انتخابات جھرلو سے جوڈیشل کمیشن تک ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی

انتخا
یہ عجیب اتفاق ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی ابتدا صوبہ سرحد سے مرد ِ آہن خان قیوم خان کے ہاتھوں ہوئی ، جبکہ مرکز میں پاکستان کی بانی کابینہ حکمراں تھی؟ ہوا یہ کہ وہاں جب پاکستان بنا تو خان عبد الغفار خان کا طو طی بول رہا تھا اور صوبے سرحد میں کانگریس کی منتخب حکومت تھی۔ کچھ حالات ایسے ہوئے کہ وہاں بعد میں ریفرنڈم ہوا اور عوام نے فیصلہ پاکستان کے حق میں دیدیا؟ یہ بھی بہت سے مخمصوں میں سے ایک مخمصہ تھا جو پاکستان میں پیدا ہوا؟ دنیا میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ صوبوں میں کسی کی حکومت ہواور مرکز میں کسی اورجماعت کی، دوسرے یہ کہ کہ اگر کسی مسئلہ پر ریفرینڈم ہو تو ہاری ہوئی حکومت اکثر خود ہی مستعفی ہو جاتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں جو آیا اس نے کبھی کرسی مرضی سے نہیں چھوڑی لہذا نہ مرکزی حکومت ،صوبائی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار تھی اور نہ ہی صوبائی حکومت استعفیٰ دینے کو تیار تھی۔ “ مسئلہ وہی ہوگیا تھا کہ ایک ماں کو خبر سنائی گئی جس کا بیٹا فوج میں ملازم تھا کہ جرمن اور بر طانیہ میں جنگ شروع ہو گئی !تو کہنے لگی کہ خدا خیر کرے! میرا بیٹابھی ضدی اور بہادر ہے اور جرمنی بھی“
خان عبد الغفار کے بھائی ڈاکٹرخان صاحب وزیر اعلیٰ سرحد تھے۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ مرکزی حکومت کے ساتھ معاملات سلجھ جائیں مگر بات نہ بن سکی اور ان کی حکومت برطرف کردی گئی۔ پھر مسلم لیگی لیڈر خان عبد القیوم صوبے کے کرتا دھرتا بنے ؟ انہیں کی حکومت کے زیر نگرانی انتخابات ہوئے۔ جیت ہمیشہ ان کی قسمت میں رہی اور وہ سالوں تک وزیر ِ اعلیٰ رہے۔انہوں نے جو انتخاب جیتنے کا ہنر ایجاد کیا اس کانام حاسدوں نے “ جھرلو “ رکھدیا حالانکہ یہ پاکستان بننے کے بعد پہلی ایجاد تھی اس کو سراہا جانا چاہیے تھا۔میرے خیال میں وہ جیت تو ویسے بھی جاتے اس کے استعمال کے بغیر، مگر خان عبد الغفار کی پارٹی اچھی خاصی تعداد میں اسمبلی میں ہوتی اور ان کے لیے مردِ ِ آہن بننے کے امکانات کم ہوجاتے ؟ انہوں نے یہ خطرہ مول لینا مناسب نہیں سمجھا اور نظریہ ضرورت کے تحت “جھرلو “ کا استعمال ناگزیر خیال کیا ۔
ممکن ہے کہ ہماری نئی نسل نہ سمجھے کہ جھرلو ہے کیا چیز ؟ تو انہیں سمجھاتا چلوں کہ اس زمانہ میں ریڈیواور ٹی وی وغیرہ آج کی طرح عام نہ تھے ۔ اس کے بجائے بازی گر گلی گلی تماشہ دکھاتے پھر تے تھے ان کے پاس ایک پٹارہ ہو تا اور اس کے اوپر کپڑاپڑا ہوتا، ہاتھ اس کپڑے کے اندر ڈالتے اور ایک چھوٹا ڈنڈا ہاتھ میں رکھتے جو اس کے اوپر گھماتے! اسی کے زور پرکبھی چیزیں پیدا کر دکھاتے ،کبھی انہیں کوگم کرکے پٹاری خالی دکھا دیتے اور پھر اسی میں سے دوبارہ بر آمد کرلیتے ۔ یہ ایک طرح کی ہاتھ کی صفائی تھی، اس ایجاد کو انتخابات میں اپنا نے کہ بعد اس میں یہ ہونے لگا کہ “ ووٹ پڑتے کسی کو اور نکلتے کسی اور کے ڈبے میں سے اور انتخاب وہ جیتّا جس کو وہ چاہتے “ ضرورت ایجاد کی ماں ہے پھر اس میں مزید اضافے ہوتے رہے۔
صرف ایک مثال دیکر بات ختم کرتا ہوں؟ ایک کھاتے پیتے گھرانے کی خاتوں جوکہ سماجی ورکر تھیں اور ساتھ ہی بھاری بھرکم بھی ۔ وہ اپنی خدمتِ خلق کے باعث اپنے علاقے میں خاصی مقبول تھیں؟ ان کو ایک حکومت مخالف پارٹی نے پیشکش کی آپ ہمارے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے کھڑی ہوجائیں؟ “کہنے لگیں کہ کھڑی تو ہوجاؤ ں! مگر مجھ سے پہاڑ پر سے اترانہیں جائے گا! کہیں ہاتھ پیر نہ تڑوابیٹھوں“ ان سے جب پوچھا گیاکہ یہ کیاپہیلی ہے اور انتخابات سے کوہ پیمائی کا تعلق ؟ تو کہنے “ لگیں کہ قیوم خان الیکشن والے دن مخالف امید واروں کو پکڑ کرپہاڑوں پر چھڑوادیتے ہیں؟ چھڑواتو وہ دیں گے ،مگر میرے لیے اترنا مشکل ہو گا“
یہ تھی پاکستان میں پہلے صوبائی الیکشن کی داستان، بعد میں اسے قوم نے اجتماعی طور پر قبول کرلیا ۔جو ڈنڈے کے زور پر آجاتا وہ کبھی ریفرنڈم کراتا اور کبھی انتخابات، ووٹر بائیکاٹ بھی کرتے تو بھی “ جھرلو“ والی ایجاد کی بنا پر کامیاب وہی ہوتا؟ حتیٰ کہ لوگ شفاف انتخابات کو ترس گئے۔ بہت عرصے کے بعد ایک مرتبہ غلطی سے فوج نے شفاف انتخابات کرائے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک پارٹی نے اسو قت کے فوجی حکمرانوں کو یہ باور کرادیا تھا کہ ہم سب سے منظم جماعت ہیں اورہمیں جیتیں گے، مگر نتائج مختلف نکلے اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے دو نو بازؤں میں جو خلاءتھا وہ نا انصافیوں کی وجہ سے یوں مزید بڑھ گیا کہ اکثریتی پارٹی کوحکومت نہیں بنا نے دی اور ملک ٹوٹ گیا ؟اس کے بعد سے کسی نے یہ خطرہ مول نہیں لیا؟اور مرضی کے مطابق نتائج نکالتے رہے۔
اب یہ عالم ہے کہ زیادہ تر حلقوں میں ایک ہی خاندان حکمراں ہے جو ان کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ پہلے اگر دادا تھے تو اب پوتے یا پڑ پوتے ہیں۔ اسمبلی میں ہی نہیں بلکہ تمام عوامی عہدوں پر وہی قابض ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ووٹر کی بات سر آنکھو ں پر مگر پرنالہ وہیں گرتا ہے جہاں اسے گر نا چاہیئے؟
جن کے وفادار تین چار نسلوں سے چلے آرہے ہوں، ان کی پشتینی وفاداریاں ایک دن میں تبدیل نہیں ہو سکتیں ؟ شروعات یہاں سے ہوتی ہے کہ جو گدی نشینی کے طور پر رکن اسمبلی ہوتا ہے؟ پہلے تو و ہ اپنی مرضی سے حلقہ بندی کراتا ہے، وہ علاقے نکلوادیتا ہے جو کسی وجہ سے اس سے ناخوش ہوں ؟ پھر بات اور آگے بڑھتی ہے؟ الیکشن کا سارا عملہ دیہاتی علاقوں میں محکمہ تعلیم سے ہی آتا ہے جوکہ خاندانی وفاداروں پر مشتمل ہے پھر بھی ان کی پوری احتیاط سے چھان بین کے بعد انہیں ا س کارِ خیر کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جو کہ آگے چل کر نہ صرف ٹھپے لگانے میں مدد کرتے ہیں بلکہ اگر ان کی کمی پڑ جائے تو یہ خدمت وہ خود بھی انجام دیدیتے ہیں؟ پھر بھی کوئی غلطی سے غلط آفیسر آجائے اور مزاحم ہو تو وہ بلا امتیاز جنس و نسل تھپڑکھاتا یا کھاتی ہے؟ رہا شہروں کا معاملہ تو حلقہ بندی کے دوران، ان کے تکڑے کر کے دیہاتوں میں ضم کر لیتے ہیں۔ جو شہر بہت بڑے ہیں ؟ وہاں یہ کام ٹیچروں کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کے وفادار ملازمین کر تے ہیں۔
جو کچھ سن 2013 کے الیکشن میں ہوا وہ کوئی نئی بات نہ تھی ، ہمیشہ ہی سے ایسا ہو تا آیا تھا ، مگر اس مرتبہ مقابلے پر ناتجربہ کار نوجوان تھے۔ انہیں یہ بالکل تجربہ نہیں تھا کہ مقبولیت ہونے کے باوجود بغیر جھر لو کہ الیکشن نہیں جیتا جاسکتا ہے۔ وہ شاطروں کی بنی بنائی بساط پر کھیلنے آگئے ،مگر نتائج ان کے حق میں نہیں نکلے ؟ جبکہ شاید اصل شاطر وں نے حفظ ما تقدم کے طور پر یہ سو چا کہ چلو مل بانٹ کر حکومت کرو؟ مرکز اور سب سے بڑا صوبہ ہم لے لیتے ہیں“ ایک صوبہ ان کو بھی دیدو تاکہ یہ بھی منہ بند رکھیں ۔ مگر انہوں نے صوبہ تو لے لیا اور اسی کو بنیاد بنا کر اپنی تحریک وہیں سے شروع کردی جہاں پہلی دفع جھرلو روشناس ہوا تھا۔ انتہائی شدو مد کے ساتھ وہ جدوجہد کرنے لگے۔ شاید انہوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ لیا ہو اتھاکہ “ قناعت نہ کر عالم رنگ بو پر  زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں“ اب اسی صوبہ کے حکمراں اس بات پر مصر ہیں کہ الیکشن شفاف ہونے چاہئے ۔اس میں وزن یوں زیادہ ہے کہ جہاں سے جھرلو ایجاد ہوا وہی صوبہ واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے کہ ہم بھر پائے ؟ ان کی کوششیں کامیاب ہو تی نظر آرہی ہیں اور وہ جوڈیشل کمیشن بنوانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں ؟ شاید پاکستانیوں کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سن لی ہے۔ کہ ہر طرف سے ماحول ساز گار دیکھا ئی دے رہا ہے۔ آئیے ہم بھی منتظر رہتے ہیں اور آپ بھی منتظر رہیں کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہو تاہے۔ خدا کرے کہ جو کچھ ہو وہ ملک کے لیے اچھا ہی ہو؟ (آمین)

Posted in Uncategorized

عمران خان کا دورہ کراچی۔۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ہمارے یہاں کبھی پہلے کچھ جماعتیں تانگے والی جماعتیں بھی کہلاتی تھیں؟ اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ کچھ رہنما جیسے حضرت علامہ مشرقی مرحوم (رح) جو کہ اعلیٰ تعلیمیافتہ اور ایک بڑی پارٹی کے رہنما ہونے کے باوجود تانگہ کو سواری طور پر استعمال کرتے تھے ، دوسرے بعض پارٹیاں تھیں بھی اتنی چھوٹی کہ ان کے اراکین کی تعداد چار یا اس سے بھی کم ہوتی تو انہیں طنزیہ تانگہ پارٹی کہتے تھے۔ جبکہ اسوقت اکثریت اراکین اور وزاءکی کارنشین نہیں تھی ۔ اسی پاکستان میں ایسے وزیر بھی ہو گزرے ہیں جو وزیر ہوتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے ہوسٹل فریزر ہوسٹل کراچی میں رہتے تھے۔ جب وہ اپنی اس قیام گاہ سے باہر نکلتے تو نیچے فریادیوں کی لا ئن لگی ہوتی۔ پہلے وہ ان سے تحریری شکا یتیں وصول کرتے پھر سائیکل رکشا میں بیٹھ کر پہلے اپنا پرچم ہاتھ میں پکڑ لیتے اور رکشا ڈرائیور سے کہتے کہ چلو بیٹا! نہ ان کے آگے پائلٹ ہو تا موٹر سائیکل پر نہ پولس مبائل ہوتی نہ حفاظتی انتظامات جبکہ تھے وہ بھی وزیرداخلہ برائے مملکت؟ وہ بھی وزارت کر گئے اور نیک نامی کے ساتھ چلے گئے اور باقی زندگی کس حالت میں رہے جوکہ بہت بعد کی خبر سے ثابت  ہوتاہے کہ انہو ں نے اپنی گائے فروخت کر کے بیٹی کی شادی کی ان کا نام تھا جلال بابا۔ بعد میں ایسے وزیرِ داخلہ بھی رہے جن کی بد عنوانیوں کے چرچے روزانہ ٹی وی ٹاک شو میں رہتے ہیں؟
اس وقت ناہی ملک میں نو گو ایریاز کی بدعت روشناس ہوئی تھی، نہ ہی عوامی رہنما ؤں سے ملنے میں کوئی رکاوٹ تھی؟ آج بہت سے لوگوں کویہ باتیں الف لیلیٰ کی داستان نظر آئیں گی اورمیری بات کایقین نہیں کریں گے، سوائے ان کے  کہ جو جانتے ہیں  کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور نہ غلط لکھتا ہوں؟ باالکل اسی طرح جیسے کہ بہت سے پوتے یانواسے اپنے داد یانا کو پہلی جنگ عظیم سے پہلے کے بھاؤ بتاتے ہوئے سنتے ہیں، تو اگر وہ سعادتمند ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں اور دوسرے بہن بھائیوں کو آنکھ کے اشارے سے کہتے ہیں کہ دیکھا، دادا یا نا نا کھینچ رہے ہیں۔اگر منھ پھٹ ہیں تو منہ پرکہہ دیتے ہیں کہ دادا ابا ایسا نہیں ہوسکتا!
چونکہ اس وقت میڈیا تک ہر ایک کی پہونچ نہیں تھی حالانکہ مولانا ظفر علی خان (رح) مرحوم “کا پیسہ اخبار “ ملتا بھی ایک ہی پیسہ میں تھا۔دوسرے زیادہ تر اخباروں میں بازار کے بھاؤ شائع کرنے کا بھی رواج نہیں تھا ۔ اس لیے بزرگوں کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک ناقابل یقین بات کا بچوں کو یقین دلا سکیں۔ مگر ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں وہ اتنا پرانا نہیں ہے۔ ابھی دارالحکومت اسلام آباد منتقل نہیں ہو اتھا،پرانی سندھ اسمبلی میں ہی مرکزی پارلیمان نے مہاجروں کی طرح پنا ہ لے رکھی تھی، اسی سے ملحق تغلق ہاؤس تعمیر ہو چکا تھا جس میں وزرا ءکے دفاتر ہوا کرتے تھے۔اسکندر مرزا صدر تھے ، انہوں نے ایک صوفی منش آدمی کو وزیر بنادیا؟ جبکہ پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک لوہار کے بیٹے تھے۔ جس کا انکشاف بھی انہوں نے خود ہی کیا کہ جیسے ہی وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو انہوں نے جاءنماز بچھائی اور سجدہ کرنے سے پہلے انکشاف کیا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد، اسکندر مرزا کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ایک لوہار کے بیٹے کو وزیر بنا دیا۔ اب رہا ثبوت وہ یہ  ہےکہ اس دور کے اخباروں میں سے جنگ ابھی تک شائع ہورہا ہے اس کی سن57 اور58 ءکی فائیلوں میں ملاحظہ فرمالیں۔
آپ پوچھیں گے کہ آپ کو یہاں اس ذکر کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ تو جواب دو ہیں پہلی  بات تو یہ کہ جنہوں نے اپنے پیچھے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں وہ کہلانے کی حد تک ہی نہیں بلکہ واقعی   بڑےآدمی تھے اور ان کے کردار ہمیں آئینے میں اپنا منہ دیکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہیئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسی ہی ان ہونی کچھ دن پہلے پاکستان میں ہوگئی جو کہ ترقی یافتہ ملکوں میں تو عام ہے، اسی لئے وہ خبر نہیں بنتی؟ مگر پاکستان میں شاذ ہے ۔ چونکہ ہمارے یہاں ایسی بدعتیں رائج نہیں ہیں، ہمارے علماء منع کرتے ہیں کہ یورپ کی اچھائی بیان مت کرو، کہ ہم بھی کہیں ویسے ہی نہ ہو جائیں، اس لیئے ہم اس کی تفصیل نہیں بیان کرتےہیں البتہ جنہیں رب نے اپنے “ فضل“ سے نوازا ہے وہ گھومنے تو وہاں جاتے ہی رہتے ہیں ایک مرتبہ اسوقت بھی چلے جائیں جب وہاں انتخابا ت ہورہے ہوں اور خود دیکھ لیں کہ وہاں انتخاب کیسے ہوتے ہیں اور یہ کہ ہم نے جو جمہوریت ان سے لی ہے وہ کیسے چلاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم کیاظلم کر رہے ہیں ؟
۔ پچھلے دنوں ہوا یہ کہ ان دو لیڈروں میں  سےایک جن میں اسوقت تک شدید اختلافات تھے اور ایک حلقے میں جہاں ضمنی انتخابات ہونے والے تھے حریف تھے ان میں سے ایک نے یورپ کی اس بدعت کو نہ صرف اپنایا بلکہ انہیں بھی بہت پیچھے چھوڑدیا؟ یعنی اپنے گھر میں ان کے لیڈر کے استقبال کی تیاریاں کرنے کا اپنے کارکنوں کو حکم دیدیا، کہ وہ بجا ئے ڈنڈوں سڑے ٹماٹراور گندے انڈوں کے ان پرپھولو کی پتیاں نچھاور کریں؟ یہ بڑی حیرت انگیز تبدیلی تھی۔ ان کی  سابقہ افتاد طبع  کو جانتے ہوئے دوسرے رہنما اور ان کے کارکن بار بار منزل ِ یقیں  سے بھٹکتے رہے کہ کہیں تردید نہ آجائے ،غلط نہ سنا ہو، ٹی وی پر ہر وقت کان لگا ئے رہے۔ کیونکہ جس طرح مورخین میں ہما رے ہاں عام  طورپر اختلاف رہتا ہے اسی طرح پاکستانی لیڈروں میں بھی سوائے مشترکہ ذاتی مفادات کے اور کہیں اتفاق نہیں ہوتا۔ الزامات کے تیر ایک دوسرے پر چلتے رہتے ہیں ۔ ہر ایک ،ایک دوسرے کے عیب گناتا رہتاہے۔ جبکہ مدت سے دنیا بھر کے اور قسم قسم کے الزامات ان پر اور ان کی جماعت پر لگتے رہے تھے کہ انہوں نے نو گو ایریا بنا رکھے ہیں وہ، الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ،وہ ہمیشہ نہیں نہیں کرتے رہے حتیٰ کہ وہ عادت ِ ثانیہ بن گئی اور یہ عادت بعد میں وہ گل کھلاتی ہے کہ لوگ آنکھوں سے دیکھ کر بھی، بار بار آنکھیں ملتے ہیں کہ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں ۔اسی لیے اسلام نے اسکو گناہ ِ کبیرہ میں شامل کیا ہے۔
اسکی  ہم  ایک آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی مثال دیکر آگے بڑھتےہیں۔ ایک صاحب کی جھوٹ بولنے اور بات سے پھر جانا کثرت َ استعمال کی وجہ عادت ثانیہ بن گئی تھی، ایک وکیل نے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی وہ ان سے مختلف سوال کرتا رہا وہ ہر بات جواب میں کہتے رہے کہ غلط ہے؟ جب وکیل نے دیکھا کہ لوہا تپ چکا ہے تو اس نے ان کے بیٹے کانام لیکر پوچھ لیا کہ وہ آپکا بیٹا ہے یانہیں؟ اور وہ اسے بھی غلط کہہ گئے اور زندگی بھر کے لیے بیٹے کو خجالت کا شکار کر گئے؟
اس مرتبہ اسی جماعت کے لیڈر نے عملی مظاہرہ کرنے کی ٹھانی اور بدگمانی دور کرنے کی کوشش شروع کردی آدمی کرنا چاہے تو کیانہیں کرسکتا  ہے،  انہوں نے مخالف جماعت کے لیڈر عمران خان کو دعوت دیدی کے وہ وہاں آئیں اور ہمارے کارکن ان کا استقبال کریں گے؟ جبکہ اس سے پہلے ماحول بڑا تلخ تھا، نہ صرف دونوں غلط زبان استعمال کر رہے تھے ، بلکہ جوتم پھٹول کا سا ماحول تھا اورکارکنوں کے درمیان کبھی  کبھی لپا ڈپی بھی ہونا روزمرہ میں شامل ہو چکی تھی اور یہ ٹی وی پر ٹاک شو میں تو روزمرہ کی بات تھی۔ مگر انہوں نے اس مرتبہ یہ ثابت کیا وہ ایک منظم  جماعت کے لیڈر ہیں جو حکم دیں کارکن اسکے آگے سر جھکا دیتے ہیں؟ جو اس سے ثابت ہے کہ رہنما کے ایک حکم سے تمام صورت حال تبدیل ہو گئی ؟کہ الطاف بھائی نے انہیں حکم دیدیا ہے کہ جب عمران خان وہاں پہونچیں تو پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا ئیں ۔ یہ ہی نہیں بلکہ انہوں نے ان کی بیگم صاحبہ  کے لیے بھی، دو من پھول اور دو ہی لاکھ نوے ہزار کا سونے کا سیٹ پیش کرنے کاعندیہ دیا ، جبکہ عمران خان جناح میدان تک تو گئے جہاں انکی جماعت کے شہدا کی یادگاریں ہیں؟ اور وہاں ان کا استقبال بھی ہوا مخالف جماعت کے رہنما گلے بھی ملے۔ مگر نہ جانے کیوں وہ ٠90 انکے گھرتک نہیں گئے جہاں کہ بقیہ تقریب مکمل ہونا تھی بلکہ جلد بازی میں الٹا الزام میڈیا میں لگادیا ، یعنی میڈیا سے شکا یت کرڈالی کہ زیور نہیں ملا ؟جس کے جواب میں ان کی بیگم نے پتی ورتا (شوہر پرستی)کا اظہار کیا کہ مجھے خانصاحب جیسا شوہر مل گیا ہے ایک بیوی کو اچھا شوہر مل جائے کافی ہے اچھے شوہر سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔مگر الطاف بھائی نے جوکہا تھا وہ پورا کرنے کا حکم دیا بعد میں میڈیا پر خبر آگئی کہ اب جب ان کے پارلیمانی کارکن پارلیمان میں جا ئیں گے تو یہ ان کےگھر جاکر پیش کریں گے؟ اب ہم لگے ہاتھوں الطاف بھائی سے درخواست کریں گے کہ وہ عوام میں کس قدر مقبول ہیں جو انہوں ثابت بھی کردیا کہ قوم ان کے ایک حکم کی منتظر رہتی ہے تو ؟ وہ اس سے فائدہ اتھاتے ہو ئے اپنے کارکنوں کو حکم دیدیں کہ وہ توبہ کر کے آج سے پکے مسلمان بن جا ئیں تاکہ سب کی عاقبت بھی سدھر جا ئے اور تاریخ میں ان کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جا ئے اور اپنے بعد ایک ایسا صدقہ جاریہ چھوڑ جائیں کہ قیامت میں بھی ان کا پلڑا بھاری رہے اسی طرح ان کے ماننے والوں نے اگر ان کے حکم پراللہ اور رسول  (ص)کے احکامات کی تعمیل بھی کی تو سب کی دنیا بنی ہوئی تو ہے ہی ،عاقبت بھی سنور جائے گی۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Posted in Articles

آخرکار بڑی رکاوٹ بھی ہٹ گئی۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

اس پر مورخین میں ہمیشہ کی طرح شدید اختلاف ہے کہ ایک بڑے نے اپنی بڑائی دکھائی اور رضاکارنہ طور پر رکاوٹ خود ہٹادی یاکہ جب نادیدہ طاقت کے حکم پر کراچی میونسپل کارپوریشن کے بلڈوزر روانہ ہوئے اور خبر بام ودر تک پہونچی تو اجازت مل گئی؟ دونوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں بڑوں کی یہ روش ہوتی تو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہی کیوں ہوتیں ؟ کیونکہ ہم تو الحمد للہ مسلمان ہیں، ہمیں  حکم  یہ ہےکہ کوئی سڑک پر سے پتھر یا کانٹا ہٹادے تو اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے۔ جو جتنا بڑا دفتر یا آدمی ہو وہاں فائل آگے بڑھنے میں ذرا دیر لگتی ہے اسی لیے تاخیر ہوئی۔ دونوں فریقوں کی باتوں میں وزن ہے۔ اور یہ فیصلہ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عدالت میں بروز قیامت ہوسکے گا کہ جس نے رکاوٹیں سڑکوں پر کھڑی کیں وہ کس سزا کا مستحق  ہےاور جس نے ہٹائیں وہ کس جزا مستحق ہے؟ کیونکہ نیتوں کا حال تو صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی جانتے ہے۔
ویسے اگر تاریخ کا مطالعہ کریں توچونکہ ہر جگہ بڑا مثالی رکھتا ہے اس لیے اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ لوگ اس کا اتباع کرتے ہیں؟ جیسی جو طرح ڈالتا ہے وہ بطور گناہ  یاثواب اس کے کھاتے میں قیامت تک لکھی جاتی رہے گی ۔ اس میں صرف انساں کی تخصیص ہی نہیں بلکہ انسان کے اپنے بنائے ہو ئے بتوں میں بھی بڑے بت کا ٹوٹنے میں نمبر بعد میں آتا ہے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں دیکھئے کہ انہوں نے سب چھوٹے بت توڑدالے اور بڑ ا رہنے دیا؟ تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ بڑائی صرف اللہ کے لیئے ہے دوسرے یہ کہ پوجنے والے شرمندہ ہوں کہ وہ کسے پوج رہے تھے، اس میں سبق ہے اگر اپنے ہاتھ سے بت بناکر پوجنے بھی لگو تو ایک دن وہ فنا ہو جائیں گے اور پوجنے والوں کو پچھتاوا اٹھانا پڑے گا۔ تیسرے یہ کہ اگر بڑا بت واقعی بڑا ہو تا، تو پہلے تو اپنے چھوٹے ساتھیوں کو ٹوٹنے ہی نہیں دیتا اوربچال لیتا، چوتھے یہ کہ یہ تم نے کیاڈھکوسلے بنا رکھے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جو واحد اور قابل عبادت ہے اس کو چھوڑ کر کبھی اس کو پوجنے لگتے ہو کبھی اس کو پوجنے لگتے ہو کہ یہ ہمیں بچا لے گا یا وہ ہمیں بچالے گااسلام میں یہ شرک ہے اورناقابل ِمعافی جرم بھی کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ میں شرک کبھی معاف نہیں کرونگا؟ مگر افسوس یہ کہ اگر اسکے مجرم آپ تلاش کریں تو آپ کو سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہی ملیں گے۔چلیں پاکستانی تاریخ سے ایک واقعہ اور بیان کرکے بات کو ختم کرتے ہیں تاکہ ہم جیسے عبرت حاصل کرنے والے عبرت پکڑیں۔
جب بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے ، توانہیں ایک پیر صاحب کے علاقہ میں دورہ کرنا تھا جن کی گدی سندھ میں سب سے بڑی ہے اور لاکھوں مرید ان کو اس لیے نذرانہ دیتے ہیں کہ اگر کہیں وہ پھنس جا ئیں تو ان کانام ان کی چھٹی یاان کا فون انہیں بچالے؟ چونکہ بھٹو صاحب اپنے پہلے الیکشن میں بڑے بڑے پرانے سیاسی بتوں کو توڑ کر کامیاب ہو ئے تھے اور ان کی مقبولیت کا گراف اتنا اوپر چلا گیا تھا کہ اگر انہوں نے اس الیکشن میں کسی کھمبے کو ٹکٹ دیدیا تو وہ بھی کامیاب ہو گیا ۔ انہوں نے ان پیر صاحب کا غرور توڑنے کے لیئے اپنا ہیلی کاپٹرڈیڑھ گھنٹے جان کر لیٹ کر دیا ،سخت گرمی میں وہ دھوپ میں کھڑے رہے جب بھٹو صاحب ہیلی کاپٹر سے اترے اور پیر صاحب پیشوائی کو آگے بڑھے ،تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ کیا ابھی بھی تمہارے مرید تمہیں اتنا ہی مانتے ہیں؟ پیر صاحب بے بس تھے خاموشی سے سنا جواب نہ دے سکے۔
انہیں تو بھٹو صاحب نے نصیحت کی! مگر خود تھوڑے ہی دنوں بعد بھول گئے اور عوام کو چھوڑ کر خود اسی راستہ پر چل پڑے ۔ پھر کیا ہوا وہی جو ہمیشہ سے ہو تا آیا ہے۔ اس کے بعد ان کے وارثوں نے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑی؟ کئی دفعہ کرسی چھنی ،کئی دفعہ پھرسے ملی؟وہ بجائے عوام سے قریب تر ہونے کے دور ہوتے چلے گئے۔
آخر میں نوبت یہاں تک پہونچی کہ عوام کا اپنے محل کے قریب سے انہیں گزرنا بھی شاید اگوارا نہ تھا۔اسی لیے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک بھی ان پر بند کر دی۔ جو سات سال تک بند رہی۔ تاکہ وہ اور ان کے ساتھی دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رہیں ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے اندر ان کے علاوہ چالیس ساتھیوں کے گھر اور بھی تھے ویسے یہ تعداد تاریخ اور ادب میں بھی بہت ہی اہم ہے۔  چونکہ اپنے مسلمان بھائیوں کے سلسلہ میں خوش گمانی کاحکم ہے ،ہمارے خیال میں غالباً یہ تعداد انہوں نے اس لیے رکھی کہ ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ سونے سے پہل پتہ کر لے کہ چالیس گھرتک کوئی ہمسایہ بھوکا نہ ہو اور اس پر کھانا حرام ہو جائے؟ لہذا اس معاملہ میں وہ یہ تعداد پوری کرکے خود کفیل ہوگئے، کہ کم ازکم حقوق ہمسایئگی کے گناہ سے تو بچے رہیں گے کیونکہ اس کی بڑی تاکید ہے۔
یہاں وہ عوام کو اس حدتک بھول گئے کہ جن کے گھر ان محلات شاہی کے دوسری طرف ہیں انہیں متبادل راستہ اختیار کر کے اپنے گھر پہونچنے میں کتنی دیر لگے گی ؟ کیونکہ یہ عوام کا مسئلہ تھا ان کا نہیں۔ اور عوام کے مسائل کے بارے میں جبکہ سوچنے کا وہاں رواج شروع ہی سے نہیں تھا۔
ایک ان ہی کی بات کیا ؟ وہاں تو ہر ایک کو اپنی حفاظت خود کرنا ہوتی ہے ۔ حکومت اور اس کے ادارے ہیں توسہی مگر اُس کام کے لیے نہیں جس کی وہ تنخواہ لیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر چھوٹے بڑے نے اپنے گرد حصار بنا رکھے تھے “ نو گو ایریا “موجود تھے۔ کچھ تو ایسے تھے جہاں پرندہ تک پر نہیں مارسکتا تھا اور اس طرح یہ تعداد ہزاروں میں جاپہونچی ؟ کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا اور دین امراء کاچلتا ہے۔ شہر کی اکثر گلیاں بند ہوگئیں ۔ جا بجا رکاوٹیں کھڑی کر کردی گئیں چوکیداروں کی روزی لگی ہوئی تھی۔ کیونکہ بچوں تک نے ڈکیتی جیسا معزز پیشہ شغل کے طور پر اختیار کر لیاتھا۔ جو بڑے تھے انہوں نے بطور پیشہ بھتہ برائے تاوان اور جو بہت بڑے تھے ان کے لیے اور بھی بڑامیدان تھا۔
نتیجہ ہوا کہ وہ کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، وہاں جاتے ہوئے لوگ گھبرانے لگے۔ ایسے میں تجار اور سیاح وہاں کیا آتے۔ انصاف کا یہ عالم تھا۔ کہ ان لوگو کے خلاف جو کئی عشروں سے کسی نہ کسی طرح حکومتوں میں شامل تھے ، جو کوئی آواز اٹھاتا وہ مارا جاتا ۔ اول تو اسکی رپوٹ کہیں درج نہیں ہوتی تھی اورا گر ہوبھی جاتی تو گواہ منحرف ہوجاتے ، نہیں ہوتے تومارے جاتے، وکیل مارے جاتے، منصفوں کو دھمکیا ں ملتیں وہ مقدمہ چلانے سے انکار کردیتے ۔یاملک سے باہر، لمبی چھٹی پر چلے جاتے، پھر مدعا علیہ خوشیاں مناتے کہ ہم باعزت بری ہوگئے ؟ جو اخبار نویس یامیڈیا سے متعلق شخص حقائق عوام کے سامنے لانے کی ہمت کرتا تو پھر زندہ نہیں رہتا۔ چونکہ سب کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ تھے،اس لیے کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔صنعتیں کراچی سے منتقل ہونے لگیں بے روزگاری بڑھتی گئی۔ہر ایک نے اب ضرورتاً رائفل اٹھالی۔ سدھار کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ مجھ سے ناشکرے کہہ رہے تھے، یہ عذاب جب ہی ٹلے گا جبکہ لوگ اجتماعی توبہ کرلیں۔ جبکہ وہاں لوگ برائی کو برا جاننے کے عادی ہی نہیں رہے تھے۔ لہذا مید کی کوئی کرن دکھا ئی نہیں دے رہی تھی۔
لیکن جو وہاں پر بچے ہوئے اللہ والے تھے وہ پوشیدہ طور پر دعائیں مانگ رہے تھے چونکہ وہ ان کی ضرور سنتا ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سن لی اور پوشیدہ طور پر قیادت کچھ ایسے لوگوں کو دیدی جنہیں پیسہ عزیز نہیں تھا۔ ایمان اور ملک عزیز تھا۔ جبکہ ہماری قیادت دہشت گردوں سے مذاکرات کے حق میں تھی اور مصروف بھی تھی۔ انہیں پورا موقعہ دیاگیا کہ وہ اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو وہ سایے حرکت میں آگئے اورپہلے تو جرائم پیشہ لوگوں کی اس جنت کو ختم کیا جو تاسیس پاکستان سے بھی پہلے سے چلی آرہی تھی۔ پھر ان سایوں کے حوصلے اور بڑھے اور انہوں نے کراچی جو کہ پاکستان کی شہ رگ تھا۔ اس کو جرائم سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے حوصلے کی داد دینا پڑےگی کہ انہوں نے بہت ہی ٹھنڈے مزاج سے کام لیا اور جب دیکھا کہ وہ اس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں کہ سارے بت توڑسکیں تو انہوں نے بلا امتیاز جرائم پیشہ لوگوں کی پناہ گاہوں پر چھاپے مارنے شروع کردیے اور جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ پوری طرح حالات پر قابو پاچکے ہیں؟ تو انہوں نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔ کچھ نے تو وقت کی رفتار بدلتے دیکھ کر خودہی ہٹا لیے۔ صرف ایک بچا تھا جو سب سے بڑا تھا۔ اور جس کو اپنی سیاسی مہارت مقنا طیسی شخصیت پر یقین تھا اس نے روش نہیں بدلی۔ حتیٰ کہ تنگ آکر سایوں نے بلڈوزر ڈویژن کی کمان سنبھال لی تو غلط فہمی کچھ دور ہوئی اور وہ سڑک جو سات سال سے بند تھی بند کرنے والوں نے  بقول انکےخود ہی کھولدی۔ اسی کو کہتے ہیں کہ“ جادو وہ جو سرپر چڑھ کر بولے“
آئیے دعاکریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سایوں کومزید توفیق عطا فرمائے (آمین)

Posted in Articles | Tagged ,

مسلمانوں کو صرف مظلوم کی حمایت کاحکم ہے۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ ہم ظالموں کا نہیں مظلوموں کا ساتھ دیں۔ سورہ جاثیہ کی آیت نمبر 19میں دونوں کا فرق یہ فرماکر واضح کردیاگیا ہے کہ “ظالم، ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ آپس میں دوست ہیں اور اللہ مومنوں کا ولی ہے؟ جبکہ ظلم کیا ہے؟ اسی کتاب ِمقدس میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے حقوق کو جھٹلانا ، غصب کرنا یا ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ ان میں سب سے بڑ ا ظلم اللہ سبحانہ کے حقوق کی عدم ادا ئے گی اورٹال مٹول حیلے بہانے اور ہیر پھیر ہے۔ جبکہ اللہ کے حقوق بندے پر کیا ہیں؟ اسکی عبادت کرنا۔ اور عبادت کیا ہے اس کے دیئے ہوئے ضابطہ حیات پر اپنے مقدور بھر عمل کرنا۔ اس دائرے میں رہتے ہوئے بندہ جو کچھ بھی کرے گا وہ عبادت ہے اور اس کا ثواب ہے۔ اگر وہ کسی کی طرف مسکراکر دیکھے تو وہ بھی عبادت ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صرف مسلمان بھائی کی طرف دیکھنا ہی صدقہ ہے جیساکہ حضور (ص)کا ارشاد گرامی ہے۔ مگر میرے خیال میں وہ رحمت عالم (ص) کے اسوہ حسنہ (ص) کو اپناتے ہوئے اگر غیر مسلم کی طرف بھی مسکراکر دیکھے تو بھی ثواب کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اس کے اخلاق سے غیرمسلم متاثر ہوگا۔ اور اس طرح اس کا یہ فعل اللہ کے دین کی سربلندی اور پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی بد اخلاقی سے پیش آئے گا تو وہ گناہ کا مستحق ہوگا۔ اس لیے کہ وہ اپنے آقا محمد مصطفیٰ (ص) کا حق ِ نمائندگی ادا نہیں کرسکا جن (ص) کے خلق عظیم کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خودتعریف فرمائی ہے۔اور حضور (ص) کااپنے بارے میں ارشاد گرامی ہے کہ میں (ص) مکرم الاخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اگر بندہ اسوہ حسنہ (ص) پر عامل ہے اور پھر پنج وقتہ نمازی بھی ہے تو “ نور اً علیٰ نور “ کے مصداق ہے۔ چونکہ اس کی ایک نماز دوسری نماز تک کفالت کرتی ہے، لہذا اسکی مثال ہادی ِبرحق (ص) نے فرما ئی کہ “ جس کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور وہ پانچوں وقت نہائے تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہ سکتی ہے “ صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کہ نہیں؟ تب ارشاد فرمایا کہ “ یہ ہی حال اس نمازی کا ہے جو پانچ وقت نماز پڑھے “ کیونکہ ححدیث ہے کہ “ ایک نمازدوسری نماز تک کفایت کرتی ہے۔ جبکہ دوسری احادیث میں ہے کہ نماز جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان کے روزے دوسرے رمضان تک اور ایک عید دوسری عیدتک کفایت کرتی ہے اس دوران اگر بندے سے کوئی گناہ کبیرہ بھی سرزد ہوجائے اور وہ فوراً توبہ کر لے اور وضوع کرکے دورکعات نفل اداکر لے تو وہ ایسا ہو جائے گا۔ جیسا کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ بھولے سے غلطی ہوجانا بشریت ہے اور حضور (ص)) کے ارشاد کے مطابق میری امت کی بھول چوک معاف ہے۔ بندہ جو اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کریگا اس کے بدلے میں وہ وہاں کم ازکم ایک کے بدلے میں دس نیکیوں کی وجہ سے گناہوںوالے پلڑے کو پہلے ہی دابے ہوئے ہوگا۔ جب کہ نیکی کا ثواب سات سو گناہ تک بلکہ اور بھی زیادہ کا ذکر قرآن میں فرمایا گیاہے یعنی اجر بے حساب بھی ہوسکتا ہے، جس کا دار و مدار بندے کے خلوص اورنیت پر ہے۔ جو اپنے ہاتھ سے دے جائے گا وہ تو ہے ہی اسکا، اس کے علاوہ جو یہاں چھوڑ جائے گا وہ بھی صدقہ جاریہ ہوگا۔ جیسے نیک اولاد ؟
اس کے برعکس خدا اور بندوں کے حقوق کو تج دینا غلطی پر بضد ہونا اور ڈتے رہنا ظلم ہے؟
جنہوں نے دین خدا کو تج دیا ہو صرف اپنے غلط مفاد کے لیے دین کانام استعمال کرتے ہوں، بولتے جھوٹ ہوں ، کمائی حرام کی ہو، وہ اگر دن و رات سجدے میں پڑے رہیں۔ گلی گلی وعظ فرماتے پھریں۔ گناہِ ِجاریہ کے عذاب کے قیامت تک مستحق ہونگے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مال حرام سے کچھ بھی قبول نہیں فرماتا لہذا وہ جو راہ خدا میں دے کر جائیں گے وہ بھی رائیگاں جا ئے گااور جو اپنے پیچھے چھوڑ جا ئیں گے۔ وہ بھی جہنم میں لے جانے کا باعث ہوگا۔ چونکہ حضور (ص) نے فرمایا کہ “ ہر عمل کا نتیجہ نیت اور اس سے مرتب ہونے والے نتائج پر ہوتا ہے“۔ جسکی مثال حضرت (ع) آدم کے اس صاحبزادے جیسی ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کرکے پہلی دفعہ دوسروں کو اس برائی کی راہ دکھائی لہذ آئندہ جتنے بھی قتل قیامت تک ہونگے وہ اس میں ان کا حصہ دار ہوگا۔
اس تمہید کے بعد آئیے ہم اپنے چاروں طرف دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے؟ ہم چند ووٹوں یا نوٹوں کے لیئے اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں اور جانتے ہوئے ظالموں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتائج لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ ایسی ہی چند عشروں پہلے پاکستان حکمرانوں نے ایک غلطی کی کہ سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے دلدل میں پھنس گئے جس سے نکلنے کے لیے ابھی تک ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نکل نہیں پائے، یہ اسوقت کی ہماری غلط خارجہ پالیسی کانتیجہ تھا۔ اب داخلی پالیسی کے نتائج پر نظر ڈالیے۔ اس میں بھی ہم نے چند ووٹوں کے لیے اسلام کو ایک طرف اٹھا کر رکھدیا اور انصاف جیسا اہم فرض چھوڑ دیاکہ “ یہ اس کا بندہ ہے وہ اس کابندہ ہےہاتھ ڈالیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جرائم پیشہ لوگ پورے ملک میں دنداتے پھرے ،ہرقسم کاظلم ، قتل اور غارت گری کرتے رہے؟ مگر کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکا ؟  جبکہ یہ سب جانتے ہیں کون کیا کر رہا مگر کسی ظالم کا آج تک کچھ نہیں بگڑا؟ گوکہ اس روش کی دنیا میں بھی بے انتہا مثالیں ہیں ۔ مگر وہاں ابھی تک کچھ ملکوں میں عدل و انصاف بھی موجودہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ بالکل مفقود ہے؟ ہمیں حکم یہ ہے کہ ہم ظالم کا ساتھ نہ دیں مظلوم کے ساتھی بنیں ، مگر ہم کرتے اس کا الٹ ہیں ۔
جب پہلی غلطی پاکستان نے کی وہ وقت کچھ اور تھا ، لیکن آج یہ و قت اور ہے۔ اِسمرتبہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت پاکستان کو سو دفعہ سوچنا چایئے کیونکہ ہم پھر اوروں کی جنگ میں فریق بننے جارہے ہیں، جبکہ یہ کلیہ ہی غیر اسلامی ہے کہ دوست کا دشمن دشمن اور دشمن کا دشمن دوست، کیونکہ اسلام میں ظالم کا دوستی میں کوئی ساتھ دے تو وہ بھی ظالم ہے۔جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ دونوں ہی حق پر نہیں ہیں نہ وہ جو بے گناہ لوگوں کی گردنیں مار رہے ہیں۔ نہ سعودی حکمراں، پہلے تو سرے سے اسلام میں بادشاہت ہے ہی نہیں؟ پھر اگر عرب کے قبائیلی نظام کے مطابق جس کی اسلام نے نفی کردی تھی۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ قبائل کے سردار اپنے اپنے علاقے یں بادشاہوں جیسے اختیار رکھتے تھے۔ تو بھی حضور (ص)  نےعرب میں حکمرانی کا حق قریش کو یہ فرماکر دیاتھا کہ عرب کسی اور کی قیادت پر متفق نہیں ہونگے ؟ اسی حدیث کو حضرت عمر (رض) سے سن کر انصار (رض) اپنے حق ِ خلافت دستبردار ہوگئے تھے۔ جبکہ ان کی قبر بانیاں اسلام کے لیے بے حساب تھیں۔
جبکہ اس کے برعکس نجدیوں کی پیغمبر ِ اسلام (ص) اور اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں بے مثال تھیں جو تاریخ میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کسی نجدی قبیلے نے حجاز (مکہ مدینہ) پر زمانہ جہالیہ میں بھی حکومت نہیں کی؟ سعودی کیسے قابض ہو ئے اور اس کار خیر میں ان کی کس نے مدد کی کس نے مکر فریب سے قابض کرایا وہ ہم سب جانتے ہیں ۔ پھر بھی اگر ہم انہیں جائز حکمراں مانتے ہیں کہ انہوں نے ایک علاقے پر جارحیت کے نتیجے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تواس کلیہ کو تسلیم کرنے کے بعد دنیا میں جہاں بھی غاصبانہ قبضے ہیں انہیں بھی ماننا پڑیگا ، پھر ہم کس منہ سے کشمیر یا فلسطین کی بات کرسکتے ہیں؟
پاکستان کے سامنے تین راستے ہیں راستے ہیں۔ایک خود صدر ِ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے  اپنے بیان میں دیا ہے کہً پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیئے “ جوکہ عین اسلامی ہے اس لیے یہ  نص ِقر آنی ہے کہ جب دومسلمان لڑ پڑیں تو ان میں کوشش کر کے صلح کرادی جائے۔نہ مانیں تو جو ظالم ہو اس کے خلاف لڑیں۔ یہ تھے اس سلسلہ میں اسلامی احکامات۔ اگر ان میں سے کوئی صورت نہ بنے؟ تو پھرغیر جانبدار ہوجائے میں ہی عافیت ہے،انہیں اپنی جنگ خود لڑنے دیں۔ نہ کہ یہ پہلے کی طرح خود اس جنگ میں کود پڑیں جو کہ ہماری نہیں ہے ۔ پھر قابل ِ مذمت دونوں ہی ہیں وہ بھی جو انہیں کے برانڈکا اسلام ان کے ہی خلاف استعمال کر رہے ہیں اور ظالم وہ بھی ہیں جوکہ دوسروں کے علاقوں پر جارحانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو عقل دے اور وہ اپنے اس ملک سے وابستہ مفادات کو نہ دیکھیں؟ بلکہ اپنے ملک کے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں ۔ اگر اس مرتبہ بھی وہی غلطی دہرائی تو پہلے کی طرح جنگ دوبارہ ہمارے ملک میں گھس آئیگی اور اس مرتبہ خدشہ ہے کہ کہیں وہ ہر گلی کوچے میں نہ لڑی جا ئے؟ ہاں! حکومت کا یہ کہنا درست
ہے اور اس پر پوری قوم اس کے ساتھ بھی ہوگی کہ اگر کسی نے حرمین شریفین کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھا تو بلا امتیاز مذہب اور ملت پوری قوم حکومت کی پشت پناہی کریگی؟
آجکل اللہ سبحانہ تعالیٰ نے موجودہ حکومت کو ایسی پوزیشن دی ہوئی کہ وہ قومی اسمبلی سے ہر قانون پاس کراسکتی ہے ۔ رہی سینٹ اگر حکومت نے اسکی اسکرینگ شروع کردی تو بہت تھوڑے ممبر بچیں گے جو باقی رہیں؟ لیکن تاریخ میں ان تمام لوگوں کے نام سنہری لفظوں سے لکھے جائیں گے۔ جو پاکستان میں بلا لحاظ سب کو انصاف فراہم کرکے امن وامان بحال کریں گے؟ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کارخیر میں ان کی مدد بھی فرمائے گا۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ “جو میری طرف ا یک قدم بڑھے میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں“

Posted in Articles | Tagged ,

کندہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے ایک دوست جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں بہت ہی پتے کی بات کہتے تھے کہ “ عیبیوں “ کی دوستی بڑی پائیدار ہوتی ہے ۔اب سے پہلے ہمیں اس پر اتنا یقین نہیں تھا۔ اب ہم اس کے سوفیصد نہیں بلکہ ایک سو ایک فیصد قائل چکے ہیں ۔ اورقائل ہمیں ان چند دنوں نے کر دیا جو ابھی گزرے ہیں ؟ یہ پہیلی ہے جس کو ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں؟ اتا پتا اتنا بتادیتے ہیں کہ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہتے ہیں وہاں کی پارلیمان میں ایک بل خود چرچل نے پیش کیا اور سب اس پر متفق ہوگئے۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ جمہوریت کے  “حسن “کے خلاف ہے،اپنا ووٹ اسکے خلا دیکر انہوں نے بقول ان کے جمہوریت کو بچا لیا؟ جبکہ ہمارے یہا ں باہمی مک مکاؤ جمہوریت کا “حسن “ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی عجیب آدمی تھے؟ عجیب عجیب باتیں کہا کرتے تھے۔ مثلا ً یہ کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح کام کرتی رہی ہیں تو ہم جرمن کو شکست دیدینگے؟  جبکہ ہمارے یہاں چلن یہ ہے کہ شکست ہتھکنڈوں سے دی جاتی ہے۔ پتہ نہیں اور کتنی باتیں انہوں نے ایسی ہی کہی ہونگی؟ مگر ہم ان میں سے صرف تین مندرجہ ذیل باتوں پر تبصرہ کرنے پر اکتفا کررہے ہیں جو بہت ہی مشہور ہیں ۔
ممکن ہے کہ پاکستان کی نئی نسل شاید انہیں نہ جانتی ہو اس لیے ہم تعارف کراتے چلیں کہ چرچل تھے کون ؟کیونکہ وہاں اب کتابیں اور علم پڑھنے پڑھانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہےرہیں ڈگریاں وہ ویسی ہی مل جائیں تو انہیں اس تکلف کی ضرورت کیا ہے ؟
ہاں !تو  چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران بر طانیہ کے وزیر اعظم اور برطانوی قوم کے ہیروتھے ۔ انکا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جرمن نسل پرستی کے طوفان سے نہ صرف اپنے ملک برطانیہ کو بچا یا بلکہ یورپ اور اسکا دائرہ اور وسیع کردیں تو انہوں نے پوری دنیا کو بچا یا۔ کرنے والا تو خدا ہے مگر یہ اس کی سنت  ہے جسے وہ تبدیل نہیں کرتاکہ وہ خود لڑنے کہیں نہیں جاتا؟ لہذاکسی برائی کے توڑ کے لیے اپنی مخلوق سے ہی کام لیتا ہے۔ کبھی پرند ے بھیجدیتا ہے ،کبھی ہوا ،کبھی پتھر، کبھی ایک چنگھاڑ یا پھر اسکے لیے کوئی مرد ِ بالغ نظرپیدا کر دیتا ہے؟ جس کے لیے صاحب ایمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ جیسے کہ فلسطین کی تباہی لیے بابل نینوا سے ایک انتہا ئی ظالم بادشاہ، یا پھرمسلمانوں کے لیے چنگیز اور ہلاکو ؟
یہاں اس نے ہٹلرکی نسلی برتری کے غرور کو توڑ نے کے لیے چرچل کو پیدا تو پہلے ہی اپنی مشیت کے مطابق کر رکھا تھا ۔ مگر ظاہر جب ہوا جب دنیا کے اس کڑے وقت میں وہ اسے اقتدار عطا فرماکر سامنے لایا، ورنہ دنیا اِس وقت ہٹلر کی نسل پرستی کے بوٹوںکے نیچے دبی تڑپ رہی ہوتی؟اس کی خوبی غالباً جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند آئی  وہ یہ تھی اور جو کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی کہ اسکی نگاہوں میں عدلیہ بہت اہم تھی۔ اسی وجہ سے اس نے جتنا فخر اور اعتماد اپنی عدالتوں پر کیا اور کسی خوبی پر نہیں کیا؟ جبکہ چرچل کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں تھیں مثلاً وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا لہذا قوم اور دنیا اسکی بات پر یقین کرتی تھی۔ جبکہ ہٹلر اسکا الٹ تھا کہ اس کے وزیر گوبل کا فلسفہ یہ تھا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ جھوٹ نے شکست کھائی۔ ہٹلرکی شکست اور اس تجربے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ آج ہم اور کئی جماعتیں اسی کے فلسفہ پر عامل ہیں ۔
چونکہ اب خوبیاں ہم میں کم پائی جاتی ہیں بلکہ نایاب ہیں۔ اسلیے ہم نے اپنے علماءکو ٹی وی پر یہ فرماتے بارہا سنا کہ ان کی ا چھائی مت بیان کرو؟ کیونکہ وہ ہماری طرح صاحب ایمان نہیں ہیں ؟ اب آپ پو چھیں گے کہ پھر تم کیوں بیان کر رہے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں اسکے باوجود کے وہ دانا وبینا ہے نصاری ٰکی اچھائیوں کا ذکر فرمایاہے اور اپنی مقدس کتاب قرآن میں جوکچھ فرمایا۔ ہمیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے؟  جبکہ ان کی  اچھائیوں کی عملی مثالیں بھی سامنے ہیں۔ مثلا ہر مشکل وقت میں ان کی جیبیں دنیا کے لیے کھلی رہتی ہیں، جبکہ ہم اس میں سے بھی اپنی جیبیں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں؟ جیسے کہ ان کی کمائی میں ہمارا حصہ ہے؟ دوسرے یہ کہ قرآن کی ایک صفت انسانیت کے  لیےباعث شفا ہونا ہے،  یہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ با الفاظ دگر جو بھی اسکی باتوں کو اپنا ئے گا وہ اس سے دنیامیں ضرور فائدہ اٹھا ئے گا، جبکہ صاحب ِ ایمان ہوتو دونوں جگہ اسکا حصہ ہے ۔ اور جو نہیں عمل کرے گا اپنا نقصان  خودکریگا۔ جبکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہمارے ذمہ سب کارزق ہے۔ مگر ہم پرندوں کو بھی گھونسلوں میں نہیں دیتے جب تک  کہ وہ اسکی تلاش میں اپنے گھونسلوں سے باہر نہ نکلیں؟
گوکہ اب ہمارے یہاں بھی کچھ نیئے مخیر پیدا ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے دستر خوان بھی کھولدیئے ہیں مگر وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتح والی بات ہے۔ رہی اللہ کی طرف سے دلانے والی بات تو بل گیٹ کو دیکھئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے سمجھ عطا فرمائی اور وہ ایک سافٹ ویر کی بدولت بے انتہا دولت کا مالک بن گیا اب وہ اس میں سے خرچ کر کے دنیا میں بہت سے رفاعی کام کر رہاہے ، ہمارے یہاں پولیو کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور ہم اس میں روڑے اٹکا کارہے ہیں کیونکہ چلتے کام میں روڑے اٹکانا ہمارا کام ہے ؟ جو یہ کار خیر انجام دے رہے ہیں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس پر انہیں ثواب جنت کی شکل میں ملے گا ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے تو کسی کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جب اتباع کرتے ہیں تو کردار نہیں دیکھتے بلکہ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ نہ جمہوریت کی جڑ کی طرف دیکھتے ہیں ، نہ دینِ اور اپنے رسول(ص) کا  اسوہ حسنہ یادرہتا ہے، جس پر عمل قرآن میں لازمی قرار دیا ہے اسکی جگہ مفاد پرستی لے لیتی ہے۔  ان خود اختیار کردہ خامیوں کی بنا پر ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے نہ اپنے نہ پرائے؟ ا نفرادی کردار جو ہے وہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔ جبکہ ایک آدھ معاملہ میڈیا اچھال دے تو باقی دنیا بھی جان لیتی ہے۔ جن کے ہاتھوں رہنمائی ہے وہ پہلے تو تردید کرتے رہتے ہیں ، پھرعدالتی فیصلوں کو نئے ہتھکنڈوں سے ٹالتے رہتے ہیں ایک دو دن نہیں بلکہ برسوں؟ جبکہ سچ اتنا بولتے ہیں کہ کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے؟ جیسے حالیہ مصالحتی پالیسی ، جس  کاخالق کوئی اور ہے؟ اس نے کان میں  شاید یہ کہدیا کہ اگر تم اسی طرح ان مختلف گروہوں کہ ناز اور نخرے اٹھاتے رہے اور ان کے عیب چھپاتے رہے ،تو ہمیں تم کو بھی برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومت فوراًمصالحتی پالیسی پر اتر آئی اور سینٹ کی سب سے اہم سیٹ اکثریتی پارٹی کو دینا تو بر بنائے مجبوری تھا ہی، جوکہ تمام ہم جنس پرندے ساتھ اڑانے کے لیے لازمی بھی ،مگر دوسری سیٹ بھی غیر ملکی حکم پر دینی پڑی وہ بھی ان کو جو کبھی کسی کے نہیں ہوئے ؟ کیوں اس کیوں کو آپ خود بوجھیئے؟
انہیں انتخابات کے دوران ایک حلیف پارٹی کے دفتر پر چھاپہ بھی پڑگیا ۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ووٹ اپنے جگہ سے نہیں ہلے ، نتیجہ وہی کا وہی رہا؟ اس کی طرف سے سوگ اعلان ہوا مگر دوسرے دن نہیں ہوا، بلکہ ایک اچھی شہرت رکھنے والے پولس آفیسر کا بیان ہماری نظر سے گزرا کہ جلد ہی ہم ہڑتالوں پر بھی قابو پالیں گے ؟  اتنا اعتمادکیوں کیسے پیدا ہوا؟ بھائی کچھ اپنی عقل بھی دوڑائیے ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آ گیا ہو اور ہمارے یہاں بھی وہ پردہ غیب سے نجات دہندہ بھیج دے؟ ورنہ چالیس سال سے ان کے اعمالوں پر جوپردہ پڑا ہوا تھا؟ جب بھی اٹھنے کو ہوا، یکایک پھر رک گیا؟ اخبار نویویسوں میں سے جس نے ہمت کی وہ مارا گیا ، اگر قاتل کوسزا بھی ہوگئی تو وہ بھی  بآسانی فرارہوکر شجر سایہ دار کے گھنے سایہ میں جا چھپا ،جہاں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اب وہی درخت خود فریادی ہے۔  اس کے نمائندہ کا بیان ہے کہ صوبائی کیپٹن کہہ رہا ہے کہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جبکہ وز یر داخلہ کہہ رہے ہیں ۔ نہیں ہم نے اعتماد میں لیا تھا۔ اب ان میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ،فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اگر رینجرز کی یہ اتھاریٹی بحال ہو گئی کہ وہ مخبری پر بڑے سے بڑے پر ہاتھ ڈالدے، تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں ۔ اب خربوزے دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑے گا، پولس میں بھی جرا ءت واپس آجا ئیگی اوردوسری نوکر شاہی میں بھی؟ جو ملزمان پکڑے گئے ہیں ان کے بیانات کی روشنی میں نہ جانے کیسے کیسے پردہ نشین سامنے آئیں گے اللہ جانتا ہے۔ ع  “ کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے “۔اس سے پہلے تو انہیں اوپر سے اجازت لینا پڑتی تھی جو نہیں ملتی تھی، خلاف ورزی پر انہیں اپنی تنزلی ،معطل ہونے اور برخاست ہونے کا ڈر رہتا تھا۔ اگر آئندہ ان کے عہدوں کو تحفظ ملا تو انشا اللہ پاکستان کے دن بدل جا ئیں گے۔ آئیے ہم سب مل کے اس کی کامیابی اور درازی عمر کے لیے لیے دعا کریں جوکہیں پردے کے پیچھے ہے؟

Posted in Uncategorized

کیا اسلام میں عورت ہو نا گناہ ہے؟ (قند مکرر) از۔۔۔ شمس جیلانی

آج دوخبریں ہمارے سامنے ہیں ایک چھوٹے بھائی پاکستان سے جو اسلامی جمہو ریہ پاکستان بھی کہلاتا ہے ۔ جہاں اس پر ابھی اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے؟ کیونکہ اسلام کے مختلف ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے، یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو مسلمانوں کے لئے لے کر وہ تشریف لائے تھے؟اس پر آپ نے روزانہ ٹی وی پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا اور اسی کا قانون یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ کہتے ہیں کہ قائد اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے یہ کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام ہی اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی  ہوتی ہیں بلا تفریق جلا کر جہالت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، جناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ،تو صدر مشرف کا لولا ، لنگڑا کیا ہوا دستور بھی چل رہا اور ضیا الحق کا اسلامی قانون بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی ہے جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے۔ جیسے کہ کفار مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ چند دن پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا، جبکہ مائیں صرف ماں ہو نے کی وجہ سے دفن ہو ئیں ۔ وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر تھوڑی ہیں۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکہ جھانکی کی بنا پر قتل کرتے ہیں ؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔ ہم وہ کوئی کام نہیں کرتے جو اسلام کہا ہے؟   جیسے کہ“ یہ حکم ہے کہ مرد اور عورتیں دونوں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
چونکہ با ت عورتوں کی ہے لہذا ہمارے ذہن میں اس خیال نے چٹکی لی کہ دیکھیں توسہی کہ آخر ان بیچا ریوں کے خلاف یہ سازش کب ہو ئی کس نے کی کہ انہیں “ عورت  “کانام دیاجو کہ صرف ہندو پاک میں را ئج ہے۔اگر ہندی میں جا ئیں جو کہ یہاں کی پرانی زبان ہے تو اسے “ مہلا “ کہتے ہیں پنجابی، پشتو اور سندھی اور بلوچی میں جائیں تو ان میں بھی وہ عورت نہیں کہلاتی تو پھر یہ لقب آیا کہاں سے؟۔ ہم نے سوچا ، چونکہ اسلام عرب سے آیا ہے لہذا ہو نہ ہو یہ عربی سے آیا ہوگا؟ عربی لغت میں تلاش کیا تو وہاں بھی عورت نہیں ملی، فارسی میں ڈھونڈا تو وہاں اقبال کا ایک شعر ملا کہ وجود “ زن  “سے ہے کا ئینات میں رنگ۔ لہذا ہم سوچ ،سوچ کر تھک گئے اور یہ مسئلہ نہیں حل کر پا ئے کہ آخر ان کو عورت کا لقب کب ملا اور دیاکس نے ؟ کیو نکہ جس طرح “ الجی “ عرب میں بت پرستی اور بہت سی برا ئیوں کا بانی تھا۔ اسی طرح اس سازش کابھی کو ئی نہ کوئی موجد تو ہو گا ؟ تاکہ اسے الزام دیں جس نے تمام اسلامی تعلیمات بدل کر رکھدیں اور ان سے وہ حقوق چھین لیئے جو اسلام نے عطا کیئے تھے؟ ہم نے ایک مرتبہ پھر عربی لغت سے رجو ع کیا تو ہمیں لفظ عورت تو اس میں نہیں ملا البتہ ایک قریب تریں لفظ “عورة “ مل گیا اس کے معنی ہیں پوشیدہ  “اعضا ء “یا پھر دوسرے معنی ہیں “ نا قص العقل قابل ، مذ مت۔ ہمیں تعجب ہوا کہ ان القابات کو مسلم “خواتین “ نے چپ چاپ کیسے قبو ل کر لیا اور انہیں خبر تک نہ ہو ئی؟ اس کے اثرات یہ مر تب ہو ئے کہ ایک طبقہ علما ء نے انہیں اسلام کے بر عکس بجائے معززخواتین کے “ عورة “ قرار دیدیا یعنی( پوشیدہ رکھنی والی چیز یعنی وہ چیز جسے ہر طرح اور ہر اک نگاہ سے پو شیدہ رکھا جائے۔ دوسرے طبقہ علماءنے اس پر مزید اضا فہ کیا کہ وہ نا قص العقل بھی ہے،جبکہ اسلام نے انہیں برابری دی تھی ۔ اب ان معنوں کے اطلاق کے بعد وہ بجا ئے انسان کے ایسی چھپانے والی چیز بن گئیں کہ جس کی آواز بھی باہر نہیں جانا چا ہیئے اور ظاہر ہے جو چھپانے والی چیز ہو اس کو سامنے کیسا لایا جا سکتا ؟حالانکہ سب سے زیادہ پردے کاحکم ان کے احترام کی بنا پرجو تھا، وہ اہل ِ بیت (رض) اور امہات المو نیں (رض) کو۔ تھا مگر وہ بھی پردہ کے پیچھے سے سائلوں کے سوالوں کا جواب دیدیتی تھیں سوائے امہ سلمہ (رض) حج پر بھی جاتی تھیں ۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تو اسی فیصد خوا تین کھیتوں اور باغوں میں کام کر تی تھیں۔ اکثر مساجد میں نماز کے لیئے جاتی تھیں ان میں امہات المو نین(رض) بھی شامل تھیں۔پھر د دسری ضروریات کے لیئے جنگل بھی جاتی تھیں ۔ اور جنگ میں پانی بھی پلا تی تھیں، زخمیوں کی مرحم پٹی بھی کرتی تھیں ۔حضور(ص) کے دور میں تو ایسی کو ئی پابندی نظر نہیں آئی جس میں کہ خواتین کو گھر میں بند کر دیا گیاہو ؟ آخر پھر یہ ہدایات آئیں کہا ں سے ؟ ہم اس کے سوا اور کیا کہ سکتے ہیں،کہ یہ علما ءاور خواتین کا معاملہ ہے وہ جانیں جو کہ اہل ِ معاملہ ہیں ہم کو ن کہ خوا مخواہ؟
دوسری خبر بڑے بھائی ہندوستان سے آئی ہے۔
ہندوستان کی ایک ریاست سے جو کبھی صوبہ مدراس کہلاتا تھا آجکل وہ چنو ئی ریاست کہلاتی ہے وہاں سے ایک خبر نظر سے گزری کہ وہاں پچھلے سال سے عورتوں اورصرف عورتوں پر پندرہ سو روپیہ ما ہانہ افطاری ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔ جبکہ مردوں سے ایسی کو ئی فیس نہیں لی جاتی ہے؟ انکے لیئے صلائے عام ہے جو چاہے آکر مسجد میں افطار کر سکتا ہے۔ جو چودہ سو سال سے اسلامی اخوت کا تقاضہ بنا ہوا ہے بلکہ عرب میں تو شیخوں نے افطار کے لیئے لوگوں کو پکڑ کر لانے والے نوکر رکھے ہو ئے ہیں کہ ہم نے خود دیکھا کہ شیخ َ مسجد نبوی  (رض)میں بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے کارندے روزہ داروں کو پکڑ پکڑ کے ،ان کے بچھے ہو ئے دسترخوان پر لا بٹھاتے ہیں کہ ثواب ملے گا۔ مگر یہاں معاملہ الٹ ہے کہ افطار کرو تو پیسے دو کیا ہندوستان میں اسلامی قدریں بدل گئیں؟
اس تفریق کے سلسلہ میں جب اس مسجد کے سکریٹری صاحب سے پو چھا گیا تو انہو نے بتایا کہ خواتین کو افطار کرانے میں کچھ مشکلات ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کیا ہیں۔تو اس پر انہوں نے روشنی نہیں ڈالی ۔ جن خواتین نے پریس سے فر یاد کی ہے انکی عمریں بیس اور ساٹھ کے در میان ہیں۔ لہذا بیس برس کے سن کی وجہ سے تو کوئی مسئلہ قرین قیاس  ہوسکتاہے ،مگر ساٹھ برس کی عمرتو بے ضرر ہو تی ہے۔ ہمارے خیال میں اور کوئی پرو بلم نہیں ہے ، صرف پروبلم ان کا عورت ہو نا ہے۔ اور وہ اس جہالت کا عطیہ ہے جو کہ اسلام کے ہندوستان میں داخل ہو نے سے پہلے توہادی بر حق  (ص)نے ختم کر دی تھی ،مگر یہاں آکر پھر مشرف بہ اسلام ہو گئی یعنی ہندو ازم سے ہم نے اسے پھر لے لیا اور اسی پر عامل ہو گئے ہیں۔ یہ اسی کا سارا کھیل ہے جوکہ ہندو پاک میں رائج ہے کہ خواتین مسجد میں نہ آئیں، قبرستان نہ جا ئیں نماز جنازہ نہ پڑھیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ حضور(ص) کی پھو پھی حضرت زینب (رض) جنگ احد کے موقعہ پر قبرستان میں بھی تشریف لے گئیں تھیں اور اپنے بھائی حضرت حمزہ(رض) کی نماز جنازہ بھی پڑھی تھی ؟ اس ٹیکس سے ہماری سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہیں آیا کہ اس سے خواتین کی حو صلہ شکنی مقصود ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں؟ پھر ہمیں گلہ یہ بھی ہے کہ اب مسلمانوں کا وہ کریکٹر نہیں رہا اور مسلم ما ئیں اچھے مسلمان پیدا نہیں کر رہی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر آپ اپنی اکیاون فیصد آبادی کو علم ِ دین اور مسجد سے دور رکھیں گے، تو آپ اس کے سواان سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ جب وہ خود ہی دین سے بے بہرہ ہو نگی تو علم ان میں کہاں سے آئے گا اور اپنی اولادوں کو کہاں سے وہ پہنچا ئیں گی ؟ جبکہ تمام ماہر ِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی گود ہی نہیں بلکہ ماں کی کوکھ بچے کی پہلی تر بیت گاہ ہو تی ہے۔ بچے کے اخلاق کی تربیت وہاں سے شروع ہو تی ہے۔ جہاں سے رحم ِ مادر میں وہ جگہ پاتا ہے۔ پھر یہ شکایت کیوں کہ ہماری آنے والی نسل فلمی ستاروں کا تو شجرہ فر فر بتا دیتی ہے مگر صحابہ کرام اور خلفا ئے راشدین (رض) کے نام تک نہیں جانتی ؟

Posted in Articles | Tagged ,

وہ کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے؟۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

مورخہ4مارچ کے جنگ میں ایک خبر نظر سے گذری کہ وزیر مذہبی امور اور ہم آہنگی جناب سردار یوسف صاحب نے ارشاد فرمایا “ عنقریب پاکستان میں نماز کو لازمی قرار دیا جائے گا اسکولوں ،دفاتر اور چیمبر آف کامرس وغیرہ سب نمازوں کے اوقات میں بند رہا کریں گے جبکہ ابتدا پنڈی اور اسلام آباد ہوگی ؟ اذان تمام مساجد می بہ یک وقت ہوا کرے گی ۔ اس کے لیئے علماء کی ایک کمیٹی بنا ئی گئی ہے“ بڑی خوش آئند خبر ہے  پڑھ کرکہ دل باغ باغ ہوگیا کیونکہ کچھ نئی باتیں علم میں آئیں اور کچھ  نہ جانے  کیوں ذہن میں کھٹکیں۔ کھٹکنے والیوں میں ایک تو یہ ہے کہ یہ خبر اسی وقت کیوں جاری ہوئی جبکہ وزیر اعظم صاحب اپنے اعلیٰ درجہ کے وفد کے ساتھ بادشاہ کی دعوت پر سعودی عرب تشریف لے گئے تھے۔     البتہ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ کم ازکم ان کا نام تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ کوئی وزیر مذہبی امور اورہم آہنگی بھی ہیں اور وہ ہم آہنگی پیدا کرنےابھی تک ایک کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں؟ وہ کب سے ہیں معلوم نہیں؟ غالبا ً اتنے عرصے  سے توہونگے ہی جتنے عرصے سے موجودہ حکومت ہے؟  جبکہ ان کے دور میں ایک حج بھی ہوگیا اور نہ وہ خبر بنے نہ ان کی وزارت؟ اس سے پہلے یہ وزارت ہمیشہ اپنے اعلیٰ اور اہم کردار کی بنا پر خبروں میں ہی رہتی تھی،اور جاننے والے جانتے ہیں کہ کورٹ کچہریوں اور جانے کہاں کہاں رہتی تھی ؟ اس دور میں حج کے انتظامات بھی اعلیٰ کارکردگی کا نمونہ تھے۔ اسکی وجہ ممکن ہے کہ وزیر موصوف یا تو خاموشی سے کام کرنے کے عادی ہوں، یا پھر  نام ان انکا ہے اور چلتی کسی اور کی ہو جیسے اور کئی وزارتوں کے ساتھ ہے؟  بہر حال اگر وہ اس کے ساتھ  یہ بھی اعلان کردیتے کہ ہم پاکستان کو فوری طور پر فلاحی یا کم ازکم اسلامی ریاست بنا رہے ہیں ۔ جو وقت کی ضرورت تھی تو ملک کے لیےبہت اچھا ہوتا؟ کیونکہ مساجد تو ویسے ہی بھری ہوئی ہیں۔ مگر ان میں اسلامی قدریں مفقود ہیں ۔ اسلیے کہ سارا زور ظاہرداری پر ہے۔ تزکیہ نفس کا شعبہ صدیوں سے بند پڑا ہے۔ لوگ جو دکھائی دیتے ہیں زیادہ تر ویسے نہیں ہیں۔
کیونکہ عام رواج یہ ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ جبکہ الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں۔ اور قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں، جس میں یہ دو آیتیں موجود ہیں کہ “اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو“ اور اسکے بعد والی آیت  میں سخت انتباہ  بھی ہے کہ “ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے “ چونکہ ہمارے اقوال اور کردار میں بہت فرق ہے اس لیے ہمیں جو تیسرا بہت ہی اہم حکم ہے کہ ہم اپنے مسلمانوں بھا ئیوں کے بارے میں ہمیشہ خوش گمان رہیں ؟اس پر عوام عمل نہیں کرتے اور ہر اچھے فعل کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ لہذا ان اقدام کے سلسلہ میں اپنے تحفظات پر بات کرنے سے پہلے ہم اپنے تھوڑے تجربات قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔
پاکستان بننے  سے پہلے گمانِ یہ تھا کہ یہ ایک اسلامی مثالی حکومت ہوگی جوکہ مسلمانوں کاسرتمام دنیا میں فخر سے بلند کرے گی؟ جب کہ علماءکی اکثریت کہہ رہی تھی کہ جو خود باعمل نہیں ہیں وہ کیسے اپنے اطوار بدلیں گے؟
مختصراً عوام کو پہلی دفعہ امیدیں پیدا ہوئی تھیں منزل قریب نظر آرہی تھی اکثریت نے قیادت کی جھولی میں اپنے سارے ووٹ ڈال دیے۔ پاکستان عالم وجود میں آگیا پہلے تبدیلی یہ آئی کہ ہر ریلوے اسٹیشن پر قبلہ کا رخ بتانے کے قبلہ نما لگا دیئے گئے۔ اس کے بڑے اچھے نتائج بر آمد ہوئے۔ جو لوگ تقسیم کے بعد آئے ان کی روح یہ دیکھ کرخوش ہو جاتی تھی اور فوراً  ہرآنے والا الحمد للہ کہہ اسی ڈائریکشن میں پہلا سجدہ شکر بجا لاتا تھا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی(رح) ، ان چند علماءمیں سے تھے جو تحریک ِ پاکستان میں پیش،پیش تھے۔ پہلے تو کچھ دن دیکھا کیے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیونکہ سب کو غلط فہمی تھی ان کے شیخ السلام کہلانے کی وجہ سے کہ وزیر شرع یا قانون وہی بنیں گے، مگر بنے جوگندر ناتھ منڈل؟ جب انہوں نے دیکھا وہ پارلیمنٹ جس کانام دستور ساز اسمبلی رکھا گیا تاکہ وہ جلدی سے د ستور بنائے اور  فارغ ہوجائے؟ بجائے اس کے وہ اور سارے کر تی دکھائی دے رہی ہے مگر اس طرف نہیں آتی؟ تو انہوں نے آواز اٹھائی کہ ساتھیوں اصل کام کرو ؟تو جواب ملا کہ مولانا ہم کونسا اسلام نافذ کریں! مسلمان تو کسی ایک اسلام پر متفق ہی نہیں ہیں ۔ انہوں نے علماءکی ایک کمیٹی بنائی جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماءشامل تھے۔ سب نے بڑی عرق ریزی کے بعد ایک مجموعہ بنیادیات دیا کہ “ ہم سب اس اسلام پر متفق ہیں “ اس کے خلاف کسی بھی مکتبہ فکر کے  کسی عالم نے ایک لفظ نہیں کہا۔ مگر نہ جانے کیوں وہ مسودہ اسمبلی میں پیش نہیں ہوپارہا تھا ،اہلِ اقتدار ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے؟  بڑی مشکل سےمولانا کی اس دھمکی کے بعد کہ میں باہر جاکر تمام صورت ِ عوام کو بتادونگا؟ وہ مجموعہ “ قرارداد مقاصد“ کے نام  سےپاس تو ہوگیا مگر رکھا شیلف پر ہی رہا۔ کئی عشروں کے بعد جب ضیا الحق صاحب آئے تو انہونے اسے شیلف سے اٹھا کے 1973 ع  کے آئین کا حصہ بنادیا ، نماز لازمی کردی دفاتر میں چھٹی ہونے لگی چھوٹے ملازمین با قاعدگی سے نماز کے وقت باہر جانے لگے۔ کیونکہ انہیں کرکٹ کی کومنٹری بھی سننا ہوتی تھی اور بھی دوسرے نجی کام کرنا ہوتے تھے؟ افسر کوئی مسجد کو جاتا ہی نہیں تھا کہ انہیں پکڑے جانے کا ڈر ہو؟ وجہ یہ وہی تھی کہ اوپر تو وہی عالم  طاری تھا جو پاکستان سےپہلے  سے چلاآرہا تھا۔
صرف ایک نمونہ اس دور کا میں دکھا دیتا ہوں؟ محمد خان جونیجو مرحوم  اس وقت وزیر اعظم تھے۔  میر پور خاص کے مری قبیلے میں ایک موتہ ہوگیا تو تعزیت کے لیے وہ تشریف لے گئے ، اسی دوران مسجد میں اذان ہوگئی جوکہ بالکل سامنے تھی جہاں وہ تشریف فرما تھے۔ سب چلے گئے۔ جب وہ نہیں ہلے تو میں نے کہا کہ چلیے نماز کے لیے ! کہنے لگے آپ پڑھ آئے؟
وہ الحمد للہ ابھی تک دستور کاحصہ ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماتھے کاجھومر بھی، مگر زیرِ عمل وہ دفعات بھی نہیں آسکیں جس میں ہر رکن حکومت کے لیے امین اور صادق ہوناشرط ہے؟ تو اس وقت یکایک اس اپھار کی وجہ کیا ہے جو اس وقت منظر ِعام پر آیا، جس وقت وزیر اعطم صاحب سعودی عرب کے دورے پرہیں؟ اس میں بھی کہیں ً ڈو مور ً کا تقاضہ تو نہیں کار فرما ہے؟ کیونکہ وزیر با تدبیر اس سے تو واقف ہونگے کہ ملک آتش فشا ں کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اس کے نتیجہ میں کہیں پھٹ پڑا تو کیا ہوگا؟ ان کے پاس وہ کونسی جادو ئی چھڑی ہے کہ وہ سب کو ایک وقت پر اذان دینے اور نماز پڑھنے پر قائل کر لیں گے؟ جبکہ صورت  ِحال یہ ہے کہ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے ۔ فجر کی اذان میں جتنی جلدی ہوسکے وقت ہوتے ہی اذان دیدی جا ئے اور نماز ادا کر لی جائے، دوسرا کہتا ہے کہ نہیں بس اتنا وقت ہونا چاہیئے سورج نکلنے میں کہ اگر نماز میں غلطی ہو جائے تودہرا لی جائے؟ ظہر میں کچھ لوگ عصر اور ظہر ملاکر پڑھتے ہیں ۔ اسکے علاوہ سنیوں میں بھی عصر کی اذان کے اوقات مختلف ہیں ؟ رہی اب مغرب وہاں بھی اختلاف ہے؟  عشاءاسکے ساتھ بھی مسئلہ یہ ہی ہے کہ ایک مکتبہ فکر ملا کر پڑھتاہے ایک جلدی پڑھتا ہے ، جبکہ دوسرا وقت کی پرواہ نہیں کرتا ؟ یہ ہی سلسلہ کم اور بیش چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے؟ بڑی بڑی قد آور شخصیات بھی ہو گذریں جن کی بات پوری امہ مانتی تھی مگر وہ بھی یہ تفریق ختم نہیں کرا سکیں ؟ اب تو ہم میں ایسی کوئی قد آور شخصیت بھی نہیں ہے۔
جبکہ اس کام کے لیے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنا پڑے گی جسے برسوں چاہیے اثر ہونے تک؟ تب کہیں جاکر ایسی ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر ان کے ذہن میں سعودی عرب کی مثال ہے تو پھرا ور بات ہے؟کہ انہوں نے تو پہلے اپنے قبیلہ کو بدعت دور کرنے کے نام پر ابھارا، پھر حرم پر قبضہ کیا اور اس طرح مرکزی حیثیت حاصل کر نے کے بعد نماز اور اذان کایکساں وقت مقرر کرنے پر قادر ہوسکے؟ مگر اب وہ پہلے والا ماحول بھی نہیں، یہ قبائلی دور بھی نہیں ہے۔ جبکہ اسلام  “ہر جبریہ تبدیلی کے خلاف ہے“ لہذا یہ اسلام بھی نہیں ہے؟البتہ اس سے جو اتحادکی کوششیں ہورہی ہیں ان کو ضرور نقصان پہونچے گا۔ کیونکہ یہ عقیدوں کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ موجودہ وزیر با تدبیر جو فرما رہے ہیں پہلے والوں کی طرح کر نہیں سکیں گے۔ یہ تحریک ِ اذان  بھی ا قامت الصلواة کی طر  ح کامیاب نہیں ہوسکے گی بغیر جبر کے جبکہ جبر کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوتے؟ اسی لیے اسلام جبر کے خلاف ہے۔

Posted in Articles | Tagged

پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرانے زمانہ میں گھوڑوں اور خصوصی طورپرعربی النسل گھوڑوں کو دنیا بھر کے گھوڑوں پر برتری حاصل تھی ۔ اسی لیے اس تجارت کوتاریخ میں ایک دوا می شہرت ہردور میں حاصل رہی ۔ پھر مشینی دور شروع ہوا اور گھوڑوں نے اپنی افادیت کھودی۔ تو پھر انیسویں صدی عیسوی میں جنہوں نے فرقہ پرستی کو اسلام میں دوبارہ رائج کیا، انہیں میں سے ایک نے نیویارک کے ایک اخبارکے ذریعہ اسے دوبارہ جلا بخشی ۔ جب اخباری دور شروع ہوا اور ذریعہ آمدنی اشتہارات بنے تو لمبے چوڑے دعوؤں کے ساتھ اشیاءفروخت کر نے کا رواج شروع ہوا اور اس کے ذریعہ چکر باز قسم کے لوگ سرگرم ہوگئے تو اسے ضابطہ اخلاق میں لانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی تبھی اس قانون کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے اپنے مضمون میں اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ لفظ “یعنی ہارس ٹریڈنگ “ استعمال کیا۔ جوکہ گھوڑوں کی افادیت ختم ہو نے کے بعد رفتہ رفتہ معدوم ہو تا جا رہا تھا۔ اس کا پس ِ منظر یہ ہے کہ جب گھوڑوں کی تجارت عروج پر تھی تو اس کے بیوپاری اس قدرزمین اور آسمان کے قلابے گھوڑوں کی تعریف میں ملایا کرتے تھے کہ اس تجارت کو بدنام کر کے رکھدیا تھااور ان کی اعانت اس کار ِ خیر میں اس دور کے شاعر بھی کیا کرتے تھے۔ جب گھوڑی دوڑتی تھی تو کبھی ناگن سے کبھی بجلی کوند نے سے مثال دی جاتی تھی، جبکہ گھوڑے بھی پیچھے نہیں رہتے تھے؟ ان کی بھی چال کے کئی نام تھے جب وہ میانہ روی اختیار کیے ہوئے ہوتے ، تو چال “دُلکی “ کہلاتی اور جب وہ دوسرے گیر میں آ جاتے تو “تیز گام “ اور جب سرپٹ دوڑ ر ہے ہوتے تو “ سرگام “ کہلاتی تھی جو شاعری کی انتہا تھی کہ یہ صفت راگ کی ایک قسم “ سرگم “ سے لی گئی تھی۔ گھوڑوں کے لیے باقاعدہ استاد مقرر ہوتے تھے جو ان کی تربیت کیا کرتے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں ان کی جلد میں چمک لانے کے لیے انہیں سنکھیا نامی زہر کا عادی بنا یا جاتا تھا۔
جب اسلام آیا تو اسے ایک پیر سے سلام کر نا بھی سکھایا گیا؟ دوسرے جھوٹ بول کرکے ہر قسم کی تجارت حرام کر دی گئی اور عرب بیوپاریوں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور نقص بتا کر گھوڑے فروخت کرنے لگے؟ ان میں یہ تبدیلی دیکھ کر دوسری قوموں میں تجسس پیدا ہوا تحقیق کرنے سے انہیں پتہ چلا کہ یہ اسلام کا فیض ہے؟ تو لوگ جوق درجوق اسلام لانے لگے؟ مگر بعد میں جب حکمراں عیش میں پڑگئے تو ہربرائی واپس آگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی ترویج و اشاعت بھی رک گئی ، کیونکہ اب وہ صاحب ِ کردار مبلغ نہیں رہے تھے نہ درسگاہوں میں، نہ مزاروں میں نہ بازاروں میں۔ پہلی والی تمام برائیاں ان میں دوبارہ آگئیں؟
مگر پاکستان میں اس لفظ نے رواج پایا ایوب خان کے دور میں جب میجر جنرل اسکندر مرزا صدر بنے اور انہوں نے راتوں رات ریبلکن پارٹی بنا ئی جوکہ صفت ِہارس ٹریڈنگ کی رہین منت تھی۔ کہ ایک رات پہلے تک جو پکے مسلم لیگی تھے، وہ صبح کو ریپبلکن پائے گئے۔ اور یہ کاروبار اتنا مقبول ہوا کہ پھر چلتا ہی رہا۔ یہاں میں ایک غلط فہمی دور کرتا چلوں کہ آجکل ہر جماعت یہ کہتی ہے کہ اصل قائد اعظم کی مسلم لیگ یہ ہی ہے۔ یہ اتنا ہی سچ ہے جیسے کہ تاریخ میں اور بہت سے سچ ہیں۔ کیونکہ قائد اعظم جس مسلم لیگ کے صدر تھے وہ آ ل انڈیا مسلم لیگ تھی جس کو پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ فرماکر توڑدیا تھا کہ اس کامشن پاکستان حاصل کرنا تھا ۔اب اس کی ضرورت نہیں رہی؟ پھر جو مسلم لیگیں بنیں وہ قائد اعظم کی حیات میں نہیں بعد میں بنیں۔ بہت سے مسلم لیگی ہندوستان میں رہ گئے جو یہاں آگئے تھے اور جو مقامی تھے انہوں نے ایک گروپ بنالیا جس کی قیادت ممتاز محمد خان دولتانہ کر رہے تھے۔ جبکہ ایوب خان ایک مدت تک پاکستان کے وزیراعظموں کی بیساکھی بنے رہے۔ اسکندر مرزا نے انہیں مارشلاءلگا کر اس کا سربراہ بنادیا تو انہوں نے اس کے چند ہی دن بعدیہ کہہ کر کندھا جھٹک دیا کہ اب میرا کندھا دکھنے لگا ہے اور ان کو ہوائی جہاز میں بٹھاکر لندن روانہ کردیا جہاں بیچارے چائے خانہ چلاتے رہے؟ اس واقعہ میں سبق ہے ان حکمرانوں کے لیے جو کسی دوسرے کے سہارے پر چل رہے ہوں؟ اسکندر مرزا کے جانے کے بعد ریپبلکن اپنی موت آپ مرگئی۔ ایوب خان نے سابق مسلم لیگیوں کاکنونشن بلا کر دوبارہ باقاعدہ پاکستان مسلم لیگ بنائی جس کے پہلے صدر چودھری خلیق الزماں مرحوم اور جنرل سکریٹری منظر عالم مرحوم بنے۔ چونکہ یہ کنونشن کے ذریعہ معرضِ وجود میں آئی تھی لہذا کنونشن مسلم لیگ کہلائی، جو بقیہ مسلم لیگیوں کا دھڑا تھا اور اس میں شامل نہیں ہوا تھا ،وہ کونسل مسلم لیگ کہلایا ۔ کچھ سالوں کے بعدایوب خان کا کندھا پھر دکھنے لگا سوچا کہ یہ تکلف بھی کیوں رہے؟ میں خود ہی اسکا بھی صدر کیوں نہ بن جاؤں لہذا وہ خودصدر اور بھٹو صاحب سکریٹری جنرل بن گئے۔ اور اس کے بعد سے مسلم لیگ انڈے بچے دیتی رہی ؟ ایوب خان نے ہی پاکستان کے عوام کو پارلیمانی جمہوریت کے لیے نا اہل قراردیا ۔اس کے بجائے بنیادی جمہوریت روشناس کرائی جس میں پہلے اپنے حلقہ میں بنیادی جموریت کے اراکین کو عام ووٹوں سے خود کو منتخب کرانا ہوتا تھا۔ اور انہیں اراکین کو پھر یونین کونسل ، میونسپل اداروں اور ضلعی کونسلوں، صوبائی اسمبلیوں اور قوم اسمبلیوں کوقائم کرنا ہوتا تھا اور انہیں جمہوروں کے ذریعہ صدر بھی منتخب کر نا ہوتا تھا جنکی تعداد اسی ہزار تھی۔
پہلی دفعہ ایوب خان صدر آسانی سے منتخب ہوگئے؟ دوسری مرتبہ ان کے مقابلہ میں لوگ محترمہ فاطمہ جناح کو لے آئے؟ تو کھل کر ہارس ٹریڈنگ سامنے آئی سستا زمانہ تھا ،ایک جمہورے کابھاؤ تین ہزار تک گیا پھر بھی اسے بار، بار کی نیازی چراغی سے، اچھی خاصی رقم مل جاتی تھی؟ ان کی اکثریت چونکہ رمضانیوں پر مشتمل تھی لہذاتھوڑی قناعت بھی تھی۔ طریقہ کار یہ تھا کہ ا نکو نقد رقم دیکر اور قر آن پر حلف لیکر کہیں قید کردیا جاتا تھا، پھر وہ سیدھے وہیں سے پولنگ اسٹیشن لا ئے جاتے اور ان کے ووٹ ڈلوا ئے جاتے۔؟پھر بھی محترمہ فاطمہ جناح کراچی اور مشرقی پاکستان میں جیت گئیں ۔ تو جھرلو جوکہ قائد ملت کے دور میں خان عبد القیوم خان ایجاد کرچکے تھے اور اسے بڑی کامیابی سے جب سے حکمراں استعمال کر رہے تھے ، کام میں لایا گیا، ہنگامے شروع ہوگئے۔ ایوب خان رخصت ہوئے ملک ٹوٹ گیا۔ پھر بھٹو صاحب نے 1973کاآئین بنایا جو بیسی پوری کرکے ,اب اکیسویں ترمیم کی طرف کے رواں دواں ہے۔ ہے ،جوبہت اچھا ہونے کے باوجود صرف عمل نہ ہونے کی وجہ سے گھر اور باہر دونوں جگہ تماشہ بنا ہوا ہے ۔ انتخاب اسی کو بروئے کار اب تک لاتے رہے اور الیکشن کراتے رہے ، مگر ووٹر روزبروز چالاک ہو تے گئے ۔ جب ٹریڈنگ پر قابو نہیں پایا جاسکااور ان کا بھاؤ آسمان کو چھونے لگا، جو کروڑوں تک پہونچ گیا تو پریشانی لاحق ہوئی پریشانی کا مقصد اصلاح لانا نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں وہ اس فکر میں ہیں کہ وہ“ پارٹی ٹکٹ “کے نام پر جتنا زیادہ سےزیادہ مال وصول ہوسکتا ہے وصول کرلیں ؟جو امیدواروں کو کھل رہا ہے۔ کیونکہ ٹکٹ ملنے کے باوجود انکی کامیابی یقینی نہیں ہے۔ اسلیے کہ انہیں ووٹروں کو بھی رقم دینا پڑتی اور اسکے بعد بھی یہ یقین نہیں ہے کہ وہ ووٹ انہیں کو دیں گے۔؟اس کا توڑ پارٹی رہنماؤں کو یہ نظر آیا کہ اٹھارویں ترمیم نے پارٹی لیڈروں کو جو اختیار دیا ہے کہ وہ جس کو چاہیں پارٹی سے نکالدیں اسکو بروئے کار لائیں؟ اس لیے وہ اب اکیسویں ترمیم کرکے یہ جاننے کا ذریعہ نکالنا چاہتے ہیں کہ ووٹ کس نے ان کے حکم پر نہیں دیا ؟ پھر اسکی خبر لیں ؟ جبکہ امیدواروں کو شکایت ہے کہ اب پلاٹ وغیرہ تو رہے نہیں ان پر قبضہ گروپ کے ذریعہ لیڈر قابض ہیں۔ وہ اپنے انتخابات پر خرچ کرنےکے لیے رقوم کہاں سے لائیں پھرکچھ منافع بھی ہو نا چاہیے۔ جبکہ لیڈر ایسی سزا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، کہ جن اراکین نے اپنے ووٹ بیچے تھے ۔ ان کے اراکین اسمبلی اور وزراءکام نہیں کرتے تھے اور انہیں ہری جھنڈی دکھا دیتے تھے؟ لوگ بڑی امیدوں کے ساتھ آتے یاد دلاتے کہ سائیں! ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا، شاید آپ نے ہمیں پہچانا نہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ نہیں! ہم نے اچھی طرح پہچان لیاتم نے تین ہزار لیے تھے ؟ آنے والابھری محفل میں ننگا ہو جا تا کیونکہ اس وقت تک لوگوں میں شرمانے کا رواج تھا۔
اب یہ ترمیم بھی پہلی ترامیم کی طرح پاس ہو جائے گی کیونکہ “ بڑے اسٹاک ہولڈرز “ کامفاد اسی میں ہے؟ رہی شرمانے کی بات وہ اب قصہ پارینہ ہوگئی ہے ۔اب تو ٹی وی پر بھی لوگ نہیں شرماتے ہیں اور کہتے ہیں اگر میں نے یہ کیا، تو نے وہ بے ایمانی کی تو مجھ سے بڑا بے ایمان ہے۔؟دیکھئے ہم نے کتنی ترقی کرلی اتنے برسوں میں؟ وہ جھوٹا ہے جو کہتا ہے پاکستان نے ترقی نہیں کی؟ لہذا لوگ شرمائیں گے تو نہیں البتہ پارٹی سے نکالے جانے سے ڈر جائیں تو اور بات ہے۔ ورنہ اس سقم کو دور کرنے کے لیے کوئی بائیسویں ترمیم لانا پڑے گی۔

Posted in Articles | Tagged ,

پلے میں تمہارے دینے کے لیئے کیا ہے۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

ہم بڑے مذبذب ہیں کہ اپنی یہ دردمندانہ عرضداشت کس کی خدمتِ عالیہ میں پیش کریں؟ کیونکہ جن کے پاس بقول ان کے منڈیٹ ہے ان کے پاس “ منڈپ “نہیں ہے۔ اور جن کے پاس منڈپ ہے وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس منڈیٹ نہیں ہے کہ اسی میں ان کی بہتری ہے۔ آپ مطلب سمجھ گئے ہوں  گےکہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ اردو آج تک سرکاری زبان بن ہی نہیں سکی عام کاروبار انگریزی میں ہی چلتا ہے جبکہ “ منڈپ “انڈین فلمیں دیکھنے کی وجہ سے بچہ بچہ جانتا ہے۔ اگر کوئی صاحب ایسے بد ذوق ہیں کہ جن کی سماعت ٹی وی سے روشناس ہونے کے بعد بھی اس لفظ سے بچی رہی تو ہندی میں “ منڈپ “ اسے کہتے جس کے نیچے ایک دن کی با دشاہت کے لیے کسی کودولہا بنایا جاتاہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ زیادہ تر یہ دن سب کو دکھا تا ہے کہ دیکھیں اب یہ کیا کرتاہے؟
یہ تذبذب ہمیں اس لیے لاحق ہوا کہ اِن سے کچھ کہیں گے تو یہ بغیر اُن سے پوچھے کچھ نہیں کریں گے اور اُن سے کچھ کہیں گے تو وہ اپنا صاحب ِ اختیار ہونا مانیں گے نہیں ۔ لہذا ہماری یہ عرضداشت گیند کی طرح کرکٹ کے میدان میں بلّو ں سے ٹکراتی رہے گی۔ ایسے میں اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کریں کیا؟کیونکہ ہمیں مسلم امہ کی بہی خواہی کا خبط بھی سوار ہے۔ اس لیے کہ ہمیں حکم ہی یہ ہے۔کہ اچھی باتوں کی ترغیب دلا ئیں اور بری باتوں سے منع کریں؟ اور یہ بھی کہ ہر ظالم کے سامنے کلمہ حق کہیں ،کوئی سنے یا نہ سنے مگر ہم اپنے فرض سے سبک دوش ہو جائیں۔اس کی وجہ سے بہت سے دوست ہم سے بچتے ہیں کہ وہ بھی کہیں ہم سے قربت کی بنا پرمعتوب نہ ہو جائیں ، اور ہم ان سے بچتے ہیں کہ کہیں ہماری وجہ سے بچارے مشکل میں نہ آجائیں ؟ مومن کی اللہ اور اس کے رسول (ص) نے پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ وہ دوسرے مومن کے ساتھ اللہ کے لیے محبت کرتاہے اور یہ بھی کہ جو اپنے لیے چاہے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی چاہے؟ مثلا ً ہم اپنے لیے جنت چاہتے ہیں تو اپنے بھائی کے لیے بھی چاہیں۔ اگر ہمیں یقین ہے کہ ہم راہِ راست پر ہیں تو بھائی کو بھی راہ راست کی طرف راغب کریں؟ تاکہ وہ بھی جنتی بن سکے۔ لہذا ہم اس یادداشت کو مکتوب الیہ کا نام لکھے بغیر انگریزی کایہ طریقہ اپنالیتے ہیں ۔ جووہ جب استعمال کرتے ہیں، جب مکتوب الیہ معلوم نہ ہو کہ کون ہے اور یہ کہاں کہاں جا ئےگا ، کس کس کی نظروں سے گزرےگا ۔ تاکہ “ اس کی جہاں ضرورت ہو، وہاں ضرورت مند استعمال کرلے “ جیسے کہ کبھی ہر مرض کی دوا امرت دھارا ہوا کرتی تھی،حالانکہ آج کے دور میں اب وضاحت کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ لوگ اردو سمجھنے والے کم ہوتے جارہے اور انگریزی لوگ زیادہ سمجھتے ہیں وہ اصطلاح ہے ۔ ” To whom It may concern ”
ہمیں یہ خبط اس لیے سوار ہوا کہ ہم نے ٹی پر پاکستانی حکمرانوں کی یہ “ اپیل کہ غیرملکوں میں آباد پاکستانی واپس آجائیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں بار بارسنی، جبکہ وہ خود اسکا الٹ کرتے ہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ“ مومنوں! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو ،اور یہ کہ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے “ جبکہ علمائے کرام یہ وعظ روزانہ سناتے رہتے ہیں کہ یہ مت کرو وہ مت کرو، مگر شادی ضرور چار کرلو؟ پھر لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ “ ہم سے تو ایک سنبھلتی نہیں یہ چار کیسے سنبھال لیتے ہیں۔ سود میں ملوث مت ہو؟ تمام ایسے اداروں سے دور رہوجہاں سود ی کاروبار ہوتا ہو ورنہ اللہ اور اسکے رسول (ص) سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ؟ اس کے برعکس کچھ یہ رعایت دیدیتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنک میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ مگر اس سیکشن میں ملازمت مت کرو جہاں سودی دستاویز تیار ہوتی ہوں کیونکہ حدیث نبوی کے مطابق “ سود لینے والا، دینے والا، اسے لکھنے اوراس پر گواہی کرنے والے جہنمی ہیں “ جب کہ ملک میں کیا دنیا میں صحیح معنوں میں بلاسودی بنکاری کہیں موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی اکثریت مسلمان ہے اگر کوئی بھی یہ کام نہیں کرے گااور اپنی جگہ جہنم میں نہیں بنا ئے گاتو پھر بینک چلے گا کیسے؟ اور آمدنی کہاں سے ہوگی ، باقی عملہ کی تنخواہ کہاں سے نکلے گی؟ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر اسلامی ملکو ں میں جانا حرام ہے وہاں رہنا حرام ہے؟ جو باہر ہیں وہ واپس آجائیں؟ کیا اس پروپیگنڈے سے ملک کی مالی حالت مزید نہیں تباہ ہو جائے گی ؟ پھر وہاں آنے کے بعد کریں کیا؟ ملازمت وہ بغیر رشوت ملے گی نہیں اور کھائے کھلائے بغیر چلے گی نہیں۔ کارو بار کریں،صنعتیں لگائیں، یا زمین خریدلیں، بلنڈنگ بنا کر کرایہ پر اٹھادیں؟ کاروبار کریں بھتہ ، تاوان برائے اغوا ءاور رشوتوں کی مدسے کچھ بچ سکے گا ؟جواب نفی میں ہے؟ آنے والوں کو پچتاوے کہ سوا ملے گا کیا؟ اگر جان بچ گئی تو پھر وہیں واپس جانا پڑیگا ۔ اگر زمین خرید لیں تو قبضہ گروپ سے کیسے بچے گی۔ عمارت بنا کر کرائے پر اٹھادیں تو قبضہ دینے کے بعد کرایہ دارسے کرایہ ملناتو دورکی بات ہے۔ قبضہ واپس زندگی میں تو ملے گا نہیں ؟
ان سب مسائل کا حل کیا ہے صرف اور صرف دین کی طرف واپسی ؟ جو عام آدمی کی تبلیغ سے ممکن نہیں ہے؟ یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوںکہ جنہوں نے دہلی کے اطراف میں ساتھ لاکھ میواتیوں کو جو نام کے مسلمان تھے، جب ان پر تبلیغ شروع کی تو ان کے پاس پیسے تھے وہ ہر صبح سڑک پر کھڑے ہوجاتے اور پوچھتے بھائی کہاں جارہے ہو؟ وہ بتاتے مزودری کرنے ،وہ پھر پوچھتے کہ کیا مزدوری ملے گی تو جواب ہوتا تھاکہ اتنی؟ تب وہ فرماتے کہ وہ میں دونگا؟ “ تم چالیس دن نمازیں پڑھ لو “ نتیجہ میں کچھ سدھر بھی جاتے تھے اور باقی پھر اپنے پرانے راستہ پرو اپس چلے جاتے تھے۔ مگر اس کو بڑے پیمانے پر چلانے کے لیے فلاحی ریاست چاہیے کسی مالدار ترین آدمی کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوسکتے کہ وہ سب کی کفالت کرسکے چاہیں وہ کتنا ہی بڑا کالے دھن کمانے کا ماہر کیوں نہ ہو ؟
سب کو رزق دینا صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکام ہے کہ وہ سب کا رازق ہے اور اس کے خزانے لا محدود ہیں۔اس نے اپنا نظام ہی اس طرح کا بنا یا ہے کہ کچھ سرمایہ دار بنیں کچھ مزدور بنیں؟ کچھ چور اور ڈاکو جیسے پیشے بھی اختیار کریں تاکہ پولس رکھنا پڑے اور دنیا ملکوں میں بٹی رہے۔تاکہ ہر ملک اپنی حفاظتی فوج رکھے؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کسی گروپ کا غلبہ نہ ہونے دے اسی لیے اسلام نے عدل پر سب زیادہ زور دیا کہ کوئی طاقت سر نہ اٹھا سکے۔ اگر سب چور بن جا ئیں تو بھی ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ چور بننے سے روکنے کے لیے خوف خدا اور حکومت کی طرف سے چور کی آباد کاری کا انتظام ضروری ہے؟ اسلام نے گھرے بغیر توبہ کے دروازے چور اور ڈاکوؤ پر بھی کھلے رکھے ہیں تاکہ وہ خود کو بدل سکیں۔ کیونکہ اچھا ماحول نہ ملے جو اسے بھلا آدمی رہنے کے لیے ضروری ہے، تو جس طرح وہ پہلے چور بنا تھا پھر چور یا ڈاکو بن جا ئے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی نے اپنے وفادار سپاہیوں کو بھی بے یار و مدد گار چھوڑدیا تو وہ اسی مالک کی کچھ زمین پر قبضہ کر کے راجہ یانواب اور با دشاہ بن بیٹھے؟ مسئلوں کا حل تلاش کیے بغر کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے دنیا بھر میں پھیلے کارندے ہیں جنہیں شرفِ حکمرانی بھی حاصل ہے۔ وہی عام انسان کی رگوں سے خون چوس کر پھل پھول رہا ہے ،اس کا اگر کوئی توڑ ہے تو وہ اسلام ہے جس میں فلاحی ریاست کا تصور موجود ہے اور یہ ہی اس کاجرم بھی ؟ جبکہ وہ نظام کہیں بھی دنیا میں موجود نہیں ہے اور مفاد پرستوں کی موجود گی میں آ بھی نہیں سکتا ہے؟ جب تک یہ خلاءباقی ہے یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوسکتا؟ جتنا آپ مسلمانوں کو ڈرائیں گے اتنا ہی وہ چاروں طرف ہاتھ پیر ماریں گے ؟مفاد پرست اور نام نہاد اسلام پرست اسی طرح سبزباغ دکھاتے رہیں گے اور وہ نادانی میں ان کا شکار بنتے رہیں گے۔ جب تک کہ کوئی اللہ کابندہ ایمانداری سے اس پر عمل پیرا نہ ہو صرف زبانی جمع خرچ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا؟ اس میں علماءاور حکمرانوں دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اچھا حکمران وہی ہے جو عادل ہو انسان کا درد محسوس کرے جس کی اسلام نے بڑی تعریف کی ہے اور اچھا عالم وہی ہے جو حضور (ص) کی طرح خود عمل کر کے دکھا ئے ورنہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے “ اچھی بات تو برا آدمی بھی کرلیتا ہے “ اگر یہ نہ کیا تو خصوصی طور پر سادہ لوح نو مسلم اپنی محدوداور شدت پسندوں کی فراہم کردہ معلومات کو اسلام سمجھتے رہیں گے اور ان کے آلہ کار بنتے رہیں گے ؟ اللہ سبھانہ تعالیٰ ہمارے کرتا دھرتاؤں اور دنیا بھر کے دانشوررو ں کوسمجھ بوجھ عطا فرمائے تاکہ موجودہ انارکی دور ہو (آمین)

پ

Posted in Articles | Tagged

روٹھے منانے کا موسم ؟از۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے زمانے میں زراعت پر سار ا دارومدار تھا فصل اچھی ہوگئی تو ساری تقریبات دھوم دھام سے ہوتی تھیں ورنہ اگلے سال پر ملتوی ہو جاتی تھیں، اگر فصل اچھی ہو تو پھر شادی بیاہ کا موسم اورروٹھنے منانے کا موسم بھی شروع ہو جا تا تھا۔ اس زمانے میں شادی کارڈ کا بھی رواج نہیں تھا شادی میں ،اصل کردارعموما ً نائی یا حجام جسے مسلمان نہ جانے کیوں خلیفہ بھی کہا کرتے تھے اسی کے ہاتھو ں انجام پاتے تھے۔ اسے خلیفہ کیوں کہا کرتے تھے وہ ہماری آجتک سمجھ میں نہیں آیا؟ اس میں ہندو بھی پیچھے نہیں تھے ان کے بھی کئی نام تھے وہ اسے راجا کہتے تھے، ممکن ہے کہ کوئی ظالم راجہ ایسا بھی گزرا ہو جو رعایا کی حجامت کر دیتا ہو کہ مالیہ کم ہونے کی شکایت تو سب کو ہی رہتی تھی جبکہ ریاستیں بہت تھیں۔ ہمارے یہاں ایک کے بارے میں تو تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عمال نے یہ خبر دی کہ لوگ جوق درجوق اسلام قبول کر رہے ہیں اس سے جزیہ کم ہو تا جارہا تو اس نے حکم دیا کہ جو اسلام لے آیا ہو اس سے بھی جزیہ وصول کیا جائے؟  اس زمانے جمہوریت تو تھی نہیں کہ الیکشن کا ناٹک ہوتا ۔با دشاہت اور بادشاہ تھے اور جنہوں نے خلافت راشدہ نہیں دیکھی تھی صدیوں تک لوگ بادشاہوں کو ہی خلیفہ کہتے رہے جبکہ خلیفہ خداسے ڈرنے والے ہوتے تھے اور با دشاہ اپنی پرچھائیں سے بھی ڈرتے تھے ،اسی لیے وہ کوئی وارث تخت رہنے ہی نہیں دیتے۔
جیسے کہ آجکل حکمرانوں کے انداز شاہانہ ہونے کے باوجود ہم اپنے رہنماؤں کو جمہورکانمائندہ کہتے ہیں جن کے انتخاب تک میں ہمار ااپنا کوئی دخل نہیں ہوتا اور حکمراں خود بھی کسے کا بچہ جمہورا ہوتو حکمراں بنتاہے۔ اگر یہاں خلف کے لغوی معنی لیے جائیں یعنی بعد میں آنے والا تو بھی اسے خلیفہ کہنا مشکل تھا؟ کیونکہ وہ تو اس دور میں ان بیٹوں کے لیے مخصوص تھا ،جوکہ نیک چلن ہوتے تھے، اور خلف ِرشید کہلاتے تھے ۔ اس کے برعکس جو بچہ نالائق ہوتا اس کو ناخلف کہتے تھے۔ ہاں اگر اسے اس کی اس خوبی کی بنا پر خلیفہ مان لیا جائے جوکہ اس کی انفرادیت تھی کہ وہ پیچھے کھڑے ہو کر حجامت بنا تاتھا، تو کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ہم نے اس کاذکر اپنے ایک دوست کے سامنے کیا تو کہنے لگے کہ آپ کی یہ توضیح بھی غلط ہے ! ہم نے پوچھا کیوں! فرمایا کہ اس زمانے میں تو مسلمان درزیوں کو بھی خلیفہ کہتے تھے؟ جن کے بارے میں کہاوت ہے کہ درزی اور سنار اپنی ماں سے بھی نہیں چوکتے ،یعنی کسی نہ کسی طرح سگی ماں کا بھی کپڑا یاسونا مار ہی جاتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی  ؟اس سے ثابت یہ ہوا کہ ان کی بھی آنکھوں میں کچھ لحاظ تھا۔ ؟ جبکہ آجکل جیب کتروں ،چوروں ،اور بشمول ڈاکوؤں کے سب آنکھ میں آنکھیں ڈال کر اور روبرو ہوکر لوٹتے ہیں۔ جبکہ کہلاتے وہی ہیں جو وہ چاہتے ہیں مثلا ً خادم وغیرہ ، جس سے عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں خادم سمجھنے لگتے ہیں ؟مگر ان کے خادم ہو نے کے راز اسوقت کھلتے ہیں جبکہ خدمت لینے کی کبھی ضرورت پڑجائے؟ہاں بات کر رہے تھے ،نائی کی کہ جس کے بارے میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ اس نے کہیں بٹتی ہوئی مٹھائی میں سے ایک کے بجائے چار حصے وصول کر لیے ! جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایک کے بجا ئے چار حصے کیوں لیے تو اس نے محتسب کو جواب دیا کہ سرکار گنیں ً میں اور میرا بھائی حجام، خلیفہ ، نائی، اس طرح میں چار حصوں کا مستحق ہوں شاید یہیں سے طبقہ اشرافیہ میں جائیداد اپنے بجائے رشتہ داروں کے نام پر رکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مگر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی قناعت پسند تھا ورنہ اس کے سپرد اس کے علاوہ بہت سی خدمات اور بھی تھیں، اور اپنے حصے زیادہ بنا سکتا تھا ۔ مثلاً اگرتک بندی کو شاعر ی مان لیا جائے تو وہ شاعر بھی ہوتا تھا جیساکہ ابھی آپ نے پڑھا۔ گانا بھی گاتا تھا، جہاں فنکار نہ ہوں تو وہ ضرورت پڑنے پر فنکار بھی بن جاتا تھا ۔
شادی کا دفتر بھی چلاتا تھا کہ آپس کے رشتوں کے علاوہ باہر سے جو رشتے آتے تھے وہ اسی کے معرفت آتے تھے اور اصیل النسل ہونے کی تصدیق کرنے کاکام بھی وہی انجام دیتا تھا۔ یہ بھی اسکے سپرد تھا کہ وہ سب کے شجرے یاد رکھے اور شادیوں کی تقریبات میں پڑھے تاکہ معلوم ہو جائے کہ لڑکی کس کی ہے اور لڑکا کس خاندان کا ہے ؟اسی وجہ سے گوتی کہلاتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ محاورہ مشہور ہوا کہ “ میری ڈھلیا میں روٹی تو سب میرے گوتی؟ اسکے علاوہ وہ چند گھڑیوں کے لیے ہی سہی مگر جراح کا کام بھی انجام دیتا تھا اور بچوں کو مشرف با اسلام کرتا تھا۔ اب وہ ہمہ صفت پیشہ ہی معدوم ہوگیا اور اس کے بجائے وہ باربر کہلانے لگا پھر مزید ترقی کی اور اس میں دونوں صنفیں شامل ہو گئیں ۔ تھیں تو پہلے بھی مگروہ نائن کہلاتی تھیں اورزیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ جب مساوات کا دور آیا تو وہ بیوٹی پارلر کے مالک یامالکن بن کر بجا ئے ۔حجامت کرنے اور بال کاٹنے کہ کھال کھینچنے لگے؟ گئے وقتوں ان کو ایک فہرست میزبان کی طرف سے دیدی جاتی تھی جس میں مدعو مہمانوں کے نام ہوتے تھے اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ گھر گھر جائے اور فہرست پر “ صاد “کراکر لائے اور یہ بھی بتائے کہ کس نے صاد کرنے سے انکار کیا اور وجہ کیا بتائی ؟ پھر میزبان کی طرف سے منانے کی کوشش شروع ہو جاتی۔ اب شادیوں کے موسم کی جگہ الیکشن نے لے لی ہے ۔اس میں بھی بعض لوگ وہی کردار دا کرتے ہیں مگر انہیں کوئی نام نہیں دیا جاتا ۔ اس میں وہ سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ جو عام حالات میں کسرِ شان سمجھا جاتاہے؟ شہر شہر انسانوں کی منڈیاں لگی ہوتی ہیں؟ مگر دکھا ئی نہیں دیتیں،البتہ وہ شہزادے جن کے برابر سے معمولی آدمی نکل جائے تو ناک پر انگلی رکھ لیتے ہیں وہ ان کے ہی قالین پر اپنے مٹی میں لتھڑے جوتوں کے ساتھ آتا ہے ، برابر بیٹھتا ہے سرگوشیاں کرتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے ماتھے پر شکن نہیں آتی۔ کیونکہ ان کے یہاں یہ بھی کہاوت رائج ہے کہ وقت ِ ضرورت گدھے کو بھی باپ بنا نے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عوام اسی میٹھی چھری سے بار بار ذبح ہو تے ہیں، مگر سبق کبھی حاصل نہیں کرتے۔چونکہ آجکل عام انتخابات نہیں ہیں ،اس لیے سرگرمیاں ہیں تو سہی مگر دکھائی نہیں دے رہی ہیں سوائے میڈیاکے ۔ آج کل بکروں کے ریٹ کہاں تک گئے بعد کو پتہ چلے گا۔ جبکہ حاجی صاحب سترہ لاکھ کی گائے اللہ کی راہ میں قر بانی کے لیے لیتے ہیں تو فورا ً تصویر اخبار اور ٹی میں بھی آجاتی ہے۔ چونکہ یہ ا لیکشن اشرافیہ کے ہیں رمضانیوں کے نہیں ، ان کے راز کھلنے کے بعد بھی نہیں کھلتے ،اس لیے کہ سب مسلمان ہیں اورانہیں مسلمان بھائی کاپردہ رکھنے کا حکم ہے؟

Posted in Articles | Tagged