ممنونیت ا چھی تو ہے ایسی بھی کیا؟از۔۔۔شمس جیلانی

پچھلے دنوں صدر پاکستان نے فرمایا تھا کہ “میری کوئی سنتا ہی نہیں“ اور پرسوں کوئٹہ میں فرمایا کہ “ ہم نے ملک میں بد عنوانی کے تمام دروازے ہی بند کر دیے ہیں “ا ن متضاد بیا نات کو دیکھ کر ہم سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ کس کو سچ مانیں کس کو غلط۔ اس لیے کہ ہمارے یہاں صدر ِ جمہوریہ انتہائی محترم ہوتا ہے اور اس کے ٹرم آف ریفرنس میں اس قسم کے بیانات جاری کرنا اس کے فرائض منصبی میں شامل ہی نہیں کیونکہ وہ آئینی سربراہ ہوتا ہے اورا س عہدے کے احترام کاتقاضہ یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں کہے جو میڈیا میں زیر بحث آئے ؟ پھر تضادکی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ممنونیت کی بھی اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کے ہم ممنونیت کے خلاف ہیں کیونکہ حضور(ص) کاا رشادِ گرامی یہ ہے کہ“ جو بندو ں کا شکر گزار نہ ہو وہ خدا کا کیا ہو گا “ لیکن اس بحث سے ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ممنونیت تو ہمارے ایمان کا جز ہے مگر توازن شرط ہے؟ مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں جس کو جو بھی عہدہ مل جائے وہ کبھی ٹی ۔او۔ آر۔ کا پا بند نہیں رہتا؟اب آپ پوچھیں گے کہ پاکستان کی سرکا ری زبان تو اردو ہے ؟ یہ ٹی ۔ او ۔ آرکیا بلا ہے؟ پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ جبکہ ہمیں قرآن میں اس پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرماکر متنبہ کیا ہے کہ “ مسلمانوں وہ کہتے کیوں ہو، جو کہ کرتے نہیں ہو اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے“ جب کہ ہماری ضد یہ ہے ہم وہی کریں گے جو ہماری مرضی ہوگی۔ اور پھر یہ بھی ضد ہمیں کہو بھی مسلمان ؟ جبکہ مسلمان آزاد نہیں ہوتا اسکی کل زندگی دائرہ اسلام کے اندر گھومتی ہے جوکہ اسوہ حسنہ (ص) گرد گھومتا ہے اور اسوہ حسنہ (ص) کیا ہے؟ وہ وحی جلی اور وحی خفی کا وہ عملی مظاہرہ ہے جو حضور (ص) نے ہمیں کر کے دکھایا اور ہم کو ان کا اتباع کرنے کے لیے ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پابند فرمادیا؟
گوکہ دستور کے تحت پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر عدالت عظمیٰ کی بار بار کی تنبیہ کے باوجود ہم کام سترسال سے انگریزی سے ہی چلا رہے ہیں ؟ رہے ٹی۔او ۔ آر کے معنی تو جواباً عرض ہے کہ یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے اور مخفف ہے ٹرمس آف ریفرینس (Terms of reference)جو کہ یورپ میں عام بولا جاتا ہے ۔وہاں ہر ایک اپنے عہدے کاچارج لے نے سے پہلے اس کا بغور مطالعہ کرتا ہے اور اگر کوئی نیا عہدہ تخلیق ہو تو بھی اس کا سب سے پہلے ٹرمس آف ریفرینس بنتا ہے پھر کسی کا اس پر تقرر ہوتا ہے؟چونکہ پاکستان میں یہ سب چیزیں موجود ہیں مگر ان پرعمل کرنے کا رواج نہیں ہے لہذا بہت سی چیزوں کی طرح یہ بھی بے مصرف تھا شیلف پر رکھا ہوا تھا؟ جبکہ پاکستان میں وزیر بے قلمدان بھی ہوتا تھا حاکم بے محکمہ بھی تھے ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ کوئی اگر کسی صاحبِ  اختیارکی بہن، کسی کا بیٹا یا بیٹی ہو تو اس کے اختیارات بغیر عہدے کے بھی لامحدود ہوتے ہیں؟ ایسے میں ٹرمس آف ریفرنس شہِ فضول ہونے کی وجہ سے شیلفوں میں دبا پڑا تھا، استعمال نہیں ہورہا تھا؟ پھر کسی نے نکالا اور وہ رواج پاگیا؟ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ“ پناما لیکس“ کے مقدمہ میں،کبھی بینچ کی تشکیل کے سلسلہ میں تو کبھی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں یہ بار بار زیر بحث آتا رہا اور چونکہ اب یہاں رواج پاگیا ہے لہذا آجکل ہر ایک کی زبان پر ہے؟ کیونکہ ہمارے ہاں قاعدہ یہ ہے کہ جس طرح کوئی کسی قسم کی چوری کوچوری نہیں سمجھتا! جیسے ادب وغیرہ، بشمول ِبھینس کی چوری کہ اسی طر ح کسی کے تکیہ کلام کو اپنا تکیہ کلام بنا لینا بھی معیوب نہیں سمجھتا ؟ مثال کے طور پر ایک ادارہ منہاج القرآن کے بزرگ سیاست میں وارد ہو ئے تو ان کا تکیہ کلام تھا “ کٹاگوریکلی “ (Catagorically )اسے لوگوں نے سنا اور اتنا پسند کیا کہ گرہ میں باندھ لیا اب آپ جس چینل پر بھی چلے جائیں وہاں آپ کو “کٹا گوریکلی “سننے کو ملے گا ۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہمیں صف بندی کی شکل میں تنظیم سکھائی گئی ہے نقل بھی با جماعت ہی کرتے ہیں ؟ لہذا ہم بھی آج ٹی۔ او۔ آر کی شکل میں ؟اپنے ہم وطنوں کا اتباع کر رہے ہیں تو تعجب کی بات کیا ہے۔ چونکہ ممنونیت پاکستان میں عام طور پر آجکل استعمال ہو رہی ہے لہذا ہم بھی آج دل کھول کر اس پر بات کر رہے ہیں تاکہ اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دے سکیں تو حیرت کی بات کیا ہے ؟جبکہ پاکستانی ہمیں پاکستانی ماننے کو تیار نہیں ہیں جو اس سے ثابت ہے کہ وہ ہمارے محنت سے کما ئے ہوئے ڈالر تو رکھ لیتے ہیں مگر ہمیں ووٹ کاحق دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اور وہ ہی کیا آجکل کو ئی بھی کسی کا حق ماننے اور دینے کو تیار نہیں ہے؟مثلا ً امریکہ کے نو منتخب صدر روس کے ویٹو پر تو چراغ پا ہیں جو اس نے شام کے خلاف ایک قرارداد پراستعمال کیا ہے؟ اور جواب میں انہوں نے انہیں جانے کیا کیا کہہ ڈ الا ؟ جب کہ امریکہ 1948 سے عزرائیل کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کرتا آرہا ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ جرم تقریبا سب نے ہی کیا ہے یہ اور بات ہے کہ کسی نے کم کسی نے زیادہ ؟ کیونکہ اقوام متحدہ کی بنیادرکھنے کے ساتھ ہی اس کے پانچ رکن ملکو ں کو جو مستقل رکن کہلاتے ہیں، یہ حق اس لیے دیا گیا تھا کہ اگر کوئی نا انصافی کرے تو دوسرا اس کو روک دے مگر ہوا یہ کہ وہ بجا ئے ظالموں کے خلاف استعمال ہونے کہ ان کے حق میں استعمال ہوتا رہا؟نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ادارہ جو اس لیئے قائم ہوا تھا کہ یہ تحفظ فراہم کرے ،کہ آئندہ جنگ نہ ہو ؟ اس کا اس کا الٹ کرنے پر مصر رہا اور اس کی قراردا دوں کی کوئی وقت بھی نہ رہی؟ بس جس مسئلہ پرسب متفق ہوگئے تو اس کو دنیا کے لیے “ ہوا “ بناڈلا اور تباہ کرکے بھی نہیں چھوڑا یا بعدمیں ًسواری ً (sorry)کہتے ہو ئے چلے گئے جیسے کہ صدام اور عراق کا معاملہ ، لبیا کا معاملہ ۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ تیسری بین الاقوامی جنگ بھی برپا ہو نے ہی کو ہے اور وہ کسی وقت بھی شروع ہوسکتی ہے۔ جس طرف بھی دیکھئے جنگ کی چنگاریاں سلگتی نظر آرہی ہیں ؟ ہمارے کچھ علما ءتو کہتے ہیں وہ آگ تو گزر چکی جس کی حضور (ص) نے یمن سے شروع ہونے کی پیش گوئی فر مائی تھی کہ “ وہ یمن سے شروع ہوکر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی “جبکہ کچھ علماءاس کے حامی ہیں کہ نہیں وہ ابھی ہونا باقی ہے ہماری ناچیز رائے ان کے پڑلے میں ہے؟ وہ اسوقت بھی سلگ رہی ہے اور اس کے مقابلے میں 39 مسلمان ملک اپنی فوجیں بھی اسکی سرحد پر جمع کر رہے ہیں؟ اس میں ایک جوہری طاقت رکھنے والا ملک بھی شامل ہے۔ دوسری طرف دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر یہ ہی رفتار رہی تو ساری دنیا کانظام ہی درہم بر ہم ہو جائے گا اور شاید یہ ہی جنگ پوری انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ نہ بن جا ئے؟  افسوس ان سیٹھوں پرجن کی تجوریاں بھری کی بھری رہ جائیں گی ، ان کو خرچ کرنے کا موقعہ بھی نہ ملے گا ؟ کہ اس کی راہ میں خرچ کر کے وہ سکہ وہ کماسکیں ؟ جو کہ اس وقت کاسکہ ہو گا اور جب ہرایک کی ا للہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہو گی۔ اس وقت نہ وکیلوں  کےہتھکنڈے چلیں گے نہ جھوٹے گواہوں کی گواہی چلے گی ۔ کیونکہ منصف ذاتی طور پر سب کچھ جانتا ہو گا ؟ مگر انصا ف کے تقاضے پو رے کر نے کے لیے؟ وہ ملزم کے ا پنے اعضا ءکو قوت ِ گویائی عطا کر دیگا جو اس کے خلاف بول رہے ہوں گے، وہ اس زمین کو بھی قوتِ گویائی دے دیگا جس پر گناہ سرزد ہو ئے ہو نگے؟ اس دن سب سے زیادہ خسارے میں وہی لوگ ہونگے جو یہاں آج تجوریوں پرتجوریاں بھر ر ہے ہیں وہ نہ ا ن کے کام آئیں گی، نہ ان کے وارثوں کے ؟ جب کہ چاروں طرف سے فریادی ٹوٹے پڑ رہے ہونگے؟ جوا س کے منکر ہیں ان کے لیے میں لمحہ فکریہ چھوڑ رہا ہوں کے اگر یہ سب نہیں ہونا ہے جو قرآن کہہ رہا ہے اور حضور (ص) فرما  گئے ہیں ؟ تو وہ صرف کسی ایک آدمی کو زندہ کر کے دکھا دیں جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوچکا ہو، اور روح نرخرے میں پھنسی ہوئی ہو ؟ میں ان کی بات مان لونگا ؟ یا وہ پھر یہ بات مان لیں کہ یہ سب کچھ ہونا ہے؟ اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اس لیے کہ دنیا کی بقا کاراز اسی میں ہے کہ“ جو اپنے لیے چاہو وہ اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو “ جب بھی کسی قوم نے انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ہے وہ ہمیشہ تباہ ہو ئی ہے ؟ اب حالات ایسے ہی پیدا ہوتے جا ر ہے ہیں کہ پوری دنیابے انصافی پر کمر بستہ ہے؟ تو بے انصافی کا مدا و کون کریگا ؟ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاارشاد گرامی ہے کہ “دنیا بغیر غذا کے تو زندہ رہ سکتی ہے مگر بغیر انصاف کے نہیں ؟ اللہ ہم سب کو اس عظیم تباہی سے محفوظ رکھے (آمین)

 

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہرمسئلہ کو اٹھانے کے لیے حادثہ ضروری ہے۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

پاکستانی قوم ہر مسئلہ کو اٹھانے کے لیے حادثے کی محتاج ہے؟ یہ بات اس لیے کہنا پڑی کہ جب کوئی حادثہ ہوجائے جب ہی عوام اور خواص دونوں کی آنکھیں کھلتی ہیں ور نہ وہ آرام سے چادر اوڑھے سوتے رہتے ہیں۔ جس کا ثبوت سرگودھا میں ایک مزار پر بیس انسانوں کا قتل ہے؟ اس توہم پرستی کے ہاتھوں ایک مدت سے پاکستانی ڈسے جارہے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعدجب کوئی حادثہ رونماہوجاتا ہے تو کچھ ہل چل ہو پیدا جاتی تی ہے؟ پکڑ دھکڑ بھی ہوتی ہے لیکن اس میں کچھ شیرینی ایسی ہے کہ ہر برائی کی طرح یہ برائی بھی اپنے محور پر بہت تیزی سے پھر سے گھومنے لگتی ہے۔ کئی بار پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ کبھی سو سالہ بنگالی بابا پکڑے گئے۔ ااور جب انکی وگ اتاری گئی تو اندر سے نوجوان نکلا؟ تھوڑے دن خبروں میں آئے پھر کوئی اور واقعہ ہوگیا؟ سب کی توجہ اس طرف مبذول ہوگئی اور بنگالی بابا پھر وہیں بیٹھ کر کاروبار کرنے لگے ، جنہیں نہیں پتہ تھا وہ بھی جان گئے کہ بابا ہیں با کمال آدمی؟ جبھی تو چھوٹ گئے کہ بجائے جیل کے گدی پر بیٹھے ہیں اور اس طرح ان کے دھندے میں اور بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جو کہنے کی حد تک توتوحید پرستی کی دعوےدارہے؟ لیکن عملاً توہم پرستی کی وجہ سے وہ اتنے شریکوں کو پوجتی ہے جن کی تعداد خود انہیں بھی نہیں معلوم ؟ چونکہ یہ کاروبار ہر قسم کے ٹیکس اور لائسنس سے مبرا ہے۔ لہذا یہ ا ربوں اور کھربوں روپیہ بغیر ٹیکس ادا کیے بے حساب مال بنارہے ہیں ۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کچھ توایسے ہیں کہ ان کے ضلعوں میں سارے بڑے افسر ان کی آشیر واد کے بغیر تعینات ہو ئی ہی نہیں سکتے؟ وہاں آفیسرعہدے کا چارج بعد میں سنبھالتے ہیں۔ پہلے سائیں کے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں منصب دار ہوا کرتے اور وہ پانسو سے شروع ہوکر یک ہزاری، پنج ہزار ی اور لاکھوں تک پہنچ جاتے تھے۔ اب اس میدان بھی جو کبھی ایک مرید سے شروع ہوا ہوگا اور پھر گدیوں کے وراثت میں تبدیل ہونے کی بنا پر مریدوں کی تعداد لاکھوں تک پہونچ جاتی ہے ؟کیونکہ شادیاں تک گدیداروں میں آپس میں ہوتی ہیں اور اکثر گدیاں جہیز میں ملنے کی وجہ سے مریدوں کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرجاتی ہے؟ چھوٹی گدیاں بھی بہت ہیں ا گر ہم انہیں گنیں تو یہ مضمون ان صفحات میں سما ئے گا نہیں؟ لہذا صرف ایک صوبے سندھ کی دو بڑی گدیوں کا ذکر کر کے بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گدی کے مریدوں کی تعداد کہتے ہیں پچیس لاکھ ہے اور دوسری کے مریدوں کی تعداد اٹھارہ لاکھ ہے جن میں بارہ لاکھ پاکستان میں اور چھ لاکھ انڈیا میں ہیں ۔ صرف قدرے چھوٹی گدی کوہی لے لیں تو اگر سوروپیہ فی کس سالانہ بھی نذرانہ  پاتے ہوں تو آپ گن لیں کہ آمدن کتنی ہوگی ؟ مگر آپ کو پتہ ہو نا چاہیے کہ آجکل وہاں فقیر بھی سو روپیہ نہیں لیتا ؟ ان میں سے ایک کی روایات آج سے تین عشرے پہلے تک یہ تھی کہ اگر کوئی مرید دعوت کرنا چاہے تو ان کے خلیفہ ایک وقت کے ناشتہ پر بمع چیدہ چیدہ مریدین کے تشریف لانے کی فیس دس ہزار روپیہ، ظہرانے پرجانے کے لیے25 ہزار اور عشایہ کو رونق بخشنے پر ایک لاکھ نقد وصول کرتے تھے موجودہ آمدنی آپ اس سے اخذ کرلیں؟ یہ پیرا مریدی اتنی بلندی پر کیسے پہونچی ؟ وہ اسطرح ہے کہ صرف اسی امت کے نبی (ص) کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بطور خاص اس اعزاز سے نوازا تھا جو ان سے پہلے کسی اور نبی (ع) کو نہیں عطا کیا گیاکہ “ وہ تزکیہ نفس بھی کرائیں “ تاکہ متقیوں کا ایک طبقہ پیدا ہو سکے اور وہ اسلا می نظا م چلانے کے لیے اپنے تقوے کی بنا پر کارآمد ثابت ہوں ؟ اس کے ذریعہ حضور (ص) نے جو صحابہ کرام شکل میں جماعت تیار کی وہ ایسی تھی کہ وہ فرشتوں سے بھی آگے نکل گئے تھے؟ چونکہ حضور (ص) کے بعد کوئی نبی (ع) نہیں آنا تھا لہذا حضور (ص) نے اس میں سے دوجماعتیں بنا دیں ایک نے انتظامیہ کی جگہ سنبھالی اور دوسری نے مسلمانوں کو تزکیہ نفس سکھانے کے لیے خود کو وقف کیاجو پوری دنیا میں پھیل گئے اور وہی اسلام کو پھیلانے کا باعث بھی بنے؟ یہ وہ لوگ تھے جوکہ محبت سب سے کرتے تھے اور نفرت کسی سے بھی نہیں اور انہوں نے پنے پرکھنے کا معیار یہ ر کھا تھا کہ اگر ان میں سے کسی کا بھی ا یک فعل خلاف ِ اسوہ حسنہ (ص) ہو تووہ شیطان ہے ولی یا پیر نہیں ہوسکتا؟ ان کے مریدوں میں سے جو اس مرتبہ کوپہونچ جاتے انہیں اپنے پیروں کی طرف سے خلافت ملتی اور انہیں کو رشدوہدایت کو عام کر نے کے لیے دعوت دینے کی اجازت ملتی ،وہ دوسرے لوگوں کو اپنا جیسا بنانے کے لیے اپنے مریدوں کو کہاکرتے تھے کہ جو پیر کہے اس پر عمل کرو، اس سے سوال مت کرو اور اس کے بارے میں خوشگمان رہو؟ چونکہ پرائمری درجہ کا طالب علم یونیورسٹی کا مقالہ نہیں سمجھ سکتا؟ اس کو علامہ اقبال (رح) نے اپنے ایک شعر میں بہت اچھی طرح سمجھایا ہے کہ “ اقبال یہاں ذکر نہ کرلفظ خودی کا  موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات “ مگر ان بزرگوں کے بعد آنے والوں نے اسی ایک جملہ کو پکڑ لیا کہ جو پیر کہے وہ کرو ؟ اوراس سے سوال بھی نہ کرو اور اپنے دل میں بد گمانی کو بھی اس کے خلاف جگہ نہ دو؟ اب کس کی مجال تھی کے کوئی ان کا محاسبہ کرے؟ لہذا ان میں بگاڑ پیدا ہوتا چلاگیا ۔ پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے پیروں کے پاس جاتے تھے۔تا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پورا کریں کہ فرض تو فرض ہیں۔ اس کوادا کرنے سے آدمی مومن ہو جا تا ہے ؟مگر جو میری قربت چاہے وہ نوافل ادا کرے تاکہ وہ میرے قریب آجا ئے ؟ ۔“ پھر میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں، اسکے پاؤں بن جاتا ہوں۔۔۔۔ الخ (مشہور حدیث ِ قدسی) اس طریقہ سے انہوں نے کمال حاصل کرکے وہ کردکھایا جو پہلے انبیائے کرام  (ع)نے کرکے دکھایا تھا اور حدیث کاعملی نمونہ پیش کردیا کہ علمائے امت محمدیہ انبیائے بنی (ع) اسرائیل کے برابر ہیں؟ یہاں شاید میری بات لوگوں کی سمجھ  میں نہ آئے کہ یہ تو علماءکے بارے میں کہا گیا ہے میں نے اولیا ئے کرام کے بارے میں یہ بات کیسے کہدی؟ ان کی اطلاع کے لیے عرض کردوں کے اس دور میں جب تصوف عروج پر تھا تو وہ عالم پہلے بنتے تھے اور طریقت میں بعد میں قدم رکھتے تھے جیسے کہ حضرت عبدالقادر جیلانی کی مثال ہے کہ پہلے علم ِ دین حاصل کیا پھر علم طریقت اور انکا نمبر فقہ حنبلیہ میں اس کے بانی حضرت امام احمد (ص) کے بعد دوسرا تھا اور یہ ہی حال باقی دوسرے اولیا ئے کرام تھا۔ جن بزرگوں نے اسلام کو پوری دنیا میں پھیلایا اور انہیں بزرگوں کی کرامات اور علم سے تاریخ اور تصوف کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ کیونکہ ان کی نظر مریدوں کے قلب پر ہوتی تھی؟اب ان کی جگہ جب سے وراثتی پیر آئے اور وہ بھی پیر بن گئے جن کو حضور کے اسوہ حسنہ (ص) سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا؟ پھر مریدی اس حد تک چلی گئی کہ نذرانہ پیش کرو اور مرید بن جاؤ،بس سال کے سال نذرانہ دیکر تجدید کرالیاکرو؟ اب زیادہ تر لوگ مرید اس لیے بنتے ہیں کہ پیر صاحب کی سرکار دربار میں بات چلتی ہے ،چٹھیاں، چلتی ہیں  اورنام چلتا ہے؟ ہر مرید کو سو خون معاف ہیں ہر کوئی ان پر ہاتھ ڈلتے ہوئے خوف کھاتا ہے؟لہذا جس طرح بازار میں جعلی دوائیں ہیں اسی طرح جعلی پیری اورمریدی بھی چل رہی ہے جو لوگ پاکستان سے آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آجکل وہاں “ کالے جادو کا بڑا زور ہے “ اور اس کے باعث گھروں میں لڑائیاں اورجھگڑے بڑھ گئے ہیں ۔ جبکہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ میری مرضی کے بغیر کسی کو کوئی مصیبت نہیں پہونچ سکتی “ جو اس کے برعکس مانتے ہیں انہیں توحید پرستوں کی اس آیت کی موجودگی میں آپ کس صف میں کھڑا کریں گے؟ کہیں ان میں تو نہیں جس میں اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر گناہ معاف کرسکتا ہوں ، مگر “ شرک “معاف نہیں کرسکتا؟ مگر ہم ان تعلیمات کو بھول گئے ہیں۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ ہم ان جعلی پیروں میں وہ خواص ڈھوندتے ہیں ۔ جو کبھی ان میں ہوا کرتے تھے اور ان کے چکروں میں پھنس جاتے ہیں ؟ جس طرح جعلی دواؤں سے آدمی مرتوسکتا ہے۔ مگر صحت یاب نہیں ہوسکتا؟ اسی طرح جعلی یا سیاسی پیروں سے“ تزکیہ نفس حاصل ہونا بھی ناممکن ہے“ رہے  “اللہ والے “ وہ آج بھی ہیں مگر وہ کاروباری نہیں ہوتے، ان کی دکانیں نہیں ہوتیں، وہ پیسہ نہیں مانگتے جھوٹ نہیں بولتے یہ ہی ان کی پہچان ہے ؟ کیونکہ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ایک پورا نظام ہے جیسا کہ قرآن میں حضرت خضر اور موسیٰ (ع) کے قصے سے ثابت ہے؟ اگر وہ نہ رہیں تو وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ عذاب نازل فرمادیتا ہے جس پر قرآن کی دوسری کئی آیات شاہد ہیں۔ مگر ان کو ڈھونڈھنے کے لیے بھی وہی طریقہ اپنانا پڑے گا جو کہ پہلے زمانے سے لوگ کرتے آئے ہیں کہ خو د پہلے مومن بنیں پھر مزید درجات کے حصول کے لیے ان کی تلاش کریں۔ اگر عوام الناس سدھر جائیں گے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ عذاب اٹھالے گا اور اپنے وعدے کے مطابق مومنوں پر اپنی رحمتیں عام کر دیگا ۔ اس کی راہ میں کوشش کر کے دیکھئے ۔ اس کے دروازے ہر وقت ہر ایک فرد اور قوم کے لیے کھلے ہوئے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں کھرے اور کھوٹے کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کیاحقیقت پسندی بھی کوئی چیز ہے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

غالباً آجکل حقیقت پسندی نام کی کوئی چیز ہمارے یہاں نہیں پائی جاتی ؟ جیسا کہ پچھلے دنوں کے ایک حادثے سے ہمیں پتہ چلا جو کہ پاکستان میں ایک ٹرین کو پیش آیا تھا؟ وہ یہ تھا کہ ایک آئیل ٹینکر کا ایکسل ٹوٹ گیا جسکی بنا پر وہ ریلوے کی پٹری کے رمیان میں جاکر کھڑا ہوگیا۔ اس گیٹ پر گیٹ کیپر تو موجود تھا جبکہ گیٹ نہیں تھا؟ اس نے افسران ِبالا کو اطلاع دینا چاہی مگر اس کی اطلاع پر حسب روایت کسی نے کان نہیں دھرے ؟ اور ایک ایکسپریس ٹرین جس کو وہاں سے گزرنا تھا اسکو بروقت اطلاع نہیں ملی ، نتیجہ کے طور پر اس کا لائن پر کھڑے آئیل ٹینکر سے تصادم ہوگیا،جس سے آئیل ٹینکر کے تین تکڑے ہو گئے اور تیل ریلوے لائن پر پھیل گیاجس نے آگ پکڑلی جس کے نتیجہ میں اس ٹرین کا ڈرائیور اور اس کا نائب شہید ہوگئے؟ ٹرک کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ، جرم یہ ہوگا کہ اس نے ایکسل کو وہاں کیوں ٹوٹنے دیا  جواس سلسلہ میں اس سے پوچھ گچھ ہورہی ہے اور پوچھ گچھ کیوں ہوتی ہے وہ ہم آپ سب جانتے ہیں کہ پولس آفیسر وں کو تھانےمفت نہیں ملتے بلکہ وہ ٹھیکے پر حاصل کرتے ہیں؟ اور اس گیٹ کیپر کو بھی حراست میں لیلیاگیا جو کہ فریاد ی تھا ؟ جرم غالباًیہ ہوگا کہ اس نے بروقت اطلاع دینے کی کوشش کیوں کی تھی۔ اس حادثہ میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے کیونکہ اس میں چھ بوگیا ں بھی جل کر خاک گئیں ۔ حادثہ پر جو میڈیا کی طرف سے تبصرے ہوئے وہ بڑے دلچسپ تھے۔ کہ “ اربوں روپیہ کا ریلوے کا بجٹ ہے۔ مگر انظا میہ ایک حاد ثہ نہیں روک سکی لہذا متعلقہ وزیر کو مستعفی ہو جاناچاہیئے اور یہ ہی نعرے اپوزیشن بھی لگارہی ہے ۔جس میں وہ اپوزیشن کی جماعت بھی شامل ہے جس کے دور ِ حکومت کے آخر میں ریلوے صرف جزوی طور پر چل رہی تھی ٹرینیں بند تھیں جو چل بھی رہی تھیں ان کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب منزل ِ مقصود تک پہونچیں گی؟ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طبقہ جس کا بسوں اور ٹرکوں کا کروبار تھا وہ ریلوے ریلوے کا حریف تھا۔ انہیں میں سے ایک صاحب ریلوے کے وزیر بن گئے؟ اسی دور میں یا ان سے پہلے ریلوے کے کماؤ پوت “ شعبہ گڈس “کو تباہی سے دوچار کیا گیا؟ کب وہ ہمیں معلوم نہیں ؟ کیونکہ ہم تو اسے ستائیس سال پہلے منافع میں چلتا ہوا چھوڑ آئے تھے؟
البتہ اِن وزیر کی صاحب کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے محض اس بنا پر ایک خاتون ریلوے آفیسر کومعطل کردیا تھا کہ انہوں نے ان کے ڈھائی سو آدمی ریلوے میں کیوں نہیں رکھے ؟ جب وہ فریادی ہوئیں اور عدالتِ عالیہ میں چلی گئیں توو زیر صاحب نے ٹی وی پر آکر فرمایا کہ “ یارا گر ہم لوگوں کے کام نہیں کریں گے تو ہمیں ووٹ کون دے گا اور منتخب کیسے ہونگے “ اس نے یہ کہہ کہ کر میرے سارے آدمی رکھنے سے انکار کردیا کہ میں نے سارے امید وار میرٹ پر رکھے ہیں، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ “ گینگ مین “ کے لیے میرٹ کیا ہو تا ہے “ ایسی حالت میںریلوے کو جس نے بھی لیا اور دوبارہ با قاعدہ چلنے کے قابل بنا یا وہ قابل ِ تحسین و ستائش توہوسکتا ہے؟ مگر اس سے استعفیٰ مانگنا میڈیا کی لاعلمی پر دلیل اور ظلم ہے ۔؟ جس سے اس کی بیخبری کا پتہ چلتا ہے؟ کہ وہ وہاں کے زمینی حقائق سے بھی قطعی واقف نہیں ہے۔ ابھی تک جو محکمے پچھلے دور میں فیل ہو ئے تھے۔ ان میں سفارشی لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں نہ کوئی بھی بمع سٹاف کے خریدنے کو تیار ہے اور نہ ہی کوئی چلا نے تیار ہے۔ کیونکہ سفارشی لوگ کہیں کام نہیں کیا کیاکرتے ؟ اس لیے  کہ انہیں بجائے اپنے کام کے رسوخ پر بھروسہ ہو تا ہے؟ ہمارا خیال ہے  “اس گیٹ مین“ نے اپنی سی پوری کوشش کی ہو گی لیکن جو صاحب ڈیوٹی پرہونگے وہ کسی اور کام میں مصروف رہے ہونگے ؟یا ڈیوٹی پر سرے سے موجود ہی نہیں ہو نگے؟ اگر ایسی صورت حال میں استعفٰی لینے کا سلسلہ شروع کیا  گیاتو کوئی بچے گا ہی نہیں۔ اور وہ ادارے جو ابھی کچھ رینگنے لگے ہیں وہ پھر کھڑے ہو جا ئیں گے۔ گیٹسں کی کہانی یہ ہے کہ تقریبا ً ایک ہزار کے قریب گیٹ ایسے ہیں جن پر پھاٹک نہیں ہیں ۔ مگر گیٹ مین موجود ہیں ان کا کام یہ ہے کہ وہ جب ٹرین گذر رہی ہو تو ہری اور لال جھنڈی لیکر کھڑے ہوجائیں اور لوگوں اور ٹریفک کو لا ئین پر سے گزرنے نہ دیں ؟ ہمارے یہاں کے لوگ اتنے قانون کے پابند ہیں کہ وہ اکثر اسکی دی ہو ئی اطلاع پر یقین نہیں کرتے بلکہ انہیں جب تک یقین نہیں آتاہے جب تک وہ ٹرین کو اپنی آنکھوں سے ملا حظہ فرمالیں ؟ ایک آدمی اس قسم کی مخلوق کوکس طرح کنٹرول کرسکتا ہے جسے پولس اور فوج کنٹرول نہیں کرسکتی جبکہ اربو ں کھربوں کا بجٹ اان کے پاس ہوتا ہے؟ تو بیچارہ گیٹ مین اسے کیسے کنٹرول کر سکتا ہے۔ اب رہاان سب ریلوے گیٹسں پر پھاٹک لگانا! تو اسکے لیے ایک بڑی رقم اور سالوں کا عرصہ درکار ہے؟
یہ ٹرین بھی نہ ہوتی اگر انگریز نہ آتے ؟ مغل بادشاہوں نے تو کوئی ایسابیکار کام کیا ہی نہیں جس سے عوام کو فائدہ پہونچتا ؟ اگر ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کوئی بادشاہ ملتا بھی ہے تو وہ بھی مغل نہیں بلکہ پٹھان تھا جس نے گرینڈٹرنک روڈ کلکتہ سے پشاور تک بنا ئی جبکہ اس کا دورِ حکمرانی انتہائی قلیل تھا۔ا وراس تھوڑے عرصے میں اس نے وہ کام کردکھایا کہ ہندوستان کے مسلمان سر اٹھاکر کہہ سکیں کہ ہم نے بھی ہندوستان میں رفاعی کام کیا کیا ہے؟ ورنہ تاریخ میں ان کے اپنے اور اپنی بیویوں کے مزارات توملیں گے مگر فلاحی کام تلاش کرنے سے بھی نہیں ملےگا؟ سوائے چند مساجد اور مسافر خانوں کے؟ یہ ہے وہ دردناک حقیقت جو ہم شروع سے دیکھتے چلے آرہے ہیں ؟ آنکھ بچاکر گزر جائیں تو اور بات ہے ۔ کسی اسپتال پر کسی گنگارام کا نام لکھا ہے تو کسی“ پیاؤ “  پر پرسرام کا۔ ہمیں کہیں شاہجانی پیاؤ نظر آٰیا۔ اور ہم اسی وضع داری پر آج بھی قائم ہیں ۔ کہیں بھی ہوں کسی ملک کے فلاحی کام میں کبھی دلچسپی نہیں لیتے ۔ جبکہ بعض مملکوں نصف  سے زیادہ کام رضا کاروں پر چلتا ہے ؟حالانکہ سب سے زیادہ اس کی تلقین اور اس پر عمل ہادی برحق محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ (ص)  نے کرکے دکھلایااور انہوں (ص) نے نبوت پہلے اپنے (ص) چالیس سال عبادت ا ور خدمت خلق میں گزارے؟ پھر نبوت  کے بعد بھی ان کا مشن یہ ہی رہا جسے انہوں نے تا حیات جری رکھا اور بعد میں اپنے (ص) صحابہ کرام کے لیے چھوڑا جس کو انہوں نے پروان چڑھایا دنیا کو فلاحی ریاست کا تصور پیش عطا کرکے۔
مگر موجودہ دور میں ہم آ ج تک اس میدان میں کوئی خاص نام نہیں کماسکے سوائے ستار ایدھی مرحوم کے؟ ایسے میں کوئی وزیر بیچارا بھی کیا کریگا ؟ کہ وہ کسی کے آدمی کوبھی چاہیں وہ ملزم ہو اس کے سرپرست کے رسوخ کی وجہ سے معطل کرنے تک پر قادر نہیں ہے، اور نہ ہی برخواست کرنے پر ؟ من حیثیت القوم ہما ری جو حالت ہے وہ ہم سب پر عیاں ہے؟ لہذا فرشتے آئیں گے کہاں سے جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہ کریں؟ ورنہ بروں میں آپ چھے ٹٹولیں گے تو جو زیادہ برا ہے وہی ہاتھ میں آئےگا، جیسے کہ پتھروں کو ٹٹولاجائے تو سب سے بڑا پتھر ہی ہاتھ میں آتا ہے ؟ جہاں خوف خدا نہ ہو ، لوگوں میں حیاءنہ ہو، جس سے معاشرہ کاخوف دلوں پیدا ہوتا ہے، تو پھر کوئی کسی سے ڈریگا کیوں ؟ اور معاشرے میں سدھارکی صورت کیا ہوگی؟ میری سمجھ سے تو باہر ہے ؟ آپ ہی بتا ئیے؟ ایسی صورت میں رہے حادثے وہ ہمیں ڈرانے اور جگانے کے لیے اللہ کی طرف سے آتے رہتے ہیں جیسے زلزلے اور طوفان وغیرہ  آتے رہتے ہیں تاکہ ہم کان دھریں، جسکا انکشاف اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد جگہ فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث حضور (ص) نے بھی  عطافرمائی ہے کہ قرب ِ قیامت میں سب سے پہلے اللہ کی حکمرانی دنیا سے اٹھ جا ئیگی ، کیونکہ اسے چھوڑ کر لوگ طبقہ عمراءکو پکڑلیں گے، اور اسی طرح درجہ بدرجہ پستی سے پستی کی طرف جاتے رہیں گے؟ ہم اسی دور سے آجکل گزر رہے ہیں ؟ اسکا علاج کیا ہے ؟ انفرادی اور اجتماعی توبہ ؟ جو ہم کرنے کو تیار نہیں ہیں ؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی طبقہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ ہم بگڑچکے ہیں ،ہم غلطی پر ہیں ؟ اس لیئے ہمارا اللہ سے رشتہ  بہت کمزور ہوگیاہے۔ا س سلسلہ میں حضرت عمر (رض) کی نصیحت حضرت سعد (رض) بن ابی وقاص کو جو انہوں نے کی تھی بہت اہم ہےجب انہیں ایران کے محاذ پر بھیج رہے تھے ً دیکھیں آپ کا حضور (ص) سے رشتہ کہیں آپ کو ہلاک نہ کردے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکسی سے کوئی رشتہ، رشتہِ اطاعت کے سوا نہیں ہے“

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کون پوشیدہ ہے اس پردہ زنگاری میں۔ از ۔۔ شمس جیلانی

) پرسوں جب ہم اپنے معمولا ت سے فارغ ہوئے جناب صفدر ھمدانی سے لندن بات کرنا چاہی؟ پتہ چلا کہ ابھی چند لمحوں پہلے لندن کی پارلیمان دھماکوں سے گزرچکی ہے۔ خبریں آرہی ہیں مزید تفصیل نہیں معلوم؟ ہمارے منہ سے ہمارا اپنا پرانا شعر جو کہ ہم نے کبھی کراچی کی صورت ِ حال پر کہا تھا بے ساختہ نکل کہ گیا کہ ع “ ناشتہ صبح تو لاشوں سے شروع ہو تا ہے آ ج کتنے ہیں مرے تازہ خبر کو دیکھو “مگر کیا لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے خالقوں نے کبھی یہ سوچا ہو گا کہ یہ “ بلا“ ایک دن لندن تک پہونچ جائے گی؟ اس میں سبق ہے ان کے لیے جو برائی کے موجد بنتے ہیں کہ “ جو کسی راہ میں کھودے کنواں خود گرے اس میں اور کھو وے اپنی جاں “ یہ جملہِ معترضہ تو یونہیں درمیان میں آگیا۔ لیکن لندن کی میڈیا کا صبر قابل ِ ستائش ہے اور اس کی داد دینا پڑے گی کہ اس دن کے بعدا یک رات بھی گزرگئی، مگر مزید خبریں نہیں ملیں۔ اور ہم دعا مانگتے رہے کہ خدا کرے کہ اس کے پیچھے کوئی دہشت گرد نہ ہو اور اگر ہو تو مسلمان نہ ہو اور اگر مسلمان ہو تو کم از کم پاکستانی باشندہ یا پاکستانی نزادنہ ہو؟ کیونکہ وہ کسی اورملک کا باشندہ ہو گا تو اسے صرف دہشت گرد کہا جائے گا اوراگر وہ پاکستانی ہوا تو اس کے ساتھ مسلمان دہشت گرد لکھا جا ئے گا۔ چاہیں اس کا اسلام سے دور دور کا واسطہ نہ ہومگر جرم اسلامی کہلا ئے گا؟ اس تاخیر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حادثہ نہیں ہوا ! ہوا تو تھا،مگر یہ جانے کس مٹی کے بنے  ہوئےلوگ ہیں کہ کسی خبر کی اس وقت تک تشہیر نہیں کرتے جب تک کسی نتیجہ پر نہ پہونچ جائیں ۔ حالانکہ یہ کبھی مسلمانوں کا وطیرہ ہوا کرتا تھا کیونکہ قرآن میں ایک آیت ہے کہ “ بلا تصدیق خبریں مت پھیلایا کرو پہلے کسی اولامر سے تصدیق کرلیا کرو، ممکن ہے کہ تم اسطرح کسی قوم کو نقصان پہونچانے کا باعث بنو ؟ اور ایک حدیث بھی ہے جس میں حضور (ص) نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھادے “ اور دوسری حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے،مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا“ مگر آجکل تمام چیزوں کی طرح یہ سب بھی اوروں کے پاس ہے جو اس پر عمل کرکے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوا ہوتاتو اب تک اتنی تفصیلات آجاتیں کہ خبر وں کو جمع کرکے ایک  کتاب لکھی جاسکتی تھی، صرف سب سے پہلے خبر دینے کا کریڈٹ لینے کے لیے ، بس جو کچھ جس کے ذہن میں ہوتا وہ گڑھ لیتا اور پھر خبریں ہی خبریں چاروں طرف بکھری ہوئی ہوتیں کیونکہ معاملہ تھا لندن کی پارلیمان کا جو پارلیمانوں کی ماں کہلاتی ہے؟ لیکن لندن میں افواہیں پھیلانے کو غیر ذمہ دارانہ فعل سمجھا جاتا ہے ۔ نہ نام کاپتہ چلا نہ حملہ آور کی شہریت معلوم ہوئی دوسرے دن کہیں جاکر معلوم ہوا کہ وہ پیدا برطانیہ میں ہوا ور نام خالد مسعود تھا ۔
جبکہ پاکستان میں تو صرف ایک ہی قسم کی دہشت گردی ہوتی ہے۔ جو کہ اس نے خود ڈالر کے عیوض میں خریدی ہوئی ہے؟ جبکہ باقی دنیا میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی بہت سی قسمیں ہیں؟ مثلاً یورپ میں آئی ایم ایف کاجہاں اجلاس ہو رہا ہو وہاں جاکر لوگ مظاہرے کرتے ہیں ۔ یا جہاں آٹھ بڑوں وغیرہ جیسی  کانفرنس ہورہی ہو تو وہاں مظاہرے ہورہے ہوتے ہیں اور وہاں دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہو تا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آجکل مذہبی دہشت گردوں کے ہاتھوں صرف ایک ہی قسم کی دہشت گردی کا خطرہ ہے اور دوسری قسم کی دہشت گردیا ں اس کی گرد میں ڈھکی ہوئی ہیں اسی کا چرچا وہاں چاروں طرف ہے۔ باقی دنیا میں کیا ہورہا ہے جانے ان کی بلا کہ آئی ایم ایف اور بڑوں کے خلاف نفرت کیوں ہے؟ اس لیے کہ اِن کی سوچ بہت آگے تک کا سوچتی ہے؟ یہ دراصل سرمادارانہ نظام سے شاکی ہیں جہاں آمدنیوں میں زمین اور آسمان کافرق ہے  اس پر طلم یہ کہ ہر روزہوس زر میں کچھ ملازمتیں یہ نظام کھا تاجا رہا ہے؟ جہاں کبھی لاکھوں کلرک گروسری اسٹوروں میں کام کرتے ہوئے نظر آتے تھے وہاں اب ایک یا دو انسٹرکٹر ان کے بجا ئے کھڑے ہوکر کمپیوٹر کا استعمال گراہکوں سکھا رہے ہو تے ہیں؟ انہیں سب کو فکر کھا ئے جا رہی ہے کہ اگر یہ ہی لیل ونہار رہے تو وہ دن دور نہیں ہے کہ سارے کام روبوٹ کر رہے ہونگے اور انسان بھوکے مر رہے ہونگے؟ لہذا وہاں دوسرے قسم کا فرسٹریشن عام ہے اور اس جھنجھلاہٹ میں وہ لوگوں کو خوامخواہ گولی مارتے اور احتجاج کرتے نظر آتے ہیں کہ جس کے پیچھے نہ کوئی منصوبہ ہو تا ہے نہ کوئی مقصد؟ جبکہ ہمارے یہاں جب سوچنے کا رواج ہے جب سر پر آپڑتی ہے؟ تب کہیں جاکر حکومت کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی بنا تی ہے، جس میں کبھی سالوں فیصلے محفوظ رہتے ہیں ۔ کبھی رپورٹ شائع نہیں ہوتی جبکہ وہاں کے لوگوں کو کوئی اور کام نہیں ہے وہ اپنے یہاں کے درختوں کو کاٹنے والوں کی بھی نگرانی کرتے ہیں کہ جنگلات کا تناسب کم ہونے سے موسم بد ل جا ئیں گے ،بارشیں کم ہو جائیں گی۔لہذ وہ آئے دن درخت کاٹنے والوں کے خلاف بھی مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی میونسپلٹی زرعی زمینوں کو “ سکنی“ کرنے کی اجازت دیدے تو اس کا مئیر اور سارے کاؤنسلر جو کہ برسوں سے اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس حرکت کی بنا پر اپنی ضمانتیں تک ضبط کرا بیٹھتے ہیں ۔ جب کہ وہ صحیح سمت میں چلتے رہیں تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کون کتنے سال سے ہے؟ مگر ہمارے یہاں رواج مختلف ہے کہ ہم اسکو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی موقعہ نہیں دیتے اس لیے کہ ہمیں ہر تھوڑے دنوں کے بعد تبدیلی چاہئے ہوتی ہے؟لیکن وہاں جب تک جی چاہے اس وقت تک وہ کام کریں، لوگ ووٹ دیتے رہیں گے۔ کیونکہ وہاں ووٹ کسی برادری اور رشتہ داری وغیرہ کے نام پر نہیں ملتا ،صرف امید وار کی اپنی کارکردگی کی بنا پر ملتاہے۔ یہاں بات میونسپل کارپوریشن سے شروع ہوتی ہے۔ پھر اس کی اپنی کا رکردگی پر ہے کہ وہ کہاں تک پہونچ سکتا ہے۔اورا کثرا میدواروں کو اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ ملتے ہیں ۔ ہم نے وقت گزاری کے لیے یہاں اور وہاں کا موازنہ اس لیے پیش کردیا کہ دونوں جگہ کے خادم ِ اعلیٰ اور خدمت گزاروں میں کیا فرق ہے معلومات میں اضافے کا باعث ہو۔ اب اصل خبر کی طرف آتے ہیں تنگ آکر ہم نے پاکستان کا رخ کیا تو وہاں کی میڈیا نے ہمیں نا امید نہیں کیا، سب سے موقر اور دیرینہ اخبار کو کھولا تو ہمیں فوراً تفصیلات مل گئیں ، کہ وہ ایک مسلمان تنظیم کا لیڈر بھی رہا ہے اس کا نام ابو عزالدین تھا۔ کیونکہ اس کی شکل ابو عزالدین سے ملتی ہے ،پہلے بھی وہ چاقو رکھنے کے جرم میں گرفتار ہوا تھا لیکن آجکل اس کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہورہی تھی۔ تھوڑا آگے بڑھے تو الفاظ سے معلوم ہوا کہ ابھی کچھ اور سنسنی خیز معلومات بھی عطا ہونگی ؟  اورآگے بڑھے تو نظر نواز ہوا کہ خبر کی تردید بھی وہیں موجود ہے لکھا ہوا تھا کہ اس کے وکیل نے اس کے وہاں ہونے کی تردید کی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ آجکل جیل میں ہے؟اب بتائیے کہ اس خبر کو لگانے کا فائدہ کیا تھا جس کی تردید بھی خود ہی کرنا تھی۔ یہ کوشش کہاں تک اوپر دی ہوئی آیت اور احادیث کی روشنی میں اسلامی صحافت کہلا سکتی ہے فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں؟ کیونکہ مسلمانوں کا تو ہر فعل قرآن اور سنت کے تابع ہونا چاہیے؟ اور یہ مسئلہ ان کے غور کرنے کے لیئے بھی چھوڑتا ہوں جو ہر بات میں اسلام کو موردِ الزام گردانتے ہیں ۔ جبکہ  اسلام عمل کانام ہے زبانی جمع خرچ کانہیں؟جبکہ وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جو مسلمانوں میں شدت پسندوں کے تناسب کو  بھی جانتے ہیں جو کہ چند فیصد سے زیادہ نہیں ہے؟ ورنہ مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں جنکا کسی قسم کے جنونیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ کہیں کوئی دوسرا یجنڈا تو نہیں ہے جو انہیں اسلام کو بد نام کرنے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ اس میں ہر قسم کے مظلوموں کے لیے مرہم ہے۔ ؟اس راز کو سمجھنے کے لیے تمام دنیا کے دانشوروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے تاکہ دنیا کا امن اورچین واپس آسکے؟ جو اس سے برباد ہورہا ہے۔ اور دنیابھر کے لوگ مسلسل دباؤ کی وجہ سے ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کبھی وہ خود بھی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

یہ بیسویں صدی کا اوائل تھا کہ ہمیں ایک صاحب زیور تعلیم سے آراستہ کرانے کے لیے تشریف لا یا کرتے تھے اور وہ انگریزی کی تعلم دیتے تھے ۔ ویسے تو وہ اچھے بھلے آدمی دکھا ئی دیتے تھے۔ مگر جہاں ہم تھے وہ ہمالیہ پہاڑ کی ترائی کا علاقہ تھا، جہاں قدم قدم پر ندی نالے تھے جبکہ پل ان پر بنے ہوئے نہیں تھے ! برسات کی شدت کی وجہ سے جب ندی نالے چڑھ جاتے تو وہ ڈریس موسم کے مطابق تبدیل کرلیتے کیونکہ اس کا توڑ اسی سے ہوسکتا تھا؟ پینٹ اور قمیض کی جگہ لنگی ہوتی تاکہ پانی کی گہرائی جیسے جیسے بڑھتی جائے اسی کے مطابق اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اونچا یا نیچا کرسکیں ،ان کے ہاتھ میں ایک لمبا سا بانس بھی ہو تا اس بانس کو ساتھ رکھنے کی وجہ وہ یہ ہی بتا تے تھے کہ بانس کو میں آگے بڑھا کر پہلے پانی کی گہرائی معلوم کرلیتا ہوں پھر قدم آگے بڑھاتا ہوں؟ وہ پرانا دور تھا پانی کی گہرائی اور ہوا کا رخ پہچاننے کے لیے طریقے بھی پرانے استعمال ہوتے تھے جیسے بانس  گہرائی ناپنے کےلیے اور ہوا کارخ معلوم کرنے کے لیے مرغ بادِ نما؟ اب میڈیا کازمانہ ہے اس کے بجا ئے جدید طریقہ رائج ہیں؟ کہ اس کے بجا ئے ہوامیں ہوا ئی اڑائی جا تی ہے کہ دیکھیں کہ اس کے ردِعمل میں کیا ہو تا ہے؟
پرسوں ایک انتہائی دلچسپ خبر انتہائی معتبر ٹی وی شو کے اینکر کے زبانی ہوا میں اڑائی گئی یا کہ ا ڑوائی گئی کے 39مسلمان ملکوں کی فوج کی سربراہی کے لیے جناب راحیل شریف کانام فائنل ہو گیا ہے۔ جبکہ فوراً ہی اس کی تردید بھی وزیر دفاع سے کرادی گئی کہ ابھی اس قسم کی کوئی بھی تجویز اپنے آخری مرا حل تک نہیں پہونچی ہے۔ آخر یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے کیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ کچھ ٹی وی کے میزبانوں سے ہوا پیما ئی کا کام لیا جارہا ہو ۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے اور کو ن پسند کریگا کہ اس طرح کی دیئی ہوئی خبر سے اپنے سامعین کو گمراہ کرکے اپنا اعتبار کھوئے اور اس کے بدلے میں وہ صرف یہ نیکنامی حاصل کر سکے کہ ہم نے یہ خبر سب سے  پہلےعوام کو  پہونائی تھی اور اس قسم کے قصور کی آڑلیکر حکومت میڈیا کی آزادی کو صلب کرنا شروع کردے؟ تو کوئی اس کے ہاتھ روک بھی نہ سکے؟۔ جبکہ خبر میں یہ تک کہا گیا کہ ان کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے۔ کہ ان کو وہاں کام کر نے کے لیئے وہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیئے جائں گے جو کہ اس راہ میں پاکستانی قوانیں سے متصادم ہیں ۔
اس سے جو ملک کا امیج تیار ہوتا رہا ہے وہ  یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک نہیں ہے اور وہاں عوامی رائے کو اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔ جسکو کوئی بادشاہ جب چاہے تبدیل کراسکتا ہے۔ جبکہ حکمراں یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم کوئی “ بنانا ریپبلک “ نہیں ہیں تو پھر یہ مذاق کیا ؟۔ اگر حکومت یہ ہی کچھ کرنا چاہتی ہے اور وہ ایسی ہے جیسے کہ دنیا کے عوام کے سامنے خود کوروشناس کرارہی تو اور بات ہے؟ ورنہ اس کے بجا ئے وہ طریقہ کار اختیار کرے جوجمہوری ملکوں میں اس سلسلہ میں اختیار کیا جاتا ہے؟ وہ یہ ہے کہ جو کام دستور یا ملکی قوانین سے متصادم ہے اس کے لیے ہاں یا نہ میں  “ریفرنڈم “ کرایا جائے۔ پھر اگر اکثریت مل جا ئے تو بسم اللہ ورنہ نہیں۔ اس میں مسائل صاف اور شفاف طریقہ سے سامنے رکھے جا ئیں؟ ۔ ریفرنڈم بھی ایسا نہ ہو کہ جیسے کہ جناب ضیاءالحق مرحوم نے کرایا تھا کہ  “اگر اسلام چاہیئے ہے تو مجھے ووٹ دو“ اور ووٹ ڈالنے کا بھی خودہی ا نتظام کرلیا جائے کہ جب ووٹر ، ووٹ ڈالنے جائے تو اسے پتہ چلے کہ اسکا ووٹ پڑچکا ہے۔ یہ سنی سنائی بات نہیں ہے بلکہ راقم الحروف کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم ووٹ ڈالنے گئے تو وہاں عملے کے سوانہ کوئی بندہ تھا نہ بندے کی ذات ، لوگ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ نے بیکار تکلیف کی ہم آپ کا ووٹ بھی خود ہی ڈالدیتے؟
اسی طرح اس مرتبہ پِرائی جنگ لڑنے پر ریفرنڈم ہو تو اس میں چیزوں کو گڈ مد نہ کیا جا ئے؟ کیونکہ “ حرم شریف کے دفاع کے لیے توہر مسلمان جان دینے کے لیے تیار ہے“ لیکن سعودی با دشاہت کا دفاع ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ لہذا اس سے اسی طرح نبٹا جا ئے۔ یا پھر ایسی فوج واقعی بنا نا ہے جو تمام عالم اسلام کا دفاع کرسکے ؟تو جو قوم سیکڑوں تکڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور کسی ایک بات پر بھی متفق نہیں وہ ساتھ کیسے چلے گی؟ اوریہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی اور کیا ضمانت ہے کہ اس کا حشر بھی “ تنظیم ِمعتمر عالمِ اسلامی اور اسلامک سمٹ جیسا نہیں ہوگا “ جیسا کے متعدد تنظیموں کا پہلے ہی کئی دفعہ ہو چکا ہے وہی اس فوج کا بھی ہوگا۔ ورنہ سوائے اس کے کہ دنیامیں اس سے مسلم مذہب کا نام اونچا ہو مزید جگ ہنسائی ہوگی؟ اور اسلام کے خلاف نفرتوں کے بڑھنے کا باعث ہوگی؟ اگر واقعی مسلما ن کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپس کے اختلافات کو ختم کریں ، پھر آگے بڑھیں؟ اگر انسان مخلص ہو تو جس قوم کے پاس ایسے وزیر با تدبیر موجود ہیں کہ جو فوجی عدالتوں پر دومہینوں کی مسلسل کوششوں سے بقول ایک دانشور اور وکیل کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد ایکا کرانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ان کے لیے یہ کیا مشکل ہے؟ کہ ایران اور سعودی عرب کو ایک میز پر لاکرنہ بٹھالیں؟

شائع کردہ از Articles

ہم سفر کا سفرِ آخرت۔۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

ایک بچی تھی جس کی ماں بچپن میں انتقال کر گئی، جب اس نے ذرا ہوش سنبھالا تو اس کی یک ہی خواہش تھی کہ بڑی ہوکر میری شادی نہ کرنا صرف مجھے حج کرادیں؟ایک عجیب سی خواہش جوا س عمر کے بچوں میں عمو ماً نہیں ہوتی ہے! ہر ایک کوسن کرحیرت ہوتی۔ کہ یہ بوڑھی روح اس میں کہاں سے آگئی ؟ اللہ جب مہربان ہونے پر آتا ہے توویسے ہی سامان پیدا کردیتا ہے۔ ایسے تاریخ میں بہت سے واقعات ہیں جیسے کہ جنگ احد میں ایک ایک صحابی کی آنکھ میں تیر کچھ اس طرح لگا کہ آنکھ باہر نکل آئی ،لوگوں نے کہا کہ اسکو کاٹ کر علیحدہ کر دیتے ہیں؟ وہ آنکھ کو اپنے ہاتھ میں دبا ئے ہوئے درباار ِ رسالت مآب (ص) میں آیا اور کہا کہ حضور (ص) یہ ماجرا ہے حضور (ص) نے فرمایا کہ تم آنکھ نکل وادو تمہیں جنت میں اس کے عیوض محل ملے گا؟ اس نے کہ کہا سرکار میری بیوی بھی ہے میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے کانا کہیں ؟ حضور  (ص)مجھے جنت اور آنکھ دونوں عطا فرما دیجئے؟ حضور (ص) نے اس کی آنکھ ہاتھ میں لی اور اسے اس کی جگہ پر رکھدیا ؟ وہ صحت یاب ہو گئے؟ اور بقول ا ن کے دوسری پیدائشی آنکھ سے بھی اس میں زیادہ روشنی تھی، یہاں بھی جو کل ہونے والا ہے اس کا اس بچی کوئی علم نہ تھا۔ دوسری طرف ایک بچہ تھا جس کی نانی صاحبہ ولی صفت تھیں اور وہ اس بچے کو اس طرح پرورش کر رہی تھیں کہ ہر لمحہ اسے یہ تلقین کرتیں کہ اپنے حضور (ص) نے یہ کام ا س طرح کیا ہے لہذا تم بھی ویسے ہی کرنا ؟ اور وہ روز بروز مذہبی ہو تا گیا؟چونکہ وہ ایک مدت تک اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا لہذا س کے ماں باپ اسے خود سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے، رہائش گاؤں میں تھی وہاں اتالیق (ٹیوٹر) پڑھانے کے لیے ہر وقت موجود رہتے اس طرح اس نے علم کا خزانہ تو حاصل کرلیا مگر جسے ڈگری کہتے ہیں ا س دور میں حاصل نہیں کرسکا، وہ بچی اس  لڑکے کی منگیتر کی سہیلی تھی ۔ اسی دوران ہندوستان آزاد ہو گیا اور زمین داریری جاگیر داری اور ریاستیں ختم ہو گئیں تو منگیتر کے والدین پر یہ راز کھلا کہ لڑکے کے پاس ڈگری نہیں ہے۔گوکہ یہ عیب اس میں پہلے بھی تھامگر ہر عیب کو دولت ڈھانپ دیتی ہے ،جبکہ دولت نہ ہو تو آدمی ننگا ہوجاتا ہے کیونکہ دنیا کی نگاہ میں دولت نہ ہونا بذات ِ خود اک ننگ ہے؟لہذ بچپن کی منگنی ختم ہو گئی اور اس بچے کی والدہ غصہ میں بھری ہوئی اٹھیں اور وہ بچی جو ان کی رشتہ میں بھتیجی تھی اس کے والد کے پاس جا پہونچیں اور ان سے کہا کہ بھائی میں یہ سوال لیکر آئی ہوں اور مجھے جواب ابھی چاہیئے ؟ا نہوں نے کہا کہ مجھے اپنے رشتہ داروں سے مشورہ کر نا ہے۔ لہذا سہ پہر کو جواب دیدونگا! اور جب وہ سہ پہر کو پہونچیں تو جواب“ ہاں “ میں تھا۔ اس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دو ایک جیسے دل ملا دیے اور ایک سوچ ہو نے کی وجہ سے  وہ ایک کامیاب جوڑا ثابت ہوئے ۔ چونکہ لڑکا حضور (ص) کے ارشاد مطابق ایک حج پر یقین رکھتا تھا ۔ لہذا حج تو انہوں نے ایک جوانی میں ہی کر لیا اور عمرے بشمول رمضان اوردوسرے مخصوص ماہ میں پانچ کیے ۔ اللہ اس جوڑے پر اتنا مہر بان ہوا کہ تمام نعمتیں بے حساب عطا فرما ئیں کہ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے خرچ کیا؟ مگر نام نمود پر نہیں ہمیشہ راہ خدا میں ۔ لڑکے نے حضور (ص)  کی سیرت سے لیکر صرف سیرت پر ہی گیارہ کتابیں لکھیں جبکہ کتابوں کی تعداد سترہ تھی جن کا اانتساب بیوی کے نام تھا کیونکہ لکھنے کی تحریک اور سہولیا ت بیوی کی طرف سے ہوتی تھی۔ اور اس کے علاوہ بے انتہا خرچ کیا مگر نام نمود پر نہیں صرف انسانوں پر بس یوں سمجھ لیجئے کہ زیادہ تر سرمایہ کاری صدقہ جا ریہ پر کی۔ شروع کے دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ لوگوں نے ا س بچی کو بہکایا کہ زمانہ ایک سا نہیں رہتا لہذا کچھ بُرے وقتوں کے جوڑ کر رکھو ؟ اس بچہ کہ جواب یہ تھا کہ یہ بھی کر دیکھو آمدنی اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوگی جب تک یہ مال خرچ نہو جا ئے کیونکہ حضور (ص) شام تک کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے لڑکی نے آزمایا اور اس راز کو سچا پایا ؟اظہار تاسف کیا میں نے ایسا کیوں سوچا ، اور کہا کہ “ بھاڑ میں جائے  ایسا کام  کہ آدمی تکلیف بھی اٹھائے اور حاصل  بھی کچھ نہ ہو “ اس کے بعد دونوں، دونوں ہا تھوں سے خرچ کرتے رہے مگر اس طرح کہ ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے خبر نہ ہو ۔ اور اس طرح  ان کی ازدواجی زندگی کے 65 سال آنکھ چھپکتے گزر گئے؟ چونکہ لڑکے نے اللہ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ وہ جب اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جا ئے گا تو وہ صرف اللہ کے دین اور انسانیت کی خدمت کریگا ؟ لہذا بعد میں اس کا صرف یہ ہی کام تھا اور بیوی کا کام گھریلو ذمہ دار یا ں پو ری کر نا؟ صبح ناشتہ بس ساتھ ہو تا لڑکا اپنی راہ لیتا اور لڑکی کا وقت گھریلو ذمہ د اریوں میں میں گزرتا پھر رات کاکچھ ساتھ تہجد میں گزر تا؟ اب بڑھاپا آچکا تھا۔ واپسی کی تیاری شروع کردی تھی؟ جب بھی و ہ بیٹھتی تو لیکچر شروع ہو جا تا؟اپنے مرنے کے بعد ایک ایک تفصیل کا ذکر ہوتاکہ کیا کر نا ہے؟۔ اسپتال جا نے سے وہ ہمیشہ سے انکاری تھی۔ اس لیے کہ وہاں اس کے کھانے پینے اور روزہ نماز کی کوئی گارنٹی نہ دے سکتا تھاَ۔ بیماری کے دوران ایک پوتے کی شادی میں اس طرح گئیں کہ ڈاکٹر منع کرتے رہ گئے کہ آپ برابر کے شہر تک سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں ایسا نہ ہو کہ جہاز کو راستے میں لینڈ کر نا پڑے؟ ڈاکٹر کو جواب ملا کہ تم نے اوپر والے کو نہیں دیکھا ہے؟ اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کچھ نیچے والوں کو بھی سوچنا چاہیے؟ نہیں مانی گئیں اور الحمد للہ بخیریت لوٹ آئیں ۔ پھر اگلے سال نواسے کی شادی آئی کہنے لگیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں پوتے کی شادی میں جاؤ ں اور نواسے کی شادی میں نہ جا وں یہ تو بے انصافی ہے؟ گئیں اور واپس آئیں۔ اپنے ہوں یا غیر سب میں بے انتہا مقبول ۔ ساری دنیا کی فکر میں ہلکان؟ گوکہ بچوں کے لیے کھلونا تھیں مگر ہر وقت انہں پند اور نصائح سے نوازتی رہتیں۔بس ایک ہی دعا تھی کہ االلہ مجھے چلتے ہاتھ پیروں اٹھا لے کسی کا محتاج نہ کرے۔ اک دن گردن میں بہت شدید درد شروع ہو ا ۔ تو کہنے لگیں کہ مجھے ہسپتال لے چلو! رات کا ڈیرھ بجا تھا ۔ میں نے کہا کہ ابھی امبولینس منگوالیتے ہیں کہنے لگیں کہ نہیں بچے پریشان ہونگے ؟ جبکہ در د اتنا شدید تھا کہ ناقابل ِ برداشت تھا۔ اس وقت بھی انہیں بچوں کی پریشانی کا خیال تھا؟ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ جو خاتون اسپتال جا نے کو کبھی تیار نہیں ہو ئیں۔ آج وہ خود بخود اسپتال جا نے کی فرما ئش کر رہی ہیں ؟ وجہ پوچھی تو کہا کہ یہ عام در د نہیں ہے جو اکثر گردن میں ہو تا رہتا ہے ؟ اسپتال میں داخل ہو ئیں ، تمام ٹیسٹ ہو ئے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ خون میں زہر سرایت کر گیا ہے۔ انہوں نے علاج شروع کیا مگرکہا کہ کوئی دوا ثر نہیں کر رہی ہے لہذا کوئی امید نہیں ہے؟ اب کیا کریں ؟ جبکہ وصیت پہلے سے یہ تھی کہ مجھے مصنوئی تنفس پر نہ رکھا جا ئے اور ہارٹ کو تقویت دینے کی کو ئی کا روائی نہ کی جا ئے۔ ڈاکٹروں نے “ پالیٹو وارڈ “میں منتقل کر دیا۔ تمام بچو ں کوا طلا ع دیدی گئی وہ آگئے  ان میں دوپورے ڈاکٹر اور ایک ادھور ڈاکٹرا اور دو بہوئیں ڈاکٹر جو کہ پٹی سے لگ کر بیٹھ گئے کیونکہ انکا کہنا تھاکہ مریض آخری وقت تک سنتا سب کچھ ہے مگر بات نہیں کر سکتا لہذا انہیں خوش رکھا جائے؟ آٹھ دس دن ہسپتال میں رہیں۔ انہیں بے ہوشی کے عالم میں بھی نماز پڑھتے دیکھا گیا، حتیٰ کہ آخری دن آگیا بچے جو چھٹییاں لیکر آئے تھے ۔ ان کے جا نے کا وقت آگیا؟ ہماری چھوٹی بیٹی کو نہ جانے کیا سوجھی کہ میری کتاب “ صدا بہ صحرا “سے اس نے وہ نظم نکالی جو کہ ان کے بارے میں نے کبھی کہی تھی۔ سب بچے چاروں طرف جمع ہو گئے۔ چونکہ بہت سے بچوں کو اردو نہیں آتی ، پوتے کی بیوی ان کے لیے ترجمہ کرتی جا رہی تھی اور بیٹی سنا رہی تھی جب وہ اس شعر پرپہونچی ع اچھا ہی ہوتا اگر ہم ساتھ ہی جاتے وہاں ، کون جا نے کون ہے اب پہلے جانے کے لیے “ تو اس نے دیکھا کہ دو نوں گھر کے ڈاکٹر ان پر جھکے ہوئے اماں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ اور اسی دوران ان کی روح پروازکرگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ہ اب آخری وصیت کا وقت آن پہونچا تھا کہ تہحیز اور تدفین میں دیر نہ کی جائے، رات کے وقت ہی ساری تیاریاں ممکمل ہو گئیں، سوائے  “ڈیٹھ سرٹیفکت “ کے اس میں دیر لگ سکتی تھی وہ مر حلہ بھی پانچ منٹ میں طے ہو گیا۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ برف باری ہو رہی ہے تہجیز اور تدفین کیسے ہو گی اور لوگ کیسے پہونچیں گے۔صبح ہو ئی کھڑکی سے جھانکا تو دیکھاکہ برف غائب ہے لہذا لوگ بھی بآسانی پہونچ گئے۔ جن خواتین اور گھر والوں نے انکا چہرا دیکھا تو اس پر جھریاں غائب تھیں وہ اسی طرح ترو تازہ تھا جیسا کہ کبھی جوانی میں ہو ا کرتا تھا۔ یہیں مجھے حضور (ص)ارشاد کی اس صداقت کا یقین ہو ا جس میں انہوں (ص)  نےفرما یا ہے کہ ایک جنتی روح کے بارے میں یہ کہ  “فرشتے جب روح قبض کرنے آتے ہیں تو وہ خوشی خوشی با ہر آجاتی ہے۔ پھر اس کو فرشتے درجہ بدرجہ عرش تک لے جاتے ہیں اور وہاں سے حکم ہو تا ہے۔ کہ اسے لے جاکر اس کی قبر میں لٹا دو ؟ اور جنت کی کھڑکی کھول دو۔ اور فرشتے واپس اس کو قبر میں لے جا کر لٹا دیتے ہیں “ اس کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی (ص) کاش توا س وقت دیکھے جب کافر کی روح نکا لی جاتی ہے۔ تو وہ چھپتی پھر تی ہے۔ جبکہ مومن کی روح خوشی خوشی باہر آجاتی ہے۔ اس کے بعد دوسرے دن برف باری شروع ہوگئی تیسرے دن قرآن خوانی رکھی گئی ۔ پھر وہی مسئلہ تھا کہ لوگ کیسے آئیں گے؟ وہ بھی ویسے ہی آئے جیسے کہ پہلے آئے  تھےبلکہ ایک صاحب تو کہنے لگے کہ میرے طرف اس وقت برف باری ہو رہی تھی میں نے کہامیں جا ؤنگا ضرور چاہیں ٹکسی کر نا پڑے ۔مگر تھوڑی دیر میں دیکھا کہ وہ رک گئی ہے ؟ دھوپ نکل آئی اور میں ڈرائیو کر تا ہوا یہاں پہونچ گیا۔ مجھے صرف یہاں یہ بتانا ہے کہ آج بھی جہاں اللہ والوں سے خالی نہیں ہے۔ جو اس کا ہو جا ئے اس کے لیے سب کچھ یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے۔ بقول علامہ اقبال (رح) کہ تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں ۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کاش!مسٹرجسٹن ٹریڈو جیسے لوگ مسلمان ملکوں میں بھی ہوتے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

(یس)ہر لفظ اپنے معنی اور اثر رکھتا ہے اسی لیے تمام والدین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی  ہےکہ بچوں کو اچھے اوربامعنی نام دیں اوراکثر لوگ اپنے والدین کے دیے ہوئے ناموں پر پورے بھی اترے؟ انہیں میں کنیڈا کے وزیر ِ اعظم عزت مآب مسٹر جسٹن ٹریڈو بھی ہیں۔جوکہ دنیا کے نوعمر ترین اور مقبول ترین وزرائے عظام میں شمار ہوتے ہیں ۔ لغت میں“ جسٹن “ کے معنی ہیں۔ منصف یعنی “ ا نصاف پسند کے“ اور انہیں بلا خوف تردید اسم بہ مسٰمی کہاجاسکتا ہے ۔ جو انصاف پسند ہوتا ہے۔ وہ رحمد ل خود بخود ہوتا ہے۔اور وہ ہر ظلم پر چیخ اٹھتا ہے۔ اگر وہ ساتھ ہی حکمراں بھی ہو تو انصاف مہیا کرنے کے لیے مداوا بھی کرتا ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ عنصر حکمرانوں میں مفقود ہوتا جا رہاہے۔ کیونکہ انسانیت ،اخلاق اور سماجی قدریں ختم ہوتی جارہی ہیں ۔ ایسے میں تین غیر ملکیوں کی نماز جنازہ پر جو کہ کنیڈاکے صوبہ کیوبک کی ایک  مسجد میں نماز پڑھتے ہو ئے شہید ہوگئے تھے وہاں ان کی موجودگی اور اس موقعہ پر آنسو نکل آنا ۔ ان کے ا سم بہ مسٰمی ہونے کا بین ثبوت ہے۔ ہے کوئی جو میرے اس دعوے تردید کر سکے؟
یہ میری سرشت ہے کہ میں کبھی کسی کی طرف داری نہیں کرتا۔ جو سچ ہوتا ہے وہی لکھتا ہوں اور جو سچ سمجھتا ہوں وہ کہتا ہوں ؟ دنیا میں ہزاروں با دشاہ گزرے ہیں ان کے نام تاریخ میں گم ہو گئے۔ا ن میں سے صرف چند ہی ہیں جو صدیوں سے تاریخ میں جگمگا رہے ہیں ۔ جنکا طرہ امتیاز انصاف تھا۔ اور قیامت تک وہ اسی طرح جگماتے رہیں گے۔چونکہ کنیڈا میں کسی کے مذہب کو زیر بحث لانا منع ہے۔ لہذا میں الفاظ مقامی قوانین کے مطابق بہت سوچ اور سمجھ کر استعمال کررہاہوں۔ کیونکہ ہمیں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ مقامی قوانین احترام کریں ۔ اور جہاں رہیں اس ملک کے قوانین کی پابندی کریں ؟ جبکہ یہ الیکشن کے قوانیں میں تو پاکستان میں بھی منع ہے کہ کوئی مذہب، ذات اور برادری کے نام پر ووٹ  نہ مانگے ؟مگر یہ اوربات ہے کہ وہاں زیادہ تر لوگ منتخب ہو کر اسی بنا پر آتے ہیں اور اسی بنا پر انہیں ووٹ بھی ملتے ہیں ؟ مگر کوئی اسے اس بنا پر چیلینج کرے تو کاروائی اسوقت تک اکثر پوری نہیں ہوتی کہ جب تک وہ اپنا دور پورا نہ کرلیں ۔ اسلام سے پہلے جو کچھ بادشاہ عادل گزرے ہیں ۔ ان میں ایران کا ایک بادشاہ نوشیرواں عادل بہت مشہور ہے؟ اوراسلام کے ابتدائی دور میں حبشہ کا شاہ بہت بڑا عادل تھا جو عرف ِ عام میں اپنے لقب “ نجاشی “ سےمشہور ہے۔ جس نے مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دی ۔ اسی جیسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ“ عیسائی اور انکے راہب رحمدل ہوتے ہیں “ یہ قر آن کی حقانیت ہے۔ جو آج بھی ظاہر ہورہی ہے کہ مسلمان ملک تو تاریکین وطن کو شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں چاہیں وہ ساری زندگی ان کی خدمت میں گزاردیں؟ کیونکہ انہیں اس عمل سے اپنے تخت اور تاج جانے کا خطرہ رہتاہے۔ حالانکہ پاکستان بنا ہی اسلام کے نام پر تھا! لیکن عدو جب مشرقی پنجاب کو آگ اور خون میں نہلانے لگا تو پاکستان کو تارکین وطن کو لینا اس کی مجبوری بن گیا اور عوام نے دل کی گہرائیوں سے ان کا خیر مقدم بھی کیا۔ لیکن خواص اس وقت بھی مہاجروں کو اپنے علاقہ میں جگہ دینے کو تیار نہیں تھے لہذا حکومت نے انہیں زبردستی ٹرینوں میں سوار کرکے جنوبی پنجاب اور سندھ میں بھیج دیا کیونکہ کہ انہیں خطرہ تھا کہ یہ رہے تو ان کے ان کے محفوظ آبائی حلقہِ انتخابات ( کانسٹی ٹیونسیز) غیر محفوظ ہوجائیں گے۔
اگر دنیا میں آج بھی مسلمانوں کو جگہ مل رہی ہے تو وہ ملک وہی ہیں، جو خود کو مسلمان نہیں کہلاتے ہیں ؟ جبکہ مسلمان کہلانے والے حکمرانوں کی مقبولیت کا گراف اورانداز  یہ ہے چاہے وہ نئے حکمراں ہوں یاپرانے، محلوں میں مقید رہتے ہیں جبکہ سادگی اور عدل اسلام کا ہمیشہ سے طرہ امتیازہے ۔ کتنے ہی لوگ مر جائیں حکمراں ان کے جنازوں میں کبھی شریک نہیں ہوتے؟ جبکہ سڑکوں سے گزرتے ہیں تو بیمار اسپتال کے دروازوں پر تڑپ کر مر جاتے ہیں۔ کہ وہاں کوئی وزیر یا مشیر آنے کو ہے کسی دوست کی عیادت کے لیے یا کسی نئے وارڈ کے افتتاح کے لیے ۔؟
میں بھی عجیب آدمی ہوں ان میں وہ نسبت تلاش کر رہا ہوں جوکہ انہیں حضور (ص) سے ہے اور انہیں ا س کے تحت کیسا ہونا چاہیئے؟ کیونکہ ان کے فرمان میں تو یہ لکھا ہوا ہےکہ “ کسی کو کسی پر فضیلت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے “ ۔وہیں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔ “ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا “ جبکہ مسلم ملکوں کے حکمراں اس کا الٹ ہیں ۔ پھر بھی ان ملکوں کے لوگ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم ساری دنیا سے بہتر ہیں ۔ جوکہ  “ رب نے ان کی تعریف میں فرمایا ہے جو اس سے کیئے ہوئے اپنے اس عہد پر قائم ہیں “ وہ عہد جو کلمہ طیبہ ِلاالہ اللہ محمد (ص) الررسول اللہ پر مشتمل ہے؟ جن لفظوں کو صدق دل سے دہرانے  کےبعد وہ مسلم امہ میں شامل ہوکر حاصل کرتے ہیں اور جوبلا امتیاز سب کو خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں؟ اس میں پہلا لفظ “ لا “ ہے جوکہ عربی میں “ نفی“ کے معنوں میں آتا ہے۔ اسے ابتدا ءمیں لانے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے والا سوائے  “اللہ “ کے سب معبودوں کی نفی کر رہا ہے۔ اور لا تعداد “الہ“ کے جمگھٹ کو چھوڑ کر صرف اور صرف ایک  “الہ“ کی اطاعت اختیار کر رہا ہے؟چونکہ تمام دنیا میں جو مذاہب رائج ہیں ۔ وہاں عبادت کے معنی صرف  “حقوق اللہ“ ادا کرنا ہیں چاہے وہ اسے کسی بھی نام سے پکار تے ہوں؟ ان میں طریقہ عبادت بھی ہر مذہب کا اپنا ہے۔جبکہ اسلام صرف مذہب ہی نہیں بلکہ ایک نظام زندگی ہے۔ اس میں اللہ نے سب کے حقوق اور ادائیگی کے طریقے مقرر فرما دیئے ہیں لہذا وہ بھی عبادت میں شامل ہیں؟۔اور ساتھ میں یہ بھی فرمادیا ہے کہ اگر کوئی غلطی کر بیٹھے تو “میں “(اللہ سبحانہ تعالیٰ) اپنے حقوق تو معاف کردونگا مگر کسی انسان کے حقوق مارے ہیں تو وہ وہی معاف کریگا“ دوسرے اس نے اپنی اطاعت کو نبی (ص) کی اطاعت سے قرآن میں مشروط کردیا ہے ۔ لہذا ن (ص) کی اطاعت بھی لازمی ہے جس کا ذخیرہ ہمارے پاس احادیث کی شکل میں موجود ہے۔ اس میں “ حکمراں عادل “ کا مقام یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عرش کے زیر سایہ ہوگا۔ سوچیئےجو کلمہ پڑھ کر اس کے بعد کسی قسم کی ہیری پھیری کرے وہ کس طرح خود کو اوروں سے اچھا کہہ سکے گا یا کہہ سکتا ہے؟ جواب آپ پر چھوڑ تا ہو ں کہ آپ خود فیصلہ کر لیں؟ ہاں! ان کے پاس کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ خود کو توبہ کرکے اچھا بنا لیں پھر وہ اپنے کردار کی بنا پر اللہ کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی اچھے ہو جائیں ۔ کیونکہ حضور (ص) کا ارشادِ گرامی ہے کہ “ مومن وہ ہے جسے دیکھ کراللہ یاد آئے۔اس لیے کہ مومن کی تعریف ہی یہ ہے کسی کو اسکے ہاتھ سے کوئی نقصان یا تکلیف نہ پہونچے؟
چونکہ میں کنیڈا میں رہتے ہوئے بات کر رہا ہوں؟ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کہیں الجھ جاؤ توا للہ رسول (ص) سے رجوع کرو ؟ یعنی ہر مسئلہ کا حل قر آن اور سنت میں ڈھونڈو؟تو غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ اللہ کے قانون پر ان ملکوں رہتے ہوئے مسلمان دونوں کی وفا داری کیسے نبھا ئیں گے؟ چونکہ ا سلام نے زندگی کا کوئی شعبہ بغیر ہدایت کے کہیں نہیں چھوڑا ہے ۔ یہاں بھی ہمیں یہ حکم دیکر معاملہ صاف کر دیا ہے ۔ کہ “جہاں جس کا حکم چلتا ہو اس کا بھی اتباع کرو “ اس کا حل بھی اور مثال لیں بھی اللہ اور رسو ل (ص) کے ا رشادات ِ عالیہ میں موجود ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تو قر آن میں یہ فرما کر بہت سی رعایتیں عطا فرما دیں ہیں کہ “ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے “ان کی تفصیلات طویل ہیں وہ ا ن ا وراق میں نہیں سماسکتیں۔ صرف مثال کے طور پر ایک پیش کر دیتا ہوں ،نماز وہ رکن ہے جو کسی حالت میں معاف نہیں ہے جس کے بارے میں حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ “ مسلم اور غیر مسلم میں فرق ہی یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہے غیر مسلم نمازنہیں پڑھتا “ لیکن اس کی ادائیگی میں اگرکوئی مجبوری ہے تو رعایتیں عطا ہوئی ہیں۔ مثلاً کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے ہیں، تو بیٹھ کر پڑھ لیں،اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے ہیں تو لیٹ کر پڑھ لیں ، اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو اشاروں سے ہی پڑھ لیں؟ یہاں بھی کوئی جبر نہیں ہے اس کا فیصلہ اس نے آپ  پرچھوڑ دیا ہے کہ آپکی پوزیشن کیا ہے ؟ وہی کیجئے ۔مگر یہ سوچ کر کیجئے کہ وہ اس پر مطلع ہے جو آپ کی حقیقی پوزیشن ہے۔ اگر ہیر پھیر کی اور اپنے اختیارات کا غلط ستعمال کیا تو پھر آپکے لیے بجا ئے کسی انعام کہ صفر ہے؟ حضور (ص) کے یہاں بھی یہ مثال موجود ہے کہ جب مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی تو کوئی مدینہ منورہ کا باشندہ نہ ہو تے ہوئے بھی بیعت کرنے آتا تو اس سے “ حتیٰ المقدور“ عمل کر نے پر بیعت لیتے تھے۔ یعنی “ جن حکامات پر عمل کرسکتے ہو ان پر ضرور عمل کرو جہاں مجبوری ہے وہاں رخصت ہے “ یہ فیصلہ بھی کوئی اور نہیں تم اپنے حالات جانتے ہو خود ہی کروگے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ لوگ حبشہ چلے گئے ایک دو دن نہیں وہاں سالوں رہے مگر انکی نہ ہی حکومت کے ساتھ نہ ہی باشندوں کے ساتھ کہیں ٹکراؤ کی کوئی صورت پیدا ہو ئی؟ کیوں اس لیے کہ  “ان کا کردار اسلامی تھا“ پھر اسلام نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ “ ا حسان کا بدلہ احسان ہے “۔ جہاں ہمیں پناہ ملی ؟ جنہوں نے ہمیں مواقع فراہم کیے ہمارے ساتھ اپنو ں جیسا سلوک کیا وہ بطور محسن ہما رے شکریہ کے کیا مستحق نہیں ہیں؟ اس کلیہ سے روگر دانی کرنا کیا ظلم نہیں ہے۔ میں اس کا جواب بھی آپ پر چھوڑتا ہوں ؟ میرے خیال میں ا س ملک کا شہری ہونے کے بعد ہمیں بھی دوسرے شہریوں سے زیادہ اس ملک کی قدر کر نا چاہیئے۔ جہاں کے ہم شہری بنے ہیں ۔ اگر ایسے کسی مشکوک گروہ کا پتہ چلے جو ملک کا دشمن ہے تو انہیں فو راً حکام کے علم میں لانا چاہیے؟ کیونکہ ایک چھوٹا ساگروہ ہمیں اپنے غلط کردار کی بنا پر دنیا بھر میں بد نام کر رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ا سے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرہے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے( آمین)

شائع کردہ از Articles

اف! یہ انسان کے شکاری ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

اب سے چند دن پہلے پاکستان میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ حکومت پنجاب نے یہ تحیہ کرلیا کہ اپنے صوبے سے وہ جعلی دواؤں کاروبار بند کر دیں گے۔ چونکہ ہمیں پنجاب کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ لہذا ہمیں معلوم نہیں کہ وہاں کی صورت ِ حال اس سلسلہ میں کیا ہے۔ مگر سنایہ ہے کہ بڑا صوبہ ہونے کی حیثیت سے ہر معاملہ میں وہی قیادت کرتاہے مثلا ً فیشن، انڈین گانے انڈین اور یورپین کلچر وغیرہ وغیرہ اپنانے میں؟ البتہ ہم دوسرے بڑے صوبہ کا حال جانتے ہیں اور وہ بھی وہ کہ جہاں کے اس زمانے سب سے زیادہ صنعتیں تھی اور وہ سب سے زیادہ خوشحال بھی تھا۔ وہاں کے لوگ کیسے تھے؟ اس کے بارے میں ہمارے ایک مرحوم دوست ابراہیم جلیس کا ایک مقولہ یا د آرہا ہے جو انہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ “ اگر کبھی مصنوعی انڈہ ایجاد ہوا تو اس کابھی سہرا جوڑیا بازار کے کسی حاجی صاحب کے سر ہوگا۔ ان کی زندگی نے وفا نہ کی انہوں نے ہی لکھنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ایک اور کام لکھا تھا کہ جس میں ایک کچھوّا ان کے گھر سے پیچھے لگ گیااور ساتھ ہی بس میں سفر کر تاہوا ن کے دفتر جا پہونچا تو انہوں نے اس سے تعقب کی وجہ پوچھی تو اس نے بتا یاکہ تمہارے منہ سے میرے انڈے کی خوشبو آرہی ؟تب انہوں نے ایک حاجی صاحب کا پتہ بتایا کہ یہ انڈہ تو میں نے فلاں حاجی صاحب سے خریدا تھا۔ ان کی پیشگوئی کا اتنی جلدی پورا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ پہونچے ہوئے تھے اگر زندگی وفا کرتی تو “ بنگالی بابا کی طرح آج وہ اس کاپھل کھارہے ہوتے“ اللہ نے انکا پردہ رکھا!
اسی زمانے کی بات ہے کہ ہم بلڈ پریشر کے لیے ایک گولی لینے لگے تھے اور ہمیشہ کراچی سے میر پور خاص جاتے ہوئے اپنے گھر کی سامنے کی فارمیسی سے لیکر جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ دکان بند تھی ہم نے کہا چلو میر پور خاص سے ہی لے لیں گے ؟ وہا ں سے خریدی تو دیکھا کہ اس کا سیریل نمبر لاکھوں میں ہے؟ جبکہ اس سے پہلے والی لاٹ کا نمبر صرف ہزاروں میں تھا؟ چونکہ میر پور خاص اسوقت چھوٹا شہر تھا وہا ں کا بچہ بچہ ہمیں جانتا تھا ۔ واپس فارمیسی پر پہونچے اور اس سے پوچھا کہ یہ تو ہمیں جعلی معلوم ہوتی ہے کہنے لگا کہ ہاں! صاحب جعلی ہے؟ ہم نے پوچھا کہ کہیں اصلی بھی ملے گی؟ تو اس نے بتایا ایک ہی فارمیسی ہے جس کامالک اصلی مال رکھتا ہے ۔ ہم نے پوچھا کہ تم کیوں نہیں رکھتے تو اس نے کہا کہ اصلی دوائیں مہنگی ہوتی ہیں، مریض خریدنا پسند نہیں کرتے؟ دوسرے اس میں منافع بھی کم ملتا ہے کیونکہ اصلی پر کمیشن بھی کم ہوتا ہے ۔ہم اس پتہ پر پہونچے تو اس کے یہاں جو شیشی دیکھی اس پر نمبروہی ہزاروں میں تھے۔ البتہ اس نے جو قیمت بتا ئی وہ ذرا زیادہ تھی ؟ اس سے ہم نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ صاحب آپ سے کیا چھپانا اور سب لوگ نقلی دوائیں بیچتے ہیں، ہم نے پوچھا تم کیوں نہیں بیچتے تو اس نے کہا کہ مجھے خدا سے ڈرلگتا ہے آخر وہاں بھی تو جواب دینا ہے؟ یہ مثال ہم نے یہاں اس لیے سنائی کہ یہ آج سے تیس چالیس سال پہلے کی بات ہے جب وہاں کم از کم پچاس فارمیسیاں تو ضرور ہونگی مگر مالک ایک ہی ایماندار تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایمانداری کا تناسب اس وقت صرف نصف فیصد تھا اب تو حالات بہت آگے نکل گئے ہیں وہ شہر جہاں سے جعل سازی کی ابتدا ہوئی تھی اس پر چند عشروں تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا رہاہے۔ پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک نیک آدمی آگیا اور اس نے اسے ا س عذاب سے بغیر توبہ کرا ئے نجات دلادی شاید اس نے دعا کی ہو گی اور اللہ نے کہا اچھا میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں تاکہ تم دیکھ سکو کہ یہ ویسے کہ ویسے ہی ریں گے؟ ۔
جہاں صورت حال اب یہ تھی کہ کوئی ایماندار کسی کوپیش کرنے لیے چاہیئے ہو تو لاکھوں میں ایک ملے گا؟ اس پر بجائے خوش ہونے کہ اس کے بے انتہا دشمن پیدا ہو گئے۔ ا س نے اپنے اچھے کام پر قناعت کرتے ہوئے عافیت اسی میں جانی کہ “ میرصاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامیئے دستار “ اور وہ عزت کے ساتھ گھر چلا گیا۔ اب لوگ اس پر دھول ا ڑارہے ہیں؟ کہ اس کو یہ ملااور وہ ملا ؟ بھائی یہ آج سے تھوڑی مل رہا ہے یہ تو انگریزوں کے زمانے سے چلا آرہا جو پاکستان نے اور ریتوں کی طرح باقی رکھا؟ یہ اور بات ہے کہ پتہ بھولے عوام کو آج چلا ہے؟ ہمیں اس کے ہم پیشہ ایسوں کے بھی نام و پتے معلوم ہیں کہ جن کے ہر شہر میں پلاٹ ہیں اور اس سے چوگنی زرعی زمین بھی۔ جبکہ وہاں کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ کاغذات کی تکمیل میں ہر ایک کوپلاٹ لیتے وقت ایک حلف نامہ دینا پڑےگاکہ “میر ے پا س کوئی “پلاٹ نہیں ہے“شاید حلف نامہ دینے والا اس کے یہ معنی لیتا ہو کہ “اس شہر میں دوسرا پلاٹ لینا جرم ہے“
وہ شخص یہ چاہ رہا تھاکہ میں اپنی دھرتی کاحق ِ نمک ادا کردوں ۔مگر وہ جس کو پکڑ تا سانپوں والے لیڈو کی طرح کسی بڑے سانپ کی دم پر پیر پڑجاتا اور وہ ناراض ہوتا تھا۔ لہذا وہ اپنے مشن میں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ ظالموں کو بچانے والے زیادہ تھے ااور مظلوموں کے حامی کم؟جبکہ ان میں سے کچھ تو ظالموں سے ملتجی بھی رہتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ بھائی کہیں بھی کچھ کرتے پھرو؟ مگر ہمارا علاقہ چھوڑدو ہم تو تمہارے اپنے ہیں ۔ وہ تو چلا گیا؟ اب وہ سارے جو اس کے دور میں بھوکے اور تپے ہوئے بیٹھے تھے وہ اپنے بلوں سے باہرنکل آئے ہیں ۔ جو کہ برائی کو برائی نہیں مانتے نہ انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے کا خوف ہے ؟جو اس سے ظاہر ہے کہ انہیں بم پھاڑنے سے مطلب ہے؟ جہاں بم پھٹے ہیں دیکھئے کہ کون لوگ ہیں“ جو مزار ات کو نہیں چھوڑتے جن کامشن سب سے محبت کرنا تھا اور نفرت کسی سے نہیں“ وہ ان مقامات کو بھی نہیں چھوڑتے جہاں اللہ کانام لیاجاتا ہے جسے وہ اور ہم مسجد کہتے ۔ چلو وہاں نہ سہی انہیں وہاں تو کم از کم شرمانا چاہیئے تھا کہ جو“ جگہ مذہب جمہوریت میں سب سے بڑا مندر سمجھی جاتی ہے“ یعنی اسمبلی۔ جن کے درمیان لاہور میں بم پھٹا وہ کون لوگ تھے وہ آپ سب کو پتہ ہے کہ مدتوں سے جعلی دوائیں لائسنس لیکر بنا رہے تھے۔ اب کوئی لین دین پر تنازع ہوگیا ہوگا؟ جو اس سے ظاہر ہے کہ وہاں ٹریفک والے تھے بیچ بچاؤ کے لیے؟ انہوں نے کم ازکم قتل کرنے کا لائسنس تو لیا ہوا تھا؟ جبکہ وہاں تو ہرایک یہ ہی کام کر بغیر لائسنس کے کرہا رہا ہے ۔ مدتیں گزرگئیں کہ نہ لوگوں کو کھانے کے لیے کو ئی خالص غذا ملتی ہے ،نہ پینے کے لیے پانی یا کوئی ااور مشروب ۔ پھر جی کیسے رہے ہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ ہاں صرف دل کی تسلی کے لیے لوگ یہ ضرور کرتے ہیں ہے کہ جن کے پاس پیسے زیادہ ہیں وہ پانی کی بوتل ہاتھ میں لیئے پھرتے ہیں جو کسی چشمے سے نہیں بھری گئی ۔اور مساوات کے اصول تحت وہ پانی بھی اسی بمبے سے آتا ہے جہاں سے باقی؟ چونکہ ہر ایک کو مکافات ِ عمل سے گزرنا ہوتا ہے یہ اور جگہ سے ڈنڈی مارکر کماکر لاتے ہیں، کوئی اور ان کو دنڈی ماردیتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اور دنیا کو علیحدہ کر لیا ہے۔ کیونکہ بغیر سوچے سمجھے ہر بات میں ہم دوسروں کی نقل کر نے کہ عادی ہیں؟ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہرایک چیز جو ایک کے لیے مفید ہے وہ دوسرے کے لیے بھی ہو؟ ان کا معاملہ دوسرا ہے ان کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے زمانے تک دین مکمل نہیں ہوا تھا، انسانی ضروریات اس حد تک نہیں پہونچی تھیں ؟ جو اتنا تفصیلی دستور خالق کا ئینات کی طرف سے عطا کیا جاتا ۔ لیکن ہم جس دور میں ہیں وہ دور ہے کہ ہمیں ہر چیز لکھی ہوئی دی گئی جس کو کہ ہمارے پیغمبر(ص) نے کر کے بھی دکھا یا۔ ہمارے ہاں اس بارے میں ایک حدیث ملتی ہے کہ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ حضور (ص) نے فرما یا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا اس دور میں جو دین پر چلے گا اس کا رتبہ تم جیسے پچاس افراد کے برابر ہو گا“ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ ہمارے جیسے پچاس! فرمایا ۔ہاں (ص) ! اس لیے کہ تم نے مجھے (ص) دیکھا میرے (ص) کردار کو دیکھاقر آن اتر تے دیکھا؟ تم سب دیکھ کر ایمان لا ئے ہو وہ اس مشکل وقت میں بغیر دیکھے ایمان لائیں گے۔ یعنی با الفاظ دیگر انکی تعداد اس وقت لاکھوں اور کروڑوں میں کہیں جاکر ایک ہوگی؟ وہ ایسے لوگ ہونگے کہ وہ ہرکام اللہ کے دیئے ہوئے احکامات کے مطابق انجام دیں گے ؟ چاہیں وہ خود کھائیں چاہیں کسی کو کھلائیں سب کا ثواب ان کو ملے گا؟ وہ وقت آج ہمارے سامنے ہے ۔ ذرا ڈھونڈیئے تو سہی؟ ان کی تعداد کتنی ہے جو آج صر ف اور صرف اللہ او رسول (ص) کے لیے کام کر رہے ہیں ۔اگر کوئی چندہ دیتا ہے تو کسی کو خوش کر نے کے لیے؟ جبکہ وہاں شرط صرف اللہ کو خوش کرنے کی ہے؟ اسی لیے حکم ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو؟لیکن ہم نے کیا دیا؟ اس کی پورے شہر کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو خبر ہوتی ہے ۔ پھر دوسری شرط یہ ہے کہ لوگ اگر ستائش کریں، آپ کے کسی کام کر نے پر اور آپ کا نفس اس پر خوش ہو رہا ہو یا آپ صرف اتنا ہی سوچ لیں کہ اس کی وجہ سے لوگ میری عزت کرتے ہیں مجھے اچھا سمجھتے ہیں؟تو آپ کا کیا ہوا سارا کام ضائع ہو گیا ۔ یہ اسکی مرضی ہے کہ وہ رحم کرے اورآپ کو کچھ “گریس مارکس “ دیکر پاس کردے ورنہ آپ کا کوئی حق نہیں بنتا۔ اب آپ اس پر کہیں گے کہ پھر حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ آپ اپنے طور پر پوری کوشش کریں کہ لوگ آپ کے اچھے اعمال پرمطلع نہ ہوں اگر پھر بھی ہو جائیں تو اللہ کی مرضی سمجھتے ہوئے ان کے بجا ئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو توفیق دی اوراس قابل بنایا ؟پھر بھی اس کی رضا کے خواہستگار رہیں !اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسے راضی کر نےکی توفق عطا فر ما ئے( آمین)۔ پھر انشا اللہ ہم ان میں سے ہونگے جن کا ذکر میں نے اوپر کی حدیث میں کیا کیا ہے؟
ا

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

چونکہ نام و نمود ریاکاری میں آتا ہے س لیے اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فخرِموجودات فخرِ انبیاءمحمد مصطفی احمد مجتبیٰ (ص) کا دور ہمارے لیے مشعل راہ اور مثالی  ہے۔ اور دین وہی ہے جس پر ا نہوں (ص) نے عمل کرکے دکھایا۔ وہ کیسا تھاا یک مثال پیش ِ خدمت ہے۔ دنیا کی جو پہلی مسجد بنی جس میں خود سرکارِ دوعالم (ص) اور تمام صحابہ کرام بطور رضا کار کام کر رہے تھے۔ وہ کچے گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر ہورہی تھی۔ اس کا فرش مٹی کا تھا وہ بھی ہموار نہیں بلکہ ایسا تھا کہ نمازی سجدہ کرتے تو ان کے ماتھے میں کنکر چبھ جاتے تھے۔ گردو دھول سے ماتھے اٹ جا تے تھے۔ اوپر کجھور کے پتوں کا چھپر تھا جو بارش اور دھوپ سے بچا نے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا تھا۔ مینارہ اور گنبد نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہ تھی مسجدِ نبوی (ص) جو کہ حرم کے بعد سب سے زیادہ مقدس اور محترم ہے اور قیامت تک رہے گی۔جہاں کہ ایک رکعت کا ثواب حرم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ حرم میں سجدہ کر نے کا ثواب ایک لاکھ رکعات کے برابر ہے۔خود حرم شریف کا طول و عرض اور بلندی کیا ہے وہ جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تو فیق دی اور وہ وہاں گئے اور دیکھ بھی آئے ہیں ان سے پوچھ لیجئے۔کہ اس پر بھاری غلاف نہ پڑا ہو تو وہ ایک عام سی عمارت ہے جو کہ حضور (ص) کے مبعوث رسالت ہونے سے پہلے از سر نو تعمیر ہوئی تھی، لیکن تعمیر اس لیے ادھوری رہ گئی کہ سامان کافی نہ تھا اور حضرت ابراہیم (ع) کے خطوط پر بنا ئی ہوئی عمارت کا کچھ حصہ جسے حطیم کہتے ہیں بغیر چھت کے کھلا ہوا چھوڑ دیا گیا جو کہ آج تک اسی طرح کھلا ہوا ہے۔ جیسا کے حضور  (ص)نے اپنے دور میں چھوڑا تھا۔ اور عمرہ کرنے والے اورحجاج اس میں نوافل پڑھتے ہیں۔ان کے لیے بھی سوائے دو چادروں کے بدن پر اور کچھ نہیں ہو تا تاکہ سب میں سادگی اور یکسانیت رہے؟ حالانکہ آج کے حرم کے چاروں طرف شاہی محلات اور ہوٹل بن گئے ہیں مگر کسی کی جرا ءت نہیں ہوئی جو اس بیت العتیق کو تبدیل کر سکے؟ جبکہ مسجد نبوی بھی حضور (ص) کے زمانے سے لیکر حضرت ابو بکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے زمانے تک ویسی ہی ر ہی جیسی تھی۔ جبکہ حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں آبادی جب بہت بڑھ گئی تو اس میں توسیع ناگزیر ہوگئی تو تبدیلیاں وجود میں آئیں ۔ کیا یہ ا س وجہ سے  تھاکہ رقم کی کمی تھی۔؟ نہیں اور ہر گز نہیں حضرت عمر (ص) کے زمانے تک مال کی فراوانی اس قدر ہوچکی تھی کہ مدینہ منورہ میں کوئی زکات لینے والا نہیں ملتا تھا فوج کو با قاعدہ تنخواہیں اور عوام کو وظیفے وغیرہ ملنا شروع ہوچکے تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی ان کی تربیت حضور (ص) نے فرمائی تھی۔ ان کے سامنے یہ آیت تھی کہ “ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں “ اس لیے سادگی ان کے مزاج میں رچ ، بس گئی تھی۔ وہ اپنے اوپر انسانی ضروریات کو ترجیح دیتے تھے اپنی جھوٹی شان و شوکت کو نہیں ۔ ان کے نزدیک بڑائی قرآنی تعلیمات کے مطابق عمارتوں میں نہیں بلکہ “تقوے “ میں تھی۔ اوراس نے انہیں باربار فائیدہ دیا اور دنیا کو مرعوب کیا۔ آپ نے بھی پڑھا ہو گا کہ ایک وفد مدینہ آتا ہے خلیفہ کی تلاش ہوتی ہے وہ ایک کھجور کے باغ میں سر کے نیچے کوڑارکھے محو استراحت ہیں ۔ دو سرا عظیم واقعہ وہ ہے کہ بیعت المقدس کی حوالگی کے لیے وہاں کے باشندوں طرف سے ایک انوکھی شرط رکھدی گئی ہے کہ ہم جب تک مسلمانوں کے امیر کو نہ دیکھ لیں اس وقت تک ا طا عت قبول نہیں کریں گے؟ حضرت عمر  (ص)امیر المونین ہیں وہ ا نسانی جانیں بچانے کے لیے جو بصورتِ دیگر جنگ کی نظر ہوتیں اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنا تے ہیں اور بہ نفس نفیس روانہ ہوجا تے ہیں۔ اونٹوں کی کوئی کمی نہیں تھی مگر یہ اسوہ حسنہ (ص) کے خلاف تھا کیونکہ حضور (ص) کے ہمراہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی اونٹ پر ہمراہ سوار ہوتا تھا۔ وہ ایک ہی اونٹ لیتے ہیں؟ جس پر باری باری ایک دن وہ نکیل پکڑ کر چلتے ہیں تو دوسرے دن انکا غلام، جب فلسطین کی فصیل کے قریب پہونتے ہیں تو نکیل پکڑ کر چلنے کی باری حضرت عمر(رض) کی ہو تی ہے؟ اس سے پہلے لشکر ِ اسلام کے تما م سپہ سالار آتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیے اور زرق برق پوشاک زیب ِ تن فرمالیجئے، کیونکہ یہاں کے ا میر شان و شوکت کو پسند کرتے ہیں اور اس سے ایک دوسرے کو مرعوب کرتے ہیں! وہ فرماتے ہیں نہیں،میں ایسے ہی جاؤ نگا جیسے کہ چل کر یہاں تک پہونچا ہو ں؟ فلسطین کے درویش اور علماءجن کی تعداد ہزاروں میں تھی قلعہ کی فصیل سے اس حالت میں ایک اونٹ کوآتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ دو اصحاب ایک جیسے لباس میں ملبوس تشریف لا رہے ہیں ایک اونٹ پر تشریف فرما ہیں اور دوسرے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے ہیں تو پوچھتے ہیں ان میں سے تمہار ے امیر کون سےہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ وہ جوکہ اونٹ کی نکیل پکڑے ہو ئے ہیں ؟ چونکہ ان کی روایات میں فاتح فلسطین کی یہ ہی پہچان تھی وہ بغیر لڑے بھڑے اطاعت اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان تمام چیزوں سے واضح یہ ہوتا ہے کہ عزت دلوں میں ہوتی ہے مال وا سباب اور محلات میں نہیں اور وہ عطا بھی ا للہ سبحانہ تعالیٰ کرتا ہے؟ جس کو چاہے عطا کرے جسے چاہے نہ عطا کرے۔ جو وسائل کے ذریعہ عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کو ذلیل کرنے کا سامان پیدا کردیتا ہے کیونکہ وہاں پر ارشادِ باری تعالیٰ یہ ہے کہ “ جو لوگوں سے عزت چاہتے ہیں انہیں ذلیل اور خوار کردیتا ہوں “ آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ محلوں میں رہنے کے باوجود اگر کردار ویسا نہ ہو اور ان کی اپنی کرتو توں کی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں عزت عطا نہ کرے تو آپ نے سنا بھی ہو گااور دیکھا بھی ہوگا کہ سب کچھ ہو نے کے باوجود لوگ عجیب عجیب ناموں سے انہیں پکارے تے ہیں۔
ہمارے یہاں ایک رو چل نکلی ہے کہ مسجد ایسی ہو کہ دور سے دکھا ئی دے ،ہم نے اکثر منبروں سے اپیل اپنے کانو ں سے سنی کہ مسجد تو بن گئی ہے ، بھائیوں دل کھول کر چندہ دو اگر منارہ بھی شاندار بن جا ئے تو دور سے نظر آئے گا اور اسلام کی شان بڑھے گی؟
جبکہ اسلام کی شان ا ونچے میناروں سے نہیں بلکہ اس کے ماننے والوں کےا ونچے کر داروں سے ہمیشہ بڑھی ہے اور لوگ انہیں دیکھ کر مسلمان ہو ئے ہیں۔ ؟ وہ کلیہ یوں بدل نہیں سکتا کہ اسے سب سے پہلے یہ ہادیِ اسلام (ص)  نےاپنا یا پھر ان کے صحابہ کرام نے اپنایا ، اور انہیں دیکھ کر اولیا ئے عظام نے اپنایا۔ کیونکہ شاندار مسجد ااور سادی مسجد کاثواب برابر ہے وہ کم یا زیادہ نہیں ہے اور وہ ہے بنانے والوں کے لیے جنت میں ایک گھر ۔البتہ آج کے دور میں دیار ِ غیر میں مساجد جتنی نمایاں ہونگی ان کی حفاطت کامسئلہ ہو گا ۔کیونکہ مسلمانوں نے اپنے کردار بدل کر اور غیروں کے اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے آج کی دنیا ا سلامی فوبیا کا شکار ہوچکی ہے۔ اس سے متاثر ہوکرکوئی بھی پاگل اگر کسی مسجد میں جا کر فائرنگ شروع کردے یا کوئی خود ساختہ بم پھینکد دے تو نقصان کا احتمال ہے کسی فائدہ کانہیں۔  جب کنیڈا جیسے ملک میں  یہ ہوسکتا ہے جو کہ تارکین ِ وطن کی جنت ہے  تو پھر یہ ہی کچھ کہیں بھی ہوسکتا ہے؟اس معاملے پر غور کرتے ہوئے یہ دیکھئے کہ جذبات میں بہنے کے بجا ئے عقل ودانش کاتقاضہ کیا ہے۔ اپنے خلاف مزید نفرت کو بھڑکایا جا ئے یا کم کیا جائے؟ دنیا میں کہیں بھی نئے آنے والوں کو بہت زیادہ پھلتے پھولتے دیکھ کر مقامی لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے۔ یہ میگا ٹائپ محلات جنہیں ہم دیار ِ غیر میں آکر بناتے ہیں ان پر کوئی اچھا تاثر مرتب نہیں کرتے ؟ اسلام نے تو ہمیں یہ سکھا یا ہے ۔ خود کھانے سے پہلے اپنے پڑوسیوں کے گھر کھانا پہنچادو، موسم کے نئے پھل خود کھانے سے پہلے ان کے گھر پہونچادو ! اپنے دروازے کے باہر پھلوں کے چھلکے مت پھینکوتاکے ہمسایوں میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ ایک طویل فہرست ہے جو اسلام نے ہمیں ہمسایوں کے حقوق بتائے ہیں وہ کرکے دیکھو؟ پھر وہی صورت ِ حال واپس آجا ئے گی جیسا کہ ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کے پڑوس میں رہنے والا ایک شخص جوکہ مسلمان نہیں تھا وہ اپنا مکان فروخت کر رہا تھا مگر بازار سے اس کی قیمت زیادہ مانگ رہا تھا۔ اس سے جب وجہ پوچھی گئی تواس نے بتایا کہ یہ ایک مسلمان کا پڑوس ہے اس لیے اسکی قیمت زیادہ ہے۔ ذرا اسلام پر عمل کرکے دنیا کو دکھا ؤتو پھر دیکھو کہ لوگ تمہیں یہاں کس طرح خوش آمدید کہیں گے۔؟
میں ایک واقعہ بیان کر کے اپنی بات کو ختم کرتا ہوں جو کہ اس وقت کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش سے میں نے سیکھا ہے۔ وہاں بھی اس زمانے میں آہستہ آہستہ یہ احساس بیدار ہو رہا تھا؟  بہاریوں کے خلاف نفرت جو پہلے سے موجود تھی بڑھ رہی تھی۔ اس پر جب میں نے تحقیق کی توپتہ چلا کہ اان کے خلاف نفرت کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بیروزگاری عام ہے جبکہ یہ ان کے پڑوسی تھے چھوٹے موٹے کام وہ آکر کرلیتے تھے یہ محروم رہ جاتے تھے ۔ جبکہ مارواڑی سیٹھ جو ان کی غربت کے اصل ذمہ دار تھے ان کی طرف ان کی نگاہ نہیں جاتی تھی ؟  میں نے ایک سیٹھ سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے !تو اس نے بتایا کہ وجہ یہ ہے کہ “ ہم انہیں طرح رہتے ہیں ۔ جیسے وہ رہتے ہیں“وہ کیسے رہتے تھے۔ ان کی کل کائینات ایک دکان ہوتی تھی جہاں وہ لاکھوں کا کاروبار کرتے تھے اس میں فرنیچر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی بس ایک بیت کی بنی ہوئی چٹائی تخت پر بچھی ہو تی تھی۔ دکان کے پچھلے حصہ میں ان کا باورچی خانہ ہو تا تھا رات کو وہیں دکان کا دروازہ بند کر کے وہ سوجاتے تھے۔ جبکہ جو کچھ کماتے تھے مارواڑ بھیجدیتے تھے۔ جبکہ مہاجر جو کماتے ہیں اس سے زیادہ نام نمود پرخرچ کرتے ہیں ۔ جس سے ان میں احساس ِ محرومی پیدا ہوتا ہے؟ یہاں بھی یہ ہی صورت حال  ہےکہ عوام کو یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ تارکین وطن ترقی یافتہ ملکوں کی ضرورت ہیں کہ ان کے یہاں بچوں کی پیدائش کم ہو رہی ہے۔ بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ دوسری طرف  “یہ کمپوٹر ایج ہے“ جوکہ روز گارکو خاموشی سے نگلتی جارہی ہے۔ یوں پرانے باشندے نئے آنے والوں کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار سمجھ رہے ہیں؟ ایسے میں کوئی چیز آپ کی مدد کرسکتی ہےتو وہ آپ کے کردار میں تبدیلی ہے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

مسئلہ اچھی قانون سازی کا نہیں اطلاق کا ہے۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی

دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنا بڑا مشکل ہے اور اوپر سے یہ دور بڑا ظالم ہے۔ بزرگوں نے ا للہ سبحانہ تعالیٰ سے بہت سے وعدے کر کے ملک تولے لیا مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ خود توا للہ کے پاس وعدے وفا کرنے سے پہلے چلے جا ئیں گے اور اولاد کے لیے وعدے نباہنے کی تمام ذمہ داریاں چھوڑجا ئیں گے جن میں اپنو ں کی پردہ پوشی اور شغل ِنوشا نوشی بدرجہ اتم ہوگا ور انہیں اس سے فرصت ہی کہاں ہوگی جو وعدے پورے کریں۔ ہمارا گزشتہ کالم شراب اور نشا ئیوں پر تھا جو کہ سینٹ میں قوم کو معاملہ در پیش تھا، مگر اب جو نگاہ دوڑائی تو وہی معاملہ ہائی کورٹ میں بھی نظر آگیا اور یہ بھی کہ حکومت ِ سندھ کو حکم ہوا  ہےکہ چودہ دن کے اندر شراب پر قانون سازی مکمل کرلے اور اس بات کا خیال رکھا جا ئے کہ مساجد اور مدرسوں کے قریب شراب خانے نہ رہنے پائیں۔ چونکہ معاملہ عدالت میں ہے ہم ا س پر تو تبصرہ نہیں کر سکتے ۔ لیکن وقت بہت کم ہے اس لیے ان کی استعداد پررحم کھاتے ہوئے ہماری عدلیہ سے معدبانہ درخواست ہے کہ مطالبہ وہ کیا جائے جو ان کے لیے پوراکرنا ممکن ہو ۔ بیچارے ممبران اسمبلی جو کام ستر سال میں نہیں کر سکے وہ چودہ دن میں کیسے کر سکیں گے یہ ہماری سجھ سے باہر۔ وہ بھی ہمارے یہاں جہاں پرانے قانون بھی چل رہے ہیں ۔ اور نئے بھی۔ مثلا ً برطانیہ کا  1935کا ایکٹ اور ضیا الحق کا لایا ہوا نظام اسلام ؟ کیونکہ ہمارے یہاں جو بھی آتا ہے وہ ہمیشہ کام ا دھورا چھوڑجاتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ا ردولغت میں ایک لفظ عمر ِجاوداں بھی ہے۔ جس کے بارے میں ہر ایک کو یہ یقین رہا کہ یہ یقینا“ اسی کو ملے گی؟ مگر آج تک ملی کسی کو بھی نہیں۔ لہذا جنہوں نے اس پر یقین کیا یا اس خواب کا دیکھا وہ مار کھا گئے اور اپنا کام ادھورا چھوڑ گئے۔ جنہوں نے ایسا نہیں کیا اور کام کل پر نہیں چھوڑا وہ انتہائی مشکل حالات میں صرف چند سالوں میں “ گریند ٹرنک روڈ“ بنا گئے۔ جس پر ہمیں شیر شاہ کے نام کے پتھر لگے تو کہیں نظر نہیں آتے مگر اس کی بنا ئی ہوئی سڑک پر گاڑیاں چلتی ہوئی ضرور نظر آرہی ہیں۔یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق چونکہ صدقہ جاریہ ہے لہذا جب تک یہ سڑک استعمال ہوتی رہے گی ا س وقت اس کے کھاتے میں ثواب لکھا جاتا رہے گا؟ اس کے برعکس دوسرے بادشاہوں نے اپنے لیے اور راہیں اختیار کیں۔ مثلا ً شاہجہاں نے تاج محل اپنی بیوی کی آرام گاہ پر ایک وقت ِ کثیر اور رقم کبیر خرچ کر کے بنا ڈالا؟ اس کا نام بھی تا ریخ عالم میں تو رہے گا۔ جس پہ ٹکٹ لگا کر مودی جی  جیسے لوگ مال کما تے ر ہیں گے۔ چونکہ صدقہ چونکہ یہ صدقہ جاریہ میں شامل نہیں ہے۔لہذا وہاں بھی اس کا کوئی صلہ ملے گا؟ احکامات کے اعتبار سے معاملہ مشکوک ہے۔ کیونکہ اسلام نے اس فعل کی سخت مذمت کی ہے۔ جس میں ریا کاری مقصود ہو؟ ہم نے یہ دو مثالیں اس لیے منتخب کیں ہیں کہ ان میں تقریباً عرصہ ایک جیسا لگا اور دونوں نے ہی دو بڑے کام کیے، مگر ایک کے سامنے اپنی نام و نمود تھی اور دوسرے کے سامنے عوام کی بھلائی سہولت اور خدمت اور فلاح بہبود؟ شیر شاہ نے ایسا کام کر دکھا یا جو اس دور میں جب نہ رسل و رسائل تھے نہ ایسے وسائل تھے ناممکن تھا۔ کہ اس نے ایک سڑک کلکتہ سے لیکر پشا ور تک بنا ڈالی جو صرف سڑک ہی نہیں تھی بلکہ دوسروں کے لیے  مشعل راہ بھی تھی کہ آج کے دور میں سڑکوں پر بنے ہوئے ریسٹ رومز اسی کا چربہ لگتے ہیں۔ کیونکہ وہ اسوقت سیکڑوں منزلوں میں تقسیم کی گئی تھی جبکہ اس کا تصور بھی نہیں تھا۔اور ہر منزل پر ایک سرائے بھی بنا ئی گئی تھی تھی اور پانی کی باؤلی بھی جس کے پانی تک پہونچنے کے لیے سیڑھیاں بنی ہو ئی تھیں، تاکہ پیاسوں کو پانی کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہو نا پڑے ؟وہ سیڑھیاں اتر کراپنی پیاس بجھا لیں؟بجا ئے جنگلوں میں اور صحراؤں میں پانی کی تلاش  کرتے پھریں؟ اس نے کیسے اتنے بڑے منصوبے کی منصوبہ بندی کی ہوگی تاریخ خاموش ہے ،یا اسے خاموش کردیا گیا ہے؟ چونکہ اس کی تکمیل کے فورًا بعد ہمایوں ایران کی مدد لیکر واپس آگیا تھا اور تخت واپس اسکو ایران نے مدد کرکے دلادیا تھا۔ لہذا تاریخ میں کچھ زیادہ اس کا ذکر نہیں ملتا؟ کیونکہ ہمارے یہاں کی ریت یہ بھی ہے کہ چاہیں مرنے والا کتنا ہی ظیم ہواور  کتنا ہی بڑاکام کر جا ئے۔ آنے والے اس کا کام اور نام کہیں تحریربھی ہو تو اسے مٹا نے کی کوشش کر تے ہیں؟ بلکہ اگر بس چلے تو وہ بھی اپنے ہی نام کرا لیتے ہیں؟ لہذا اب کہیں پتہ نہیں ملتا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ اس کے برعکس تاج محل ایک ہی جگہ پر تھا اور فائدہ بادشاہ کو پہونچ رہا تھا یعنی “ اس مشہوری ہو رہی تھی“لہذا اس کے اخراجات اور وسائل کی ایک ایک تفصیل موجود ہے جبکہ کام نظروں کے سامنے ہے ؟ مگر یہ سب کچھ وہاں کے لیے تھا جہاں کی زندگی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ جہاں ابدی طور پر رہنا ہے وہاں اسے کیا ملے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے ؟ اگر انسان جانتا ہوتا تووہ کبھی ایسی تجارت میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جس کے نتائج معلوم نہ ہوں ؟ جبکہ قر آن میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں کہ جس میں کبھی گھاٹا نہ ہو؟ ایک صاحب پہلے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ ہوا کرتے تھے وہ ہرآنے والے وزیر آعظم سے ایک ہی سڑک کا بار بار افتتاح کراتے رہے جب تک وہاں اس عہدے پر فائز رہے پتہ نہیں آخری نام اس پر کس اب کس کا لکھا ہوارہ گیا جس کو مٹانے کی انہیں فرصت نہیں ملی؟غالب کہہ گئے ہیں کہ مفت ہاتھ آئے تو برا کیاہے؟ یہ ہی معاملہ برادر ملک ترکی کی بسوں کا ہے۔ ادھار پر مل رہی ہیں سامنے نظر آتی ہیں مشہوری بھی ہے۔ اگر اس کے بجا ئے چین سے ٹرین لے لیتے تو زیادہ بہتر ہو تا کیونکہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ تو بچ ہی رہتا ؟ “جیسے اسٹیشن اور لوہے کی پٹری “ لیکن حکمرانوں بسیں پسند کیں جن تاریخ ہمارے یہاں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کبھی اسی لاہوراو منی بس سروس بھی چلتی تھی! اور اس سرے ا س سرے تک بلکہ گلی گلی جاتی تھی؟ مگر پھر کیا ہواکہاں گئیں وہ بسیں ہمیں پتہ نہیں شاید کوئی مورخ روشنی ڈالے؟ یہ ہی حال ان بسوں کابھی ہو گا اور لگانے والوں کی نام تختیوں کابھی۔
جہاں انسانوں کو موبل آئیل شفاف کر کے کھلایا جا سکتا ہے، ریلوے کے انجننوںکو غلط لبری کیشن ڈالکر تبا ہ کیا جا سکتا ہے اور اس طرح ریلوے کو بٹھایا جا سکتا ہے ۔ تو ان بسو ں کی بساط کیاہے؟ اسلیے کہ بیچاریوں کو جہاں چاہے ہانک دو وہ وہیں چلی جاتی ہیں جیسے سرکاری بسیں کراچی میں شیر شاہ میں لے جاکر کباڑیوں کے ہاتھوں بک گئیں، اگر لاہور اور ملتان وغیرہ میں کوئی شیر شاہ نہیں ہے؟ تو کوئی تو اس کی جگہ  “دلیر شاہ “ہوگا پاکستان کی سر زمیں ابھی بنجر تو نہیں ہوئی ہے کہ ایسے کپوت نہ پیدا کرسکے؟ ،بہر حال اس کا متبادل ہو گا ضرور؟
مختصر سا عرض کردوں کہ ہمارا مسئلہ اچھی قانون سازی نہیں ہے جس کے لیے ایک کے بعد دوسرا قانون بنا کر عوام کو بیوقوف بنایا جائے؟ کیونکہ اللہ کے قانون سے بہتر کون سا قانون ہو سکتا ہے۔ جو ہمارے پاس  پہلے ہی سے موجود ہے۔ بات ہے پوری طرح اس کے نفاذ کی اور سب پر اطلاق کی اور اطلاق بھی پہلے ان امرا پر ہونا چاہیے جنہیں لکھا یا بغیر لکھا استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ جب انصاف کی امید نہ رہے تو لوگ قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کردیتے ہیں جس کی مثالیں آئے دن ہمارے دیکھنے میں آرہی ہیں جس کا مظاہرہ پارلیمان میں بھی دیکھنے میں آیا ؟یہ سیلاب ہمارے ہاں اس وقت بھی آیا تھا جب مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ  تھا؟اس وقت بھی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر شاہد (رح) شہید ہوگئےاور ججوں کو رٹ چھوڑکر پچھلے دروازے سے نکلنا پڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تاریخ اپنے آپ کو پھر نہ دہرانے لگے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ پہلے ہم خود عادل بن جائیں ،معاملات میں اچھے بن  جائیں پھردعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ موجودہ قیادت کوہی ہدایت عطا فرمادے کہ وہ خود کواچھا بنالیں ؟اس سے اچھا کیا ہوگا  کہ ہم بار بار نئے لوگوں لائیں اور آزمائیں جوکہ ہمیں میں سے ہیں اور ہم جیسے ہیں؟ رہا اچھا بننا وہ بھی جبھی کوئی بنتا ہے کہ وہ بننا چاہے؟ نہ بننا چا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ بھی اسے اچھا نہیں بنا تا کیونکہ اس نے فرما دیا ہے کہ کیا میں نے تمہیں دونوں راستے  دکھا دیئے تاکہ تمہیں آزماوں ؟ کیا یہ تمہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ جو چاہے جونسا راستہ اختیار کرے؟  “کیا ان کے پاس دیکھنے کے لیے دو آنکھیں ۔اور بولنے کے لیے دو ہونٹ نہیں عطا کیئے “ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized