اف! یہ انسان کے شکاری ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

اب سے چند دن پہلے پاکستان میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ حکومت پنجاب نے یہ تحیہ کرلیا کہ اپنے صوبے سے وہ جعلی دواؤں کاروبار بند کر دیں گے۔ چونکہ ہمیں پنجاب کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ لہذا ہمیں معلوم نہیں کہ وہاں کی صورت ِ حال اس سلسلہ میں کیا ہے۔ مگر سنایہ ہے کہ بڑا صوبہ ہونے کی حیثیت سے ہر معاملہ میں وہی قیادت کرتاہے مثلا ً فیشن، انڈین گانے انڈین اور یورپین کلچر وغیرہ وغیرہ اپنانے میں؟ البتہ ہم دوسرے بڑے صوبہ کا حال جانتے ہیں اور وہ بھی وہ کہ جہاں کے اس زمانے سب سے زیادہ صنعتیں تھی اور وہ سب سے زیادہ خوشحال بھی تھا۔ وہاں کے لوگ کیسے تھے؟ اس کے بارے میں ہمارے ایک مرحوم دوست ابراہیم جلیس کا ایک مقولہ یا د آرہا ہے جو انہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ “ اگر کبھی مصنوعی انڈہ ایجاد ہوا تو اس کابھی سہرا جوڑیا بازار کے کسی حاجی صاحب کے سر ہوگا۔ ان کی زندگی نے وفا نہ کی انہوں نے ہی لکھنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ایک اور کام لکھا تھا کہ جس میں ایک کچھوّا ان کے گھر سے پیچھے لگ گیااور ساتھ ہی بس میں سفر کر تاہوا ن کے دفتر جا پہونچا تو انہوں نے اس سے تعقب کی وجہ پوچھی تو اس نے بتا یاکہ تمہارے منہ سے میرے انڈے کی خوشبو آرہی ؟تب انہوں نے ایک حاجی صاحب کا پتہ بتایا کہ یہ انڈہ تو میں نے فلاں حاجی صاحب سے خریدا تھا۔ ان کی پیشگوئی کا اتنی جلدی پورا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ پہونچے ہوئے تھے اگر زندگی وفا کرتی تو “ بنگالی بابا کی طرح آج وہ اس کاپھل کھارہے ہوتے“ اللہ نے انکا پردہ رکھا!
اسی زمانے کی بات ہے کہ ہم بلڈ پریشر کے لیے ایک گولی لینے لگے تھے اور ہمیشہ کراچی سے میر پور خاص جاتے ہوئے اپنے گھر کی سامنے کی فارمیسی سے لیکر جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ دکان بند تھی ہم نے کہا چلو میر پور خاص سے ہی لے لیں گے ؟ وہا ں سے خریدی تو دیکھا کہ اس کا سیریل نمبر لاکھوں میں ہے؟ جبکہ اس سے پہلے والی لاٹ کا نمبر صرف ہزاروں میں تھا؟ چونکہ میر پور خاص اسوقت چھوٹا شہر تھا وہا ں کا بچہ بچہ ہمیں جانتا تھا ۔ واپس فارمیسی پر پہونچے اور اس سے پوچھا کہ یہ تو ہمیں جعلی معلوم ہوتی ہے کہنے لگا کہ ہاں! صاحب جعلی ہے؟ ہم نے پوچھا کہ کہیں اصلی بھی ملے گی؟ تو اس نے بتایا ایک ہی فارمیسی ہے جس کامالک اصلی مال رکھتا ہے ۔ ہم نے پوچھا کہ تم کیوں نہیں رکھتے تو اس نے کہا کہ اصلی دوائیں مہنگی ہوتی ہیں، مریض خریدنا پسند نہیں کرتے؟ دوسرے اس میں منافع بھی کم ملتا ہے کیونکہ اصلی پر کمیشن بھی کم ہوتا ہے ۔ہم اس پتہ پر پہونچے تو اس کے یہاں جو شیشی دیکھی اس پر نمبروہی ہزاروں میں تھے۔ البتہ اس نے جو قیمت بتا ئی وہ ذرا زیادہ تھی ؟ اس سے ہم نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ صاحب آپ سے کیا چھپانا اور سب لوگ نقلی دوائیں بیچتے ہیں، ہم نے پوچھا تم کیوں نہیں بیچتے تو اس نے کہا کہ مجھے خدا سے ڈرلگتا ہے آخر وہاں بھی تو جواب دینا ہے؟ یہ مثال ہم نے یہاں اس لیے سنائی کہ یہ آج سے تیس چالیس سال پہلے کی بات ہے جب وہاں کم از کم پچاس فارمیسیاں تو ضرور ہونگی مگر مالک ایک ہی ایماندار تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایمانداری کا تناسب اس وقت صرف نصف فیصد تھا اب تو حالات بہت آگے نکل گئے ہیں وہ شہر جہاں سے جعل سازی کی ابتدا ہوئی تھی اس پر چند عشروں تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا رہاہے۔ پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک نیک آدمی آگیا اور اس نے اسے ا س عذاب سے بغیر توبہ کرا ئے نجات دلادی شاید اس نے دعا کی ہو گی اور اللہ نے کہا اچھا میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں تاکہ تم دیکھ سکو کہ یہ ویسے کہ ویسے ہی ریں گے؟ ۔
جہاں صورت حال اب یہ تھی کہ کوئی ایماندار کسی کوپیش کرنے لیے چاہیئے ہو تو لاکھوں میں ایک ملے گا؟ اس پر بجائے خوش ہونے کہ اس کے بے انتہا دشمن پیدا ہو گئے۔ ا س نے اپنے اچھے کام پر قناعت کرتے ہوئے عافیت اسی میں جانی کہ “ میرصاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامیئے دستار “ اور وہ عزت کے ساتھ گھر چلا گیا۔ اب لوگ اس پر دھول ا ڑارہے ہیں؟ کہ اس کو یہ ملااور وہ ملا ؟ بھائی یہ آج سے تھوڑی مل رہا ہے یہ تو انگریزوں کے زمانے سے چلا آرہا جو پاکستان نے اور ریتوں کی طرح باقی رکھا؟ یہ اور بات ہے کہ پتہ بھولے عوام کو آج چلا ہے؟ ہمیں اس کے ہم پیشہ ایسوں کے بھی نام و پتے معلوم ہیں کہ جن کے ہر شہر میں پلاٹ ہیں اور اس سے چوگنی زرعی زمین بھی۔ جبکہ وہاں کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ کاغذات کی تکمیل میں ہر ایک کوپلاٹ لیتے وقت ایک حلف نامہ دینا پڑےگاکہ “میر ے پا س کوئی “پلاٹ نہیں ہے“شاید حلف نامہ دینے والا اس کے یہ معنی لیتا ہو کہ “اس شہر میں دوسرا پلاٹ لینا جرم ہے“
وہ شخص یہ چاہ رہا تھاکہ میں اپنی دھرتی کاحق ِ نمک ادا کردوں ۔مگر وہ جس کو پکڑ تا سانپوں والے لیڈو کی طرح کسی بڑے سانپ کی دم پر پیر پڑجاتا اور وہ ناراض ہوتا تھا۔ لہذا وہ اپنے مشن میں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ ظالموں کو بچانے والے زیادہ تھے ااور مظلوموں کے حامی کم؟جبکہ ان میں سے کچھ تو ظالموں سے ملتجی بھی رہتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ بھائی کہیں بھی کچھ کرتے پھرو؟ مگر ہمارا علاقہ چھوڑدو ہم تو تمہارے اپنے ہیں ۔ وہ تو چلا گیا؟ اب وہ سارے جو اس کے دور میں بھوکے اور تپے ہوئے بیٹھے تھے وہ اپنے بلوں سے باہرنکل آئے ہیں ۔ جو کہ برائی کو برائی نہیں مانتے نہ انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا خوف ہے ؟جو اس سے ظاہر ہے کہ انہیں بم پھاڑنے سے مطلب ہے؟ جہاں بم پھٹے ہیں دیکھئے کہ کون لوگ ہیں“ جو مزار ات کو نہیں چھوڑتے جن کامشن سب سے محبت کرنا تھا اور نفرت کسی سے نہیں“ وہ ان مقامات کو بھی نہیں چھوڑتے جہاں اللہ کانام لیاجاتا ہے جسے وہ اور ہم مسجد کہتے ۔ چلو وہاں نہ سہی انہیں وہاں تو کم از کم شرمانا چاہیئے تھا کہ جو“ جگہ مذہب جمہوریت میں سب سے بڑا مندر سمجھی جاتی ہے“ یعنی اسمبلی۔ جن کے درمیان لاہور میں بم پھٹا وہ کون لوگ تھے وہ آپ سب کو پتہ ہے کہ مدتوں سے جعلی دوائیں لائسنس لیکر بنا رہے تھے۔ اب کوئی لین دین پر تنازع ہوگیا ہوگا؟ جو اس سے ظاہر ہے کہ وہاں ٹریفک والے تھے بیچ بچاؤ کے لیے؟ انہوں نے کم ازکم قتل کرنے کا لائسنس تو لیا ہوا تھا؟ جبکہ وہاں تو ہرایک یہ ہی کام کر بغیر لائسنس کے کرہا رہا ہے ۔ مدتیں گزرگئیں کہ نہ لوگوں کو کھانے کے لیے کو ئی خالص غذا ملتی ہے ،نہ پینے کے لیے پانی یا کوئی ااور مشروب ۔ پھر جی کیسے رہے ہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ ہاں صرف دل کی تسلی کے لیے لوگ یہ ضرور کرتے ہیں ہے کہ جن کے پاس پیسے زیادہ ہیں وہ پانی کی بوتل ہاتھ میں لیئے پھرتے ہیں جو کسی چشمے سے نہیں بھری گئی ۔اور مساوات کے اصول تحت وہ پانی بھی اسی بمبے سے آتا ہے جہاں سے باقی؟ چونکہ ہر ایک کو مکافات ِ عمل سے گزرنا ہوتا ہے یہ اور جگہ سے ڈنڈی مارکر کماکر لاتے ہیں، کوئی اور ان کو دنڈی ماردیتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اور دنیا کو علیحدہ کر لیا ہے۔ کیونکہ بغیر سوچے سمجھے ہر بات میں ہم دوسروں کی نقل کر نے کہ عادی ہیں؟ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہرایک چیز جو ایک کے لیے مفید ہے وہ دوسرے کے لیے بھی ہو؟ ان کا معاملہ دوسرا ہے ان کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے زمانے تک دین مکمل نہیں ہوا تھا، انسانی ضروریات اس حد تک نہیں پہونچی تھیں ؟ جو اتنا تفصیلی دستور خالق کا ئینات کی طرف سے عطا کیا جاتا ۔ لیکن ہم جس دور میں ہیں وہ دور ہے کہ ہمیں ہر چیز لکھی ہوئی دی گئی جس کو کہ ہمارے پیغمبر(ص) نے کر کے بھی دکھا یا۔ ہمارے ہاں اس بارے میں ایک حدیث ملتی ہے کہ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ حضور (ص) نے فرما یا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا اس دور میں جو دین پر چلے گا اس کا رتبہ تم جیسے پچاس افراد کے برابر ہو گا“ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ ہمارے جیسے پچاس! فرمایا ۔ہاں (ص) ! اس لیے کہ تم نے مجھے (ص) دیکھا میرے (ص) کردار کو دیکھاقر آن اتر تے دیکھا؟ تم سب دیکھ کر ایمان لا ئے ہو وہ اس مشکل وقت میں بغیر دیکھے ایمان لائیں گے۔ یعنی با الفاظ دیگر انکی تعداد اس وقت لاکھوں اور کروڑوں میں کہیں جاکر ایک ہوگی؟ وہ ایسے لوگ ہونگے کہ وہ ہرکام اللہ کے دیئے ہوئے احکامات کے مطابق انجام دیں گے ؟ چاہیں وہ خود کھائیں چاہیں کسی کو کھلائیں سب کا ثواب ان کو ملے گا؟ وہ وقت آج ہمارے سامنے ہے ۔ ذرا ڈھونڈیئے تو سہی؟ ان کی تعداد کتنی ہے جو آج صر ف اور صرف اللہ او رسول (ص) کے لیے کام کر رہے ہیں ۔اگر کوئی چندہ دیتا ہے تو کسی کو خوش کر نے کے لیے؟ جبکہ وہاں شرط صرف اللہ کو خوش کرنے کی ہے؟ اسی لیے حکم ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو؟لیکن ہم نے کیا دیا؟ اس کی پورے شہر کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو خبر ہوتی ہے ۔ پھر دوسری شرط یہ ہے کہ لوگ اگر ستائش کریں، آپ کے کسی کام کر نے پر اور آپ کا نفس اس پر خوش ہو رہا ہو یا آپ صرف اتنا ہی سوچ لیں کہ اس کی وجہ سے لوگ میری عزت کرتے ہیں مجھے اچھا سمجھتے ہیں؟تو آپ کا کیا ہوا سارا کام ضائع ہو گیا ۔ یہ اسکی مرضی ہے کہ وہ رحم کرے اورآپ کو کچھ “گریس مارکس “ دیکر پاس کردے ورنہ آپ کا کوئی حق نہیں بنتا۔ اب آپ اس پر کہیں گے کہ پھر حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ آپ اپنے طور پر پوری کوشش کریں کہ لوگ آپ کے اچھے اعمال پرمطلع نہ ہوں اگر پھر بھی ہو جائیں تو اللہ کی مرضی سمجھتے ہوئے ان کے بجا ئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو توفیق دی اوراس قابل بنایا ؟پھر بھی اس کی رضا کے خواہستگار رہیں !اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسے راضی کر نےکی توفق عطا فر ما ئے( آمین)۔ پھر انشا اللہ ہم ان میں سے ہونگے جن کا ذکر میں نے اوپر کی حدیث میں کیا کیا ہے؟
ا

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

چونکہ نام و نمود ریاکاری میں آتا ہے س لیے اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فخرِموجودات فخرِ انبیاءمحمد مصطفی احمد مجتبیٰ (ص) کا دور ہمارے لیے مشعل راہ اور مثالی  ہے۔ اور دین وہی ہے جس پر ا نہوں (ص) نے عمل کرکے دکھایا۔ وہ کیسا تھاا یک مثال پیش ِ خدمت ہے۔ دنیا کی جو پہلی مسجد بنی جس میں خود سرکارِ دوعالم (ص) اور تمام صحابہ کرام بطور رضا کار کام کر رہے تھے۔ وہ کچے گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر ہورہی تھی۔ اس کا فرش مٹی کا تھا وہ بھی ہموار نہیں بلکہ ایسا تھا کہ نمازی سجدہ کرتے تو ان کے ماتھے میں کنکر چبھ جاتے تھے۔ گردو دھول سے ماتھے اٹ جا تے تھے۔ اوپر کجھور کے پتوں کا چھپر تھا جو بارش اور دھوپ سے بچا نے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا تھا۔ مینارہ اور گنبد نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہ تھی مسجدِ نبوی (ص) جو کہ حرم کے بعد سب سے زیادہ مقدس اور محترم ہے اور قیامت تک رہے گی۔جہاں کہ ایک رکعت کا ثواب حرم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ حرم میں سجدہ کر نے کا ثواب ایک لاکھ رکعات کے برابر ہے۔خود حرم شریف کا طول و عرض اور بلندی کیا ہے وہ جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تو فیق دی اور وہ وہاں گئے اور دیکھ بھی آئے ہیں ان سے پوچھ لیجئے۔کہ اس پر بھاری غلاف نہ پڑا ہو تو وہ ایک عام سی عمارت ہے جو کہ حضور (ص) کے مبعوث رسالت ہونے سے پہلے از سر نو تعمیر ہوئی تھی، لیکن تعمیر اس لیے ادھوری رہ گئی کہ سامان کافی نہ تھا اور حضرت ابراہیم (ع) کے خطوط پر بنا ئی ہوئی عمارت کا کچھ حصہ جسے حطیم کہتے ہیں بغیر چھت کے کھلا ہوا چھوڑ دیا گیا جو کہ آج تک اسی طرح کھلا ہوا ہے۔ جیسا کے حضور  (ص)نے اپنے دور میں چھوڑا تھا۔ اور عمرہ کرنے والے اورحجاج اس میں نوافل پڑھتے ہیں۔ان کے لیے بھی سوائے دو چادروں کے بدن پر اور کچھ نہیں ہو تا تاکہ سب میں سادگی اور یکسانیت رہے؟ حالانکہ آج کے حرم کے چاروں طرف شاہی محلات اور ہوٹل بن گئے ہیں مگر کسی کی جرا ءت نہیں ہوئی جو اس بیت العتیق کو تبدیل کر سکے؟ جبکہ مسجد نبوی بھی حضور (ص) کے زمانے سے لیکر حضرت ابو بکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے زمانے تک ویسی ہی ر ہی جیسی تھی۔ جبکہ حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں آبادی جب بہت بڑھ گئی تو اس میں توسیع ناگزیر ہوگئی تو تبدیلیاں وجود میں آئیں ۔ کیا یہ ا س وجہ سے  تھاکہ رقم کی کمی تھی۔؟ نہیں اور ہر گز نہیں حضرت عمر (ص) کے زمانے تک مال کی فراوانی اس قدر ہوچکی تھی کہ مدینہ منورہ میں کوئی زکات لینے والا نہیں ملتا تھا فوج کو با قاعدہ تنخواہیں اور عوام کو وظیفے وغیرہ ملنا شروع ہوچکے تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی ان کی تربیت حضور (ص) نے فرمائی تھی۔ ان کے سامنے یہ آیت تھی کہ “ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں “ اس لیے سادگی ان کے مزاج میں رچ ، بس گئی تھی۔ وہ اپنے اوپر انسانی ضروریات کو ترجیح دیتے تھے اپنی جھوٹی شان و شوکت کو نہیں ۔ ان کے نزدیک بڑائی قرآنی تعلیمات کے مطابق عمارتوں میں نہیں بلکہ “تقوے “ میں تھی۔ اوراس نے انہیں باربار فائیدہ دیا اور دنیا کو مرعوب کیا۔ آپ نے بھی پڑھا ہو گا کہ ایک وفد مدینہ آتا ہے خلیفہ کی تلاش ہوتی ہے وہ ایک کھجور کے باغ میں سر کے نیچے کوڑارکھے محو استراحت ہیں ۔ دو سرا عظیم واقعہ وہ ہے کہ بیعت المقدس کی حوالگی کے لیے وہاں کے باشندوں طرف سے ایک انوکھی شرط رکھدی گئی ہے کہ ہم جب تک مسلمانوں کے امیر کو نہ دیکھ لیں اس وقت تک ا طا عت قبول نہیں کریں گے؟ حضرت عمر  (ص)امیر المونین ہیں وہ ا نسانی جانیں بچانے کے لیے جو بصورتِ دیگر جنگ کی نظر ہوتیں اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنا تے ہیں اور بہ نفس نفیس روانہ ہوجا تے ہیں۔ اونٹوں کی کوئی کمی نہیں تھی مگر یہ اسوہ حسنہ (ص) کے خلاف تھا کیونکہ حضور (ص) کے ہمراہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی اونٹ پر ہمراہ سوار ہوتا تھا۔ وہ ایک ہی اونٹ لیتے ہیں؟ جس پر باری باری ایک دن وہ نکیل پکڑ کر چلتے ہیں تو دوسرے دن انکا غلام، جب فلسطین کی فصیل کے قریب پہونتے ہیں تو نکیل پکڑ کر چلنے کی باری حضرت عمر(رض) کی ہو تی ہے؟ اس سے پہلے لشکر ِ اسلام کے تما م سپہ سالار آتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیے اور زرق برق پوشاک زیب ِ تن فرمالیجئے، کیونکہ یہاں کے ا میر شان و شوکت کو پسند کرتے ہیں اور اس سے ایک دوسرے کو مرعوب کرتے ہیں! وہ فرماتے ہیں نہیں،میں ایسے ہی جاؤ نگا جیسے کہ چل کر یہاں تک پہونچا ہو ں؟ فلسطین کے درویش اور علماءجن کی تعداد ہزاروں میں تھی قلعہ کی فصیل سے اس حالت میں ایک اونٹ کوآتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ دو اصحاب ایک جیسے لباس میں ملبوس تشریف لا رہے ہیں ایک اونٹ پر تشریف فرما ہیں اور دوسرے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے ہیں تو پوچھتے ہیں ان میں سے تمہار ے امیر کون سےہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ وہ جوکہ اونٹ کی نکیل پکڑے ہو ئے ہیں ؟ چونکہ ان کی روایات میں فاتح فلسطین کی یہ ہی پہچان تھی وہ بغیر لڑے بھڑے اطاعت اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان تمام چیزوں سے واضح یہ ہوتا ہے کہ عزت دلوں میں ہوتی ہے مال وا سباب اور محلات میں نہیں اور وہ عطا بھی ا للہ سبحانہ تعالیٰ کرتا ہے؟ جس کو چاہے عطا کرے جسے چاہے نہ عطا کرے۔ جو وسائل کے ذریعہ عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کو ذلیل کرنے کا سامان پیدا کردیتا ہے کیونکہ وہاں پر ارشادِ باری تعالیٰ یہ ہے کہ “ جو لوگوں سے عزت چاہتے ہیں انہیں ذلیل اور خوار کردیتا ہوں “ آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ محلوں میں رہنے کے باوجود اگر کردار ویسا نہ ہو اور ان کی اپنی کرتو توں کی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں عزت عطا نہ کرے تو آپ نے سنا بھی ہو گااور دیکھا بھی ہوگا کہ سب کچھ ہو نے کے باوجود لوگ عجیب عجیب ناموں سے انہیں پکارے تے ہیں۔
ہمارے یہاں ایک رو چل نکلی ہے کہ مسجد ایسی ہو کہ دور سے دکھا ئی دے ،ہم نے اکثر منبروں سے اپیل اپنے کانو ں سے سنی کہ مسجد تو بن گئی ہے ، بھائیوں دل کھول کر چندہ دو اگر منارہ بھی شاندار بن جا ئے تو دور سے نظر آئے گا اور اسلام کی شان بڑھے گی؟
جبکہ اسلام کی شان ا ونچے میناروں سے نہیں بلکہ اس کے ماننے والوں کےا ونچے کر داروں سے ہمیشہ بڑھی ہے اور لوگ انہیں دیکھ کر مسلمان ہو ئے ہیں۔ ؟ وہ کلیہ یوں بدل نہیں سکتا کہ اسے سب سے پہلے یہ ہادیِ اسلام (ص)  نےاپنا یا پھر ان کے صحابہ کرام نے اپنایا ، اور انہیں دیکھ کر اولیا ئے عظام نے اپنایا۔ کیونکہ شاندار مسجد ااور سادی مسجد کاثواب برابر ہے وہ کم یا زیادہ نہیں ہے اور وہ ہے بنانے والوں کے لیے جنت میں ایک گھر ۔البتہ آج کے دور میں دیار ِ غیر میں مساجد جتنی نمایاں ہونگی ان کی حفاطت کامسئلہ ہو گا ۔کیونکہ مسلمانوں نے اپنے کردار بدل کر اور غیروں کے اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے آج کی دنیا ا سلامی فوبیا کا شکار ہوچکی ہے۔ اس سے متاثر ہوکرکوئی بھی پاگل اگر کسی مسجد میں جا کر فائرنگ شروع کردے یا کوئی خود ساختہ بم پھینکد دے تو نقصان کا احتمال ہے کسی فائدہ کانہیں۔  جب کنیڈا جیسے ملک میں  یہ ہوسکتا ہے جو کہ تارکین ِ وطن کی جنت ہے  تو پھر یہ ہی کچھ کہیں بھی ہوسکتا ہے؟اس معاملے پر غور کرتے ہوئے یہ دیکھئے کہ جذبات میں بہنے کے بجا ئے عقل ودانش کاتقاضہ کیا ہے۔ اپنے خلاف مزید نفرت کو بھڑکایا جا ئے یا کم کیا جائے؟ دنیا میں کہیں بھی نئے آنے والوں کو بہت زیادہ پھلتے پھولتے دیکھ کر مقامی لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے۔ یہ میگا ٹائپ محلات جنہیں ہم دیار ِ غیر میں آکر بناتے ہیں ان پر کوئی اچھا تاثر مرتب نہیں کرتے ؟ اسلام نے تو ہمیں یہ سکھا یا ہے ۔ خود کھانے سے پہلے اپنے پڑوسیوں کے گھر کھانا پہنچادو، موسم کے نئے پھل خود کھانے سے پہلے ان کے گھر پہونچادو ! اپنے دروازے کے باہر پھلوں کے چھلکے مت پھینکوتاکے ہمسایوں میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ ایک طویل فہرست ہے جو اسلام نے ہمیں ہمسایوں کے حقوق بتائے ہیں وہ کرکے دیکھو؟ پھر وہی صورت ِ حال واپس آجا ئے گی جیسا کہ ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کے پڑوس میں رہنے والا ایک شخص جوکہ مسلمان نہیں تھا وہ اپنا مکان فروخت کر رہا تھا مگر بازار سے اس کی قیمت زیادہ مانگ رہا تھا۔ اس سے جب وجہ پوچھی گئی تواس نے بتایا کہ یہ ایک مسلمان کا پڑوس ہے اس لیے اسکی قیمت زیادہ ہے۔ ذرا اسلام پر عمل کرکے دنیا کو دکھا ؤتو پھر دیکھو کہ لوگ تمہیں یہاں کس طرح خوش آمدید کہیں گے۔؟
میں ایک واقعہ بیان کر کے اپنی بات کو ختم کرتا ہوں جو کہ اس وقت کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش سے میں نے سیکھا ہے۔ وہاں بھی اس زمانے میں آہستہ آہستہ یہ احساس بیدار ہو رہا تھا؟  بہاریوں کے خلاف نفرت جو پہلے سے موجود تھی بڑھ رہی تھی۔ اس پر جب میں نے تحقیق کی توپتہ چلا کہ اان کے خلاف نفرت کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بیروزگاری عام ہے جبکہ یہ ان کے پڑوسی تھے چھوٹے موٹے کام وہ آکر کرلیتے تھے یہ محروم رہ جاتے تھے ۔ جبکہ مارواڑی سیٹھ جو ان کی غربت کے اصل ذمہ دار تھے ان کی طرف ان کی نگاہ نہیں جاتی تھی ؟  میں نے ایک سیٹھ سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے !تو اس نے بتایا کہ وجہ یہ ہے کہ “ ہم انہیں طرح رہتے ہیں ۔ جیسے وہ رہتے ہیں“وہ کیسے رہتے تھے۔ ان کی کل کائینات ایک دکان ہوتی تھی جہاں وہ لاکھوں کا کاروبار کرتے تھے اس میں فرنیچر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی بس ایک بیت کی بنی ہوئی چٹائی تخت پر بچھی ہو تی تھی۔ دکان کے پچھلے حصہ میں ان کا باورچی خانہ ہو تا تھا رات کو وہیں دکان کا دروازہ بند کر کے وہ سوجاتے تھے۔ جبکہ جو کچھ کماتے تھے مارواڑ بھیجدیتے تھے۔ جبکہ مہاجر جو کماتے ہیں اس سے زیادہ نام نمود پرخرچ کرتے ہیں ۔ جس سے ان میں احساس ِ محرومی پیدا ہوتا ہے؟ یہاں بھی یہ ہی صورت حال  ہےکہ عوام کو یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ تارکین وطن ترقی یافتہ ملکوں کی ضرورت ہیں کہ ان کے یہاں بچوں کی پیدائش کم ہو رہی ہے۔ بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ دوسری طرف  “یہ کمپوٹر ایج ہے“ جوکہ روز گارکو خاموشی سے نگلتی جارہی ہے۔ یوں پرانے باشندے نئے آنے والوں کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار سمجھ رہے ہیں؟ ایسے میں کوئی چیز آپ کی مدد کرسکتی ہےتو وہ آپ کے کردار میں تبدیلی ہے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

مسئلہ اچھی قانون سازی کا نہیں اطلاق کا ہے۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنا بڑا مشکل ہے اور اوپر سے یہ دور بڑا ظالم ہے۔ بزرگوں نے ا للہ سبحانہ تعالیٰ سے بہت سے وعدے کر کے ملک تولے لیا مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ خود توا للہ کے پاس وعدے وفا کرنے سے پہلے چلے جا ئیں گے اور اولاد کے لیے وعدے نباہنے کی تمام ذمہ داریاں چھوڑجا ئیں گے جن میں اپنو ں کی پردہ پوشی اور شغل ِنوشا نوشی بدرجہ اتم ہوگا ور انہیں اس سے فرصت ہی کہاں ہوگی جو وعدے پورے کریں۔ ہمارا گزشتہ کالم شراب اور نشا ئیوں پر تھا جو کہ سینٹ میں قوم کو معاملہ در پیش تھا، مگر اب جو نگاہ دوڑائی تو وہی معاملہ ہائی کورٹ میں بھی نظر آگیا اور یہ بھی کہ حکومت ِ سندھ کو حکم ہوا  ہےکہ چودہ دن کے اندر شراب پر قانون سازی مکمل کرلے اور اس بات کا خیال رکھا جا ئے کہ مساجد اور مدرسوں کے قریب شراب خانے نہ رہنے پائیں۔ چونکہ معاملہ عدالت میں ہے ہم ا س پر تو تبصرہ نہیں کر سکتے ۔ لیکن وقت بہت کم ہے اس لیے ان کی استعداد پررحم کھاتے ہوئے ہماری عدلیہ سے معدبانہ درخواست ہے کہ مطالبہ وہ کیا جائے جو ان کے لیے پوراکرنا ممکن ہو ۔ بیچارے ممبران اسمبلی جو کام ستر سال میں نہیں کر سکے وہ چودہ دن میں کیسے کر سکیں گے یہ ہماری سجھ سے باہر۔ وہ بھی ہمارے یہاں جہاں پرانے قانون بھی چل رہے ہیں ۔ اور نئے بھی۔ مثلا ً برطانیہ کا  1935کا ایکٹ اور ضیا الحق کا لایا ہوا نظام اسلام ؟ کیونکہ ہمارے یہاں جو بھی آتا ہے وہ ہمیشہ کام ا دھورا چھوڑجاتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ا ردولغت میں ایک لفظ عمر ِجاوداں بھی ہے۔ جس کے بارے میں ہر ایک کو یہ یقین رہا کہ یہ یقینا“ اسی کو ملے گی؟ مگر آج تک ملی کسی کو بھی نہیں۔ لہذا جنہوں نے اس پر یقین کیا یا اس خواب کا دیکھا وہ مار کھا گئے اور اپنا کام ادھورا چھوڑ گئے۔ جنہوں نے ایسا نہیں کیا اور کام کل پر نہیں چھوڑا وہ انتہائی مشکل حالات میں صرف چند سالوں میں “ گریند ٹرنک روڈ“ بنا گئے۔ جس پر ہمیں شیر شاہ کے نام کے پتھر لگے تو کہیں نظر نہیں آتے مگر اس کی بنا ئی ہوئی سڑک پر گاڑیاں چلتی ہوئی ضرور نظر آرہی ہیں۔یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق چونکہ صدقہ جاریہ ہے لہذا جب تک یہ سڑک استعمال ہوتی رہے گی ا س وقت اس کے کھاتے میں ثواب لکھا جاتا رہے گا؟ اس کے برعکس دوسرے بادشاہوں نے اپنے لیے اور راہیں اختیار کیں۔ مثلا ً شاہجہاں نے تاج محل اپنی بیوی کی آرام گاہ پر ایک وقت ِ کثیر اور رقم کبیر خرچ کر کے بنا ڈالا؟ اس کا نام بھی تا ریخ عالم میں تو رہے گا۔ جس پہ ٹکٹ لگا کر مودی جی  جیسے لوگ مال کما تے ر ہیں گے۔ چونکہ صدقہ چونکہ یہ صدقہ جاریہ میں شامل نہیں ہے۔لہذا وہاں بھی اس کا کوئی صلہ ملے گا؟ احکامات کے اعتبار سے معاملہ مشکوک ہے۔ کیونکہ اسلام نے اس فعل کی سخت مذمت کی ہے۔ جس میں ریا کاری مقصود ہو؟ ہم نے یہ دو مثالیں اس لیے منتخب کیں ہیں کہ ان میں تقریباً عرصہ ایک جیسا لگا اور دونوں نے ہی دو بڑے کام کیے، مگر ایک کے سامنے اپنی نام و نمود تھی اور دوسرے کے سامنے عوام کی بھلائی سہولت اور خدمت اور فلاح بہبود؟ شیر شاہ نے ایسا کام کر دکھا یا جو اس دور میں جب نہ رسل و رسائل تھے نہ ایسے وسائل تھے ناممکن تھا۔ کہ اس نے ایک سڑک کلکتہ سے لیکر پشا ور تک بنا ڈالی جو صرف سڑک ہی نہیں تھی بلکہ دوسروں کے لیے  مشعل راہ بھی تھی کہ آج کے دور میں سڑکوں پر بنے ہوئے ریسٹ رومز اسی کا چربہ لگتے ہیں۔ کیونکہ وہ اسوقت سیکڑوں منزلوں میں تقسیم کی گئی تھی جبکہ اس کا تصور بھی نہیں تھا۔اور ہر منزل پر ایک سرائے بھی بنا ئی گئی تھی تھی اور پانی کی باؤلی بھی جس کے پانی تک پہونچنے کے لیے سیڑھیاں بنی ہو ئی تھیں، تاکہ پیاسوں کو پانی کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہو نا پڑے ؟وہ سیڑھیاں اتر کراپنی پیاس بجھا لیں؟بجا ئے جنگلوں میں اور صحراؤں میں پانی کی تلاش  کرتے پھریں؟ اس نے کیسے اتنے بڑے منصوبے کی منصوبہ بندی کی ہوگی تاریخ خاموش ہے ،یا اسے خاموش کردیا گیا ہے؟ چونکہ اس کی تکمیل کے فورًا بعد ہمایوں ایران کی مدد لیکر واپس آگیا تھا اور تخت واپس اسکو ایران نے مدد کرکے دلادیا تھا۔ لہذا تاریخ میں کچھ زیادہ اس کا ذکر نہیں ملتا؟ کیونکہ ہمارے یہاں کی ریت یہ بھی ہے کہ چاہیں مرنے والا کتنا ہی ظیم ہواور  کتنا ہی بڑاکام کر جا ئے۔ آنے والے اس کا کام اور نام کہیں تحریربھی ہو تو اسے مٹا نے کی کوشش کر تے ہیں؟ بلکہ اگر بس چلے تو وہ بھی اپنے ہی نام کرا لیتے ہیں؟ لہذا اب کہیں پتہ نہیں ملتا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ اس کے برعکس تاج محل ایک ہی جگہ پر تھا اور فائدہ بادشاہ کو پہونچ رہا تھا یعنی “ اس مشہوری ہو رہی تھی“لہذا اس کے اخراجات اور وسائل کی ایک ایک تفصیل موجود ہے جبکہ کام نظروں کے سامنے ہے ؟ مگر یہ سب کچھ وہاں کے لیے تھا جہاں کی زندگی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ جہاں ابدی طور پر رہنا ہے وہاں اسے کیا ملے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے ؟ اگر انسان جانتا ہوتا تووہ کبھی ایسی تجارت میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جس کے نتائج معلوم نہ ہوں ؟ جبکہ قر آن میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں کہ جس میں کبھی گھاٹا نہ ہو؟ ایک صاحب پہلے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ ہوا کرتے تھے وہ ہرآنے والے وزیر آعظم سے ایک ہی سڑک کا بار بار افتتاح کراتے رہے جب تک وہاں اس عہدے پر فائز رہے پتہ نہیں آخری نام اس پر کس اب کس کا لکھا ہوارہ گیا جس کو مٹانے کی انہیں فرصت نہیں ملی؟غالب کہہ گئے ہیں کہ مفت ہاتھ آئے تو برا کیاہے؟ یہ ہی معاملہ برادر ملک ترکی کی بسوں کا ہے۔ ادھار پر مل رہی ہیں سامنے نظر آتی ہیں مشہوری بھی ہے۔ اگر اس کے بجا ئے چین سے ٹرین لے لیتے تو زیادہ بہتر ہو تا کیونکہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ تو بچ ہی رہتا ؟ “جیسے اسٹیشن اور لوہے کی پٹری “ لیکن حکمرانوں بسیں پسند کیں جن تاریخ ہمارے یہاں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کبھی اسی لاہوراو منی بس سروس بھی چلتی تھی! اور اس سرے ا س سرے تک بلکہ گلی گلی جاتی تھی؟ مگر پھر کیا ہواکہاں گئیں وہ بسیں ہمیں پتہ نہیں شاید کوئی مورخ روشنی ڈالے؟ یہ ہی حال ان بسوں کابھی ہو گا اور لگانے والوں کی نام تختیوں کابھی۔
جہاں انسانوں کو موبل آئیل شفاف کر کے کھلایا جا سکتا ہے، ریلوے کے انجننوںکو غلط لبری کیشن ڈالکر تبا ہ کیا جا سکتا ہے اور اس طرح ریلوے کو بٹھایا جا سکتا ہے ۔ تو ان بسو ں کی بساط کیاہے؟ اسلیے کہ بیچاریوں کو جہاں چاہے ہانک دو وہ وہیں چلی جاتی ہیں جیسے سرکاری بسیں کراچی میں شیر شاہ میں لے جاکر کباڑیوں کے ہاتھوں بک گئیں، اگر لاہور اور ملتان وغیرہ میں کوئی شیر شاہ نہیں ہے؟ تو کوئی تو اس کی جگہ  “دلیر شاہ “ہوگا پاکستان کی سر زمیں ابھی بنجر تو نہیں ہوئی ہے کہ ایسے کپوت نہ پیدا کرسکے؟ ،بہر حال اس کا متبادل ہو گا ضرور؟
مختصر سا عرض کردوں کہ ہمارا مسئلہ اچھی قانون سازی نہیں ہے جس کے لیے ایک کے بعد دوسرا قانون بنا کر عوام کو بیوقوف بنایا جائے؟ کیونکہ اللہ کے قانون سے بہتر کون سا قانون ہو سکتا ہے۔ جو ہمارے پاس  پہلے ہی سے موجود ہے۔ بات ہے پوری طرح اس کے نفاذ کی اور سب پر اطلاق کی اور اطلاق بھی پہلے ان امرا پر ہونا چاہیے جنہیں لکھا یا بغیر لکھا استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ جب انصاف کی امید نہ رہے تو لوگ قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کردیتے ہیں جس کی مثالیں آئے دن ہمارے دیکھنے میں آرہی ہیں جس کا مظاہرہ پارلیمان میں بھی دیکھنے میں آیا ؟یہ سیلاب ہمارے ہاں اس وقت بھی آیا تھا جب مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ  تھا؟اس وقت بھی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر شاہد (رح) شہید ہوگئےاور ججوں کو رٹ چھوڑکر پچھلے دروازے سے نکلنا پڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تاریخ اپنے آپ کو پھر نہ دہرانے لگے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ پہلے ہم خود عادل بن جائیں ،معاملات میں اچھے بن  جائیں پھردعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ موجودہ قیادت کوہی ہدایت عطا فرمادے کہ وہ خود کواچھا بنالیں ؟اس سے اچھا کیا ہوگا  کہ ہم بار بار نئے لوگوں لائیں اور آزمائیں جوکہ ہمیں میں سے ہیں اور ہم جیسے ہیں؟ رہا اچھا بننا وہ بھی جبھی کوئی بنتا ہے کہ وہ بننا چاہے؟ نہ بننا چا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ بھی اسے اچھا نہیں بنا تا کیونکہ اس نے فرما دیا ہے کہ کیا میں نے تمہیں دونوں راستے  دکھا دیئے تاکہ تمہیں آزماوں ؟ کیا یہ تمہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ جو چاہے جونسا راستہ اختیار کرے؟  “کیا ان کے پاس دیکھنے کے لیے دو آنکھیں ۔اور بولنے کے لیے دو ہونٹ نہیں عطا کیئے “ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized

جوہر شناسی کے کرشمے (قند مکرر)۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

نوٹ ۔تیں سال پہلے یہ کالم آپ کی نظروں سے گزرا تھا آپ کو یاد ہو یا نہ ہو! ہم نے سوچا کہ یاداشت تازہ کردیں، ضرورت ہوئی تو اگلا کالم شاید اسی موضوع پر لکھا جائے اور نہ بھی لکھا جائے کیونکہ تازہ موضوع تصدیق اور تردید کے درمیان معلق ہے۔ (شمس)
“ فارسی کا ایک مقولہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ “ جوہر کی پرکھ یا تو بادشاہ کو ہوتی ہے یاپھر جوہری کو “
جناب نواز شریف صاحب اس مرتبہ بہت سوچ، سوچ کر کھیل رہے ہیں۔ وہ اپنے گزشتہ دور میں جنرل مشرف کو بے ضرر سمجھ کر لے آئے تھے اس کا جو انہیں خمیازہ بھگتنا پڑا اس نے انہیں بہت کچھ سکھا دیا۔ کیونکہ وہ امیر المونین بننا چاہتے تھے جبکہ مشرف صاحب اسلام کو ماڈرن بنانا چاہتے تھے ،اس طرح دونوں کے قبلے علیٰحد تھے۔ نتیجہ وہی ہواجو نکلنا چا ہیئے تھا۔ کیونکہ ایک جیسے پرندوں کا غول ایک ساتھ اڑسکتا ہے مگر پرندے مختلف ہوں تو بات بات پر لڑجاتے ہیں اور وزن چھوڑ دینے کی وجہ سے شکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟ اس مرتبہ جو کچھ انہوں نے سیکھا وہ اس سے ظاہر ہے کہ صدر، چودھری فضل الٰہی جیسا لائے ۔ پھر سپہ سالار ہم خیال لائے جو اس سے ثابت ہے کہ ان میں انہوں نے کیا چیز دیکھی کہ قرعہ فال جناب راحیل شریف صاحب کے نام نکلا؟ ابھی تک جو بھی سعودی عرب جاتا تھا وہ عمرہ کرنے جا یا کرتا تھا اور کام دوسرے کرتا تھا؟ مگر یہ پہلے کمانڈر انچیف ہیں کہ عمرے کانام لینے کے بجا ئے سچ بولے اور پریس ریلیز یہ آئی کہ وہ سعودی حکمرانوں سے ملنے گئے ہیں ۔ انہیں ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے سب سے بڑے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ اس طرح نواز صاحب کی پسند کو انہوں نے صاد کیا؟ یعنی با الفاظ دیگر “انہوں نے ان کی جو ہر شناسی کی داد دی“
یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ میڈیا کی زینت بننا چاہیئے تھی مگر میڈیا نمعلوم وجو ہات کی بنا پر خاموش رہی حالانکہ وہ ہر بات اچھالتی ہے جس میں کوئی بھی وطن عزیز کی بڑائی ہو جو کہ عموماً ڈھونڈے سے ہی ملتی ہے؟ مگریہ اتنی بڑی بات تھی کہ اس کو جتنا بھی اچھالا جاتا وہ کم تھا، صرف معمولی خبر بن کر رہ گئی؟کیونکہ وہ پہلے کمانڈر انچیف ہیں جن کو کسی برادر ملک نے کنگ سعود آرڈر آف ایکسی لینس دیا ہو؟ اس سے پہلے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ پاکستانی کمانڈر انچیف کو اتنے بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہو؟ کوئی بات تو ایسی رہی ہو گی جو اس سے پہلے کوئی سعودی اعزاز سے نہیں نوازا گیا اور وہ بھی اتنے کم عرصہ میں بغیر آزمائے ہوئے؟ چونکہ جوہر کی قدر بادشاہ ہی جانتے ہیں یا جوہری ہم نہ ان میں نہ ان میں ،اس لیے ہمیں عجیب سا لگا۔ ممکن ہے پہلے ایسا کوئی ضابطہ اخلاق ہو کہ کمانڈر انچیف کو کسی غیر ملک سے ایوارڈ وصول کرنے سے روکتا ہو اور اسے موجودہ حکومت نے معطل کردیا ہو ۔جیسے کہ دستور میں امانت والی دفعہ؟ جبکہ دہری شہریت والے پاکستانیوں کو جو اربوں ڈالر بھیجتے ہیں، پاکستان کا قانون اسمبلی کی رکنیت وزارت اور اب ملازمت سے بھی روکتا ہے؟
دوسرا امکان یہ ہوسکتا تھا کہ خبر غلط ہو! مگر وہ بھی غلط نہیں ہو سکتی کہ یہ ملک کے بہت ہی معتبر اینکر جناب کامران خان نے اپنے ١١ فروری کے پروگرام میں دی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے کئی دانشوروں کی آراءسے اس مسئلہ پر قوم کو نوازا۔ جوکہ مختلف تھیں؟ ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ “ ہمارے سعودی عرب سے پرانے برادرانہ تعلقات ہیں “مگر یہ نہیں بتایا کہ کب سے؟ چونکہ ہم کسی کی طرفداری کبھی نہیں کرتے اور غیر جانبدار رہتے ہیں ؟ لہذا ہم یہاں دونوں ملکو ں کے تعلقات کا پاکستان کی تاسیس سے جائزہ لیں گے تاکہ حقائق سامنے آسکیں ؟
جب پاکستان بنا تو ایک عرصہ تک تمام عرب ممالک میں سوائے عراق کے یہ تاثر تھا کہ پاکستان ایک احمدی (قادیانی) ریاست ہے لہذا سب عرب ممالک مخالف تھے ؟اس غلط فہمی کی وجہ پہلی کابینہ میں چودھری سر ظفر اللہ خان کا وزیر خارجہ ہونا اور پاکستانی سفارت خانوں کا عمل تھا ؟
اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی رکنیت کے لیے جس ملک نے پاکستان کا نام پیش کیا وہ ایران تھا اورجس مسلم ملک نے مخالفت کی وہ افغانستان تھا؟ ان دنوں پاکستان کے انڈیا کے ساتھ تعلق بہت ہی تلخ تھے۔ کیونکہ وہاں حشر پرپا تھا مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا، حتیٰ کہ جو پاکستان کا کچھ روپیہ نکلتا تھا وہ بھی انڈیا نے نہیں دیا اور مہاتما گاندھی کے مرن برت کے ذریعہ ملنا ممکن ہوا؟اس موقعہ پر اسوقت کے سعودی باد شاہ کابیان ریکارڈ پر ہے کہ “ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل محفوظ ہے “ اس کے برعکس ایران وہ ملک تھا جس نے رکنیت کے لیے پاکستان کانام پیش کیا۔ پھر دونوں جنگوں میں جو کردار رہا وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ جبکہ سعودی عرب سے تعلقات میں بہتری لانے والے جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تھے؟ جب انہوں نے بر سرِ اقتدار آکر 1972 میں اسلامی کانفرنس بلائی۔اور وہاں اسوقت بادشاہ جناب فیصل مرحوم تھے جو اپنی ولی عہدی کے دور میں کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں آکر رہے تھے اور پاکستان کی میزبانی دیکھ کر! پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے نیز عالمِ اسلام کا درد بھی ، ان کی شمولیت بھی اس سے مشروط تھی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے ۔ یہ شرط مانی گئی تو کہیں جاکر سعودی عرب سے دوستی کی ابتدا ہوئی ۔ پھر اس کو عروج حاصل ضیاءالحق کے زمانے میں ہوا۔
جبکہ ان کے ہم عقیدہ مدرسوں کے طالبان کو “ روس امریکہ “ جنگ میں استعمال کیا گیا۔ اس طرح ان کا اثر ورسوخ پاکستان کی جڑوں میں بیٹھ گیا؟ جس کا خمیازہ ہم آجکل بھگت رہے ہیں ۔ اس کے بعد جب نواز شریف حکومت کا تختہ مشرف نے الٹا تو نوازصاحب کی گلو خلاصی میں سعودی عرب نے ضامن کا کردار ادا کیا اور ان کو اپنے یہاں پناہ اور کارخانے لگانے کی سہولت دی جس کی دیکھ بھال اب ان کے ایک صاحبزادے کر رہے ہیں؟ جبکہ وہ مشرف کے اس مشن میں کبھی حائل نہیں ہوئے کہ وہ پاکستان میں ماڈرن اسلام لانا چاہتے تھے؟ اور اپنے یہاں وہ اس قسم کے اسلام کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے ہیں؟ یہ با لکل اسی طرح ہے کہ سارے ترقی یافتہ ممالک اپنے یہاں جمہورت چاہتے ہیں مگر ترقی پزیر ملکوں کے لیے انہیں آمریت پسند ہے؟ چاہےںوہ شخصی آمریت ہو یا جمہوری ؟
جبکہ سعودی عرب کی پوری جد وجہد ہمیشہ سے اس نکتہ پر مرکوز رہی ہے کہ دنیامیں انکے عقائد ترقی کریں وہ پوری دنیا پر خادم ِ حرم کے نام پر حکومت کریں اس کے لیے امہ کو بدعتی اور غیر بدعتی کی پہچان دی گئی جس سے آپس کی تفرقہ بازی نے جنم لیا وہ مہم کامیابی سے چل بھی رہی تھی کہ اس منصوبہ میں اسوقت سے ایران حائل ہو گیا جبکہ وہاں خمینی انقلاب کامیاب ہوا اور اس نے اسلامی یک جہتی پر زور دیا؟ اس سلسلہ کا ان کا پہلا قدم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ ہر امام کے پیچھے اور ہر مسلک کی مسجد میں جاکر نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں تو یہ بات عام تھی کہ ایک دوسرے کے پیچھے ہمیشہ نمازپڑھ لیتے تھے( جو کہ اب کہیں کہیں نہیں بھی پڑھتے ہیں) مگر ان کے یہاں کسی اور کے پیچھے نماز پڑھنا اسوقت تک ناممکن تھا؟ اس لیے کہ وہاں ہماری طرح ہر آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا تھا اور امام کے لیے بہت سی شرائط تھیں ۔ یہ ان کی اتنی بڑی خطا تھی کہ تمام توپوں کا رخ ان کی طرف پھیر دیا گیا۔ جبکہ ان کے پاس نہ اتنی عددی قوت تھی اور نہ دنیا بھر میں مدرسوں اور مساجد کا ایسا نیٹ ورک ہے ۔ وہ اتنے کامیاب نہیں گئے جتنے کے وہابی اور سلفی ؟ جبکہ جانی نقصان ان کا زیادہ ہوا جو ہنوز جاری ہے ۔ جہاں، جہاں طالبان اپنی جدو جہد جاری رکھے ہو ئے ہیں وہ بلا تفریق سنی اور اہلِ تشیع کو بموں کے ذریعہ اڑانے پر لگے ہو ئے ہیں جبکہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اسلامی طاقت ہو نے کی وجہ سے سالوں سے ان کی جولانگاہ بنا ہواہے۔ اب جبکہ یہاں سب کچھ انہیں کا ہے اللہ پاکستان پر رحم فرما ئے (آمین)
ہمیں صرف ایک تبصرہ نگار کی بات اس پروگرام میں پسند آئی وہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کرادے ؟یہ بیل بھی ہمیں اس لیے منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی کہ یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ وہ کسی پر ہمیشہ یکساں مہربان نہیں رہتا، کبھی اخوان المسلمین کو لاتا ہے، خود بھی رقم دیتا ہے اور قطر سے بھی دلاتا ہے پھر وہاں وہ فوجی انقلاب لے آتا ہے؟ کیونکہ ہر قوم پرست میں یہ خرابی عام ہے کہ وہ اپنے ملک کے مفادات دیکھتا ہے، سوائے ہمارے مدبریں کے ، وہ دوسروں کا زیادہ اپنا کم خیال رکھتے ہیں ۔ یعنی ہمیشہ دوسروں کے لیے قر بانی دیتے ہیں اور خوشی کے ساتھ قر بانی کا بکر ا بنتے ہیں ۔ خدا جانے وہ دن کب آئے گا کہ ہم اپنے ذاتی مفادات تج کر اپنے قومی مفاددات کے بارے میں سوچیں گے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہماری نا فرمانیوں کی بنا پر کسی “ بخت نصر“ جیسے بادشاہ کو بطور سزا ہم پر نہ مسلط فرما دے جو اس کے نازل کردہ عذاب کے تقاضے پو رے کر سکے؟

شائع کردہ از Uncategorized

test 1

test 1

شائع کردہ از Uncategorized

بلبلوں غل نہ کرو صابر علی سوتے ہیں۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

یہ ہمارے بچپن کی بات ہے کہ ہمیں پڑھا نے کے لیے کئی مضمون کے ٹیچر موجود رہتے تھے۔ جو ہماری سہولت کے مطابق ہمیں پڑھاتے تھے۔اور ہماری دیگر مصروفیات، خصوصی طور پر نمازوں کا بھی خیال رکھتے تھے کہ مسجد سے حافظ صاحب اس وقت تک آدمی دوڑاتے رہتے تھے جب تک ہم پہونچ نہ جاتے “ کہ جلدی تشریف لائیں جماعت تیار ہے۔ اور جب تک ہم سب با جماعت مسجد نہ پہونچ جا ئیں اسوقت تک نماز نہیں ہوتی تھی۔ مگر قرآن شریف پڑھنے کے لیے ہمیں خود چل کر جانا پڑتا تھا کہ وہ آخر علم ِ دین تھا اور ااس کا احترام ہر چھوٹے بڑے پر یکساں لازمی ہے۔ چونکہ حافظ صابر صاحب جو امامِ مسجد تھے ان کے فرائض میں سارے گاؤں کے بچوں کو پڑھانا بھی ہوتا تھا اور پانچو نمازیں بھی پڑھانا ہوتی تھیں۔ اگر وہ ہمیں پڑھانے چلے جاتے تو باقی کام کون کرتا۔ لہذ مسجد میں ہی ان کا مدرسہ منعقد ہوتا اور اس کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی کہ ہم مسجد کے ہجرے میں بیٹھتے تھے اور حافظ صاحب اس کے بر آمدے میں چونکہ صبح کے وقت سورج میں تپش نہیں ہوتی تھی، باقی گاؤں بھر کے بچے مسجد کے صحن میں بیٹھتے تھے ۔ حافظ صاحب کی مسند کے برابر میں ایک سے ایک عمدہ بیت رکھا ہوتا جس سے وہ اور سب کی پٹائی کرتے رہتے تھے۔ مگر ہمارے لیے ا یک پھٹا بانس رکھتے ۔آپ اسے انٹر کام سمجھ لیں کیونکہ انٹر کام اس وقت تک ایجاد نہیں ہوا تھا ۔ جب ہماری آوازانہیں باہر سے نہیں سنائی دیتی تھی! تو وہ پہلے اسے فرش پر مار کر آواز پیدا کرتے پھر کہتے کہ “ سرکار! آپ کی آواز نہیں آرہی ہے۔“جبکہ اور بچوں کی بلا تکلف بیتوں سے کبھی پٹائی اور کبھی دھنائی کرتے رہتے۔ ہم نے اپنے اوپر کبھی انہیں خفا ہوتے نہیں دیکھا؟ مگر دوسرے بچوں کی پٹائی کے ہم خود چشم دید گواہ تھے جبکہ دوسری ان کے غضب ناک ہونے کی شہادت ان کے گھر سے ملی کہ حافظ صاحب کہ تکیہ پر ایک شعر کڑھا ہوا تھا کہ “ بلبلوں غل نہ کرو صابر علی سوتے ہیں تم تواڑ جاتی ہو“ بنو“ پہ خفا ہوتے ہیں “۔اس شعر کو وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہے مگر ہم پر بھی کیے دیتے ہیں ۔ کہ صابر علی حافظ صاحب کااسم گرامی تھا ۔ “بنو“ ان کی بیگم صاحبہ کاتخلص۔ شعر پتہ نہیں ان کا اپنا تھا۔ یا چوری کا ، البتہ حسب حال نہیں تھا۔کیونکہ ہم نے ان کے گھر میں اکلوتا پاکرکا درخت دیکھا تو اس پہ کوئے اور چیلیں تو نظر آئیں مگر “ بلبلوں“ کا کہیں دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ تو چمن میں رہنے والا پرندہ ہے۔
رہے بچے وہ بھی پٹتے تھے اپنے والدین کی اجازت سے کہ بیچارے غریب اور جاہل والدین حافظ صاحب کے سپرد کرتے وقت یہ کہہ جاتے تھے۔ حافظ جی! ذرا اچھی طرح پڑھانا اور تربیت دینا گوشت اور پوست تمہاراور ہڈیاں ہماری !۔ حافظ صاحب بھی آجکل کے علماءکی طرح اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ لوگوں پر ظلم ہوتے دیکھتے تھے انہیں مرغا بنتے اور پٹتے دیکھتے تھے۔ مگرعدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہتے تھے کیونکہ خطبہ جمعہ علمی کا چھپا ہوا پڑھتے تھے اس میں ظلم کے خلاف اضافہ یا تو عدم مداخلت کے اصول کے خلاف تھا یا پھر انکی استعداد سے باہر تھا ۔ جبکہ ہمارے یہاں کاشتکاروں کو مرغا بنانے کا رواج عام تھا یہ کام ہمارے لیے پولس انجام دیتی تھی جب  وہ دورے پرآتی ،اس لیے کہ ہمارے بزرگ قانون ہاتھ میں لینا پسند نہیں کرتے تھے؟ ہمارے ہاں شادیا ں بھی ہم پلا اور صرف آپس میں ہوتی تھیں۔ ہماری بیگم صاحبہ کے ہاں درختوں پر انسانوں کو الٹا لٹکاکر سیدھا کرنے کا رواج عام تھا ۔ وہ اب تک ہم سے پوچھتی ہیں کہ ویسے تو ہمارے بزرگ اتنے مذہبی تھے، مگر ظالم کیوں تھے۔حالانکہ ہم بہت دفعہ انہیں بتا چکے ہیں کہ بزرگوں کانظریہ یہ تھا کہ مذہب مذہب ہے اور رواج رواج ہے؟ اوروں کا کیا کہیں قرون ِ اولیٰ کے بعد ہمارے اکثر بادشاہوں کا بھی یہ ہی عالم تھا کہ جو ان میں بہت ہی نیک تھےاورتہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے، اور نہ ہی وہ ممکنہ وارث ِ تخت۔ کیونکہ آدمی کو دین اور دنیا دونوں رکھنے پڑتے ہیں۔تب وہ پوچھتیں کہ آپ نے رواج کیوں نہیں اپنائے؟ تو ہم کہتے کہ اول تو ہمارے وقت تک ہندوستان میں زمینداری ،رجواڑے اور بادشاہت رہی ہی نہیں دوسرے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں ہماری نانی صاحبہ ایسی عطا فرمادیں تھیں کہ جو دین پر خود بھی عامل تھیں اور ہمیں بھی دن بھر تلقین کرتی رہتی تھیں کہ اپنے حضور (ص) نے ایسا کیا تم بھی ویسا ہی کرنا۔ چونکہ حضور (ص) کا فرمان ہے کہ جو جان کر کے کہ وہ ظالم ہے اس کا ساتھ دے وہ ہم میں سے نہیں“ ہم نے اس کو روکنے کی پہلی کوشش تو یہ کی کہ ایک دن حافظ صاحب کے ہجرے کی چابی حاصل کر کے ان کے سارے بیت اس کنوئیں میں ڈالدیے جس سے لوگ وضو کے لیے پانی لیتے تھے۔ جب لوگ فجر کی نماز کو آئے تو پانی کے ہر ڈول کے ساتھ ایک بیت آتا گیا اس طرح سارے بیت واپس آگئے۔
اسی طرح اسوقت طرز حکومت یہ تھا کہ عوام کو لڑاؤ اور حکومت کرو، اور جب بھی عارضی چارج ہمارے پاس آتا ہم انہیں بھائی بھائی بنا نے کے لیے کہتے کہ ایک دوسرے کے گلے مل لو وہ مل لیتے۔ مگرواپسی پر بجائے شابا شی کہ ہماری جھاڑ پڑتی اورعوام پھر لڑنے لگتے؟ابھی ابھی ہم اسی کام میں لگے ہوئے ہیں؟ مگر ہمت نہیں ہاری کہ ہم نے پڑھ رکھا ہے کہ ایک بادشاہ نے یہ سبق چونٹی سے لیا تھا کہ دانہ بڑا تھا جو اس نے ہوس میں اٹھا تولیا تھا مگر بار بار بمع دانے کے گر پڑتی تھی؟ آخر کار وہ کامیاب ہو گئی اوراس کا اتباع کرکے وہ بادشاہ بھی کامیاب ہوگیا، پھر اس قصہ کو پڑھ، پڑھ کر سارے بادشاہ کامیاب ہو تے رہے اور آج بھی نہ صرف وہ خود چل رہے ہیں بلکہ دنیا کو چلارہے ہیں ۔مگر ہم جیسے سر پھرے  ہار ماننے والے نہیں کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتے، اور ہر نئے کی طرف اس امید پر دیکھتے ہیں کہ شاید یہ بہتر ہو ؟دوچار قدم اس کے ساتھ بڑھتے بھی ہیں؟ لیکن کبھی وہ اقتدار میں آنے کے بعد اور کبھی اس سے پہلے ہی بدل جاتا ہے ۔ ہم جیسے بھی مجبوراً اس کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرلیتے ہیں۔ ا ن ہی میں ہمت نہ ہارنے والو کے میر ِ کارواں جناب صفدر ھمدانی بھی ہیں؟
ہماری عقلمندی دیکھئے کہ ہم نے دار لحرب سے ہجرت کی اس امید پر کی ہم جہاں جارہے ہیں۔ وہ مملکتِ خداد ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بڑی دعاؤں کے بعد اور ہمارے لیڈروں کے اس پکے وعدے پر یہ ملکت انہیں عطا کی ہے کہ وہاں  اللہ سبحانہ تعالیٰکی حاکمیت قائم کریں گے لہذا تم پر ہجرت فرض ہے۔ جب اس سر زمین پر پہونچے تو لگا بھی ا یسا ہی؟ پہلی تبدیلی ہمیں یہ نظر آئی کہ ہر ریلوے اسٹیشن پر قبلہ کا رخ بتانے کے لیے“ یعنی قبلہ کو رو شناش کرانے کےلیے اایک تیر لگا ہوا تھا“ ہم اتنے بے قابو ہو ئے کہ ٹرین سے اترتے ہی سجدے میں گر گئے۔اسوقت اس خطہ کو مشرقی پاکستان کہتے تھے۔وہاں وہ بھائی چارہ دیکھا کہ نہ صرف لوگ نمازیں با جماعت پڑھ رہے تھے۔بلکہ انہیں یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ مغرب اور فجر کی نماز کے وقت ٹرین کو کسی تالاب کے کنارے روک لیں وضو کریں اور با جماعت نماز پڑھیں ۔رمضان میں افطار سب مل کر کریں۔ ہم تو ملک کی خدمت کرنے کے شوق میں شروع میں ہی دارالحکومت چلے آئے جو ان دنوں کراچی تھا۔ کچھ عرصہ بعد سنا کہ مشرقی حصہ پر کسی جن کا سایہ ہوگیاہے؟
یہاں آئے تو دیکھا کہ کہیں بھی جائیں مسلمان، مسلمان ہوتا ہے؟ وہی محبت وہی اخوت اور وہی مہمانوازی۔ بس ایک بات یہاں کھٹکی کہ ہماری طرح یہاں بھی رسم و رواج کی بادشاہی تھی۔ اور پورا ملک لاکھوں بادشاہوں کے زیر نگیں بھی۔ جہاں انسان کو مارڈالنا مکھی سے بھی زیادہ آسان ہے؟ نتیجہ یہ کہ وہ ملک جسے مدینہ ثانی کہتے ہیں آج تک خود کو نہیں بدل سکا جو بھی آیا یہ ہی کہتا ہوا آیا کہ میں وعدے نبھاؤنگا ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرونگا۔ پھرایک جنرل نوے دن کا وعدہ کر کے آیا ؟ دس سال تک ہم نے انتظار کیا،جب ہمیں حالات مشرقی پاکستان جیسے ہوتے نظر آئے۔ تب ہم نے سوچا کہ جیسا کہ ہمیں حکم ہے اللہ اور رسول (ص) سے رجوع کریں ، جب سوچا تو حل نظر آگیا؟ وہ نبی (ص) کا اس سلسلہ میں اپنے ساتھیوں کو فرمان تھا کہ تم حبشہ چلے جاؤ؟ وہاں کا بادشاہ عیسائی ہے وہ نرم دل ہوتے ہیں اور  بادشاہ انصاف پسند بھی ہے۔ ہم اس امید پر چلے آئے کہ وہاں سچ کہنے ، بولنے اور لکھنے پر پابندی نہیں ہوگی۔ اب 26 سال سے ہم کنیڈا میں ہیں اور اپنے وسائل اتحاد اور خدمت ِ خلق میں صرف کررہے ہیں ۔ اور اللہ سبھانہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری صحیح رہنمائی فرمائی ۔ یہاں آکر پچھتانا نہیں پڑا۔ کیونکہ یہاں رسم و رواج کی حکومت نہیں ،انصاف کی حکومت ہے۔ کاش ہم نسلی نہیں بلکہ عملی مسلمان ہوتے؟ تو مسلمان ملکوں میں یہ کام نہیں ہورہے ہوتے جو ہورہے ہیں مسلمان وہ کام نہیں کر رہے ہوتے جو کر ر ہے ہیں ۔؟پھر دنیا میں ہم بجائے اسلام کے سفیر بننے کے اس کی بدنامی کا باعث نہ ہوتے۔ کیونکہ اگر ہم کردار کے غازی ہوتے تو ہمارا کردار بھی اسلامی ہوتا۔ا سلام کا نام ہی امن ہے؟ ہم اسلام کی قدروں کے امین ہوتے؟ صرف اپنے پیغمبر کااتباع کرتے اور اس کے نتیجہ میں بے پناہ برکتوں کے ثمر کھا رہے ہوتے۔ دنیا میں امن اور چین بانٹ رہے ہوتے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اسوہ حسنہ (ص) کو اپنا نے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ابھی تو ہم پستی کی طرف رواں دواں ہیں ۔ جبکہ ہم سے یہ کہا گیا ہے کہ صرف ایک دوسرے کی بھلائی کے کاموں میں مدد کرو برائی میں نہیں ۔ اور حدیث ہے کہ کوئی جان کر کہ بھی کہ یہ ظالم ہے کسی ظالم کی حمایت کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔اب لے دیکر ہمارے پاس ایک میڈیا بچا تھا جس میں کالی بھیڑوں کی وہ افراط نہیں ہے جو دوسرے شعبوں میں ہے۔ اس کا بھی گلا گھوٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔کل ٹاک شو میں کچھ عالم وعظ فرمارہے تھے۔ کہ دس سالہ مظلومہ طیبہ جیسے قصے بھی کہیں عوام کے علم میں لانے کے قابل ہیں ۔ میڈیا کو بھی لگام لگنی چاہیے ورنہ پوری قوم خوف کا شکار ہو جائے گی۔؟کیا یہ ظالم کی حمایت نہیں ہے ۔ میڈیا کی برائی یہ ہے کہ وہ سب ٹھیک ہے نہیں کہتی صرف آئینہ دکھا دیتی ہے۔ جبکہ پوری پاکستانی قوم ،صوبہ ، ذات اور برادری کی بنیاد پر سوچتی ہے۔ مگر یہ ہر ایک کے درد پر چیختی ہے۔ جو بات سب کو گراں گزر رہی ہے۔ صرف ہاں میں ہاں ملائے تو بہت اچھی بن سکتی ہے۔ بجائے جان سے جانے کہ اپنے گھر بھر سکتی ہے؟

شائع کردہ از Uncategorized

کبھی ہم کبھی تم ، مال بیچ میں گم ۔۔ ۔از۔۔۔ شمس جیلانی

آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے صرف بعض ڈرامے ہی ایک سے زیادہ ایکٹ کے ہوتے تھے۔ جب سے ہمارے ماہرین ِ کھیل کود برادرِبزرگ بھارت سے تربیت لیکر آئے ہیں ہمارے ہاں بھی پاپ اور پن کا ذکر اور پاپ ڈراموں کا دورشروع ہوگیا۔اب تو ایک ایک ڈرامہ کئی سو ایکٹ ،بلکہ ہزاروں اقساط پہ مشتمل بھی ہوتا ہے کہانی جب تک آگے بڑھتی رہتی ہے جب تک قبولیت نہیں کھوتی اور قبولیت کا معیار یہ ہے کہ جب تک لوگ ٹائٹل دیکھ کر ٹی وی بند کرنا نہ شروع کر دیں اسکی زندگی کو خود بخود طول ملتا رہتا۔ پہلے ایسی ہی ایک کہانی کتابی شکل میں تھی جس کی عوام میں بڑی دھوم تھی اور وہ داستاِن الف لیلیٰ کہلاتی تھی۔ جسے لوگ دیکھ کر ہی کان بند کر لیتے تھے اورکہتے تھے کہ کیا یہ الف لیلا لے بیٹھے ہو، ا ب اس قسم کی اتنی داستانیں ہیں کہ“ ہو کیر“ ! لوگ موجودہ حا لا ت کے بارے میں پریشان ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جبکہ انہیں جواب دینے کی فرصت ہی نہیں ہے ۔ پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ عوام کی یاداشت بہت کمزور ہے۔ انہیں کل تو بہت دور کی بات ہے ابھی کی بات بھی یاد نہیں رہتی۔ کہ ذہنوں پر اتنا دباؤ ہے کہ خدا کی پناہ؟ عوام ایک لا ئن سے فارغ ہوتے ہیں تو دوسری میں کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر دوسری سے تیسری میں اور تیسری سے چوتھی میں حتیٰ کہ دن چھوٹا پڑجاتا ہے اور لین دین کی کھڑکی کا شٹر گرجاتا ہے۔ البتہ جو با اثر ہیں۔ ان کے کاغذات کلرک گھر پہونچا آتا ہے۔ اب رہا یہ کہ ہو کیارہا ہے؟جواب یہ ہے کہ یہ میثاق جمہوریت کے کرشمے ہیں تماشہ ہورہا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس میں جتنی شقیں لکھی ہوئی نہیں ہیں اس سے دس گنا بغیر لکھی ہو ئی ہیں بس انہیں پر عمل ہو رہا۔  اگر عوام کو نہیں یاد ہے تو یاد دلاتے دلاتے چلیں کہ جناب زرداری اور نواز شریف صاحب نے N.R.O سے پہلے ایک دوسرے کو یہ خوشخبری دی تھی کہ ہم اور آپ ہی نہیں بلکہ ہمارے بچے بھی ملکر حکو مت کریں گے لہذا وہ نہ صرف خود حکومت کر رہے بلکہ بچوں کو بھی تیار کر رہے ہیں ۔ یہ ایک پاپ ڈرامہ ہے جوکہ پچھلی دہائی سے جا ری ہے ا ور کب تک چلے گا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔
اس میں جو بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کو شش کریگا۔ اس کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا ئے گا چاہے کچھ بھی کرنا پڑے ، تاکہ وہ تھک ،ہار کر بھاگ جا ئے۔ بہت سے بھاگ بھی گئے جو بچے ہیں وہ بھی جلدی ہی بھاگ جا ئیں گے۔ آپ کچھ بھی کر لیں یہ کہانی آگے بڑھ کر نہیں دے گی۔ کیونکہ من حیثیت القوم ہم اس کے عادی ہیں کہ ہمارے حصہ کا کام بھی کوئی اور کردے؟ آپ نے دیکھا نہیں ہے جو بہت ہی سعادتمند اولاد ہوتی ہے وہ بجا ئے خود نمازجنازہ پڑھانے کہ جو کہ مستحب ہے ۔ مولوی صاحب سے پڑھواتی ہے کہ جو کام پیسوں سے ہوجائے تو آدمی خود کیوں کرے؟پھر چالیسویں کے بعد میں ہمیشہ کے لیے کوئی مولوی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے ملازم رکھ دیتے ہیں ۔ تاکہ یہ صدقہ جاریہ جاری رہے۔ اور دوسرے والدین خوش ہوکر تعریف کرتے رہتے ہیں کہ دیکھو کتنے سعادتمند بچے ہیں ا للہ ایسی اولاد سب کو دے۔اس سے دیکھنے والوں میں تحریص پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی وہی ذرائع اختیار کریں تاکہ ان کے بچے بھی ان کی قبر پر نکی  اولاد بھی فاتح خوانی کے لیے مولوی رکھدی ۔ کیونکہ یہ دولت بھی عجب چیز ہے کہ جتنی آسانی سے حاصل ہوتی ہے اتنی آسانی سے خرچ ہوجا تی ہے۔اور جتنی مشکل سے جڑ تی ہے اتنی مشکل سے خرچ ہوتی ہے۔ ایسے میں کوئی ایک آدھ نیکوکار کبھی غلطی سے کہیں مل بھی جائے تو جلد ہی اپنی حرکتوں کی بنا پر نکا لا جا تا ہے۔
حضرات ہم نے یہ مضمون اپنے اڈے پر چڑھا تو دیا تھامگر پریشان تھے کہ اس پاپی مضمون کا اختتام کیسے کریں، اتنی عمر کہاں سے لائیں گے کہ اسے اڈے پہ سے اتار سکیں۔ اور فریقین نے کہیں تر دید کردی تو قسطیں اور بھی بڑھ جائیں گی۔ مگر اللہ نے ہماری مشکل آسان کردی کہ جناب نواز شریف صاحب نے اس کی تصدیق کردی کہ ہم ابھی تک میثاق جمہوریت پر گامزن ہیں اور جو اس پر شک کرتا ہے وہ اپنا علاج کرا ئے؟ چونکہ انہوں نے دوسرے فریق کی طرح یہ نہیں کہا کہ عہد (میثاق ِجمہوریت جیسے) کوئی قرآن اور حدیث تھوڑی ہیں کہ اس کی پابندی کی جا ئے۔؟نواز شریف صاحب نے اس کے بجا ئے اچھے اور سچے مسلمان ہو نے کا ثبوت دیا کہ وہ اس پر قائم ہیں اور اس کو نباہ بھی رہے ہیں ۔ اور جو نہیں مانتے انہیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کرائیں۔ یہ ان دونوں کا آپس کامعاملہ ہے ہم کون کہ خوامخواہ؟ رہا علاج ان میں سے ایک فریق پہلے بھی اپنا نہ صرف علاج کراتا رہا ہے۔ بلکہ میڈیکل سرٹیفکٹ بھی پیش کرتا رہا۔ اسے دوبارہ چیک اپ کرانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ رہے ہم تو اس مضمون کو اڈے پر سے اتار رہیں تاکہ ہمارا اڈا خالی ہو اور آپ کو کسی اور موضوع پر مضامین مل سکیں اور آئندہ ایسے پاپ ڈراموں سے بچ کررہیں گے کہ ہمارا اڈا کہیں پھر نہ پھنس جا ئے اور آپ سمجھیں کہ کمپیوٹر فریزڈ ہوگیا ہے۔ یا بڑے میاں سدھار گئے جو بہکی بہکی باتیں کیا کرتے تھے ۔ اگرآپ اڈا نہں سمجھے تو یوں سمجھ لیجئے کہ وہ ایک چوکور فریم ہوتا تھا جس میں چھاپے خانہ کا پتھر پھنسا رہتا ہے اور کپڑا بننے والوں اور قالین وغیرہ بنانے والوںکی کارگاہ ! جب تک پہلا کام مکمل نہ ہو جائے دوسرا کام نہیں ہوسکتا تھا۔
اب آپ سوچیں گے کہ ہم اس پاپ اسٹوری سے جان کیسے چھڑائیں گے؟ تو وہ ہمارے لیے بڑا آسان ہے کہ ایسے مواقع پر ہم ہمیشہ دین کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسرے اپنا اصول ہمیشہ یہ بتاتے ہیں ہے کہ جو کوئی اچھا کام کرے اس کی تعریف کریں اور غلط کرے تو اس کی مذمت کریں ۔ لہذا یہ بیان سننے کے بعد اب ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ اپنے وعدؤں پر قائم رہنے والے ایک اچھے مسلمان ہیں۔باقی جو کچھ الزام ہیں وہ صرف بہتان ہیں ۔ اور جو کہ ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ بغیر تحقیق کے مخالفین پر لگاتے رہتے ہیں ۔ پھر ہمیں منع بھی کیا گیا ہے کہ توبہ کے بعد کسی تائب کے گناہ اسے یاد نہ دلا ئے جائیں ۔ البتہ ہماری اس حرکت پر حسد میں آکر آپ ہمیں لوٹا کہہ سکتے ہیں۔ مگر یہ علمی طور پر غلط ہے کہ اسم لوٹے سے جو تصور ذہن میں ابھرتا ہے وہ لوٹ پوٹ کا ہے۔ جبکہ لوٹا آسانی سے لڑکتا نہیں ہے۔ لہذا ہم جیسے لوگوں کو بجا ئے لوٹے کہ بدھنا کہا جا ئے تو زیادہ مناسب ہو گا؟کہ بندھناجب چاہے جہاں چاہے اور جس طرف چاہے اپنی مرضی سے لڑسکتا ہے۔ دیکھئے! چونکہ ہمیں حسن ظن رکھنے کا بھی حکم ہے۔ لہذا ہمیں آپ لاہور ماڈل ٹاؤن کا واقعہ یاد نہ دلا ئیں۔ ممکن ہے کہ جیسا وہ کہہ رہے ہیں ان کو خبر ہی نہ ہو اور غلطی سے کسی سپاہی کی انگلی رائفل کے ٹریگر پر پڑ گئی ہو۔ اب رہ گیا یہ سوال کے پیسے کہاں سے آئے ؟ تو بھائی دو محاورے مشعل ِ راہ ہیں ایک تو یہ ہے کہ جو کھانڈ کھوندے گا وہ کھانڈ کھائے گا؟ اس میں اشارہ اس دور کی طرف ہے جب شکر بنا نے کی مشینیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں! اسوقت گنّے سے پہلے راب بنا ئی جاتی تھی پھر اس کے اوپر مسخروں کی طرح دو بانسو پر کھڑے ہو کر جن پر پیڈل لگے ہو تے تھے راب کے ڈھیر پر مزدور کود تے تھے۔ اس عمل سے شیرہ بہتا ہوا نالیوں کے ذریعہ منڈ میں یعنی زمیں دوز تہہ خانے میں چلا جاتا تھا اور شکر دھوپ میں ڈالکر سکھالی جاتی تھی لہذا کام کر نے والوں کو اجازت تھی کہ جب بھوک لگے حسب ِ ضرورت منہ میں ڈال لیا کریں اس وقت مالکان آنکھیں بند کرلیتے تھے اور بچے اگر نا تجرباتی کاری کی بنا پر ٹوکدیں کہ آپ ایسے موقعے پر آنکھ کیوں بند کرلیتے ہیں جب مزدور شکر کھا رہے ہوتے ہیں؟ تو نصیحت کی جاتی تھی کہ بیٹا !جو کھانڈ کھوندتا ہے وہ کھانڈ کھاتا ہے۔ دوسرے آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ دولت آنے جانے والی چیز ہے۔ اس پر بھی اور مسائل کی طرح اسکالر متفق نہیں ہیں کہ کچھ کہتے ہیں کہ اسے دانت سے پکڑے رہو؟ کہ ہم خود بھی دانت سے پکڑتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے ،اس کو خرچ کرکے جنت کماو تاکہ نجات پاؤ۔ اس لیے عمل کرنے والوں کو دونوں آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق راہیں اختیار کریں ۔ آگے ہدایت دینا اور فیصلہ کرنااللہ کا کام ہے کہ وہ کیسے کمائیں اور کہاں خرچ کریں اور ان کی آخری منزل کیا ہو؟ لہذا یہ ہمارے سوچنے کے مسائل  ہی نہیں ہیں ۔   یہ جن کا کام ہے وہ جانیں۔

 

شائع کردہ از Uncategorized

ڈور کو سلجھا رہے ہیں اور سرا ملتا نہیں ؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف متفق ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہورہی ہے۔ اس کی سیدھی سادھی سی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ ختم ہو ان کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ بجائے کھوج لگانے کہ ا گر دنیا انہیں کو یا ان کے کارندوں کو مختلف علاقوں کا چودھری بنا کر بٹھادے ۔ تو پھر انہیں ختم کون کریگا؟ کیونکہ ا ن میں سے جو گروہ جس کے لیے اچھا ہوگا وہ اچھا شدت پسند ہو گا جو اس کے خلاف ہوگا برا شدت پسند ہوگا۔ جبکہ بلا تفریق شدت پسندی شدت پسندی ہے جو کہ اسلام کے قطعی خلاف ہے کیونکہ سلام توازن پر زور دیتا ہے۔ ہادی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ہمیشہ عوام کو سہولیات فراہم کیں اور اپنے ماننے والوں اور عاملوں کو یہ ہی تلقین فرمائی کہ “ آسانیاں فراہم کرنا مشکلات نہیں چونکہ ہر ایک پر یہ بات عیاں ہے لہذا مجھے یہاں مثالیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر کسی اور کا رویہ اس سے مختلف ہے جو حضور (ص) کا راستہ ہے جس پر انہوں (ص) نے  عملی طورچل کر بھی دکھا دیا اورہمیں تاکید بھی کردی کہ “ میراہی راستہ سیدھا راستہ ہے۔ جو اس پر چلے گا وہ فلاح پا جا ئے گا ورنہ گمراہ ہو جائے گا“ حضور (ص) کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر اگر کوئی دوسرا رستہ صحیح بتاتا ہے تو جانتے ہوئے کہ یہ حضور (ص) کا راستہ نہیں اس کااتباع کرنا کسی مومن کے لیے ممکن ہی نہیں ہے؟ پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر مسئلہ ہے کیا؟  جواب  یہ ہے کہ کسی برائی کا کھوج لگانے کےلیے یہ معلوم کرنا  ضروری ہوتا ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جا ئے کہ کس کے پیچھے کون ہے  ؟جبکہ سارے مسلمانوں کو برا کہنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اس سے معصوم مسلمانوں کے خلاف بلا وجہ نفرت بڑھے گی جو کہ اکثریت میں ہیں، دوسرے انصاف کے بھی خلاف ہے جس کے لیے یورپ اور امریکہ مشہور ہیں۔ کیونکہ اسلام نے غیر اسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو حکم دیا ہوا ہے کہ وہ مقامی قوانین کی پابندی کریں اور وہاں کے حکام  کا بھی اتباع کریں (سوائےدین کے)  اس کی پہلی مثال  تاریخ یہ ملتی ہے کہ حضور (ص) نے ان لوگوں کو جن پر ان کے اپنوں نے مکہ معظمہ میں جینا تنگ کردیا، تو انہیں حکم دیا کہ وہ حبشہ (ایتھوپیا) ہجرت کر جائیں اس لیے کے کہ وہاں کا عیسائی بادشاہ جو اس دور میں “ نجاشی “کہلاتا تھا وہ انتہائی منصف حکمراں ہے۔ یہاں ترجیح کیا تھی وہ  “انصاف پسند ہونا“ ہم کتنے انصاف پسند ہیں اور اسلامی ممالک میں انصاف کی کیا حالت ہے اس پر تحقیق آپ پر چھوڑتا ہوں؟ اب میں فتنے کی جڑ کی طرف آتا ہوں کہ اان نفرتوں کا ذمہ دار کون ہے؟  یہ تو سب جانتے ہیں کہ نفرتوں کی عمر تقریبا ایک سوسال ہے، اب  دیکھئے کہ دنیا میں اس سوسال میں ایسی کیا تبدیلیاں ہوئیں تو پتہ چل جا ئے گا کہ ذمہ دار کون ہے۔
وہی جن کے ہاتھوں سے زائرینِ حرم تک کسی دور میں محفوظ نہیں رہے اور ان کے کاروبار کی بقا اسی میں ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہیں ۔ اب دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نفرتوں کے جن کو جو کہ پچھلی کئی صدیوں سے بوتل میں بند تھا نکالا کس نے؟ ایسی دنیا میں وہ کیا تبدیلی کہ ایک صدی میں نفرتیں اپنے عروج پر پہونچ گئیں؟  جبکہ یہ ہی مسلم امہ تھی سب اپنے اور غیروں دونوں کے ساتھ عافیت سے رہ رہے تھے؟ اگر ایسا نہ ہو تا تو مٹھی  بھرمسلمان نصف سے زیادہ دنیا پر حکومت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ دل محبت سے جیتے جاتے ہیں نفرتوں سے نہیں؟ ۔ یہ وہی انصاف کی خواور رواداری تھی کہ وہ صدیوں تک حکومت کرتے رہے۔ کیونکہ وہ مقامی لوگوں کے ہر دکھ درد میں شریک ہو تے تھے ،کیا ہم میں یہ دونوں صفتیں آج بھی باقی ہیں ؟۔ اور کیا فتنہ پرور آج چودھریوں کی کرسی براجمان نہیں ہیں ۔ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ عرب میں ایک نبی (ص) تشریف لے آئے جن کے مبعوث ہونے پر سب متفق اور منتظر تھے  سوائے ان کے جو خود کو قدیمی ہونے کی وجہ سے سب سے بر تر سمجھتے تھے اور بعد میں آکر آباد ہونے والے انہیں کھٹکتے تھے۔ جبکہ آج ان کے  وہی وارث بنے بیٹھے ہیں جبکہ جو منتظر تھے، وہ ،وہ لوگ تھے جو اپنے گھر بار تک چھوڑ آئے تھے۔ مگر جب وہ تشریف لے آئے تو مفا د پرستوں نے سوچاکہ ا گر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو انقلاب آجائے گا غریب ا وپر آجائیں گے ہماری چودھراہٹ ختم ہو جا ئیگی ۔ لہذا ہر چودھری نے اپنی چو دھراہٹ بچانے کے لیے ہاتھ پاوں مار نے شروع کر دیئے؟  انہیں میں ایک خاندان عرب میں بھی تھا ۔اور علاقہ نجد کی سرداری ان کے پاس تھی۔ ان کے لیے بقول ان کے سردار کہ مر جانا پسند تھا مگر انہیں کسی قیمت  پربھی ان نبی(ص) کا اتباع منظور نہیں تھااس لیے کہ وہ (ص) قریش میں سے تھے اور انہیں قریش کی بالا دستی کسی صورت میں قابلِ قبول نہ تھی جبکہ پورے  جبکہ حرم شریف کا مجاور اور متولی ہونے کی وجہ سے قریش کا سب پہلے ہی سے احترام  کرتےتھے۔ لہذا پہلے تو وہ قبیلہ اس پاک ہستی (ص) کی مخالفت میں زمین اور آسمان ایک کیے رہا۔ جب سارا عرب سرنگوں ہو گیا تو بھی وہ نہ مانا ۔ مگر جب وہ مجبور ہوگیا تو اس نے مجبوراً اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا۔ پھر اسے اسلام میں اصلاح کی سوجھی اور فقہ حنبلیہ کی بدعت کی تطہیر کے نام پر اسے ہر چیز میں بدعت نظر آنے لگی ،؟کیونکہ وہ اس راز سے واقف تھا کہ جو جن کبھی یہ ہی نعرہ لیکر خارجیوں کی شکل میں ا سلام کی ابتدائی صدی ابھرا تھا اور پھر صدیوں تک کسی کے قابو میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ ہلاکوں نے پکڑ کر اسے بوتل میں بند کردیا تھا اسے اپنی توحید پرستی جتا کراس کو قید سے چھڑالیا جا ئے جو کہ بروقت ِ ضرورت کام میں لاکر اقتدار تک پہونچنے کا زینہ بنے؟
اسی دوران ایک ملک جس کی سلطنت اتنی بڑی تھی کہ اس میں سورج کبھی غروب نہیں ہو تا تھا۔ اسے یہ بات پسند نہیں آئی کہ مسلمانوں کا نام نہاد خلٰیفہ ہر جنگ میں جرمنی کا حلیف بنے ؟ اس نے اس سلطنت کو ختم کر نے کے لیے۔ پوری دنیا میں ا پنے لیے کارندے تلاش کر نا شروع کیے، لیکن عرب میں کوئی اور نہیں ملا سوائے تین ہاشمی برادران اور ایک قبیلے  کے۔ انہوں نے ان تینوں برادران کو عراق،ا ردن اور شام عطا فرمادئیے، جس میں سے ایک کو تو شام والوں نے گھسنے ہی نہیں دیا۔ دوسرے کو عراق والوں نے کچھ عرصہ بعد اٹھا پھینکا۔ تیسر ان میں اردن کی شکل میں بچا ہوا ۔ چوتھا یہ قبیلہ تھا جس کے حصہ میں عرب کا وہ علاقہ آیا جوکہ مقامات مقدسہ ہو نے کی وجہ سے بہت اہم تھا ۔ وہاں وہ قدم جمانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ایک نئے فقہ کی بنا ڈالی جس کے مطابق سوا ئے ان کے سب بدعتی اور سارے بدعتی جہنمی تھے۔ ان کے نزدیک بد عت کی اپنی تعریف تھی کہ وہ  یہ کہتے تھے۔ جو کوئی رسم یا چیز بھی حضور (ص) کے زمانے میں نہیں تھی اگر بعد میں جو کوئی یجاد کریگا تو وہ بھی بدعتی ہے کیونکہ عربی میں بد عت کے لغوی معنی یہ ہی ہیں؟ مگر اسلامی اصطلا ح میں یہ معنی کبھی نہیں رہے۔ بلکہ سوائے اس چھوٹے سے گروہ سب اس پر متفق ہیں کہ حضور  (ص)کے مصدقہ اور مروجہ اسوہ حسنہ (ص) کے خلاف کوئی نئی بات ایجاد کی جا ئے تو وہ بد عت ہے۔اس کے ذریعہ ان کی کوشش یہ تھی کہ وہ تمام دوسرے فقوں کو ختم کر کے اپنے فقہ کو پو ری دنیا میں رواج دیں تو ان کی حیثیت مرکزی ہونے کی وجہ سے وہ پورے دنیا کے مسلمانوں کی قیادت سنبھال لیں گے اور اس طرح ان کی با دشاہی کو دوام حاصل ہو جا ئے گا۔ انہوں نے ہر جگہ  پیسے خرچ کرکےاپنے مدرسے بنا ئے اور مساجد کے لیے قبضہ گروپ بنا یا ۔ لیکن وہ اپنے کر دار کو نہیں تبدیل کر سکے جو کہ ایک مسلمان خلیفہ راشد کا ہونا چاہیئے لہذا وہ ویسی قبولیت تو حاصل نہیں کر سکے جیسی اسلامی خلفاءکو حاصل تھی۔ مگر قدرت نے انہیں ایک اور موقعہ دیدیا کہ اسی دوران دنیاکی دو سپر پاور سرد جنگ سے ما ئل بہ گرمی تلوار ہو گئیں۔ اس قبیلہ نے اپنے تمام ماننے والے اداروں کو دوسری طاقت کے خلاف استعمال کیا اور دوسرے فریق کو افغانستان سے پسپا ہو نا پڑا حتٰی کہ وہ اپنی سپر پاور ہو نے کی پوزیش کو بھی پوری طرح نبھانے کےقابل نہیں رہا۔ اب کیا ہو رہا ہے۔ آپ خود سمجھ جا ئیے کہ اس سے سب واقف ہیں کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید وہ خود کو دہرانے جا رہی آگے کیاہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے کیونکہ قر آن کی ایک آیت ہے کہ “تم دیکھتے نہیں کہ ہم دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ ورنہ توز مین پر عبادت گاہیں بھی باقی نہ رہیں ؟

شائع کردہ از Uncategorized

کٹھ پتلیوں سے ریموٹ کنٹرول تک ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

ایک دور تھا کہ یہ محاورہ عام تھا “  اس سے بات کیا کریں وہ تو کٹھ پتلی ہے “ کٹھپتلی کا پسَ منظر یہ تھا کہ یہ ایک قسم کا تماشہ تھا جس کے لیے نہ اسٹیج کی ضرورت ہوتی تھی نہ بجلی کے کنکش کی، اگر ہوتی تو پھر یہ محفل لوڈ شیڈینگ کی وجہ سے  کبھی منعقد ہی نہ ہو پاتی اچھا تھا کہ اس دور میں بجلی نہیں تھیں۔ جبکہ اوقات کار کی  پابندی تھی رات اس زمانے میں آرام کے لیے اور دن کام کرنے کے لیے ہوتا تھا اسی میں غریب لوگ چند لمحے تفریح کے لیے نکال لیتے تھے۔۔ اگر اس کے لیے کچھ چاہیے ہوتا تو ایک چار پائی، جس پر چادر پڑی ہوتی تھی اس کی آڑ میں بیٹھ کر ایک شخص (جیسے اس کھیل کی زبان میں بالم کہتے تھے) تاروں میں بندھی ہوئی پتلیوں کوگھماتا پھراتا تھا اور وہ ناچتی تھیں ا ور تماش بین دیکھتے کہ وہ ناچ بھی ہیں اور گا بھی رہی ہیں ، اس کے بالم کی بیگم صاحبہ اس کے ساتھ بیٹھ کر آوازیں نکالتی رہتی تھیں۔ وہ نچاتا ضرورتھا مگروہ کاٹھ کی پتلیا ں بھی تما شائیوں کے سامنے پورے کپڑے پہن کر ناچتی تھیں ، آج کی طرح نہیں کہ سب چلتا ہے؟ پردے کی وجہ یہ تھی ۔ کہ لوگ دن و رات اپنی پردہ پوشی کے لیے اپنے رب سے، سب سے زیادہ دعا مانگا کرتے تھے۔ چونکہ رب  کی ایک صفت ستار بھی ہے لہذا وہ اپنی کریمی سے پردہ چاہنے والوں کی پردہ پوشی کر تا رہتا تھا۔کیونکہ کہ وہ خو بھی پردے میں رہتا ہے اوروں کو بھی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے۔ نیز دعائیں مانگنے والے اسے سب سے زیادہ پسند ہیں۔ بلکہ اس نے یہاں تک کہدیا کہ جو نہ مانگے وہ میر ا منکر ہے۔ اس کاایک فائیدہ یہ تھا کہ نہ کوئی دوسرے کے پردے کے پیچھے جھانکنا پسند نہیں کرتا تھا، نہ ہی برائی کھلے عام کرتا تھا۔ اگر لوگ برائی کرتے بھی تھے تو چھپ کر عموماً راجدھانیوں یا دار الحکومت میں جاکر۔سفر ذرا مشکل تھا اسی لیے لوگ سفر مشکل سے ہی کتے تھاے۔دوسرے سفر میں لٹ جانے کا خوف بھی ہوتا لہذا دار الحکومت یا راجدھانی کی طرف لوگ کم ہی جاتے ہے۔ میڈیا تھی نہیں کہ لوگوں کے بیڈ روموں میں جھانک کر دیکھتی۔ اس لیے سب کے پردے ڈھکے رہتے تھے۔ا س وقت کٹھ پتلی ہونا یا کہلانا گالی سمجھا جاتا تھا ۔ لہذا نہ ہی کوئی کٹھ پتلی بننا پسند کرتا تھا اور نہ کہلانا ۔ اس کھیل ہم نے بچپن میں دیکھا تھا؟ تاریخ ہمیں اس وقت ملا جبکہ1947 میں ہندوستان بھارت بن گیا ۔ اور ایک شاعر نے کانگریس کے طرز حکومت پھبتی کسی اور ہندوستانی پارلیمان کی رونمائی اپنے اشعار میں اس طرح کرا ئی کہ “ ڈور بالم نے ہلائی سر ہلا گردن ہلی ۔ پتلیوں کی راس لیلا نام کونسل ہال ہے“ اس وقت وہاں کے سیاسی رہنما تو یہ سن کر شرما گئے اور اصلاح  کرلی کہ اسوقت تک وہں شرمانے کا رواج تھا۔ مگر ہمسایہ اسے دیکھ کر نقل کر نے لگے۔ جبکہ یہ محاورہ سب کا سنا ہوا تھا کہ ً نقل میں عقل نہیں ہوتی ہے“ہم  اس میدان اتنے بڑھے کہ یہ تک بھول گئے کہ ہمارا اپنا کلچر ہے ،اپنا آئین ہے اور اپنا دین ہے جس کے تحت ہماری زندگی کو چلنا ہے۔ ا گر یہ مجبوری نہ ہوتی تو ہم الگ ملک بنا تے ہی کیوں؟ اب آپ کہیں گے کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اس میں سب نے اس ملک کی نقل کی اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے رہنما جب بھی وہاں جائیں! تو ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ ہم ایک ہیں ہمارا کلچر ہے یہ دیوار دشمنوں نے ہمارے درمیان کھنچ دی جو ستر سال پہلے نہ تھی۔ لیکن جب پیری کھوج لگانے ہوئے چلتے ہیں تو اس کے پیرے انہیں سے جاکر ملتے جو کہتے ہوئے کہ یہ لکیریں ہم نے کھینچیں تم ہی نے کھینچیں ہیں ، نہ مانیں تو ہمارے گانے سن لیں ڈرامے دیکھ لیں۔ دونوں میں کوئی فرق ہے؟ اور نقل کا تحریری ثبوت مانگیں؟ تو آرکائی میں جاکراخباروں میں پڑھ لیجئے۔ کہ لاہور میں اسی خاندان کی حکومت جس نے؟ ایک پتلی گھر بڑے خرچے سے تعمیر کیا تھا ۔ کہ ا س آرٹ کو پھر سے زندہ کیا جا ئے ۔ پتہ نہیں وہ ابھی تک زندہ بھی ہے یانہیں یا صرف تخختی کی رونمئی حد تک تھا ،مگر ایک بات ضرور ملے گی کہ اب وہاں کسی کو کٹھ پتلی بننے اور کہلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس کے بڑے فائدے ہیں؟ اس لیے وہ ا ب فخر سے کہتا ہے کہ میں فلاں کی کٹھ پتلی ہوں میں اسے بلا لوںگا اگر تم نے مجھے چھیڑاتو اور چھیڑ نے والا اس خرکت سے ہٹ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک پڑوسی کا حشر دیکھ چکا ہے کہ جہاں جمہوریت کے چکر میں آزادی بھی گئی۔
بالم اب بھی ہے، مگر تاروں کے بجائے بے تاری ہے؟ جیسے “وائر لیس “ کہتے ہیں۔ اگر اس لفظ کا پوسٹ مارٹم کر یں توآپ دیکھیں گے کہ “ وائر “ کے معنی ہیں تار ۔ اور “ لیس “کے معنی ہیں بغیر تار کے ۔ ان دونوں کو ملا کر ہی یہ جملہ مکمل ہوتا ہے۔ یعنی وہ سلسلہ جو بغیر تار کے کسی سے جڑا ہواہے۔ اب تو وائرلیس کا لفظ بھی وقت کے ساتھ متروک ہو گیا ہے۔ وائرلیس شروع میں تار بھیجنے کے لیے استعمال ہو تا تھا ۔ اب اس جگہ ریموٹ کنٹرول نے لے لی ہے۔ یہ انتہائی جدید اضافہ ہے لغت میں، کہ ریموٹ تھوڑے فاصلہ کو بھی کہا جا سکتا ہے ۔ اور ایک سمند پار یا سات سمندر پار جگہ کو بھی اور سرحد پار کو بھی اور “بالم “موقع پر چارپائی کے پیچھے موجودہونے کے بجائے کہیں بھی ہو سکتا ہے۔اور اس کے حکم پر“ بم “ کہیں بھی پھٹ سکتا ہے۔ سرحدیں مقدس ہیں اور انہیں پھلانگا بہت ہی معیوب بات ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ناقابل معافی لکھاہوا ہے ۔ مگر اب چاروں طرف اتنی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں کہ یہ فعل کثرت استعمال کی وجہ اب برائی میں شامل نہیں رہا، جیسے اردو زبان میں غلط العام فصیھم۔اب کوئی بھی کسی ملک میں آزادی دلانے کے نام پر مداخلت کر سکتا ہے۔ گوکہ کوئی مانے نہ مانے مگر دنیا جانتی ہے کہ کون کس کی کٹھ پتلی ہے ریموٹ کس کے پاس ہے ۔اور وہ ملک جب ضروری سمجھے  تو45 سال کے بعد بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے فلاں ملک کو آزادی دلائی حالانکہ نہ وہ پہلے آزاد تھا نہ اب آزاد ہے۔ چونکہ اب قتل بھی معیوب نہیں رہاہے۔ لہذا اقتدار مضبوط بنا نے، یا نو ایجاد طرز حکمرانی کو مضبوط بنا نے کے لیے کچھ لا شیں گرادی جا ئیں تو کوئی بات نہیں ۔ اس کے بارے میں ایک شاعر پہلے ہی ایک شعر کہہ گئے ہیں کہ “ جس کو ہو اپنی جاں عزیز میری گلی آئے کیوں“ اب جدھر جائیے آپکو ریموٹ طرزِ حکمرانی نظر آئے گا۔ اور چاروں طرف لوگ شاکی نظر آئیں گے۔ یہ کونسا تماشہ ہے کہ جنگ بندی ہے بھی اور نہیں بھی، جب چاہا گولہ باری شروع ہوگئی جب ریموٹ کا بٹن دبا بند ہوگئی جیسے کبھی ہوئی ہی نہیں رہی تھی ؟
لوگ شہریت کہیں کی رکھتے ہیں اور کماکر دولت کہیں رکھتے ہیں۔ جبکہ حکومت کسی اور ملک پر کرتے ہیں۔  پھراپنے اکاونٹ میں رقم بھی ریموٹ سے بھیجتے ہیں ۔ اب تک تو اسکائی ٹرینیں بغیر ڈرائیور کے چل رہی تھیں۔ ڈرون ہوائی جہاز بغیر پائلٹ کے بمباری کر رہے تھے۔ اب ملکی حکومتیں ریموٹ سے چل رہی ہیں ۔ اور کاریں اور بسین بھی ایسی آنے والی ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے چلیں گی ۔ انسان کی جگہ روبوٹ لے چکے ہیں ۔جو باقی آسامیاں بچی ہیں وہ بھی روبوٹ سے پر ہو جائیں گے۔ باقی صرف کمپوٹر انڈسٹریز رہ جائیگی اس میں کتنے انسان کھپیں گے ؟ سوچیئے جب بے روز گاری حد سے بڑھ جا ئے گی اور بے روزگاری کی بنا پر سب ڈاکو بن جا ئیں گے۔ تو ان کو بھتا کون دے گا کہاں سے ملے گا۔ اور جب نہیں ملے گا کو توبھتہ خور تھوک کے حساب سے قتل کرنے لگیں؟ ابھی تک تو ترقی یافتہ ملکوں میں عدل باقی تھا جس کی بنا پر یورپ اورا س قبیل کے دوسرے ممالک جنت تھے جہاں حکوتیں ووٹوں کے ذریعہ بدل جاتی تھیں۔ جب انہیں ریموٹ کنٹرو کریگا جیسا امریکی الیکشن میں الزام ہے۔ تو پھر یہاں بھی ظلم کا بول  با لا ہو جائے گا اگریہ ہی عالم سب جگہ ہو گیا ہے کہ کوئی کہیں محفوظ نہیں ہے، تو جو بچا ہے وہ بھی آئندہ برے سے برا ہو تا جا ئے گا، یہاں بھی جب بیروزگاری ہو گی انہیں بھی روز گار نہیں ملے گا تو یہ بھی کہاں تک برداشت کر سکیں گے؟ پھر یہ بھی ایسا ہی کرنے لیں گے جیسے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک کر رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے دن گنے جا چکے اور قیامت کہیں قریب ہی ہے جو چپکے سے آدبوچے گی۔ پھر اس آگے اب وہ سوچیں جنہوں نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ اس کا جواب نہ کسی نے سوچا ہے نہ ہی کسی کے پاس ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized

جنید جمشید مرحوم ا پنامشن ادھورا چھوڑگئے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

حسب معمول اُس صبح اپنے معمولات سے فارغ جب کمپیوٹر پر بیٹھا تو پہلی خبر یہ ملی کہ پی آئی اے کا طیارہ حویلیاں کے قریب حادثہ کا شکار ہو گیااوراس میں مشہور نعت گو اور نعت خواں جنید جمشید اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جن میں ان کے علاوہ 40 سے زیادہ مرد اور خواتین تھیں اور ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں۔ جبکہ حدیث ہے کہ “ سب سے دانا وہ ہے جو ہمیشہ موت کو یاد رکھے اور وہ ہر وقت اس کے لیئے تیاری کرتا رہے اسی حدیث میں آگے چل خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ عزت پا ئے گا “ مگر اس کے باوجودا س حقیقت کو سب بھول جاتے ہیں ۔ کیونکہ شیطان اسی کام پر لگا ہوا ہے کہ ہم یہاں سے  وہاں کے لیے  کچھ نہ کما سکیں ؟جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اگر تم سچے ہوتوخود کو موت کے منہ سے بچا کر دکھاؤ؟ ایک حدیث میں اس پر بھی خبر دار کیا گیا ہے کہ “ بندہ کہتا ہے کہ یہ میرا ہے وہ میرا ہے؟مگر اس کا وہ ہے جو اس نے اپنے لیے آگے بھیج رکھا ہے۔ جبکہ ہمیں قرآن کی سورہ حشر میں یہ طریقہ بھی بتایا ہے کہ روزانہ خود احتسابی کرکے یہ دیکھ لیا کرو ،کہ تم نے وہاں کے لیے آج کیا بھیجا ہے؟ یعنی اس پر با خبر رہوکہ تمہاری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا برائیوں کا؟ جب کہ اس کی مہربانیوں کا یہ عالم ہے۔کہ انسان صرف نیکی سوچ لے کہ کرنا ہے اور کسی مجبوری کی وجہ سے اپنی سوچ پوری نہ بھی کرسکے ،تو اللہ تعالیٰ اس کو کم از کم دس نیکیاں تو عطافر مات ہی ہے! مگر خلوص کے اعتبار سے صلہ لامحدود بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ گناہ کے سلسلہ میں سوچ پر کوئی پکڑ نہیں ہے؟تاوقتیکہ اس پر عمل نہ کرلے اورعملن نہ کر بیٹھے۔ پھر بھی برائیاں لکھنے واالا فرشتہ نیکی والے فرشتہ کی ہدایت کا منتظر رہتا ہے کہ شاید بندہ توبہ کرلے؟ جب وہ اس کے بعد بھی توبہ نہیں کرتا، برائی پرا ڑجاتا ہے تب کہیں جاکر وہ مرحلہ آتا ہے کہ برا ئی لکھنے والا فرشتہ ایک برائی لکھ لے۔ پھر بھی رحمت دیکھئے کہ جب بھی وہ صدق دل سے توبہ کرلے تو پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ بشرط ِ کہ ا س نے کسی کے حقوق نہ مارے ہوں۔یعنی کسی کے ساتھ برائی نہ کی ہو؟ کیونکہ وہ وہی معاف کرے گا۔
میری نہ تو جنید جمشید (شہید)سے بات ہوئی ،نہ ملاقاتیں رہیں اور نہ ہی جان پہچان تھی۔ دلچسپی جب پیدا ہوئی جب انہوں نے حضرت مولانا جمیل صاحب سے متاثر ہوکر اپنی زندگی کو تبدیل کیا۔ یہ کیسے ممکن ہوا ۔ وہ مولانا جمیل صاحب کی زبانی سنیئے جو انہوں نے ٹی وی پر بتایا ۔ کہ بیس سال سے مولانا ان کو جانتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔ مولانا کراچی آرہے تھے کہ انہوں نے ان کے یہاں آنے اورا نکے پاس ٹھہرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ان کے یہاں کھانا کھانے کا بھی؟ انہیں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی یہ فرما رہے ہیں! مولانا نے جب وجہ پوچھی تو مرحوم نے بتا یا کہ میرے ہاں کھانا کھانا مذہبی حلقہ پسند نہیں کر تا۔مختصر یہ کہ ان کے ہاں کا قیام اور طعام جنید جمشید میں اس عظیم تبدیلی کا باعث ہوا۔ اگر مولانا بھی اسی راہ پرگا مزن ہوتے جس پر مذہبی حلقے چل رہے ہیں۔ توا نہیں جنید جمشیدشہید کی شکل میں ایک اچھا کارکن کبھی نہیں ملتا (میں نےا نہیں شہید اس لیے لکھا ہے کہ وہ چترال اس کام کے لیے گئے ہوئے تھے جو حکم ِ قرآنی ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چا ہیئے جو برائیوں سے روکے اور اچھائیوں کی تلقین کرے)؟ کیونکہ یہ ہی نبی (ص) کا راستہ تھااور یہ ہی اولیاءاللہ کاراستہ ہے کہ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ؟ اسلیے کہ نفرت کرکے آپ کسی کو اپنے قریب نہیں لا سکتے؟ مجھے مولانا بھی اسی لیے اچھے لگتے ہیں وہ بھی محبت کی بات کرتے ہیں نفرت کی نہیں۔ چونکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے سے خوش گمانی کا حکم ہے اور وہ اچھا کام کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں اتحاد کے لیے کوشاں ہیں، اسی لیے میں ا نہیں پسند کرتاہوں۔ دنیا میں حق پسندوں کے لیے مشکلات ،اور مفاد پسندوں کے لیے آسانیاں رہی ہیں ۔ جو لوگ اس میدان میں کام رہے ہیں انکے لیے کتنی مشکلات ہیں ، وہی جانتے ہیں، ہمارے میرِ کارواں اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ھمدانی کے دل سے پوچھیے؟ جب سے ججنید مرھوم نے حضرت مولانا جمیل صا سے متاثر ہونے کے بعد وہی کام شروع کیا، جوبہت سے لوگ دنیا میں خاموشی سے کر رہے ہیں۔ تو میری نظر میں عظمت پاگئے۔ حالانکہ وہ میرے سب سے چھوٹے پیٹے کی عمر کے تھے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ انہوں نے کیا کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمیں کی طرف پیش رفت، ان کی آمد سے جو سب سے بڑا کام ہوا وہ یہ تھا کہ مسلمانوںکے دو بڑے فرقے ایک دوسرے کے قریب آنے لگے تھے ۔ تبدیلی یوں رونما ہوئی کہ ان سے پہلے جو لوگ نعت کے خلاف تھے، وہ بھی ان کی وجہ سے اب محافل ِنعت کا اہتمام کرنے لگے تھے۔ لیکن بہت سے لوگوں نے اس تبدیلی کے بعد بھی انہیں معاف نہیں کیا، اس پر سوشیل میڈیا گواہ ہے؟
وہ کیاتھے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے جبکہ حضرت عبد القادر جیلانی (رح) نے فرمایا کہ ہر وقت دنیا میں پینتیس ہزار ولی اللہ رہتے ہیں۔ اور اللہ جس سے جو چاہےکام لیتا ہے اور  یہ خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ وہ ولی ہے ۔ ایسے میں کوئی کسی کے بارے میں کیا کہہ سکتا بلکہ وہ اپنے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا ہے کہ وہ خود کیاہے۔ موجودہ دور میں ولایت کا تصور یہ ہے کہ بظاہر متقی دکھائے دے ؟ جبکہ قر آن اُن سب کو اللہ کا ولی کہتا ہے جوکہ سچے مومن ہو ں اور لا الہ کہنے کے بعد خدا کے کڑے کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہو؟اور حدیث میں پہچان یہ ہے جس کو دیکھ کر خدا یادآجا ئے،تیسری پہچان یہ بتائی کے ا للہ کے لیے ایک مومن دوسرے مومن سے محبت کرتا ہو۔ جبکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے بارے میں خوش گمانی سے کام لیں کیونکہ بعض گمان کفر تک پہنچا دیتے ہیں ۔ اور ولی کا ہمیں یہ معیار بتادیا ہے کہ کوئی آسمان پر اڑ رہا ہو پانی پر چل رہا ہو اگر اس کا ایک فعل بھی خلاف سنت ہو تو وہ شیطان ہے ولی نہیں ۔ اس روشنی میں آئیے اب ان کے تائب ہونے کے بعد ان کی زندگی کو تولیں؟ ۔ تو میں یہ بات بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں؟ کہ ان کی زندگی بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی کچھ کرنا چاہے تو اس کو سراہا نہیں جاتا بلکہ ایک ، ایک غلطی پکڑی جاتی ہے اگر بھولے سے بھی غلطی ہو جائے تو اس کے سارے کرے دھرے پر پانی پھیر دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہاں پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ بندہ ہے کس گروپ کا ؟ اگر وہ اپنے گروپ، صوبہ، ذا ت یا برادری کا نہیں ہے تو کتنا ہی ا چھا ہو کچھ بھی کر رہا ہو؟ وہ مخالف گروپ کے نکتہ چینوں کی نگاہ سے بچ نہیں سکتا؟ ۔ جبکہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرامی یہ ہے کہ “ صرف میرے راستہ پر چلو میرا راستہ سراط مستقیم ہے ا س کے دونوں طرف لاتعداد دروازے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں ان کو ا ٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤگے۔ ان کے ساتھیوں سے ان کے انتقا ل کے بعد جو ہم نے سنا اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ اپنی زندگی میں حضور (ص) کا اتباع کرتے تھے۔ ثبوت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی دوست آکر بتا تا کہ آپ کو فلاں شخص برا بھلا کہہ رہا تھا، تو کہتے، چلو میں اس سے معافی مانگ لوں؟ وہ کہتے کہ وہ تو آپ سے ملنے کو بھی تیار نہیں ہے تو مجبوراً کہتے کہ یہ اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا۔یہ ان کا ویسا صبر تھا جوکہ حضور (ص) کی پاکیزہ صحبت کی بناپر صحابہ کرام (رض) میں عام پایا جاتا تھا، جو اب مسلمانوں میں ناپید ہے۔ یہ اس آیت کا عملی مظاہرہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی (ص) کومخاطب کرکے فرما کہ تم دشمنوں کے اچھا بر تاؤ کرکے دیکھو ، تمہارا جانی دشمن دوست بن جائے گا، مگر یہ بڑی ہمت کا کام ہے اورجواں مرد ہی کرتے ہیں۔ اب ہم دوسری صفت لیتے ہیں ۔ وہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ دیکھو کسی کی بے عزتی مت کرنا ہر ایک کا “اکرام کرو “ یہ صفت ہمیں حضور(ص) کے اسوہ حسنہ میں بدرجہ اتم نظر آتی ہے یہ انہوں نےو ہیں سے لی۔ وہ (ص) ہر چھوٹے بڑے کا “اکرام “ فرماتے تھے ۔ حضور (ص) بڑوں سے فرماتے تھے کہ اپنے سے چھوٹوں کی عزت کرو ،اس لیے کہ ان کے گناہ کم ہیں تمہاری عمر زیادہ ہے اس لیے تمہارے گناہ زیادہ ہیں ،کون جانے کے اللہ کی نگاہ میں کس کا مقام کیا ہے اس لیے خود کو حقیر سمجھو؟یہ بھی فرمادیا کہ یہ تمہارا کام نہیں کہ کسی کلمہ گو کو برا بھلا کہو یااسے کافر بنا ؤ۔ اور چھوٹوں سے فرماتے تھے کہ تم بڑوں کی عزت کرو ،اس لیے کہ ان کی عمر زیادہ ہے وہ تم سے نیکیوں میں زیادہ ہیں ۔ اسی طرح ماں باپ سے فرماتے تھے کہ تم بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ “نیز سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں ااپنے گھر واالوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں“ جبکہ بچوں سے فرماتے تھے کہ تم اپنے والدین کے ساتھ ادب سے پیش آو اور جب بات کرو تو تمارے چہرے پر بشا شت نمایاں ہونا چاہیے ۔ ایک حدیث میں یہاں تک فرمایا کہ اگر تم ان کی طرف ایک دفعہ مسکراکر دیکھو گے تو پچاس حج ِ مبرور کا ثواب ملے گا ۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا !گر ہم دن میں پچاس دفعہ مسکرا کر دیکھیں تو بھی پچاس دفعہ اتنا ہی ثواب ملے گا! ارشاد ہوا نعم( ہاں)۔ حضور (ص) اپنے لیے انکساری پسند فرماتے تھے۔ اپنی تعظیم کے لیے لوگوں کو منع فرماتے سلام میں ہمیشہ پہل فرماتے تھے۔ جب محفل میں تشریف لاتے جہا ں جگہ ملتی وہاں تشریف فرما ہو جاتے تھے ،یہ اور بات تھی کہ صحابہ کرام اپنا رخ ان (ص)  کی طرف کرلیتے۔ جبکہ ہما را عالم یہ ہے کہ ہم منتظر رہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پہلے سلام کرے ، اور کسی محفل میں جا ئیں پہلے تو جانکر تاخیر کریں، پھر صفوں کوپھلانگتے ہو ئے اگلی صفوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ا گر نشت کرسیوں پر ہے تو آگے بڑھتے چلے جا تے ہیں چاہیں کاروائی شروع ہوچکی ہو؟اسوقت منتظمین کی پریشانی دیکھنے کے قابل ہو تی ہے۔ کہ“ کس کو اس کی جگہ سے اٹھائیں اور آنے والے صاحب کوبٹھائیں“ جبکہ اس حرکت سے حضور (ص) نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ مختصر یہ کہ انکساری کے بجائے، ہمارے ہاں تکبر کی انتہا ہوتی۔ پھر دوسروں کے عیب ٹٹولتے ہیں مگر اپنی آنکھوں کے شہتیر نہیں نظر آتے۔ ایسے ماحول میں مرحوم کے دوست کہہ رہے کہ ہم عہد کریں کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھا ئیں گے جس سےکہ مزیدثابت ہوتا ہے کہ وہ ا سوہ حسنہ پر قائم تھے کہ اپنی ہی نہیں اپنے ساتھیوں کی زندگی بھی س حد متاثر کی وہ ایسی باتیں کر رہےہیں؟ ۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب فرما ئے کیونکہ یہ کام کہنے میں بڑا آسان ہے مگر کرنے میں بہت مشکل ہے؟ ،اس کام میں پتھر وں کی بارش ہوتی ہے پھولوں کی نہیں، بہت سے حاسد پیدا ہوجاتے ہیں ان لوگوں کی صرف وہی چند نفوس دلوں سے عزت کرتے ہیں جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ہدایت دینا چا ہے ۔ اللہ ہمیں بصیرت دے کہ بجا ئے اوروں کے عیب ٹٹولنے کہ ہم اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرتے رہیں۔ بد گمانی غیبت بغض و حسد ، گروپ بندی ، فرقہ بندی سے بلند ہوکر سوچنے کاظرف عطا فرما ئے۔ آمین۔

شائع کردہ از Uncategorized