ایک ہی راستہ بچا ہے۔ شمس جیلانی

و ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ ہم غیر ملکوں میں آتو گئے ہیں، مگر اپنے دین کو بچا کر رکھنے کے لئے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ہر گھر کے “ اولی الامر“ میں سے کوئی بھی صرف پندرہ منٹ کے لیے ہی سہی ایک مدرسہ قائم کر لے۔ ورنہ آئندہ آنے والے مسلمانوں کے اس سوال کے جو اب میں جو کہ وہ مسلمانوں جیسا نام دیکھ یا سن کر پوچھیں گے کہ کیا آپ بھی مسلمان ہیں؟ تو وہ جواب میں یہ کہا کریں گے کہ“ ہم تو نہیں ہیں مگر ہمارے اجداد تھے“۔ یہ میں خواب کی باتیں نہیں کر رہا ہوں! یہ وہ حقائق ہیں جن سے نئے آنے والے آج کل دوچار ہوتے ہیں اور یہ روز کا مشاہدہ ہے۔ چونکہ میں کنیڈا میں ہوں لہذا میں یہاں کے واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرسکتا ہوں اگر تمام پیش آنے والے واقعات سنا ؤں تو آپ حیرت میں رہ جا ئیں گے اور ان سے ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے؟ مگر اب بیکار ہے، اس لئے کہ کتاب اب کسی کو مفت بھی دو تو بھی نہیں پڑھتا۔ البتہ سوشیل میڈیا بچا ہے جس کے ذریعہ ہم خود کو بچا نے کے لئے ہاتھ پیر مار سکتے ہیں۔ جو بچ گئے انکی بھی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے پہلے کنیڈا آنے والے یورپین امیگرنٹ کے بعد چینی، ہندوستانی، لبنانی اورسکھ مذ ہب کے ماننے والے تھے۔ لبنانیوں نے ایڈمنٹن میں پہلی مسجد بنا ئی جسے اب دوسرے چلا رہے ہیں جوکہ اللہ نے ان کی جگہ بھیجدیئے کیونکہ یہ ہی اس کی سنت ہے؟ اس لیئے کہ انہوں نے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدی اور اس کا نتیجہ وہ ہوا جو کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ ان کے برعکس سکھ برادری نے اپنی زبان ، تہذیب اور مذہب نہیں چھوڑا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان کی قوم زندہ ہے وہ خود زندہ ہیں ان کی کئی نسلیں گزر چکیں ہیں مگر ان سے اگر آپ پوچھیں گے آپ کون ہیں جواب ملے گا کہ ہم “پنجابی“ ہیں۔ جہا ں کہیں بھی وہ گئے سب سے پہلے اپنی عبادت گاہیں بنا ئیں جن کے ساتھ لنگرخانے جاری ہیں جو سب کے لیئے کھلے ہوئے ہیں کمیونٹی ہال ہیں جہاں گرنتھ صاحب (ان کی مقدس کتاب) کا درس ہروقت جاری رہتا ہے۔ لہذا نہ ان کے بچے اپنے دین سے دور ہوئے نہ ہی اپنی تہذیب اور زبان سے وہ محروم ہوئے اس لیئے کہ ان کی مادری زبان ہی مذہبی زبان بھی ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہ اپنی زبان کو فروغ دینے کرنے کی کوشش کرتے ہیں،پنجابی اسکول کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بچے اور بلا تفریق خواتین اور مرد ان عبادت گاہوں میں بطور رضا کار کام کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ اپنی عبادت گاہوں کو دیتے ہیں یہ ہی ان کی کامیابی کےراز ہیں؟ ہمارے یہاں یہ کام ہمارا صرف ایک فرقہ کر رہا ہے وہ ہے اثنا عشری عقیدے کے لوگ جن کا مرکز عراق میں ہے وہ سب اپنے مرکز کو خمس بھیجتے ہیں۔اور یہاں بطور رضاکار بھی اپنی امام بار گاہوں میں جا کر کام کر تے ہیں اور کوئی بھی مذہبی تقریب ترک نہیں کرتے جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور جمعرات کو بھی امام بارگا جاتے ہیں۔ جبکہ انہیں کہیں امام بارگاہ بنا نے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کا مرکز ان کی مدد کرتا ہے یہ دوسری مثال ہے۔ یہ دو مثالیں اس لئیے پیش کیں کہ انسان کہیں بھی رہے، کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔ انکا دین بھی محفوظ رہ سکتا ہے زبان اور کلچر بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بشرط کہ ِ وہ اپنے دین اور کلچر کی حفاظت کرنا چاہیں۔ اگر یہ نہیں کریں گے توان کی پہچان کا وہی عالم ہوگا جو میں نے اوپر بتایا کہ “ ہم نہیں ہمارے اجداد مسلمان تھے “ ایسا کیوں ہوا وہ اس وجہ سے کہ ہم اپنی بقا کے لیئے کچھ زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو یہ صورت ِ حال ِ پیدا نہ ہوتی؟ جبکہ ہمارے یہاں بلا تفریق فرقہ ہر ایک کی ذمہ داریاں مقرر ہیں۔ جہاں بچے ذمہ دار ہیں والدین کی خدمت کرنے کے لیے، وہیں والدین ذمہ دار ہیں ان کی اسلامی طریقہ پر پرورش کرنے کے لیے؟ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہمیں لوٹ کر اللہ کے سامنے واپس بھی جانا ہے؟ اس سلسلہ میں وہاں جب سوال ہوگا تو ہم کیا جواب دیں گے۔یہ سوچنے کے لیئے میں والدین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سوچ لیں کہ وہاں جاکر اپنی صفائی میں کیا عذر پیش کریں گے؟ جبکہ بچے تو یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جا ئیں گے کہ ہم کیا کرتے ہمارے والدین نے اپنی ذمہ داریا ں پوری ہی نہیں کیں اور ہمیں کچھ بتا یا ہی نہیں؟ اب بھی عمل کا وقت ہے آپ نے یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ“ ریت میں منہ چھپالینے سے طوفان نہیں ٹلا کرتے“ یہ ہمارا المیہ ہے ہم نے کسی معاملے میں بھی وقت سے پہلے نہیں سوچا؟ہم ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد سوچنے کے عادی ہیں۔ میں نے شروع میں ایک لفظ استعمال کیا تھا “ اولی الامر “ اس کے لئے آپ سورہ نسا ء کی آیت نمبر59 پڑ ھ لیجئے۔ اس آیت میں تین شخصیتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اور انکےا تبا ع کا حکم دیا گیا ہے۔“ اللہ سبحانہ تعالیٰ، رسول کریم ﷺ اور اولی الامر منکم۔ “ شروع میں، میں نے اولی لامر کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تفسیر پر فقہ میں بڑا اختلاف ہے کہ اس سے مراد کیا ہے؟۔ جبکہ قرآن پاک میں اللہ اور رسول ﷺ کریم کے بعد یہ لفظ آیا ہے۔ یہاں میری مراد وہ شخصیت ہے جس کی بات کہیں چلتی ہو؟ جس کی گھر بھی ایک اکائی ہے؟ کیونکہ جس کی بات ہی نہ چلتی ہو اسے یہاں مخاطب کرنا ہی بیکار ہے؟۔ اگراس بحث کو میں یہاں چھیڑوں تو فقہ کی طرف جانا پڑے گا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بعدجن کاﷺ ذکر کیا ہے وہ ہمارے لیئے کتنے اہم ہونا چاہیئے اور معاشرہ میں انکا (ص)کا کیا مقام ہونا چاہیئے ہر صاحب فہم سوچ سکتا ہے؟۔ کیونکہ ہماری تاریخ میں اولی الامر ایسے بھی تھے، ہیں اور پہلے بھی ہو گزرے ہیں جنکا کہیں حکم نہیں چلتا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے کہ ان کی موجودگی کے باوجود جوسردار بھی جتنے حصہِ زمین پر قبضہ کرلیتا اس کو وہ بادشاہت کی سند دیدیتے تھے۔دین میں اللہ سبحانہ تعالٰی نے اپنے بعدحضور ﷺ کو جگہ عطا فرما ئی ہے۔لہذا حکم اور ترتیب کے لحاظ سے رہنمائی لینا چاہیئےصرف حضور ﷺ سے ۔چونکہ اللہ سبحانہ نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ تمہارے نبی کے اسوہ حسنہ (ص) میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے سورہ الاحزاب آیت نمبر٣٣ ۔ اس لئیے ہونا تو یہ چا ہیئے تھا کہ ہر ایک ہر معاملہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھتااور ان کے نقشِ پاتلاش کر کے اس پر عمل کرتا مگر افضلیت چونکہ علما ء اور ان کے فتوؤں کو حاصل ہے؟ لہذا نہ کوئی اسوہ حسنہ (ص) کو تلاش کرتا ہے نہ اس پر بات کرتا ہے۔ حالانکہ جو علم ان کے پاس تھا وہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ پھر انہوں نے عمل کر کے بھی دکھا یا کہ یہ کیسے کیا جا ئے گا؟ جبکہ ہمیں ہدایت دوسرے عطا کر رہے ہیں کہ ہم کیا اور کیسے کریں ۔ یہ ہے وہ فرق جوکہ دین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔مثلاً جتنی مکی سورتیں ہیں ان میں عذاب کا ذکر زیادہ ہے آج کے حالات میں وہ سنانے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ جبکہ مدینہ منورہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں۔ ان میں رحمت اور ثواب کا ذکر زیادہ ہے۔ تو کلیہ یہ ہوا کہ جب لوگ سرکش ہوں تو انہیں ڈرا جا ئے اورجب لوگ اطا عت کی طرف مائل ہوں تو انہیں خوشخبریاں دی جا ئیں۔ لیکن علما ء اور خاص طور پرگدی نشین مشائخ موجودہ مسلمانوں کی تمام برا ئیاں دیکھتے ہوئے بھی بس ایک ہی جملہ کہتے رہتے ہیں کہ “اللہ بڑا رحیم ہے وہ معاف کر دے گا۔“ بے شک وہ ایسا ہی ہے اس میں کسی مسلمان کی دو را ئیں نہیں ہوسکتیں“ لیکن ساتھ میں توبہ کا طریقہ کار بھی بتایا جا ئے کہ اس کا طریقہ کیا ہے۔ جبکہ وہ فرما رہا ہے کہ“ میں اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا“۔لہذا اس کے سامنے معافی کے لئے پیش ہونے سے پہلے جو بندوں کے حقوق کسی نے مارے ہیں پہلے وہ انہیں جاکرمنا ئے۔ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے پکی توبہ کرنے کے لیئے پیش ہو تو وہ معاف فرما دے گا۔ کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہں ،بس تم میری بات مان لیا کرو؟ بغیر توبہ کی شرائط پوری کیئے ہو ئے اس کے سامنے پیش ہونے کے لیئے مشورہ دینا نہ جانے کس قانون کے تحت ہے؟ یہ مشورہ دینے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ جوکہ امت کی غلط راہ روی کاباعث ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

مسلم قوم کا المیہ یہ ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس کو متحد کرنے کے لئیے جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ حتیٰ کے اتحاد کی کوشش کرنے والےلوگ اپناقد اور قامت کھوبیٹھے۔ وجہ پراگر آپ غور کریں گے تو آپ کو اس نتیجہ پر پہنونچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ مسلم امیہ سورہ الانعام آیت نمبر65کے تحت عذاب کا شکار ہے۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نےتین عذابو ں ذکر فرمایا ہے کہ میں اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوں پیروں کے تلے سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوںاور تمہیں ٹکڑیاں کر کے آپس میں لڑا دینے پر قادر ہوں۔حضورﷺ کی درخواست پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دو پہلےعذابوں سےاس کو تباہ نہ کرنے کا وعدہ فرمایا، مگر ایک عذاب کے لیے فرمایا کہ یہ اس امت کا مقدر ہو چکا ہے وہ ٹکڑیاں کرکے آپس میں لڑانا۔گزشتہ مرتبہ ہم نے اپنے کالم میں بتایا تھا کہ تقدیرِ مبرم اٹل ہوتی ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے۔ لہذا جتنے لوگوں نے بھی مسلم امہ کو متحد کرنے کی کوشش وہ سب ناکام رہے۔انہیں میں سے ایک نام ہم نے جو ذکر کیا تھا وہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کا تھا۔ انیسویں صدی کی مسلمانوں میں جہالت دور کرنے اور مدارس قائم کرکے جہالت دور کرنے کے سلسلہ میں کلیدی حیثیت گھٹ کر آزاد دائرہ المعارف کی وکی پیڈیا کے مطابق اب صرف دیوبند کے ایک معمولی استاد رہ گئے ہیں۔جبکہ دیوبند کے سلسلہ میں قدم قدم پر حضورﷺ نے رہنمائی فرما ئی؟لہذا اب امید رکھنا کہ کوئی کبھی مسلمانوں کو متحد کرسکے گا۔ قرب قیامت سے پہلے ناممکن ہے۔ اس خادم نے بھی اپنی زندگی کے 90 سال خرچ کیئے نتیجہ صفر رہا۔لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں بھائیوں اپنا اپنا کام کرو،یہ خواب اس جاری عذاب کی موجودگی میں ناممکن ہے۔ کہ تمام دنیا کے مسلمان ملک ایک ہو جائیں یاسارے مسلمان ایک ہو جائیں ۔ بجائے اس کے اب مسلمانوں کو مشورہ یہ دیں کہ شیخ اپنی اپنی دیکھ؟ تو اب ایک راستہ رہ جاتا ہے اور یہ ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ حالانکہ زیادہ نے ہجرت اپنے ذاتی مفاد کے لئیے تھی۔ چونکہ صرف نیت تبدیل کر نے سے اللہ رحمت حاصل کر نے کا ایک مو قعہ باقی ہے۔لہذا جو جہاں ہے وہا ں رہتے ہو ئے روزانہ تھوڑا وقت اپنے بچوں کی تربیت اور تبلیغ کے وقف کردیں اور اسلامی ہجرت کے ثواب کے مستحق بن جا ئیں۔ اس کے لئیے کسی عالم کے پاس جا نے کی ضرورت نہیں ہے؟
اس ایک آیت میں جوکہ سورہ النہل کی آیت125 ہےاللہ سبحانہ تعالیٰ نے پورا تبلیغی کورس اس ایک آیت جمع کردیا ہے ایک مسلمان مبلغ کے لئیے چاہئیں وہ عام تبلیغی مسلما ن ہو یا عالم دو نو ں کی ہدایت کے لئے حکمت سے پر پورا کورس موجود ہے کہ چونکہ اس ایک آیت میں جس کا اردوترجمہ اور تفسیر کا لب لباب یہ ہے کہ جب کسی کواللہ کے دین طرف بلا ؤ تو ہمیشہ یہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہوں پہلی حکمت دوسری بات کرنے کا بہترین انداز جس میں موقع محل سب آجاتا ہے۔لیکن ہم اس پر غور تب ہی کرسکتے ہیں۔ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے تھوڑا سا وقت تبلیغ کے لیئے نکال لیں جس کی سب سے زیادہ حضور ﷺ نے تاکید فرما ئی ہے جس کا خطبہ حج وداع گواہ ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ تم میں ایک جماعت ہونا چاہیئے جو لوگوں کو برائی سے روکے اور اچھا ئی کی تلقین کرے۔ ویسے الحمد للہ اس نام کی ایک جماعت بھی قائم ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے بانی کی قبر کو روشن رکھے جنہوں اس کی بنیاد رکھی ورنہ وہ نہ ہوتے تویہ بھی نہ ہوتی اللہ تعالیٰ جس سے جو چا ہتا ہے کام لیتا ہے۔ جبکہ وہ بھی بالواسطہ شاگرد حضرت امداد مہاجر(رح) مکی کے ہی تھے جو بانیِ دیوبند تھے مگر وہ ناکام رہے نتیجہ یہ ہوا کہ استاد پیچھے رہ گئے وہ آگے نکل گئے؟۔ انہوں نے صرف اپنے ذاتی وسائل پر یہ کام شروع کیا تھا۔ وہ بھی ان لوگو ں پر جو اسلام کے الف اور ب بھی نہیں جانتے تھے جوکہ میؤ کہلاتے کوئی ساتھ لاکھ کے قریب آبادی تھی وہ بھی دہلی کے آس پاس۔ اور وہ اتنے طاقتور تھے کہ جب چا ہتے تھے دلی کو لوٹ لیتے تھے۔انہوں نے ابتدا ء یہاں سے کی کہ وہ کسی گذر گاہ پر کھڑے ہوجا تے اور جب مزدور صبح کو مزدوری کی تلاش میں جاتے نظر آتے تو ان سے پوچھتے کہاں جارہے ہو تو وہ بتا تے کہ مزدوری کی تلاش میں وہ معلوم کرتے کہ کتنی مزدوری لوگے وہ بتا دیتے اور وہ کہتے کہ وہ مزدوری میں تم کو دونگا آج پانچوں وقت کی نماز پڑھو اور اس طرح وہ چالیس دن کا کورس کروادیتے۔ پھر وہ عادی ہوجاتے توفرماتے دیکھو اب نماز چھوڑ نا مت؟ اس کے بڑے فائد ہیں اس طرح چراغ سے جلتا رہا اور کارواں بڑھتا رہا ایک مخلص انسان کی کوشش نے کتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع کردیئے ان کی صحیح تعداد توکسی کو بھی معلوم نہیں، مگرمیرا اندازہ ہے کہ وہ کم سے کروڑوں میں ہے۔مگر ابھی تک ان کا نصاب وہی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ان کے یہاں اسے کچھ زیادہ کار آمد بنا نے کی اتنی کوشش نہیں ہوئی جتنی رقم وہ لوگ اپنی جیبِ خاص سے خرچ کر کے سالانہ مختلف ممالک میں جمع ہو تے ہیں اس طرح اپنا وقت اور مال خرچ کرتے ہیں اپنا کاروبار چھوڑ کرپوری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اس پر قومی وسائل خرچ ہورہے ہیں آج سے نہیں ایک مدت گزرگئی۔ وجہ کیا ہے کہ ہم میں آپس ہم آہنگی نہیں ہے۔ حالانکہ سب کا مقصد ایک ہی وہ ہے اللہ کے دین کی خدمت کرنا اور اس طرح اللہ کی خوشنودی حاصل کر نا۔ وجہ کیا ہے وجہ وہی ہے کہ ہم ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہر ایک اپنی مشہوری یااپنے فرقے کی سر بلندی چاہتا ہے۔ جب کے صرف اللہ کے لئیے کام کرتے ہوتے تو انہیں اپنی یا اپنے فرقہ کی شہرت کی پر واہ نہیں ہوتی؟ اور آج نتا ئج کچھ اور ہوتے؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما ئے(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

علم و حکمت اور مسلمان۔۔۔۔ شمس جیلانی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ اگر میں سورہ فاتحہ کی تفسیر کرو ں تو وہ اتنی ضخیم ہوگی کہ دس اونٹوں پر لادنا پڑے گا۔یہ تو ہے ہادی ِ اسلام ﷺکے ایک نائب کی حالت اسی پر قیاس کر لیجئے کہ پھر صاحب قر آنﷺ کی علم میں کیا حالت ہوگی؟ میں نے اپنے گزشتہ ایک مضمون میں حضور ﷺ کی سائنسی معلومات کے بارے میں ایک دو باتیں بتا ئیں تھیں۔ جس سے میرا مقصد یہ تھا کہ حضورﷺ کی حکمت کے بارے میں لوگ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور دنیا کو بتا ئیں۔ یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ہمارے علماء ان (ص) کے ارشادات پر غور کریں اور ان میں پوشیدہ رموز سمجھیں اور سمجھا سکیں ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ہمارے علماء اس سلسلہ میں کچھ زیادہ کوشاں ہیں اور نہ ہی جو لوگ اس سلسلہ میں کوشاں ہیں ان کی وہ ہمت افزائی کرتے ہیں۔ بلکہ ان کی ہمت شکنی کرنے میں دیر نہیں کرتے یہ کہہ کر کہ تم کیا جانوں دین کی باتیں؟ کوئی بھی طالب علم اپنی اس عزت افزائی کے بعد منہ کھولنے کی دوبارہ کسی عالم کے سامنے ہمت نہیں کریگا۔جبکہ آج کا ہر بچہ انٹر نیٹ کے ذریعہ روزانہ اپنے علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے جو وہ چاہتا ہے معلوم کرتا رہتا ہے؟جبکہ وہاں اسے عالمانہ نوعیت کا علم تو بہت ہی کم ملتا ہے۔ البتہ الٹی سیدھی معلومات اس کے نا پختہ ذہن میں جا کر بیٹھ جاتی ہیں پھر وہ اس کے ذہن سے نکا لے نہیں نکلتیں؟ یہ وہ صورت حال ہے جس سے آج کے مسلمان گزر رہے ہیں۔ اس کا حل یہ ہی کہ علما ئے کرام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور وہ جواب دینے کے لیئے انٹر نیٹ پر وقت نکالیں جوکہ اسلام کے بارے میں نئی اور پرانی معلو مات پر مشتمل ہونا چا ہیے؟ چونکہ پرانی باتیں تو نئی نسل سنتے سنتے تھک چکی ہے۔ تاکہ نئی نسل اپنی اسلامی معلومات کو صحیح سا نچے میں ڈھال سکے۔ بجا ئے اس کے وہ یہ کہدیں قضا اور قدر وہ مسئلہ ہے کہ تم کیا کوئی بھی اس کو نہیں سمجھ سکا ہے؟ یااس مسئلہ پر بات کرنا منع ہے؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم نے قر آن کو آسان کردیا ہے۔ ہے کوئی غور کرنے والا؟جبکہ ہمارے یہاں کوئی غور کرنے اور اپنے علم کو بڑھانے کے لئیے تیار ہی نہیں ہے جوکہ سرکارﷺ کا حکم ہے تو اسلام دنیا میں کیسے پھیلے گا۔ جبکہ اسلامی علوم کاجتنا ذخیرہ اردو میں پاکستان میں تھا وہ دونوں جگہ اردو کی ناقدری کی وجہ سے بازار سے غائب ہوتا جا رہا ہے اور جلد ہی وہ مفقود ہوجا ئے گا۔ جب کہ بازار میں وہی چیزفروخت ہوتی ہے جس کی مانگ ہو ورنہ اچھی اچھی کتابیں فٹ پر پڑی نظر آتی ہیں یا انہیں لائبریری میں ڈیمک کھا رہی ہوتی ہے جوکہ آجکل عام مشاہدہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس علم نہیں ہے کیونکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ قر آن میں ہر خشک اور سوکھی چیز اور ہرمسئلہ کا حل مو جو دہے اگر وہاں نہ ملے تو پھر حضور کے اسوہ حسنہﷺ میں تلاش کریں وہاں آپ کو مل جا ئے گاصرف غور کرنے اور شدید محنت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اسلام بھی دوسرے اَدیان طرح پیچھے چلا گیا ہے اور مزید چلا جائے گا۔ مثال کے طور پر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ کہ ایک شخص انؓ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ مسئلہ قضا و قدر کیا ہے؟ انہوں ؓ نے اسے یہ نہیں فرمایا کہ اس پر بات کرنا منع ہے، یا تم بھی نہیں سمجھ سکوگے کوئی اب تک نہیں سمجھ سکا ہے؟ بلکہ فرمایا کہ اپنا ایک پیر اٹھا ؤ، اس نے اٹھالیا پھر انہوں ؓ نے فر مایا کہ اب دوسرا بھی اٹھاؤ تو اس نے کہا کہ یہ تو میرے لیے ناممکن ہے میں گر پڑونگا۔ آدمی صاحب ِ علم تھا خاموشی سے چلا گیا۔ کیونکہ انہوں ؓ نے دو لفظوں نے اتنا بڑا فلسفہ بیان کردیا تھا کہ وہ مطمعن ہوگیا۔ اگر سوال کرنے والا خود صاحب ِ علم نہ ہوتا تو وہ یقیناًآگے سوال کرتا؟ کیونکہ انہوں نے پورا فلسفہ بیان فرمادیا تھا۔ جس میں یہ بات واضح ہوگئی تھی۔ کہ تقد یر دو قسم کی ہے ایک اٹل ہے جسکو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور دوسری جوہے وہ معلق ہے یعنی وہ اٹل نہیں بلکہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جبکہ مبرم تبدیل نہیں ہوتی وہ لوحِ محفوظ میں لکھ دی گئی۔ اگر ایسا نہ ہو تا تو دنیا کی پیدائش کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں کئی جگہ فرمایا ہے کہ ہم نے دنیا بنائی ہی اس لئے ہے کہ ہم بندے کے اعمال کی بنا پر قیامت کے دن فیصلہ کر یں کہ کون جنت کامستحق ہے اورکون جہنم کا۔ نماز پڑھتے ہوئے میری نوے سال کی عمر ہوگئی ایک سے ایک جید عالم کے پیچھے نماز پڑھی، مگر کسی کو اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا جو کہ اسلام کی اساس ہے۔ زیادتر مسلمان آ پ کو اس مسئلہ پر کنفیوزڈ اور یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ جب سب کچھ پہلے سے لکھا ہو ا ہے تو بندےکا قصور ہے؟ اگرعلماء انہیں تقدیر کی تفصیل سمجھا دیتے تو ان کے ذہین الجھے ہوئے نہیں رہتے۔بہت ہی سیدھی سی بات ہے کہ انسان کو اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا ہے تو کیا خلیفہ بغیر اختیار کے بھی ہوسکتاہے اور پھر اس کا فائدہ کیا ہے؟ مزید آسانی کے لیئے یوں سمجھ لیجئے کہ ہم کسی کو اپنا اٹارنی بنا تے ہیں تو اس کو اپنے سارے حقوق تو نہیں دیدیتے،کچھ دیتے ہیں کچھ نہیں دیتے ۔وہ ہمارے بجا ئے اتنے ہی کام کر سکتا ہے جتنے اسے کرنے کا حق حاصل ہے اگر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تو اس کے بنا نے کا فائدہ کیا ہے جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ہم نے کوئی چیز فضول نہیں بنائی ہے۔ جس کی خلیفہ کو کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ کرنے سے روکا گیا ہے تووہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے اس کے لیے جوابدہ ہے؟ جیسے کہ حضرت آدم ؑ کو منع کردیا گیا تھا کہ اس درخت کے قریب مت جانا جس کا جواب ان کو دینا پڑا جو قرآن میں موجود ہے؟ جبکہ ان کی اولاد کو بہت سی چیزوں سے منع کردیا گیاکہ یہ مت کرو وہ مت کرو؟ پھر یہ بھی بتادیا کہ ہم نے دونوں راستہ بتا دیئے ہیں چاہو تو طاغوت کا اتباع کرو اور اس کے دوست بن جاؤ،چاہو تو صراط ِ مستقیم پرچلو اور ہماری ولایت میں خود کو دیدو یہ بھی فرمادیا کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے۔ سورہ 2کی آیت نمبر256 اور 257 بمع تفسیرپڑھ لیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کسی حد تک خود مختار ہے۔ جبکہ کچھ حصہ تقدیر مبرم پر مشتمل ہے اور تمام کا ئنات اس کی پابند ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انسان کی عمر بڑھتی بھی ہے گھٹتی بھی ہے۔ اس کو اگر سمجھنا ہے ہوتو اس سے سمجھ لیجئے کہ موجودہ سائنس مانتی ہے کہ اگر نظام کا ئینات میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر ہوجا ئے تو تمام نظام درہم بر ہم ہو جا ئے گا۔ مگر معجزہ شق القمر واقع ہوا حضور ﷺ کی ایک انگلی کے اشارے سےدنیا نے دیکھا کہ چاند دو تکڑے ہوگیا مگر نظام کا ئینات اسی طرح چلتا رہا کیوں؟ اس لئیے کہ اس کی گنجا ئش اللہ سبحانہ نے پہلے سے ہی رکھی ہو ئی تھی۔ جس طرح ہر ہونے والی بات اس کے علم ہے اسی طرح یہ بھی اس کی علم میں تھی۔ اس نے فرما دیا ہو جا پس وہ گئی۔

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

اصل اسلام رسم رواج کے نیچے دبا ہوا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

جکل میں حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ پر کام اس لئیے کر رہا ہوں اس کو میں امیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے انٹر نیٹ کے ذریعہ تمام اردو پڑھنے والوں تک پہنچا دوں جو میرے بس میں ہے۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو انگریزی میں میں منتقل کردیا جا ئے جس کوکہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر بیس پچیس سال سے ڈالا ہوا تھا۔ اس رسالہ ِ ہفت مسائل کا ذکر تو آپ کو سب علمی حلقوں اور کتابوں میں ملے گا حتیٰ کہ مولانا ابو کلام آزاد کے غبار ِ خاطر میں بھی موجود ہے کہ“ مجھے میرے ایک استاد کی طرف سے حکم ہوا کہ رسا لہ ہفت مسائل اور انکا حل کے سب نسخے جلا دو، مگر میں نے آ دھے جلا دئے اورآ دھے روک لیئے۔ جس پر خوش ہوکر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒصاحب نے ایک آم مجھے انعام میں دیا“ اس رسالہ میں کیا ہے؟ اس میں وہ سات مسائل انہوں نے زیر بحث لاکر ان کا حل پیش کیا تھا۔کہ انہوں نے اس وقت اس سازش کو پڑھ لیا تھا۔ جس سے اسلامی اخوت کو تار تار کیا جانے والا تھا، تاکہ مسلمان اس فتنہ سے بچ جا ئیں جس سے آج دوچار ہیں؟ مگر ہوتا تو وہی ہے جو مشیت ِ ایزدی ہوتی ہے۔لہذا وہ بزرگؒ اپنی تمام فضیلتوں اور ہزاروں مریدوں اور شاگردوں کے باوجود اپنی اس مہم میں کامیاب نہ ہو سکے اور انہوں نے جن کو اپنا سمجھ کے یہ فرمان بھیجا تھا وہی اس کے جلا نے کے درپہ ہو گئے؟ حالانکہ وہ شخصیت بہت عظیم تھی۔ جنہوں نے دنیا کو دار علوم دیو بند جیسی درسگاہ عطا کر ی جو کہ کبھی ان کی خانقاہ ہوا کرتی تھی۔ کیونکہ علمائے وقت نے انہیں 1857ء میں اپنا بڑا بنا یا تھا اور انہوں ؒ نے مسلمانوں کی تنزلی کا با عث جہالت قرار دیا تھا۔ اسی مصرف کے لیے انہوں نے اپنی خانقاہ دیکر اس منصوبے کی داغ بیل ڈالی تھی اور اسی طرح وہ ہزاروں مدرسے قائم کرنا چاہتے تھے۔ ابھی اس کی ابتدا ہی تھی کہ انگریز ان کے پیچھے پڑگئے اور انہیں ہجرت کرکے مکہّ معظمہ جانا پڑگیا۔جکہ خانقاہ ان کے شاگردوں کے تصرف میں چلی گئی۔ پھر کیا ہوا چھوڑ یئے کیا کریں گے اس کو جان کر کہ دکھ ہی ہوگا، ممکن ہے آپ مجھ سے سوال کریں کے آپ پھر کیوں اس پر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں بھی ان سر پھرے لوگوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے اپنی پوری زندگی “اتحاد بین المسلمین“ میں صرف کردی۔ امت ِ مسلمہ کی بیماری اب بھی وہی ہے، جو انہوں ؒ نے تجویز کی تھی علاج بھی وہی ہے جو انہوں نے ؒ رسالہ ہفت مسائل کی شکل میں مرتب کیا تھا۔ البتہ قوم اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔اور جن کے پاس علم ہے اور امہ کا درد بھی ہے اول تو وہ آٹے میں ہیں ہی نمک کے برابر، پھرجو ہیں وہ اکثریت سے خائف ہیں کیونکہ وہ علم کوعام کر نا نہیں چاہتے؟ اس لیے کہ وہ ان کا ذریعہ معاش ہے، جب فتنے ہی دم توڑ دیں گے تو ان کی اہمیت کم ہوجا ئے گی تو ان کی کون سنے گا؟ مجھے اس کا احساس پچھے دنوں ہواکہ ایک ایسے مفتی صاحب جوکہ پاکستانی ہیں اور ابھی باہر سے فارغ التحصیل ہوکر آ ئے ہیں اور یہاں پڑھا بھی رہے ہیں۔ انہوں نے بڑی بے کسی سےفرمایا کہ اس ملک کی صورتِ حال کیا ہے جسے اسلام کا قلعہ کہتے ہیں؟ یہ ایک ٹی وی چینل پر محفلِ سوال و جواب تھی جو صرف جمعہ اور سنیچر کو ہی ہوتی ہے جبکہ اس میں ہر مکتبہ فکر کے مفتی صاحبان حصہ لیتے ہیں جو روزانہ ہوتی ہے وہ شروع تلاوت قرآن سے اور ختم ہوتی ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک قول پر۔ سوال یہ تھا کہ “ایک خاتون کے شوہر انتقال کر گئے ہیں ان کے سسرال والے ان خاتون کو گھر سے باہر نہیں جانے دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے میکے بھی نہیں جانے دیتے۔ اس سلسلہ میں اسلام کیا کہتا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے پورا پنڈورا بکس کھول دیا۔ جبکہ میں نےگزشہ ہفتے اپنے مضمون میں یتیموں کی جو درگت ہمارے معاشرے میں بنتی ہے اس کا ذکر کیا تھا۔ یہاں مولوی صاحب نے پاکستان میں خصوصاً سندھ میں خواتین کا ذکر کیا ہے۔ کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوتاہے۔ حالانکہ وہ اسے صرف سندھ کا مسئلہ فرما رہے تھے، جبکہ یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ میں تو یہ کہونگا کہ یہ تمام دنیاکی مسلم خواتین کا مسئلہ ہے کہ تھوڑے شروع کے عرصہ سوا مروجہ رسم و رواج نے انہیں ان کے اسلامی حقوق سے کبھی فیض یاب ہونے نہیں دیا؟ جو کہ سندھ اور بلوچستان میں تو اپنے عروج پر ہے۔ باقی پنجاب اور سابق صوبہ سر حد بھی بچا ہوا نہیں ہے۔ جہاں دیکھئے جہالت اور رسومات زور آور ہیں اور خواتین ظلم کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہیں؟۔ جبکہ ان رسموں سے اسلام کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ دراصل مسلمانو ں نے یہ طے کر رکھا کہ ہم کہلا ئیں گے تو مسلمان؟ مگراللہ اور رسول (ص) کی بات مان کر نہیں دیں گے۔ جبکہ مجھے اس محفل کو سن کر حضورﷺ کا خطبہ حج الودا ع یاد آگیا جس میں ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت وآبرو مال وغیرہ سب کو کچھ حرام تو ہے ہی۔ مگر خصوصی طور پر جو حضور ﷺ نے یہ فرما یا تھا کہ تم میں میں (ص) دو کمزور طبقے چھوڑے جا رہا ہوں ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنا وہ ہیں خواتین، غلام اور باندیاں؟ غلاموں اور باندیوں کا مسئلہ تو تقریباً دنیامیں ختم ہوچکا ہے؟ پھر بھی پاکستان میں کہیں کہیں بڑے جاگیرداروں کے عقوبت خانے اور بھٹوں والوں کے جبر خبروں کی سرخیوں میں نظر آجاتے ہیں۔ جبکہ تمام خواتین کی حالت تو ناقابل ِ بیان ہے جوکہ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ پنجاب میں تو ایک دور وہ بھی گزر چکا ہے کہ خواتین کوخلع لینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ نتیجہ کے طور پر کتنی ہی مسلم خواتیں انگریزوں کے دور ِحکومت میں عیسا ئیت اختیارکر کے اپنی جان چھڑاچکی تھیں، تب علامہ راشد الخیری اورؒ میاں سرمحمد شاہنواز نے تحریک چلا کر ان کو بڑی مشکل سے خلع کا حق دلوا یا تھا۔ مگر ماں باپ اور بہن بھائیوں وغیرہ کے ورثے میں سے آج تک حق انہیں مل سکا؟ کہ یہ رواج وہاں عام نہیں ہے۔ جبکہ سندھ میں سب سے گھٹیا درجے کی شادی وہ ہے جس کو حضور ﷺ نے اپنی صاحبزادی صاحبہ سلام اللہ علیہا کی شادی کر کے دکھا ئی تھی اور امہ کے لئے ایک معیار قائم کیا تھا۔ وہ سندھ میں سب سے کم درجہ کی شادی ہے جس عرف ِ عام میں وہاں اللہ نام کی شادی کہتے ہیں یعنی جس میں خرچہ کچھ نہ ہو یاکم ہو؟۔ سب سےبہتر شادی ادلے بدلے کی ہے جس کو سندھی میں وٹے سٹے کی شادی کہتے ہیں۔جس میں فریقین ایک لڑکی بدلے میں دیتے ہیں تو دوسری لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض اوقات پوتی دادا کو دینا پڑتی ہے تو کہیں جاکر پوتے کا گھر بستا ہے؟ یعنی عمر کی کوئی قید نہیں ہے دوسرے جو تم کروگے وہ ہم کریں گےکا اصول کا ر فرما رہتا ہے اگر ایک نےطلاق دی تو دوسرے کو بھی طلاق دینا لازمی ہے۔ انصاف کی حالت یہ ہےکہ بھائی کی غلطی کی سزا جرگہ بہنوں کو دلا دیتا ہے۔ صرف شک وشبہ میں غیرت کےنام پر قتل عام ہے؟ جسے کارا کاری کہتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ اگرمرد ہو تو وہ بھی شہید کہلاتا ہے۔مجھے شکار پور جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے ایک مزار دیکھا پوچھا کہ یہ کس کا مزار ہے تو مجھے کسی نے بتایا کہ بابا یہ ایک شہید کا مزار ہے۔ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کس کے خلاف جہاد کیا تھا۔؟تو اس نے بتایا کہ کسی کی بہن کے ساتھ تعلقات تھے اس کے رشتہ داروں نے اس کو مار دیا تھا۔ مفتی صاحب پوچھ رہے تھے۔ کہ ہے کوئی جو مسلم خواتین کی حمایت میں جلوس نکالے اور احتجاج کرے کہ وہاں کارا کاری کے جرم میں سیکڑوں قبرستان مسلم خواتین سے آباد ہیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال؟ اب بتا ئیے کہ آپ کس کس شعبہ کو رو ئیں گے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

انسان انتہائی ظالم اورنا شکرا ہے۔ شمس جیلانی

View Post

یہ اس سورہ کی آیت نمبر34 کا لب لباب ہے جس کی آیت نمبر 7سے بات کی ابتدا ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرا ئیل کو ان کے وہ تمام بر تاؤ اور ان کی نافرمانیاں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا تے ہیں۔ پھر فرما تے ہیں کہ ” اگر تم شکر کروگے تواللہ تمہیں زیادہ دیگا اور اگر کفر کروگے تو اس کاعذاب بھی شدید ہے” بس تم اس کی بات مان لیا کرو ۔ جبکہ انسان یہ ہی کام کر کے نہیں دیتا وہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تو اس کی ہر بات مان لے، مگر اس کو اللہ کی کوئی بات ماننا نہ پڑے اور وہ اپنی من مانی کرتا رہے؟۔حتیٰ کہ ابتو اس کے نہ ماننے والوں کی تعداد دنیا میں ماننے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جتنا علم بڑھا اتنا ہی انسان اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دور ہوتا چلا گیا حالانکہ علم کا تقاضہ یہ تھا کہ اور زیادہ اللہ کو مانتا۔ آخر میں تنگ آکر سورہ ابرا ہیم میں ہی آیت نمبر34 میں اسے فرمانا پڑا کہ "انسان انتہا ئی ظالم اور نا شکرا ہے” جبکہ ہر نبی ؑ نے یہ ہی بات کہی کہ اگر صرف اس کے ہو جاؤگے تو تمہارے یہاں بارشوں کی شکل میں نعمتیں بر سیں گے اور نا شکری کروگے تو پھر عذاب بھی شدید ہے۔ سب آسمانی کتابو ں میں قر آنی قصے پہلے سے چلے آرہے ہیں؟ لیکن اس پرکان دینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ ایک ایسی تھیوری کو تمام دنیا کے سا ئنسدان مان رہے ہیں جو بقو ل ان کے ایک عظیم حادثہ تھا۔ حادثہ بڑا ہو یا چھوٹا کبھی تعمیر کا باعث ہوا ہے؟ ہمیشہ حادثے تباہی کا با عث ہوتے رہے ہیں چاہیں چھوٹے ہوں اور چاہیں بڑے ہوں ۔ پھر کسی بھی حادثے سے اتنا منظم خود کار نظام وجود میں آنا کیسے ممکن ہے بلکہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے سوائے خالق کائنات کے جو کہ تمام انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی ضروریات کا ادراک بھی رکھتا ہو اور ہر ایک کو بوقت ضرورت اس کے ضرورت کے مطابق مقررہ مقدار میں ضروریات زندگی بھی فراہم کرتا رہتا ہو، چاہیں وہ کہیں بھی ہو؟ جو سائنس داں ہیں اگر ان سے پوچھو تو وہ ان کی ضروریات احسن طریقہ سے پوری کرنا تو بڑی بات ہے وہ تو انسانی ضرور یات اور اشیاء کی فہرست بھی فرا ہم نہیں کرسکتے اس پر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بنا ئے ہوئے نظام پر اس ناقص نظام تر جیح دینا ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ لیکن یہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی بھیڑ چال دیکھنا ہوتو آج کی دنیا میں ملا حظہ فرما لیں۔ کہ سارے مسلم ممالک بھی انہیں کا اتباع کر ر ہے ہیں حتیٰ کہ وہ ملک تک جو اللہ کے نام پر بنا تھا اب آہستہ آہستہ اپنی درسگاہوں سے اللہ کو دورکرتا جا رہا بلکہ سا ئنس کے مضا مین میں اس کا نام لیتے ہوئے مسلمان سائنسداں بھی شرما تے ہیں۔ حالانکہ جتنا سائنس آگے بڑھ رہی اتنا ہی اس کے سامنے قر آن اور سنت کی تفسیر سامنے آرہی ہے، جو کبھی پہلے سمجھ میں بھی نہیں آتی تھی اب ایک بچہ بھی سمجھ جاتا ہے۔ لیکن اسے ماننے کے لئیے بلا تخصیص مذہب و ملت ،کوئی بھی تیار نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک نظام کا پابند ہونا پڑے گا جو کہ موجودہ نظام سے ٹکراتا ہے یہ ہی آج سے ہزاروں سال پہلے بھی مسئلہ تھاآج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ جبکہ دنیا کے مفادات لا مذہب رہنے میں زیادہ ہیں۔ آجکل تمام دعوؤں کے با وجود ایک معمولی سے جر ثومے نے تمام دنیا کا عرصہ حیات تنگ کرکے رکھدیا ہے جس کے بارے میں ہادی اسلام محمد مصطفیٰﷺ نے ساڑھے چو دہ سو سال پہلے ساری دنیا کی ہدایت کے طور پر حل عطا فرما دیا تھا کہ تمام متعدی بیماریوں کےبارے میں کہ“ جن علاقوں میں ان کا حملہ ہو وہاں کے لوگ دوسرے علاقوں میں منتقل نہ ہوں اور نہ ہی دوسرے علاقوں کے لوگ وہاں جا ئیں“ آج کے سائنس داں کیا اس سے بہتراسکا کوئی توڑ یا اس سے بہتر کوئی دوسراطریقہ بتا سکے ہیں؟ ایمانداری کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے تسلیم کیا جا ئے کہ یہ تعلیمات کہاں سے اس شخصﷺ کے پاس پہنچیں جو کہ کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھا تھا،لیکن اپنی احادیث کے ذریعہ دنیا کو بہت سے علوم عطا فرما گیا؟ اور صرف وہ ہی نہیں انﷺ کے ساتھی بھی ویسے ہی تھے کہ ایک حاکمِ نے جب یہ فرمایاحج کے موقعہ پر حجر اسود کوبوسہ دیتے ہو ئے کہ تو بھی ہے تو ایک پتھر ہی مگر چونکہ میرے آقاﷺ نے تجھے بوسہ دیا تھا لہذا میں بھی تجھے بوسہ دے رہا ہوں۔تو جواب میں فوراً ہی وہیں موجود دوسرے ساتھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اصلا ح فرما ئی کہ عمر ؓ تم غلطی پر ہو یہ وہ پتھر ہے کہ جو شخص اس کو بوسہ دیتا ہے اس کواس کا اعمال نامہ نگلوادیا جاتا ہے اور قیامت کے دن یہ اس کے حق میں وہ اس عبادت کی گواہی دیگا۔ جبکہ سا ئنسدانوں کے پاس دنیا میں ایسی کسی چپس کا اس وقت کوئی تصور تک نہیں تھا کہ ایسا بھی کوئی چپس ہوسکتا ہے؟ جبکہ جو آج ایک چھوٹا سا بچہ بھی جانتا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عمر ؓ نے فرمایاکہ علی ؓ تم علم میں ہم سے بہت آگے ہو۔ اس قسم کی مثالوں سے تمام اسلامی تا ریخ بھری ہوئی ہے جس کا یہ چھوٹا سا مضمون متحمل نہیں ہو سکتا؟ لیکن اگر تعصب عینک اتار کر اس مذہب پر غور کریں جس کا دعویٰ ہے کہ یہ مکمل نظام ِ حیات ہے۔ تو ان پر بہت سے راز ظاہر ہوسکتے ہیں جو قرآن اور سنت کی شکل میں موجود ہیں۔کسی مذہب نے بھی اسلام سے پہلے کسی کو نہیں بتایا کہ اٹھنا کیسے ہے، بیٹھنا کیسے ہے، کھانا کیسے ہے، پینا کیسے ہے،وضو کیسے کرنا ہے عبادت کیسے کرنا ہے غرضیکہ زندگی کاکوئی شعبہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر ہادی ﷺاسلام اور مذہب ِ اسلام نے روشنی نہیں ڈالی ہو۔ یا ان کی بتا ئی ہوئی کسی چیز میں سے کوئی بعد میں مضر صحت ثابت ہوئی ہو، سوائے مفید ہونے کے۔ جوکہ دنیا پر آہستہ کھلتی جارہی ہیں؟ اس پر کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ اگر انہیں ﷺ سب کچھ معلوم تھا تو اپنے زمانے میں ہی کیوں نہیں ظا ہر فرمادیا اس کا جواب یہ ہے کہ اسوقت علم اتنا آگے نہیں بڑھا تھا جو کچھ انہوں نے کر کے دکھادیا وہ ہی حیرت انگیز اور اس دور کے دانشوروں کے لیے نا قبل تسلیم تھا کیونکہ آج ہم جن سہولتوں کو استعمال کر رہے ہیں انہیں وہ جانتے تک نہیں تھے۔اور بھی بہت سی نئی چیزیں کل جو ظاہرہونگی آ ج کے دانشور انہیں نیں جانتے ہونگے ۔ ہے اس پر کوئی غور کرنے والا ہے جو ہوس زر میں مبتلا نہ ہو صرف انسانیت سے ہمدری رکھتا ہو اور اس پر کام کرے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

للہ اپنے اچھے اعمال ضائع ہونے سے بچا ئیں۔۔۔شمس جیلانی

للہ اپنے اچھے اعمال ضائع ہونے سے بچا ئیں۔۔۔شمس جیلانی
میرے ایک دوست نے مجھے ایک وڈیو ٹورنٹو سے بھیجی ہےکہ آپ اس مسئلہ پر بھی کچھ لکھیئے جوکہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی آواز میں ہے اور انکی جوانی کی معلوم ہوتی ہے جس میں انہو ں نے عربوں کی ہلا کت کی پیش گوئی کی ہے اور اس میں عربو ں کی کرادر کشی کی گئی ہےجبکہ آئندہ پاکستان اور افغانستان کے رونماہونے والے متوقع کردار کی بات کی ہے۔ جس میں سے میں افغانستان کے آئندہ کردار کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا؟ مگر پاکستان کے کردار کے بارے میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جس کے لیئے میرا ادراک بچپن سے گواہی دیتا آیا ہے اور جس طریقہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ ملک رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں بنا یا ہے!اور وہاں کے اکثر لیڈروں اور باشندوں کی خامیوں اور کوتا ہیوں کے با وجود وہ نہ صرف باقی ہے بلکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت بھی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا حصہ ہے اور کسی متوقع منصوبے کا حصہ بھی؟ کیونکہ پاکستانیوں کو جس طرح یہ ملک ملا میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا میں چشم دید گواہ ہوں؟ اس لیئے مجھے ان کی اس بات میں تو امید کی کرن نظر آرہی ہے، دوسرے یہ کہ حالیہ کارونا جیسی بلا سے اس وقت تک اس نے اسےبہت محفوظ رکھا جب تک کہ حکمرانوں نے کریڈت رب کو دینے کے بجا ئے، انہوں نے اپنے نام نہیں کرلیا؟ خدا کرے کہ آئندہ چل کر ویسا ہی ہو جیسی کہ انہوں نے پشگوئی کی ہے؟۔ لیکن میں کسی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیشہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جبکہ اور کسی سے نہیں ڈرتا۔ دوسرے ہمیشہ سے میرے سامنے حضورﷺ کا وہ فرمان رہتا ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق کے آگے بڑھا دے “ اس لیئے اس ویڈیو کا ذکر میں نے اپنے ایک دوسرے دوست سے کیا اور اس پر ان سے میری تفصیلی بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس کا پس منظر کچھ اور تھا جو اس ویڈیو میں شامل نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ وہ تو ہمارے یہاں خاص طور سے پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ویڈیو جعلی بھی بنتے رہتے ہیں؟ مگر میرا مشورہ ہے کہ جو لوگ اپنی آواز میں جو کچھ بصورت ِ تحریر یا تقریر یہاں اب چھوڑے جارہے ہیں اب تو انہیں یقین کرلینا چا ہیئے کہ وہ رہتی دنیا تک رہے باقی رہے گی۔ لہذا جو کوئی آج کے دور میں جو کچھ بھی چھوڑ کر جا رہا ہے اس کو اِس ویڈیو سے سبق لینا چا ہئیے کہ قیامت کے روز تک اس کا چھوڑا ہوا یہ ورثا باقی رہے گا اور اس کے جو نتائج مرتب ہونگے وہ سب اکھٹا کرکے اس کے کھاتے میں فرشتے لکھ چکے ہونگے اور اسے وہاں نمایاں اور سجا ہوا نہ صرف نظر آئے گا اگر سچا ہے اور اگر جعلی ہے تو جعل سازی کرنے والوں کے کھاتے میں جا ئے گا؟ بلکہ بعد میں اگر کسی نے تکرار کی تو دکھا بھی دیا جا ئے گا؟ مگر اسوقت ایسا کرنے والے کے پاس اپنی صفا ئی میں کہنے کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دربار میں کچھ بھی نہیں ہوگا ؟لہذا حدیث کے مطابق“ وہ اس دن دنیا کامفلس ترین انسان ہوگا کیونکہ اس کے سارے اچھے اعمال دوسروں کے کھاتے میں بدلے میں چلے جا ئیں گے “ پہلے تو یہ وعید صرف قرآن اور حدیث تک ہی محدود تھی، جن میں لکھا ہوا ملتا تھا کہ ایسا ہوگا؟ اور جن کا نصیب اچھا تھا وہ ان سے سبق لیکر بچ کرکے فلاح بھی پاتے رہے؟ لیکن اب تو اِس کا مظاہرہ سائنس کی ترقی کی بنا پر روز مرہ کی بنیاد پر ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہا ہے جوکہ اسلام کی حقانیت کی دلیل بھی ہے مگر صاحبِ علم لوگوں کے لئیے ؟جبکہ وہاں آجکل لوگ اتنے نڈر ہوچکے ہیں کہ وہ اور سب سے تو ڈرتے ہیں مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ ،روز ِ قیامت اور اس کی ملاقات سے کوئی نہیں ڈرتا ہے جو کہ سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار ہے اور ہمارا یہ عمل ہمیں اتنا بے خوف بنا ئے ہوئے ہے کہ نہ ہم جھوٹ بولنے سے گھبراتے ہیں نہ ہی غیبت کرنے سے گھبراتے ہیں، اور نہ ہی کسی پر تہمت لگانے سے گھبراتے ہیں نہ ہی کسی کی تصنیفات میں کتر بیونت کرتے ہوئے اپنی عاقبت کے لیے فکر مند ہوتے ہیں نہ ہی جھوٹے ویڈیو بنا نے سے گھبراتے ہیں؟ اگر وہ پورا قرآن نہ بھی پڑھیں تو کم از کم سورہ یونس اور سورہ ھود ہی پڑھ لیں مگرتفسیر کے ساتھ تو کافی ہے؟ جو ایسے کام کرنا جائز سمجھتے ہیں اوروہ بھی اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئیے، یا اپنے آقائے نعمتوں کو خوش کرنے یا ان کے شر سے بچنے کے لئیے عام طور پر ہر وقت ان افعال میں مصروف رہتے ہیں؟
اس ویڈیو میں سب بڑی خرابی یہ ہے کہ مرحوم نے کسی بات کاقطعی خیال نہیں رکھا اور انہوں نے سارے عربوں کو بلا تخصیص اس میں لپیٹ لیا جوکہ ان کے منصب کے منافی ہے اور میرے دل میں اس لئے زیادہ کھٹک رہا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک حدیث میں عربوں کے ساتھ امت کو محبت کرنے کا حکم دیاگیا ہے؟ جبکہ قر آن نے آیت مودۃ میں حضورﷺ اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ محبت کرنے بھی حکم دیا ہے(الشوریٰ آیت نمبر 23)۔ یہ پیش گوئی ان دونوں سے ٹکرارہی ہے یہ دونوں ان کی نگاہ ضرور گزرتیں۔ رہی عربوں کی ہلاکت کی بات توانہیں نجدیوں کو نہ سہی کہ وہ خود کو حضور (ص) کے آخری دور تک قریش سے بہتر سمجھتے تھے جو تاریخ میں پڑھ لیجئے یا کسی اہلِ علم سے پوچھ لیجئے؟ کم ازکم ان لوگوں کو تو شامل نہ کرتے! جو کہ خود کو عرب العروبہ کہتے ہیں اور حضرت نوح ؑ یا حضرت سامؑ کی اولاد میں سے ہیں جن میں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام اور حجاز کے لوگ اور خصوصا ً حضور ﷺ کی اترت بھی شامل ہے؟ انہیں ان سب کو استثنیٰ دینا چا ہئیے تھا۔ جو انہوں نے نہیں دیا جبکہ حضور (ص) کی کسی بھی بات سے ٹکرانے کا جو انجام ہے وہ سب کو ہی معلوم ہے کہ ان کے اگر کچھ اچھے اعمال ہوئے بھی تو وہ بھی کھو بیٹھیں گے۔ اللہ ہمیں اس انجامِ بد سے بچا ئے (آمین) جہاں کہ حضور ﷺ سے آواز بلند کرنے پر اعمال ضائع ہوجا نے کی قرآن میں وعید ہو وہاں یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ میرا تمام حضرات اورخواتین کو ہمدردانہ مشورہ ہے کہ عربوں کے سلسلہ میں کچھ لکھتے ہوئے بہت محتاط رہیں تو بہتر ہے۔ اگر لکھنا بہت ہی ضروری ہوتو ان باتوں کا خیال رکھا جا ئے جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سب کو اس گناہ سے محفوظ رکھے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

(54 – 29) قطعات شمس جیلانی

29

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

30

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

31

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

32

اسپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی

تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے

بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے

کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے

ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

33

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

34

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

35

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

36

مت کی حالت۔۔۔ شمس جیلانی

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں

اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں

بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز

کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

37

قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے

جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے

بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے

سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

38

کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے

کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے

مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے

پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

39

صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ

جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ

شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ

اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

40

میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ

یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ

شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے

یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

41

اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں

نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں

یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا

جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

42

برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں

برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں

ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں

سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

43

مسلمانوں کی حال۔۔۔شمس جیلانی

آگئے تم کیوں عدو کی باتوں میں

بٹ گئے قبائل میں اور ذاتو میں

کبھی تم جن کو زیر رکھتے تھے

اب پڑے ہو انہیں کی لاتوں میں

44

فہم دین کا کرشمہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوامیں نوے میں داخل تو اللہ و رسول(ص) کو سمجھا

اپنےدین کو جانا میں نے ہراس کے زریں اصول کو سمجھا

پھر رکھدیا میں نے اک طرف ساری فضول رسموں کو!

جب ملی ہدایت مجھے، نا قص بحث فضول کو سمجھا

45

نیا سال مبا رک ہو۔۔۔ شمس جیلانی

نیا سال ہے آیا ہومبارک ہر خوشی لائے

یہ جہان سارا پکارے گنا ہ سے بھر پا ئے!

کریں جوتوبہ تو روٹھا پروردگا من جائے

اب کارونا جیسا نہ کوئی عزاب پھر آئے

46

آخری دعا۔۔۔۔ شمس جیلانی

الٰہی زندہ رکھنا تو جب تک کہ میں فیض پہنچا ؤں

نہ لگے برائی کی تہمت پہلےمیں اس سے مرجا ؤں

روز حشر تورکھنا اے اللہ سرخرواپنے سامنےمجھ کو

نبی(ص) کا واسطہ تجھکو اس دن نہ تجھ سے شرما ؤں

( آمین)

47

چند اشعارحالات حاضرہ پر۔۔۔ شمس جیلانی

جو ظالم کا ہاتھ پکڑےاب کو ئی با قی نہیں رہا

اس واسطے وہ لایا کل جہان کواب زیر عتاب ہے

کرونا تو ایک چھوٹا سا نمونہ دکھے ہے شمس !

آنے کو ئی اور شاید بہت ہی بڑا سا عذاب ہے

ہو سکتا ہےکہ صدیو پر محیط ہو یہ دو رِعتاب

صدی کی کیا وقعت ہے وہ تو اس کو شتاب ہے

48

سب سے زیادہ پیارا رب۔۔۔ شمس جیلانی

ہراک مومن کو جو کہ دل و جان سے بھی اپنی پیارا ہے

سب الہاؤں سے زیادہ بہتر رب اور الہ بس ہما را ہے

جب پکاروجواب دیتا ہےگر کرکے توبہ سے پکارا ہے

کون سی شہ ہے اس سے پوشیدہ کیا نہیں آشکارا ہے

49

ا شعار کی آمد؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ جب توفیق دیتا ہے خیالوں کا جمع ا ژدھام ہوتا ہے

انہیں چن کر جو کوئی منتخب کرلےاسی کا نام ہوتا ہے

یونہیں سب ڈینگیں مارے ہیں کہ یہ افکار میرے ہیں

نہ ہو رب کی اگر مرضی تو ہفتوں تک پہیہ جام ہوتا ہے

50

عجب عادت ۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عجب عادت ہے تمہاری کہ آرام نہیں ہوتا ہے

دن وہ بڑی مشکل سےگزرتا ہے اگر کام نہیں ہوتا ہے

ہمیشہ صبح دم اٹھناسنت ہے تمہارے نبی (ص) پیارے کی

جودن چڑھے تک سوئےر ہیں ان پر انعام نہیں ہوتا ہے

51

اَلْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِیمان؛ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوس زر میں ہر شخص کچھ اس طرح مسطور ہے

کہ اس جہاں کا بدلا ہوا اب پوری طرح دستور ہے

پہلے کی طرح اس سے کوئی شرما تا نہیں شمس

اس سے دیواریں سجی ہیں “مطلوب ہے مفرور ہے”

ترجمہِ عنوان۔ حیاء ایمان کا جز ہے۔

52

جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمان جھوٹا ہو نہیں سکتاسرکارﷺکا فرمان یہ مشہور ہے

جھوٹ چھٹتاہے نہیں اس واسطےاب ہم سے دلی دور ہے

عید و بقر عید کو ویسی ہی شکلیں تو بنا لیتے ہیں لوگ!

ظاہر بن جاتا ہے ویسا ہی مگر چہرے پر کہاں وہ نور ہے

53

آہ ! سب کےرفیق چل بسے۔۔۔شمس جیلانی

آدمی اچھے بہت تھےبا صَفا و با صِفات

سال بتیس تک رہا میرا،ا ن کا ،اچھا ساتھ

ہر جگہ ہم ساتھ تھ جب بھی جا تے کہیں

چلد یئے وہ چھوڑ کراتنی تھے لائے حیات !

54

آئینِ خدا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اے بندوں ذرا سوچو کہ حکم ِخدا کیا ہے

ہے اللہ سے فقط ڈرنا بندوں سے نہیں ڈرنا

پھرلازم اطاعت ہے سرکارِدوعالم کیﷺ

ہے ان کےہی لئےجینااوران کے ہی لیئے مرنا

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

ہزارے بھی انسان ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

تنے بڑے صوبے میں جو پاکستان سب سے بڑا صوبہ ہے یہ وہ مظلوم اقلیت ہے کہ جس کا تیس چالیس سےقتل عام ہو رہا مگر نہ حکومت کے کان پر جوں رینگی نہ ہی اپوزیشن کے کان پر۔خبر یہ ہے کہ ان بیچاروں نے تنگ آکر پورا صوبہ خالی کرکے خود کو تین میل مربع کے رقبہ میں مقید کرلیا تھاتب کہیں جا کے ان کو اس قتل عام سےچھٹی ملی تھی۔ شدت پسندی اس وقت نہ جا نے کون کرا رہا تھا جبکہ موجودہ اپوزیشن اس وقت حکومت میں تھی؟ کیااس کمیونٹی کو زندہ رہنے کے لیے حصار سے باہر مزدوری کے لئیے جاتا دیکھ کر عرصہ بعد دو بارہ وہی شدت پسند طبقے پھر جاگ گئے ہیں؟ جو کہ جب حکومت میں تھے تو سرگرم تھے اور ان ہی کے ماننے والے ان پر ہاتھ صاف کر رہے تھے ۔ جبکہ آج وہ ان کے ہمدرد بن کر سامنے آئیں ہیں، جن کے اگر پرانے کپڑے تلاش کیئے جا ئیں تو بھی ہزارہ خون سے وہ آلودہ ملیں گے۔ ایک دوسال سے کچھ چین تھا جس کو انگریزی میں انٹرویل کہہ سکتے ہیں پھر ظالموں کی نگاہ انتخاب ان کی طرف گھوم گئی۔ مجھے یہ مفاد پرستوں کی کا رستانی لگتی ہے۔ جو کہ اسے بھی برداشت نہیں کرسکے وہ اپنے اس شہر سے کہ وہ سالوں سے محصور ہیں نکل کر کانو میں مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال سکیں؟ بلوچستان جو پہلے ہی بہت حساس علاقہ ہے اور مولانا حضرات کا گڑھ بھی ہے۔ اس سےان کی تحریک کو زندگی مل سکتی ہے جو کہ دم توڑ چکی ہے۔یہ تو تھا اس کا ایک پہلو جوکہ اس دفعہ اتنے دنوں کے بعد اس میں ابھار آیا ہے؟
مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ ہے موجودہ حکو مت کی لا پر وائی کہ اس کان میں ہزارہ کمیونٹی کام کرنے لگی تھی یا اس کے مالکوں نے رحم کھا کر اپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دیدی تھی تو یہ ایک اچھا قدم تھا آخر ان کی بنیادی ضرورت پوری کرنا اور ان کی حفاظت کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داریتو ہے ہی جوکہ ترمیم شدہ قوانین کے مطا بق ہے۔ لیکن اس سے خود کو مرکزی حکومت بھی بری الذمہ نہیں کرسکتی اس لیے کہ وہا ں سی پیک جیسا منصوبہ زیر تکمیل ہے جس پر پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے جو کہ ہمارے ازلی دشمنوں کو قطعی پسند نہیں کہ پاکستان ترقی کرے ؟مرکزی حکومت کو معلوم ہے کہ ایک دشمن نے اربوں روپیہ اس کام کے لیے مختص کیئے ہیں کہ بلوچستان کا امن خراب کیا جائے؟ لیکن وزیر اعظم صا حب کے پاس اس علاقے میں جانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ اس لیے کہ انہیں جہاں جا نے سے روکنا ہو توان کے کان میں بس یہ اطلاع ڈالدینا کافی ہے کہ وہاں ان کے لئے سکیوریٹی رسک ہے؟ اور اس کے بعد کرنے والے جو چا ہیں وہاں کرتے پھریں۔ اسی لئے ابن تیمیہ نے لکھا تھا کہ جب تم اپنے حکمراں منتخب کرنے لگو تو اس میں دونوں خوبیاں دیکھوجو اس میں ہونا چا ہیئے؟ وہ ہے تقویٰ اور شجاعت۔ لیکن اگر تقویٰ کم بھی ہو اور وہ شجیع ہو تو اس کو ترجیح دو اس لیئے کہ تقویٰ تو اس کی ذات کے لئیے ہے جبکہ شجا عت ریاست کے لئیے ہے؟ اس کے مظاہرے پہلے دن سے نئی حکومت پاکستان میں آنے کے بعد وہاں دیکھنے کو روز مل رہے ہیں کہ وزیراعظم صاحب عید کی نماز پڑھنے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے؟ بلکہ شروع میں تو اسی سکوریٹی رسک کی وجہ سے وہ اپنے گھر تک ہیلی کاپٹر پر جایا کرتے تھے۔ یہ پاکستان میں اس سے کبھی نہیں ہوا تھا کہ عید کی نماز ہو اور وزیر اعظم عید گاہ میں جا کر نماز نہ پڑھے؟ اب بھی وہی مسئلہ ہےکہ جن کے لعل شہید ہو ئے ہیں وہ کہہ رہی ہیں جو زیادہ تر خواتین ہیں کہ وزیر اعظم صاحب تشریف لے آئیں تو ہم ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں گی؟ اور وزیر اعظم صاحب کے کان میں کہدیا گیا ہے کہ ان کے لئیے سکوریٹی رسک ہے ؟ جبکہ اپوزیشن میدا ن مارنا چا ہتی ہے وہ اس آگ کو مزید بھڑکانے میں پیش ، پیش ہے؟ ایسے میں وہ غریب خواتیں پانچ دن سے وزیر اعظم صاحب کاانتظار اپنے پیاروں تدفین کے لیےکر رہی ہیں اس کے باوجود کہ درجہ حرارت بڑی حدتک نیچے ہے۔ ان میںایک بچہ جو شہید ہوا ہے اس کی ہمشیرہ شاید اس پرافسوس کر رہی ہوکہ میں اپنے زیورارت بیچ دیتی اور بھائی کی فیس جمع کرادیتی اور اپنے ویر کو کبھی وہاں مزدوری کے لئے نہیں جانے دیتی جو؟ اسکول کی فیس جمع کرانےکے لئےوہاں مزدوری کرنے گیا تھا؟ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک طویل محاصرے کی وجہ سے اس چھوٹی سی بستی کی کیا حالت ہوئی ہوگی اور کتنے مجبور ہیں وہ لوگ۔انکا جرم یہ ہے کہ وہ بقیہ آبادی کی اکثریت کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ میں نے قرآن اور حدیث میں پڑھا ہےاور شاید وزیر اعظم نے پڑھا ہو کہ موت کا ایک وقت معین ہے وہ ٹل نہیں سکتا؟مسلمان کہتے ہیں کہ ہم قرآن پر یقین رکھتے ہیں مگر عمل کچھ اور بتاتا ہے؟ اب کوئی بتلا ئے ہمیں کہ ہم بتلا ئیں کیا؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

امن کے بعد فتنہ پیدا کرنا قتل سے بد تر ہے۔۔۔۔ شمس میں جیلانی

میں نے تو جب سے قرآن حدیث اور بزرگوں کے اقوال میں یہ پڑھا تو اس وقت سے میں تو بہت محتاط اس لئے ہوگیاکہ تمام صحابہ کرام ؓ کا بھی یہ ہی رویہ تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ جب تک وہ با ثر رہے اور بوڑھے نہیں ہوئے تھے اس وقت تک خلافت راشدہ ان فتنوں سے بچی رہی۔ جیسے ہی اقتدار یا اس کا کچھ حصہ ان لوگوں کے پاس آیا جو فتح مکہ کے موقعہ پر یا س کے بعد میں مسلمان ہوئے کیونکہ ایک ایک دن میں لاکھوں لوگ مسلمان ہوتے رہے۔ اور چونکہ انکی تر بیت کا وہ معیار نہیں رہاجو ان صحابہ کرامؓ کا تھا جن کوحضور ﷺ سے تربیت ملی تھی۔ میرے اس دعوے ثبوت میں آپ بقیہ اسلامی تاریخ پڑھ جا ئیے جو کہ فتنو ں سے بھری پڑی ہے۔ جس سے کہ اسلامی ریاست کا امن غارت ہوا۔ نتیجہ کے طور پر پہلے حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے، پھرحضرت علی کرم وجہہ شہید ہوئے اور حضرت امام حسن شہید ہو ئے اورنہ صرف امام حضرت حسین (ع) شہید ہوئے بلکہ حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کا پورا خاندان کربلا میں شہید ہوا۔اور وہ ریاست جہاں حضور ﷺ کے دور میں امن ہی تھا وہ امن کو ترسنے لگی۔ یوں حضور ﷺ کی ایک ایک پیش گوئی پوری ہوئی بشمول اس کے جو سورہ انعام کی آیت نمبر 69 کے نزول کے بعد حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ سے وہ عہد لیا تھا کہ ” دیکھو میرے (ص) بعد آپس میں لڑنا مت ورنہ ایک مرتبہ سرداروں کی تلواریں میان سے نکل آئیں تو دوبارہ قیامت تک میان میں نہیں جا ئینگی“۔اس کے جوا ب میں اس موقعہ موجود صحابہؓ کرام نے فرمایا تھاکہ“ حضور ﷺ یہ کیسے ممکن کہ ہمارے درمیان قرآن موجود ہو اور آپ سیرت موجود ہو اور ہم گمراہ ہوجا ئیں! تو حضورﷺ نے فرمایا کہ“ اس وقت قرآن تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترے گا “اس پیش گوئی کی زندہ تصویر دیکھنا ہوتوآج تمام عالم اسلام کو دیکھ جا ئیے،ہر ایک اپنے زعم میں یہ ہی کہتا ہوا ملے گا کہ صرف میں راہ راست پر ہوں باقی سب غلط راستے ہیں جو اس کے نزدیک واجب قتل ہیں؟ یہ وہ غلط فہمی ہے جو کہ کچھ نفس پرستوں نے اپنے مفاد کے لئیے نہ صرف اپنائی ہوئی ہے بلکہ اپنے حلقہ اثر میں بھی پھیلائی ہوئی ہے۔ جبکہ ہمیں ہدایت یہ ہے کہ جس کو مسجد میں آتے جاتے دیکھو اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو اور ہر کلمہ گو مسلمان ہے بقیہ فیصلہ بروز قیامت اللہ خود فرما ئے گا اور یہ کہ تم ان پر داروغہ نہیں بنا ئے گئے ہو۔ یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہو جا ئیں گے جن میں صرف ایک راہ راست پر ہوگاجو کہ“ میرے(ص) یا میرےﷺ ان صحابہؓ کے راستے پر ہوگا جو آج میرے (ص) راستے پر ہیں؟ اس حدیث کے پیمانے میں ہر ایک خود کو پرکھ کر دیکھے کہ کیا ہم اس معیار پر پورے اتر تے ہیں؟۔اگر وہ دیکھ لیں تو جو خوں ریزی کر رہے ہیں تو ان کے ہاتھ سے تلواریں چھوٹ پڑیں گی؟ مگر یہ باتیں تو خوف خدا سے دل میں پیدا ہوتی ہیں، جب وہی اٹھ گیا تو اس کا وہ نتیجہ کیسے مرتب ہوگا؟ اسی کا ہم نتیجہ بھگت رہے ہیں اور یہ سلسلہ جب سے جاری ہے جبکہ حفاظ کرام نے اسی زعم پر کہ صرف وہ ہی مسلمان ہیں، خارجیوں کا روپ اختیار کیا تھا۔ جو کہ صدیوں تک چلتا رہا۔ اسے بڑی مشکل سے ہلاکوں نے ختم کیا دو صدی پہلے کچھ لوگ پھر عدو کے ساتھی بنے اور انہیں نے دوبارہ سلطنت عثمانیہ کا تیا پانچا کر نے کے لئے اوراپنے گھناؤنے مقاصد کے لیئے اسے پھر سے زندہ کردیا جس کا نتیجہ آج ہم سب بھگتے رہے ہیں کیونکہ عالم اسلام بری طرح بد امنی شکار ہے جنتے لوگ مسلمانوں نے خود قتل کئیے ہیں اتنے سب دشمنوں ملکر نہیں کیئے خدا جانے یہ سلسلہ کب رکے گا اور کیسے رکے گا اور اسے کون روکے گا؟ کیونکہ سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔
خدا خدا کرکے ہزاروں انسانوں کی شہادت کے بعد بمشکل پاکستان میں بد امنی کے کچھ امن قائم ہوا تھا؟ پھر کچھ لوگ پاکستان میں جو آجکل فتنے پیدا کر رہے ہیں ان میں ایک مولانا بھی شامل ہیں جن کو اقتدار میں اس بار موقعہ نہیں ملا جو کہ کئی عشروں سے اقتدار میں چلے آرہے تھے جبکہ اپنے دور میں کرکے کچھ بھی نہیں دکھا یا؟ وہ بھی مشاءاللہ جید عالم ہیں اورمیں نے جتنی باتیں اوپر بیان کیں ہیں سب انہیں ازبر بھی ضرور ہونگی۔ کیا اسے دوبارہ پڑھ کر اور خوف کھاکر اپنے رویہ پرنظر ثانی کر یں گے اور پاکستان اور پاکستانیوں کو معاف کردیں گے۔ اگر نہیں تو پاکستانی اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کے لیئے اپنی گردن سے ان کا جوا اتار پھینکنے کی کوشش کریں تا کہ وہ ملک محفوظ رہے جو ان کے بزر گوں نے بڑی منت سے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے حاصل کیا تھا۔ اس وعدے کہ ساتھ کہ ہم اس ملک میں تیرا نام ا بلند کریں گے۔ کیا نام بلند کرنا اسی کو کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کی جا ئے،جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ وہاں کے باشندوں کو ہدایت دے(آمین) کہ وہ اپنا بھلا برا خود سوچ سکیں، بجا ئے دوسروں کے بہکا ئے میں آنے کے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

(28 – 16) قطعات شمس جیلانی

16

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

 

17

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

 

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

 

18

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

 

 

19

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں

اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں

بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز

کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

 

 

20

قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے

جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے

بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے

سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

 

21

کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

 

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے

کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے

مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے

پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

 

22

صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

 

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ

جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ

شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ

اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

 

23

میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

 

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ

یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ

شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے

یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

 

24

اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں

نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں

یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا

جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

 

25

برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

 

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں

برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں

ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں

سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

 

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

26

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

 

 

27

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

 

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

 

28

گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں

کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں

بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں

پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

 

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں