حکمرانوں کی عافیت خلا پر کرنے میں ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مکڑی کے جالے کو ناپائیدداری میں دنیا سے تشبیہہ دی ہے کہ سب سے بودامکڑی کے جال کو قرار دیا ہے ۔ ایک سورہ اس نام سے قر آن میں شامل ہے ۔ جس کانام العنکبوت ( مکڑی )ہے۔ اس کے باوجود لوگ عقبیٰ کو چھوٹ کر دنیا سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں ۔  جبکہ آئے دن یہ دیکھتے بھی رہتے ہیں کہ کل تک جو ہم میں تھے آج نہیں ہیں۔کل جس ملک پر کوئی راج کر رہا تھا اسے اسی کے ماننے والوں نے دھکے مار کر تخت سے اتار دیا اور اس نے گٹر کے پائپوں سے پناہ چاہی مگر اسے انہوں نے بھی پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے ہر صاحب ِ اقتدار کو اور تمام سیاستدانو ں کو عبرت پکڑنا چاہیے تھی، لیکن بجائے عبرت پکڑنے کے وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ ہوس کی کھوپڑی ہے کہ بھر نہیں پاتی۔ چاروں طرف مختلف ناموں سے ا نہیں کے پالتو سانپ ان کی طرف پھن اٹھائے بڑھ رہے ہیں۔ اور روز بروز عوام کی ہمدردیاں حا صل کرکے طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر حادثے میں مقامی ہاتھ اور تعاون نظر آتا ہے ۔ اور آنکھ جب کھلتی ہے جب وہ کسی قطعہ زمین پر چیوٹیوں طرح نکل کر قابض ہو جاتے ہیں ۔ غیر یقینی کی آج کیفیت یہ ہے کہ کسی کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کون ہے اور کیا ہے اس کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں ؟ کیونکہ وہ بھی وہی چیز بیچ رہے ہیں جو صدیوں سے ہمارے آبا بیچتے آئے ہیں ۔ اس لیے کہ گناہ گار سے گناہ گار مسلمان جب اپنا محاسبہ کرتا ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف جب بھی رجوع ہوتا ہے تو ہماری مقدس کتاب اور احادیث برابر ہمیں خبر دار کرتی رہی ہیں انہیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ دیکھو ! اپنے رب کو مت ناراض کر دینا ورنہ وہ مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا ؟ اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ چونکہ ہم نے بجائے اس کے ارشادات کا کڑا مضبوطی سے پکڑ نے کے اسی بودے جال کا سہارہ لے رکھا جو ایک معمولی ہوا کا جھوکا بھی نہیں سہہ سکتا ۔ لیکن ہم ہیں کہ ہمارے حیلے بہانے ستر سال سے ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں ؟
اب خوف کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے سایہ سے بھی ڈرتے ہیں ۔ پوری دنیاپر خوف کی فضا مسلط ہو چکی ہے ،جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے “ ولیوں “ کے لیے نہ خوف ہے نہ رنج ہے “ یہاں “ولی “ سے مراد عام مومنوں سے ہے کیونکہ آگے اسی آیت البقرا 286 میں وضاحت کے لیے فرماتا ہے اللہ مومنوں کا ولی ہے جو تاریکی سے روشنی کی طرف بلاتا ہے ،جبکہ کافروں کا ولی شیطان ہے جو کہ انہیں جہنم کی طرف کھینچتا ہے “ یہاں سانپ منہ کھولے بیٹھے ہیں اور پکار رہے ہیں ہمارے پاس آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جس کی تمہیں تلاش ہے؟اور وہ نادانی میں انہیں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ کیونکہ آگے خلاہے اور دنیا میں کہیں وہ نظام موجود نہیں ہے۔ کہ وہ اصل اور نقل میں تمیز کرسکے ؟لہذا وہ ان کے جال  میں آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ جبکہ عوام الناس کا “ ولیوں“ کے بارے میں تصور مختلف ہے انکی نگاہ فوراً اسلامی تاریخ کی طرف چلی جاتی ہے ۔ اور ایک مخصوص گروہ پر جاکر ٹک جاتی ہے ،جو روشنیوں اور بلندیوں کے مینار تھے “جو سب سے محبت کرتے تھے اور نفرت کسی سے نہیں “ وہ تمام مسلمانوں کو ویسا ہی دیکھنا چاہتے تھے جیسے وہ خود تھے اور قرآن نے اس جملے میں ان کی شان میں یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ وہ “اللہ سے راضی تھے اور اللہ ان سے راضی ہے “ چونکہ یہاں ان لوگوں نے بھی خود کو ولیوں جیسا کو بنا رکھا ہے بیعت بھی انکی ہی طرح لیتے ہیں وہ ان کے جھانسے میں آجاتا ہے۔ جبکہ کردار اِنکا ولیوں سے الٹ ہے۔ کہ “یہ سب سے نفرت کرتے ہیں اور محبت کسی سے نہیں “ اگر متلاشی حق اس فرق کو اپنے سامنے رکھ کے ان سے موازنہ کریں تو با آسانی پہچان سکتے ہیں؟ کہ یہ وہ نہیں ہیں بلکہ کچھ اور ہیں؟
جنکے بارے میں بہت سی احادیث ہیں سورہ عنکبوت میں اس وقت کی صورت ِ حال کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک طویل حدیث ابن ِ کثیر (رح) نے وارد کی ہے جوکہ حضرت قتادہ کی زبانی ہے کہ حضور (ص) نے فرمایاکہ۔“ مشرق کی طرف سے میری امت کے کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ قر آن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا؟ ان کے ایک گروہ کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ اور اس کے بعد یہ ہی الفاظ حضور (ص) نے بیس مرتبہ سے زیادہ دہرا ئے، پھر فرمایا کہ اس کے بعد انہیں میں سے آخر دجال نکلے گا۔ دوسرے اسی وقت کے نامور اسکالر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا کہ“ ایک زمانہ ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلما ن بھائی کے لیے درہم اور دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اور اپنی دولت بھائی کو ہی سمجھتے تھے۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور (ص) سے سنا ہے کہ “ اگر تم بیلوں کی دُموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد (دین کے راستے میں ہر قسم کی جدوجہد) چھوڑدوگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈالدے گا(وہ اس وقت تک الگ نہ ہونگے ) جب تک کہ تم وہیں واپس نہ آجاؤ، جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو؟ پھر وہی حدیث بیان کی ہے جو اوپر گذر چکی ہے کہ۔ ًمیرے لوگ قر آن پڑھیں گے اور بد عملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ (تم ) ان کے علم کو دیکھ کر اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل ِ اسلام کو قتل کریں گے ۔ پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تم انہیں قتل کر دینا ،پھر نکلیں پھر مارڈالنا ، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ خوش نصیب ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ پھر نکلیں گے اللہ انہیں پھر بر باد کر دے گا ۔ پھر نکلیں گے اللہ تعالیٰ پھر بر باد کردے گا۔ اسی طرح حضور (ص) نے کوئی بیس مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ بار فرمایا۔
اس سلسلہ کا پہلا گروہ پہلی صدی میں ہی سرکار (ص) کی پیش گوئی کے مطابق نمودار ہوا ، جیسا کہ حضور (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بتاکر خبر دار کردیا تھا۔ وہاں ان کی تعریف یہ ہی فرما ئی تھی کہ وہ تم سے اچھے قرآن کے قاری ہونگے اور تمہارے ہاتھو سے قتل ہو نگے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا وہ چار ہزار مارے گئے جنہوں نے لڑنے کا فیصلہ کیا؟ لیکن ان کی جڑیں ختم نہیں ہوئیں بعد میں وہ ساری دنیا میں پھیل گئے جنہوں نے عام معافی سے فائدہ اٹھا کر وقتی طور پر میدان چھوڑ دیا تھا ، حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس زمانے میں بھی باقی تھا جو ابنِ کثیر (رح) کا دور تھا ۔ آخر وہ سلسلہ چنگیز اور ہلاکو کے دور میں کہیں جاکر اس لیے ختم ہوا کہ ان تک فدائین کی رسائی نہ تھی کیونکہ وہ اپنے علاوہ اپنی فوج میں کسی دوسرے کو نہیں لیتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تھے جنہیں ہم خارجیوں کے نام سے جانتے ہیں اور انہوں نے مسلمان امراءکی ناانصافیوں کی بنا پر جنم لیا تھا اس وعدے کے ساتھ کہ ہم بے انصافیوں سے نجات دلائیں گے۔ نا انصافی ایک ایسا  “خلا “ہے کہ جو بھی اسے پر کرنے کا وعدہ کرے عوام اسکے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ آج کل بھی یہ ہی ہو رہا ہے۔ اور یہ اسوقت تک ہوتا رہے گا جب تک حکمراں خود تائب ہو کر مسلمان نہ بن جائیں اور جو اپنے لیے چاہتے ہیں وہی عوام کے لیے بھی چاہیں ۔ کیونکہ دلوں میں الفت صرف اللہ سبحانہ پیدا کر سکتا اور وہ جبھی پیدا کرتا ہے جب وہ راضی ہو؟
اس کے برعکس جب ناراض ہوتا ہے تو سزا دینے کے لیے وہ ظالم حکمراں مسلط کر دیتا ہے جیسے کہ چنگیز ، ہلاکو اور اس سے بھی پچھلے دور کے حکمراں جن کے ہاتھوں فلسطین دومرتبہ تباہ ہوا۔ اور اللہ  تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے “ توبة نصوح “ کی ضرورت ہوتی ہے، صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا۔ اگروہ چلتا تو پہلے دن ہی چل چکا ہو تا۔ کیونکہ یہاں جس سے واسطہ ہے ۔ وہ دانا اور بینا ہے جو قرآن کے مطابق تمہارے دلوں میں آنے والے خیالات سے بھی واقف ہے، تمہاری سوچوں تک سے واقف ہے یہ اور بات ہے کہ وہ اس پر سزا جبھی دیتا ہے جب تک کہ وہ فعل بندے سے سرزد نہ ہو جائے اگر وہ سوچوں پر فوراً سزا دیتاتو آج دنیا میں ایک فرد بھی نہ بچتا ؟ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمارے علماءکا فرض بنتا ہے کہ وہ باہر نکلیں۔ اور اس پر عمل کریں جو ہم نے انہیں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ بخشش کی امید بغیر عمل کے نہ دلائیں، جس سے بے عملی فروغ پائے بلکہ دلوں میں خوف ِ خدا پیدا کریں جو سب کے دلوں سے مفقود ہوچکا ہے۔ کیونکہ حکمت کا تقاضہ بھی یہ ہی ہے ۔ اور اللہ کی سنت بھی یہ ہی  ہےکہ جب تک کوئی قوم گمراہ نہیں ہو ئی اس نے اس کی طرف ڈرانے والا نہیں بھیجا ۔ اس میں دونوں صفات ہوتی تھی کہ وہ نذیر بھی ہوتا ہے اور بشیر بھی۔ ختم نبوت  (ص)کے بعد اب آپ کے ذمہ یہ کام ہے جو حضور (ص) نے تخویص فرمایا ہے۔ آپ بھی دونوں کام کیجئے۔ کیونکہ دنیا کی فلاح اسوقت زراعت میں تھی جو بھی آتا تھا وہ انہیں بتاتا تھا کہ تم ایمان لے آؤ، اللہ بے انتہا روزی بارشوں کے ذریعہ دے گا اور اگر نہیں مانوگے تو تمہیں نیست اور نابود کر دے گا۔ قرآن دیکھیں کہ اس نے پہلے بہت محبت سے سمجھا یا ہے کہ تم جو کچھ کروگے اپنے لیے کروگے میری سلطنت اس سے نہ بڑھے گی نہ گھٹے گی ۔ اور جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ عرض کیا تھا۔ اس نے اسی سورہ کی آیت 23میں صاف صاف فرما دیا ہے کہ جو برائیاں جاری رکھیں اور مجھ سے ملاقات پر یقین نہ رکھتے ہوں وہ میری رحمت سے مایوس ہو جائیں ؟ ہم نے مسلمانوں کو اللہ سے ڈرانے کے بجائے اس کی رحمت پر یہ کہہ کر زور دیکر رکھا ہے ۔ کہ وہ بڑا رحیم و کریم ہے ۔ نہ جانے کس بات پر بخش دے؟ بے شک وہ رحیم اورکریم ہے  جو چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن وہ فرماتا ہے کہ میں عادل بھی ہوں، کسی کے ساتھ اس دن ظلم نہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین)

 

Posted in Articles | Tagged ,

اچھے طالبان ،برے طالبان اور ان کی پہچان ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

آج کے دور میں یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ اچھا کون ہے اور برا کون ہے۔ کیونکہ اب معیار یہ بن گیا ہے کہ جو ہمارے ساتھ اچھا ہے وہ اچھاہے اور جو ہمارے ساتھ برا ہے وہ برا ہے۔ اس کو بھی دوام اس لیے نہیں ہے کہ  سیاست کے ساتھ وفاداریاں بدلتی رہتی  ہیں  ، اچھے برے اور برے اچھے ہوتے رہتے ہیں ۔جبکہ اسلام میں یہ معیار کبھی نہیں رہا کیونکہ وہاں یہ ہے کہ جو حضور (ص) کے راستے (اسوہ حسنہ) پر پوری طرح عامل ہے وہ اچھا ہے اور جس کا ایک فعل اسکے خلاف ہے وہ برا ہے؟ اس سلسلہ میں آیات بھی ہیں اور احادیث بھی ہیں۔ اور ان کے اتباع میں وہ بزرگ تو یہاں تک چلے گئے ہیں جنہیں کہ اسلام کے خود ساختہ ٹھیکید دار بدعتی کہتے ہیں کہ اگر کسی کا ایک فعل بھی خلاف سنت ہو تو وہ ولی نہیں ہوسکتا بلکہ شیطان ہے؟ اس کی وجہ بڑی واضح ہے کہ اسلام نے ایک نظام حیات دیا ہوا۔ لہذا مومن کو کہیں اور سے ہدایت لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جیسے ہم یہ محاورہ اکثر استعمال کرتے ہیں کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے؟ سننے میں بہت اچھا ہے مگرقطعی غیر اسلامی ہے؟ کیونکہ اسلام میں معاف کرنا افضل ہے، اگر مظلوم بدلا لینا چاہے تو اتنا ہی  لے سکتاہے جتنا اسکو نقصان پہونچا ہو! لہذا اینٹ کا بدلا اینٹ ہے پتھر نہیں ِ جبکہ ہم نے دل کے بہلانے کو طرح طرح کے حیلے بہانے گڑھے ہوئے ہیں اور اس پر یہ زعم بھی ہے کہ ہم مسلمان ہیں ؟ جبکہ مسلمان کی اسلامی تعریف یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور آج کے مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ سچ نہیں بولتا؟ جھوٹ کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ بنانے کے لیے ایک لامنتاہی سلسلہ جھوٹ کا شروع ہوجاتا ہے اور دوسرے ہزاروں جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں ۔ مشاہدہ ہے کہ اگر کوئی جھوٹ بولتا ہو تو اس کے چہرے تاثرات ساتھ نہیں دیتے ۔ لہذا جو سامنے والا ہے وہ مطمعن نہیں ہوتا اور اس ملاقات سے کوئی اچھا اثر لیکر نہیں اٹھتا ،نتیجہ یہ کہ اس شخص کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ جس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے؟
لہذاصورت حال یہ ہے کہ آج من حیثیت القوم ہماری کسی بات کاکوئی اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔جنہوں نے یہ سانپوں کی نرسری اسلام میں اگائی تھی ۔ آج وہ انہیں سانپوں سے خود خائف ہیں ۔ کیونکہ ان کی توپوں کا رخ اب انہیں کی طرف ہے۔ جنہوں نے انہیں کاٹنا سکھا یا تھا۔ اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں ؟ جسے ہمارے حکمراں اور رہنماڈپلومیسی کہتے ہیں ۔ اور اپنے دل میں مطمعن رہتے ہیں کہ ہم پر لوگ عتبار کر رہے ہیں ۔ جبکہ کسی جھوٹے پر کوئی کبھی اعتبار نہیں کرتا، یہ اور بات ہے کہ منہ پر نہ کہے؟ کیونکہ نہ تو وہ وقت کاپابند ہوتا ہے، نہ بات کا پابند ہوتا ہے اور نہ وعدے کا پابند ہوتا۔ اس کی حضور (ص) نے  اس قسم کے کردار جوتعریف یہ فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ جو کہتا ہے اس پر عمل نہیں کرتا، وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا، امانت رکھو تو خیانت کرتا ہے؟ اس کا اسلام میں مقام کیا ہے؟ وہ احا دیث جاکر پڑھ لیجئے؟
اسلام نے ایک کلیہ بنا دیا کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برے کاموں میں نہیں ؟لہذا اگر کوئی مسلمان کسی ظالم کا ساتھ دے رہا تو وہ اتنا ہی بڑا مجرم ہے جتنا ظلم کرنے والا۔ اس میں ایسی کوئی شق نہیں کہ اچھا ظالم اور برا ظالم ، بس ظالم ، ظالم ہے؟ اور اس کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ حکم یہ ہے کہ اگر اسے طاقت کے ذریعہ سے روک سکتے ہو تو طاقت سے روک دو، زبان سے ٹوک سکتے ہو تو ٹوکو ! اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے ہو تو اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھو؟ ہم کیا کر رہے ہیں ۔ وہی جوکہ پچھلے ادوار میں جبکہ جنگلات ڈاکوؤں سے بھرے پڑے تھے، جنگلات کے قریب رہنے والے زمیندار کیا کرتے تھے۔ کہ ڈاکوؤ ں سے دوستی کر لیتے ،ان کا ماہانہ مقرر کر دیتے تھے۔ کہ بس ہمارے یہاں کچھ نہ کرنا باقی تم کہیں کچھ بھی کرتے پھرو؟ اور کوئی مظلوم آکر ان سے ان کے ظلم کی شکایت کر تا تھا وہ کہتے تھے۔ وہ ! یسا آدمی نہیں تمہیں غلط فہمی ہو ئی ہوگی وہ تو بہت شریف ہے بلکہ وہ تو بڑا مخیر بھی ہے؟
آج بھی ہمارا رویہ یہ ہی ہے؟ کیونکہ یہ ہی ہمارا اچھائی اور برائی کا معیار ہے۔ بات بنے تو کیسے بنے؟ ہم نے سب سے دوستی رکھی ہوئی اور ان کو اپنا ولی بنایا ہوا۔ اس لیے کہ ہمارے لیے وہی اچھا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کی وجہ سے ہمیں اپنے ملک میں ان کو پرٹوکول بھی دینا پڑتا ہے؟ جس سے ہمارے کسی مربی کا تعلق ہو اور اسے بھی وہی مراعات دینا پڑتی ہیں جو ہم اپنے مربی کو دیتے ہیں ۔ صرف دعوے بڑے بڑے کرتے ہیں ۔ بہت سے سبز باغ دکھا تے ہیں لیکن کہیں سے اگر ایک “ ہالٹ “کاحکم فون پر بھی آجائے ؟ تو کسی ماتحت کی طرح گھبراہٹ میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، سلوٹ مارکر اسوقت تک الرٹ کھڑے رہتے ہیں جب تک کہ فون بند نہ ہو جائے، جیسے کہ مربی فون پر بھی دیکھ رہا ہو ۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جو واقعی دیکھ رہا ہے اس سے قطعی نہیں ڈرتے؟ نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں“ حکومتی رٹ “کی رٹ بہت ہے ۔ مگر “ حکومت کی رٹ “عملی طور پر کہیں نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کریں کیا؟
جواب یہ ہے کہ حالات جب ہی درست ہوسکتے ہیں جبکہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے اپنا رشتہ دوبارہ استوار کرلیں، اور سچے مسلمان بن جا ئیں، جو اپنے لیے پسند کریں وہی عوام کے لیے بھی پسند کریں، تاکہ لوگوں کو انصاف مہیا ہو ؟ ورنہ کبھی خیبر پختون خوا میں ،تو کبھی بلوچستان میں تو کبھی ملک کے کسی اور حصے میں لوگ درندوں کے ہاتھوں شہید ہوتے رہیں گے ،معصوم بچے اور قوم کے محافظ گولیوں اور بموں کا نشانہ بنتے رہیں گے؟سرکار سوگ مناتی رہے گی اور قوم ما تم کرتی رہی گی کبھی ایک واقعہ ہوگا کبھی دوسرا واقعہ ۔ پھر اس کے بعد لاکھوں کے معاوضے کا اعلان ہو گا۔ آخر یہ کھیل کب تک جاری رہے گا۔ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں گے ۔ اس طرح تو قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا ئے گا۔ اور سال کے دن بھی سوگ کے لیے مخصوص کرتے کرتے ایک دن ختم ہوجائیں گےاور ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ سارے منصوبے دھرے کہ دھرے رہ جا ئیں گے ۔ ان سے متعلق جو بستیاں آباد ہونگی وہ کا لا باغ ڈیم کی طرح بھوت بستیاں بن جا ئیں گے۔ جیسے پہلے کہ ایک کا حشر ہو چکا ہے۔
حکمراں اگر پر تعیش زندگی نہیں چھوڑ سکتے ہیں اپنے عوام کا تحفظ حضرت عمر (رض) کی طرح نہیں کرسکتے ہیں۔توکم ازکم ان کی اس سنت پر ہی عمل کرلیں کہ جب وہ دلبرداشتہ ہو تے تھے۔ تو ان بستیوں کا رخ فرماتے تھے جو کبھی آباد تھیں۔ سونے گھرکے دروازے پر کھڑے ہوکر آواز دیتے تھے۔ جب جواب نہیں آتا تھا تو جواب بھی خود ہی دے لیتے تھے؟ یہ سب سورہ القصص کے آخری رکوع میں ابن کثیر (رح) کی تفسیر میں پڑھ لیں اور وہیں آیت نمبر 83 اور 84 میں یہ بھی پڑھ لیں کہ جہا ں پہلی آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ ” جو دنیا سے نیکیا ں لے کر آئیں گے۔ا ن کو اس سے زیادہ ملے گا اور انہیں کو صرف جنت عطا کی جائے گی ” اس آیت کی یہاں زیادہ وضاحت نہیں ہے جبکہ دوسری جگہ وضاحت بھی ہے اور صلہ بے حساب بھی فرمایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خلوص پر منحصر ہے کہ نیک عمل خالصتا ً اللہ تعالیٰ کے لیے تھا؟ یہاں یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ دکھاوے کے لیے یاکسی غیر اللہ کے لیے نہ ہو ورنہ۔۔۔ صفر بھی ہوسکتا ہے؟ جبکہ آیت 84میں یہ لکھا ہے کہ جو وہاں سے برا ئیاں لیکر آئیں گے انہیں اتنی ہی سزا دی جا ئے گی۔ جتنی برائیاں وہ لیکر آئیں۔ مگر یہ آئتیں، پورا قرآن اور حضور (ص) کاا سوہ حسنہ ان سب کے لیئے یا اس کے لیے ہے۔ جو اس پر یقین رکھتا ہو، تبھی مانے گا کہ اللہ مجھ پر نگراں ہے اور وہ دانا اور بینا بھی ہے؟ نیز مجھے ایک دن اس کے سامنے پیش ہو نا ہے۔ اور اپنا ہی نہیں اپنی پھیلائی ہوئی برا ئیوں کا بھی حساب دینا ہے اور اپنے ان ساتھیوں کا بھی حساب دینا ہے جن پر میں نے آج مصلحتاً آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اللہ ہمارے حکمرانوں اور ہم سب کو عمل کرنے کی ہدایت دے اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین ورنہ سورہ عنکبوت کی آیت 23  پڑھ لیں جہاں صاف صاف فرمادیا گیا ہے۔ “ برائیاں کرنے والے میری رحمت سے مایوس ہوجائیں “

Posted in Articles | Tagged ,

نیاتنازع پاکستان کس تاریخ کو بنا؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

پچھلے دنوں مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس فقیر کے غریب خانے پر جناب یاور مہدی صاحب کراچی سے تشریف لا ئے جبکہ رہبری کے فرائض کیپٹن منصور صاحب انجام دے رہے تھے۔ خیرو عافیت سے بات آگے بڑھی تو یہ راز کھلا کہ ذکی صاحب نے اپنی کتاب “صدائے پاکستان کی دو جلدیں یاور بھائی کو مجھے پہچانے کے لیے دیں ہیں جبکہ وہ میرے ہمسایہ شہر سیاٹل ( امریکہ ) میں اپنے علاج کے سلسلہ میں تشریف لا رہے تھے۔ ا ور اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی تھی کہ ایک میں رکھ لوں اور اس پر تبصرہ بھی کروں اور دوسری جناب صفدر ھمدانی کو لندن روانہ کردوں جوکہ جناب علی ھمدانی  (مرحوم)جیسی تاریخ ساز شخصیت کے نامور فرزند ہیں کیونکہ میں عالمی اخبار سے وابستہ ہوں ۔ حسب الحکم تبصرہ کالم کی شکل میں پیش ِ خدمت ہے۔
یہ ریڈیو پا کستان پر ایک بہت ہی سیر حاصل اور سودمند کتاب ہے جوکہ جناب ذکی احمد ذکی کی تحقیق و جائزہ کی شکل میں 384 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جنرل نالج اکیڈمی کراچی نے“ صدائے پاکستان “ کے نام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کیا ہے بیش بہا معلومات کا خزانہ ہے، اس میں وہ سب کچھ ہے جو کسی طالب علم کی ہی نہیں بلکہ محقق کی بھی علمی پیاس پوری کرسکتی ہے؟ کیونکہ یہ ریڈیو کے موجد مارکونی سے شروع ہو کر، بابائے ریڈیو پاکستان جناب زیڈ ے بخاری (مرحوم) سے ہوتی ہوئی اس افراتفری کے دورمیں نئی نسل پر توجہ دینے والی پہلی شخصیت جناب یاور مہدی پرختم ہوتی ہے! میں نے انہیں پہلی شخصیت اس لیئے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے، کیونکہ ہر ایک کو اپنی بقا کی فکر لاحق تھی۔ کسی کے پاس اِدھراُدھر دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ لہذا جو جہاں تھا وہاں پیر جمانے کی کوشش کر رہا تھا ،نئی نسل ہی کیا سب کچھ سب نے فراموش کر رکھا تھا۔ مگر یہ ان کی انفرادیت تھی کہ انہوں نے نئی نسل کو یاد رکھا ! یہاں تک کہ ان کے اپنے بچوں کو ا ن سے شکایت پیدا ہو گئی، جس میں ان کی صاحبزادی محترمہ فوزیہ عسکری شامل ہیں ،جن کا مضمون اسی کتاب کے صفحات پر موجود ہے۔ “ میرے والد نے ہم پر بھی اپنے مشن کو ترجیح دی اور ہم ان کی توجہ سے پوری طرح استفادہ نہیں اٹھا سکے “ وہ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا گھر ہی ریڈیو اسٹیشن کو بنا لیا تھا، کہ کچھ اس طرح ریڈیو پاکستان میں بچوں کی پھلواڑی سجا ئی جو کہ بعد میں شاعروں اور ادیبو ں کی نر سری ا گانے کا باعث ہوئی ،اس طرح پاکستان ادب اور ثقافت میں خود کفیل ہوگیا۔ اگرموجودہ نسل سے ایک نسل پیچھے کی طرف جھانک کر دیکھا جائے تو زیادہ تر ادیبوں اور شاعروں کا تعلق ریڈیو پاکستان کی اسی پھلواڑی سے نظر آئے گا، جنہوں نے بہت سے میدانوں میں نام پیدا کیا۔ اور یاور بھائی نے اس طرح ایک مثبت کام کر کے تاریخ ساز شخصیت ہونے کا فخر حاصل کیا۔ جس کے لیئے قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ کیونکہ اپنے بچوں پر اوروں کو ترجیح دینا بڑے دل اور گردے کا کا م ہے۔
ان کے علاوہ جن لوگوں نے ریڈیو پاکستان کو ریڈیو پاکستان بنا نے میں مدد دی ان کی بھی خدمات اس کتاب میں اجاگر کی گئی ہیں وہ فہرست بہت طویل ہے ، یہاں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ پیش کی جاسکے، آپ بھی اسی فہرست میں تلاش کیجئے شاید کو ئی شناسا نکل آئے ۔
فاضل مصنف نے اسے جس طرح سجاکر نوک پلک سنوارے ہیں یقیناً یہ انہیں کا حصہ ہے۔ یہ لاہور اور پشاور اور ڈھا کہ پر مشتمل ادارہ تین شہروں سے بچپن شہروں تک کیسے پہونچا ا ولعزمی کی ایک طویل داستان ہے جو کہ اس کتاب میں بڑی خوبصورتی سے سموئی گئی ہے۔ ان کے قلم نے مجھے بھی فخر کرنے کا موقعہ عطا فرمایا کہ میرے شہر “ پیلی بھیت کے دو فرزندوں کا اس میں ذکر کیا ہے! ایک گم نام یعنی جناب طاہر خانصاحب اور دوسرے بہت ہی نامور جناب رضی حیدر صاحب۔ اور اس طرح مجھے بھی فخر کے ساتھ ان کا ذکر کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اس میں طاہر خان صاحب کو یوں زیادہ ا ہمیت حاصل ہے کہ صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی قیادت میں کانگریس کی حکومت تھی ، جبکہ عوام ان کے بھائی خان عبد الغفار خان (مرحوم ) کے والا اور شیدا تھے جوکہ سرحدی گاندھی کہلاتے تھے ، نیزاپنی ذاتی خدمات کی وجہ سے وہاں کے عوام میں بہت مقبول تھے وہ ان کو ہی اپنا سب کچھ مانتے تھے؟ جبکہ مسلم لیگ اور قائد اعظم کے بارے میں ان کی وہی معلومات تھیں جو ان کے لیڈر اور سرحد ی حکومت کے ذرائع ابلاغ ان کو دن ، رات بتارہے تھے جو آپ خودسمجھ سکتے ہیں۔ جبکہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت ریفرنڈم سے مشروط کردی گئی تھی۔ ایسے میں ایک ریڈیو اسٹیشن طاہر خان نے بنا یا اور پھلوں کی ٹوکریوں کے ذریعہ پشاور پہونچاد یا ، جبکہ اس سے پہلے سردار نشتر صاحب کو جوکہ عبوری حکومت میں وزیر مواصلات تھے۔  ایمپلی فائر بنا کر دیا تھا۔ اسی کو دیکھ کر نشتر صاحب نے ان سے ریڈیو اسٹیشن بنانے کی فرمائش کی جو انہوں نے بناکر پیش کردیا، جس کی آواز صرف ستر میل تک سنی جاسکتی تھی۔ اُسی کے ذریعہ عوام کو مسلم لیگ سے روشناس کرایا گیا۔اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ پورٹ ایبل تھا جو پھلوں کے ٹوکروں میں روز اپنی جگہ بدلتا رہا، کیونکہ حکومت اس کی تلاش میں رہتی تھی۔ دوسری کاوشوں کے ساتھ یہ بھی عوام میں جاگ پیدا کرنے کا باعث ہوا۔ خان صاحب کی حکومت اپنی تمام کوششوں کے باوجود اسے تلاش کر نے میں ناکام رہی، اور مسلم لیگ ریفرنڈم جیت گئی۔ کوئی اور قوم ہو تی تو طاہر خان کو پاکستان بننے کے بعد سر پر اٹھا لیتی؟ لیکن قوم بھول گئی اور انہیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے راولپنڈی میں ایک ورکشاپ کھولنا پڑی۔ ممکن ہے نئی نسل کو میری بات سمجھ میں نہ آئے کیونکہ آجکل تو یہ سب چیزیں دکانوں پر عام ملتی ہیں جبکہ اسوقت ان کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا؟ اور دوسری شخصیت جناب رضی حیدر ہیں جن کا تعلق میرے شہر سے ہے، جوکہ پاکستان کے دانشوروں میں بہت ہی بلند مقام رکھتے ہیں ، وہ قائد آعظم اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہے اور ان کی سوانح حیات لکھی ،وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی خدمات انجام دیں جنکی تفصیل اگر میں دوں تو جگہ چھوٹی پڑیگی۔
ذکی صاحب نے کتاب بہت اچھی طرح سے شروع کی کہ ابتدا ء بابائے ریڈیو پاکستان جناب زیڈ اے بخاری (مرحوم)کی کتاب کے ایک طویل اقتباس سے کی ، جس میں ریڈیو کی تاریخ کو بہت اچھی طرح پیش کیا گیا ہے، وہ تمام مشکلات ہیں جو انہیں قدم۔ قدم پر پیش آئیں جو کہ ایک نئے ملک میں نیا ریڈیو اسٹیشن بنا نے کے بارے میں ہیں، خاص طور پر کراچی ریڈیو اسٹیشن کے بارے میں ! جہاں پہلے فوجی بیرکوں میں دار الحکومت بنا اور دار الحکومت کے تقاضے پورے کر نے کے لیے پھر ایک انتہائی طاقتور ریڈیو اسٹیشن بنا۔ مگر اس کے کچھ پیرا گراف آگے جاکر جو جملہ اردو میں تحریر کیاگیا ہے اور قیام پاکستان کے متعلق ہے “ 14 اگست کی شب میں ٹھیک بارہ بجے “  جناب ظہور آزر کی زبان سے اعلان ہوا  “ جو صفحہ 67 پر لکھا گیا ہے ،اس سے یہ پیغام یہ جارہا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو بنا؟ (جسے کچھ لوگ پہلے ہی الجھانے کے لیے کوشاں ہیں) اس پر ذکی صاحب اگر تھوڑی سی وضاحت فرمادیتے تو یہ بات واضح ہوجاتی کہ اصل پروگرام صبح آزادی صرف جناب علی ھمدانی (مرحوم) کی آواز میں نشر ہوا۔ ظہور آزر صاحب کا علامیہ جو ریڈیو کی اصطلاح میںاسٹیشن کال کہا جاتا ہے ،اس کے علاوہ اور جو کچھ پیش ہوا۔ وہ صبح کی نشریات میں تھا۔ جس میں تلاوت، علامہ اقبال کا ترانہ ہی نہیں بلکہ احمد ندیم قاسمی ( مرحوم )کے چند نغمے بھی شامل تھے۔ ۔ کیونکہ علی ھمدانی صاحب کا اعلامیہ کا دورانیہ صرف 35 سیکنڈ کا تھا۔ تلاوت بھی اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی بلکہ صبح کے پروگرام میں ہوئی ۔ تو اس کتاب کی حیثیت غیر متنازع رہتی۔ جبکہ موجودہ صورت میں ۔ یہ حصہ کئی غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اس میں ایک تو یہ ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ اعلان چودہ اگست کی شب کو ہوا تو پھر پاکستان کا یوم آزادی 15ا گست بنتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ 13 اور 14کی درمیانی شب کو ٹھیک بارہ بجے ہونا چاہیے جبھی کہیں جاکر یوم آزادی 14 اگست بنتاہے۔ جو کہ تاریخی حقیقت ہے کہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے کراچی آکر 14 اگست کو پاکستان کا اقتداربر طانیہ کے وائسرائے کی حیثیت سے مسلم لیگ کی قیادت کو منتقل کرنے کا اعلان کیا اور دوسرے دن 15 اگست کو ہندوستان کے گورنرجنرل کی حیثیت سے خود حلف لیا ۔ کیونکہ یہ سارا کچھ میری نگاہوں کے سامنے گزرا ہے اور یاداشت میں محفوظ ہے۔ اس کو تقویت دینے کے لیے میں یہ دو لنک یہاں پیش کر رہا ہوں جو کہ ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کا ایک حصہ ہیں ؟
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=46208
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=46226

 

Posted in tabsarah | Tagged ,

پوت ، سپوت اورکپوت۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی

تمام پڑھنے والوں کو نیاسال مبارک ہو،اور ہم پہلے کی طرح اپنے نبی (ص) کے سچے پیرو بن جائیں تاکہ قرون ِ اولیٰ کی طرح پھر ہمارے اوپر رحمتوں کی بارش ہو۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اور باعمل یعنی اسلام کا سچا سپوت بننے کی توفیق نصیب فرمائے( آمین)
پوت کسے پیارے نہیں ہوتے اور اگر وہ ساتھ ہی سپوت بھی ہوں تو اپنے دین اور باپ دادا کا نام روشن کرتے ہیں اور اگر کپوت نکل جا ئیں تو پھر سب کا نام ڈبونے کا باعث بنتے ہیں؟ آج سے ہم سو سال پہلے گر کسی سپوت کی تعریف کرتے تو لوگ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوجاتے کہ لکھنے والا شاید سٹھیا گیا ہے کہ یہ جنس تو بالکل عام ہے! اسی طرح، جس طرح اسوقت جھوٹ بولنے والا غیر مہذب ملکوں میں نہیں پایاجاتا تھااب اس کا الٹ ہے ، جواب مہذب ملکوں میں ناپید ہے اور غیر مہذب ملکوں میں عام ہے۔ بالکل اسی طرح اس دور میں سپوت افراط سے تھے اور کپوت پائے ہی نہیں جاتے تھے اگر ڈھونڈتے تو لاکھوں میں ایک ملتا۔ اب صورت ِ حال اس کی الٹ ہے۔ ممکن ہے کہ نئی نسل سپوت کے معنی ہی نہ جانتی ہو؟ لہذا پہلے ہم پوت، سپوت اور کپوت کے معنی بتا دیں۔اصل میں سپوت کا لفظ اردو میں ہندی سے آیا ہے اورا سی سے اسکا الٹ کپوت بنا اور پوت کی سب سے اعلیٰ شکل سپوت ہے۔ اب شاید کوئی بچہ یہ سوال کر بیٹھے کہ انکل مجھے تو اردو ہی نہیں آتی آپ مجھے ہندی کیوں پڑھا رہے ہیں ۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر ہندی کے تمام الفاظ اردو سے نکال دیے جائیں تو اردو نصف رہ جائے گی؟ اور باقی زبانوں کے الفاظ بھی نکال دیے جائیں تو پھر کچھ نہیں بچے گا ؟صرف رسم ا لخط رہ جائےگا جو تمام زبانوں کے الفاظ کو ااردو کی تسبیح میں دانوں کی شکل میں سموئے ہوئے ہے۔؟ اس پر ضمنی سوال یہ ہوسکتا ہے کہ ہم انگریزی سے کام چلالیں گے، پھر اردو کی ضرورت کیا ہے۔؟ بہت اچھا سوال ہے مگر جواب بڑا دردناک ہے؟ وہ یہ ہے کہ آنے والی نسل اس بڑے ذخیرے سے محروم ہو جائےگی جو اسلامی تعلیمات سمجھنے میں آج سب سے بڑا معاون ہے ا س سارے ذخیر ے کو کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ناممکن ہوگا اس لیے کہ اردو کی طرح دوسری کسی زبان میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ہر زبان کے الفاظ کو اپنے اندر سموع لے! لہذا اول توترجمہ تشنہ ہوگا اور پھر اسے کئی صدیاں اس میں منتقل کرنے میں لگیں گی؟ اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف؟
پچپن میں ہم نے اکبر الہ آبادی کا ایک شعر پڑھا تھا مگر اس وقت تک ہم نے لندن اور یورپ نہیں دیکھاتھا؟ جس کے بارے میں یہ شعر تھا، اس لیے ہم اس کے معنی نہیں سمجھ پائے وہ ہم بعد میں سمجھے، جب دنیا دیکھی۔شعر یہ تھا ع “ مہذب ہو ئے ہم اتنے کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا    کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے ہسپتال جاکر “ اب ہمیں جبکہ ا س شعر کے پورے معنی معلوم ہو چکے ہیں ۔ زمانہ اتنا بدل گیا ہے کہ معاشرے میں سپوت کو ڈھونڈنے کے لیئے۔ شہروں شہروں جانا پڑے گا، تب کہیں جاکر مشکل سے سپوت ملے گا ۔ اب آپ کہیں گے آپ نے اپنی کتابوں کے ا نتساب میں اپنے اہل ِ خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ جو لکھا ہے کہ “ اللہ نے مجھے سب اچھا عطا فریا “ وہ غلط تھا اور پھر تھوڑا سا اور آگے بڑھیں گے کہ آپ یہ جو ہر محفل میں کہدیتے ہیں میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا ؟اس سے یہ دعویٰ بھی جھوٹاثابت ہوتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ الحمد للہ یہ میرے مالک کا مجھ پر بڑا کرم ہے کہ مجھے پوری فیملی ہی نہیں بلکہ مہذب لوگوں میں جسے “ایکسٹینڈ یڈ فملی “ کہتے ہیں وہ بھی مجھے اچھی عطا فرما ئی، مگراس وقت  یہ ہی بات  کہتاتویہ بے وقت کی راگنی ہوتی لوگ کہتے کہ بڑے میاں اپنے منھ خود میاں مٹھو بن رہے ؟لیکں اب میں آپ کی عدالت میں کھڑا ہو ں اور جھوٹ کا الزام مجھ پر لگ رہا ہے جبکہ اپنی صفائی میں سب کچھ کہنے کا ہر ملزم کو مہذب ملکوں کے قوانین میں حق ہے اس لیے یہ حقیقت میں نے بیان کردی۔
اصل میں ہم ایک ایسے سپوت سے پچھلے ہفتہ واقف ہوئے جن کا نام ہے محمد حَسین ہے، جو ریٹائرد فوجی افسر وں کے برعکس بڑے خوش مزاج ہیں ،اور اسی وجہ سے کھلنڈرے سے معلوم ہوتے ہیں !وہ اپنے نام کو بھی کبھی کبھی خودہی یہ کہہ  کرمذاق کا نشانہ بنا نے لیتے تھے۔ کہ “ میرے والدین نے نہ جانے کیوں میرا نام “حَسین “رکھا؟ اس کیوں سے ایک سوال اور نکلتا ہے کہ اسلام نے خاص طور سے والدین پر یہ ذمہ داری جو ڈالی ہے کہ وہ اولاد کو اچھا نام دیں ۔ اس میں یہ راز پوشیدہ ہے ۔ کہ نام انسان کا کردار بنانے میں بہت اہمیت رکھتے ہیں؟ اور ایسے لوگ اسی بنا پر اسم ِ باسمیٰ کہلاتے ہیں۔ اسی لیے حضور (ص) نے کچھ صحابہ کرام (رض) نام انکے ایمان لانے کے بعد تبدیل فرمادیے تھے۔ جو مہمل تھے یا جن کے معنی اچھے نہ تھے؟ پہلے نام قر آن سے لیتے تھے، تو یہ سونے پہ سہاگے کاکام کرتے تھے ؟ اب جہاں سے چاہتے ہیں وہیں لے لیتے ہیں لہذا کرداروں میں بھی وہ صفات نہیں ہیں۔ شاید شخصیت میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ نام بھی ہوں؟
چند یوم پہلے حسین صاحب کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانَا الیہ راجعو ن ہ، تو انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں قرآن خوانی کے موقعہ پر کچھ عرض بھی کردوں؟ مجھے بڑی حیرت ہوئی وہ مجھ سے یہ چاہتے ہیں جوکہ اتنے کڑوے کسیلی کالم لکھتا ہے اور ویسی ہی تقریریں بھی کرتا ہے؟ میں ان سے سالو ں سے واقف تھا ، بعد میں وہ نجم صاحب کے ہاں مجھے سننے بھی کبھی کبھی آنے لگے ،جبکہ ان کی بیگم صاحبہ مستقل میرے پرگراموں جو ہر ہجری مہینے کی 13تاریخ کو ہوتا ہے ،اس میں نہ صرف تشریف لایا کرتی تھیں بلکہ دوسری خواتین کو بھی وہاں آنے کی تلقین فرماتی تھیں۔ مگر میں حسین صاحب کی اس اد اکو بھی ان کی افتاد ِ طبع کی وجہ سے کھلنڈرا پن ہی سمجھتا تھا۔ لیکن اس پیغام کے آنے کے بعد میں نے جو ان کی شخصیت پر غور کیا تو مجھے ان میں وہ جوہرنظر آیا جو ایک کھلنڈرے صفت انسان میں نہیں ہوسکتا تھا ؟ یہ اس نام کا ہی اثر تھا کہ کنیڈا میں رہتے ہوئے جہاں کا ماحول قطعی الٹ ہے ، جہاں کبھی کبھی پیدا ہونے کے بعد باپ کی بیٹوں سے ملاقات بھی نہیں ہوتی ہے ؟ اور اب یورپ   اور امریکہ ہی کیا خود پاکستان کی بھی یہ حالت ہے کہ بہت سے سپوت اپنے والدین کوا یدھی صاحب کے پاس جمع کر ا آتے ہیں، پھر صورت دیکھنے کو بھی وہ ترستے ہیں؟ دوبارہ ان سے ملاقات اگر کبھی ہوئی تو مرنے کے بعد ہی ہوتی؟ بعض ان کی میت کو بھی اپنا گھر دوبارہ نہیں دکھاتے ؟مگر کہلاتے مسلمان ہیں ۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ان کے سامنے“ اف “بھی نہ کرو اور ہادیِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ  (ص)کا یہ ارشادِگرامی ہے کہ “ وہ ہلاک ہوا جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو پایاا ور اس نے انکے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرائی“والد سے مغفرت کرانا قرآن سے بھی ثابت کہ حضرت یعقوب (ع) جب مصر پہونچ گئے تو حضرت یوسف (ع) نے تو بھائیوں کی زیادتی کو معا ف کردیا؟ مگر ان کے والد خاموش رہے کہ ان کے بیٹوں کی حرکتوں کی وجہ سے ان کی آنکھیں تک جاتی رہیں تھیں،تب انہوں نے انہیں خاموش دیکھ کرا ن سے ا پنی مغفرت کی دعا کے لیے درخواست کی اور حضرت یعقوب (ع) نے ان کے لیے ا س طرح دعا فرمائی کہ اس دعا پر جو وہ فرماتے جاتے حضرت یوسف (ع) آمین کہتے جاتے ۔ یہاں معاملہ با لکل مختلف تھا کہ ان کے والد جناب محمد شریف صاحب کو ضعیفی نے ستایا توحسین صاحب نے چاہا کہ وہ انہیں کنیڈابہتر نگہداشت کے لیے لے آئیں؟ مگر انہوں نے اپنا وطن چھورنے سے ا نکار کردیا!ا نہوں نے اپنی ملازمت چھوڑی، بچوں کو خدا کے سہارے پر یہاں چھوڑا ؟ اور خود پاکستان چلے گئے وہ زیادہ تر 2011ءسے وہیں رہے کبھی یہاں آتے تو ان کی بیگم صاحبہ وہاں رہتیں ۔ اور یہ سلسلہ ایک دو دن نہیں بلکہ سالوں تک چلتارہا ۔ آخر والد صاحب جب زندگی کی بازی 2اپریل2013 کو ہار گئے تو اب والدہ اکیلی رہ گئیں ؟ انہوں نے کہا کہ اماں آپ کیا میرے ساتھ چلیں گے ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا بیٹا میرا کیا ہے۔ میں تو اپنے پیروں اب چل بھی نہیں سکتی تو جہاں ا ٹھا کر بٹھال دے گا میں بیٹھی رہونگی ؟ ان کو اس حالت میں کنیڈا کاویزا دلانا بڑا مشکل کام تھا کہ عمر پچیاسی سال تھی صاحب ِ فراش بھی تھیں چل پھر بھی نہیں سکتی تھیں۔ اسکے باجود وہ ہمت نہیں ہارے اگر کوئی مخلص اور مومن بھی ہو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ ا سے کبھی مایوس نہیں کرتا ؟ انہیں کنیڈین حکومت نے نہ صرف ویزا دیدیا بلکہ وہ انہیں یہاں لے بھی آئے اور پورے وقت وہ اور ان کی بیوی خدمت میں لگے رہے ۔ یہاں آکر بھی وہ تقریبا ً دو سال حیات رہیں آخر زندگی نے ان کا بھی ساتھ چھوڑ دیا ۔سلام ہو ایسی بہو پر اور سلام ہو ایسے بیٹے پر جوکہ نام کا ہی حسین نہیں بلکہ دل کا بھی حِسین ہے؟ ان سب کی مغفرت میں کیا شک ہے ؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو طریقہ بتایا ہے اپنی مغفرت کرانے کا وہ برحق ہے۔ ان کے والد بھی ایک متقی انسان تھے۔ اور والدہ بھی جبکہ ایسے بوڑھوں کے لیے وہ حدیث ہے جس کو ابن ِ کثیر  سورہ نحل کی آیت نمبر70 میں جوکہ طویل عمری کے سلسلہ میں ہے، یک حدیث لائے ہیں ، جس میں حضور (ص) نے یہ بشارت دی ہے کہ جب کوئی مومن اسی سال کی عمر سے بڑھ جائے تو فرشتے پوچھتے ہیں کہ اے پروردگار! اب اس کو تونے( عبادت سے) روکدیا ہے ہم کیا کریں؟ تو وہ فرماتا ہے کہ “ یہ اب میرا قیدی ہے! اس کے کھاتے میں وہی عبادت درج کرتے رہو جو یہ اس سے پہلے سے کرتا آرہاتھا۔ دیکھا آپ نے؟ وہ تو ہر حال میں مائلِ بہ کرم ہے ہم میں سائل کمیاب ہیں۔ اللہ ہم سب کو ایسا ہی بننے کی توفیق عطا فرما ئے( آمین)

Posted in Articles

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟ ز۔۔ شمس جیلانی

ہمیشہ کی طرح حضور (ص) کی پیدائش کا دن گزر گیا مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہر سابقہ یوم ِ پیدائش کی طرح اس سال بھی ہمارا خیال تھا کہ شاید قوم کو یاد آجائے کہ ہم جن (ص) کے امتی ہیں ان کی پیدائش پر بجائے صرف ان کا دن منانے اور جلوس نکالنے کے ان کا اتباع بھی کرنے کا فیصلہ کرلیں تاکہ اس طرح آنے والے سال میں تمام دکھ دلدر دور ہو جائیں ؟  لیکن تمام امیدیں خاک میں مل گئیں کیونکہ کسی کونے سے کسی عالم کی یہ آواز نہیں سنی ،اس کے بجائے اس کے بدعت ہونے پر اپنی اپنی مجالس میں زور دیتے رہے! جبکہ کچھ اس کے فرض ہونے پر، مگر عمل کی بات دونوں ہی نہیں کی اب دیکھیے گا کہ2016 کا پہلادن آرہا ہے اس دن پوری قوم ایک چھوٹی سی اقلیت کے سوا نیا سال بہت دھوم دھام سے منائے گی اس دن اشرافیہ آتش بازی کاعام اہتمام کرے گی۔ ہماری بات کو نہ مانیں؟ اگر آپ کی رسائی شراب خانو ں کے ریکارڈ تک ہو سکے تو جاکر چیک کرلیں کہ ان کی سیل آپ کو اپنے عروج تک پہونچی ملے گی ۔لیکن اس کارِ خیر پر اس کی مخالفت میں وعظ فرمانے کی کوئی کوشش نہیں کریگا اور نہ بدعت اور حرام کہنے کی کوشش کریگا؟ حالانکہ یہ بات متنازع نہیں بلکہ متفق علیہ ہے کہ اسلام میں شراب حرام ہے ؟
ہم بھی خوابوں کی دنیا کے آدمی ہیں کیسے کیسے منصوبے باندھتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستانی اپنی دھن کے پکے اور بات کے دھنی ہیں ۔اپنی ہٹ پر ہمیشہ کی طرح قائم رہیں گے؟ قوم بدستور اسی خواب میں رہے گی کہ ہمارے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے؟ دل کعبہ میں رکھا رہے گا۔ اور بت خانے بھی من میں آبادرہیں گے ؟ یہ دو عملی کیا رنگ لائیگی جواب کوئی اچھا نہیں ہے لہذا ہم پنے تمام علماءکرام کوا ور مسلمانوں کو دعوت دیں گے کہ وہ ایسی قوموں کے حشر بارے میں قرآن میں جاکر دیکھ لیں خصوصا ً سورہ الشعرا میں آیات24 سے لیکر 29 تک ملاحظہ فرمالیں! جس میں قوم ِ عاد کی عادات بتائی گئی ہیں ( ترجمہ “تم اپنی شان بڑھانے کے لیے بڑے مکان بنا تے ہو اتنے بڑے کہ جس میں رہ نہیں سکتے ، کھانے کے لیے اتنا جمع کرتے ہو جو کھا نہیں سکتے ۔۔۔الخ)۔ اس موقعہ پر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ قوم یک سو ہو کر حضور (ص) کے دامن ِرحمت میں پناہ لیتی اور اللہ سے اپنے گناہوں پر تو بہ کرتی ، تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا؟ مگر ہوا کچھ بھی نہیں؟ لیل و نہار وہی رہے پرنالہ وہیں گرا جہاں اسے گر نا چاہیے تھا ؟ اس مرتبہ ایک نمایاں تبدیلی یہ ضرور دیکھی کہ وزیر اعظم صاحب جو ہمیشہ پہلے سالانہ تبلیغی اجتماع میں جایا کرتے تھے، اس مرتبہ نعت خوانی کی ایک محفل میں بھی تشریف لے گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان کی سمجھ میں بھی یہ نہیں آرہاہے کہ کیا کریں؟ یہ با لکل وہی پوزیشن ہے جو پہلی صدی ہجری کی چوتھی دہائی سے لیکر اور ساتویں دہائی میں تھی؟ اس وقت بھی ایک طبقہ جو خارجی کہلاتا تھا وہ اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتا تھا؟ ایک قدرے چھوٹا گروہ تھا جو ان سے بر سرِ پیکار تھا۔ ایک تیسرا گروہ بھی تھا کہ جو کہتا تھا کہ ہم نے بہت جہاد کر لیا اب نہیں کرنا ہے؟ کیونکہ وہ جہاد کو صرف قتال کے معنی میں ہی لیتا تھا ۔ جبکہ حضور (ص) نے امن کے دوران اعمال صالح کر نا سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہے اور وہ اس کے بجائے اس حدیث پر عمل کرتا تھا کہ “ مسلمانو ں کے دو گروہوں میں جب لڑائی ہو تو جو کھڑا ہے وہ بیٹھ جا ئے اورجو بیٹھا ہے وہ لیٹ جا ئے “ اور اس نے قرآن کی وہ آیت نظر انداز کردی تھی کہ اگر مسلمانو ں کے دو گروہوں میں جنگ ہو تو ان میں صلح کرانے کوشش کرو اگر نہ مانیں تو اس کا ساتھ دو جو حق پر ہو؟ جبکہ اُس آنے والے دور کے لیے ہادی (ص) اسلام نے ایک ایک پہچان حق پرستوں پر کھول کر بیان کردی تھی کہ وہ (خارجی) کیسے ہونگے؟ لیکن پہچان نے کے باوجود ان پر عامل ہو نے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا؟ اورفرمان باری تعالیٰ کے تحت “جب کسی مسئلہ پر کوئی تنازع پیدا ہو جا ئے تو اللہ اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرو “ اس پر عمل کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا؟ا س پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں وہاں پڑھ لیجئے ،اگر قوم کو دنیا کمانے سے فرصت ملے تو؟حالانکہ کے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بار بار قرآن میں فرمایا ہے کہ تم کو یہاں بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ “ وہ تمہیں آزما ئے کہ کون نیک کام کر تا ہے اور کون برے کام کر تا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ انہیں جنت یا دوزخ کے لیے منتخب کر سکے ً( کیونکہ وہ دونوں کا رازق ہے اور اسے جنت اور جہنم دونوں کا پیٹ بھر نا ہے)
آج بھی ہم اسی صورت ِ حال سے دو چار ہیں؟اور سب آپس میں دست بہ گریباں ہیں؟ کچھ شدت پسندوں کے لیڈروں کو بھی پورا پور ٹوکول ملا ہوا ہے۔ کچھ ان کے لیڈروں کو بھی جنہیں شدت پسند بد عتی کہتے ہیں ۔ ملزم عدالتوں کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے طلب کر نے پر عام طور پرحاضر نہیں ہو تے وہ انہیں مفرور قرار دیکر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیتی ہیں؟ وہ بدستور شہر میں گھومتے پھر تے ہیں پولس ان سے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ عد الت تاریخیں دیکر جب تنگ آجاتی ہے تو ان کی جائیداد ضبط کر کے مکان سیل کر دیتی  ہے۔ ملزم جب چاہیں تالہ توڑ کر قبضہ کر لیتے ہیں؟اور اس میں آکر رہنے لگتے ہیں، کوئی کچھ نہیں کہتا؟ جبکہ جس زمین پر وہ محل بنا ہوا تھاا سے رہائش کے لیے نہیں بلکہ اطراف کے لوگوں کے لیے تازہ سبزیاں اگانے کے لیے الاٹ کیا گیا تھا۔ جبکہ پولس کی اتنی قسمیں ہیں جواے سے لیکر زیڈ تک آپ گن لیں مگر وہ صاحب لو گوں کی حفاظت پر مامور ہیں، اور اکثر سڑکیں بند کرنے پر مامور دکھائی دیتے ہیں۔ جن کی وجہ سے بہت سے مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں کہ صاحب اقتدار جہاں ہوں پرندہ پر نہیں مار سکے چاہیں وہ استپال ہی کیوں نہ ہو ؟ لہذا شر پسندوں کے لیے پولس بچتی ہی نہیں مجبوراًنیم فوجی ادارے رینجرز کو بلانا پڑتا ہے؟ وہ اپنی جانوں کی قر بانی دیکر ملک میں امن قائم کر نے میں جب کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ تو ان کے ہاتھ پا ؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ملزموں کے ڈانڈے کچھ بڑوں سے ملتے ہیں ۔ جب مرکز اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کر تا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ صوبے پر حملہ کر دیا؟ یہ ہمارے یہاں عدل کی حالت ہے کہ دل چاہا تو مان لیا بنے ٹھنے ملزم اور ملزَمائیں فوٹو گرافروں کے جلوس میں ہر دفعہ نئے فیشن میں آتے ہیں ۔ جتنی شہرت ان کو اس طرح ملتی ہے ،اگر اربوں روپیہ وہ اس مد میں خرچ کریں تو بھی نہیں مل سکتی ہے، وہ بھی انہیں اس طرح مفت میں حاصل ہو جاتی ہے؟ جبکہ وکیلوں کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے مقدمے مہینوں نہیں بلکہ سالوں نہیں چلتے ہیں۔ کہ عدالتیں سزائیں تو دے سکتی ہیں، مگر عمل کرانے کے لیے انکااپنا کچھ نظام نہیں ہے جبکہ انتظامیہ ہی ان کے ہاتھ پاؤں ہیں۔ جبکہ کسی بڑے آدمی پرہاتھ پڑ جاتا ہے تو دوسرے بڑے یا سب بڑے مل کر اس کی حمایت کو آجاتے ہیں ۔ اور وہ ان کے جو ہاتھ پاوں ہیں انہیں باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ انہوں نے بڑا اچھا کام کیا ہے ۔ ہم ان کے خلاف نہیں ہیں اور کن انکھیوں سے ان کی بغل کو بھی تکتے رہتے ہیں جس میں ایک چھوٹا سا علامتی ڈنڈا دبا ہوتا ہے۔
یہ اس ملک کا حال ہے جو اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے ، جس کی پارلیمنٹ پر اتنا بڑا کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے کہ آپ آج کے دور میں ہزاروں میل دور سے بیٹھ کر دیکھ لیں ۔ جس میں عوام کی طرف سے اعتراف ظاہر ہو تا ہے کہ ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا ہے ا ور اپنا سر اس کے آگے جھکا دیا ہے۔ لیکن عملی طور پر اس کی تمام کلیدی اسلامی دفعات بغیر لکھی  کسی دفعہ کی تحت معطل ہیں ۔ پچھلے دنوں عام مشاہدہ تھا کہ شراب کی بوتلیں اسکے چاروں طرف بکھری ہو ئی ملتی تھیں ؟ اب نہیں معلوم اس سلسلہ میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا۔ اس کا کیا بنا وہ ہمارے علم میں نہیں ہے؟ البتہ یہ ہمارے علم میں ہے کہ اقلیتی ممبر وہاں اتنے نہیں ہیں جتنے کہ اکثریتی ممبر ہیں ۔ لیکن ان کے پرمٹ اپنے ساتھیوں کو ضرور مل جاتے ہیں تاکہ وہ بھی اپنی پیاس مٹا سکیں ا ور اس کے بدلے میں وہ اپنے ناجائزکام ان سے کراسکیں ؟ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ روز بروز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب خانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کا گواہ سندھ اسمبلی کا وقفہ سوالات ہے جس میں ایک معزز وزیر نے ایک رکن کے سوال پر بتایا کہ کراچی میں پہلے 64شراب خانے تھے۔ اب 69 ہو گئے ہیں ؟ معززرکن نے جب ضمنی سوال پو چھا کہ یہ بڑھ کیوں رہے ہیں؟ تو جواب معقول تھا کہ آبادی بڑھ رہی ہے ، جس طرح آٹے اور چاول کا خرچ بڑ رہا ہے ۔اسی طرح شراب کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ نئی نسلِ اشرافیہ اس کی عادی ہوتی جارہی ہے اور اقلیتی طبقہ کو ملنے والے پرمٹ شراب کو رواج دینے میں معاون ہو رہے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا غضب ٹھنڈ ا ہوسکے (آمین)

 

Posted in Uncategorized

فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے اور وطن عزیز کے درمیان آجکل تیرہ گھنٹہ کا فرق ہے یعنی ہم تیرہ گھنٹے پیچھے ہیں؟ جب وہاں سورج نکل رہا ہوتا ہے تو ہمارے ہاں غروب ہورہا ہوتا ہے اس لیے جب ہم سوکر اٹھتے ہیں تو وہاں کی خبریں ملتی ہیں؟  بلدیاتی ا لیکشن کے بعد جب ہم دوسرے دن حسبِ َ معمول سو کر اٹھے تو بیچنی اپنی انتہاپر تھی اور دل ہول رہا تھا کہ خدا خیر کرے نہ جانے کل کے الیکشن میں وطن ِ عزیز پر کیا گزری ہو؟ لیکن ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم اپنے لیپ ٹاپ پر جانے سے پہلے روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہو تے ہیں کہ“ اول رب کا نام بعد میں کوئی اور کام“ابھی ہم نے لیپ ٹاپ کھولا ہی تھا کہ ہماری ہمیشرہ سکائپ پر آگئیں جو کراچی میں رہتی ہیں؟ ان سے پوچھا کہ کیا حال ہیں وہاں کہ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ان بیچاروں کی حالت بہت پتلی ہے دفتر تک کھولنے نہیں دیتے اگرکھولتے ہیں تو پکڑ لے جاتے ہیں۔ ہمارے منہ سے بے ساختہ نکل گیا اللہ تیری شان !کہاں یہ حال تھا کہ جو ان کے سامنے منہ کھولے اس کی جان چلی جاتی تھی ؟اور پھر فل البدیہ شعر موزوں ہو گیا ع سنا ہے حالت ہے انکی پتلی سانپ لگتی تھی جن کی سُتلی۔ یہ پہلی اچھی خبر تھی جس سے ہماری صبح شروع ہوئی؟ ورنہ ہمارا عشروں پرانا ایک شعر پاکستان پر کئی عشروں سے صادق آیا کرتا تھاکہ “ ناشتہ صبح تو لاشوں سے شروع ہو تا ہے آج کتنے ہیں مرے تازہ خبر کو دیکھو “کیونکہ پچھلے الیکشن کی خبر میں بھی جو رینجرز کی نگرانی میں ہوئے تھے بارہ لاشیں گرنے کی خبر خیر پور (سندھ) سے اور ایک کی فیصل آباد سے آئی تھی؟ جبکہ کراچی چونکہ تیسرے مرحلے میں ہے لہذا یہاں ابھی “ دیکھو اور انتظار کرو والا مسئلہ تھا۔
الیکشن اور پر امن اس مرتبہ ہمیں نہ اپنے کانوں پر یقین آرہا تھا نہ آنکھوں پر، پورا خبار دیکھ ڈالا وہ خبر نظر نہیں آئی جو ہمارا روزانہ منہ چڑاتی تھی ،جس کو ہم نہیں دیکھنا چاہتے تھے نہ ہی سننا چاہتے تھے اور اگر نظر آتی بھی تو پڑھے بغیرآگے بڑھ جاتے؟ اخبار کھنگال رہے تھے کہ الیکشن کمشنر صاحب کا بیان نظر آیا جس میں وہ قوم کو پر امن انتخابات پر مبارک دے تھے اور سیاسی جماعتوں کا بھی شکر یہ ادا کر رہے تھے۔ ہم پریشان ہو گئے کہ آخر یہ انہونی کیسے ہوئی؟ جب کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ اس مرتبہ پچھلے تجربات سے فائیدہ اٹھاتے ہو ئے؟ انہوں نے احتیاطً بعض حساس پولینگ اسٹیشن پر فوج لگا دی تھی؟ دوسرے الیکشن کمیشن کی تاریخ کے مطابق آئندہ چار سال کا عرصہ شکایتو ں کو نبٹانے میں گزارنے کے بجا ئے ہاتھ کہ ہاتھ ہی نبٹادیں ۔جو کہ ان کے ہی بیان سی ظاہر ہورہا تھا کہ اس مرتبہ ا یک سو چھ شکایات آئیں جو کہ معمولی نو عت کی تھیں۔ یہ ریمارک جو کچھ بتا رہا تھا اس سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی روش بدل دی ہے ؟ورنہ وہ بغیر سنے کیسے کہہ سکتے تھے کہ تمام شکایتیں معمولی نو عیت کی ہیں؟ جبکہ وہ  عام آدمی نہیں، عدالت عظمیٰ کے ریٹائرد جج بھی ہیں ۔ اس میں یہ سبق چھپا ہوا ہے کہ مقدمات جب جنم لیتے ہیں ؟اگر فوری طور پر انصاف نہ ملے ، اگر فوراً مل جائے تو دم توڑدیتے ہیں۔ ویسے ہمارے ہاں جو حکمراں کلاس ہے وہ زیادہ تر فارن کوالیفائڈ ہے اگر ان میں سے کوئی باہر نہیں بھی جا سکا تو بھی بغیر چھت کے اسکول میں نہیں پڑھا ہے، انگلش اسکول میں پڑھا ہے اس لیے سب نے یہ انگریزی کامقولہ ضرور پڑھا ہوگا، جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ انصاف میں دیرکرنا انصاف نہ کر نے یانصاف سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ ً لیکن وہ نہ جانے کیوں یہاں آکر بھول جاتے ہیں ؟ اور انصاف کی راہ میں بلا تخصیص وہ روڑے اٹکاتے ہیں کہ اللہ پناہ دے ، مثلا ً آج ہی کی خبر ہے کہ ایان علی پر فرد جرم عائد کر دی گئی یہ کتنے دنوں کے بعد مرحلہ آیا اس کا حساب ہمیں یاد نہیں ہے؟ البتہ یہ یاد ہے کہ اس میں کتنے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور کس کس نے کیئے؟ تفصیل میں ہم اس لیے نہیں جا رہے ہیں ۔اس سے وہاں کا پیدا ہونے والا ہر بچہ واقف ہے کہ کیا کیا رکاوٹیں آتی ہیں پہلی رکاوٹ تو یہ ہو تی ہے کہ متعلقہ دفتر میں کا غذ نہیں ہو تا ؟ سائل جب بازار سے لاکر دیتا ہے اور اس پر ٹکٹ قائد اعظم والا لگاتا ہے تب جاکر کہیں رپورٹ درج ہوتی ہے۔ درج ہونے کے بعد بھی اگر نہلے پر دہلا پڑگیا تو اب گواہ نہیں ملتے ، کیوں نہیں ملتے ،اس لیے کہ انہیں دنیا میں اور بھی بہت سے کام ہیں گواہی کے سوا ؟ اس لیے کہ مقدمہ ایک دوسال تو چلے گا نہیں، ممکن ہے تا حیات چلے ،کبھی مدعی کا وکیل نہیں آئے گا ، تو کبھی مدعا علیہ کا وکیل مصروف ہو جائے گا کہ ان کے بھی بال بچے ہیں، بہت زیادہ ایماندار ہوں تو انہیں دھمکیا ں مل جاتی ہیں۔ کبھی اوپر سے ا شارہ آجاتا ہے کہ اس کوا بھی مت چھیڑو تو مجسٹریٹ چھٹی پر چلا جا تا ہے ۔ اگرگواہ کہیں سے مل بھی جائیں اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے اور فیصلہ بھی صادر ہو جا ئے تو اب اپیلوں کا سلسلہ شروع ہو تا۔ غرضیکہ ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال ہو تا جو انصاف ٹالنے میں معاون ہو سکے ؟ نتیجہ یہ ہے کہ ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔اگر آگ کہیں لگ جا ئے تو بجھانے کے لیے بجائے متعلقہ محکمے کے فوج کو آواز دی جاتی ہے! ۔ بلنڈنگ گر جائے تو فوج ، سیلاب آجا ئے تو فوج ، زلزلہ آئے تو فوج ؟ غرضیکہ کہ ہر مرض کا علاج فوج ہے؟ کوئی پوچھے کہ باقی محکمے کس کام کے لیے ہیں؟ تو س کا جواب روزمرہ کے ٹی وی ٹاک شو میں دیکھ لیں؟ وہاں آپ کو پتہ چل جا ئے گا کہ وہ کس کام لیے ہیں اور وہ اپنے مالکوں اور سرپرستوں کے لیے اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے ہیں ۔ پھر آپ پوچھیں گے کہ جب فوج کے “ سوا وہاں پتہ نہیں ہلتا “ تو پھر باقی محکموں کی کیا ضرورت ہے؟ اور جو بھی صاحب ِ اختیار ہیں وہ پہلے ہی مرحلے پر فوج کو بلالیاکریں تو مسائل کم پیدا ہونگے جیسے کہ ابھی انتخابات میں جہاں جہاں نقص امن خطرہ میں تھا وہاں فوج بلا لی گئی۔ لیکن فوج بھی جبھی کا رآمد ہو گی کہ اسے ایمانداری سے اختیار منتقل کیے جا ئیں ،یا پھر وہ اتنی طاقتور ہو جا ئے کہ حسب ضرورت اپنے ا ور غیروں، دونوں کے اختیارات استعمال کر سکے۔ تو بہت سے مسئلہ راتوں رات حل ہو سکتے ہیں ۔ ورنہ وردی پہنا کر اسے کہیں بھی کھڑا کر دیا جائے تو کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو گا؟ جیسے کہ کراچی میں ضمنی ا نتخاب میں فوج کھڑی کر دی گئی تھی، مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا کیو نکہ اس کو کا شن نہ دیا جا ئے تو اس کی پوزیشن ایسی ہو تی ہے جیسے کہ کھیت کو رکھانے میں ان ہوّ ؤ ں کی جو لکڑی کو کپڑے پہنا کے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں، شروع میں پرندے ان سے کچھ ڈرتے ہیں اور بعد میں وہ بھی جان لیتے ہیں کہ یہ بے ضرر ہیں ؟ اگر میری بات سمجھنا ہے تو جنرل ایوب خان کے مارشلاءکو لے لیجئے کہ وہ جب لگا تھا تو لوگوں نے ملاوٹ والی چیزیں نالیوں میں بہادیں دی تھیں۔ اور گھی اور تیل نالیوں میں بہہ رہا تھا بجائے پانی کہ! اس کے بعد اس ملک نے یحییٰ خان کا مارشل لاءدیکھا ،پھر اسی کی کوکھ سے جنم لیتا سول مارشلا ءبھی دیکھا کہ فوج بھٹو صاحب کے ماتحت تھی اس کے بعد مشرف صاحب کا بھی مارشلاءدیکھا ؟ لیکن بات وہ کہاں مالوی مدن کی سی  لاکھ داڑھی بنا لی سن کی سی؟ اسی لیے اب لوگ مارشل لاءپلس کی بات کر رہے ہیں جبکہ جنہوں نے پہلا مارشل لاءنہیں دیکھا وہ مار شل لاءپلس کے معنی معلوم کر رہے ہیں؟ اگر معنی معلوم کر نا ہیں تو ہم اس کی ایک مثال بتا ئے دیتے ہیں ۔ سکھر میں ایک فوجی عدالت میں مقدمہ آیا ؟ ملزم کے بجائے اس کی طرف سے وکیل صاحب پیش ہو ئے ۔اور ساتھ میں انکا نائب قانون کی کتابوں کا ایک پلندہ اٹھا ئے ہو ئے تھا؟ مجسٹریٹ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے بتا یا کہ یہ قانون کی کتابیں ہیں ،ان کو حکم ہوا کہ ان کو باہر رکھ آئیے پھر عدالت میں تشریف لا ئیں؟ وہ باہر تو چلے گئے مگر واپس نہیں آئے، شاید کوئی کام آگیا ہوگا ؟ ہم خوابوں کی دنیا کے آدمی ہیں ایک خوشی پراتنے اچھلے کودے اور آپ کا اتنا وقت بھی برباد کردیا ؟ دوسرے دن تو اور بھی پر امید تھے کہ آج اچھی اچھی خبریں ملیں گی؟ مگر پہلی خبر یہ ملی کہ شاید الیکشن کمشنر نے پولنگ کے اوقات سرکاری طور پر ختم ہوتے ہی اور ماتحتوں کی طرف سے  “سب ٹھیک “ کا سنگنل آ نے پربیان دیدیا تھا ، جبکہ تلہار ضلع ٹھٹھہ میں پولنگ ٹائم کے بعد ووٹ ڈلوانے پر جھگڑا ہو گیا اور خون بہہ گیا۔ پھر چار رینجرز کی نماز جنا زہ پڑھاتے ہو ئے امام صاحب کو دیکھا جو کراچی میں شہید ہو ئے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ

فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
ہمارے اور وطن عزیز کے درمیان آجکل تیرہ گھنٹہ کا فرق ہے یعنی ہم تیرہ گھنٹے پیچھے ہیں؟ جب وہاں سورج نکل رہا ہوتا ہے تو ہمارے ہاں غروب ہورہا ہوتا ہے اس لیے جب ہم سوکر اٹھتے ہیں تو وہاں کی خبریں ملتی ہیں؟  بلدیاتی ا لیکشن کے بعد جب ہم دوسرے دن حسبِ َ معمول سو کر اٹھے تو بیچنی اپنی انتہاپر تھی اور دل ہول رہا تھا کہ خدا خیر کرے نہ جانے کل کے الیکشن میں وطن ِ عزیز پر کیا گزری ہو؟ لیکن ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم اپنے لیپ ٹاپ پر جانے سے پہلے روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہو تے ہیں کہ“ اول رب کا نام بعد میں کوئی اور کام“ابھی ہم نے لیپ ٹاپ کھولا ہی تھا کہ ہماری ہمیشرہ سکائپ پر آگئیں جو کراچی میں رہتی ہیں؟ ان سے پوچھا کہ کیا حال ہیں وہاں کہ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ان بیچاروں کی حالت بہت پتلی ہے دفتر تک کھولنے نہیں دیتے اگرکھولتے ہیں تو پکڑ لے جاتے ہیں۔ ہمارے منہ سے بے ساختہ نکل گیا اللہ تیری شان !کہاں یہ حال تھا کہ جو ان کے سامنے منہ کھولے اس کی جان چلی جاتی تھی ؟اور پھر فل البدیہ شعر موزوں ہو گیا ع سنا ہے حالت ہے انکی پتلی سانپ لگتی تھی جن کی سُتلی۔ یہ پہلی اچھی خبر تھی جس سے ہماری صبح شروع ہوئی؟ ورنہ ہمارا عشروں پرانا ایک شعر پاکستان پر کئی عشروں سے صادق آیا کرتا تھاکہ “ ناشتہ صبح تو لاشوں سے شروع ہو تا ہے آج کتنے ہیں مرے تازہ خبر کو دیکھو “کیونکہ پچھلے الیکشن کی خبر میں بھی جو رینجرز کی نگرانی میں ہوئے تھے بارہ لاشیں گرنے کی خبر خیر پور (سندھ) سے اور ایک کی فیصل آباد سے آئی تھی؟ جبکہ کراچی چونکہ تیسرے مرحلے میں ہے لہذا یہاں ابھی “ دیکھو اور انتظار کرو والا مسئلہ تھا۔
الیکشن اور پر امن اس مرتبہ ہمیں نہ اپنے کانوں پر یقین آرہا تھا نہ آنکھوں پر، پورا خبار دیکھ ڈالا وہ خبر نظر نہیں آئی جو ہمارا روزانہ منہ چڑاتی تھی ،جس کو ہم نہیں دیکھنا چاہتے تھے نہ ہی سننا چاہتے تھے اور اگر نظر آتی بھی تو پڑھے بغیرآگے بڑھ جاتے؟ اخبار کھنگال رہے تھے کہ الیکشن کمشنر صاحب کا بیان نظر آیا جس میں وہ قوم کو پر امن انتخابات پر مبارک دے تھے اور سیاسی جماعتوں کا بھی شکر یہ ادا کر رہے تھے۔ ہم پریشان ہو گئے کہ آخر یہ انہونی کیسے ہوئی؟ جب کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ اس مرتبہ پچھلے تجربات سے فائیدہ اٹھاتے ہو ئے؟ انہوں نے احتیاطً بعض حساس پولینگ اسٹیشن پر فوج لگا دی تھی؟ دوسرے الیکشن کمیشن کی تاریخ کے مطابق آئندہ چار سال کا عرصہ شکایتو ں کو نبٹانے میں گزارنے کے بجا ئے ہاتھ کہ ہاتھ ہی نبٹادیں ۔جو کہ ان کے ہی بیان سی ظاہر ہورہا تھا کہ اس مرتبہ ا یک سو چھ شکایات آئیں جو کہ معمولی نو عت کی تھیں۔ یہ ریمارک جو کچھ بتا رہا تھا اس سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی روش بدل دی ہے ؟ورنہ وہ بغیر سنے کیسے کہہ سکتے تھے کہ تمام شکایتیں معمولی نو عیت کی ہیں؟ جبکہ وہ  عام آدمی نہیں، عدالت عظمیٰ کے ریٹائرد جج بھی ہیں ۔ اس میں یہ سبق چھپا ہوا ہے کہ مقدمات جب جنم لیتے ہیں ؟اگر فوری طور پر انصاف نہ ملے ، اگر فوراً مل جائے تو دم توڑدیتے ہیں۔ ویسے ہمارے ہاں جو حکمراں کلاس ہے وہ زیادہ تر فارن کوالیفائڈ ہے اگر ان میں سے کوئی باہر نہیں بھی جا سکا تو بھی بغیر چھت کے اسکول میں نہیں پڑھا ہے، انگلش اسکول میں پڑھا ہے اس لیے سب نے یہ انگریزی کامقولہ ضرور پڑھا ہوگا، جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ انصاف میں دیرکرنا انصاف نہ کر نے یانصاف سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ ً لیکن وہ نہ جانے کیوں یہاں آکر بھول جاتے ہیں ؟ اور انصاف کی راہ میں بلا تخصیص وہ روڑے اٹکاتے ہیں کہ اللہ پناہ دے ، مثلا ً آج ہی کی خبر ہے کہ ایان علی پر فرد جرم عائد کر دی گئی یہ کتنے دنوں کے بعد مرحلہ آیا اس کا حساب ہمیں یاد نہیں ہے؟ البتہ یہ یاد ہے کہ اس میں کتنے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور کس کس نے کیئے؟ تفصیل میں ہم اس لیے نہیں جا رہے ہیں ۔اس سے وہاں کا پیدا ہونے والا ہر بچہ واقف ہے کہ کیا کیا رکاوٹیں آتی ہیں پہلی رکاوٹ تو یہ ہو تی ہے کہ متعلقہ دفتر میں کا غذ نہیں ہو تا ؟ سائل جب بازار سے لاکر دیتا ہے اور اس پر ٹکٹ قائد اعظم والا لگاتا ہے تب جاکر کہیں رپورٹ درج ہوتی ہے۔ درج ہونے کے بعد بھی اگر نہلے پر دہلا پڑگیا تو اب گواہ نہیں ملتے ، کیوں نہیں ملتے ،اس لیے کہ انہیں دنیا میں اور بھی بہت سے کام ہیں گواہی کے سوا ؟ اس لیے کہ مقدمہ ایک دوسال تو چلے گا نہیں، ممکن ہے تا حیات چلے ،کبھی مدعی کا وکیل نہیں آئے گا ، تو کبھی مدعا علیہ کا وکیل مصروف ہو جائے گا کہ ان کے بھی بال بچے ہیں، بہت زیادہ ایماندار ہوں تو انہیں دھمکیا ں مل جاتی ہیں۔ کبھی اوپر سے ا شارہ آجاتا ہے کہ اس کوا بھی مت چھیڑو تو مجسٹریٹ چھٹی پر چلا جا تا ہے ۔ اگرگواہ کہیں سے مل بھی جائیں اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے اور فیصلہ بھی صادر ہو جا ئے تو اب اپیلوں کا سلسلہ شروع ہو تا۔ غرضیکہ ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال ہو تا جو انصاف ٹالنے میں معاون ہو سکے ؟ نتیجہ یہ ہے کہ ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔اگر آگ کہیں لگ جا ئے تو بجھانے کے لیے بجائے متعلقہ محکمے کے فوج کو آواز دی جاتی ہے! ۔ بلنڈنگ گر جائے تو فوج ، سیلاب آجا ئے تو فوج ، زلزلہ آئے تو فوج ؟ غرضیکہ کہ ہر مرض کا علاج فوج ہے؟ کوئی پوچھے کہ باقی محکمے کس کام کے لیے ہیں؟ تو س کا جواب روزمرہ کے ٹی وی ٹاک شو میں دیکھ لیں؟ وہاں آپ کو پتہ چل جا ئے گا کہ وہ کس کام لیے ہیں اور وہ اپنے مالکوں اور سرپرستوں کے لیے اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے ہیں ۔ پھر آپ پوچھیں گے کہ جب فوج کے “ سوا وہاں پتہ نہیں ہلتا “ تو پھر باقی محکموں کی کیا ضرورت ہے؟ اور جو بھی صاحب ِ اختیار ہیں وہ پہلے ہی مرحلے پر فوج کو بلالیاکریں تو مسائل کم پیدا ہونگے جیسے کہ ابھی انتخابات میں جہاں جہاں نقص امن خطرہ میں تھا وہاں فوج بلا لی گئی۔ لیکن فوج بھی جبھی کا رآمد ہو گی کہ اسے ایمانداری سے اختیار منتقل کیے جا ئیں ،یا پھر وہ اتنی طاقتور ہو جا ئے کہ حسب ضرورت اپنے ا ور غیروں، دونوں کے اختیارات استعمال کر سکے۔ تو بہت سے مسئلہ راتوں رات حل ہو سکتے ہیں ۔ ورنہ وردی پہنا کر اسے کہیں بھی کھڑا کر دیا جائے تو کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو گا؟ جیسے کہ کراچی میں ضمنی ا نتخاب میں فوج کھڑی کر دی گئی تھی، مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا کیو نکہ اس کو کا شن نہ دیا جا ئے تو اس کی پوزیشن ایسی ہو تی ہے جیسے کہ کھیت کو رکھانے میں ان ہوّ ؤ ں کی جو لکڑی کو کپڑے پہنا کے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں، شروع میں پرندے ان سے کچھ ڈرتے ہیں اور بعد میں وہ بھی جان لیتے ہیں کہ یہ بے ضرر ہیں ؟ اگر میری بات سمجھنا ہے تو جنرل ایوب خان کے مارشلاءکو لے لیجئے کہ وہ جب لگا تھا تو لوگوں نے ملاوٹ والی چیزیں نالیوں میں بہادیں دی تھیں۔ اور گھی اور تیل نالیوں میں بہہ رہا تھا بجائے پانی کہ! اس کے بعد اس ملک نے یحییٰ خان کا مارشل لاءدیکھا ،پھر اسی کی کوکھ سے جنم لیتا سول مارشلا ءبھی دیکھا کہ فوج بھٹو صاحب کے ماتحت تھی اس کے بعد مشرف صاحب کا بھی مارشلاءدیکھا ؟ لیکن بات وہ کہاں مالوی مدن کی سی  لاکھ داڑھی بنا لی سن کی سی؟ اسی لیے اب لوگ مارشل لاءپلس کی بات کر رہے ہیں جبکہ جنہوں نے پہلا مارشل لاءنہیں دیکھا وہ مار شل لاءپلس کے معنی معلوم کر رہے ہیں؟ اگر معنی معلوم کر نا ہیں تو ہم اس کی ایک مثال بتا ئے دیتے ہیں ۔ سکھر میں ایک فوجی عدالت میں مقدمہ آیا ؟ ملزم کے بجائے اس کی طرف سے وکیل صاحب پیش ہو ئے ۔اور ساتھ میں انکا نائب قانون کی کتابوں کا ایک پلندہ اٹھا ئے ہو ئے تھا؟ مجسٹریٹ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے بتا یا کہ یہ قانون کی کتابیں ہیں ،ان کو حکم ہوا کہ ان کو باہر رکھ آئیے پھر عدالت میں تشریف لا ئیں؟ وہ باہر تو چلے گئے مگر واپس نہیں آئے، شاید کوئی کام آگیا ہوگا ؟ ہم خوابوں کی دنیا کے آدمی ہیں ایک خوشی پراتنے اچھلے کودے اور آپ کا اتنا وقت بھی برباد کردیا ؟ دوسرے دن تو اور بھی پر امید تھے کہ آج اچھی اچھی خبریں ملیں گی؟ مگر پہلی خبر یہ ملی کہ شاید الیکشن کمشنر نے پولنگ کے اوقات سرکاری طور پر ختم ہوتے ہی اور ماتحتوں کی طرف سے  “سب ٹھیک “ کا سنگنل آ نے پربیان دیدیا تھا ، جبکہ تلہار ضلع ٹھٹھہ میں پولنگ ٹائم کے بعد ووٹ ڈلوانے پر جھگڑا ہو گیا اور خون بہہ گیا۔ پھر چار رینجرز کی نماز جنا زہ پڑھاتے ہو ئے امام صاحب کو دیکھا جو کراچی میں شہید ہو ئے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ

Posted in Uncategorized

دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

جس دن قوم ان بچوں کا غم منارہی تھی جو پشاور میں ایک برس پہلے دہشت گردوں نے شہید کر دیے تھے؟ اسی دن شام کی خبر تھی کہ سندھ اسمبلی نے ایک قراداد پاس کر کے رینجرز کے ہاتھ پاؤں باندھننے کی کوشش کی اور اس میں یہ محاورہ بھی ترک کردیا کہ جلدی کا کام شیطان کاہوتا ہے جو کہ قرارد کے متن اوراس کے بعد جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز جوبار بارکی لیپا پوتی سے بے سرے ہوئے ظاہر کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم بچپن سے یہ ہی سنتے آرہے تھے کہ جلدی کاکام شیطان کا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ باقی کام تو شیطان کے ہم سب کرتے رہے مگر جلدی نہیں کرتے تھے کہ اس پر سب متفق تھے کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے پورا ملک ستر سال سے ہر معاملے میں معلق چلا آرہا ہے۔ یہ ہی صورت حال اس وقت کراچی میں ہے کہ وہاں بہت تیزی سے رینجیرز نے صفائی کاکام شروع کیا جس کے نتیجہ میں ان کے پیر بہت سے سانپوں کی دموں پر پڑگئے اور وہ اتنے بد حواس ہوئے کہ یہ نصیحت ، دیرینہ چھوڑ کر ،سب مل کررینجیرز پر ٹوٹ پڑے !ظاہر ہے کہ وہ جاگے کیا کہ “ اسٹیٹس کو “ سے باہر نکل آئے حالانکہ انہوں نے ایک دو دن نہیں بلکہ تقریبا ً دوہفتے سے ان کو لٹکائے رکھا تھا ،اس موقع کی تلاش میں تھے جو اس سے ثابت ہے کہ جب پوری قوم سوگ منا رہی تھی تو انہوں نے اس سے فائدہ اٹھا تے ہو ئے ، ان کے اپنے خیال میں رینجر ز کے ہاتھ پاؤں باندھ کر چھوڑ دیا ہے کہ اور آؤ، ہمارے منہ کو ؟ جن کے ہاتھ میں قلم ہے وہ چیخ رہے ہیں، جو مرکز میں برسرِ اقتدار ہیں جن پر رینجرز کاتکیہ تھا انہوں نے اپنے وزراءکو فل الحال مراقبے میں جانے کو کہدیا، رینجراہلِ ڈنڈا ہوتے ہوئے بھی ان کا منہ تک رہے ہیں ۔ جبکہ ان کے برادر خورد نے پنجاب کے اہم مقامات سے رینجرز کو ان مقامات سے ہٹادیا ہے جہاں پر وہ سالوں سے پہرا دے رہے تھے، شاید اس لیے کہ خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر کہیں رنگ نہ پکڑجائے۔؟جبکہ ان کی جگہ پولیس اور غیر تربیت یافتہ سکوریٹی گارڈز کو دے رہے ہیں تاکہ “ گلو بٹوں “ کو روز گار ملے اور وہ وقت ِ ضرورت ان کے کام آئیں؟ جبکہ انہیں غیر تربیت یافتہ کی سند ہم نے نہیں بلکہ مرکزی وزیر داخلہ جناب چودھری نثار علی نے خان کچھ دن پہلے قومی اسمبلی میں دی تھی۔ دوسری طرف پوری قوم ہے کہ رینجرز کی حمایت میں ریلیاں نکال رہی ہے۔ جوکہ وطن اور قوم پرستی کا تقاضہ تھا؟
اس لیے کہ ایسی صورت میں اس کا امکان تھا کہ کو ئی دوسرا اس سے نہ فائدہ ٹھا جائے اور سب کو پچھتانا پڑے؟اور اب تک پشاور سے کراچی تک جو صفائی ہوئی ہے وہ اس سیلاب میں نہ بہہ جا ئے؟  جبکہ وہاں عجیب ماجرا ہے کہ جب مراعات لینے کا وقت آتا ہے تو حکمراں دنیا کے جمہوری ملکوں کی مثال سامنے لاتے ہیں۔ جبکہ اپنے گھناونے کردار کو کبھی زیر بحث نہیں لاتے کہ ہمارے لیل نہار کیا ہیں۔ یہ بھی اگر ان کے نقشِ قدم پر چلیں ، توان جیسی مراعات کے مستحق بن سکتے ہیں ۔ فرق کیا ہے اس کے لیے ہم آپ کو وہاں لیے چلتے ہیں۔ یہاں کنیڈا میں رشوت، بد عنوانی اور سفارش نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے اور اگر پائی جائے تو چیف منسٹر جس کو یہاں پریمیر کہا جاتا ہے اس کے خلاف بھی پولس کاروائی کرسکتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ پولس کو شکایت ملی کہ اُس وقت کے پریمیر کے گھر میں کسی ٹھکیدار نے “ کچن کیبنٹ “ بطور تحفہ پیش کی ہے ؟تو پولس براہ راست مجسٹریٹ کے پاس چلی گئی، اسے ثبوت دکھائے اورمجسٹریٹ نے انہیں اس کے گھر کی تلاشی کے وارنٹ جاری کر دیے؟ چھاپہ مارا گیا، خبر میڈیا میں آگئی، اس نے استعفیٰ دیدیا ۔مگر عوام نے پھر بھی معاف نہیں کیا کچھ عرصے کے بعد الیکشن ہوئے اور اس میں پوری ان کی پارٹی شکست کھاگئی جو پہلے اکثریتی جماعت تھی اس کو پورے ایوان میں صرف دو سیٹیں ملیں ؟ پاکستان کے حکمراں یہ اختیارات اور یہ حوصلہ پولس اور مجسٹریٹ کو دیدیں اور ہر قسم کی ہیر پھیر سے توبہ کرلیں تو! وہ بھی انہیں مراعات کے مستحق ہوسکتے ہیں جو اِنہیں حاصل ہیں کیونکہ آنر ایبل کہلانے کے لیے تقویٰ برقرار رکھناپڑتا ہے تب کہیں جاکر “آنر “ کی حفاظت کا حق ادا ہوتا ہے۔ قصہ مختصر یہاں “ آنر ایبل “ کہلانے کے لیے ایماندار اور بہت ہی محتاط رہنا ضروری ہے۔ یہ تو رہا انتظامی معاملہ؟ ورنہ وہاں سندھ کی وہ کہاوت صادق آتی رہیگی کہ انہیں چوروں سے اجازت لینا پڑی؟ وہ اس طرح ہے کہ ایک پل کے نیچے جس میں صرف پانی برسات میں ہی آتا ہے ، کچھ ساہوکاروں کو لوٹ کر اور پل کے نیچے بٹھا، یہ کہہ کر ڈاکو جانے لگے کہ یہیں بیٹھے رہنا ہمارا پیچھا مت کرنا؟ جب وہ چل نے لگے تو یہ پریشان ہو ئے کہ اگر بارشوں کا زمانہ آگیا تو کیا ہوگا ؟ہم  پانی میں بہہ جائیں گے ۔ چوروں نے چونکہ نام بتائے نہیں تھے اس لیے کہ چور ایسا نہیں کیا کرتے؟ تو ان میں ایک نے بہت ہی ادب سے آواز دی کہ سائیں! چور خانصاحب !ہم بارش کے زمانے  میں بھی یہیں بیٹھے رہے ہیں یاچلے جائیں؟ چوروں نے ڈپپٹ کرکہا یہیں بیٹھے رہو؟
اب آئیے الیکشن کے سلسلہ میں کینیڈا کی سیر کرا دیتے ہیں کہ الیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟ یہاں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کے حلقہ بندیاں کب ہوگئیں؟ کیونکہ انتظامیہ پاکستان کی طرح سٹنگ ممبران سے نہیں پوچھتی ہے کہ انہیں اپنے موجودہ حلقے میں سے کونسا علاقہ، یا کون سے ووٹر نکلوانے یا شامل کرانے ہیں اور عملے میں سے کون کون سے آفیسر ناپسند ہیں تاکہ ہم ان کے نام ریٹرنگ آفیسر اور پریزائڈنگ آفیسر کی فہرست میں شامل نہ کریں کیونکہ یہ سارے کام یہاں الیکشن کمیشن خود کرتا ہے جو ایک خود مختار ادارہ ہے ؟ جبکہ انتخا بات کو ہمارے ہاں جیسی اہمیت نہیں دی جاتی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم نے بتایا یہ انتظامیہ کا کام ہی نہیں ہے اور یہاں کوئی کسی دوسرے کے کام میں دخل نہیں دیتا ، لہذا گورنر جنرل سے لیکر کو ئی چھوٹے سے چھوٹا اہلکار بھی الیکشن کے کا روبا پر اثر اندا ز نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ ثا بت ہو جا ئے تو اس کے عہدے کی خیر نہیں ہے۔ مرکزی اور صو با ئی الیکشن کا یہ عا لم ہے کہ الیکشن سے دو ما ہ پہلے سب منسٹر اور ممبر اپنے ، اپنے گھر چلے جا تے ہیں اور کا روبا ر ِ حکو مت سول انتظا میہ چلا تی ہے جبکہ اپنے اپنے محکمے ڈپٹی منسٹر چلا تے ہیں ۔آپ اس سے یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم اپنی با ت کی خو د ہی تر دید کر رہے ہیں؟بھا ئی یہا ں “ ڈپٹی منسٹر“ اصل میں سکریٹری کو کہتے ہیں جو ہمیشہ وزیر کے نا ئب ہی ر ہتے ہیں ۔ ہما رے یہاں چو نکہ وزیروں کی اہلیت ہما ری جیسی ہی ہو تی ہے وہاں کی با ت اور ہے ۔اور اسی طر ح مر کز کے انتخا با ت سے پہلے مر کزی حکو مت چلی جا تی ہے کو ئی “کیر ٹیکر “ نہیں ہو تا کو ئی الیکشن میں دھو نس دھا ندلی نہیں کر تا البتہ وزیر اعظم قبل از وقت ا گر الیکشن کرانے کے لیے پا رلیمنٹ تو ڑدیں، تو ان کی نیک نیتی ظا ہر ہے؟ اس لیے گورنر جنرل کہہ دیتا ہے کہ تم ہی کام کر تے رہو۔ مگر بغیر کا بینہ کے۔ ۔لو گ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمہا رے یہاں تو صدر ہو تا ہی نہیں ہے گورنر جنرل ہو تا ہے ؟ تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ وہاں جب یہ شہ پائی جاتی تھی ،تب بھی تو اس کا ریکا رڈ کبھی اچھا نہیں رہا ۔
کینیڈا کو چھو ڑیں،چلیں آقا ئے نعمت کے یہاں وہاں تو صدارتی نظا م ہے ان سے پو چھ لیں کہ وہ کتنی دھا ندلی کر تے ہیں یا بلدیا تی الیکشن کے وقت نچلی سطح پر وہ کتنے اثر اندا ز ہو تے ہیں۔ ہا ں! صدا رتی الیکشن میں صرف امیدواروں کو اجا زت ہو تی ہے کہ اپنی مہم چلا ئیں مگر دھا ندلی کی نہیں ۔ دیواریں صاف شفاف رہتی ہیں۔ البتہ مین سڑکوں پر مالکان کی اجازت سے امیدوار اپنے بورڈ لگادیتے ہیں؟ جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں الیکشن ہورہے ہیں۔ باقی ٹی وی پر امیدواروں کے درمیان مباحثوں سے الیکشن کا پتہ چلتا ہے ، وہ بھی نعروں سے نہیں بلکہ اپنے پروگراموں اور دلائل سے جو امید وارقائل کرلے لوگ اسی کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہم نے بھی شا ید غلطی سے معجو ن فلک سیر کھالی ہے کہ مجسم فلک پیما بن گئے ہیں ۔ارے بھا ئی یہ تو ترقی یا فتہ ملکو ں کی با تیں ہیں ۔ ہم بھلا ان کے منہ کو کیسے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے حالیہ الیکشن کے با رے میں دنیا بھر کی میڈیاکی آنکھ نے جو دیکھا وہ پڑھ لیجئے الیکش کا کھیل سمجھ میں آجا ئے گا۔ البتہ اس مر تبہ ایک تبدیلی نظر آئی کہ ووٹ بھگتا نے کا کام فرشتوں نے نہیں کیا؟ بلا امتیاز میدان خود سٹنگ ممبران کے ہاتھ میں رہا چاہیں وہ حزب اختلاف کے تھے یا حزب ِ اقتدار کے دونوں نے موقعہ سے پورا فائیدہ اٹھایا ،جو حسب توفیق جہاں تک جا سکتا تھا وہ گیا؟ ان کے نما ئندو ں نے ہی جعلی وو ٹ بھگتا ئے سر کا ری ملازموں اور حکمراں پا رٹی کے ورکروں کو بھی مدد کرتے دیکھا؟ پہلے تو سنی سنا ئی با ت ہواکرتی تھی۔ اب تو کیمرے کی آنکھ کی وجہ سے با ت کہیں کہیں تو عین الیقین تک پہنچ گئی ! مگر الیکشن کمشنر صا حب کہہ رہے ہیں کہ کو ئی دھا ند لی ثا بت نہیں ہوئی؟ یہ ہی صرف بارہ آدمی خیر پور میں مرگئے اور ایک فیصل آباد میں مر گیا چند زخمی ہو ئے اس کے علا وہ جوہو ا وہ الیکشن سے پہلے ہوا جس کے ہم ذمہ دا ر نہیں ہیں ۔ خبریں گواہ ہیں کہ حزب ِ اختلاف اور حزب اقتدار کھلم کھلا الیکشن رولز کی خلاف ورزی کرتے رہیں اورا نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا؟ شاید غیر جانبداری ، انصاف اور مساوات کا تقاضہ یہ ہی تھا؟ ہما رے قارئین منتظر تھے کہ دیکھیں ڈاکٹر عاصم کیس کا کیا ہوتا ہے۔ انہیں خوش خبری ہے کہ عدلیہ نے قوم کی لاج رکھلی اور پرنالہ وہیں گرا جہاں گرنا چاہیئے تھا۔ عدلیہ زندہ باد!

Posted in Uncategorized

دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ں پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟ز ۔۔۔ شمس جیلانی

میں ہمالیہ کی ترائی کا رہنے والاہوں جہاں بڑے ، بڑے جنگلات تھے شہروں میں بر طانیہ کی حکومت تھی لیکن جنگلوں میں ڈاکو عام تھے اور انہیں کا راج تھا۔ اس زمانے میں لکھے ہوئے آئین نہیں ہوتے تھے لیکن ان کا بھی ایک غیر تحریر شدہ آئین تھا ، وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے ۔ ان کے علاقے بٹے ہو ئے تھے۔  وہ کبھی ایک دوسرے کی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے۔ اور ایک دوسرے کے کبھی آڑے نہیں آتے تھے۔ شکاری اور ڈاکو ساتھ ساتھ گھومتے تھے ۔ صرف انہیں یہ کہنا کافی تھا کہ ہم شکاری ہیں یا راہ گیر ہیں اور سب محفوظ ہوجاتے تھے ۔ ہاں کوئی مخبر ہوتا تو سزائیں عبر تناک تھیں۔ جبکہ آج کی دنیا میں لکھا ہوا آئین ہے مگر پوری طرح نافذ کہیں بھی نہیں ہے ہر ایک ا س کی خلاف ورزی ا پنا حق سمجھتا ہے۔
پچھلے دنوں ہر ایک خوش تھا کہ بس اب وطن عزیز کے اچھے دن آگئے ہیں لوگوں کے چالان بن رہے ہیں پرانی اور نئی فائیلیں کھل رہیں ، اس لیے کہ اتفاق سے قوم کو کچھ اچھے آدمی مل گئے ہیں اوروہ ملک کو اچھا بنا نا چاہتے ہیں۔ ہم نے بہت دفعہ لکھا جس کے کہ یہ کالم گواہ ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا؟ لوگوں نے کہا آپ کبھی اچھی بات بھی لکھا کریں ہمیشہ کم ہمتی کی بات کرتے ہیں ،نا امیدی کی بات کرتے ہیں، کبھی قوم کی ہمت بندھائیے؟ ہر لکھنے والا مجبور ہوتا ہے کہ وہ ایسا کالم لکھے جو مقبولیت حاصل کرے تاکہ اس کا بھاؤ بڑھے؟ مگر ہم پیسے کے لیے کوئی کام نہیں کرتے لہذا مقبولیت اور نا مقبولیت کا غم بھی نہیں پالتے؟ آج کی دنیا میں یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی مگر یہ حقیقت ہے کہ ابھی بھی دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی ہے۔ جنہیں عرف ِ عام میں لوگ سر پھرے کہتے ہیں۔ یہ بہت نہ سہی سے لیکن کچھ ہیں ضرور جبکہ وہ غیر ترقی یافتہ ملکو ں میں کم اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہت زیادہ ہیں جہاں زیادہ تر کام رضاکارانہ طور پر چلتے ہیں اور انہیں ہر سطح پرسراہا جاتا، جبکہ غیر ترقی یا فتہ ملکوں کی صورت ِ حال مختلف ہے وہاں سرراہا نہیں بلکہ انہیں ستایا جاتا ہے؟ یہ اپنے، اپنے علاقے  کےرسم رواج ہیں ؟
ویسے ہم کوئی روشن ضمیر نہیں ہیں جو ہمارا ہر بار لکھا ہوا، پورا ہوتا ہے اور ہم ہمیشہ بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کچھ نہیں ہوگا “ اگر ہمیں روشن ضمیری کا دعویٰ ہوتا توہم بھی کہیں دکان کھول لیتے اور کما کھاتے؟ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ “ کچھ نہیں ہوگا“ اس لیے کہ ہم خود اچھے نہیں ہیں ؟ اگر اکثریت اچھی ہوجائے تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر اٹھارہ کروڑ میں تین آدمی اچھے ہوں بھی تو وہ کیا کرسکتے ہیں؟ اس لیے کہ کسی کوگرفتار کرنے کے لیئے بھی ، ایک نیک آدمی چاہیئے ، اگر وہ نیک نہیں ہے اور اس کی ڈیوٹی کسی کو گرفتار کرنے پر لگائی گئی ہے، تو وہ دیکھے گا یہ بندہ ہے کون! اپنا پیٹی بھائی تو نہیں ہے؟ اپنے گاؤں کا تو نہیں ہے ،ذات برادری کا تو نہیں ہے۔ یہ اگر ان میں سے کچھ نہیں ہے تو پھر بندہ کس کا ہے ؟ جیسے کہ اگر اس پر کسی سائیں کی مہر لگی ہوئی ہے تو وہ بجائے اسے گرفتار کر کے سائیں سے برائی مول لینے کہ سائیں! کو ایک فون سرکاری خرچے پر دفتر سے مار دے گا کہ سائیں! آپکے فلاں بندے کے وارنٹ لے کر میں آرہا ہوں، سائیں! میں آپ کا نمک خوار ہوں! نیاز مند ہوں! آپ کے بندے کو کیسے گرفتار کر سکتا ہوں،میں نے سو چا کہ آپ کو اطلاع کردوں؟وہ وہاں سے فرار ہو جائے گا۔ اگر گھر پر نہیں ہوا کہیں اسے راستے میں بھی مل گیا تو بھی یہ اس کو دیکھ کر بھی گرفتار کیے بغیر چلا جائے گا اور واپس آکر رپورٹ کریگا کہ ملزم فرار ہوگیا؟ اب وہ ا وپر جو ایک نیک آدمی بیٹھا ہوا ہے وہ کیا کرے گا۔وہ زیادہ میں زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ خود گاڑی میں بیٹھے کانسٹبل کو ساتھ بٹھائے اور ڈرائیو بھی خود کرے اور کسی کو بتائے بھی نہیں کہ کہاں جارہے ہیں؟۔ پھر بھی وہ جبھی کامیاب ہو سکتا ہے کہ وہ اسے پہچانتا ہو اور اس کا گھر بھی جانتا ہو؟ سوال یہ ہے کہ ایک افسر کیا تمام مجرموں کے گھر جان سکتا ہے۔ چلیے وہ جانتا بھی ہے، پہونچ بھی گیا، گرفتار بھی کر لیا اوراس نے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا۔ دوسرے دن کسی عدالت میں وہ گرفتاری چیلینج ہو جائے گی کہ اس نے اسے گرفتار کیسے کیا جب اس کے پاس اسے گرفتار کرنے کے اختیارات ہی نہیں تھے۔ لہذاحبس بیجا میں ایک معزز شہری کو رکھنے کے جرم میں وہ خود جیل چلا جا ئے گا، اگر بہت بڑا افسر ہوا تو شاید بچ جا ئے۔ مگر اس کے بعد اس کے کان ہو جائیں گے اور وہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں کریگا۔ اگر اس کے ستارے بہت ہی چھے ہوئے تو چلیے۔ اس نے اس معزز شہری کو حوالات کی ہوا بھی کھلادی اور اس کا کچھ بگڑا بھی نہیں ۔ اس نے چھتر کے زور پر سب کچھ قبول بھی کرا لیا ؟ تو اب ایف آئی آرکون درج کرےگا؟ جو کرے گا اگر وہ ایماندار نہیں ہے تو بھی بڑے افسر کے دباؤ میں آکر صیح بھی لکھے گا۔ چلیئے یہ مرحملہ بھی طے ہوگیا تو ،بتا ئیے کہ گواہ کہاں سے ملیں گے۔ پراسیکیوٹر کہاں سے آئیں گے ؟اگر ان کے پاس سائیں کا فون آگیا تو وہ کیا کریں گے۔ نہیں مانتے ہیں تو نوکری گئی، پھر کسی کی لڑکیاں ہو نگی، بہنیں ہو نگی، آگے بڑھتے ہیں! کو ئی آدمی بھی نیک ہونے کے باوجود کسی بدمعاش کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رہے ریڈی میڈ گواہ! وہی ملیں گے جو تھانے میں بیٹھے رہتے ہیں اور کہیں میلوں دور ہونے واقعہ کے چشم دید گواہ بن جاتے ہیں ! اگر وہ استعمال ہو ئے تو وہ کسی کو سزا دلانے کے کام نہیں آسکتے، اس لیے کہ پولس کے براہ راست کنٹرول میں ہوتے ہیں وہ صرف مال بنانے کے کام میں آسکتے ہیں یاپارٹی تبدیل کرانے کے کام آسکتے ہیں ؟ سزا دلانے کے کام میں ہر گز نہیں آسکتے؟ پھراس کے آگے بھی بہت سے مراحل ہیں ۔
اس کے بعد بھی قدم قدم پر سیاسی مجبوریا ں ہیں ۔ جتنے آدمی جہاں جہاں لگے ہو ئے ہیں وہ کسی نہ کسی کے آدمی ہیں ۔ ان کے بال بچے ہیں ، ججوں کو بھی اپنی جان کا خطرہ ہے۔ وکیلوں کو اپنی جان کا خطرہ ہے جو ایمانداری دکھا ئے گامارا جاتا ہے۔
پھر سیاسی مجبوریاں ہیں ۔ اس پر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آگیا اس دور میں ایک شخص پانچ سو روپیہ کانادہندہ اایک کواپریٹو سو سائیٹی کا تھا اس کو انسپکٹر نے پکڑا ہوا تھا کہ کچھ مال بنا لے؟ وہ کہہ رہا تھا کہ میرے پاس پیسہ نہیں میں کہاں سے تمہیں دوں! وہ ہر تھوڑی دیر بعد کہتا کہ اچھا تو میں تمہیں جیل بھیج دیتا ہوں! اس کے پاس ایک کمبل تھا وہ اٹھاتا اور کہتاچلو ؟ انسپکڑ ڈھیلا پڑ جاتا؟ یہ اس کی وقت بات ہے جب لوگ جیل جانا برا سمجھتے تھے؟ لہذا وہ اسے یہ سمجھ کر دھمکی دے رہا تھا کہ یہ شاید جیل سے ڈر جائے۔ اس کے بعدتو لوگ کواپریٹو سو سائٹی کیا پورے پورے بنک کھاگئے ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں ۔ بلکہ جیل شارٹ کٹ ہے حکومت میں جانے کا، کہ یہ بھی قر بانی میں شامل ہے کہ میں اتنے سال جیل میں رہا اور لوگ منتظر رہتے ہیں کسی طرح انہیں جیل بھیجدیا تاکہ وہ اپنی پرانی کرتوتوں کی بنا پر کھوئی مقبولیت سیاسی مظلوم بن کر دوبارہ حاصل کر لیں ؟ اگر کو ئی کچھ ایسے میں کرنا بھی چاہے تو اس کو پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ اگر اِس کی حکومت بر طرف کردی تو یہ کھوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کرلے گا اور میری کرسی لے لیگا ۔ کیونکہ مجھ میں بھی بہت سے چھید ہیں؟ دوسرے اچھے آدمی کا میں آج حوصلہ بڑھا دوں تو کل میرا نمبر نہ آجائے ؟ رہیں سیاسی پارٹیاں ان میں کسی کا لیڈر اگر آزمایا ہوا نہیں ہوا تو اس کی طرف لوگ دیکھتے ہیں ؟ کیونکہ وہ نعرہ لگا رہا ہوتاہے کہ میں نیا پاکستان بنا ؤں گا؟ اس راستہ پر وہ چلنا بھی چاہتا ہے؟ لیکن نئے لوگوں کو الیکشن جیتنے کا تجربہ نہیں ہوتاہے، دوسرے ان کے پاس دست غیب سے کمایا ہوا پیسہ نہیں ہوتا لہذا مال خرچ کرنے میں بخیل ہوتے ہیں۔ ان کی ناتجربہ کاری اور بخیلی کی بنا پر وہ انتخاب ہار جاتا ہے ۔ تو مجبوراًقابل ِ انتخاب لوگو ں کواپنی پارٹی میں بھر تی کر لیتا ہے۔ وہ وہی کرتے ہیں جو ہمیشہ سے کرتے آرہے ہیں۔ عوام کی آس ٹوٹ جاتی ہے نوبت یہاں تک پہونچتی ہے کہ وہ پارٹی میونسپلٹی کے نتخاب تک ہار جاتی ہے، اس لیے کہ لوگوں کااعتماد کھو چکی ہوتی ہے ۔ یہ کھیل گزشتہ دو کم ستر سال سے جا رہی ہے ۔ اور جب تک ہم من حیثیت القوم نہ بدلیں گے کچھ نہیں بدلے گا۔ اور اس کے لیے کسی مقنا تیسی لیڈر اور عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جو محلوں میں رہنے والے نہیں لاسکتے ، اس لیے کہ ایسا ویسا آدمی پنے جیسوں کو نہیں پکڑ سکتا ؟ اسی لیے ہادی اسلام نے پہلے لوگوںکا تجزیہ نفس کیا، پھر کہیں جاکر مدینہ میں حکومت قائم کی؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم نہ بدلیں ، لیکن دنیا بدل جائے جو ناممکن ہے۔؟

 

Posted in Uncategorized

جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے شہر رچمنڈ بی ۔ سی میں ایک ہی اہلِ تشیع کی اور ایک ہی سنیوں کی مسجد ہے دونوں دس دس ایکڑ پر ہے، یہ اس شہر کی مونسپلٹی کا اچھوتا منصوبہ ہے جس نے ہر مذہب کی عبادت گا ہوں کو روڈ نمبر5پر جمع کر دیا ہے کہ مل جل کر رہو ؟جبکہ عوام نے اس سڑک کانام بدل کر شاہراہِ جنت رکھدیا۔ اس ضافے کے بعد شہر میں کوئی دوسری عبادت گاہ نہیں بنی؟ سوائے ایک بدھ مت کی عبادت گاہ کے ،وہ بھی ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی ساتویں منزل پر ہے جس کو اس کے مالک نے اپنے مالک کے شکرانے کے طور پر کہ اسکو اتنے بڑے ہوٹل کا مالک بنایا بطور تشکر وقف کیا ہے۔ یہاں نئی عبادت گاہیں نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں سے ایک ہے ۔ لہذا ہر کو ئی آسانی سے اپنی ڈیرھ اینٹ کی مسجدالگ نہیں بنا سکتا؟اس لیے جو بھی جمعہ کی نماز ادا کرنا چاہے اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اسی مسجد میں نماز پڑھے ۔جو لوگ اپنے عقیدے میں بہت کٹر ہیں ان کی تسکینِ روح کے لیے ، برابر میں 20 منٹ کی ڈرائیو پر ایک شہر سرے نام کا ہے جو سستا ہے؟ جہاں چھوٹی بڑی ملاکر ڈیرھ درجن سے زائد مساجد ہیں جہاں وہ اپنی من پسند مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔البتہ دونوں جگہ آپ ایک بات مشترکہ طور پر دیکھیں گے کہ نئی نسل مسجدوں سے گریزاں ہے اور وہ مسجد یہ کہہ کر نہیں جاتی ہے کہ وہاں ان کی تسکین کاسامان نہیں ہے۔ ہم نے اس نسلی خلا کو پر کرنے کے لیے اپنی کتاب حقوق العباد اور اسلام میں تفصیلی بات کی ہے۔ جس کا “ اسلام وے آف دی لائف کے نام سے “ انگریزی میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے وہ لائبریریوں موجود ہے، قارئین وہاں یا ہماری ویو سائد http://www.bazm-e-shamsjilani@0rg پر جا کرپڑھ سکتے ہیں اس تعارف کے بعد اب ہم آگے بڑھتے ہیں ۔
گزشتہ جمعہ کو ہم برقی ڈاک کے ذریعہ مطلع ہوچکے تھے کہ آج مکہ معظمہ کی ام القرایٰ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب جن کی وہاں پڑھانے کے علاوہ ایک اور ذمہ داری بھی ہے خطاب فرمائیں گے؟ خطاب شروع ہوا تو وہ الفاظ جن سے کان آشنا تھے ان کی زبان ِ مبارک سے نہیں سنے! جسے ہم ہر جمعہ کو26 سال سے سنتے آرہے تھے، چاہیں خطیب مقامی ہو یا غیر مقامی ہمیں بڑی حیرت ہوئی ۔ جو ہر ایک خطیب یہاں سے شروع کرتا تھا جس کا اردو میں با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ “ ہر بدعت گمراہی ہے اور اس پر عمل کرنے والا جہنمی ہے “ وہ جب ہمیں سنائی نہیں دیے،تو ہم ہمہ تن گوش ہو گئے ، اس کے آگے بھی جو سنا وہ بھی بڑا خوش آئند تھا، امام صاحب امت ِ واحدہ کی بات کر رہے تھے۔بہت سے لوگ ہم سے پوچھنا چاہیں گے کہ آپ کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہم نے اس مسئلک کے تمام خطیبوں کو یہ تو کہتے سنا کہ بدعت گمراہی ہے یہ سچ بھی ہے، اور اس کے بارے میں دو رائیں بھی نہیں ہیں پوری امت اس مسئلہ میں ایک ہی پیج پر ہے؟ مگر اختلاف ہے تو تفہیم پر؟ کیونکہ اگر اس سے عربی زبان کے لغوی معنی لیے جائیں تو پھر ہر نئی ایجاد بدعت ہے اور ہر نئی چیز بد عت ، تو زندگی اجیرن ہو جا ئیگی؟ لیکن اس کے معنی اسلامی اصطلاح میں لیے جا ئیں تو “ صرف وہ اعمال بدعت ہیں جن کو کہ حضور (ص) نے تواتر کے ساتھ اپنے اسوہ حسنہ میں تاحیات اپنائے رکھا؟ اگر اس کے خلاف کوئی عمل کرے تو وہ بدعت ہے، گمراہی ہے اور اسے اختیار کرنے والا جہنمی ہے؟ مگر اس باریک فرق کوکو ئی خطیب زیر بحث نہیں لاتا۔کیونکہ اس سے وہ معنی نہیں نکلتے جو جو ایک مسئلک کے داعی نکالنا چاہتے ہیں۔ لہذا یہ چند الفاظ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں،مگر مزید تفصیل میں نہیں جاتے؟ اس خود ساختہ سند کے تحت وہ جس فعل کو چاہیں بدعت قرار دیدیتے ہیں جس کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن نازل ہوچکا ،آخری نبی )ص) اپنا کام مکمل فرماکر پردہ فرماچکے اور خلیفہ کوئی ہے نہیں ۔ دوسرے ایسی کوئی عالمی جماعت بھی موجود نہیں ہے جس کو سب تسلیم کرتے ہوں ،اور وہ کسی نئے پیدا ہونے والے مسئلہ پر اجمائے امت کراکر اجتہاد کے ذریعہ کوئی اپنا فیصلہ نافذ کراسکے۔ اس افراتفری کا پھل وہ شدت پسندی ہے جو کہ آج دنیا کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے؟ جبکہ اس سلسلہ میں قرآنی ہدایات، اور ہادی اسلام کی ہدایات واضح ہیں جہاں کوئی ابہام نہیں ہے۔ سورہ مائدہ ا ور الانعام میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی! یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا حلال اور کیاحرام ہے ۔ وہاں جو چیزیں حرام ہیں۔ انہیں تفصیل سے قرآن میں دیکھ لیا جائے؟ اس کی مزید تفسیر حضور (ص) نے فرمائی ہے اسے لوگ سمجھنا چاہیں تو حضرت معا ذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب حضور (ص) نے یمن اپنا نمائندہ (عامل ) بنا کر بھیجا تو انہیں رخصت کرتے وقت ان سے پوچھا کہ تم وہاں جاکر فیصلہ کیسے کروگے ؟ جواب میں انہوں نے فرما یا کہ پہلے میں قرآن میں تلاش کرونگا، پھرمیں سنت میں تلاش کرونگا ، حضور (ص) نے لقمہ دیا کہ اگر ان میں بھی کچھ نہ ملا تو! فرمایا کہ پھر میں اپنی رائے استعمال کرونگا ؟ یہ جواب سماعت فرماکر حضور (ص) خوش ہو گئے اور ان کے سینے پر ہاتھ رکھ فرمایا کہ اس اللہ کا کا شکر ہے جس نے اپنے نبی کے نمائندہ کو یہ فہم عطا فرمائی۔ لیکن گزشتہ صدی کے ا وائل سے اس میں تبدیلی پیدا ہوئی اور اس کا باعث ایک نیا فقہ تھا جس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ فقہ حنبلیہ کو بدعتوں سے پاک کر نے کے لیے وجود میں آیا ہے۔ اس نے آکر تیرہ سو سال سے زیادہ پرانی تفسیر جہاں ضرورت ہوئی بدل دی اور پوری دنیا پر نئے فقہ کو نافذ کرنے کامنصوبہ بنایا۔ اور ہر ایک کو بدعتی کہنا شروع کر دیا جو ان کے مسئلک کے خلاف کچھ کرے؟ یعنی جسے وہ بجا کہیں وہی بجا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملت کا شیرازہ بکھر گیا؟ کیونکہ ان کے پاس اس عقیدے کو پھیلانے کے لیے دولت بھی تھی اور ان کی اپنی یونیورسٹیوں کے علاوہ وہ تمام مدرسے اور تعلیمی ادارے بھی جو دنیا بھر میں پھیلے ہو ئے اور مالی معاونت کے طلبگار تھے ،اس کارخیر میں وہ بھی ان کے آلہ کار بنتے گئے ۔ نصاب کی اس تبدیلی سے دنیا کا امن و چین تباہ ہو گیا۔ اب جبکہ ساری دنیا اس سے واقف ہو چکی ہے اور وہی خود ا ن کے منہ کو آرہے ہیں تو انہیں اسکا احساس ہوا گوکہ دیر میں ہوا ؟
ہم اس لہجہ کی تبدیلی سے یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے گو کہ بہت دیر کے بعد سہی؟ لیکن نفرت ایسی بلا ہے کہ ایک لمحہ میں کوئی بھی شر پسند، شر پھیلا توسکتا ہے۔ مگر جب اس کے نتیجہ کے طور پر دلوں میں دراڑیں پڑ جائیں تو نفرت دورکر نا بہت ہی مشکل ہو تا ہے۔ چونکہ نفرتوں کی تشہیر کرتے ہوئے ایک صدی گذر گئی ہے اس کو دور کرنے کے لیے بھی صدیاں چاہیئے؟ آپ تاریخ میں چلے جائیں تو سابقہ تجربہ یہ ہے کہ اس کی بیخ کنی میں تقریبا ً سات سو سال لگے تھے،جو خارجیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں شروع کیا تھا اور وہ ختم ہلاکو کے دور ہوامیں ہوا۔ خارجیوں کا بھی یہ ہی عالم تھا کہ وہ اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتے تھے۔ اور آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتے ، اور نہ ہی اپنے سوا دنیا میں کسی کو جینے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ اگرا صل اسلام یہ ہی ہو تا جو ان کا اسلام ہے تو؟ عالم اسلام میں کوئی معابد ، گرجاگھر، مندر وغیرہ نہیں بچتا اور نہ ہی آثارات قدیمہ ہوتے۔ ان کا سب جگہ موجود ہونا( سوائے سعودی عرب کے جوکہ گذشہ صدی میں عالم میں وجود میں آیا ہے) کچھ کا شدت پسندوں کے ہاتھوں حالیہ دور میں ڈھانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام ا یک انتہائی ٹالرینس والا مذہب ہے۔ اور ایک چھوٹا سا طبقہ دنیا کے سامنے جو اسلام پیش کر رہا ہے وہ اس سے قطعی مختلف ہے؟ مسلمان تو صرف انسانوں سے ہی نہیں جانوروں سے بھی محبت کرنے والا ۔ سچ بولنے والا ! صادق ا ور امین ، صبر کرنے والا، غصہ پی جانے والا، اچھے اخلاق والے کا نام ہے۔ جبکہ جھوٹوں، بد عہدوں ہر ایک سے نفرت کرنے والوں اور بات بات پر مشتعل ہو نے اور ہر ایک سے نفرت کرنے والوں یا کام چوروں، بربریت کرنے والوں سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اسلام عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے۔
لیکن اسلام میں توبہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں چھوڑ دی جائیں اور تائب اس کی طرف دوبارہ راغب نہ ہو ؟ اس کا ثبوت ان کو عمل سے دینا پڑیگا جو اب اگر واقعی اس برائی کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں تک جانا ہوگا کہ ہر ایک سے محبت کر نا ہوگی ۔ تب کہیں جاکرایک صدی پرانی یہ نفرت دور ہوگی؟ اس کے لیے نفرت پھیلانے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مسلسل جدو جہد کرنا پڑے گی ، صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا؟
دوسرے میں اان لوگوں سے معدبانہ عرض کرونگا کہ اسلام بدگمانی سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر کوئی تائب ہونا چاہے اور اس میں استقامت دکھائے تو اسے معاف کردیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہدایت دے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق بھی عطا فرمائے (آمین) تاکہ دنیا میں دوبارہ امن اور چین قائم ہوسکے؟

Posted in Articles, Uncategorized

عالی جی تو شہزادے تھے۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

دراصل ہمارے  میرکارواں صفدر ھمدانی صاحب کی یہ خواہش تھی کہ میں بھی عالی جی بارے میں کچھ لکھوں جبکہ عالمی اخبار میں پہلے ہی بہن شاہین اشرف علی کا ایک طویل مضمون آچکا ہے۔
نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی جو پاکستان میں اپنے تخلص کی بنا پر عالی جی کے نام سے جانے جاتے ہیں، وہ اصل میں اس ثفاقت کے امین تھے جو اب ہندوستان میں بھی دم توڑچکی ہے جہاں وہ پیدا ہوئے ۔ گوکہ اس کا انہیں بہت کم حصہ ملا مگر جو کچھ وراثت میں ملا وہ بھی بہت تھا ۔ کم ملنے کی دووجوہات تھیں ایک تو انکے والد کا انتقال جب کہ وہ ابھی  کم سن تھے  دوسرے ملک کی تقسیم جس کی وجہ سے انہیں صدیوں پرانی اپنی ساکھ اور پہچان بھی پاکستان کے عشق میں چھوڑنا پڑی کیونکہ۔ انہوں نے پاکستان آنا پسند کیا اور وہ13 اگست 1947 ءکو دہلی سے چلنے والی آخری ٹرین سے جبکہ دہلی جل رہا تھ راستے غیر محفوظ تھے پاکستان  کے لیےروانہ ہوگئے۔ حالانکہ انکا خاندان جنگ آزادی کے نتائج کے طور پر پہلے ہی اپنا ایک نامورفر زند اور ریاست کا بڑا حصہ قربان کرچکا تھا ۔ لیکن انہوں نے جو حصہ سنبھال کر رکھاوہ ان کا ورثہ تھاکہ وہ جدی اور پشتینی نواب اور والیِ ریاست لوہارو کے نواب مرز سر امیر الدین خان کے بیٹے تھے اور ماں کی طرف سے حضرت درد دہلوی کے نواسے ،اور نواب مرزا شمس الدین (شہید) جیسے مجاہد جنگ آزادی کے پوتے تھے ۔چاہتے وہ اور بہت سوں کی طرح پدرم سلطان بود بنے بیٹھے رہتے۔ مگرانہوں نے ان بیساکھیوں کا سہارا نہیں لیا، حتیٰ کہ نوابزادہ بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ استعمال نہیں کیا۔ وہ یہاں آکر جو کچھ بھی بنے اور جو میدان بھی چنا اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر اس میں عروج تک پہونچے اور جیسے  کہ ایک سے زیادہ صلاحیتیں رکھنے والے ہر شخص میں یہ بات ہوتی ہے کہ جب وہ کسی ایک میں ا نتہائی بلندی پر پہونچ جاتا ہے تو وہ دوسری پر چھلانگ لگادیتاہے۔ انہوں نے بھی اپنے کئی پیشے بلندی پر پہونچ کر بدلے، لیکن آزادی کے سلسلہ میں جو لگن ان کو وراثت میں ملی تھی اس کی وجہ سے ادب کے میدان  میں اتنا کام کر گئے اور حب الوطنی سے بھر پور ایسے ملی نغمے تخلیق کر گئے کہ کسی کا اس میدان میں ان سے آگے بڑھنا اور اتنا مقبول ہونا ممکن نہیں ہے ۔؟
جنہوں نے 1947 کا انقلاب دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ بڑے بڑے نوابوں اورر جواڑوں کے اسی پدرم سلطان بود کے چکر میں نام و نشان تک مٹ گئے۔ لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عالی جی کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازہ ہوا تھا۔ جس کی بنا پر انہوں نے یہاں کے معاشرے میں خود کو ہر میدان میں منوایا ۔  لطف یہ  ہےکہ انہوں نہ سادگی چھوڑی نہ اپنی قدریں چھوڑیں۔اگر وہ شاعری کی طرف بڑھے تو انہوں نے نئی نئی جہتیں اپنائیں ؟ لافانی اور لا ثانی گیت اور دوہے کہے جوکہ حب الوطنی سے شرسار تھے۔ جوآج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ وہ بینکنگ میں گئے تو بھی انتہائی اعلیٰ عہدوں تک پہونچے حالانکہ یہ انکامضمون نہ تھا۔ سیاست میں آئے تو سینیٹر تک پہونچے؟ اردو کی بقا کے لیے جوکام انہوں نے ایک سپاہی کی حیثیت شروع سے  کیا تھا وہ ان کو اپنے آخری لمحوں تک یادرہا اور وہ پاکستن میں اردو کی تاریخ کا ہمیشہ ایک حصہ رہے گا۔ بعض بچے اپنے آبا و اجداد کے نام سے مشہور ہوتے ہیں اور ان کا بھرم نہ رکھنے کی بنا پر ان کی بد نامی کا باعث بنتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جیسے عالی جی جو اپنے کارناموں کی وجہ سے اپنے اجداد کا نام روشن کرتے ہیں۔ بلا شبہ ان میں سے عالی جی ایک تھے؟ کہ انہوں نے اپنی ریاست لوہارو کا نام روشن کیا  اوراپنے دادا اور پردادا کا نام  بھی روشن کیا؟ ان کی روحیں اپنی قبروں میں لیٹی ہوئی خوش ہو رہی ہونگی۔ وہ بطور انسان کیسے تھے اس سلسلہ میں صرف اپنی دو آخری ملاقاتیں پیش کر کے بات ختم کر تا ہوں۔
اس صدی کے پہلے عشرے کی بات ہے اور یہ انکا آخری غیر ملکی  دورہ تھا جب کہ وہ امریکہ تشریف لائے، بہت سے مشاعروں میں حصہ لیتے ہو ئے نیو یارک پہونچے تو اتفاق سے میں بھی وہاں اپنی بیٹی سے ملنے گیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں فون کیا کہ میں ملنے آنا چاہتا ہوں ۔ بڑی اپنایت سے فر مایاکہ کیا تمہیں بھی اجازت لینے کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا کہ پھر بھی آپکے لیے کونسا وقت مناسب ہوگا؟ کہنے لگے میں نے ابھی تک صبح خیزی کی عادت نہیں چھوڑی ہے ۔ صبح ہی صبح آجاؤ تاکہ آرام سے بیٹھ کر باتیں کر سکیں۔ کیونکہ اس وقت تک مشاعروں کے مارے لوگ سو رہے ہونگے؟
میں چونکہ لونگ آئی لینڈ میں مقیم تھا اور وہ  شہر میں  تھے،فاصلہ طویل تھا۔میں نے اپنے داماد جمیل وقار کو ساتھ لیا  اور10 بجے پہونچ گیا۔ دروازے پر دستک دی اندر سے آواز آئی کہ میاں! اندر آجاؤ تم سے کیا ر کھ کھاؤ۔ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ بجائے سلیپنگ سوٹ میں ملبوس ہو نے کہ بنڈی ( زمانہِ قدیم کی موٹے کپڑے کی صدری جو پہلے بنیان کی جگہ استعمال ہوتی تھی) اور زیر جامہ پہنے پلنگ پر دراز ہیں ؟ فرمانے لگے کہ اس ہوٹل کی ایر کنڈیشنگ کچھ واجبی سی ہے! لہذا میں نے زمانِہ ایر کنڈیشنگ سے پہلے کا لباس پہنا ہوا ہے؟ باتیں شروع ہو ئیں ان کے ایک صاحبزادے میرے داماد جمیل وقار کے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں کلاس فیلو تھے۔ انہوں نے ان کے بارے میں جاننا چاہا کہ آجکل وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔ تو انہوں بتایا کہ وہ لبیا سے پاکستان واپس آگئے ہیں اور اب ایک بینک میں ہیں ۔ پھر وہ جمیل وقار سے بھی بے تکلف ہو گئے اور کہنے لگے اس ہوٹل میں روم سروس نہیں ہے۔ جیب سے کچھ پیسے نکالے اور کہنے لگے جوتمہیں پسند ہو وہی ہمارے لیے بھی کھانے، پینے کو نیچے سے لے آؤ! جمیل وقار نے تکلف کیا اور کہا کہ ہم ناشتہ کر کے آئے ہیں اور پیسے نہیں لیے، توکہنے لگے مگر میں نے تو ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہے؟ وہ ناشتہ لینے چلے گئے؟پھر اپنی مشاعروں کی روداد سنانے لگے جن میں پڑھ کر وہ واپس تشریف لا رہے تھے۔ دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ لاس اینجیلس کے ایک ہوٹل میں مری بیاض رہ گئی ہے ۔ میری ساری نئی تخلیقات اس میں تھیں۔ اب پریشان ہوں کہ شام کو پڑھونگا کیا؟ کیونکہ اب تازہ کلام یاد نہیں رہتا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کے تو پرانے نغمے وغیرہ بھی بہت ہی مقبول ہیں وہ تو یاداشت میں محفوظ ہونگے کیونکہ پرانی یادشت عمر نہیں کھاتی ،و ہی پڑھ دیجئے گا۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی دوسری طرف ان کی بیگم صاحبہ فون پر تھیں ان سے باتیں کرتے رہے، پھر کہنے لگے کہ میری تلاش کراچی  میں ہورہی ہے اور مجھے سندھ کا گورنر بنا نا چاہتے ہیں ؟ میں نے مبارکباد دی کہنے لگے نہیں سابقہ تجربات کی بنا پر  “اب طبیعت ادھر نہیں آتی“ ا تنے میں جمیل وقار ناشتے کے لواز مات لے آئے ہم نے ملکر ناشتہ کیا اور ان کو خدا حافظ کہا، کہنے لگے اب آئندہ کسی  غیر ملکی مشاعرے میں نہیں آؤنگا۔ اب عمر اسی سال سے تجاوز کر گئی ہے سفر نہیں ہوتا۔ مجھے اس دن کہیں اور جانا تھا میں نے معذرت کی کہ میں شام کے مشاعرے میں شریک نہیں ہو سکونگا۔
اس کے کچھ دنوں بعد مجھے ٹورنٹو جانا تھا وہاں بھی میں ان کے مشاعرے کے بعد پہونچا تو ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے عالی جی وہی کلام سنا گئے جو انہوں نے1984 ء  جب یہاں تشریف لائے تھے تو سنایا تھا۔ میں نے جب ان کو اصل بات بتائی تو وہ بڑے شرمندہ ہو ئے؟ میں نے انہیں کہا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسی لیے تو بدگمانی سے بچنے اور آپس میں خوش گمانی برتنے کاحکم دیا ہے۔
پھر آخری ملاقات ان سے کراچی میں اردو ڈکشنری بورڈ کے دفتر میں ہو ئی۔ بہت خوش ہو ئے مجھے بتایا کہ میں آجکل ایک منصوبے پر کام کر رہا ہوں ،اردو کے ان تمام جزیروں میں جو دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں انجمن ترقی اردو کی شاخیں قائم کر کے ایک دھاگے میں پرونا چاہتا ہوں ؟ اس سے پہلے یہاں کراچی میں اس سلسلہ میں ایک کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تمہیں بلاؤنگا آنا ضروراور تم ذرا ہماری لائبریری دیکھ لو اور ٹیلیفوں کر کے لائبریرین صاحب کو ہدایات دیں؟ پھر پوچھا کہ تم آئے کیسے تھے ، میں نے عرض کیا کہ ٹیکسی سے ،کیونکہ یہاں کار چلانا میرے بس کی بات نہیں ہے ؟ فرمایا یہ پیر زادہ تمہیں وہاں چھوڑ دیں گے وہ اسی طرف جارہے ہیں ۔ اتنے میں جنگ کے ایک سب ایڈیٹر تشریف لے آئے ۔ان سے کہنے لگے میاں اچھے وقت پر آئے ! انہوں نے ہر میدان میں وہاں بہت کام کیاہے انکا ایک انٹرویو کر لو۔ وہ کہنے لگے کہ شامی صاحب سے پوچھنا پڑیگا پھر وقت لیلونگا میں نے کہا کہ میں کل جا رہا ہوں ۔ آپ زحمت نہ کریں ؟ اس کے بعد پھر ملاقات نہ ہوسکی میرا کراچی جانا نہیں ہوااور وہ امریکہ آئے نہیں ! میں نے جناب طاہر سلطانی کے ہاتھ ان کو اپنی کتاب  “روشنی حرا سے“ جو کہ حضور (ص) کی سیرت پر ہے بھجوائی انہوں نے بتایا کہ وہ بہت خوش ہوئے اور مبارکباد دی ۔ اب ایسے وضعدار وں سے زمانہ خالی ہو گیا ہے۔ کیسے کیسے عظیم لوگ تھے جو اس خاندان سے متعلق تھے۔ غالب دہلوی تھے جنہوں نے اردو نثر کو سلیس بنایا، سرسید تھے جنہوں نے علی گڑھ یونیوسٹی دی،داغ دہلوی تھے جنہوں نے علامہ اقبال جیسا اپنا شاگرد عطا کیا۔ اور اس سلسلہ کی آخری کڑی عالی جی تھے جو ہم سے 23۔ نومبر کو جدا ہوگئے ان للہ وان الیہ راجعون۔ جنہو ں نے پاکستان کی بہت سے شعبوں میں خدمت کی، اردو ڈکشنری اور بہت سے بھڑکتے  ہوئےملی نغمے اور کالم عطا فر مائے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فر مائے (آمین)

Posted in Uncategorized