انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

ہم پہلے بھی بہت سی دفعہ عرض چکے ہیں کہ پاکستان سے ہم چھ مہینے، بارہ گھنٹے پیچھے اور بقیہ چھ مہینے 13 گھنٹے پیچھے رہتے ہیں ؟ اس وجہ سے دن کی خبریں رات کواوررات کی خبریں دوسرے دن صبح کو ملتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی ہیڈماسٹر نے کسی بچے سے پوچھا کہ بیٹا تمہارے ابّا کیا کرتے ہیں؟ یہ پہلے زمانے کی بات ہے کہ اسوقت ٹیچروں کی تنخواہیں کم تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اساتذہ اپنے پاس پڑھنے والے بچوں سے انکے والدین کی مالی حیثیت ٹٹولا کرتے تھے اور وہ اس قسم کے سوالات کرکے اندازہ لگالیتے تھے کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے؟ وہ ہی نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر صاحب کو بھی ہم نے اپنے مریضوں سے آمدنی پوچھتے دیکھا اور انہیں اس سے مریض کی حیثیت کے مطابق بل بناتے بھی دیکھا؟ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر بل مریض کی حیثیت سے کم ہوگا تو اول  تووہ دوا کو نالی میں پھینک د ےگا اور اگر کھابھی لی تو فائدہ نہیں کریگی؟ بعد میں بھٹو صاحب آئے تو تمام اسکولوں اور کالجوں کو یکساں بنانے کے لیے قومی ملکیت میں لے لیا۔ جب سے اساتذہ خود کفیل ہوگئے۔ اب ان کے ذرائع آمدنی اتنے ہیں کہ وہ ہر طرح سے خود کفیل ہیں اور اس قسم کے سوالات انہیں کرنے کی ضرورت نہیں رہی؟ یہ بہت پرانی بات ہے چونکہ بچے کاجواب بڑا دلچسپ تھا وہ ہم آپ کو سنا کر آگے بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا سر! موسم ِ گرما میں وہ آئی سی ایس ہوتے ہیں اور سرما میں پی سی ایس؟ ماسٹر صاحب جواب سن کر چونک اٹھے! مگر انکا دل نہیں مانا کہ کسی، سی ایس پی آفیسر کابچہ اوروہ عام اسکول میں پڑھے ناممکن ! انہوں نے ضمنی سوال کرڈالا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہرسال تمہارے والد صاحب کاکیڈر بدل جاتا ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ سر ! وہ گرمیوں میں آئس کریم فروخت کرتے ہیں اس وجہ سے وہ آئس کریم سیلر کہلاتے ہیں اور سردیوں میں اسکولوں میں آلو کے چپس فروخت کرتے ہیں لہذا پٹیٹوچپس سیلر کہلاتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے یہاں نظریہ ضرورت کے تحت موسم بدلتے ہی، وقت بدل جاتا ہے، سورج چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حکم سے نکلتا ہے اس پر کسی کا زور نہیں چلتا اسلیے وہ کبھی دن سے ایک گھنٹہ چھنتے ہیں اورکبھی رات سے تاکہ ان کے کام کے اوقات گھٹیں نہیں؟ چونکہ پاکستان میں وقت ہر ایک کے پاس فالتو ہے وہ اپنے نظام الا وقات کو آگے پیچھے کرکے کام چلا لیتے ہیں۔مشرف صاحب نے وہاں بھی یہ تجربہ کرکے دیکھا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکا؟ یہ تھی ہم تک خبر لیٹ پہنچنے کی وجہ؟
چونکہ ہم آج بہت ہی خوش ہیں کہ صبح ہی صبح ایک اچھی خبر وہ بھی ایک کم انہتر سال کے بعد سنی کہ ایک نہیں بلکہ ایک کم ایک درجن فوجی افسران کا پاکستان میں احتساب ہوگیا۔ جو پاکستان بننے سے لیکر آج تک کبھی نہیں ہوا، حالانکہ ان کا بھی نہیں جنہوں نے پاکستان توڑا؟ لہذا ہم بلا خوفِ تردید ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ایک انہو نی بات ہوگئی ہے؟ جبکہ پاکستان بنا مسلم معاشرہ پیدا کرنے کےلئے تھا؟ اسلام نے ہمیشہ خود احتسابی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔جسکی مثالیں حضور (ص) کی ابتدائی زندگی سے لیکر ان کے وصال اور اس کے بعد خلفائے راشدین کے دور تک ملتی ہیں۔ یہاں ہم حضور (ص) کی زندگی سے صرف دو مثالیں پیش کررہے ہیں ؟
ایک یہودی سے انہوں (ص) نے پانچ من اور کچھ سیر کھجوریں ادھار لیں، جسے کہ وقت معینہ کے گزرنے کے بعد وصولی کے لیے دربار ِ رسالت میں  اسےآناپڑا اور وہ مطالبہ کرتے ہوئے ادب ملحوظ نہیں رکھ سکا۔؟یہ صحابہ کرام کو بہت برا لگا اور وہ اس پر بہت ناراض ہوئے ؟مگر حضور (ص) نے صحابہ کرام کے رویہ پر یہ فرماکر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا کہ “ وہ حق پر ہے تمہارا رویہ غلط تھا؟ مزید یہ بھی کہ وہ اُمتیں زمین پر باقی نہیں رہتیں جس کے کمزور کو اس کے با اثر آدمیوں سے اپنا حق وصول کرنے میں دشواری پیش آئے“ تفصیل طویل ہے مختصر یہ کہ وہ بار بار پھیلتا رہا اور اس کے با وجود انہوں  (ص)نے اس کے سارے مطالبات پورے کیے اور مزید احسان فرما کرکے اسے خصت فرمایا اور ایک روایت کے مطاق وہ خوش ہوکر اور دوسری روایت کے مطابق مسلمان ہوکر واپس گیا؟
جبکہ آخری واقعہ تو سب ہی کو معلوم ہے کہ حضور (ص) جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو انہوں نے احتساب کے لیے خود کو پیش فرمایا، ایک شخص کے تین دینار نکلتے  تھےوہ اسکوادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ دوسرا شخص اپنا ایک مقدمہ لیکرپیش ہوا کہ ایک دن حضور (ص) نے اس کی پِیٹ پر کوڑا مارا تھا جبکہ اس کی پشت برہنہ تھی اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔سب نے اسے سمجھا یا،مگر وہ نہیں مانا حضور (ص) نے فرمایا کہ جس طرح یہ بدلہ لینا چاہتا ہے میں اس کے لیے تیار ہوں ؟ اسکی شرط کے مطابق حضور (ص) کی پشت مبارک کو برہنا کیا گیا اور اس نے وہاں کوڑا مارنے کے بجائے مہر نبوت کو چوم لیا ؟ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے بتایا کہ میں نے حضور (ص) کو ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جس کا جسم میرے جسم سے چھو جا ئے وہ بھی جنت میں جائے گا اس لیے میں نے ایسا کیا؟ رہا جنرلوں اور افسروں کامعاملہ تو وہ حضرت عمر (رض) کے دور ِ حکومت میں حضرت خالد  (رض)بن ولید کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ سب کو یاد ہوگا اور ان کانظام حکومت بھی ؟لہذا اب میں مزید تفصیل کو چھوڑتا ہوں اور وہ خبر سناتا ہوں جوکہ اب آپ  سب کےکے لیے بہت پرانی ہوگئی ہے۔ مگر یہ پہلی انہو نی ہونے کی وجہ سے تاابد تازہ رہے گی؟ جس کی ابتدا جنرل راحیل شریف صاحب نے کی ہے ؟ جس نے ان سب کے منھ بند کر دیئے ہیں جو ان پر طنز کر رہے تھے ۔اب جو کو ئی بھی پاکستان میں ان کے اتباع میں آگے بڑھے گا، وہ عمل ان کے کھاتے میں بھی تا قیامت لکھا جاتا رہے گا؟ جس کی مثال پاکستان میں نہیں تھی کہ کبھی کسی ملٹری آفیسر کو سزا دی گئی ہو جوکہ جنرل سے شروع ہوئی اور میجر پر آکر ختم ہوئی ہو؟ اب لوگوں کا وہ اعتراض تو ختم ہوگیا ہے اور پوری قوم اس اقدام کی تعریف کر رہی ہے کہ انہوں نے احتساب اپنے محکمہ سے شروع کیا لہذا سب اپنے اپنے محکموں سے شروع کردیں اور جو سب سے بڑے ہیں وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان سے شروع کردیں اور خود کو احتساب کے لیے قوم کے سامنے پیش کر یں ؟ تاکہ پھر کسی کو بیت المال خورد برد کرنے کی جراءت نہ ہو؟اگر آپ تاریخ میں جائیں تو وہ سنہری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی فوج میں جنرل اکبر خان سولجر جیسے جنرل بھی ہو گزرے ہیں جنہوں نے سینیر ہونے کے باوجود خود کو اس عہدہ کا اہل نہ جان کر ریٹائر ہونے کو ترجیح دی۔ مگر بعد میں ایک سیاستدان نے اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ایک ایسے شخص کو دس سینیر ترین آفیسروں پر ترجیح دیکر کمانڈر انچیف کے عہدے تک پہونچایا جس کے بارے میں فوج اور عوام میں بہت سی افواہیں اور غلط فہمیاں تھیں جبکہ وہ کرنل تھا ؟ اس کوشش میں شفاف قسم کے فوجی افسران میں سے ایک کو ایران میں سفیر بنا دیا گیا اور باقی کو اس غلط بخشی نے مجبور کردیا کہ یا تو وہ ایک جونیر کو سلوٹ کریں یا پھر استعفیٰ دیکر خودکواس ذلت سے بچا ئیں ؟ پھر اسی جنرل نے پاکستان میں جمہوریت کی بساط سمیٹ دی جس کا تسلسل ابھی تک چلتا رہا ہے کہ فوج نے کبھی سامنے آکر حکومت کی، کبھی پیچھے رہ کر حکومت کی؟ اب اس کا حل ایک ہے کہ جو سب سے بڑا ہے وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرے ؟ یا پھرکوئی اور بشمول سیاست داں اسے اتنامجبور کردے کہ سب کو خود احتسابی کی روش اپنا نا پڑے ؟ اور احتساب کاسلسلہ اداروں میں بعد، میں پہلے اقتدارِ اعلیٰ سے شروع ہو؟ اس لیے کہ جہاں مقتدرِ اعلیٰ اس قدر مجبور ہو کہ وہ چوروں کی سرپرستی کرے ، رشوت خوروں کی سرپرستی کرے اور غیر ملکی ایجنٹوں کی سرپستی ،تو انصاف کہاں سے مہیا ہو گا ؟ جبکہ مسلمانوں کو اسلام یہ سکھاتا ہے کہ  “صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائیوں میں نہیں ؟ جس کی مثال میں نے شروع میں دی کہ ایک طرف وہ ذات اقدس (ص) تھی کہ جس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں (ص) اپنی جان سے بھی زیادہ چاہو ،تب مسلمان کہلانے کے مستحق ہوگے، مگر وہ (ص) سبق دے رہے ہیں کہ اگر ایسا کوئی معاملہ ہو جیسا کہ بھول چوک سے میرے ساتھ پیش آیا تو بھی میرا نہیں، حقدار کا ساتھ دو؟ لہذا جو مقتدرِ اعلیٰ اور ان کے خاندان سے احتساب کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ حق پر ہیں، اس لیے کہ قبلہ ٹھیک ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے اور قبلہ ہی غلط ہے تو سب کچھ غلط ہے؟دوسری میں نے سیاسی مثال پیش کی پاکستان کے ابتدائی دور سے ہی اگر ابتدا سیا سی مصلحت سے نہ ہوتی تو آج یہ صورت حال نہ ہو تی کہ جس کے بھی “پیرے اٹھاو “ ( کھوجی کے ذریعہ کھوج لگانا)وہ وزیر مشیر اور اقتدار اعلیٰ تک جاتے ہیں ۔ تھانے بکتے ہیں ٹیبلیں روزانہ کی بنیاد پر ٹھیکے پر دی جاتی ہیں ، ڈاکوؤں سے ساجھے ہیں ،اکا دکا م اپنے دشمنو ں کو راہ سے ہٹا نے کے لیے بھی لوگ ن سے لیتے رہتے ہیں ؟ اکثرمقتدرِ اعلیٰ عوام کی مرضی سے نہیں اوروں کی مرضی سے آتے ہیں؟ کبھی پڑوسییوں کی مرضی سے آتے ہیں کبھی دور دراز ملکوں کے شاہوں کی مدد سے  بچ بچاکر آتے ہیں اوران کے اشاروں پر ناچتے ہیں؟ ایسے میں ملک کامفاد کون دیکھے اور کیسے دیکھے ؟ تازہ مثال ہمارے سامنے ہے کہ صرف ایک بڑے آدمی کو پکڑا گیا ۔ اور ایک خاتون پکڑی گئیں ،جن کے مقدمات رواجی عدالتوں میں نہیں بلکہ خصوصی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس میں اتنے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کمانڈر اچیف کا دور ختم ہونے کو آگیا مگر ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی جبکہ اسی کمانڈر چیف نے کچھ اپنے ساتھیوں کو ابھی ،اور کچھ کو پہلے سزا دیکر دکھا دی ؟ اس میں بہت سا سبق ہے پوری قوم کے لیے۔بجا ئے دستور اور جمہوریت کی دہائی دینے کہ کوئی کچھ کرنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے (آمین)

 

Posted in Uncategorized

صراط مستقیم سے کج روی کی طرف مراجعت۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

اسلام اور ہادی ِ اسلام ابتدا سے صراطِ مستقیم اختیار کرنے کے لیے اپنے پیرؤں پر زور دیتے آئے ہیں اورا س کے صلے میں جنت الماویٰ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے؟ اور کج روی پر ناراً حاویہ کی بعید ہے؟ جبکہ نئی صراط ِمستقیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک رہنما نے دریافت کی ہے کہ “اگر لندن جانا ہو تو براہِ ماسکو جاؤ یعنی کسی بھی کام کے لیے کبھی سیدھا راستہ اختیار نہ کرو؟ جبکہ ہمیں بطور مسلمان ہدایت خداوندی ہے کہ بدگمانی مت پیدا ہونے دو اس سے بچو جبکہ ہمارے حکمرانوں کارویہ ہے بدگمانیاں پیدا ہونے دو، دیکھیں کوئی ہمارا کیا بگاڑتا ہے؟ پہلے اجنبی راستے ایسے لوگ اختیار کیا کرتے تھے،جنہیں پکڑے جانے کا خطرہ ہوتا تھا،اب کوئی ایک شریف ہی نہیں پوری اشرافیہ یہ ہی طریقہ استعمال کرنے لگی ہے؟ کیوں؟ اسکاجواب کسی کے پاس نہیں ہے چونکہ قدریں بدل گئیں ہیں اب یہ محاورہ “ ایسے ہر سچے کے بارے میں بولا جاتا ہے جو کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے “ ۔ کہ جاتا پورب کو ہے اور بتاتا پچھم کو ہے۔ اس سے اور وں کاتو کچھ نہیں بگڑتا مگر ایسا کرنے والوں کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ بعضوں کا اعتبار تو اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ اب ان پر کوئی اعتبار کرتا ہی نہیں ہے اور نہ وہ کسی کا اعتبار کرتے نہیں۔ لہذا گر پرانی مثالوں کو لیں تو ہلاکو اور چنگیز خان کو اور حالیہ مثال کو لیں تو وہ صرف سعودی حکمرانوں کا اتباع کرتے ہوئے نظر آئیں گے کہ کلیدی عہدوں پر قریبی رشتہ دار اور ریاستی عہدوں پر اہلِ قبیلہ کو مسلط کردیتے ہیں تاکہ حکمراں محفوظ رہیں؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اس پر جمہوریت کے چیمپئین بھی زبان نہیں کھولتے کہ دستور میں کہاں لکھا ہے کہ وزیر اعظم اپنی جگہ اپنے پیاروں سے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر اپنی جگہ عارضی طور پر کر ے؟ جبکہ دوسرے لفظو ں میں یوں کہہ لیجئے کہ انہیں عوام کی پرواہ ہی نہیں ہے وہ ہر طرح سے خود کفیل ہیں اور اسطرح وہ اعتبار اورتحریک ِ اعتمادکے مرہون ِ منت ہی نہیں ہیں ؟ اپنی شاطرانہ چالوں کے ذریعہ حکومت بھی کرتے ہیں تجارت بھی کرتے ہیں جبکہ پہلے لوگ کہاکرتے تھے کہ تجارت اعتبار کے بغیر نہیں چلتی جبکہ اب چلتی ہے اور خوب چلتی ہے؟ ہم نے ایک جگہ نہیں بہت سی جگہ پڑھا ،کبھی حدیثوں کی شکل میں کبھی بزرگوں کے اقوال کی شکل میں جو کہ زیادہ تر قرآن اور سنت سے ماخوذ ہیں کہ یہ سب قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کہیں اب قریب ہی ہے۔
پہلا جھوٹ نہ جانے تاریخ میں کس نے اور کب بولا ہوگا مگر نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ پہلے ہم میں کوئی جھوٹا نہیں ملتا تھا اب سچا نہیں ملتا ہے اور پہلا گمنام جھوٹا اس صورت حال کا ذمہ دار ہے اسلامی عقیدے کے مطابق کہ جس نے بھی برائی کی طرح ڈالی قیامت تک تمام برائیاں اسکے کھاتے میں لکھی جاتی رہیں گی اور جو بھلائی کی طرح ڈالے گا تو بھلائیاں بھی اس کے کھاتے میں لکھی جائیں گی؟ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس کا کھاتا کتنے کروڑٹرکوں میں لدا ہوا روز قیامت منصف اعلیٰ کے سامنے پیش کیا جا ئے گا جس نے ہمیں صرف نیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتادیا ہے کہ میں تم پر نگراں ہوں (سورہ صبا آیت نمبر١١)؟ جھوٹ کا بانی اور اس کا اتباع کرنے والے اسے کیسے جھٹلاسکیں گے جہاں ہر ایک کے ہاتھ پاؤں، کان، ناک اور آنکھیں سب اس کے خلاف گواہیاں دے رہے ہونگے اور سامنے انصاف کی کرسی پر وہ منصف اعلیٰ تشریف فرما ہوگاجس کے ذاتی علم میں سب کچھ ہے؟ جبکہ یہ اہتمام بھی گناہ گار کی اس دلیل کے جواب میں ہوگا کہ ہرجھوٹا بقول غالب کہے گا کہ “ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق کوئی انسان ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا؟ اسوقت منصف اعلیٰ اس کی منہ زوری کی صلاحیت چھین لے گا اور ان اعضا ءکو بطور گواہ بولنے کا حکم دیگا کے تم بتاو کہ تم نے یہ یہ کیا یانہیں کیا ؟ اور اس کا منصوبہ کس ذہن نے بنا یا اور اس پر عمل تم نے کس کی سوچ پر اور کس کے کہنے پر کیا؟ اور وہ جواب میں سارا کچا چٹھا کھول دیں گے! تب اب ہر ملزم اپنی کیے پر پجھتائے گا لیکن بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ چونکہ عدالت کے اوپر نہ کوئی عدالت ہے جہاں اپیل ہو سکے نہ ضمانت کی گنجائش ہے کہ جان چھٹ سکے، صرف ایک ہی حکم فرشتوں کو صادر ہوگا اس کو منہ کے بل جہنم میں پھینک آؤ وہی اسکی دائمی جگہ ہے جس میں یہ ہمیشہ رہے گا؟ جبکہ اس دن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی کتابوں اور نبیوں (ع) کے ذریعہ سب کچھ پہلے ہی بتا چکا ہے۔ اور نبی آخر الزماں (ص) تو یہاں تک رعایت کا اعلان فرماچکے ہیں کہ تم چار باتیں اختیار کرلو تو میں تمہاری بخشش کاضامن بنتاہوں ۔ کھاؤتو حلال ، بولو توسچ ، تمہیں امین بنا یا جائے تو امانت کی حفاظت کرو، اور سب کے ساتھ حسن ِ سلوک اور اخلاق سے پیش آؤ ؟ اور اس پر انہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ میں عمل کر کے بھی دکھا دیا؟ سب سے پہلے انہوں (ص) نے جب ابھی پیغمبر بھی نہ تھے ؟ اس حد تک جاکر دکھایا کہ ساری دنیا صادق اور امین کہنے لگی، دعویٰ نبوت کے بعد اس وقت کے بدترین دشمن ابو سفیان سے جب قیصر روم نے اپنے دربار میں بلا کر پوچھا کہ تم نے کبھی انہیں جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا؟ تو ان کا بدترین دشمن ہونے کے باوجود اسکا جواب تھا کہ کبھی نہیں! تب قیصر ِ روم نے جواب میں کہا کہ جو شخص عام زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا ،وہ خدا پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہے ؟ اس پرپورا دربار گنگ رہ گیا کہ اسکا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا؟ امانت کا یہ عالم کے ان لوگوں نے بھی اپنی امانتیں واپس نہ لیں جواب حضور (ص) کے دعویٰ نبوت کے بعد ان کے جانی دشمن ہو گئے تھے؟ لیکن پھر بھی ان کی نگاہ میں پورے عرب میں ان (ص) سے زیادہ دیانتدار کوئی اور نہ تھا؟ انہیں یقین تھا کہ اگر ان کی امانتیں کہیں محفوظ ہیں تو صرف انہیں (ص) کے مقدس ہاتھوں میں ؟ حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جس دن کے انہیں (ص) سب کفار سرداروں کو مل شہید کرنا تھا؟ لیکن امانتیں ابھی تک انہیں (ص) کی تحویل میں تھیں؟ جب کفار کے اس منصوبہ پر ان  (ص)کواللہ سبحانہ تعالیٰ نے مطلع کیا تو انہیں (ص) اپنے بیٹوں جیسے چچا زاد بھائی کو جن کی پرورش انہوں (ص) نے خود فرمائی تھی۔خطرے میں ڈالنا پسند فرمایا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے بستر پر سلادیا اس ہدایت کے ساتھ کہ تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا ، تم ان کی امانتیں واپس کرکے میرے (ص) پاس آجانا؟ فل الحال میری جگہ میرے بستر پہ سوجاؤ، اوران کے یقین کا عالم دیکھئے کہ وہ آرام سے ان کے بستر پر محوِ استراحت ہوگئے اور بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ اس دن مجھے جتنی اچھی نیند آئی پہلے کبھی اپنی زندگی میں نہیں آئی اور وہ امانتیں واپس کرکے ارشادات ِ عالیہ کے مطابق ان  (ص)سے آملے؟اب آجائیے آخری شرط کے بارے میں انکا برتاؤ دیکھیں؟جس کے بارے میں ان (ص) کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ مجھے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا ہے؟اس کی لاکھوں مثالیں ہیں جس کے لیے یہ چھوٹا سا مضمون ناکافی ہے؟ مگر مختصر یہ ہے کہ جس نے بھی ان کے ساتھ برائی کی اسکے ساتھ انہوں  (ص)نے بھلائی کی حتیٰ کہ وہ دن اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عطا فرمادیا کہ مکہ معظمہ میں بطورفاتح انہیں (ص) داخل ہو نا تھا، اب وہ تنہا نہیں تھے بارہ ہزار جانثاروں کا لشکر جرار ان (ص) کے ساتھ تھا؟ وہ سب لوگ لرز رہے تھے جنہوں نے حضور (ص) پر ظلم کیے تھے صحابہ کرام اور صحابیات (ص) پر ظلم کیے تھے کہ اب کیا ہوگا؟ مگرآج بھی فاتح مکہ، معلم اخلاق (ص) کا ،سر انکساری سے اس حد تک جھکا ہوا تھا کہ اونٹ کی پشت کو چھورہا تھا؟ کہ دیکھنے والوں کو بھی سجدہ شکر کا گمان نہیں بلکہ یقین تھا؟ اس لیے کہ انہوں نے ان (ص) کے قول اور فعل میں کبھی تضاد نہیں دیکھا ؟ آگے آگے منادی کرنے والا اعلان کرتا چل رہا تھا کہ آج کسی سے کوئی بدلہ نہیں جو گھر بند کیے بیٹھا رہے وہ محفوظ ہے، بچے محفوظ ہیں ، بوڑھے محفوظ، خواتین محفوظ ہیں، جو حرم میں پناہ لے وہ محفوظ ہے، جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے وہ بھی محفوظ ہے؟ یہ وہ گھر تھا جوکہ کبھی حضور (ص) کی سب سے پیاری شریک حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ (رض) کی ملکیت تھا، جسے ابوسفیاں نے قبضہ کرکے اپنی رہائش گاہ میں تبدیل کرلیا تھا؟اور ایک انہیں کا ہی گھر نہیں، بلکہ جتنے صحابہ کرام ہجرت کرکے کہیں گئے تھے ان سب کے گھروں پر کفارکا قبضہ تھا ؟ آج انہوں نے جب مطالبہ کیا کہ حضور (ص) ہمارے گھر تواب ان غاصبوں سے واپس دلادیجئے ؟ ارشاد ہوا کہ “ کیاتم نہیں چاہتے کہ تمہیں ان کے بدلے میں جنت میں گھر ملے“ سب نے کہا کہ حضور (ص) ہم اپنے گھروں کے بدلے میں جنت میں گھر چاہتے ہیں۔فاتح مکہ (ص) کے پاس جب تک وہ دنیا میں موجود رہے اسوقت تک مکہ میں ٹھیرنے کے لیئے جگہ نہیں تھی؟ جو اس سے ثابت ہے کہ حج الوداع کے موقع پر حضور (ص) نے منیٰ کے نشیبی علاقہ میں قیام فرمایا اور جب کسی نے پوچھا تو انہوں نے اپنے مکانوں کا ذکر کرکے ایک نام لیکر فرمایا کہ اس نے میرے لیے کوئی جگہ مکہ میں چھوڑی ہے، جہاں میں قیام کروں؟ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ منیٰ میں اسکے بعد وہاں قیام سنت بن گیا جس کو خلفائے راشدین نے بھی قائم رکھا اور آج تک وہ سنت جاری ہے؟ جبکہ بقیہ اراکان حج حضرت ابراہیم خلیل اللہ (ع) اور ان کنبے کی سنت تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان (ص) کا اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) تاکہ ہم بجائے “ ناراً حاویہ“ کے “جنت المعاویٰ“ اپنی دائمی رہائش گاہ میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوسکیں۔

Posted in Uncategorized

وکی لیکس کے بعد پنامہ لیکس؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ لوگ آف شور فرمیں بنا تے کیوں ہیں ؟جس میں مالکان کے نام تک جعلی ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جو ایمانداروں کا تناسب ہے وہ جس قدر کم ہے سب کو پتہ ہے !اگر کوئی جعلی انسان اصل کی جگہ لے لے اور پورے کاروبار پر قبضہ کرلے تو؟ اس کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ایک بہن کی طرح نہ “ بوا“ ہیں جو ہمیں ساری دنیا کی خبریں لا کردیں اور نہ ہی ا یک ٹی وی کی طرح ایسی چڑیا ہے جو مخبری کرے اورہمیں ساری خبریں لادے؟ دوسرے اس میدان میں ہمیں کوئی ذاتی تجربہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب سے ہم نے اس دنیا کی نا پائیداری کو دیکھا !خود کو مال وزر سے نہ صرف بے نیاز کرلیا بلکہ ہم نے یہ شعر کہہ کر یہ باب ہی بند کردیا کہ “جب سے ہم نے مال و زر سے کنارہ کر لیا ہاتھ خالی کیا ہوا ساری پریشانی گئی “ اسی وقت سے ہم نے اپنی زندگی اتحاد بین المسلمین اور خدمت خلق کے لیے وقف کردی ۔نیز ہم نے دو چیزوں سے اجتنا ب کرنا شروع کردیا ایک “ نوٹ “ دوسرے “ ووٹ “اسکے بغیر ہم خدمت کرنے والوں میں جب سے شامل رہے۔ اس اعلان کے ساتھ کہ ہمارا وقت مفت حاضر ہے جو نوٹ اور ووٹ کے بغیر ہم سے خدمت لینا چاہے ہم حاضر ہیں؟ ورنہ ہمارا حشر بھی وہی ہوتا جیسے آجکل شوکت خانم اسپتال کو محض اس لیے سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں؟ کیونکہ اس کی بنیاد ڈالنے والے نے ہزاروں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کرکے انہیں حسرت کی موت مرنے سے بچالیا ۔ چونکہ وہ اب سیاست میں آگیا ہے لہذا شاہ کے مصاحب اس کے اس ادارے کو بھی اس کے ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔بغیر یہ سوچے ہوئے کہ اگر وہ ادارہ تباہ ہوگیاتو پھر ان غریبوں کا کیا ہوگا۔ کاش وہ قرآن کی سورہ احزاب میں جاکر آیات نمبر 57 اور 58 پڑھ لیتے تو اپنا بھی بھلا کرتے اور دوسروں کا بھی, کیونکہ یہ آیتیں ان کے بارے میں ہے جو نیک کاموں سے روکتے ہیں اور جھوٹے الزامات لگاکر اللہ کی نگاہ میں لعنتی اور مستحق ِعذاب بنتے ہیں؟ لہذا کسی کی پگڑی اچھالنے سے پہلے اگر کوئی مسلمان ہے تو اس کو چاہیئے کہ پہلے تحقیقات کرلے پھر کوئی لفظ زبان سے نکالے چاہیں ا میر ہو یا فقیر؟
لیکن سوال کا جواب دینا بھی ہم پر فرض ہے؟ جواب یہ ہے کہ ساہو کاری ڈنکے کی چوٹ پر ہوتی ہے اور چوری چھپ کر کی جاتی ہے۔ یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے اور یہ ہی ہمارے دین نے بتایا ، سوائے راہِ خدا میں خرچ کرنے کہ وہ پوشیدہ کرنے کاحکم ہے تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور دینے والے پر ریاکاری  کاالزام نہ لگے۔ مگر ہم بہ حیثیت قوم اس کا الٹ کرتے ہیںِ۔
رہی حوس کی کھوپڑی وہ تو کسی طرح نہیں بھرتی؟ اس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ“ اگر انسان میں سے کسی کو بھی یہ طاقت عطا کردی جائے کہ وہ کسی چیز پر پوری طرح متصرف ہوسکے تو کسی کوکچھ بھی نہ دے اور سب کچھ اپنے لیے مخصوص کرلے “ حالانکہ وہ اب جاہل بھی نہیں رہا ہے کہ یہ سب کچھ لاعلمی میں کرتا ہو، پچھلی قوموں کی تاریخ بھی اسے معلوم ہے، برے کاموں کے نتیجے بھی اسے معلوم ہیں، یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو کہ پورے عالم کو محیط کیے ہوئے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی کی مرضی سے نہ دن کے بجائے رات ہوسکتی ہے اور نہ رات کے بجائے دن ہوسکتا ہے؟ چاہیں وہ کتنی ہی دولت کا مالک ہو اور کتنے ہی وسائل کا مالک کیوں نہ ہو۔ہر ایک کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ،مگر اس سے سبق لینے کو کوئی تیار نہیں ہے؟ خود کو بدلنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رحم اپنے اوپر لازم فرمالیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک لوگ بھلائی کو بھولے نہیں ہیں جیسے بل گیٹ کہ انہیں اگر اللہ نے نواز ا تو انہیں انسانیت یاد رہی اور دنیا سے اپاہجی دور کرنے کی ٹھان لی جبکہ کچھ نیک بخت مسلمانوں نے اس میں ملاوٹ اور کچھ نے رکاوٹ ڈال نے کی ٹھانی ہوئی ہے؟ حالانکہ بل گیٹ نے یہ کہیں نہ کہیں ضرور پڑھا ہوگا یا سنا ہو گا ،ہمارے علماءکی زبانی سہی کہ اس کا وہاں کوئی حصہ نہیں ہے؟
مگر ہمیں افسوس اس پر ہے کہ ان میں اس طرف توجہ دینے والے بہت ہی کم ہیں جن کو ہم مسلمان کہتے ہیں اور وہ بہ زعم ِ خود اپنے آپ کو جنت کاٹھیکیدار کہتے ہیں؟ جن کا بقول ان کے یہ یقین ہے کہ انہیں ایک دن اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش ہو نا ہے اور جہاں ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کا یقین ہے کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ ہم پر نگراں ہے، وہ دانا ، بینا ،بصیر اور خبیر بھی ہے؟ مگر کبھی غلطی سے بھی نہیں سوچتے کہ چکر بازی وہاں کیسے چلے گی؟ اگر کوئی سوچتا بھی ہو گا، تو مولوی صاحب یہ کہہ کر اس کا خوف زائل کر دیتے ہیں کہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے یعنی بڑارحم کرنے ا و ر معاف کرنے والا ہے۔ اور وہ اس امید پر چند دیگیں پکاکر بانٹ دیتے ہیں کہ وہ بھی خوش ہو جائےگا؟ جبکہ اسے خوش کرنے کے لیے طریقے اس نے خود ہی بتادیے ہیں ان میں شرط اول یہ ہے کہ اس کی راہ میں جو خرچ کیا جائے وہ مالِ حرام سے نہیں مالِ حلال سے ہونا چاہیے کسی ہیرپھیر سے کمائی ہوئی دولت نہیں؟ مگر یہاں علماءاس کی مشکل کشائی کر دیتے ہیں یہ کہہ کر، چونکہ دنیا میں اب حلال کہیں ملتا ہی نہیں لہذا اگر کسی کے مال میں حلال کا غلبہ ہے تو بھی چلے گا؟ جیسے پہلے لوگ چھان بین کا اہتمام کیا کرتے تھے کسی کامال کار خیر میں قبول کر تے وقت ؟اب بھی کریں تو پھر کسی کا مال بھی قابل ِ قبول نہیں رہے گا اور مولوی بیچارے بے روز گار ہو جائیں گے؟اور فلک بوس مساجد اورمدرسے بننے بند ہو جائیں گے؟ جبکہ تبلیغ کا اصول ہم نے انبیاءکرام کی حیات طیبہ سے یہ سیکھا ہے کہ جہاں گناہ گاروں کی کثرت ہو وہاں خوف خدا یاد دلاکر توبہ کی طرف راغب کرو اور جب  وہ توبہ کرلیں تو اس پر قائم رہنے والوں کو اللہ کے انعامات کی خوشخبریاں سناؤ۔ ممکن ہے کہ یہاں بھی انہوں نے اس کا الٹ پرھ لیا ہو؟ واللہ عالم
جبکہ آپ ٹی وی شو پہ جائیے  توہر مفتی اس پر پریشان ملے گا کہ حرام کو حلال کرنے کے لیے وہ کونسی صورت نکالے کہ دین میں کوئی گنجائش پیدا ہو جائے لہذا آپ کو ایسے ایسے مولوی ملیں گے؟کہ دین میں آسانیا ں پیدا کرنے کے نام پر،آ سانیاں پیدا کرہی لیتے ہیں۔ جبکہ جہاں آسانیاں پیدا کرنے کا حکم ہے وہاں اگر مائک آپ ان کے ہاتھ میں دیدیں تو ایک چھوٹی سی بات اتنی بڑی بیان کریں گے کہ نمازی جب تک نہ چلا جائے نہ چھوڑیں ، یا ٹی وی پرہیں تو اینکر آڑے نہ آئیے تو پورا پروگرام ہی ایک ہی کے ارشادات عالیہ پر ختم ہو جائے اور دوسرے عالم کو اپنی ارشادات عالیہ بیان فرمانے کا موقع ہی نہیں ملے؟یہ تھا ہمارے یہاں ہدایت یافتہ اورنیکوکار لوگوں کاعالم ؟
اب ان کا عالم دیکھئے جوکہ اقتدار اور مال کے پیچھے جان دیتے ہیں ان میں سے بعض تو اتنے تجربے کار ہیں کہ پھانسی کا پھندا ان کی اکڑی ہوئی گردن کو چھوکر گزر گیا؟ مگر اس کے ساتھ ان کے دل سے شاید خوفِ خدا بھی لے گیا؟ جب آتے ہیں وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔ پہلے یہ معززین کے بارے میں نہیں !بلکہ عادی مجرموں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ جب جیل سے رہائی پاجاتے ہیں تو وہاں اپنا توا ،پرات دھو مانجھ کر رکھ آتے تھے تاکہ ان کے شاگرد ان کی واپسی تک ان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ کوئی اور ان کو گندہ نہ کردے اور ان کی پارسائی میں فرق آے؟ لیکن اب یہاں سیاست میں جو بھی بر سر ِاقتدارآتا ہے وہ جانے والوں کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتا تو یہ ان کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اب ایسے میں احتساب کی باتیں ، کون کرتا ہے گناہ و ثواب کی باتیں۔ یہاں ٹیپ کا بند یہ ہے کہ یاد رکھتے ہیں سب حساب و کتاب کی باتیں ؟ ایک واقف کار کل ٹی وی  پربتارہے تھے کہ یہ تو ابھی صرف ایک وکیل کی فرم کی سائڈ ہیک ہوئی ہے جبکہ اس قسم کی چارسو دنیا میں مزید فرمیں موجود ہیں؟ جنہیں ایک نہ ایک دن ہیک ہو نا ہے اور دنیا کو ان مقدس چہروں کو بے نقاب دیکھنا ہے جن کا ابھی تک کوئی پردہ رکھے ہوئے ہے۔آپ کس کس کاپردہ اٹھائیں گے اور اس کے بعد تحقیقاتی کمیشن بنوائیں گے پہلے ہی الماریوں میں ایسے کمیشنوں کی فائیلیں ٹنوں کے حساب سے پڑی ہوئی ہیں،۔اگر کوئی جج اپنی اور اپنے بچوں کی جان خطرے میں ڈال کربے لاگ فیصلہ کر بھی دے تو اس پر عمل کون کرائے گا۔ عمل کرانے والے لوگ کہاں سے آئیں گے؟ پہلے زمانے کہ ایک درمند شاعر کہہ گئے تھے، جنہوں نے تیرہ سوسال بعد قوم کو گل وبلبل والی عشقیہ شاعری سے اسلامی شاعری طرف متوجہ کیا تھاکہ “ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جسکو خیال ،خود اپنی ہی حالت بدلنے کا؟
اب تو وہ دور ہے کہ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک اکاونٹینٹ کسی سیٹھ کے پاس ملازمت کے لیے انٹر ویو دینے گیا تو اس سے سوال پوچھا گیا کہ تم کتنے فیصدٹیکس بچا سکتے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ حضور! آپ یہ بتا ئیں کہ آپ کتنے فیصد ٹیکس دینا چاہتے ہیں ؟ جہاں کار وبار اس پر چل رہا ہو کہ کون کتنا ٹیکس بچا کر دے سکتا ہے، ملازمت تو اسی کو ملنا ہے اور اسی طرح کاروبار چلنا ہے؟ وزیر اعظم اس مسئلہ پر دو د فعہ ٹی وی پر آچکے ہیں؟ قوم ان کے احتساب کی بات کر رہی جبکہ ان کے صدقے میں انہیں شیلڈ مل گئی جو انکے علاوہ دو ڈھائی سو پاکستانیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار، آگے میں کچھ نہیں کہتا ؟ کمیشن ہو تو ایسا جو کسی کی رعایت نہ کرے پہلے ملک کے اندر کے چھٹ بھیو ں کو ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں لا یا جائے تاکہ وہ مطالبہ کریں کہ ہمیں ہی  نہیں بڑوں کو بھی پکڑا جائے، پھر بڑوں پھر مجبوراً بڑوں کو بھی ہاتھ ڈالنا پڑے تب ہی کامیابی ہوگی، جیسے چھوٹے صوبوں کے بعد بڑے صوبے ؟ اگر ایسا ہو جائے تو انکم ٹیکس کے محکمہ میں کوئی ملازمت کے لیے تیار نہیں ہوگا ایک شہر لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں روپیہ میں لینے کے بجائے مفت میں بھی نہیں لیگا؟ شاید ہمارے ان ہم وطنوں کو یہ سن کر اس بات پر حیرت ہو کہ لوگ سرکاری ملازمتوں میں یورپ اور امریکہ میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ تنخواہیں کم ہیں جبکہ نجی کمپنیوں میں تنخواہیں بہت زیادہ ہیں؟ اور اوپر کی آمدنی یہاں ہے ہی نہیں،اس لیے کہ جو آپ کانکلتا ہے وہ کوئی روک نہیں سکتا، ورنہ اس پر اس پارٹی کو حکومت کو سود دینا پڑیگا اور روکنے والے کی چھٹی ہو جائیگی ؟اور نہیں نکلتا ہے تو کوئی دلانہیں سکتاکہ اسمیں بھی دلانے والے کی چھٹی ہوجا ئے گی؟ جبکہ ٹیکس دینے والا بھی دینے میں جلدی کرتا ہے؟ کہ جتنی دیر کرے گا وقت کے کلاک کے ساتھ ٹیکس کا بار بھی بڑھتا رہے گا ؟ اسی طرح جرمانوں کے بھی بھاؤ مختلف ہیں اگر فوراً ادا کردو تو کم اور مقدمہ بازی میں کوئی جائے اور جتنا وقت لگائے اتنا ہی زیادہ ؟

 

Posted in Uncategorized

ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی

پاکستانی حکومت ایک نیا تجربہ کر رہی ہے وہ ہے بکری سے بھی موّدت اور بیریوں سے بھی محبت؟ اس انوکھے تجربے کو پورا کرکے دنیا کو  ساتھ ہی یہ بھی دکھانا چاہتی ہے  کہ ہم ماڈرن مسلمان ہیں، تا کہ یہ ثابت کرے کہ راہنما پنی بات کے دھنی اور گانٹھ کے پکے ہیں ؟ جبکہ عوام کو وہ یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ بطور مسلمان  ہم پکے مسلمان ہیں اس لیے کہ سلام میں احسان کا بدلہ احسان ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں ؟ حالانکہ وہ دوسرے اسلامی قوانین کوپسِ پشت ڈال چکے ہیں مگر اس پر سختی سے اس لیے عمل پیرا ہیں کہ ان سے آنے والے الیکشن میں بھی کام لیناہے۔ جبکہ کس نے کیا احسان کیا اور وہ دو تہائی اکثریت کس طرح حاصل کرسکے وہ انہیں یاد نہیں ہے؟  مگرمعاونوں  سےدوبارہ سن 18 میں بھی ویسی ہی معاونت چاہتے ہیں۔ جبکہ گزشتہ مرتبہ احسان کرتے ہوئے  کر نے والوں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسی صورت حال میں یہ حکومت کس کس کے احسان چکا ئے گی اور کیسے چکائے گی ؟ حالانکہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ہمارے یہاں بعض فرقوں میں بعد المشرقین ہے یعنی زمین اور آسامان کا فرق ہے ایسا فرق کہ ایک ہی عمل میں ایک گروہ کی موت ہے تو دوسرے کی زندگی ؟ جبکہ ہم بطور مذہب اتنی ٹکریوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کہ فل الحال مردم شماری کی طرح ان کی گنتی بھی مشکل ہے؟ دور کیوں جائیے خود کابینہ بٹی ہوئی ہے جوایک کر رہا ہے دوسرے کو اس کی خبر نہیں ہوتی؟ہر افسر کسی پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتا ہے کہ ڈھاٹا باندھے جس شخصیت کو وہ پکڑ رہا ہے، کہیں اس میں چہرہ چھپائے کو ئی سومناتھ نہ نکل آئے؟ اور وہ عہدہ ہی چلا جا ئے جو ساری جمع پونجی خرچ کرکے خریداتھا۔ جبکہ انتظامیہ کو بعض فیصلے فوراً بھی کرنے ہوتے ہیں مثلا “ کسی کو کوئی گولی ماررہا ہے تو اسے حکام بالا سے اجازت لینے  کا وقت ہی کہاں ملے گا ؟ جبکہ  پہلے زمانے میں ایسے مسائل نہ ہو نے کی وجہ یہ تھی مسائل سے نبٹنے بڑے آسان تھے کہ سب اللہ کے بندے ہوتے تھے کوئی غیر کا بندہ نہیں ہوتا ہی نہیں تھا۔  آسانی یہ تھی کہ اسوقت ان چھوٹے چھوٹے معاملات کووزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علم میں لانا اور ان سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا۔ پولیس کے ساتھ ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ رہتا تھا اور وہ اپنی آنکھوں سے بپھرے ہوئے مجمع دیکھ رہا ہو تا اکثر پولس کو اس سے رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تی تھی اور وہ اپنی صوابدید پر فائر کا حکم دے دیتا تھا؟ پھرگولی کسی کو پہچانتی نہیں تھی کہ کون کس کا بندہ ہے “ جائے احتجاج کی نشان دہی صرف مجمع کی چھوڑی ہوئی جو تیوں  سے ہو تی تھی جو بطور یاد گار وہاں پڑی رہجاتی تھیں اور بس؟
جبکہ یہاں معاملہ الٹ تھا کہ “بریلوی مکتبہ“ فکر کے ایک فردجو کہ اپنے جرم کے اقبالی بھی تھے ،کیونکہ ا نہوں نے اپنے یقین کے مطابق  جو کچھ  کیاصحیح کیا تھا۔ مگر کورٹ نے فیصلہ اس قانوں کے تحت دیا جو ابھی تک انگریزوں کے زمانے سے پاکستان میں چلا آرہا ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں وہ اس کے باوجود ابھی تک رائج ہے کہ قرار داد مقاصد جو کہ ایک شہید وزیر اعظم ، شہید ملت لیاقت علی خان نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں خود پیش کرکے پاس کرائی تھی اور جو جبھی سے جذدان میں بند تھی جس کو ضیا الحق صاحب نے نافذ کردیا اور اسی کے تحت حدود آرڈیننس اور ناموسِ رسالت کا قانون بھی، جوکہ عوام کا اس وقت سے جاری مطالبہ تھا، اس کا پس ِمنظر یہ ہے ایک  گستاخ پنڈت مہاراج نے جو خیر سے وکیل بھی تھے، ہندوستان میں ایک کتاب لکھنے کی جراءت کی جو گستاخیوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ ایک مسلمان غازی علم الدین شہید کے ہاتھوں اپنے بھیانک انجام کو پہونچے۔ اس وقت بھی گوکہ انگریزکی حکومت تھی احتجاج پر احتجاج ہوتا رہا مگر انہیں پھانسی دیدی گئی۔ جب سے غازی علم الدین آج تک قومی ہیرو چلے آرہے تھے کیونکہ اسوقت تمام علماءاس بات متفق تھے کہ وہ شہید ہیں۔ لہذا ان کے ہیرو ہونے میں کسی مسلمان کوکوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر اب معاملہ فرقہ بندی کا تھا کہ ایک گروہ جس کا مربی سعودی عرب  اور اس مکتبہ فکر کے لوگ ہیں وہ اس کو ہیرو قرار دینے کے حق میں نہیں تھا اس لیے کہ اس سے مقبولیت بریلوی گروہ کی بڑھتی تھی؟ لہذا وہ علیحدہ رہا ، لیکن اب  علیحدہ  رہنا ان کے لیے مشکل تھا کہ دنیا میں  سیا ست پھر پلٹا کھانے جارہی تھی یہ ہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لیاقت باغ پنڈی میں نماز جنازہ کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے  اس سے بہتر طریقہ سے اس مرتبہ وہ پھر وہیں چالیسواں کرنے کی اجازت لینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔اور اسی پولس کے ذریعہ انہیں گاڑیاں اور اراکینِ اسمبلی کے ذریعہ کچھ معاونت بھی ملی جنہیں انہیں اسلام آباد پہونچنے سے روکنا تھا تاکہ سن اٹھارہ کے الیکشن میں ان کے ووٹ کام آئیں اور اسی طرح احسان کا بدلہ احسان کے تحت حکمراں دوبارہ کامیاب ہو کر آئندہ بھی کریں؟ جسکا پہلے دفعہ وہ ادراک نہیں کرسکے تھے کہ اب وہ صورتِ حال نہیں ہے۔ جوکبھی پہلے تھی کہ سارے سعودی حکمرانوں نے حریمیں شریفین کے اطراف میں حجاج کے لیے وقف مسافر خانوں کو ڈھا کر حرم سے اونچے ہوٹل بنا لیے ، اور بدعت کے مقدس نام پر انہیں مزارات گرانے کی بھی دنیا اور ملت نے کھلی چھٹی دیدی ؟ بعد میں اس سے وہ نفرتیں پیدا ہوئیں کہ دنیا کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ بھی اس نظریہ کے نتائج سے واقف ہوگئے جس کی پہلے وہ سرپرستی کر رہے تھے۔جس کا ثبوت وہ حالیہ کانفرنس ہے جو کہ اقوام ِ متحدہ میں پاکستانی مندوب محترمہ ملیحہ لودھی کی کوششوں سے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی جہاں ایک قوال کو بلا کر اس اعزاز سے نوازاگیا؟ کیونکہ وقتی پرندے ہوا کے رخ پر چلتے ہیں ۔ اب سارا یورپ اُس اسلام کو پہچان گیا ہے اور اِسے ترجیح دے رہا ہے ، جو صوفیان ِ کرام کا اسلام ہے جس کا پہلا اصول یہ ہے کہ “ نفرت کسی سے نہیں اور محبت سب سے “ اور وہ اب اسے  ہی اس بیماری کی دوا اور امن کے حصول کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ مذہبی جنون اسی ذریعہ سے کام لے کر کم ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس قسم کی ہر چیز کی افادیت ثابت ہوچکی ہے اور مولانا روم کی تعلیمات آج کل کے یورپ کا مقبول ٹاپک ہے جو نئی نسل کے زیر ِ مطالع ہے؟ ہوا کا رخ اس سے بھی ظاہر ہو رہا ہے  کہ سعودی وزیر خارجہ اس سے شاکی ہیں کہ امریکہ نے اسی (80 )سال کی پرانی دوستی فراموش کردی اور پاکستان کے ایک مقبول صحافی کے الفاظ روزانہ بطور ایڈ نشر ہورہے ہیں کہ ” سعودی عرب کا انفلوئنس کم ہوگیاہے” لہذا دوسرے گروہ کے علماءبھی موقعہ سے فائدہ اٹھا نے کے لیے ان کے ساتھ اکھٹے ہو گئے جنہیں کل تک بد عتی کہتے تھے۔ ورنہ وہ عوام کی نگاہ میں اپنا اثر کھو بیٹھتے، اور اس طرح پنڈی سے چہلم کے شرکاء بلا مزاحت اسلام آبادپہونچ گئے؟ کیونکہ اوپر والے اپنے ہی آدمیوں پر سختیوں کا حکم نہیں دے سکتے تھے؟ اور ادھر  بعد میں علماءکی یہ دھمکی بھی کام آگئی کہ اگر سختی برتی گئی توہم خاموش نہیں رہیں گے؟اس مشکل وقت میں کابینہ اسی طرح بٹی رہی جس طرح اکثر بٹی نظر آتی ہے کہ ایک گرو ہ ان کے خلاف رہ کر ڈراتا دھمکا تارہا اور دوسرا انہیں پر ہاتھ رکھ کر گھیر تا اور راضی کرتا رہا۔  لہذا کابینہ کے دونوں گروپ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اپنی جگہ درست ہیں کہ معاہدہ ہو ا بھی اور نہیں بھی ہوا۔ ان سے ملنے کوئی ذمہ دار نہیں بھیجا، نہیں گیا اورا حتجاجیوں کے نمائندے ان سے  خودملنے گئے۔ رہا یہ کہ اس تمام کھیل میں جیتا کون ؟وہ جس نے بہترین وقت پر تمام مہرے صحیح چلے، جہاں جس  کےساتھ پینگیں بڑھ رہی تھیں وہ بڑھتے بڑھتے وہیں رک گئیں ۔ جہاں سے روڑے اٹکا ئے جارہے تھے عوامی دباؤ اتنا بڑھا کہ وہ خود ہی راستے سے ہٹ  کر راستہ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب حکراں پریشان ہیں کہ بکریوں کو بچائیں یا بیریوں کو؟ جبکہ نقصان ان لوگوں کا ہوا جن کے پیارے دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ یا معذور ہوگئے۔ ابھی تک حکومت نے ان کی مدد کا بھی کوئی ہمیشہ کی طرح اعلان نہیں کیا ، جیسے کہ ہمیشہ ہو تا تھا اس لیے کہ تعداد بڑی ہے اور بقول شیخ رشید صاحب کے چھاپہ خانوں کی سیاہی بھی  نوٹ چھاپتے ، چھاپتےختم ہو گئی ہے؟ اور نہ ہی کوئی مخیر مدد کے لیے میدان میں آیا کہ انکا مستقبل بھی تابناک نہیں رہا؟ میرے خیال میں دانشمندوں کے لیے بہت کچھ ہے؟ کیونکہ میرا ایک ہی جیسا ہمیشہ حل بتانے سے لوگ  پڑھتے پڑھتے تنگ آچکے ہیں۔ ایک خاتون نے مجھ سے یہ ہی شکوہ کیا؟ایک سفیر نے مجھے لقمہ دیا کہ آپنے پچھلی مرتبہ بھی یہ ہی کہا تھا ، میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ سچ  اور جھوٹ میں یہ ہی فرق ہے کہ سچ وقت کے ساتھ بدلتا نہیں ہے، جبکہ جھوٹ جب بولا جائے ہر دفعہ نیا ہوتا ہے۔

Posted in Uncategorized

مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی

آجکل اس پر بحث چل رہی ہے؟ کہ ان کے پیچھے کون ہے اور مقاصد کیا ہیں ۔ جبکہ میں نے ابھی تک وہ حسنِ ظن کہیں نہیں دیکھا جو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے بارے میں ہونا چاہیئے؟ ایسا کیوں ہے اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں کہ ہم نے سچ بولنا چھوڑدیا ہے جس پر میں روز ہی بات کرتا ہوں ؟لہذا کوئی بھی ان کے خلوص پر یقین نہیں کر رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ اقتدار کی لڑائی ہے کسی نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے۔ ابھی تک مجھے ایک آواز بھی ایسی نہیں ملی جو اس گروہ کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھتی ہو۔ اس سلسلہ میں اب تک پاکستانی حکومت کی جو پالیسی رہی اس میں دونوں پارٹیاں شامل ہیں ۔ کہ انہیں حکومت چلانا ہے لہذا وہ متحدہ کے لیڈر کو ناراض نہیں کر سکتے بلکہ اس سے پہلے کی حکومت نے توایک وزیر کی ڈیوٹی ہی لگار کھی تھی کہ وہ لندن جہاں اسکا کارو بار اور گھر بار بھی ہے باقائدگی سے آتا جاتا رہے اور قائد کی غلط فہمیاں دور کرتا رہے کیونکہ ان دنوں وہ اتنے زود رنج ہوگئے تھے کہ بات بات پر روٹھتے رہتے تھے؟ جبکہ وہ اگر کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرلیتے تو انہیں وہ بتادیتا کہ ہر بچے کی عمر کا کچھ حصہ ایسا ہو تا جس میں ہم سنی کا دباؤ ( Peer pressure) بہت زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ پاکستان کی بد قسمتی تھی کہ وہ جب کراچی میں طالب علم تھے تو اسوقت فارورڈ بلاک کا طوطی بول رہا تھا اور وہ بہک گئے ۔یہ انہیں کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ان جیسے بہت سے اس دور نے پیداکیے مگر سب اپنی عملی زندگی میں ناکام رہے۔ یہ ہی نہیں اس دور میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بھی یہ ہی کیفیت تھی وہاں بھی اس دور میں کوئی نامور آدمی پیدا نہیں ہوسکا ۔ شروع میں الطاف بھائی بھی انہیں میں شامل تھے، پھر وہ اپنے بھائی کے پاس شکاگو چلے گئے اور نہ جانے کیسے ان کے سر پر ہما بیٹھ گیا۔ اور جس طرح پہلے سنا کرتے تھے کہ بزرگوں کی نظر کیا پڑی فلاں کی کایا پلٹ گئی وہ بھی کسی حادثے سے گزرے اور شہرت اور کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ جب الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر مہاجروں پر مسلط کیا گیا تو بھی کسی کو پتا نہیں تھا کہ ان کا مقصد کیا ہے ان کے پیچھے کون ہے؟ چونکہ وہ خود پہلے پیر پریشر کا شکار ہ چکے تھے انہوں نے وہی طریقہ اس دور کے بچوں کے لیے اپنا یاکہ تیتر سے تیتر کا شکار کیا جائے؟ دیکھتے ہی دیکھتے اسی ہزار فارم ان کی وفاداری کے بھر کر کراچی کے بچے اپنی تعلیم چھوڑ کر ان کی طرف راغب ہوگئے۔ کیونکہ انہیں یہ باور کرا یا گیا کہ تمہارے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم کو جو لیڈر حکم دے اسے مانو؟ جب لوگوں میں تجسس پیدا ہوا؟ توانہوں نے اس جال سے نکلنا چاہا تو کوئی ان دیکھی طاقت ان کے ساتھیوں کو نگلنے لگی؟ اس دن سے بچے بتانے لگے کہ اس کاذمہ دار کون ہے مگر کبھی کوئی ثابت نہیں کرسکا نہ کرسکے گا؟
اس تمام معاملے کو سمجھانے کے لیے تھوڑا سا تاریخ میں مجھے پیچھے جانا پڑےگا ؟ جب تک ون یونٹ نہیں تھا مہاجر اور انصار میں کوئی جھگڑا نہیں تھا، سب بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ جب مشرقی پاکستان کے لو گوں نے جنکا تناسب پاکستان میں54 فیصد تھا قربانی دیکر برابری تسلیم کرلی تو اسے ان کے مساوی لانے کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا نا پڑا ؟ لہذا صوبائی دار الحکومت لاہور بن گیا جبکہ اس زمانے میں لاہور تک کا سفر کسی کام کے لیے کرنا بڑا مشکل کام تھا ۔ کہ اسوقت غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص کندھے پر بینگی میں انڈے اٹھائے ہو ئے پیدل ساٹھ ستر میل پیدل جاتا تھا کوئٹہ بیچنے کے لیے  تو چار پیسے ملتے تھے؟ اسی طرح تھر پارکر سے ایک بھوسے کی گٹھری کی شکایت اپنے وڈیرے کے خلاف اس دور میں اپنے حلقے کے ممبر اسمبلی تک پہونچانے کے لیے اس سے بھی زیادہ سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ موقعہ پرستوں کو موقع ملا کہ بے انصافی کریں ۔ جب بے انصافیاں شروع ہوئیں تو ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوئی، مگر اس کا ذمہ دار اکثریتی صوبے کے لوگوں کو سمجھتے تھے جو بدقسمتی سے ویسٹ پاکستان کا دار الحکومت بھی تھا۔ پھر جمہوریت کا بستر ایوب خان نے لپیٹ دیا۔ وہاں ملک امیر محمد خان کی حکومت آگئی جو ون یونٹ کے گورنر تھے۔ ان کی ایک کابینہ بھی تھی اس میں دو ہی وزیر سندھ سے لیے گئے جن میں ایک عبد القادر سنجرانی نواب شاہ سے اور دوسرے محمد خان جونیجو سانگڑھ سے، دونوں ہی پیر پگارا کے نمائندے تھے۔ محمد خان مغربی پاکستان ریلوے کے منسٹر تھے۔ پیر صاحب نے ایک چٹھی دیکر ایک شخص کو ان کے پاس ملازمت کے لیے بھیجا انہوں نے اپنے پاس مہمان ٹھیرایا اور کھلایا پلایا اور جھنڈا لگی کار میں لاہور کی سیر کرائی ، مگر اس سے زبانی کہلا بھیجا کہ سائیں میں یہ ہی کچھ کر سکتا تھا وہ میں نے کردیا ،نوکری دینا میرے بس میں نہیں ہے؟ مختصر یہ کے بے انصافیاں بند نہیں ہوئیں اور بےچینی بڑھتی گئی اسی دوران مشرقی پاکستان الگ ہوگیا بھٹو صاحب کی حکومت آگئی ۔ اس وقت سندھی محاذ سندھ میں ون یونٹ توڑنے کی تحریک چلا رہا تھا طے یہ ہوا کہ بلا تفریق سندھ کے سب باشندے سندھ محاذ میں شامل ہو جا ئیں۔مہاجروں کا ایک نمائندہ اجلاس پہلے نواب زاہد علی خان کی کوٹھی پر ہواجو کہ سب کی نگاہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ پھر عبد المجید سندھی کی زیر صدارت ٹھٹہ میں دوسرا بڑا اجتماع ہواجہاں مہاجروں نے سندھ محاذ میں شامل ہونےکا اعلان کر دیا؟ جو لوگ لڑاؤ اور حکومت کرنے کے عادی تھے انہوں نے انہیں کے برادر نسبتی نواب مظفر حسین خان پر ہاتھ رکھا اور انہوں نے اسکی ٹکر پر پنجاب پٹھان مہاجر محاذبنا لیا؟اور سندھ میں پہلی دفعہ مہاجر سندھی فسادات ہو ئے ۔ زبان کے مسئلہ کوہوا دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی فضا زہر آلود ہوگئی ۔نواب مظفر کی زندگی نے وفا نہیں کی جلدہی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔یہاں مہاجر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اتنے میں ضیاءالحق آگئے اور ان کے زمانے میں الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر راتوں، رات لیڈر بنا دیا گیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے وہ کیا جو میں نے اوپر بتایا؟ ان کے نعروں میں سب سے بڑا نعرہ ان مہاجروں کو بنگلہ دیش سے لانا تھا جو وہاں پھنسے ہوئے تھے۔ بعد میں مہاجر تحریک نواز شریف صاحب کی حلیف ہو گئی؟ اخباری خبروں کے مطابق کچھ ان میں سے پاکستان لا ئے بھی گئے، مگر سندھ نے ان کو لینے سے انکار کر دیا البتہ فیصل آباد کچھ آئے مگر وہاں بھی سخت مخالفت ہو ئی اور نواز شریف صاحب کو پیچھے ہٹنا پڑا؟ کچھ دنوں کے بعد رات گئی بات گئی کے تحت انہیں سب بھول بھال گئے اور حکومتوں پر اِن کے راز کھلتے رہے۔ جب نواز شریف صاحب کی حکومت نے کچھ کر نا چاہا تووہ ہر بات کو جھوٹ کہتے رہے جو ہنوز جاری ہے؟
اب ایک بار پھر کھلے عام کچھ لوگ خم ٹھوک کر کہہ رہے ہیں کہ اور اقبالی بیان بھی دے رہے ہیں ۔ لیکن لوگ اور حکومت دونوں انکی بات پر تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ یاتو وہ پالیسی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، جو ہمیں انگریزوں سے ورثہ میں ملی ہے؟ یا پھر کوئی بھی ان سے بگاڑنا نہیںچاہتا ۔ جبکہ اس پالیسی کا نتیجہ ملک بھگت رہا ہے کہ کراچی تباہ ہوگیا، صنعتیں تنگ آکر یاتو پنجاب چلی گئیں یا ملک سے باہر چلی گئیں ۔ اور ایک عرصہ تک یہ علاقہ ہر قسم کے شر پسندوں کی جنت بنا رہا آخر میں نوبت یہاں تک پہونچی کہ لوگ! ہڑتالوں کی بہتات کی بنا پر بھوکوں مرنے لگے؟ تب کہیں جاکر موجودہ سپہ سالار کو ترس آیا۔ اور انہوں نے اس میدان میں نواز شریف صاحب کے ساتھ ملکر بہت کام کیا ہے؟ جو ابھی نا مکمل ہے ان کے بعد کیا ہوگا اللہ ہی جانتاہے؟
اب آپ پوچھیں گے اس کا حل کیا ہے ؟ جو ماڈرن مسلمان پاکستان میں ہیں وہ تو ڈر کر بات نہیں کریں گے؟ مگر جس اسلام کے نام پر یہ ملک بنا ہے اور جس کے صفحہ اول پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی ۔اور اگر کوئی واقعی مسلمان ہے تو وہ یہ کہہ کر چونکہ عقیدہ کے اعتبار سے مسلمان نہیں رہ سکتا کہ اسلامی قوانیں سے کوئی قانون بہتر ہے؟ ان کے لیے قرآنی آیتوں کی شکل میں حل موجود ہے سورہ 5کی آیت نمبر 34دیکھیئے کہ ” جن لوگوں نے اس سے پہلے کہ قابومیں آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو کہ اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے ” دوسری سورہ 4کی آیت17 ” جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا اور پھر توبہ کرلی تو تمہارا پروردگا ر ان کو بخشے والا اور رحمت کرنے والا ہے ۔ سورہ4 کی آیت نمبر 146ہے “ جنہوں توبہ کرلی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی اصلاح کرلی اور خاص اللہ کے فرمانبر دار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہونگے اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔ یہاں بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر پھر وہی حرکتیں لگیں تو کیا کریں گے؟ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے؟ سورہ نمبر 4 ی آیت نمبر38  “(اے پیغمر) کفار سے کہدیجئے کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو کیے ہیں معاف کر دیئے جائیں گے، اگر پھر وہی حرکات کرنے لگیں (تو وہی سزا دی جائےگی جس کے وہ مستحق تھے) اس آیت میں بعض نکتہ چین یہ نکتہ پیدا کر سکتے ہیں کہ یہ رعایت تو کافروں کے لیے ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام علماءاور فقیہ اسپر متفق ہیں کہ انسان جب گناہ کر تا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا بلکہ حالت ِ کفر میں ہو تاہے۔ کیونکہ اللہ کو حاضر اور ناظر (نگراں) مانتے ہو ئے کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتا؟ اس کے لیے تھوڑی سی قانون سازی کی ضرورت ہوگی جوکہ جوکہ نواز شریف صاحب کے لیے اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ورنہ یہ سب اسی طرح مارے جاتے رہیں گے۔ جیسے پہلے والے جیسے وہ دو سوپولس آفیسر، نامہ نگار وغیرہ وغیرہ اور کبھی جرم ثابت نہیں ہو گا اور ملک اسی طرح تباہی کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ لہذا میری حقیر رائے میں ایک مرتبہ انہیں آزمالینے میں کوئی حرج نہیں ہے ،کیا پتا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کا ضمیر بیدار کردیا ہو

Posted in Uncategorized

عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی

عبرت سے دیکھیے کہ مجھے  عبرت نگاہ ہوں
کیوں دیکھتے ہیں رشک سے زاغ و زغن مجھے
حافظ وہ عندلیب ہوں گر  اڑ گیا تو پھر
ڈھوندا کریں گے پھول چمن در چمن مجھے
حافظ غازی آبادی کا یہ قطعہ آج ہماری یاد داشت میں نہ جانے کیوں آگیا ، مدت ہوئی کہ حافظ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مگر وہ ایک قطعہ چھوڑ گئے ہیں جو کہ آج بھی زندہ ہے اور ان کو بھی وہ زندہ رکھے ہو ئے ہے۔ اس سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کبھی خود کو ناقابل ِ شکست نہ سمجھے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ر ہے اور اچھی بات کہتا رہے۔ انہوں نے کون جانے کہ کس پر رکھ کر یہ قطعہ کہا ہو ممکن ہے کہ شاہ ایران کو دیکھ کر کہا ہو کہ انہیں اپنے وطن میں بہادر شاہ ظفر کی طرح جگہ نہ مل سکی یا پھر اپنے ہی اوپر رکھ کر کہا ہو کہ شاعروں کی مشاعروں میں تو واہ واہ ہوتی ہے مگر انہیں خود فارغ البالی کم ہی نصیب ہوتی ہے ممکن ہے انہوں نے آج کے زمانے کے بہت سے فرعونوں کی زبوں حالی دیکھ کر کہاہو؟اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب مشاعرہ میں ان کے کسی شعر پر واہ واہ ہو رہی ہو اور خود ہی اللہ سے ڈرکر کہاہو؟کہ کب کوئی ان کی کہی ہوئی بات دہرادے اور ڈرنے والے پڑھ کرخدا سے ڈرجائیں اور ان کے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں اس طرح بڑھتی رہیں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ “ انسان کے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں ایسی بھی لکھی ہوئی ہونگی جنہیں وہ جانتا بھی نہیں ہو گاکہ وہ اس نے کب کیں؟ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ بات کہے تو اچھی ، عمل کرے تو اچھا بولے ،تو سچ اور لکھے تو سچ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ہر حال میں ڈرتا رہے ؟ کیونکہ اعمال نامہ مرنے کے ساتھ ہی بند نہیں ہوتابلکہ قیامت تک چلے گا صرف روز معینہ پر اس دن بند ہوگا جب سب کے بند ہونگے اس کے لیے ملاحظہ فرمائیں وہ آیت جس میں ذکر ہے کہ کچھ کو سیدھے اور کچھ کو الٹے ہاتھ میں ان کے نامہ اعمال تھمائے جائیں گے؟ اس وقت دونوں کی جو حالت ہوگی وہ بھی قرآن میں وہیں موجود ہے؟ کہ“ جنہیں سیدھے ہاتھ میں اعمال نامے دیے جائیں گے وہ اپنے جاننے والوں کو فخر سے دکھاتے پھر رہے ہونگے اور جن کو الٹے ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ کمرکے پیچھے ہاتھ کیے چھپائے پھر رہے ہونگے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے “ اگر اس کو کوئی سمجھنا چاہتا ہے تو فرق کو اس سے سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک کو مرتے دم تک اپنا اپنا بچپن ضرور یاد رہتا ہے۔ جبکہ اسے بڑھاپا پکڑ لیتا ہے تو اللہ اس دور میں اسکی تمام صلاحتیں خوصاً یاداشت بعض اوقات با لکل ہی ختم کر دیتا ہے مگر بچپن اور جوانی کی یاداشتیں باقی رکھتا ہے۔ تاکہ اپنے پہلے دو ادوار یعنی بچپن اور جوانی کی حرکتوں کو یاد کر کے اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے مزید شرمندہ ہو؟ یہ بھی دنیاوی حقیقت ہے کہ آج جو بڑے شاعر یا ادیب ہیں، وہ بچپن میں کسی پھول جیسے بچوں کے رسالے میں لکھتے رہیں ہیں۔ کیونکہ شاعر یا ادیب پیدائشی ہو تا ہے اور اس مرحلے سے سبھی گزرکر بڑے مرتبے پر پہونچتے ہیں! کہ پہلے ان کی کاوشیں ایڈیٹر کی ردی کی ٹوکری کھاتی رہتی ہے پھر جاکر کوئی شائع ہو تی ہے اور وہ اسوقت وہ اسے ہاتھ میں لیے سب چھوٹے بڑوں کو دکھاتے پھر تے ہیں کہ دیکھے یہ میرا مضمون یا نظم شائع ہوئی ہے۔ پھر ایک دور آتا ہے کہ اسے بھول جاتے ہیں۔اور خود کو آسمان کی بلندیوں پر سمجھتے ہیں اور بجائے شکر کے دوسروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ اپناوہ زمانہ بھول جاتے ہیں جب تک مضمون چھپ نہیں رہے ہوتے ہیں بڑوں سے چھپ کر لکھتے ہیں، اگر بڑے سامنے سے آتے ہوئے نظر آجائیں تو وہ ہاتھ کمر کے پیچھے کرلیتے ہیں کہ ڈانٹ پڑے گی ،کہ وقت کیوں بربادکرتے ہو؟ مگر یہ سب باتیں ان کے لیے ہیں جو عاقبت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے ہیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو دل گہرائیوں سے مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے ہیں یا دکھاوے کے لیے مانتے ہیں ان کے لیے کچھ نہیں؟ اس طویل تمہید کے بعد اب ہم آپکو بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ قطعہ کیوں یاد آیا اور نتیجہ میں یہ تمہید کیوں پیش کر نا پڑی؟
اس کی وجہ تھی کچھ خبریں جو ہم نے کل اخبار کھولا تو پڑھیں؟ ایک تو یہ تھی کہ سابق صدرِ پاکستان مرد آہن جناب مشرف صاحب کو دردِکمر کےعلاج کے لیے باہر جانے کی اس حکومت سے اجازت مانگنی پڑی وہ اس عدالت کی مہربانی سے مل بھی گئی جس کو کبھی انہوں نے بر طرف کرنے کا شرف حاصل کیا تھا اگر وہ ان کا نام ایکز ٹ لسٹ میں ڈال کر بھول جاتی تو کیاکرتے لیکن اس نے اپنا فرض منصبی یعنی انصاف ہاتھ سے نہیں چھوڑا؟ حالانکہ دور بدل چکا تھا بڑافرق تھا کہ کل وہ حکمراں تھے، آج وہی حکمراں ہے جس کا انہوں نے تختہ الٹ دیا تھا اور پھر اس کے پورے خاندان کی جلا وطنی پر وہ راضی ہوئے تھے۔ اور انہوں نے ڈٹ کر حکومت کی ؟ ایسی حکومت کہ سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے تھے۔حتیٰ کہ جنہوں نے انہیں سیاہ اور سفید کا اختیار دیا تھا ان کو بھی نہیں بخشا؟ نہ جانے پھر کیا ضرورت پیش آئی کہ اسی خاندان کواور اس کے مخالف دوسرے خاندان کو واپس لائے جن کے بارے میں وہ فرماچکے تھے کہ یہ دونوں اب کبھی پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتے؟وہ داخل بھی ہوئے اور یہ اپنی خوشی سے ان کی واپسی اور ترقی میں زینہ بنے اور بعد میں انہوں نے خود قیدو بند کی صعوبتیں جھلیلیں۔ یہ کیسے ممکن ہواپتہ نہیں؟ اور لوگ اس کی توضیح کیسے کریں گے معلوم نہیں ۔ مگر ہمارے پاس ایک جواب ہے جوکہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشادِگرامی ہے کہ ہم یہ الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں “ اور دوسرے جگہ فرمایا کہ “ہمارے ہر کام میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں “
پھر دوسری خبر دیکھی اس میں پڑھا کہ ایک صاحب جو آجکل اپنے رہنما کے خلاف مصروف عمل ہیں ان کے دروازے پر اس رہنما کے چند وفاداروں نے مظاہرہ کیا؟ پھر ہمیں ان کا بھی دور شباب یا د آگیا،ا للہ کی شان کہاں ان کے مخالف کوزمین پناہ نہیں دیتی تھی ان کے پاس ٹڈی دل جیسی کارکنوں کی فوج تھی، مگر اب صرف چند نفوس ان کی حمایت میں رہ گئے ہیں؟
پھر تیسری خبر پڑھی کہ تیرہ سال سے گورنر اوران سارے لیڈروں کے قریبی ساتھی ،جتنے معاہدے اس دورمیں ہوئے وہ اس میں شامل بھی وہ بھی آج اٹھارویں ترمیم سے شاکی ہیں جو اس ارشاد کی شکل میں ظاہر ہوا کہ “ اٹھارمیں ترمیم جیسی کوئی چیز پھر آنے والی ہے ً عجیب بات ہے کہ ہر ایک اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے؟
یہ ہی شکایت اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان سے ہے جو اس کے صحیح معنوں میں بندے نہیں ہیںوہ فرماتا ہے کہ “ اگر کوئی بندہ اپنی حقیقت کوجاننا چاہے تو وہ جان سکتا ہے کہ وہ کن کن مرحلوں سے گزرا اور کیسے بنا ،پھر جب میں اسے جوانی دے دیتا ہوں تو مجھ سے ہی جھگڑنے لگتا ہے ً پھر دوسری جگہ فرماتا ہے “ پھرمیں اسے اسی حالت میں پہونچا دیتا ہوں کہ جہاں سے اس نے اس دنیا میں آنے کے بعد ابتد اکی تھی کہ وہ دوسروں کامحتاج تھا۔(اس دور کو اس نے عمر ِارذل سے تعبیر فرمایا ہے)۔ یہ تماشہ انسان اپنے چاروں طرف روز دیکھتا ہے مگر وہ تائب نہیں ہوتا؟ جب کہ میں قرآن میں کہہ چکا ہوں کہ جو شکر کرتا ہے اس کو زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتا ہے اس کے لیے میرا عذاب بھی شدید ہے؟ پھر بھی لوگ نمرود، فرعون، ہامان، قارون ، ابوجہل اور ابو لہب بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان جیسا بننا چاہتے ہیں جن کے انجام انہیں معلوم ہیں ؟ جبکہ انہیں یہ معلوم ہے کہ قارون کا انجام کیا ہوا؟ ایک دن پہلے جو لوگ اس جیسا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے اپنی ناسمجھی کی بنا دعاکر رہے تھے۔ دوسرے دن اس کا انجام دیکھ کر شکر ادا کرتے نظر آئے کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں اس جیسا نہیں کیا، ورنہ ہم بھی زمین میں آج دھنس چکے ہوچکے ہوتے ۔ چونکہ حضور (ص) کے بعد نبوت ختم ہوچکی ہے اب وحی نہیں آرہی ہے لہذا ہم دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتے مگر جنہوں نے ابولہب دیکھا کے مثل ایک لیڈر کو ایسی ہی بے بسی کی حالت میں دیکھا ہے کہ اسکی رہائش گاہ سے تعفن اٹھ رہا ہو کوئی اندر نہیں جاسکتا ہے سوائے میڈیکل عملے کہ،دنیا منتظر ہے کہ کیا اسکی میت بھی بجائے دفن کرنے کے کچرے کے ڈھیر پر پھینکی جائے گی اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اسکے بہی خواہوں پر کیا گزرے گی۔ شاید اسوقت اس کے آلہ کار بننے والے اپنی کرنی پر پچھتا ضرور رہے ہونگے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم بجائے دنیا کی ان نعمتوں کے پیچھے بھاگنے کے، جو اللہ کے پاس اس کی خوشنودی کے صلے میں نعمتیں ہیں ان کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) بجائے نفس اور شیطان کی پیروی کے جہاں کی زندگی وہاں کی زندگی کے مقابلہ میں مچھر کے پر جتنی بھی نہیں ہے؟

Posted in Uncategorized

ہاتھ کاٹے پاؤ ں کاٹے پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کسی ہزل گو شاعرکا ایک ذومعنی شعر ہے جو کہ اس طرح ہے کہ “ ماسٹر کا ماس کاٹا پھر بھی ٹر باقی رہا  ہاتھ کاٹے پاؤں کاٹے پھر بھی سر باقی رہا “ آجکل یہ ہی ڈراما کراچی میں ہورہا ہے۔ برا ہونا انصافیوں کاجو کہ اپنوں کو بھی غیر بنا دیتیں ہیں۔ اور غیر بھی وہ جو کہ کبھی باہم شیرو شکر تھے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں یا تو انصار مدینہ تھے جو مواخّات پر پورے اتر ے۔ یا پھر انصار پاکستان جوکہ اس پر ایک مدتک پورے اترے کہ اپنے مہاجر بھائیوں کا خیال رکھاجائے اور انہیں اپنے اوپر ترجیح دی جائے کہ بیچارے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور مہاجر وں کی اکثریت نے بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس سے استفادہ حاصل کیا ان میں خودمیں بھی شامل ہوں۔ لیکن میں آنے والوں کی اس کھیپ میں تھا جو چند سال کے بعد950 1 میں پہلے مشرقی پاکستان ہوتا ہوا اسوقت کے مغربی پاکستان میں داخل ہوا ۔ یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی کیونکہ 1954 تک مشرقی پاکستان کی سرحدیں کھلی ہوئی تھیں اور سندھ کی58 تک کھلی رہیں جبکہ پنجاب میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور وہاں سے مکمل تبادلہ ِآبادی بھی کرنا پڑا لہذا عملی طور پر 1947میں ہی پنجاب ک طرف سے سرحدیں بند ہوگئی تھیں ۔ آگے جو کہونگا وہ تحقیق اور اپنے تجربات کی بنا پر کہو نگا اور جو کچھ بھی کہونگا سچ کہونگا کیونکہ میں نے نہ کبھی جھوٹ بولا نہ لکھا؟۔ گوکہ پاکستان آنے والوں کی اکثریت اچھے مستقبل کے تلاش میں آئی تھی مگر انصار نے پہونچنے کے بعد سب کا بلا تخصیص یہ کہتے ہوئے استقبال کیا کہ مہاجرین مدینہ کی طرح یہ بھی وطن چھوڑ کر ویسے ہی دین کے لیے آئے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ان میں کی اکثریت وہ اخلاقی بلندی نہیں رکھتی تھی جو کہ مہاجرین ِ مدینہ کو حضور (ص) کی پاکیزہ صحبت کے طفیل حاصل ہوئی تھی۔ دورسرا فرق یہ تھا کہ وہاں جن لوگوں نے اپنادیس چھوڑا وہ اپنے دین کے لیے چھوڑاتھا اور یہاں اکثریت نے وطن دنیا کے لیئے چھوڑا؟ کیونکہ صاحبِ حیثیت لوگو نے پاکستان سے پہلے تبادلہ آبادی کے بارے میں کبھی سوچا تک بھی نہ تھا، اس لیے وہ لوگ ذہنی طور پر تیار نہ تھے۔ کہ اچانک پاکستان بن گیا ہندو اکثریت کی نہ، نہ اچانک ہاں میں تبدیل ہوگئی اور ہماری لیڈر شب نے اپنی روایات کے مطابق اوروں کاکیا اپنے نام لکھ لیا۔ ادھر انصار بھائی صدیوں سے کاروباری طبقے کے لوگوں سے نالاں اور اپنی ملنے والی آزادی کے بعد اپنے مسلمان بھائیوں سے جن میں ہنر مند ، سرمایہ کا ر اور صنعت کار شامل تھے ان کی آمد کے بارے میں سوچ بھی رہے تھے اور دعوت بھی دے رہے تھے کہ بھائیوں آؤ اور اپنے تجربے اور سرمایہ سے ہماری مدد کرو، اس لیے وہ ذہنی طور پر تیار تھے؟ لیکن اقلیتی صوبوں سے جو کھیپ آئی، وہ ایک تو احساس برتری میں مبتلا تھی ،دوسرے وہ دودھ پینے والے مجنوں تھے ۔ خون دینے والے مجنوں نہ تھے؟ لہذا وہی پاکستان بننے کے بعد اس خبر کو سن کر چلے کہ وہاں تو مزے ہی مزے ہیں ۔ اور بند مکانوں کے تالے توڑتے اور بیٹھتے رہے۔ پھر یہ ہی انکا کاروبار بن گیا؟ میں ذاتی طورپر ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو یہاں آکر معزز بن گئے جو کہ پولس کو یا تو وہاں مطلوب تھے یا پھرپولس کے بستہ “ ب“ میں ان کے نام درج تھے، سوائے ان سرکاری ملازمین کے، جنہوں نے کہ پاکستان کی خدمت کرنا پاکستان بننے سے پہلے طے کرلیا تھا جو بعد میں آپٹیز کہلائے۔ اس پرظلم یہ ہوا کہ وہ نہ صرف یہاں آئے بلکہ یہاں آکر لیڈر بن گئے۔ جبکہ کسی نے آنے والوں کے چال چلن کی تصدیق کرنے کی زحمت بھی گواراہ نہیں کی اور جس نے جو کہدیا وہ مان لیا ؟ جو لوگ صاحب ِ حیثیت تھے خصوصاً زمیندار، سرمایہ دار۔ وہ اس چکر میں وہیں رکے رہے کہ ہماری جائیدادیں ہیں کارو بار ہیں کیسے چھوڑ دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انصار کو بہت سو ں سے مایوسی کاسامنا کرناپڑا ؟
اگر شروع دن سے ہی آنے والوں کا چال چلن چیک کیا جاتا ،تو باہمی اتحاد بد گمانیوں کی بھیٹ نہ چڑ ھتا ،مگر حاکم وقت ہمیشہ اسلام سے خائف رہے؟ وہ ان لوگو ں کو اس سے دور رکھنا چاہتے جن کو یہ نعرہ دیا گیا تھا اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا، کہ اسے لگاتے لگاتے ان کاجزایمان بن ہی بن چکا تھا کہ پاکستان مطلب کیا؟ لا الہ اللہ۔ اگر قیادت کا قبلہ درست رہتا تو پھر وہ بھی اپنے وعدوں کے مطابق ہر مسئلہ کا حل اسلام کے اندر تلاش کرتے جو وہیں مل جاتا؟ مثلاً مدینہ منورہ سے مہاجرت کے موقعہ پر خواتین مہاجرات کا مسئلہ پیدا ہوا تو قر آن میں فور حکم آیا جو موجود تھاکہ ًآنیوالی خواتین کو پہلے آزمایا جائے قسمیں دی جائیں اور پوری تحقیقات کی جائے کہ انہوں نے ہجرت کسی اور وجہ سے تو نہیں کی سوائے اسلام سے وابستگی کے “ اگر اس پر عمل ہوتا، تو یہاں مسائل کم پیدا ہوتے؟ مقامی لوگ بھائیوں کے ہاتھوں دھوکے کھانے سے بچ جاتے اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہونچتی، نہ مہاجر اور انصار ایک دوسرے سے شاکی ہوتے۔ کوئی ایسا انتظام پہلے سے موجود نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ یہ ہواکہ ایک خلا پیدا ہو گیا۔ فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ خالی گھر میں دیو آجاتے ہیں،چونکہ یہاں خلا تھا اس کو بڑھانے میں غلط کردار وں نے اور بعد میں ون یونٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا نتیجہ یہ ہوا کہ مرکز عوام سے بہت دور ہوتا چلا گیا لوگ معمولی کاموں کے لیے اسلام آباد، لاہور یا ڈھاکے کے چکر کاٹتے نظر آئے؟ دشمنوں کو موقعہ مل گیا انہوں نے اس کو اور ہوا دی اور ملک دوتکڑے ہوگیا؟ اس کے بعد جعلی لیڈرں میں سے بہت سے مسیحا بن کر آگئے اور غیروں نے اپنے اپنے مذمو م مقاصد کے لیے انہیں آسمان پر چڑھادیا کہ بس یہ تمہاری تقدیریں بدل دیں گے؟ ان کے پاس مختلف نعرے تھے۔ جو پورے کوئی بھی نہیں کر سکا اور عوام کو ایک مرتبہ پھر مایوسی ہوئی جبکہ انہوں نے اپنی تقدیریں بنا ئیں اور بدعنوانیاں اپنے عروج پہونچ گئیں کہ وزراءتک ٹی وی پر آکر کھلے عام کہنے لگے کہ رشوت ہمارا حق ہے ہم نہیں لیں گے تو کوئی اور لے جائے گا؟
اب کچھ درمندوں کی توجہ حالات نے اس وقت مبذول کرائی ہے جبکہ بہت دیر ہوچکی ہے ،دو نوں طرف کے زخم پھوڑے بن چکے تھے۔ کیڑے مکوڑے خلا پر دیوبن کر قابض ہوچکے ہیں۔ جنہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کی زندگی اجیرن تو کی، مگر ان سے اور عوام سے کیے ہوئے وعدے کبھی پورے نہیں کیے؟ آجکل بہت عرصے کے بعد ایک قیادت آئی ہے جس نے بیماری کوپہچانا ہے۔؟اور اتفاق سے دوسرے اداروں کو بھی اچھی قیادت میسر آگئی ہے اور صورت ِحال یہ ہے کہ پہلے جو بھی سر بنے ہوئے تھے انہیں زیرکرکے بے اثر کردیا ہے؟ بد زبانوں کی زباں بند ی کردی ہے۔ کچھ شور کم ہوا تواب ان کے سامنے انہیں جانثاروں کو انکے اصل چہرے نظر آنے لگے ہیں، مگر انکو تین نسلیں گزر چکی ہیں لہذا وہ جڑ پکڑ چکے ہیں ۔ وہ ہمیشہ کی طرح خود کو مظلوم ظاہر کر رہے ہیں اورہر بات پر جھوٹ کہہ کر جھٹلارہے ہیں کہ آزمودہ نسخہ ہے ؟ وہ چایتے ہیں نئی نسل کو بھی سبز باغوں، دھونس اور دھمکی کے زور پر اپنا ووٹر بنا ئے رکھیں ؟ ابھی تک جو مشاہدات سامنے آئے ہیں اس کی وجہ کوئی بھی ہو، دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے؟ مگر ووٹ انہیں کے بکس سے نکلتے ہیں۔ جبکہ ان کا اپنوں کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ وہ کھلے عام حکومتوں کو دھمکیا ں دیتے رہتے ،مگر کوئی ان سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے یاوہ جن کے یہ راز ہیں؟ ایک دور تھاکہ بازیگر جب چاہتا تھا شہر بند کرادیتا تھا، اپنے چاہنے والوں کو پارٹی سے نکال باہر کر تا اور ہر کارکن اس کے سامنے بے بس نظر آتا ۔ یہ اسی پالیسی کانتیجہ تھا کہ کل تک جو اپنے بہترین کام کی وجہ سے ہیرو بتلائے جارہے تھے وہی آج زیرو ہیں ۔ اور سیانے آکرا پنے لیڈر کو للکار رہے ہیں۔ ان کے حمایتی جو کبھی گلہ ، گلا اور ہاتھ اور جیبیں صاف کیا کرتے تھے اب “ گلیارے “ صاف کر رہے ہیں اللہ کی شان؟ مگر یہ کوششیں بھی شاید ہی انہیں اور ان کے حواریوں کو بچا سکیں کیونکہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ ہر فرعون کے لیے وقت معینہ پر کسی موسیٰ کو پیدا کردیتا ہے۔ جو اسی کے محل میں پرورش ہو کر اسے بعد میں ڈبونے کا باعث ہو تا ہے۔ اللہ ہمارے موجودہ نا خداؤں کو سمجھ دے تاکہ وقت کے مطابق کام کرسکیں دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے اکابرین کو ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے اس میں انکا کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ وہ تو سدا بہار ہیں کہ اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، مگر نقصان قوم کا ہوجا تا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس مرتبہ قوم کو محفوظ رکھے (آمین)

Posted in Uncategorized

صعّرا “ اونٹ سی ٹیڑھی گردن (2)…از ۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے گزشتہ مضمون میں وعدہ کیا تھا کہ ہم حضرت لقمان (رح) کی حکمت بھری باتوں کو جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پسند فرمایا اور قرآن کا حصہ بناد یا، اگلی قسط میں پیش کریں گے۔ تاکہ تمام مسلمان اس سے مستفید ہوسکیں۔ گزشتہ قسط میں ہم نے آیت نمبر12تک بات کی تھی۔ اب ہم آیت 13 سے15 تک بات کریں گے۔اگلی آیت میں جس ظلم کی طرف اشارہ کیا ہے اس ظلم میں ہم آجکل بری طرح مبتلا ہیں اور اسے مذہب سمجھ کر کر رہے اس طرح ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔آگے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا اس کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے ۔
“ اے میرے پیارے بچو! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے؟ ہم نے انسان کواس کے ماں باپ کے بارے میں ہدایت کی، اس کی ماں نے ضعف پرضعف تکلیف اٹھا کراسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ پلائی دوبرس ہے۔توُ میرے اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر،میری طرف لوٹ کر آنا ہے (14)۔ اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کے لیئے دباؤ ڈالیں کہ تواسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہوتو توُان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے بسر کرنااور اس کے پیچھے چلنا جس کا جھکاؤ میری طرف ہے۔ تمہارا سب کا لوٹ کر آنا میری طرف ہے۔تم جو کچھ کرتے ہو اس سے میں خبردار کردونگا۔ (15)
یہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ جن باتوں پر زوردے رہا ہے ان میں سے سب سے اہم ہے شرک سے بچنا جسے کہ ا س نے ظلم سے تعبیر فرمایا ہے؟ ہماری زبان میں ظلم اس کو کہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کی جائے ,جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک کسی کے ،کسی بھی قسم کے جائز حق کا انکارظلم ہے۔ جس میں سب سے پہلا حق خالق حقیقی اللہ سحانہ تعالیٰ کا ہے اور دوسرا خالق ِ مجازی کاہے۔ وہ ہیں اس کے ماں باپ کیونکہ ماں مسلسل نو ماہ تکلیف اٹھاکرا نسان کو پال پوس کر بڑاکرتی ہے ،دوسری جگہ ماں کے بارے میں حکم یہاں تک ہے کہ ان کے سامنے اف بھی نہ کرنا؟ لیکن وہ بھی اگر شرک کو کہیں تو تم نہ ماننا اور اس سلسلہ میں کوئی تناؤ پیداہو جائے تو اس کی طرف جھکنا جو کہ میری بلاتا ہے۔ اس کے باوجو دبھی دنیا وی معاملات میں ان کے ساتھ بہترین بر تاؤ کرنا؟جبکہ ہم جو کرتے ہیں اس کا قطعی الٹ ہے کہ ہم ہر کام میں اللہ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ حلانکہ بحیثیت مسلمان ہمیں ہر بات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہی ترجیح دینا چاہیے۔آج ہم اپنا رویہ دیکھیں تو ہم میں جو برائیاں نظر آئیں گی ان میں سب سے پہلی “ظلم “ہے جو کہ اللہ تعالیٰ سے شروع ہوکر ماں باپ سے ہوتی ہوئی معاشرے تک پہونچی ہو ئی ہے؟ اور معا شرہ اتنا بے حس ہوچکا ہے کہ اسے معیوب بھی نہیں سمجھتا، پھر بھی ہم کہتے خود کو مسلمان ہیں؟اور ہماری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے اسلام دنیا بھرمیں بدنام ہورہا ہے۔ جبکہ المیہ یہ ہے کہ نئی نسل اسلام سے دور ہو تی جارہی ہے؟ آپ میری بات نہ مانیں مسجدوں میں چلے جائیں اور دیکھیں کہ نئی نسل وہاں آپ کوخال، خال ہی نظر آئے گی۔ وجہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے ماں باپ سے پوچھتے ہیں کہ دنیا میں یہ جو کچھ اسلام کے دعوےدار کر رہے ہیں؟ کیا یہ ہی ہمارا دین ہیں ؟ تو وہ اپنی کم علمی یا پھر کسی خوف کی بنا پر کہ وہ سب سے ڈرتے ہیں سوائے اللہ کے؟ پنا منہ کھولنے کی ہمت نہیں کرتے ۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ سب سے زیادہ مجھ سے ڈرو اور ایسے ڈرو جیسا کہ مجھ سے ڈرنے کا حق ہے۔ کیا اس طرح ہم اس کا حق ادا کر رہے ہیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم سب سے وہ توقع فرماتا ہے؟ اس آیت میں جن کی طرف جھکنے کاحکم ہے وہ، وہ ہیں جن کا نام محمدمصطفی (ص) ہے ۔ کیونکہ ان کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت ہی وضاحت سے فرمادیا ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ اور اس کا جواب بھی پوچھے بغیر دیدیا ہے کہ کیوں کافی ہے ؟ وہ وجہ یہ ہے کہ وہ “اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے وہی فر ماتے ہیں جو انکی طرف ہماری طرف سے وحی کیا جاتا ہے“ اس لیے کہ ہم نے انہیں تمہاری طرف بشیر اور نذیر یعنی( خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے۔ لہذا سب کو چھوڑ کر ان کا اتباع کرو؟ س سے واضح ہوتا ہے اوپر کی آیت میں بھی انہیں (ص) کی طرف اشارہ ہے ، جبکہ وہ (ص) فرما گئے ہیں کہ “ وہ فلاح پا گیا جس نے میرا (ص) اتبا ع کیا ،یا ان کا اتباع کیا جومیرے ساتھی (صحابہ) آج میرے راستے پر ہیں ؟ ہم نے اس کی توضیح ہی بدل دی یہ وسعت دیکر کہ “ جس نے  بھی نبی (ص) کو ایمان کی حالت میں دیکھا وہ سارے صحابی ہیں اور ان میں سے جس کا بھی اتباع کروگے فلاح پاجا ؤگے؟ اگر یہ معیار مان لیا جا ئے ۔ تو بچےتو کیا !اچھا خاصا مسلمان دین سے بے زار ہو جائے گا؟ کیونکہ اس سے وہ تضاد پیدا ہو گا کہ عقلیں کند ہوجائیں گی اور ذہن پریشان ہو جائیں گے۔ مثلاً قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میدان جنگ سے پیٹھ مت موڑو ؟ جبکہ اس توضٰیح کو مان لیا جائے تو ایک دوسری مثال بھی مل جائے گی؟ جس میں صحابہ میں عبد اللہ بن ابی اور اس کی قیادت میں وہ تین سو لوگ بھی ہیں شامل ہوجائیں گے جنہوں نے احد کے میدان ِ جنگ میں نبی (ص) کو چھوڑ دیا اور پیٹھ موڑ کرچلے گئے۔؟دوسری مثال اس سے یہ بدعت بھی جنم لیتی ہے ۔ کہ امیر ِ وقت کے خلاف بغاوت کی جاسکتی ہے! جبکہ اسلام اسے منع کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس کردارکو جائز مان لینے کے بعد کوئی حکومت مستحکم رہ سکتی ہے۔ایسے میں ان الجھے ذہنوں کو کون راہ دکھائے گا جبکہ شدت پسند اور ان کے مربی تمام دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ جو اسلام شدت پسندوں نے پیش کیا ہے وہی ( نعوذباللہ ) اسلام کا اصل چہرہ ہے۔ اس کے لیے ہمیں دنیاوی وفاداریوں سے سوائے خدا کے رشتے کے ، دوسرے تمام مفاداتی رشتوںسے یہ کہہ کر جان چھڑانا پڑےگی کہ یہ شرک ہے ؟ چونکہ حضور (ص) نے تو بقول حضرت معاذ  (رض)بن جبل یہاں تک منع فرمادیا کہ جو کام بھی “ ریاکاری“ یعنی دکھاوے کے لیے کیا جائے وہ بھی شرک ہے “کیونکہ یہ بھی غیر اللہ کوا للہ پر تر جیح دینا ہے“ یعنی جب تک کہ مسلمان شرک خفی اور شرک ِ جلی دونوں نہ چھوڑدیں اس وقت تک وہ بچوں کو کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکتے اور بچوں کے ذہن کو دہرا رویہ رکھ کر اس الجھن ِ وقت سے یہ کہہ نہیں نکالا جاسکتاکہ یہ بھی صحیح وہ بھی صحیح ہے؟ کیونکہ ایک سے فریق ہوں تو ایک ہی صحیح ہو سکتا ہے دونوں نہیں ؟ اس کا حل وہی ہے جو خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے چودہ سو برس پہلے بتادیا تھا کہ جب کسی بات پر تم میں تنازع پیدا ہو جائے تو اللہ اور رسول  (ص)کی طرف رجوع کرو؟ جب ہم اتباع رسول (ص) کی طرف لوٹیں گے تو ہم جواب دینے کے قابل ہو جائیں گے؟پھر جب بچے شدت پسندوں کی بر بریت اور مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں آپ سے یا ماں باپ سے پوچھیں گے تو آپ بے  دھڑک بتا سکیں گے کہ “ نہیں یہ اسوہ حسنہ کے خلاف ہے لہذا یہ کسی مسلمان کا فعل نہیں ہو سکتا “حضور (ص) تو منافقین تک کو برداشت کرتے رہے تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اب محمد  (ص)اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہمیشہ انہوں نے عفو اور در گرز سے کام لیا؟ جب بچے پوچھیں گے کہ یہ اسلام میں آثار ات قدیمہ کو صرف بدعت کے نام پر ڈھانا اور ان کی جگہ فائیو اسٹار ہوٹل بنانا، کبھی حضور (ص) کے زمانے میں یا ان کی راہ پر چلنے والے صحابہ کرام کے زمانے میں ہوا؟ تو جواب ہوگا کہ نہیں یہ نبی  (ص)کا طریقہ کار نہیں ؟اگر ہوتا تو وہ آثارات قدیمہ اب تک کیسے باقی بچے رہتے، جنہیں یہ شدت پسند اور انکے پیش رو نہ بلڈوزروں سے ڈھاتے نہ ہی بموں سے اڑاتے ۔ کیونکہ اس وقت آپ نڈر ہوکر صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے بات کر رہے ہونگے۔ دنیا کے لیے نہیں ، اور وہ اپنے بندوں کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے؟ آپ اس کے ہوجائیں وہ آپ کی تمام ضروریات کو پوری کرے گا کیونکہ یہ اسکا وعدہ ہے۔ آیت نمبر 18کو تو ہم نے عنوان بنادیا تھا لہذا ہم گزشتہ قسط میں بات کرچکے ہیں ۔ رہیں باقی آیات ان میں حضرت لقمان (رح)  نے جو فرمایا وہ سورہ لقمان میں آیت نمبر 19 تک ہے؟ ان میں انہوں نے اللہ کو بہت باریک بین بتایا ہے اورفرمایا ہے کہ کوئی کیڑاکہیں بھی چھپا ہوا وہ اس سے بھی باخبر ہے۔ نماز کی پابندی کی تلقین فرمائی ہے اور اچھی باتیں اوروں تک پہچانے کی تلقین فرمائی ہے ، زمین پراکڑ کر چلنے کو منع کیا ہے اور بدتریں آواز گدھے کی بتائی ہے ۔ جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ہر کام میں میانہ روی ہونا چاہیئے ، وہ چال ہو یا آواز ہو ۔

Posted in Uncategorized

شہید علم ثاقبہ حکیم؟ ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

یہاں میں نے اس بچی کے ساتھ شہید علم کا لقب استعمال کیا ہے۔ اس سے ایک نئی بحث جنم لے سکتی ہے، اور میری جواب طلبی ہوسکتی ہے کہ تم نے یہ جرات کیسے کی؟ اسکے جواب میں عرض ہے میں یہاں “اسلامی اصطلاح میں جو شہادت کے معنی ہیں اسکی بات نہیں کر رہا ہوں“ بلکہ اردو لغت میں یہ لفظ شامل ہونے کے بعد اب چونکہ یہ ہرایک استعمال کر رہا اور سب کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ چاہیں مرنے والا اپنے اقتدار کے لیے مرا ہوا یا کسی اور مقصد لیے ؟مگرا سکے مدح خواں اسے شہید ہی کہتے ،لکھتے اور بولتے ہیں ؟ اور کسی حلقے کی طرف سے اس کے اس استعمال پراحتجاج نہیں ہوا،لہذا “ متفق علیہ “ سمجھ کر میں بھی ان ہی معنوں میں ا سے استعمال کر رہا ہو جس میں سب کر رہے ہیں؟
مسلمان اور کسی بات متفق ہوں یا نہ ہوں؟ مگر ان چیزوں پر متفق ہیں سب سے پہلے تو جہالت پر اور خصوصاً خواتین کو جاہل رکھنے پر، اس میں سب ہی شامل ہیں چاہیں وہ سلفی ہوں، شدت پسند ہوں یاماڈرن۔ جی ہاں ماڈرن بھی؟ اور اس میں یہ بھی نہیں کہ وہ صرف مرد ہیں بلکہ خواتین بھی ان میں شامل ہیں جس کا تازہ ثبوت بلوچستان کی ایک بیٹی ثاقبہ حکیم ہے جس نے اپنی ہی ہم جنس پرنسپل کے ظلم کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کر لی۔ اس لیے کہ وہ علم سے عشق رکھتی تھی اورپرنسپل نے اس کے انٹر میڈیٹ کے انرول منٹ فارم اس لیے فارورڈ نہیں کیے کہ اس نے بلوچستان کے دور دراز ضلع قلعہ عبداللہ کے مسلم باغ سے کوئٹہ آکر ایک مرتبہ اس احتجاج میں طالبات کی قیادت کی تھی کہ اس سکول میں اسا تذہ کی کمی ہے۔ جب تک خواتین استانیاں تیار نہ ہوں جوکہ تازہ بھرتی ہوئی ہیں اور سفارشی ہونے کی وجہ سے فل الحال طالبات سے کم تر علم رکھتی ہیں! انہیں علم سیکھنے دیں اور اسوقت تک اس درسگاہ میں پرانے مرد اساتذہ کوئی ہی رہنے دیا جائے۔ تاکہ اس کی اور اسکی ساتھی طالبات کی عمریں اور حصول علم کے لیے کاوشیں بے کار نہ جائیں ؟ یہ ہی بات پرنسپل صاحبہ اپنے دل پر لے بیٹھیں اور اسکے باوجود کہ بچی کے والد نے معافی بھی بڑوں کی شرائط کے مطابق مانگ لی! مگرپرنسپل کا دل نہ پسیجا ! اوراس کے فارم دبا دیئے گئے ،فارورڈ نہیں کیے گئے تو ثاقبہ نے دل برداشتہ ہو کر اور زہر کھاکر خود کشی کرلی جو اسے آسان نظر آئی۔ یہ خبر بھی روایت کے مطابق میڈیا میں چند دنوں چلے گی اسکے بعد آپ اس کانام بھی نہیں سنیں گے کہ اس نام کی کوئی مظلومہ بھی تھی۔ چونکہ پرنسپل خاندانی ہیں جوکہ معطل ہوئی ہیں،وہ چپچپاتے ہی کچھ دنوں کے بعدبہال ہوجائیں گی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوگی؟ اس لیئے کہ اس خبر میں کسی کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے! کچھ دنوں کے بعد میڈیا کو بھی کوئی دلچسپی نہیں رہے گی کہ اس کے پاس کوئی تازہ خبر آگئی ہوگی۔
مطعون بھی وہ ہی بچی قرار پائے گی کہ وہ معاشرہ ہی ایسا ہے اور اس نے خودکشی کرکے بہت بڑا جرم کیا ہے؟ لہذا وہاں کے علما ءجوکہ حکومت میں ہیں وہ تو اس لیے اس کی دادرسی نہیں کرسکتے کہ وہ تو ویسے ہی چادر اور چار دیواری کے محافظ ہیں۔ پہلا جرم تو اس نے یہ کیا کہ علم کے لیے گھر سے باہر نکلی دوسرا یہ کہ اس نے جان دینے میں حرام طریقہ استعمال کیا، یعنی خوکشی کی مرتکب ہوئی جو حرام ہے ۔ اگر ان سے مشورہ کرتی تو وہ اسے صحیح راستہ بتادیتے کہ کہیں جاکر پھٹ پڑے اور شہیدوں میں نام لکھالے؟ رہے سر دار وہ اس لیے اس کی حمایت نہیں کریں گے؟ وہ خاتون تھی، وہ تو مردوں کی تعلیم میں بھی روڑے اٹکانے کے عادی ہیں؟ اور غیرت کے نام پر صنف نازک کو زندہ دفن کرنے کا بطور پنچایتی حکم آئے دن دیتے رہتے ہیں۔ اول تو وہ اسکول کو اپنی جاگیروں میں بننے نہیں دیتے اگرپھر بھی بن جائیں تو چلنے نہیں دیتے ؟اسکی بہت سی وجوہات ہیں ؟ پہلی تو یہ ہے کہ لوگ پڑھ لکھ سمجھدار ہوجاتے ہیں ،کل تک جو ان کے سامنے سر نہیں اٹھاتے تھے سائیں، سائیں کرتے اور ان کے پیر چھوتے تھے !وہ نہ سہی ان کے بیٹے، پڑھ لکھ کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگتے ہیں ۔ دوسرے وہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے علاقے میں کوئی غیر مردآکر رہے لہذا اپنے آدمی بطور ٹیچر بھرتی کراتے ہیں جو اکثر گھر بیٹھے رہتے ہیں ۔ کچھ کی تنخواہ وہ خود اور کچھ کی تنخواہ ان کے بندے گھر بیٹھ کر لیتے رہتے ہیں ۔ رہی اسکول کی بلنڈنگ اگر وہ بستی میں ہو توسائیں کے اوطاق (یبٹھک) کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اگر وہ گاؤں سے باہر ہے تو اس میں جانور بھی نہیں باندھے جاسکتے کہ ان کے چوری ہوجانے کاخطرہ ہو تا ہے۔ لہذا ہر ضرورت مند کو اجازت ہوتی ہے کہ اسے اس بلنڈ گ کی جس چیز کی ضرورت ہو لے جاسکتا ہے ،پھر وہ آہستہ آہستہ آثارات قدیمہ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔
اس قسم کے اسکینڈل آجکل میڈیا ہر روز اجاگر کرتی رہتی ہے ؟ کیونکہ نمائندے کو دوبارہ اس علاقہ میں جانا نہیں ہو تا ،اگر چلا جائے تو پھر واپسی کا اللہ ہی مالک ہے۔ دوسری طرف شدت پسند ہیں جن کے نزدیک عورت کی آواز دروازے کے باہر نہیں سنائی دینا چاہئے؟ ان کے نزدیک تعلیم نسواں حرام ہے ، جبکہ اسلام کہتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے اگر چین تک جانا پڑے تو جاؤ؟ اور علم سیکھنے اور سکھانے کو بہت بڑا دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے؟ مگر انہوں نے جہاں جہاں ان کی پہونچ تھی وہاں کوئی زنانہ اسکول نہیں چھوڑا ان کا مزاحم کوئی سردار یاوڈیرہ کیوں ہو؟ “ یعنی ہوئے تم دوست جس کے اسکا دشمن آسماں کیوں ہو “
اس لیے کہ ن کے ماننے  تو ان کے ووٹر ہیں ۔ اور انہیں ان عہدوں تک پہونچاتے ہیں جہاں آجکل وہ پہونچے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں کوئی آسمان سے اترے تو ہی کچھ کر سکتا ہے۔ زمینی مخلوق صرف شور اور غوغا ہی کر سکتی ہے وہ بھی اتنا ہی ، جنتی اجازت ہو؟ اس سے بڑھیں تو گولی سے تواضع ہوتی ہے۔ گولی کدھر سے آتی ہے۔ عموماً پتہ ہی نہیں چلتا، اگر چل جائے تو گواہ نہیں ملتے، مل بھی جائیں تو با اثر لوگوں کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکتے؟ اگر یہ سب کچھ بھی کسی کو حاصل ہوجائے تو وکیلوں کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے ان کی عمریں کم پڑجاتی ہیں اور عدالتوں کی پیشیاں بھگتے ، ہوئے اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔
جبکہ سورہ روم کی آیت نمبر 41میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ” ظھرالفسادفی البرّوالبحر بما کسبت اایدی الناس لذقیھم بعض الذی عملوالعلھم یرجعون ہ جس کا اردوترجمہ یہ ہے کہ جب لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث خشکی اور تری میں میں مصیبتیں آن پڑیں اسلیے کہ ا ن کی بعض کرتوتوں کا ذائقہ (اللہ) انہیں چکھادے ،بہت ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں ” بہت سی دوسری جگہ قرآن میں بار بار یہ ہی مضمون اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دہرایا ہے کہ ” جب نافرمانیاں حد سے بڑھ جائیں تو ہم طرح طرح کے عذاب بھیجتے ہیں، تاکہ لوگ ڈر کر ہم سے رجوع کرلیں اور ہم ان کی توبہ کے بعد اپنے عذاب ان سے ہٹالیں؟ اس لیے کہ ہم کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہیں ؟ بس ہماری بات مان لیاکرو ” مگر ہماری ادا یہ ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کی بات نہیں مانتے؟ اگر مانتے ہوتے تو ہم اسکے رسول(ص) کے راستے پر چلتے جس کے بارے میں یہ اس کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی  (ص)کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ اور جب صورت ِ حال یہ ہوجائے جس ملک کی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے ؟ تواگلی آیت42 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم چل پھر کر دیکھو کہ ہمارے ہاتھوں نا فرمانوں کا کیا انجام ہوا ۔۔۔الخ۔ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ“ جو کوئی بھی جیسا کچھ کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے “ پھر سورہ روم کی آیت نمبر 57 میں یہ فرماکر بات ختم فرمادی ہے کہ آج (بروز ِ قیامت) ظالموں کے کوئی عذر و معذرت کچھ کام نہیں آئے گی اور نہ ہی توبہ کی اجازت ہوگی۔
جبکہ ہم مسلمان مطمعن ہیں کہ ہم اس کی بات مانے یا نہ مانیں بس اس کا کلمہ پڑھ لیا ہے لہذا جنت پکی ہے؟ کیونکہ ہمارے علماءکہتے ہیں کہ ہم کلمہ گو ہیں ان (ص) کی امت ہیں جس پر عذاب آہی نہیں سکتا ،چاہیں وہ کچھ بھی کرتی رہے جنت اس کا حق ہے۔ کچھ گناہ ہوئے تو وہ اپنی رحمت سے معاف کردیگا، یا ہم نبی (ص) کی چادر میں پناہ لے لیں گے؟ لہذا مسلمان فکر کریں تو کیوں ؟جبکہ نبی (ص) فرما گئے ہیں کہ بے عمل ہم میں سے نہیں ؟ جھوٹا ہم میں سے نہیں ۔ بد عہد ہم میں سے نہیں ہے ، خائن ہم میں سے نہیں ، بد اخلاق ہم میں سے نہیں ، بد زبان ہم میں سے نہیں ہے اور ظالم ہم میں سے نہیں ہیں غاصب ہم میں سے نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔؟ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاقول ہے کہ “ انسان بھوکا تو رہ سکتا ہے مگر جہاں عدل نہ ہووہاں زندہ نہیں رہ سکتا، حضرت عمر  (رض)جوکہ اپنے بے مثال عدل کے لیے مشہور ہیں ان کی نصیحت حضرت سعد بن وقاص (رض)کو فارس بھیجتے ہوئے یہ تھی جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور حضور (ص) کے ماموں بھی تھے؟ کہ دیکھو تمہیں یہ غرور ہلاک نہ کردے کہ تم حضور (ص) کے رشتہ دار ہو ؟ کیونکہ اللہ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے سوائے اطاعت کے؟ پھرنہ جانے ہم اپنی مرضی کی توضیحات کہاں سے لاتے ہیں؟ حتیٰ کہ ہم سورہ الانعام کی آیت65 کو بھی بھول جاتے ہیں۔ جس کے نزول پر حضور (ص) سب سے زیادہ پریشان ہوئے تھے۔ جس کی تفسیر میں ابن ِ کثیر (رح)  نے پوری تفصیل دی ہے جس سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا یہ جز باقی رکھا جو منظرہم آج کل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کہ ہم تکڑیوں میں بٹ چکے ہیں اور ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں؟ ہمارے نزدیک ظلم انصاف ہے اور ظالم معصوم ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف ایک راستہ بچا ہے وہ ہے اجتماعی توبہ اور اللہ کی طرف واپسی؟ جو میں سالوں سے کہہ رہا ہوں؟ مگر اب میڈیا کادور ہے اور وہ بھی کہنے لگے ہیں جو میڈیا میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرمائے؟ (آمین) اس سے پہلے کہ یہ چھوٹے چھوٹے جھٹکے کسی بڑے طوفان میں نہ بدل جائیں؟ کیونکہ مظلوموں کی آہیں کبھی خالی نہیں جاتیں؟

 

Posted in Uncategorized

میڈیا کے نئے نام پرانے کام۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

میرے کچھ انتہائی مخلص دوستوں کی رائے ہے کہ “ تمہارے حالات حاضرہ پر لکھے ہوئے کالم بھی وقت کے ساتھ نہیں مرتے اس لیے کہ، جس طرح تم نے تاریخِ ِ اسلامی میں پرانی روش کو بدل کر ایک نیا طرز اپنایا اسی طرح یہاں بھی تم نے طنز و مزاح کے ذریعہ دین کا پیغام پہونچانے کی کامیاب کوشش کی ہے،جسے پڑھنے والوں نے بے انتہا پسند کیا۔ لہذا یہ کالم بھی تاریخ کی طرح کتابی شکل میں شائع ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ اور بات تھی کہ اس میں حضور (ص) ، صحابہ کرام اور صحابیات (رض) کی سیرت سے ابھی تک کچھ مسلمانوں کو دلچسپی تھی، جب کہ دین پر عمل کرنے میں اب کسی کو دلچسپی نہیں ، صرف مسلمان کہلانے میں دلچسپی ہے؟ عمل اور وضاحت کاکام ماڈرن مسلمانوں نے شدت پسندوں کے لیے چھوڑرکھا ہے تاکہ وہ جو چاہیں اسلام کو معنی پہنائیں۔ حالانکہ قر آن کہہ رہا ہے کہ “ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے “ پھر القائدہ اور اسکی کوکھ سے پیدا ہونے والے گروہ جو اسلام کے نام پر ظلم ڈھا رہے ہیں اس کی سند کیا ہے؟ جبکہ یہ ہیں بھی ایک ہی مکتبہ فکر کے لوگ؟ دوسرے یہ کہ ہم 1944 سے لکھ رہے ہیں۔ جو زیادہ تر ضائع ہوچکا ہے، صرف کمپیوٹر کے دور کا کام محفوظ ہے وہ بھی کم ازکم پانچ ہزار کالم ہیں؟ انہوں نے جواب میں مشورہ دیا کہ ایک سوکالم چھانٹ لو اور ان کو کتابی شکل میں شائع کردو۔ چونکہ ہم ان کی بات ٹال نہیں سکتے تھے حالانکہ ان کو پڑھنا اورمنتخب کرنا بھی ایک کار کثیر ہے؟ کالم پڑھنا شروع کیے تو احساس ہوا کہ بدلا کچھ نہیں ہے صرف جدید اور قدیم طریقہ کارکا فرق ہے۔ لہذانمونے کے طور پر ایک پرانا کالم پیش کر رہے ہیں؟ تاکہ پڑھنے والوں کی رائے معلوم کریں جبکہ ہمارے یہاں عوام کی رائے معلوم کرنے کی بدعت رائج نہیں ہے؟
“ غیر منقسم ہندو ستا ن میں جس کو کہ اس کے دستور کے مطا بق “اب بھا رت یعنی کہ انڈیا کہا جا تا ہے “ایک شہر تھا سلطا ن پو ر اس کی و جہ تسمیہ ہمیں معلو م نہیں کہ اسے کو ن سے سلطا ن نے آبا د کیا، یا کسی ابن ِ سلطا ن نے بسایا ؟ البتہ یہ پٹھا نو ں کی بستی تھی ۔وہاں بہت سی نا مو ر ہستیاں پیدا ہو ئیں ان میں ایک مشہو ر شا عر مجر وح سلطا ن پو ری اور دوسرے ہما رے ایک دوست اور ہزل گو شاعر جنا ب سیف سلطا ن پو ری مر حوم تھے۔جن کا ایک شعر ہم آپ کو سنا ئے دیتے ہیں کہ جس سے آپکو پتہ چلے کہ وہ کس پائے کے شا عر تھے ۔ فر ما تے ہیں ع۔ “ وہا ں تو ایک سے ایک گو یا ٹیڈیا ں ہو نگی ، نما ئش میں تمہیں منےّ کی اما ں کو ن پو چھے گا “ انہیں نے ہمیں ایک وا قعہ سنا یا کہ “ وہا ں تین بھا ئی رہتے تھے اور کچھ نہیں کر تے تھے مگر گزر بسر بڑے آرا م سے ہو تی تھی ۔ ان کا طر یقہ وا ردات یہ تھا کہ دو بھا ئی صبح ہی صبح جنگل کی طر ف نکل جا تے شکا ر کی تلا ش میں اور سڑک پر پہرا دیتے رہتے ۔اکثر بیچا رے دیہا تی اپنے او نٹو ں پر سا ما ن لا دھ کر شہر فروخت کرنے آتے ، غلطی سے سڑک پر لگے درخت کو منہ ما ر لیتے کہ اونٹ جو ہوئے؟ بس پھر آگے ان کا کام تھا ان میں سے ایک اونٹ پکڑ لیتا ۔ کہ اس نے سر کا ری در خت کو نقصا ن پہنچا یا ہے لہذا چلو تھا نے اس زما نے میں دیہا تی تھا نے کچہری سے کچھ ایسے بھا گتے تھے جیسے قصا ئی کے نا م سے گا ئے ۔ لہذا وہ خو شا مد در آمد کر تے اور یہ نہ، نہ کر تا رہتا! اسی دو را ن دوسرا بھا ئی کہیں سے ظاہر ہوتا اور کہتا یہ تو بڑا کمینہ ہے! ایسے نہیں ما نے گا شہر چلا جا پتہ میں دیتا ہو ں اس کے بڑے بھا ئی کے پا س۔ وہ بیچا رہ شہر چلا جا تا ۔ وہا ں بڑے بھا ئی جو تے پہنے تیا رہو تے کہ میں تو کا م پر جا رہا ہو ں، بھا ئی مجھے بچو ں کا پیٹ پا لنا ہے وہ کہتا حضور دن بھر کی مزدو ری میں دیدو نگا؟ تو وہ کہتے کہ تو نہیں ما نتا ہے تو لا دے مزدو ری اور لا تا نگہ؟ منہ ما نگی مز دو ری ملتی اور تا نگے پر بیٹھ کر وہ ساتھ چلتے ۔اور جیسے ہی وہ سعا دتمند برادرِ خورد بڑے بھا ئی کو آتا دیکھتاتو او نٹ چھو ڑ کر فرا ر ہو جا تا، اور جب یہ وہا ں پہونچتے تو وہ بھا ئی جس نے پتہ بتا یا تھا ایک گا لی دیکر کہتا دیکھا بھا گ گیا نہ اور اس طر ح ان کی رو ٹی ملک کے بٹوا رے تک اچھی طرح چلتی رہی۔
ملک تقسیم ہوگیااور پا کستا ن بن گیا پھر کیا تھا ایسے لو گو ں کی لا ٹری نکل آئی کیو نکہ جو صا حب ِ حیثیت لوگ تھے وہ مذبذب رہے بعد میں پہو نچے ،جب کہ ہر طر ح کا بٹوارہ پہلے ہو چکا تھا جبکہ یہ طبقہِ مہا جرین پہلی یلغار کا ہر اول بنا اور کچھ سے کچھ بن گیا، وہی او نٹ چھڑانےوا لا یہا ں آکر کراچی کی سیاست میں جگہ پکڑ ،لیڈر بن گیا ۔یہ ہم نے آگے پو چھا نہیں اور انہوں نے بتا یا بھی نہیں کہ با قی دو کا کیا بنا؟ کیو نکہ ہم میں یہ خرا بی ہے کہ ہم ذاتی قسم کے سوا ل ذرا کم ہی کر تے ہیں ۔ ہمیں تو سمجھا نا یہ مقصو د تھا کہ امیج کیسے بنا یا جا تا ہے اور اس سے کا م کیسے لیا جا تا ہے۔ کیو نکہ آجکل آزادی ِ صحا فت کا ایک ڈرامہ الجز یر ہ ٹی وی کے نا م سے چلا یا جا رہا ہے ۔جو اچا نک عراق کی جنگ سے شروع ہو ا اور آپ نے سنا ہو تو سنا ہو؟ مگر ہم نے جبھی پہلی دفعہ سنا اور اب تک جو کا م اس کو سو نپا گیا وہ اس نے بہ خو بی انجا م دیا۔جب تک جنگ جا ری رہی وہ وہ خبر یں دکھا تا رہا اور اس کے بعد جب کبھی اس ڈرا مہ کا امیج ٹو ٹا اس نے فو را ً بر مو قعہ ایک ویڈیو اسا مہ بن لا دن کی یا اس کے کسی ما تحت کی جا ری کر دی تا کہ نشہ ٹو ٹے نہیں اور عوام خوا ب سے نکل نہ پائیں۔ اس کے لیئے ضرو ری ہے کہ ان کو ڈرا تے رہو جیسے بچو ں کے لیئے “ بیچا “ اب ایک اور انکشا ف ہو ا کہ جنا ب بش صا حب اس ٹی وی پر فو ج کشی یعنی بمبا ر منٹ کر نے والے تھے ۔مگر خدا بھلا کرے ٹو نی بلیر صاحب کا جو کہ اپنے یہاں آزادی ِ صحا فت کا اعلٰی معیار قا ئم رکھنے کے لیئے مشہو رہیں ۔انہو ں نے صدر بش کو رو کا کہ یہ آزا دی صحافت پر حملہ ہو گا ۔یہ با لکل ایسا ہے جیسے کہ چو زے کو تو پ سے شکا ر کیا جا ئے( امیج بڑھا نے کی با ت اور ہے ) ہم نے اسی قسم کی حما قت پر ایک شکا ری کہ گنجے سر پر ٹیپیں لگتے دیکھیں؟ہو ا یہ کہ لو گ جنگلی مر غ کے شکا ر کو گئے جس میں شکا ری کو پہلے خو د مر غا بننا پڑتا ہے ، بقیہ شکا ری تو اس “ بجھیا“ میں گھس گئے اور عقلمند شکا ری کو چا ر سو پینسنٹھ بو ر کی را ئیفل دیکر بجھیا (جنگلی جھاڑیوں کاجمگھٹا ) کے دا خلی در وا زہ پر کھڑا کر دیا کہ کو ئی در ندہ شکا ریو ں کا نہ شکا ر کر لے ؟انہو ں نے اپنے سر پر ایک مر غ کو بیٹھے دیکھا تو اپنی خو نخوا رگی نہ دبا سکے اور اس پر را ئیفل سے فا ئر کر دیا بقول ان کے وہ ننھی سی جا ن کئی فر لا نگ تک تو گو لی کے سا تھ جا تی ہو ئی دکھا ئی دی پھر نگا ہو ں سے اوجھل ہو گئی ؟اس کے بعدان شکا ریو ں کو شکا ر کر نے کے لیئے کچھ نہیں رہ گیا تھا کیونکہ ایک مر غ نے جا ن دے کر سب کی جا ں بخشی کرا دی تھی، یعنی با قی پرندے گو لی کی آوا ز سن کر پھر سے اڑ گئے ،اور اس بیچا رے کو خوا مخوا ہ اس کا ر نا مے پر ٹیپو ں کا نشا نہ بننا پڑا ،حالانکہ وہ کم ازکم تمغہ جرا ت کا مستحق تو تھا ہی۔ اب رہا “الجزیرہ ٹی وی“ اس کو بند کر نے کا آسا ن نسخہ تو یہ تھا کہ جو اس پو رے جزیر ے کا ما لک ( شیخ )ہے اس کو بش صا حب کا پٹے وا لا فو ن پر کہہ دیتا تو اس کا پیشا ب خطا ہو جا تا اور وہ الجزیرہ کے سا رے ٹین ٹپر اٹھوا کر امریکہ بھجو ادیتا، اسکے لیے اتنے جتن کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ آپ نے یہ تو دیکھا ہو گا کہ طو طا اپنے ما لک کے کہنے سے تو پ میں فلیتہ لگا کر چلا تا ہے مگر کبھی تو پ طو طے کے اوپر نہیں چلتی ۔آپ پو چھیں گے کہ صدام پر کیو ں چلی؟ کیو نکہ اس کی ضرورت ختم ہو گئی تھی۔ اس لیئے وہ بہت بڑی طا قت بناد یا گیا؟جس سے کہ دنیا کو خطر ہ پیدا ہو گیا تھا؟ دوسری وجہ یہ تھی کہ “ خو گر حمد “ منہ زور ہو گیا تھا اور گلہ کر نے لگا تھا ۔اور تیسری وجہ یہ تجر بہ بھی کر نا تھا کہ کو ئی ملک فتح کر کے وا ئسرا ئے کہ ذریعہ اس دو ر میں بھی حکو مت چلا ئی جا سکتی ہے یا نہیں ۔ چو تھی اور آخری با ت یہ تھی کہ اس حکو مت میں ان کا بھی حق بنتا تھا کہ تیل کی کمائی میں حصہ بٹائیں ۔ جوآخر بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے آئے اور کسی کو لا ئے تھے ۔اور تیل تو تلو ں میں سے ہی نکلنا تھا۔ مگر برا ہو القا عدہ وا لوں کا کہ بیچ میں آجا تے ہیں ۔ جس طر ح پہلے زما نہ میں انڈیا میں بر طا نیہ کا را ج تھا ۔ تو ہر خطہ میں ایک آدھ نا می گرا می ڈا کو ضرور ہو تا تھا، جسے پو لس والے زندہ رکھتے تھے ۔کہ پو لس کے سا تھ ملکر سب چو راچکے وا ردا ت کر تے رہتے اور ہر وا ردات اس ڈا کو کے کھا تے میں لکھی جا تی رہے جو اس علا قے میں ہو تی ۔اس سے ایک پنتھ دو کا ج ہو جا تے ،یعنی اس کے نا م پر پو لس اور بہت سو ں کا بھلا ہو تا ۔ بالکل یہ ہی صو رت حا ل اب القا عدہ کی ہے کہ اس دنیا میں کہیں بھی پتہ ہلا اور وا ئٹ ہا ؤس کی دیوا ریں چلا نے لگیں ،بلکہ کورس میں گا نے لگیں القا ئدہ القا ئدہ، القا ئدہ۔ہما رے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنگی جنو ن جا ری رکھنے کے لیئے القائدہ ضروری ہے اور القا ئدہ کو زند ہ رکھنے کے لیئے الجزیرہ ۔کل ہم نے ایک ایسے ہی آزا د ٹی وی چینل کو دیکھا جس میں ور جینا یو نیو رسٹی کے ایک پرو فیسر سے سوا ل کیا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ آج کل امر یکہ اخبا ر اورایڈیٹرو ں کو خرید رہا ہے ؟انہو ں نے جو اب دیا کہ بھو لے با د شا و یہ کو ئی نئی گل نئیں ہیگی۔ یہ تو ہمیشہ سے ہو تا آیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تا اور اسلامی و ایشا ئی ملکو ں میں اخبا ر اور مد یر نہ خریدے جا تے تو ،یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک جھگی سے شروع ہو نا والا پاکستانی اخبا ر نہ صرف ملٹی اسٹوری بلڈنگ میں ہو تا اور ملٹی ملینر ہو تا بلکہ ورلڈ ٹی وی چینل کا مالک بھی ۔ ورنہ اس کا انجا م بھی “ روزنا مہ انجا م “ جیسا نہ ہو تا کہ اپنی کم سنی میں ہی اللہ کو پیا را ہو گیا ہوتا ۔جس میں تحریک ِ پا کستا ن کے اچھے، اچھے لکھنے وا لے مو جو د تھے۔ مگر اس کا جھکا ؤ ذرا پا کستا ن کی طر ف زیا دہ تھا اور قصرِابیض کی طر ف کم۔ہم نے بہت سے کہنے وا لوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اس کے با وجو د کہ ویزا کی پا لیسی بڑی سخت تھی مگر امریکہ میں وہ غیر قا نو نی امیگر نٹ اس سے مستثنیٰ تھے جو یہاں رہ کر ا ور واپس جاکر ان کے کام آئیں ۔ بہر حال آج کے دو ر میں میڈیا ۔ہی سب کچھ ہے اور ہما رے آقا ئے نعمت نے یہ با ت بڑی حد تک بہت پہلے ہی محسو س کر لی تھی۔ کہ یہ ہی وہ کنجی ہے جس سے عوام کی عقلوں پر پر دے ڈا لے جا سکتے ہیں ۔اور یہ پو ری انڈسٹری انہوں نے خو د نہیں خریدی بلکہ اپنے کا رندوں کو خریدوا دی ۔مگر ہمیں خبر اب ہو ئی وہ بھی خر ید ی ہو ئی میڈیا کے ذریعہ۔ یہ اور با ت ہے کہ وہ کا رندے خو د با د شا ہ گر بن گئے ۔اور با د شا ہ سلا مت کی حا لت ان کے سا منے پتلی ہے ۔مگر یہاں یہ اصو ل کا ر فر ما ہے کہ دشمن کا دشمن دو ست ہو تا ہے لہذا جو میڈیا اسی کا م پر لگی ہو ئی ہے وہ دو ست ہے۔ ہم بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے ، اصل مقصد مسلمان تارکین وطن کی بڑھتی ہو ئی یلغا ر کو رو کنا ہے ۔مگر اس کو لو گ ہما را وہم کہتے تھے ۔ لیکن بلی اب تھیلے سے با ہر نکل آئی ہے ۔لو گ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ جس طر ح کمیو نز م کو ختم کر دیا اسی طر ح ہم انتہا پسند وں کو بھی ختم کر دینگے ۔اگر اس کے معنی بین السطو ر بھی وہی ہیں جو کہہ رہے ہیں ۔ تو ہم بھی کہنے وا لو ں سے متفق ہیں؟ کیو نکہ یہ کئی مر تبہ پہلے بھی ہوا کہ اسلام میں انتہا پسندی آئی اور اپنی مو ت آپ مر گئی؟ مگر اسلا م زند ہ رہا اور بڑھتا رہا مگر کسی کا مقصد وہ نہیں ہے جو وہ زبا ن سے کہہ رہا ؟ بلکہ اسلام اور مسلما نو ں پر عر صہ حیا ت تنگ کر نا ہے اور اس نا م پر ان سے تما م انسا نی حقو ق چھیننا ہیں اور اسلام کو مٹا نا مقصود ہے ۔تو پھر ہم یہ کہینں گے کہ “ایں خیا ل است محال است جنو ں “ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ“ گمراہوں“ کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے میں اس دین کو بلند کرکے رہوںگا۔ “

Posted in Uncategorized