جدید ٹیکنالوجی اور ہمارا غلط رویہ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کل جب ہماری کارگھر جانے کے لیے آخری موڑ مڑی تو اچٹی ہوئی نگاہ ایک چرچ کے باہر لگے ہو ئے بورڈ پر جس پر ہمیشہ اس کے روزمرہ کے پروگرام لگے ہوتے ہیں پڑی، بہت ہی جلی عبارت میں لکھا ہوا تھا، کہ “جن سوالات کے جوابات ہم دے سکتے ہیں وہ فلاں سرچ انجن نہیں دے سکتا “یہ پڑھ کر ہم ٹھٹک گئے؟ کیونکہ ہم نے یہ ہی بات اپنے علماءکو کئی سال سے طنزیہ طور پر کہتے ہوئی سنی جو ابھی تک ہماری یاد داشت میں محفوظ تھی۔ جو کہ بارہا کئی مذہبی چینلز میں علماءکی زبانی بھی سنی تھی ۔ پھر یہ ہی شکایت ہم نے ایک مزاحیہ پروگرام میں بنے ہو ئے سو سالہ بابا سے بھی سنی کہ پہلے لوگ تمام غیب کا حال جاننے کے لیئے ہمارے پاس آتے تھے ،بیویاں شوہروں کے بارے میں پوچھتی رہتی تھیں کہ بابا جی یہ تو بتائیے کہ میر اشوہر کسی اور کے چکر میں تو نہیں پڑ گیا کافی عرصہ سے اس کا خط نہیں آیا ہے ۔اور ہم اس کا جواب اثبات میں دیتے کہ وہ ایک تم سے بھی خوبصورت عورت کے چکر میں پڑگیا ہے اور اس کے توڑ کے نام پر کچھ مال بٹورلیتے تھے؟ اب دونوں کے پاس وائر لیس فون ہیں ہر ایک کی دن میں بار بار بات ہو جاتی ہے نہ بد گمانیاں جنم لیتی ہیں نہ ہمارا دھندا چلتا ہے۔
جبکہ یہ حقیقت ہے کہ اس میں سب سے زیادہ مسلم خواتین پھنسی ہوئی تھیں حالانکہ مسلمانوں کو چودہ سو سال پہلے ہی بڑی سختی سے بدگمانیوں اور فال نکلوانے سے منع کیا جاچکا ہے ۔ لیکن ہم اورکونسی ہدایت کب مانتے ہیں جو اسے مانیں گے؟ بابا جی نے اس سلسلہ میں مزید اضافہ کیا کہ اسی طرح خواتین پر آسیب آجایا کرتا تھا ہم اس کاتوڑ کرکے کچھ کمالیتے تھے مگر اب ان کے متعلقین انٹر نیٹ پر کسی سرچ انجن پرجاکر مریضہ کی کیفیت ڈالد دیتے ہیں اور وہاں سے انہیں جواب مل جاتا ہے کہ یہ صورت ِ حال فلاں مرض کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کبھی کبھی دوا بھی وہی بتادیتے ہیں اور لوگ ہمارے پاس آنے کے بجائے فارمیسیوں یا ڈاکٹروں کارخ کرتے ہیں ؟ سب سے پہلے انٹر نیٹ دشمنی بلا امتیاز خواہ قدامت پسند ہوں یامارڈرن والدین، ان میں بچوں کی وجہ سے پیدا ہوئی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماڈرن والدین زیادہ شاکی ہیں بمقابلہ قدامت پسندوں کے، کیونکہ ان کے بچے انہیں یہ کہہ کر چپ کرادیتے ہیں کہ ہم تو اسکول کاکام کررہے ہیں ۔ مگر ماڈرن والدین کیونکہ خود بھی یہ ہی کام کرتے ہیں جو کہ بچے کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ ان سے زیادہ پریشان ہیں۔ ان کی وجہ سے بہت سے سافٹ ویر فروخت کرنے والی کمپنیوں کی چاندی ہو رہی ہے کہ ہم تمام غلط چینل بلاک کر سکتے ہیں ،یہ کر سکتے ہیں وہ کرسکتے ہیں، جب کہ وہ کر کچھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ کیونکہ بچے جن سے شیطان بھی پناہ مامگتا ہے؟ اسکا توڑ اپنے ساتھیوں سے فوراً دریافت کر لیتے ہیں اور والدین منہ تکتے رہ جاتے ہیں؟ اب تو وہ اس سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں لڑکے اپنے لیئے بیوی اور لڑکیاں اپنے لیے شوہربھی اب اسی پر تلاش کر نے لگے ہیں، اس میں کبھی فراڈ بھی ہو جاتا ہے اور انکی زندگی تباہ ہوجاتی ہے، کبھی اتفاق سے اچھے رشتے بھی مل جاتے ہیں ان کی وجہ سے میرج بیرو والے سخت پریشان ہیں ۔ مختصر یہ کہ ساری دنیا اس بلا سے خائف ہے ؟ چپراسی سے لیکر افسر تک سب اپنے مستقبل کی طرف سے پریشان ہیں کہ سب کام جب کمپوٹر کریں گے تو انسان کیا کرے گا؟ جہاں کبھی لاکھوں افراد کام کر تے تھے اور دن بھر آپ اپنے مختلف کاموں کے لیے بھاگے بھاگے پھر تے تھے اب اس نئی ایجاد کے ہاتھوں سب کام گھر بیٹھے ہو جاتا ہے۔ اگر اس سمت میں ترقی کی رفتار یہ ہی رہی تو نوبت انشا اللہ جلد یہاں تک پہونچ جائیگی کہ چھ ارب آبادی رکھنے والیٰ دنیا کو چلانے کے لیے صرف چھ آدمی کافی ہونگے؟ پھر باقی کا کیا بنے گا؟
ہم اپنے علماءسے تو ایک سرچ انجن کی شکایت کافی عرصہ سے ٹی وی پر سنتے آرہے تھے؟ انہیں شکایت یہ تھی کہ لوگ مذہب سے متعلق ہر سوال اب بجائے مولانا سے پوچھنے کے مولانا۔۔۔ سرچ انجن سے پوچھ لیتے ہیں؟ اس سے ہماری مذہبی اجارہ داری تو باکل ختم ہوجا ئیے گی وہ مسلمان جو پہلے قرآن تک پہونچنے کے روا دار نہ تھے اور انہیں علم القرآن سے ہم نے اس لیے دور رکھا کہیں وہ اس سلسلہ میں خود کفیل نہ ہو جائیں اور ہماری افادیت کم ہو جائے؟ مگر انٹرنیٹ آجانے کہ بعد اب ہر سوال کا جواب مولانا کے بجائے سرچ دینے دینے لگے ہیں؟ مولانا۔۔۔ سرچ انجن سے آپ یہ مت سمجھ لیجئے گاکہ انہوں نے کوئی ذہین علماءکا بورڈ بنا دیا ہے یہ تو وہ کر ہی نہیں سکتے اس لیے کہ اتحاد بین المسلمین سے وہ سب الرجک ہیں حالانکہ یہ کام انہیں کو سب سے پہلے کرنا چاہیئے تھا تاکہ ایک مستندعالمی ادارہ عالم وجود آجاتا جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماءہوتے اور وہ امت کی رہنمائی کرتے مگر انہوں نے ہمیشہ کی طرح اسے بدعت کہنا شروع کردیا، جس کی وہ ہمیشہ منبر سے مذمت کرکے صدیوں سے اس پر عمل کرنے والوں کو واصل جہنم کرتے رہے ہیں جب کہ وہ بدعت کی وضاحت نہیں کرتے ۔اوراسوقت تمام مسلمان حیرت زدہ رہ کر ان کی تقلید کرنے لگتے ہیں جبکہ وہی چیزجب رائج ہوجائے تو اسے بدعتِ حسنہ کہہ کر خود وہی سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں جیسے کہ لاؤ ڈ اسپیکر جسے کہ وہ ایک مدت تک بدعت اور شیطان کی آواز کہتے رہے اب سب سے زیادہ وقت بے وقت وہ ان کے ہی استعمال میں رہتا ہے۔ جبکہ ان کی مخالف مختلف انٹر نٹ کمپنیوں نے دنیا کو بلاگ لکھنے کی مفت سہولت فراہم کردی ہے۔ لہذا ہربوالہوس نے علم پھیلانے کی ٹھان لی ہے ؟ ان میں علماءکم ہیں اور خود ساختہ زیادہ ہیں ۔لہذا وہ ایسی ایسی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ جو عموماً ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، اس پر بغیر تحقیق کے عمل کرنا خطرناک ہے ۔ اسلیے کہ ہمارے یہاں تو اختلافات جہاں نہیں ہونا چاہیئے تھے وہ تو ہیں ہی اس پر ظلم یہ کہ جو ویب پر اب علمی پیاس بجھانے کے لیےلوگ دیکھ رہے ہیں؟ ان کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ واقعی ان کے عقیدے کے مطابق ہیں یا نہیں ہیں؟ دوسری طرف مذہب بہت ہی اہم شعبہ ہے، ویب پر بہت سے ظریف بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ضرورت مند صرف تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے کسی کو نقصان پہونچ سکتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ سے نہیں ڈرتا تو پھر وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا؟ اپنی بات سمجھانے کے لیئے میں آپ کو ایک  مثال دیدوں تاکہ میری بات آپ کی سمجھ میں آسکے؟ ایک بچے نے کسی سرچ انجن میں سوال ڈالا کہ میرا کی (key )بورڈ گندہ ہوگیا ہے اسکی صفائی کیسے کروں ؟تو اسے جواب ملا کہ اسے واشنگ مشین میں ڈالدیں اور پھر ڈرائیر میں سکھا لیں۔ اس کے بعد کیاہوا وہ خود جان لیجئے؟
بس اسی پر ہی اور مسائل کو قیاس کرلیجئے ۔ یہ کیوں ہوا اسلیے کے ہم سب مال کمانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ بقول ایسا کرنے والوں کے ہم یہ سب کچھ اپنی اولاد کے لیے کر رہیں ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اولاد کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے ۔انہیں پتہ جب چلتا ہے کہ پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے ؟ کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس کی اصل وجہ نسلوں میں تضاد ِفکر کی خلیج کا بڑھنا ہے ؟ اسلام نے ہر چیز کھول کر قرآن اور احادیث میں بیان کردی ہے ؟ مگر نہ ہم ان کو خود کچھ بتانا چاہتے ہیں ، اورنہ ہی اسکے روادار ہیں کہ اسکولوں میں اساتذہ بطور مضموں انہیں پڑھائیں جس کا ثبوت آئے دن چلنی والی ان کے خلاف تحاریک ہیں ۔
تو پھر نئی نسل گمراہی سے کیسے بچ سکتی ہے؟ آجکل حوالہ دینے والے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں اور اسی کا حوالہ دینے لگے ہیں اس پرجو کہ انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ویب بنائی ہوئی ہیں ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کا حل کیا ہے َ؟ جواب یہ ہے کہ پہلے تو ہوس زر کم کریں اور کچھ وقت ان بچوں کے لیے نکالیں جن کی ناتجربے کاری کی بنا پر گمراہ ہونے خطرہ ہے انہیں دوستانہ ماحول دیں تاکہ وہ آپ سے خوف کھانے کے بجائے اپنے مسائل آپ کے گوش گزار کرسکیں اور آپکی رائے لے سکیں ، ورنہ وہ پیر پریشر کا شکار ہو جائیں گے یا ان کی رائے پر چلنے لگیں جن کے مقاصد مذموم ہیں۔ جب ان سے مسئلہ کے بارے میں پوچھئے کہ یہ آپ نے کہاں سے لیا ہے ؟تو وہ بطور حوالہ کسی ویب کا نام بتا دیتے ہیں اور بچے کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہاں یہ جواب تفریحاً دیاگیا ہے یا دینے والے نے اپنے عقیدے کے مطابق دیا ہے۔ جبکہ گراہک بڑھانا کسی ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر ایک کمپنی کا مسئلہ ہے ۔ ایک ویب کپنی جو کہ لوگوں کو اپنے کوائف (بائیو ڈیٹا) کے لیے مفت جگہ فراہم کرتی ہے ۔اس کے یہاں ہرایک کواجازت ہے کہ وہ جو چاہے اپنی معلومات کے مطابق اسکی تصحیح کردے اور دوسرا اس کی تصیح کی تصحیح کردے اور یہ لامنتاہی سلسلہ کسی مقام پر جاکر بند نہیں ہوتا؟ اگر کوئی وہاں جاکرکسی کی سیرت پڑھے گا تو گمراہ ہونے کا خدشہ ہے؟ دوسری بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ چھوٹے کاروبار پٹتے جارہے ہیں آئے دن بند ہو رہے ہیں ؟ بڑے بڑھتے جارہے ہیں ؟ کیونکہ وہ ہر چیز ٹنوں کے حساب سے خریدتے ہیں لہذا انہیں ہر چیز سستی ملتی ہے چھٹ بھیے انکا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے وہ کاروبار کے میدان میں جی ہی نہیں سکتے ؟ یہ بات سرمایہ پرست دنیا کے سوچنے کی ہے کہ جب آپ چھوٹے کارو بار بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنا نفع بڑھانے کے لیے انسانو ں کو روز گار فراہم کرنے کے بجائے گھر بھیج رہے ہیں تو قوت خرید کس طرح باقی رہ سکے گی اور مال آپ سے کون خریدے گا؟ ان سوالات کا جواب پوری دنیا کی سوچ کے لیے چھوڑتا ہوں ؟ کہ کہیں ہم اپنے ہی ہاتھوں خود کشی تو نہیں کر رہے ہیں ۔اس کا نتیجہ کتنا بھیانک ہو گا اور آگے چل کر کیا ہوگا وہ اللہ ہی جانتا ہے؟

