دنیا میں کہیں بھی باغی کی رعایت نہیں ہوتی۔۔۔شمس جیلانی

ایک شخص کے ہر عمل سے یہ ظاہر ہورہاکہ وہ بغاوت پر آمادہ ہے۔ وہ ملک کی عدالتوں سے شاکی ہے اہلِ اقتدار سے شاکی ہے پارلیمان سے شاکی ہے اوراب اس نے اپنے دور حکومت کے راز بھی ظاہرکرنا شروع کردیے ہیں ،ضبط کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے؟ اگرکوئی شخص قومی رازظاہر کر رہا ہے کسی کی بھی ضد میں آکرتو کیا وہ اس حلف کی خلاف ورزی کامرتکب نہیں ہورہا ہے جو اس نے اپنا عہدہ سنبھالنے پہلے اٹھایا ہے؟ کیا اس فعل کی کوئی سزاسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانیں میں موجود نہیں ہے؟ میں قانون کا طالب کبھی نہیں رہا مگر اسلامی قوانین کا طالب علم ضرور ہوں؟ اگر میں دنیاوی خوف کی وجہ سے یہ کہوں کہ میں وہ بھی نہیں جانتا ؟تو میری یہ بات جھوٹ کہلائے گی۔ جبکہ مسلمان کی تعریف میرے سرکار(ص) نے یہ بتائی ہے کہ“ مسلمان میں سارے عیب ہوسکتے ہیں مگر جھوٹامسلمان نہیں ہوسکتا“ آج میں اس لیے اس تمہید اور تفصیل میں گیا ہوں؟ کہ وطنِ عزیز میں بائیس کروڑ کی آبادی میں ایسے لوگوں کی تعداد کم از کم میں ایک نہیں لاکھوں میں ہونا چاہیئے اور موجود بھی ہونگے جو دونوں قوانین کو جانتے ہوں کہ جس آدمی کو پاکستان کی صدارت ، وزارت عظمیٰ یا دوسرے بڑے عہدوں کے لیے عوام منتخب کرکے بھیجیں ان سب سے پاکستان اور اس کے دستور سے فاداری کا حلف لیا جاتا ہے۔ وہ پوری دنیا کے سامنے حلف لیتاہوا ٹی وی پر دکھایا بھی جاتا ہے۔اور اس حلف برداری کی تقریب کے بعد ہر ایک ذمہ دار ہوتا ہے کہ وہ ملک کے ہر اس راز کی حفاظت کرے جو بر بنا ئے عہدہ اس کے علم میں آئے؟ جبکہ پاکستان کے عہدیداروں پر اس سلسلہ میں اور بھی زیادہ ذمہ داری لازمی ہے کہ اس کا وزیر آعظم ایٹمی راز کا بھی امین ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی شخص ملک کے کسی راز کو کسی ادارے یا فردکی دشمنی میں آکر دنیاکے سامنے کھولتاپھرے تو وہ کس زمرے میں آتا ہے؟ کیا سب اس لیے زبان بند رکھیں گے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے کسی بھی عہدے کے لیے نا اہل ہونے کے باوجود ابھی تک سب کچھ بنا ہوا ہے ؟
جبکہ ہمیں ہادی اسلام (ص)کا حکم ہے کہ“ ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑی نیکی ہے“ کیا لاکھوں علماء اور وکلا میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ کلمہ حق کہہ سکے؟ اور نہ ہی ا ہلِ ا قتدار اور حاملِ انصاف میں سے کوئی ایسا ہے۔ جو اس کے خلاف قدم اٹھائے ؟اور اس کی زبان کو لگام دے ؟ میں یہ سوچ کر ڈر رہاہوں کہ اس چشم پوشی کے جو نتائج نکلیں گے بہت ہی تباہ کن ہونگے؟ جس سے ملک کو ہی نہیں پورے عالم اسلام کو نقصان پہونچے گا اگر مزید راز ظاہر کرنے کا اس کوموقعہ دیاگیا؟ جبکہ اس بارے میں دشمن ملک کا سب سے بