ٹرمپ کی جیت کیا معجزہ تھا۔۔۔ از۔۔شمس جیلانی

ٹ
اس مرتبہ امریکہ کے انتخابات دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان اس کی کالونی ہے ، جس کی وجہ سے امریکہ کے صدارتی ا نتخا بات میں پوری قوم اتنی دلچسپی لے رہی ہے جتنی کہ وہ اپنے انتخابات میں بھی نہیں لیتی؟ کئی میڈیا گروپ کے مالکوں نے اس غریب قوم کے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے اپنے نمائندے بھیجے ہوئے تھے ان میں اکثر وہ تھے جو دہری شہریت والے ہیں کہ چلو بچوں سے مل بھی آئیں گے سب سے پہلے خبر پہنچانے کا اعزاز اپنے مالکوں کے لیے حاصل کرلیں گے۔ یہ سب وہاں سے پل ، پل کی خبر دے رہے تھے۔ اس کی شایدایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ امریکہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا تھا کیونکہ امیدوار ایک جانی پہچانی خاتون تھیں۔ اس سے پہلے وہ ایک غیر یور پین کو صدر بنا کر بہت ہی کامیابی سے یہ دنیا پر ثابت کر چکاتھا کہ ہمارے یہاں جمہورت ہے اور امریکہ تمام جمہوریت پسندوں کا ہیرو ہے ! جبکہ اس نے یہ راز کبھی نہیں بتایاکہ غیر ترقی یافتہ ممالک کے لیے وہ جابر بادشاہ اور آمر حکمرانوں کو کیوں پسند کرتا ہے؟ لیکن اس مرتبہ اس کا صدیوں کا بنا یا ہوا بھرم بھی جاتا رہا اور وہ خاتون صدر منتخب نہیں ہوسکیں۔ جبکہ ماہرین اعداد شمار کہتے ہیں کہ دنیا میں خواتین کی تعداد 51 فیصد سے زیادہ ہے؟ شاید ہماری طرح انہیں بھی اپنی حالت بدلنے کا خیال نہیں ہے؟ اگر ان میں ایکا ہو تا ،تو وہ ایک فیصد کے بل پر اپنی ہی ایک ہم جنس کو کامیاب کرا سکتی تھیں ؟ایک فیصدکی برتری تو بہت بڑی بات ہے، دنیا میں صرف نصف فیصد اکثریت نے اپنے ملک کو ٹوٹنے سے بچا لیا اور وہ تھا کنیڈا ،کہ فرانسیسی بولنے والے صوبے کیوبک کے بارے میں اب سے کچھ سال پہلے ریفرنڈم ہو ا تو علاحدگی پسند صرف نصف فیصد سے ناکام ہوئے۔ مگر دنیا کا سب سے زیادہ جمہوریت پسند ملک ایسا نہیں کرسکا اور یہ ہی کام دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی نہیں کر سکی کہ کسی “ اچھوت “ کو اپنا وزیر اعظم بنا لیتی حالانکہ آخر میں بھارت میں جگ جیون رام جنگ آزادی کے واحد لیڈر رہ گئے تھے جو پہلے وزیر تو رہ چکے تھے، مگر سب کا خیال تھا کہ اب ان کی باری ہے وزیراعظم بننے کی اس لیے ہے کہ سب سے بزرگ ترین کانگریسی لیڈر وہ ہی  اسو قت بچے تھے ۔ لیکن ایسا اگر ہوجاتا تو اونچی ذات کے ہندؤں کی باری پھر کبھی نہیں آتی جو اقلیت میں ہوتے ہوئے بھارت پرحکومت کر رہے ہیں۔ یہاں بھی یہ ہی بات تھی کہ اگر ایک مرتبہ خاتون صدر ہو جاتیں تو پھر جمہوریت میں تو بت اکثریت کی چلتی ہے ؟
جبکہ پاکستان کے بعض اینکر تو اتنے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے ایک دن پہلے ہی اعلان کر دیا کہ محترمہ ہیلری کلنٹن صاحبہ کے نوے فی صد کامیابی کے امکانات ہیں ۔ان کو صرف کوئی “معجزہ “ ہی ہرا سکتا ہے اس لیئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطلوبہ ووٹ پکے ہیں اگر ٹرمپ صاحب سارے ہی ووٹ لے جائیں تب ان کی کامیابی ممکن ہے جو کہ ایک معجزہ ہو گا اور یہ قطعی ناممکن ہے۔ بات واقعی نا ممکن تھی کیونکہ معجزے کے لیے نبی (ع) کاہونا لازمی ہے؟ گوکہ ہم اسلام پر عمل نہیں کرتے مگر اسلامی اصطلاحات کو اس بے دردی سے استعمال کر تے ہیں کہ اس کا کوئی جواب نہیں جیسے “شہادت “ اور شہید کا استعمال ! کہ ہم بلا تصدیق کے، کہ کسی نے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے جان دی ہے یانہیں ہر ایک کوشہید کہدیتے ہیں ؟  اس کی ایک مثال ہم نے شکار پور (سندھ) میں دیکھی کہ ہمیں ایک مزار نظر آیا ، میزبان سے پوچھا یہ کس کا مزار ہے جواب ملا کہ ایک شہید کا ! چونکہ ہمیں تاریخ سے بہت دلچسپی ہے اور سندھ ظلم کے خلاف تحریکوں سے بھرا ہوا ہے ۔ لہذا ہم نے پوچھا کہ یہ بزرگ کس ظالم کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے ؟ توانہوں نے بتایا کے اِن کے ایک لڑکی سے نا جائز تعلقات تھے۔ اس کے رشتہ داروں کو پتہ چل گیا اور انہوں نے انہیں قتل کردیا؟ یہ تو شکار پوری مثال تھی جانے دیجئے ؟ اسی طرح ہجرت اور اس جیسے بہت سے ا لفظ ہم استعمال کرتے ہوئے احتیاط نہیں برتتے۔ اگر احتیاط برتتے ہوتے تو معجزے کے بجائے صرف ناممکن یا بہت ہی گاڑھی اردو بولتے تومافوق الفطرت بات کہہ سکتے تھے۔ مگر یہ تو جب ہی ہوتا کہ ہم اپنی اسلامی اصطلاحات کے معنی جانتے ہوتے۔آجکل ٹی وی پر جو اردو بولی جارہی ہے۔ اس کے لیے ہمارے دوست پروفیسر غازی علم الدین صاحب جو کہ ازادکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے اپنی ایک کتاب میں پورا باب لکھا ہے اسے وہاں پڑھ لیجئے۔ بہر حال لفظ “معجزہ “کا غلط استعمال کرنے والے خوش قسمتی سے جیساکہ ان کے نام سے ہم پر ظاہر ہوا کہ الحمدا للہ وہ مسلمان گھرانے سے بھی تعلق رکھتے ہیں ۔  اوران کے بقول معجزہ ہو گیا ؟ اور ٹرمپ صاحب جیت گئے۔ جنہوں نے معجزہ کہا انہیں شاید پتہ نہ ہو کہ معجزہ جسے کہتے ہیں وہ بغیر نبی (ع) کے ممکن نہیں ہے اور اسلامی عقیدہ کے مطابق حضور (ص) کے بعد کوئی نبی (ع)  نہیں ہے۔ ہاں ولایت باقی ہے اور ان کے ہاتھ سے اگر کوئی بات خلاف معمول ہوجائے تو اسے کرامت کہتے ہیں، معجزہ نہیں ۔مگر کرامت کا معاملہ بھی وہی ہے جو معجزے کا ہے! وہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے اور ان دونوں کاکرنے والا ہمیشہ سے ایک ہی ہے اور وہ ہرجگہ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا ۔ اسکے لیے وسا ئل کا ہونا اور نہ ہونا ضروری نہیں ہے وہ جب چاہے اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسے صرف کہنا ہو تا ہے کہ ہو جا اور وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ مگر مسلمان اب اس پر یقین کرنے کے بجائے  وسائل پر یقین کرتے ہیں اور اس کو چونکے بھولے ہو ئے ہیں اس لیے ایسی بات کہتے ہوئے بھی بھول جا تے ہیں ۔ا ور یہ بھی کہ اس کے لیے کسی فرد کا ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے! وہی دنیا کے ٹھیکیداروں کو صرف یہ جتانا چاہتا تھا کہ ِ ا س سے زیادہ بد امنی برداشت نہیں کی جاسکتی لہذا سدھر جا ؤ ورنہ میں وہی کرونگا جو کرتا آیاہوں؟
میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ آپ اس سے سمجھ لیجئے کہ ہمارے ایک مرحوم دوست ابراہیم جلیس نے کبھی ایک کالم لکھا تھا۔کچھوؤں کے انڈوں کے بارے میں  تھا۔ جوکہ اس دور میں کراچی میں لوگ سمندر کے کنارے سے چن لاتے تھے اور بازار میں لاکر بیچ دیتے تھے۔ ایک روز وہ پیر الہیٰ بخش کالونی سے بس میں جنگ کے دفتر جانے کے لیے روانہ ہو ئے تو دیکھا کہ ایک کچھوا ان سے پہلے بس سے اتر رہا ہے اور جب وہ زینہ چڑھنے لگا ،اس فلیٹ میں جانے کے لیے جہاں جنگ کا کبھی دفتر ہوا کرتا تھا۔ تب انہوں نے روک کر اس سے پوچھا کہ بھائی ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہو؟ تواس نے کہا کہ تمہارے مونہہ سے میرے انڈے کی خوشبو آرہی ہے ۔ میں نے اسے یقین دلا یا کہ یہ میں نے فلاں حاجی صاحب کی دکان سے خریدا تھا۔ تو کہیں جا کر اس نے میری جان چھوڑی، اور جوڑیا بازار کی راہ لی۔ جب ایک کچھوا اپنا انڈا نہیں بھول سکتا تو انسان ساری دنیا کے وسائل اپنے قبضہ میں کر نے والے ملک یاملکوں کو کیسے بھول سکتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی چاہیں کہ لوگ ان کاپیچھا بھی نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے؟
اس کا حل بہت پہلے ایک ماہر معاشیات جناب عزیز احمد مرحوم نے پیش کیا تھا، جب وہ اقوام متحدہ میں مشیر تھے۔ مشورہ یہ تھا کہ آپ لو گ اگرامیگیریشن کو روکنا چا ہتے ہیں تو اس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ جو ساری دنیا سے دولت سمیٹ کر لائے ہیں اس میں سے تھوڑی سی اس علاقہ میں سر مایہ کاری کر کے چھوڑ دیں، تو انہیں وہیں روزگار مل جا ئے گا اور وہ یورپ اور امریکہ کا رخ نہیں کریں گے، کیونکہ ترک وطن آسان کام نہیں ہے یہ ان سے مجبوری ہی کراتی ہے۔ مگر وہ روکنا بھی نہیں چاہتے اس لیے کہ جب سے ان کی نئی نسل نے یہ طے کیا کہ ان کی اولین ترجیح عیش کرنا ہے اور اس کے “ بعد“ کہیں بچے پیدا کرنا؟ جب سے اب انکی “ بعد “ ہمارے “ کل “ کی طرح کم ہی آتی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ پیدائش گھٹتی جارہی، بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے کماؤ پوت کم ہوتے جارہے ہیں۔ لہذا تارکین وطن ان کی مجبوری ہیں ۔ دوسرے یاتوان کے دانشوروں نے الٹا سمجھا یا پھر مسائل کا حل انہیں یہ نظر آیاکہ بجا ئے اس مشورے کو اپنانے کہ ، انہوں نے یہ طے کیا کہ انہیں آپس میں لڑادو تاکہ ہمارے کارخانے بھی چلتے رہیں اور ہم بدستور اسلحہ کے سب سے بڑے بیو پاری بھی بنے رہیں ۔ اس پالیسی سے دنیا کا توازن اتناخراب ہو گیا کہ غریب غریب تر ہوتا چلا گیا اور امیر امیر تر ین بن گیا۔ آخر کار مالک ِ کائینات کو خود حرکت میں آنا پڑا اور وہ کچھ ہو گیا جو ان کے خیال اور خواب میں نہ تھا۔ آگے کیا ہو گا یہ اسی کو پتہ ہے؟ جیسا کہ میں نے پہلے بار بار کہا کہ ہماری جگہ کوئی اور لے لے گا۔ کیونکہ سورہ مجادلہ کی آیت نمبر پانچ کہہ رہی ہے کہ دین اور نبی (ص) کے مخالف ناکام رہیں گے، جیسے کہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں ۔ اور منکریں کے حصے میں ذلت آئے گی۔ لہذا جب تک ہم نہیں سنبھلیں گے انہونیوں پر ان ہونیاں ہوتی رہیں گی،حتیٰ کہ ہماری جگہ کوئی اور لے لے جن کے ہاں انصاف کی حالت بہتر ہو ؟

Posted in Uncategorized

کون جیتا، کون ہارا۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے ؟ اس لیے کہ ہمارے ہاں سچ بولنے کا رواج ہی نہیں ہے ۔اگر لوگ سچ بولتے ہوتے تو ہم جیسے باہر والوں کے لیے یہ فیصلہ کرنابڑا آسان ہوجاتا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔ ہم تو اپنے تجربہ کی بنا پر کچھ  نہ کچھ پرکھ بھی لیتے ہیں، مگر ہماری نئی نسل جو یہاں پیداہوئی ہے وہ جھوٹ نہ بولتی ہے نہ جانتی ہے۔ جبکہ جو لوگ حکومت میں ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ عوام نے حزب ِ اختلاف کو رد کردیا اوراس پر وہ عوام کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف حزب اختلاف والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر ہمیں سے کہہ رہے ہیں کہ ہم لڑے نہیں ؟ اور یہ کہ جو لوگ شیخ رشید کو نہں پکڑ سکے، وہ کنٹینرز اور پولس کے سخت گھیرے کہ با وجود جلسہ کرکے چلےگئے وہ اور کیا کریں گے۔؟
چونکہ آج  کل سب چیز کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوجاتی ہے! اس کے لیے دنیا کو دیکھنا آسان ہوجاتا ہے؟ ہم نے بھی ہاتھ پاؤں بندھے دیکھے جو محاورے کے اعتبارسے درست کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پولس کو ہم نے دیکھا کہ لوگوں کوگرفتار کر رہی تھی، پولس وین میں بٹھاکر لے جارہی ہے ۔ سڑکیں بند کرے کھڑی تھی ۔ شیخ رشید صاحب کو دیکھا کہ ایک موٹر سائکل پر رومال لپیٹے لال حویلی  کے قریب والے چوک میں تشریف لائے چونکہ ہونٹ ہلتے دکھا ئی دے رہے تھے، اسے ان کے دعوے کے مطابق تقریر بھی کہا جاسکتا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا یہ بھی ہے کہ انہوں نے وہاں اپنا مخصوص سگار سلگایا اور پیا؟ یہ کیسے ممکن ہوا؟ وہ حکومت کے سوچنے کی بات ہے ہمارے لیے نہیں؟ اس سے جو بات ثابت ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ پولیس کے بڑے افسر حکومت ساتھ ہو سکتے ہیں؟ مگر چھوٹے نہیں جو کسی کو گرفتار کرنے کام آتے ہیں اور وہی ان کے ہاتھ پاؤں ہوتے ہیں؟ لہذا انہوں نے نہ شیخ صاحب کو آتے دیکھا نہ جاتے دیکھا ، جیسے  کہ پولس اکثر اسوقت  نہیں دیکھتی ہے جبکہ مفرور ملزمان بھی اسکے سامنے اپنی تقاریر کر کے چلسے سے چلے جاتے ہیں اور اپنی با قاعدہ انتخابی مہم بھی چلا تےہیں ۔ اس لیے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ پاکستان میں کون کب ان کا وذیر بن کر آجائے ،پھر ان کو اس کے زیر عتباب نوکری کرنی مشکل ہو جائے؟ اگر بات یہ نہیں ہے تو پھر یہ ماننا پڑیگا کہ چھوٹے افسروں کی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ  نہیں،  بلکہ اپو زیشن کے ساتھ ہیں جو حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔  جبکہ مرکزی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت یہاں تک چلی گئی کہ اس نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ وفاق کے ایک یونٹ کے انتظامی سربراہ ایک جلوس کی قیادت کررہے ہیں اورا س کا راستہ روکنے کے لیے پہلے تو ریت اور بجری کے ٹرک ڈالدیئے ،جب وہ اس سے بھی نہیں رکے تو کنٹینر ز کھڑے کر کے ان کو روکاگیا ، اور جب انہوں نے اس رکاوٹ کو بھی عبورکرنے کا ارادہ کیا تو بات آنسو گیس سے گزرتی ،ہوا ئی فائرنگ پر جا کر ختم ہو ئی ؟ یہ وہ نازک  لمحہ تھا کہ اگر ذرا سی بھی غلطی کوئی کر جا تا، تو وفاق کو شدید نقصان پہنچتا ۔ کیو نکہ یہ اس علاقے کے لوگ تھے ۔ جنہیں شروع سے ہی پنجاب سے شکایات تھیں وجہ یہ تھی کہ وہ  پہلے ہی ایک مہاراجہ کی حکومت سے  گذر چکے تھے جسکا تخت لاہور تھا اور انہوں نےبمشکل اس سے جان چڑھائی تھی اسی دوران انہوں نے جنگ آزادی بھی لڑی جس میں وہ ناکام ہوئے اور مولانا سید احمد (رح) اور حضرت اسمعٰیل (رح) شہید ہوئے۔ بعد میں پھر جب انہیں اللہ اور رسول (ص)کے نام پر مولانا شبیر  احمدعثمانی (رح) اور ان کی قیادت میں دوسرے علماءاور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے گاؤں ،گاؤں جاکر سمجھایا تو وہ ریفرینڈم کے ذریعہ پاکستان میں شامل ہو نے پر راضی ہو گئے۔ اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کانگریس کی حکومت تھی اور خان عبد الغفار خان جو سرحدی گاندھی کہلاتے تھے ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب صوبائی وزیر اعظم تھے۔ اب چونکہ وہاں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں جب فیصلہ دیدیااور ان کی حکومت اسے تسلیم کرتے ہو ئے مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھا رہی تھے، تو انہیں معاف کرکے ایک موقعہ دینا ضروری تھاجو کہ جمہوری طریقہ تھا۔یعنی ان کی حکومت سے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ آپ نئے حالات میں دوبارہ صوبائی اسمبلی سے ا عتماد کا ووٹ حاصل کر یں۔ اگر نہ کرپاتے تو وہ خود بخود حکومت کرنے کا قانونی جواز کھو بٹیھتے ؟ بجا ئے اس کے ان کی حکومت کو بر طرف کر دیا گیا اور یہ پاکستان کا واحد صوبہ تھا ،جس کو پاکستان بننے کے نتیجہ طور پر اپنے منخب نمائندوں سے ہاتھ دھونا پڑے اس کے بعد انہوں نے جو طرز ِ حکمرانی دیکھا وہ کچھ تابناک نہ تھا۔ جبکہ صرحد پار کا مسلمان ملک جس میں ان کا نصف قبیلہ آباد تھا، پہلے ہی سے ہندوستان کی گود میں تھا۔ وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام ِمتحدہ کی رکنیت کے لیے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ایسے میں ہمیں جو بہت ہی دانشورانہ قدم نظرآیا وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی (رح) کا  تھا، ( فسوس کہ انکی زندگی  نے وفا نہ کی جو ایک اعلان کے ذریعہ انہوں نے قدم اٹھایا تھا پائے تکمیل کو نہیں پہونچا ورنہ وہ ان کے دل بھی فتح کرلیتے جیسے  علاقے کو دو سو سال میں انگریز فتح نہیں کر سکا وہاں سے یہ کہہ  کر فوج ہٹالی) کہ “ اب پاکستان بن چکا ہے یہ حکومت تمہاری ہے، سرحدوں  کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے “ اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ افغانستاں اور پاکستان کے درمیان پختونوں کا آزاد علاقہ ایک بفر اسٹیٹ بن گیا اور جو وقتی خطرا ت تھےوہ ٹل گئے۔ ایسی صورت میں جبکہ آپس میں غلط فہمیاں ہوں دل صاف نہ ہوں اس خطے کے لوگوں کو دوبارہ چھیڑنا کوئی دانداشمندانہ فعل نہ تھا۔خدا کا شکر ہے کہ جس نے یہ ملک بنایا تھا اپنی کریمی سے ہماری بد عہدیوں کے باوجود اسے ایک مرتبہ پھر بچا لیااور وہ خطرہ ٹل گیا کیسے ٹلا ہم نے اپنے گزشتہ  کالم میں لکھا  تھاکہ پاکستان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ بنا نا چاہتا اس نے بنادیا، اور جب سے اب تک اس کو بچاتا  چلاآرہا اس مرتبہ پھر بجا دیا۔ یہ معجزہ کیسے رونما ہوا اپنے بھید وہ خود ہی جانتا ہے ؟ بظاہر جو نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ عدلیہ آڑے آگئی جس کی سر براہی اس خاندان کا ایک فرد کررہاہے ۔ جس کے سپرد ایک حدیث کے مطابق اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) ذریت کو مسلم امہ کی نگہبانی کا کام قیامت تک کے لیے سونپا ہوا ہے۔ اور وہ ہمیشہ ایسے موقعوں پر تاریخ میں اس وقت متحرک نظر آئی ہے۔ جب سب ہمتیں چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔  سب سے پہلے تو حضرت امام حسین (ع) اس کے آڑے آئے اور دین کو بچایا؟ اس کے بعد سے کوئی نہ کوئی  انکی اولاد میں سے سامنے آتا رہا اور دین کو بچا رہا؟ جیسے کہ ہندوستان میں دین الہیٰ ا کبر شاہی کے مقابلہ میں حضرت احمد سرہندی (رح) ۔ اس مرتبہ بھی حضرت بابا فرید گنج شکر (رح) کے خاندان کا ایک فرد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے  بھیجدیا اور خطرات فل الحال ٹل گئے۔ جس کو کہ وقت ایک ایسے موڑ پر لے آیا تھا اور لانے والوں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی، بس ذراسی چنگاری دکھانے کی دیر تھی کہ مراقش کی طرح آگ بھڑک۔ اٹھتی اور پھر بجھائے نہ بجھتی۔  جناب عمران خان صاحب نے اس پر یوم ِ تشکر منایا! بہت اچھی بات تھی۔ اگر ان کواس کوحدیث اور سنت پر عمل کرنے کے ساتھ منانا مشکل تھا ،جو کہ روز بروز  مسلمانوں کے لیے مشکل ہو تا جارہا ہے اس کے لیے ان کا ماڈرن ازم مشکوک ہوتا ہے۔ تو بہتر تھا کہ اپنے اجداد کی روایات پر چلتے ہو ئے اس طرح جشن تشکر منا لیتے ، جیسے وہ مناتے تھے یعنی پہلے دو رکعات نماز شکرانہ ادا کرلیتے؟ رہے دوسرے کام ان کے لیے تو پورا دن پڑا تھا جوکہ آجکل پاکستانی کلچر کا حصہ ہیں۔ اس سے کم از کم دیکھنے والوں کو یہ تسلی ضرور ہو جاتی کے شاید قوم اس طرف آہستہ ،آہسہ واپس آتی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس پر ادبارآیا ہوا ہے اوراسے بلاؤں نے گھیرا ہو ا ہے۔

Posted in Uncategorized

اتنی بلندی اورایسی پستی ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

اتنی بلندی اورایسی پستی ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
پانا  مالیکس پر وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف صاحب کا رد ِ عمل دیکھ کر ایسا محسوس ہو تا تھا کہ قرون اولیٰ کا دور واپس آگیا ہے، اس کی وجہ ان کی وہ رضاکارانہ پیش کش تھی کہ آؤسب سے پہلے میرا احتساب کرو! اگر وہ اس پر قائم رہتے تو قوم کی آنکھوں تارا بن جاتے ۔پھر اس قوم سے یہ بعید نہ تھا کہ وہ انہیں “امیر المونین“ بھی مان لیتی اورانکی وہ خواہش بھی پوری ہو جاتی جو مدتوں سے ان کے دل میں تھی ۔ کیونکہ انکا خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا انہیں ان بلندیوں پر لے گیا تھا جو صرف خلفائے راشدین کا طرہ متیاز تھا ان کے بعد معدوم ہوگیا ۔ ہر انسان کے ساتھ ازل سے شیطان لگا ہوا ہے ۔ اسے ذرا سا موقعہ ملا نہیں اور وہ اس خوبصورتی سے بہکا تا ہے۔ کہ انسان کے جد ِ امجد حضرت آدم (ع) اس سے نہیں بچ سکے ؟ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ہر مومن کی روز نئی شان ہو تی ہے اور یہ بھی کہ ہر مسلمان کا آج گزرے ہوئے کل سے بہتر ہونا چاہیئے۔ مگر وہ بہتر جبھی ہو تی ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقیر سمجھتے ہو ئے ہر تحریص سے بچ کر نکل جا ئے۔اور شیطان کتنے ہی سبز باغ دکھا ئے اور وہ اس کی سنی ان سنی کردے ؟ بہت سے لوگ بہت کچھ کہتے رہے کہ اس کے پیچھے یہ ہے اور وہ ہے ۔ مگر ہم تو اس کے قائل کے ہیں کہ اپنے ہر مسلمان بھائی کے لیے اپنے دل میں خوش گمانی رکھو ، بد گمانیوں سے بچو کہ وہ گناہ کی طرف رہنمائی کر تی ہیں اورجہنم کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ ابھی برے وقتوں سے گزر کر آئے ہیں ۔ ایک دو دن نہیں کئی سال جلا وطنی میں گزارے اور جلا وطنی بھی ایسی جگہ کہ جہاں جانے کی آرزو ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے۔ وہاں جنہیں حج مبرور میسر ہو جا ئے تو لوگ پورے کہ پورے بد ل کر آتے ہیں ۔ شیطان سے فرشتہ بن جا تے ہیں ۔ ہم نے جب ان کے صاحبزادوں کو ہر بات پر الحمداللہ ٹی وی پر کہتے سنا تو ہمیں یقین ہو گیا کہ وہ نہ خود بدل گئے ہیں بلکہ اپنی اولاد کی بھی اصلاح کر لی جبھی تو وہ بھی بات بات  پرالحمد للہ کہہ رہے ہیں۔ مگر نہ جانے کیا ہوا کہ جب تجزیہ نگار پیچھے پڑے تو ان کے بیانات میں تضاد پر تضادنظر آئے۔اور اس کے بعد سے وہ ٹی وی  پر بھی  نہیں آئے اور وزیر اعظم  بھی  دوروں پر باہر رہنے لگے۔ جبکہ چند دن پہلے تو حد ہو گئی کہ بجا ئے احتساب کے لیئے خوشی خوشی خود کو پیش کرنے کہ انہوں نے یہ فرما دیا کہ پنا ما لیکس میں لگا ئے ہوئے الزامات کا جواب دینا بھی میں اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہوں۔
جبکہ لوگ توقع یہ کر رہے تھے۔ کہ وہ اگر حضرت عمر (رض)  کے رویہ کو اپنا تے ہوئے بیٹوں کو اپنی صفائی میں سامنے لا ئے ہیں۔ تو وہ اس معاملہ میں کردار بھی ویسا ہی رکھیں گے جیسے ان کہ صاحبزادے حضرت عبد اللہ(رض) بن حضرت عمر (رض) نے ادا کیا کہ“ جب لو گوں نے بھری مسجد میں پوچھا کہ سب کے حصہ میں ایک ایک چادر آئی تھی اور وہ اتنی چھوٹی تھی کہ کسی کا پیرہن اس میں نہیں بن سکا تو آپ کا کیسے بن گیا“ حضرت عمر (رض) جو کہ بہت ہی غصے والے مشہور تھے۔ نہ وہ بگڑے نہ انہوں نے مہلت چاہی وہیں منبر پر کھڑے کھڑے اپنے صاحبزادے کو فرمایا بیٹا تم ان کو ان کے سوال جواب دو؟ وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے اپنی چادر بھی با با دیدی تھی“اس معاملے کو ایک منٹ سے بھی کم کا عرصہ لگا کہ حضرت عمر (رض) پرالزام لگا بھی اور ختم بھی ہو گیا؟ اور وہ اپنے اس عمل سے جوکہ پہلے ہی “ عظیم “ تھے، عظمتوں کی اس بلندی پر پہو نچ گئے جو ان کے بعد کسی اور کو حاصل کرنا مشکل تھی۔ یوں تو ہر آنے والے نے حضور (ص) کے  بعدایک ہی بات کہی کہ مجھ سے وہ توقع نہیں رکھنا جو کہ میرے پیش رو نے سے رکھتے کہ وہ ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں کہ میں تمہاری توقعات پر پورا نہیں اتراسکونگا ؟ سب سے پہلے یہ الفاظ خلیفہ منتخب ہو نے کے فوراً بعد حضرت ابو بکر (رض) نے فرما ئے! کہ“ میں اگر قر آن اور سنت کے مطابق کوئی حکم دوں تو ماننا اور اگر اس کے خلاف ہو تو مجھے روکدینا ! نیزمجھ سے وہ توقع مت رکھنا جوکہ حضور (ص) سے اس لیے کہ وہ نبی (ص) تھے ان پر وحی آتی تھی ؟ پھر پہلے دن جب کپڑا بیچنے وہ بازار کی طرف تشریف لے چلے تو یہاں ایک روایت تو یہ ملتی ہے کہ لوگوں نے کہا کہ“ آپ اپنے لیے کچھ بیت المال سے مقرر کرلیں ۔ دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا اگر آپ کپڑا فروخت کر یں گے؟ تو پھر سب آپ ہی سے لیں گے اوروں کا کا روبار ٹھپ ہوجائے گا۔ انہوں نے ان کا کہامان لیا اور وہ بیت المال سے اتنا باکراہیت لیتے رہے جس سے کہ بمشکل انکا گزارا ہو تا تھا۔ پھر جب ان کا آخری وقت آیا تو پہلے تو یہ حساب کیا کہ اب تک انہوں نے کتنی رقم بیت المال سے اپنے خرچے کے مد میں لی ہے؟ جوکہ ایک روایت کے مطابق پنسٹھ ہزار بنی اس کے لیے حکم دیا کہ میری فلاں جا ئیداد فروخت کرکے ادا کر دی جا ئے؟ ااس کے بعدحضرت عائشہ (رض) سے پو چھا کہ حضور (ص) کی تکفین میں کئے چادریں استعمال ہو ئی تھیں؟ انہوں بتایا تین۔ فر مایا ایسا کرو! میرے پاس چار چادریں ہیں دو میں اسوقت پہنے ہو ئے ہوں ، دو دھلی رکھی ہیں ،دو وہ لیلو اور ایک بازار سے منگوالو؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرما یا کہ ہم تینوں ہی کیوں نہ نئی خرید لیں؟ فرما یا نہیں نئے کپڑوں کی مرنے والے کے مقابلہ میں زندوں کو زیادہ ضرورت ہے؟ ان کے سامنے حضور (ص) کی زندگی عملی زندگی (اسوہ حسنہ تھا) لہذا انہوں نے خود کو خلافت کے لیے بطور  امیدوارپیش نہیں کیا کہ وہ حدیث انکے سامنے موجود تھی کہ  “عہدوںکی جوخود خواہش کرے وہ خائن ہے “ انہوں نے بنی سقیفہ بنی ساعدہ میں سب کے سامنے حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح کا اور حضرت عمر (رض)نام پیش کیا کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرلو! جبکہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر(رض) کا نام پیش کرکے بیعت کرلی س طرح سے حضرت ابوبکر (رض) خلیفہ منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنے پورے دور ِ خلافت میں کہیں بھی اسوہ حسنہ سے رتی بھر اختلاف نحراف نہیں کیا۔ جبکہ حضرت عمرکو  انہوں نے ان کی صلاحتیں دیکھتے ہوئے اپنا جانشین نامزدکر دیا۔اور انہوں نے بھی ان کی راہ پر چلتے ہوئے جو بیت المال سے خرچہ کے لیے لیا اور اپنے آخری وقت میں اپنی جائداد فروخت کر کے واپس کردیا وہ بہت ہی با کمال انسان تھے، تفصیلات بہت ہیں وہ ان کی سیرت میں جاکر پڑھیئے ۔مختصر یہ کہ ان کے عدل، اور فلاحی مملکت کے عمل کو اپنا کردنیا نے فلاح حاصل کی۔ طرز حکمرانی یہ تھا کہ ان کے دور میں قحط پڑگیا تو انہوں نے شہد کھانا چھوڑدیا کے یہ عام لوگوں کو نہیں مل رہا ہے اور یہ فرمایا کے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جا ئے تو بھی عمر  (رض)قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔؟ اب تیسرے خلیفہ کی انتخاب کی بات لے لیجئے، انہوں نے اپنے آخری وقت میں فرمایا کہ حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح حیات ہوتے تو مں انہیں نامزد کردیتا ! اسوقت جولوگ ان کے پائے کہ موجود ہیں ان پر مشتمل ایک بورڈ بنا ئے دیتا ہوں؟ جس میں ان کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمر اپنے تقویٰ  کی بنا پر شامل تھے ؟ مگر مشروط کہ ان کو خلیفہ نہیں  بنایا جاسکتا؟ “ اور عمر ہی اس خاندان میں خلافت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی ہے “۔حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح کے بارے لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ حضور (ص) نے نجران کے عیسائیوں کی اس درخواست پر کہ “ ہماری طرف کسی ایماندار آدمی کو جزیہ وصول کرنے کے لیے مقرر فرمادیں“ تو حجور(ص) نے یہ فرماکر ان کو اس عہدے پر مقرر فرمایا کہ “ ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے ؟میری امت کے یہ امین ہیں“ان کا اسوہ حسنہ  (ص)پر عامل ہونے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے سب کی کوششوں کے باوجود وہیں رہ کر جان دیدی کہ “جہاں طاعون پھیلا ہو وہاں سے کو ئی شخص دوسری آبادیوں میں نہ آئے اور نہ جائے  “ ا انہوں نے پانچ میں سے دو امیدواروں کو نامزد کردیا ، جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عثمان (رض)۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کو الیکشن کمشنر بنا دیا اور انہوں نے جہاں تک وسائل میسر تھے ہر ایک سے رائے لی جن میں خواتین بھی شامل تھیں؟ اکثریت نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے حق میں فیصلہ دیا ۔انہوں نے مسجد میں جاکر انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اعلان کردیا کہ“ آپ اللہ اور رسول(ص) اور شیخین  کے اتباع پرمیرے ہاتھ پر بیعیت کرتے ہیں؟۔حضرت علی  کرم اللہ وجہہ  نے فرمایا میں اللہ اور رسول (ص) کے اتباع پر بیعت کرنے لیے تیار ہوں مگر شیخین کے اتباع پر نہیں، اس پر میں ا پنا  حقِ اجتہاد استعمال کرونگا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر عثمان یہ شرط مان لیں توکیا آپ ان کے ہاتھ پر بیعیت کرلیں گے؟  توانہوں نے فرما یاکہ ہاں! حضرت عثمان (رض) یہ شرط مان لی اور سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بعیت کرلی۔  “وہ بہت مالدار تھے، انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ “ انہوں بیت المال سے کچھ نہیں لیا۔خارجیوں نے انکامحاصرہ کرلیا۔انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ “ حضور (ص) خواب میں نظر آئے اور فرمایا کہ “ اگر تم لڑوگے تو اللہ کی طرف سے نصرت کی جائے گی اور فتح یاب ہوگے“  ورنہ شام کو آکر ہمارے ساتھ روزہ افطارکرو ؟ انہوں نے روزہ افطارنے کو ترجیح  دی اور سب کو منع کردیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی خون میرے وجہ سے بہے اور وہ شہید ہو گئے ۔ اب سب کی نگاہیں آخری امین کی طرف لگی ہوئی تھیں،کیونکہ انکو اور ان کی اولاد کو حضور (ص) نے قیام ِ “ خم غدیر “ میں امت پر نگراں بنایا تھا۔ وہ شروع سے دن سے خلافت کا بار اٹھانے سے گریزاں رہے ۔ پہلے تو حضور (ص) وصال پر حضرت عباس (رض) نے کہا کہ چلو بنی سقیفہ بنی ساعدہ چلیں شاید ہمارا کام بن جا ئے؟ انکا جواب یہ تھا کہ چچا آپ تشریف لے جا ئیے میں حضور (ص) کے پاس رہونگا، اس کے بعد انہوں نے حضرت عمر (رض) کے انتخاب پر جو تقریر فرمائی وہ دیکھئے؟ حضرت عثمان (رض) کے انتخاب پر بھی انہوں نے انکار کیا؟ اس کے بعد اب کوئی تیار ہی نہیں تھا کہ اس بار کو اٹھا سکے ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ مدینہ سے باہر باغ میں چلے گئے۔ وہاں بھی لوگوں نے تلاش کرلیا اور جب بہت مجبور کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تین دن تک خلافت کو کھلا رکھو اگر کوئی اور تیار ہوجا ئے اس کو منتخب کرلو جب اس کے بعد بھی کوئی تیار نہیں ہوا تو انہوں یہ ذمہ داری قبول فرمالی ؟ انکا طرز حکومت کیا تھا کہ وہ یہ کہ جب ان سے کوفہ پہونچنے پر درخواست پیش کی گئی کہ دارالخلافہ میں قیام پذیر ہوں ۔ تو جواب ملا کہ میں فوج کے ساتھ ہی رہونگا ۔ جبکہ غذا وہی سوکھی روٹی رہی، بیت المال سے صرف چراغ جلانے کے لیے تیل لتے تھے روزمرہ کا حساب کتاب لکھنے کے لیے؟ اس دوران بھی کوئی دوست ملنے آجائے توپہلے چراغ  گل کردیتے پھر بات کرتے تھے۔ ان لوگوں سوال ہے کہ جو “ امیر المونین بننا چاہتے ہیں وہ ان میں سے کس کے پیروی   کریں گے  یہ پہلے طے کرکے امت کو بتادیں۔ کیونکہ امت کے آئیڈیل یہ ہی ہیں۔ ورنہ کوئی تسلیم نہیں کریگا۔ زبردستی کی بات اور ہے(نوٹ۔ میں نے مندرجہ بالا مضمون کی تیاری میں حضرت ابن ِ کثیر (رح) کی تاریخ ِ اسلامی پر کتاب “البدایہ والنہایہ نامی سے سارے واقعات لیے ہیں مزید تحقیق کے لیئے اسی میں پڑھ لیں)۔

Posted in Articles

ڈومور۔۔۔از۔۔ شمس جیلانی

اان دو انگریزی الفاظ (Do,more) کا آجکل پاکستان میں بڑا استعمال ہے حالانکہ تھا  تویہ پہلے بھی استعمال میں مگر کبھی شاذہی استعمال ہوتا تھا۔ رواج یہاں سے پایا کہ اباما امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو معلوم نہیں انہوں نے کہا بھی یا  نہیں، مگر ان کے ترجمانوں نے پاکستانی حکومت سے کہنا شروع کردیا، بس پھر کیا تھا، ہر ایک راگ کی شکل میں الاپتا نظر آیا ؟ آپ کہیں بھی ہوں اور اپنے خیال میں کتنا ہی کام کرلیں؟ بلا تفریقِ رتبہ چآہیں مالک ہوں یا انکے ماتحت ہو ں بیوی،بچے ہوں، راجہ اور پرجا ہو، اہلِ قلم ہو ں یا ٹی وی کے اینکر ہوں ۔ انکے پڑھنے، دیکھنے اور سننے والے ہوں ،اب کو سبھی با جماعت گاتے ہوئے نظر آئیں گے ً ڈو ،مور ، ڈومور ً  فرق یہ ہے کہ اس میں ہر ایک کی توضیحات اور تر جیحات، مختلف ہیں؟اگر بزرگوں سے پوچھیں تو کہیں گے میاں! قناعت اٹھ گئی ہے؟اگر بیوی کی فرمائش کو رد کریں تو وہ فوراً کہدیں گی کہ تمہاری لمبی والی ٹیبل پر جو ساتھی کلرک بیٹھا ہے اسکی بیوی کے کپڑے دیکھو! وہ کیسے مہنگے جوڑے فلانں مشہورفیشن ہاؤس  سے، وہاں سے لاکر پہنتی ہے؟  اگر وہ نیک بخت ہے اور جواب میں کہتاہے کہ مجھے تو اللہ کو منہ دکھانا ہے؟ تو جواب ترکی بہ ترکی ملتا ہے، کیا اسے اللہ کو منہ نہیں دکھانا ہے؟ بچوں کی فرمائش پر کوئی باپ کہے کہ میری اتنی ہستی ہی نہیں ہے کہ یہ میں تمہیں دلا سکوں ! تو بچہ کہتا ہے کہ آپ کے پاس تو بہت مال ہے مگر آپ خرچ نہیں کرتے ، فلاں کے بچے کہہ رہے تھے کہ جس ٹیبل پر آپ کے ابو ہیں اگر ہمارے ابو اس پرہوتے تو ہم تو عیش کرتے؟ یہاں ہم نے اراکان حکومت اور افسروں کا ذکر اس لیے نہیں کیا ان کو تو سجے سجائے محلات ٹھیکیدار تحفے میں دیدیتے ہیں، ان کی بیگمات اور بابا لوگوں کو مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی سب کچھ بغیر مانگے مل جاتا ہے۔اگر ہم ان کا بھی ذکر کریں گے توبات طویل ہوجا ئیگی ؟ مختصر یہ کہ کوئی آجکل اپنی جگہ مطمعن نہیں ہے؟اس کا حل تو ہم آخر میں بتائیں گے ۔مگر آج ہم اس ذکرکو کیوں لے بیٹھے ،پہلے وہ وجہ بتا تے ہیں؟
پاکستان کو جو حالات درپیش ہیں ، اس پر ہم سے ہرایک شاکی ہے اور کہہ رہا “ ڈو مور“ان کو شکایت یہ ہے کہ ہم تمام با تیں پہلیوں میں کہہ رہے ہیں، پہلے کی طرح صاف صاف کہیں؟ انہیں کیا معلوم کہ میڈیا آجکل کس عذاب سے گزر رہا ہے ؟ حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہر آمر کے دور میں پہلے بھی ایسا ہوتا رہا کہ جب وہ تھک جاتا ہے تو جھنجلا ہٹ میں ، اسے سب سے زیادہ جو شعبہ برا نظر آتا ہے وہ میڈیا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے کارنامے منظر عام پر لاتا ہے۔ آمر ان پر پابندیاں لگا دیتا ہے؟ جب بولنے والے منہ بند ہو جاتے ہیں تو اور چلنے والے قلم رک جاتے ہیں تو پھر افواہیں جنم لیتی ہیں جو اس کے اقتدار کو جلدی ہی سمیٹ دیتی ہیں ۔اس سلسلہ میں ایوب خان کے دور کا ایک لطیفہ بڑا مشہور ہوا وہ سناتا ہوں کہ جس سے آپ کو تھوڑا سا اندازہ ہو جا ئیگا ؟پاکستان کی پنجاب والی سرحد تو پاکستان بنتے ہی بند ہو گئی  تھی کہ وہاں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور اس کو بند کرنا ضروری تھا چونکہ یہ اس وقت کی سرکاری توضیح تھی! لہذا یقین نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی۔ پھر بھی بھائی لوگوں نے اپنی سوچ کے مطابق اس کی توضیحات پیش کیں ؟ جس کی بناپر لطیفہ بنتے اورافواہیں اڑتی رہیں ۔ جبکہ 1958 تک سندھ میں کھو کھرا پار کی سرحد انسانوں کے لیے کھلی رہی اس کے بعد بند ہو ئی۔مگر حیوانوں کے لیے اس کے بعد بھی کھلی رہی انہیں دنو ں کا ایک لطیفہ ہے جو عوامیں بہت مقبول ہوا کہ “ کھوکرا پار کی سرحد پر دو کتوں کا آمنا سامنا ہوا، پہلے اپنی عادت مطابق ایک دوسرے پر بھونکے جب ذرا انکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو حال احوال پوچھنا چاہا کیونکہ ایک پاکستان کی طرف بھارت سے آرہا تھا جو بہت بہت ہی دبلا پتلاتھا، دوسرا بھارت کی طرف جارہا تھاجو بہت ہی موٹا تازہ تھا۔ کہ بھائی تو یہاں کیوں آرہا ہے اس نے کہا کہ ہندوستان میں بھوک بہت ہے پیٹ نہیں بھرتا، دیکھ میری ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ گئیں ہیں انہیں بچانے آیا ہوں؟ مگر تو ،تو کافی فر بہ دکھائی دے رہا تو کیوں جا رہا ہے؟ تو اس نے جواب میں کہ کہاکہ کھانے کو تو یہاں بہت کچھ ہے مگر “ بھونکنے نہیں دیتے“
اس زمانے میں ایسی بہت سی افواہیں پھلیتی رہیں، مگر افواہیں پھیلانے والوں میں سے کوئی جیل نہیں گیا اس لیے کہ وہ بعد میں زیادہ تر سچ ثابت ہوئیں؟ جبکہ جو انہیں اخبار وں میں چھاپتے رہے ان کو یہ شرف بار بار حاصل ہوا کہ ان پر غداری کہ کے مقدمات قائم ہوئے اور سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں حفاظت میں لے لیا جاتا رہا۔ ابتدا جناب ابراہیم جلیس مرحوم سے شروع ہوئی  پھر مشق ستم چلتی رہی۔اس زمانے میں بھی لوگ طنز ومزاح میں بہت کچھ کہتے رہے ،مگر اس پر کسی گردن اس لیے نہیں ناپی گئی کہ دنیا طنز مزاح  کوقابلِ گردن زدنی نہیں مانتی ہے؟ دوسرے جو وہ لکھتے تھے اس میں نام  تو ہوتانہیں تھا اس لیے اس کو کوئی اپنانے کو اس لیے تیار نہیں ہوتا تھاکہ لوگ اس وقت برائی کو برائی سمجھتے تھے اور خود کو برا ماننے میں بھی برا ہوتے ہونے کے باوجود تکلف سے کام لیتے تھے۔ مگراب حالات الٹ گئے ہیں ،اگر اب کسی  سےکہیں کہ تم بے ایمان ہوتو وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ایسا نہیں ہوں؟ بلکہ جواب میں کہتا ہے کہ تم  مجھ سے بھی بڑے بے ایمان ہو، تم نے یہ کیا وہ کیا؟ یہ ہماری تہذیب  کاایسا نیا موڑ ہے کہ اب اشاروں کنا یہ میں بھی کچھ کہنا حکومت کو مشکل کر نا پڑا اور اس کے باوجود جو کچھ کہہ رہے ہیں یا لکھ رہے ہیں وہ خود کو بہت بڑے خطرے میں ڈال کر لکھ رہے ہیں ؟ جبکہ حکمراں اور ان کے صلاحکار بھی تجربہ کار ہوگئے؟ وہ سزا بھی زباں پر پابندی لگا کر دے رہے ہیں؟ اوراس میں تائب ہونے کی گنجا ئش رکھتے ہیں جیسے اتنے دن کی زبان بندی !وہ بھی کسی جرم پر نہیں ۔کیوں کہ یہ تو پرانے زمانے کی ریت تھی کہ بارِ ثبوت الزام عاید کرنے والے کے ذمہ ہو تا تھا  صرف ثابت ہونے پر ہی حد جاری ہو تی تھی، اب وقت بڑا مشکل ہے سزا سوچوں پر ہے اور شک  کافائدہ بھی بجائے ملزم کے الزام عاید کرنے والوں کو حاصل ہے ،یعنی سزا معافی الضمیر پر ملی رہی ہے جرم کرنے پر نہیں؟
جبکہ قارئین اور سامعین کا مطالبہ یہ ہے کہ جیسے پہلے لکھتے یا بولتے تھے ویسے ہی بے دھڑک لکھو اور بولو؟ ان میں ہمارے قدر دان بھی شامل ہیں اور کہہ رہے ہیں“ ڈو مور“ ہم نے انہیں سمجھایا بھی کہ مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب ب نہ مانگ؟ مگر ان کا مطالبہ وہی ہے کہ آپ سے تو بہت زیادہ کی امید تھی ؟ کھل کر لکھیے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔بھائیوں جہاں مماثلت پر قد غن لگ رہی ہو ۔ ان بیچاروں پر رحم کرو! اگر انہیں مزید بولتادیکھنا چاہتے ہو تو “ ڈومور“ کی فر مائش مت کرو ؟ اشاروں کنایوں میں ہی ان کی بات سمجھ لیاکرو؟ اگر ایک کی طرح کسی اور کا، یا سب کے منہ یا قلم بند کردیے تو؟
مگر ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے بشرطِ آپ بھی تعاون کریں؟ آگے آپ کے سوالات کے جوابات ہم پیش کررہے ہیں؟ پہلا سوال جو ہم سے بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ “یہ ہو کیا رہا ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے؟ً جواب یہ ہے کہ اب فریقین میں مقابلہ بڑا مشکل اس لیے ہوگیاہے کہ دونوں طرف ستر سالہ تجربہ ہےِ۔  جسےدونوں کام میں لا رہے ہیں ۔ ہوا یہ ہے کہً ایک بھینس بڑی تجربہ کار تھی وہ کچھ بیمار ہوئی تو اسے ڈاکٹر ڈھور یعنی حیوانوں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے؟ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کیا اور دوا ایک بانس کی نلکی میں بھر کے ایک سرا اپنے منہ رکھا اور دوسرا بھینس کہ منہ دیدیا کہ بچاری بھینس ہے کریگی کیا ؟ اس عمل میں انہوں نے پہلے جیسی پھرتی نہیں دکھائی، جبکہ بھینس اپنے ہم چشموں کے تجربہ سے فائدہ اٹھا گئی اور ڈاکٹر صاحب سے پہلے پھونک ماردی، نتیجہ یہ ہوا کہ بجا ئے بھینس کے ڈکٹر صاحب کے پیٹ میں پوری دوا اتر گئی۔یہ تھا اس سوال کا جواب کہ کیا ہو رہا ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کے لیے  کچھ دن انتظار فرمائیے۔
اب اسکا جواب دیتے ہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سلسلہ میں ہم بزرگو ں کے خیال سے متفق ہیں کہ معاشرے میں تمام خرابیاں اس لیے آئیں کہ قناعت ختم ہو گئی ؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فلاح رکھی ہی قناعت میں ہے، جس کو حضور  (ص)نے اس طرح بیان فرما یا ہے کہ “ وہ فلاح پاگیا ؟ صحابہ کرام نے پوچھا کو ن؟ ارشاد ہو ا کہ وہ جس کو اللہ نے علم دیا وہ اس نے لوگوں میں تقسیم کیا“ پھر فرمایا “ جس کو اللہ نے مال دیا وہ اس نے اس کی راہ میں خرچ کیا اور وہ جس کو اللہ نے قناعت عطا فرمائی “اب صورتِ حال یہ ہے کہ علم لوگ بیچتے ہیں بانٹتے نہیں۔ مال راہ خدا میں اول تو خرچ کرتے ہی نہیں اس پر سانپ بنے بیٹھے ہیں؟ اگر کچھ دیتے بھی ہیں تو صرف دکھاوے اور نام و نمود کے لیے وہ بھی اکثر حلال نہیں ہو تا؟ رہی قناعت وہ ہر ایک ڈو مور میں لگا ہوا جو قناعت کا قطعی الٹ ہے۔ نتیجہ کیا ہوگا اسی سے اخذ کر لیجئے؟

Posted in Uncategorized

کس کو سچاجانیں کس کو جھوٹامانیں؟۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

اس وقت تین جما عتیں ہیں جو مہاجروں کی نما ئند گی کی دعویدار ہیں۔ اس میں پہلی تو وہ ہے جس کا لیڈر مدتوں سے کراچی والوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے جبکہ اس نے مہاجروں کے لیے کیا کچھ بھی نہیں۔ صرف ا ن کے نام پر وہ اورانکے ساتھی راج کرتے ر ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ ان کے تابوت کو بھی پوجنے کے لیے تیار ہیں ۔اگر انہوں نے کچھ کیا ہوتا تو پھر تو نہ جانے وہ کیا کرتے؟ جبکہ یہ جماعت عالم وجود میں آئی ہی اس لیے تھی کہ بقول ان کے مہاجروں کے ساتھ سندھ میں بڑی زیادتی ہورہی تھی اور انہیں انکا حق دلانا تھا؟ جبکہ قدیم سندھی خود کہہ رہے تھے کہ جب تک ون یونٹ رہا ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہو تی رہی ۔حالانکہ ون یونٹ بنا نے والوں کا مقصد انتہائی نیک تھااور وہ پاکستان کو بچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت بھی توڑنے والی طاقتیں کامیاب رہیں اور ملک ٹوٹ گیا؟ون یونٹ کے بجا ئے چار صوبے بن گئے ، سندھ ، بلوچستان ، سرحد اور پنجاب اس وقت بھی کچھ لوگ جو مشرقی پاکستان میں تھے وہ اس بات پر ڈتے رہے کہ ہم پاکستانی ہیں لہذا ہم بنگلہ دیش کی شہریت قبول نہیں کریں گے؟ جبکہ ویسٹ پاکستان جس کانام اب پاکستان ہو گیا تھا؟ وہ انہیں نہ پاکستانی ماننے کو تیار تھا ،نہ لینے کو تیار تھا؟ بھٹو صاحب نے اس خطہ کو 1973 ءمیں آئین دیکر اور ایک ملک بنا کر تمام دنیا سے دوبارہ روشناس کرایا؟ اس دن وہ بہت خوش تھے جس دن کہ آئین سے غداری کرنے اور اس میں معاونت کرنے والوں کی لیے سزا ئے موت کی دفعہ دستور میں شامل کی تھی؟ انہوں نے اسی دن پریس کانفرنس میں فرمایا کہ اب کبھی اس ملک میں مارشلا ءنہیں لگے گا اور اگر کسی نے کوشش کی “تو میں انڈیا سے ٹینک پر بیٹھ کر آؤنگا“ جنرل ضیاءالحق نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ لیا جس کو کہ وہ اپنا خاص آدمی سمجھ کر لائے تھے۔ اور ان کی یہ حسرت اور جملہ اخباروں کی آرکائی میں ابھی تک کہیں پڑا ہوا سڑرہا ہوگا کہ “ وہ انڈین ٹینک پر بیٹھ کر آئیں گے“ ۔مگر وہ آنے والوں کو یہ راہ دکھا گئے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ اور اس کے بعد سے بقیہ پاکستان کے غیر مطمعن خطوں نے انڈیا کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور انڈیانے ان علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کا جال بچھایا تاکہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالکر اپنی بڑائی منوا سکے۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ بھارت کا یہ مطمح نظر کبھی نہیں رہا کہ وہ پاکستان پر قبضہ کرلے یا پاکستان کا کوئی بھی تکڑا بھارت میں شامل کرلے ؟ وہ ہمیشہ سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے بھوٹان کی طرح علاقے کے تمام ممالک اپنا لیڈر تسلیم کر لیں جو کہ نہرو کا ہمیشہ سے خوا ب تھا۔ اس لیے کہ آج کے دور میں کسی آزاد ملک کو نوآبادی بنانا ممکن نہیں ہے۔دوسرے پھر ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہند ؤ ں کاراج قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ ہمیشہ کے لیئے مسلمان اور نیچلی ذات کے ہندو ملکر حکومت بناتے رہیں گے جبکہ دونوں کاتناسب ملکر اُس وقت پچاس فیصد تھا اب ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔میرے دعوے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو تودو لخت کر دیا لیکن  بنگلہ دیش پر اور مغربی پاکستان کے کچھ حصے پرقبضہ کرنے کے باوجود اپنی فوجیں دونوں جگہ سے واپس بلالیں؟ ورنہ مجھے کوئی یہ بتائے کہ وہ دوسری وجہ کیا تھی جو وہ بنگلہ دیش سے چلاگیا ؟ کیا اس لیے کہ وہ بہت بڑا انصاف اور جمہوریت پسند تھا یا وہ دنیا سے شرماتا تھا؟ اگر ایسا تھا تو پھر کشمیر کے مسئلہ پر وہ اپنی جگ ہنسائی کے لیے کیوں تیار ہوا اور اب تک ڈٹا ہوا ہے؟ چونکہ میرا آج یہ موضوع نہیں ہے۔ لہذا یہ میں اپنے ذہین قارئین کو سوچنے کے لیے چھوڑتا ہو ں۔ اور اصل موضوع پر واپس آتا ہوں۔
اس میں دورائیں نہیں ہو سکتیں کہ الطاف حسین کراچی یونیورسٹی میں فارورڈ بلاک کے لیڈر بننے کی کوششیں کرتے رہے مگر کراچی کے ہی نہیں ملک کے تمام تعلیمی اداروں پر جماعت اسلامی قابض تھی لہذا ان کی والدہ محترمہ نے انہیں اپنے دوسرے بیٹے کے پاس شکاگو بھیجدیا جہاں وہ ٹیکسی چلانے لگے ۔ وہیں سے کچھ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جب یہ واپس آئے تو سرکاری میڈیا نے ا ن کو اتنا اچھالا کہ وہ مہاجروں کے لیڈر بن گئے؟ ان کانعرہ تھا کہ میں مہاجروں کو بنگلہ دیش سے لاؤنگا ،اسی بنیاد پر ایک وقت ایسا آیا کہ یہ نواز شریف کی حکومت میں شریک ہو گئے۔ نواز شریف صاحب اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے کچھ مہاجروں کووہاں سے لا ئے بھی اوران کو پنجاب میں آباد کرنا چاہا جس پر وہاں شدید رد ِ عمل ہوا ؟ بعد میں وہ لوگ وہاں رکنے کے بجا ئے کراچی واپس آگئے، جو کہ پہلے ہی سے سندھ کے لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا ہوگا۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ الطاف حسین صاحب کراچی کے بے تاج بادشاہ بن گئے، اور جس نے بھی ان کی مخالفت کی وہ نہ جانے کہاں چلاجاتا تھا جس کاپھر پتہ نہیں چلتا تھا۔ اس کے بعد سالوں تک ان کا خوف دلوں پر اتنا غالب تھا کہ کسی بھی شعبہ کے لوگ ان کی مخالفت کرنے کی جراءت کر ہی نہیں سکتے تھے۔
اس کے باوجود کہ اب وہ دم خم ان میں نہیں رہا لیکن ابھی تک کراچی کے لوگوں کے دلوں سے خوف نہیں نکلا ؟حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنی جماعت کا نام بھی تبدیل کرلیا اور مہاجر مہاذ کے بجائے یہ قومی متحدہ محاذ بن گئی۔لیکن ان کے اس دعویٰ کہ باوجودکہ وہ تمام پسماندہ طبقے کے نما ئندے ہیں اور ان کو “وڈیراشاہی کے چنگل سے نکالنا چاہتے ہیں“ انہیں وڈیروں کے ساتھ بیٹھ کر ہمیشہ حکومت کرتے دیکھا ، دوسری طرف وہ گاہے بہ گاہے مہاجروں کے کے بھی نمائندے بنے رہے کہ وہ انکا ووٹ بنک تھا؟ اس طرح دو چہروں کے حامل ہو نے کی وجہ سے وہ بقیہ ملک میں اپنی کوئی جگہ نہیں بنا سکے؟ مگر کراچی سے ان کی شہنشاہیت نہیں گئی ؟ جوکہ صرف خوف کی وجہ سے قائم رہی؟ سب سے پہلے جس شخصیت نے سر ابھارا وہ مصطفیٰ کمال تھے جوکہ اپنی خدمات کی وجہ سے کراچی میں مقبولیت رکھتے ہیں ۔ جو کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ملک اور سنیٹری دونوں چھوڑ کر دبئی چلے گئے تھے؟ وہ واپس آئے اور انہوں نے اپنی جد وجہد کا آغاز بجا ئے غریب آبادیوں سے شروع کرنے کے ڈیفنس سے شروع کیا ؟ ان کے پیچھے کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا؟ مگر لوگ اس پر غور کریں تو بآسانی اس کی جڑ تک پہونچ سکتے ہیں؟ صرف وہ اس سوال کا جواب اگر جاننے کی کوشش کریں کہ وہ دبئی میں کس کے پاس کام کر رہے تھے؟
کراچی پہونچ کر انہوں نے اپنے سابقہ قائد کی کھل کر مخالفت شروع کردی اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی پارٹی کانام پاک سرزمین پارٹی رکھا ، لیکن ان کی ذات میں ایسی کوئی مقناطیسیت ہے ضرور کہ ان کے ساتھ بہت سے قومی متحدہ محاذکے مبران اسمبلی تک اپنی سیٹیں چھوڑ کر آگئے۔ جسکا سلسلہ ابھی تک جاری ہے؟ ادھر الطاف حسین صاحب نے زمینی حقائق سمجھنے میں غلطی کی اور پاکستان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے یہ ان کی آخری سیاسی غلطی تھی؟ جب انہیں احساس ہوا کہ زمین ہاتھ سے نکلی جارہی ہے تو ان کے ذہن میں وہ پرانا خیال عود کر آیا، جو ان کا پہلے سے آزمودہ تھا اور بعد میں پی پی پی بھی اپنے برے دنوں میں اسے آزما چکی ہے ۔وہ تھاکسی مقامی لیڈر کے نام سے پارٹی کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرانا ۔ پی پی پی نے مخدوم امین فہیم کے نام سے پی پی پی کا پارلیمانی گروپ رجسٹرڈ کرایا اور فائیدہ اٹھایا مگر اسے چلاتی بینظیررہیں اور اب انکے جانشین، بظاہرجناب بلاول چلا رہے ہیں اور بہ باطن زرداری صا حب چلا رہے ہیں اور امین فہیم مرحوم کے صاحبزادے خلیق الزما ں کا کہیں ذکر بھی نہیں ہے ؟ یہاں بھی“ ایم کیو ایم الیکشن کمیشن کے پاس ڈاکٹر فاروق ستار کے نام سے رجسٹرڈ ہے“ لہذا سب کچھ الطاف صاحب ہی رہیں گے اور جب چاہیں گے وہ قبضہ کر لیں گے“ اس بات کو مصطفی کمال صاحب نے بھانپ لیا ہے اور فاروق ستار صاحب کو امتحان میں ڈال دیا ہے ،اب ان کے مستقبل کا انحصار ان کی ذہانت اور ان کے اس فیصلہ پر ہے کہ وہ کدھر جاتے ہیں ؟ دوسری طرف تازہ خبر لندن کے ایک مقدمہ میں انہیں با عزت بری کرواکر ایک بڑے یا کئی بڑوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ ان سے ڈرو، کیونکہ ابھی تک وہ ہمارے لیے کار آمد ہیں؟ اس کے بعد لندن کی رابطہ کمیٹی کے قیام کااعلان بھی آگیا ہے ۔اسی لیے ہم اپنے قارئین سے مستقل عرض کر رہے ہیں کہ دیکھئے اور انتظار فرمائیے۔

Posted in Articles

نوبت بہ ایں جا رسید ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے پاس سعودی عرب سے چارخبریں ہیں ؟ تین اچھی ہیں اور ایک بری، پہلی اچھی خبر یہ ہے کہ شاہ سلمان بن عبد العزیز اتنے تھوڑے سے عرصے میں بے انتہا مقبولیت حاصل کرگئے اور وہ ان لوگو ں کی فہرست میں شامل ہوگئے جو دنیا میں مقبول ترین اور موثرترین ا نسان مانے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست کو ایسے خطابات پانے والوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ لو یہ بھی امتیازیوں میں شامل ہوگئے۔۔ جسے بھی نشان امتیاز ملتا ہے تو کہتے ہیں، اچھا تو آپ کو بھی امتیاز حاصل ہوگیا، وہ بھولا شخص خوش ہو جاتا ہے اور پھولے نہیں سماتا کہ مجھے مبارکباد مل رہی ہے؟ دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ اس مرتبہ حج بخیر و خوبی انجام پا گیا اور کوئی حادثہ نہیں ہوا ہم اس پر انہیں مبارکباد دیتے؟ مگر دے اس لیے نہیں رہے ہیں کہ ایران اور اس کے ہم عقیدہ دوسرے لوگوں کو حج کرنا مشکل کردیا گیا اور جس سے ہمارے نزدیک حج کا مقصد ہی فوت ہوگیا کہ یہ اس تسلسل عبادات کا سب بڑا رکن ہے جو اس بین الاقوامی اجتماع پر ختم ہوتا ہے؟ جبکہ ایسا کرنے والوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ کبھی وہ بھی اس دور سے گزرچکے ہیں کہ ان پر بھی ایسی ہی پابندی تھی اوراس وقت ان پر اور انکے بزرگوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی ؟پھر امام حرم کا یہ خطبہ اس پر کام کر گیا کہ سفر حج صرف عبادت کے لیے ہے اس دوران کوئی اور کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ جو کہ صریحاً قر آن سے ٹکرا رہا ہے جس میں یہ کہاگیا کہ حج کے ساتھ اگر اللہ کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ہی یہ بات سورہ جمعہ میں بھی ہے کہ عبادت سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو؟ پھر حضور (ص) کااسوہ حسنہ دیکھا جا ئے تو؟ مساجد کا جو استعمال تھا وہی آج بھی ہونا چاہیئے۔ کیونکہ اسلام ایک دین ہے صرف مذہب نہیں ہے جو عبادت تک محدود رہے یہاں تو مومن کا ہر جائز فعل عبادت ہے۔جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ دین اور مذہب میں فرق کیا ہے؟ جبکہ دین کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان کا ہر فعل اسوہ حسنہ (ص) کے تابع ہو ، ایسے میں اس کاکوئی جزکسی وقت بھی کیسے علیحدہ ہوسکتا جو بھی ایسا کریگا اس کو اسوہ حسنہ (ص) سے دلیل نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کی اپنی ایجاد ہوگی؟ جسکو ایک چھوٹا سا حلقہ تو مان سکتا کوئی مخصوس گروہ مان سکتا ہے جو کہنے والے کا معتقد ہو،مگر تمام مسلمان من حیثیت القوم اسے تسلیم نہیں کر سکتے؟ تیسری اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی طرح قرضہ پرقرضہ لینے اور اخراجات بڑھانے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے بجائے، اخراجات کم کرنے کی طرح ڈالی ۔جبکہ واحدبری خبر یہ ہے کہ امریکن کانگریس نے صدر ابامہ کا ویٹو شدہ بل پھر ویٹو کردیا،اب اس کے نتیجہ میں 911 کے سلسلہ میں سعودی عرب کے خلاف مقدمات امریکن عدالتوں میں چل سکتے ہیں۔
اچھی خبر کہیں سے بھی ہو اور کسی کے بارے میں ہو ہم ہمیشہ اسے نمایاں کرتے ہیں اور اگر وہ دیار ِمقدس سے ہو تو وہ ہمارے لیے نوراً علیٰ نور ہے ؟ اور بری خبر چھپاتے اس لیئے نہیں ہیں کہ اپنوں کی ہے تو دوسروں کی طرح چھپالیں، اوروں کی ہو تو ااچھالیں؟ کہ ہمیں حکم یہ ہے کہ “ا گراپنے خلاف بھی تو بھی ہو تو شہادت مت چھپاؤ“ کیونکہ اس سے دنیا وی نقصان تو یہ ہے کہ ظلم جنم لیتاہے۔ دوسرے مسلمان کی دنیا اور آخرت ہمیشہ ساتھ چلتی ہے لہذا بعد میں اسے دونوں جہان میں ذلیل ہونا پڑیگا ۔ ہمارے لیے سب سے اچھی خبر ہمارے مقتدر کالم نگار جناب محمد، عظیم آعظم کا اپنے فریضہ کے حج ادا کرنے کے بارے میں کالم ہے؟ جس کے لیے ہم تہہ دل سے ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ انہیں حج ِمبرور عطا فرمائے ( آمین) اور ان کی اپنے حج کے تجربہ کی روشنی میں جو تجاویز پاکستانی اور سعودی حکومتوں کو جو انہوں نے پیش کی ہیں وہ انتہائی معقول ہیں۔ ان پر دونوں حکومتوں کو غور کرنا چاہیئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے انتہائی مہذب اور منظم قوم بنایا تھا اور اس کے نبی (ص) نے بھی تعریف کی تھی کہ “ ہماری صفیں فرشتوں جیسی ہوتی ہیں “ جوکہ ابھی تک ہیں لیکن اس کے اندر جو ہم میں سب سے ضروری تھا اللہ کے خوف سے ڈرنے والا دل “ وہ جز آجکل بالکل مفقود ہے اور کہیں دیکھنے کو بھی نہیں ملتا حتیٰ کہ اللہ کے گھر میں اور اس کے مہمانوں میں بھی نہیں؟ کیونکہ ہر جگہ طاقت کا استعمال ہماری فطرت ِ ثانیہ بن چکا ہے۔ عظیم صاحب نے بھی اسی کا رونا رویا ہے؟ کہ وہاں بھی جہاں ہر ایک کو خوف سے کانپنا چاہیے ،لوگ جتھے بنا کر اور طاقت کے زور پر سارے مناسک ِ حج ادا کرتے ہیں؟لہذا کمزور کی یہ قسمت میں ہی ہے کہ مسلمان ملکوں میں تو وہ دبا ہی رہتا ہے وہاں بھی جاکر دبا رہے؟ یہ اسکے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہاں جاکر بھی بھائیوں جیسا مظاہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل خوش کرسکے، کیونکہ وہاں بھی جو حج کرنے جتھوں کی شکل میں آتے ہیں؟ وہ یہاں کی طرح وہاں بھی ً زیادہ اہم سجدہ گاہوں “ پر جاکر قبضہ کر لیتے ہیں“ اور جب تک چاہیں اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو قضا ئے عمری ادا کرنے کی سہولت فراہم کیئے رہتے ہیں؟ انہوں نے گلہ کیا ہے کہ “عزیزیہ“ میں اکثریت کو ٹھہرایا جاتا ہے جہاں سے حجاج کرام روز آ ،جا بھی نہیں سکتے، اس لیے مشکل سے ہی انہیں موقعہ ملتا ہے ،اوپر سے دھکا پیل اتنی ہو تی ہے کہ کمزورآ دمی نہ“ حجر ِ اسود“ کو بوسہ دے سکتا ہے نہ “ حطیم“ اور نہ ہی “ ریاض جنہ“ میں سجدہ ادا کرسکتا ہے ۔ یہاں دومسائل ہیں۔ ایک تو دور ٹھہرانا دوسرے لوگوں کے دلوں میں اسلامی حمیت نہ ہونا؟ چونکہ عظیم بھائی نے حلال کی کمائی سے حج کیا ہے اس لیے دور ٹھہرائے گئے؟ اگر وہ اس کے برعکس قلم کی عزت کا سودا کرلیتے تواوروں کی طرح شاہی مہمان  بن سکتے تھے، دوسرے اتنی رقم بھی کماسکتے تھے کہ“ وی آئی پی حج“ کرتے اورصحن ِ حرم میں ٹھہرتے ، پھر جتنی دفع چاہتے جاتے یا کمرے میں رہتے ہوئے  ہی حرم کی زیارت کرتے رہتے ۔ جسکا ٹکٹ 31 ہزار امریکن ڈالر سے لیکر 20 ہزار ڈالر تک کا ہوتا ہے جو پاکستانی روپیہ میں بات کریں توکروروڑوں کی بات ہے؟ ورنہ حرم کے قریب غربا کاٹھہرنا اب ان کے بس سے باہر ہے جبکہ پہلے عام لوگ وہیں ٹھہرا کرتے تھے اوربڑے لوگ جواس وقت “ وی آئی پی تھے “اکلوتے فور اسٹار ہوٹل میں ٹھہر کر شوق پورا کرلیاکرتے تھے جو چار میل دور تھا ۔ کیونکہ اس وقت حرم کے اطراف میں صرف مسافر خانے تھے۔ جو کہ تمام دنیا کے والیان ریاست اور صاحب ِ ثروت لوگوں نے بنو ا رکھے تھے اور سارے کہ سارے وقف فی سبیل ا للہ تھے۔ جن کو گرا کر موجودہ حکمرانوں نے وہاں ہوٹل بنا دیئے ہیں تا کہ شہزادے بنانے والوں کے شراکت دار بن کر ان کے روزگار میں معاون اور عیش و عشرت کا باعث بنیں۔ اس کے بدلے میں جو ان لوگوں کی طرف سے معلم قابض تھے ان پر انہیں دور دراز مقام پر، انہیں کے نام پر پلاٹ الاٹ کردیے گئے جس پر انہوں نے اپنے نام سے بلڈنگیں کھڑی کرلیں جوکرائے پر اٹھتی ہیں؟ گھاٹے میں رہے  صرف مستحقین جو کبھی حرم کے نزدیک مفت میں ٹھہرا کرتے تھے ابھی میلوں دور تیسرے نمبر اور دوسرے نمبر کے حجاج بن کرٹہرنے پر مجبور ہیں ۔ کاش شاہ سلیمان کو خیال آجائے اوروہ ان تمام رباطوں کی جگہ بنے ہوئے ہوٹلوںکو دوبارہ اپنی جیب سے معاوضہ دیکر پھر انہیں رباطیں بدلدیں جوا نصاف کا تقاضہ ہے؟ تاکہ معمر اور بیمار مگر غریب مسلمان مفت ٹھہر سکیں؟ کیونکہ اسلام میں ایک مرتبہ وقف فی سبیل اللہ ہونے کے بعد “سرکاری فقہ“ کے علاوہ اور کسی فقہ میں توڑا نہیں جا سکتا، چھینا نہیں جا سکتا؟ اور موجودہ شاہ جو اپنے اجداد کے برعکس جس مقبولیت کے حامل حالیہ سروے کے مطابق ثابت ہوئے ہیں اس  پرعمل کرکے دائمی طور پر مقبول ہو جا ئیں گے ااور روز محشر  “عادل بادشاہوں“ کے ساتھ عرش کے زیر سایہ ہونگے ؟ مگر سوچ لیں کہ شہزادوں کی کونسل خلاف ہوجائیگی ، پھر کیا ہوگا! رب جانیں؟
یہ مشورہ دینے کی ہمیں ہمت یوں ہوئی کہ انہوں نے نہ صرف اپنے اخرجات کم کیے ،بلکہ اپنے ایسے ڈیرھ سو کے قریب آفیسروں کی جو کہ وزیروں کے مساوی سمجھے جاتیں ہیں تنخواہیں کم کرکے بہتر ہزار ریال سے بیالیس ہزار ریال کر دیں ۔ اس مثال سے باقی دنیا کے لوگ جن میں وہ مقبول ہیں ان سے متاثر ہوکر اپنے یہاں سادہ زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے ۔ جیسے کہ پاکستان کے سیاستداں جنہوں نے حال میں گرانی کی وجہ سے اپنی تنخواہیں دگنی کی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ اسی حساب سے دست غیب بھی دراز کیا ہے؟
یہ تھیں اچھی خبریں اب آئیے آخری بری خبر کی طرف ؟ کہ حال میں بہت بڑی اکثریت نے امریکن کانگریس میں وہ بل ویٹوکردیا ہے جس کو صدر ابا ما نے شاہ کی اس دھمکی کے بعد ویٹو کیا تھا کہ وہ اپنے سارے اساسے امریکی بنکوں سے نکال لیں گے جو انہوں نے وہاں مال لگا رکھا ہے یا جمع کررکھا ہے؟ مگر یہ تو بتائیں کہ آپ کو نکالنے کون دیگا ؟ اسی لیے تو بزرگ کہہ گئے ہیں کہ سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنا چاہیے ؟ مگر رکھتے کیسے نہیں کہ کسی کہ احسان کے بدلہ ے میں کچھ تو کرنا ہی ہو تاہے؟

 

Posted in Articles

جب رکن پارلیمان فریادی ہوئے؟۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

تمام ملک کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ دیکھیں پا ناما لیکس کا مسئلہ جو اسمبلی کی احتساب کمیٹی میں اٹھایاگیا ہے ۔ اس پر کیا ایکشن لیا جاتا ہے کیونکہ اس کے سربراہ قائدِ حزب ِ اختلاف ہیں اور بنی بھی وہ اسی لیے تھی کہ اگر حکومت اپنے حدود سے باہر نکلے تو اسے روکا جا ئے؟ مگر اللہ نے انکا پردہ رکھ لیا اورفیصلہ سنانے کی نوبت ہی نہیں آئی! جبکہ اسے سننے بڑے بڑے سورما اخبار روں اور ٹی وی کے نما ئندے آئے تھے ۔ اور دونوں طرف کے لیڈر بھی اس میں شمولیت کے لیے بڑی تیاری کرکے گئے تھے جن میں حزب اختلاف والے یہ سوچ کر گئے تھے کہ آج اڑیں گے، کسی کے پرزے ؟ مگر لوٹ آئے کہ تماشہ نہ ہوا ۔ اور شاہ پرست اگر ضرورت پڑے تو راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے آئے ہوئے تھے ؟ اس حادثہ پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ ہمیں ایوب خان کے پہلے والے مارشلا ءکا ایک واقعہ یاد تھا کیونکہ وہ شروع میں واقعی بے نظیر تھا، اس کا بڑا رعب اس لیے تھا کہ قوم کے لیے ملک گیر بنیاد پر یہ پہلا تجربہ تھا۔ لوگ سہمے ہوئے تھے اور انہوں نے ملاوٹ شدہ گھی اور تیل جیسی قیمتی چیزیں بھی نالیوں میں بہا دی تھیں جن میں بہت سو ں کی نقل کے ساتھ اصل بھی بہہ گئی تھی؟ اس کے تحت جب عدالتیں قائم ہوئیں تو سکھر میں جہاں کے ہمارے قائد ِ حزب اختلاف ہیں، چشم ِفلک نے یہ منظر دیکھا کہ ایک نامی گرامی وکیل صاحب اپنے منشی کے کاندھے پر کتابوں کا پلندہ اٹھوا کر لا ئے ! اسے دیکھ کر؟ جج نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتا یا کہ سر! یہ قانون کی کتابیں ہیں ۔ پہلا حکم جو صاحب ِ عدالت نے دیا وہ یہ تھا کہ ان کو با ہر رکھ آئیں ، پھر بات کریں؟ کہاوت ہے کہ حکم حاکم مرگ مفاجات ؟ بیچارے کیا کرتے ۔ اور دلیل کیا دیتے کہ قانون کی کتابیں جج صاحب نے باہر بھجوادیں تھیں؟
آمریت کسی بھی شکل میں ہو؟چاہیں پہلے وہ بادشاہت رہی ہو یا جمہوریت ؟ جب ان میں سے کوئی بے لگام ہو جاتا ہے تو اس کا ایک ہی انداز ِ حکومت ہوتا ہے کہ “ جو ہم کہیں وہ کرو ، جو ہم حکم دیں وہ مانوں، اور جو کہدیں بس وہی قانون ہے “ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ ایک سکریٹری صاحب جو ریٹائر ہونے کے بعد برے وقتوں کے لیے اس کمیٹی کی رہنمائی کو رکھے ہوئے تھے انہوں نے سب کی زبان بندی یہ کہہ کر فرمادی کہ کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا،بقول ایک عوامی ترجمان کے کہ اس اجلاس پر قوم کا بے انتہا پیسہ اور وقت خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اس کمیٹی کا تاریخ میں سب سے زیادہ حاضری سے بھر پور اجلاس تھا۔ اور صدر کمیٹی کے ہاتھ میں پروانہ دیدیا گیا کہ اس کمیٹی کو اس معاملہ کو سننے کا اختیار ہی نہیں ہے اور بات ختم ہوگئی۔ اس رہنمائی کا تقاضہ یہ تھا کہ صدر صاحب اجلاس ملتوی کرکے جلدی سے گھر چلے جاتے ؟مگر اجلاس ختم کیسے ہوتا کہ ایک سرکاری رکن پارلیمان اسمبلی کی شکایت ایجنڈے پر تھی انہیں انصاف مہیا کرنا تھا کہ “ کسی بنک نے انہیں کریڈٹ کارڈ نہیں دیا اوروہ انہیں ادھار نہیں دیتا ہے؟ جبکہ سب کو دیتا ہے “ ان کی فریاد سنی گئی اور اس پرکاروائی کے لیے اجلاس جاری رہا حکم کیا ہوا یہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس پرکسی نے روشنی ڈالنا مناسب نہیں سمجھا ،کیونکہ جو رپوٹنگ کے لیے گئے تھے وہ چھوٹی خبروں پر توجہ اس لیے نہیں دیتے کہ انہیں اس پر نیوزبلٹین میں جگہ نہیں ملتی ہے، مگر ہمیں وہ خبر بڑی اہم نظر آئی؟
کسی دانشور نے کہا کہ ایک ہی کھڑکی سے بہت سے لوگ جھانک کر سڑک کی طرف دیکھتے ہیں اور ہر ایک کو اس کے مطلب کی چیز دکھا ئی دے جاتی ہے؟ ہمیں اس میں کیا ملا آئیے اس پر آپ کے ساتھ سا جھا کرتے ہیں ؟ اس سے آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم بھی کوئی پناما میں کارو بار کرنے والے ہیں، دراصل ہم نے اس انگریزی جملہ کی اردو استعمال کی ہے جس کا استعمال آج کل عام ہے ۔ جیسے کہ معلومات شیر کرنا ، خبر شیر کرنا اور یہ شیر کرنا اور وہ شیر کرنا؟ جب کہ اردو میں شیر کا کام ہے شکار کرنا، اس میں اردو کا ایک اور محاورہ اور استعمال کرلیں جو شیر کے بارے میں ہی ہے کہ لومڑیاں یوں اس کے ساتھ ہوتی ہیں کہ جیسے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پا ؤں ہو تا ہے؟ ویسے ہی شیر کے مارے شکار میں سب کا حصہ ہوتا ہے؟ لہذا اس کے پیچھے کیڑے مکوڑوں کی طرح ہرکوئی چلتا ہے۔
لیکن ہمیں جب بڑی خبر نہیں ملی تو  یوں چھوٹی ہی بہت اہم لگی ؟ کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے یہاں تمام بنک قومی ملکیت میں لے لیے گئے تھے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب ایک کر کے قوم کو فروخت کرنے پڑے اور وہی کاروباری لوگ انہیں سے خرید کر دوبارہ اس سے زیادہ کامیا بی سے اب چلا رہے ہیں ۔یہ اس دور کی خوبی تھی کہ وہ اشرافیہ کی عادتیں خراب کر گیا ؟ کہ لوگ قرضہ لیتے  آتےہی نہ دینے اور معاف کرانے کے لیے تھے ، اور زیادہ تر چیک بھی واپس ہونے کے لیے ہی جاری کر تے تھے۔ لہذا اس دور میں اشرافیہ نے جو ریکارڈ بنا یا وہ اب نئے مالکوں کے کام آرہا ہے اور انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اتنا اچھا ریکارڈ رکھنے والے لوگوں کو ادھار نہ دیں تاکہ بنک سلامت رہے؟ ورنہ دو بارہ دیوالیہ ہو جا ئیں گے کیونکہ یہ احتیاط کا تقاضہ ہے؟ اب وہاں کا تو ہمیں پتہ نہیں کہ وہاں سے آئے ہوئے ایک نسل جتنا عرصہ گزر گیا ۔ مگر یہاں آکرکہ یہ دیکھا کہ اگر ایک چیک بنک میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے واپس ہوجا ئے تو وہ اس شخصیت کے لیے اتنا بڑا د ھبہ ہوتا ہے جو اس کی کریڈٹ ورتھی نیس (صاحب امانت)ہونے کو مشکوک ہی نہیں بلکہ ختم کردیتا ہے اور اگر تین چیک واپس ہو جائیں تو بنک اس کا کھاتا شکریہ ادا کر کے بند کر دیتا ہے ؟ اور دنیا محتاط ہو جا تی ہے کہ یہ قابل ِ اعتبار نہیں ہے؟ اس کے لیے کسی کوکہیں جانا نہیں پڑتا، ایسی کاروباری فرمیں موجود ہیں جو ایک منٹ میں کسی کے کریڈت ورتھی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر دیتی ہیں ۔ اب تو حالات یہاں تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ گوگل صاحب (google) کے سپرد کسی کا بھی نام کردیں وہ اس کے بارے میں سب کچھ بتادیں گے؟پھر بھی فراڈی یہاں بھی فراڈ کر جاتے ہیں اور وہ سب سے زیادہ کریڈٹ کارڈ میں ہو تا ہے ؟ لہذا وہ “ پاور لائن“ تو آپ کولاکھوں روپیہ کی دینے کےلیے تیار ہتے ہیں مگر کریڈٹ کارڈ بہت ہی پرکھنے کے بعد گھٹیلیوں کے بل چلتا ہو اآگے بڑھتا ہے ۔اور اس منزل تک برسوں میں کہیں پہونچتا ہے کیونکہ اس کی کو ئی ٹھوس گارنٹی نہیں ہوتی، سوائے اس کے اپنے کردار کے؟ جبکہ“ پاور لائین“ اور دوسرے قرضوں کے لیے جائداد کی گارنٹی ہوتی ہے ۔ یہ ہی چیز ہے کہ یہاں قسمت آزما کسی کا کارڈ اڑالیتے ہیں اور دو چار دن کے اند لاکھوں کا مال لیکر رفو چکر ہو جاتے ہیں؟ اور بنک والے بیچارے دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ کارڈ ہولڈر کی ذمہ داری صرف پچاس ڈالر تک ہے ۔اس سے بڑے فراڈ پر یہاں نقصان بیمہ کمپنی کا ہوتا ہے اور وہ بیمہ کمپنی بھگتی ہے۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ ہمارے اراکین پالیمان ایک شرط دستور میں موجود ہو نے کے با وجود وہاں یہاں جیسے کردارکی قلت میں مبتلا ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں بچاؤ؟ کیونکہ پھر فرشتے ہی اسمبلی میں آسکتے ہیں جب کہ یہاں یہ شرط با خوبی چل رہی کہ کسی عہدے پرآ دمی اسی صورت میں رہ سکتا ہے جبکہ وہ صاحب کردارر ہو، ذرا بہکا اور عہدے سے فارغ ہوجاتا ہے؟ یعنی ہرایک کا کریڈٹ ورتھی ہو نا ضروری ہے؟ مگر ہم بزعم خود اپنے خیال میں اپنے اندریہ جنس نایاب ہونے کے باوجود ان سے خود کو بہتر کہتے ہیں کہ وہ ان شرائط پر پورے اتر تے ہیں جن پر ہم نہ چلنا چاہتے ہیں نہ پورا اتر نا چاہتے ہیں جوکہ کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی مگر کہلاتے پھر بھی مسلمان ہیں۔

 

Posted in Uncategorized

۔۔۔ لیکن ہم عہد جا ہلیہ میں واپس چلے گئے از۔۔۔ شمس جیلانی

حضور (ص) نے خطبہ وداع میں فرمایا تھا کہ “ آج زمانہ اپنی جگہ پر واپس آگیا ہے “ اس جملہ کو سیاق اور سباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جا ئے تو بات سمجھنے کے لیے بہت آسان ہو جاتی ہے؟ لیکن سیاق اور سباق سے سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ میں بہت پیچھے جا نا پڑےگا یہاں تک کے اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم (ع) نے خود کو تمام امتحانوں سے گزارا اور اس سلسلہ میں قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں سند عطا فرمائی کہ “ ہم نے انہیں بہت سے مواقع پر آزمایا اور اس میں وہ پورے اترے “ تو انہیں اللہ سبحانہ نے اپنی سنت کے مطابق زندہ جاوید بنانے کے لیے دنیا کی پہلی عبادت گاہ کی تعمیر کا کام ان سے لینے کا فیصلہ کیا؟ پھر ان کے ہر عبادتی فعل کو ہمیشہ کے لیے اپنے حکم سے جاری کردیا؟ جو صرف ایک خدا کی عبادت پر مشتمل تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ان کے ماننے والوں نے اس میں بہت سی غلط رسمیں شامل کر لیں ؟ اور وہ اپنی اصل شکل کھو بیٹھا اس میں کچھ عربوں کی ہی بات نہیں بلکہ ہر قوم میں یہ ہی ہوتا آیا ہے کہ جو کچھ اپنے اجداد کو انہوں نے کرتے دیکھا وہ دین سمجھ کر شروع کردیا کہ یہ بھی عبادت کا ایک حصہ ہے؟ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ بجائے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنے کے یہ دن بھی اپنے ذاتی تفاخر اور نسبی برتری بیان کرنے پر صرف ہونے لگے۔ چونکہ اس علاقے کو حضور (ص) نے تشریف لاکراس طرح منور کرنا تھا کہ تاقیامت ان کا نام دنیا میں لیا جاتا رہے؟لہذا حضور (ص) کے تشریف لانے سے پہلے بڑے عرصے تک نہ یہاں کہ باشندے بہکے اور نہ حضرت اسمعٰیل (ع) کے بعد کسی نبی (ع) کی ضرورت پڑی۔ حضور (ص)سے کچھ ہی عرصے پہلے یہاں بہت سی نئی رسوم پیدا ہو ئیں اور انہوں نے دین کی جگہ لے لی۔ مثلا ً برہنہ طواف کرنا؟ جس میں حجاج کی مرضی کو دخل نہ تھا بلکہ ان کی مجبوری تھی کہ منتظمینِ کعبہ نے یہ قد غن لگا دی کہ حرم کا طواف صرف ایک مخصوص لباس میں ہی ہو سکتا ہے۔ اور وہ قریش کا لباس ہے جو ان کی نظر میں شرفا کا لباس تھا۔ لہذا جو اس قابل نہ تھے کہ ویسا لباس کسی طرح اپنے لیے مہیا کر سکیں ،وہ مجبور تھے کہ وہ بغیر لباس کے حج کر یںِ۔ برائی کی شروعات یہ تھی کہ ا یک خاندان شام سے بت لے آیا اور وہ کعبہ میں رکھدیے گئے ، بعد میں وہی خاندان تمام رواجوں کا بانی بنا اور اس نے دین میں بہت سی تبدیلیاں کیں جیسے کے قربان گا ہ جو شروع سے منیٰ میں تھی اس کے بجا ئے، اب جانور بتوں کے قدموں میں قربان کیے جا نے لگے۔ ہر تین سال کے بعد ایک سال تیرہ مہینے کا ہونے لگااور ان کا نما ئندہ اعلان کرنے لگا کہ آج یہ میرے ہاتھ میں ہے کہ جن مہینوں کو چاہوں میں حرام کردو ں اور جن کو چاہوں میں حلال کر دوں! وہاں موجود حاضرین اس کے دعوے کے جواب میں اس کی حاکمیت کو تسلیم کرتے اور وہ جس طرح چاہتا یا مفاد پرست چاہتے وہ انہیں تبدیل کردیتا ؟ اس کے اس حکم سے مہینے بد لتے رہتے اور مفاد پرستوں کو لوگوں کی عدم واقفیت کی بنا پر پرانے بدلے چکانے یا حجاج کو لوٹنے کاموقعہ ملتا رہا۔ جبکہ انجان لوگ یہ سمجھ کر سفر کرتے کہ یہ حرام مہینے ہیں اور ہم بدلہ لینے والوں، چوروں اور لٹیروں کے ہا تھوں سے محفوظ ہیں ؟ اسی طرح جانوروں کی انہوں نے قسمیں بنا دیں کہ یہ حلال ہیں یہ حرام ہیں؟ انہیں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ “ اشرافیہ عرفات نہیں جا ئیگی “ جبکہ دوسرے لوگوں کے لیے عرفات تک جانا لازمی ہوگا ۔ سن نو ہجری کا حج آخری مشرکوں اور مسلمانوں کا مشترکہ حج تھا، جو حضرت ابو بکر (رض) کی قیادت میں ذیقدہ میں ہوا۔ چونکہ اب را ہیں جدا ہو چکی تھیں اسلام غالب آچکا تھا اللہ کا نام ہرجگہ بلند کر نا اس سلسلہ کا آخری کام تھا لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی حج کے دوران حضور (ص) کی طرف سے سورہ توبہ کے مطابق اعلان کیا کہ آئندہ کوئی کافر حج نہیں کرسکے گا ؟ دوسرے حج کے سلسلہ میں لوگ پریشان تھے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں ارکان ِحج کیا ہیں ؟ اور بدعیتیں کیا ہیں ۔ لہذا اس کی عملی تعلیم کے لیے حضور (ص)نے فرمایا کہ میں حج کے لیئے جا رہا ہوں جو چاہے میرے ساتھ چلے اور حج کے ارکان سیکھ لے؟ وہ مدینہ منورہ کے باہر ایک مضافاتی مسجد میں تشریف لا ئے اور دوسرے دن عازم سفر ہوئے۔ اس میں پہلی تبدیلی تو یہ ہوئی کہ سب لوگ دو کپڑوں میں تھے جسے احرام کہہ رہے تھے ،اور حجاج کرام قریش کے مخصوص لباس میں ملبوس نہ ہوئے۔ باقی جیسا حضور (ص) ہر قدم پر عمل فرماتے رہے سب اتباع کرتے رہے۔ جس کو تفصیل سے تمام سیرت نگاروں نے لکھا ہے جس میں یہ احقر بھی شامل ہے جوکہ بہت طویل ہے وہاں پڑھ لیں؟
سب سے اہم تبدیلی ، یہ ہوئی کہ یہاں اب اپنی اور اجداد کی بڑائی کے بجا ئے صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بڑائی اختیار کی گئی، لباس ایک ہوا مقامات ایک ہو ئے، لغویات کو ترک کرنے کا حکم ہوا۔ لعو لہب ختم ہوا۔ “ وقوف عرفات “حج کا لازمی رکن قرار پایا اور حج کا دن سن ِ ہجری میں ذالحجہ کا نوادن دن مقرر ہوا جبکہ سال ہمیشہ کے لیے بارہ مہینہ کا قرار پایا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جو صاحب استطاعت تھے ان پر حج فرض ہواِ مگر اس کافیض صرف ان تک ہی محدود نہیں رہا ،جو صاحب نصاب تھے ، جو نہیں تھے ان کے لیے اس کے متبادل دو عیدوں میں سے ایک عید انہیں دنوں میں عطا کردی گئی سوائے حج کے کیونکہ وہ رحیم ہے اور کسی کو بھی اپنی رحمتوں سے محروم نہیں رکھتا؟
لیکن ہم چودہ سو سال گزرنے بعد اس پر قائم نہ رہ سکے؟ کیونکہ وہاں پر مفاد پرست دوبارہ غالب آگئے ۔ جہاں کوئی امتیاز نہ تھا وہا ں پھر وہی امتیازات پیدا ہو گئے۔ وہ لاکھوں غریب جو حرم کو چاروں طرف سے اس لیے اسے گھیرے رہتے تھے ۔ کہ حضور (ص) نے فتح مکہ کے موقعہ پر مکانو ں کا کرایہ حجاج کرام سے اپنی مرضی کے مطابق وصول کرنے سے منع فرماد یا ۔ اور اس کے نتیجہ میں وہاں لوگوں نے اپنے دروازے حجاج کرام کے لیے کھولدیئے تھے ؟ان کی دیکھا دیکھی تمام دنیا کے والیان ریاست اور صاحب استطاعت لوگوں نے حرم کے اطراف میں مسافر خانے جنہیں رباط کہاجاتا بنا کر غرباءکے لیے وقف کر دیے جو ان سے بھرے رہتے تھے، اب ان کی جگہ ہوٹلوں نے لے لی ؟ تاکہ روساءکو پیدل چلنے کی زحمت نہ ہو؟ اور غریب اتنی دور چلے گئے ہیں کہ مت پوچھیے ؟ یہ ہی وجہ ہے کہ اب حج میں مشقت اشرافیہ کے لیے نہیں رہی لہذا جب وہ لوٹ کر آتے ہیں تو بجا ئے تقویٰ کے حصول میں منازل طے کرنے کی بات کرنے کے،وہاں جو انہیں پیسہ کے زور پر سہولیات میسر تھیں اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسکا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ وہاں بڑا “ فن “ تھا۔ جبکہ خطبہ حج جو کبھی صرف اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے لیے مخصوص تھا اب اس میں بھی بادشاہ سلامت کا بھی ذکر ہوتا ہےِ۔ اسلام کا یہ اجتماع جو ان اجتماعات میں سب سے بڑا ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے امہ کو عطا فرما ئے ہیں ۔ جس میں حکم ہے کہ اگر دو آدمیوں ہوںتو اس میں سے ایک کو امیر بنالو تاکہ وہ امامت کرے ، پھر روزمرہ کے اجتماع، محلے کی مسجدیں اور ہفتہ میں جمعہ بڑی مسجد میں عبادت ۔پھر سال میں ایک بین الاقوامی اجتماع حج کی شکل میں ؟ اس میں ایجاد بندہ یہ ہے کہ اس میں عبادت کے سوائے حجاج اور کوئی بات نہ کریں ورنہ گرفتار کرلیئے جائیں گے اور پھر پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے؟ جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ “ اوقات ِ عبادات کے علاوہ تجارت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے “ نقصان امہ کا یہ ہوا کہ وہ درپش مسائل کو وہاں زیرِ بحث نہیں لاسکتی ؟ اور حج کے پورے فضائل حاصل نہیں کرسکتی ؟ جبکہ دین کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان کا ہر فعل بشمول سیاست اسلام کے مطابق ہو ؟ اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) جبکہ دوسری طرف مسلمان من حیثیت   ا لقوم لعو لہب کو ہی دین سمجھنے لگے ہیں  حرام مال ہے اور دکھاوا ہے،منڈیوں میں قیمتی جانوروں کے آگے رقاسائیں ناچتی ٹی وی پر دکھائی جارہی ہیں،پوری قوم بجائے عبادت کے گوشت کھانے میں مصروف ہے؟ ان کے نمائندے عوام سے بہت ہی سادگی سے پوچھ ر ہے ہیں کہ سنت ابراہیمی کی کو ئی شق باقی تو نہیں رہ گئی ؟ کاش ! وہ یہ طنز یہ کہتے تاکہ جو عامل ِ قرآن وسنت ہیں ان کو خوشی ہوتی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ہ

Posted in Articles

قصور انکا بتاتے تھے قصور اپنا نکل آیا؟ از ۔۔۔شمس جیلانی

آجکل الزامات در الزامات کی بڑی دھوم ہے ایسا لگ رہا کہ محرک ِ تحاریک شاید نعرہ بازی سے اسلام کا دور ِ قرونِ اولیٰ واپس لے آئیں گے ؟ آئیے دعا کریں کہ خدا کرے ایسا ہی ہو ۔ اگر یہ اتنا ہی آسان ہوتا اور صرف نعرے بازی سے بغیر عمل کے کامیابی ممکن ہوتی تو حضور (ص) جو ہمیشہ سب کو آسانیاں فراہم کر نے پر زور دیتے تھے، وہ  (ص)عمل پر زور کیوں دیتے اور نہ ہی عمل کرکے ،ہمیں عمل کرنے کی راہ دکھاتے؟  مگر اس کو کیا کہا جائے کہ قوم کہہ مکرنی کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ انہیں کچھ بھی کہیں کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا؟ کیونکہ ہر ایک اپنے گریبان میں جھانکے بغیر دوسرے کی آنکھ کا تنکا تلاش کر نے میں لگا ہوا۔ اگر ہم سب مصلحتوں سے بلند ہو کر مذہب پر عامل ہو جائیں اور ہر ایک اپنا احتساب خود کرکے میدان میں کودے تو سب کچھ ممکن ہے؟
ہماری ستر سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے قول اور فعل میں ہمیشہ تضاد رہا ہے ؟ اور تضاد، یو ں ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہا ہے الصفات کی ابتدائی آیات میں کہ “ اے ایمان والو! تم وہ باتیں  کیوں  کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو ، یہ بات مجھے سخت ناپسند ہے “ مگر ہم اپنا گریبان عموماً نہیں جھانکتے اور سارے نا پسندیدہ کام کرتے ہوئے اس فریب میں دوسری قوموں کی طرح مبتلا ہیں کہ ہم اس کی پسندیدہ قوم ہیں؟ اگر مندرجہ ذیل باتیں ہم میں نہ ہوتیں!تو ہم واقعی بہت اچھی قوم ہوتے ۔
مثلاً ہم سے یہ کہا گیا ہے کہ مضبوطی سے قر آن کو پکڑلو ؟ ہم اسے مضبوط پکڑے ہوئے تو ہیں کہ جزدان میں بند کرکے بلندی پر رکھ دیا ہے ؟ جبکہ ہمارے یہاں بات ہی اس مشہور حدیث سے شروع ہو تی ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے “ جس کا تقاضہ  ہے کہ ہر کام خالص اس کی رضا کے لیئے ہو؟ جبکہ ہم ہر کام بے دلی سے انجام دیتے ہیں۔ خوش دلی سے نہ ہم نماز پڑھتے نہ روزہ رکھتے ہیں ؟ نہ کوئی اور کام کرتے ہیں؟ نماز جب پڑھیں گے تو اس وقت جب کہ وقت گزر رہا ہوگا۔ اگر روزہ رکھیں گے تو اس طرح کہ پورے گھر والوں ہی کو نہیں ،بلکہ پورے شہر کو پتہ ہو گا کہ ہم روزے سے ہیں ۔ کیونکہ ہم بات بات پر لوگوں سے لڑیں گے اور کہتے پھریں گے ہم روزے دار ہیں ۔ جبکہ ہمیں یہ اس وقت کہنے کے لیے کہاگیا ہے کہ “ میں روزےدار ہوں“ جب کوئی اور نا دان ہمیں تنگ کر رہا ہو تو اس سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیں کہ “ ہم روزے دار ہیں “اور قر آن کی ایک دوسری آیت مزید رہنمائی کر رہی کہ “  اسےسلام کہہ کر رخصت ہو جا ئیں “۔ خیرات کے لیے ہمیں یہ کہا گیا کہ اس ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ؟ مگر عمل کیا ہے کہ دینے سے پہلے دوسرے ہاتھ کو خبر ہو یا نہ ہو، البتہ پورے شہر کو خبر ضرور ہو جاتی ہے کہ فلاں بھائی نے اتنی رقم فلاں نیک کام کے لیے دی ہے ۔ کیونکہ آجکل چیک دینے کا رواج ہے یاپھر وعدہ کر نے کا ، جسے انگریزی زبان میں پلیج کہتے ہیں ؟ یعنی دینے کا وعدہ کر لینا؟ اور بہت سے لوگ اتنے وعدے روزانہ کر تے ہیں کہ انہیں  وعدے یاد ہی نہیں رہتے بلکہ بعض تو اس میں اتنے دلیر ہیں کہ کہتے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جو  پورا کر نے کے لیے کیا جائے ؟ جبکہ قر آن کہہ رہا کہ “ تم سے قیامت کے دن وعدوں پر سوال ہو گا“  ایساکرنے والے شاید یہ سوچ کر کرتے ہوں  کہ اس میں سوال کرنے ذکر ہے “ سزا دینے کا نہیں ہے “ قصہ یہ ہےکہ ہم سب بے انتہا نڈر ہو چکے ہیں؟ مثال کے لیے آپ ہمارے انتخابی وعدوں کی تاریخ کو دیکھ لیجئے ؟ جب ہم ہدایت پاکر دوبارہ گمراہ ہوگئے تو اس کے نتائج نظر آنے شروع ہوئے؟ قوم نے سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہونچی کہ یہ سارے ادبار اسی کا ہی نتیجہ ہیں کہ ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بات نہیں مانی، کھلے عام نافرمانیاں کیں؟ لہذا اس کے سامنے جاکر گڑا گڑائے؟ از سرنواللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اگر تو ہمیں ایک خطہ زمین دیدے تو ہم اس پر مثالی اسلامی حکومت بنا کر دکھا ئیں گے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور اس نے ایک ملک دیدیا ، اگر ہم وعدہ پورا کرتے تو وہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر7 کے مطابق  “اورزیادہ دیتا “ لیکن ہم نے ملک ملنے کے بعد ارادہ ہی بدل دیا، شایداسے پورا نہ کرنے کا تہیہ کر لیا؟ حالانکہ پاکستان بنتے ہی جو پہلا قائد اعظم کی قیادت میں ادارہ تشکیل دیا گیا وہ تھی “ دستور ساز اسمبلی “جو ماشا اللہ ایک دو دن نہیں ، سالوں رہی اور اس کے کرتا دھرتا بھی وہی رہے جو کہ بانیوں میں شامل تھے سوائے ایک کہ جودستور ساز اسمبلی کے صدر اور ملک کے گورنر جنرل بھی تھے۔ جن کے بارے میں یہ واقعہ بڑامشہور ہے کہ جب کانگریس نے بھارت کا دستور بنانے کے لیے دستور ساز کمیٹی بنا ئی تو مولانا شبیرا حمد عثمانی (رح) صاحب ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ بھی ایک دستور ساز کمیٹی بنا دیں! تاکہ ہم پاکستان کا دستور بنا لیں؟ مگر انہوں نے فرما یا مولانا ان کے پاس تو دستور نہیں ہے اس لیے وہ دستور بنا رہے ہیں؟ ہمارے پاس تو دستور موجود ہے ! مولانا سے زیادہ کون جانتا تھا! کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے ؟مگر انہوں نے پھر بھی وضاحت چاہی کہ آپکی اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرما یا کہ “ قر آن“ ان کی نیت تو اس ادارے کو سب کام پر ترجیح دینے سے ہی ظاہر ہوگئی تھی؟ لیکن انہیں وقت نے مہلت نہ دی اور وہ تیرہ مہینے میں اللہ کو پیارے ہو گئے؟ اب ان کے بقیہ ساتھی تھے اور دستور تھا اس بنے بنائے دستور کو نافذ کرنے میں سالوں لگ گئے اور وہ بن کر نہ دیا ؟ پھرچشم َ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہی مولانا پھر اسی مسئلہ پر شدید برہم قائد اعظم (رح) کے ایک ساتھی سے اس تاخیر پر الجھ رہے ہیں؟ اور انکا جواب تھا کہ “ مولانا ! پہلے یہ توطے کرلیں کہ کونسا اسلام چا ہیے“ ان صاحب کو یہ بات اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھی؟ مگر وعدہ پہلے کر لیا اور سوچا بعد میں؟ قصہ مختصر ہم نے با لکل اس شخص کی طرح کیا جو تاڑ کے درخت پر چڑھ گیا پھل توڑنے، اور رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تو اس نے منت مانی کہ اے اللہ! تو مجھے بخیریت زمین تک پہونچا دے تو میرے پاس جو سب سے اچھااونٹ ہے تیری راہ میں قر بان کرونگا ۔ اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف پھسلنا شروع کیا، جب آدھا فاصلہ طے کرلیا تو اس نے سوچا کہ  وہ اونٹ تو بہت قیمتی ہے؟ گائے قر بان کر دونگا اور بتدریج گھٹتے ،گھٹتے مرغ کی قربانی تک آگیا؟ جب زمین سے پیر ٹکرائے تو دیکھا کہ چیونٹیاں جا رہی تھیں اس نے کہا کہ اللہ! جتنی تو کہے اتنی ہی میں ان میں سے قر بان کردوں ؟ ایسے متقی کو شیطانی جواب صرف شیطان سے ہی مل سکتا  تھا جو ملا! اس نے اسکو پہلے یہ راستہ دکھا یا اور اس کے اس عمل کو اس کی نگاہوں میں مزین کرکے بھی  دوبارہ دکھادیا اور اس نے  وعدے کے مطابق ایک کے بجا ئے سیکڑوں چیونٹیوں کو پیر سے کچل کر اپنی منت پوری کر لی؟ ہمارے کرتا دھرتاؤں نے اس آیت کا اگلا  حصہ پڑھا ہی نہیں تھا کیونکہ پورا قر آن پرھنے کی امت کو فرصت کہاں ہے؟ جویہ ہے کہ “ اگر کفر (نافر مانی) کرو گے تو میراعذاب بھی شدید ہے “ وہ دن اور آج کا دن ہے وعدے بہت ہو ئے اور پورے بہت کم ؟ لیکن سزا قوم بھگت رہی ہے کہ ہم نے تو تمہیں یہ حکم دیا تھا  کہ  “ تم  صرف بھلے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دوگے برے کاموں میں نہیں “    جبکہ قوم نے  اپنوں کی وعدہ خلافی کو درست سمجھ لیا اس لیے کہ اپنے ہیں؟ اس کے بعد کیسے کیسے وعدے ہوئے کیسے لوگوں نے کیے؟ اگر میں پوری تفصیل میں جاوں تو آپکو ایسے متقی لوگ بھی نظر آئیں گے جو قرآن پر سب کو عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے ؟ اور  انہوں نےعوام سے وعدے کیے کہ ہم تیس سال پہلے والے بازار کے بھاؤ واپس لے آئیں گے؟ جوکہ جب سے دنیا بنی کبھی کوئی واپس نہیں لاسکا،اللہ نے انہیں بھی اقتدار دیدیا صرف ہمیں تعلیم دینے کے لیے کہ ایسے وعدے مت کرو جو پورے نہ کرسکو؟ مگر ہم نے اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ؟ وہ وعدے پورے نہیں کرسکے ؟ آخری وعدووں کی مثال 2013 کے الیکشن ہیں اس میں وہ لوگ کامیاب ہو ئے جو سالوں کے بجا ئے دنوں میں وعدے پو رے کر نے کے وعدے کرکے  برسرِ اقتدارآئے تھے؟ جو زیادہ تر توانا ئی کے بارے میں تھے؟ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے؟ اگر وہ وعدہ کرنے میں محتاط ہوتے تو اس کاجائزہ پہلے سےلے لیتے تو وہ کبھی ایسے وعدے نہ کرتے جو جھوٹے ثابت ہونا ہی تھے ؟ نہ ہی جھوٹ میں ملوث ہوتے، نہ اعتبار کھوتے انہوں نے  بھی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور وعدہ کرتے رہے کہ ہمیں حکومت ملی تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے اللہ نے حکومت دیدی مگر لوگ وہاں جاتے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ وعدہ فردہ کہاں تک پورا ہو ا! اور مایوس لوٹ آتے ہیں؟ کاش کے لوگ بار بار مایوس نہ ہوتے کوئی تو ایسا آتا کہ اس معیار پر پورا اتر تا جو ایک مسلمان حکمراںکے لیے ضروری ہے  ؟ اب بھی احتساب کانعرہ لگا کر ؟ اس میں بھی نعرہ لگانے والوں نے وہی غلطی کی کہ پہلے اپنا دامن نہیں جھانکا ِ اگر جھانک لیتے تو یہ نتجائج سامنے نہیں آتے کہ وہ بھی اسی میں مبتلا نظر آئے جس میں پہلے والے مبتلا تھے اور جس میں نتیجہ کے طور پر ڈھائی نسلیں گزر جانے کی وجہ سے پوری قوم اب مبتلا ہو چکی ہے؟ ایسے میں وہ فرشتے آئیں گے کہاں سے، جب تک پوری قوم اجتمائی توبہ نہ کرے ؟  آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے عذاب سے محفوظ رکھے (آمین)

Posted in Articles

کہا امکان کا ڈر ہے کہا امکان تو ہوگا؟ از۔۔۔ شمس جیلانی

ایک دور تھا جس میں مذہب کی ضد میں ہرقسم کی پابندیوں سے عوام کو آزاد کرانے کی ترقی پسندوں نے ٹھانی ہوئی تھی لہذا انہوں نے سب سے پہلے شاعروں کو ردیف اور قافیوں سے آزاد کرایا ؟ اسی دور میں کسی نے پیروڈی کے طور پر ایک آزاد نظم کہہ کر موسوم جناب سیف الدین کچلو کے نام کردی جوکہ عوامی قبولیت کا درجہ حاصل کرگئی شاید وجہ یہ رہی ہو کہ اسوقت تحریک ِ پاکستان اپنے عروج پر تھی اور اس وقت تحریک کی مخالفت میں لیڈروں میں وہ اکیلے رہ گئے تھے ؟ جو نہ جانے کیوں آج بہت یاد آرہی ہے کہ جس کا مقطع تھا  “کہا کچلو سے کہدینا کہا کچلو سے کہدونگا کہا شیطان کا ڈرہے کہا شیطان تو ہو گا؟ اور ردیف تھی طوفان وغیرہ جو انہیں کے نام سے مشہور ہوگئی، حالانکہ وہ سرے سے شاعر ہی نہ تھے ، اگر ہوتے تو کوئی اور بھی ایسی کئی غلطی کرتے، جوہمیں تو کہیں نہیں ملی جبکہ انہوں نے عمر بھی طویل پائی ابتدا انہوں نے تحریک ِ خلافت سے شروع کی پھر جب کانگریس نے پاکستان دینا تسلیم کر لیا تو تو وہ کمیونسٹ پارٹی میں چلے گئے اور 1863 میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ لوگ تفریحا ً کسی کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں،ا لبتہ کوئی مداری خود کو ، سچ مچ کا ” ہّوا ” منوالے تو بڑی مشکل ہوجاتی۔ اور ہر وقت تمام امکانات موجود رہتے ہیں ان میں ایک بات ضرور تھی کہ جیسے پاکستان میں بہت سے لوگ پاکستان کے مخالف  تھے وہ بھی پاکستان بننے کے بعد تائب ہو کر آگئے مگر وہ مخالفت میں اتنےپکے تھے کہ امرتسر سے انہو ں نے پاکستان بننے کے بعد بھی امرتسر سے انہوں آگ میں سے گزر کر دہلی جانا پسند کیا مگر پاکستان کی مخالف ترک نہیں کی اور شہر، شہرگھوم کراپنی تحریک چلاتے اور یہ اپیل کرتے رہے کہ کہ لوگ پاکستان کو تسلیم نہ کریں؟ یاد آنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک بہت ہی زیرک ٹی وی اینکر ایک لیڈر سے کچھ سچ اگلوانا چاہ رہے تھے۔ اور وہ انہیں غوطے دے رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اپنے لیڈر کے خلاف ایک گروپ نے بغاوت کردی ہے۔ جو پہلے بھی ایسے ہی ایک موقعہ پر دروغ گوئی کے مرتکب ہوچکے ہیں ۔  اور یہ ہی سب کچھ کرکے پارٹی اور اپنی سیٹ بچا چکے ہیں۔  اور وہاں جہاں ہر ایک کا ریکارڈ یہ ہے کہ جو صبح کہتا وہ دوپہر تک نہیں چلتا؟ یا تردید آجاتی ہے یا وہ معافی مانگ لیتا ہے۔ اس پر انہوں نے کوئی ایسا حتمی جواب نہیں دیا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان کے یا ان کے رہنما یاساتھیوں کا کہہ مکرنے کا امکان نہیں ہے؟
اور یہ انہیں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پاکستان میں ہر ایک کے ساتھ ہے؟ اس لیے کہ وہاں ہر ایک کو چونکہ کسی نہ کسی کے ذریعہ آنا ہوتا ہے؟ لہذا وہ اس کے بچاؤ میں درمیان میں آجاتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے دنوں امریکہ کا بیان آگیا کہ وہ پاکستان کی ایک جماعت کے دفتر گرانے کی پالیسی کو نا پسند کرتا ہے؟یہ درست ہے کہ جمہوریت میں کسی سیاسی جما عت کے دفاتر جموریت پسندوں کے لیے عبادت گاہوں کا درجہ رکھتے ہیں؟ مگر یہ تو تحقیق کرلی ہوتی کہ دوسروں کو الاٹ یا کسی دوسرے مقصد کے لیئے لیے ہوئے پلاٹوں پر دفاتر تعمیر ہوئے ہوں تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟مذہبِ جمہوریت میں تو ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا اس سلسلہ میں کیا فتویٰ ہے، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو مسجد بھی کسی اور کی زمین پر قبضہ کرکے بنا ئی جا ئے یا اس میں ناجائز  کمائی لگی ہو تو اس میں نماز جائز نہیں ہیں؟ اور بنا نے والا یہاں اپنے گناہ کا سزا  بھگتے گا اور روز قیامت  بھی۔ اس سلسلہ میں اسوہ حسنہ (ص) میں بھی بہت نمایاں عمل موجود ہے کہ تعمیر کرنے والوں کا درپردہ منصوبہ کوئی اور ہو ،انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص نہ ہوتو ایسی عمارت کو ڈھادیا جائے جس کی مثال مسجد ضرار ہے اور حکم قر آن میں موجود ہے؟ اتنی خوفناک بعیدوں کے باوجود مسلمان دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے نئی بستیاں آباد کر رہے ہیں ان میں مسجدیں بھی بنا رہے ہیں اور ان میں نمازی نماز بھی پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اسی مال میں سے لنگر بھی جاری ہیں اور کرنے والے مخیر بھی کہلا رہے ہیں ۔
کل صبح تو ہمیں جناب کچلو یاد آئے تھے جب یہ مضمون مکمل کرنے بیٹھے ؟ توآج ہمیں دوسرے انقلابی شاعر جناب حبیب جالب یا د آگئے جنہوں نے ہر دور میں جیلیں کاٹیں مگر موقعہ شناسی نہیں اختیار کی، انہوں نے ایوب خان کے دور میں ایک نظم کہی تھی کہ ع  “ ایک بھائی اندر ایک بھا ئی باہر بیچ میں ان کے گندھارا ،پو بارا بھئی پو با رہ، پورا بھئی پو بارا۔“اب پوچھیں گے کہ یہ کیوں یاد آئے تو وہ سن لیجئے کہ اس وقت سردار بہادر خانصاحب قائد حذب اختلاف تھے اور ان کے برادرِ حقیقی ایوب خانصاحب صدر تھے اور ان کے سمدھی جو کہ ایک ریٹائرڈ جنرل تھے ان کا ایک بہت بڑا صنعتی کمپلیکس تھا جس کا نام تھا گندھا را اور اس میں سب کے نام کسی نہ کسی طرح آتے تھے؟ اور آج کیوں یاد آیا؟ وہ اس لیے کہ ایک صاحب جن کی والدہ محترمہ ہمیشہ فوٹو سیشن میں ان صاحب کے ساتھ ہوتی ہیں جو ہر فوٹو سیشن میں گردان فر مارہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنے قائد سے پاکستان کی محبت میں قطع تعلق چکے ہیں ، جبکہ ان خاتون کے صاحبزادے جو لندن میں ہیں وہ فرما رہے ہیں ۔ کہ ما ئینس ون والا فارمولہ ہمیں منظور نہیں ۔ ایک اور صاحب کو ہم نے یہ کہتے بھی سنا !جب ان سے ایک اینکر نے یہ پوچھا کہ کل آپ کیا اپنے لیڈر کے خلاف قرارداد مذمت پیش کرنے جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلے ہم اس پر غور کریں گے کہ وہ وجو ہات کیا تھیں جن کی بنا پر ان کو اتنا غصہ آیا کہ “ ان کی زبان مبا رک سے وہ الفاظ نکل گئے جس کولوگ غداری کہہ رہے ہیں“ ان تمام باتوں سے ہر طرح کے امکانات نظر آرہے ہیں؟ اس سلسلہ میں رکھنے والوں ان کی لاج رکھ لی کی اپوزیشن اور حکومت دونوں نے مشترکہ قرارداد مذمت ان سے پہلے پیش کردی اب ان کے پاس ہاتھ اتھانے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور انہیں ہاتھ اٹھانے میں پریشانی اس لیے نہیں کہ وہ یہ کام کچھ  کم چالیس سال کرتے آرہے ہیں یعنی کسی کے کہنے پر ہاتھ اٹھانا اور دوسروں کا کام کر نا تھا؟
اب سنیئے اس سلسلہ میں سیاسی رواداروں کی باتیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک چانس اور انہیں دینا چا ہیے ؟ حالانکہ اس کے خلاف حدیث یہ ہے کہ “ مومن ایک سوراخ دو مرتبہ  نہیں ڈسا جا سکتا “  اسے نطر انداز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنا انجام نظر آرہا ہے؟ کیونکہ خبریں اب یہ بھی آنے لگیں ہیں کہ دفتر ڈھانے والے یکہ دکّا ہی سہی مگر اوروں کے دفتر بھی ڈھانے لگے ہیں جو ناجائز تھے۔ ایسا ہوا تو پھر قبضہ گروپ کا کیا بنے گا؟ جس میں کئی پارٹیوں کے حصے ہیں ؟ ہمیں تو اس کھیل کے پیچھے کچھ اور ہی نظر آرہا ہے ۔ اور وہ ہے لوگوں کے دلوں سے وہ خوف  دور ہونے روکنا؟جو ابھی تھوڑا بہت کم ہوا تھا کہ لوگ جان کے خوف سے ایک گروپ کی کراچی میں کسی بات سے انکار نہیں کر سکتے تھے وہ سب کے مفاد میں تھا کیونکہ ایک سے معاملہ کرنا ہمیشہ آسان ہوتالہذا سب کی کوشش یہ ہی ہے کہ کہیں وہ خوف دلوں سے نکل نہ جا ئے ؟ چاہیں اس کے نتیجہ میں ضرب عضب  نے بے مثال کامیابیاں حاصل کرکے جو لا ءانڈ آڈر پوزیشن بنا ئی ہے وہ ضائع ہو جائے ؟کیونکہ ہر ایک کو اس امکان سے اور اس کے نتیجہ  میں اپنے انجام سے ڈر ہے۔ پھر یہ بھی ہے  کہ وہ اپنے ہی نہیں پرایوں،  کے بھی کام آتے ہیں ؟ ایسے کار آمد لوگوں کا نیٹ ورک بر باد کر دینا تو کسی بھی سیاسی گروپ کے مفاد میں نہیں ہے؟ ادھر وہ آفسر پہلے ہی پریشان ہیں اور انکا ایک افسر اظہار بھی کر چکا ہے کہ یہاں ایمانداری کی سزا موت رہی ہے؟ جو ان کے ساتھی بہت سے پہلے بھگت چکے ہیں ریکارڈ یہ ہے کہ دو سو میں سے 199 اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، جنہوں نے ایمانداری سے پہلے کام کیا تھا؟ سیاستدانوں کا کیا ہے کہیں بھی اور کسی کے  ساتھ بھی پھر سے پینگیں بڑھالیں ۔ اور بھا ئی ، بھائی بن جا ئیں؟ ہر ایک اس امکان نے سے سہما یاہوا ہے؟ اور پوچھ رہا ہے کہ خانصاحب ہم اپنی تبدیلی کرالیں یا یہیں بیٹھے رہیں ؟ با لکل اسی قسم کا سندھ میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کچھ لوگوں کو ڈاکو ؤں نے پکڑ کر پہلے تو لے جاکر ایک ایسے پل کے نیچے بٹھایا جو برساتی نالے پر بنا ہوا تھا، پھر ان کی جیبیں خالی کرکے جب جانے لگے تو انہیں اپنی فکر ہوئی کہنے لگے کہ ابھی تو سردی کا موسم ہے اس کے بعد جب گرمی کا موسم آئے گا تو بارش ہوگی یہ نالا زور شور بہنے لگے گا اور ہمیں بھی پانی بہا لے جا ئے گا؟ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر ان کو“ چور“ کہیں تو چور برا مانیں گے، پھر پکاریں کس نام سے؟ توڈرتے، ڈرتے آواز دی کہ “ سائیں چور خانصاحب“ جب بارش کا موسم آجائے تو بھی ہم یہاں بیٹھے رہیں یا چلے جائیں ؟ انہیں چونکہ اپنے تعاقب میں ان کے آنے کا ڈر تھا کہ کہیں پیچھا نہ کریں ؟ انہوں نے ڈپٹ کر کہا نہیں وہیں بیٹھے رہو چپ کرکے؟

Posted in Articles