سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
سیرت سے پہلے دعا کیوں ضروری ہے(۱)
قارئین ِ گرامی۔ اب ہم ان ﷺکی سیرت پڑھنے جا رہے ہیں جو کہ ہما رے لیئے مشعل راہ تھے، ہیں او ررہیں گے۔ اور یہ سیرت لو گوں تک پہنچانے کے لیئے میں نے پانچ سال عرق ریزی اس لیئے کی ہے کہ لوگ اسے صرف پڑھیں یا سنیں ہی نہیں بلکہ عمل بھی کر یں۔اگر عمل کر نے کا ارداہ نہیں ہےتو پھر پڑھنا اورکسی سے سنناسب بے کار ہے۔یہ جبکہ سورہ ان کے لیئے آواز میں بھی سی ڈی کی شکل میں جو اردو پڑھ نہ سکیں۔ اس سے پہلے کہ ہم سیرت کی طرف بڑھیں اللہ جلِ شانہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ان ﷺکے راستے پر چلنے کی تو فیق عطا فر ما ئے جن کے اسوہ حسنہ ﷺ کو ہمارے لیئے کافی فرمایا(آمین)۔ اس کے بعد جوحضو رﷺ ہمیں مانگنے کا طر یقہ بتا گئے ہیں وہی ہم اختیار کرتے ہیں۔ کیو نکہ دعا کر نا اس لیئے بھی اس وقت ضروری ہے کہ پو ری امت مشکلا ت میں گھری ہو ئی ہے اور کو ئی کنا رہ یا ملاح نظر نہیں آرہا ہے۔ بس صراط ِ مستقیم پر واپس آنے کے لیئے ایک ہی طر یقہ بچا ہے کہ اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگی جا ئے کہ وہ ہمیں اپنی کتاب اور اپنے پیا رے نبیﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے اس عذاب سے نجا ت دے جو ہما ری شامت ِ اعمال کی وجہ سے آیا ہوا ہے۔ ممکن ہے بہت سے لوگ یہ کہیں کہ اس کو آپ عذاب کیسے کہہ رہے ہیں، اور شامتِ اعمال کیوں ہے؟ ان کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آیت نمبر ۶۳ سورہ الا نعام کی تفسیر جو کہ ابن ِ کثیر ؒنے کی ہے دیکھ لیں۔ جس میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر ما یا کہ ًمیں تمہا رے اوپر آسمان سے عذاب نا زل کر نے پر قادر ہوں اور زمین کے نیچے سے بھی اور اس پر بھی کہ تمہیں فرقہ ، فرقہ کر کے لڑا دوں ً اس پر حضو رﷺ پریشان ہو گئے اور مسجد نبوی ﷺ سے باہر تشریف لے گئے۔بستی ِ بنو بکر کے قریب ویرانے میں جاکر سر بہ سجدہ ہو گئے۔صحا بہ کرام ؓ بھی پیچھے پیچھے چلے،وہا ں جا کر حضورﷺ نے ایک طویل نماز ادا فر ما ئی صحابہ کرام ؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب سلام پھیرا تو لو گوں نے پو چھا کہ حضو رﷺ پہلے تو کبھی آپ نے (دن کے وقت) اتنی لمبی نماز نہیں ادا فر ما ئی آج کیا با ت ہے؟حضورﷺ نے فر مایا کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو میں ﷺ امت کے لیئے بے چین ہو گیا اور اللہ تعا لیٰ سے درخواست کی کہ میری امت پر یہ عذاب نا زل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری ﷺیہ در خوست تو مان لی کہ حضرت لوط ؑ کی امت کی طرح اوپر سے اور حضرت نوح ؑ کی امت کی طرح نیچے سے عذاب نہیں آئے گا، مگر فر قہ واریت کے با رے میں فر مایا کہ یہ تو اس امت کا مقدر ہو چکی ہے۔ پھرصحابہ کرام ؓ سے فرمایاکہ تمؓ لوگ مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں۔انہوں ؓ نے کہا کہ حضو رﷺ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پا س قرآن ہے اور آپﷺ کی سنت بھی۔ فر مایا مجھے ﷺبتایا گیا ہے کہ تم اسے پس ِ پشت ڈالدوگے۔ اور میں سرداروں سے ڈرتا ہو ں، کہ ایک مر تبہ جو تلواریں میانوں سے نکل آئیں تو پھر قیا مت تک واپس نہیں جا ئیں گی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرقہ پرستی سے اظہار ِ بیزاری فر ماتے ہوئے حضو رﷺ سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ً اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو تمہارا فر قہ پرستوں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے ً اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب ہے۔ اب اس کاجواب کہ یہ شامتِ اعمال کیوں ہے؟ اس کے لیئے پہلے یہ کچھ آیات جس سے یہ معلوم ہو جا ئے گا کہ اسلام اور ایمان وہ نہیں ہے جوہم سمجھتے ہیں۔ال م ہ احسب الناس ان یترکواان یقولوااٰمناوہم لایفتنون ہ۔ کیا لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ ہم صرف ان کے منہ سے بول دینے سے کہ ہم ایمان لا ئے انہیں چھو ڑ دیں گے؟ پھر دوسری آیت میں ملاحظہ فر مائیے۔کیا تم سمجھتے ہو (کہ) جنت میں داخل ہو جا ؤگے اللہ کے یہ معلوم کیئے بغیر کہ (اسکی راہ میں) صبر کرنے والے اور(ہر قسم کا) جہاد کر نے والے کون ہیں؟پھر خو شخبری ہے مگر وہ بھی ایمان سے مشروط ہے۔ ًتم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہوتم غالب رہو گے اگر صاحب ِ ایمان ہو ً(سورہ آل ِ عمران۔۱۴۱اور۸۳۱) اس سے یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں؟ کیونکہ یہاں دوچیزیں ہیں کہ آزمائے جا ؤگے، جو امتحان میں پاس ہو جا ئے وہ کا میاب؟۔ دوسری بات یہ ثابت ہو ئی کہ ہم نے منہ سے کلمہ پڑھ لیا تو یہ کافی نہیں جب تک عمل نہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آگے دیا ہے آیت ۷۴۱ میں۔ ًوہ غلطی کر بیٹھیں تو اپنے رب سے مغفرت طلب کر تے ہیں ًپہلی قوموں پر بھی ایسا وقت آیا ہے۔ مگرانہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے سن لی اور عذاب ٹل گیا۔جیسے کہ حضرت یو نس ؑ کی امت کہ اس نے حضرت یونس ؑ کے چلے جا نے کہ بعد عذاب سامنے دیکھا اور تائب ہو کر دعا کر نے لگی کہ۔یا اللہ عذاب ٹال دے ہم تیرے نبی ؑکا اتبا ع کریں گے۔اور اللہ تعا لیٰ نے عذاب ٹال دیا۔ حضرت یو نس ؑ کی تلاش شروع ہو ئی۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس چھو ٹی سی لغزش کی بناپر کہ وہ صبر نہ فرما سکے اوراللہ کی مشیت کا انتظار نہ فر مایا۔ایک عرصہ تک مچھلی کے پیٹ میں رکھا،پھر اپنی بستی کی طرف واپس تشریف لے جانے کاحکم فر مایا۔ اور انہوں ؑنے امت کی پھر سے رہبری فر مائی۔ لہذا ہمیں بھی وہی طر یقہ استمال کر نا چا ہیئے کہ تو بہ کر یں۔ کیونکہ قبول ِ دعا کے لیئے تو بہ شر ط ہے۔ لہذا پہلے آئیے توبہ کر یں پھر دعا۔ مگر افسو س یہ ہے کہ توبہ توجب کو ئی کر تا ہے کہ اس کو یہ احساس ہو کہ وہ غلطی پر ہے۔ جب کہ ہما ری قوم یہ ما ننے کو ہی تیا ر نہیں ہے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ جب یہ صو رت ِ حال ہوتو پھر یہاں وہی مصرع صادق آتا ہے کہ احساس زیا ں جا تارہا ً لہذا آپ سے در خو است ہے کہ ان میں سے نہ ہو ں۔بلکہ ان میں سے ہوں جو امتیں نجات پاگئیں۔ وہا ں تو یہ ہوا کہ اگر نبیوں ؑسے بھی بھو ل ہو ئی تو وہ کہہ اٹھے ً ظلمت نفسی ًیعنی ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔اور اے اللہ! ہمیں معاف فرمادیجیئے، جیسا کہ حضرت آدم ؑ سے لیکر ہر ایک نے کیا۔اور اسی لیئے اس سے پہلی امتوں کے نبیوں ؑنے ایسے موقعہ پر جو کچھ فر مایا، وہ قرآن نے محفوظ کر دیا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی وا حد امت ہیں کہ جہا ں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جینے کے تمام اصول اور آداب سکھا ئے۔ وہاں دعا مانگے کے لیئے پو ری ایک سورت عطا فر ما دی۔جو ہم پڑھتے تو ہر نما ز میں ہیں۔مگر نہ اس کی عظمت جا نتے ہیں نہ معنی اور نہ ہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہذا فا ئدہ ہو تو کیسے ہو!یہ با لکل اسی طرح ہے کہ آپ ڈا کٹر کے یہا ں گئے۔دوا تجویز کرا لی اور با زار سے خرید بھی لا ئے۔ مگر اس امید پر طا ق میں رکھدی کہ اس سے مر ض دور ہو جا ئے گا؟ہم نے بھی قر آن اور اس کی سورتوں کے ساتھ یہ ہی کیا ہوا کہ یہ بغیر عمل کیئے فا ئدہ دے گا! میں یہ پو چھنا چا ہونگا کہ بغیر دوا پیئے کیا دوا فائدہ دیتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا بغیر عمل کیئے کو ئی مسلما ن، مسلمان کہلانے کا حقدار ہے۔ جو اب آپ پر چھو ڑ تا ہوں۔ بس ایک در خواست کر تا ہوں کہ ایک دفعہ سورہ فا تحہ خلو ص دل سے پڑھ لیں۔ شاید وہ قبو لیت کی گھڑی ہو اور اللہ تعالیٰ کو رحم آجا ئے۔ کیو نکہ وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ اگر تا ئب ہو کر میرے پا س پہاڑ کے برا بر گنا ہ لے کر آئے تو بھی میں معا ف کر دونگا۔یہ وہ سورہ ہے جو اللہ سبحا نہ تعالیٰ کا امت پر انعام ہے۔جو حمد بھی ہے اور عرض ِ مدعا کا طر یقہ بھی ہے۔ آئیے پڑھیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ الحمدللہ ِ رب العا لمین ہ الرحمٰن الرحیم ہ مالک ِ یو م الدین ہ ایا ک نعبد وایاک نستعین ہ اھد نا الصراط المستقیم ہ صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین (آمین) ترجمہ با محاورہ۔ شروع کر تا ہوں اللہ کے نام سے جو انتہا ئی رحیم ہے۔ اور تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیئے ہیں۔جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔اور یوم قیامت کامالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنما ئی فر ما۔ ا ُ س راستہ پر چلاجس پرچل کر کے ان پر تیری رحمت نازل ہوئی، ان کے را ستہ پر نہیں جن پر تیرا غضب نا زل ہوا (آمین)۔ یہ بظاہر سات آیا ت ہیں بہت ہی صاف اور سیدھی ہیں۔مگر ان کو ہی قرآن کا آپ مقدمہ یا خلا صہ کہہ لیجئے۔یا پھراسلام کا پورا منشور۔ حضورﷺ نے اس کو ام القر آن فرمایا ہے۔ عربی میں کسی چیز کی ابتدا یا اساس (بنیاد) کو ام کہتے ہیں جیسے مکہ معظمہ کو ام القریٰ یعنی دنیا کی بستیوں کی ماں۔اور یہ قرآن میں ترتیب کے حساب سے پہلی سورت ہے۔ حضور ؓ نے سوائے سورہ تو بہ کے ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ لکھوا ئی ہے۔ اس کی وجو ہات مفسرین نے مختلف لکھی ہیں۔ کچھ نے تو کہا کہ چو نکہ اس میں کفا ر سے بیزاری فر ما ئی گئی ہے اس لیئے یہ بسم اللہ سے شروع نہیں ہو ئی۔ کچھ نے کہا۔ یہ پچھلی سورت کا تتمہ ہے اوریہ خو د سورت نہیں ہے اس لیئے اس میں بسم اللہ نہیں لکھو ائی گئی۔ دونوں ہی با تیں اپنی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔ اگر اس گروہ کی با ت مان لی جا ئے کہ اس میں کفا ر سے برا ء ت کا اظہا ر ہے۔ تو آپ یہ دیکھئے کہ ایک سوچو دہ سورتوں میں سے ایک سو تیرہ میں اللہ تعالیٰ نے صر ف اور صرف رحم رکھا ہے۔اس ایک میں نہیں ہے جس میں دو صفات قہا ری اور جبا ری کا ا ظہار ہے۔ جبکہ ایک سو تیرہ میں رحمت کی نوید ہے۔ اس سے اسکی وہ بے انتہارحمت ظا ہر ہوتی ہے۔ جس میں اس نے فر ما یا کہ میں نے اپنے اوپر ر حم واجب کرلیا ہے میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں،بس تم میری (بات)مان لیا کرو ً یعنی ایسے کام مت کرو جو میری نا را ضگی کا با عث ہو ں! کتنا پیار ہے اس آیت میں اپنے بندوں کے لیے!

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں

(422 – 367) قطعات شمس جیلانی

367
سچائی دوست۔۔۔ شمس جیلانی

چمکتے نظر آئے ستارے مگر معدوم روشنی
گرصادق کو ئی ملا تو کی ہم نے دوستی
سچ جس کو کہ سمجھا سدا بات وہ کہی
فاسق اور فاجرو ں سےکبھی اپنی نہیں بنی

368
وہﷺ ۤآے بہار آگئی۔۔۔ شمس جیلانی

جن ﷺکےآنے کی خبر تھی وہ آ ئے مہماں ہوئے
کل جہاں والے انہیںﷺ دیکھ کر حیران ہوئے
سو کھے صحرا میں بھی ہوتے پھر بارش دیکھی
ان ﷺ کے کردار کو دیکھا لاکھوں ہی مسلمان ہوئے

369
دور ِ رحمت کی بات کریں کیا۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس دور کی باتیں کیا کہناجب حق تعالیٰ مہر با ن ہوئے
سعادت عطا کی دنیا کو جب پیدا کاملﷺ انسان ہوئے
بو بکر و عمرجس میں پیدا اور حضرت علی عثمان ہوئے
ہر کان میں قرآں گونجے تھاجب پیدا حافظِ قرآن ہوئے

370
دورِ فرمانبرداری میں انعامات۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب ہم صاحبِ فہم ہوئے طابع فرمان ہوئے
جو بھی آئے اس دور میں سارے ذیشان ہوئے
ایک دو ہوں تو میں نام گنا ؤ ں اے شمس
ان کی گنتی ہے نہیں جو صاحبِ عرفان ؒہوئے

371
تقاضہِ غیرت۔۔۔ شمس جیلانی

سارے دینوں میں دیں ہمارا ہے
جان و جی سے وہ ہمیں پیارا ہے
جان جا ئے شمس تو چلی جا ئے
جوآنچ آئے نہیں ہمیں گوارا ہے

372
میرا رازِ مقبولیت۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ مجھ سےمحبت کرتا ہے سرکارﷺ محبت کرتے ہیں
اس واسطے لوگ ہیں جا ں دیتے مجھ پر مرتے ہیں
میرے لب پر برائی آتی نہیں،نہ میں برائی کرتا ہوں
نہ انکی مذمت کرتا ہوں نہ میری مذمت کرتے ہیں

373
ہوس سے دور رہو۔۔۔شمس جیلانی

اگرنہ گالی دو نہ گالی کھا ؤگے تم
پھر امن سے چین سے سو جا ؤگے تم
ہوس پالی کھوپڑی بھرتی نہیں ہے
تو اسی کو بھرتے بھرتے مرجا ؤگے تم

374
انسان اور شیطان میں فرق۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہ قابلِ ستائش ہیں جو انسانوں کے انساں کام آتے ہیں
وہ شیطاں ہیں جو انسانو ں کو آپس میں جا کرلڑاتے ہیں
یہ ناشکرے ہیں نہیں یہ لوگ انسان کہلانے کے قابل ہیں
اسی برتن میں چھید کرتے ہیں جہا ں پر کھانا کھاتے ہیں

375
اعترافِ کم علمی۔۔۔ شمس جیلانی

کیا کیا گناؤں رحمتیں اس اللہ رحیم کی
کیسے ثنا کروں میں اس ربِ کریم کی
جس کی مصلحتیں ہیں ہے جانتا وہی
بشر تفسیر جانتا نہیں محمدﷺ کےمیم کی

376
جب تک جان تب تک اڑان۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب تلک چلتے رہوجب تک جسم میں جان ہے
یہ نہ بھولوتم کبھی بیٹھا تاک میںشیطان ہے
ہے شمس تھک لیٹ جانا مردانگی ہر گز نہیں
یاد رکھو ایک دن تو دیکھنا حشر کا میدان ہے

377
نیرنگی ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی اجداد ان کے اٹھے تھے بننے ملت کے امام
بدعت کے نام پرکر گئے مزارات کا قصہ ہی تمام
شہر اب یہ بسانے جارہے ہیں اک بطورِتفریح گا!
کرکے یہ جا ئیں گے کیا پیدا بزرگوں کا اپنے نام

378
جنت کے حصول کا واحد راستہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہر دروازہ بند کردیا رب نے ہر بحث ِ فضول کا
دیکر کے حکم اتباع میرا اور میرے رسول ﷺکا
اس سے ذرا ہٹے تو بھٹک جا ؤگے تم بھی شمس
ہےاللہ نے راستہ بتایا یہ ہی جنت کے حصول کا

379
سب سے بڑا عیب تکبر۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ میرے نزدیک ہودنیاتیری یہ مٹی کا کھلونا
رب تیری مرضی پہ جیؤں میں ہو مرا اٹھناو سونا
تکبر میرے پاس نہ پھٹکے کہ چادر ہے تیری وہ
سب سے بڑاعیب ہےانسان کا مغروربھی ہونا

380
یاد رکھوکمانا کھلانامرد کے ذمہ ہے۔۔۔ شمس جیلانی

بہو ہو یا کہ بیٹی ہو حقیقت جو بنا تی ہے کوئی سپنا
پھرگھر آکر کے پہلا کام ہو مالک کا اپنے نام بھی جپنا
گھر بھی جو چلاتی ہے جو باہر کام کرکے مال لاتی ہو
اسےمحسنہ اپنی تم جانوجتا تی بھی نہ ہو احسان وہ اپنا

381
اس مسئلہ پر حضور ﷺ کا فیصلہ ۔۔۔۔ شمس جیلانی

کہا سرکار ﷺنے جو مومنہ گھر پر اپنے خوشی سے خرچ کرتی ہے
جوگھر پر جان دیتی ہے اپنے شوہر پر اوربچوں پر بھی وہ مرتی ہے
“ ہے دہرے اجر کی مالک اک راہ خدا میں خرچ کرنااور صلہ رحمی“
یہ ہی فیصلہﷺجب زوجہِ عبد اللہ بن مسعود(رض) استفسار کرتی ہے

382
دو اشعار۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب اپنا تا ہے نہیں کوئی رستہ اصول کا
نقشہ بگڑنے جا رہا ہے عرض و طول کا
دامن بچا کے چلیئے الجھ جا ئے نہ کوئی
کہ خطر ناک ہوگیا ہے ہر کانٹا ببول کا

383
قابلِ ستائش لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانیی

قابل ِستائش ہیں رہ کے دنیا میں دین کا کام کر تے ہیں
رب راضی ہے ان سے تواچھے لوگ بھی اکرام کرتے ہیں
خرچ کر تے ہیں جوراہِ خدا میں جتاتے نظر آتے نہیں وہ
شب کو جاگتے زیادہ ہیں اوردن میں کم آرام کرتے ہیں

384
ہوشیار ، ہوشیار۔۔۔ شمس جیلانی

با زار میں زہر بھی ہے اور موجود ہیں منشیات
ہے تمہارے واسطے بس مقدم مگر اللہ کی بات
نہ تم دوست کی مانو نہ معتبرمانو میری ذات
تم پر لازم ہے خریداری سے اول خود کرو تحقیقات

385
ہوشیار ! ہوشیار (2) ۔۔۔ شمس جیلانی

مشروبات کے گلاسوں پر کچھ بھی لکھا ہوتا نہیں
دین وصحت کوئی عاقل اس طر ح کھوتا نہیں!
ہوشیار! ہوشیار! ہوجا ؤ اب اےمردِ عاقل ہوشیار
نیند کا شوقین ہو کتنا کوئی اسطرح سوتا نہیں

386
انا توبہ میں مانع ہے۔۔۔۔ شمس جیلا نی

نافرمانیاں کرکے اپنی شامتِ اعمال بلائی ہم نے
بھیجا تھا عقبیٰ بنانے صرف دنیا ہی کمائی ہم نے
دعوے کرکے بلاتین کیں، چوتھی بھی بلا ئی ہم نے
پر توبہ نہیں کرکے ,ہمیشہ ہی بات بڑھائی ہم نے

387
کیا رب سے اپنے ہے پیار نہں۔۔۔ شمس جیلانی

موت سے ہے کسی کو فرار نہیں مگرکیجئے اس کا انتظار نہیں
نیک کاموں میں دیر مت کیجئے کیا رب سے اپنے ہے پیار نہیں

388
خدا کو مانو! خدا کی مانو۔۔۔۔ شمس جیلانی

خدا کو مانو خدا کی مانو کوئی اس سے زیادہ معتبر نہیں ہے
جھوٹے لوگوں کے جھوٹے وعدے کب وہ مکریں یہ خبر نہیں ہے
لکھا ہے قر آں میں رب نے یہ کہ دیں میں کوئی جبر نہیں ہے
پھر بھی کرتے ہیں جبر جوکہ شایدان کو اس کی خبر نہیں ہے

389
حضورﷺ کے قدموں کی برکت۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وقمر ستارے ہیں مظہر اللہ کے نور کے
پہلے بہت دن چرچے رہے موسیٰ ؑاور طور کے
معراج کیا عطا ہوئی چرچے ہیں اب حضور ﷺ کے
جو ﷺ آ کر آثار ہی مٹا گئے کل فسق و فجور کے

380
عید الا لضحیٰ مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمانوں کے واسطے یہ عیید ِسعید ہے
گونج اٹھتی ہے اللہ اکبر سے فضا شمس
جس کا صلا بہت ہے مزید و مزید ہے
گونجتا ہو آسماں بھی نہیں یہ بعید ہے

381
مہربانی رب کی۔۔۔۔ شمس جیلانی

جو میرے دل کی حالت ہے تجھ پرآشکارا ہے
کیابتاؤں رب میرے !توکتنا مجھ کو پیارا ہے
شمس کیوں نہ ہی ہمیشہ تجھ پر نازے کرے
جبکہ رکھا اچھااسے ہر نوک و پلک سنوارا ہے

382
ڑکر کبھی دیکھو میں لڑائی نہیں کرتا؟ شمس جیلانی

میں اپنے ہی منہ شمس اپنی بڑائی نہیں کرتا
تم لڑکر کے کبھی دیکھو میں لڑائی نہیں کرتا
ویسے بشر ہوں کرسکتا ہوں غلط کام میں بھی
اللہ منع کر دے جسے میرے بھائی نہیں کرتا

383
مالِ حرام مقبولِ بارگاہ نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

جو دولت گاڑھے پسینے سے کمائی نہیں ہوتی
وہ کبھی بھی وہاں مقبول ِبارگاالٰہی نہیں ہوتی
اس روز کی ذلت سے بچو نہ بندوں پر کروظلم
کسی ظالم کی اس دربارسے رہائی نہیں ہوتی

384
وہ بد نصیب ہیں؟ شمس جیلانی

وہ بد نصیب ہیں جنت ہے جن کا گول نہیں
ملتی ہے جو خلوص پر لکھا ہے کوئی مول نہی
ملا کرے ہے یہ رحمت سے اور انکساری سے
چلئےاکڑ کی چال نہیں اور بولیں بڑا بول نہیں

385
قیدی نہ بن سکو گے ۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ فقرے گراہ میں باندھ لو اس ادنٰی فقیر کے
سیدھے چلے چلو اسوہ حسنہﷺ پر مثلِ تیر کے
پھر اللہ ہر قدم پر نصرت کرے گا اس طرح
قیدی نہ بن سکوگے تم کبھی اپنےضمیر کے

386
کمال ِ عروج و زوال۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے بچپن میں ظالموں کو ستم ڈھاتے دیکھا
انگریزگئے جب ان کو بھی دکان بڑھاتے دیکھا
شمس لوگ سمجھتے ہیں زمانہ رہےگایکساں
تخت نشینو کو بھی پستی میں جاتے دیکھا

387
عمرِارذل۔۔۔ شمس جیلانی
جس عمر کو ہی اللہ نے فرمادیا خود عمرِ ارذل

وہ بات کبھی شمس خالی از معنی نہیں ہوتی
کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں یہ شخص ہے ہٹا کٹا
عاقل کو یہ بات باعث ِ بد گمانی نہی ہوتی

388
حشر کا میدان؟۔۔۔۔۔۔۔ شمس جیانی

اللہ نے شمس صاحبِ عظمت بنا یا مخلوق میں انسان ہے
فرشتوں سے سجدہ کرایا کی عطا اس طرح اسے پہچان ہے
کم ظرف تھا شیطان حائل انا جو ہوگئی وہ منکرِ سجدہ ہوا
اللہ نے وہ مہلت دیدی جو اس نے مانگی“ حشر کا میدان ہے“

389
عمر گزارنے کا طریقہ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے قریب رہو مثل ِ خضر رہو
کب آجائے تجھکو موت منتظر رہو
کہتا رہو بات سچ اورسدا معتبر رہو
ذکرِ خدا سے تو سدا با دہن تر رہو

390
اللہ کو تکبر کرنے والے پسند نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

لئیے ہمارے بے شک دین کے سارے اصول سب کچھ ہیں
مومن وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ و رسولﷺ سب کچھ ہیں
ہیں ایسے لوگ کچھ جو کہتے ہیں ہم کچھ کو مانتے ہی نہیں
جو سب کو مانیں اور کہیں پاؤں کی دھول سب کچھ ہیں

391
معراج مومن موت ہے؟ شمس جیلانی

موت سے زیادہ دوست نہیں موت سے زیادہ یار نہیں
میں تو کہونگا ہاں گو لوگ کہیں نہن نہیں ہزار نہیں
مومن وہ بد نصیب ہے جانے کو شمس جوہے تیار نہیں
بشر وہی جس میں کہ انکساری ہے ذراسا استکبار نہیں

392
خدا کی باتیں خدا ہی جانے۔۔۔۔ شمس جیلانی

تم ورد ِزبان رکھو اللہ کےنام کو
اللہ ہی جانتا ہے اپنے نظام کو
ہےوقت معین ہر ایک کام کو
وہ ہی جانتا ہے رتبہِ امام کو

393
اپنا کچھ نہیں سب اس کا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب وہ راضی ہو تو آمد میں روانی پاتا ہو میں برسات کی
شمس جب کبھی ناراض ہو میں خیرمانگوں ہوں اوقات کی
میرا اپناکچھ نہیں سب رہین منت ہے اس رب کی ذات کا
سب چیز اپنی کہتے ہیں چاہے ملی ہو کہیں ہو سوغات کی

394
د ِحسین علیہ السلام۔۔۔ شمس جیلانی

ظالم تھے جتنے لوگ وہ کوئی نہیں بچا!
وہ بھی نہ سانس لےسکے اک لمحہ چین کی
ہوئی مقبول ِبارگاہ بدعاحضرت حسینؑ کی
جگ کو یاد رہگئی ابتلاء ناناﷺ کے نورِعین کی

395
لوگ کہتے ہیں تم بھی کچھ کہو؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس گزشتہ چوہتر سال سے یہ عقل میری حیران ہے
جسے سب کہہ سکیں میرا ہے یہ ہی وہ پاکستان ہے!
گر سچ میں کہدوں تو پیچھے کچھ پڑ جا ئیں گے لوگ
گرجھوٹ بولوں تومومن کی لکھی نہیں یہ شان ہے

396
اللہ کے بندے شیطان سے مار نہیں کھاتے؟ شمس جیلانی

جو کہ تیری بات پر پختہ ایمان ہے لاتا نہیں
میں اُسے سمجھاؤں کیسے جو سمجھ پاتا نہیں
جبکہ شیطان ہے موجود ایزاد ِبدگمانی کے لئے
ہاں اگر بندہ ہے تیرااس سے مات وہ کھاتا نہیں

397
تغیراتِ زمانہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وقت تھا وعظ سن کر کے ڈر جا تے تھے لوگ
روح تھی ان کی نکل جاتی مرجاتے تھے لوگ
جب سے یقیں کامل اٹھ گیا شمس یہ بھی گیا
اب وعظ ٹھٹہ بن گیا ہنستے گھر جاتے ہیں لوگ
نوٹ۔حضورﷺ کے زمانےمیں ایسے واقعات عام تھے

398
ہوکاوش انسانی؟ ۔ ۔۔۔شمس جیلانی

رب جو فیصلہ کرتا ہے وہ ہی خوب ہوتاہے
ہراک ہے مطمعن ہوتا ہر اک مرعوب ہوتا ہے
ہوانسانوں کی کاوش وہ خوبی نہیں ہوتی
ہوتا وہی کچھ ہےجو کہ اسے مقصود ہوتا ہے

399
جو خدا چا ہے انجام وہی ہوتا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

رب کا فیصلہ اپنے بندوں کے لیئے مسعود ہوتا ہے
جہاں پر فتنہ ہوتا ہے شیطان بھی موجود ہوتاہے
اللہ کی اپنی مرضی ہےجسے چاہے نوازے شمس
تب شیاطیں کے لئے میدا ن بھی محدود ہوتا ہے!

400
یزید منکر عاقبت و فاسق ہےجانتے تھے حسینّ

یہ ہی وجہ تھی کہ راہنما نہیں مانتے تھے حسینّ

401
فرد ہے ملت سے ورنہ کچھ نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

بھلا انسان وہی ہے جو کہ اچھی بات کہتا ہے
بھلی باتیں جو کرتا ہے بھلو ں کے ساتھ رہتا ہے
نہیں جو چھوڑتا ہے اپنی ملت کو برا کہہ کر !
جو آئے اس راہ میں مشکل وہ ہر بار سہتا ہے

402
نجات اتبا ئے رسول ﷺمیں ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

کرتے نہیں ہیں حمد وثنا اللہ کریم کی
نہ ان کو فکر جہنم کی نہ آب ِ حمیم کی
شمس کرتے رہو تلاش نقشِ پا حضور ﷺ کے
اسوہ حسنہ ﷺ ہےسیڑھی صراط ِمستقیم کی

402
عظمت کے لیے حکمت چا ہیئے۔۔۔ شمس جیلانی

سمجھا سارے شہادت پاگئے بس قصہ ہوا تمام
اس کے مضمرات سمجھا نہیں تھا عقل کا غلام
شمس جبکہ حسین ّ جانتے تھے شہادت کا فلسفہ
اس کو پتہ چلے گا پائیں گے محشر میں وہ مقام

403
ہےالگ شان والا۔۔۔۔ شمس جیلانی

میرا مالک ایک ہے اس کی الگ اک شان ہے
ہر گھڑی ہمراہ ہے وہ سب سے بڑی پہچان ہے
اس سے ملنے میں نہں حائل کوئی دربان ہے
گر نہ مانے جواسے ہے جہنم حشر کا میدان ہے

404
نسلِ عجیب ۔۔۔ شمس جیلانی

ہے عجب قصہ نئی نسل ہے سوتی بہت
پھرمقدرکو وہ اپنے شمس ہے روتی بہت
پھر ہےچاہے اس پہ برسے رحمت پروردگار
ہے ہوس اتنی ہر روزافزوں ہوتی ہے بہت

405
بس اللہ کی بات مانو!۔۔۔۔ شمس جیلانی

رہنا اللہ کو باقی ہے اور سب کو فنا ہے
بات اس کی سدا مانو کرتا جو منع ہے
عبادت جو کرو اسکی ہے بھلا اپنا تمہارا
جن وقتوں میں کہتا ہے وہ کرنا ثنا ہے

406
رضائے رب کی تلاش۔۔۔ شمس جیلانی

ہر مومن متلاشی ہےاللہ کی رضا کا
ہے خوف سدا لاحق اسےروزِجزا کا
چلتا ہے بچا کرکے گناہوسے وہ د امن
ہونا ہے وہاں فیصلہ جزااور سزا کا

407
درخواست بہ دربار ِ رب ۔۔۔۔ شمس جیلانی

رب !عرش کے سایہ میں بندے کو چھپالینا
جو دنیا میں مجھے رکھے تو پوری حیا دینا
عقبہ میں جنت ہودنیا میں بھی جنت ہو
بس کچھ ایسا کرم کرنا کچھ ایسی جزا دینا

408
جوکچھ منع ہے وہ نامناسب ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مشہور زمانے میں اللہ کی تو غنا ہے
آئین ِخداوندی بندے کی بھلائی میں بنا ہے
جو اللہ اور نبی ﷺدیدیں وہ چیز فقط لیلو
کہ ہرفعل مضرِ صحت ہے لکھا جو منع ہے

409
صاحب ِ قلب ِ مطمعنہ۔۔۔۔شمس جیلانی

اسے مطمعن دیکھا جو بندہ رب کا ہوتا ہے
وہی ہے کاٹتا انساں یہاں پرجوکہ بوتا ہے
نہ وہ کسی پر ظلم کرتا ہے نہ اس پر ظلم ہوتا ہے
وہ اپنی نیند اٹھتا ہے وہ اپنی نیند سوتا ہے

410
شکر کریں کے اللہ رحیم ہے؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس دور میں جس کو بھی دیکھئے نکلا ہوا دو ہاتھ ہے
سنتے بہت ہی کم ہیں جن کو پہنچتی اللہ کی بات ہے
بچاجہاں ہےیوں رحم واجب کرلیاخود پر پرور دگار نے
ورنہ انسان سراٹھا کےچلے کیا اور کہاں اس کی بساط ہے

411
بسم اللہ الرحمن الرحیم

صوفیہ وقار کی پہلی سالگرہ پر
آکر صوفیہ نے ہیں لگا دیئے میرے پر
سب میر ے بچے ہیں مرے جان وجگر
اس کے آنے ہی سے پردادا بنا شمسؔ میں
تمہید ہے اتنی بڑی قصہ مگرہے مختصر

412
سم اللہ الرحمٰن الرحیم

نانا کی دعا
عمر اور ثناء کی شادی پر
میری دعا ہے ثنا ء و عمر تم پھلو پھولو
اور ساتھ میں یہ بھی کہ رب کو مت بھولو
شمس شادی سارے اقربا کو مبارک ہو
خوشیاں ساتھ رہیں اتنی کہ آسمان چھولو
یہ دعائیہ قطعہ٤ ستمبر٢٠٢١ ؑ کو نیو یارک
میں پڑھا گیا

413
ظلم کا انجام جہنم ۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ستاؤ تم کسی کو کہ بد دعادیگا
وہ عرش پاک کو اس طرح ہلا دیگا
ہےممکن لے دے کر سزا سے بچ جاؤ
پھر بروزِحشر رب سخت تر سزادیگا

414
زخمو کا مداوا مرہم۔۔۔۔ شمس جیلانی

جس سمت بھی دیکھو تو موت کا بازار گرم ہے
آجا ئے شام کو گھر واپس کوئی یہ اللہ کا کرم ہے
مانگا کرواے شمس اس سے صبح اور شام دعائیں
یہ ہی ہے مداوا فقط اور سب زخموں کا مر ہم ہے

415
ایک اچھی تقریب کے اختتام پر۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شامل ِحال جب رب ِزمین اور آسما ں کی مہربانی ہوگئی
اس کرونا ئی ماحول میں بھی کچھ توحاصل شادمانی ہوگئی
شمس ایک اچھی سی شادی دیکھنے کو پھرملی دوسال میں
جمیل وعظمیٰ کو حاصل تین سواشخاص کی میزبانی ہوگئی

416
تصوف کا پہلا اصول۔۔۔۔ شمس جیلانی

تصوف کے تمام رازوں میں یہ پہلا راز ہے
کہ دل میں یقین رکھو یہ اللہ کار ساز ہے
پانچوںوقت رہو رکوع میں رب کے سامنے
ہرگز نہ جائے پائے ہاتھ سے کوئی نماز ہے

417
چلو راہ ِ راست پر۔۔۔۔ شمس جیلانی

ظلم دنیا میں کم نہیں ہوتے
ہاں ! ستم اب رقم نہیں ہوتے
راہ سیدھی حصول آساں ہے
چلتے رہیئے توگم نہیں ہوتی

418
سراپا راز ہے سمجنے والوں کو؟۔۔۔شمس جیلانی

فرمادیا رب نے مجھے ویسا پاؤگے جیسا گمان ہے
لیکن اچھے گمان کے لئیے چاہیئے اونچی اڑان ہے
پڑھئے قرآں کو روز کم از کم ایک ہی رکوع سہی
تا کہ ذہن نشین ہوسکےتمہیں کیا نص ِقوآن ہے

419
تبلیغ مگر حکمت کے ساتھ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ڈراتے رہو جہاں کو شمس اس ذوالجلال سے
بچاتے رہو جہاں کو تم خطرہ ِ عروج و زوال سے
جو بھی کرو بات علم اور حکمت کے ساتھ ہو
بچتے رہو خود بھی سدا بحث ،قیل وقال سے

420
فخر ِکائینات۔۔۔ شمس جیلانی

جو دل سے کرے عبادت رب اس کے ساتھ ہے
ایسا کوئی ہو جو مومن وہ فخرِ کا ئینات ہے
ہردل کرے ہے عزت جو بھی اسے ہے دیکھے
کہ عزت اور ذلت بس اس اللہ کے ہاتھ ہے

421
کسی کے ظاہر پر مت جا ؤ۔۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی دیکھنے میں جو کہ حقیر لگتا ہےوہی کامل فقیر ہوتا ہے
اس کا کردار اس کو بلند کرتا ہےوہ بے مثل و بے نظیر ہوتا ہے
ہر اک نہیں پابند ِ لکیر ہوتا ہے فطرتا“ جود کے ستگیر ہوتا ہے
جتناہوسکے گناہوں سے دور رہو نہ ہو کوئی تو خبیرو بصیر ہوتا ہے

422
ے عمل صاحبِ گفتار ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ بہت کچھ ہیں اس خفط میں گرفتاربہت ہیں
جو عمل میں کورے ہیں صاحب ِگفتار بہت ہیں
ایسوں سے خبر دار ہمیشہ ہی رہو تم اے شمس
ہیں لوگ نہیں کسی مصرف کےبیکار بہت ہیں

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

مومن اور مومنات کا جو صالح امیر ہوتا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مندرجہ ذیل قطع میں نے وہ سب کچھ کہدیا ہے جو کہ مومنوں کے امیر کے ساتھ بطور نصرت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے مگر اس کو اس کو اس صفت سے مشروط کردیا ہے کہ وہ“ صالح“ بھی ہو اور صالح ہوگا تو متقی بھی ہوگا اور اس میں یہ صفات ہونگی تو یقیناً وہ حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر بھی عامل ہوگا؟پھر اس کے ساتھ حکمت ہوگی فراست ہوگی اور وہ شہنشاہوں کا شہنشا بھی اس کے ساتھ ہوگا جو قدیر ہے کہ جو چاہے سو کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے ؟اور امیر کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ؟ جس طرح“ خیر کثیر“ کا ذکر قرآن میں ہو ا ہے جو کہ سورہ البقرہ کی آیت 269 سے شروع ہوکر اورآخری سورتوں میں سے بہت ہی اہم سورت سورہ توبہ تک چلا جاتا ہے؟ اس کی تفسیر اتنی طویل ہے کہ متعدد بین الاقوامی کانفرنسیں اس ایک لفظ پر منعقد ہوچکی ہیں کہ اگر میں سب کا ذکر کرو ں تو اس چھوٹے سے مضمون میں وہ سما نہیں سکتیں؟ مختصر یہ سمجھ لیجئے کہ اس کا سلسلہ حضور ﷺ سے شروع ہوتا ہے اور ان کے اس خلیفہ پر ختم ہوگا جو آخری ہوگا وہ خوش نصیب کون ہوگا وہ تو اللہ ہی جانتا ہے؟ البتہ حضور ﷺ کے جن خلفا ٗ نے بھی حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیر وی کی ہے ان سب کے نام تاریخ میں آج تک ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں اور جنہوں نے بزدلی دکھا ئی انکا کہیں ذکر نہیں ہے؟۔ اب یہ ہ÷ی مرحلہ افغانستان میں اس رہنما کو درپیش ہوگاجو بھی اس قوم ک اب قیادت کرے گا۔جو کہ چالیس سال سے نہتے لوگوں کو پوری دنیا سے اس بات پر لڑاتی رہی ہے کہ افغانی قوم اپنے یہاں اسلامی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئی تو دنیا میں وہ مدینہ کی اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد دوبارہ کہیں کامیاب ہونے والی دوسری ہو گی۔ ورنہ اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو تمام بعد میں چلنے والی اسلامی تحریکوں کا ہوتا رہا ہے۔ یہ سب کچھ مجھے اس لئیے لکھنا پڑرہا ہے۔ کہ چاروں طرف دبا ؤ ہے کہ افغان قیادت مجبور کردیا جائےکہ جو کام اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت کی بنا پر اس قوم نےجو کام یہاں تک پہنچایا ہے؟ اور سب کو وہاں سے نکلنا پڑا ہے؟ اب دنیا پھر دبا ؤ سے کام لینا چا ہتی ہے حالانکہ اس سے پہلے ویٹنام اور چائینا میں وہ نکام ہوچکی ہے ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان سے جس نے ان کی اس سلسلہ میں بہت مدد کی ہے مصالحت کی میز پر لانے اورمعاملات طے کرانے میں اس کو بھی کہا جارہا ہے۔ کہ ہم تمہیں بہت سی مراعات دینگے اور انہیں اسوقت تک افغان حکومت کو تسلیم مت کروجب تک کہ وہ دنیا کو یقین دہا نی نہ کرادے کہ وہ بھی ہمارے جیسا ہوجا ئے گا۔ جبکہ پاکستان کی موجودہ قیادت مدنی ریاست بنا نے کا یقین دلاکر آئی تھی کیا وہ اگر کسی وجہ سے ہمیشہ کی طرح ناکام رہی اور پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں کرسکی ہے تواوروں کو بھی نہیں کر نے دیگی؟ دوسری طرف افغانستان کو بھی سوچنا چاہیئے کہ مدینہ کی ریاست جب عالم وجود میں آئی تھی کیا اس نے یہ تمام دبا ؤ اور مسائل نہیں جھیلے اور دنیا نے سارے ہتھکنڈے اسوقت نہیں استعمال کیئے تھے وقت حضور ﷺ خود بہ نفس ِ نفیس قیادت کے لئیے موجود تھے اور ان صحابہ ؓ کرام بھی موجود تھے جن کی تعداد صرف سیکڑوں میں تھی اور غیر مسلح بھی تھے انہوں نے سب کچھ برداشت کر کے کامیابی حاصل کی تھی تاکہ ایک مثال قائم کریں کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ اور کیا یہ بھی جیتی ہوئی بازی آسانی ہار جا ئینگے جیسے کہ اس سے پہلے والے لوگ ہارتے رہے ہیں؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ جو چالیس سال تک خون بہا ہےوہ بھی رائیگاں جا ئے گا اور پھر یا تو کوئی نیا آدمی آئے گا اور پھر سے الف ب سے تحریک دوبارہ شروع کریگا؟ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے نہ ہو کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک جگہ حضور ﷺ کو قرآن میں خطاب فرماتے ہوئے فرمایا ہے کہ “ اگر یہ فرقہ پرستی سے باز نہ آئیں تو تمہارا ان فرقہ پرستوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اور سورہ الانعام کی آیت نمبر 65 میں وہ یہ بھی فرما چکا ہے کہ وہ اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہے اور نیچے سے بھی عذاب نازل کرنے پر قادر ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں بانٹ کر لڑادینے پر بھی قادر ہے۔ اس آیت کے نزول پر حضور ﷺ سخت پریشان ہو ئے اور وہ مسجد ِ نبوی سے ﷺ اٹھ کر جنگل کی طرف چلے گئے اور وہا ں جاکر عبادت میں ایسے مصروف ہوئے کہ انہیں ﷺ اپنے پیچھے آنے والے صحابہ کرام (رض) کا پتہ بھی نہ چلا جب حضور ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہوں نے ؓ پوچھا کہ حضور ﷺ کیا ماجرا ہے اتنا پریشان توہمؓ نے آپ ﷺ کبھی نہیں دیکھا؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت کے نزول نے مجھے سخت پریشان کردیا ہے؟ اور اللہ نے ان میں سے دوعذابو ں کو ٹالدیا ہے میری دعا پر ،،مگر تیسرے کے لیئے فرمایا کہ یہ اس کا مقدر بن چکا ہے۔ تم مجھ ﷺ سے وعدہ کرو کہ تم میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں؟ سب نے یک زبان ہوکر فرمایا کہ قرآن ہمارے پاس ہے آپکا اسوہ حسنہﷺ ہمارے پاس ہے بھلا ہم کیسے آپس میں لڑسکتے ہیں۔؟ اس کی تفسیر بہت طویل ہے جو کہ ابن کثیر ؒ نے لکھی ہے اورراوی بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام (رض) بھی ان شامل ہیں وہ وہاں جا کر پڑھ لی جائے تو بہتر ہے۔ تیسرے کے بارے میں حضور ﷺ نے حضرت جابر ؓ کے اس سوال کے بارے فرمایا کہ اگر آپ ﷺ اسی طرح جس طرح آپﷺ نے پہلے دو کے بارے میں دعا مانگی تھی اس کے لیئے بھی مانگ لیتے تو یہ بھی قبول ہو جاتی! تو اس کے جواب میں حضور ﷺنے فرمایا کہ “ یہ تو ہونا ہی تھا جو کہ ابھی تک ہوا نہیں۔ میرا اس ساری بحث سے مقصد یہ تھا کہ اس امت پر اس عذاب کا نزول ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ لہذا اس سے فرارممکن نہیں ہے؟جب بھی یہ قوم اللہ تعالیٰ کی نافر مانی کرے گی تو اس عذاب میں مبتلا کردی جا ئے گی جوکہ اس تبا ہی کا آج تک باعث ہوتی رہی اس لیئے کہ یہ اللہ اور رسول ﷺکا فرمان ہے جوکہ پہلے سے ہمارے علم میں ہے۔ اب افغان کا مسئلہ پھر اسی مر حلہ پر پہنچ چکا ہے؟ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہونے کو ہے اور وہ وہیں پہنچ جا ئیگی جہا ں سے چل کر چالیس سال میں اس اتحاد تک پہنچی تھی۔ اب یہ افغان قوم کا کام ہے وہ پھر اسی دلدل میں گرنا چاہتی جہاں پہلے دھنسی تھے اور دنیا کا کھلونا بنی تھی۔ یا کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے فیصلے وہ خود کرتی ہے؟ اللہ اسے ہدایت دے تاکہ کہ دنیا میں کہیں تو ایک مثالی اسلامی ریاست قائم ہوسکے(آمین) میں اپنے اس مضمون کو اپنے اس قطع پر ختم کرتا ہوں جس کا پہلا مصرع آج کا عنوان ہےع
مومن اور مومنات کا جو صالح امیر ہوتا ہے
ہمیشہ ساتھ میں اس کے تو خیر کثیر ہوتا ہے
نہیں مرعوب ہے ہوتاکسی وہ طاقت سے
کہ اس کے ساتھ میں رب ِ قدیر ہوتا ہےآآ

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

افغان طالبان صحیح سمت میں۔۔۔۔؟ شمس جیلانی

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھا تھاکہ افغانستان میں جو طالبان کوغیر متوقع کامیابیاں ملی ہیں وہ اس بات کاان سے تقاضہ کرتی ہیں کہ وہ صحیح سمت میں رہیں اس لئیے کہ غازی اور زمانہ سازی دو علیحدہ چیزیں ہیں جو کہ ایک ساتھ نہیں چل سکتیں ہیں؟ اور ان کا اس طرف پہلا قدم ااٹھا نے سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ وہ صحیح سمت میں جارہے ہیں اس لیئے کہ انہوں نے اپنا پہلاکیر ٹیکر (محافط نظام ِ حکومت) ایک اخوند کو منتخب کیاہے جوکہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صحیح سمت میں جارہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے نام کے ساتھ آخوند لگا ہوا ہے جو کہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ صاحب علم ہیں کیونکہ فارسی میں اگر کسی کے ساتھ آخوند لگا ہوا ہو تو بشرطِ کہ وہ اسے وراثت میں نہ ملا ہوا تو اس کے صاحب ِ علم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے؟ جبکہ اس کا الٹ ناخواندگی ہے اور علم سے نابلد کو اردو میں جاہل کہا اور سمجھا جاتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی جاہل سے الجھنے کو منع فرماتا ہے اور اس کے پاس سے سلام کرکے چلے جانے کاحکم دیتا ہے؟ جبکہ یہ میرے آقا ﷺکی حدیث پاک ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جس سے خوش ہو اس کو دین کےعلم سے نوازتا ہے۔ چونکہ آخوند بنا ہی خواندہ سے ہے میں نے بغیر ان کی سوانح جانے اور پڑھے اپنے حسن ظن کی بنا پر یہ مان لیا ہے کہ وہ نہ صر ف عربی میں شیخ کے قسم کی شخصیت ہیں بلکہ “الشیخ “ قسم کی شخصیت ہیں؟لہذا ان سے توقع ہے کہ میں انہیں جو آگے سمجھانے جارہا ہوں وہ اسے ایک صاحب ِ علم کی طرح سمجھیں گے؟ سب سے پہلے تو میں ان کے سامنے سورہ ہود کی آیت نمبر ایک سے بات شروع کرونگا؟ بات کرنے سے پہلے میں بتاتا چلوں کہ سورہ ہود وہ سورہ ہے جس کے نزول کے بعد حضورﷺ نے فرمانا شروع کردیا تھا کہ اس سورہ نے مجھے قبل ازوقت بوڑھا کردیا ہے۔تو جو سورہ ان ﷺ جیسی شخصیت کوبوڑھا کردے اس کے سامنے کسی بھی صاحبِ علم کی کیا حثیت ہوسکتی ہے؟ جبکہ کہ قر آن زیا دہ تر بات ہی اولو الباب سے کرتا ہے اور جہلا سے واسطہ پڑ جا ئے تو وہ سلام کرکے وہاں سے چلے جانے کاحکم دیتا ہے جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں؟۔ میں اس امید پر خصوصی طور پر ان آخوند صاحب کو جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حال ہی میں ایک اسلامی ملک کا اقتدار بخشا ہے اور عمومی طور پر ان تمام دوسرے سب صاحبان اقتدار کے لئیے جوکہ کسی بھی اسلامی ملک کے سربراہ اسلامی عدالتوں اور اداروں کے سربراہان ہیں یہ مشورہ دینے جارہا ہوں۔ کہ وہ حضرت عمر ؓ کا وہ قول ضرور یاد رکھیں جس میں انہو ں ؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو ایران بھیجتے ہوئے نصیحت فرما ئی تھی کہ اے وقاصؓ یہ بات یاد رکھنا کے اللہ کے ساتھ کسی کاکوئی رشتہ نہں ہے سوائے اتباع کے اور کہیں تمہیں یہ سوچ ہلاک نہ کردے کہ تم رسولﷺ اللہ کے ماموں ہو “ اسی طرح کا فرمان اللہ سبحانہ تعالیٰ کا بھی ہے سورہ ہود کی آیت نمبر112 میں جس میں وہ رسول ﷺاللہ اورانﷺ کے ساتھیوں (صحابہ کرام ؓ)سے مخاطب ہے کہ دیکھو تم حد سے آگے مت بڑھنا چاہیں سامنے کافر ہی کیوں نہ ہواور ظالموں کے بہکائے میں آکر ان کے ساتھی کہیں مت بن جا نا تمہیں بھی کہیں گرم آگ کا جھوکا نہ لگ جا ئے "اور اس کے بعدظالموں کا حشر بھی بتاتا ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ظالم کی پکڑ نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ ایک مدت تک کے لیئے ڈھیل دیتا ہے کیونکہ اس نے ہر کام کے لئیے ایک وقت مقرر کررکھا۔ ورنہ وہ گناہوں کا مزہ فوراً ہی چکھا نے پر بھی قادر ہے اور وہ کبھی کا مزہ چکھا بھی دیتا؟
جبکہ وہ یہاں اپنے نیک بندوں کو بھی نہیں بھولا اور فرمایا کہ جنہوں نے میری اطاعت کی ان کے لئیے بھی دائمی طور تمام نعمتیں ہیں جن سے وہ اس روز نوازے جا ئیں گے اب بندوں کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خود کو اللہ کی اطاعت کرکے خاص بندو ں میں شمار کرانا چاہتے ہیں یا ان برے میں شامل ہونا چاہتے ہیں جونافرمانی کرکے اپنا نام یہاں پیدا کرتے ہیں۔جبکہ ان کے لئیے سزا دہری ہے جو آیت نمبر100 اور 101پنی غلط قسم کی تبلیغ سے لوگوں کو صراط ِ مستقیم سے بہکاتے رہے ہیں؟ اللہ ان سب سے ہم سب کو محفوظ رکھے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

غازی اور زمانہ سازی۔۔۔۔شمس جیلانی

ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں افغانستان کے معاملات پر بات کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ غازی اور زمانہ سازی دوعلیٰحدہ اور متضاداد چیزیں ہیں۔اس مرتبہ طالبان اپنے پرانے تجربات کے نتائج کو مد ِ نظررکھتے ہوئے ا نہیں نہ دہرائیں اور اپنےاللہ سبحانہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدہے پورے کردیں تاکہ فخر سے وہ دنیا اور اللہ بحانہ کے سامنے سرخرو رو ہوسکیں، ورنہ اس نے سورہ ہود کی آیت نمبر57 میں حضر ت نتیجہ طور پر ہودؑ زبانی کہلوادیا ہے کہ وہ کسی نافر مان قوم کی جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا جو اس کی فرمانبردار ہوگی؟ وہ کیسے آئیگی کہاں سے آنا ہے وہ انسانوں کے لئیے تو کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے؟ مگررب کے لیئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ سورہ یسین کی آیت نمبر87میں وہ فرماچکاہے میں صرف ایک لفظ کن کہدیتا ہوں وہ چیز فوراً عالم ِ وجود میں آجاتی ہے؟بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے وہ فوراً ہوجا ئے۔ وہ شایداس کی تخلیقات کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ حاد ثاتی طور پر ہوا ہے؟کیا وہ لوگ اس کا جواب دے سکتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ حادثاتی طور ہوا ہے تو صرف پہلی بار ہی کیوں اسے تو بار بار ہونا چاہیئے تھا؟ لہذا سوچیں اور جواب دیں کہ اس کے بعد پھر ایسا کیوں نہیں ہوا؟دوسرے ہر چیز میں ٹوٹ پھوٹ ضرور ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے بعد کسی نظام یا پروجیکٹ کوزندہ رکھنے کے لئے مزدور کام کرتے دیتے ہیں تو ان کی تعداد اس بلنڈنگ یا نظام کی مناسبت ہوتی ہے۔ اس اتنے بڑے نظام کی ایک بہت بڑی مدت سے دیکھ بھال کون کررہا کیسے ہورہی ہے اور اگرمرمت ہوتی ہے ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟اس کا جواب کوئی صاحب ِ عقل و دانش دلائل کے ساتھ دے سکتا ہے۔اگر دے سکتا ہے تو سامنے آئے؟ورنہ اس بات کو مان لے جوکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک فرمایا ہے کہ ً میں کن کہتا اوروہ چیز عالم میں وجود میں آجاتی ہے۔ جس طرح کن کہنے سے ہر چیزعالم ِ وجود میں آجاتی ہے اسی طرح اس کے ہر چیز کی کن کہنے سے مرمت بھی ہوجاتی ہے۔ ورنہ لاتعداد مزوروں کی فوج کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بلڈوزر بھی مرمت کے لئیے آسمان کی طرف جاتے ہوئے دکھا ئی دیتے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرمارہا ہے کہ آسمان کیطرف غور سے دیکھو اور باربار دیکھو اوربتا ؤ اس میں تمہیں کہیں کو نقص یا سوراخ نظر آرہا ہے؟ سوال بھی وہ کن ہے اس کی تفصیل نہیں ہے۔میرے خیال میں جولوگ ا للہ تعالیٰ کے منکر ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات پوری طرح اب آگئی ہوگی۔ اسی طرح ان دوسری تمام آیت کو مان لیجئے وہ فرماتا ہے کہ ہم جسے چاہیں ملک دیں جس سے چاہیں چھین لیں ؟ یہ کیسے ہوتا ہے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد پہلے روس دیکھ چکا ہے۔ جوکہ دنیا کی دو بڑی سپر پاورں میں سے کبھی ا یک تھا؟ اور اس کے بعد آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کی زبوں حالی دیکھ لیجئے کہ اس پچھلی صدی میں اس کی حالت کیا سے کیا ہوگئی؟ آخر یہ سب کچھ کون کرتا ہے؟یہ تو تھا عزت لینے کا معاملہ، اب عزت دینے کی بات دیکھئے کہ جو ملک پچھلی صدی میں کچھ بھی نہیں تھا جس کا نام چین ہے؟ اب اس دنیا کی سپر پاور بن چکا ہے اور اس نے دنیا کا چین چھین لیا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ لہذا کسی بھی صاحبِ عقل کے پاس یہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ساری تاریخیں جھوٹی ہیں؟ کیونکہ یہ سب کچھ آج کل ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا نظر آرہا ہے جوکہ کل کو آنے والی نسلوں کے لئے تاریخ بن جا ئے گی؟۔اسیطرح سابقہ طالبان کا دوبارہ اقتدار میں لوٹ کر آنے کا معاملہ ہے اوراللہ سبھانہ تعالیٰ نے ان سے بیس سال پہلے اقتدا چھین کر دکھا تھا؟اب ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا منت سماجت کی اور وعدے کیئے اورانہیں اقتدار پھر واپس کر دیا؟کیونکہ معاملہ اللہ اور بندوں کے درمیان ہے لیکن مجھے یہ یقین ضرور ہے کہ انہوں یہ وعدہ ضرور کیا ہوگا کہ ً ہم ایک ایسا ملک بنا ئیں گے جس سے کہ تیرا نام جہان میں پھر بلند ہوگااور پورے جہان میں تیرا ہی نظام نافذ ہوگا اور وہ ہم کریں گے؟ اب ان غازیوں کے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اسکے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ سچے رہیں اور اس کے شکر گزار بھی رہیں تو مجھے امید ہے کہ ان کا کارو بارِ حکومت اچھی طرح چلتا رہے گاکیونکہ اس نے سورہ ابراہیم ؑ کی آیت 7میں فرمایا ہے کہ جو جوبندے میرے شکر گزار ہوتے ہیں انہیں میں مزیدنوازتا ہوں اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کے لیئے میرے پاس عذاب بھی شدید ہے۔دوسرے ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ کوئی دو کشتیوں پر پاؤں رکھنے کے بعد عافیت کے ساتھ نہ کبھی چلا ہے نہ ہی چل سکتا ہے۔ اگر سمجھ میں میری بات نہیں آئی ہےتو وہ تجربہ کر دیکھے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

عمل سے زندگی بنتی ہے؟۔۔۔ شمس جیلانی

بہت کم لوگ اس زندہ حقیقت کے قائل ہیں عمل سے ہی زندگی بنتی ہے؟ اس کے لئیے اقبال ؒ مرحوم کا یہ شعر بڑا مشہور ہے کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے؟ اس شعرکو پڑھ کر ممکن ہے کہ کچھ لوگ کہیں کہ یہ تو ایک شعر ہے اور اقبال بھیؒ شاعر تھے اور اسلام نے سورہ الشعراء میں شاعروں کی مذمت میں پوری تین آیات نازل فرما ئیں ہی شاعروں اورشاعری کے خلاف؟ جبکہ چوتھی میں جو جز ہے آیت نمبر 227 کااس کی حضور ﷺ نے اس کے بارے فرما یا ہے کہ یہ تمہارے لیئے ہے وہ آگے پیش َ خدمت ہے۔۔۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے نیک عمل کیئے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا۔۔۔۔۔۔جب یہ آیات نازل ہوئیں تو شعرا کاوہ چھوٹا سا مقدس گروہ جن میں مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت ؓ بھی شامل تھے دربار ِ رسات مآبﷺ میں حاضر ہوئے کہ حضورﷺ ہم تو تباہ وبرباد ہوگئے کیونکہ ہم نے اپنی زندگی شاعری میں صرف کردی؟ تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ نہیں اس سے تم مستثنیٰ ہو کیونکہ تمہارے لئیے آخری آیت کا یہ درمیانی جز ہے۔ تمام شعرا ء حضرات جو اس وفد میں تشریف لائے تھے اس جواب سے مطمعن ہوکر چلے گئے اور ان میں سے کسی نے شاعری ترک نہیں کی؟۔ چونکہ اس زمانہ میں شاعری کا بڑا چرچا تھا اور حضور ﷺ کے پاس جو کہ گنتی چند شاعر تھے ان کو حضور اکثر ﷺحکم دیتے تھے کہ وہ کفار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب جوکہ عموماً شاعری کی شکل میں ہوتی تھی اسی زبان میں جواب دیں ان میں ایک خاتون صحابیہ ؓ حضرالخنسہؓ بھی شامل تھیں اس چھوٹی سی جماعت کو تمام کفار کی شاعروں کی جماعت کامقابلہ کرنے کا حکم عموما“ ملا کرتا تھا۔اور وہ جواب دیا کرتے تھے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت حسان (رض) بن ثابت کو ایک مرتبہ اپنے منبر بٹھا کر حضور ﷺ نے ان کی عزت افزائی اور ان سے ان کا کلام سنا؟ مرد ہی نہیں اس میں حضرت خنسہ ؓ جو کہ مرثیہ نگاری میں دور ِ جہالیہ میں مردوں سے بھی آگے تھیں! ان کا تو با قاعدہ عکاز کے بازار میں تنبو لگا کرتا تھا جس پر ان کا مخصوص جھنڈا نصب ہوتا تھا۔ جبکہ شعرائے عرب میں وہ امراؤ بن قیس کے بعد دوسر ے نمبر پر تھیں۔ جن لوگوں نے اپنی شاعری کے دوران اس بات کا خیال نہیں رکھا ان کے لیئے یقینا پہلی تین آیات آیات ہیں مگر جو اپنی شاعری سے حمد و ثنا، نعت، مرثیہ، صالحین کی منقبت اور تبلیغ اسلام کا کام لے رہے ہیں وہ سب پہلی تین آیتوں سے مستثنیٰ ہیں؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص بندوق اپنی حفاظت کے لیئے خریدے تو ثواب ہے اگر اپنے کسی دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے خریدے تو گناہ ہے۔ جنہوں نے علامہ اقبال ؒ کو نہیں پڑھا ہے انہیں چا ہیئے کہ پہلے وہ انہیں پڑھیں پھر ان کی شاعری کے بارے میں کچھ کہیں؟ تو انہیں پتہ چلے گا کہ انکی ابتدائی شاعری کے بعد جو شاعری ہے وہ زیادہ تر قر آن اور سنت سے متاثر ہوکر کہی گئی ہے چونکہ ان میں سے زیادہ تر کلام فارسی میں ہے لہذا نئی نسل تو اس سے بالکل ہی نا بلد ہے؟ کیونکہ انہیں فارسی ہی نہیں ہے؟ اگر آپ اس شعر کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھیں گے تو آپ دیکھیں گے؟ اس میں علامہؒ ایمان کے بعد عمل ِ صالح لائے ہیں جو کہ طریقہِ قرآنی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا“ یہ قول بہت مشہور ہے کہ عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔“ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی ایک کے بغیر دوسرے فعل کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت ان کے دوسرے قول سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں ؓ نے فرمایا کہ“ ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنا لازمی ہے ورنہ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کیاکرتے ہیں“ میرا اس تمہید سے مقصدیہ تھا کہ میں ہمیشہ عمل پر زور دیتا رہا ہوں؟ ہم جتنا اہلِ بیت کو حضور ﷺکی وجہ سے چاہتے ہیں اس کی کسی اور مذہب میں مثال نہیں ملتی مگر ہماری وہ محبت اس وقت کہیں سوجاتی جب ہم یزیدی رویہ رکھنے والے لوگوں سے تعاون کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ ہم ہلکی سے ہلکی نیکی بھی کرتے ہوئے کہیں دکھائی نہیں دیتے تاکہ ان کی سنت کچھ تو ادا ہو جو امت پر قرض ہے؟ یعنی کہ اگر ہاتھ سے یا منہ سے روکنے طاقت نہیں ہے تو کم ازکم دل سے برا سمجھیں اور کراہیت کے ساتھ خاموشی اختیار کریں بجا ئے ان کے درباروں کی رونق بڑھانے کے لیئے حاضری دیں۔ کیا حضرت امام حسین ؑ نے یہ سوچ کر قربانی نہیں دی ہوگی کہ وہ ؑ عملی مثال قائم جائیں کہ ایسے مواقع پر مومنوں کیا کرنا ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ جو لوگ کھلے عام اسلامی شعار کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ان سے کبھی تو کراہیت کریں؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

دکھا تا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

جہاں تک میری یاداشت ساتھ دے رہی ہے یہ زیادہ دن کی بات نہیں صرف بیس سال پہلے کی بات ہے۔کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی جبکہ پاکستان میں ایک جنرل بہادر مہربان کی جنکا نام تھا مشرف اور امریکہ میں بڑے بش کے بعد بش جونیر کی حکومت تھی تاکہ وراثت میں ملنےوالے حکمراں کا مزہ وہ بھی چکھ لیں جوکہ ہمارے یہاں تو عام ہے۔ ان کے یہاں یعنی امریکہ اس سے پہلے اس کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔اس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں طالبان کی حکومت تھی جسے وہ اسلامی حکومت کہتے تھے۔ جس میں آلودگی کے طور پر بہت سے مقامی رسم ورواج بھی شامل تھے۔لیکن سرمایہ پرستوں کی آنکھ میں یہ پھر بھی کھٹک رہی تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں اپنے اوپر دوسرے کو ترجیح دینے کا نظریہ تھا؟ جبکہ سرمایہ داری نظام میں ضرورت مند کا خون چوسنا اور جوپھنس جا ئے اس کی مجبوری سے ہر طرح فا ئدہ اٹھانا جائز ہے؟ اور بہانہ یہ تلاش کیا کہ فلاں، فلاں کوہمارے سپرد کردو جو کہ ہمارے خیال کے مطابق911 کی سازش کے پیچھے تھا؟ جبکہ افغانستان کا رواج یہ ہے کہ جسے کوئی وہاں کا باشندہ پناہ دیدے تو وہ اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر اپنا مہمان نہیں دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ملنا تھا جو کہ ملا؟ جبکہ یہ تاک میں تھے کہ کوئی اور یاہم سب ملکر وہاں سے طالبان کی حکومت ختم کرکے وہاں اپنی جمہوریت نافذ کردیں اور اپنےمہرے بٹھا دیں؟ امریکہ نے حملہ کردیا اور پاکستان کو دھمکی دی کہ تم یا تو ہمارا ساتھ دو؟ ورنہ بقول جنرل صاحب کہ انہوں نے کہا کہ“ ہم تمہارے ملک کو پتھروں ں کے زمانے میں پہنچادیں گے؟ اس لیئے انہوں نے بڑی بہادری کے ساتھ سر جھکادیا جس کا نتیجہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے؟ یہاں ہمیں نہ جانیں کیوں حضرت ابن تیمیہ (رح) کا یہ قول یاد آرہا ہے کہ “جب تم اپنا حکمراں منتخب کرنے لگو تو اس میں بہادری اور تقویٰ دونوں تلاش کرو؟ لیکن کسی میں اگرتقویٰ کم ہو اور بہادری زیادہ ہو تو اسے ترجیح دو کیونکہ تقویٰ اس کی ذات کے لئیے ہوگا جبکہ شجاعت ملت کے لئیے ہوگی “۔
جبکہ انہوں نے یہ سوچنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کی ابھی کچھ ہی دن پہلے جس قوم نے روس کی سپر پاور کو وہا ں سے مع اپنے ساز سامان کے ساتھ جانے پر مجبور کردیا تھا۔ کیاوہ ہمارے ساتھ بھی اسی طرح پیش نہیں آئے گی کیونکہ یہ ان کی تاریخ ہے؟ اور ہم ہی نہیں ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو بھی وہاں حملہ آورہوا وہ اپنا سر وہاں پتھروں سے پھوڑتا رہا آخر کار تھک کر خود ہی واپس چلاگیا،مگر انہوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے؟ اسی دور میں ہم نے اس پر ایک آرٹیکل لکھا تھا، جس میں پیش گوئی کی تھی امریکہ یہ ایک بہت بڑی غلطی کرنے جا رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ بڑے بش صاحب کہیں گے بیٹا کمبل چھوڑ دے اور تو بھاگ آ؟ ایسے ایک نہیں کئی مواقع آئے مگر ان کے جانشینوں نے بہت بہادری دکھا ئی مگر وہ بھی فتح سے ہم کنار نہیں ہوسکے؟ نتیجہ کے طور پر انہیں بار مان کر اجتماعی طور پر یہ کہنا پڑا کہ تم کمبل چھوڑ دو اور سب بھاگ آو؟ لیکن کمبل انہیں چھوڑ ہی نہیں رہا تو پھر وہ بھاگتے کیسے؟ جبکہ دوسری طرف دنیا کی واحد سپر پاور کی مونچھ کا سوال بھی حائل تھا۔ اس مرتبہ جب یہ ہی صورت ِ حال تھی تو پاکستان میں ایک پٹھان عمران خان کی حکومت تھی جوکہ پٹھانوں کے رسم ورواج کو جانتے تھے جبکہ وہ جنرل نہیں تھے؟ مگر وہ اور ان کے دور کے جنرل ایک ہی پیج پر تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ افغان مسائل کا حل جنگ سے نہیں صرف میز پر بیٹھ کر نکالا جاسکتا ہے؟آخر کادنیا کی واحد سپر پاور کو ہار ماننا پڑی اور پاکستان کی خدمات اس سلسلہ میں حاصل کرنا پڑیں ،جبکہ ان کی آخری وقت تک کوشش یہ ہی رہی کہ وہاں سے با عزت طریقہ سے جان چھوٹ جا ئے؟ مگر دونوں ہاتھوں میں لڈو صرف عقلمندو ں، قسمت والوں اور حکمت سے کام لینے والوں کو ملتے ہیں۔ جبکہ ان کے ساتھ اللہ بھی ہوتا ہے؟ جو فرماتاہے کہ میں جس کو چاہوں عزت دوں، جس کو چاہوں ذلت دوں؟ جس کو چاہوں زمین کی بادشاہت عطا کردوں اور جس سے چاہوں چھین لو ں؟ دیکھو خبردار رہو! زمین پر فساد مت پھیلاتے پھر نا،ظلم سے بچنا،کیونکہ مظلوم کی فریاد مجھ تک فوراً پہنچ جاتی ہے اور مجھے بدلا لینے میں دیر نہیں لگتی؟ یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ شروع سے فرماتا چلا آرہا ہے جوکہ قدیم صحیفوں میں بھی تحریری شکل میں موجود تھی تورات اور انجیل میں بھی تھی نیز اللہ کی اس دور کے لئے موجود کتاب ِ ہدایت قرآن میں بھی ہے۔ لیکن طاقت کے نشہ میں لوگ بھول جا تے ہیں کہ اللہ بھی ہے۔ جبکہ وہ فرماتا ہے کہ یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ میں انہیں سال میں ایک دو جھٹکے دیتا ہوں تاکہ یہ باز آجا ئیں لیکن پھر بھی یہ توبہ نہیں کرتے؟ اگر ساری قومیں بھی حضرت یونس ؑ کی قوم طرح کی توبہ کرلیتیں تو کتنا اچھا ہوتا؟ مجھے ان پر عذاب نہیں نازل کرنا پڑتا۔ کیونکہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں؟ ایک جگہ قرآن میں یہ بھی ہے کہ مجھے کیا پڑی ہے کہ میں کسی کو خوامخواہ عذاب دوں؟ اگر لوگ میری با ت مان لیا کریں؟ مگر ہمیشہ سے ہوتا یہ چلا آیا ہے کہ وقت حکمراں یہ جانتے ہوئے بھی کہ خالق موجود ہے اس کے باوجود اس کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے ہیں؟ اور بعد میں اس کاعبرت ناک نتیجہ بھگتے ہیں۔ جوکہ پرانی کتابوں میں بھی موجود ہے اور تاریخ میں بھی موجود ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ اس کے ساتھ وعدے کرکے اقتدار میں آجاتے ہیں جو کہ بعد میں پورے نہیں کرتے اور وہ انہیں نکال باہر کرتا رہتاہے۔ میرا مشورہ یہ ہے جو لوگ اب اقتدار میں معجزاتی طور سے آئے ہیں وہ یہ غلطی نہ دہرائیں تو فائدے میں رہیں گے؟ کیونکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ میں شکر کرنے والوں کو زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتے ہیں ان کے لئیے میرا عذاب بھی شدید ہے۔خبریں آرہی ہیں کہ طالبان بھی زمانہ سازی کر رہے ہیں؟ مگر مجھے یقین نہیں آرہا ہے اس لئیے کہ“ غازی“ اور زمانہ سازی دو متضاد چیزیں ہیں۔ لہذا میرا مشورہ ان کی بھلائی میں یہ ہی ہے کہ اصل اسلام نافذ کریں تاکہ ان کے ساتھ اللہ نصرت بدستورقائم رہے اور انجام بخیر ہواور پہلے کی طرح انہیں پچھتانا نہ پڑے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

اللہ سے ڈرو اور صدیقین میں شامل ہوجا ؤ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر 119 میں حکم دیا ہے کہ “اللہ سے ڈرو اور صدیقین میں شامل ہو جا ؤ “ اس سے اچھا موقع ملے یا نہ ملے اور یہ بھی حکم ہے کہ نیک کام میں دیر نہیں کرنا چا ہیئے لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ سب کو اس حکم کی تعمیل فوراً شروع کردینا چاہیئے کہ جلسے جلوس کا مہینہ ہے،مجالس ہورہی ہیں آسانی بھی ہے۔ مجھےخوف آرہا ہے کہ اگر یہ ہی لیل ونہار رہے تو نئی نسل ایک قدم اور کہیں آگے نہ بڑھ جا ئے کہ انہوں نے اپنے مستقبل کے معاملات جیسے کہ انہیں کیا بننا ہے، یااپنی شادی بیاہ وغیرہ کہاں کرنا ہے اپنے ہاتھ میں لے لئیے ہیں؟ اورصرف بزرگوں کواپنے کئے پرٹھپہ لگا نے کام دیدیا ہے۔ اسی طرح وہ مستقبل میں اچھے مسلمان بننے یا رہنے کا مسئلہ بھی اپنے ہاتھ میں نہ لے لیں؟ یہ سوچ کر کے کہ کسی نسل کی بگڑی ہو ئی عادتیں بڑی مشکل سے جاتی ہیں؟ اگر میں یہ کہوں تو حق بجانب ہوں کہ یہ صدیقو ں ؑ کا مہینہ ہے انؑ کا مہینہ ہے جنہوں نے اسلام کی صداقت ثابت کر نے کے لئے اپنی جا نیں دیدیں ؟مگر ایک منکر عاقبت کے ہاتھ میں ہاتھ دیناپسند نہ کیا جیسا کہ حضرت امام حسین کے شہادت سے پہلے شمر کے ساتھ مکالمے سے ثابت ہے کہ اس نے کہا کہ ً‘ آپ کے لئیے سب کچھ حاضر ہے آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کیو ں نہیں کرلیتے؟ حضرت امام حسین ؑنے فرما یا کہ‘ میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ کیسے دیدوں جو کہ آخرت پر یقین نہیں رکھتا؟ اور اس طرح انہوں نے دنیا کو دو قرآنی لفظ تقو اللہ اور کونو من الصادیقین کے عملی معنی دکھا دیئے اور مثا ل پیش کردی کہ ہماری وہ خصو صیت کیا تھی؟ جوکہ ہم میں سے ایک خاتون، یعنی خاتون جنت سلام اللہ علیہاکو خاتون ِ جنت اور انؑ کے دونوں شہزادوں حضرت حسنؑ اور حسین ؑکو سرداران ِ جنت قرار دیا گیا۔ نیزامت کے خواص و عوام کو پانچوں وقت کی نمازوں میں ہی نہیں بلکہ ہر نماز کی ہر رکعت میں چاہیں وہ فرض ہو یا نفل، “ہم جیسا ہونے کی دعا کرنے کے لیئے سورہ فاتحہ میں ان الفاظ کی تلاوت کاحکم دیا گیا جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہً“یا اللہ ہمیں ان کے راستے پر چلا جن پر تیری نعمتیں نازل ہوئی ان پر نہیں جن پر تیرا غضب نازل ہوا ً“ آج ہم جو دنیا کے سامنے اپنی موجودہ شکل میں اسلام کے جتنے برانڈ پیش کر رہے ہیں کیا ان میں کسی فرقے میں وہ کردار موجود ہے کہ کسی منکر قیامت کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے کوئی انکار کردے جبکہ یہ مرض آجکل عام ہوگیا ہے پھیلتا جارہا ہے جسکا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی پورا اسلام نافذ نہیں ہے۔ اس لئیے کہ اسلام نہ ہی حکمرانوں کو پسند ہے۔ اور نہ ہی عوام کو پسند ہے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد نظام ہے جو اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے کی ترغیب دیتا ہے، مظلوموں کی کھال کھینچنے کی نہیں ہے۔؟اسلام میں ایسے لوگوں کی گنجا ئش نہیں ہے جوکہ کچھ اسلامی قوانین مانتے ہوں اور کچھ نہیں۔؟کیونکہ اسلام کی شرط ِ اول یہ ہے کہ پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجا ؤ؟ جوکہ مسلمانوں کی اکثریت میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ وہ جوان میں کوالٹی یکھنا چا ہتا ہے۔ وہ خدا خوفی اور صداقت ہے؟ لیکن آجکل کے مسلمانوں کی اکثریت کیا ہے؟ وہ ہے عوامی زبان میں ً ڈھل مل یقین ً ایسا یوں ہوا کہ ہم نے کوالٹی کا خیال ہی نہیں رکھا تعداد کا خیال رکھا۔ اصل میں اس کی اصل وجہ خود مسلمانوں کی اسلام سے لا علمی یاکم علمی ہے۔ کیونکہ 95فیصد لوگ آج اس بنا پر مسلمان ہیں کے ان کے باپ دادامسلمان تھے؟ جنہیں اپنے ہی فرائض نہیں معلوم کہ بطور والدین ان کے فرائض کیا ہیں؟تو اولاد کے فرائض وہ کیا وہ ادا کرتے؟ یہ ہی کرسکتے تھے کہ بچے کی پیدائش پر اگر ان کو اذان آتی ہو ئی تو انہوں نے خود ایک کان میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہہ دی اور بچہ مسلمان ہوگیا؟ اگر اذان ان کو نہیں آتی ہوتی تو مسجد کے مولوی صاحب کو بلا کے بچے کے کان میں دلوادی؟ جبکہ اسلام نے بچے کواچھانام دینا، حلال روزی پر پرورش کرنا اور اچھی تربیت دینا اسلامی اخلاق سکھانا والدین کی ذمہ داری رکھا اور اسکا بڑا ثواب بھی رکھا۔ ان میں سے سچ بولنا سب سے پہلی شرط تھی؟ اگر والدین خود ہی سچ نہ بولتے ہوں؟تو بچوں سے سچ بولنے کی امید کیسے کرسکتے ہیں۔؟ جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان میں سارے دنیا کی برائیاں اور عیب ہوسکتے ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔پھر اس سے ملحقہ برائیوں کی طویل فہرست ہے کہ مثلا ً بد عہد ہم میں سے نہیں۔ خیانت کرنے والا ہم میں سے نہیں وغیرہ، وغیرہ۔ اس پر ظلم یہ کہ والدین کی ترجیحات میں اچھا مسلمان بنا نا آجکل شامل نہیں ہے؟ کیونکہ اچھا مسلمان بننے کے لئے اچھا انسان ہونا ضروری ہے؟ اور اچھا انسان کماؤ پوت آج کے دور میں ہر گز نہیں بن سکتا۔ کیونکہ نہ وہ رشوت لے گا نہ لینے دیگا،نہ بد عنوانی کریگا نہ کرنے دے گا۔؟جبکہ اسلام کے اصولوں میں سب سے اہم اصول یہ ہی ہیں جو کہ ہمارا آج کا عنوان ہے کہ اللہ سے ڈرو اور صدیقین میں شامل ہوجا آ۔ جبکہ ہم اس سے بہت دور ہوچکے ہیں۔ حالانکہ ہم ہمیشہ یورپین ملکو ں کی نقالی کر نا پسند کرتے ہیں مگر صرف فیشن میں؟ ان کی بھی اچھی باتیں ہم اختیار نہیں کرتے ہیں، مثلاً انصاف اور قانون کی بالا دستی؟جو کہ کبھی ہم میں تھی مگر آجکل جوکہ ان میں سب سے زیادہ ہیں۔ پوری دنیا اخلاق کے اعتبار سے تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ پھر بھی کچھ ملک اچھائی میں اپنی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ جیسے جاپان کہ وہاں اگر کوئی شخص کوئی چیز بھول جا ئے یا اس کی کوئی چیز راستے میں گرجا ئے تو کوئی اٹھاتا نہیں ہے اور وہ مالک کو وہیں پڑی ملتی ہے۔وہ الٹے پیرو ں واپس جاتا ہے اوراپنی چیز پڑی پاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے اس پر تحقیق کی ضرورت ہے اسلامی ممالک میں چونکہ حکم یہ ہے کہ جہاں علم ملے وہاں سے حاصل کرو؟۔ اُس کے لیئے اسلامی ملک کمیشن بنا کر اس پر تحقیقات کرائیں کہ یہ معجزاتی لوگ کیسے بنے؟ جبکہ یہ خوبی کبھی مسلمان ممالک میں ہوا کرتی تھی؟ کہیں انہوں نے اور قدروں کی طرح اسمگل تو نہیں کرلی؟جبکہ وہاں وجہ یہ تھی کہ چوری کرنے پرہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔ مگر اب اللہ کے نام پر بنے مسلمان ملک پاکستان کی حالت یہ ہے کہ وہاں اچکے خواتین کے پرس زبردستی چھین کر بھاگ جاتے ہیں اور وہیں موجود لوگ ان کے اس کار خیر میں مداخلت کرنا اس لیئے مناسب نہیں سمجھتے کہ اول تو جان کو خطرہ ہے۔دوسرے عدالتوں میں مقدموں کو نبٹانے میں سالوں لگ جاتے ہیں لہذا لوگ عافیت اسی میں سمجھتے ہیں کہ جدھر کوئی واردات ہورہی ہو اس طرف سے منہ پھیر لو؟ اور وہاں کے لوگوں کی یہ ادایہاں سے جانے والوں کو شرمندہ کردیتی ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں رہے والو ں نے اسپر قابو کیسے پایا ہوا ہے؟ یہ بڑھی ہوئی اخلاقی قدروں کی وجہ سے نہیں ہے؟ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے انہوں نے ایسے طریقہ کار ایجاد کر لیئے ہیں کہ ہر قسم کے چور کو خود احتیاط کرنا پڑتی۔ کیونکہ یہاں یہ رواج نہیں ہے کہ جو ایک دفعہ ملازمت میں آگیا وہ بوڑھا ہوکر یا ریٹائرڈ ہوکر جا ئے گا۔ بلکہ انہوں نے ہائر اور فائر کا اتنا کم فاصلہ رکھا ہوا کہ لوگ خود ڈرتے ہیں اور احتیاط کرتے ہیں کیونکہ فائر یعنی برطرف ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

عذاب اور آزمائش میںفرق ہے۔۔۔ شمس جیلانی

جکہ فرق عام طور پرعوام نہیں سمجھتے اور دونوں کو ایک ہی معنوں میں استعمال کرتےہیں؟ نہ جانیں علماء کیوں اس کی وضاحت کسی عوامی ضرورت یا اپنے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں اور وضاحت نہیں فرماتے ؟۔ جبکہ اس کی وضاحت بہت آسان ہے اور یہ بات ہر ایک کومعلوم بھی ہے اور اس سے کسی کاراز فاش بھی نہیں ہوتا نہ ہی کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے اور بآسامنی سمجھ بھی جاتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ وہ بعد میں اپنی اصلاح کرے یا نہ کرے مگر اسے علماء خبردار ضرور کرسکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر کسی کے تعلقات اللہ سبحانہ تعالیٰ بہت ہی اچھے ہیں اور وہ مشکل میں ہے؟ تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ عذاب یا مصیبت میں نہیں، بلکہ ابتلاء یا آزمائش میں مبتلا ہے اور اللہ اسے مزید نواز نے والا ہے؟ جن کا اللہ پر پختہ ایمان ہے ہم نے ہر آزمائش پر انہیں خوش ہوتے دیکھا ہے اور اپنے اہل ِ خانہ کو بھی یقین دلا تے دیکھا ہے کہ “ بچوں! خوش ہوجا ؤ ابھی اور بھی اچھا زمانہ آنے والا ہے“ اور میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں کہ ایسا ہی ہوا کے آخرکار جلد یا بدیر وہ نوازے گئے؟ یہ عنوان میں نے اس وجہ سے منتخب کیا ہے۔ کہ اگلا مہینہ اہل ِ بیت ؓ کے لیئے ابتلا ءکا مہینہ ہے۔ جس سے ہر مومن کو عمر کے کسی نہ کسی حصہ میں ضرور گزرنا ہوتا ہے۔ اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کائینات کی تخلیق کا مقصد ہی یہ ہی بتایا ہے کہ ہم کھوٹےاور کھرے کو آزما کر یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ کون جنت کا مستحق ہےاور کون جہنم کا اور کس درجہ کا تاکہ روز محشر عوام بھی ہمارے دربار عام میں دیکھ سکیں کہ ہم انصاف کیسے کرتے ہیں؟۔ اسی لئیے ایک شاعر کہہ گیا ہے کہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے؟ جتنے بھی مومن ہیں ان کو ابتلاء سے گزرنا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نےقرآن پاک میں بار، بار فرمایا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بغیر امتحان لیئے کسی کو ہم پاس کردیں گے وہ غلطی پر ہے ہم امتحان ضرور لینگے۔ وہ اس لیئے کہ اس نے جن پر تمام نعمتیں اپنی ختم فرمادیں، دنیا میں جن کو انسان کامل بنا کر بھیجا۔ رحمت اللعالمین بناکر بھیجا حوض کوثر کامالک بنا کر بھیجا ،شفیع محشر بنا کر بھیجا اور حتیٰ کہ اپنا محبوب بنا کر بھیجا۔انﷺ کا خود کا اپنے بارے میں ارشاد ِ گرامی یہ ہے کہ میںﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ آزمایا گیا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہوئی جو جتنا زیادہ اسے محبوب ہواوہ اتنا ہی زیادہ آزمایا گیا سارا قرآن پڑھ جا ئیے نبیوں ؑ کی آزما ئشوں اور ان کے جلیل القدر بننے کے قصے اورآزمائیشیں پر ہیں جن پر وہ پورے اترے ان کی تعریف کی گئی ہے کہ “ ہم نے اسے ہر طرح آزمایا اور وہ پورا اترا، جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور اسمعٰیل علیہ السلام کا قصہ؟چونکہ اللہ نے حضورﷺ کو اولاد ِ نرینہ دیکر واپس لے لی تھی؟ لہذا کفار بغلیں بجا نے لگے تھے کہ انہیںﷺ چھوڑے رہو اورتھوڑے دن انتظار کر لو، ان کی اولاد نرینہ تو ہے نہیں انﷺ کا نام نشان تک نہیں رہے گا۔ اس لیئے کہ یہﷺ تو ابتر ہوگئے ﷺ۔ ہیں جس کا جواب اللہ سبحانہ نے تعالیٰ نے انہیں ابتر فرما کر ان کے بارے میں پیش گوئی کی کہ ابتر یہ ہونگے آپﷺ نہیں؟ یہ دنیا کا پہلا حسب و نصب تھا جواللہ سبحانہ تعالیٰ نے صاحبزادوں کے بجا ئے صاحبزادی ؓ سےچلایا اور انکی ﷺ بیٹیؓ اور نواسوں کو جنت کی سرداری عطاکی اور یہ اس کا حل تھا کہ حضورﷺ پر نبوت ؑ ختم کرنا تھی۔ لہذااصولی طور پر انہیں بھی اتنا زیادہ آزمانہ ضروری تھ کہ صفت انصاف پر حرف نہ ۤانے پائے۔ کیونکہ اللہ کے منصف ہونے کا تقاضہ یہ ہی تھا۔کہ وہ سب سے زیادہ آزما ئے جا ئیں اور وہ آزما ئے گے اور ان کے پورے گھرانے کو سوائے ایک بچے کے ظالموں کے ہاتھوں سے انتہائی بیکسی اور بے رحمی کے ساتھ طے تیغ کرادیا گیا جس کا قرآن میں ذبیح عظیم کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ تاکہ دشمنو ں کی اولاد فخر سے اپنے باپ دادا کانام بھی نہ لے سکے اور یہ بھی کلیہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بیٹا اپنے بزرگوں پرفخر نہیں کرتا اگر وہ قابل فخر نہ ہوں؟ اور اگر کرے گا بھی تو جبھی تک چلے گا جب تک وہ اقتدار میں ہے جہاں اقتدار سے گیا ظالم کا نام تک مٹ جا ئے گا؟ چونکہ قریش بہت اپنی خاندانی وجاہت میں بڑھ گئے تھے اس پر تلواریں میان سے نکال لیتے تھے کہ کس کا خاندان قابل ِ فخرہے۔ اسے مٹانے کے لیئے حضور ﷺ نے اس کی سخت مذمت فرما ئی ہے کہ ارشادِ گرامی ہے کہً جو تین نسلوں سے زیادہ اپنے خاندان پر فخر کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ًلیکن آج بھی اسلام میں فخر کا سلسلہ چلا آرہا ہے؟ حضور ﷺ کی نسل سے وابسطہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں آپ کو آج بھی مل جا ئیں گے، جبکہ ان ظالموں کا نام لیوا یا ان کے خاندان میں سے کوئی ہوگا بھی تو بھی انکا وہ بیٹا کہلاناپسندنہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ ان کو امت بھی اتنی بڑی عطا فر مائی کہ تمام اپنیا ؑ کی امتیں ملا کر بھی انکی اتنی صفیں نہیں بنیں گی۔

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

اللہ کی ویسی قدر کرو جسکا وہ حقدار ہے تاکہ وہ عزت دے۔۔۔ شمس جیلانی

آج کا عنوان حضور ﷺکے اس فرما ن کا اردو ترجمہ و مفہوم ہے۔ جس میں حضور ﷺنے فرمایا کہ “وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے اور جو چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے نہ پیش آئے؟ اس حدیث کی رو سے حضور ﷺ نے جو ایسا نہ کرے اس کو ایک طرح سے خارج از ا سلام قرار دیدیا ہے۔ جو کہ بہت ہی بڑی سزا ہے۔آپ نے اکثر ترقی پسند مسلمانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ اچھے کام تو وہ بھی کرسکتا ہے اور کرتا ہے! جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا مگر ایسا ہوتا نہیں ہےکیونکہ اچھے اور برے کی تمیز دین ہی سکھاتا ہے ورنہ جمہوریت میں اکثریت جو پاس کردے وہ قانون ہے ؟ اس لیئے یہ ایک ایسی منطق ہے جس کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے کوئی مثال بھی نہیں ہے؟ جو کہ جب کمیونزم کی تحریک اپنے عروج پرتھی اور نظریہ ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی تھی۔ اب معدوم ہوگئی ہے آجکل اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ جتنا دین کمزور ہوتا گیا اخلاقی معیار بھی روز بروز گرتا چلا گیا۔ میں نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ اگر کسی کا کوئی جانور گم ہوجا ئے تو لوگ گاؤں، گاؤں جاکر اس کے ما لک کو تلاش کر کے پہنچا کر آتے تھے اور اس کا کوئی معاوضہ نہ طلب کرتے تھے نہ ہی قبول کرتے تھے۔؟جبکہ اب مرغی باہر نکل جا ئے تو لوگ کاٹ کر کھانا ایک شغل سمجھتے ہیں جوکہ بہت بڑا گناہ ہے اور قیامت کے دن وہ چیز اپنے کندھے پر وہ لادھ کر لا رہا ہوگا جو اس نے قبضہ کی ہوگی یا بزور ِ طاقت چھینی ہوگی۔ سوائے اسلام کے دوسرے دین جو ہیں وہ اتنی تفصیل میں نہیں جاتے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت تک محدود ہیں؟ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو ہر ایک فرد کے حقوق متعین کرکے افراد کو بتلا تا ہے کہ تمہارے حقوق کیا ہیں تاکہ نہ تم کسی کے ساتھ زیادتی کرونہ کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرے؟۔اتنی گہرائی تک دنیا کا کوئی مذہب نہیں گیا ؟اس کی وجہ یہ ہے کسی اور مذاہب نے اپنے دین کے مکمل ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔ جیسے جیسے ضرورت محسوس ہوتی گئی رسم و رواج ہی قانون کا درجہ پاتے گئے۔ انہیں سے کام چلتا رہا۔ اسلام کے بعد مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق کیونکہ معاشرہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے تھا مکہّ معظمہ میں دی جانے والی اذان اب پوری دنیا میں سنی جاتی ہے جوکہ اسلام کا مرکز ہے۔چونکہ قر آن میں یہ حکم آیا تھاکہ تم میں سے ایک جماعت ہونا چا ہیئے جو لوگوں کو دین پہنچائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے تشریف لے جانے پہلے حج الودا ع پر حجاج کے بہت بڑے مجمع میں اعلان فرمادیا کہ جو یہاں موجود ہیں وہ انہیں دین کا پیغام پہنچا دیں جو کہ اس وقت یہاں موجود نہیں اور وہ انہیں پہنچا دیں جو ان کے بعد آئیں اور بعد میں آنے والے اپنے بعد کے آنے والوں کو پہنچا دیں؟۔ اس طرح قیامت تک کے لئیے ایک نیٹ ورک یا محکمہ قائم فرمادیا گیا جو کہ وجود میں آنے کے بعد سے کسی نہ شکل میں آج تک قائم ہے؟ اس معاشرے نے جیسے لوگ پیدا کیئے دنیا کی تاریخ پڑھ جا ئیے سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پائے جاتے۔ نہ ہی دنیا کا کوئی مذہب ایسا جذبہ ایثار پیش کر سکا ہے۔ جبکہ پہلا اصول اسلام کا جوہے وہ یہ ہے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا ہے؟۔ایک غیر مسلم کو کلمہ پڑھتے ہی وہ تمام حقوق حاصل ہوجاتے تھے۔ جو کہ انہیں حاصل تھے جو بانیوں میں سے تھے اور ریاستِ مدینہ چلا رہے تھے سوائے حضورﷺ کے۔ بلکہ بعض چیزوں میں وہ بانیوں سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہوجاتے تھے مثلا کلمہ پڑھتے ہی نو مسلم کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے تھے۔ اور اس کا نیا کھاتا نئے سرے سے لکھا جاتا تھا۔ اور جو کہیں سے بھی ہجرت کرکے وہاں آنا چاہتے تھے۔وہا ں کے مقامی باشندے اپنی حضور ﷺ کے حکم پر نصف جائداد اسے دیدیتے تھے۔ یہ ہی نہیں جب حضور ﷺ فرما تے کہ یہ تمہارے بھائی کھیتی باڑی نہیں جانتے ہیں اپنے باغ اپنی زمین پر کام بھی تم خود ہی کرو اور جب فصل تیار ہوجا ئے تو انہیں آدھی دیدیا کرو اور وہ ایسا ہی کرتے رہے! یہ تھی وہ اسلامی مواخا ۃ جو مسلمانوں کے درمیان رائج تھی۔ یہ میں قصہ کہانی کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ جبکہ حضور ﷺ کےاسوہ حسنہ کا ایک حصہ قلم بند کررہا ہوں جنکی مثالوں سے تاریخ بھری ہوئی آپ حضور ﷺ کی اور انکے صحابہ ؓ کرام کسی بھی سیرت میں پڑھ لیں قدم قدم پر آپ کو ایسی مثالیں ملیں گی؟ یہ اور بات ہے کہ آج ویسے مسلمان نا پید ہیں ؟۔ میں نے آپ کو یہ رخ مدینہ منورہ کی ریاست اسلامی ریاست کا دکھایا کہ آجکل پاکستان میں اس پر باتیں بہت ہورہی ہیں کام کم؟۔ یہ سب کیوں تھا؟یہ یوں تھاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی بزرگی ہر مسلمان مانتا تھا۔لیکن اب فرق یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کو تو مانتا ہے،مگر ان کی بات نہیں مانتا ہے اگر بات مانتا ہوتا تو عمل بھی ویسا ہی ہوتا جیسا کہ اس وقت کے مسلمانوں کا تھا پھر وہ اللہ کے حکم کے مطابق حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتا کیونکہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا بار بار حکم آیا ہے کہ میرے رسول ﷺ کا اتباع میرا اتبا ع ہے۔ اور میرے رسول ﷺ کے کردارمیں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے۔ امت یہ آج جو کچھ بھگت رہی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ کلمہ ضرور پڑھتی ہے قرآن شریف بھی پڑھتی ہے لیکن جو اس میں لکھا ہوا ہے اس پر عمل نہیں کرتی ہے۔ اس طرح ہم اللہ کی بہت باتیں نہیں مانتے اور اس کا وہ حق ادا نہیں کرتے جس کا وہ ہمارا خالق اور مالک ہونے کی وجہ سے حقدار ہے؟ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ فرماتا ہے کہ مسلمان عزت کے حصول کے لئیے غیروں میں گھستے پھرتے جبکہ عزت اور ذلت میرے ہاتھ میں جسے چاہوں عطا کروں۔ وہ جس کو عطا کرنا چاہتا ہے تو فرشتوں میں اعلان کردیتا ہے کہ فلاں کو میں نے عزت دی؟اس اعلان کے ساتھ ہی تمام مخلوق کےدلوں عزت گھر کرتی چلی جاتی نہ اسے دیگیں چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نہ تصویریں اخبار ٹی۔، وی والوں کو پیسے دیکر چلوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ حقوق ادا کر رہا ہوتا ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے نواز رہا ہوتا ہے۔ رہے اللہ کے حقو ق کہ وہ کیا ہیں؟۔ یہ نہیں کہ مالِ حرام سے ان گنت دستر خوان قائم کردیئے جائیں بلکہ یہ ہیں کہ ایک لمحہ کے بھی اس کےدل میں مالِ حرام کے حصول کا تصور بھی نہ آ نے پائے جو اللہ سبحانہ کردیئے حرام کردیئے ہیں۔ چاہیں اس کے نتیجہ میں باپ ناراض ہوجا ئے ماں ناراض ہوجا ئے۔ بیوی بچے ناراض ہوجا ئیں۔ غرضیکہ پوری دنیا ناراض ہوجائے تو ہوجا ئے مگر اللہ ناراض نہ ہونے پا ئے ؟یہ ہے اس کی چاہت کا حق آپ ادا کرکے دیکھیں۔پھر دیکھیں کہ پردہ غیب سے کیا کیا ظہور میں آتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس نقطہ کے سمجھنے کی ہمیں سب توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں یہ بھی فرماتا ہے جو کوئی جو کچھ کر تا ہے وہ اپنے لئیے ہی کرتا ہے میرے اوپر احسان نہیں کرتا ہے جب کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عبادت کرکے ہم اللہ پر احسان کرتے ہیں۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں