اسلام دین معاملات ہے(10)۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ ہفتے اس پر بات کر رہے تھے ۔ کہ بچے کچھ بھی کریں لیکن ماں کی مامتا اور والدکاپیار اور شفقت انہیں کچھ کر نے نہیں دیتا ہے ۔ چونکہ میں 16 سال سینیر سٹیزنس کا کونسلر رہا ہوں قسم قسم کے معاملات میرے سامنے آئے لیکن جب بچوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بات آئی تو والدین تیار نہ ہو ئے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی کی جائے اکثر یہ ہوا کہ وہ ایک دفعہ آکر پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے;اب آگے بڑھتے ہیں .

بڑے بھائی اوربہنوں کے حقوق ۔ ۔ عام طورپر مسلمانوں میں یہ رواج عام ہے کہ باپ کے انتقال بعد بڑا بھائی ہی اپنے خاندان کانگراں ہوتا ہے کیونکہ دوسرے بچے چھوٹے ہو تے ہیں ۔ بڑے بھائی پر واجب ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو باپ جیساپیار دے اور بہن بھائیوں کو بھی چاہیئے کہ وہ بڑے بھائی کا اسی طرح احترام کریں جس طرح وہ والد کاکیا کرتے تھے۔کیونکہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سےبجتی ہے ۔ یکطرفہ معاملات زیادہ عرصے نہیں چلتے بڑے بھائی کو با پ کی یا ماں کی چھوڑی ہوئی جا ئیداد اپنا مال نہیں سمجھنا چاہیئےبجا ئے اس کے خود کو مالک سمجھیں امین سمجھنا چا ہیئے ۔ لہذا خود کو ان کے مال کامحافط سمجھیں اور اس کو بڑھانے کے لیئے جو بھی کوشش کر سکتے ہیں وہ کریں چونکہ اسلام نے انہیں اجازت دے رکھی تو وہ اس میں بقدر ِ ضرورت لے سکتے ہیں لہذا اگر ضرورت مند ہیں تو حسب ضرورت لے لیں۔ ہمارے معاشرے میں بہکانے والے بہت ہوتے ہیں اور وہ بڑے بھائی پر نگاہ رکھتے ہیں چھوٹے بھائیوں کو بہکا تے رہتے ہیں کہ دیکھو! بھائی تمہارے مال پر عیش کر کررہا تمہارے کپڑے پھٹے ہو ئے ہیں یا گندے ہیں ۔ اور اس کے بچے کتنے ٹھاٹ سے رہتے ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جس بچے کی ماں زندہ ہے وہ زیادہ اچھے طرح سے پرورش کرتی ہے ۔ یہاں بھا بی کا کردار درمیان میں آجاتا ہے چاہیں وہ کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو اور کتنی بھی ان کی خدمت کرے ماں کا نعم البدل نہیں بن سکتی ؟یہ چھوٹے بہن بھا ئیوں کو بھی سمجھنا چا ہیئے ۔ اور بڑے بھا ئیوں کو بھی چا ہیئے کہ وہ اپنے بارے میں بچوں کے دلوں میں غلط فہمی پیدا نہ ہونے دیں اگر کوئی چیز لائیں تو پہلے انہیں دیں اگر کسی وجہ سے انہیں ملی تو انہیں اس کی وجہ بتا ئیں ۔ کیونکہ بھائی کو باپ کا مقام حاصل تو اسے بھی باپ بن کر ان کی سر پرستی کرنا چا ہیئے ۔ ہر راعی رعیت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور رعیت پر بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ جبکہ شرعاً بھابی ان کی خد مت کرنے کی پابند نہیں ہے البتہ انسانیت اس پر وہی ذمہ داریا ں ڈالتی ہےاگر وہ ادا کر رہی تو احسان کر رہی ہے اسے محسنہ سمجھیں اس طرح بات بنی رہتی ہے اور تعلقات جلد نہیں ٹوٹتے اگر معاملہ برعکس ہے بڑا بھائی ان کے حقوق ادا نہ کرے پھر تو بھابی کے کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا اور گھر بگڑ جا تے ہیں۔ کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ انسان بھوکا تو رہ سکتا ہے لیکن بغیر انصاف کے نہیں رہ سکتا;ِ یہ حدیث مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بڑے بھائی کا ویسا ہی حق بڑے بھائی کا چھوٹے بھائیوں اور بہنوں پر ہے جیسے کہ باپ کا تھا اس کا تقاضہ ہے کہ چھوٹے بھائی بہنوں پر اس کا ویسا ہی احترام لازم ہے جیسا کہ وہ باپ کا کرتے تھے ۔ الادب المفرد میں ایک حدیث آئی ہے جس کے راوی حضرت انس بن مالک ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایاکہ جس نے پرورش کی دو یا تین بیٹیوں کی یا دو اور تین بہنوں کی حتیٰ کہ وہ اس سے بخیر و خوبی جدا ہوگئیں (شادی بیاہ) کے بعد یا انتقال کر گئیں تووہ جنت میرے برابر ایسا کھڑا ہوگا جیسے میری یہ دو انگلیاں پھر آپ ﷺ نےانگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا اور مزید فرمایا کہ یہ ہی حکم ایک بیٹی یا بہن کابھی ہے ۔ چونکہ ہمارا معاشرہ مردوں کی برتری کا حامل ہے لہذا اس میں بھابھی کاذکر اس لیئے نہیں ہے کہ اسلام نے اسے ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے جبکہ وہ بھائی کی لاءف پاٹنر ہیں وہ نہ سمجھیں کہ وہ ثواب سے محروم رہیں گی ، جب اسلام نیک کام کا مشورہ دینے والے تک کو نیکی کا ثواب دیتا ہے تو یہاں کوئی محسنہ کیسے ثواب سے محروم رہ سکتی ہے ۔ اس نکتہ کو بھا بھی کو بھی سمجھنا چاہیئےاس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بڑا منصف ہے ۔

مسلمانوں کے مسلمانوں پر حقوق ۔ قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی ہر چیز حرام کردی ہے ۔ اس میں ہر طرح کی اہانت وغیرہ سب شامل ہے ۔ جس کاہر کوئی بھی شخص کلمہ پڑھنے کے بعد حقدار ہوجا تا ہے ۔ جس کا ہمارے یہاں اب بالکل خیال نہیں رکھا جاتا اور اس کی وجہ سے اسلام کی گروتھ رک گئی ہے ۔ مثلا ً اب بھی بہت سی جگہ نومسلم کو نماز تک میں برابر کھڑا نہیں ہونے دیتے حالانکہ وہ پیدا ئشی مسلمانوں سے بہتر ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں جیسے ہی وہ ایمان لاتاہےلیکن پیدا ئشی مسلمان ان کے گھر کھانا حرام سمجھتے ہیں، ان کے برابر بیٹھنا گناہ سمجھتے ہیں ۔ جن کی مسلمان ہوئے پشتیں گزر گئیں مگر انہیں پنجاب میں مصلی کہتے ہیں ۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کے لیئے یہ شر کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے کیونکہ مسلمان کی ساری چیزیں اس پر حرام ہیں ۔ اس کی جان اس کا مال اس کی عزت اس کی آبرو ۔ بشمول اس کے عیبوں کا کھولنا اس کی غیبت وغیرہ کرنا ۔ ایک دوسری حدیث میں جس کے راوی ابو ہریرہ; ہی ہیں;۔یہ حدیث ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں

(1) جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کر
(2) جب وہ دعوت کرے تو تو قبول کر
(3) جب تجھ سے خیر خواہی چا ہے خیر خواہی کر
(4) چھینک لے اور وہ الحمد للہ کہے تو یرحمک اللہ کہو
(5) جب بیمار ہو جا ئے عیادت کر
(6) مر جا ئے تو اس کے جنازے ساتھ جا(ترمذی) ایک حدیث تو یہ بھی ہے کہ جو اپنے لیئےچاہے وہ اپنے بھائی کےلیئے بھی چاہ ۔

ایک اور حدیث میں جوحضرت جابر(رض)سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فر مایا کہ جس شخص کو مسلمان کسی ایسے موقع پر ذلیل کر یگا جہاں اس کی ہتک ہوتی ہو اس کی عزت میں کچھ کمی آئے تواللہ اسے ایسے مقام پر ذلیل کریگا جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کا طلب گار ہوگا .>اور جو شخص کسی ایسی جگہ کسی مسلمان کی مدد کریگا اس کی بھلائی ہوتی ہو، تو اللہ ایسے مقام پر اس کی مدد کریگا جہاں اس کو اللہ تعالٰی کی مدد درکار ہو ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ کسی کو جائز نہیں کہ وہ مسلمان سے تین سے زیادہ بات چیت بند رکھے ۔ تین دن گزر جا ئیں تو اسے چاہیئے کہ وہ اس سے جاکر ملے اور اس کو سلام کرے (اگر دوسرے نے سلام کا جواب دیدیا تو دونوں شریک اجر و ثواب ہونگے اگر سلام کا جواب نہ دیا تو سلام کرنےوالا بری الزمہ ہوگاَاس پر قطع تعلق کا گناہ نہیں رہے گا کیونکہ اس نے سلام کرکے پہل کی مگر دوسرے طرف سے ہمت افزائی نہیں ہوئی ۔ ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے تعلق توڑنے والے سے تعلق جوڑنے والا بہتر ہے کوئی اگر تم سے تعلعق توڑے تو تم اس سے جوڑو، جوڑنے۔ ( باقی آئندہ)

شائع کردہ از Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(9)۔ شمس جیلانی

ہم نے گزشتہ قسط میں وعدہ کیا تھا کہ ہم چند احادیث بھی اس سلسلہ میں پیش کر یں گے جو کہ حاضر ِ خدمت ہیں۔

(١)مشہور صحابئ رسول ﷺحضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،ایک شخص نےیہ حضورﷺ سے پوچھا کہ بیٹے پر والدین کا کیا حق ہے، تو آپ ﷺنے جواب میں ارشاد فرمایا ،یہ دونوں تیری جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی ہیں،یعنی اگر تو ان کے سامنے رحیم اورکریم اور عجزو انکساری کا پیکر بن جا ئے تو تیرے لئےو ہ جنت کا باعث ہیں ورنہ دوزخ کا مستحق ہوگا(مشکوٰۃ شریف)

(2)ر حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اپنے ماں باپ کا اطاعت شعار و خدمت گزار فرزند، جب ان کی طرف رحمت ومحبت کی نگاہ سےدیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی لئے ہر نگاہ کے بدلے میںایک حج مبرور کا ثواب عطا فرماتا ہے،صحابۂ کرام نے پوچھا ’’یا رسولﷺاللہ اگرچہ وہ ہر روز سو بار دیکھے؟آپ نے فرمایا!ہاں،اگرچہ وہ سو بار دیکھے،اللہ تعالیٰ بڑا پاک اور بہت بڑا ہے اور اس کے خزانے میں کمی نہیں آتی(مشکوۃ شریف)

(3)حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اور والدین کی نافرمانی کرنا ،جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں ۔

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا ، کہ تین لوگوں کی بد دعا قبول ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔مظلوم کی بدعا،مسافر کی بدعا،اور اولاد کے خلاف والدین کی بدعا ۔لہٰذا اولاد کو چاہیے کہ ہمیشہ ایسی حرکت سے پرہیز کرے ،جس کے سبب والدین کو اس کی خلاف بد دعا کرنی پڑے ،اور والدین کوبھی چاہیے کہ حتیٰ المقدور ان پر بد دعا کرنے سے بچے رہیں ۔ورنہ مقبول ہونے پر خود ہی پچھتانا پڑیگا، جیساکہ آج دنیا میں اس کا مشاہدہ کیا جاتاہے۔

(5)حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ والدین کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔کعبہ کی طرف دیکھناعبادت ہے ۔قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔جس بھائی کے لیے اللہ کے لیے محبت ہو اس پر نظر ڈالنا عبادت ہے۔

(6)ایک دوسری حدیث یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کسی صرف اللہ کے لیئے کسی سے محبت کرتا تو اللہ بھی اس کی طرف محبت کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔

(7)جو والدین کو ناراض کرے ان کے حقوق کوادانہ کرے ۔ان کے بارے میں حضورﷺ فرماتے ہیں ’’تین افراد ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے فر ض کو، اور نہ نفلوں کو قبول کرتاہے ماں باپ کو ایذادینے والا ۔اور صدقہ دے کر احسان جتلانے والا ،اور تقدیر کا جھٹلانے والا ۔
ماں کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا،پوچھنے لگا !اے اللہ کے رسولﷺ سب سے زیادہ کس کا حق ہے؟کہ اس کے سا تھ حسن و سلوک کروں ۔آپ نے فرما یا تیری ماں کا ،پوچھا، پھر کس کا، آپ نے فرما یا تیری ما ں، پوچھا، پھر کس کا ؟آپ نے فرمایا تیری ماں کا۔(مسلم شریف)

کیوں کہ حمل وضع حمل ،اور دودھ پلانے کی شفقت اور صعوبت صرف ما ں اٹھاتی ہے باپ نہیں اٹھاتا ،اس وجہ سے ما ں کا حق زیادہ ہے۔
اولاد پر والدین کے حقوق بعد وفات اسلام کی تعلیمات میں جہا ں بار بار تاکید سنایا گیا کہ دنیا وی زندگی میں والدین کے ساتھ حسن و سلوک کریں اور دوسری طرف یہ درس بھی دیا کہ وہ دنیا سے چلے جائیں تو ان کے ساتھ حسن و سلوک کرو۔ان کے کی لئے ہمیشہ دعاء و استغفار کرو،صدقہ و خیرات واعمال صالحہ کا ثواب انہیں پہنچاتے رہو،

ہا ئے افسوس !آج معاشرے میں بہت ساری برائیاں جنم لے رہی ہیں ،جس کے نتیجے میں ہمارے اخلاقی زندگی کی بنیاد یں کھوکھلی ہو چکی ہیں مخلوط خاندانوں میں رشتوں کا تقدس بری طرح پا مال ہو رہا ہے باپ جب تک کماتا ہے، اولاد والدین کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتی ہے مگر جیسے ہی ملازمت سے فراغت کے بعد گھر آتا ہے ،تو اسے بیکار اور فالتو تصور کیا جانے لگتا ہے ،ما ں باپ کا وجود کتنی بڑی نعمت ہے اس کی قدر وہیں جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہے ،اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہر گناہ کے بدلے میں عزاب اور ہر جرم کی گرفت کو موخر کیا جا سکتا ہے مگر ماں اور باپ کی نا فرمانی ایسا سخت گناہ ہے اسکا مواخذہ مرنے سے پہلے کرلیا جاتا ہے(الادب المفرد ، جس طرح لڑکیوں کا مسئلہ ہے اور ورثہ ان کے حصہ کو ہتھیا لیتے ہیں اسی طرح۔والدین کو ہتھیا نے کے نئے نئے راستےتلاش کیئے جا رہے ہیں خاس طر سے جن یورپین ملکو ں میں جن کے بیٹے رہہتے ہیں وہ ان پر بہت تیزی عمل کر رہے ہیں باپ یہ سو چ بھی نہیں سکتا کہ اس کا بیٹا اسے ڈس لے گا؟آپ تلاش کریں گے تو یہاں ایسے واقعات بہت سے مل جا ئیں گے۔ ایک شخص کا اکلوتہ بیٹاکنیڈ میں تھا۔ اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا بیٹا عزر خواہی کے لیئےآ یا اور اس نے والد سے کہا کہ آپ یہاں اکیلے کیسے ر ہیں گے ۤپ کی دیکھ بھال کون کریگا بہتر کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں وہاں بہت بوڑھوں کے لیئے بہت سی سہولتیں ہیں ۔خاص طورپر علاج معالجے کی جو اس زمانے واقعی بہت تھیں لوگوں نے انہیں غلط استعمال کیا اب قوانین بدل چکا ہے اور بھی محتاط ہو جا نا چاہیئے۔اس کے والد کے پاس دومکان تھے وہ ایک میں رہتا تھا اور دوسرا کرائے پہ اٹھا ہوا تھابیٹے نے بکوا دیئے اور پیسہ لیکر یہاں ابا کوساتھ لے آیا ابا بڑے خوش تھے کہ بڑا سعادتمند بیٹا اللہ نے دیا؟ یہاں ۤآنے کے بعد اس رقم سے اس نے اپنے نام سےمکان لے لیا کچھ عرصہ ابا آرام سے رہتے رہے÷کہ اس کے بچے چھوٹے تھے بیوی ملازمت کر تی تھی ۔ دادا شوق سے بچوں کو اسلول چھوڑنے جا تے اور اس کے بے بی سٹر کا کام کرنے لگے۔ جب بچے بڑے ہوگئے تو۔ ان سے پہلے تو اوپروالا حصہ خا لی کرایایا پھر آہستہ آہستہ نیچے کا حسہ بھی خالی کرالیا برابر میں سکھوں کا گردوارہ تھا وہ کھانا وہاں کھا لیتے اور جہاں جگہ ملتی سوجاتا؟ ایک دن انہیں میرے پاس میرے ایک دوست لے آئے ۔ میں نے کہا کہ مکان کا تو کچھ نہیں ہوسکتا اس لیئے کہ وہ بیٹےکے نام ہےالبتہ جو پنشن اس کےبنک اکاؤنت جا رہی اور اسے کچھ نہیں مل رہاہے وہ دلوائی جا سکتی ہے۔ مگر ہ چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کو نقصان نہ پہنچے؟اس لیئےوہ کوئی عدالتی کا روائی کر نے کو تیار نہ تھا۔ جو صاحب انہیں میرے پاس لیکرآئے تھے میں نے انہیں کہا کہ اس کی ایک تر کیب ہے کہ بیٹے سے کہو کہ کیس میرے پاس پہنچ گیا ہے لہذا بہتر ہے کہ پیپر اور بنک اکا ٓنٹ اس کو دیدوورنہ تم پکڑے جاؤگے۔ یہ ترکیب کارگر ہوئی اور اسکی پینشن اسے ملنے لگی۔ اس قسم کے کیس بہت ہیں جو والدین حکومت کے سامنے لے جانے کے لیئے تیار نہیں ہوتے ۔ میرا مشورہ ہےکہ رقم بیٹوں دیتے وقت وہ یہ سمججھ کر دیں کہ یہ ہم ان کو تحفہ دے رہے ہیں اور یہ ہم کبھی واپس نہیں لیں گے تو کم از کم تعلقا خراب ہو نے سے بچے رہیں گے اوبچوں کی عاقبت بھی خراب نہیں ہوگی کیونکہ اس قسم کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ دوسریطرف مندرجہ با لا احادیث کی روشنی میں بچوں کو بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہی کرنے کی نیت بھی ہے کیونکہ مجبوری کی وجہ نہیں وعدہ پورا نہیں کر سکے اس کے لیئے اللہ کے قوانین دو سرے ہیں؟ مگرجعل سازی کرنے کی صورت میں وہ دوسرے ہیں

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(8)۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ قسط میں لڑکیوں کے حقوق طرح ،طرح سے پائمال کرنے کےطریقوں پر بات کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ ان تمام مظالم کی فہرست جب ظالم کے اعمال نامے کی شکل میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردی جا ئیگی۔تب ہر ظالم کو پتہ چل جا ئے گا!کہ اسی دوران ہمارے ذہن کےایک کونے میں ایک رسم کی یا د ابھر آئی وہ بھی وہ جوکہ سندھ کے سادات کے کچھ گھرا نوں میں اسوقت رائج تھی، جب ہم وہاں ہوا کرتے تھے۔ وہ تھا قر آن کے نام پر لڑکیوں کی زندگی تباہ اور بر بادکرنا؟ یہ کہلاتی تھی قر آن کے ساتھ ان کی شادی کردینا تاکہ ان کا حصہ بھائی ہڑپ کر سکیں ؟ اس کی شادی قر آن کے ساتھ با قاعدہ کردی جاتی تھی اور وہ اب کسی اور کے ساتھ عقدالنکاح تا حیات نہیں کرسکتی تھی؟ یہ اتنا بڑا ظلم تھا جس کی مثال ہمیں کہیں اور نہیں ملی ۔ اب ہم والدین کے حقوق کے طرف آتے ہیں۔
والدین کے حقوق۔۔۔ اس پر ہمارے معاشرے میں آج کل کوئی زور نہیں دیتا ہے اور جو مسلم معاشرے میں ان کی خواری لگ رہی وہ ناقابلِ معافی ہےجبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے فوری بعد والدین کا ذکر کیا ہے؟ سورہ الاسر کی آیت 23 میں تو یہاں تک فرماد یا دیا کہ ان کے سامنے اف تک نہیں کرنا؟ جبکہ ہمارے یہاںاب انہیں جھڑکناتو عام ہے۔لیکن اس سلسلہ میں بہت سی احادیث ہیں۔ جنکا لب لباب یہ ہے کہ والدین اگر راضی ہیں تو اللہ بھی راضی ہے ؟ اور والدیں ناراض ہیں تو وہ ان لوگوں میں شامل جن پر جنت حرام ہے ، اللہ سبحانہ تعالیٰ دوسرے معاملات کی سزا وہاں کے کیئے اٹھا رکھتا ہے مگر اس کی سزا وہ اکثر یہیں دیدیتا ہے جب حضورﷺ نے یہ فرما یا تو ایک صحابی نے ( رض) نے سوال کیا کہ کیا والدین ظلم کر یں تو بھی ؟ف تو حضوﷺرمایا ہاں! مندرجہ بالا ۤآیت کی تفسیر ابن ِ کثیر نے بالتفصیل کی ہے اگر میری بات کا یقین نہ آئےتو وہاں جاکر پڑھ لیجئے ۔ انہوں نے اس میں ماں باپ کے سامنےجا نے اور ان سے بات چیت کرنے کےسلیقہ بتا یا ہے۔ کیونکہ آجکل یہ بھی ایک رواج چل پڑا ہے کہ لوگ کہدیتے ہیں حدیث !حدیث تو بہت سی ضعیف بھی ہیں؟ کہنے والوں سے پوچھیں صحاح ستہ کے معنی کیا ہیںاور ان کے نام کیا ہیں ان میں جو احادیث کے مجموعات ہیں ، اتم نے ان میں سےکتنی جلدیں پڑھ رکھی ہیں ؟ حدیث کی قسمیں کتنی ہیں ضعیف کی تفسیر کیا ہے؟ تو کہنے والا اکثر بغلیں جھانکتا نظر ۤآئے گا۔ وہ نہیں جانتا کہ بغیر حضور ﷺ کے اتباع کرنے کہ مسلمان کے پاس کوئی اورچارہ نہیں ہے اسیلیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں حکم دیا ہے کہ“ اے نبی! ان سے فرما دیئجئے یہ جو مجھ سےمحبت کےدعویدار ہیں وہ آپ کا اتباع کریں “ کیونکہ قرآن میں نماز پڑھنے کا تو حکم ہے ؟پڑھیں گے کیسے یہ حضور ﷺ نے عمل کر کے دکھایا ، روزہ رکھنے کا حکم ہے! مگر رکھا کیسےجا ئے گا یہ حضور ﷺ نےرکھ کردکھایا ہے ، زکاۃ کا حکم ہے لیکن وہ ادا کیسےکرتے تھے وہ تو ۤآپ اس طرح ادا توکر ہی نہیں سکیں گے کہ جو کچھ آتا تھا وہﷺ شام تک اول تو رہنے نہیں دیتے تھے اگر بھولےکچھ بچ جاتا تو حضورﷺ کو جب تک نیند نہیں آتی تھی جب تک کہ وہ اسے خیرا ت نہیں کردیں؟ یہ ہی حال حج کا تھا کہ حکم قرآن ن میں تھامگر کیسےکریں وہ حضور ﷺ۔ نے کرکے بتایااسی طرح قر بانی کا معاملہ کہ کر کے دکھائی؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں کون سے فرقے کو پسند کرتا ہوں؟ بلکہ اسکے برعکس یہ فرمایاکہ مجھے وہ اسلام پسند ہے جس پر حضور ﷺ کی مہر ِ تصدیق ثبت ہو، ان کے علاوہ کسی اور کا پیش کردہ اسلام مجھے پسند نہیں ہے ؟جبکہ اس سلسلہ میں حضورﷺ نے یہ بہ نفسِ نفیس فرمایا کہ اس دین کے بھی تہتر فرقے ہو جا ئیں گے مگر“ صحیح وہ ہو گا جس پر آج میں ہوں یامیرےوہ ( صحابہ کرام) ہیں جو کہ آج میرےﷺ راستے پر ہیں۔“ دراصل والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم کا ایک سب سے اہم حصہ قرار دیا ہے جس میں ہر جمعہ کو امام صاحب آپکو پڑھ کرسناتے ہیں وہ ہے دولفظوں کا مجموعہ “عدل اور احسان“ جس پر میں بارہا اپنے آرٹیکلز میں تبصرہ کر چکا ہوں کہ یہ دونوں دو لفظ وہ ہیں جو اسلام کی اساس ہیں، سارے سارےانہیں سے شروع ہو تے ہیں اورانہیں پرختم ہوتے ہیں۔ اور والدین کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے وہی اصطلاح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے استعمال فرمائیہے ’’احسان‘‘ جس کو اس کے اصل معنوںمیں نہیں بلکہ مولوی صاحب خوبصورتی کے معنوں میں لیتے ہیں جو اردو میں تو چل سکتا ہے لیکن عربی میں نہیں ؟ جس میں اس کے وسیع معنی ہیں جو کچھ اور ہیں مختصر طور پرسمجھا ئے دیتا کہ جہاں حسن لگ وہ سپر لیٹو ڈگری میں ںچلاجاتا ہے۔ جیسےکہ حسن ِتعمیر، حسن ِ تقریر حسن ِ تحریر چونکہ یہاں نحسن سلوک استعمال ہوا ہے وہی معنی نکلیں گے؟۔ کہ“ ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق اسیطرح ادا کرنا فرض ہے جو اس لفظ کی اضافت کے بعد اس حک کاتقاضہ ہے؟۔ کیونکہ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں یہ ہی ارشاد ہواہے۔
جس کا اردو ترجمہ میں یہاں پیش کر رہا ہوں اور ہمیشہ کی طرح تفسیر ِ ابن کثیرؒ سے لیا ہے کہ ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے۔
’’ آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور “والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو“ اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھاo‘‘الاسراء، 17 : 23 –
اب شاید ان کی سمجھ میں بھی میری وہ بات ۤآگئی ہوگی جو کہ میں سمجھانا چا ہتا ہوں؟ جو پھر بھی نا سمجھنا چا ہیئں انہیں کوئی نہیں سمجھا سکتا ہے۔ اس تمہید کے بعدمیں یہاں صرف ایک آۤیت کا ترجمہ پیش کررہا ہون آئندہ اشاعت میں کچھ احادیث کا بھی ترجمہ انشا ءاللہ پیش کرونگا تاکہ قارئین کی مزید تسکین ہوسکے؟ ( بقیہ اگلی اشاعت میں)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(7)۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ قسط میں لڑکیوں کے حقوق پر بات کر رہے تھے اور یہاں تک پہنچے تھے کہ حضور ﷺ اپنی صاحبزادی کو بے انتہا عزت دیتے جب وہ کا شانہ نبوتﷺ میں داخل ہو تیں تھیں تو آگے بڑھ کر پزیرائی فرما تے فرماتے اور جب رخصت ہوتیں تو بھی دروازے تک چھوڑنے جاتے ۔ چونکہ حضور ﷺ کا اتباع کرنے کا حکم قرآن میں بار بار آیا ہے اور احادیث میں اس کا بہت سی جگہ ثواب بھی بتایا گیا ہے جو کہ ہم آگے چل کرتبا ئیں گے یہ وہ مفت کا انعام ہے جو ہم ذراسی محنت کرنے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ مگر ہماری بد قسمتی ہے کہ نہیں کرتے ہیں جبکہ ان بیچاریوں کاوراثت میں جو حصہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مقرر فرما دیا ہے وہ بھی انہیں نہیں دیتے اور کسی نہ کسی طرح ان سے ہتھیا لیتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہہ کر اگر تم حصہ لوگی تو ہم سے تمہارے تعلقات ختم ہو جائیں گے ،ادھر اگر اس کا شوہر یا سسرالی لالچی ہوئے اور انہوں نے شادی ہی یہ سوچ کی تھی کہ اس کے حصہ میں زمین ملے گی جو پاکستان میں بہت اہمیت رکھتی تو ان کا دباوَ الگ اسے برداشت کرنا پڑرہا ہوتا ہے کہ تم اپنا حصہ بھائیوں یا چچا وغیرہ سے کیوں نہیں مانگتیں ۔ اس طرح وہ مخلوق جس کو آپ پچھلی قسط میں پڑھ چکے ہیں یہ کہہ کر باپ کی امانت میں اللہ سبحانہ نے دیا تھا کہ یہ ایک کمزور جان ہے جوکہ ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے اس کا اگر تم نے اچھی طرح خیال رکھاتو قیامت تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہو گی اسے خوش رکھنا جوکہ خوقسمتی سے آپ کے گھر کےدرواز کے اندر داخل ہوئی ہے; آپ کے اسے اپنے لیئے مصیبت سمجھنے کی بنا پرختم ہوجاتی ہے;بجا ئے اس کے ایک حدیث سے یہ رویہ ثابت ہے تو قطعہ رحمی کے گناہ کے مرتکب ہو ں گے ،دوسرے اگر اسے وراثت سے اسے محروم کیا یاکرایا تو جہنم کے حقدار ہونگے ۔ جب کے صلہ رحمی کے با رے میں حدیث یہ بھی ہے کہ رشتوں کو توڑنے والا جہنمی ہے ۔ اور جوڑ نے والے کوایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی عمر میں اللہ سبحانہ اضافہ فرماتاہے یہاں کرنے والے بہ یک وقت کئی گناہ کے مرتکب ہو ئے ہیں ان کے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے جسے لیکر وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونگے ۔ انکا نیک عمل اسے کوئی فا ئدہ نہیں دے سکے گا ۔ اس لیئے کہ اس نے بچی کے حقوق پائمال کیئے ہیں جس کے معاف کر نے کارب نے وعدہ نہیں فرمایا ہے ۔ اورصرف وہی اپنی زندگی میں معاف کر سکتی تھی ۔ جو کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے نہیں کراسکاتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پلڑا اٹھتا چلا جا ئے گا اور جب سارے نیک اعمال بھی ختم ہوجا ئیں گے باقی کچھ اس کے پاس نہ بچے گا تو اس کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں کھاتے میں ڈالدیئے جا ئیں گے ۔ اور وہ ویساہی مفلس ہو جا ئیگا جیسا کہ حضورﷺ نے فرما یا کہ تم جانتے ہو اس دن مفلس کون ہوگا صحابہ کرام;نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں فرمایاﷺ وہ جس کے نیک اعمال اس طرح ختم ہو جا ئیں گے;یہاں مولوی صاحب چاہیں کسی فرقے کےکیوں ہو ں ہر گناہ گار کو تسلی دیتے ہیں کہ اللہ بڑا رحیم ہے ۔ جب کہ اس نے رحم کر نے کا بھی ایک قانون بنا یاہوا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تم لوگوں پر رحم کرو تاکہ تم پر رحم کیا جا ءے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم ظلم کر وگے تو بھی میں رحم کرونگا;; وہاں یہ فرمایاکہ مجھ سے زیادہ کوئی منصف نہیں ہے، میں انصاف کرونگا اور سب مظلوموں کو ان کا حقدلاوَنگا;;ممکن ہے کہ یہاں بعض سمجدار الٹا سوال کریں کہ ہم نے کونساظلم کیا ہے جبکہ عربی میں ظلم کے معنی موقع محل کے حساب سے بہت مختلف ہوتےہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ اللہ سے لے کر مخلوق تک جس کسے بھی حقوق غصب کریگا ادا نہیں کریگا تو یہ فعل ظلم کہلا ئے گا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ان گنا ہوں سے محفوظ رکھے جنہیں ہم معمولی سمجھتے ہیں جبکہ وہ نا قابل ِ معافی ہوت ہیں ; اس دن نہ رشوت چلے گی نہ شفارش چلےگی نہ نذر نیاز چلیں گے ۔ اس دن بو لے گا بھی وہی جس کو اجازت ہوگی اورایک آیت میں یہ بھی اللہ تعالیٰ نےفریا یا ہے کہ وہ بات بھی معقول کرے ۔ ہاں ! اگر اس نے دنیا میں اللہ اور سول ﷺ کی بات مان لی ہوتی تو جنت تو کیا لوح قلم تک اس کے تھے مگر موقع وہ اس نے دار عمل میں رہتے ہوئے کھودیا جو اب کبھی واپس نہیں آسکتا ۔ جبکہ وہاں پہنچ کر ہر ایک کو اپنا انجام اپنے نامہ اعمال میں لکھا ہوا مل جا ئےگا ۔

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(6)۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہنچے تھے کہ بہت سے جوڑے جو میاں بیوی کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں مگر ان میں سے بھی اکثر کویہ معلوم نہیں کہ ان کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟حالانکہ شوہر کو خطبہ نکاح کے دوران نکاح خواں وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو کہ قرآن میں آیتوں کی صورت میں آیا ہے کہ شوہر کے اوپرذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود اپنا نان اور نفقہ کماکر لا ئے جیسا خود کھائے وہی بال بچوں کو بھی کھلائے، مگر رزق ِحلال ہونا چا ہیئے؟ تو سب سے زیادہ ثواب با ل بچوں پر خرچ کرنے کا ہے ان کا پیٹ بھر نے کے مقابلہ میں کو ئی اور مد چا ہیں وہ کتنی مقدس کیوں نہ ہووہ ان پر سبقت نہیں لے سکتی؟ ان کے بعد اللہ سبحانہ نے خرچ کرنے کی ایک ترتیب آیت نمبر177 سورہ بقرمیں دیدی ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ تمام بھلائی اس میں نہیں ہے کہ منہ تم نے مشرق کی طرف کرلیا یا مغرب کی طرف کرلیا بھلائی اس میں ہے بلکہ حقیقتاً بھلا شخص وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ،قیامت کے دن پر، فرشتوںّ پر نبیوںّ پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی محبت میں اپنا مال خرچ کرتا ہو ،قرابتداروں پر، یتیموں پر مساکین پر۔ مسافروں پر اور سوال کرنے والوں اور غلاموں کی گردن چھڑانے پر، نماز کی پابندی کرے زکاۃ ادا کرے، جب وعدہ کرے تو پورا کرے تنگ د ستی اور لڑائی وقت صبر کرے۔ یہ ہی سچے لوگ ہیں اور یہ ہی پرہیز گار ہیں“ اس پر بطور شوہر خود عمل کرنا ہے کیونکہ وہ گھر کا بڑا ہے؟ باقی اسے دوسرے اہلِ خانہ کو تلقین بھی کرنا ہے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس پر گھر میں عمل ہورہا ہے یانہیں؟ جبکہ بیوی کی صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بچوں کو پرورش کرے، دودھ تیس ماہ پلا ئے اور اس کے ناموس کی حفاطت کرے۔ اور صرف انہیں لوگوں کو گھر میں آنے کی اجازت دے جنہیں کہ اسکا شوہر پسند کرتا ہو۔ ان میں شوہر اگر کہیں بھی کوتا ہی کریگا تو وہ ذمہ دار ہونے کی وجہ گنا ہ گار ہوگا؟ باقی جو بیوی کے فرائض زوجگی ہیں وہ بخوبی ادا کرے؟ اگر اس کوئی ہنر آتا ہے اور اس سے کچھ کمارہی تو اس پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے نہ بال بچوں کا حق ہے؟یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جہاں چا ہے وہاں خرچ کرے۔ ہاں! اگر وہ اپنی مرضی سے گھر پر یا بچوں پر خرچ کریگی تو اس کا درجہ ایک محسنہ کا ہوگا اور اس کو اس پردہرا ثواب بھی ملے گا ایک راہ خدا میں خرچ کرنے کا اور دوسراصلہ رحمی کا یعنی اپنوں پر خرچ کرنے کا؟ جو کہ حضورﷺ نے اپنے ایک فیصلہ میں حکم صادر فرمایا ہے یہ معاملہ دو بہت بڑوں کے درمیان تھا وہ تھے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت زینبؓ بن ابی ماویہ ۔ جس کا فیصلہ ہم گزشتہ ہفتہ اپنے مضمون نمبر (5)میں تحریر کرچکے ہیں۔ جن کو دلچسپی ہووہ وہاں جا کر پڑھ لیں؟

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(5)۔ شمس جیلانی

گزشتہ مضمون میں ہم نے اس پربات ختم کی تھی کہ بچے وہی کچھ سیکھتے ہیں جو آپ کو کرتے دیکھتے ہیں آج کے دور میں آپ کی اپنی عافیت اسی میں ہے کہ آپ وہی کریں جو آپ بچوں کوسکھانا چاہتے ہیں ورنہ آپ کے بچے بھی وہی بن جا ئیں گے جہاں آپ رہ رہے ہونگے ?اس لیئے کہ ہم عصری کا دباؤ یعنیPeer presserکااثر ان کو بری طرح متاثر کرتا ہے گوکہ یہ مشکل کام ہے لیکن اگر آپ عاقبت پر یقین رکھتے ہیں تو خود بخود وہ آسان ہوجا ئیگا کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ آسانیاں پیدا کردیگا؟ اس لئیے کہ حضورﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ جس کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے ایک کہ “ دور آئیگا کہ میری امت گمراہ ہو جا ئے گی اس وقت جو لوگ میرے یا میرے ان صحابہ ؓ کرام کے راستے پرچلیں گے جوآج میرے راستے پر ہیں توان کے لئیے اس راہ پر چلنا اتنا ہی مشکل ہوگا جیسے کہ کسی نے انگارہ مٹھی میں رکھ لیا ہو۔ مگر جو چلیں گے ان کے لئے اس کا ثواب سو حج کرنے کے برابر ہوگا۔اس دور میں اسوہﷺ حسنہ پر عمل کرنے والوں کے لیئےاتنی نویدیں ہیں کہ ان کی حد نہیں ہے مگر اس عمل کر کے وہ رتبے لینے والے اس دنیا میں اب ملتے نہیں ہیں اگر کہیں ہیں تو وہ دال میں نمک برابر ہیں اسی لئےشاید علامہ اقبال ؒ کو ایک صدی پہلے کہنا جواب شکوہ میں یہ کہنا پڑاکہ“ جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں “آئیے دعا کر یں کہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اسوہ حسنہ ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)اب ہم چلتے ہیں بیوی اور بچوں کے حقوق کی طرف جو کہ صدقوں میں ثواب کے اعتبار سے سب سے اول ہے۔ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ کما کے لانا اور بیوی بچوں کو کھلانا پلانا روٹی کپڑا دینا یہ سب کچھ اسلام میں شوہروں کے ذمہ ہے؟اور اسکا سب سے زیادہ ثواب ہے۔ اس سلسلہ میں ایک صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ ایک دینار جہاد پر کوئی خرچ کرے،اور ایک دینار کسی غلام آزاد کرانے پر خرچ کرےاورایک دینار کسی مسکیں دیا جا ئے اور ایک دینار اپنے اہل و عیال کے نان اور نفقہ پر خرچ کیا! تو سب سے زیادہ ثواب اپنے اوپر، اپنے بچوں کے اوپرخرچ کرنے کاثواب سب سے زیادہو گا بشرط ِ وہ حلال ذرائع سے کمایاہو اگر حرام ہے تو کچھ بھی نہیں اگر مال حلال اور اپنی شہرت کے لئیے خرچ کیا گیا تو بھی کوئی ثواب نہیں ہے۔ چونکہ شہرت شرک خفی میں آتی ہے اللہ سبحانہ کسی قسم کا شرک برداشت نہیں کرتا جس طرح آپ اپنے سے کم تر لوگوں کواپنے کسی کام میں شریک نہیں کر تے ؟وہ تو مالک ہے وہ کیسے گوارہ کرسکتا ہے کہ اسی کی مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک کہلائے؟ہم نے اوپر ایک لفظ مسکین استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی اردو میں کچھ اور ہیں جبکہ عربی کچھ اوراسی صدقے معنی ہیں۔ ہم اردو میں جو بھیک مانگتا پھرے اسے مسکیں کہتے ہیں مگر عربی میں مسکین کے معنی یہ ہیں کہ وہ کما تورہا ہے با روز گار بھی ہےمگر اس کے جائز اخراجات پورے نہیں ہوتے وہ بھی مسکین ہے ؟ اس کی مدد معلوم کر کے کرنا چا ہیئے کیونکہ وہ ہاتھ پھیلا کر مانگتا نہیں ہے۔ دوسری غلط فہمی یہاں یہ ہے کہ بیوی کی آمدنی پر شوہر کا حق ہے جوکہ آجکل خواتین کی ملازمت کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یہ قطعی غلط ہے۔ وہ اگر اپنی مرضی سے اپنی پوری آمدنی بچوں اور شوہر پر خرچ کردے تو وہ محسنہ کا درجہحاصل کرلے گی۔ اور جو وہ خرچ کریگی اس کا ثواب دگنا ہوگا۔ ایک اللہ کی راہ میں دینے کا ثواب تودوسرا صلہ رحمی یعنی اپنوں کو دینے کا ثواب۔یہ ایک ایسا انکشاف ہے جس سےکے بہت کم لوگ واقف ہیں حتیٰ کہ بہت سی مخیر خواتین بھی واقف نہیں ہیں؟ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی تعریف کی اور بے انتہا اس ثواب بتایا جو کہ ہے۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودکی نے بیگم صاحبہؓ حضرت زینب بنت ابی معاویہ کو بہت دکھ ہوا کہ میرے پاس بچوں اور شوہر سے کچھ بچتا ہی نہیں ہے میں کہاں سے لاؤں جو اللہ کی راہ میں دوں؟ انہوں نے گھرواپس آکر اپنے شوہر سے ذکر کیا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ تم آج سے مجھے ایک کوڑی بھی مت دو اور سب راہِ خدا میں دیدیا کرو میرا اوراور میرے بچوں کا اللہ مالک ہے؟ انہوں ؓ نے فرمایا کہ نہیں پہلے آپ حضور ﷺ ے معلوم کر کے آئیں ان کا جو حکم ہوگا اسی پر میں عمل کرونگی۔ انہوں نے کہا کہ تم خود جاؤمیں نہیں جاؤ نگا؟ کیونکہ بیگم صاحبہ کے سامنے وہ منظر تھا کہ ان کی مدد بند کرکے خیرات کرنے کے بعدانہیں ان کے اپنے بچے فاقوں سے مر تے نظر آرہے تھے؟ جبکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ توکل میں بہت آگے تھے؟ وہ دن بھر حضور ﷺکی میں حاضر رہتے ان سےعلم حاصل کرتے اور دن رات وہ لوگوں میں بانٹتے رہتے جبکہ کسی سےوہ کو ئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں کرتے تھے اور وہ اسی روش پر تا حیات قائم رہے جواس سے ثابت ہے کہ حضرت عثمان(رض) نے اپنے دور ِ خلافت میں انہیں ایک بہت بڑی رقم بھجوادی جبکہ وہ شدید بیمار تھے؟ وہ انہوں نے یہ فرماکر واپس کر دی کہ تم یہ سمجھتے ہوکہ میں اپنے پیچھے لڑکیا ں چھوڑے جا رہا ہوں میرا کوئی لڑکانہیں ہے میں نے انہیںسورہ کہف سکھادی ہے جس کو یہ سورت یاد ہووہ وہ کبھی بھوکا نہیں مرتا؟ جبکہ ان کی بیگم صاحبہ کی سوچ یہ تھی چونکہ وہ کئی ہنر جانتی تھیں جس سے گھر کا خرچ چلتا تھا اب کیا ہوگا؟ وہ حضو رﷺ کے پاس تشریف لے گئیں حضور ﷺ زنان خانے میں تھے ایک انصار کی خاتون بھی یہ ہی مسئلہ پوچھنے آئی تھیں اور پہلے سے وہاں بیٹھی تھیں کہ اتنے میں حضرت بلال ؓ باہر تشریف لے آئے تو انہوں ان کے آنے کی وجہ پوچھی توانہوں نے کہا کہ آپ حضور ﷺسے ہمیں یہ معلوم کر کے لادیں کہ یہ معاملہ ہم درپیش ہے۔ وہ تشریف لے گئے اور انہوں واپس آکر یہ جواب دیا کہ دہرا ثواب ہوگا ایک اللہ کی راہ میں دینے کا اور دوسرا صلہ رحمی یعنی اپنوں کو دینے کا؟ اور وہ مظمعن ہوکر گھر چلی گئیں۔ آئیے دعا کر یں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ہی بنا دے کہ ہر معاملہ میں ہم حضورﷺ کے نقش پا پر چلیں۔ آمین ثمہ آمین (باقی ٓئندہ )

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(4)۔ شمس جیلانی

ہم گزشتہ کالم میں اس پر بات کر رہے تھے۔ کہ والدین کے حقوق کی ادا ئیگی میں کبھی بھی کوتا ہی نہیں کرنا نہ ان کی زندگی میں نہ ان کے انتقال کے بعدکیونکہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اکثر معاملات قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے؟ مگر والدین کے ساتھ کوتاہی کی سزا کبھی کبھی دنیا میں ہی دیدیتا ہے۔ دوسری طرف والدین بندے کو نوازنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے حضورﷺ نے فرمایا کے اگر تم والدین پر ایک نظر خوش اخلاقی کے ساتھ ڈالو تو تمہیں ایک حج یا عمرہ کا ثواب ملے گا! صحابہ ؓ کرام نے پوچھا اگر ہم دن میں سو مرتبہ ایسا کریں تو کیا سو مرتبہ یہ ہی ثواب ملے گا؟ فرمایا ہاں!اللہ کے یہاں کمی نہیں ہے۔ ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ نے تین مرتبہ کسی بات پر آمین فرمایا جب کے وہاں کوئی نہیں تھا سوائے حضور ﷺ کے جب حضور ﷺ قریب تشریف لے آئے تو صحابہ کرام نے ؓپوچھا کہ حضور ﷺ کس سے مخاطب تھے؟ فرمایاﷺ یہ جبرئیل ؑ تھے انہوں نے فرمایا کہ وہ ہلاک ہوا جس نے رمضان کاآخری عشرہ گزار دیا اور اپنی بخشش نہیں کرالی، میں ﷺ نے کہا آمین،انہوں ؑنے پھر کہاکہ اگر کہیں آپکا ﷺنام آیااور حاضرین نے درود نہ پڑھی تو وہ ہلاک ہو ئے!میں نے کہا آمین پھر انہوں کہا کہ والدین میں سے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی زندہ تھے اوراس نے دعا کر اکر اپنی بخشش نہیں کرالی تو وہ ہلاک ہوا میں نے کہا آمین۔اس قسم کی والدین کے بارے میں بے انتہا احادیث ہیں۔ جبکہ آپ نے قرآن میں دیکھا ہوگا جہاں رب العالمین نے اپنے اتباع کا حکم دیا ہے وہیں اس کے فوراً بعد والدین کے اتباع اور ان کے ساتھ حسن ِ سلوک کاحکم دیاہے؟ لیکن سب سے کم تو قیر شادی بعد مسلمان جوڑے ماں باپ کو دیتے ہیں؟اولا والدین کو بھول جا تی ہے؟ جبکہ ہونا یہ چاہیئے کہ آپ سب کا خیال رکھیں اور جو ترجیح جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نےدی ہوئی ہے اس کا احترام کرتے ہوئے گھر سے رخصت ہوں، تو پہلے ماں باپ کو سلام کر کے، ان کی دعائیں لیکر گھر سے رخصت ہوں؟ اورجب واپس آئیں تو بھی یہ ہی ترتیب باقی رہے کہ سلام کی شکل میں دعا دیتے داخل ہوں اور دعا لیتے ہوئے رخصت ہوں؟ آج کے دور میں ایک بد عت یہ بھی ہے جوکہ ہرگھر میں گھر کر گئی ہے، دوسروں کی دیکھا دیکھی؟ کہ اپنے گھروں میں طرح طرح کے پرندے جانور خصوصاً کتا بلی وغیرہ پالنے لگے ہیں؟ جب کے حضورﷺ سے پیٹ قسم کے جانور پالنے کی کوئی مثال ثابت نہیں ہے؟ البتہ دودھ کے لئیے بکری اور سواری کےجانور ان ﷺسے پالنا ثابت ہے۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ تمہارے نبی ﷺ کی زندگی تمہارے لیئے نمونہ ہے؟ پالتو جانوروں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ مالک کو دیکھ کر اس کا بہت شاندار استقبال کرتے ہیں اور اکثر سعادتمند فرزند یا صاحبزادیاں،بہو وغیرہ ان کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اس سے مالک خوش ہوکر سیٹی بجا رہے ہوتے ہیں چٹکیا ں بجا رہے ہوتے ہیں؟ اسوقت ذرا ماں باپ کے چہروں کی طرف ایک نگاہ ڈال لیا کریں کہ ان کی اپنی اس تو ہین پرکیا گزرتی ہے؟ آپ کو پتہ چل جا ئیگا؟ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عمر دراز دے اور اس سلوک سے محفوظ رکھے؟ اور بزرگوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنا دل بڑا رکھیں اور یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے آپکا امتحان لے رہا ہے؟ اوراس حقیقت تسلیم کر لیں کہ آپکا دور ختم ہوچکا ہے یا ہورہا اور بات بات پر بہت جلدی ناراض نہ ہوا کریں؟ کیونکہ مسلمانوں کو دونوں صورتوں میں ثواب ملتا ہے اچھے دنوں میں شکر پر اور برے دنوں میں صبر پر۔ بچوں کو بھی یہ سوچنا چاہیئے کہ بزرگوں کی سرشت کو اب اللہ تعالیٰ نے تبدیل کر دیا ہے اور ان میں وہ تمام خصلتیں آگئی ہیں؟ جو بچوں میں ہوتی ہیں اس دور سے آپ بھی گزرے ہیں وہ آپ کی بچکانہ حرکتوں پر ہنستے تھے؟۔اب آپ اپنے بچوں کی ہر حرکت پر کھلکھا تے ہیں،مگر والدین کی ایسی ہی حرکتوں پرآپ ان کا مذاق اڑاتے ہیں یاغصہ کرتے ہیں؟ جبکہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ راہنمائی فرمارہا کہ ہم نے انہیں بچوں جیسی خصلتیں دیکر انہیں وہیں لے جا کر چھوڑا ہے جہاں وہ اس دنیا میں آنے پر اپنے والدین سے کھیل رہے ہوتے تھے۔ اور ان کی تمام صلاحیتیں اور علم واپس لے لیا ہے؟ اس وقت وہ آپ کی توجہ کے زیادہ سے زیادہ محتاج ہوتے ہیں آپ کے اپنے بچوں کے مقابلہ میں؟ آپ کے بچے اس وقت کچھ آپ سے سیکھ رہے ہوتے ہیں حاصل کررہے ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ماں باپ سب کچھ کھوچکے ہوتے ہیں یا آہستہ کھو رہے ہوتے ہیں جو کچھ انہیں پہلے کبھی حاصل تھا؟ اس لیئے وہ روز بروز چڑ چڑے ہوتے جاتے ہیں؟ سوچئے کہ اس دور میں آپکے بدلے ہوئے رویہ سے ان کے دلوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی؟ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جو ان کے حقوق ہیں ان کے سامنے اف کرنے کی بھی آپکو اجازت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نہیں دی ہے؟ میری ایک بات اور یاد رکھئے کہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو آپ کو کرتے ہئے دیکھتے ہیں۔ لہذا انہیں آپ وہ سکھائیں جو آپ خود اپنی باری آنے پربرداشت کر سکیں؟

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(3)۔ شمس جیلانی

ہم  نے گزشتہ کالم میں یہ ثابت کر نے کی کوشش کی تھی کہ جب تک ہم اپنے حقوق اللہ اور اللہ بندوں پر نہیں جانتے، ہم انصاف کیسے کریں گے؟اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ انسان پر اس کے اپنے نفس کاحق ہے؟ بہت سے مذاہب نفس کشی یعنی نفس مارنا بہت بڑی عبادت سمجھتے ہیں؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے جنہوں نے اور قوموں کو دیکھ کر رہبانیت اختیار کی یا کرنا چاہی تو حضورﷺ نے فرمایا کہ میں جو دین لایا ہوں وہ میرا دین ہے جس پر میں عمل کر کے بھی دکھادیا ہے جوکہ اللہ سبحانہ کو پسند ہے میں کھانا بھی کھاتا؟ ہوں فرض روز بھی رکھتا ہوں، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں؟ چونکہ اسلام میں ہر چیز کی ملکیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ بندے کے پاس امانت کے طور پر ہے اور ہر اچھے امین کی ذمہ داری ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اچھی طرح کرے؟اگر نہیں کرسکتا ہے تو مالک کو واپس کردے؟ جومذہب جانوروں کی فریاد سنتا ہے یہ کیسے ممکن کے اپنے اعضا ء کو بھول جا ئے اور خود کو کنوئیں میں الٹا لٹکادے؟ جس طرح جسم کی حفاظت نہ کرنا حرام ہے جیسے کہ خود کشی کرنا حرام ہے ایسے ہی ہر وہ فعل حرام ہے جس کے نتیجہ میں موت واقع ہونے کا احتمال ہو؟
کہ کہاں کہ اپنے جسم کی طرف سے لا پروائی برتی جائے؟

اس کے بعد سب سے زیادہ حقوق دنیاوی خالقوں کے ہیں؟ وہ ہیں والدین اور والدین میں ترجیح والدہ کو
ہے؟ حضور ﷺ کے پاس ایک شخص اس نے آکر پوچھا کہ سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو فرمایا تیری ماں کا ،پھر اس نے پوچھا تو فرمایا تیری ماں کا ،اس کے بعد تیسری مرتبہ اس نے پوچھا تو فرمایا تیری ماں کا۔ چوتھی مرتبہ فرمایا تیرے باپ کا اس کے بعد قریبی رشتے داروں کا۔ مگر اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ والد کا حق ہی نہیں ہے وہ بھی ایک دوسری حدیث میں موجود ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے پوچھا کہ حضور ﷺ میرے والد تنگی میں ہیں فرمایا اس کے ہاتھ نہ روکنا تو بھی اسی کا ہی ہے تیرا مال بھی اسی کا ہے۔یاد رہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے فوراً ہی بعد ہمیشہ قرآن شریف میں والدین کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کے حقوق ادا کرو؟۔ پھر باپ کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں کا حق ہے۔ ماں کی سہلیوں کے حقوق ہیں والد کے دوستوں کے ہیں،اگر کوئی انہوں نے منت مانی ہے وہ ادا کرنا ہےیا قرضہ چھوڑ جا ئیں وہ ادا کرنا ہے؟ والدین کے لیئے تو یہا تک قرآن نے منع فرمایاہے کہ اگر وہ بوڑھے ہوجا ئیں تو انہیں اف تک بھی مت کہو۔ چاہیں وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں؟ البتہ وہ مذ کے ہب بارے میں کو خلاف ورزی اولاد سے کرانا چا ہیں تو مت مانو!ایک حدیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ والدین کے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہرہ اگر اولاد کریگی تو اس کی سزا اللہ سبحانہ تعالیٰ یہیں دیدیگا قیامت تک کے لئیے نہیں اٹھا کر رکھے گا۔ لہذا ان کے سلسلہ میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے؟اگر کوئی اولاد زند گی بھر فرماں بردار ی کرے مگر باپ کے مرنے کے بعداس کا قرض نہ ادا کیا تو وہ نا فرمانو ں میں شمار ہوگی۔ اگر والدین کی پوری زندگی خدمت کی لیکن مرنے کے بعد ان کے دوستوں کا خیال نہ رکھا تو بھی وہ نا فرمانوں میں شمار ہوگی؟ لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ والدین خود اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کا خیال رکھ رہے ہیں ؟یا حریص قسم کے ہیں کہ بیٹا بچا بچا کر ان کے پاس غیر ملکوں سے کماکر بھج رہا ہے ،یہ سمجھ کر کہ میری رقم جمع ہورہی ہے۔ جو مکان بن رہا ہے وہ میرا ہے اور جب اس نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا کچھ بھی نہیں ہے۔ ان تمام رشتوں میں سب سے اہم یہ حکم ہے جو کہ قرآن کی ایک آیت میں ہے اور ہر جمعہ کو نمازی سنتے بھی ہیں جس کو حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز نے شامل کرادیا تھا اور آج تک چلا آرہا کہ ًاللہ تعالیٰ عدل و احسان کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے اورکسی کو کسی کے حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا ۔جبکہ وہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھے؟ اسی قسم کی خلاف ورزی کے مقدمے عدالتوں تک جاتے ہیں؟ اکثر عدالتوں میں ماں اور بیٹے آمنے سامنے کھڑے ہوں بیٹا اور باپ آمنے سامنے کھڑے ہوتے اور یہ سب بھول جا تے ہیں کے ہمیں اللہ کے سامنے جانا ہے؟ باپ کے بعد بڑے بھائی کے بھی وہی حقوق ہیں جو باپ کے تھے اسے بھی اپنے چھوٹے یتیم اور غیر یتیم بھا ئیوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چا ہیئے جو اپنی اولاد کے ساتھ کر تے ہیں۔ کسی بھی حالت میں ترازو پلڑا اپنی طرف نہ جھکے بلکہ جتنا بھی ہوسکے اس کا جھکاؤ سامنے والے کی طرف ہونا چا ہیئے۔ عربی میں احسان کے معنی ہر معاملہ کو بہ حسن وخوبی نبٹانا ۔ چا ہیں وہ اپنے ہوں یا غیر ہوں؟(باقی اگلی اشاعت میں پڑھئے)

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(2)۔ شمس جیلانی

پچھلی اشاعت میں ہم یہ بتا چکے ہیں کہ اسلام دین ِ معاملہ ہے اور جب تک کوئی یہ نہ جانے کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور دوسروں کے حقوق اس کے اوپر کیا ہیں وہ جان ہی نہیں سکتا کہ وہ کیا کرسکتا اور کیا نہیں کرسکتااور کہاں تک جا سکتا ہے؟ جب کہ وہ اپنے حدود جانتا نہیں توتعین کیسے کریگا؟ لہذاسب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہر ایک کےاپنے حدود کیا ہیں اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔آئے سب سے پہلے با ت کرتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اور بندے کی ذمہ داریاں کیا ہیں بندے کی ذمہ داری ہے اللہ پر ایمان لانا پھر اللہ جنہیں بتا ئے ان پر ایمان لانا؟ اگر کوئی دنیا میں باپ کی بات نہ مانے اوروہ جو حکم دے اس پر عمل نہ کرے تواولاد نافر مان سمجھی جا ئیگی۔ ایسی صورت حال میں وہ اپنی اولاد کو عاق کر کے اس کو اپنی تمام وراثت سے محروم کردیتا ہے۔یہاں میں نے باپ بیٹے کا رشتہ مثال کے طورپر استعمال کیا ہے جبکہ یہااں جو معاملہ ہے وہ خالق اور مالک کا ہے باپ بیٹے کا نہیں ہے۔ جو ماں سے بھی ستر گنا زیادہ بندوں کو پیار کرتا ہے۔ اور نافرمانوں کے ساتھ بھی وہ سلوک نہیں کرتا جو ایسی صورت حال میں دنیا میں باپ کرتا ہے؟ اکثر بعض لوگ یہ دیکھ کر گمراہ ہوجاتے ہیں میں تو مومن ہوں میں اسے مانتا ہوں؟ جو اسے نہیں مانتے وہ زیادہ مزے میں ہیں؟اس نے وجہ بھی قرآن میں بتادی ہے لیکن قر آن پڑھتا کون ہے اور اسے سمجھتے کتنے ہیں یہ فر مادیا کہ تم ان کے کرو فر کو دیکھ کر متاثر مت ہونا، ان کا جو کچھ حصہ ہے میں چونکہ مصنف ہوں میں اسے یہیں دیدیتا ہوں؟ جب کہ میرے بندے جو ہیں ان کا وقتاً فوقاً امتحان لیتا رہتاہوں کہ آیا وہ وفادار بھی ہیں یا نہیں ۔ اگر وہ وفادار ثابت ہوتا ہے تو اس کے درجات بڑھاتا رہتا ہوں حتیٰ کہ اسے متقیوں کا اسے امام بنا دیتا ہوں جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑجن کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اعلان فر مادیا کہ میں نے اسے ہر طرح سے آزمایا اوروہ اس پر پورا اترا تو کہاں اس کا ایک بچہ بھی نہیں تھا؟ اور وہ اور ان کی بیوی بوڑھے ہوچکے تھے جو قطعی نا امید ہو چکے تھے۔ میں نے اسے اسحاق ؑ ؑ، یعقوب ؑ عطا فرما ئے حتیٰ کہ میں نے نبوت ؑ اس کے خاندان کے لیئے مخصوص کردی اور جب اس پر انعا مات کا سلسلہ دنیا میں ختم کیا تو اس کی دعا کے مطابق اس کی اولاد میں سے آخری نبیﷺ خاتم المرسلین بنا دیا؟یہ سب کیا تھا؟ یہ انکی اللہ کے ساتھ وفادار ی تھی اور اسے میں نے وفاداری کا صلہ عطا فرمایا مجھےایسے لوگ چاہیئے تھے جو ان کا اتباع کریں ان کے لیئے دائمی طور پر فرمایا کہ جنت ملے گے ۔جو اس کے خلاف راستہ ختیار کریں گے ان کو دائمی طور پر جہنم ملے گی؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایسا کیوں ہے اس لیئے کہ وہ دونوں کا رب ہے اور پوری کا ئینات میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کا رب اورا زق ہے رزق مہیا کرنا اس کی ذمہ داری ہے یوں سمجھ لیجئے کہ جنت کو بھی بھرنے کے لیئے اسکو لوگ چاہیئے اور جہنم کو بھر نے لیئے بھی اسے لوگ چا ہیئے؟ وہ اسے پیدا کرنا ہیں؟ قرآن کی ایک ہی آیت میں بتادیا ہے کہ جو میرے بندے ہیں ان کے لیئے کیا ہے اور جو شیطان کا اتباع کریں گے ان کے لیئے کیا ہے۔اس آیت میں اس نے دونوں کو راستے بھی دکھا دیئے ہیں؟ یہ اخیتار انہیں دیدیا ہے کہ زبردسی کوئی نہیں ہے؟ جو راستہ چاہیں اپنے لیئے اختیار کریں۔ اب یہ ذمہ ان کے اوپر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ نتائج وہی ہونگی جو وہ خود اپنے لیئے منتخب کریں گے؟یہاں دنیاوی معاملہ نہیں ہے۔ ایک بہت بڑی مثال میں پیش کر رہاں ہوں جوکہ حضرت عمر ؓ نے بطور نصیحت حضرت سعد(رض) بن وقاص کو کی تھی جب ان کو وہ ایران جانے والی افواج کا سربراہ بنا کر بھیج رہے تھے ً سعد نمہیں یہ غرور کہیں نہ ہلاک کردے کہ تم محمد ﷺ کے ماموں ہو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کسی کا کوئی رشتہ نہیں ہے سوائے اتباع کے؟ اس میں بندے کے پورے فرائض ظاہر ہو رہے ہیں اگر اتباع کروگے تو پھل کھاؤگے اگر نہیں کروگے تو قرآن کی دوسری آیت بھی کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے صرف اپنے لیئے کرتا ہے اللہ کا نہ کوئی فائدہ ہے نہ نقصان ہے۔ یہ تھیں اللہ کی وہ مہربانیا جو میں نے بیان کیں جو کہ ایک” کن “فرما کر پوری کائینات کو پیدا کرسکتا ہے۔ کیا اس کے لیئے یہ ممکن نہیں تھاکہ بہ جبر سب کو مسلمان پیدا کرتا؟تو پھر انصاف کیسے ہوگا کہ کون وفادار ہے کون نہیں؟ان بندوں کے لیئے جو انعامات کے دفتر ہیں جو کہ” صرف ایک شرط پر ہیں کہ فرماتا ہے کہ میری بات مان لیا کرو” یہ کہنے اور سنے میں بہت معمولی سی بات لگتی ہے؟ مگر اس کے معنی ایک شعرمیں علامہ اقبال ؒ نے بیان فرمادئیے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے” یہ شہادت گہہ ا لفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا” اور ایسا ہی مسلمان ہونا چاہیئے جیسے کہ مدینہ کی ایک چھوٹی ریاست میں حضور ﷺ کے زمانے میں تھے؟ ہم صرف منہ سے کہتے ہیں وہ کم کہ کیوں ہیں اس لیئے کہ ہماری اکثر یت کو اسلام وراثت میں اجداد کے ورثے کے طور پر ملاہے۔ اگر ویسی ہی قر بانیاں دی ہوتیں تو اس کی ہمارے دلمیں قدر ہوتی ہمارے تمام مسلمان بھائی اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے آج اس پرپورے اتر تے ہیں؟ پھر گنئے کہ ان کا تناسب کیا ہے۔ حضور ﷺ کی پشن گوئی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گاا کہ ” میرے لوگ را ہ راست سے بھٹک جا ئیں گے اس وقت دین پر قائم رہنا ایسا ہوگا جیسے کہ کوئی انگارہ مٹھی میں لے لے۔ لیکن ساتھ ہی خوش خبری بھی عطا فرما ئی ہے کہ ان کو سو حجوں ثواب ہوگا اس حدیث کی روشنی میں ایک دفعہ اپنا اپنا جا ئزہ ہم لے لیں کہ ہم سے کتنے ہیں جو اس حدیث کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کر رہےاور ان کا تناسب کیا ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سورہ الصف کی ابتدائی آیات میں فرمارہے ” مسلمانوں ایسی بات تم کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے ہو اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے؟ٓ

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں

اسلام دین معاملات ہے(1)۔ شمس جیلانی

حضور ﷺ نے بار بار فرمایا کہ اسلام دین ِ معاملات ہے۔ اتنی بار حضور ﷺ کو امت کو یہ یاد دلانے کی ضرورت اس لیئے پیش آئی کہ دنیا کے باقی مذاہب جو ہیں وہ صرف پوجا پاٹ اور عبادت تک محدود ہیں جس مذہب میں جو بھی طریقہ رائج ہے۔ جبکہ دیِن اسلام نے زندگی گزارنے کا ہر شعبہ میں طریقہ بیان کر کے ہمیں پھرخبردار کیاہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے حضورﷺ کے ذریعہ سے کہ اے نبی ﷺ میرے بندوں سے کہدو کہ اگر تم میرے پاس گناہ پہاڑ جتنے بھی لیکر آؤ گے اورتوبہ کروگے تو میں معاف کردونگا لیکن؟ اگر بندوں میں سے کسی کو کسی طرح کابھی نقصان پہنچایا تو میں معاف نہیں کرونگا تمہیں اسی سے قیامت کےدن معافی مانگنی پڑیگی جبکہ وہ میرے سامنے آکر اپنے اوپرمظا لم کی روداد مجھے سنا ئے گا۔ جب کسی بندے کے نیک اعمال ختم ہوجا ئیں گے توفرشتے مجھ سے آکر پوچھیں گے کہ اب ہم کیا کریں؟ تب میں حکم دونگا کہ اس کے گناہ بھی اس پراتنے ہی لاد دو اس نے جتنے کیئے ہیں۔ اس دن سب سے بڑا مفلس وہی ہوگا جو کسی کا حق مارے گا؟ چونکہ میں نے یہ مفہوم حدیث کا پیش کیا ہے اسے سن کر بہت سے لوگ کند ھے جھٹک کر کہدیں گے کہ یہ تو حدیث ہے غلط بھی ہوسکتی ہے؟ پہلا جواب تو یہ ہے کہ اگر یہ سچی ہوئی تو پھر تم کیاکروگے؟کیونکہ حشر کا میدان دار الجزاء ہے دار السزا ہے وہ دار عمل نہیں ہے؟ نہ ہی یہ ممکن ہے کہ جو وہاں سے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے اجازت لے کرآ سکو اور دنیا میں واپس آکر ، نیک عمل کرکے جان چھڑالو۔جبکہ وہ قرآن میں فر ما چکا ہے۔ نبی ﷺکا اتباع میرا اتباع ہے؟ نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ میں تمارے لیئے نمونہ ہے اور یہ بھی کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے یہ وہی فرماتے جو ہم ان کو وحی کرتے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بڑا رحیم ہے بڑا معاف کرنے والا ہے معاف کردے گا۔ یایوم حشر برپا ہی نہیں ہوگا حساب کتاب ہوگا ہی نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس پر ایمان نہیں ہے کسی کا اور وہ ایسا سوچتا ہے۔ اور شایدیہ سمجھ کر سوچتا ہو کہ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے ،وہ بھی نبیﷺکے ذریعہ ہی آیا ہے کہ ً جوبندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھے میں اس کے لیئے ویسا ہی ہوں؟ اول تو اس سوچ کے لیئے حدیث کی طرف پھر لوٹ کر آنا ہو گا؟ دوسرے اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے جوکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اندر رکھا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ چور تھانے دار کے پاس جانے سے پہلے کبھی اچھا گمان لے کر نہیں جاتا وہ جب ہی خوشی خوشی جاتا ہے جبکہ وہ ساہوکار ہو؟ورنہ ہتھکڑی لگا کر لے جایا جاتا ہے؟ اگر وہ ساہو کار ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے؟ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ڈھیروں رحمت حقدار ہے اور پھر وہاں بھی وہی حدیث کا سہارا لینا پڑیگا۔ کہ میری رحمت کے سوا صرف اپنے اعمال کی بنا پرجنت میں کوئی نہیں جا ئیگا۔ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے سوال کیا حضورﷺ کیاآپ بھی تو انہوں ﷺ نے فرمایا ہاں! میں ﷺبھی مگر مجھے اس کی رحمت نے ڈھانپ رکھا ہے۔؟ پھراسلام میں داخل ہونے کے لیئے ایمان لانا لازمی ہے تاکہ رحمت کے حقدار بنیں جس کا قرآن میں بار بار ذکر ہے مگر ایمان کیسے لا ؤگے جیسے کہ حضورﷺ نے بتایا؟ کہ رحمت کے لئیے مومن ہونا لازمی ہے؟ میں نے اس بحث میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے بغیر حدیث کے کہیں کام نہیں چلے گا نہ کوئی ایمان لا سکتا ہے، نہ نماز پڑھ سکتا؟اس لیئے کہ قرآن میں حکم نماز پڑھنے کا ہے مگر کیسے؟ یہ حضور ﷺ نے بتایا روزہ رکھنے کا حکم قر آن میں ہے لیکن کیسے رکھو گے، یہ بھی حضور ﷺ نے بتایا۔ زکات دینے کا حکم ہے مگر کتنی دوگے کسے دو گے اورکیسے دوگے ترجیح کس کو دوگے۔ حج کرنے کاحکم قرآن میں ہے مگر کیسے کروگے؟ ویسے ہی جیسے کے حضوﷺ نے کر کے دکھایا؟ اور فرمایا تھا جسے حج کے ارکان سیکھنے ہیں وہ مجھ سے آج سیکھ لے؟ اب آپ کے بات سمجھ میں آگئی ہوگی کی قرآن او رصاحبﷺ قر آن دونوں کو ماننے میں ہی عافیت ہے اور اسی کانام اسلام ہے۔ جس پر نبی ﷺ کا ٹھپہ نہ لگا ہو اہو وہ رب تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں ہے؟ اس کے برعکس حضورﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہوئی جو کام بھی کروگے وہ سب کا عبادت ہے اور سب کا ثواب ملے گا؟ یادرکھو اسلام پوراےکا پورا دین میں داخل ہونے کا نام ہے کچھ چھوڑو کچھ لیلو یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ پہلے حتیٰ المقدور کوشش کرو اور مجبور ہوجا ؤ؟

اب آجا ئیے معاملات پر؟اس کی خلاف ورزی سےبچنے ، اپنے حق لینے اور دوسرے کے دینے کے لیئے اپنے اور سب کے حقوق جاننا ضروری ہے جب یہ جانتے ہی نہیں ہو تو کیسے انصاف کر سکو گے؟ پھر تو ہوگا یہ ہی کہ نماز پانچوں وقت کی اور ملاوٹ ہر چیز میں۔ مثلا ً دو ھ میں پانی اور ہلدی میں پسی ہوئی اینٹ اور رشوت دینا تاکہ دامن پر بظاہر نہ آئے چھینٹ؟ (باقی آئندہ)

شائع کردہ از Articles, Islam is a religion of affairs | تبصرہ کریں