للہ اپنے اچھے اعمال ضائع ہونے سے بچا ئیں۔۔۔شمس جیلانی

للہ اپنے اچھے اعمال ضائع ہونے سے بچا ئیں۔۔۔شمس جیلانی
میرے ایک دوست نے مجھے ایک وڈیو ٹورنٹو سے بھیجی ہےکہ آپ اس مسئلہ پر بھی کچھ لکھیئے جوکہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی آواز میں ہے اور انکی جوانی کی معلوم ہوتی ہے جس میں انہو ں نے عربوں کی ہلا کت کی پیش گوئی کی ہے اور اس میں عربو ں کی کرادر کشی کی گئی ہےجبکہ آئندہ پاکستان اور افغانستان کے رونماہونے والے متوقع کردار کی بات کی ہے۔ جس میں سے میں افغانستان کے آئندہ کردار کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا؟ مگر پاکستان کے کردار کے بارے میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جس کے لیئے میرا ادراک بچپن سے گواہی دیتا آیا ہے اور جس طریقہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ ملک رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں بنا یا ہے!اور وہاں کے اکثر لیڈروں اور باشندوں کی خامیوں اور کوتا ہیوں کے با وجود وہ نہ صرف باقی ہے بلکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت بھی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا حصہ ہے اور کسی متوقع منصوبے کا حصہ بھی؟ کیونکہ پاکستانیوں کو جس طرح یہ ملک ملا میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا میں چشم دید گواہ ہوں؟ اس لیئے مجھے ان کی اس بات میں تو امید کی کرن نظر آرہی ہے، دوسرے یہ کہ حالیہ کارونا جیسی بلا سے اس وقت تک اس نے اسےبہت محفوظ رکھا جب تک کہ حکمرانوں نے کریڈت رب کو دینے کے بجا ئے، انہوں نے اپنے نام نہیں کرلیا؟ خدا کرے کہ آئندہ چل کر ویسا ہی ہو جیسی کہ انہوں نے پشگوئی کی ہے؟۔ لیکن میں کسی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیشہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جبکہ اور کسی سے نہیں ڈرتا۔ دوسرے ہمیشہ سے میرے سامنے حضورﷺ کا وہ فرمان رہتا ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق کے آگے بڑھا دے “ اس لیئے اس ویڈیو کا ذکر میں نے اپنے ایک دوسرے دوست سے کیا اور اس پر ان سے میری تفصیلی بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس کا پس منظر کچھ اور تھا جو اس ویڈیو میں شامل نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ وہ تو ہمارے یہاں خاص طور سے پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ویڈیو جعلی بھی بنتے رہتے ہیں؟ مگر میرا مشورہ ہے کہ جو لوگ اپنی آواز میں جو کچھ بصورت ِ تحریر یا تقریر یہاں اب چھوڑے جارہے ہیں اب تو انہیں یقین کرلینا چا ہیئے کہ وہ رہتی دنیا تک رہے باقی رہے گی۔ لہذا جو کوئی آج کے دور میں جو کچھ بھی چھوڑ کر جا رہا ہے اس کو اِس ویڈیو سے سبق لینا چا ہئیے کہ قیامت کے روز تک اس کا چھوڑا ہوا یہ ورثا باقی رہے گا اور اس کے جو نتائج مرتب ہونگے وہ سب اکھٹا کرکے اس کے کھاتے میں فرشتے لکھ چکے ہونگے اور اسے وہاں نمایاں اور سجا ہوا نہ صرف نظر آئے گا اگر سچا ہے اور اگر جعلی ہے تو جعل سازی کرنے والوں کے کھاتے میں جا ئے گا؟ بلکہ بعد میں اگر کسی نے تکرار کی تو دکھا بھی دیا جا ئے گا؟ مگر اسوقت ایسا کرنے والے کے پاس اپنی صفا ئی میں کہنے کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دربار میں کچھ بھی نہیں ہوگا ؟لہذا حدیث کے مطابق“ وہ اس دن دنیا کامفلس ترین انسان ہوگا کیونکہ اس کے سارے اچھے اعمال دوسروں کے کھاتے میں بدلے میں چلے جا ئیں گے “ پہلے تو یہ وعید صرف قرآن اور حدیث تک ہی محدود تھی، جن میں لکھا ہوا ملتا تھا کہ ایسا ہوگا؟ اور جن کا نصیب اچھا تھا وہ ان سے سبق لیکر بچ کرکے فلاح بھی پاتے رہے؟ لیکن اب تو اِس کا مظاہرہ سائنس کی ترقی کی بنا پر روز مرہ کی بنیاد پر ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہا ہے جوکہ اسلام کی حقانیت کی دلیل بھی ہے مگر صاحبِ علم لوگوں کے لئیے ؟جبکہ وہاں آجکل لوگ اتنے نڈر ہوچکے ہیں کہ وہ اور سب سے تو ڈرتے ہیں مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ ،روز ِ قیامت اور اس کی ملاقات سے کوئی نہیں ڈرتا ہے جو کہ سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار ہے اور ہمارا یہ عمل ہمیں اتنا بے خوف بنا ئے ہوئے ہے کہ نہ ہم جھوٹ بولنے سے گھبراتے ہیں نہ ہی غیبت کرنے سے گھبراتے ہیں، اور نہ ہی کسی پر تہمت لگانے سے گھبراتے ہیں نہ ہی کسی کی تصنیفات میں کتر بیونت کرتے ہوئے اپنی عاقبت کے لیے فکر مند ہوتے ہیں نہ ہی جھوٹے ویڈیو بنا نے سے گھبراتے ہیں؟ اگر وہ پورا قرآن نہ بھی پڑھیں تو کم از کم سورہ یونس اور سورہ ھود ہی پڑھ لیں مگرتفسیر کے ساتھ تو کافی ہے؟ جو ایسے کام کرنا جائز سمجھتے ہیں اوروہ بھی اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئیے، یا اپنے آقائے نعمتوں کو خوش کرنے یا ان کے شر سے بچنے کے لئیے عام طور پر ہر وقت ان افعال میں مصروف رہتے ہیں؟
اس ویڈیو میں سب بڑی خرابی یہ ہے کہ مرحوم نے کسی بات کاقطعی خیال نہیں رکھا اور انہوں نے سارے عربوں کو بلا تخصیص اس میں لپیٹ لیا جوکہ ان کے منصب کے منافی ہے اور میرے دل میں اس لئے زیادہ کھٹک رہا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک حدیث میں عربوں کے ساتھ امت کو محبت کرنے کا حکم دیاگیا ہے؟ جبکہ قر آن نے آیت مودۃ میں حضورﷺ اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ محبت کرنے بھی حکم دیا ہے(الشوریٰ آیت نمبر 23)۔ یہ پیش گوئی ان دونوں سے ٹکرارہی ہے یہ دونوں ان کی نگاہ ضرور گزرتیں۔ رہی عربوں کی ہلاکت کی بات توانہیں نجدیوں کو نہ سہی کہ وہ خود کو حضور (ص) کے آخری دور تک قریش سے بہتر سمجھتے تھے جو تاریخ میں پڑھ لیجئے یا کسی اہلِ علم سے پوچھ لیجئے؟ کم ازکم ان لوگوں کو تو شامل نہ کرتے! جو کہ خود کو عرب العروبہ کہتے ہیں اور حضرت نوح ؑ یا حضرت سامؑ کی اولاد میں سے ہیں جن میں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام اور حجاز کے لوگ اور خصوصا ً حضور ﷺ کی اترت بھی شامل ہے؟ انہیں ان سب کو استثنیٰ دینا چا ہئیے تھا۔ جو انہوں نے نہیں دیا جبکہ حضور (ص) کی کسی بھی بات سے ٹکرانے کا جو انجام ہے وہ سب کو ہی معلوم ہے کہ ان کے اگر کچھ اچھے اعمال ہوئے بھی تو وہ بھی کھو بیٹھیں گے۔ اللہ ہمیں اس انجامِ بد سے بچا ئے (آمین) جہاں کہ حضور ﷺ سے آواز بلند کرنے پر اعمال ضائع ہوجا نے کی قرآن میں وعید ہو وہاں یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ میرا تمام حضرات اورخواتین کو ہمدردانہ مشورہ ہے کہ عربوں کے سلسلہ میں کچھ لکھتے ہوئے بہت محتاط رہیں تو بہتر ہے۔ اگر لکھنا بہت ہی ضروری ہوتو ان باتوں کا خیال رکھا جا ئے جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سب کو اس گناہ سے محفوظ رکھے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

(54 – 29) قطعات شمس جیلانی

29

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

30

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

31

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

32

اسپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی

تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے

بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے

کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے

ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

33

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

34

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

35

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

36

مت کی حالت۔۔۔ شمس جیلانی

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں

اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں

بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز

کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

37

قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے

جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے

بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے

سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

38

کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے

کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے

مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے

پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

39

صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ

جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ

شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ

اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

40

میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ

یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ

شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے

یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

41

اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں

نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں

یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا

جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

42

برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں

برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں

ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں

سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

43

مسلمانوں کی حال۔۔۔شمس جیلانی

آگئے تم کیوں عدو کی باتوں میں

بٹ گئے قبائل میں اور ذاتو میں

کبھی تم جن کو زیر رکھتے تھے

اب پڑے ہو انہیں کی لاتوں میں

44

فہم دین کا کرشمہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوامیں نوے میں داخل تو اللہ و رسول(ص) کو سمجھا

اپنےدین کو جانا میں نے ہراس کے زریں اصول کو سمجھا

پھر رکھدیا میں نے اک طرف ساری فضول رسموں کو!

جب ملی ہدایت مجھے، نا قص بحث فضول کو سمجھا

45

نیا سال مبا رک ہو۔۔۔ شمس جیلانی

نیا سال ہے آیا ہومبارک ہر خوشی لائے

یہ جہان سارا پکارے گنا ہ سے بھر پا ئے!

کریں جوتوبہ تو روٹھا پروردگا من جائے

اب کارونا جیسا نہ کوئی عزاب پھر آئے

46

آخری دعا۔۔۔۔ شمس جیلانی

الٰہی زندہ رکھنا تو جب تک کہ میں فیض پہنچا ؤں

نہ لگے برائی کی تہمت پہلےمیں اس سے مرجا ؤں

روز حشر تورکھنا اے اللہ سرخرواپنے سامنےمجھ کو

نبی(ص) کا واسطہ تجھکو اس دن نہ تجھ سے شرما ؤں

( آمین)

47

چند اشعارحالات حاضرہ پر۔۔۔ شمس جیلانی

جو ظالم کا ہاتھ پکڑےاب کو ئی با قی نہیں رہا

اس واسطے وہ لایا کل جہان کواب زیر عتاب ہے

کرونا تو ایک چھوٹا سا نمونہ دکھے ہے شمس !

آنے کو ئی اور شاید بہت ہی بڑا سا عذاب ہے

ہو سکتا ہےکہ صدیو پر محیط ہو یہ دو رِعتاب

صدی کی کیا وقعت ہے وہ تو اس کو شتاب ہے

48

سب سے زیادہ پیارا رب۔۔۔ شمس جیلانی

ہراک مومن کو جو کہ دل و جان سے بھی اپنی پیارا ہے

سب الہاؤں سے زیادہ بہتر رب اور الہ بس ہما را ہے

جب پکاروجواب دیتا ہےگر کرکے توبہ سے پکارا ہے

کون سی شہ ہے اس سے پوشیدہ کیا نہیں آشکارا ہے

49

ا شعار کی آمد؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ جب توفیق دیتا ہے خیالوں کا جمع ا ژدھام ہوتا ہے

انہیں چن کر جو کوئی منتخب کرلےاسی کا نام ہوتا ہے

یونہیں سب ڈینگیں مارے ہیں کہ یہ افکار میرے ہیں

نہ ہو رب کی اگر مرضی تو ہفتوں تک پہیہ جام ہوتا ہے

50

عجب عادت ۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عجب عادت ہے تمہاری کہ آرام نہیں ہوتا ہے

دن وہ بڑی مشکل سےگزرتا ہے اگر کام نہیں ہوتا ہے

ہمیشہ صبح دم اٹھناسنت ہے تمہارے نبی (ص) پیارے کی

جودن چڑھے تک سوئےر ہیں ان پر انعام نہیں ہوتا ہے

51

اَلْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِیمان؛ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوس زر میں ہر شخص کچھ اس طرح مسطور ہے

کہ اس جہاں کا بدلا ہوا اب پوری طرح دستور ہے

پہلے کی طرح اس سے کوئی شرما تا نہیں شمس

اس سے دیواریں سجی ہیں “مطلوب ہے مفرور ہے”

ترجمہِ عنوان۔ حیاء ایمان کا جز ہے۔

52

جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمان جھوٹا ہو نہیں سکتاسرکارﷺکا فرمان یہ مشہور ہے

جھوٹ چھٹتاہے نہیں اس واسطےاب ہم سے دلی دور ہے

عید و بقر عید کو ویسی ہی شکلیں تو بنا لیتے ہیں لوگ!

ظاہر بن جاتا ہے ویسا ہی مگر چہرے پر کہاں وہ نور ہے

53

آہ ! سب کےرفیق چل بسے۔۔۔شمس جیلانی

آدمی اچھے بہت تھےبا صَفا و با صِفات

سال بتیس تک رہا میرا،ا ن کا ،اچھا ساتھ

ہر جگہ ہم ساتھ تھ جب بھی جا تے کہیں

چلد یئے وہ چھوڑ کراتنی تھے لائے حیات !

54

آئینِ خدا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اے بندوں ذرا سوچو کہ حکم ِخدا کیا ہے

ہے اللہ سے فقط ڈرنا بندوں سے نہیں ڈرنا

پھرلازم اطاعت ہے سرکارِدوعالم کیﷺ

ہے ان کےہی لئےجینااوران کے ہی لیئے مرنا

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

ہزارے بھی انسان ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

تنے بڑے صوبے میں جو پاکستان سب سے بڑا صوبہ ہے یہ وہ مظلوم اقلیت ہے کہ جس کا تیس چالیس سےقتل عام ہو رہا مگر نہ حکومت کے کان پر جوں رینگی نہ ہی اپوزیشن کے کان پر۔خبر یہ ہے کہ ان بیچاروں نے تنگ آکر پورا صوبہ خالی کرکے خود کو تین میل مربع کے رقبہ میں مقید کرلیا تھاتب کہیں جا کے ان کو اس قتل عام سےچھٹی ملی تھی۔ شدت پسندی اس وقت نہ جا نے کون کرا رہا تھا جبکہ موجودہ اپوزیشن اس وقت حکومت میں تھی؟ کیااس کمیونٹی کو زندہ رہنے کے لیے حصار سے باہر مزدوری کے لئیے جاتا دیکھ کر عرصہ بعد دو بارہ وہی شدت پسند طبقے پھر جاگ گئے ہیں؟ جو کہ جب حکومت میں تھے تو سرگرم تھے اور ان ہی کے ماننے والے ان پر ہاتھ صاف کر رہے تھے ۔ جبکہ آج وہ ان کے ہمدرد بن کر سامنے آئیں ہیں، جن کے اگر پرانے کپڑے تلاش کیئے جا ئیں تو بھی ہزارہ خون سے وہ آلودہ ملیں گے۔ ایک دوسال سے کچھ چین تھا جس کو انگریزی میں انٹرویل کہہ سکتے ہیں پھر ظالموں کی نگاہ انتخاب ان کی طرف گھوم گئی۔ مجھے یہ مفاد پرستوں کی کا رستانی لگتی ہے۔ جو کہ اسے بھی برداشت نہیں کرسکے وہ اپنے اس شہر سے کہ وہ سالوں سے محصور ہیں نکل کر کانو میں مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال سکیں؟ بلوچستان جو پہلے ہی بہت حساس علاقہ ہے اور مولانا حضرات کا گڑھ بھی ہے۔ اس سےان کی تحریک کو زندگی مل سکتی ہے جو کہ دم توڑ چکی ہے۔یہ تو تھا اس کا ایک پہلو جوکہ اس دفعہ اتنے دنوں کے بعد اس میں ابھار آیا ہے؟
مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ ہے موجودہ حکو مت کی لا پر وائی کہ اس کان میں ہزارہ کمیونٹی کام کرنے لگی تھی یا اس کے مالکوں نے رحم کھا کر اپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دیدی تھی تو یہ ایک اچھا قدم تھا آخر ان کی بنیادی ضرورت پوری کرنا اور ان کی حفاظت کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داریتو ہے ہی جوکہ ترمیم شدہ قوانین کے مطا بق ہے۔ لیکن اس سے خود کو مرکزی حکومت بھی بری الذمہ نہیں کرسکتی اس لیے کہ وہا ں سی پیک جیسا منصوبہ زیر تکمیل ہے جس پر پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے جو کہ ہمارے ازلی دشمنوں کو قطعی پسند نہیں کہ پاکستان ترقی کرے ؟مرکزی حکومت کو معلوم ہے کہ ایک دشمن نے اربوں روپیہ اس کام کے لیے مختص کیئے ہیں کہ بلوچستان کا امن خراب کیا جائے؟ لیکن وزیر اعظم صا حب کے پاس اس علاقے میں جانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ اس لیے کہ انہیں جہاں جا نے سے روکنا ہو توان کے کان میں بس یہ اطلاع ڈالدینا کافی ہے کہ وہاں ان کے لئے سکیوریٹی رسک ہے؟ اور اس کے بعد کرنے والے جو چا ہیں وہاں کرتے پھریں۔ اسی لئے ابن تیمیہ نے لکھا تھا کہ جب تم اپنے حکمراں منتخب کرنے لگو تو اس میں دونوں خوبیاں دیکھوجو اس میں ہونا چا ہیئے؟ وہ ہے تقویٰ اور شجاعت۔ لیکن اگر تقویٰ کم بھی ہو اور وہ شجیع ہو تو اس کو ترجیح دو اس لیئے کہ تقویٰ تو اس کی ذات کے لئیے ہے جبکہ شجا عت ریاست کے لئیے ہے؟ اس کے مظاہرے پہلے دن سے نئی حکومت پاکستان میں آنے کے بعد وہاں دیکھنے کو روز مل رہے ہیں کہ وزیراعظم صاحب عید کی نماز پڑھنے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے؟ بلکہ شروع میں تو اسی سکوریٹی رسک کی وجہ سے وہ اپنے گھر تک ہیلی کاپٹر پر جایا کرتے تھے۔ یہ پاکستان میں اس سے کبھی نہیں ہوا تھا کہ عید کی نماز ہو اور وزیر اعظم عید گاہ میں جا کر نماز نہ پڑھے؟ اب بھی وہی مسئلہ ہےکہ جن کے لعل شہید ہو ئے ہیں وہ کہہ رہی ہیں جو زیادہ تر خواتین ہیں کہ وزیر اعظم صاحب تشریف لے آئیں تو ہم ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں گی؟ اور وزیر اعظم صاحب کے کان میں کہدیا گیا ہے کہ ان کے لئیے سکوریٹی رسک ہے ؟ جبکہ اپوزیشن میدا ن مارنا چا ہتی ہے وہ اس آگ کو مزید بھڑکانے میں پیش ، پیش ہے؟ ایسے میں وہ غریب خواتیں پانچ دن سے وزیر اعظم صاحب کاانتظار اپنے پیاروں تدفین کے لیےکر رہی ہیں اس کے باوجود کہ درجہ حرارت بڑی حدتک نیچے ہے۔ ان میںایک بچہ جو شہید ہوا ہے اس کی ہمشیرہ شاید اس پرافسوس کر رہی ہوکہ میں اپنے زیورارت بیچ دیتی اور بھائی کی فیس جمع کرادیتی اور اپنے ویر کو کبھی وہاں مزدوری کے لئے نہیں جانے دیتی جو؟ اسکول کی فیس جمع کرانےکے لئےوہاں مزدوری کرنے گیا تھا؟ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک طویل محاصرے کی وجہ سے اس چھوٹی سی بستی کی کیا حالت ہوئی ہوگی اور کتنے مجبور ہیں وہ لوگ۔انکا جرم یہ ہے کہ وہ بقیہ آبادی کی اکثریت کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ میں نے قرآن اور حدیث میں پڑھا ہےاور شاید وزیر اعظم نے پڑھا ہو کہ موت کا ایک وقت معین ہے وہ ٹل نہیں سکتا؟مسلمان کہتے ہیں کہ ہم قرآن پر یقین رکھتے ہیں مگر عمل کچھ اور بتاتا ہے؟ اب کوئی بتلا ئے ہمیں کہ ہم بتلا ئیں کیا؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

امن کے بعد فتنہ پیدا کرنا قتل سے بد تر ہے۔۔۔۔ شمس میں جیلانی

میں نے تو جب سے قرآن حدیث اور بزرگوں کے اقوال میں یہ پڑھا تو اس وقت سے میں تو بہت محتاط اس لئے ہوگیاکہ تمام صحابہ کرام ؓ کا بھی یہ ہی رویہ تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ جب تک وہ با ثر رہے اور بوڑھے نہیں ہوئے تھے اس وقت تک خلافت راشدہ ان فتنوں سے بچی رہی۔ جیسے ہی اقتدار یا اس کا کچھ حصہ ان لوگوں کے پاس آیا جو فتح مکہ کے موقعہ پر یا س کے بعد میں مسلمان ہوئے کیونکہ ایک ایک دن میں لاکھوں لوگ مسلمان ہوتے رہے۔ اور چونکہ انکی تر بیت کا وہ معیار نہیں رہاجو ان صحابہ کرامؓ کا تھا جن کوحضور ﷺ سے تربیت ملی تھی۔ میرے اس دعوے ثبوت میں آپ بقیہ اسلامی تاریخ پڑھ جا ئیے جو کہ فتنو ں سے بھری پڑی ہے۔ جس سے کہ اسلامی ریاست کا امن غارت ہوا۔ نتیجہ کے طور پر پہلے حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے، پھرحضرت علی کرم وجہہ شہید ہوئے اور حضرت امام حسن شہید ہو ئے اورنہ صرف امام حضرت حسین (ع) شہید ہوئے بلکہ حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کا پورا خاندان کربلا میں شہید ہوا۔اور وہ ریاست جہاں حضور ﷺ کے دور میں امن ہی تھا وہ امن کو ترسنے لگی۔ یوں حضور ﷺ کی ایک ایک پیش گوئی پوری ہوئی بشمول اس کے جو سورہ انعام کی آیت نمبر 69 کے نزول کے بعد حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ سے وہ عہد لیا تھا کہ ” دیکھو میرے (ص) بعد آپس میں لڑنا مت ورنہ ایک مرتبہ سرداروں کی تلواریں میان سے نکل آئیں تو دوبارہ قیامت تک میان میں نہیں جا ئینگی“۔اس کے جوا ب میں اس موقعہ موجود صحابہؓ کرام نے فرمایا تھاکہ“ حضور ﷺ یہ کیسے ممکن کہ ہمارے درمیان قرآن موجود ہو اور آپ سیرت موجود ہو اور ہم گمراہ ہوجا ئیں! تو حضورﷺ نے فرمایا کہ“ اس وقت قرآن تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترے گا “اس پیش گوئی کی زندہ تصویر دیکھنا ہوتوآج تمام عالم اسلام کو دیکھ جا ئیے،ہر ایک اپنے زعم میں یہ ہی کہتا ہوا ملے گا کہ صرف میں راہ راست پر ہوں باقی سب غلط راستے ہیں جو اس کے نزدیک واجب قتل ہیں؟ یہ وہ غلط فہمی ہے جو کہ کچھ نفس پرستوں نے اپنے مفاد کے لئیے نہ صرف اپنائی ہوئی ہے بلکہ اپنے حلقہ اثر میں بھی پھیلائی ہوئی ہے۔ جبکہ ہمیں ہدایت یہ ہے کہ جس کو مسجد میں آتے جاتے دیکھو اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو اور ہر کلمہ گو مسلمان ہے بقیہ فیصلہ بروز قیامت اللہ خود فرما ئے گا اور یہ کہ تم ان پر داروغہ نہیں بنا ئے گئے ہو۔ یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہو جا ئیں گے جن میں صرف ایک راہ راست پر ہوگاجو کہ“ میرے(ص) یا میرےﷺ ان صحابہؓ کے راستے پر ہوگا جو آج میرے (ص) راستے پر ہیں؟ اس حدیث کے پیمانے میں ہر ایک خود کو پرکھ کر دیکھے کہ کیا ہم اس معیار پر پورے اتر تے ہیں؟۔اگر وہ دیکھ لیں تو جو خوں ریزی کر رہے ہیں تو ان کے ہاتھ سے تلواریں چھوٹ پڑیں گی؟ مگر یہ باتیں تو خوف خدا سے دل میں پیدا ہوتی ہیں، جب وہی اٹھ گیا تو اس کا وہ نتیجہ کیسے مرتب ہوگا؟ اسی کا ہم نتیجہ بھگت رہے ہیں اور یہ سلسلہ جب سے جاری ہے جبکہ حفاظ کرام نے اسی زعم پر کہ صرف وہ ہی مسلمان ہیں، خارجیوں کا روپ اختیار کیا تھا۔ جو کہ صدیوں تک چلتا رہا۔ اسے بڑی مشکل سے ہلاکوں نے ختم کیا دو صدی پہلے کچھ لوگ پھر عدو کے ساتھی بنے اور انہیں نے دوبارہ سلطنت عثمانیہ کا تیا پانچا کر نے کے لئے اوراپنے گھناؤنے مقاصد کے لیئے اسے پھر سے زندہ کردیا جس کا نتیجہ آج ہم سب بھگتے رہے ہیں کیونکہ عالم اسلام بری طرح بد امنی شکار ہے جنتے لوگ مسلمانوں نے خود قتل کئیے ہیں اتنے سب دشمنوں ملکر نہیں کیئے خدا جانے یہ سلسلہ کب رکے گا اور کیسے رکے گا اور اسے کون روکے گا؟ کیونکہ سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔
خدا خدا کرکے ہزاروں انسانوں کی شہادت کے بعد بمشکل پاکستان میں بد امنی کے کچھ امن قائم ہوا تھا؟ پھر کچھ لوگ پاکستان میں جو آجکل فتنے پیدا کر رہے ہیں ان میں ایک مولانا بھی شامل ہیں جن کو اقتدار میں اس بار موقعہ نہیں ملا جو کہ کئی عشروں سے اقتدار میں چلے آرہے تھے جبکہ اپنے دور میں کرکے کچھ بھی نہیں دکھا یا؟ وہ بھی مشاءاللہ جید عالم ہیں اورمیں نے جتنی باتیں اوپر بیان کیں ہیں سب انہیں ازبر بھی ضرور ہونگی۔ کیا اسے دوبارہ پڑھ کر اور خوف کھاکر اپنے رویہ پرنظر ثانی کر یں گے اور پاکستان اور پاکستانیوں کو معاف کردیں گے۔ اگر نہیں تو پاکستانی اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کے لیئے اپنی گردن سے ان کا جوا اتار پھینکنے کی کوشش کریں تا کہ وہ ملک محفوظ رہے جو ان کے بزر گوں نے بڑی منت سے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے حاصل کیا تھا۔ اس وعدے کہ ساتھ کہ ہم اس ملک میں تیرا نام ا بلند کریں گے۔ کیا نام بلند کرنا اسی کو کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کی جا ئے،جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ وہاں کے باشندوں کو ہدایت دے(آمین) کہ وہ اپنا بھلا برا خود سوچ سکیں، بجا ئے دوسروں کے بہکا ئے میں آنے کے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

(28 – 16) قطعات شمس جیلانی

16

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

 

17

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

 

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

 

18

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

 

 

19

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں

اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں

بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز

کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

 

 

20

قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے

جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے

بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے

سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

 

21

کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

 

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے

کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے

مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے

پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

 

22

صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

 

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ

جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ

شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ

اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

 

23

میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

 

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ

یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ

شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے

یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

 

24

اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں

نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں

یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا

جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

 

25

برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

 

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں

برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں

ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں

سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

 

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

26

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

 

 

27

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

 

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

 

28

گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں

کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں

بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں

پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

 

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

(1 – 15) قطعات شمس جیلانی

اسپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی

تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے

بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے

کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے

ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

                          ا

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

 

 

                          2

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

 

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

 

                           3

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

 

                          4

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

 

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

 

 

                             5

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

 

 

                                6

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

 

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

 

                                  7

گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں

کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں

بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں

پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

 

 

                                             8

ایک سوال؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہ کئی بار آئے بلا ئے بٹھا ئے نکا لے گئے

ہے فطرت کچھ ایسی نہ طیور سنبھالے گئے

گلہ ہے انہیں یہ پوچھتے ہیں لوگ کیوں

جو کہ دولت تھی لوٹی وہ تم کہاں لے گئے

 

                                          10

مقام عبرت۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہ جہاںمقام ِ عبرت ہے سوچئے تو سہی

کرے برا جو کام اس کو ٹوکئیے تو سہی

ماۤل اس کا یہ ہے کہ دی دار کو ترستے ہیں

کرکے توبہ آنسو اپنے پوچھئیے تو سہی !

 

                                             11

 

 

ہوشیار باش۔۔۔ شمس جیلانی

 

خفا ہونے نہیں دینا کسی کو ہے منانا مشکل

یہ دور ِ کرونا کسی گھر بھی ہے جانا مشکل

شمس اس بات کا بس رکھو ہمیشہ ہی خیال

دوستی کرنا ہے آسان مگر اسکا نبھانا مشکل

 

                                           12

خیر اور شر میں فرق۔۔۔ شمس جیلانی

 

جو اہلِ خیر ہں سرکو جھکا کر چلتے ہیں

جو اہلِ شر ہیں وہ گردن اٹھا کر چلتے ہیں

یہ ہی فرق اچھوں بروں میں ہے اے شمس

برے جو لوگ ہیں فتنے جگا کرچلتے ہیں

 

 

                                        13

یہ کرونائی تہذیب ۔۔۔ شمس جیلانی

عجب روش ہے سب منہ چھپائے پھرتے ہیں

غیر ہی نہیں، بنے اپنے، پرائے پھر تے ہیں!

سرِ راہ مل جا ئےکوئی بھی شناسا شمس

نگاہ بد لی سب آنکھیں چرائے پھر تے ہیں

 

                                     14

کج بحثی سے اجتناب کرو ۔۔۔ شمس جیلانی

 

اللہ کا حکم یہ ہے جاہل اگر جو ٹکرے کہنا سلام ہے

حضرت مولانا روم کا بھی کا سب کویہ ہی پیام ہے !

“ چالیس اگر ہوں علماء ان کو ایک دلیل ہے بہت“

جوجاہل سے عاقل ٹکرے اس کا خجالت مقام ہے

 

 

                                        15

بندہ نواز۔۔۔ شمس جیلانی

 

بندےبنو تو تم، وہ بندہ نواز ہے

اللہ عظیم ہے اور وہ کار ساز ہے

اسکو ہی پکارو حاجت روا ہے وہ

لازم اس کے واسطے دینا آواز ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

اسلام اور مسلمان دوسرے ملکو ں میں۔۔۔شمس جیلانی

میں گزشتہ تیس سال سے آپ لوگوں کی خدمت میں اچھی باتیں پیش کر رہا ہوں۔ کیوں! اس لئیے کہ میرے یہاں آنے کامقصد مالی مفادات نہیں تھے۔ میرا اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ وعدہ تھا کہ جب میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجا ؤں گا تو میں صرف اور صرف انسانیت اور تیرے دین کی خدمت کرونگا۔اس کے لئیے میں نے کنیڈا کو یو ں منتخب کیا کہ یہاں ہر شعبے میں بے شمار لوگ بطور رضا کار کام کر رہے ہیں جس کو پاکستان میں “اعزازی طور پر “ کام کرنا کہتے ہیں،جو کہ بچوں کو دور ِ طالب علمی سے ہی یہاں کرنا لازمی ہے اور ان کے مستقبل میں بھی وہ آئندہ کام دیتا ہے۔ اس پر ان کو کریڈٹ بھی ملتا ہے۔لہذا میں نے1989ء سے دن و رات دونوں میدانوں میں کام کیا دونوں جگہ اعزازات سے بھی نوازا گیا جو کہ میرا مقصد نہیں تھا کیونکہ میری یہ عبادت خا لصتاً اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئیے تھی اور ہے اور ان لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے بہتر مستقبل کے لئیے ہجرت کی تھی گو کہ وہ اسلامی ہجرت میں نہیں آتی مگر وہ اب بھی اب اپنے روز مرہ میں تبلیغ کوشامل کر لیں تو ان کی ہجرت بھی اسلامی ہجرت بن سکتی ہے کیونکہ حدیث ہے کہ ” ہر عمل کا دارومدار نتجائج پر ہے” اور آزادی سے اپنا قلم بھی استعمال کیا کہ یہاں کوئی ٹوکنے والا اور کچھ کہنے والا نہیں تھا۔ اور لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے۔الحمد للہ آج تک میری کو ئی تحریر یا تقریر متنازع نہیں بنی۔ کیونکہ میرا اصول ہے کہ اپنے عقیدے کو چھوڑو مت اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑومت؟ یہاں آپ پوچھیں گے کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ جس کاحکم مجھے قرآن نے دیا, جس پر کسی کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتاہے۔ کیونکہ بحیثیت مسلمان دین پہچانے کا حکم ہر مومن کو ہے جسے اپنی گفتار سے کم اور کردار سے زیادہ پہنچانا ہے کیونکہ حضورﷺ نے عمل کرکے دکھایا ہے تاکہ لوگ دیکھ کر کہہ سکیں کہ یہ ہے اسلامی کردار۔؟ لوگو ں تک آپ کو بطور مبلغ پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے مگر کسی پر داروغہ نہیں بنایا گیا ۔ میں نے حضور ﷺ کی سیرت سے بات شروع کی جو کہ اخباروں میں قسطوار وار شائع ہوکر کتابی شکل میں آگئی اور وڈیو پر بھی یوٹیوب میں موجود ہے جس میں میرے معاون مسعود عمر صاحب ہیں اور یہ کتاب میری ویب پر بھی ہے،میرے اس صدقہ جاریہ میں بہت سے لوگ قیامت تک کے لئے شامل ہوگئے جن میں سے کئی اللہ کو پیارے ہوگئے ان میں سے ایک پاکیزہ ٹورنٹو کے ایڈیٹر صبیح منصور ہیں جو ٹورنٹو میں تھے اور اسی ایریا میں انکی جگہ موجود لوگوں میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ندیم ہیں،ونیکو ر میں پیر زادہ نصیر مریکل نیوز کے ایڈیٹرہیں اور لندن عالمی اخبار کے انتہائی قابل ِ احترام جناب صفدر ھمدانی میرے عزیز ترین دوست اورایڈیٹر ان چیف ہیں۔ حضور ﷺ کی سیرت بہت مقبول ہوئی اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ، عمرؓ، عثمان ؓ، علی کرم اللہ وجہہ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن ؑ، حسینؑ51 نامور صحابیات ؓ، عشرہ مبشرہ، قصص الانبیا اورؑ حقوق العباد اور اسلام لکھیں اور سب کی سب الحمد للہ بہت مقبول ہوئیں کیونکہ میں جب قلم ہاتھ میں لیتا ہوں تو غیر جانبدار ہوجاتا ہوں۔ ان میں بھی میں نے خود کو ہمیشہ فرقہ واریت سے بالا تر رکھا اور میری کتابیں کبھی بازار میں فروخت نہیں ہوئیں کیونکہ آجکل کتابیں خرید کر پڑھنے کا انٹر نیٹ کی وجہ سے رواج ہی نہیں رہا؟۔اور بغیر کسی شور اور شرابے یا ذاتی نمائش اور مشہوری کہ خاموشی اور کا میابی سے کام جاری رکھا کسی سے کبھی چندہ نہیں مانگا،اس سلسلہ میں اپنی فیملی کا شکر گزار ہوں اس لئیے کہ ان میں سے ہر فرد نے میرے ساتھ تعاون کیا؟ اس کے بعد میں اپنے تمام قارئین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پسند کیا اور اتنے سالوں تک مجھے برداشت کیا۔ اب جبکہ میں چند دن پہلے میں گیارہ دسمبرکو نوے سال میں داخل ہونے سے پہلے اسپتال میں بھی پانچ دن رہ آیا ہوں، موت سب کو آنا ہے۔اس لئیے اپنے اس تیس سالہ تجربہ کانچوڑ پیش کرہا ہوں۔ تاکہ وہ لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو کہ اس میدان میں کام کر رہے ہیں مگر کامیابی نہیں حاصل کر سکے؟ اور خاص طور سے پاکستان میں تو ہر حکومت ناکام رہی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام بہت سیدھا سا مذہب ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں پورا اسلام بیان فرما دیا ہے۔ اور وہ ہے کہ “تم اللہ کی اطا عت کرو اس کے رسول ﷺ کی اطاعت،کرو اور جو تم میں سے اولامر (صاحب اختیار ہوں ان کی اطاعت کرو“ مگر ہم نے اس کو اٹھا کرایک طرف رکھدیا؟جوکہ میرے خیال میں واحد ذریعہ تھا روزمرہ کی قانون سازی کے لیے جو کہ بعد میں پیش آتے رہیں گے۔ہم جسے اسلام کہتے ہیں وہ شروع حضرت آدم ؑ سے ہوا اور بتدریج چلتے ہوئے مکمل ہوا خاتم النبین حضور ﷺ پر۔ دوسری بات جو ہم نے جو ترک کردی وہ تھی “ رخصت “ یعنی جب انسان کسی فرض کو ادا کرنے پر کسی وجہ سے قادر نہ رہے جیسے کہ بیماری پر یا ضعیف پر روزے وغیرہ یا غیر ممالک میں رہتے ہوئے بہت سے اسلامی قوانین پر عمل کرنے پر۔ جبکہ جب تک ریاست مدینہ پوری طرح قائم نہیں ہوئی تھی تو حضور ﷺ حتیٰ الامکان دین پر عمل کرنے پر بیعت لیتے تھے، خاص طور سے خواتین سے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو امت کو درپیش ہیں جوکہ اسلام کی تبلیغ میں بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات عجیب واقعات سامنے آتے ہیں جو کنیڈا میں کم ہیں پاکستان میں مگر بہت ہیں۔ کہ ایک مرتبہ برف باری ہورہی تھی امام مسجد نے حضور ﷺ کی سنت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے جمعہ فوراً بعد عصر کی نماز بھی پڑھادی نتیجہ کے طور پر انظامیہ نے امام کو فارغ کر دیا؟ یا نارتھ پول سٹی میں پانچ وقت کی نماز جہاں کبھی دن ایک گھنٹے کا ہوتا ہے تو کبھی رات ایک گھنٹے کی ہوتی ہے۔ یہ ہیں وہ مشکلات جو اسلام کی تبیلغ میں حائل ہیں اس قسم کے واقعات کا تدارک جبھی ہوسکتا ہے جبکہ کوئی مرکزی کونسل ہو اوروہ بہت سے روز مرہ پیش آ نے والے واقعات پر بر وقت فیصلہ دے سکے۔ ورنہ یہ مسئلے ہمیشہ ایسے ہی الجھے رہیں گے۔؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

دائیرہ در دائرہ۔۔۔ شمس جیلانی

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اپنے وسیع سیاسی تجربے کی بنا پر بتا ئیے کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا،اور یہ تماشہ کیا ہورہا ہے۔ یہ طریقہ کیا ہے جو حکمراں کہہ رہے اور کر رہے ہیں؟ کہ ہم حزب اختلاف کو جلسے کرنے بھی نہیں دیں گے اوراسے روکیں گے بھی نہیں؟البتہ اگر وہ ہمارے احکامات کی خلاف کرے گی تو بعد میں اس کی رپورٹ درج ہو جا ئیگی، پھر کیا ہوگا جو اب وہی جو ہمیشہ سے ہوتاآرہا ہے ۔کہ ہر حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف مقدمات بنا ئے اور وہ فائیلیں دھول کھا کھا کر موٹی پہلوانوں جیسی یا پھر فارغ البال لوگوں جیسی ہر شعبہ میں ہوتی رہیں اور بس۔ یہ کھیل گزشتہ تہتر سال سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ آپ بھی انتظار کریں اور میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ ہاں ایک نئی بات ضرور ہے کہ مسلم لیگ والوں کو مشرقی پاکستان آج کل بہت یاد آرہا ہے،ایک مسلم لیگی لیڈ رٹی وی پرکہہ رہے تھے ایسے تو الزام“ حسین شہید سہروردی“ مرحوم پر بھی لگا تھا؟ کیا عوام نے انہیں مجرم تسلیم کرلیاتھا، نہیں؟ اسی طرح الزام ہمارے معزز لیڈروں پر بھی لگ رہے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ کہاں وہ اور کہاں یہ! اِن کا نام بھی اُن کے ساتھ لینا اُن کی توہین ہے۔ وہ وہ تھے جنہوں نے ساری زندگی قربانی دیتے ہوئے گزاری، جن کی وجہ سے مسلم لیگ،مسلم لیگ بنی، پھر پاکستان بنا! تو بجا ئے اس کہ اوروں کی طرح وہ عوام کو خدا حافظ کہہ کر پاکستان چلے آتے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو وہاں بے یارو مدد گار مرنے کے لئے چھوڑ آتے ان کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ ان مسلمانو! کو جلتے ہوئے ہندوستان میں تنہا چھوڑ آئیں؟ جنہوں نے انہیں ووٹ دئیے تھے اور پاکستان آکر عیش کریں۔ جس کی انہیں پیش کش بھی قائد آ عظم کی طرف سے کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے وہیں رہنا پسند کیا۔ کیونکہ حسین شہید سہروردی نہرو کے پورے گھناؤنے منصوبے کے لیئے ایک چیلینج تھے۔ تب انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا ان پر بے حساب انکم ٹیکس نکال دیا گیا،ان کی ساری جائیداد نیلام کر دی تو وہ برلا مندر دہلی میں گاندھی جی کے ساتھ رہنے لگے؟ پھر ناتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کے ساتھ انہیں بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنا یا لیکن اللہ سبحانہ نے وہاں سے انہیں بچادیا، گاندھی جی بھی نہ رہے، جن کے ساتھ وہ امن کے لئے کام کر رہے تھے؟ تب بھی وہ وہاں سے نہ ہلے، چلنے پر مجبور جب ہوئے کہ ان کی لاکھوں کی آبا ئی جائداد جو کلکتہ میں تھی وہ بھی کوڑیوں میں نیلام کردی گئی اور یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ جو وہ بیرسٹری سے آئندہ کما ئیں گے وہ بھی بحق سرکار ضبط ہوتا رہے گا؟۔ تب وہ وہاں سے مجبوراًروانہ ہو ئے کیونکہ انڈیا میں وہ مسلمانوں کو تنہا چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے جبکہ نہرو انہیں اپنی راہ میں کانٹا سمجھتے تھے۔ اور انہیں ہی کو نہیں کسی بھی مسلم لیگی لیڈر کو وہ وہا ں چلتا پھرتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جن کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کو ہندوستان سے الگ کیا تھا۔ تو وہ انہیں وہاں کیسے برداشت کرسکتے تھے جس شخص نے پاکستان بنا یا اور قرارداد پاکستان 1946 کامحرک بناجس میں پاکستانکا نام بھی تھا حدود اربعہ تھا اور قراداد پاس بھی منتخب مسلم لیگ پالیمانی پارٹی کی تھی۔ جبکہ انیس سو چالیس کی قرار داد میں جو کہ مولوی فضل الحق مرحوم نے پیش کی تھی اور مسلم لیگ کے جلسے میں پاس ہوئی تھے۔ اس میں کوئی تفصیل نہیں تھی ملک کا نام وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا صرف مسلم اکثریت اور ہندو اکثریت کے صوبوں کا ذکر تھا۔ وہی شخص پاکستان میں اس حالت میں داخل ہوا کہ اس کے پاس رہنے کے لئیے اپنا مکان بھی نہیں تھااور بعد میں بنا بھی نہیں سکا جبکہ وہ پاکستان کا وزیر اعظم بھی رہا۔ کراچی کا لکھم ہاؤس جس میں وہ قیام پزیر تھے ان کی اکلوتی صاحبزادی بیگم اختر سلیمان کا مکان تھا جو کہ ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے پہلے مسلما ن جج سر محمد سلیمان مرحوم کی بہو اور ان کے صاحبزادے احمد سلیمان مرحوم کی بیوی تھیں۔ پہلے تو ان کے جہاز کو ڈھاکہ میں اتر نے ہی نہیں دیا گیا۔ پھر وہ کسی طرح ویسٹ پاکستان میں داخل ہوئے تو اسی کی دستور ساز اسمبلی میں، وہ واحد حزب اختلاف کے رکن تھے جنہیں قائد ملت اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہندوستان نے ہمارے پیچھے۔۔۔چھوڑ دیا ہے؟ جوکہ پاکستانی سیاسی زبان میں پہلی تبدیلی تھی۔ لیاقت علی خان بھی شہید ہوگئے بغیر دستور بنا ئے جو کہ قائد اعظم کی پہلی ترجیح تھی۔ مگر سہروردی صاحب نے اپنی کوششیں جاری رکھیں حتیٰ کہ وہ حزب اختلاف کے لیڈر بن گئے اور اس وقت وہ حزب اختلاف کے لیڈر تھے۔ جب چودھری محمد علی مرحوم نے سن 1956 ء میں پاکستا ن کو پہلا دستور بنا کر دیا اور پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا؟ یہ جب ممکن ہوسکا جب کہ انہوں نے مشرقی بنگال کے لوگو ں کو اپنی بے پناہ مقبولت کی وجہ سے 50%50کی بنیادپر تیارکرلیا جبکہ مشرقی پاکستانیوں کی اکثریت تھی اور وہ پاکستان میں چوؤن%54 فیصد تھے لیکن اس کےبعد بھی بھائی لوگ اکثریت کو کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہوئے؟ اور ہاں ایک کام وہ اور بھی کر گئے جبکہ وہ وزیر اعظم تھے کہ چین سے دوستی کی بنیاد ڈال گئے تھے جس کو بعد میں بھٹو صا حب نے آگے بڑھایا پھر اس کی سزا بھی پائی؟۔ یہاں میں نے آپ کے سامنے اس چھوٹے سے مضمون میں تاریخ کا تھوڑا سا خاکہ پیش کردیا ہے جوکہ زیادہ تر میرا چشم ِ دید ہے۔
اب رہا مسئلہ یہ کہ موجودہ پاکستان کا کیا بنے گا؟ کیونکہ دنیا کی سیاست بہت تیزی تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اور عمران خان کے ساتھ نئے بچوں کی فوج ہے،جبکہ حزب اختلاف کے لیڈر بڑے گھاگ ہیں اور بذات خود معافیا بھی ہیں اور ہر قسم کی معافیا کے سرپرست بھی ہیں ۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ان پر وہ حدیث صادق آتی ہے حضور ﷺ نے کہ فرمایا “ تو حیاء چھوڑ دے پھر جو چاہے کر “ وہ جیل جانے کا بہانہ ڈھونتے پھر رہے ہیں تاکہ ہیرو بن جا ئیں؟ اور حکومت انہیں یہ مو قعہ نہیں دینا چاہتی ہے۔ رہے ادارے ان کے خلاف حزب ِ اختلاف نے اسقدر پرو پیگنڈہ کیا ہے کہ اب وہ اپنی مزید عزت افزائی نہیں کر وانا نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ خطہ کے حالات یہ ہیں کہ جنگ کسی وقت بھی شروع ہوسکتی ہے۔ چائنا سے دفاعی معاہدہ جو کل پرسوں ہوا ہے وہ ہونا ہی تھاکیونکہ پاکستان خود کو اس جنگ سے کسی بھی حالت میں الگ رکھ کر زندہ رہی نہیں سکتا ہے۔ اب رہا آگے کیا ہوگا وہی جو کہ “ اونٹ کو خیمہ میں داخلہ کی اجازت دیکر شیخ کا اس انگریزی مثل میں ہوا تھا۔ باقی سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں جو ہمیشہ سے تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا؟ جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

پاکستان میں قانون،کرونا اور سیاست۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہمارے وطنِ عزیز کی تو ہر بات ویسے ہی نرالی ہے لوگ کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے؟ جبکہ وہاں کے سیاستدانو ں کا مقولہ یہ ہے کہ “ہر حالت میں چلنا چاہیئے کہ سیاست بھی دوکان ہے۔ مگر بقول کسے چونکہ ہم بھی کبھی ملک، ملک پھرے ہیں اور ہمیں تین چار بار ہجرت کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا ہے۔ اس لئیے ہم اپنے اس تجربے کی بنا پر بتا رہے ہیں کہ مسلمان جو کبھی وقت کے پابند تھے، قانون کے پابند تھے اب اتنے ہی وہ ان سب خوبیوں سے دور ہیں۔ مثلاً اب ر شتے جوڑنے کے بجا ئے توڑنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ کبھی مسلمان کے ہمسایہ ہونے پر لوگ فخرمحسوس کرتے تھے اور ان کی جائداد کی قیمت بڑھ جا تی تھی، مگر اب گھٹ جاتی ہے؟ غیر تو کیا! بہت سے فیشن ایبل مسلمان بھی اپنے بچوں پر برا اثر پڑنے کے خوف سے دوسرے لوگوں کی آبادیوں میں جاکر مکان لیتے ہیں۔ اوراپنوں سے وہ دور بھاگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانو ں کا رکھ رکھا ؤ اور اخوت ہمسایوں کے ساتھ سلوک وغیرہ جو کبھی مشہور تھا اب وہ ان میں موجود نہیں ہے۔ حالانکہ انہیں کم ازکم غیرممالک میں تو اسلام کا سفیر ہونا چاہیئے تھا؟ وہاں کم از کم کچھ تو خیال رکھتے کہ ہمارے اس رویہ سے اسلام بدنام ہوگا؟۔ یہ تو تھے مسلمانوں کے سلسلہ میں غیر ملکی مشاہدات جو اب تک ہم نے پیش کئے چاہیں وہ پاکستانی ہوں یا کہیں اورکے۔ اب چلتے ہیں وطن عزیز کی طرف؟
آج صبح ہم نے جیسے ہی ٹی وی کھولا تو پچھلی مرتبہ کی طرح ایک عدالتی فیصلہ سننے کو ملا اس کا پس منظریہ تھا کہ شادی ہال والوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا در انصاف کھٹ کھٹا یا تھا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے، حکومت نے ہم پر پابندی لگادی ہے کہ کرونا بڑی تیزی سےپھیل رہا ہے ( قر آن میں خبر دار کیا گیا ہےکہ نا شکری کا انجام یہ ہی ہوتا ہے پہلے بچ گئے تھے جس کا کریڈٹ انہوں نے اپنے نام کرلیا تھا اب اللہ ہی جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا) اب حکومت نے شادی ہالوں پر پابندی لگادی ہے کہ شادی ہال تمام متعلقہ قوانین کی پوری طرح پابندی کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کا رروائی ہوگی۔ تین سو سے زیادہ مہمانو ں کو بھی مدعو کرنے کی زحمت نہ کریں، ورنہ چالان ہوجا ئے گا۔ جبکہ شادی ہال والوں کی شکا یت یہ تھی کہ یہ ہمارے ہی ساتھ زیادتی کیوں ہورہی ہے جبکہ شادی ہال بند سب سے پہلے ہو ئے تھے اور انہیں کھولا بھی بعد میں گیا ہے؟ اور وں کو کیوں نہیں کچھ کہا جاتا، مثلا ً سیاسی جماعتوں کو جو بغیر ماسک پہنے اور کسی بھی قسم کے قانون کی پرواہ کئے بغیرلا کھوں کے جلوس نکا ل رہی ہیں؟ جبکہ ان میں سے ہم نے پی، ڈی ایم کے صدر کو ٹی وی پر اپنے کانوں سے یہ کہتے سنا کہ میں قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر مارتا ہوں؟ اس سے رواداری اور حکومتی رٹ کا پتہ چلتا ہے؟ کورٹ کا فیصلہ وہی تھا جو ہونا چاہیئے تھا کہ اچھے شہریوں طرح ملکی قوانین کا احترام کرو؟
ویسے بات شادی ہال والوں کی بھی سچی ہے کہ اگر جلوس ناپا تولا نہ جا ئے توآجکل کٹ اینڈ پیسٹ کادور ہے اگر کسی جلسے کی تعداد لاکھ بھی ہو تو کو ئی پرانی ہوائی تصویر چسپاں کر کے لاکھ تو کیا کروڑوں کا مجمع بھی دکھانا کوئی بڑی بات نہیں ہے؟ مگر میرے خیال میں چند ہزار ہونا تو ضروری ہے کہ کہاوت ہے کہ رائی کا پہاڑ بن سکتا ہے رائی نہ ہو تو پہاڑ کیسے بنے گا۔ میں کہتا بوں کہ وہ بھی بن سکتا ہےکہ وہاں جھوٹ بولنے پر جو کوئی پابندی نہیں ہے اور حکومت بھی نہلے پردہلہ مارنا ضروری سمجھتی ہے وہ کیوں اس کار ِ خیر میں پیچھے رہے۔ لہذا جواب میں وہ بھی جلوس نکا لنے میں مصروف ہے جبکہ ووٹروں کے نہیں مگر ان کے ووٹوں کی تو سب کو ضرورت ہے؟ مگر یہ کو ئی نہیں خیال کرتا کہ وہ کارونا سےبچے تو ؤوٹ دینگےنہ۔ جبکہ حزب اختلاف کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم جلوسوں کے ذریعہ حکومت کو گرا کر چھوڑیں گے اور ان سے عوام کو نجات دلا ئیں گے کیونکہ اس نے ہم سے عوام کو نجات دلائی تھی؟۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم اپنا ٹرم پورا کریں گے کہ ہمارا حق ہے اور ہم نے تمہیں بھی ٹرم پورا کرنے دیا تھا۔اور ابھی ہمارے ڈھائی سال باقی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ حکومت بالکل نااہل ہے اس کو فوراً برطرف کر دیا جا ئے؟ چونکہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی ہے لہذا ہما رے آتے ہی بازار کے بھا ؤ خود بخود گر پڑیں گے۔ ہم بھوک سے عوام کو بچا نا چاہتے کارونا سے بچیں یا نہ بچیں یا نہ بچیں یہ ان کی قسمت؟
مگر صدر صاحب سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے والد ِمحترم نے بھی ایوب خان کے زمانہ یہ ہی نعرہ لگا یا تھا کہ ہم پرانے بھاؤ واپس لا ئیں گے لیکن لا نہ سکے جبکہ اس وقت شبرات پر تھوڑی سی چینی مہنگی ہوگئی تھی یعنی تین روپیہ کلو سے سوا تین روپیہ کلوہو گئی تھی۔ حالانکہ وہ خود شبرات اور فاتحہ دونو ں پر ہی یقین نہیں رکھتے تھے۔مگر ان کے ساتھ جو دوسرے مکتبہ فکر کے علماء تھے وہ شبرات پر حلوے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ آخر رواداری بھی تو کوئی چیز ہے ۔ چینی اس وقت بھی مہنگی ہوگئی تھی اب بھی مہنگی ۔ اب بھی سیٹ اپ وہی ہے فرق یہ ہے کہ اب بجا ئے والد صاحبان کے ان کے صاحبزادگان ہیں جمہوریت جو ہوئی؟ اور چینی پہلے کی طرح اب بھی نایاب ہے۔ سیاستدانوں کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ جیتیں تو الیکشن درست ہے اگر الیکشن میں وہ نہ جیتں تو جیتنے والے نے ڈنڈی ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ڈنڈی مارنے والوں کے سہو لت ِکاروں کی ایک لمبی فہرست ہے؟ مگر پھر بھی جا تے انہیں کے پاس ہیں کہ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ بچہ ماں سے روٹھتا تو ہے، مگر روتا ہوا جاتا ماں ہی کے پاس ہے آخر ماں جو ہوئی؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ان کوآئینہ دکھا یا تو برا مان گئے۔۔۔ شمس جیلانی


یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بظاہر اپنے نبی ﷺ سے خطاب فرما رہے ہیں کہ “ اے میرے پیاری نبی ﷺ! آپ کفار کے مال اور دولت سے متاثر نہ ہوں وہ بھی ان کی سزا کو بڑھانے کاذریہ ہے (سورہ توبہ آیت نمبر 55)۔ یہ بھی ایک طرزِ خطابت ہے کبھی مقر ر براہ رست خطاب کرتا ہے، تو کبھی کسی پر رکھ کر بات کہتا ہے۔ لہذا اللہ تعالی ٰ جو کہ قادر الکلام بھی ہے۔ وہ یہاں ہم سے جیسے حوس ِ زر میں مبتلا بندوں سے مخاطب ہے اورمنع فرما رہا کہ” دولت کی اندھا دھند بڑھوتری اللہ کے یہاں کامیابی کی دلیل نہیں ہے” کیونکہ نبی ﷺ تودنیا کو ترک کرچکے تھے جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں ﷺ دو میں سے ایک چیزکو قبول کرنے کا اختیار دیا دیا تھا اور حضور ﷺ نے غریبی کوپسند فرما لیا تھا۔ورنہ وہ چاہتے تو حضرت سلیمان ؑ کی طرح ایسی کوئی چیز مانگ لیتے جو ان سے پہلے نہ کسی کو حاصل ہوئی تھی نہ بعد میں ہوتی جو انﷺ کی اکملیت کا تقاضہ تھا۔ مگرانہیں ﷺاپنی صفت قاسمﷺ ہونا پسند تھی جس میں اپنا ہاتھ کھلا رکھنا اور دوسروں کو بے دریغ عطا کرنا انکے کار ِ نبوتﷺ میں شامل تھا۔ جس پر وہ ہمیشہ یہ کہہ فخر فرما یا کرتے تھے کہ ” اللہ دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں ” اگر آپ گہرائیوں میں چلے جا ئیں تو اگروہ واقعی مومن ہے تو اس میں آپ کو ایک ہی صفت نظر آئے گی کہ” اپنے اوپردوسروں کو ترجیح دنیا” جبکہ مٹھی کو بند کرنا وہ لعنت ہے جسے بخل کہتے ہیں اور اسلام میں اس کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ دنیا میں آجکل دوسری چیزیں جس طرح نقلی ملتی ہیں اسی طرح تمام اسلامی ملکوں میں اصلی اسلام ہی نا پید ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کا پھیلاؤ رک چکا ہے۔ یہ ہے وہ بیماری جس میں کہ آج کی مسلم اکثریت مبتلا ہے۔ کیونکہ ہم سب ملکر ایسے کام کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس دور میں کرونا کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بطور عذاب بھیجا ہوا ہے۔ بجا ئے اس کے ہم اس سے ڈر جا تے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے توبہ کرلیتے تویقیناً ہماری مشکل آسان ہو جاتی۔ مگر عذاب کوبھی ہم نے کمانے کاایک ذریعہ بنا لیا۔ بجا ئے لوگوں کوسہولتیں دینے کے ہر چیز مہنگی کردی ہر چیز کی قلت پیدا کردی۔ دوائیں جو انسانی زندگی کو پچا سکتی ہیں وہ آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جب کے وہ پہلے سے ہی جعلی تھیں۔؟ یہ کون کر رہا ہے جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ جن ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 98فیصدسے زیادہ ہے وہاں اور کون کر سکتا ہے؟ آپ خود سوچئے سوائے مسلمانوں کے۔ جبکہ ذخیرہ اندوزی منامنع خوری ، چور بازاری حتیٰ کی ہر برا کام کرنا اسلام منع ہے مگر وہ اتنا ہی زیادہ ہورہا ہے۔ حتیٰ کہ جو ملک ہم نے کبھی اللہ کے نام پر مانگا تھا!کہ اللہ!اگر تو ہمیں ایک خطہ زمین عطا فرما دے۔تو اس میں ہم دوبارہ وہ نظام نافذکر کےتیرا نام بلند کریں گے۔ لیکن آج جائزہ لیں تو وہی سب سے زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ علماء کی طرف لوگوں کی ہر دور میں نگاہیں اٹھتی رہی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ دین کو بچا یا ہے جس سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔ مگر وہ گردن اٹھاکر چلنے والے وزنی مولوی نہیں تھے، بلکہ وہ سرجھکاکے انکساری سے چلنے والے مولوی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ رہنمائی فرمائی مگر آج وہ بھی ناپید ہیں۔ جو اکڑکر چلنے والےمولوی ہیں وہ اس کوشش میں ہیں کہ برے وقت سے فائدہ اٹھا کر کسی طرح وہ حکومت حاصل کر لیں۔ رہی حکومتِ وقت وہ بھی نہلے پردہلا چل رہی ہے۔ وہ اگر انہیں جلسے کرنے دیتی اور جواب میں خود نہ کرتی،توعوام کو جلد ہی احساس ہو جاتا کہ ہمارا دوست کون ہے اوردشمن کون ہے؟ وہ جو بڑے بڑے جلوس نکال کر عوام میں کرونا پھیلا کر ان کو موت کے منہ میں ڈھکیل رہے ہیں یا وہ حکومت جوکہ صبر کررہی ہے اور انکی مکاریوں کو برداشت کررہی ہے۔ اس سے یقیناً فتح حکومت کی ہوتی کیونکہ پاکستان میں جہالت کا تناسب اب وہ نہیں ہے جو کہ پہلے تھا اور نہ ہی میڈیا کی وہ حالت ہے۔ مگر افسوس ہے حکومت خود اس جنگ میں شامل ہو کر ان کی سہولت کار بن گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عوام کے آنسو پوچھے کون۔ یہ ہے وہ مسئلہ جو پاکستان کے عوام کو درپیش ہے۔ وہ ملک جو ہندوستانیوں مسلمانوں نے اس لئیے بنا یا تھا۔ ہم نہ سہی مگر ہمارےبھائی تو آرام سے ہونگے؟ اب نہ بھائی آرام سے ہیں نہ ہندوستان کے مسلما ن آرام سے ہیں۔ دونوں کے مستقبل پہلے بھی مشکوک تھے اب بھی مشکوک ہیں۔ ہاں یہ فرق ضرور آیا کہ سرمایہ داروں کی تعداد اب پاکستان میں بے شمار ہو گئی جبکہ اس وقت ایک اصفہانی بنگال میں تھے اور حبیب بنک والے بمبئی میں تھے، اللہ اللہ خیر صلا! پہلی مرتبہ جنرل ایوب خان کے دور میں لوگ اکیس نو دولتیوں کاگلہ کرتے نظر آئے، جبکہ اب ماشا ء اللہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔جبکہ ہندوستان کے مسلمانو ں میں سرمایہ دار نہ بڑھے؟مگر ان کی گنتی نہ بڑھنا یہ سوال ضرور پیدا کرتی ہے پاکستان میں یہ تعداد کیسے بڑھی اور کیونکر بڑھی جیسے بھی بڑھی ا چھی بات تھی کہ اس پر پاکستان کے باشندے شکر ادا کرتے۔ تاکہ وہ انہیں اور دیتا مگر وہ ناشکرے بن گئے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کبھی پہلے بھی کسی ناشکری قوم کو نہیں نوازا ہے اورنہ آئندہ اس سے امید ہے اس لیے کہ وہ فرماتا ہے کہ میں اپنی سنت کبھی تبدیل کرتا۔ لہذا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رحم فرما ئے اور پاکستان کے مسلمانو ں کوعقل دے کہ وہ سمجھیں کہ کس دور سے گزر رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اور نہ سمجھے تو اس کے نتائج کیا مرتب ہونگے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں