آہ بیچاری مسلم خواتین۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

یہاں آکر زیادہ تر پاکستانی مہذب ہو جاتے ہیں ، مثلا ً سوائے مساجد کے، غلط پارکنگ کہیں نہیں کرتے ، کیونکہ کار اٹھ جاتی ہے۔ جرمانہ ہو جاتا ہے، ٹکٹ مل جاتا ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ اسی شوق کو وہ مسجد میں پورا کرلیتے ہیں۔ اور وہاں کی انتظامیہ انہیں ٹوکے تو یہ کہہ چپ کرادیتے ہیں کیا مسجد تیرے باپ کی ہے؟ اسکی بھی پابندی کرتے ہیں کہ یہاں کسی کی نجی زندگی میں بشمول ِ حکومت کوئی مداخلت نہیں کرتا لہذا تجسس نام کی کوئی چیز نہیں ہے، مگر پاکستانی یہ شوق مسلم خواتین کی تذلیل کرکے پورا کرلیتے ہیں ۔ نہ صرف ان کی ٹوہ میں رہتے ہیں بلکہ ان کی کہانیاں گڑھتے ہیں وہ بیچاری اپنی عزت کی خاطرچپ رہتی ہیں بعض تو مستقل بلیک میل ہوتی رہتی ہیں اور کوئی نہیں سوچتا کہ اگر یہ ہی کچھ ہماری کسی رشتہ دار کے ساتھ ہو تو اسے کتنا برا لگے لگا۔ ایسے لوگ ہمیشہ سے پائے جاتے ہیں۔جس کاثبوت مندرجہ ذیل حدیث ہے۔
“ ایک شخص حضور (ص) کے دربار میں حاضر ہوا اور اس نے ایک عجیب درخواست کی کہ مجھے زنا کی اجازت دی جائے ؟ صحابہ کرام اس کی یہ جراءت دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئے۔ لیکن رحمت عالم (ص) کے چہرے پر شکن تک نہیں آئی ،انہوں (ص) نے اسے اپنے اور قریب بلا نے کے بعد کہ کہیں کوئی مشتعل ہو کر اسکی گردن نہ اڑادے ۔ پھر اس سے پوچھا کہ یہ ہی فعل کوئی اور تمہاری ماں کے ساتھ کرے تو تمہیں اچھا لگے گا؟تو اس نے کہا کہ میں اس کا سر اڑادونگا، پھر ایک کر کے تمام رشتے گنا ڈالے اور جب اس نے اس کے جواب نفی میں دیئے تو اس سے فرما یاکہ جب تم اپنی کسی رشتہ دار کے ساتھ بھی کسی کی یہ حرکت برداشت نہیں کرسکتے تو تم جس کے ساتھ بھی یہ حرکت کروگے وہ بھی تو کسی کی ماں کسی کی بہن کسی کی پھوپھی وغیرہ ہوگی وہ لاجواب ہو گیا اور تائب ہو کر چلا گیا؟
اس میں بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور صبر کا دامن بات بات پر ہاتھ سے چھوڑدیتے ہیں ، جبکہ ان کو حضو ر (ص) کی اتباع میں اسی کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ،ان کے ارشادات کے مطابق مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ “ وہ جو اپنے لیے چاہے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہے، کیا کوئی مسلمان پسند کریگا کہ اسکی پگڑی اچھالی جائے ہر ایک کا جواب نفی میں ہوگا؟ اسی طرح حضور (ص) نے حج الودا کے موقعہ پر فرمایا کہ “ جس طرح آج کا دن اوریہ مقام حرام ہے اسی طرح ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا خون ،جان و مال عزت اور آبرو حرام ہے۔ اور کسی پر تہمت لگانے کے لیے قرآن نے یہ شرط مقرر کردی کہ چار چشم دید گواہ الزام لگانے والے کے پاس، ہوں اسی صورت میں الزام لگانے والا سچاثابت ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ دو جانوں کا معاملہ ہے ،اگر کہیں اسلامی حکومت ہو ملزمہ یا ملزم شادی شدہ ہوں تو اس جرم کی سزا سنگساری ہے۔ بصورت دیگر اگر وہ چار چشم دید گواہ فراہم نہ کر سکا تو پھر اس کے اسی کوڑے لگائے جائیں اور اسکو کاذب قرار دیدیا جائے پھر تا قیامت اس کی کوئی شہادت نہ قبول کی جا ئے؟
جبکہ لوگ سب کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کون کہاں جارہا خصوصاًخواتین کدھر جارہی ہیں ۔ ہمارا معاشرہ یہ ہے کہ کبھی تفریحا ً کبھی انتقاما ً ہر خاتون کو جو گھر سے کسی ضرورت سے باہر نکلے توچاہیں اس کے ساتھ اسکا بھائی یا باپ بھی ہو تو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، اس میں بوڑھوں کو بھی نہیں بخشتے؟ اکثریت کسی بھی خاتون سے صرف ایک ہی رشتہ سے جانتی ہے ، وہ ہے جنسی رشتہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا رشتہ لوگ جانتے ہی نہیں ہیں ۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ اپنے بھائی یا بہن کے بارے میں خوش گمانی اختیار کرو بد گمانی سے بچو! لیکن ہم بد گمان پہلے ہو جاتے ہیں جبکہ خوش گمانی ہمیں چھوکر بھی نہیں گزرتی ، ہمیں قرآن میں حکم دیا گیا کہ “ خواتین اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں “ مگر ہمارے سامنے سے کوئی خاتون گزر جائے تو اسطرح گھور تے ہیں جیسے کوئی ندیدی لومڑی انگور کو تاکتی ہے؟ مردوں کی اکثریت کے عقیدے کے مطابق یہ احکامات صرف اور صرف صنف نازک کے لیے ہیں، صنف قوی کے لیے نہیں؟  جب کہ ہماری یہ خوبیاں آج دوسری قوموں نے اپنا کر گھورنا اپنے معاشرے میں انتہائی برا فعل قراردیا ہوا، کسی کی ٹوہ میں رہنا بھی انتہائی معیوب بات ہے،یہاں خواتین کی تقریباً نصف آبادی زندگی کے ہر شعبے میں کام کرتی نظر آئے گی نہ کوئی اسکینڈل بنے گا ، نہ افسانہ اور کہانی بنے گی؟ مگر اسی معاشرے کی کوئی خاتون کسی اپنے یا غیرکی چکنی چپڑی باتوں میں آکر شادی کرلے اور وہ شخص بعد میں اس کو بمع اولاد کے چھوڑ کر بھاگ جائے، تو بجائے اسکے کہ اپنے لوگ اسکی مدد کریں اسکا اسکینڈل بنا نے لگیں گے ،اگر ہم میں سے کوئی ہے تو، کیونکہ ان پر وہ ایسا کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ؟ حتیٰ کہ خاتون غیرت مند ہو اور ویلفیر پر گزارا کرنے کے بجائے خود کما کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتی ہو،معاشرے میں کوئی مقام بنانا چاہتی ہو چاہیں اسکی معاونت کوئی اس کے باپ کی عمر کا شخص بھی کر رہا ہو اور ایسے کردار کا مالک ہو جس کی عام مسلمانوں میں مثال نہیں ملتی، وہ پھر بھی اس پر کیچڑ اچھالے بغیر بعض نہیں آتے، ایسے لوگوں پر کیچڑ اچھالنے سے گو کہ ان کا کچھ نہیں بگڑتا اس لیے کہ ان کی پاکیزگی کامحافظ خدا ہے۔ مگر ایک کہاوت مشہور ہے کہ جو آسمان پر تھوکتا ہے وہ پلٹ کر اسی کے منہ پر آتا ہے؟
اس برائی کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلام سے پلٹ کر واپس باپ دادا کے دین پر چلے گئے ہیں۔ اور یہ سب اسی کے کرشمے ہیں ۔ خصوصاً خواتین کو جو حقوق اسلام نے دیئے تھے وہ سارے ہی ہم نے غصب کرلیے ہیں اور اوپر سے اسے ایسی مخلوق بنا دیا جوکہ معاشرے کے لیے اپاہج ہو کر بار تو بن سکے ،مگر اپنے پیروں پر کھڑے ہوکراپنے حقوق نہ مانگ سکے، اس میں اسلامی ملکوں اور خصوصی طور پر پاکستان کی حالت سب سے خراب ہے، جسے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔ اگر بیٹی پر الزام لگتا ہے تو اس کو زندہ دفن کر دیتے ہیں اورساتھ میں اسکی ماں کوبھی ، جب کہ باپ بری الذمہ رہتا ہے۔ اگر ماں، بیٹی کی بد چلنی میں قابل ِ سزا ہے تو باپ کیوں نہیں جس نے اپنی تربیت میں کوتاہی برتی اور اس کی حفاظت نہیں کر سکا۔ اسکی ایک پرانی خبر کی شکل میں مثال دیکر میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔
پاکستان جو کہ اسلامی جمہو ریہ پاکستان کہلاتا ہے یہ کلچر ہم وہیں سے لیکر آئے ہیں جہاں کہیں رہیں ،رسم ورواج وہی رہتے ہیں یہاں بھی آکر وہی کچھ کرتے ہیں جو وہاں سے کرتے آرہے ہیں جس کی یہاں کی میڈیا گواہ ہے ۔ رہاوطن عزیز وہاں اس پر ابھی تک اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے؟ کیونکہ اسلام کے مختلف ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے، یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو کہ مسلمانوں کے لئے وہ لے کر تشریف لائے تھے؟اس پر آپ نے روزانہ ٹی وی پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا اور اسی کا قانون یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ کہتے ہیں کہ قائدِ اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے یہ کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی وہ دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی بکتی ہیں بلا تفریق ڈھا کر یاجلا کر جہالت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، جناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ، حکمرانوں کا لولا ، لنگڑا اپا ہج بنایا ہوا دستور بھی چل رہا اور ضیا الحق کا اسلامی قانون بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی ہے جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے جیسے کہ کفار مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ جہاں سے چندسالوں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا گیا، جبکہ مائیں صرف ماں ہو نے کی وجہ سے دفن ہو ئیں ۔ وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر تھوڑی ہیں؟ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکا جھانکی کی بنا پر قتل کرتے ہیں ؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں حضور (ص) کے لائے ہوئے دین پر چلنے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ (آمین)

 

Posted in Articles | Tagged ,

دعا اشعر کی گریجویشن پر۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

 

 

 

دعا ہے میری اشعر جگ میں اچھا کام کریں
بلند باپ اور دادا کا اپنے نام کریں
عروج حاصل ہو جس سمت بھی بڑھائیں قدم
قدم چومے خود  منزل جو اہتمام کریں
دعاگو شمس جیلانی

Posted in shairi | Tagged ,

کیا تہران مشرق کا جینوا بننے جارہا ہے (قند ِمکرر)۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

آج ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں جن پر مبارکباد دینے کو جی چاہ رہاہے۔ ایک “ایران معاہدہ “ جس سے اس ہمارے اس خطہ پر مزید ترقی کی راہیں کھل جائیں گی اور دوسری عید کی مبارکباد جس پر اس مرتبہ جگ ہنسائی کم ہوئی ایسے خبریں ان کو لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں جو قوم میں انتشار پھیلانے کاباعث بنے اور اسے جاری رکھنا چاہتے۔ ہم کبھی فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں کے طرف دار نہیں رہے۔ اور جب پہلا معاہدہ ہوا تھا تو ہم نے دسمبر 2013 ءمیں ایک مضمون لکھا تھا جس میں ہم نے علامہ اقبال  (رح)کے ایک شعر کو عنوان بنایا تھا وہی دوبارہ ہدیہ قارئین کر رہے ہیں ۔
“ ہمیں آج علامہ اقبال (رح) مرحوم کا یہ شعر “ تہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا شاید کہ کرہ عرض کی تقدیر بدل جائے  “نہ جانے کیوں بار بار یاد آرہا ہے جس میں ان کی یہ پیش گوئی تھی کہ ایک دن تہران مشرق کا جنیوا بنے گا اور نتیجہ میں عالم مشرق تقدیر بل جائےگی؟ ہمارے مذہبی ٹھیکیدار یہ کہیں گے کہ شاعری تو شاعری ہوتی ہے اس کا حقیقت سے کیا تعلق اورشاعر ، شاعر ہے جو چاہے کہدے؟ یہ بات درست ہے کہ سورہ الشعراءمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شاعر اور شاعری کی مذمت کی ہے لیکن ان آیات کے نزول کے بعد جب پہلے شاعر ِاسلام حضرت حسان (رض) بن ثابت اور ان کے ساتھی حضور (ص) کے دربار میں پہونچے کہ ہم تو تباہ ہو گئے کہ اب تک ہم شاعری کرتے رہے ؟ حضور (ص) نے فرمایا تمہارے لیے ان آیات میں سے آخری آیت کا یہ حصہ ہے کہ سوائے ان کہ “جو ایمان لا ئے اور جنہوں نے نیک کام کیئے “ یہ ہے تو بڑی چھوٹی سی بات مگر اسکی جو تفسیر ہے وہ بہت بڑی ہے۔ کیونکہ ایمان لانے کے فوراً بعد ہر مومن پرعمل صالح کرنالازمی ہوجاتے ہیں؟ چونکہ مومن کا ہر کام تابع قر آن و سنت ہونا چاہیئے؟ لہذا وہ شاعری جو قر آن و سنت کے مطابق ہو وہ مستحسن ہے؟ جس کے لیے حضور (ص) کی حدیث ہے کہ“ شاعری نبوت کا چا لیسواں حصہ ہے “ اور الحمد للہ اقبال (رح) نے کبھی بے مقصد شاعری نہیں کی انکی شاعری چونکہ با مقصد تھی لہذا وہ الہامی ہو نا چاہیئے تھی جو ہے اورا سےیہ شعر ثابت کر رہا؟
حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ایران پر شاہ کی بادشاہی تھی جو کہ مسلمان ہو نے پر کم اور اپنے شاہی آتش پرست اجداد پر فخر زیادہ کرتا تھا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، وہ اس کے اس عمل سے ثابت تھا جو اس نے عظیم جشن منا کر ثابت کیا تھا۔ مگر اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے کہ وہی جشن شاہ کو راس نہ آیا اور جو اس کے پشت پناہ تھے اور ایک دفعہ پہلے بھی اسے واپس لا چکے تھے خدا کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے اور شاہ کواپنے ہی ملک میں دو گز جگہ بھی نہ مل سکی؟ اس میں سبق ہے ان تمام شاہوں،آمروں کے لیے خواہ وہ فوجی ہوں یا جمہوری ( آخر الذکر آمروںکی نئی قسم ہے اس پر بات پھر کبھی) ، جب اس کی نگاہ بدلتی ہے تو پھر کوئی کام نہیں آتا؟
اسی ایران کو خمینی صاحب کے اسلامی انقلاب نے اتنا طاقتور بنا دیا اور اس کا اللہ کی نصرت پر بھروسہ اتنا بڑھا کہ وہ یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے لگا اور ابھی تک کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حتیٰ کہ سالوں پرانی قد غن فل الحال نرم کرنے پر وہی لوگ مجبور ہوگئے جنہوں نے لگائی تھی ،سپر پاور سے بھی پینتیس سال بعد تعلقات دو بارہ بہال ہو گئے۔ اب جو تھوڑی سی گرد باقی ہے وہ بھی وقت کے ساتھ انشاللہ بیٹھ جا ئے گی۔
ایک زمانے میں یورپ نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کر نے کے لیے جو بادشاہتیں پیدا کی تھیں ان میں ایک پیدا ہونے سے پہلے ہی بیدخل ہو گئی اور شام میں پنجے نہیں جما سکی، دوسری عراق میں اپنے عبرت ناک انجام کو پہونچی کہ نابالغ شاہ ،اسکے سرپرست اوروزیر اعظم کی لاشیں سڑکوں پر پڑی رہیں جبکہ تیسری کا عدم اور وجود برابر ہے وہ ہے اردن کی بادشاہت۔ ان میں سب زیادہ کامیاب جو گئی وہ نجدیوں کی عرب پر بادشاہت تھی جو کہ خادمین حرمین شریفیں کہلانے کی وجہ سے بے انتہا اثر ورسوخ حاصل کر گئی؟ جس کو اسی سال تک ایک سپر پاور کی پشت پناہی بھی حاصل رہی کیونکہ اسوقت تک ان کو اس کی ضرورت تھی !وقت بدلا جب انہیں کی بنا ئی ہوئی توپوں کارخ ساری دنیا کی طرف گھوم گیا تو اسی دنیا کو احساس ہوا ہے کہ ان کی پالیسی غلط تھی؟ اب وہ تمیز کرنے لگی ہے کہ وہابی یا سلفی اسلام اور اصل اسلام میں کیا فرق ہے؟
یہ تو ہے مشرق ِ وسطیٰ کی صورت ِحال دوسری طرف یہ ہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہوا کہ اس نے افغانستان کے لیے طالبان پیدا کیے اور اب ان کی توپوں کا رخ خود اسلام آباد کی طرف ہے؟ پہلے تو کچھ ہچکچاتے تھے مگر اب کھل کر سب کہنے لگے ہیں کہ ہمیں خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں ؟ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرض تشخیص ہوگیا اب علاج آسان ہے۔ جو لوگ اتمام حجت کے لیئے طالبان سے بات کرنے کے حق میں ہیں وہ بھی غلط نہیں ہیں کہ یہ عین اسلام ہے ؟ حکم یہ ہے کہ بغیر گھرے ہو ئے کوئی شر پسند جس نے ملک میں فساد برپا کر رکھا ہو اگر توبہ کرلے اور ہتھیار پھینکدے تو اسکو معاف کیا جاسکتا ہے؟ ورنہ پھر اسکے خلاف طاقت استعمال کی جائے؟
پاکستان میں نواز شریف صاحب کا اتنی بڑی اکثریت سے آنااور جاتے جاتے انہیں مشکل میں ڈالنے کے لیے ایران سے زرداری صاحب کا معاہدہِ پاور سپلائی کرجانا گوکہ نواز شریف صاحب کو امریکہ کے ساتھ لڑانے کے لیے تھا، مگر اب حالات نے جو پلٹا کھایا وہی معاہدہ شاید باعث نجات بن جا ئے۔ اس کے لیئے انہیں پھونک پھونک کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ جوکہ ان کے جنرل راحیل صاحب کے کمانڈر انچیف بنانے سے ظاہر ہو رہی ہے؟کیونکہ ہم خیال لوگ ہی ساتھ چل سکتے ہیں مختلف الخیال نہیں؟ اب تک جو کچھ میڈیا میں جنرل راحیل کے بارے میں آیا ہے اس سے یہ ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ نواز شریف صاحب کے وہ بھی ہم خیال ہیں کہ “اصل خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے “لہذا ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنا ئے جائیں؟ بغیر سپر پاور سے تعلقات بگاڑے ؟ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جوکہ چھیاسٹھ سال کے بعد بدلی جارہی ہے۔
یہ ہی سچ ہماری قیادت اگر شروع سے بولتی اور قوم کو حقائق بتاتی تو چھیاسٹھ سال اوراتنا سرمایہ اتنے بڑے فوجی بجٹ پر ضائع نہیں ہوتا؟ اور نہ ہمیں مجاہدین کی نازبرداری کرکے اس کی یہ سزابھگتنا پڑتی ؟ چلیں دیر سے سہی مگر ادراک تو ہوا !یہ قوم اتنی بہادر ہے کہ کسی قر بانی سے یہ دریغ نہیں کرے گی بشرط ِ کہ لگی لپٹی کے بغیر حکمراں سچ بولیں؟ چونکہ مذہب امراءکا چلتا ہے ؟ پھرقوم بھی سچ بولنے لگے گی؟ جھوٹ کے سلسلہ میں آپ سب نے یہ واقعہ سنا ہوگا جو سیرت اور احادیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ ایک شخص جس میں تمام برائیاں تھیں ،اس نے حضور (ص) کے سامنے ایک ایک کر کے بیان کردیں، صحابہ کرام نے برا مانا کہ دیکھو کتنی ڈھٹائی سے اپنی برائیاں بیان کر رہاہے حضور (ص) کے سامنے ؟ مگراس نے سب کچھ بیان کر کے حضور (ص) سے حکم چاہا کہ حضور (ص) میں کونسی برائی پہلے چھوڑوں؟ تو حضور (ص) نے فرمایا پہلے جھوٹ چھوڑ دو ؟ دوسرے دن جب وہ مسجد میں آیا تو پریشان تھا کہ اگر حضور (ص) نے پوچھا تو گناہ کیسے بتا ؤ گا ؟لہذا بغیر سامنا کیئے واپس چلا گیا دوسرے دن پہلے سب گناہوں سے توبہ کر کے دربار ِرسالت مآب میں حاضر ہواتو وہ ایک بدلا ہوا انسان اور پکا مسلمان تھا۔
اس وقت سب سے بڑا ناسور ہمارے معاشرے میں جھوٹ ہے جوکہ بے ایمانی کے لیے ضروری ہے اگر اس کو ختم کردیا جائے تو پھر باقی برائیاں خود بخود ختم ہو جا ئیں گی؟اس کے لیے حکمراں سب سے پہلے خود جھوٹ بولنا چھوڑ دیں اور سچائی اپنائیں نتیجہ یہ ہوگا کہ جھوٹی شان کی جگہ سادگی آجائے گی، یہ نہیں کہ محلات پر محلات بنا تے چلے جائیں؟ جس سے لوگوں میں ریس یا احساسِ محرومی پیدا ہو؟ اس کے لیے ہمارے سامنے نصف دنیا کے حکمرا ں حضرت عمر  (ص)کی مثال موجود ہے کہ وہ عام آدمیوں کے طرح رہتے تھے۔ مگر عمال ان کے نام سے کانپتے تھے لہذا کہیں کوئی جرم نہیں ہو تا تھا ۔ ان کے بعد ان کے جانشینوں نے “الدار“ جیسے محلوں میں اقامت اختیار کی پھر کیا ہوا وہ تاریخ میں پڑھئے ۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ آج کے دورمیں یہ ممکن نہیں ہے؟ وہ شاید سعودی حکمرانوں کو دیکھتے ہیں انہیں عرب امارات کے سر براہوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنے سادھا رہتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس محل میں کون رہ رہا ہے سڑک سے گزریں تو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ شاہی سواری جارہی انہوں نے اب عوام کی مشکلات کو مزید کم کر نے کے لیے مہمانانِ خصوصی کے لیے ہوائی اڈہ ہی علیٰحدہ بنا دیا ہے تاکہ ٹریفک بند نہ ہو۔ اپنی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام سہولیات دیہاتوں میں ہی فراہم کردی ہیں۔ تاکہ لوگ شہروں کی طرف رخ نہ کریں؟ پھر بھی انہیں وہ بھولے نہیں ہیں بلکہ ان کے شادی یا غمی میں کوئی نہ کوئی شہزادہ ضرور شریک ہو تا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تمام مسلم دنیا میں انتشار ہے مگر ان کے یہاں نہیں؟اسکی وجہ سے ساری دنیا سے ڈالر کھنچ کروہاں آرہا ہے۔
جبکہ ایران ہم کبھی گئے نہیں مگر وہ بھی کہتے اس کو اسلامی حکومت ہیں شاید وہاں بھی عوام اور حکمرانوں کے درمیان دیوار نہ ہو یا ہوتو اتنی اونچی نہ ہو۔جیسی پاکستان میں ہے؟

Posted in Articles | Tagged ,

بدلے گا جب ہی حال جب اللہ کو چاہوگے؟۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی

توبہ جوکرکے دین پرجب لوٹ آوگے۔ آسان زیست ہوگی مُرادیں بھی پا ؤگے ۔یہ مہینہ احتساب کا مہینہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بھولے ہوئے لوگ واپس توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں اور بندوں کے دوسرے تمام اچھے افعال میں سے یہ فعل اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس سلسلہ میں بھی ایک مشہور حدیث موجود ہے جو دہرانے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اہل ِ علم سبھی جانتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توبہ اسی مہینے میں کیوں؟ اس لیے کہ اس مہینے میں لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہے اور وہ ماحول بن جاتا ہے جو دوسرے دوسرے مہینوں میں میسر نہیں ہوتا ۔ اس مہینے کی اہمیت کو حضور (ص) نے مزید نمایاں فرماتے ہوئے ایک مشہور حدیث میں اس طرح واضح فرمایا ہے  جوکہ مستند روایات کے مطابق  اسطرح ہے “ ایک روز حضور (ص) نے تین مرتبہ آمین فرما یا ،صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ حضور(ص) آپ کس سے گفتگو فرمارہے تھے، اور کس بات پر آمین فرمارہے تھے؟ جواب میں فرما یا کہ جبرئیل علیہ السلام آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس کے سامنے آپ (ص)کانام لیاگیا اور اس نے درود شریف نہیں پڑھی، میں نے کہا آمین ، پھر فرمایا وہ ہلاک ہوا جس نے ماں باپ میں سے دونو ں یا کوئی ایک پایا اور ان کی دعا کے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرالی،میں نے کہا آمین۔پھر کہا کہ وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان شریف پایا اور اپنی جہنم سے نجات نہیں کرالی، میں نے کہا( آمین)
اس میں تینوں باتیں بڑی اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے درود کو اپنی اپنی اور فرشتوں کی سنت  قرار دیتے ہوئے ہم سب کو پڑھنے کا حکم دیا ہے اور حضور (ص) نے ایک صحابی کے جواب میں فرمایا کہ جتنا زیادہ سے زیادہ وقت درود شریف پڑھنے پر صرف کرو وہ بہتر ہے؟ پھر جہاں جہاں اللہ سبھانہ تعالیٰ نےا پنے حقوق کا ذکر کیا ہے اس کے فورا“ بعد  حقوق والدین کا ذکر فرمایا ہے؟  اسکے علاوہ متعدد حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ بہترین موقعہ ہے توبہ کرکے اسکی رحمت سے فائدہ اٹھانے کا، کیا پتہ کہ اگلا رمضان ملے یا نہ ملے ؟ اسی مہینے کے پہلے عشرے میں دیکھئے کہ تقریبا ً دوہزار آدمی کراچی اور سندھ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، گوکہ گرمی کی لہر تو پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے، جوکہ بقول سائنس دانوں کے گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے، وہی یہاں بھی آئی اور پورا ملک متاثر ہوا مگر سب سے زیادہ تباہ کاریاں کراچی میں ہوئیں۔ آخر کیوں ؟ اس کیوں کا جواب کیا ہے؟ سوچئے ! کہ اللہ تعالیٰ ہر عذاب کے لیے کراچی کو ہی کیوں چنتا ہے، پہلے اس کا امن و چین تباہ ہوا ،اب اتنی جانیں اس گرمی نے لے لیں۔اسکے لیئے اہلِ کراچی کو سوچنا چاہیئے ، اگر قوموں کی تاریخ آپ قرآن میں دیکھ جائیں تو آپ کو جواب مل جائے گا کہ “ جب قوموں نے یا کسی ایک شہر یا قصبہ نے برائی کو برائی سمجھنا چھوڑدیا اور برائیوں سے روکنے کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کر نے لگے تو وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمادیا۔ کیونکہ اس امت کے لیے اجتماعی عذاب حضور (ص) کی دعاؤں کی طفیل ہٹالیا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرقوں میں بٹ کر لڑنے کا عذاب اس امت کے لیے بھی جو باقی رکھا تھاوہ جاری ہے ویسے تو اس نے پورے عالم اسلام کو لیاہوا ہے مگر پاکستان اور روشنیوں کے شہر کراچی میں کئی عشروں سے اندھیر مچا ہوا؟
کبھی کوئی اللہ کا بندہ آجاتا ہے تو امیدیں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر یکایک ٹوٹ جاتیں ہیں اس لیے کہ ہم اس کو عذاب نہیں سمجھتے اگر سمجھتے  ہوتےتو توبہ کی طرف مائل ہو جا تے۔ یہ اس وقت تک ہو تا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ راضی نہ ہو جائے؟ پچھلے چند دنوں سے ایک ہنگامہ برپا تھا کہ ایک یاکئی نہ دیدہ ہاتھ حرکت میں آگئے تھے اور وہ ملک کو دوبارہ جنت بنانا چاہتے تھے۔ لہذا دھوم تھی کہ یہ ہورہا وہ ہورہا ہے رینجرز نے چھاپے بھی مارے امید بندھی کہ اب شاید برائیاں دور ہو جائیں گے۔ کہ یکایک ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا جس کی طرف توجہ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں دلائی تھی کہ ان کی مدت ِکار 8جولائی کوختم ہو نے والی ہے اس کا بڑھانا انہیں کے ہاتھ میں ہوگا، جن پہ چھاپے پڑھ رہے تھے یا پڑنے والے تھے۔ ان سے کیسے امید جاسکتی تھی کہ وہ اپنے ہی خلاف استعمال کر نے کے لیے بلا حیل و حجت مدت بڑھادیں گے؟ ایک اہم صاحبِ اقتدار تو اس برے وقت میں ملک ہی چھوڑ کر ہی چلے گئے کہ انہیں اعتکاف کرنا تھا؟
وہ کافر ہی ہوگا جو کہ اعتکاف کو منع کرے کیونکہ انتہائی نیک کام ہے ؟ لیکن جو صاحب ایک ایٹمک طاقت کے جوہری کنجی کے امین ہوں وہ آن ڈیوٹی رہتے ہوئے کیسے اعتکاف اختیار کرسکتے ہیں؟ جبکہ حالات یہ ہوں کہ پڑوسی ملک سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوں ؟ اس کا صحیح طریقہ یہ تھا اگر وہ پہلے سے منصوبہ بندی کرتے کہ خود رخصت پر جاتے اور اپنی جگہ کسی کو مقرر کرکے اور وہ راز اسے منتقل کرکے جاتے ؟ تبھی وہ یک سوئی سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر سکتے تھے۔ یہ ہی واحد صورت تھی۔مگر یہ پروگرام جلدی میں بنااور اب جہاں تک مجھے علم ہے دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنا نائب مقرر کر سکیں ۔ہاں اگر پہلے منصوبہ بندی کرتے تو انہیں دو تہائی اکثریت ہونے کی  بناپر یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ مطلوبہ ترمیم پاس کرالیتے اس طرح انہیں آئینی نائب وزیر اعظم مل جاتا اور وہ بے فکری سے اعتکاف کے تقاضے پورے کر تے اور ثواب کماتے؟ سوائے اس کے یہ اعتکاف ایسا ہو سکتا ہے کہ جیسا ہم نے اپنے انہیں کالموں میں لکھا تھا کہ ایک مل کے مالک ہر سال بلا ناغہ اعتکاف میں بیٹھتے تھے ، اس زمانے میں وائر لیس فون نہیں تھے ۔ان کا ٹیلیفون وہیں منتقل ہوجاتا تھا ، دنیا سے باخبر رہنے کے لیے ٹی وی اور ریڈیو بھی وہیں چلاجاتا تھا۔ وہیں فائیلیں بھی آتی جاتی رہتیں ان کا با قاعدہ مطالعہ کرتے اور دستخط بھی فرماتے اور ہوتے وہ اعتکاف میں تھے۔ جبکہ اعتکاف کے لغوی معنی ہی محدود ہوجانے کے ہیں اور مذہبی اصطلاح میں ذکر اللہ اور عبادت تک محدود ہوجانے کے ہیں ؟ اور اس میں دنیا وی رابطے کی کو ئی گنجائش نہیں ہے چونکہ یہ سنت ہے اور کاروبارِ دنیا کرتے ہوئے حضور (ص) سے یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ اس میں دین اور دنیا ساتھ چلائے ہوں، سوائے بیت الخلاءتشریف لے جانے کے کیونکہ اس زمانے میں گھروں یا مساجد میں بیت الخلا ءبنانے کا بقول حضرت عائش صدیقہ (رض)رواج نہیں تھا ۔ پھر اس طرح اس عبادت میں ریاکاری کابھی پہلو نکلتا ہے ۔کہ فعل مشکوک ہو جاتا کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے تھا یا اپنے نفس کو تسکین دینے اور دکھاوے کے لیے تھاکہ ہم تو بہت  ہی متقی ہیں ؟ جس کے لیے وعید یہ ہے کہ “ بدترین عبادت وہ ہے جو دکھاوے کے لیے ہو اور اسے روز ِ قیامت اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ فرماکر بندے کے منہ پر ماردے گا کہ یہ خالص میرے لیے نہیں تھی لہذا میرے پاس اسکا کوئی صلہ بھی نہیں ہے “
اس کمی کو دور کرنے کے لیے جنوبی افریقہ سے سپہ سالار صاحب کو یہ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ آنا پڑا یا دورہ ہی ایک دن کاتھا۔ دوسرے یہاں وزیر ِ داخلہ کوبھی ایک پریس کانفرنس کرنا پڑی اور اس میں انہوں نے میڈیا سے بڑی درمندانہ اپیل کی کہ خبر کو خبر سے پہلے مت خبر بنادیا کرو ؟ ہاں خبر بن جائے تو ضرور بعجلت لگاؤ کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بڑی سیاسی فراست سے اعلان کیا کہ اگر سندھ حکومت نہیں چاہتی ہے تو ہم ایک دن کے بعد اس کو ہٹالیں گے۔ چونکہ کل یوم  شہادت علی کرم اللہ وجہہ ہے اسکی وجہ سے ہم اسے ایک دن کے لیے اختیارات مرکز کی طرف سے دیدیں گے؟ جس میں اس بات  کاکھلا اشارہ تھا کہ مرکز بھی کسی قانون کے تحت مدت میں توسیع کرسکتا ہے ۔ان کی کانفرنس کے بعد پھر لوگ سر جوڑ کے بیٹھے کہ یہ تو “ مس فائر “ ہوگیا اور جس طرح فیصل آباد کے تمام راستے گھنٹہ گھر چوک پر جاکر ختم ہوتے ہیں یہاں بھی وہ گورنر ہا ؤس تک گئے اور وزیر اعلیٰ ایک مہینے کے لیے توسیع دینے پر تیار ہوگئے۔ پھرافواہیں یہ اڑیں کہ اختیارات مشروط ہیں جو کہ اب حقیقت بن گئیں کہ اس کو کراچی تک محدود کردیاگیا۔ اگر اچھے  لوگ خاموشی اختیار کیے رہیں گے اور کوئی پیش رفت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف نہ ہوئی تو امید نہیں ہے کہ کوئی بہتری آسکے ۔ اللہ سبحانہ تعالٰی ہم سب کو عقل عطا فرمائے تاکہ وہ یہ موٹی سی بات سمجھ سکیں کہ جب تک وہ ناراض ہے کچھ نہیں ہوسکتا ؟

Posted in Articles | Tagged ,

جوبے موت مر رہے ہیں یہ انہیں کا قصورہے۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

اب تک یہ تو ہوتا رہا ہے کہ لاشیں سڑکوں پرپڑی رہیں، کیونکہ یہ واضح نہ تھا کہ یہ مقام کس تھانے کے حدود میں ہے لہذا یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس لاش کو اٹھانا کس کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ایک تھانے یا ضلع کی پولس ایک دوسرے کے حدود پھلانگ نہیں سکتی اور اس طرح چوروں کی چاندی رہتی تھی کہ ان کا طریقہ واردات بقول علامہ اقبال (ع) یہ ہے کہ ع ادھر ڈوبے ا دھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ اگر کسی کواسکی و جہ معلوم نہ ہو تو یہ بڑا عجیب سا لگے گا؟ کہ آج کے دور میں جبکہ دنیا کہاں سے کہاں پہونچ گئی یعنی سیٹلائٹ کے ذریعہ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر یہ تک دیکھ سکتے ہیں کہ کس کا گھر کہاں ہے؟ انہیں کیا پتا کہ وہاں تھانے بکتے ہیں اگر پولس بغیر اجازت کے ایک دوسرے کی سرحدیں پھلانگنے لگیں تو ان کی آمدنی میں رخنہ پڑتا ہے ۔ مگر اس مرتبہ جو یہ انتہائی مکروہ صورت ِ حال پیدا ہوئی وہ بڑی اندوہناک ہے کہ دوہزار کے قریب لوگ اپنی جان سے گئے اور کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ ذمہ داری کس کی ہے ۔ چند روز پہلے ہم نے اجتماعی قبریں دیکھیں ،اجتمائی نمازِ جنازہ بھی ٹی وی پرہو تے دیکھی۔ یہ خبریں پڑھیں اورسنیں کہ کفن نہیں مل رہے ہیں،قبریں نہیں مل رہی ہیں ۔ اور سب جگہ اپنی باری کا انتطار فرمائیے کہ نہ نظر آنے والے بورڈ لگے ہوئے ہیں جو کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔مگر ہیں؟ اور یہ بھی کہ جتنا گڑڈالو اتنا ہی میٹھاہوگا؟ وجہ یہ ہے کہ قبرستان پہلے ہی لوگوں نے بیچ کھائے ہیں یا ان پر قبضہ کرلیا ہے؟ پیشہ ور گورکنوں کی اجارہ داری ہے۔ لہذا جس طرح اور شعبوں میں مافیہ ہے اسی طرح یہاں بھی “ قبر ستان مافیہ “گرم عمل ہے۔ اور یہ تو کہنے کی بات ہی نہیں ہے کہ مال جبھی بنتا ہے جب کہیں پر کسی کی اجارہ داری قائم ہو؟ اور ایسے موقعے روز، روز تو آتے نہیں ہیں؟ اس افتاد سے پہلے قبروں کا حصول اٹھارہ بیس ہزار روپیہ میں ممکن تھا اب خبر ہے کہ ایک لاکھ سے بھی اوپر چلا گیا ہے؟ لیڈروں کو شکایت ہے کہ مرنے والوں نے ان کا انتظار  نہیں کیااور اب مریض نہیں ہیں جن کی وہ عیادت کر سکیں، ہمارا مشورہ یہ ہے وہ سرد خانوں میں چلے جائیں ممکن ہے ابھی ابھی کچھ مردوں کانمبر نہ آیا ہو اور وہی مل جائیں ۔فوٹو سیشن تو ہو ئی جائے گا؟
جبکہ ارباب ِاقتدار یہ طے نہیں کر پارہے ہیں کہ یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔ ہمیشہ ایک کمیشن بنا دیاجاتا ہے جوکہ اس مرتبہ بھی بنادیا گیاہے ، اس نے کسی آسمانی آفت کو نہیں بلکہ زمینی بجلی کو ذمہ دار قرار دیا یعنی K E کی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ بقول کمیشن کے کوئی پیسہ اس نے الیکٹرک سپلائی (بجلی کی ترسیل) میں بہتری پیدا کرنے میں نہیں لگایا جیسا کہ اس نے خرید تے وقت وعدہ کیا تھا؟ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ وہاں کسی وعدے کو نبھانے کا سوال ہی کسی کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی یہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہے کہ وعدہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ؟جبکہ بدعہدی کی قر آن نے بار ،بار شدید مذمت کی ہے اور بدعہدی کو منافقت کی تین نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے ۔ آخر میں کمیشن نے ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالدی کہ وہ ذمہ دار اس لیے ہے کہ اس کا 26 فیصد اس میں حصہ ہے۔ اس نے بھی اس پر پردہ ہی ڈالے رکھا کہ باقی74 فیصد حصہ جات کس کے ہیں اور وہ پردہ دار کون ہے۔ جبکہ یہ کارنامہ ہے مشرف اور شوکت عزیز کے مشترکہ دورِ حکومت کا جس میں صرف وعدوں پر ادارے سپرد کردیے گئے۔ وعدے بھی کس کے جس ملک میں سب کا مفاد ہے اس لیے کہ وہ سب کا وطن ثانی بھی ہے؟ لہذا بلّی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟
جبکہ کچھ دن پہلے تک صوبائی حکومت مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہی تھی اور اسکے خلاف پوری صوبائی کابینہ بمع وزیر اعلیٰ دھرنا دیئے بیٹھی تھی ۔ میڈیا اس پر تبصرہ کر رہی تھی کہ اب ان کو اٹھا ئے گا کون ؟ مگر جب اٹھانے کوئی نہیں آیا تو وہ خود ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم خود ہی اٹھے جاتے ہیں۔ اچھا کیا ورنہ کسی کو ڈولی ڈنڈا کرنا پڑتا۔ پھر وزیر اعظم آگئے تو کایا ہی پلٹ گئی کہ سب گلے شکوے جاتے رہے۔ اور ایک دوسرے کی تعریف کرنے لگے۔ مہذب ملکو ں میں تو یہ بات عام ہے مگر اسلامی ملکوں میں آپس میں ایسا سلوک ذرا کم ہی دکھائی دیتا ہے اس لیے اچنبھے کی بات ہے۔ جبکہ ہمارے علماءان کی نقل کو کرنے کو منع کرتے، کرتے اب ان کی تعریف کرنے کو بھی منع کرنے لگے؟
جبکہ وہ روایات ہماری ہیں اوربرے لوگ ہماری اچھی باتیں سیکھ کر اسکا فائیدہ ٹھا رہے ہیں “ جیسے کہ عدل اور احسان “ کاش کہ ہم اب واپس برے لوگوں کی اچھی باتیں سیکھ لیں ؟ جیسے کہ ان کے یہاں ہر ایک شہری حکومت ،صوبائی حکومت سے اور صوبائی حکومت مرکزی حکومت کی مداخلت سے بے نیاز ہے اور کبھی ایسا اتفاق ہو بھی جائے کہ ہم خیال یا ایک ہی جماعت صوبے اور مرکز میں دونوں میں منتخب ہو کر آجائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ مرکزی جماعت باکل علیٰحدہ ہوتی جس کا مرکزی جماعت کے ساتھ الحاق تک بھی نہیں ہوتا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ نواز شریف صاحب کی حکومت نے صوبوں میں دوسری پارٹیوں کو برداشت کیا ہے، ورنہ مرکز مخالف صوبائی حکومتوں کی برطرفی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جس کی ابتدا صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی کانگریسی حکومت (خدائی خدمت گار) کی برطرفی سے شروع ہوئی تھی۔
موجودہ مرکزی حکومت اتنا اور کردے کہ مقامی حکومتیں جو عنقریب بننے جارہی ہیں ۔انہیں اپنے علاقوں میں خود مختار بنادے۔اور شہری حکومتیں بھی اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں ،کیونکہ اٹھارویں تر میم کے بعد صوبوں کو بہت کچھ مل گیا ہے مگر وہ اسے مقامی حکومتوں کو دینے کو تیار نہیں ہیں جیسے کہ پہلے مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کو کچھ دینے تیار نہیں تھی ۔ یہ عدلیہ ہے جس نے انہیں الیکشن کرانے پر مجبور کردیا ہے،ورنہ پچھلی حکومت ٹال مٹول میں جیسے پانچ سال پورے کر گئی یہ حکومتیں بھی پورے کر جاتیں؟ دوسرے ان برے لوگوں سے یہ بھی سیکھ لیں کہ یہاں کلرک تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ آفیسر ہوتا ہے۔اس کے صوابدیدی اختیا رات اتنے ہیں کہ وہ ہر سائل کو جو بھی اس کے پاس آئے جائے تمام کام کر کے اور فارغ کر کے بھیجتا ہے۔ جبکہ سارا کام قانون کے مطابق ہوتا ہے اور وہ جوفیصلہ کردے، وزیر اعظم بھی اس کو تبدیل نہیں کرسکتا؟ احتساب اتنا سخت ہے کہ ہائیر (ملازم رکھنا) اور فائر (برطرف کرنا) دونوں میں دیر نہیں لگتی، ذرا سی کسی نے بد عنوانی کی ایک منٹ میں چھٹی؟ کیونکہ ملازمت رشوت یا سفارش کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی صلاحیت کی بنا پر ملتی ہے، دینے والے کے پاس برطرف کرنے کے بھی پورے اختیارات ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ یہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے نہ وہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔
اس مرتبہ بھی حکومت اور کمیشن میں اختلافِ رائے پایاجاتا ہے جیسا کہ ماڈل ٹاؤن والے کمیشن اور حکومت میں پہلے پایا گیا تھا۔ جو کہ اس سے ثابت ہے کہ ایک مرکزی وزیر نے یہ فرمایا کہ یہ “آفتِ آسمانی “ ہے۔ ہمارے خیال میں میں یہ تو سب ہی جانتے ہونگے کہ آفت ِ آسمانی عذاب ِ الہیٰ کانام ہے اور وہ کیوں آتا ہے اور اس نے پاکستان کو ہی کیوں تاک رکھا ہے۔ اگر اس کی وجوہات پرغور کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ “ مرنے والے خود ہی اپنی موت کے ذمہ دار ہیں  اور قصور وار بھی“ کیونکہ وہ ووٹ استعمال کر تے ہوئے امیدوار کے ان اوصاف کو پرکھنے اور مد ِ نظر رکھنے کے بجائے جو اسلام نے مقرر کیے ہیں؟ وطنیت ، صوبائیت اور ذات برادری کو مدِ نظر رکھتے ہیں ۔ جس طرح کہ ببول کے درخت سے کھجوریں حاصل نہیں کی جا سکتیں اسی طرح غیر عادلوں کو ووٹ دیکر، رحمتِ پروردگار یعنی امن ، سکون اور چین حاصل نہیں کیا جاسکتا؟

Posted in Articles | Tagged ,

بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ بلّی شیر کی خالہ ہے اس نے شیر کو سب کچھ سکھا دیا مگر درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا، تاکہ وہ اسکی گرفت سے بچ سکے کیونکہ شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے اور تمام بادشاہ بڑے تنک مزاج بھی ہو تے ہیں دینے پر آئیں تو تاج و تخت بخش دیں اور لینے پر آئیںتو جان کی خیر نہیں، کب موڈ خراب ہو جائے اور بلی کی شامت آجائے اس نے یہ گر ہی اسے نہیں سکھایا ؟ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شیر کو ٥٣فیٹ تک اونچی چھلانگ لگانے کی صلا حیت عطا فرما کر اسے چھینکے تک تو رسائی اس لیے عطا فرمادی کہ شیر بلّی کی طرح دوسروں کا پکایا ، کھانا نہیں کھاتا ہے۔ بلکہ اپنا مارا ہوا شکار کھاتا ہے اور بقیہ چھوڑدیتا ہے تا کہ گیدڑ وغیرہ اس سے فیض یاب ہوسکیں کیونکہ اسے جانور اور وہ بھی درندہ ہوتے ہوئے اس بات کایقین ہوتا ہے کہ اسکا روزی رساں اسے بھوکا نہیں مارے گے؟ لہذا اگلے وقت کے لیے بچاکر نہیں رکھتا، جبکہ سمندری جانوروں میں مگر مچھ جس کے آنسو ضرب المثل ہیں، وہ شکار مار کر چھپادیتاہے اور سڑا بھی کسی کو نہیں دیتا لہذا اسکے مسکن سے تعفن اٹھتا رہتا ہے ۔ جبکہ چھینکے کو بلّی کی پہونچ سے باہر رکھا کہ وہ درخت پر اپنے بچاو¿ چڑھ سکتی ہے مگر چھینکے تک نہیں پہونچ سکتی ؟ ورنہ وہ انسانوں کی زندگی حرام کر دیتی ہے اور گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے اس سے کہیں پناہ بھی نہیں ملتی۔ اس کو صرف چانس اسی وقت ملتا ہے جب چھینکا کسی وجہ سے ٹوٹ جا ئے ؟ لیکن نئی نسل نہ چھینکے سے واقف ہے نہ بلّی کی تباہکاریوں سے کہ وہ پروان اس دور میں چڑھی ہے کہ چھینکا ناپید ہوچکا تھا۔ اور بلیوں کو اتنا مال مل رہا ہے کہ انہیں کھانے کی فرصت بھی نہیں ہے ۔البتہ آپس میں پھر بھی لڑتی رہتی ہیںاگر کوئی ایک دوسرے کے ڈھیر میںمنہ ڈالدے۔
بچو ں ! آپ پوچھیں گے کہ انکل یہ چھینکا ہے کیا چیز؟ تو جواب یہ ہے کہ ایک صدی پہلے تک سب غریبوں اور امیروں کے گھروں میں یہ فرج کاکام دیتا تھا جوکہ رسیوں سے بنایا جاتا تھااور چھت میں لگے کنڈے کے ساتھ لٹکا ہوتا تھا اس میں ہانڈیاں رکھدی جاتی تھیں تاکہ وہ ہوا سے ٹھنڈی ہوتی رہےں، دوسرے بلّی کی پہونچ سے بھی باہر رہیں ۔اگر کہیں رسی پرانی ہوکر گل گئی یا اس پر نادانی سے بوجھ زیادہ ڈ ا لدیا تو توچھینکاٹوٹ کر فرش پر آرہتا تھا اور بلّیوںں کی چاندی ہو جاتی تھی، وہیں سے یہ محاورہ ایجاد ہوا جو آج کا عنوان ہے؟
اب آپ پوچھیں گے کہ آج اسکے ذکر کا محل کیا ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ آجکل کے بزرگ بچوں کو منہ نہیں لگا تے کیونکہ پہلے اگر بزرگوں کو کچھ بھی نہ آتا ہو تو بھی انکا بھرم قائم رہتا تھا اور بچے چپ چاپ جو سنتے تھے وہ اپنی گرہ میں باندھ لیتے تھے ، اگر کسی نے کچھ پوچھنا چاہا اورانہوں نے ذرا ترچھی نگاہ کی اور بچے خاموش ہو جاتے تھے۔ اب وہ بغیر دلیل کہ کوئی بات نہیں مانتے اور سوال پر سوال کیے جاتے ہیں ؟
تو جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بجلی کے سلسلہ میں جھوٹے دعوو¿ں کے پول کھولنے کے لیے ایک ایسے وقت پر جو کہ قوم کے لیے بہت کٹھن ہے، ملک میں گرمی بڑھادی اور اس میں سے سب سے زیادہ حصہ کراچی کو ملا جو سندھ کی نمائشی حکومت کا دار الحکومت ہے؟ تم پھر پوچھو گے کہ انکل یہ نمائشی کیسے ہے ،جبکہ اسکی اسمبلی بھی ہے منتخب وزیر اعلیٰ بھی ہے اور ً چیف منسٹر ہاوس ً بھی یعنی حکومت کو اس نام کا ایک ٹھکانہ بھی میسر ہے؟ بچوں !بات یہ ہے کہ ہم نے اسے نمائشی اس لیے کہا کہ ہے تو سب کچھ مگر ان سب کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے تمام معاملات اکثر ایک ہی آدمی طے کرتا ہے ۔کبھی کبھی دو ہو جاتے ہیں تو زیادہ دن اس لیے نہیں چلتے کہ ایک دوسرے کے مفادات ٹکرا جاتے ہیں؟ کیونکہ کچھ ایک کے کارندے ہوتے ہیں تو کچھ دوسرے کے، سب بیچارے بال بچے دار ہیں مال بانٹنے پر جھگڑا ہوجاتا ہے ۔کارکن آپس میں لڑمرتے ہیں ہاتھ کسی پر کوئی اس لیے نہیںڈالتا کہ انکی پہونچ دورتک ہوتی ہے، اور محاورہ ہے کہ جو کہ ویسے تو ہندو دیتاو¿ں کہ بارے میں ہے کہ ً جیسے اودھے ویسے بھان نہ اس کی آنکھیں نہ ان کے کان؟ جبکہ انسان کہیں دیوتا کی شکل دھار لیتا ہے اسکے بھی اس صورت حال میں اگر کان ہوں بھی تو بند کرنے پڑتے ہیں اور یہ ہی معاملہ آنکھوں کے ساتھ ہے کہ ان سے کھلی ہونے کے باوجود مفاہمتی پالیسی اپنانے کے بعد کام نہیں لیا جاسکتا؟
پھر حکومت چلے تو کیسے چلے؟ اور انصاف ملے تو کہاں سے ملے ،گوکہ ادارے موجود ہیں، کچھ اہلکار اچھے بھی ہیں جو اپنی اسی بری عادت کی بنا پر شہید ہوتے رہتے ہیں، ان کی تعداد کم ہے اور چھینکے کی رکھوالی بلّیوں کے سپرد ہے؟ اس مرتبہ کچھ اچھوں نے زور لگایاتھا کہ دودھ پینے والی بلّیوںں کو پکڑلیں؟ مگر بیچ میں یہ موت کا بازار گرم ہو گیا اور بلّیاں قائد بن کر احتجاج پر نکل آئیں ؟
تاکہ روٹھے عوام کو خوش کرکے ان کی قیادت اور ہمدردیاں پھر حاصل کر لیں؟ اور وہ جو پکڑ دھکڑ شروع ہونے والی تھی وہ ٹل جا ئے ۔ کیوں اس میں سے ایک ادارہ جو کہ بہت زیادہ سرگرمِ ِ عمل ہے اسکی عمر٨ا جولائی کو ختم ہورہی ہے، جس میں تھوڑے ہی دن رہ گئے۔ سائیں! اس پر معاملہ کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر سنا ہے کہ اختیار ایف آئی اے کو منتقل ہوگئے۔ ورنہ سول عدالتیں موجود تھیں، فوجی عدالتیں فعال نہیں تھے ؟نام کو ملک میں جموریت ہے لہذا قانون کے نام پر یا انسانی ہمدردیوں کے نام پر وہ انصاف حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہمیشہ رہتے ہیں۔ جبکہ عام آدمی کے انصاف کی راہ میں بہت سے مسائل ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ نوٹ حائل ہے جن پر قائد اعظم کی تصویر بنی ہوئی ہے ،جو وکلا ءکی بھاری فیس کی شکل میں بہت سے چاہیئے ہوتے ہیں،پھر وکلاءہی کی معرفت ہر قدم پر ضرورت پڑتی ہے وہی حاجت روا ثابت ہوتے ہیں ؟ اب ہر ایک ایسا تو خوش نصیب نہیں ہوسکتا جو قوم کی ہر مصیبت پراربوں روپیہ دینے کا اعلان کرتا رہے اور اس کے خزانے میں کبھی کمی نہ آئے؟
بچوں !جس طرح تم نے کہانیوں میں پڑھا ہو گا کہ ایک دیو تھا اس نے بہت سے بچوں کوقید کر رکھا تھا جو اسکے روزانہ ناشتے میں کام آتے تھے! اس کی جان طوطے میں تھی اور طوطا پنجرے بند تھا اور یہ راز کسی معلوم نہ تھا ایک بچہ اپنی باری آنے سے پہلے اس راز سے واقف ہوگیا اور اس نے طوطے کا گلا گھونٹ دیا؟ یہاں کسی کو معلوم نہیںہے کہ اسکی جان کائے میںہے ۔ہاں اسکاایک پرانا ساتھی کہتے ہوئے سن گیا ہے کہ ً پیسے میں ہے ً اور پیسے کو وہ دانت سے پکڑے رہتاہے اس لیے اس سے نجات ملے تو کیسے ملے،اسی دیو کے ہاتھ میں یہ معاملہ بھی تھاکہ وہ اس محکمہ کو مزید توسیع دے یا نہ دے جو اسکے دروازے دستک دے رہا تھا ؟ اگر یہ ترپ کارڈ نہ کھیلا جاتا تو اس کی شرائط ماننا پڑتیں، ورنہ طوطے کی گردن کی طرح اس کے منہ تک پہونچنا پڑتا جس کی راہ میں مسکراتے ہوئے ہونٹ اور چمکیلے بتیس دانت حائل ہیں؟ ورنہ وہ ً ً نہ ً کہدے تا اور اگر اس نے نہ کہدیا، تو ہاں کرانے والا کوئی نہیں ملتا۔ ہمارے یہاں کیونکہ انسانیت کا دفاع کرتے ہوئے یہ کوئی نہیں سوچتا ہے کہ انسانی ہمدردی اور قوانیں انسانوں کے لیے بنا ئے گئے تھے، انسان نما درندوں کے لیے نہیں جوانسانوں کے بجا ئے ان کے بھیس میں درندے ہیں اور وہ اسکا بھر پور فائدہ اٹھارہے ہیں؟ ہے کوئی جو ان سے وہ لباس چھین لے جو بھیڑیے پہن کر انسان بنے ہوئے ہیں؟ جبکہ بیچارے انسان انکے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ صرف میڈیا ان کی کرتوتوں کو اجا گر کرتی ہے؟ مگر اسکو اپنا کاروبار چلانے کے لیے سنسنی خیزی چاہیئے ہوتی ہے اور ہر ایک اس دوڑ میںایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے۔ ان کی توجہ ہٹانے کا ایک مجرب نسخہ یہ ہے کہ دوسری خبر کی بھنک اسی دوران ان میں سے کسی کے کان تک پہونچا دو ! باقی سب اس میں لگ جائیں گے۔اور جن کو ملک سے نکلنا ہوگا وہ نکل جائیں گے، پھر عدالتیں اگر پیچھے ہی پڑگئیں اوروہ بقید حیات بھی رہے تو ان کی مزید خبریںآتی رہیں گے پھر وہ گرفتار ہو کر پہونچ بھی گئے۔ تو بھی ایک معجزہ ہوگا اور وہ معاملہ پردہ گم نامی میں چلا جائے گا پھر عوام اس کا کبھی ذکر بھی نہیںسن سکیں گے ۔ایسا کیوں ہوتا ہے اور کب تک ہوتا رہے گا اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ علم غیب صرف اس نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ 

Posted in Articles | Tagged ,

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

آج کل محاوروں کارواج آہستہ ، آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے، یہ بھی  کبھی شعر کی طرح ذریعہ تھا چند لفظوں میں بہت کچھ کہہ دینے کا مثلا ً چھاج بولے تو بولے چھلنی بھی بولی جس میں بہتر سوچھید “ یہ اس موقع پر بولا جاتا تھا جب کوئی انتہائی داغدار کردار رکھتے ہوئے اپنی پارسائی بیان کرے؟ آجکل دو ایسے ہی جڑواں بھائیوں کی برہمی کی خبریں آرہی ہیں ، جوکبھی ایک دوسرے کو الزام دیتے پائے جاتے ہیں کبھی آپس میں مل جاتے ،تو کبھی روٹھ جاتے ہیں۔ کل ا یک پٹی ٹی وی پر چلتے دیکھی کہ دونوں بھائیوں میں فون پر رابطہ ہوا ہے اور یہ طے پایا کہ “ ایک سر زمین پر رہنے والوں کوایک ساتھ جینا اور مرناچاہیئے “ بڑا اچھا جذبہ ہے مگر مسلمانوں کو نہ جانے کیوں اس میں کانٹے نظر آتے ہیں، شاید اسکی قومی وجہ یہ رہی ہو کہ قومی شاعر علامہ اقبال (رح) کہہ گئے ہیں “ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے “ یا پھر وجہ یہ ہو کہ قرآن مسلمانوں سے کہتا ہے کہ  “ صرف بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائی میں نہیں “ اس لیے ہر مسلمان کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ دین کے بجائے، زمینی یا خاندانی رشتوں کا خیال کرے؟
بھانت کی خبریں آرہی ہیں، دیکھئے کل کیا ہو، ہم کبھی فوج کے ثنا خواں نہیں رہے اس پر ہمارا83 سالہ ریکارڈ گواہ ہے۔ ا س لیے کہ ہمارے خیال میں فوج پاکستان کے بننے کے چند مہینوں کے بعد ہی سے سیاست میں اس لیے دخیل ہوگئی کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو اپنی حکومت چلانے کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت پڑ گئی تھی، وہ دن اور آج کا دن فوج نے کبھی سامنے آکر حکومت کی کبھی پیچھے رہ کر حکومت چلائی ؟ لیکن اس میں بھی اسکی غلطی نہ تھی غلطی تو ان سیاست دانوں کی تھی جنہوں نے اسے بیساکھی بنا یا اگر وہ بیساکھی نہ بناتے تو سیاستداں اپنا کام کرتے ا ور وہ اپنا کام کر تے، جیسا کہ جمہوریت  میں ہوتا ہے؟ چونکہ اچھے برے سبھی میں ہوتے ہیں لہذا کبھی اچھے جنرل آئے کبھی برے جنرل آئے ؟ جب اچھے جنرل آئے حالات اچھے ہوگئے جب برے جنرل آئے تو حالات خراب سے خراب تر ہو گئے۔ یہ مختصرسی ہماری داستان ہے؟
جیسے کہ ہم نے تصوف کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ایک مرید نے اپنے پیر سے پوچھا کہ آجکل دہلی کے حالات اتنے خراب کیوں ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ قطبِ دوراں نرم خو ہیں ہے؟ کیونکہ اہل ِ تصوف کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وی نظام کے متوازی ایک روحانی نظام بھی قائم ہے ؟ اور قطبِ وقت کی افتادِ طبع بھی بہت کچھ نظام دنیا کو متاثر کرتی ہے؟ مرید نے کہا کہ حضرت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آجکل کے قطب کون ہیں اور وہ کیسے ہیں ؟تو انہوں نے بتایا کہ جامع مسجد چلے جاؤ وہاں سیڑھیو ں پر ایک صاحب بیٹھے خر بوزے فروخت کر رہے ہو نگے، جاکر دیکھ لو! وہ ان کے پاس پہونچے اور ایک خربوزہ خریدا کاٹ کر چکھا اوریہ کہہ پھینک دیا کہ “پھیکا “ ہے اس کے بدلے میں دوسرا مانگا اور وہ انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے پیش کردیا کہ “ کوئی بات نہیں ہے بیٹا!دوسرا لیلو ؟ کچھ عرصے کے بعد دہلی کے حالات سدھرنے لگے تو اسی مرید نے پھر پوچھا کہ ا ب تو حالات بہتر ہو رہے ہیں وجہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اب قطب صاحب تبدیل ہوگئے ہیں پہلے والے پردہ فرما گئے اور ان کی جگہ نئے قطب نے لے لی ہے؟ انہوں نے انہیں دیکھنے کی بھی خواہش ظاہر کی تو پیر صاحب نے پھر فرمایا کہ جامع مسجد چلے جاؤ وہاں ایک صاحب کھڑے ہوئے مشک اٹھا ئے پانی پلا رہے ہونگے وہ ایک پیسہ لیتے ہیں اور ایک کٹورا پانی کا دیتے ہیں؟ انہوں نے جاکر ایک پیسہ پیش کیا اور پانی لے لیا پھر یہ کہہ کر سیڑھیوں پر پانی پھینک دیا کہ اس میں تنکاپڑا ہوا تھا؟ لہذا دوسرا دیجئے! انہوں نے کہا پیسہ نکالو تب پانی ملے گا؟ یہ اکڑ گئے ، جواب میں وہ بھی گرم ہوگئے کہ نکال پیسہ ورنہ یہ ہی کٹورا سر پر ماروں گا ، “ اب خربوزے والازمانہ نہیں ہے“ وہ جب یہ فرق دیکھ چکے تو پیاسے ہی واپس چلے آئے اور اپنے پیر صاحب کو جو کچھ دیکھا تھا اس کی رپورٹ پیش کی؟
اب نہ تو وہ پیر ہیں جو قطبوں کو پہچانتے ہوں اور نہ ہی وہ مرید ہیں کہ دیکھنے پر ضد کرتے ہوں، آج کے پیر تو اپنے سالانہ نذرانے سے غرض رکھتے ہیں مرید کے اعمالوں سے نہیں ، جبکہ مرید حفظ ماتقدم  یعنی انشورنس کے طور پر مریدی اختیار کرتا ہے کہ اگر کہیں پھنس جا ئے؟ تو حاضری دے ،سائیں کی زیارت کرے اور پیر چھوئے، آنے کا مدعا بیان کرکے چٹھی لے لے یا بہت مسئلہ بڑھ گیا ہو توفون کال سے مسئلہ حل کروالے؟  جبکہ پہلے لوگ عاقبت بنانے کے لیے مرید بنتے تھے اور اب دنیا کمانے کے لیے ؟
لہذا یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ کراچی کا قطب کون ہے کیا وہ پردہ فرما گئے یا اللہ تعالیٰ کو کراچی والو ں کی بلکہ پاکستان والوں کی کوئی نیکی پسند آگئی؟ بہر حال لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ اچھے افسروں کی ایک تثلیث آگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے وہاں کے حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں ؟جس شہر کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہاں اب کبھی امن قائم نہیں ہو گا؟ وہ شہر امن کی طرف جا رہا ہے؟ پہلے والوں نے جب بھی یہ کوشش کی ،تو پہلے جڑ پر ہاتھ ڈالا؟ نتیجہ میں شاخیں اور پتے تک سائیں کی حمایت میں نکل آئے اور بڑھتے ہوئے  اور اہلِ اقتدار کےقدم ڈگمگا گئے ۔مگر اس مرتبہ آفیسر تجربہ کار تھے، انہو ں نے جڑوں کے بجا ئے شاخوں کو ٹٹولنا شروع کیا ؟ جڑوں نے شروع میں تو کچھ اس کو اہمیت نہیں دی کہ شطرنج کے کھیل میں اگر بادشاہ کو شہ پڑ رہی ہو تو پیادوں کا پٹنا تو عام بات ہے، بڑے سے بڑا مہرہ بھی پٹوا کر شاطر بادشاہ کو بچا لیتے ہیں؟ لیکن سائیں نے انہیں جب اپنی شاخیں ماننے سے ہی انکار کردیا ۔ تو نتیجہ الٹ نکلا، وہی پتے اپنی اس بے حرمتی پر ہوا دینے لگے؟ اب افسروں کے ہاتھ ان معلومات کی بنا پر جو قربانی کے بکروں یعنی شاخوں سے حاصل ہو ئیں وہ آگے بڑھے، پھر ان کے ہاتھ شاخوں، تنوں اور پھر ڈالو ں سے ہوتے ہوئے “ سائیوں “ کی گر دن تک پہونچ گئے ،تو سائیں چیخ اٹھے ؟جس طرح ڈوبتا ہوا، تنکے کا سہارا لیتا ہے؟ پہلے ایک برسا جب اسکی باری تھی، اب دوسرا بھی افسروں پر برس پڑا؟ اس پرتالیا ں بہت بجیں جس طرح شاعر مشاعرہ لوٹ لیتا ہے؟ انہوں نے بھی جلسہ نما پریس کانفرنس لوٹ لی؟ نشہ جب اترا جب اس کی کے نتائج سخت تنقید کی شکل میں سامنے آئے ، کیونکہ نہوں نے کہنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ اب وہ دور نہیں رہا جبکہ فوجی شہر میں وردی اتار کر چلتے تھے؟ اب اچھے جنرل کا دور ہے اور پوری قوم ان کی طرف دیکھ رہی اور اس تھوڑے عرصے میں فوج نے بے انتہا قربانیاں دیکر وردی کا وقار دوبارہ بہال کردیاہے،جبکہ جمہوریت اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنا وقار بری طرح کھو بیٹھی ہے ۔لہذا اچھے کو اچھانہ کہنا بھی ظلم ہے جس طرح کسی ظالم کو اچھا کہنا ؟ بہت پرانا شعر ہے کہ “ بشر رازِ دلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے  نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بے کار ہوتا ہے “ بات زور ِ خطابت کی بھی نہیں کہی جا سکتی کہ کہنے والا ساتھ میں ہنستا بھی جارہا تھا۔ اب سائیں کے حواری اس کی تفہیم تلاش کر رہے ہیں؟ جس طرح پہلے دوسرے کے کہے کی تفہیم آئے دن ہوتی رہتی تھی؟ یہاں بھی اس پر بحث ہورہی ہے کہ کہنے والے کا یہ مطلب نہیں تھا، وہ تھا؟ سائیں! نے سنا ہے ان بھائی سے فون پر رابطہ بھی کیا ہے کہ وہ مزید گر ِتفہیم کے سکھادیں؟ کیونکہ دونوں کے درمیان انگلیڈ کے دستور کی طرح کچھ حصہ بغیر لکھا ہوا بھی ہے؟ جبکہ اراکینِ جماعت میں سے کچھ نے تو جب پارٹی نے سائیں کے بیان کی تو ثیق چاہی تو اسی موقع پر اپنے عہدوں سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیدیا ۔ کہ چھوٹے سائیں کے لیے راستہ صاف ہو جائے اور وہ جس کو چاہیں ان کی جگہ چن لیں؟ حالانکہ کے وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے، بڑے کے بجائے چھوٹے بنا دیے گئے تھے کہ ابھی کم سن ہو رہنے دو ہم سے گر سیکھو سیاست کے ؟
جبکہ پارٹی میں سے ایک صاحب جو بہت ہی معقول سمجھے جاتے تھے انہوں نے غالبا ً خالی سیٹ پر جمپ کر نے کے لیے ۔ بیان کی تفہیم تبدیل کی اور دور کی کوڑی لا نے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اس سے یہ مطلب کب نکلتا ہے جو نکالا جا رہا ہے ؟کیوںکہ انہوں نے تو اسی تقریر میں اس ادارے کی تعریف بھی کی ہے؟ شاید ان کے خیال میں اگر تعریف اور توہین ساتھ ساتھ کی جائے توصرف بھلائی لکھی جانا چاہیے تھی۔ جس طرح، برائی کے بعد نیکی کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں؟
جب کہ یہ انسان کی  پر ہوس کھوپڑی عجیب چیز ہے کہ کبھی بھر تی ہی نہیں ہے؟ اللہ کہاں سے کہا پہونچا دیتا ہے “ مگر حل من مزید “ کا نعرہ پھر بھی ختم نہیں ہو تا، جو وہاں دوزخ کے بارے میں ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ ہی کہتی رہے گی “ حل من مزید “ یعنی کچھ اور گناہ گار بچے ہیں میرے مالک! میرا پیٹ ابھی تک خالی ہے؟ اپنی زندگی میں ہم نے ایسی صرف ایک ہی مثال اور دیکھی ہے جو یہاں تک گیا ہو، مگر وہ بیچارہ ڈپٹی کمشنر تھا وہ بھی ایک ضلع کا، اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق رشوت لیتا؟ اس نے ہر ٹیبل کو ٹھیکے پر دیدیا تھا ، ٹیبل تو ہم نے برائے محاورہ استعمال کی ہے؟ اس نے، پگڑی اور بیلٹ تک ٹھیکے پر دے رکھی تھی کہ وہ اپنے نائک سے بھی پیٹی کے عیوض جس کی بنا پر وہ پٹے والا کہلاتا تھا؟ دس روپیہ یومیہ وصول کرتا تھا؟ ہم پھر پرانی یا دوں میں کھوگئے یہ وہ دور تھا جب ایسی حرکتیں معیوب سمجھی جاتی تھیں اب تو کثرت استعمال کی وجہ سے کوئی حرکت، حرکت ِمعیوب  نہیں رہی؟
کہتے ہیں کہ جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ رحم کھاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شہر یا ملک جہاں امن ناپید ہو، وہاں وہ خود بخود واپس آجاتا ہے؟ ہمارے دیکھتے دیکھتے حال کی دو تازہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں ایک ملک میں تبدیلی جس کانام “کولمبیا “ جو برائیوں کے لیے دنیا میں مشہور تھا ۔دوسرے ایک شہرمیں امن کی واپسی کہ 88 ءمیں نیویارک اپنی بد امنی کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا ، لیکن اس کی سرشت ایک مئیر نے آکر بدل دی اور اب وہی شہر جہاں لوگ سڑک پر چل پھر نہیں سکتے تھے ،وہ پر امن شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تثلیث کو سب کی گوشمالی کے لیے مبعوث فرمایا ہو ،خدا کرے کہ ہمارا گمان صحیح ہو اور ہم پر امن پاکستان دیکھ سکیں ؟  کاش اسے ہم اپنے سامنے بدلتا ہوا دیکھیں۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ جلد ہی ہماری یہ آخری خواہش بھی پوری کردے؟ (آمین)

Posted in Articles | Tagged ,

یہ نابیناؤ ں کے مسائل ِقدیمی۔۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے پہلے یہ ا سلامی تاریخ میں اس وقت نظر آتا ہے۔ جب سورہ عبس کی بارہ آیتیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے نبی (ص)کی توجہ بہت ہی محبت بھرے انداز میں نازل فرماتا ہے اور ان کی توجہ ایک ایسے نابینا کی طرف مبذول فرماتا ہے ، کہ وہ جب کوئی بات پوچھنے کے لیے دربار ِ رسالت مآب (ص) تشریف لائے اور اپنی قدرتی معذوری کی بنا پرادراک نہ کرتے ہوئے کوئی علمی سوال پوچھ لیا، اور حضور (ص)اس وقت سرداران قریش سے مصروف ِگفتگو تھے؟ ان کا مفسرین نے نام عبد اللہ بن اُمِ ِ مکتوم لکھا ہے۔ یہ ہر ایک جانتا ہے کہ جب کوئی شخص کچھ لوگوں کے سامنے اہم گفتگو کر رہا ہو اور اس کا تسلسل ٹوٹ جا ئے تواسکی وجہ سے تھوڑی بہت ناگواری ضرور محسوس کرتا ہے چاہیں کتنا ہی حلیم کیوں نہ ہو۔ یہ فعل حضور (ص) سے سر زد شاید نہ بھی ہوا ہو جو کہ تقاضہ بشریت تھا، کیوں کہ ان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر وصف میں کامل بنایا تھا؟مگر ہماری رہنمائی کے لیے؟ وہ جو کہ دلوں کے حال جانتا ہے اس نے فوراً اپنے محبوب کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ آپ کو پہلی تر جیح تقویٰ کی بنا پر ان صحابی کودینا چاہیے ۔ پھر پہلی بارہ آیتوں میں یہ تلقین ہے کہ بعضے آنکھ سے بینا ہونے کے باوجود دل کے اندھے اور کانوں کے بہرے ہوتے ہیں ۔ “ان سے بہتر ہیں اللہ کے نزدیک وہ جو دل کے بینا ہوں “ نبی  کریم (ص)جو کہ سب سے زیادہ احکامات کا خیال رکھنے والے تھے، انہوں نے ان کے ساتھ اور ان جیسے معذروں کے ساتھ اپنی بقیہ حیات منورہ میں کیسا خیال رکھا وہ یہاں دہرانے کی گنجائش نہیں ہے کہ واقعات بہت سے ہیں ؟ اسی طرح کی مثال ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے بارے میں بھی ہے۔ جن کی انہیں کی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فوراً سن لی اور سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں، ان کے ساتھ حضرت عمر (ص) کا خصوصی برتاؤ امت کے لیے سبق ہے ۔ وہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک دن جب وہ کہیں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے تو ایک خاتون  سامنے آکر ان کو نصیحتوں سے نوازنے لگیں اور ان کو ان کا ماضی یاد دلانے لگیں، جس کا لب ِلباب یہ تھا کہ تمہیں یہ سب عظمت اسلام کی وجہ سے عطا ہوئی ہے ۔ ورنہ تم کیا تھے؟جب وہ خاتون خاموش ہوئیں اور وہ ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو ساتھیوں نے کہا کہ اے امیر المونین ! آپ نے خوامخواہ ایک بو ڑھی کی باتیں سننے پر اتنا وقت خرچ کردیا ؟
حضرت عمر (رض) نے فرمایا جانتے ہو وہ کون تھیں ؟ اگر وہ پورا دن اور رات مجھے نصیحت فر ماتی رہتیں تو بھی میں صرف نمازوں کے لیے وقفہ کرتا اور ان کی باتیں سنتا رہتا ؟ اس لیے کہ یہ وہ خاتون ہیں جن کی بات اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فو راً سا تویں آسان پر سن لی تھی؟
یہ جواب سن کر ساتھیوں نے سرجھکالیا؟ اس میں ہمیں تین سبق ملتے ہیں ایک تو یہ کہ ہرایک حکمراں کو اپنی اوقات پہچاننا چاہیے کہ اسے جو کچھ ملا ہے وہ اسلام کے طفیل ہے نہ وہ مسلمان ہوتا نہ ہی اسلامی ریاست کا سربراہ یا اہلکار بنتا؟ دوسرے یہ کہ وہ ان کا بھی احترام کرے جن کو اللہ سے کسی طرح کی نسبت ہو اور کہیں سے یہ ثابت ہے کہ وہ دربارِ باری تعالیٰ میں صاحب اعزاز ہیں ، خاص طور پر جو اہلِ تقویٰ ہیں ان کا احترام سب سے زیادہ کرناہے ؟تیسرا سبق یہ کہ صحابہ کرام اور تابعین بھی وقت کی اہمیت کو بہت زیادہ ترجیح دیتے تھے کہ انہوں نے اپنی بے خبری میں خلیفہ کے اس فعل پر بازپرسی کی ؟ جبکہ ہم ہمیشہ وقت ضائع کرنے کے عادی ہیں کیا اس سے اسلام کے نام لیوا کوئی سبق لینا پسند کریں گے ؟ کیونکہ یہ تو ان کی باتیں ہیں جن سے اللہ راضی تھا اور وہ اللہ سے راضی تھے؟
اب آئیے ہم اسی سے رہنمائی لیکر اپنی باتیں کریں؟ افسوس کہ ہمارے کردار اس کے قطعی بر عکس ہیں ؟ ہم جو اہلِ تقویٰ ہیں انہیں ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں ۔اور اہل ِ اقتدار اور جو صاحب زر ہیں ان کو ہمیشہ ان پرترجیح دیتے ہیں ؟ اگر ہماری ترجیحات وہی ہوتیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول (ص) کی ہدایات ہیں، تو آج ہر مسلمان ریاست کا منظر کچھ اور ہوتا؟ کیونکہ ہمیں احساس ہوتا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جن صلاحیتوں سے، جن نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے، وہ چونکہ ہماری اپنی نہیں ہیں بلکہ بطور امانت ہماری تحویل میں دی گئیں ہیں اور اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے ہم امین بنا ئے گئے ہیں! اس لیے نہیں کہ اس میں ہم خیانت کریں ؟
بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے امیروں کو منتخب کرنے کا جو ووٹ کی شکل میں حق دیا ہے جس کے لیے ہم سب مکلف ہیں کہ ہم اپنا ووٹ ان کے لیے استعمال کریں جو متقی ہیں ؟ مگر ہم ووٹ دیتے ہوئے اس کو با الکل نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ہمارا رویہ قرون ِ اولیٰ کے مسلمانوں سے قطعی مختلف ہے۔ زیادہ تر ووٹ ہم خوف کی وجہ سے دیتے ہیں کیونکہ ہمارے کان میں یہ امید وار کی طرف سے کہدیا جاتا ہے کہ بچو! یاد رکھنا کہ رہنا تو یہیں ہے ،واسطہ تو ہمیں سے پڑیگا ؟ جبکہ مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا ہو؟ پھر دوسری ترجیح ذات برادری ہے اور اپنا آدمی ہے، بلکہ اول ترجیح ذاتی مفادات ہیں کہ ہمیں اس سے کیا فائدہ پہونچے گا؟ بات بنے تو کیسے بنے؟ آپ پتھروں میں اگر دل تلاش کریں گے تو اپنا ہی سر پھوڑلیں گے؟ اس میں مجبوریاں بھی حائل ہیں، کہ پہلی مجبوری تو یہ ہے کہ اصل اورنقل کو کیسے پہچانیں ۔ کیونکہ جو اہلِ تقویٰ ہیں ان کی دکانیں نہیں پروپیگنڈہ کرنے والے چیلوں کی فوج نہیں ہے وہ صرف کردار سے پہچانے جاتے ہیں ؟ ان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے نیچے کتنے کروڑ کی کار ہے ؟ بلکہ یہ “ آو بھگت ہو تو انہیں خوشی نہیں ہوتی ،نہ ہوتو غم نہیں ہوتا ہے“  البتہ جعلی اہلِ تقویٰ کی باقاعدہ دکانیں ہیں، چیلوں کی فوج ہے ۔ جس سے لوگ مرعوب ہوتے ہیں ؟ لہذا ہم انہیں کو اپنے ووٹ سے نواز تے ہیں جو نام ونمود کے قائل ہیں ؟
پھر ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انصاف کریں گے؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فائیلیں دبی کی دبی رہتی ہیں جن کے پہیے نہیں ہوتے؟ان میں میں ایک مسئلہ یہ نابیناؤں کا بھی ہے؟ جو پاکستان بنتے ہی معرض ِ وجود میں آگیا تھا ؟ ان میں وہ نابینا شامل تھے جن کے دیکھ بھال کرنے دوران فساد شہید ہوچکے تھے۔ اب ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا کہ ان سے کسی کو کیا لینا اور وہ ایسا بار تھے جن کو کوئی بھی قبول کر نے کو تیار نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد ابتدائی دنوں میں نابیناؤں کی ٹولیاں کی ٹولیاں اجتماعی یا انفرادی طور پر بھیک مانگنے کے لیے نکلا کر تی تھیں اور کچھ با جماعت  اور بقیہ بے جماعت آواز لگاتی تھیں کہ “ با با انکھیاں بڑی نعمت ہیں “چونکہ اس زمانے میں کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا ۔ اور غیر ملکی سربرا ہان مملکت دورے کرتے رہتے تھے اس لیے کہ ملک نیا نیا، بنا تھا اور وہ بھی اسلام کے نا پر؟ یہ چونکہ راستوں پر کھڑے ہواکرتے تھے اور ان اہلِ اقتدار کو شرمندہ کرنے کا باعث بنتے تھے جن میں شرم باقی تھی ۔ انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ سب کو پکڑ کر ایک دن پولس لے گئی اور گھارو کے پاس محتاج خانے( بیگر ہاؤس) میں لے جاکر چھوڑ دیا؟ یہاں سے ان کے معاملات میں پولس دخیل ہوئی اور رشوت کا بازار گرم ہوا، کچھ پیسے دے کر وہاں جانے سے بچ گئے، کچھ ہاتھ نہیں آئے نقل ِ مکانی کرکے پورے ملک میں پھیل گئے، جو بچے وہ گینگ والوں کے ہاتھ آگئے اور ان کے ذریعہ پولس کی کمائی کا ذریعہ بن گئے؟ جیسے کہ ہمارے یہاں جیلوں کا نظام ہے کہ وہاں کنکر ملی پتلی مسور کی دال ملتی ہے ،یہاں بھی وہی ان کو دی گئی جبکہ وہ اس کے عادی نہ تھے کیونکہ وہ گھروں کو چھاننے اور مرغن غذاؤں کے عادی ہوچکے تھے۔ دوسرے وہاں انہیں کرنے کے لیے کوئی کام بھی نہیں تھا اگر حکومت وہاں ان کو معاشرے کے لیے کار آمد بننے کا موقع دیتی اور کوئی ہنر سکھانے یا ان کی تعلیم کا بندوبست کرتی تو آج نتائج کچھ اور ہوتے۔ وہ اس ماحول سے اکتا کر بھاگتے رہے اور راز جب کھلا کہ ان میں کے تین مفرور کراچی آنے والی پانی کی پائپ لائین کا دروازہ توڑ اس میں کود گئے اور پانی انہیں بہا لے گیا پھرپائپ لائین کو صفائی لیے بند کر نا پڑا ؟ اس کے بعد ذکر کبھی نہیں ہوا کہ اس امحتاج خانے کا کیا ہوا؟ اگر بجا ئے اس کے حکومت انہیں تعلیم دیتی دستکاری سکھاتی تو آج وہ معاشرے میں ضم ہوچکے ہوتے ، حالانکہ پاکستان بننے سے پہلے پورے ہندوستان میں بصارت سے معذور لوگوں کے اسکول قائم ہو چکے تھے ، اور وہاں کے فارغ التحصیل ایک صاحب کا جو پاکستان آکر ایوب خان کے دور میں ایک شہری مسلم لیگ کے صدر بن گئے تھے ، کو غیر ملکی مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے پیش کیا جاتا تھا کہ یہ راجھتسان سے پہلے معذور گریجویٹ ہیں ۔ ایک اور صاحب کو بھی میں جانتا ہوں جو کرامتی طور پر تشریف لائے ، یہاں آکر تعلیم حاصل کی اور وہ ایک یونیورسٹی میں ایک شعبہ کے سر براہ بنے۔ لیکن وہ انفرادی کوششیں تھیں جو دال میں نمک کے برابر تھیں؟ ان کے مسائل اپنی جگہ رہے نہ کسی سیاستدان نے ان کے لیے کام کیا نہ کسی مخیر نے اور نہ ہی کسی چیف جسٹس نے نوٹس لیا؟ اور آج بھی صورت ِ حال یہ ہے کہ خواجہ سراؤں تک مسائل حل ہو گئے اگر نہیں تو ان کے؟ سب کے حامی موجود ہیں ان میں ملکی اور غیر این جی اوز بھی ہیں ؟ مگر نہیں ہے تو ان بیچاروں کا کوئی پرسان حال؟ وہ ہڑتال بھی کرتے ہیں تووسیع دسترخوان والے مخیر حضرات حرکت میں نہیں آتے کہ ان کو کم ازکم اس وقت بھوک مٹانے کا کوئی بندوست کر دیں جب وہ اپنی جانیں سڑکوں پر خطرے میں ڈالے لیٹے ہوں ؟
اب کئی مہینے سے صورتِ حال یہ ہے کہ وہ لاہور میں ہڑتال کا شغل اپنا ئے ہوئے ہیں ، اور صرف ان وعدوں پر عمل چاہتے جو صوبائی حکومت وقتاً فوقتاً ان سے کرتی رہی ہے؟ وہ پورے یوں نہیں ہوسکے کہ اگر ملازمتوں میں جو ان کا کوٹہ ہے وہ ان کو دیدیں ۔ جبکہ ساری آسامیاں برائے فروخت ہیں تو وہ نقصان کہاں سے پورا ہو گا لہذا خبر یہ ہے کہ کئی محکموں نے وزیر اعلیٰ کے احکامات کانوٹس ہی نہیں لیا؟ جبکہ عذر ِ لنگ یہ ہے کہ بقول ایک وزیر کہ “ ان کے گروپ بہت ہیں ؟ ایک گروپ کی مانتے ہیں تو دوسرا ناراض ہو جاتا ہے؟ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہر حکومت پچھلی سات دہائیوں سے ہر چیز کے نفاذ میں ڈھال بنا لیتی ہے؟ مثلا ً اسلام اس لیے نافذ نہیں ہوسکا کہ فرقے بہت تھے ،لہذا کونسا اسلام نافذ کریں ؟ شاید “اردو“ بھی اسی لیے نافذ نہیں ہوسکی کہ کونسی اردو؟ الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں جن کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عمارت میں اینٹوں کے مانندہوتے ہیں کہ ہر اینٹ سے دوسری اینٹ کو تقویت ملتی ہے؟ جبکہ ہماری صورت حال مختلف ہے؟ ہر اینٹ دوسری اینٹ سے بھاگتی ہے ؟اگر ان معذوروں کے رشتہ دار ہی انہیں اپنا لیں تو بھی ان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ کیونکہ ہمارے یہاں صلہ رحمی کا بدلہ دہرے ثواب کی شکل میں ملتا ہے اوردرازی عمر اور رزق میں برکت مفت میں عطا ہوتی ہے؟ جبکہ اس کی سزا جلد ہی دنیا میں ہی ملنے کے بارے میں قرآن اطلاع دے رہا اور بعد میں آخرت میں جو سزا ملے گی وہ تو ملے گی ہی۔ ہے کوئی اس پر کان دھرنے والا؟
 

Posted in Articles | Tagged ,

بیٹاتو ہی ہارجا ؟ورنہ یتیم ہوجائے گا؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

بہت پرانی بات ہے کہ ایک سینما کے مالک کو ہم قرضہ دیکر پھنس گئے! گوکہ ہم نے بچپن سے ہی عہد کرلیا تھا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعامانگی تھی کہ اللہ ہمیں وہ شوق ہی نہ دے جس کی بنا پر ہمارے والد صاحب ہم سے ناراض ہوں، مگر ہمیں مجبوراً کچھ فلمیں دیکھنا پڑیں اور عہد توڑنا پڑا۔ قصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں نہ تو ریڈیو تھے نہ ٹی وی نہ آج والی جدید ایجادات لے دے کر سینما تھے وہ بھی خاموش ا نہیں دیکھ سکتے تھے پردہ سیمیں پر متحرک تصاویر نظر آتیں، ہونٹ ہلتے نظر آتے ،رہی تفہیم وہ اپنے تجربہ اور ظرف کے مطابق ہر ایک خود ہی کرلیتا تھا۔ اس لیے کہ اس وقت قوت گویائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ تھرکتی پر چھایاں تردید کرنے پر قادر نہ تھیں، بہت عرصہ کے بعد سائنسدانوں نے اپنی ایجادات  کومزید نکھار کر اسے قوتِ گویائی عطا کی؟
اسی زمانہ کی بات ہے کہ ہم سینما کے باہر پوسٹر دیکھ کرجو ہمیں کہیں بھی جائیں راستے میں پڑتا تھا اس میں ہم نے کسی اسلامی تاریخ سے ماخوذ فلم کاپوسٹر دیکھا،  چونکہ ہمیں بچپن سے ہی اسلامی تاریخ میں بڑی دلچسپی تھی، بہت متاثر ہوئے اور والد صاحب سے درخواست کربیٹھے کہ ہم یہ فلم دیکھنا چاہتے ہیں ! جواب ملا کہ شرفا فلم نہیں دیکھتے ہیں؟ اس پرہم نے عہد کیا کہ ہم آئندہ فلم نہیں دیکھیں گے۔
مگر بدقسمتی کہ پاکستان بننے کے بعد جب ہم ہجرت کرکے وہاں پہونچے تو ایک سینما مالک کے چکر میں آگئے؟ آپ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ سینماکا مالک کیا ہوتا چیز ہوتا ہے؟ حالانکہ ہم انہیں کالموں میں پہلے بھی یہ واقعہ کئی دفعہ رقم کرچکے ہیں جس میں بہت ہی واضح سبق موجود ہے کہ اس سے بچو! کہ وہ عہدوں اور قسموں کے توڑنے پر مجبور کردیتا ہے اور خود یہ کہہ کر بات ختم کردیتا ہے کہ عہد قرآن و حدیث تھوڑی ہیں ؟ مگر ہمارے یہاں اپنے بزرگوں سے سبق لینے کا رواج ہی نہیں ہے ؟اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کی ابتدائی معلومات پر جنہوں نے فائدہ اٹھایا وہ اس پرمزید تحقیق کرکے محل کھڑے کرچکے ہیں جبکہ ہم واپس چرخے کے دور میں چلے گئے ۔ ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں وہ سب تو اپنے اپنے دور کے چاند اور سورج تھے ان کے تجربے سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا ۔  جبکہ ہم ایک ذرہ بھی نہیں ہیں؟ لہذا ہمارے تجربے سے بھی کسی نے فائدہ نہ اٹھایا اور پوری قوم ایک سینما کے مالک کے چکر میں آگئی اور آج تک نہیں نکلی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تصویریں تو بہت دکھائی دیتی ہیں لیکن اگر چھونے کی کوشش کریں تو دیوار سے انگلیاں جا ٹکراتی ہیں اور چھونے والا نادم ہوکر وپس آجاتا ہے۔
۔یہ بات یونہی بیچ میں آگئی۔ ہم بات اپنی کر رہے تھے کہ پہونچ کہیں سے کہیں گئے؟ اس سے وصولی کا طریقہ یہ تھا کہ ہر مرتبہ نیا جوتا خرید تے اور جب اس کی تلی گھس جاتی تو وہ کہتے کہ ہم نے قرض خواہوں کی باری لگائی ہوئی آج آپ کی باری ہے جو آج ٹکٹوں کی فروخت سے رقم ملے وہ آپ لے جائیں؟ لہذا مجبوراً پوری فلم ہمیں دیکھنا پڑتی اس میں کئی فلمیں دیکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس میں ایک پنجابی فلم بھی تھی جس کا نام اب یاد نہیں کیونکہ وہ آج سے ساٹھ سال پہلے دیکھی تھی مگر اس میں کہانی کا ایک حصہ قابل ِ ذکر تھا کہ کسی بات پر دوپارٹیوں میں لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک کا بیٹا موٹا تازہ تھا، مگر اس کے برعکس اس کا باپ لاغر تھا، جبکہ دوسرے کا بچہ لاغر اور اس کا باپ موٹا تازہ تھا؟ اس نے چیلنج کردیا کہ اس کا فیصلہ اس پرہوگا کہ اگر میرا بچہ تیرے بچے سے ہار گیا تو فائینل کے طور پر میری اور تیر ی کشتی ہوگی ؟دونوں بچے اپنے ، اپنے داؤں پیچ دکھا رہے تھے اور باپ اپنے بیٹے کے آگے ہاتھ جوڑ ، جوڑ کر کہہ رہا تھا بیٹا تو ہی میری خاطر ہار جا ؟ ورنہ اس کا تو کچھ نہیں بگڑیگا البتہ تو یتیم ہوجائے گا؟
بالکل یہ ہی صورتَ حال ہم نے آجکل اپنے ملک پاکستان میں دیکھی کہ جوکو ئی بھی با ضمیر کبھی غلطی سے آجا تا ہے اور تھوڑا دم وخم دکھاتا ہے ،کچھ امید بندھتی ہے !عوام خوش ہونے لگتے ہیں کہ اب ہمارے دن پھر نے والے ہیں، تبھی کوئی جمہوریت کا چمپین ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ ساتھیوں مان جاؤ؟ ورنہ جمہوریت ختم ہوجائے گی اور تم سب سیاسی طور پر یتیم ہو جا ؤگے؟ چونکہ باضمیر اپنے سے پہلے گزرنے والے باضمیروں کا حشر دیکھ چکے  ہیں اورہیں بھی بال بچے دار، جبکہ ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف خندق !تمام کس وبل دیکھتے ہی دیکھتے نکل جاتے ہیں جیسے کہ غباروں میں سے ہوا نکل جاتی ہے؟ کیونکہ ایک آدھ پھکڑ لیڈر کی طرح سب تو چھڑے چھانٹ اور سیلف میڈ نہیں ہیں۔ بلکہ زیادہ تر خاندانی لوگ ہیں جو سونے کا چمچہ لیکر پہلے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ان میں سے ہیں ، جنہیں کانسٹی ٹیونسی اورسیاست وراثت میں ملتی ہے۔ جبکہ عوام پھر سوچنے لگتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی اچھے انسان کو بھیج دے گا ،؟ اور پھر وہی تجربہ دہرانے لگتے ہیں ؟ جب کہ اس کے اس سبق کو بھول جاتے ہیں کہ نصرت الٰہی کے لیئے اس کے اپنے کچھ اصول ہیں؟ مشکل یہ ہے کہ وہ نبی (ص) کا اسوہ حسنہ میں ملتے ہیں!جس میں قرآن ، ہمہ اقسام کی وحی اور سنت شامل ہے۔ مگر قوم کے پاس اس پر عمل کی بات تو چھوڑیں، اسے پڑھنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ ہر طرف شدت پسندی کا دور دورہ ہے جبکہ قرآن سورہ نحل کی آیت نمبر 9 میں کہہ رہا کہ ” اللہ تک پہونچنے کا راستہ میانہ روی میں ہے ” رہے اہلِ اقتدار انہیں اس سے زیادہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ لوگ اسی میں خوش ہیں اور اسی تنخواہ پرکام کرنے کو تیار بھی۔ یہاں تک کہ اب پانی پر بھی انہوں نے اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ جو تعمیرات سے بچتا ہی نہیں ہے کہ عوام کے ہونٹوں تک پہونچے؟ زندہ تو زندہ مردوں کو بھی میسر نہیں ہے کہ وہ اسے غسل دیکر سپرد ِ خاک کر سکیں ؟

 

Posted in Articles | Tagged ,

شاید بچا ہو وقت ، ابھی مان جائیے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

اچھا برا ہے کیا پہچان جا ئیے۔شاید بچا ہو وقت ابھی مان جائیے۔۔۔ آج میں اپنے ہی اس شعر سے مضمون کی ابتدا کر رہا ہوں؟ جس کی جراءت شاید ہی مجھ سے پہلے کسی مجھ جیسے چھوٹے آدمی نے کی ہو؟ یہ میں شعر اس لیئے استعمال کر رہا ہوں کہ آج کا دور تو بہت ی مصروف دور ہے۔ جب لوگوں کے پاس بہت سافالتو وقت تھا تو بھی وہ اشعار کو بڑے سے بڑا مضمون بیان کر نے کے لیئے ترجیح دیاکرتے تھے ۔ جبکہ آج نہ تو وہ سخن فہم لوگ ہیں اور نہ ویسے صاحب ذوق؟ جیسے کہ یہ شعر ع  “حد سے نہ بڑھا پاکی ِ داماں کی حکایت  دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ “ غور فرمائیے کیسا منہ سے بولتا شعر ہے اور اس میں کمال کی منظر کشی ہے؟
اپنے ایک پچھلے مضمون میں، میں نے اپنی مسلمان بہنوں کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ وہ ہوشیار ہوجا ئیں اب شدت پسندی کے ہاتھوں ان کی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اب اسی کے ساتھ بھائیوں کی بھی توجہ اس طرف مبذول کرا رہا ہوں۔جبکہ اس عفریت کے ہاتھوں انکی ازدواجی زندگی بھی محفوظ نہیں ہے اور یہ عفریت اس راستے سے بھی بستے ہوئے گھروں کو بھی ڈسنے لگی ہے۔ جسے ملا اور ملانیوں کے علاوہ ان کے پیرو کٹھ ملے، یاملانیاں چلا رہی ہیں جو انہیں کے معتقد ہیں ۔اور وہی جدید ذرائع یعنی سوشیل میڈیا کے ذریعہ ہر گھر میں گھس گئے ہیں ۔
جہاں حصول جنت بہت ہی آسان بتایاجارہا اور اتنی تحریص اسکے ذریعہ پھیلائی جارہی ہے جس کا گواہ ایک تازہ واقعہ ہے کہ آسٹریلیا کی ایک شادی شدہ خاتون اپنے شوہر سے طلاق لیے بغیر اور ان کو اطلاع دیے بغیر شام میں جہادیو ں کی خدمت کرنے چلی گئیں ۔اور آیا کے پاس اپنے دو سال اور پانچ سال کے دو بچے چھوڑ گئیں؟ اس میں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ شوہر نے یہ جان لیا تھا کہ ان کی بیوی کے کسی جہادی خاتون سے تعلقات ہوگئے ہیں ۔ جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی ؟ یہ ہی غفلت انہیں لے ڈوبی ؟ اگر وہ ذرا سی بھی توجہ دیتے تو شاید نوبت یہاں تک نہیں آتی؟ اور آج اپنی ایک عشرے پر محیط ازدواجی زندگی کاماتم نہیں کر رہے ہوتے؟
اسلام پر اس سے برا وقت اسے پہلے کبھی نہیں آیا؟ سب سے برا وقت وہ تھا جبکہ خارجیت نے سر اٹھایاتھا؟ اس کے باوجود کہ حضور (ص) نے اسکی اطلاع بہت پہلے دیدی تھی؟ ان کے حلیہ تک بتادیے تھے یہ بھی بتادیا تھا حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے مدینت العلم کو کہ ان کی قراءت تم سے اچھی ہوگی ۔ شکلیں نورانی اور مقدس ہونگی اور وہ آخر میں تمہارے ہی ہاتھ سے مارے جائیں گے۔؟اگر تاریخ میں جائیں تو یہ سب آپ کو وہاں مل جائے گا، خارجی بھی آج کی طرح اسی خبط میں مبتلا تھے، کہ صرف ہم ہی مسلمان ہیں باقی سب قابل ِ گردن زدنی ہیں ان کا مال اور جان اور عزت ہمارے لیے سب حلال ہے؟ جبکہ اسوقت ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی وہ خاکِ پا کے برابر بھی نہیں تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا۔ عام آدمی کی تو بات ہی کیا آخری وقت تک بڑے بڑے جید عالم اور کچھ صحابہ کرام (رض) مذبذب رہے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس کی ابتدا بھی اس دور کے عمال کے ہاتھوں نا انصافیوں سے ہوئی؟ چونکہ اس وقت ان کی قیادت حفاظ کے ہاتھوں میں تھی لہذا انہیں کی قیادت میں انہوں نے دارالحکومت کی طرف رخ کیا ان کے مطالبوں میں ان ظالم قسم کے حکام کو بر طرف کرنے کامطالبہ تھا۔ جنکا سرخیل مروان بن الحکم تھا جس کے والدالحکم بن امیہ کو حضور (ص) نے مدینہ منورہ بدر قرار دیکر جلاوطن فرمادیا تھا اور وہ طائف میں قیام پذیر تھا، بعد میں حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) بھی اسی پر عامل رہے ان کے وصال کے بعد اسکی نہ صرف جلا وطنی ختم ہوگئی بلکہ اس کے بیٹے مروان کو حضرت عثمان (رض) سے شرفِ دامادی حاصل ہوگیا اور وہ حضرت عثمان (رض) کاکا تب (سکریٹری ) بھی بن گیا اور مہر خلافت اس کے پاس رہنے لگی ، چونکہ وہ جعل سازی میں ید طولا رکھتا تھا لہذا وہ جعلی فرمان اورجعلی مکتوب ان کی طرف سے جاری کرنے لگا۔ وہ عامل جو اس سے متعلق تھے شیر ہوگئے اور عوام پر ظلم کرنے لگے ۔اس کی وجہ سے حالات نے یہ موڑ لیا؟ دوسری طرف حضرت عثمان  (رض)نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے اور خارجیوں کے درمیان ثالث مقرر کردیا ان کی کوششوں سے وہ مطمعن ہوکر اور محاصرہ چھوڑ کر واپس چلے گئے اور ابھی وہ راستہ میں ہی تھے کہ اس نے ان کے مطالبوں کی شکل میں؟جب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی موت محسوس کی تو اس نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا کہ ایک جعلی خط حضرت عثمان (رض) کی طرف سے بھیجا جس میں خارجی لیڈروں کی موت کاحکم عمال کے نام تھا۔ جو راستے میں واپس جاتے ہوئے خارجیوں نے پکڑلیا؟ وہ واپس آگئے مدینہ منورہ کا دوبارہ محاصرہ کرلیا؟ اس مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مداخلت کرنے سے انکار کردیا کیونکہ گزشتہ معاہدے پر حضرت عثمان (رض) کے نرم الطبع ہونے کی وجہ سے کوئی پیش رفت ہی نہیں ہوئی تھی۔ جب خارجیوں نے کوئی مزاحمت نہ دیکھی تو ان کی ہمتیں اور بھی بڑھیں اور انہوں نے حضرت عثمان (رض) کے گھرکا محاصرہ کرلیا۔تمام شہر بدستور غیر جانبداری اختیار کیے رہا اور اس فتنے کو اہمیت نہ دی؟ جو اس سے ثابت ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کی طرف سے تلوار اٹھانے کی اجازت چاہی ان کے نام تاریخ میں میں موجود ہیں جنکی تعدادانگلیوں پر گنی جاسکتی ہے؟ اس پیشکش کو بھی انہوں (رض) نے یہ فرماکر رد کردیا کہ میں اپنے  (رض)اقتدار کے لیے خون نہیں بہانا چاہتا، اپنے غلاموں اور مزید یہ کہ اپنے ذاتی محافظوں کو بھی رخصت کردیا جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق سات سو تھی ! وہی محاصرہ ان کی شہادت پر ختم ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ
پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سب نے زور ڈال کر خلافت کے لیے تیار کیا جس کی لیے وہ با لکل تیار نہ تھے؟ پھر بھی انہوں نے مشروط طور پر اسے قبول کیا کہ اگر تین دن تک کوئی خلافت کا دعویدار پیدا نہ ہو تب وہ قبول فرما ئیں گے ؟ جب تین دن تک بھی کوئی تیار نہ ہوا تو انہیں خلافت قبول کرنا پڑی ۔ اس کے بعد ان کے اپنوں نے ہی نا سمجھی میں انوکھے مطالبات کاشروع کر دیے کیونکہ سابقہ فتنہ ابھی تک مروان کی شکل میں موجود اور سرگرم تھا؟ ان مطالبات میں سب سے اہم حضرت عثمان (رض) کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دینا تھی؟ دیکھنے میں یہ مطالبہ بڑا آسان لگتا تھا،جوکہ انہیں حکام کی طرف سے کیا گیا جن کااب بھی مروان مشیر اعلیٰ تھا، اس پر انہوں نے قطعی غور نہیں کیا کہ مدینہ منورہ ابھی تک محاصرہ کی حالت میں ہے؟ حالانکہ یہ بات بخوبی ان اپنوں کے علم میں بھی تھی جو صبح تک حضرت علی کرم اللہ وجہ کو خلیفہ بنا نے پر پورا زور صرف کر رہے تھے ،مگرشام کو وہی یہ مطالبہ لیکر آئے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسکے لیے کچھ وقت مانگا تاکہ وہ حالات کو سنبھال سکیں ؟ وہ ناراض ہوکر مکہ معظمہ چلے گئے جبکہ مروان پہلے ہی لوگوں کو وہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف مشتعل کر رہا تھا جو حج کے لیئے گئے ہوئے تھے۔ جبکہ دوسری طرف مدینہ منورہ کی آبادی بدستور غیر جانبدار رہی؟ دوسرے کوئی عینی شہادت حضرت عثمان (رض) کے قاتلوں کے سلسلہ میں موجود ہی نہ تھی کہ حضرت عثمان (رض) کوکس نے شہید کیا کیونکہ خارجیوں کے سوا وہاں اور کوئی موجود ہی نہ تھا سوائےان کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ کےجن کا تعلق قبرص سے تھا وہ مقامی لوگوں پہچانتی بھی نہ تھیں۔جبکہ خارجی سب یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے کہ ہم سب نے مل کر حضرت عثمان  (رض)کو قتل کیا ہے جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، تاکہ ان میں سے کسی کا مواخذہ نہ ہوسکے؟
اگراسوقت بھی اہلِ مدینہ اپنی غیر جانبدار ی ختم کردیتے تو شاید تاریخ کچھ اورہوتی؟ مگر سب اسی مسئلہ پر مذبذب رہے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں اور جہاد صرف کافروں کے ساتھ لکھا گیا ، وہ ہم نے حضور (ص) ہمراہی میں بخوبی کرلیا جو ہماری لیے کافی ہے ؟
آج ہم بھی اسی طرح تذبذب کا شکارہیں کیونکہ تاریخ سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ ان کی شکلوں سے مرعوب ہوجاتے ہیں ان کے بیانوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں جبکہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ “ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کر لیتے ہیں “۔ جس کے وہی نتائج نکل رہے ہیں جو ہمارے سامنے آج آرہے ہیں ۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہم میں اچھی خاصی تعداد شدت پسندوں سے ہمدردیا ں رکھتی ہے یا مذبذب ہے۔ یادرکھیے یہ مذہب چونکہ قیامت تک لیے ہے؟ اسی لیے اس میں ہر موقع اور محل کے لیے اسکے رہبر محمد مصطفی نے تمام احکامات پہلے ہی دیدیے تھے کہ “ اگر ایسا ہو تو ایسا کرنا؟ انہیں میں شدت پسندی کے خلاف کاروائی کرنے کاحکم بھی شامل ہے؟ کیونکہ اسلام اور شدت پسندی دو علیٰحدہ چیزیں ہیں ۔ جنہوں نے اس صدی کے اوائل میں اسے فروغ دیا تھا، اپنے مزموم عزائم کو حاصل کرنے کے لیے۔ وہ اب خود اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ؟اس کا حل یہ ہی ہے کہ اسوہ حسنہ (ص) کی روشنی میں تمام امت شدت پسندی خلاف کے خلاف متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوجائے،اور سب ملک کر اسکاتدارک کریں۔ اللہ ہمیں وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
ہمارے پاس ابھی وقت ہے کہ اپنی سوچ کو بدلیں ،اور ان کے فلسفہ جھٹلادیں جو ساری توضیحات اسلام سے ہی پیش کر کے ہماری ہمدریاں حاصل کر رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی اس طرز حکمرانی کا  وہ  بیش بہا نمونہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ آئندہ چل کرکیسے حکمراں ثابت ہونگے ؟ جو کے سراسر اسلام کی روح کے خلاف ہے؟ یہ تضاد اس وجہ سے ہے کہ وہ انہیں کا تسلسل ہیں جنہوں نے انہیں پہلے یہ ہی تعلیم دی تھی ۔

 

Posted in Articles | Tagged ,