آئیں، بائیں ،شائیں از ۔۔ شمس جیلانی

آج ہم نے سوچا کہ آپ سے کچھ پرانی باتیں کریں اور آئینے میں اس طرح شکلیں دکھائیں کہ اس میں سب کو اپنی ،ا پنی تصویر یں نظر آئیں تا کہ خود کو کسی کو بھی پہچاننے میں پریشانی نہ ہو؟ پہلے تو آپ کااس آئیں ،بائیں ،شائیں سے تعارف کراتے ہیں ؟ یہ ایک محاورہ ہے جوکہ فیروز الغات میں بھی شامل ہے۔ اب آگے چل کراس کا پس منظر پیش کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے! ایک دور تھا کہ اس میں ہر ایک کا تکیہ کلام ہو ا کر تا تھا اور لوگ اپنی آسانی کے لیے اسی کو عرفیت بنا لیتے اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے وہی اصل نام کی جگہ لے لیتا تھا۔ ایسے ہی ایک صاحب تھے جن کا اصل نام کچھ اور تھا مگر پورے جگ میں “جناب “ کے نام سے جانے جاتے تھے وجہ وہی تھی کہ وہ ہر بات یہاں سے شروع کرتے تھے کہ “  توجناب  “بات یہ تھی کہ   لہذا لوگوں نے انکا نام ہی جناب رکھدیا تھا۔ اور وہ کچھ ایسا مشہور ہوا  کہ اگر ان کے اصل نام سے ان کے دروازے پر پہونچ کر کوئی صاحب ان کا نام لیکر پوچھتے کہ یہ فلاں صاحب کا دولت کدہ ہے ؟ تو گھر و الے لا علمی کا اظہار کر دیتے اور جانے والے کو کو نامرد واپس آنا پڑتا ، اس کے علاوہ ان کے دو تکیہ کلام اور بھی تھے ، ان میں سے ایک یہ ہی  جوکہ آج کاعنوان ہے “ آئیں بائیں شائیں “  یہ محارہ وہ جب بولتے جبکہ کوئی دوران ِ گفتگو جھوٹ کا سہا را لیتا اور یکے بعد دیگرے پینترے بد ل رہا ہو تا۔ تو وہ اس کی عزت فزا ئی  فرماتے کہ کیوں “ آئیں بائیں شائیں“ بک رہے ہو! کام کی بات کرو ؟ اور تیسرا تکیہ کلام وہ اس وقت بولا کرتے تھے۔ جب کوئی اشراف میں سے نہ ہوتے ہوئے نو دولتیہ اشرافیہ میں شامل ہو جائے۔ تو کہتے تھے کہ “ تو بکریوں کا چر واہا ، اونٹوں کے کان ٹٹولنے چلا ہے“ اب وہ وضع دار لوگ ہیں نہیں۔ اور نہ ہی ایسے لوگ آج کل پائے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہ ہو تو آپ ٹی وی پر جاکر ایک تجزیہ نگار کو سن سکتے ہیں جو ابھی تک اپنی وضعداری نبھا رہے ہیں؟ اور ہر بات “ حضور والا “ سے شروع کرتے ہیں۔
اب آیئے اصل بات کی طرف ! جہاں یوم ِ تاسیس ِ پاکستان بہت سوں کے لیے مشکلات لایا ،تو وہیں کچھ کے لیے نئے مواقع پیدا کر ئے کا باعث بھی ہوا۔ مشکلا ت ان کے تھیں لیے جنہیں جعل سازی نہیں آتی تھی! وہی گھاٹے میں رہے اور جو ہوشیار تھے،انہوں نے بغیر جھگیوں کے محل اور بھٹوں اور بھٹیوں کے بدلے کارخانے الاٹ کرالیے۔ ہم نے ایک وضع دار رئیس کو مٹفورڈ روڈ ڈھاکہ پرجوکہ اسوقت نواب پور روڈ کہلانی لگی تھی ( اب معلوم نہیں کیا کہلاتی ہوگی؟ کیونکہ ہوا بدلتی ہے تو وفاداریاں اور نام بدل جاتے ہیں)؟ شیر وانی چوڑی دار پیجامہ اور دوپلو ٹوپی زیبِ تن کیے اور سر پر فیرنی کی تشتر یاں سینی  میں سجائے فروخت کرتے دیکھا ؟ پھر ہم نے مغربی پاکستان پہونچ کر ایک بہت بڑے رئیس کو جیکب لا ئنز ایریا میں جھگی میں رہتے دیکھا۔ اس کے بعد سندھ میں ایک باپ کو دیکھا کہ جس نے اپنے شیر خوار بچے کے نام سے بہت بڑا کلیم کر رکھا تھا، کیونکہ اس کااپنا نام کسی نواب کے نام سے نہیں ملتا تھا، جبکہ بیٹا کسی نواب کا ہم نام تھا؟ اس نے بیٹے کے نام سے کلیم کرکے کافی زرعی حاصل کر لی اور خود اس کا منیجر بنا اور کاروبارِ زندگی ٹھاٹ سے چلانے لگا؟  بیٹا اپنے والد محترم کی اس کارستانی کے نتیجہ میں نواب بن گیا۔ چونکہ اس دور میں انٹر نیٹ آیا نہیں تھا لہذا یہ وکی لیکس اور پنا مہ لیکس جیسے واقعات معرض وجود میں آنے کا امکان ہی نہیں تھا۔ اس لیے بعد میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ آرام سے باپ منیجر بنے رہے اور بیٹے نے بعد میں نواب بن کر پوری دنیا کا اعتماد حاصل کر لیا۔ کام چلتا رہا ؟
اب وہ دور نہیں ہے ۔ اس لیے کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ ایک کم سن بچہ بغیر اپنی ولدیت استعمال کیے کیسے معتبر ہو سکتا ہے۔ دوسرے لوگ خوداپنے دفاع میں بیان بدلتے رہتے ہیں اس میں اور بھی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اگر لوگ تھوڑی احتیاط  برتیں اور پہلے میٹنگ منعقد کر کے باجماعت جھوٹ بولیں تو پھر تضاد پیدا نہیں ہوگا۔ مگر بعض لوگوں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ایک گھر میں نہیں رہتے ؟ بلکہ ایک ملک میں بھی نہیں ر ہتے کئی کئی ملکوں میں رہتے ہیں ؟ اس لیے پرانے خاندانوں کی طرح دن میں کئی بار ملنے کے بجائے سالوں نہیں ملتے۔ رہی یہ سہولت کہ فون پر بات کرلیں تو اس میں ٹیپ ہو جانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ مجبوراً وہ “ آئیں بائیں شائیں “ کرتے ہیں ۔ اور کوئی “ جناب“ مل جائیں تو الجھ جاتے ہیں اور جب کہ وہ بات کی جڑ تک پہونچ جاتا  ہےاور کہتا ہے کہ کیوں “ آئیں بائیں شائیں  “ بک رہے ہو؟ سیدھی بات کرو؟ اور کبھی کبھی ان کی ڈینگیں سن کر کہدیتا ہے کہ بکریوں کا چر وہا ، اونٹوں کے کان ٹٹولتا ہے ؟ مجھے کیا الو سمجھ رکھا کہ میں یقین کرلونگا؟
کسی بھی ملک میں سہی چاہیں ا س کا باپ اس ملک کے بادشاہ کا دوست ہی کیوں نہ ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ بغیر باپ کی ضمانت اور دستخطوں کے  نابالغ بیٹا اتنا معتبر ہوجائے کہ باپ کے دوست کارخانہ لگا نے کے لیے اسے اتنی بڑی رقم فراہم کر دیں؟ اور پھر وہ چند سالوں میں اتنا مال بھی بغیر ہیر پھیر کے کمالے کہ سب کے قرضے بھی واپس کر دے اور آف شور کمپنی بنا کر اربوں روپیہ کی جائیداد بھی بنالے؟ اور وہ بھی یورپ میں؟ یورپ والوں کے ویسی ہی سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ اس لیے کہ وہاں بچہ جب تک اٹھارہ یا اکیس سال کا نہ ہو جائے اس کے اپنے دستخط برائے بیعت ہوتے ہیں اور اس کے دستخط کے ساتھ ساتھ ماں یا باپ کو تصدیق کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر اسے ڈرائیونگ لائیسنس یا خود اپنی تعلیم کے لیے قرضہ ملتا ہے ؟
اگر جھوٹ بولنے سے پہلے متعلقین ایک خاندانی میٹینگ کسی طرح منعقد کر لیں تو با آسانی کامیابی سے جھوٹ بول سکتے ہیں ؟ اس صورت میں جھوٹ کے پکڑے جانے کی امکانات نہ ہونے کے برابر ہونگے۔ اس کو بھی ہم ایک مقدمے کی مثال دیکر بات کو آگے بڑھاتے ہیں ؟ یہ کوئی اسی نوے سال پہلے کی بات ہے کہ اسوقت کا ہندوستان لاکھوں بادشاہتوں میں بٹا ہوا تھا۔ کیونکہ انگریزوں کا دور تھاوہ حکومت درمیانہ لوگو ں کے ذریعہ ہی چلاتے تھے ۔براہ راست  حکومت کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ لہذا ہر جگہ نواب راجہ مہاراجے اور زمیندار اپنے اپنے علاقے میں حکمران ہو تے تھے۔ دو ہمسایہ زمینداروں میں تعلقات خراب تھے، ایک نے دوسرے  کےگاؤں میں وہاں کے کاشتاروں کو رات کی تاریکی بھگالے جانے کا منصوبہ بنا یا اس کوشش میں اس کے آدمی پکڑے گئے ۔ اس وقت زمیندار موجود نہیں تھا اس کا بیٹا نا تجربہ کار تھا،اس نے ان کے کندھے پر لوہیاہل رکھکر تھانے بھجوادیا کہ یہ ہل چرا کر لے جارہے تھے۔ جو ان کے خاندانی وکیل صاحب تھے انہوں نے مقدمہ لے تو لیا، مگر انہیں اپنی عزت بھی عزیز تھی ۔لہذا تاریخ لیکر کہلا بھیجا کہ اس میں جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں اگر آپ چاہیں تو کسی اور کو وکیل کر لیں ؟ دوسری طرف اگر زمیندار ہار جاتا تو ناک کٹ جاتی ؟ اس نے اس سے بڑا وکیل کر لیا کیونکہ اس زمانے میں وکیل کرنے کارواج تو تھا مگر “ جج “ کرنے کا رواج نہیں تھا۔ ا س نے زمیندار سے کہا کہ آپ تو موجود تھے  نہیں بہتر یہ ہے کہ میرے پاس اپنے صاحبزادے کو بھیجدیں؟ جب صاحبزادے ان کے پاس پہونچے تو انہوں نے کہا بیٹا سچ سچ مجھے بتا ؤ کہ واقعی یہ ہل چرانے آئے تھے ؟ اس نے جواب دیا نہیں! ۔ وکیل نے کہا کہ بیٹا یقین کرو تم ہی جیتو گے ؟ جبکہ جو پکڑے گئے  تھےانہوں نے بھی اپنے دفاع میں جھوٹ کاہی سہارا لیا ہوا تھا کہ انکا کہنا تھا وہا ں ہم “ مہاشے “ پوسا جاٹو “ کے یہاں پنچاہت تھی اس میں شرکت کرنے گئے تھے کہ زمیندار کے آدمیوں نے ہمیں پکڑ کر تھانے بھجوادیا۔ جب مقدمہ جراح کے مرحلہ پر پہونچا تو وکیل صاحب نے بند کمرہ میں سماعت کی درخواست کی جو مجسٹریٹ نے منظور کرلی کیونکہ وکیل بہت بڑا تھا اور کورٹ سیکنڈ کلاس مجسٹریٹ کی تھی، جبکہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں ہی جھوٹے تھے ۔ وکیل نے ایک ایک کو بلاکر جرا ح کی پہلے تو اس نے ایک سےپوچھا کہ تم پوسا کے گھر پنچایت کے لے گئے تھے، اس کے گھر کے سامنے  جوتالاب ہےا س کے کون سے کنا رے کی طرف سے گئے تھے؟ کسی نے داہنا بتا یا کسی نے با یا ں بتایا ۔ پھر پوچھا تم اس کے گھر کے آنگن میں نیم کا درخت  تھااس کے نیچے بیٹھے تھے یا اندر سائیبان میں ۔ کسی سے پوچھا کہ جو پا کر کا درخت تھا اس کے نیچے بیٹھے تھے؟ جب ان پر جراح مکمل ہو گئی تو وکیل صاحب نے تھانے دار سے جرح کی؟ انہوں نے ان سے سوال کیا کہ  کیاآپ نے موقعہ کا معائنہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہاں جی ہاں ! پھران سے پوچھا کہ پوساکے  گھر کےسامنے کیا کوئی تالاب ہے ؟انہوں نے کہا نہیں ۔ پھر انوں نے پو چھا کہ کیا اس کے آنگن میں کوئی در خت ہے تو انہوں نے بتا یا کہ نہیں ۔چونکہ اس زمانے میں عدالت میں جھوٹ بولنے پر سزا ہوجاتی تھی۔ کورٹ نے سزا سنادی ؟ اور وہ اپنے ہی جھوٹ کے ہاتھوں مارے گئے۔

Posted in Articles

شامتِ اعمال ما صورت نادر گرفت؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی

آج پاکستان وہیں کھڑ ا ہے جہاں کہ کبھی محمد شاہ (رنگیلے ) کھڑا تھا ،جس نے اپنی حدسے بڑھی ہوئی رنگینوں کی وجہ سے یہ لقب حاصل کیا تھا مگر میرے خیال میں پھر بھی وہ موجودہ اور ہمارے بہت سے سابقہ حکمرانو ںسے بہتر تھاکہ اس نے اسوقت یہ اعترافیہ الفاظ ادا کیے جب دلّی لٹ رہی تھی اور نادر شاہ جو ہمیشہ کی طرح مغلوں کی مدد کے لیے اس کی دعوت پر آیا تھا! آج وہ خود اور اس کے سپاہی لوٹ رہے تھے۔ اس وقت یہ فقرہ اس نے بغیر کسی دباؤ کے دہلی کی تباہی پرکہا تھا؟ جس کے معنی یہ ہے ہیں کہ میری بد اعمالیوں کی وجہ سے (اللہ سبحانہ تعالیٰ نے) نادر شاہ کو بطورعذاب مسلط کردیا ہے؟ یعنی یہ اس کی طرف سے اظہار ِ افسوس تھا کہ اگر میں بد اعمالیاں نہ کرتا تو یہ صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوتی؟ ایسے مواقعہ تاریخ میں کئی بار آئے مگر من حیثیت القوم نہ اس پر مسلمان حکمرانوں نے کان دھرے نہ مسلمان رعیت نے۔ بلکہ ہمارے ہاں تو حد کردی کہ پہلے مشرقی پاکستان میں ظلم  کی انتہا ہوئی اس پر ایک جنرل ٹکاخان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ we want land not men۔ یعنی ہمیں انسان نہیں زمین چاہیے ہے۔ یہ اس نے کس کے بارے میں کہا؟ اس آبادی کے بارے میں جو اکثریت میں تھی یعنی پورے ملک کل آبادی کا 54 فیصد اور وہ بھی وہ جس نے پاکستان کو بنانے والی جماعت مسلم لیگ بنائی اور نتیجہ کے طور پرپاکستان نام کی مملکت عالم وجود میں آئی ؟جبکہ جو اسے للکار رہا تھا۔ وہ اس خطہ سے تھا جس کی آبادی46 فیصد تھی جبکہ یہ دور جمہوریت کا تھا۔ مگر کسی نے بھی اعتراف کرنے کے بجائے، انہیں ہی جو ٹکا خان سے نہیں مارے جاسکے غدار قرار دیدیا۔  ویسے تو بہت سی مثالیں ہیں اس سے پہلے کی ایک مثال آخری خلیفہ معتصم بااللہ کے دربار کی ایسی ہی تھی کہ غدار اسکی جڑوں میں بیٹھ چکے تھے۔ ملت اسوقت سیکڑوں بادشاہتوں میں بٹی ہوئی تھی بادشاہ بننااس قدر آسان تھا کہ جوکوئی مٹھی بھر سپاہی جمع کر لے ا ور کسی علاقے پرقبضہ کرکے پھر خلیفہ کو نذرانہ پیش کردے ،تو اسے سندِ حکمرانی عطا ہوجاتی تھی؟ جبکہ یہ وہ وقت تھا چنگیز خان بغداد کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ مگر خلیفہ اس سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا تھا کیونکہ وہ اس کے ہاتھوں اس کے اور اپنے سب سے بڑے حریف شاہ خوارزم کو مروانا چاہتا تھا۔۔ وہ شاید یہ سوچ رہا تھا کہ چنگیز خان لوٹ مار کر کے اور اپنے اور اس کے درمیان میں دوستی کاخیال کرکے حکومت اسے بخش دیگا اور واپس چلا جائے گا۔ جبکہ اس وقت چنگیز خان کامقابلہ صرف شاہ خوارم کر رہا تھا؟ وہ واحد حکمرں تھا جو حریت پسند تھا اور اسلام کی نشاة ثانیہ چاہتا تھا یہ ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا جس کی وجہ سے اپنے اور غیر سب دشمن تھے ۔ اس کے اس جرم کی وجہ سے سب مسلمان بادشاہ اس کی جان کے درپہ تھے، چنگیزی فوجیں اس کا پیچھا کرتی ہوئی دریائے سندھ کے کنارے تک پہونچ گئیں مگر اس نے ہمت نہیں ہاری؟ اور اپنا گھوڑا دریامیں ڈالدیا پھر اسکا پتہ نہیں چلا، نہ کسی نے چلانے کی کوشش کی جبکہ اسی کے وزیر نظام الملک طوسی کے دیئے ہوئے نصاب تعلیم درس نظامیہ سے آج تک لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں؟ حتیٰ کہ اس کی حمایت میں ایک آواز نہیں اٹھی بلکہ سب مطمعن ہوگئے کہ ان کی راہ سب سے بڑا کانٹا یہ ہی تھا جو دور ہوگیا۔ اسوقت وقت بھی خارجی چھوٹے ، چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں بکھرے ہوئے تھے۔ ماورا لنہر میں بھی ایک شاخ موجود تھی جس کے پاس فدائین ایک فوج تھی وہ جس کو چاہتے تھے قتل کرادیتے تھے۔ حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں فرانس کابادشاہ بھی نہیں بچا؟ اس نے بھی  یہ ہی سوچا ہوا تھا کہ چنگیز اور اسکا بیٹا ہلاکو مجھے انعام سے نوازے گ۔ مگر دونو ں کو مایوسی ہوئی کہ اس نے فاتح بننے کے بعد اپنے دوست معتصم باللہ کے سامنے ایک لگن میں غلاف سے ڈھکے ہوئے  اس کے بیٹوں کے سر اور اسے کھانے کے لیے ہیرے اور جواہرات پیش کیے۔ خلیفہ نے جب یہ کہا کہ یہ کھائے تو نہیں جاتے ہیں؟ تو جواب میں ملا کہ اگر تم ان کو فوج پر خرچ کرتے تو آج اس حالت میں میرے سامنے پیش نہ ہوتے؟ اور اس کے بعد پہلے اسے ہاتھی کے پاؤں سے بند ھواکر پورے شہر میں جلوس کی شکل میں گھمایا، گشت کرایا یہاں تک اس کے جسم کے پڑخچے اڑ گئے؟ جبکہ حسن بن سباح کے اسوقت جو جانشین تھے  جب وہ اس کے دربار میں انعام لینے پہونچے تو انہیں ہلاکونے نصف زندہ زمین میں دفن کراکر بقیہ اوپر کا دھڑ تیروں سے اڑوادیا۔ لیکن مسلمانوں نے کبھی اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیا اور کُلنگ کی طرح آندھی کو دیکھ ریت میں منہ دیے بیٹھے رہے؟ وہ اسلامی تاریخ سے کیاسبق لیتے جبکہ انہوں نے قر آن سے کچھ نہیں سیکھا !جوانہیں صرف اپنے دست و بازو کو مضبوط بنا نے کا سبق دیتا ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے کوکہتاہے۔ لیکن وہ اسے بھلا کر صرف اپنے دوستوں پر بھروسہ کر تے ہیں۔ اور ہماری آپس کی دشمنیاں اسی طرح بر قرار ہیں۔ ہوسِ زر کاوہی عالم ہے۔ آج پاکستان اسی نوبت کو پہونچ چکا ہے اور حکمراں جو ہیں ۔وہ اوروں ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ اس لیے کہ انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں؟ یہ لا پروائی وہی دن دکھا ئے گی جو پہلے والوں کو بار ہا دکھا چکی ہے۔ خصوصی طور پرغداروں کا کسی قوم میں ہونا وہ لعنت ہے جس کی بنا پر مسلمان ہمیشہ مار کھاتے رہے ہیں ۔ اور مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اورظلم ایسی چیز ہے جو کہ سگے بھائیوں کو بھی دشمن بنا دیتا ہے، دوست کیا چیز ہیں ؟ کہنے کو 56 مسلمان ملک ہیں مگر وہ اس حد تک ایک دوسرے کے دشمن ہیں کہ ایک میز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے. جبکہ حکمرانوں کی وفاداریااں بٹی ہوئی ہیں ان کے خاندان بٹے ہوئے ہیں جن کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی ایک ملک کے وفادار رہ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں ، جس کی ضرورت انہیں اس لیے پیش آتی ہے کہ اگر اپنا ملک ان پر کبھی تنگ ہوجائے تو تم نہ سہی اور پر پر عمل کرسکیں ؟ س وصف کی وجہ سے ان پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ شاہ ایران کا حشر دیکھ چکے ہیں ،صدام اور گذافی کا حشر دیکھ چکے ہیں۔شیکسپیر کا وہ جملہ حکمرانوں نے ضرور سنا ہوگا، تااریخ میں بڑا مشہور ہے جو اسکے ایک ڈرمہ کاحصہ ہے جس میں جب  ایک آمر اپنے ہی دربارریوں کو تلواریں لیے اپنی طرف بڑھتے دیکھتا ہے جن میں اس کا جگری دوست بھی تھا تو اس نے کہا کہ “ بریٹو “ تم بھی مگر نہ ہماری آنکھیں کھلتی ہیں نہ کان کھلتے ہیں اور اسی پر آس لگا بیٹھے ہیں کہ یہ دوست اور ہماری دوستیاں کام آئیں گی؟ آئیے اس آئینہ میں دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جبکہ کچھ اس آسرے پر بیٹھے ہیں کہ اللہ کوئی غیب سے صورت پیدا کرے گا۔ جب کہ اللہ قر آن میں بار بار فرماچکا ہے کہ وہ کن کی مدد کرتا ہے کن نہیں ؟ ایک طرف شدت پسند ہیں جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی دوسری طرف وہ بے عمل مسلمان ہیں جن میں دنیا بھر کی برا ئیں ہیں؟ جبکہ علما ءبجا ئے برائیوں پر انہیں ٹوکنے کے تسلی دیتے ہیں رہتے ہیں حالانکہ ایسے علماءکی قرآن بار بار مذمت کرچکا ہے۔؟ مگر ان کی یہ رٹ جاری ہے فکر مت کرو کہ تم بہترین امت ہو ؟ جبکہ بہتری اوروں کے یہاں تو ہے جنہوں ہماری تعلیمات لے لی ہیں ،ہمارے یہاں کہیں نہیں ہے۔ جیسے عدل ، ایمانداری ، بھلائی کے کاموں میں حصہ لینا؟ ہماری رگ حمیت بھلائی کے کاموں کے لیے ہر وقت پھڑکتی تو ہے؟ مگرفنڈ ریزنگ کے بعد جس طرح وہ خرچ کرتے ہیں اللہ پناہ دے؟ نقالی عروج پر ہے اور ہر ایک، ایک ہی میدان میں کود جاتا ہے۔ جس سے انتظامی اور بار برداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں ؟ بعض باتیں تو بڑی مضحکہ خیز لگتی ہیں ۔ کینیڈا ان ملکوں میں سے ہے جو سوئیڈن کے بعد ویلفیر میں سب سے آگے ہیں۔ وہاں یار لوگ آتشزدگان کے لیئے پرانے کپڑے اور کمبل جمع کر رہے ہیں ۔ جو متاثرین با لفرض محال لے بھی لیں تو پھینک تو سکتے ہیں اپنے استعمال میں نہیں لاسکتے ۔ کیونکہ یہاں متاثرین کو حکومت فوراً ہوٹلوں میں منتقل کر دیتی ہے، ایک رات بھی کوئی بغیر چھت کے نہیں گزارتا؟ اس لیے کہ یہ قوم ٹیکس چور نہیں ہے ؟حکومت ہرایک سے اس کی آمدنی کے مطابق ٹیکس لیتی ہے ۔جوبہت زیادہ آمدنی رکھتے ہیں وہ اپنی آمدنی کا 55 فیصد تک ٹیکس دیتے ہیں رشوت ، عقربا پروری اور بد عنوانی کا کہیں نام ونشان تک نہیں ہے؟ لہذ ا جب جس کو جیسی ضرورت پڑتی ہے حکومت  اس پر خرچ کرتی ہے؟ اگر پاکستانی ان کے تجربات سے استفادہ کریں تو سارے دکھ دلدر دو ہوسکتے ہیں؟ کیونکہ بدعنوانی وہاں قومی دولت کا زیادہ تر حصہ لیجاتی ہے۔اس وقت قوم میں جو بد عنوانیو ں کے خلاف مہم چل رہی ہے اسے مہمیز دینے کی ضرورت ہے اس میں فوج نے تو اپنے بدعنوانوں کو سزا دیکر اپنا حصہ ڈال کردکھا دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی ادارے کیا کرتے ہیں۔

Posted in Articles, Uncategorized

وہی پرانی کمیشن کہانی ۔۔از۔۔ شمس جیلانی

واقف کاروں اور بہی خواہوں کو پتہ تھا کہ حکمراں خاندان پر بجلی گرنے والی ہے؟ اور وہ اس کی تیاری میں لگے ہوئے تھے جبکہ حزب اختلاف اپنی پارٹی کے دراڑوں میں سیمنٹ بھرنے پر لگی ہوئی تھی، یازخموں کو چاٹ رہی تھی اس لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی ؟ اس کے برعکس حکومت نے شاید ان پیر تسمہ پا سے مشورے کے لیے کسی طرح اور کسی کے توسل سے رابطہ کرلیا جو تاسیس ِپاکستان سے اس قسم کے مشورے دینے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اس قانون خالق بھی ہیں جو ایسے موقعوں پر ہمیشہ بلامتیاز فوجی اور جمہوری آمروں کے کام آتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہی انہیں بھی راستہ دکھا دیا کہ تم سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا اعلان کردو؟ کیونکہ یہ بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے۔ جس سے سانپ بھی مرجاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ اس کی افادیت نہ ہونے کی بناپر چھپن کا آئین تو ایوب خان نے توڑدیا تھا مگر اس کو باسٹھ کے آئین میں تحفظ دیدیا، جو کہ بعد میں سب آئین توڑنے والوں نے باقی رکھا اور ابھی تک چلا آرہا ۔ یہ عوام کے لیے وہی کام کر تا ہے جو لولی پاپ بچے کے لیے ؟ جب چیخے اس کے منہ میں لولی پاپ دیدو وہ نہ صرف خاموش ہوجائے گابلکہ منھ میں جب تک اس کی مٹھاس محسوس کریگا چپ بھی رہے گا۔ کیونکہ یہ شروع دن سے ہی بڑی کامیابی سے چلتا آرہا تھا اس لیے اسے 1973کے آئین میں بھی بھٹو صاحب جوخود بھی سیانے تھے ،انہوں نے بھی اپنے سیانوں کے مشورے سے باقی رکھا ؟پھر حمود الرحمٰن کمیشن بنا کرا س کی ا فادیت انہوں نے بھی فائدہ اٹھا یا کہ ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی جنہوں نے پاکستان توڑا تھا۔ اگر وہ چاہتے تو اسوقت توڑنے والوں کو سزا دے سکتے تھے کیونکہ انہیں یہ فخر حاصل تھا کہ انہوں نے ایک دن میں یہ کہہ کر25 میجر جنرل نکا ل دیے تھے کہ ً یہ سب فوجی وڈیرے ہیں ان کے گاؤں کے گاؤں فوج میں ہیں ؟جن میں ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں تھا اگر تھا تو ان کے اجداد کا کہ انہوں نے یا ان کے بھی بڑوں نے ر ہائش کے لیے وہ علاقہ کیوں پسند کیا جو سولجر لینڈ کہلاتا ہے ۔
جنہیں ہندوستان کی تاریخ سے تھوڑی سی بھی دلچسپی ہے وہ جانتے ہیں ، کہ جو حصہ اب پاکستان کہلاتا ہے اس میں کچھ علاقے ایسے ہیں جنکی پشتیں فوج میں گزریں کیونکہ اس علاقے کی زمین زرخیز نہیں ہے اوروہ ہمیشہ سے صرف فوج کے لیے سولجر پیدا کرنے کے کام آتے رہے ہیں اور اسی لیے سولجر لینڈ کہلاتے ہیں۔ لوگ ہمیشہ کی طرح اس ا مید پر بیٹھے رہے کہ اس کا ابکی نتیجہ ضرور نکلے گا کہ بھٹو صاحب انقلابی آدمی ہیں۔ جو نکلا بھی ؟ تاخیر سے سہی ۔اس کی رپورٹ آبھی گئی۔ مگر عوام تک نہیں پہونچی کیونکہ اسے بھٹو صاحب اپنی کرسی کی گدی کے نیچے رکھ کربیٹھ گئے جیسے اکثر عدالتوں میں ہیڈ کلرک کسی انتہائی اہم فائل کو اپنی کرسی کی گدی کے نیچے دبا کر بیٹھ جاتا ہے اوراَدھر اپیل کا وقت نکلتے دیکھ کر اس سے اسے حسب مرضی نیازی چراغی مل جاتی ہے۔ اگر نہ ملے،تو فائیل باہر نہیں آتی ہے کیونکہ یہ کسی کے خیا ل میں بھی نہیں ہوتا کہ ہیڈ کلرک صاحب اپنی گدی کے نیچے اسے دبائے بیٹھے ہونگے۔ اور نہ کسی کی جرات ہوتی ہے کہ کسی صاحب اختیار کی چاہیں وہ ہیڈ کلرک ہی کیوں نہ ہو؟ تلاشی لے سکے اور کہے کہ سر اٹھیے میں آپکی کرسی کی گدی کے نیچے سے فائل تلاش کرنا چاہتا ہوں؟ لیکن موجودہ حکمرانوں نے اندازہ غلط لگایا اور وہ جلدی میں شاید اس پر غور نہیں کرسکے کہ اب میڈیا وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اور یہ کہ میڈیا حکومت کی تمام پیش بندیوں سے باخبر ہے اور سارا کچا چٹھا وقت نے پر کھول دیگا؟
لہذاا بھی کمیشن بننے کا وعدہ ہی ہوا تھا کہ اس نے عوام اور حزب ِ اختلاف دونوں کو خبردار کردیا کہ اگر اس کو مان لیا تو انتظار کے لمحے اتنے طویل ہو جائیں گے کہ کم ا ز کم سو نہیں تو ستر سال تو ضرور لگیں گے جتنی پاکستان کی عمر ہے؟ جبکہ اس سے پہلے جب بھی اس قانون کے تحت کمیشن بنا تو وہ بظاہر لا محدود اختیارات کا مالک ہوا کرتا تھا۔اب اسے مزید بے کار کردیا گیا تھا کہ وہ ایک ٹرمس آف ریفرینس کے ساتھ تھا ؟ جس کے معنی یہ تھے کہ وہ تحقیقات کرتے ہوئے بھی اپنے د ائرہ ختیار میں رہے گا۔ لہذااپوزیشن کے کان کھڑے ہوگئے وہ ہتھے سے اکھڑ گئی کہ وہ پرانے کھلونے سے کھیلنے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بلکہ وہ نئے ٹرمس آف ریفرینس کے ساتھ نیا قانون مانگ رہی ہے؟ یہ تو تھی قانونی داؤں پیچ کی صورت ِ حال۔ مگر دوسری طرف بھی کچی گولیاں کھیلنے والے نو آموز کھلاڑی نہیں ہیں ، انہوں نے حزب ِ اختلاف کی صفوں میں اپنے آدمی پہلے سے ہی داخل کیے ہوئے تھے جو اس میں بخوبی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسرے ماشا اللہ پانامہ لیکس کے مارے دونوں طرف ہیں اور اپنی گردن دوسرے کے ہاتھ میں بھلا کون دیتا ہے؟ لہذا دونوں کھلاڑی میدان میں کود پڑے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے پھر رہے ہیں اور محاورے تک بھی بے جوڑ استعمال کر رہے ہیں “جیسے کہ یہ منھ اور مسور کی دال؟ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہیئے تھا کہ وہ جانتے ہیں ان کا واسطہ کس سے پڑا ہے ۔سو سنار کی اور ایک لوہار کی ؟ کہاں سنار کی ٹک ٹک اور کہا ں لوہار کا ہتھوڑ ا؟
اوروں کی تو خیر ہے جیسے یہ ویسے وہ؟ مگر ہم نے ایک مولانا صاحب کویہ فرماتے ہوئے حیرت سے سنا جو وہ الہءدین کے جن کی طرح فرما رہے تھے کہ “بس سرکار حکم کریں ہم آپ کے مخالف کے گھر کی اینٹیں تک غائب کردیں گے“ یہ وہ صاحب ہیں جو اکیلے نہیں ہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن رکھتے ہیں، یعنی ایک جماعت کے سربراہ ہیں اور اسلامی مدرسوں کی ا یک چین کے مالک بھی ۔ ان کی نظروں سے یہ آیت ضرور گزری ہوگی کہ جس میں ہدایت ہے کہ “ مسلمان صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کریں برائی میں نہیں “وہ گھر کے بھیدی ہیں اور انہیں اپنے ممدوح کی تمام خوبیاں بھی معلوم ضرور ہونگی! وہ دھوکا نہیں کھا سکتے اس لیے ان کا یہ کہنا ہمیں بہت ہی عجیب لگا؟ جب کہ ہم نے یہ بھی پڑھا ہے کہ ایک مسلمان کا مال عزت اور آبرو دوسرے پر حرام ہے لہذ ا ہمیں پتہ نہیں کہ وہ آقا کے دشمن کا گھر مسمار کر کے اس کی اینٹیں رکھیں گے کہاں ؟کیونکہ وہ کچی اینٹیں توہیں نہیں، جن کو وہ کسی نالے میں ڈال کر اور اس پر قبضہ کرکے زرعی آراضی بنا کر بیٹھ جائیں ۔ جبکہ ہمارے علماءکا یہ عالم ہے تو قوم کو دین کا علم کون سکھائے گا؟ اور االلہ سے کون ڈرائے گا اورسیدھا راستہ کون بتا ئے گا؟ ویسے ہم ایک بات بتاتے چلیں کہ ہم بات جمہوریت کی کرتے ہیں جو پہلے دن  سےخطرے میں ہے۔ مگرا سلام کی طرح عمل اس پر بھی نہیں کرتے۔ لہذا استعفیٰ اپنی مرضی سے پہلے کسی نے نہیں دیا سوائے چودھری محمد علی مرحوم کیونکہ وہ فقیر منش آدمی تھے؟مگر اب ملک اتنا ترقی کرگیا ہے کہ وہ فقیری جو اسلام کا خاصہ تھی، اب نام ونہاد علماء، فقرا ،عوام اور خواص ہی میں نہیں بلکہ اب کہیں بھی نہیں پائی جاتی ہے لہذا خود اخذ کرلیں؟ ٩مئی کو نئی قسط آنے والی تھی وہ بھی آگئی ہے؟
دیکھئے کیا ہوتا ہے ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور آپ بھی انتظار کیجئے کہ اگلے ہفتہ تک اور کیاکیا عالم ظہور میں آتا ہے۔ اور ہاں ! پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کرنا نہ بھولیے گا کہ جو ہو وہ ملک کے لیے بہتر ہو۔

 

Posted in Articles, Uncategorized

۔یہ وبال شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

آج دو چیزیں پڑھنے کا اتفااق ہوا۔ ایک توخبر تھی کہ ایک یونیورسٹی کے مہمان ِ خصوصی چار گھنٹے لیٹ پہونچے اور دوسری ایک تحریر تھی کہ ایک ادارہ جس کے لوگ جوکل تک بڑے مقدس سمجھے جاتے تھے وہ بھی پیسے بنا رہے ہیں خداکرے کہ یہ بات غلط ہو اور قوم کی امیدوں کو ٹھیس نہ پہونچے؟جبکہ ہمارے عرضِ پاک میں یہ دونوں چیزیں عام ہیں۔ پھر بھی ا نہیں ایسی کوئی نہ کوئی مجبوری حائل ہوتی ہے کہ لوگ مہمان خصوصی بنائے بغیر بعض نہیں آتے ؟اور وہ بھی خاص طور سے تعلیمی اداروں میں؟ جہاں کہ اگر بنانا بہت ہی ضروری ہو اور بنائے بغیر کام نہ چلتا ہو تو کم از کم اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ جو مہمانِ خصوصی بنایا جارہا ہے وہ س کا اہلِ بھی ہے اور ان مضامین کو بھی سمجھتا ہو جو اس تعلیمی ادارے میں پڑھائے جاتے ہیں؟ نیز انتظامیہ کو مہمان ِ خصوصی کے مزاج سے بھی واقف ہونا چاہیے؟ اور اس کے اوقات کار سے بھی کہ وہ کتنے بجے سوکر اٹھتا ہے اور کب ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے؟ پھر کب اپنے ہوش میں واپس آتا ہے؟ یہ باتیں اس کے نوکر چاکروں کی مٹھی گرم کے معلوم کی جا سکتی ہیں ؟ پھر انتظار کی سزا بچوں کو نہیں بھگتنی پڑے گی؟ بلکہ اس کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ بنا لینا چاہیے کہ تاکہ لوگوں کو اپنے ذوق کے مطابق مہمانِ خصوصی منتخب کرنے میں آسانی رہے۔ اور حاضریں محفل بھی آنرایبل مہمان ِ خصوصی کے انتظار کرنے کی سزا بھگتنے میں کوفت محسوس نہ کریں؟ پھر طعام کا بھی معقول نتظام ہوناچاہیے یعنی سلوپری وغیرہ سب کے لیے اور بچیوں کے لیے کھٹی مٹھی چیزیں، جن سے حاضرین شغل فرماتے رہیں ؟
جب ہم وہاں تھے تو رواج یہ تھا کہ مہمان ِ خصوصی کو ایک گھنٹہ لیٹ وقت دیتے تھے اور عام لوگوں کو ایک گھنٹہ جلدی آنے کی تاکید فرماتے تھے۔اب ملک اور بھی ترقی کر گیا ہے اور اسی وجہ سے وقفہ انتظار طول پکڑگیا ہے۔ کیونکہ عوام چارگھنٹے لیٹ پہونچتے ہیں تو مہمانِ خصوصی بھی اسی حساب سے اپنا پروگرام بناتے ہیں۔ لہذا جو جلد باز اور وقت کے پابند ہیں وہ اپنی غلط روی کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہیں؟ یہ 1957 کی بات ہے کہ ہمیں غلطی سے ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے بطور مہمان ِ خصوصی مدعو کرلیا؟ ہم اس رات اس خوشی میں ٹھیک سے سوئے بھی نہیں اور سوچتے رہے کہ ہمیں یہ کہنا ہے اور وہ کہنا ہے؟حالانکہ ہمیں جو وقت دیا گیا تھا وہ چار بجے شام کاتھا؟ مگر ہم صبح ہی سے تیار ہوگئے ۔اور جب چار بجے وہاں پہونچے تو دیکھا کہ ماسٹر صاحب اپنی نگرانی میں جھنڈیاں لگوارہے ہیں! وہ ہمیں دیکھ کر پریشان ہو گئے اوراپنا اتنا اہم کام چھوڑ کر ان کو ہمیں لے جاکر اپنے دفتر میں بٹھانا پڑا ، ان کے چہرے سے ظاہر ہورہا تھاکہ وہ ہماری اس حرکتِ پندیِ اوقات پر خوش ہونے کہ بجائے کچھ شاکی سے تھے کہ آپ وقت پر پہونچ  کیوں گئے؟ کیونکہ انہوں نے فرمایا کہ جب سامعین آجاتے تو ہم آپ کو فون کردیتے ؟ اب آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا ہوگی؟ ہمارا وہ دن کچھ اچھانہیں گزرا چونکہ ابتدا غلط ہوئی تھی ؟ ہمیں ہمیشہ سے اسلام سے دلچسپی ہے لہذا اسلام ہمار ااوڑھنا بچھوناہے، مگر خرابی یہ ہے کہ ہم بظاہر مذہبی آدمی دکھائی نہیں دیتے؟
جب ہماری تقریر ختم ہوئی تو جو صاحب تقریر بہت غور سے سن رہے تھے اور ہمیں امید تھی کہ ہمیں داد بھی سب سے زیادہ انہیں سے ملے گی ؟ انہوں نے داد تو واقعی دی، مگر چونکہ بظاہر ہم مسلمان نہیں لگ رہے تھے؟ لہذا انہوں نے یہ کہہ کر سب پر پانی پھیر دیا کہ بیٹا “آپ نے باتیں تو بڑی اچھیں کیں! اگر داڑھی رکھ لیتے ،اور کرتا شلوار میں ہوتے تو کتنا اچھا ہو تا“ پھر ہمیں خود بھی ایک بار بعد میں غلط بخشی کا شکار ہونا پڑا جسکو آپ ا یک قسط وار مضمون کی شکل میں مہنیوں پڑھنےکی سزابھگتے رہے، جو یہ تھا کہ ہمارے ایک کرم فر ما نے ہماری کتاب کے لیے جو کہ حضور (ص) کی سیرت پر تھی ایک مشہور شاعر کو مہمان ِ خصوصی بنا دیا ،وہاں وہ شگوفے پھوٹے جو بیان سے باہر ہیں۔ چونکہ واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہے لہذا وہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا؟
وہ وقت وہ تھا جبکہ کہ قومی لباس انگریزی تھا بھٹو صاحب ابھی پاکستان میں نئے نئے وارد ہوئے تھے اور برسرِ اقتدار بھی نہیں آئے تھے؟ تمام حکمراں بمع قوانین اسی روش پر چل رہے تھے جو انگریزوں سے ورثے میں ملی تھی ۔ بہت سی جگہ توقومی لباس میں داخلہ تک ناممکن تھا؟خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے بر سرِ اقدار آکرقوم کو ایک قومی لباس دیا ۔ ورنہ ابھی تک وہی چل رہا ہو تا، دوسرا تازیانہ ہمیں اس وقت لگا کہ عوام کے لیٹ آنے کی وجہ سے ہماری لمبی لکھی ہوئی تقریر تھوڑے وقت میں ہم سے سموئی نہیں جارہی تھی لہذا اسکی وجہ سے تیز بولنا پڑا تو لائوڈ اسپیکر نے ہمارا ساتھ دینابند کردیا اور لوگ سمجھ نہیں سکے۔ جبکہ ہمارے سامنے پھر ایک امتحان تھا کہ مغرب کا وقت قریب آرہا تھااور ہمیں خود کو اچھا مسلمان بھی ثابت کرنے کے لیے اذان سے پہلے اسے ختم کرنا تھا ؟ جس پر بچوں نے چلتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ “ سر آپ کی تقریر تو بہت اچھی تھی مگر لاوڈ اسپیکر خراب تھا“ یہ ہم نے اپنے مہمان ِ خصوصی ہونے کا یک تجربہ بیان کیا؟ اب ہم دوسرے مہمان خصوصیوں کی ایک دو باتیں بیان کر کے بات ختم کرتے ہیںِ۔ بھٹو صاحب انقلابی آدمی تھے لہذا انہوں نے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ کس عہدے پر کیسا آدمی چائیے اس لیے کہ سب سے پہلے ا نہوں نے یہ سی ایس پی، پی ایس پی کا چکر ختم کردیا ؟ جو پہلے حکمرانوں کی خامیاں اکثرا پوری کردیا کرتا تھا، کیونکہ تقریر کا ڈرافٹ اور ہر قسم کا مسودہ وہ تیار کر دیتے تھے بس پڑھنا ان کا کام ہوتا تھا؟ چونکہ آنےوالے نو زائیدہ لیڈروں سے یہ سہولت چھین لی گئی اور معیار خوش آمد رکھا گیا تو عجیب عجیب لطیفے وجود میں آئے۔ ایسے میں کسی کو نہ جانے کیا سوجھی یا شاید تشخیص غلط ہوئی جیسے کہ اکثر عطائیوں سے ہوجاتی ہے کہ انہوں نے بچوں کے امتحان میں رعایتی نمبر ختم کر دیئے جو چند فیصد تھے ؟ طالب علموں کے ایک وفد نے گورنر کے سامنے ان کی شکایت کی تو آنر ایبل گورنر نے جواب میں کہا کہ کوئی بات نہیں ہے ہم دوسو فیصد نمبر بڑھادیں گے اور بچوں کے فلک شگاف قہقہے سنا ئی دیے؟
اب آئیے کچھ باتیں اس تضاد کے بارے میں ہوجائیں کہ یہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے یہاں جانے والے کل میں جو فرشتے کہلاتے ہیں وہ آنے والے کل کو ،نظروں سے کیوں گر جاتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود کو نہیں بدلنا چاہتے، اوروں کو بدلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جبکہ کہلاتے ہم مسلمان ہیں؟ حالانکہ ہادی اسلام  (ص)نے پہلے خود عمل کرکے دکھایا، پھر کہیں جاکے اوروں کو دعوت دی، اس سے جو مشینری پیدا ہوئی اس نے اسلامی نظام قائم کیا؟ مگر ہم لٹھ لیکر اسلام نافذ کر نے پر لگے ہوئے ہیں؟ اس پر میں وہ پرانا لطیفہ دہرا دیتا ہوں جو آپ نے بہت بار سنا ہے کہ ایک صاحب کسی غیر مسلم پر بندوق تان کر کھڑے ہوگئے اور کہنے تم کلمہ پڑھو ؟بیچارہ جان بچانے کو آمادہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ خان صاحب پہلے آپ پڑھ کر سنا ئیں تو میں دہرادونگا ؟ کہنے لگے وہ تو مجھے بھی نہیں آتا، تم پڑھو؟ یہ ہمارے یہاں آجکل عام پریکٹس ہے کہ خود نہ سیکھتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں، جو اعمال ہیں وہ اسلام سے کوسوں دور ہیں، مگر ہم دوسروں کومسلمان بنانے پر لگے ہوئے ہیں؟ جبکہ جبر اً کسی کو مسلمان بنانااسلام میں منع ہے۔اس لیے کہ جبر کبھی پائیدر نہیں ہوتا؟ اور خوشی سے کوئی چاہے کہ مسلمان ہوں جاؤ ں وہ ہمار ےا پنے پیش کردہ عملی نمونوں کی وجہ سے اس میں اپنے لیے کوئی کشش نہیں پاتے نہ دین میں نہ دنیا میں لہذا اس طرح دین کا نقصان ہورہا ہے؟ برصغیر میں ا س کی مثال صرف مولانا مودودی مرحوم نے پیش کی ،مگر وہ پاکستان بننے تک کئی سالوں میں صرف بیاسی مسلمان ایسے بناسکے، جبکہ پاکستان میں بھی کافی عرصہ انہوں نے اپنی روش وہی رکھی اور فراہمی کا عالم بھی وہی رہا؟ حتیٰ کہ انہیں سزا ئے موت سنا دی گئی۔ اس کے بعد شاید ان کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے سیاست میں سیااستدانوں کی طرح حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ؟اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے پرانے ساتھی انہیں چھوڑ گئے؟کیونکہ وہ اس نئی کھیپ کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے؟ وہ اس خیال کے حامی تھے کہ چاہیں پوری عمر گزر جائے ،مگر جب تک پوری طرح کوئی مسلمان نہ ہو جائے اسوقت تک وہ اسلام کے کام کا نہیں ہے۔ جبکہ بعد میں کارو بارِ جماعت متاثرین اور متفقین کے ہاتھوں چلنے لگا اور جماعت کا وہ معیار نہیں رہا اور اس پر پہلی بار انگلیاں اٹھنے لگیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جبکہ تک ہم اسوہ حسنہ (ص) اختیار نہ کریں ہم ووہ مشنری تیار نہیں کرسکتے جو بےداغ ہو! اس کاوش میں ہم صرف دین کی بد نامی کا باعث ہو تے رہیں گے؟ دو میں سے ایک صورت حال ہوگی یاتو شدت پسندی یا پھر، ماڈرن ازم جبکہ اسلام صرف اسوہ حسنہ (ص) میں پنہاں ہے اس کی ا س کے سو١ کوئی اور شکل نہیں ہے؟ ورنہ یہ ہی ہوتا رہے گاکہ جیسا آج کل ہے کہ آج کے فرشتہ سے کل معیار پر پورا نہ اتر نے کی وجہ سے، کل کو لوگ شاکی ہو جائیں گے ؟ کیوں ! اس لیےکہ ہم خود کو بدلنا نہیں چاہتے ہیں؟ مگر دوسروں سے یہ امید رکھتے ہیں وہ ہمیں فرشتے بن کر دکھائیں، جبکہ وہ ہمارے جیسے بھی نہیں ہیں بلکہ ہم سے بھی کچھ آگے ہیں؟ اس کی مثال آپ اس سے سمجھ لیجئے کہ ہم چھوٹے اور بڑے پتھروں کو ہاتھوں سے رولیں تو جو بڑا ہوگا وہی ہاتھ میں آئے گا ۔ اسکا حل یہ ہے کہ پہلے ہمیں خود ا چھا بننا پڑےگا پھر کہیں جاکر ان اچھوں میں کچھ رولیں گے تو اچھے سامنے آئیں گے ایسے جوکہ قیادت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قیادت کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگیں گے جیسے کہ صحابہ کرام (رض) تھے؟

 

Posted in Articles, Uncategorized

انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

ہم پہلے بھی بہت سی دفعہ عرض چکے ہیں کہ پاکستان سے ہم چھ مہینے، بارہ گھنٹے پیچھے اور بقیہ چھ مہینے 13 گھنٹے پیچھے رہتے ہیں ؟ اس وجہ سے دن کی خبریں رات کواوررات کی خبریں دوسرے دن صبح کو ملتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی ہیڈماسٹر نے کسی بچے سے پوچھا کہ بیٹا تمہارے ابّا کیا کرتے ہیں؟ یہ پہلے زمانے کی بات ہے کہ اسوقت ٹیچروں کی تنخواہیں کم تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اساتذہ اپنے پاس پڑھنے والے بچوں سے انکے والدین کی مالی حیثیت ٹٹولا کرتے تھے اور وہ اس قسم کے سوالات کرکے اندازہ لگالیتے تھے کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے؟ وہ ہی نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر صاحب کو بھی ہم نے اپنے مریضوں سے آمدنی پوچھتے دیکھا اور انہیں اس سے مریض کی حیثیت کے مطابق بل بناتے بھی دیکھا؟ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر بل مریض کی حیثیت سے کم ہوگا تو اول  تووہ دوا کو نالی میں پھینک د ےگا اور اگر کھابھی لی تو فائدہ نہیں کریگی؟ بعد میں بھٹو صاحب آئے تو تمام اسکولوں اور کالجوں کو یکساں بنانے کے لیے قومی ملکیت میں لے لیا۔ جب سے اساتذہ خود کفیل ہوگئے۔ اب ان کے ذرائع آمدنی اتنے ہیں کہ وہ ہر طرح سے خود کفیل ہیں اور اس قسم کے سوالات انہیں کرنے کی ضرورت نہیں رہی؟ یہ بہت پرانی بات ہے چونکہ بچے کاجواب بڑا دلچسپ تھا وہ ہم آپ کو سنا کر آگے بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا سر! موسم ِ گرما میں وہ آئی سی ایس ہوتے ہیں اور سرما میں پی سی ایس؟ ماسٹر صاحب جواب سن کر چونک اٹھے! مگر انکا دل نہیں مانا کہ کسی، سی ایس پی آفیسر کابچہ اوروہ عام اسکول میں پڑھے ناممکن ! انہوں نے ضمنی سوال کرڈالا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہرسال تمہارے والد صاحب کاکیڈر بدل جاتا ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ سر ! وہ گرمیوں میں آئس کریم فروخت کرتے ہیں اس وجہ سے وہ آئس کریم سیلر کہلاتے ہیں اور سردیوں میں اسکولوں میں آلو کے چپس فروخت کرتے ہیں لہذا پٹیٹوچپس سیلر کہلاتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے یہاں نظریہ ضرورت کے تحت موسم بدلتے ہی، وقت بدل جاتا ہے، سورج چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حکم سے نکلتا ہے اس پر کسی کا زور نہیں چلتا اسلیے وہ کبھی دن سے ایک گھنٹہ چھنتے ہیں اورکبھی رات سے تاکہ ان کے کام کے اوقات گھٹیں نہیں؟ چونکہ پاکستان میں وقت ہر ایک کے پاس فالتو ہے وہ اپنے نظام الا وقات کو آگے پیچھے کرکے کام چلا لیتے ہیں۔مشرف صاحب نے وہاں بھی یہ تجربہ کرکے دیکھا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکا؟ یہ تھی ہم تک خبر لیٹ پہنچنے کی وجہ؟
چونکہ ہم آج بہت ہی خوش ہیں کہ صبح ہی صبح ایک اچھی خبر وہ بھی ایک کم انہتر سال کے بعد سنی کہ ایک نہیں بلکہ ایک کم ایک درجن فوجی افسران کا پاکستان میں احتساب ہوگیا۔ جو پاکستان بننے سے لیکر آج تک کبھی نہیں ہوا، حالانکہ ان کا بھی نہیں جنہوں نے پاکستان توڑا؟ لہذا ہم بلا خوفِ تردید ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ایک انہو نی بات ہوگئی ہے؟ جبکہ پاکستان بنا مسلم معاشرہ پیدا کرنے کےلئے تھا؟ اسلام نے ہمیشہ خود احتسابی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔جسکی مثالیں حضور (ص) کی ابتدائی زندگی سے لیکر ان کے وصال اور اس کے بعد خلفائے راشدین کے دور تک ملتی ہیں۔ یہاں ہم حضور (ص) کی زندگی سے صرف دو مثالیں پیش کررہے ہیں ؟
ایک یہودی سے انہوں (ص) نے پانچ من اور کچھ سیر کھجوریں ادھار لیں، جسے کہ وقت معینہ کے گزرنے کے بعد وصولی کے لیے دربار ِ رسالت میں  اسےآناپڑا اور وہ مطالبہ کرتے ہوئے ادب ملحوظ نہیں رکھ سکا۔؟یہ صحابہ کرام کو بہت برا لگا اور وہ اس پر بہت ناراض ہوئے ؟مگر حضور (ص) نے صحابہ کرام کے رویہ پر یہ فرماکر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا کہ “ وہ حق پر ہے تمہارا رویہ غلط تھا؟ مزید یہ بھی کہ وہ اُمتیں زمین پر باقی نہیں رہتیں جس کے کمزور کو اس کے با اثر آدمیوں سے اپنا حق وصول کرنے میں دشواری پیش آئے“ تفصیل طویل ہے مختصر یہ کہ وہ بار بار پھیلتا رہا اور اس کے با وجود انہوں  (ص)نے اس کے سارے مطالبات پورے کیے اور مزید احسان فرما کرکے اسے خصت فرمایا اور ایک روایت کے مطاق وہ خوش ہوکر اور دوسری روایت کے مطابق مسلمان ہوکر واپس گیا؟
جبکہ آخری واقعہ تو سب ہی کو معلوم ہے کہ حضور (ص) جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو انہوں نے احتساب کے لیے خود کو پیش فرمایا، ایک شخص کے تین دینار نکلتے  تھےوہ اسکوادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ دوسرا شخص اپنا ایک مقدمہ لیکرپیش ہوا کہ ایک دن حضور (ص) نے اس کی پِیٹ پر کوڑا مارا تھا جبکہ اس کی پشت برہنہ تھی اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔سب نے اسے سمجھا یا،مگر وہ نہیں مانا حضور (ص) نے فرمایا کہ جس طرح یہ بدلہ لینا چاہتا ہے میں اس کے لیے تیار ہوں ؟ اسکی شرط کے مطابق حضور (ص) کی پشت مبارک کو برہنا کیا گیا اور اس نے وہاں کوڑا مارنے کے بجائے مہر نبوت کو چوم لیا ؟ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے بتایا کہ میں نے حضور (ص) کو ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جس کا جسم میرے جسم سے چھو جا ئے وہ بھی جنت میں جائے گا اس لیے میں نے ایسا کیا؟ رہا جنرلوں اور افسروں کامعاملہ تو وہ حضرت عمر (رض) کے دور ِ حکومت میں حضرت خالد  (رض)بن ولید کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ سب کو یاد ہوگا اور ان کانظام حکومت بھی ؟لہذا اب میں مزید تفصیل کو چھوڑتا ہوں اور وہ خبر سناتا ہوں جوکہ اب آپ  سب کےکے لیے بہت پرانی ہوگئی ہے۔ مگر یہ پہلی انہو نی ہونے کی وجہ سے تاابد تازہ رہے گی؟ جس کی ابتدا جنرل راحیل شریف صاحب نے کی ہے ؟ جس نے ان سب کے منھ بند کر دیئے ہیں جو ان پر طنز کر رہے تھے ۔اب جو کو ئی بھی پاکستان میں ان کے اتباع میں آگے بڑھے گا، وہ عمل ان کے کھاتے میں بھی تا قیامت لکھا جاتا رہے گا؟ جس کی مثال پاکستان میں نہیں تھی کہ کبھی کسی ملٹری آفیسر کو سزا دی گئی ہو جوکہ جنرل سے شروع ہوئی اور میجر پر آکر ختم ہوئی ہو؟ اب لوگوں کا وہ اعتراض تو ختم ہوگیا ہے اور پوری قوم اس اقدام کی تعریف کر رہی ہے کہ انہوں نے احتساب اپنے محکمہ سے شروع کیا لہذا سب اپنے اپنے محکموں سے شروع کردیں اور جو سب سے بڑے ہیں وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان سے شروع کردیں اور خود کو احتساب کے لیے قوم کے سامنے پیش کر یں ؟ تاکہ پھر کسی کو بیت المال خورد برد کرنے کی جراءت نہ ہو؟اگر آپ تاریخ میں جائیں تو وہ سنہری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی فوج میں جنرل اکبر خان سولجر جیسے جنرل بھی ہو گزرے ہیں جنہوں نے سینیر ہونے کے باوجود خود کو اس عہدہ کا اہل نہ جان کر ریٹائر ہونے کو ترجیح دی۔ مگر بعد میں ایک سیاستدان نے اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ایک ایسے شخص کو دس سینیر ترین آفیسروں پر ترجیح دیکر کمانڈر انچیف کے عہدے تک پہونچایا جس کے بارے میں فوج اور عوام میں بہت سی افواہیں اور غلط فہمیاں تھیں جبکہ وہ کرنل تھا ؟ اس کوشش میں شفاف قسم کے فوجی افسران میں سے ایک کو ایران میں سفیر بنا دیا گیا اور باقی کو اس غلط بخشی نے مجبور کردیا کہ یا تو وہ ایک جونیر کو سلوٹ کریں یا پھر استعفیٰ دیکر خودکواس ذلت سے بچا ئیں ؟ پھر اسی جنرل نے پاکستان میں جمہوریت کی بساط سمیٹ دی جس کا تسلسل ابھی تک چلتا رہا ہے کہ فوج نے کبھی سامنے آکر حکومت کی، کبھی پیچھے رہ کر حکومت کی؟ اب اس کا حل ایک ہے کہ جو سب سے بڑا ہے وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرے ؟ یا پھرکوئی اور بشمول سیاست داں اسے اتنامجبور کردے کہ سب کو خود احتسابی کی روش اپنا نا پڑے ؟ اور احتساب کاسلسلہ اداروں میں بعد، میں پہلے اقتدارِ اعلیٰ سے شروع ہو؟ اس لیے کہ جہاں مقتدرِ اعلیٰ اس قدر مجبور ہو کہ وہ چوروں کی سرپرستی کرے ، رشوت خوروں کی سرپرستی کرے اور غیر ملکی ایجنٹوں کی سرپستی ،تو انصاف کہاں سے مہیا ہو گا ؟ جبکہ مسلمانوں کو اسلام یہ سکھاتا ہے کہ  “صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائیوں میں نہیں ؟ جس کی مثال میں نے شروع میں دی کہ ایک طرف وہ ذات اقدس (ص) تھی کہ جس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں (ص) اپنی جان سے بھی زیادہ چاہو ،تب مسلمان کہلانے کے مستحق ہوگے، مگر وہ (ص) سبق دے رہے ہیں کہ اگر ایسا کوئی معاملہ ہو جیسا کہ بھول چوک سے میرے ساتھ پیش آیا تو بھی میرا نہیں، حقدار کا ساتھ دو؟ لہذا جو مقتدرِ اعلیٰ اور ان کے خاندان سے احتساب کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ حق پر ہیں، اس لیے کہ قبلہ ٹھیک ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے اور قبلہ ہی غلط ہے تو سب کچھ غلط ہے؟دوسری میں نے سیاسی مثال پیش کی پاکستان کے ابتدائی دور سے ہی اگر ابتدا سیا سی مصلحت سے نہ ہوتی تو آج یہ صورت حال نہ ہو تی کہ جس کے بھی “پیرے اٹھاو “ ( کھوجی کے ذریعہ کھوج لگانا)وہ وزیر مشیر اور اقتدار اعلیٰ تک جاتے ہیں ۔ تھانے بکتے ہیں ٹیبلیں روزانہ کی بنیاد پر ٹھیکے پر دی جاتی ہیں ، ڈاکوؤں سے ساجھے ہیں ،اکا دکا م اپنے دشمنو ں کو راہ سے ہٹا نے کے لیے بھی لوگ ن سے لیتے رہتے ہیں ؟ اکثرمقتدرِ اعلیٰ عوام کی مرضی سے نہیں اوروں کی مرضی سے آتے ہیں؟ کبھی پڑوسییوں کی مرضی سے آتے ہیں کبھی دور دراز ملکوں کے شاہوں کی مدد سے  بچ بچاکر آتے ہیں اوران کے اشاروں پر ناچتے ہیں؟ ایسے میں ملک کامفاد کون دیکھے اور کیسے دیکھے ؟ تازہ مثال ہمارے سامنے ہے کہ صرف ایک بڑے آدمی کو پکڑا گیا ۔ اور ایک خاتون پکڑی گئیں ،جن کے مقدمات رواجی عدالتوں میں نہیں بلکہ خصوصی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس میں اتنے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کمانڈر اچیف کا دور ختم ہونے کو آگیا مگر ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی جبکہ اسی کمانڈر چیف نے کچھ اپنے ساتھیوں کو ابھی ،اور کچھ کو پہلے سزا دیکر دکھا دی ؟ اس میں بہت سا سبق ہے پوری قوم کے لیے۔بجا ئے دستور اور جمہوریت کی دہائی دینے کہ کوئی کچھ کرنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے (آمین)

 

Posted in Uncategorized

صراط مستقیم سے کج روی کی طرف مراجعت۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

اسلام اور ہادی ِ اسلام ابتدا سے صراطِ مستقیم اختیار کرنے کے لیے اپنے پیرؤں پر زور دیتے آئے ہیں اورا س کے صلے میں جنت الماویٰ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے؟ اور کج روی پر ناراً حاویہ کی بعید ہے؟ جبکہ نئی صراط ِمستقیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک رہنما نے دریافت کی ہے کہ “اگر لندن جانا ہو تو براہِ ماسکو جاؤ یعنی کسی بھی کام کے لیے کبھی سیدھا راستہ اختیار نہ کرو؟ جبکہ ہمیں بطور مسلمان ہدایت خداوندی ہے کہ بدگمانی مت پیدا ہونے دو اس سے بچو جبکہ ہمارے حکمرانوں کارویہ ہے بدگمانیاں پیدا ہونے دو، دیکھیں کوئی ہمارا کیا بگاڑتا ہے؟ پہلے اجنبی راستے ایسے لوگ اختیار کیا کرتے تھے،جنہیں پکڑے جانے کا خطرہ ہوتا تھا،اب کوئی ایک شریف ہی نہیں پوری اشرافیہ یہ ہی طریقہ استعمال کرنے لگی ہے؟ کیوں؟ اسکاجواب کسی کے پاس نہیں ہے چونکہ قدریں بدل گئیں ہیں اب یہ محاورہ “ ایسے ہر سچے کے بارے میں بولا جاتا ہے جو کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے “ ۔ کہ جاتا پورب کو ہے اور بتاتا پچھم کو ہے۔ اس سے اور وں کاتو کچھ نہیں بگڑتا مگر ایسا کرنے والوں کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ بعضوں کا اعتبار تو اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ اب ان پر کوئی اعتبار کرتا ہی نہیں ہے اور نہ وہ کسی کا اعتبار کرتے نہیں۔ لہذا گر پرانی مثالوں کو لیں تو ہلاکو اور چنگیز خان کو اور حالیہ مثال کو لیں تو وہ صرف سعودی حکمرانوں کا اتباع کرتے ہوئے نظر آئیں گے کہ کلیدی عہدوں پر قریبی رشتہ دار اور ریاستی عہدوں پر اہلِ قبیلہ کو مسلط کردیتے ہیں تاکہ حکمراں محفوظ رہیں؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اس پر جمہوریت کے چیمپئین بھی زبان نہیں کھولتے کہ دستور میں کہاں لکھا ہے کہ وزیر اعظم اپنی جگہ اپنے پیاروں سے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر اپنی جگہ عارضی طور پر کر ے؟ جبکہ دوسرے لفظو ں میں یوں کہہ لیجئے کہ انہیں عوام کی پرواہ ہی نہیں ہے وہ ہر طرح سے خود کفیل ہیں اور اسطرح وہ اعتبار اورتحریک ِ اعتمادکے مرہون ِ منت ہی نہیں ہیں ؟ اپنی شاطرانہ چالوں کے ذریعہ حکومت بھی کرتے ہیں تجارت بھی کرتے ہیں جبکہ پہلے لوگ کہاکرتے تھے کہ تجارت اعتبار کے بغیر نہیں چلتی جبکہ اب چلتی ہے اور خوب چلتی ہے؟ ہم نے ایک جگہ نہیں بہت سی جگہ پڑھا ،کبھی حدیثوں کی شکل میں کبھی بزرگوں کے اقوال کی شکل میں جو کہ زیادہ تر قرآن اور سنت سے ماخوذ ہیں کہ یہ سب قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کہیں اب قریب ہی ہے۔
پہلا جھوٹ نہ جانے تاریخ میں کس نے اور کب بولا ہوگا مگر نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ پہلے ہم میں کوئی جھوٹا نہیں ملتا تھا اب سچا نہیں ملتا ہے اور پہلا گمنام جھوٹا اس صورت حال کا ذمہ دار ہے اسلامی عقیدے کے مطابق کہ جس نے بھی برائی کی طرح ڈالی قیامت تک تمام برائیاں اسکے کھاتے میں لکھی جاتی رہیں گی اور جو بھلائی کی طرح ڈالے گا تو بھلائیاں بھی اس کے کھاتے میں لکھی جائیں گی؟ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس کا کھاتا کتنے کروڑٹرکوں میں لدا ہوا روز قیامت منصف اعلیٰ کے سامنے پیش کیا جا ئے گا جس نے ہمیں صرف نیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتادیا ہے کہ میں تم پر نگراں ہوں (سورہ صبا آیت نمبر١١)؟ جھوٹ کا بانی اور اس کا اتباع کرنے والے اسے کیسے جھٹلاسکیں گے جہاں ہر ایک کے ہاتھ پاؤں، کان، ناک اور آنکھیں سب اس کے خلاف گواہیاں دے رہے ہونگے اور سامنے انصاف کی کرسی پر وہ منصف اعلیٰ تشریف فرما ہوگاجس کے ذاتی علم میں سب کچھ ہے؟ جبکہ یہ اہتمام بھی گناہ گار کی اس دلیل کے جواب میں ہوگا کہ ہرجھوٹا بقول غالب کہے گا کہ “ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق کوئی انسان ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا؟ اسوقت منصف اعلیٰ اس کی منہ زوری کی صلاحیت چھین لے گا اور ان اعضا ءکو بطور گواہ بولنے کا حکم دیگا کے تم بتاو کہ تم نے یہ یہ کیا یانہیں کیا ؟ اور اس کا منصوبہ کس ذہن نے بنا یا اور اس پر عمل تم نے کس کی سوچ پر اور کس کے کہنے پر کیا؟ اور وہ جواب میں سارا کچا چٹھا کھول دیں گے! تب اب ہر ملزم اپنی کیے پر پجھتائے گا لیکن بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ چونکہ عدالت کے اوپر نہ کوئی عدالت ہے جہاں اپیل ہو سکے نہ ضمانت کی گنجائش ہے کہ جان چھٹ سکے، صرف ایک ہی حکم فرشتوں کو صادر ہوگا اس کو منہ کے بل جہنم میں پھینک آؤ وہی اسکی دائمی جگہ ہے جس میں یہ ہمیشہ رہے گا؟ جبکہ اس دن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی کتابوں اور نبیوں (ع) کے ذریعہ سب کچھ پہلے ہی بتا چکا ہے۔ اور نبی آخر الزماں (ص) تو یہاں تک رعایت کا اعلان فرماچکے ہیں کہ تم چار باتیں اختیار کرلو تو میں تمہاری بخشش کاضامن بنتاہوں ۔ کھاؤتو حلال ، بولو توسچ ، تمہیں امین بنا یا جائے تو امانت کی حفاظت کرو، اور سب کے ساتھ حسن ِ سلوک اور اخلاق سے پیش آؤ ؟ اور اس پر انہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ میں عمل کر کے بھی دکھا دیا؟ سب سے پہلے انہوں (ص) نے جب ابھی پیغمبر بھی نہ تھے ؟ اس حد تک جاکر دکھایا کہ ساری دنیا صادق اور امین کہنے لگی، دعویٰ نبوت کے بعد اس وقت کے بدترین دشمن ابو سفیان سے جب قیصر روم نے اپنے دربار میں بلا کر پوچھا کہ تم نے کبھی انہیں جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا؟ تو ان کا بدترین دشمن ہونے کے باوجود اسکا جواب تھا کہ کبھی نہیں! تب قیصر ِ روم نے جواب میں کہا کہ جو شخص عام زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا ،وہ خدا پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہے ؟ اس پرپورا دربار گنگ رہ گیا کہ اسکا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا؟ امانت کا یہ عالم کے ان لوگوں نے بھی اپنی امانتیں واپس نہ لیں جواب حضور (ص) کے دعویٰ نبوت کے بعد ان کے جانی دشمن ہو گئے تھے؟ لیکن پھر بھی ان کی نگاہ میں پورے عرب میں ان (ص) سے زیادہ دیانتدار کوئی اور نہ تھا؟ انہیں یقین تھا کہ اگر ان کی امانتیں کہیں محفوظ ہیں تو صرف انہیں (ص) کے مقدس ہاتھوں میں ؟ حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جس دن کے انہیں (ص) سب کفار سرداروں کو مل شہید کرنا تھا؟ لیکن امانتیں ابھی تک انہیں (ص) کی تحویل میں تھیں؟ جب کفار کے اس منصوبہ پر ان  (ص)کواللہ سبحانہ تعالیٰ نے مطلع کیا تو انہیں (ص) اپنے بیٹوں جیسے چچا زاد بھائی کو جن کی پرورش انہوں (ص) نے خود فرمائی تھی۔خطرے میں ڈالنا پسند فرمایا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے بستر پر سلادیا اس ہدایت کے ساتھ کہ تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا ، تم ان کی امانتیں واپس کرکے میرے (ص) پاس آجانا؟ فل الحال میری جگہ میرے بستر پہ سوجاؤ، اوران کے یقین کا عالم دیکھئے کہ وہ آرام سے ان کے بستر پر محوِ استراحت ہوگئے اور بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ اس دن مجھے جتنی اچھی نیند آئی پہلے کبھی اپنی زندگی میں نہیں آئی اور وہ امانتیں واپس کرکے ارشادات ِ عالیہ کے مطابق ان  (ص)سے آملے؟اب آجائیے آخری شرط کے بارے میں انکا برتاؤ دیکھیں؟جس کے بارے میں ان (ص) کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ مجھے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا ہے؟اس کی لاکھوں مثالیں ہیں جس کے لیے یہ چھوٹا سا مضمون ناکافی ہے؟ مگر مختصر یہ ہے کہ جس نے بھی ان کے ساتھ برائی کی اسکے ساتھ انہوں  (ص)نے بھلائی کی حتیٰ کہ وہ دن اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عطا فرمادیا کہ مکہ معظمہ میں بطورفاتح انہیں (ص) داخل ہو نا تھا، اب وہ تنہا نہیں تھے بارہ ہزار جانثاروں کا لشکر جرار ان (ص) کے ساتھ تھا؟ وہ سب لوگ لرز رہے تھے جنہوں نے حضور (ص) پر ظلم کیے تھے صحابہ کرام اور صحابیات (ص) پر ظلم کیے تھے کہ اب کیا ہوگا؟ مگرآج بھی فاتح مکہ، معلم اخلاق (ص) کا ،سر انکساری سے اس حد تک جھکا ہوا تھا کہ اونٹ کی پشت کو چھورہا تھا؟ کہ دیکھنے والوں کو بھی سجدہ شکر کا گمان نہیں بلکہ یقین تھا؟ اس لیے کہ انہوں نے ان (ص) کے قول اور فعل میں کبھی تضاد نہیں دیکھا ؟ آگے آگے منادی کرنے والا اعلان کرتا چل رہا تھا کہ آج کسی سے کوئی بدلہ نہیں جو گھر بند کیے بیٹھا رہے وہ محفوظ ہے، بچے محفوظ ہیں ، بوڑھے محفوظ، خواتین محفوظ ہیں، جو حرم میں پناہ لے وہ محفوظ ہے، جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے وہ بھی محفوظ ہے؟ یہ وہ گھر تھا جوکہ کبھی حضور (ص) کی سب سے پیاری شریک حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ (رض) کی ملکیت تھا، جسے ابوسفیاں نے قبضہ کرکے اپنی رہائش گاہ میں تبدیل کرلیا تھا؟اور ایک انہیں کا ہی گھر نہیں، بلکہ جتنے صحابہ کرام ہجرت کرکے کہیں گئے تھے ان سب کے گھروں پر کفارکا قبضہ تھا ؟ آج انہوں نے جب مطالبہ کیا کہ حضور (ص) ہمارے گھر تواب ان غاصبوں سے واپس دلادیجئے ؟ ارشاد ہوا کہ “ کیاتم نہیں چاہتے کہ تمہیں ان کے بدلے میں جنت میں گھر ملے“ سب نے کہا کہ حضور (ص) ہم اپنے گھروں کے بدلے میں جنت میں گھر چاہتے ہیں۔فاتح مکہ (ص) کے پاس جب تک وہ دنیا میں موجود رہے اسوقت تک مکہ میں ٹھیرنے کے لیئے جگہ نہیں تھی؟ جو اس سے ثابت ہے کہ حج الوداع کے موقع پر حضور (ص) نے منیٰ کے نشیبی علاقہ میں قیام فرمایا اور جب کسی نے پوچھا تو انہوں نے اپنے مکانوں کا ذکر کرکے ایک نام لیکر فرمایا کہ اس نے میرے لیے کوئی جگہ مکہ میں چھوڑی ہے، جہاں میں قیام کروں؟ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ منیٰ میں اسکے بعد وہاں قیام سنت بن گیا جس کو خلفائے راشدین نے بھی قائم رکھا اور آج تک وہ سنت جاری ہے؟ جبکہ بقیہ اراکان حج حضرت ابراہیم خلیل اللہ (ع) اور ان کنبے کی سنت تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان (ص) کا اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) تاکہ ہم بجائے “ ناراً حاویہ“ کے “جنت المعاویٰ“ اپنی دائمی رہائش گاہ میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوسکیں۔

Posted in Uncategorized

وکی لیکس کے بعد پنامہ لیکس؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہم سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ لوگ آف شور فرمیں بنا تے کیوں ہیں ؟جس میں مالکان کے نام تک جعلی ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جو ایمانداروں کا تناسب ہے وہ جس قدر کم ہے سب کو پتہ ہے !اگر کوئی جعلی انسان اصل کی جگہ لے لے اور پورے کاروبار پر قبضہ کرلے تو؟ اس کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ایک بہن کی طرح نہ “ بوا“ ہیں جو ہمیں ساری دنیا کی خبریں لا کردیں اور نہ ہی ا یک ٹی وی کی طرح ایسی چڑیا ہے جو مخبری کرے اورہمیں ساری خبریں لادے؟ دوسرے اس میدان میں ہمیں کوئی ذاتی تجربہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب سے ہم نے اس دنیا کی نا پائیداری کو دیکھا !خود کو مال وزر سے نہ صرف بے نیاز کرلیا بلکہ ہم نے یہ شعر کہہ کر یہ باب ہی بند کردیا کہ “جب سے ہم نے مال و زر سے کنارہ کر لیا ہاتھ خالی کیا ہوا ساری پریشانی گئی “ اسی وقت سے ہم نے اپنی زندگی اتحاد بین المسلمین اور خدمت خلق کے لیے وقف کردی ۔نیز ہم نے دو چیزوں سے اجتنا ب کرنا شروع کردیا ایک “ نوٹ “ دوسرے “ ووٹ “اسکے بغیر ہم خدمت کرنے والوں میں جب سے شامل رہے۔ اس اعلان کے ساتھ کہ ہمارا وقت مفت حاضر ہے جو نوٹ اور ووٹ کے بغیر ہم سے خدمت لینا چاہے ہم حاضر ہیں؟ ورنہ ہمارا حشر بھی وہی ہوتا جیسے آجکل شوکت خانم اسپتال کو محض اس لیے سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں؟ کیونکہ اس کی بنیاد ڈالنے والے نے ہزاروں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کرکے انہیں حسرت کی موت مرنے سے بچالیا ۔ چونکہ وہ اب سیاست میں آگیا ہے لہذا شاہ کے مصاحب اس کے اس ادارے کو بھی اس کے ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔بغیر یہ سوچے ہوئے کہ اگر وہ ادارہ تباہ ہوگیاتو پھر ان غریبوں کا کیا ہوگا۔ کاش وہ قرآن کی سورہ احزاب میں جاکر آیات نمبر 57 اور 58 پڑھ لیتے تو اپنا بھی بھلا کرتے اور دوسروں کا بھی, کیونکہ یہ آیتیں ان کے بارے میں ہے جو نیک کاموں سے روکتے ہیں اور جھوٹے الزامات لگاکر اللہ کی نگاہ میں لعنتی اور مستحق ِعذاب بنتے ہیں؟ لہذا کسی کی پگڑی اچھالنے سے پہلے اگر کوئی مسلمان ہے تو اس کو چاہیئے کہ پہلے تحقیقات کرلے پھر کوئی لفظ زبان سے نکالے چاہیں ا میر ہو یا فقیر؟
لیکن سوال کا جواب دینا بھی ہم پر فرض ہے؟ جواب یہ ہے کہ ساہو کاری ڈنکے کی چوٹ پر ہوتی ہے اور چوری چھپ کر کی جاتی ہے۔ یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے اور یہ ہی ہمارے دین نے بتایا ، سوائے راہِ خدا میں خرچ کرنے کہ وہ پوشیدہ کرنے کاحکم ہے تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور دینے والے پر ریاکاری  کاالزام نہ لگے۔ مگر ہم بہ حیثیت قوم اس کا الٹ کرتے ہیںِ۔
رہی حوس کی کھوپڑی وہ تو کسی طرح نہیں بھرتی؟ اس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ“ اگر انسان میں سے کسی کو بھی یہ طاقت عطا کردی جائے کہ وہ کسی چیز پر پوری طرح متصرف ہوسکے تو کسی کوکچھ بھی نہ دے اور سب کچھ اپنے لیے مخصوص کرلے “ حالانکہ وہ اب جاہل بھی نہیں رہا ہے کہ یہ سب کچھ لاعلمی میں کرتا ہو، پچھلی قوموں کی تاریخ بھی اسے معلوم ہے، برے کاموں کے نتیجے بھی اسے معلوم ہیں، یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو کہ پورے عالم کو محیط کیے ہوئے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی کی مرضی سے نہ دن کے بجائے رات ہوسکتی ہے اور نہ رات کے بجائے دن ہوسکتا ہے؟ چاہیں وہ کتنی ہی دولت کا مالک ہو اور کتنے ہی وسائل کا مالک کیوں نہ ہو۔ہر ایک کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ،مگر اس سے سبق لینے کو کوئی تیار نہیں ہے؟ خود کو بدلنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رحم اپنے اوپر لازم فرمالیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک لوگ بھلائی کو بھولے نہیں ہیں جیسے بل گیٹ کہ انہیں اگر اللہ نے نواز ا تو انہیں انسانیت یاد رہی اور دنیا سے اپاہجی دور کرنے کی ٹھان لی جبکہ کچھ نیک بخت مسلمانوں نے اس میں ملاوٹ اور کچھ نے رکاوٹ ڈال نے کی ٹھانی ہوئی ہے؟ حالانکہ بل گیٹ نے یہ کہیں نہ کہیں ضرور پڑھا ہوگا یا سنا ہو گا ،ہمارے علماءکی زبانی سہی کہ اس کا وہاں کوئی حصہ نہیں ہے؟
مگر ہمیں افسوس اس پر ہے کہ ان میں اس طرف توجہ دینے والے بہت ہی کم ہیں جن کو ہم مسلمان کہتے ہیں اور وہ بہ زعم ِ خود اپنے آپ کو جنت کاٹھیکیدار کہتے ہیں؟ جن کا بقول ان کے یہ یقین ہے کہ انہیں ایک دن اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش ہو نا ہے اور جہاں ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کا یقین ہے کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ ہم پر نگراں ہے، وہ دانا ، بینا ،بصیر اور خبیر بھی ہے؟ مگر کبھی غلطی سے بھی نہیں سوچتے کہ چکر بازی وہاں کیسے چلے گی؟ اگر کوئی سوچتا بھی ہو گا، تو مولوی صاحب یہ کہہ کر اس کا خوف زائل کر دیتے ہیں کہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے یعنی بڑارحم کرنے ا و ر معاف کرنے والا ہے۔ اور وہ اس امید پر چند دیگیں پکاکر بانٹ دیتے ہیں کہ وہ بھی خوش ہو جائےگا؟ جبکہ اسے خوش کرنے کے لیے طریقے اس نے خود ہی بتادیے ہیں ان میں شرط اول یہ ہے کہ اس کی راہ میں جو خرچ کیا جائے وہ مالِ حرام سے نہیں مالِ حلال سے ہونا چاہیے کسی ہیرپھیر سے کمائی ہوئی دولت نہیں؟ مگر یہاں علماءاس کی مشکل کشائی کر دیتے ہیں یہ کہہ کر، چونکہ دنیا میں اب حلال کہیں ملتا ہی نہیں لہذا اگر کسی کے مال میں حلال کا غلبہ ہے تو بھی چلے گا؟ جیسے پہلے لوگ چھان بین کا اہتمام کیا کرتے تھے کسی کامال کار خیر میں قبول کر تے وقت ؟اب بھی کریں تو پھر کسی کا مال بھی قابل ِ قبول نہیں رہے گا اور مولوی بیچارے بے روز گار ہو جائیں گے؟اور فلک بوس مساجد اورمدرسے بننے بند ہو جائیں گے؟ جبکہ تبلیغ کا اصول ہم نے انبیاءکرام کی حیات طیبہ سے یہ سیکھا ہے کہ جہاں گناہ گاروں کی کثرت ہو وہاں خوف خدا یاد دلاکر توبہ کی طرف راغب کرو اور جب  وہ توبہ کرلیں تو اس پر قائم رہنے والوں کو اللہ کے انعامات کی خوشخبریاں سناؤ۔ ممکن ہے کہ یہاں بھی انہوں نے اس کا الٹ پرھ لیا ہو؟ واللہ عالم
جبکہ آپ ٹی وی شو پہ جائیے  توہر مفتی اس پر پریشان ملے گا کہ حرام کو حلال کرنے کے لیے وہ کونسی صورت نکالے کہ دین میں کوئی گنجائش پیدا ہو جائے لہذا آپ کو ایسے ایسے مولوی ملیں گے؟کہ دین میں آسانیا ں پیدا کرنے کے نام پر،آ سانیاں پیدا کرہی لیتے ہیں۔ جبکہ جہاں آسانیاں پیدا کرنے کا حکم ہے وہاں اگر مائک آپ ان کے ہاتھ میں دیدیں تو ایک چھوٹی سی بات اتنی بڑی بیان کریں گے کہ نمازی جب تک نہ چلا جائے نہ چھوڑیں ، یا ٹی وی پرہیں تو اینکر آڑے نہ آئیے تو پورا پروگرام ہی ایک ہی کے ارشادات عالیہ پر ختم ہو جائے اور دوسرے عالم کو اپنی ارشادات عالیہ بیان فرمانے کا موقع ہی نہیں ملے؟یہ تھا ہمارے یہاں ہدایت یافتہ اورنیکوکار لوگوں کاعالم ؟
اب ان کا عالم دیکھئے جوکہ اقتدار اور مال کے پیچھے جان دیتے ہیں ان میں سے بعض تو اتنے تجربے کار ہیں کہ پھانسی کا پھندا ان کی اکڑی ہوئی گردن کو چھوکر گزر گیا؟ مگر اس کے ساتھ ان کے دل سے شاید خوفِ خدا بھی لے گیا؟ جب آتے ہیں وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔ پہلے یہ معززین کے بارے میں نہیں !بلکہ عادی مجرموں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ جب جیل سے رہائی پاجاتے ہیں تو وہاں اپنا توا ،پرات دھو مانجھ کر رکھ آتے تھے تاکہ ان کے شاگرد ان کی واپسی تک ان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ کوئی اور ان کو گندہ نہ کردے اور ان کی پارسائی میں فرق آے؟ لیکن اب یہاں سیاست میں جو بھی بر سر ِاقتدارآتا ہے وہ جانے والوں کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتا تو یہ ان کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اب ایسے میں احتساب کی باتیں ، کون کرتا ہے گناہ و ثواب کی باتیں۔ یہاں ٹیپ کا بند یہ ہے کہ یاد رکھتے ہیں سب حساب و کتاب کی باتیں ؟ ایک واقف کار کل ٹی وی  پربتارہے تھے کہ یہ تو ابھی صرف ایک وکیل کی فرم کی سائڈ ہیک ہوئی ہے جبکہ اس قسم کی چارسو دنیا میں مزید فرمیں موجود ہیں؟ جنہیں ایک نہ ایک دن ہیک ہو نا ہے اور دنیا کو ان مقدس چہروں کو بے نقاب دیکھنا ہے جن کا ابھی تک کوئی پردہ رکھے ہوئے ہے۔آپ کس کس کاپردہ اٹھائیں گے اور اس کے بعد تحقیقاتی کمیشن بنوائیں گے پہلے ہی الماریوں میں ایسے کمیشنوں کی فائیلیں ٹنوں کے حساب سے پڑی ہوئی ہیں،۔اگر کوئی جج اپنی اور اپنے بچوں کی جان خطرے میں ڈال کربے لاگ فیصلہ کر بھی دے تو اس پر عمل کون کرائے گا۔ عمل کرانے والے لوگ کہاں سے آئیں گے؟ پہلے زمانے کہ ایک درمند شاعر کہہ گئے تھے، جنہوں نے تیرہ سوسال بعد قوم کو گل وبلبل والی عشقیہ شاعری سے اسلامی شاعری طرف متوجہ کیا تھاکہ “ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جسکو خیال ،خود اپنی ہی حالت بدلنے کا؟
اب تو وہ دور ہے کہ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک اکاونٹینٹ کسی سیٹھ کے پاس ملازمت کے لیے انٹر ویو دینے گیا تو اس سے سوال پوچھا گیا کہ تم کتنے فیصدٹیکس بچا سکتے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ حضور! آپ یہ بتا ئیں کہ آپ کتنے فیصد ٹیکس دینا چاہتے ہیں ؟ جہاں کار وبار اس پر چل رہا ہو کہ کون کتنا ٹیکس بچا کر دے سکتا ہے، ملازمت تو اسی کو ملنا ہے اور اسی طرح کاروبار چلنا ہے؟ وزیر اعظم اس مسئلہ پر دو د فعہ ٹی وی پر آچکے ہیں؟ قوم ان کے احتساب کی بات کر رہی جبکہ ان کے صدقے میں انہیں شیلڈ مل گئی جو انکے علاوہ دو ڈھائی سو پاکستانیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار، آگے میں کچھ نہیں کہتا ؟ کمیشن ہو تو ایسا جو کسی کی رعایت نہ کرے پہلے ملک کے اندر کے چھٹ بھیو ں کو ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں لا یا جائے تاکہ وہ مطالبہ کریں کہ ہمیں ہی  نہیں بڑوں کو بھی پکڑا جائے، پھر بڑوں پھر مجبوراً بڑوں کو بھی ہاتھ ڈالنا پڑے تب ہی کامیابی ہوگی، جیسے چھوٹے صوبوں کے بعد بڑے صوبے ؟ اگر ایسا ہو جائے تو انکم ٹیکس کے محکمہ میں کوئی ملازمت کے لیے تیار نہیں ہوگا ایک شہر لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں روپیہ میں لینے کے بجائے مفت میں بھی نہیں لیگا؟ شاید ہمارے ان ہم وطنوں کو یہ سن کر اس بات پر حیرت ہو کہ لوگ سرکاری ملازمتوں میں یورپ اور امریکہ میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ تنخواہیں کم ہیں جبکہ نجی کمپنیوں میں تنخواہیں بہت زیادہ ہیں؟ اور اوپر کی آمدنی یہاں ہے ہی نہیں،اس لیے کہ جو آپ کانکلتا ہے وہ کوئی روک نہیں سکتا، ورنہ اس پر اس پارٹی کو حکومت کو سود دینا پڑیگا اور روکنے والے کی چھٹی ہو جائیگی ؟اور نہیں نکلتا ہے تو کوئی دلانہیں سکتاکہ اسمیں بھی دلانے والے کی چھٹی ہوجا ئے گی؟ جبکہ ٹیکس دینے والا بھی دینے میں جلدی کرتا ہے؟ کہ جتنی دیر کرے گا وقت کے کلاک کے ساتھ ٹیکس کا بار بھی بڑھتا رہے گا ؟ اسی طرح جرمانوں کے بھی بھاؤ مختلف ہیں اگر فوراً ادا کردو تو کم اور مقدمہ بازی میں کوئی جائے اور جتنا وقت لگائے اتنا ہی زیادہ ؟

 

Posted in Uncategorized

ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی

پاکستانی حکومت ایک نیا تجربہ کر رہی ہے وہ ہے بکری سے بھی موّدت اور بیریوں سے بھی محبت؟ اس انوکھے تجربے کو پورا کرکے دنیا کو  ساتھ ہی یہ بھی دکھانا چاہتی ہے  کہ ہم ماڈرن مسلمان ہیں، تا کہ یہ ثابت کرے کہ راہنما پنی بات کے دھنی اور گانٹھ کے پکے ہیں ؟ جبکہ عوام کو وہ یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ بطور مسلمان  ہم پکے مسلمان ہیں اس لیے کہ سلام میں احسان کا بدلہ احسان ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں ؟ حالانکہ وہ دوسرے اسلامی قوانین کوپسِ پشت ڈال چکے ہیں مگر اس پر سختی سے اس لیے عمل پیرا ہیں کہ ان سے آنے والے الیکشن میں بھی کام لیناہے۔ جبکہ کس نے کیا احسان کیا اور وہ دو تہائی اکثریت کس طرح حاصل کرسکے وہ انہیں یاد نہیں ہے؟  مگرمعاونوں  سےدوبارہ سن 18 میں بھی ویسی ہی معاونت چاہتے ہیں۔ جبکہ گزشتہ مرتبہ احسان کرتے ہوئے  کر نے والوں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسی صورت حال میں یہ حکومت کس کس کے احسان چکا ئے گی اور کیسے چکائے گی ؟ حالانکہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ہمارے یہاں بعض فرقوں میں بعد المشرقین ہے یعنی زمین اور آسامان کا فرق ہے ایسا فرق کہ ایک ہی عمل میں ایک گروہ کی موت ہے تو دوسرے کی زندگی ؟ جبکہ ہم بطور مذہب اتنی ٹکریوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کہ فل الحال مردم شماری کی طرح ان کی گنتی بھی مشکل ہے؟ دور کیوں جائیے خود کابینہ بٹی ہوئی ہے جوایک کر رہا ہے دوسرے کو اس کی خبر نہیں ہوتی؟ہر افسر کسی پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتا ہے کہ ڈھاٹا باندھے جس شخصیت کو وہ پکڑ رہا ہے، کہیں اس میں چہرہ چھپائے کو ئی سومناتھ نہ نکل آئے؟ اور وہ عہدہ ہی چلا جا ئے جو ساری جمع پونجی خرچ کرکے خریداتھا۔ جبکہ انتظامیہ کو بعض فیصلے فوراً بھی کرنے ہوتے ہیں مثلا “ کسی کو کوئی گولی ماررہا ہے تو اسے حکام بالا سے اجازت لینے  کا وقت ہی کہاں ملے گا ؟ جبکہ  پہلے زمانے میں ایسے مسائل نہ ہو نے کی وجہ یہ تھی مسائل سے نبٹنے بڑے آسان تھے کہ سب اللہ کے بندے ہوتے تھے کوئی غیر کا بندہ نہیں ہوتا ہی نہیں تھا۔  آسانی یہ تھی کہ اسوقت ان چھوٹے چھوٹے معاملات کووزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علم میں لانا اور ان سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا۔ پولیس کے ساتھ ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ رہتا تھا اور وہ اپنی آنکھوں سے بپھرے ہوئے مجمع دیکھ رہا ہو تا اکثر پولس کو اس سے رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تی تھی اور وہ اپنی صوابدید پر فائر کا حکم دے دیتا تھا؟ پھرگولی کسی کو پہچانتی نہیں تھی کہ کون کس کا بندہ ہے “ جائے احتجاج کی نشان دہی صرف مجمع کی چھوڑی ہوئی جو تیوں  سے ہو تی تھی جو بطور یاد گار وہاں پڑی رہجاتی تھیں اور بس؟
جبکہ یہاں معاملہ الٹ تھا کہ “بریلوی مکتبہ“ فکر کے ایک فردجو کہ اپنے جرم کے اقبالی بھی تھے ،کیونکہ ا نہوں نے اپنے یقین کے مطابق  جو کچھ  کیاصحیح کیا تھا۔ مگر کورٹ نے فیصلہ اس قانوں کے تحت دیا جو ابھی تک انگریزوں کے زمانے سے پاکستان میں چلا آرہا ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں وہ اس کے باوجود ابھی تک رائج ہے کہ قرار داد مقاصد جو کہ ایک شہید وزیر اعظم ، شہید ملت لیاقت علی خان نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں خود پیش کرکے پاس کرائی تھی اور جو جبھی سے جذدان میں بند تھی جس کو ضیا الحق صاحب نے نافذ کردیا اور اسی کے تحت حدود آرڈیننس اور ناموسِ رسالت کا قانون بھی، جوکہ عوام کا اس وقت سے جاری مطالبہ تھا، اس کا پس ِمنظر یہ ہے ایک  گستاخ پنڈت مہاراج نے جو خیر سے وکیل بھی تھے، ہندوستان میں ایک کتاب لکھنے کی جراءت کی جو گستاخیوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ ایک مسلمان غازی علم الدین شہید کے ہاتھوں اپنے بھیانک انجام کو پہونچے۔ اس وقت بھی گوکہ انگریزکی حکومت تھی احتجاج پر احتجاج ہوتا رہا مگر انہیں پھانسی دیدی گئی۔ جب سے غازی علم الدین آج تک قومی ہیرو چلے آرہے تھے کیونکہ اسوقت تمام علماءاس بات متفق تھے کہ وہ شہید ہیں۔ لہذا ان کے ہیرو ہونے میں کسی مسلمان کوکوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر اب معاملہ فرقہ بندی کا تھا کہ ایک گروہ جس کا مربی سعودی عرب  اور اس مکتبہ فکر کے لوگ ہیں وہ اس کو ہیرو قرار دینے کے حق میں نہیں تھا اس لیے کہ اس سے مقبولیت بریلوی گروہ کی بڑھتی تھی؟ لہذا وہ علیحدہ رہا ، لیکن اب  علیحدہ  رہنا ان کے لیے مشکل تھا کہ دنیا میں  سیا ست پھر پلٹا کھانے جارہی تھی یہ ہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لیاقت باغ پنڈی میں نماز جنازہ کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے  اس سے بہتر طریقہ سے اس مرتبہ وہ پھر وہیں چالیسواں کرنے کی اجازت لینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔اور اسی پولس کے ذریعہ انہیں گاڑیاں اور اراکینِ اسمبلی کے ذریعہ کچھ معاونت بھی ملی جنہیں انہیں اسلام آباد پہونچنے سے روکنا تھا تاکہ سن اٹھارہ کے الیکشن میں ان کے ووٹ کام آئیں اور اسی طرح احسان کا بدلہ احسان کے تحت حکمراں دوبارہ کامیاب ہو کر آئندہ بھی کریں؟ جسکا پہلے دفعہ وہ ادراک نہیں کرسکے تھے کہ اب وہ صورتِ حال نہیں ہے۔ جوکبھی پہلے تھی کہ سارے سعودی حکمرانوں نے حریمیں شریفین کے اطراف میں حجاج کے لیے وقف مسافر خانوں کو ڈھا کر حرم سے اونچے ہوٹل بنا لیے ، اور بدعت کے مقدس نام پر انہیں مزارات گرانے کی بھی دنیا اور ملت نے کھلی چھٹی دیدی ؟ بعد میں اس سے وہ نفرتیں پیدا ہوئیں کہ دنیا کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ بھی اس نظریہ کے نتائج سے واقف ہوگئے جس کی پہلے وہ سرپرستی کر رہے تھے۔جس کا ثبوت وہ حالیہ کانفرنس ہے جو کہ اقوام ِ متحدہ میں پاکستانی مندوب محترمہ ملیحہ لودھی کی کوششوں سے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی جہاں ایک قوال کو بلا کر اس اعزاز سے نوازاگیا؟ کیونکہ وقتی پرندے ہوا کے رخ پر چلتے ہیں ۔ اب سارا یورپ اُس اسلام کو پہچان گیا ہے اور اِسے ترجیح دے رہا ہے ، جو صوفیان ِ کرام کا اسلام ہے جس کا پہلا اصول یہ ہے کہ “ نفرت کسی سے نہیں اور محبت سب سے “ اور وہ اب اسے  ہی اس بیماری کی دوا اور امن کے حصول کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ مذہبی جنون اسی ذریعہ سے کام لے کر کم ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس قسم کی ہر چیز کی افادیت ثابت ہوچکی ہے اور مولانا روم کی تعلیمات آج کل کے یورپ کا مقبول ٹاپک ہے جو نئی نسل کے زیر ِ مطالع ہے؟ ہوا کا رخ اس سے بھی ظاہر ہو رہا ہے  کہ سعودی وزیر خارجہ اس سے شاکی ہیں کہ امریکہ نے اسی (80 )سال کی پرانی دوستی فراموش کردی اور پاکستان کے ایک مقبول صحافی کے الفاظ روزانہ بطور ایڈ نشر ہورہے ہیں کہ ” سعودی عرب کا انفلوئنس کم ہوگیاہے” لہذا دوسرے گروہ کے علماءبھی موقعہ سے فائدہ اٹھا نے کے لیے ان کے ساتھ اکھٹے ہو گئے جنہیں کل تک بد عتی کہتے تھے۔ ورنہ وہ عوام کی نگاہ میں اپنا اثر کھو بیٹھتے، اور اس طرح پنڈی سے چہلم کے شرکاء بلا مزاحت اسلام آبادپہونچ گئے؟ کیونکہ اوپر والے اپنے ہی آدمیوں پر سختیوں کا حکم نہیں دے سکتے تھے؟ اور ادھر  بعد میں علماءکی یہ دھمکی بھی کام آگئی کہ اگر سختی برتی گئی توہم خاموش نہیں رہیں گے؟اس مشکل وقت میں کابینہ اسی طرح بٹی رہی جس طرح اکثر بٹی نظر آتی ہے کہ ایک گرو ہ ان کے خلاف رہ کر ڈراتا دھمکا تارہا اور دوسرا انہیں پر ہاتھ رکھ کر گھیر تا اور راضی کرتا رہا۔  لہذا کابینہ کے دونوں گروپ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اپنی جگہ درست ہیں کہ معاہدہ ہو ا بھی اور نہیں بھی ہوا۔ ان سے ملنے کوئی ذمہ دار نہیں بھیجا، نہیں گیا اورا حتجاجیوں کے نمائندے ان سے  خودملنے گئے۔ رہا یہ کہ اس تمام کھیل میں جیتا کون ؟وہ جس نے بہترین وقت پر تمام مہرے صحیح چلے، جہاں جس  کےساتھ پینگیں بڑھ رہی تھیں وہ بڑھتے بڑھتے وہیں رک گئیں ۔ جہاں سے روڑے اٹکا ئے جارہے تھے عوامی دباؤ اتنا بڑھا کہ وہ خود ہی راستے سے ہٹ  کر راستہ دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب حکراں پریشان ہیں کہ بکریوں کو بچائیں یا بیریوں کو؟ جبکہ نقصان ان لوگوں کا ہوا جن کے پیارے دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ یا معذور ہوگئے۔ ابھی تک حکومت نے ان کی مدد کا بھی کوئی ہمیشہ کی طرح اعلان نہیں کیا ، جیسے کہ ہمیشہ ہو تا تھا اس لیے کہ تعداد بڑی ہے اور بقول شیخ رشید صاحب کے چھاپہ خانوں کی سیاہی بھی  نوٹ چھاپتے ، چھاپتےختم ہو گئی ہے؟ اور نہ ہی کوئی مخیر مدد کے لیے میدان میں آیا کہ انکا مستقبل بھی تابناک نہیں رہا؟ میرے خیال میں دانشمندوں کے لیے بہت کچھ ہے؟ کیونکہ میرا ایک ہی جیسا ہمیشہ حل بتانے سے لوگ  پڑھتے پڑھتے تنگ آچکے ہیں۔ ایک خاتون نے مجھ سے یہ ہی شکوہ کیا؟ایک سفیر نے مجھے لقمہ دیا کہ آپنے پچھلی مرتبہ بھی یہ ہی کہا تھا ، میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ سچ  اور جھوٹ میں یہ ہی فرق ہے کہ سچ وقت کے ساتھ بدلتا نہیں ہے، جبکہ جھوٹ جب بولا جائے ہر دفعہ نیا ہوتا ہے۔

Posted in Uncategorized

مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی

آجکل اس پر بحث چل رہی ہے؟ کہ ان کے پیچھے کون ہے اور مقاصد کیا ہیں ۔ جبکہ میں نے ابھی تک وہ حسنِ ظن کہیں نہیں دیکھا جو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے بارے میں ہونا چاہیئے؟ ایسا کیوں ہے اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں کہ ہم نے سچ بولنا چھوڑدیا ہے جس پر میں روز ہی بات کرتا ہوں ؟لہذا کوئی بھی ان کے خلوص پر یقین نہیں کر رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ اقتدار کی لڑائی ہے کسی نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے۔ ابھی تک مجھے ایک آواز بھی ایسی نہیں ملی جو اس گروہ کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھتی ہو۔ اس سلسلہ میں اب تک پاکستانی حکومت کی جو پالیسی رہی اس میں دونوں پارٹیاں شامل ہیں ۔ کہ انہیں حکومت چلانا ہے لہذا وہ متحدہ کے لیڈر کو ناراض نہیں کر سکتے بلکہ اس سے پہلے کی حکومت نے توایک وزیر کی ڈیوٹی ہی لگار کھی تھی کہ وہ لندن جہاں اسکا کارو بار اور گھر بار بھی ہے باقائدگی سے آتا جاتا رہے اور قائد کی غلط فہمیاں دور کرتا رہے کیونکہ ان دنوں وہ اتنے زود رنج ہوگئے تھے کہ بات بات پر روٹھتے رہتے تھے؟ جبکہ وہ اگر کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرلیتے تو انہیں وہ بتادیتا کہ ہر بچے کی عمر کا کچھ حصہ ایسا ہو تا جس میں ہم سنی کا دباؤ ( Peer pressure) بہت زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ پاکستان کی بد قسمتی تھی کہ وہ جب کراچی میں طالب علم تھے تو اسوقت فارورڈ بلاک کا طوطی بول رہا تھا اور وہ بہک گئے ۔یہ انہیں کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ان جیسے بہت سے اس دور نے پیداکیے مگر سب اپنی عملی زندگی میں ناکام رہے۔ یہ ہی نہیں اس دور میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بھی یہ ہی کیفیت تھی وہاں بھی اس دور میں کوئی نامور آدمی پیدا نہیں ہوسکا ۔ شروع میں الطاف بھائی بھی انہیں میں شامل تھے، پھر وہ اپنے بھائی کے پاس شکاگو چلے گئے اور نہ جانے کیسے ان کے سر پر ہما بیٹھ گیا۔ اور جس طرح پہلے سنا کرتے تھے کہ بزرگوں کی نظر کیا پڑی فلاں کی کایا پلٹ گئی وہ بھی کسی حادثے سے گزرے اور شہرت اور کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ جب الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر مہاجروں پر مسلط کیا گیا تو بھی کسی کو پتا نہیں تھا کہ ان کا مقصد کیا ہے ان کے پیچھے کون ہے؟ چونکہ وہ خود پہلے پیر پریشر کا شکار ہ چکے تھے انہوں نے وہی طریقہ اس دور کے بچوں کے لیے اپنا یاکہ تیتر سے تیتر کا شکار کیا جائے؟ دیکھتے ہی دیکھتے اسی ہزار فارم ان کی وفاداری کے بھر کر کراچی کے بچے اپنی تعلیم چھوڑ کر ان کی طرف راغب ہوگئے۔ کیونکہ انہیں یہ باور کرا یا گیا کہ تمہارے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم کو جو لیڈر حکم دے اسے مانو؟ جب لوگوں میں تجسس پیدا ہوا؟ توانہوں نے اس جال سے نکلنا چاہا تو کوئی ان دیکھی طاقت ان کے ساتھیوں کو نگلنے لگی؟ اس دن سے بچے بتانے لگے کہ اس کاذمہ دار کون ہے مگر کبھی کوئی ثابت نہیں کرسکا نہ کرسکے گا؟
اس تمام معاملے کو سمجھانے کے لیے تھوڑا سا تاریخ میں مجھے پیچھے جانا پڑےگا ؟ جب تک ون یونٹ نہیں تھا مہاجر اور انصار میں کوئی جھگڑا نہیں تھا، سب بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ جب مشرقی پاکستان کے لو گوں نے جنکا تناسب پاکستان میں54 فیصد تھا قربانی دیکر برابری تسلیم کرلی تو اسے ان کے مساوی لانے کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا نا پڑا ؟ لہذا صوبائی دار الحکومت لاہور بن گیا جبکہ اس زمانے میں لاہور تک کا سفر کسی کام کے لیے کرنا بڑا مشکل کام تھا ۔ کہ اسوقت غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص کندھے پر بینگی میں انڈے اٹھائے ہو ئے پیدل ساٹھ ستر میل پیدل جاتا تھا کوئٹہ بیچنے کے لیے  تو چار پیسے ملتے تھے؟ اسی طرح تھر پارکر سے ایک بھوسے کی گٹھری کی شکایت اپنے وڈیرے کے خلاف اس دور میں اپنے حلقے کے ممبر اسمبلی تک پہونچانے کے لیے اس سے بھی زیادہ سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ موقعہ پرستوں کو موقع ملا کہ بے انصافی کریں ۔ جب بے انصافیاں شروع ہوئیں تو ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوئی، مگر اس کا ذمہ دار اکثریتی صوبے کے لوگوں کو سمجھتے تھے جو بدقسمتی سے ویسٹ پاکستان کا دار الحکومت بھی تھا۔ پھر جمہوریت کا بستر ایوب خان نے لپیٹ دیا۔ وہاں ملک امیر محمد خان کی حکومت آگئی جو ون یونٹ کے گورنر تھے۔ ان کی ایک کابینہ بھی تھی اس میں دو ہی وزیر سندھ سے لیے گئے جن میں ایک عبد القادر سنجرانی نواب شاہ سے اور دوسرے محمد خان جونیجو سانگڑھ سے، دونوں ہی پیر پگارا کے نمائندے تھے۔ محمد خان مغربی پاکستان ریلوے کے منسٹر تھے۔ پیر صاحب نے ایک چٹھی دیکر ایک شخص کو ان کے پاس ملازمت کے لیے بھیجا انہوں نے اپنے پاس مہمان ٹھیرایا اور کھلایا پلایا اور جھنڈا لگی کار میں لاہور کی سیر کرائی ، مگر اس سے زبانی کہلا بھیجا کہ سائیں میں یہ ہی کچھ کر سکتا تھا وہ میں نے کردیا ،نوکری دینا میرے بس میں نہیں ہے؟ مختصر یہ کے بے انصافیاں بند نہیں ہوئیں اور بےچینی بڑھتی گئی اسی دوران مشرقی پاکستان الگ ہوگیا بھٹو صاحب کی حکومت آگئی ۔ اس وقت سندھی محاذ سندھ میں ون یونٹ توڑنے کی تحریک چلا رہا تھا طے یہ ہوا کہ بلا تفریق سندھ کے سب باشندے سندھ محاذ میں شامل ہو جا ئیں۔مہاجروں کا ایک نمائندہ اجلاس پہلے نواب زاہد علی خان کی کوٹھی پر ہواجو کہ سب کی نگاہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ پھر عبد المجید سندھی کی زیر صدارت ٹھٹہ میں دوسرا بڑا اجتماع ہواجہاں مہاجروں نے سندھ محاذ میں شامل ہونےکا اعلان کر دیا؟ جو لوگ لڑاؤ اور حکومت کرنے کے عادی تھے انہوں نے انہیں کے برادر نسبتی نواب مظفر حسین خان پر ہاتھ رکھا اور انہوں نے اسکی ٹکر پر پنجاب پٹھان مہاجر محاذبنا لیا؟اور سندھ میں پہلی دفعہ مہاجر سندھی فسادات ہو ئے ۔ زبان کے مسئلہ کوہوا دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی فضا زہر آلود ہوگئی ۔نواب مظفر کی زندگی نے وفا نہیں کی جلدہی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔یہاں مہاجر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اتنے میں ضیاءالحق آگئے اور ان کے زمانے میں الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر راتوں، رات لیڈر بنا دیا گیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے وہ کیا جو میں نے اوپر بتایا؟ ان کے نعروں میں سب سے بڑا نعرہ ان مہاجروں کو بنگلہ دیش سے لانا تھا جو وہاں پھنسے ہوئے تھے۔ بعد میں مہاجر تحریک نواز شریف صاحب کی حلیف ہو گئی؟ اخباری خبروں کے مطابق کچھ ان میں سے پاکستان لا ئے بھی گئے، مگر سندھ نے ان کو لینے سے انکار کر دیا البتہ فیصل آباد کچھ آئے مگر وہاں بھی سخت مخالفت ہو ئی اور نواز شریف صاحب کو پیچھے ہٹنا پڑا؟ کچھ دنوں کے بعد رات گئی بات گئی کے تحت انہیں سب بھول بھال گئے اور حکومتوں پر اِن کے راز کھلتے رہے۔ جب نواز شریف صاحب کی حکومت نے کچھ کر نا چاہا تووہ ہر بات کو جھوٹ کہتے رہے جو ہنوز جاری ہے؟
اب ایک بار پھر کھلے عام کچھ لوگ خم ٹھوک کر کہہ رہے ہیں کہ اور اقبالی بیان بھی دے رہے ہیں ۔ لیکن لوگ اور حکومت دونوں انکی بات پر تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ یاتو وہ پالیسی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، جو ہمیں انگریزوں سے ورثہ میں ملی ہے؟ یا پھر کوئی بھی ان سے بگاڑنا نہیںچاہتا ۔ جبکہ اس پالیسی کا نتیجہ ملک بھگت رہا ہے کہ کراچی تباہ ہوگیا، صنعتیں تنگ آکر یاتو پنجاب چلی گئیں یا ملک سے باہر چلی گئیں ۔ اور ایک عرصہ تک یہ علاقہ ہر قسم کے شر پسندوں کی جنت بنا رہا آخر میں نوبت یہاں تک پہونچی کہ لوگ! ہڑتالوں کی بہتات کی بنا پر بھوکوں مرنے لگے؟ تب کہیں جاکر موجودہ سپہ سالار کو ترس آیا۔ اور انہوں نے اس میدان میں نواز شریف صاحب کے ساتھ ملکر بہت کام کیا ہے؟ جو ابھی نا مکمل ہے ان کے بعد کیا ہوگا اللہ ہی جانتاہے؟
اب آپ پوچھیں گے اس کا حل کیا ہے ؟ جو ماڈرن مسلمان پاکستان میں ہیں وہ تو ڈر کر بات نہیں کریں گے؟ مگر جس اسلام کے نام پر یہ ملک بنا ہے اور جس کے صفحہ اول پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی ۔اور اگر کوئی واقعی مسلمان ہے تو وہ یہ کہہ کر چونکہ عقیدہ کے اعتبار سے مسلمان نہیں رہ سکتا کہ اسلامی قوانیں سے کوئی قانون بہتر ہے؟ ان کے لیے قرآنی آیتوں کی شکل میں حل موجود ہے سورہ 5کی آیت نمبر 34دیکھیئے کہ ” جن لوگوں نے اس سے پہلے کہ قابومیں آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو کہ اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے ” دوسری سورہ 4کی آیت17 ” جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا اور پھر توبہ کرلی تو تمہارا پروردگا ر ان کو بخشے والا اور رحمت کرنے والا ہے ۔ سورہ4 کی آیت نمبر 146ہے “ جنہوں توبہ کرلی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی اصلاح کرلی اور خاص اللہ کے فرمانبر دار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہونگے اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔ یہاں بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر پھر وہی حرکتیں لگیں تو کیا کریں گے؟ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے؟ سورہ نمبر 4 ی آیت نمبر38  “(اے پیغمر) کفار سے کہدیجئے کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو کیے ہیں معاف کر دیئے جائیں گے، اگر پھر وہی حرکات کرنے لگیں (تو وہی سزا دی جائےگی جس کے وہ مستحق تھے) اس آیت میں بعض نکتہ چین یہ نکتہ پیدا کر سکتے ہیں کہ یہ رعایت تو کافروں کے لیے ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام علماءاور فقیہ اسپر متفق ہیں کہ انسان جب گناہ کر تا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا بلکہ حالت ِ کفر میں ہو تاہے۔ کیونکہ اللہ کو حاضر اور ناظر (نگراں) مانتے ہو ئے کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتا؟ اس کے لیے تھوڑی سی قانون سازی کی ضرورت ہوگی جوکہ جوکہ نواز شریف صاحب کے لیے اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ورنہ یہ سب اسی طرح مارے جاتے رہیں گے۔ جیسے پہلے والے جیسے وہ دو سوپولس آفیسر، نامہ نگار وغیرہ وغیرہ اور کبھی جرم ثابت نہیں ہو گا اور ملک اسی طرح تباہی کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ لہذا میری حقیر رائے میں ایک مرتبہ انہیں آزمالینے میں کوئی حرج نہیں ہے ،کیا پتا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کا ضمیر بیدار کردیا ہو

Posted in Uncategorized

عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔ شمس جیلانی

عبرت سے دیکھیے کہ مجھے  عبرت نگاہ ہوں
کیوں دیکھتے ہیں رشک سے زاغ و زغن مجھے
حافظ وہ عندلیب ہوں گر  اڑ گیا تو پھر
ڈھوندا کریں گے پھول چمن در چمن مجھے
حافظ غازی آبادی کا یہ قطعہ آج ہماری یاد داشت میں نہ جانے کیوں آگیا ، مدت ہوئی کہ حافظ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مگر وہ ایک قطعہ چھوڑ گئے ہیں جو کہ آج بھی زندہ ہے اور ان کو بھی وہ زندہ رکھے ہو ئے ہے۔ اس سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کبھی خود کو ناقابل ِ شکست نہ سمجھے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ر ہے اور اچھی بات کہتا رہے۔ انہوں نے کون جانے کہ کس پر رکھ کر یہ قطعہ کہا ہو ممکن ہے کہ شاہ ایران کو دیکھ کر کہا ہو کہ انہیں اپنے وطن میں بہادر شاہ ظفر کی طرح جگہ نہ مل سکی یا پھر اپنے ہی اوپر رکھ کر کہا ہو کہ شاعروں کی مشاعروں میں تو واہ واہ ہوتی ہے مگر انہیں خود فارغ البالی کم ہی نصیب ہوتی ہے ممکن ہے انہوں نے آج کے زمانے کے بہت سے فرعونوں کی زبوں حالی دیکھ کر کہاہو؟اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب مشاعرہ میں ان کے کسی شعر پر واہ واہ ہو رہی ہو اور خود ہی اللہ سے ڈرکر کہاہو؟کہ کب کوئی ان کی کہی ہوئی بات دہرادے اور ڈرنے والے پڑھ کرخدا سے ڈرجائیں اور ان کے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں اس طرح بڑھتی رہیں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ “ انسان کے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں ایسی بھی لکھی ہوئی ہونگی جنہیں وہ جانتا بھی نہیں ہو گاکہ وہ اس نے کب کیں؟ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ بات کہے تو اچھی ، عمل کرے تو اچھا بولے ،تو سچ اور لکھے تو سچ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ہر حال میں ڈرتا رہے ؟ کیونکہ اعمال نامہ مرنے کے ساتھ ہی بند نہیں ہوتابلکہ قیامت تک چلے گا صرف روز معینہ پر اس دن بند ہوگا جب سب کے بند ہونگے اس کے لیے ملاحظہ فرمائیں وہ آیت جس میں ذکر ہے کہ کچھ کو سیدھے اور کچھ کو الٹے ہاتھ میں ان کے نامہ اعمال تھمائے جائیں گے؟ اس وقت دونوں کی جو حالت ہوگی وہ بھی قرآن میں وہیں موجود ہے؟ کہ“ جنہیں سیدھے ہاتھ میں اعمال نامے دیے جائیں گے وہ اپنے جاننے والوں کو فخر سے دکھاتے پھر رہے ہونگے اور جن کو الٹے ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ کمرکے پیچھے ہاتھ کیے چھپائے پھر رہے ہونگے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے “ اگر اس کو کوئی سمجھنا چاہتا ہے تو فرق کو اس سے سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک کو مرتے دم تک اپنا اپنا بچپن ضرور یاد رہتا ہے۔ جبکہ اسے بڑھاپا پکڑ لیتا ہے تو اللہ اس دور میں اسکی تمام صلاحتیں خوصاً یاداشت بعض اوقات با لکل ہی ختم کر دیتا ہے مگر بچپن اور جوانی کی یاداشتیں باقی رکھتا ہے۔ تاکہ اپنے پہلے دو ادوار یعنی بچپن اور جوانی کی حرکتوں کو یاد کر کے اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے مزید شرمندہ ہو؟ یہ بھی دنیاوی حقیقت ہے کہ آج جو بڑے شاعر یا ادیب ہیں، وہ بچپن میں کسی پھول جیسے بچوں کے رسالے میں لکھتے رہیں ہیں۔ کیونکہ شاعر یا ادیب پیدائشی ہو تا ہے اور اس مرحلے سے سبھی گزرکر بڑے مرتبے پر پہونچتے ہیں! کہ پہلے ان کی کاوشیں ایڈیٹر کی ردی کی ٹوکری کھاتی رہتی ہے پھر جاکر کوئی شائع ہو تی ہے اور وہ اسوقت وہ اسے ہاتھ میں لیے سب چھوٹے بڑوں کو دکھاتے پھر تے ہیں کہ دیکھے یہ میرا مضمون یا نظم شائع ہوئی ہے۔ پھر ایک دور آتا ہے کہ اسے بھول جاتے ہیں۔اور خود کو آسمان کی بلندیوں پر سمجھتے ہیں اور بجائے شکر کے دوسروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ اپناوہ زمانہ بھول جاتے ہیں جب تک مضمون چھپ نہیں رہے ہوتے ہیں بڑوں سے چھپ کر لکھتے ہیں، اگر بڑے سامنے سے آتے ہوئے نظر آجائیں تو وہ ہاتھ کمر کے پیچھے کرلیتے ہیں کہ ڈانٹ پڑے گی ،کہ وقت کیوں بربادکرتے ہو؟ مگر یہ سب باتیں ان کے لیے ہیں جو عاقبت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے ہیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو دل گہرائیوں سے مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے ہیں یا دکھاوے کے لیے مانتے ہیں ان کے لیے کچھ نہیں؟ اس طویل تمہید کے بعد اب ہم آپکو بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ قطعہ کیوں یاد آیا اور نتیجہ میں یہ تمہید کیوں پیش کر نا پڑی؟
اس کی وجہ تھی کچھ خبریں جو ہم نے کل اخبار کھولا تو پڑھیں؟ ایک تو یہ تھی کہ سابق صدرِ پاکستان مرد آہن جناب مشرف صاحب کو دردِکمر کےعلاج کے لیے باہر جانے کی اس حکومت سے اجازت مانگنی پڑی وہ اس عدالت کی مہربانی سے مل بھی گئی جس کو کبھی انہوں نے بر طرف کرنے کا شرف حاصل کیا تھا اگر وہ ان کا نام ایکز ٹ لسٹ میں ڈال کر بھول جاتی تو کیاکرتے لیکن اس نے اپنا فرض منصبی یعنی انصاف ہاتھ سے نہیں چھوڑا؟ حالانکہ دور بدل چکا تھا بڑافرق تھا کہ کل وہ حکمراں تھے، آج وہی حکمراں ہے جس کا انہوں نے تختہ الٹ دیا تھا اور پھر اس کے پورے خاندان کی جلا وطنی پر وہ راضی ہوئے تھے۔ اور انہوں نے ڈٹ کر حکومت کی ؟ ایسی حکومت کہ سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے تھے۔حتیٰ کہ جنہوں نے انہیں سیاہ اور سفید کا اختیار دیا تھا ان کو بھی نہیں بخشا؟ نہ جانے پھر کیا ضرورت پیش آئی کہ اسی خاندان کواور اس کے مخالف دوسرے خاندان کو واپس لائے جن کے بارے میں وہ فرماچکے تھے کہ یہ دونوں اب کبھی پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتے؟وہ داخل بھی ہوئے اور یہ اپنی خوشی سے ان کی واپسی اور ترقی میں زینہ بنے اور بعد میں انہوں نے خود قیدو بند کی صعوبتیں جھلیلیں۔ یہ کیسے ممکن ہواپتہ نہیں؟ اور لوگ اس کی توضیح کیسے کریں گے معلوم نہیں ۔ مگر ہمارے پاس ایک جواب ہے جوکہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشادِگرامی ہے کہ ہم یہ الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں “ اور دوسرے جگہ فرمایا کہ “ہمارے ہر کام میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں “
پھر دوسری خبر دیکھی اس میں پڑھا کہ ایک صاحب جو آجکل اپنے رہنما کے خلاف مصروف عمل ہیں ان کے دروازے پر اس رہنما کے چند وفاداروں نے مظاہرہ کیا؟ پھر ہمیں ان کا بھی دور شباب یا د آگیا،ا للہ کی شان کہاں ان کے مخالف کوزمین پناہ نہیں دیتی تھی ان کے پاس ٹڈی دل جیسی کارکنوں کی فوج تھی، مگر اب صرف چند نفوس ان کی حمایت میں رہ گئے ہیں؟
پھر تیسری خبر پڑھی کہ تیرہ سال سے گورنر اوران سارے لیڈروں کے قریبی ساتھی ،جتنے معاہدے اس دورمیں ہوئے وہ اس میں شامل بھی وہ بھی آج اٹھارویں ترمیم سے شاکی ہیں جو اس ارشاد کی شکل میں ظاہر ہوا کہ “ اٹھارمیں ترمیم جیسی کوئی چیز پھر آنے والی ہے ً عجیب بات ہے کہ ہر ایک اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے؟
یہ ہی شکایت اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان سے ہے جو اس کے صحیح معنوں میں بندے نہیں ہیںوہ فرماتا ہے کہ “ اگر کوئی بندہ اپنی حقیقت کوجاننا چاہے تو وہ جان سکتا ہے کہ وہ کن کن مرحلوں سے گزرا اور کیسے بنا ،پھر جب میں اسے جوانی دے دیتا ہوں تو مجھ سے ہی جھگڑنے لگتا ہے ً پھر دوسری جگہ فرماتا ہے “ پھرمیں اسے اسی حالت میں پہونچا دیتا ہوں کہ جہاں سے اس نے اس دنیا میں آنے کے بعد ابتد اکی تھی کہ وہ دوسروں کامحتاج تھا۔(اس دور کو اس نے عمر ِارذل سے تعبیر فرمایا ہے)۔ یہ تماشہ انسان اپنے چاروں طرف روز دیکھتا ہے مگر وہ تائب نہیں ہوتا؟ جب کہ میں قرآن میں کہہ چکا ہوں کہ جو شکر کرتا ہے اس کو زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتا ہے اس کے لیے میرا عذاب بھی شدید ہے؟ پھر بھی لوگ نمرود، فرعون، ہامان، قارون ، ابوجہل اور ابو لہب بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان جیسا بننا چاہتے ہیں جن کے انجام انہیں معلوم ہیں ؟ جبکہ انہیں یہ معلوم ہے کہ قارون کا انجام کیا ہوا؟ ایک دن پہلے جو لوگ اس جیسا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے اپنی ناسمجھی کی بنا دعاکر رہے تھے۔ دوسرے دن اس کا انجام دیکھ کر شکر ادا کرتے نظر آئے کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں اس جیسا نہیں کیا، ورنہ ہم بھی زمین میں آج دھنس چکے ہوچکے ہوتے ۔ چونکہ حضور (ص) کے بعد نبوت ختم ہوچکی ہے اب وحی نہیں آرہی ہے لہذا ہم دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتے مگر جنہوں نے ابولہب دیکھا کے مثل ایک لیڈر کو ایسی ہی بے بسی کی حالت میں دیکھا ہے کہ اسکی رہائش گاہ سے تعفن اٹھ رہا ہو کوئی اندر نہیں جاسکتا ہے سوائے میڈیکل عملے کہ،دنیا منتظر ہے کہ کیا اسکی میت بھی بجائے دفن کرنے کے کچرے کے ڈھیر پر پھینکی جائے گی اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اسکے بہی خواہوں پر کیا گزرے گی۔ شاید اسوقت اس کے آلہ کار بننے والے اپنی کرنی پر پچھتا ضرور رہے ہونگے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم بجائے دنیا کی ان نعمتوں کے پیچھے بھاگنے کے، جو اللہ کے پاس اس کی خوشنودی کے صلے میں نعمتیں ہیں ان کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) بجائے نفس اور شیطان کی پیروی کے جہاں کی زندگی وہاں کی زندگی کے مقابلہ میں مچھر کے پر جتنی بھی نہیں ہے؟

Posted in Uncategorized