Posted in Articles | Tagged ,

معاذ کاسہرا

بسم اللہ الر حمٰن الر حیم ہ
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
سہرا
بہ تقریب عشایہ بسلسلہ شادی خانہ آبادی ڈاکٹر معاذ کمال خلف رشید جناب انور کمال و محترمہ شبنم کمال جو بمقام وینکور بروز ِجمعہ ١٢ اگست ٥١٠٢ ءکو منعقد ہوئی اور اس میں یہ سہرا پڑھا گیا۔
بعد مدت کے اس گھرمیں ہے پایا سہرا
شکرمالک کا ہے کہ پوتے کا دکھایا سہرا
کس کی ایجاد تھا اور کس نے بنایا سہرا    چپ ہے تاریخ کہ کس دور میں آیا سہر ا
گزراوہ وقت بھی ہرسر میں سمایاسہرا    چَچاغالب نے کہا ، سرِدربار سنایا سہرا
ِ ارتقا اُس کوملی کہ سنہرا جو بنایا سہر ا      ہم نے جب ہوش سنبھالا وہی پایا سہرا
چلااجدادسے ،پشتوں تلک آیاسہرا    جب کہ پھولوں پہ سنہرا یہ چڑ ھایا سہرا
رسم رائج یہ تھی ہر ماتھے سے لگایا سہرا   پھر کہیں جاکے سرِ نوشہ پہ سجایاسہرا
نہ ہی وہ دور نہ عرفان ابھی باقی ہے    فرصت مفقود ،نہ پہچان ابھی باقی ہے
لوگ زندہ ہیں ارمان ابھی باقی ہے    رسم ِاجداد ہے کچھ جان ابھی باقی ہے
چاہتِ نوشہ تھی کہہ کہہ کے لکھایا سہرا   شکل موجودنہیں یوں لفظوں سے بنایا سہرا
رسم کرنا تھی شبنم نے پھولوں کا منگایا سہرا    خلق ِ انور  جو دیکھا پھولے نہ سمایا سہرا
روئے زیباپہ جب بھائی کے نظر آیا سہرا   چشمِ مشہود میں بھی ہے جگہ پایاسہرا
پہلے دادی سے ہے تصدیق کرایا سہرا     پھر کہیں جاکے ہے محفل میں سنایا سہر
شمس سہرا ہی نہیں تم نے ہے تاریخ لکھی   ہو مبارَک اسے، جس دل کو ہے بھایاسہرا
راہ ِ حق کے یہ مسافر ہیں انہیںتحسین کہیں
خوش رہیں معاذا ورندا آئیے آمین کہیں
دعا گو؛ شمس جیلانی

Posted in Uncategorized

اللہ سبحانہ تعا لیٰ اپنے بندوں کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

کچھ لوگ ہمارے یہاں بھی یہ ہی چاہتے ہیں کہ اور قوموں کی طرح مذہب کو سیاست سے علیٰحدہ کردیا جائے تا کہ سب کو کھل کھیلنے کا موقعہ ملے؟ اور دلیل کی طور پر دوسرے آسمانی مذاہب کو پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے جب ایسا کیاتو ان کی ترقی شروع ہوئی ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ان کی تباہی کی ابتدا مذہب کو زندگی سے خارج کرنے کی بنا پر ہوئی کیونکہ مذہب تو حضرت آدم (ع) سے دین کا لازمی حصہ چلا آرہا ہے کیونکہ وہ ہمارے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے ۔ اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے اس کو اپنی عبادت کرانے کوئی ضرورت نہیں ہے بندہ جو کچھ کرتا ہے اپنے لیے کرتا ہے ۔ کہ وہ تو ہر خواہش سے پاک ہے۔اور سورہ ابراہیم میں اس نے تمام بنی نوع انسانی کو یہ بات بنی اسرائیل پر رکھ کر حضرت موسیٰ (ع) کی زبانی کہلوادی ہے کہ “اگر تم سب ملک کر کفر کرو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہونچے گا بلکہ نقصان تمہارا ہی اپنا ہوگاکہ میں اس کی پاداش میں تمہیں سخت سزا دونگا ، البتہ شکر کروگے تو میں تمہیں زیادہ دونگا “ اب یہ بندے کی اپنی مرضی پر منحصرہے کہ وہ زیادہ سے نعمتیں سمیٹنا چاہتا ہے یاخود کو سزا کے لیے تیار کرتا ہے۔اس کی تازہ مثال قصور کا واقعہ ہے ؟دیکھ لیجئے کہ ہم من حیثیت القوم ہر قسم کے گناہوں میں مبتلا ہیں، اسی لیے تو ہم ہر طرح کے آئے دن عذاب دیکھ رہے ہیں کہ پہلے ہمارے ہاں خشک سالی آتی ہے، جب اسے دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تو وہ سیلا ب اور بارش کی شکل میں تباہی بھیج دیتا ہے۔ اگر ہم قر آن میں جائیں تو آپ کو بہت سی مثالیں مل جا ئیں گی۔ کہ کس قوم نے کیا کیااور اس کو کیا سزا ملی؟ سب سے مشہور قصہ قوم عاد کا ہے جو عرب میں ضرب المثل ہے دیکھئے کہ وہ قوم بھی اللہ سے واقف تھی اس کو مانتی بھی تھی اور نا فرمانیوں میں بھی مبتلا تھی۔ ہماری طر ح اس نے بھی خشک سالی پر اپنا ایک وفد حرم شریف بھیجا جیسے کہ ہمارے بہت سے لوگ اور حکمراں معتکف ہونے اور چلا کھینچنے جاتے ہیں مگر ہوتا کیا ہے ؟ جو ان کے ساتھ ہوا؟کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مہر بان نہ تھا، پہلے تو وہ وہا ں کی ایک مضافاتی بستی میں ایک رئیس کے پاس ٹھہرگیا اور وہا ں شراب پیتا رہا اور گانا سنتا رہا جب میزبان تنگ آگئے ور انہوں نے انہیں ان کا مشن یاد دلایا تو وہ جاگااور دعا مانگی ؟ تو اللہ نے اسی کے ہاتھوں خود ہلاکت ان ہی سے چنوادی ، انہیں کئی بادل دکھا ئے کہ ان میں سے کونسا تم اپنی قوم کے لیے چاہتے ہو؟ انہوں نے اپنے خیال میں بہتریں بادل چنا جو انتہائی سیاہ ہو نے کی وجہ سے پانی سے بھرا ہوا نظر آرہا تھا۔ اسے انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ نے اسی کو ان کی بستی کی طرف بھیج دیا جس میں بجائے بارش کہ انگارے بھرے ہوئے تھے پھر یہ ہوا کہ قوم عاد اسے دیکھ کر خوش ہو گئی اور ناچتی ہو ئی باہرنکل آئی کہ اب بارش ہوگی، مگر برسے اس سے انگارے اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئی ۔اس میں بڑا واضح سبق ہے کہ ا گر وہ راضی ہو تو وہ قدم پر رہنمائی کر تا ہے اور خودہی صحیح فیصلہ کر نے کی تو فیق عطا فرماتا ہے اگر ناراض ہو تو وہ مت ہی ماردیتا ہے اور بندے نادانی میں اپنے لیے وہ چن لیتے ہیں جو ان کے لیے باعث ہلاکت ہو ۔
اگر ہم اس سے ڈرتے رہیں با الکل اسی طرح جس طرح کہ ہم اپنے بزرگوں سے ڈرتے ہیں کہ ان کے علم میں ہماری کو ئی ایسی بات نہ آجائے جو انہیں دکھ پہونچے ؟ تو وہ جو ماں سے ستر گناہ زیادہ چاہنے والی ہستی ہے اور ان کی طرح بے بس اور محدود علم رکھنے والی نہیں ،بلکہ عالم غیب ،عزیز ، ہوتے ہوئے رحیم و دانا اور بینا بھی ہے؟ اس کا ان سے کہیں زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر بندہ صرف اتنی ہی احتیاط برت لے، جتنی ان کے لیے برت تا ہے تو اس کے لیے یہاں بھی جنت ہے اور وہاں تو دائمی جنت ہے ہی ہے جہاں اس کو ہمیشہ رہنا ہے جہاں کوئی مشقت ہی نہیں حتی ٰ کہ عبادت بھی نہیں ہے ۔ لیکن ہم وہاں کا کوئی خیال نہیں کرتے جب(کہ اس کے مقابلہ میں یہاں کی زندگی جو ایک لمحہ جتنی بھی نہیں ہے ،اس پر پوراوقت بر باد کرکے یہاں سے خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں یا لوگوں کامال مار کر ورثا کے لیے چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور وہاں کی کوئی تیاری نہیں کرتے؟ ایسی صورت میں وہاں کیا ہو گا وہ بھی قرآن میں ہی لکھا ہوا؟
جب کہ ہم سب کہتے ہیں کہ ہمارا قر آن پر ایمان ہے، جو کہ اصل میں نہیں ہے ؟اگر ہو تا تو پھر ہم اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کر تے، جبکہ ہم ہر کام جس سے اس نے منع کیا تھا اس کے باوجود انجام دیتے ہیں تو خود ہی نتیجہ بھی لکھ لیجئے یا پھر مان لیجئے کہ ہمارا اس پر ایمان نہیں ہے؟ اگر ہو تا تو جس طرح کسی کثیرالمنزلہ عمارت سے کسی کے کہنے پر کوئی چھلا نگہ نہیں لگا سکتااسی طرح یہاں بھی رویہ ہو تا؟ جیسے ہم ایسا کہنے والے کو ٹکا سا جواب دیدیتے ہیں کہ تیرے مشورے پر عمل کر کے مجھے کیا مرنا ہے؟ یہاں ہم اس طرح اگر سوچتے ہو تے کہ کسی کہ کہنے پر کیوں چلیں سوائے ان (ص) کے اسوہ حسنہ پر چلنے کہ جن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ تمہا رے لیے تمہا رے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کا فی ہے۔ جبکہ اسوہ حسنہ مجموعہ ہے ان کے عمل کا جس میں وہ تمام احکامات خداوندی شامل ہیں جو کہ اس کی طرف سے ان کے پاس کسی بھی صورت میں بھی پہونچے ؟ ، شاید قارئین میری اس بات پر الجھ جا ئیں ؟ کیونکہ زیادہ تر لو گ وحی کا صرف ایک ہی ذریعہ جانتے ہیں جو کہ قرآن ہے ؟ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے پاس اللہ سے احکامات پہونچنے کے دوسرے ذرائع بھی تھے جن کو وہ قر آن کی طرح کاتبان وحی کواملا نہیں کرایا کرتے تھے۔ ، جیسے کی حضرت جبرا ئیل (ع)  کے ذریعہ زبانی احکامات ۔ یا پھر کبھی اللہ تعالیٰ خواب میں کچھ دکھا دیتا تھا جیسے کہ وہ عمرہ اور حج، جس کے نتیجہ میں صلح حدیبیہ ہو ئی اورجس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں فتح مبین فرمایا؟ اسی طرح نماز کا حکم تو معراج میں براہ راست ملا، لیکن اس کی عملی تربیت حضرت جبرئیل (ع) نے آکر دی ، حج کو دیکھئے کہ حکم قرآن میں ہے مگر اس کی تفصیل حج الودا میں ان (ص) پر نازل ہو ئی جو کہ مدینہ منورہ سے احرام باندھنے سے شروع ہو کر حرم شریف میں سعی کے خاتمے اور پھر رجم پر جاکر ختم ہوئی،جب ان (ص) کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کی ایک آیت میں فرما تا ہے کہ “ یہ اپنی خواہش سے کوئی کام نہیں کر تے وہی کچھ کرتے ہیں یا فرماتے ہیں جو میری طرف سے ان کو وحی کیا جاتا ہے “ کہیں کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہوجائے ان (ص) کے کئی افعال کو دوسری کئی آیات  میں اپنایا ہے  “ مثلا ً کنکریاں انہوں نے میں نے پھینکیں“
اب سوال یہ ہے جوکہ آج کا عنوان بھی ہے کہ وہ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتاہے؟ اس کا جواب حضور (ص) کے ارشاد ِ عالیہ سے مل جاتا ہے کہ “ مسلمان وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے “ اس کے لیے اس نے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا ہوا ہے جیسا کہ کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا جو اسلام میں ملتا ہے۔ حضور (ص) نے اپنے ایک ارشاد میں فرمایا کہ “ میں مکرم الالخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں “ اور سب سے اچھا وہ جو اپنے اہلِ خاندان کےساتھ اچھا ہے اور مین اپنی بیوی کے ساتھ سب سے اچھا ہوں  “تو مختصر الفاظ میں مسلمان کو بھی اخلاق میں کامل ہو نا چاہیئے جب کہ کامل بننے کے لیے کا نسخہ یہ ہے کہ بندہ اسوہ حسنہ کو اپنا کر اس کا عملی مظہر بن جا ئے ؟ اس کے لیے اسے جو چیز سب سے پہلے اختیار کرنا پڑیگی وہ ہے۔ “ انکساری برا ئے اللہ “ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لیے انکساری ؟ یہاں پہلا سبق ہمار ے لیے یہ ہے کہ حضور (ص) سلام میں ہمیشہ پہل فرمایا کرتے تھے وہ بھی کرے؟ یعنی ہماری طرح وہ (ص) اس کے منتظر نہیں رہتے تھے جیسا کہ ہم کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں سلام کرے اور ہماری انا کی تسکین کا باعث بنے ؟ پھر مسکراہٹوں کے تبادلے ، دونوں طرف سے ہوں ؟ پھر بات خیر خیریت تک پہونچے کیونکہ اپنے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی حضور (ص) نے صدقہ قرار دیا ہے؟ اگر کسی کے گھر آپ جارہے ہیں تو دروازے سے ذرا ہٹ کر کھڑے ہوں، وہیں سے اس کو تین مرتبہ سلام کر یں، اگر جواب نہ ملے تو دروازہ پیٹنے نہ لگیں اور نہ صاحب خانہ بچہ سے کہلا ئیں کہ اابا گھر پر نہیں ہیں ۔ اس طرح بچے کو بچپن سے جھوٹ بولنے کی تربیت نہ دیں۔اب تو یہ مسئلہ باقی نہیں رہا پہلے بہت تھا۔ اب  آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ پہلے سے وقت مقرر کر کے جائیں۔ اور وقت کی پابندی کریں یہ نہیں کہ ابھی آرہا ہوں  اور میذبان وقت دیکر بچھتائے؟ اس سلسلہ میں حضور (ص) کا واقعہ بیان کر تا ہوں کے وہ جو سب سے زیادہ معزز ترین تھے۔ اس سلسلہ میں انکا (ص) رویہ کیا تھا۔ وہ ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے تین آوازیں دی اندر سے جواب نہیں آیا، تو واپس چلدیئے وہ صحابی دوڑے ہوئے آئے اور معذرت کرنے لگے کہ میں چاہتا تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ آپ سے دعائیں لوں اس لیے میں خاموش رہا۔ چلیے غریب خانہ میں  تشریف لے چلیے ۔ حضور (ص) نے کوئی تعرض نہیں فرمایا اور انکو شرف ِ میزبانی بخشا؟ (باقی آئندہ)

Posted in Articles | Tagged ,

وطن عزیز صحیح سمت میں

عجب ظلم ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں بار بار فرماچکا ہے کہ طالب دنیا اور طالب عقبیٰ برابر نہیں ہوسکتے۔ لوگوں کا عالم ہے کہ جب وہ دوسروں پر ظلم کرتے ہیں تو خدا بالکل یاد نہیں آتا، لیکن جب ان کے ظالم ساتھیوں سے بازپرس ہوتی ہے تو انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے اور اسی کی دہائی دیتے ہیں۔ جبکہ انہیں اللہ پر یقین ہوتا تو وہ جانتے ہوتے کہ اس بصیر اور خبیر کے سامنے نہ فیلسوفی چلتی ہے نہ جھوٹ اور فراڈ چلتا ہے۔ یہ دہرا معیار ہے جوکہ مسلمانوں کی اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہے۔ سورہِ محمد (ص) کی آیت نمبر14 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ“ جو لوگ واضح طور پر راہِ راست پر ہوں اور وہ جن کے اعمال انکو اچھے  کر کے دکھائے جائیں برابر نہیں ہوسکتے؟ اس سے آگے کی آیتوں میں وہیں فرما دیا ہے کہ پہلی قسم جنتی ہے اس کے لیئے انعامات ہی انعامات ہیں ، جبکہ دوسری قسم کے لیے جہنم جہاں عذابات دائمی ہیں۔ نہ ان کے انعامات میں کبھی کمی ہوگی اور نہ ان کے عذابات کم ہونگے۔پھر پہچان بھی بتادی کے اللہ والا وہ ہے جس کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے اور اس کا مخالف یہ ہے کہ جس کے اعمال دیکھ شیطان یاد آجائے۔ کیونکہ پہلی قسم کا ولی اللہ اور دوسری قسم کا ولی شیطان ہے جبکہ اللہ اندھیروں سے روشنی کی طرف بلا تا ہے اور شیطان جہنم کی طرف کھینچتا ہے۔ لیکن انسان ہے کہ پھر بھی دھوکا کھا جاتا ہے۔ جب اللہ اسے نوا ز تا ہے تو بجا ئے شکر دا کرنےکہ وہ اسے بھول جاتا ہے، حتیٰ کہ ظلم کرتے ہوئے وہ اسے یاد بھی نہیں آتا۔ جب کرسی ہلنے لگتی ہے تو شکوے کرتا ہے کہ میں جب اقتدار تک پہونچا نے کا ذریعہ تھا تو لوگ وزارتوں کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اب مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور پھر مگر مچھ کی طرح آنسو بہاتا ہے۔ آجکل ایک تو ہیں اس صف میں نمایاں ،باقی  بھی خدا بھولے شاکی نظر آتے ہیں کہ “ یہ فلاں محکمہ  کوکیا ہوگیا جو سندھ میں اچانک سر گرم ہو گیا ہے؟  بھولے بادشاہوانہیں کچھ نہیں ہوا ہے۔ صرف  قوم کاایک ایک  جوان جاگ گیا ہے۔ اس لیے تمام مھکے جاگ گئے ہیں، اسی پر قیاس کر لیجئے کہ اگر سب جاگتے ہوتے تو کیا ہوتا؟  یہ جو جاگ آئی ہے اس کو غنیمت سمجھیں اور عوام اس کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ کیونکہ کسی قوم کو بار بار موقع نہیں ملتا۔
دیکھئے! کل تک پورا ملک تذبذب کا شکار تھا مگر اب ہر صبح ہم سوکر اٹھ کر دیکھتے ہیں تو کل سے بہتر نظر آتا ہے کچھ بادل چھٹ چکے ہیں کچھ عنقریب چھٹنے والے؟ چند دن پہلے ہم نے ایک خوشگوار صبح دیکھی جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ طلوع ہوتی دکھائی دی؟ جولوگ نہیں جانتے ہیں ہم انہیں بتاتے چلیں کہ ہم میں اور وطن عزیز میں بارہ گھنٹہ کا فرق ہے لہذا جب آپ کے یہاں رات ہوتی ہے تو ونکو ر میں دن ہوتا ہے اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی اہم خبر کا انتظار کرتے ہوئے سو جاتے ہیں اور دوسرے دن صبح کو ہمیں وہ خبر ملتی ہے جو آپ ایک دن پہلے پڑھ یا سن چکے ہوتے ہیں ہم کل تک بڑے بڑے اینکروں کو ٹی پر پریشان دیکھ رہے تھے کہ منطقی انجام کا مطلب کیا ہے؟ جبکہ لغت کبھی بدلا نہیں کرتی، اسکے باوجود اگر لوگ اس کے معنوں کے لیے سرگرداں تھے تو اسکی وجہ یہ تھی کہ جب بھی امید کی کوئی کرن نظر آئی یکایک اس پر اوس پڑگئی یا بادل چھا گئے ،وجہ یہ تھی کہ پہلے تو کہنے والے مخلص نہ تھے، دوسرے ادارے ایک پیج پر نہ تھے؟ لہذا کوئی نہ کوئی ادارہ مایوس کر دیتا تھا؟اس مرتبہ ایک مرد مجاہد نے جس کے خاندان نے پاکستان پر اپنے کئی ستارے قربان کیئے ہیں، اس کا ایک فرد بہت ہی اہم عہدے پرآگیا اور اس نے اعلان کردیا کہ بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف میری مہم اس وقت جاری رہے گی جب تک یہ اپنے منطقی انجام کو نہ پہونچ جائے ؟وزیر اعظم جوکہ 99 والے وزیر اعظم نہیں ہیں انہوں نے اس آواز پر لبیک کہنے  کافیصلہ کرلیا؟ پھرتیسرے ادارے عدلیہ نے جس نے ایک آمر کے پہلی دفعہ نظریہ ضرورت تحت ہاتھ مضبوط کیے تھے۔ اسے ایک بہترین چیف جسٹس مل گئے۔ اور انہوں نے اس طریقہ پر کام کرنا پسند کیا جو دنیا میں عدالتیں کرتی ہیں ۔اپنی یہ صفت دکھائی کہ اس کی کہ فل بنچ نے گزشتہ دور کی طرح متفقہ فیصلہ نہیں دیااور فل بنچ بٹی رہی ۔ کیونکہ جج بھی عوام میں سے ہی آتے ہیں ؟لہذا ان کی بھی اکثریت متفق رہی کہ خامیوں کے باوجود جمہوریت کو کام کرنے دیا جائے؟یہ سب کچھ حالیہ تاریخی فیصلوں سے ظاہر ہو گیا۔ اور ہر طرف سے اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو الیکشن کے سلسلہ  میں جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آیا اس نے بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ، اس پر فیصلہ دیا کہ دھاندھلی تو ہوئی ہے مگروہ منظم نہ تھی؟ممکن ہے کہ ہمارے قارئیں پوچھیں کہ منظم اور غیر منظم دھاندلی میں فرق کیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے  بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے کہ کسی ایک پارٹی کو جتانے کے لیے۔ کچھ ادارے سرگرم ِ عمل ہوجاتے تھے اور کسی من پسند پارٹی کو جتادیتے تھے؟ یہ سلسلہ صوبہ سرحد میں خان عبد القیوم خان کی اک ایسی ہی جیت سے شروع ہوا تھااور 2002 ءجاری رہا لیکن دو ہزار نومیں میں وہ پارٹیاں آگئیں جن کو اس وقت  کا آمر کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے نتائج ماننے پڑے اور اسکے نتیجہ میں کسی کو بھی اکثریت نہیں ملی، مجبوراًمکمکاؤ کی سیاست نے جنم لیا؟ جس کی وجہ سے بد عنوانیوں کا گراف اپنی انتہا کو پہونچ گیا مگر منتخب حکومت نے پہلی دفعہ اپنی مدت پوری کی اور دوسرے دوہزار تیرہ کے انتخابات نے یہ ثابت کردیا کہ جو بھی بد عنوان تھے ان کے لیے اب سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ جبکہ سیاستدان دھاندلی کے ستر سال سے عادی تھے لہذاھاندلی تو ہر ایک نے کی جس کو جتنا موقعہ ملا، اس میں ملا اور مسٹر دونوں یکساں شامل تھے مگر فرق یہ ہے کہ ویسی دھاندلی نہیں ہو ئی کہ کوئی ایک پارٹی جیت جاتی ؟ اور باقی گھر چلے جاتے ؟ مجبوراً سب نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت کو کام کر نے کی اجازت دیدی اور مرکزی حکومت  نےاس مرتبہ اپنی اعلیٰ ظرفی دکھائی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبوں میں مرکز مخالف حکومتوں کو برداشت کیا اور انہیں کام کر نے کا پورا پورا موقعہ دیا۔ تاکہ حکومتوں کے درمیان ایک صحت مند مقابلہ ہو ااور آئندہ عوام خود فیصلہ کر سکیں جماعتوں کی کارکردگی پرکھ کر؟
جو بہت کامیاب گیا اب دوہزار اٹھارہ کے جو الیکشن ہونگے ان میں ووٹوں کی اکثریت انشا اللہ پارٹیوں کار کردگی اور وعدہ کی پابندی کی بنیاد ہونگے۔ کیونکہ اس سلسلہ میں قوم خاصی بیدار ہو چکی ہے۔ اگر اس مرحلہ ا پرادارے متحد نہ ہوتے اور کوئی بھی ایک اداراہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دیتا تو پاکستان وہیں واپس چلا جاتا جہاں پہلے جاتا رہا اور کوئی فرد ِ واحد عقل کل بن کر پھر قوم  کوالف اورب پڑھانا شروع کر دیتا؟ایسے کڑے وقتوں میں جو سرپھرے بھی کام کر تے ہیں تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہاں بھی نواز شریف صاحب، راحیل شریف صاحب اور چیف جسٹس ناصر ملک صاحب کانام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا، جنہوں نے متحد ہو کر بلا اکراہ جبر وہ نمونہ پیش کیا کہ جو لوگ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے وہ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں ۔ سب مل کر اکٹھے سازشیں کر رہے ہیں؟ اس کے باوجود ملک کی ترقی کا گراف آگے بڑھ رہا ہے؟
دوسری طرف فوج کی روایات اب تک یہ تھیں کہ انہوں نے ملک توڑدیا مگر ان کے کسی ذمہ دار کو کبھی سزا نہیں ملی، جب این ایل سی کا معاملہ فوج کے سپرد کیا گیا تو سب کا یہ ہی خیال تھا کہ اب کچھ نہیں ہوگا یہ انہیں بچانے کے لیئے ڈرامہ کیا گیا ہے مگر ان کی آنکھوں جب کھلیں یہ خبر پڑھی کہ دو جنرلوں کو سزا دیدی گئی ان کی پیشن وغیرہ بھی ضبط کرلی گئی، تو سب کو “ منطقی انجام کے معنی سمجھنے میں اب کوئی مانع نہیں رہی؟ ادھر عدلیہ نے کثرت رائے سے پارلیمان کے فیصلوں کو بہال رکھتے ہوئے جمہوریت  کوکام کرنے کا موقع عطا کردیا۔جن ججوں نے اکثریت کی رائے کی مخالفت میں رائے دی انہوں نے  بھی یہ واضح کردیا کہ پارلیمانکو بھی اپنے حدود سے تجاوز نہیں کر نا چاہیئے اور ہمیشہ رعایتی نمبر نہیں ملیں گے؟ تاکہ آئندہ سند رہے اور بر وقت ضرورت کام آئے؟ اور یہ کہ پارلیمنٹ تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھے؟
رہا تحریک ِ انصاف کا معاملہ تو سب کو متفق کرنا اس سلسلہ کی ایک کوشش تھی مگر کودوپارٹیاں صرف اپنے ذاتی  نا اورمفادات کی بنا پر اس میں روڑے اٹکارہی تھیں، وقت کا تقاضہ تھا کہ جنہوں نے اس کے ساتھ وعدے کیے تھے وہ ان کے سختی سے نپٹیں انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ مسئلہ حل ہوگیا۔ کیونکہ وعدہ خلافی منافقت میں آتی ہے اور کسی کوکچھ دیکر واپس لینا ایک حدیث کے مطابق ایسا ہے جیسا کہ الٹی کر کے اسے کھا لینا ،اللہ تمام مسللمانو ں کو اس برائی سے محفوط رکھے ۔آمین
اب دودھ پینے  والے مجنوں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ ان کے لیڈر شاکی ہیں کہ رابتہ کمیٹی کے ممبران  نےوزارت کے مزے لوٹے اور بھاگ کر مجھی کو للکارنے لگے اور مجھے تنہا چھوڑ گئے، ادھر ایک شاہ جی کہہ رہے ہیں کہ نیب اور دوسرے اداروں کو نہ جانے کیا ہوگیا کہ وہ ایک دم جاگ پڑے؟ بات  یہ ہے کہ اگر سپہ سالارجاگ رہا ہو تو وہ صلاح الدین ایوبی کی طرح اپنے خلوص اور محنت کی بنا پرسب  پرچھا جاتا ہے،اور اگر وہ سور رہا ہو یحییٰ خان کی طرح ملک کھودیتا ہے۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کو استقامت اور قوم کو صحیح فیصلہ کرنے کی تو فیق عطا فرمائے (آمین)

Posted in Uncategorized

حضور (ص)کی پیش گوئی اوراسکے تقاضے ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

سورہ کہف کی آیت نمبر 46 کی تفسیر میں ابن ِ کثیر(رح )نے ایک حدیث وارد کی ہے۔ کہ مسند احمد میں حضرت نعمان (رض) بن بشیر سے روایت ہے کہ “ ایک رات عشاءکی نماز کے بعد حضور (ص) ہمارے پاس تشریف لائے اور آسمان کی طرف دیکھ کر نگاہیں نیچی فرمالیں ،ہم نے خیال کیا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہو ئی ہے۔ پھر حضور (ص) نے فرمایا کہ “ میرے بعد جھوٹے اور ظالم حکمراں ہونگے جو ان کے جھوٹ کو سچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اسکا ہوں اور جو ان کے جھوٹ کو نہ سچائے اور ان کے ظلم پر طرفداری نہ کرے وہ میرا اور میں اس کا ہوں وہ میرے ساتھ ہوگا “ ۔
دوسری آنکھیں کھولنے والی اسی سورہ کہف کی آیت نمبر 104 ہے؟ جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ “ لوگ اسی غلط فہمی میں رہیں گے وہ بڑے نیک کام کر رہے ہیں لیکن ان کے تمام اعمال اکارت جا ئیں گے ۔ اس لیے کہ وہ سب کچھ دکھاوے کے لیے کر رہے ہونگے “ یہ وہی سورہ کہف ہے جس کی رات کو سونے سے پہلے پڑھنے کی حضور (ص) نے تاکید فرمائی تھی تاکہ لوگ ہاتھوں ہاتھ اپنا احتساب خود کرلیں ؟
ہم سے ہمیشہ نہ جانے کیوں سمجھنے میں غلطی ہو جاتی ہے اور اس کامطلب الٹا سمجھتے ہیں کہ یہ صرف پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے دوسرے یہ آیات ہمارے بارے میں نہیں کافروں کے بارے میں ہیں،یا اہلِ کتاب کے بارے میں ہیں ۔حالانکہ ان کا عمل دیکھیں تو اپنے پیر کتنے پانی میں ہے صاف نظر آجائیں گے کیونکہ ہم بھی انہیں کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ خطاب عام ہے ،ہر اس شخص کے لیے ہے جو برے کاموں میں لوگوں کی مدد کر ے چاہیں وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور وہ پانچ وقتہ نمازی ، تہجد گزار بھی کیوں نہ ہو، اور چاہیں یہ فعل امام کعبہ ہی سے سرزد کیوں نہ ہو اہو ۔ کیونکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کریں برائی میں نہیں؟ لوگوں کا عالم یہ ہے کہ سیاست دانوں سے ڈرتے ہیں اور ان کی وکالت میں ٹی وی پر گھنٹوں صرف کرتے ہیں حالانکہ اس میں دور، دورتک حق کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔ تاکہ وہ محفوظ رہیں ان کا پارٹی سے آئندہ الیکشن کے لیے ٹکٹ پکا رہے ، اور ان کے کمائی کے چور دروازے کھلے رہیں پھر اسی لوٹ کے مال میں سے وہ مسجد بناتے ہیں دستر خوان جاری کرتے ہیں ہر جگہ مدد کو پہونتے ہیں اور اس طرح مخیر حضرات میں شمار ہوتے ہیں ۔ انہیں پیسوں سے بنائی ہوئی مسجدوں میں امام کعبہ کو امامت کے لیے بلا تے ہیں۔
ایک گروہ وہ بھی ہے جو ہرسال ستائسویں شب حرم شریف میں گزارتا ہے۔ دوسرے وہ بھی ہیں کہ یہ جانتے ہیں کہ پیر صاحب کو روزہ نماز سے کیاواسطہ مگر پھر بھی ان کی مریدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے پھر تے ہیں کہ وقت ضرورت پیر صاحب کی سفارش کام آئے۔ کیا یہ پہلی آیت کے دائرے میں نہیں آتے؟ کیونکہ کوئی ہمار ے ےہاں سچ بولتا ہی نہیں ہے اسی لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اولاد آدم میں سے ننیانوے فیصد لوگ جہنم میں جا ئیں گے۔ اس تنبیہ کے باوجود ہم میں سے زیادہ تر کا تکیہ جھوٹ پر ہے۔ کسی پارٹی کے رہنماؤں کو لے لیجئے ہر جگہ جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا وہ خود ہی اپنی باتوں کی تردید کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔اس پہ شرمائیں گے بھی نہیں ۔ ڈنکے  کی چوٹ کہدیں گے کہ یہ تو ایک سیاسی بیان تھا یعنی سیاست میں جھوٹ بولنا جائز ہے؟ جبکہ حضور (ص) سے زیادہ مفسرِ قرآن کون ہوسکتا ہے؟ انہوں (ص) نے فرمایا کہ مسلمان میں تمام برائیاں ہو سکتی ہیں مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا“ اس ارشاد کی روشنی میں کوئی بے وقوف ہی جھوٹ بولتے ہوئے خود کو مسلمان کہہ سکتا ہے ۔ جبکہ جھوٹے کی تعریف یہ فرمائی گئی ہو کہ کوئی بغیر تصدیق کے سنی سنائی بات کوآگے بڑھادے وہ اس کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے۔ یعنی نہ مسلمان خود جھوٹ بولتا ہے نہ کسی جھوٹے کی حمایت کر تا ہے نہ کسی کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے میں شریک ہوتاہے؟ اس میں ہمارے سیاستداں ہی نہیں وہ لوگ جو اسلام کے داعی ہیں اور اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتے وہ بھی پیچھے نہیں ہیں۔ چند دن پہلے کی خبر دیکھ لیجئے کہ امیر المونین ملا عمر 2013 ءمیں انتقال فرما چکے تھے ۔ لیکن ان کے ایک نائب ان کی جگہ کام کرتے رہے اور خود کو ملا عمر باور کراتے رہے کیا یہ ہی اسلام ہے جو یہ گروہ لانا چاہتا ہے؟ جبکہ امیر المونین کی صفت ایک صحابی(رض) نے یہ بیان فرمائی جو حضرت عمر (رض) کے بارے میں ہے کہ “ ہمارا امیر نہ دھوکا دیتا ہے اور نہ کسی سے دھوکا کھاتا ہے“ یہ ہے تو بہت چھوٹا سا جملہ مگر اس کے اندر معنوں کا ایک سمند چھپا ہوا ہے؟
انسان دھوکا دیتا ہی جب ہے جب کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتا ہے اور روز ِ قیامت اس سے ملاقات پر یقین نہیں رکھتا ۔ ورنہ وہ یہ سب کچھ کرنے کی جرا ءت نہیں کر سکتا اورایسی جراءت کرنے والا اپنے مقام پر نہیں رہ سکتا؟ کیونکہ قرب الٰہی کے لیے دو شرطین ضروری ہیں“ ایک صدقِ مقال اور دوسری اکل ِ حلال “یعنی سچ بولنا اور حلال کھانا۔ جہاں لالچ ہوگا وہاں تقویٰ نہیں ہوسکتا اور تقوے کے بغیر کسی کو قربِ خداوندی حاصل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ جس کو قرب حاصل ہوکسی کو دھوکا نہیں دے سکتا ؟ کیونکہ ہر وہ فعل جو کسی غیر کے لیے یا خواہش نفسانی کے لیے ہو وہ شرک ہے جسے ظلم بھی کہتے ہیں ۔اس لیئے کہ ظلم یہ ہے کسی کے حقوق کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی جائے اس میں روڑے اٹکائے جائیں ۔جیسے کہ اللہ کا حق کہ اسے حاکم اعلیٰ، خبیر اور بصیر مانا جائے؟
جو اسے حاکم اعلیٰ مانے گا اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ اس کی حکم عدولی کرے اور اس کے بجا ئے کسی غیر کا حکم مانے ؟ کیایہ ممکن ہے کہ کوئی خبیر بصیر بھی مانتا ہو اور پھر گناہوں میں اور شرک میں مبتلا ہو؟ یا کسی پہ جھوٹی تہمت لگائے اور پھر معافی مانگ لے،اور پھر اول پٹانگ بکے اور پھر معافی مانگ لے ۔ اور پھر دھڑلے سے کہے کہ میں نے اگر کسی کی بے عزتی کی تھی تو میں معافی بھی تو مانگتا ہوں؟ پھر بھی اسکے ماننے والے اسے پوجتے رہیں؟ کیونکہ ان کے ذاتی مفاد اس سے وابستہ ہیں جیسے پارٹی ٹکٹ وغیرہ۔
انہیں دونوں آیتوں کی تفسیر میں تفسیر ابن ِ کثیر (رح) میں چلے جائیے تو آپ بے انتہا احادیثیں پائیں گے جن سب کا لب لباب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ شرک کو نا ہی پسند کرتا ہے اور نہ ہی معاف فرماتا ہے جبکہ بندہ صرف اپنی پوشیدہ خواہشات کے لیے یا کسی خوف کی وجہ سے اسکا مرتکب ہوتا ہے اور ہر دو صورت میں وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ۔ جس کے بارے میں ایک حدیث ہے کہ جب ایسے اعمال روز محشر اس کے روبرو پیش کیے جائیں گے تو وہ اٹھا کر پھینکدے گا۔ فرشتے پوچھیں گے اے باری تعالیٰ ہم نے یہ اسکے نیک اعمال سمجھ کر لکھے تھے ، ہمیں اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی مگر تونے رد فرما دیئے ؟ تو جواب عطا ہوگا کہ پلڑے میں رکھ کر دیکھ لو ان میں کوئی وزن ہی نہیں ہے کیونکہ یہ خالص میرے لیے نہیں تھے۔میں اپنے ساتھ کسی کی شرکت قبول نہیں کرتا ہوں ،ایسے عمل کو اسی شریک کو دے دیتا ہوں؟ اس میں کچھ لینا میری غیرت کے خلاف ہے۔ اسی سلسلہ ایک حدیث قدسی بہت مشہور ہے جس میں روز محشر ایک عالم پیش کیا جائے گا وہ کہے گاکہ میں نے باری تعالیٰ یہ علم تیرے لیے حاصل کیا تھا؟ تو وہ فرما ئے گاتو جھوٹا ہے تونے میرے لیے علم نہیں حاصل کیا تھا بلکہ اس لیے کیا تھا کہ تو عالم کہلائے اور لوگ تیری عزت کریں یاتو مال کمائے ۔ چونکہ یہ خالص میرے لیے نہیں تھا تو وہ سب کچھ حاصل کر چکا جس کے لیے کیا تھا ۔میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں ہے؟ اسلام میں سب سے بڑا مقام شہید کا ہے؟ جس کے خون کے زمین پر پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ اس کو اپنے خاندان میں سے ایک روایت مطابق چالیس لوگوں کی شفاعت کا حق بھی مل جاتا ہے۔ جو فرشتہ اس کی حفاظت پر اب تک مقررتھا؟ وہ اسے جنت کی سیر کراتا ہے اور اس کو وہاں چھوڑ کر واپس آجاتا ہے جبکہ ہر جنتی طرح شہید بھی اپنے گھر سے واقف ہوتاہے اورا س میں داخل ہو جاتا ہے جہاں ستر حوریں اس کے انتظار میں ہوتی ہیں وغیرہ ، وغیرہ ۔ یہ ہی شہید جب خواہش نفسانی کو اس میں شامل کرلیتا ہے تو باری تعالیٰ اس کو یہ فرماکر دھتکار دیتا ہے میرے پاس تمہارے کچھ نہیں ہے ۔اس لیے کہ تم نے یہ عمل خالص میرے لیے نہیں کیا، بلکہ تمہاری خواہش یہ تھی کہ لوگ تمہیں بہادر کہیں ۔ وہ تم نے حاصل کرلی۔ اسی طرح مخیر حضرات پیش ہونگے ۔وہ جنکا مسجدوں سے اعلان ہو تا ہے کہ فلاں بھائی نے اتنے لاکھ چندہ دیا اللہ ان کو جزا ئے خیر دے اور مغفرت فرما ئے؟ جب وہ اللہ کے سامنے پیش ہو گا تو وہ فرمائے گا کہ یہ تم نے خالص میرے نہیں دیا تھا بلکہ دل میں خواہش تھی کہ لوگ تمہیں مخیر کہیں ۔ یہ ہی حال حاجی صاحب کا بھی ہوگا جنہیں جواب ملے گا کہ تم نے حج میرے لیے نہیں کیا بلکہ حاجی کہلانے کے لیے کیا تھا وہ تم وہاں کہلا آئے؟ روزہ جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، اس پر یہ کہہ کر فرشتے بھی گواہی نہیں دے سکتے کہ ہم نے اسے روزے کی حالت میں دیکھا ؟ اس کا صرف اللہ ہی کو علم ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں ، پاؤں ، زبان کو برے کام، بری باتوں سے روکا یا سب کچھ کرتے ہوئے بھوکا پیاسا رہا یا سرے سے روزہ ہی نہیں رکھا صرف شکل روزے داروں جیسی بنائے پھرا؟ لہذا ایسا روزہ بھی اس کے منہ پر ماردیا جائے گا اور اس کا دن بھر بھوکا پیاسا رہنا اکارت جائے گا۔ کون بد بخت چاہے گا کہ مشقت میں بھی پڑے اور حاصل بھی کچھ نہ ہو؟ جبکہ تھوڑی سی احتیاط سے وہ ان مدارج تک پہونچ سکتا ہے جن کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ نوازنے والا کوئی نہیں ہے جو اپنے دشمنوں کوبھی برداشت فرماتا ہے اور انہیں دنیا کی حد تک اپنے پر خلوص بندوں سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے۔

 

Posted in Articles | Tagged ,

آہ بیچاری مسلم خواتین۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

یہاں آکر زیادہ تر پاکستانی مہذب ہو جاتے ہیں ، مثلا ً سوائے مساجد کے، غلط پارکنگ کہیں نہیں کرتے ، کیونکہ کار اٹھ جاتی ہے۔ جرمانہ ہو جاتا ہے، ٹکٹ مل جاتا ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ اسی شوق کو وہ مسجد میں پورا کرلیتے ہیں۔ اور وہاں کی انتظامیہ انہیں ٹوکے تو یہ کہہ چپ کرادیتے ہیں کیا مسجد تیرے باپ کی ہے؟ اسکی بھی پابندی کرتے ہیں کہ یہاں کسی کی نجی زندگی میں بشمول ِ حکومت کوئی مداخلت نہیں کرتا لہذا تجسس نام کی کوئی چیز نہیں ہے، مگر پاکستانی یہ شوق مسلم خواتین کی تذلیل کرکے پورا کرلیتے ہیں ۔ نہ صرف ان کی ٹوہ میں رہتے ہیں بلکہ ان کی کہانیاں گڑھتے ہیں وہ بیچاری اپنی عزت کی خاطرچپ رہتی ہیں بعض تو مستقل بلیک میل ہوتی رہتی ہیں اور کوئی نہیں سوچتا کہ اگر یہ ہی کچھ ہماری کسی رشتہ دار کے ساتھ ہو تو اسے کتنا برا لگے لگا۔ ایسے لوگ ہمیشہ سے پائے جاتے ہیں۔جس کاثبوت مندرجہ ذیل حدیث ہے۔
“ ایک شخص حضور (ص) کے دربار میں حاضر ہوا اور اس نے ایک عجیب درخواست کی کہ مجھے زنا کی اجازت دی جائے ؟ صحابہ کرام اس کی یہ جراءت دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئے۔ لیکن رحمت عالم (ص) کے چہرے پر شکن تک نہیں آئی ،انہوں (ص) نے اسے اپنے اور قریب بلا نے کے بعد کہ کہیں کوئی مشتعل ہو کر اسکی گردن نہ اڑادے ۔ پھر اس سے پوچھا کہ یہ ہی فعل کوئی اور تمہاری ماں کے ساتھ کرے تو تمہیں اچھا لگے گا؟تو اس نے کہا کہ میں اس کا سر اڑادونگا، پھر ایک کر کے تمام رشتے گنا ڈالے اور جب اس نے اس کے جواب نفی میں دیئے تو اس سے فرما یاکہ جب تم اپنی کسی رشتہ دار کے ساتھ بھی کسی کی یہ حرکت برداشت نہیں کرسکتے تو تم جس کے ساتھ بھی یہ حرکت کروگے وہ بھی تو کسی کی ماں کسی کی بہن کسی کی پھوپھی وغیرہ ہوگی وہ لاجواب ہو گیا اور تائب ہو کر چلا گیا؟
اس میں بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور صبر کا دامن بات بات پر ہاتھ سے چھوڑدیتے ہیں ، جبکہ ان کو حضو ر (ص) کی اتباع میں اسی کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ،ان کے ارشادات کے مطابق مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ “ وہ جو اپنے لیے چاہے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہے، کیا کوئی مسلمان پسند کریگا کہ اسکی پگڑی اچھالی جائے ہر ایک کا جواب نفی میں ہوگا؟ اسی طرح حضور (ص) نے حج الودا کے موقعہ پر فرمایا کہ “ جس طرح آج کا دن اوریہ مقام حرام ہے اسی طرح ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا خون ،جان و مال عزت اور آبرو حرام ہے۔ اور کسی پر تہمت لگانے کے لیے قرآن نے یہ شرط مقرر کردی کہ چار چشم دید گواہ الزام لگانے والے کے پاس، ہوں اسی صورت میں الزام لگانے والا سچاثابت ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ دو جانوں کا معاملہ ہے ،اگر کہیں اسلامی حکومت ہو ملزمہ یا ملزم شادی شدہ ہوں تو اس جرم کی سزا سنگساری ہے۔ بصورت دیگر اگر وہ چار چشم دید گواہ فراہم نہ کر سکا تو پھر اس کے اسی کوڑے لگائے جائیں اور اسکو کاذب قرار دیدیا جائے پھر تا قیامت اس کی کوئی شہادت نہ قبول کی جا ئے؟
جبکہ لوگ سب کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کون کہاں جارہا خصوصاًخواتین کدھر جارہی ہیں ۔ ہمارا معاشرہ یہ ہے کہ کبھی تفریحا ً کبھی انتقاما ً ہر خاتون کو جو گھر سے کسی ضرورت سے باہر نکلے توچاہیں اس کے ساتھ اسکا بھائی یا باپ بھی ہو تو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، اس میں بوڑھوں کو بھی نہیں بخشتے؟ اکثریت کسی بھی خاتون سے صرف ایک ہی رشتہ سے جانتی ہے ، وہ ہے جنسی رشتہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا رشتہ لوگ جانتے ہی نہیں ہیں ۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ اپنے بھائی یا بہن کے بارے میں خوش گمانی اختیار کرو بد گمانی سے بچو! لیکن ہم بد گمان پہلے ہو جاتے ہیں جبکہ خوش گمانی ہمیں چھوکر بھی نہیں گزرتی ، ہمیں قرآن میں حکم دیا گیا کہ “ خواتین اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں “ مگر ہمارے سامنے سے کوئی خاتون گزر جائے تو اسطرح گھور تے ہیں جیسے کوئی ندیدی لومڑی انگور کو تاکتی ہے؟ مردوں کی اکثریت کے عقیدے کے مطابق یہ احکامات صرف اور صرف صنف نازک کے لیے ہیں، صنف قوی کے لیے نہیں؟  جب کہ ہماری یہ خوبیاں آج دوسری قوموں نے اپنا کر گھورنا اپنے معاشرے میں انتہائی برا فعل قراردیا ہوا، کسی کی ٹوہ میں رہنا بھی انتہائی معیوب بات ہے،یہاں خواتین کی تقریباً نصف آبادی زندگی کے ہر شعبے میں کام کرتی نظر آئے گی نہ کوئی اسکینڈل بنے گا ، نہ افسانہ اور کہانی بنے گی؟ مگر اسی معاشرے کی کوئی خاتون کسی اپنے یا غیرکی چکنی چپڑی باتوں میں آکر شادی کرلے اور وہ شخص بعد میں اس کو بمع اولاد کے چھوڑ کر بھاگ جائے، تو بجائے اسکے کہ اپنے لوگ اسکی مدد کریں اسکا اسکینڈل بنا نے لگیں گے ،اگر ہم میں سے کوئی ہے تو، کیونکہ ان پر وہ ایسا کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ؟ حتیٰ کہ خاتون غیرت مند ہو اور ویلفیر پر گزارا کرنے کے بجائے خود کما کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتی ہو،معاشرے میں کوئی مقام بنانا چاہتی ہو چاہیں اسکی معاونت کوئی اس کے باپ کی عمر کا شخص بھی کر رہا ہو اور ایسے کردار کا مالک ہو جس کی عام مسلمانوں میں مثال نہیں ملتی، وہ پھر بھی اس پر کیچڑ اچھالے بغیر بعض نہیں آتے، ایسے لوگوں پر کیچڑ اچھالنے سے گو کہ ان کا کچھ نہیں بگڑتا اس لیے کہ ان کی پاکیزگی کامحافظ خدا ہے۔ مگر ایک کہاوت مشہور ہے کہ جو آسمان پر تھوکتا ہے وہ پلٹ کر اسی کے منہ پر آتا ہے؟
اس برائی کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام سے پلٹ کر واپس باپ دادا کے دین پر چلے گئے ہیں۔ اور یہ سب اسی کے کرشمے ہیں ۔ خصوصاً خواتین کو جو حقوق اسلام نے دیئے تھے وہ سارے ہی ہم نے غصب کرلیے ہیں اور اوپر سے اسے ایسی مخلوق بنا دیا جوکہ معاشرے کے لیے اپاہج ہو کر بار تو بن سکے ،مگر اپنے پیروں پر کھڑے ہوکراپنے حقوق نہ مانگ سکے، اس میں اسلامی ملکوں اور خصوصی طور پر پاکستان کی حالت سب سے خراب ہے، جسے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ اگر بیٹی پر الزام لگتا ہے تو اس کو زندہ دفن کر دیتے ہیں اورساتھ میں اسکی ماں کوبھی ، جب کہ باپ بری الذمہ رہتا ہے۔ اگر ماں، بیٹی کی بد چلنی میں قابل ِ سزا ہے تو باپ کیوں نہیں جس نے اپنی تربیت میں کوتاہی برتی اور اس کی حفاظت نہیں کر سکا۔ اسکی ایک پرانی خبر کی شکل میں مثال دیکر میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔
پاکستان جو کہ اسلامی جمہو ریہ پاکستان کہلاتا ہے یہ کلچر ہم وہیں سے لیکر آئے ہیں جہاں کہیں رہیں ،رسم ورواج وہی رہتے ہیں یہاں بھی آکر وہی کچھ کرتے ہیں جو وہاں سے کرتے آرہے ہیں جس کی یہاں کی میڈیا گواہ ہے ۔ رہاوطن عزیز وہاں اس پر ابھی تک اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے؟ کیونکہ اسلام کے مختلف ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے، یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو کہ مسلمانوں کے لئے وہ لے کر تشریف لائے تھے؟اس پر آپ نے روزانہ ٹی وی پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا اور اسی کا قانون یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ کہتے ہیں کہ قائدِ اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے یہ کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی وہ دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی بکتی ہیں بلا تفریق ڈھا کر یاجلا کر جہالت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، جناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ، حکمرانوں کا لولا ، لنگڑا اپا ہج بنایا ہوا دستور بھی چل رہا اور ضیا الحق کا اسلامی قانون بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی ہے جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے جیسے کہ کفار مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ جہاں سے چندسالوں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا گیا، جبکہ مائیں صرف ماں ہو نے کی وجہ سے دفن ہو ئیں ۔ وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر تھوڑی ہیں؟ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکا جھانکی کی بنا پر قتل کرتے ہیں ؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں حضور (ص) کے لائے ہوئے دین پر چلنے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ (آمین)

 

Posted in Articles | Tagged ,

دعا اشعر کی گریجویشن پر۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

 

 

 

دعا ہے میری اشعر جگ میں اچھا کام کریں
بلند باپ اور دادا کا اپنے نام کریں
عروج حاصل ہو جس سمت بھی بڑھائیں قدم
قدم چومے خود  منزل جو اہتمام کریں
دعاگو شمس جیلانی

Posted in shairi | Tagged ,

کیا تہران مشرق کا جینوا بننے جارہا ہے (قند ِمکرر)۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

آج ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں جن پر مبارکباد دینے کو جی چاہ رہاہے۔ ایک “ایران معاہدہ “ جس سے اس ہمارے اس خطہ پر مزید ترقی کی راہیں کھل جائیں گی اور دوسری عید کی مبارکباد جس پر اس مرتبہ جگ ہنسائی کم ہوئی ایسے خبریں ان کو لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں جو قوم میں انتشار پھیلانے کاباعث بنے اور اسے جاری رکھنا چاہتے۔ ہم کبھی فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں کے طرف دار نہیں رہے۔ اور جب پہلا معاہدہ ہوا تھا تو ہم نے دسمبر 2013 ءمیں ایک مضمون لکھا تھا جس میں ہم نے علامہ اقبال  (رح)کے ایک شعر کو عنوان بنایا تھا وہی دوبارہ ہدیہ قارئین کر رہے ہیں ۔
“ ہمیں آج علامہ اقبال (رح) مرحوم کا یہ شعر “ تہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا شاید کہ کرہ عرض کی تقدیر بدل جائے  “نہ جانے کیوں بار بار یاد آرہا ہے جس میں ان کی یہ پیش گوئی تھی کہ ایک دن تہران مشرق کا جنیوا بنے گا اور نتیجہ میں عالم مشرق تقدیر بل جائےگی؟ ہمارے مذہبی ٹھیکیدار یہ کہیں گے کہ شاعری تو شاعری ہوتی ہے اس کا حقیقت سے کیا تعلق اورشاعر ، شاعر ہے جو چاہے کہدے؟ یہ بات درست ہے کہ سورہ الشعراءمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شاعر اور شاعری کی مذمت کی ہے لیکن ان آیات کے نزول کے بعد جب پہلے شاعر ِاسلام حضرت حسان (رض) بن ثابت اور ان کے ساتھی حضور (ص) کے دربار میں پہونچے کہ ہم تو تباہ ہو گئے کہ اب تک ہم شاعری کرتے رہے ؟ حضور (ص) نے فرمایا تمہارے لیے ان آیات میں سے آخری آیت کا یہ حصہ ہے کہ سوائے ان کہ “جو ایمان لا ئے اور جنہوں نے نیک کام کیئے “ یہ ہے تو بڑی چھوٹی سی بات مگر اسکی جو تفسیر ہے وہ بہت بڑی ہے۔ کیونکہ ایمان لانے کے فوراً بعد ہر مومن پرعمل صالح کرنالازمی ہوجاتے ہیں؟ چونکہ مومن کا ہر کام تابع قر آن و سنت ہونا چاہیئے؟ لہذا وہ شاعری جو قر آن و سنت کے مطابق ہو وہ مستحسن ہے؟ جس کے لیے حضور (ص) کی حدیث ہے کہ“ شاعری نبوت کا چا لیسواں حصہ ہے “ اور الحمد للہ اقبال (رح) نے کبھی بے مقصد شاعری نہیں کی انکی شاعری چونکہ با مقصد تھی لہذا وہ الہامی ہو نا چاہیئے تھی جو ہے اورا سےیہ شعر ثابت کر رہا؟
حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ایران پر شاہ کی بادشاہی تھی جو کہ مسلمان ہو نے پر کم اور اپنے شاہی آتش پرست اجداد پر فخر زیادہ کرتا تھا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، وہ اس کے اس عمل سے ثابت تھا جو اس نے عظیم جشن منا کر ثابت کیا تھا۔ مگر اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے کہ وہی جشن شاہ کو راس نہ آیا اور جو اس کے پشت پناہ تھے اور ایک دفعہ پہلے بھی اسے واپس لا چکے تھے خدا کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے اور شاہ کواپنے ہی ملک میں دو گز جگہ بھی نہ مل سکی؟ اس میں سبق ہے ان تمام شاہوں،آمروں کے لیے خواہ وہ فوجی ہوں یا جمہوری ( آخر الذکر آمروںکی نئی قسم ہے اس پر بات پھر کبھی) ، جب اس کی نگاہ بدلتی ہے تو پھر کوئی کام نہیں آتا؟
اسی ایران کو خمینی صاحب کے اسلامی انقلاب نے اتنا طاقتور بنا دیا اور اس کا اللہ کی نصرت پر بھروسہ اتنا بڑھا کہ وہ یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے لگا اور ابھی تک کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حتیٰ کہ سالوں پرانی قد غن فل الحال نرم کرنے پر وہی لوگ مجبور ہوگئے جنہوں نے لگائی تھی ،سپر پاور سے بھی پینتیس سال بعد تعلقات دو بارہ بہال ہو گئے۔ اب جو تھوڑی سی گرد باقی ہے وہ بھی وقت کے ساتھ انشاللہ بیٹھ جا ئے گی۔
ایک زمانے میں یورپ نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کر نے کے لیے جو بادشاہتیں پیدا کی تھیں ان میں ایک پیدا ہونے سے پہلے ہی بیدخل ہو گئی اور شام میں پنجے نہیں جما سکی، دوسری عراق میں اپنے عبرت ناک انجام کو پہونچی کہ نابالغ شاہ ،اسکے سرپرست اوروزیر اعظم کی لاشیں سڑکوں پر پڑی رہیں جبکہ تیسری کا عدم اور وجود برابر ہے وہ ہے اردن کی بادشاہت۔ ان میں سب زیادہ کامیاب جو گئی وہ نجدیوں کی عرب پر بادشاہت تھی جو کہ خادمین حرمین شریفیں کہلانے کی وجہ سے بے انتہا اثر ورسوخ حاصل کر گئی؟ جس کو اسی سال تک ایک سپر پاور کی پشت پناہی بھی حاصل رہی کیونکہ اسوقت تک ان کو اس کی ضرورت تھی !وقت بدلا جب انہیں کی بنا ئی ہوئی توپوں کارخ ساری دنیا کی طرف گھوم گیا تو اسی دنیا کو احساس ہوا ہے کہ ان کی پالیسی غلط تھی؟ اب وہ تمیز کرنے لگی ہے کہ وہابی یا سلفی اسلام اور اصل اسلام میں کیا فرق ہے؟
یہ تو ہے مشرق ِ وسطیٰ کی صورت ِحال دوسری طرف یہ ہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہوا کہ اس نے افغانستان کے لیے طالبان پیدا کیے اور اب ان کی توپوں کا رخ خود اسلام آباد کی طرف ہے؟ پہلے تو کچھ ہچکچاتے تھے مگر اب کھل کر سب کہنے لگے ہیں کہ ہمیں خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں ؟ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرض تشخیص ہوگیا اب علاج آسان ہے۔ جو لوگ اتمام حجت کے لیئے طالبان سے بات کرنے کے حق میں ہیں وہ بھی غلط نہیں ہیں کہ یہ عین اسلام ہے ؟ حکم یہ ہے کہ بغیر گھرے ہو ئے کوئی شر پسند جس نے ملک میں فساد برپا کر رکھا ہو اگر توبہ کرلے اور ہتھیار پھینکدے تو اسکو معاف کیا جاسکتا ہے؟ ورنہ پھر اسکے خلاف طاقت استعمال کی جائے؟
پاکستان میں نواز شریف صاحب کا اتنی بڑی اکثریت سے آنااور جاتے جاتے انہیں مشکل میں ڈالنے کے لیے ایران سے زرداری صاحب کا معاہدہِ پاور سپلائی کرجانا گوکہ نواز شریف صاحب کو امریکہ کے ساتھ لڑانے کے لیے تھا، مگر اب حالات نے جو پلٹا کھایا وہی معاہدہ شاید باعث نجات بن جا ئے۔ اس کے لیئے انہیں پھونک پھونک کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ جوکہ ان کے جنرل راحیل صاحب کے کمانڈر انچیف بنانے سے ظاہر ہو رہی ہے؟کیونکہ ہم خیال لوگ ہی ساتھ چل سکتے ہیں مختلف الخیال نہیں؟ اب تک جو کچھ میڈیا میں جنرل راحیل کے بارے میں آیا ہے اس سے یہ ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ نواز شریف صاحب کے وہ بھی ہم خیال ہیں کہ “اصل خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے “لہذا ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنا ئے جائیں؟ بغیر سپر پاور سے تعلقات بگاڑے ؟ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جوکہ چھیاسٹھ سال کے بعد بدلی جارہی ہے۔
یہ ہی سچ ہماری قیادت اگر شروع سے بولتی اور قوم کو حقائق بتاتی تو چھیاسٹھ سال اوراتنا سرمایہ اتنے بڑے فوجی بجٹ پر ضائع نہیں ہوتا؟ اور نہ ہمیں مجاہدین کی نازبرداری کرکے اس کی یہ سزابھگتنا پڑتی ؟ چلیں دیر سے سہی مگر ادراک تو ہوا !یہ قوم اتنی بہادر ہے کہ کسی قر بانی سے یہ دریغ نہیں کرے گی بشرط ِ کہ لگی لپٹی کے بغیر حکمراں سچ بولیں؟ چونکہ مذہب امراءکا چلتا ہے ؟ پھرقوم بھی سچ بولنے لگے گی؟ جھوٹ کے سلسلہ میں آپ سب نے یہ واقعہ سنا ہوگا جو سیرت اور احادیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ ایک شخص جس میں تمام برائیاں تھیں ،اس نے حضور (ص) کے سامنے ایک ایک کر کے بیان کردیں، صحابہ کرام نے برا مانا کہ دیکھو کتنی ڈھٹائی سے اپنی برائیاں بیان کر رہاہے حضور (ص) کے سامنے ؟ مگراس نے سب کچھ بیان کر کے حضور (ص) سے حکم چاہا کہ حضور (ص) میں کونسی برائی پہلے چھوڑوں؟ تو حضور (ص) نے فرمایا پہلے جھوٹ چھوڑ دو ؟ دوسرے دن جب وہ مسجد میں آیا تو پریشان تھا کہ اگر حضور (ص) نے پوچھا تو گناہ کیسے بتا ؤ گا ؟لہذا بغیر سامنا کیئے واپس چلا گیا دوسرے دن پہلے سب گناہوں سے توبہ کر کے دربار ِرسالت مآب میں حاضر ہواتو وہ ایک بدلا ہوا انسان اور پکا مسلمان تھا۔
اس وقت سب سے بڑا ناسور ہمارے معاشرے میں جھوٹ ہے جوکہ بے ایمانی کے لیے ضروری ہے اگر اس کو ختم کردیا جائے تو پھر باقی برائیاں خود بخود ختم ہو جا ئیں گی؟اس کے لیے حکمراں سب سے پہلے خود جھوٹ بولنا چھوڑ دیں اور سچائی اپنائیں نتیجہ یہ ہوگا کہ جھوٹی شان کی جگہ سادگی آجائے گی، یہ نہیں کہ محلات پر محلات بنا تے چلے جائیں؟ جس سے لوگوں میں ریس یا احساسِ محرومی پیدا ہو؟ اس کے لیے ہمارے سامنے نصف دنیا کے حکمرا ں حضرت عمر  (ص)کی مثال موجود ہے کہ وہ عام آدمیوں کے طرح رہتے تھے۔ مگر عمال ان کے نام سے کانپتے تھے لہذا کہیں کوئی جرم نہیں ہو تا تھا ۔ ان کے بعد ان کے جانشینوں نے “الدار“ جیسے محلوں میں اقامت اختیار کی پھر کیا ہوا وہ تاریخ میں پڑھئے ۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ آج کے دورمیں یہ ممکن نہیں ہے؟ وہ شاید سعودی حکمرانوں کو دیکھتے ہیں انہیں عرب امارات کے سر براہوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنے سادھا رہتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس محل میں کون رہ رہا ہے سڑک سے گزریں تو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ شاہی سواری جارہی انہوں نے اب عوام کی مشکلات کو مزید کم کر نے کے لیے مہمانانِ خصوصی کے لیے ہوائی اڈہ ہی علیٰحدہ بنا دیا ہے تاکہ ٹریفک بند نہ ہو۔ اپنی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام سہولیات دیہاتوں میں ہی فراہم کردی ہیں۔ تاکہ لوگ شہروں کی طرف رخ نہ کریں؟ پھر بھی انہیں وہ بھولے نہیں ہیں بلکہ ان کے شادی یا غمی میں کوئی نہ کوئی شہزادہ ضرور شریک ہو تا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تمام مسلم دنیا میں انتشار ہے مگر ان کے یہاں نہیں؟اسکی وجہ سے ساری دنیا سے ڈالر کھنچ کروہاں آرہا ہے۔
جبکہ ایران ہم کبھی گئے نہیں مگر وہ بھی کہتے اس کو اسلامی حکومت ہیں شاید وہاں بھی عوام اور حکمرانوں کے درمیان دیوار نہ ہو یا ہوتو اتنی اونچی نہ ہو۔جیسی پاکستان میں ہے؟

Posted in Articles | Tagged ,

بدلے گا جب ہی حال جب اللہ کو چاہوگے؟۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی

توبہ جوکرکے دین پرجب لوٹ آوگے۔ آسان زیست ہوگی مُرادیں بھی پا ؤگے ۔یہ مہینہ احتساب کا مہینہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بھولے ہوئے لوگ واپس توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں اور بندوں کے دوسرے تمام اچھے افعال میں سے یہ فعل اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس سلسلہ میں بھی ایک مشہور حدیث موجود ہے جو دہرانے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اہل ِ علم سبھی جانتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توبہ اسی مہینے میں کیوں؟ اس لیے کہ اس مہینے میں لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہے اور وہ ماحول بن جاتا ہے جو دوسرے دوسرے مہینوں میں میسر نہیں ہوتا ۔ اس مہینے کی اہمیت کو حضور (ص) نے مزید نمایاں فرماتے ہوئے ایک مشہور حدیث میں اس طرح واضح فرمایا ہے  جوکہ مستند روایات کے مطابق  اسطرح ہے “ ایک روز حضور (ص) نے تین مرتبہ آمین فرما یا ،صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ حضور(ص) آپ کس سے گفتگو فرمارہے تھے، اور کس بات پر آمین فرمارہے تھے؟ جواب میں فرما یا کہ جبرئیل علیہ السلام آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس کے سامنے آپ (ص)کانام لیاگیا اور اس نے درود شریف نہیں پڑھی، میں نے کہا آمین ، پھر فرمایا وہ ہلاک ہوا جس نے ماں باپ میں سے دونو ں یا کوئی ایک پایا اور ان کی دعا کے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرالی،میں نے کہا آمین۔پھر کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان شریف پایا اور اپنی جہنم سے نجات نہیں کرالی، میں نے کہا( آمین)
اس میں تینوں باتیں بڑی اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے درود کو اپنی اپنی اور فرشتوں کی سنت  قرار دیتے ہوئے ہم سب کو پڑھنے کا حکم دیا ہے اور حضور (ص) نے ایک صحابی کے جواب میں فرمایا کہ جتنا زیادہ سے زیادہ وقت درود شریف پڑھنے پر صرف کرو وہ بہتر ہے؟ پھر جہاں جہاں اللہ سبھانہ تعالیٰ نےا پنے حقوق کا ذکر کیا ہے اس کے فورا“ بعد  حقوق والدین کا ذکر فرمایا ہے؟  اسکے علاوہ متعدد حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ بہترین موقعہ ہے توبہ کرکے اسکی رحمت سے فائدہ اٹھانے کا، کیا پتہ کہ اگلا رمضان ملے یا نہ ملے ؟ اسی مہینے کے پہلے عشرے میں دیکھئے کہ تقریبا ً دوہزار آدمی کراچی اور سندھ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، گوکہ گرمی کی لہر تو پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے، جوکہ بقول سائنس دانوں کے گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے، وہی یہاں بھی آئی اور پورا ملک متاثر ہوا مگر سب سے زیادہ تباہ کاریاں کراچی میں ہوئیں۔ آخر کیوں ؟ اس کیوں کا جواب کیا ہے؟ سوچئے ! کہ اللہ تعالیٰ ہر عذاب کے لیے کراچی کو ہی کیوں چنتا ہے، پہلے اس کا امن و چین تباہ ہوا ،اب اتنی جانیں اس گرمی نے لے لیں۔اسکے لیئے اہلِ کراچی کو سوچنا چاہیئے ، اگر قوموں کی تاریخ آپ قرآن میں دیکھ جائیں تو آپ کو جواب مل جائے گا کہ “ جب قوموں نے یا کسی ایک شہر یا قصبہ نے برائی کو برائی سمجھنا چھوڑدیا اور برائیوں سے روکنے کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کر نے لگے تو وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمادیا۔ کیونکہ اس امت کے لیے اجتماعی عذاب حضور (ص) کی دعاؤں کی طفیل ہٹالیا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرقوں میں بٹ کر لڑنے کا عذاب اس امت کے لیے بھی جو باقی رکھا تھاوہ جاری ہے ویسے تو اس نے پورے عالم اسلام کو لیاہوا ہے مگر پاکستان اور روشنیوں کے شہر کراچی میں کئی عشروں سے اندھیر مچا ہوا؟
کبھی کوئی اللہ کا بندہ آجاتا ہے تو امیدیں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر یکایک ٹوٹ جاتیں ہیں اس لیے کہ ہم اس کو عذاب نہیں سمجھتے اگر سمجھتے  ہوتےتو توبہ کی طرف مائل ہو جا تے۔ یہ اس وقت تک ہو تا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ راضی نہ ہو جائے؟ پچھلے چند دنوں سے ایک ہنگامہ برپا تھا کہ ایک یاکئی نہ دیدہ ہاتھ حرکت میں آگئے تھے اور وہ ملک کو دوبارہ جنت بنانا چاہتے تھے۔ لہذا دھوم تھی کہ یہ ہورہا وہ ہورہا ہے رینجرز نے چھاپے بھی مارے امید بندھی کہ اب شاید برائیاں دور ہو جائیں گے۔ کہ یکایک ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا جس کی طرف توجہ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں دلائی تھی کہ ان کی مدت ِکار 8جولائی کوختم ہو نے والی ہے اس کا بڑھانا انہیں کے ہاتھ میں ہوگا، جن پہ چھاپے پڑھ رہے تھے یا پڑنے والے تھے۔ ان سے کیسے امید جاسکتی تھی کہ وہ اپنے ہی خلاف استعمال کر نے کے لیے بلا حیل و حجت مدت بڑھادیں گے؟ ایک اہم صاحبِ اقتدار تو اس برے وقت میں ملک ہی چھوڑ کر ہی چلے گئے کہ انہیں اعتکاف کرنا تھا؟
وہ کافر ہی ہوگا جو کہ اعتکاف کو منع کرے کیونکہ انتہائی نیک کام ہے ؟ لیکن جو صاحب ایک ایٹمک طاقت کے جوہری کنجی کے امین ہوں وہ آن ڈیوٹی رہتے ہوئے کیسے اعتکاف اختیار کرسکتے ہیں؟ جبکہ حالات یہ ہوں کہ پڑوسی ملک سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوں ؟ اس کا صحیح طریقہ یہ تھا اگر وہ پہلے سے منصوبہ بندی کرتے کہ خود رخصت پر جاتے اور اپنی جگہ کسی کو مقرر کرکے اور وہ راز اسے منتقل کرکے جاتے ؟ تبھی وہ یک سوئی سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر سکتے تھے۔ یہ ہی واحد صورت تھی۔مگر یہ پروگرام جلدی میں بنااور اب جہاں تک مجھے علم ہے دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنا نائب مقرر کر سکیں ۔ہاں اگر پہلے منصوبہ بندی کرتے تو انہیں دو تہائی اکثریت ہونے کی  بناپر یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ مطلوبہ ترمیم پاس کرالیتے اس طرح انہیں آئینی نائب وزیر اعظم مل جاتا اور وہ بے فکری سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر تے اور ثواب کماتے؟ سوائے اس کے یہ اعتکاف ایسا ہو سکتا ہے کہ جیسا ہم نے اپنے انہیں کالموں میں لکھا تھا کہ ایک مل کے مالک ہر سال بلا ناغہ اعتکاف میں بیٹھتے تھے ، اس زمانے میں وائر لیس فون نہیں تھے ۔ان کا ٹیلیفون وہیں منتقل ہوجاتا تھا ، دنیا سے باخبر رہنے کے لیے ٹی وی اور ریڈیو بھی وہیں چلاجاتا تھا۔ وہیں فائیلیں بھی آتی جاتی رہتیں ان کا با قاعدہ مطالعہ کرتے اور دستخط بھی فرماتے اور ہوتے وہ اعتکاف میں تھے۔ جبکہ اعتکاف کے لغوی معنی ہی محدود ہوجانے کے ہیں اور مذہبی اصطلاح میں ذکر اللہ اور عبادت تک محدود ہوجانے کے ہیں ؟ اور اس میں دنیا وی رابطے کی کو ئی گنجائش نہیں ہے چونکہ یہ سنت ہے اور کاروبارِ دنیا کرتے ہوئے حضور (ص) سے یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ اس میں دین اور دنیا ساتھ چلائے ہوں، سوائے بیت الخلاءتشریف لے جانے کے کیونکہ اس زمانے میں گھروں یا مساجد میں بیت الخلا ءبنانے کا بقول حضرت عائش صدیقہ (رض)رواج نہیں تھا ۔ پھر اس طرح اس عبادت میں ریاکاری کابھی پہلو نکلتا ہے ۔کہ فعل مشکوک ہو جاتا کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے تھا یا اپنے نفس کو تسکین دینے اور دکھاوے کے لیے تھاکہ ہم تو بہت  ہی متقی ہیں ؟ جس کے لیے وعید یہ ہے کہ “ بدترین عبادت وہ ہے جو دکھاوے کے لیے ہو اور اسے روز ِ قیامت اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ فرماکر بندے کے منہ پر ماردے گا کہ یہ خالص میرے لیے نہیں تھی لہذا میرے پاس اسکا کوئی صلہ بھی نہیں ہے “
اس کمی کو دور کرنے کے لیے جنوبی افریقہ سے سپہ سالار صاحب کو یہ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ آنا پڑا یا دورہ ہی ایک دن کاتھا۔ دوسرے یہاں وزیر ِ داخلہ کوبھی ایک پریس کانفرنس کرنا پڑی اور اس میں انہوں نے میڈیا سے بڑی درمندانہ اپیل کی کہ خبر کو خبر سے پہلے مت خبر بنادیا کرو ؟ ہاں خبر بن جائے تو ضرور بعجلت لگاؤ کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بڑی سیاسی فراست سے اعلان کیا کہ اگر سندھ حکومت نہیں چاہتی ہے تو ہم ایک دن کے بعد اس کو ہٹالیں گے۔ چونکہ کل یوم  شہادت علی کرم اللہ وجہہ ہے اسکی وجہ سے ہم اسے ایک دن کے لیے اختیارات مرکز کی طرف سے دیدیں گے؟ جس میں اس بات  کاکھلا اشارہ تھا کہ مرکز بھی کسی قانون کے تحت مدت میں توسیع کرسکتا ہے ۔ان کی کانفرنس کے بعد پھر لوگ سر جوڑ کے بیٹھے کہ یہ تو “ مس فائر “ ہوگیا اور جس طرح فیصل آباد کے تمام راستے گھنٹہ گھر چوک پر جاکر ختم ہوتے ہیں یہاں بھی وہ گورنر ہا ؤس تک گئے اور وزیر اعلیٰ ایک مہینے کے لیے توسیع دینے پر تیار ہوگئے۔ پھرافواہیں یہ اڑیں کہ اختیارات مشروط ہیں جو کہ اب حقیقت بن گئیں کہ اس کو کراچی تک محدود کردیاگیا۔ اگر اچھے  لوگ خاموشی اختیار کیے رہیں گے اور کوئی پیش رفت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف نہ ہوئی تو امید نہیں ہے کہ کوئی بہتری آسکے ۔ اللہ سبحانہ تعالٰی ہم سب کو عقل عطا فرمائے تاکہ وہ یہ موٹی سی بات سمجھ سکیں کہ جب تک وہ ناراض ہے کچھ نہیں ہوسکتا ؟

Posted in Articles | Tagged ,

جوبے موت مر رہے ہیں یہ انہیں کا قصورہے۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

اب تک یہ تو ہوتا رہا ہے کہ لاشیں سڑکوں پرپڑی رہیں، کیونکہ یہ واضح نہ تھا کہ یہ مقام کس تھانے کے حدود میں ہے لہذا یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس لاش کو اٹھانا کس کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ایک تھانے یا ضلع کی پولس ایک دوسرے کے حدود پھلانگ نہیں سکتی اور اس طرح چوروں کی چاندی رہتی تھی کہ ان کا طریقہ واردات بقول علامہ اقبال (ع) یہ ہے کہ ع ادھر ڈوبے ا دھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ اگر کسی کواسکی و جہ معلوم نہ ہو تو یہ بڑا عجیب سا لگے گا؟ کہ آج کے دور میں جبکہ دنیا کہاں سے کہاں پہونچ گئی یعنی سیٹلائٹ کے ذریعہ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر یہ تک دیکھ سکتے ہیں کہ کس کا گھر کہاں ہے؟ انہیں کیا پتا کہ وہاں تھانے بکتے ہیں اگر پولس بغیر اجازت کے ایک دوسرے کی سرحدیں پھلانگنے لگیں تو ان کی آمدنی میں رخنہ پڑتا ہے ۔ مگر اس مرتبہ جو یہ انتہائی مکروہ صورت ِ حال پیدا ہوئی وہ بڑی اندوہناک ہے کہ دوہزار کے قریب لوگ اپنی جان سے گئے اور کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ ذمہ داری کس کی ہے ۔ چند روز پہلے ہم نے اجتماعی قبریں دیکھیں ،اجتمائی نمازِ جنازہ بھی ٹی وی پرہو تے دیکھی۔ یہ خبریں پڑھیں اورسنیں کہ کفن نہیں مل رہے ہیں،قبریں نہیں مل رہی ہیں ۔ اور سب جگہ اپنی باری کا انتطار فرمائیے کہ نہ نظر آنے والے بورڈ لگے ہوئے ہیں جو کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔مگر ہیں؟ اور یہ بھی کہ جتنا گڑڈالو اتنا ہی میٹھاہوگا؟ وجہ یہ ہے کہ قبرستان پہلے ہی لوگوں نے بیچ کھائے ہیں یا ان پر قبضہ کرلیا ہے؟ پیشہ ور گورکنوں کی اجارہ داری ہے۔ لہذا جس طرح اور شعبوں میں مافیہ ہے اسی طرح یہاں بھی “ قبر ستان مافیہ “گرم عمل ہے۔ اور یہ تو کہنے کی بات ہی نہیں ہے کہ مال جبھی بنتا ہے جب کہیں پر کسی کی اجارہ داری قائم ہو؟ اور ایسے موقعے روز، روز تو آتے نہیں ہیں؟ اس افتاد سے پہلے قبروں کا حصول اٹھارہ بیس ہزار روپیہ میں ممکن تھا اب خبر ہے کہ ایک لاکھ سے بھی اوپر چلا گیا ہے؟ لیڈروں کو شکایت ہے کہ مرنے والوں نے ان کا انتظار  نہیں کیااور اب مریض نہیں ہیں جن کی وہ عیادت کر سکیں، ہمارا مشورہ یہ ہے وہ سرد خانوں میں چلے جائیں ممکن ہے ابھی ابھی کچھ مردوں کانمبر نہ آیا ہو اور وہی مل جائیں ۔فوٹو سیشن تو ہو ئی جائے گا؟
جبکہ ارباب ِاقتدار یہ طے نہیں کر پارہے ہیں کہ یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔ ہمیشہ ایک کمیشن بنا دیاجاتا ہے جوکہ اس مرتبہ بھی بنادیا گیاہے ، اس نے کسی آسمانی آفت کو نہیں بلکہ زمینی بجلی کو ذمہ دار قرار دیا یعنی K E کی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ بقول کمیشن کے کوئی پیسہ اس نے الیکٹرک سپلائی (بجلی کی ترسیل) میں بہتری پیدا کرنے میں نہیں لگایا جیسا کہ اس نے خرید تے وقت وعدہ کیا تھا؟ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ وہاں کسی وعدے کو نبھانے کا سوال ہی کسی کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی یہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہے کہ وعدہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ؟جبکہ بدعہدی کی قر آن نے بار ،بار شدید مذمت کی ہے اور بدعہدی کو منافقت کی تین نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے ۔ آخر میں کمیشن نے ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالدی کہ وہ ذمہ دار اس لیے ہے کہ اس کا 26 فیصد اس میں حصہ ہے۔ اس نے بھی اس پر پردہ ہی ڈالے رکھا کہ باقی74 فیصد حصہ جات کس کے ہیں اور وہ پردہ دار کون ہے۔ جبکہ یہ کارنامہ ہے مشرف اور شوکت عزیز کے مشترکہ دورِ حکومت کا جس میں صرف وعدوں پر ادارے سپرد کردیے گئے۔ وعدے بھی کس کے جس ملک میں سب کا مفاد ہے اس لیے کہ وہ سب کا وطن ثانی بھی ہے؟ لہذا بلّی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟
جبکہ کچھ دن پہلے تک صوبائی حکومت مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہی تھی اور اسکے خلاف پوری صوبائی کابینہ بمع وزیر اعلیٰ دھرنا دیئے بیٹھی تھی ۔ میڈیا اس پر تبصرہ کر رہی تھی کہ اب ان کو اٹھا ئے گا کون ؟ مگر جب اٹھانے کوئی نہیں آیا تو وہ خود ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم خود ہی اٹھے جاتے ہیں۔ اچھا کیا ورنہ کسی کو ڈولی ڈنڈا کرنا پڑتا۔ پھر وزیر اعظم آگئے تو کایا ہی پلٹ گئی کہ سب گلے شکوے جاتے رہے۔ اور ایک دوسرے کی تعریف کرنے لگے۔ مہذب ملکو ں میں تو یہ بات عام ہے مگر اسلامی ملکوں میں آپس میں ایسا سلوک ذرا کم ہی دکھائی دیتا ہے اس لیے اچنبھے کی بات ہے۔ جبکہ ہمارے علماءان کی نقل کو کرنے کو منع کرتے، کرتے اب ان کی تعریف کرنے کو بھی منع کرنے لگے؟
جبکہ وہ روایات ہماری ہیں اوربرے لوگ ہماری اچھی باتیں سیکھ کر اسکا فائیدہ ٹھا رہے ہیں “ جیسے کہ عدل اور احسان “ کاش کہ ہم اب واپس برے لوگوں کی اچھی باتیں سیکھ لیں ؟ جیسے کہ ان کے یہاں ہر ایک شہری حکومت ،صوبائی حکومت سے اور صوبائی حکومت مرکزی حکومت کی مداخلت سے بے نیاز ہے اور کبھی ایسا اتفاق ہو بھی جائے کہ ہم خیال یا ایک ہی جماعت صوبے اور مرکز میں دونوں میں منتخب ہو کر آجائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ مرکزی جماعت باکل علیٰحدہ ہوتی جس کا مرکزی جماعت کے ساتھ الحاق تک بھی نہیں ہوتا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ نواز شریف صاحب کی حکومت نے صوبوں میں دوسری پارٹیوں کو برداشت کیا ہے، ورنہ مرکز مخالف صوبائی حکومتوں کی برطرفی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جس کی ابتدا صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی کانگریسی حکومت (خدائی خدمت گار) کی برطرفی سے شروع ہوئی تھی۔
موجودہ مرکزی حکومت اتنا اور کردے کہ مقامی حکومتیں جو عنقریب بننے جارہی ہیں ۔انہیں اپنے علاقوں میں خود مختار بنادے۔اور شہری حکومتیں بھی اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں ،کیونکہ اٹھارویں تر میم کے بعد صوبوں کو بہت کچھ مل گیا ہے مگر وہ اسے مقامی حکومتوں کو دینے کو تیار نہیں ہیں جیسے کہ پہلے مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کو کچھ دینے تیار نہیں تھی ۔ یہ عدلیہ ہے جس نے انہیں الیکشن کرانے پر مجبور کردیا ہے،ورنہ پچھلی حکومت ٹال مٹول میں جیسے پانچ سال پورے کر گئی یہ حکومتیں بھی پورے کر جاتیں؟ دوسرے ان برے لوگوں سے یہ بھی سیکھ لیں کہ یہاں کلرک تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ آفیسر ہوتا ہے۔اس کے صوابدیدی اختیا رات اتنے ہیں کہ وہ ہر سائل کو جو بھی اس کے پاس آئے جائے تمام کام کر کے اور فارغ کر کے بھیجتا ہے۔ جبکہ سارا کام قانون کے مطابق ہوتا ہے اور وہ جوفیصلہ کردے، وزیر اعظم بھی اس کو تبدیل نہیں کرسکتا؟ احتساب اتنا سخت ہے کہ ہائیر (ملازم رکھنا) اور فائر (برطرف کرنا) دونوں میں دیر نہیں لگتی، ذرا سی کسی نے بد عنوانی کی ایک منٹ میں چھٹی؟ کیونکہ ملازمت رشوت یا سفارش کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی صلاحیت کی بنا پر ملتی ہے، دینے والے کے پاس برطرف کرنے کے بھی پورے اختیارات ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ یہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے نہ وہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔
اس مرتبہ بھی حکومت اور کمیشن میں اختلافِ رائے پایاجاتا ہے جیسا کہ ماڈل ٹاؤن والے کمیشن اور حکومت میں پہلے پایا گیا تھا۔ جو کہ اس سے ثابت ہے کہ ایک مرکزی وزیر نے یہ فرمایا کہ یہ “آفتِ آسمانی “ ہے۔ ہمارے خیال میں میں یہ تو سب ہی جانتے ہونگے کہ آفت ِ آسمانی عذاب ِ الہیٰ کانام ہے اور وہ کیوں آتا ہے اور اس نے پاکستان کو ہی کیوں تاک رکھا ہے۔ اگر اس کی وجوہات پرغور کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ “ مرنے والے خود ہی اپنی موت کے ذمہ دار ہیں  اور قصور وار بھی“ کیونکہ وہ ووٹ استعمال کر تے ہوئے امیدوار کے ان اوصاف کو پرکھنے اور مد ِ نظر رکھنے کے بجائے جو اسلام نے مقرر کیے ہیں؟ وطنیت ، صوبائیت اور ذات برادری کو مدِ نظر رکھتے ہیں ۔ جس طرح کہ ببول کے درخت سے کھجوریں حاصل نہیں کی جا سکتیں اسی طرح غیر عادلوں کو ووٹ دیکر، رحمتِ پروردگار یعنی امن ، سکون اور چین حاصل نہیں کیا جاسکتا؟

Posted in Articles | Tagged ,