن کرسکیں کہ اتنے دوسرا ناراض ہوجاتا ہے؟ شدت پسند بھی ساتھ ہیں ان کے مخالف بھی ہمارے ساتھ ہیں ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ مگر اس کی سنت ہے کہ وہ رحم اس پر فرماتا ہے جو دوسروں پر مہربان ہو اور اپنی جان پر ظلم نہ کر تا ہو؟ ظلم کیاہے ۔کسی کا حق تسلیم نہ کرنا۔ اسی لیے شرک کواللہ تعالیٰ نے ظلم سے تعبیر کیا ہے کہ بندہ پہلے اس کا نا فرمان بنتا ہے، پہلے اسی کے حقوق سے منحرف ہو تا ہے؟ پھر کہیں جا کر دوسروں کے حقوق نظرانداز کرنا شروع کرتا ہے اگر خوف خدا ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی کے حقوق غصب کر سکے کسی کے ساتھ برائی کر سکے ؟ اس کی مثالیں صحابہ کرام (رض) کے کردارکی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ،اولیائے کرام (رح)کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ۔ جبکہ مسلمان وہی ہے جو حضور (ص) کا پیرو ہے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ پورے معاشرے کےلیے بے ضرر ہو اور اس کے برعکس آج مسلمان کی پہچان کیا ہے۔ وہ بھی آپ پر چھوڑتا ہوں ۔تاکہ ہم سب اپنا حتساب کرسکیں؟

Posted in Articles | Tagged ,

بھانت بھانت کی بولیاں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے سامنے آج تین گرماگرم عنوانات ہیں ۔ ہمارے قارئین تینوں پر ہمارے خیالات پڑھنا چاہتے ہونگے مگر ہم نے اپنے اوپر خود ساختہ پابندی عائد کررکھی ہے جیسے کہ بعض لوگ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلیتے ہیں؟ چونکہ ہمارے لیے عہد کی پابندی لازمی ہے۔ جبکہ بعض مسلمان یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ عہد تو ہوتے ہی توڑنے کے لیے ہیں اور وعدے ہوتے ہی ٹہلانے کے لیے ہیں؟ ہم چونکہ پرانے وقتوں کے لوگوں میں سے ہیں ،اپنا عہد نبھاتے ہوئے ہفتے کے ہفتے  ہی لکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں کوئی ایک عنوان منتخب کرنا پڑتا ہے۔ مگر آج تینوں عنوانات ایسے ہیں جن پر لکھنے کو دل مچل رہا ہے۔ اس لیے جیسے کہ لوگ نظریہ ضرورت کے تحت چار شادیا ں کرلیتے ہیں ہم نے بھی آج تینوں عنوان منتخب کرلیے ۔سب سے پہلا تو ہے ایک پھانسی کامعاملہ؟
جبکہ آپ نے اکثر یہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ “ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا “ مگر یہاں معاملہ الٹا ہو گیا کہ کرے  مونچھو ں والا اور پکڑا جا ئے داڑھی والا۔ معاملہ تھا دو دہشت گردوں کا جو کہ ہم نام تھے۔ دونوں میں “اکرام“ مشترک تھا یعنی دونوں کے نام اکرام تھے ایک کے ساتھ حق لگا ہواتھا اور دوسرے کے ساتھ کچھ بھی نہیں ۔ جبکہ ایک کی مونچھیں اور دوسرے کی گھنی داڑھی تھی، ایک سندھ میں پیدا ہوا تھا اور دوسرا جھنگ کے علاقے شور کوٹ میں ؟ لیکن کہلاتے دونوں لاہوری تھے۔ جبکہ لاہور جو داتا (رح) کی نگری ہے، میاں میر (رح) کا شہر ہے جنہوں نے زندگی بھر محبت بانٹی ۔اس کا بھلا دہشت گردوں سے کیا تعلق؟ مگر جب اللہ دینے پر آتا ہے تو کیسے بندوبست کرتا ہے۔ پولس نے ڈیتھ وارنٹ اکرام الحق کے حاصل کر لیے؟ اکرام لاہوری کے جرم میں، جس کی تاحال سندھ سے منتقلی بارہ سال میں نہیں ہوسکی اور اسے پولس ہر مقدمے میں اکثرلاپتہ قرار دیتی رہی ۔ چونکہ انتطامیہ جلدی میں تھی پولس کویہ مقدمہ ٹھکانے لگانے کا موقعہ مل گیا؟
میڈیا کوجیسے ہی پولس نے اطلاع دی ۔اس نے حسب روایت اکرام کی ویڈیو تک دکھانا شروع کردی کہ وہ اتنا با اثر تھا کہ وزیر اعظم کے گھر میں ان کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر نکل گیا۔ یہ جانتے ہو ئے بھی کہ آج کے دور میں جعلی ویڈیو اور فوٹو سب کچھ عام بنتے ہیں۔ جب کہ اکرام الحق کے سرپرستوں کو پتہ چلا کہ اب ان کے شاگرد کو پھانسی ہو ہی جانا ہے تو وہ جھنگ پہونچ گئے اور مک مکاؤ ہوگیا؟ اس کی درخواست پر مجسٹریٹ نے پھانسی پر عملدر آمد روک دیا ۔ حالانکہ ڈیتھ وارنٹ پر وقت تک لکھا ہوتا ہے پہلے وقت نکل جائے تو پھرپھانسی نہیں ہوسکتی تھی۔ اب پتہ نہیں کہ یہ لاسٹک اور چنگم کا دور ہے ۔ لہذا اب چھوٹی سی رسی کھنچ کر بہت دور تک پہونچ جاتی ہے۔ جو کہ کسی چھوٹی سی ڈبیہ میں بند ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اس تصویر کا کرشمہ ہے جو اس پر بنی ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں ایک کے بجا ئے تین قسم کے قوانین نافذ ہیں لہذا پتہ نہیں کہ کس نے کونسا استعمال کیا ؟ لہذا پوری فائیل دیکھے بغیر کو ئی بڑے سے بڑا قانون داں یہ نہیں بتا سکتا کہ پولس نے کونسا قانون استعمال کیا اور عدالت نے کس قانون کے تحت چھوڑا۔؟جنہیں پاکستان چھوڑے زیادہ عرصہ ہوچکا انہیں شاید پتہ نہ ہو لہذا میں بتا ئے دیتا ہوں کہ وہاں جو تین اقسام کے قوانین نافذ ہیں۔ ایک بر طانوی قانون ہے جو ورثے میں ملا تھا اور اب وہ پاکستان کریمنل کوڈ کہلاتا ہے ، دوسرا شریعت لاءہے جو ضیاالحق صاحب کا عطا کر دہ ہے اور تیسرا دہشت گردی ایکٹ جو غالباً مشرف صاحب کی دین ہے۔
آجکل پولس چالان کرتے وقت پوچھتی ہے کہ کونسی دفعہ لگوانی ہے۔ مثال کے طور پر قتل کرکے اگر چھٹنا ہو تو شریعت لاءکہ اگر قاتل واقعی پھنس گیا تو لے دے کے چھٹ جا ئے گا۔ اگر دفعہ تین سو دو لگی ہوئی ہے تو مدعی حکومت ہوتی ہے پولس پیروی ویسی ہی کرتی ہے جتنا اسے گڑ پڑتا ہے اور جس طرف سے پڑتا ہے؟اس میں چھٹنے میں تھوڑی مشکل ہو سکتی ہے ۔اور تیسرے ہنگامی قوانین مشرف کے دور کے ہیں ان عدالتوں کی اپیل صرف سپریم کورٹ میں ہوسکتی ہے۔ اکرام الحق کو سزا دہشت گردی کی عدالت سے ملی تھی ،  تومجسٹریٹ کے پاس پھانسی روکنے کی بظاہر کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مگر وہ کیا کرتا کہ ایک طرف تو ساری دہشتگردوں کی قیادت اور دوسری طرف نہ جانے کیا کچھ۔ سامنے تھا؟ بہر حال داڑھی والا مونچھوں کی جگہ پھانسی پاتے پاتے رہ گیا؟
ورنہ اس توزک ِ جہانگیری میں ایک اور اضافہ ہوجاتا، جس میں بہت سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے جیسے کیس بھی شامل ہیں۔ یہاں تک تو پہلے عام تھا کہ پولس نظریہ ضرورت کے تحت ملزم اگر نہ پیش ہو تو دوسرے کو اس کی جگہ پیش کرکے تاریخ لے لیتی تھی۔ مگر یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقعہ تھا کہ اصل کے بجا ئے ڈیتھ وارنٹ اس نے دوسرے کے کسی اور کے لیے جاری کرالیے۔ لہذاان لوگوں میں تشویش ہونا قدرتی بات ہے جن کی گردنیں موٹی ہی؟
اب آتے ہیں عمران خان کی شادی کی طرف؟ اس شادی میں جلدی انہیں یوں کرنا پڑی کہ میڈیا نے ان کے اس ارشاد کواتنا اچھالا، جو کہ انہوں نے جلسے میں جوش خطابت یا ازرراہ تفنن فرمادیا تھا۔ کہ “ جس دن نیا پاکستان بن جا ئے گا میں شادی کرلونگا“ وہ کپتان کے ساتھ خان بھی ہیں چونکہ نیا پاکستان بننا یا نہ بننا تو کسی اور ہاتھ میں ہے اور اس سلسلہ میں تاریخ یہ ہے کہ کوئی بھی ابھی تک وہ وعدہ پورا نہیں کرسکا۔؟مگر انہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا جوکہ ان کے ہاتھ میں تھا یعنی شادی کرلی۔ میڈیا سونگھتی ہی رہگئی؟ مگر مولانا تک نے بھنک نہیں پڑنے دی، پتا جب چلا جب نکاح ہو چکا تھا اور وہ بھی لڑکی کے گھر نہیں بلکہ لڑکے گھر میں ، شاید مستقبل میں یہ نئے پاکستان کی ریت بن جائے کہ دین امراءکا چلتا ہے؟ جبکہ وہاں سے صرف ایک ہی خبر مل سکی کہ نکاح خواں اپنے ہی دستخط کرنابھول گئے ؟شکر ہے کہ انہوں نے دولہا دلہن کے دستخط کرالیے تھے۔ اب خانصاحب اور بیگم صاحب ایک اور ایک مل کر ماشاءاللہ گیارہ ہو گئے ہیں؟ خواتین کا ونگ آئندہ سے بیگم صاحبہ سنبھالا کریں گی اور مردوں کاوہ خود؟ جو اس اعلان سے ظاہر ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ١٨جنوری کو بیگم صاحبہ بھی ان کے ساتھ  دھرنے میں شامل ہونگی؟ اس پر دو تبصرے بڑے دلچسپ ہیں ۔ایک تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اور دوسرا ہے ان کے پرانے ساتھی جناب جاوید ہاشمی صاحب کاکہ مولانا نے اپنی عمر تو بتائی نہیں مگر یہ فرما یا کہ “ عمران خان تو مجھ سے بڑے ہیں “ حالانکہ ان کی عمر کسی نے نہیں پوچھی تھی؟ کیونکہ سال گرہ منانا انکے یہاں بدعت ہے۔ لہذا وہ کسی کو معلوم بھی کیسے ہوسکتی ہے؟ جبکہ جاوید ہاشمی صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ عمران خان کے شادی کرنے کے بعد ان کی بیوی ڈرنے لگیں ہیں اور پہلے سے زیادہ خدمت کرنے لگی ہیں “ ( یہ خبرمردوں کو مبارک ہو)۔ جبکہ پرویز رشید صاحب نے ٹیپ کا بند یہ کہا ہے کہ ہم اٹھارہ جنوری سے پہلے ہی جوڈ شیل کمیشن کی بریکنگ نیوز چلوادیں گے تاکہ وہ بجائے دھرنا دینے کہ اپنا ہنی مون منا سکیں۔ اس سلسلہ میں تازہ خبر یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی بیگم صاحبہ مع بچوں کے مدرسے گئے اس سے وہ کیا پیغام قوم کو دینا چاہتے ہیں وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، یہ مستقبل میں پتہ چلے گا؟ جبکہ ایک خبر یہ ہے کہ ولیمے میں صرف اسکول کے بچے اور فقراءاور مساکین مدعو ہونگے ؟ شاید مولوی صاحب یہ ان کو بتادیں کہ ولیمہ حضور (ص) کی وہ سنت تواترہ ہے جو انہوں نے کبھی ترک نہیں فرمائی۔ اور وہ (ص) بلا تخصیص سب کو دعوت دیتے تھے؟
تیسری بات ہے مولانا فضل الرحمٰن اور ایم کیو ایم میں جاری مناظرہ ؟ انکا فرمانا یہ ہے کہ ایم کیو ایم والے “ پ “کاپرندہ بنالیتے ہیں؟ مولانا وہ کیا کریں کہ لغت تو بدل نہیں سکتے کہ پرندہ لغت میں ہے ہی  “پ“ سے اور پر بھی “ پ“ سے ہے جب تک پرندہ پرنہ نکالے وہ اڑبھی نہیں سکتا، جبکہ انسان بغیر پرکی اڑاتا بھی ہے اور اڑتا بھی ہے۔ اسے سن کر ہمیں بہت پرانی تا ریخ یاد آگئی ، ایک صاحب ہوا کرتے تھے خواجہ حسن نظامی جو بہ یک وقت اخبار نویس بھی تھے لیڈر  بھی تھے اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) کے سجادہ نشین بھی ۔ مگر جب وہ لکھنے پر آتے تو پھرکسی کو بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ مگرمولانا کی یہ روش پہلے تو نہیں تھی اب کیا ہوا؟ پہلے اگر ان کی ذات کے بارے میں کوئی اخبار نویس پوچھ لیتا تھا تو وہ ناراض ہوجاتے تھے؟ ان کے مزاج میں یہ بڑی اہم تبدیلی ہے خدا خیر کرے اس کی کوئی فرسٹریشن تو نہیں ہے ؟ میرے خیال میں وہ جلد ہی نارمل ہو جا ئیں گے ۔کیونکہ نواز شریف صاحب نے حکم دیدیا ہے کہ ان کے تحفظات دور کر دیے جائیں؟ وہ اکثر دور ہوہی جاتے ہیں ؟ یہ تو ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتا ہے ۔ ہمارے ایک وزیر اعظم صاحب نے الیکشن اسی مسئلہ پر لڑا کہ انہیں ایک معاہدے پرتحفظات تھے۔ جو تھا امریکہ اور کنیڈا کے درمیان، وہ منتخب ہوگئے۔ پھر ان کی طلبی ہوئی، امریکن صدر سے ملاقات ہوئی واپس تشریف لائے تو انکے تحفظات دور ہوچکے تھے؟ پاکستان میں بھی زیادہ تر کے تحفظات دور ہوچکے ہیں ۔ جو رہ گئے ہیں ان کے بھی جلد دور ہوجا ئیں گے کہ گردن تو سب کو پیاری ہے؟

Posted in Articles | Tagged ,

موجودہ دور میں مسلمانوں کی اقسام ۔۔۔ از … شمس جیلانی

ہم نے گزشتہ صدی کے مشہور پاکستانی عالم حضرت مولانا حتشام الحق تھانوی(رح) کو اپنی تقریر میں میر پور خاص میں فرماتے ہوئے سنا، کہ ایک مرید نے اپنے پیر سے پوچھا کہ بزرگوں کی کتنی قسمیں ہیں ؟(شایدوہ نذرانہ لینے والے پیر نہیں تھے ورنہ کہدیتے کہ مجھے کیا معلوم، نذرانہ دو اور کوئی سفارشی چٹھی وغیرہ کسی  بھی شاہی دربار میں چا ہیئے ہو تو لے لواور چلتے بنو؟ چونکہ اس وقت یہ پیروں کی ذمہ داری میں شامل تھا کہ وہ ان کے ہر سوال کاجواب دیں اورتزکیہ نفس بھی کرائیں تاکہ ان کے اعلیٰ کردار کو دیکھ کر دوسرے بھی مسلمان ہوں)لہذا پیر صاحب نے جواب میں فرمایا کہ تم جامع مسجد چلے جاؤ وہاں تین بزرگ عبادت میں مصروف ملیں گے۔ ان میں سے ہر ایک کے ایک چانٹا مارنا انکے رد عمل سے تمہیں پتہ چل جا ئے گا۔ (اس زمانے میں مرید بھی ایسے ہوتے تھے کہ جو پیر نے کہدیا تو وہ کرنے کو تیار چاہیں اس کھیل میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے اس لیے کہ انہیں یقین تھا کہ پیر جھوٹ نہیں بولتے۔ کیونکہ پیر بننے کے لیے شرائط ہی ایمان لانے کے بعد دو تھیں، صدق ِمقال اور اکل حلال یعنی سچ بولنا اور حلال کھانا۔) مرید بے فکر ہوکر جامع مسجد چلاگیا اور جو اسے حکم ملا تھاوہ عملا ًکر گزرا؟ پہلے بزرگ نے اسے گھور کر دیکھا اور پھر عبادت میں مصروف ہو گئے،دوسرے نے جواب میں تھپڑ رسید کر دیا اور وہ بھی عبادت میں مصروف ہوگئے،تیسرے نے عبادت چھورڑدی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر سہلانا شروع کردیا کہ بیٹا میرے جسم میں گوشت تو ہے ہی نہیں صرف ہڈیا ں ہی ہڈیاں ہیں تمہیں چوٹ تو نہیں لگی ؟

واپس آکر مرید نے پورا ماجرا اپنے پیر صاحب کے گوش گزار کیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ بس بزرگوں کی یہی تین اقسام ہیں ۔ آگے تقریر سیاسی تھی اور وہ ایوب خان کی حمایت میں تھی  وہ سیاست میں بہتے چلے گئے اور ہم گھر چلے گئے۔ مگر ہم نے جو اس سے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اسی کہانی سے سمجھانا کیا چاہتے تھے۔ وہ یہ تھا کہ وہاں ترتیب غلط ہوگئی ۔ کہ جنہوں نے بدلالیا وہ وہ تصوف کے پہلے درجہ میں تھے، اور جنہوں نے معاف کردیا وہ دوسرے درجہ میں اور اکملیت کے قریب تھے۔ لیکن جنہونے نے اسکا ہاتھ سہلانا شروع کردیا وہ بزرگ کامل تھے؟

کیونکہ قرآن میں بدلا لینے کا حکم تو ہے مگر اتنا ہی جتنا کہ مظلوم کو ضرر پہونچا ہواوراسے معاف کردینے کی ترغیب بھی دی گئی ہے؟ پھر صبر کرنے کی بہت زیادہ تعریف فرمائی گئی ہے۔اوران بزرگ کا بجائے غصے کرنے کے ،عبادت چھوڑ کر خدمت خلق میں لگ جانا ان کی بزرگ کی روحانی عظمت پر دلالت کر تاہے۔ اب یہ آخری قسم نا پید ہے پچھلی صدی تک ان کے بڑے بڑے دربار ہوا کرتے تھے بلا تفریق ِ مذہب و ملت وہ سب کی خدمت کرتے تھے،اور ان کا ایک ہی اصول تھا کہ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں، ان کے پاس سے عطر کی خوشبو آتی تھی دربار خوشبوؤن سے مہک رہے ہوتے تھے۔ جو صبح سے شام تک وہاں آتا وہ حضور  (ص)کا اتباع کرتے ہوئے ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے ۔ لطف کی بات یہ تھی کہ نہ ان کے پاس راشن ختم ہوتا نہ انکا لنگر بند ہوتا ۔انہو ں نے دنیا میں اپنے اسی اخلاق اور کردار سے اسلام پھیلایا۔ اب ان کے چربے تو بہت ہیں لیکن آجکل اصل اتنے کمیاب ہیں کہ اول تو کہیں دکھائی نہیں دیتے اگر کہیں مل بھی جائیں تولوگ ان کو چربوں کے دھوکے میں طنز سے  “درودّیے  “کہہ دیتے ہیں کیونکہ اکثر وہ بھی انہیں کی طرح درود پڑھتے دکھائی دیتے ہیں ۔ قرآن نے غصے کوبرداشت کرنےوالے کی سورہ مومن میں شروع کی آیات میں بڑی تعریف کی ہے۔ جبکہ بدلا لینے والے کی مذمت تو نہیں کی مگر تعریف بھی نہیں کی البتہ اس کو یہ تنبیہ ضرور کی ہے کہ دیکھو بدلا لینے میں حد سے مت گز ر جانا ورنہ تم خود ظالموں میں شمار ہو جاؤگے اور ایک دوسری آیت میں فر مایا کہ اللہ ظالموں (حد سے گزرنے والوں) کو پسند نہیں فرماتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ صرف  “درود “ہی کیوں پڑھتے ہیں ۔ اس لیے کہ جس طرح حضور (ص) کااسوہ حسنہ قرآن اور ارشادات عالیہ کا مجموعہ ہے اسی طرح یہ اللہ سے استدعا برائے رحمت رسول کریم اورخاندان عالیہ کا مجموعہ یعنی اہلِ بیت پرکرتے ہے۔ پھر دوسرے ذکر واذکار کی تعداد مقرر ہے جبکہ درود شریف کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے بلکہ حضور (ص) نے اپنے ایک صحابی  (رض)فرمادیا کہ جتنا وقت چاہواتنا پڑھو ؟ انہوں نے وضاحت چاہی کہ کیا سارے وقت ؟تو ارشاد ہوا “ ہاں یہ ٹھیک ہے“ پھر پرانی کتابوں میں بھی درود ِ ابراہیمی کی بڑی تاکید ہے دیکھئے (جنیسس حصہ سوئم ورس نمبر ٢ ا) جبکہ سلام میں درود پڑھنے کے بے انتہا فضائل ہیں اور ہمیں حضور (ص) نے جو درود پڑھنے کے لیے بتایا وہ درودِ ابراہیمی ہے جو اکثریت نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بے انتہا فضائلِ درود کے موجود ہیں جو قرآن اور احادیث کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ پھر جو مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں انہیں مشاہدہ ہوا ہوگا کہ صبر کا دامن وہاں بھی حجاج چھوڑ کر لڑپڑتے ہیں۔ حاضرین دردو پڑھنا شروع کردیتے ہیں ! درود سنتے ہی اکثر لوگوں کو حرم کا احترام یاد آ جاتا ہے اور دونوں لڑنے والے شیطان پر لعنت پڑھتے ہوئے خاموش ہو جاتے ہیں ۔ غرضیکہ  اس کے روحانی اور دنیاوی فوائد بے شمار ہیں ۔

جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ اب یہ طبقہ نایاب ہے اور مسلمانوں کی پہچان مختلف ہوگئی ان کے بجائے  کچھ مسلمان “بارودّیے  “بن گئے ہیں جنہوں نے دنیا کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں جن کے جسموں سے عطر کی خوشبو کے بجائے بارود کی بدبو کے بھپکے اٹھتے ہیں ۔ جو بغیر وجہ بتائے جان سے ماردیتے ہیں ! بلاوجہ پھٹ پڑتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو ساتھ میں لے مرتے ہیں ۔ وہ ہرایک سے نفرت کرتے ہیں،ان کی زبان زہر اگلتی ہے۔بات بات پر کفر کے ڈونگرے بر ساتے رہتے ہیں مگر خدا کاشکر ہے کہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔
اب مسلمانوں کا تیسرا اور بڑا گروہ جو اکثریت میں ہے وہ ہیں “ سرودّیے “ یہ لفظ آپ کو لغت میں نہیں ملے گا۔ قافیائی ضرورت کے تحت ہم نے اسے نہ صرف شامل ِ مضمون کرلیاہے بلکہ ماہرین لغت سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ یہ بھی گلو بٹ کی طرح شامل لغت ہوجا ئے گا۔
اس کی اصل کیا ہے۔ علامہ اقبال نے قوموں کی تقدیر کے عنوان سے بتایا ہے کہ پہلے ہر قوم اپنی تقدیر تیغ و سنا کے ذریعہ بناتی ہے۔ پھر اسے عیاشی سوجھتی ہے اور وہ رقص و سرود میں کھوجاتی ہے۔ جس کو انہوں نے طاؤس اور رباب سے تشبیہ دی ہے۔ وہاں طا ؤس اپنی وجہ شہرت رقص کی وجہ سے اور“ رباب ساز“ کے طور پر استعمال کیا ہے اور ہم نے ان کی پیر وی کرتے ہو ئے سرودّیے لفظ “ سرود “سے لیا ہے۔  کیونکہ آجکل پوری قوم اسی میں مگن ہے۔ ہماری عیدین ، جو ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرما کر مرحمت فرما ئی تھیں کہ زمانہ جہالیہ میں کفار اپنے تیوہاروں پر ناچا کودا اور سیٹیاں بجایا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ گمراہ تھے، آئندہ سے تم اس دن میرا نام لیا کرو گے اس لیے کہ تم مومن ہو؟ پاکستان بھی ایسی رات میں دیا جو عبادت والی ہے یعنی ستائیس رمضان المبارک، کہ اس میں کسی رقص اور سرود کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ مگر ہم نے اس کو ثانوی حیثیت دیدی اور اس کے بجا ئے 14گست اپنالیا، کہ  “رقص وسرود میں رخنہ نہ پڑے “۔ ہماری ان حرکتوں کی بنا پر رب نے ناراض ہوکر ہماری طرف بلائیں بھیجنا شروع کردیں تاکہ عبرت حاصل کریں ۔ کیونکہ اس کی یہ سنت رہی ہے کہ سزا دینے سے پہلے وہ انتباہ کرتا ہے۔ اگر ہم حضرت قتادہ (رض) کی یہ وضاحت مان لیں کہ اہلِ اقراءپرعذاب تلوار کی شکل میں آتا ہے۔ جبکہ دوسروں پر طوفان ،سیلاب ،ہواؤں اور چنگھہاڑ وغیرہ کی شکل میں آیا کرتا تھا۔ جس کی پوری تفصیل ابن ِ کثیر (رح) نے سورہ انعام کی آیت نمبر65  کی تفسیرمیں کی ہے۔ تو ہم اس کیفیت سے بھی کافی عرصے سے گزرہے ہیں ۔ مگر ہم پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ابھی چند روز پہلے قو م پشاور میں جس اندوہناک سانحہ سے گزری وہ اتنا بھیانک تھا کہ پوری قوم ہل گئی اور متحد ہوگئی۔
مگر جیالوں کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ان کی اس ثابت قدمی پر کہ ہمیشہ کی طرح قوم تھوڑی دیر روئی اور پھر “ رقص و سرود “ میں مصروف ہوگئی۔ کیونکہ شمسی کلینڈر کے سال کا پہلادن آگیا تھالہذا نہو ں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو منانے کے بجائے ،نیا سال منانے کا فیصلہ کیا؟ اس کے آپ نے ٹی وی پر نظارے دیکھے ہونگے۔ اگر بڑے لوگ صرف کلبوں میں ناچتے، بنگلوں میں رقص کرتے تو شاید ہم جیسے پردیسیوں کو نظر نہ آتا، مگر جب لوگ سڑکوں پر ناچ رہے ہوں تو پھر کیمرے کی آنکھ سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ مہینہ ربیع الاول کا بھی تھا یعنی وہ مہینہ جس میں رحمت العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اس کی راتوں میں ہرجگہ نعت خوانی جاری رہتی ہے ، اگر لوگ ناچنے کے بجائے سیرت پڑھتے اور علماءسے سنتے سناتے تو شاید اسوہ حسنہ (ص) پر قوم عمل پیرا ہوکر رب کو منالیتی ،جسکو منا نا موجودہ صورتِ حال میں کلچر کے تقاضے پورے کرنے سے کہیں زیادہ اہم تھا؟ لیکن ہر فرد یاقوم کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں انہوں نے اسے مناکر یہ ثابت کردیا کہ ہم ماڈرناور بہادر قوم ہیں ،  لاشوں پر بھی مسکرا سکتے ہیں اور رقص بھی کرسکتے ہیں ۔ آخر میں، میں اپنی بات اس دعا پرختم کر تا ہوں کہ اللہ اس قوم کو ہدایت دے( آمین)

Posted in Articles | Tagged , ,

کس قدر دھوکا دیارنگِ گلستاں نے ہمیں۔۔۔شمس جیلانی

دنیا کا قاعدہ ہے کہ ہمیشہ بہتری کی طرف جاتی ہے۔ لیکن ہم بجائے اس کے ملک حاصل کرنے کے بعد تجربات میں لگ گئے۔ کہ ہمارے لیے کونسا نظام بہتر رہے گا۔ یہ مسئلہ ہم اگر پاکستان بننے سے پہلے طے کرلیتے تو کہیں بہتر رہتا جیسا کہ ہمارے ایک دن بعد آزاد ہونے والے پڑوسی ملک بھارت نے کیا کہ آزادی سے پہلے دستور کی تیاری کے لیے کانگریس نے دستور ساز کمیٹی بنا دی اور اس نے ملک کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی دستور کا ڈھانچا تیار کر لیا اور جیسے ہی آزادی ملی ا ور پارلیمنٹ بنی اس نے ایک سال میں ہی نافذ کردیا۔ جبکہ ہماری قیادت نے ان کامذاق یہ کہہ کر کے اڑایا کہ ان بیچاروں کے پاس تو دستور ہے ہی نہیں اس لیے انہوں نے دستور سازی کے لیے کمیٹی بنا ئی ہے؟ ہم کیوں بنائیں جبکہ ہمارے پاس تو قر آن کی شکل میں دستور موجود ہے۔ بات معقول تھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور مسلمان ہوتے ہوئے اس پر کوئی اعتراض کر بھی کیسے سکتا تھا ،عمل نہ کرے یہ اور بات ہے۔ ویسے بھی ہم ایک عرصے سے ہیرو پرستی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہم نہ اپنے ذہن سے سوچتے ہیں نہ اپنے لیڈر کی کسی بات پر اعتراض کرتے ہیں۔
ہم نے اس کے برعکس چلنا ضروری سمجھا اور دستورکامسئلہ بعد کے لیے اٹھا رکھا ۔یاد اس وقت آیا جب کہ پاکستان بن گیا اور روزمرہ کے لیے دستور کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم نے تمام معاملات یکجا رکھنے اور جلدی دستور بنا نے کے لیے اپنی پارلیمان کا نام ہی دستور ساز اسمبلی رکھدیا۔ جبکہ آزادی ملتے ہی مسائل کی وہ یلغار ہوئی کہ اسے دستور سازی کا وقت ہی نہیں ملا آخر لوگوں کو اور کام بھی تو کرنے تھے، کئی برسوں میں جب دستور نہ بن سکا اور اسمبلی گورنر جنرل غلام محمد کے آڑے آئی تو اس نے اس کو برطرف کرکے اس سے جان چھڑادی۔اس کے اس فیصلے کے خلاف سندھ چیف کورٹ نے جراءت دکھا ئی اس کا فیصلہ کل عدم قرار دیدیا مگر فیڈرل کورٹ نے جسٹس منیر صاحب کی قیادت میں نظریہ ضرورت کاسہارا لیکر چیف کورٹ کے فیصلے کو رد کردیا۔ وہ دن ہے کہ ہم نظریہ ضرورت سے باہر نکلنا بھی چاہیں تو نکل نہیں سکتے؟ کل ہم نے وزیر اعظم کا اعلان سنا جسے قوم کے لیڈران کے مشترکہ بیان کا درجہ حاصل تھاکیونکہ وہ قوم کے تمام لیڈروں کی منظوری سے جاری ہوا تھا۔ جس میں تمام اچھی اچھی باتیں جمع تھیں سوائے قومی فلاح کے؟ اسے شاید اس لیے التوا میں رکھنا پڑا کہ جب تک امن نہ ہو تو قوم دس سال میں جو کارخانہ بنا ئیگی وہ کوئی پھٹ پڑنے والاایک لمحہ میں اڑادے گا۔ اس میں سب کے فائدے ہیں ۔ نہ کارخانہ رہے گا نہ کوئی بد عنوانی پکڑی جائیگی۔ ع رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتے ہیں رہزن کو
پھرہم نے پاکستان کے وزیر اطلاعات پر ویز رشید صاحب کا یہ اعتراف سنا کہ قوم سانحہ پشاو رکو کبھی فراموش نہ کر سکے گی، مگر ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ “ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں اپنا احتساب کرنا ضروری ہے؟ مگر ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ خود احتسابی کی جومثال حضور (ص) اور ان کے خلفا ءنے قائم فرمائی تھی اس کاتو اب رواج ہی نہیں ہے؟ اس کے بعد ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا ہمارا احتساب کرے اسکے لیے سب سے پہلے محکمہ انسداد رشوت ستانی بنا ،پھر اس کے بعد محکمے پر محکمے بنتے چلے گئے ۔ پھر بھی کام نہیں چلا تو پھر مرکزی اور صوبائی محتسب ِ اعلیٰ بنے جو شروع میں جج ہوا کرتے تھے۔ بعد میں اس کی بھی قید نہیں رہی پھر جو بھی آیا، بالم کا انتخاب ہونے کی وجہ سے عالم میں لاجواب تھا۔ ایسے میں خود احتسابی یا احتساب کی بات ؟ان کی سادگی پر ہنس نے کو جی چاہتا۔
دوسری بات جو انہوں نے اہم کہی وہ واقعی بہت اہم ہے اور وہ بیماری کی جڑ تک پہونچ گئے ہیں بلکہ سب کو آئینہ بھی دکھادیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ملک میں سوائے قومی سکیوریٹی کے اداروں کے کسی کومسلح افراد رکھنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے؟ وہ شاید اس سے ناواقف تو نہیں ہونگے کہ جو نظام آجکل پاکستان میں رائج ہے ۔وہ دو صدی پہلے سے برطانوی عملداری پر چل رہا تھا کہ انہوں نے صرف شہروں تک اپنی حکومت محدود کر رکھی تھی، رہے دیہات وہ ان درمیانی لوگوں پر چھوڑ دیے تھے جو وہاں ان کے مفادات کے نگراں تھے۔ ان میں سے زیادہ تر نے بجا ئے فوج رکھنے کے ڈاکوؤں کے ذمہ اپنے اور اپنے علاقہ کی حفاظت کا بار ڈال رکھا تھااور ان کو کچھ نیازی چراغی دیتے رہتے تھے۔ الحمد للہ وہ آج تک وہاں بخیر خوبی چل رہا مگر اب ڈاکو ویسے با اصول نہیں رہے اوربے اصول بن گئے ہیں تو وہ بیچارے کیا کریں؟ اس پر ستم یہ ہوا کہ ہم اپنی دوستی سے مجبور ا ہوکرفغان جنگ میں کود گئے اور اب اس نے اتنے چالیس سال میں انڈے، بچے اور گروہ عنایت کر دیئے ہیں کہ اس پہ قابو پانے کے لیے ہلاکو چاہیئے ،جس کی اب دنیا کے گلوبل ولیج ہونے کی وجہ سے گنجائش نہیں ہے؟ دوسری بات انہیں کے محکمے کے متعلق ہے کہ سوشیل میڈیا کوبھی کنٹرول کیا جائےگا ۔ ہمیں ان کی نیت پر شبہ نہیں ہے مگر یہ دیو اتناطاقتور ہے کہ اس کے خلاف ملکوں کی سرحدیں کو ئی سد سکندری نہیں بنا سکتیں کیونکہ وہ اس کاتوڑ اور توڑ کا توڑ دریافت کرلیتی ہے ۔ مگر اچھی بات کہنے میں حرج بھی کیا ؟ وہ تو سبھی کہتے ہیں۔
یہ تھیں دشواریاں جو ہم نے گنا دیں۔ مگر مایوسی کفر ہے۔ اگر واقعی حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو پہلے تو دوستیاں بالا ئے طاق رکھنا ہونگی ، مراعات یافتہ طبقہ کی مخالفت مول لیناہو گی۔ پھر پہلی فرصت میں یہ کام کرنا ہوگا اور کچھ کریں یا نہ کریں ؟ کہ اسلام کا اخلاقی کوڈ آف کنڈیکٹ نا فذ کر دیں ۔ جو حکومت کے لیے قطعی بے ضرر ہے؟ پورا نہ سہی
اتنا ہی کریں۔ صرف یہ ایک ہی آیت لے لیں جس کا بامحاورہ اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اے مومنو!کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں (اللہ کی نگاہ میں) نہ خواتین، خواتین سے (تمسخرکریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤاور نہ ایک دوسرے کا برانام رکھو، ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا (گناہ) ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم لوگ ہیں “ سورہ (49حجرات آیت11) بس اس کو نافذ کرکے قابل سزا جرم بنا دیں ۔ اور تمام منبروں اور لاوڈ اسپیکروں پر پابندی لگادیں کہ کوئی کسی کے عقائد کی بنا پر اس کی مذمت نہ کرے۔ نہ کافر قرار دے ،نہ بدعتی قراردے ،نہ میلادی قرار دے اور نہ وہابی ۔ فتوٰی جاری کرنے کا کام محکمہ مذہبیی امور کے سپرد کردیا جائے جس میں ہر فقہ کے ماہر ہوں اور ان کے عقیدے کے مطابق فتوی دیں۔ اسی طرح جمعہ اور عیدین کے خطبے حکومت جاری کرے تاکہ اس میں کوئی قابل ِ اعتراض بات منبر سے نہ کہی جاسکے جو کسی کی دل آزاری کا باعث ہو؟ مثلاً ایک فرقہ میں ہر خطیب کے لیے   یہ کہنا لازمی ہے کہ “بدعت ذلالت ہے اور اس پر عمل کرنے والا گمراہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے بدعت ذلالت ہے۔ مگر وہ ساتھ میں بد عت کی وضاحت بھی کردیں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اگر بدعت کے لغوی معنی لیں تو ہر نئی چیز یا ایجاد بدعت کے زمرے میں آتی ہے۔ مگر اسلامی اصطلاح میں صرف وہ چیز بدعت ہے جو حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے ٹکراتی ہو؟ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ جو چاہتا ہے کسی چیز کو بھی بدعت کہہ دیتا ہے۔
یہ کام جو میں نے تجویز کیا آج کی دنیا میں مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔ یہ نتائج پاکستان کے پڑوسی اور بہت چھوٹے سے ملک مسقط عمان کے نئے حکمراں نے صرف چالیس سال کے مختصر سے عرصہ میں حاصل انتہائی شدت پسند قوم کو آج اتنا روادار بناکر دکھایا کہ کسی مسلمان ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی ؟اور وہ ہر سال اپنے یہاں ایک کانفرس منعقد کرکے تمام مسلمان ملکو ں کو دعوت بھی دیتے ہیں کہ آؤ اور رواداری ہم سیکھو ۔ اس کے تمام ہمسایوں سے بہت ہی اچھے تعلقات ہیں جبکہ اس کا ایک ہمسایہ سعودی عرب ہے ، دوسری طرف ایران ہے اور تیسری طرف اس وفاق کے ساتھ بھی دوستی رکھے ہوئے ہے جو عرب اما رات کہلاتا ہے۔ باہمی طور پر ایک دوسرے مذہب کو سمجھنے کے لیے انہوں نے ہر مذہبی طالب علم کے لیے تمام مذاہب کی تعلیم لازمی قراردی ہوئی ہے ۔ وہاں سکھ بھی ہیں ،عیسائی بھی ہیں اور ہندو بھی ہیں ۔ اور سب امن اور چین سے رہ رہے ہیں۔

Posted in Articles | Tagged ,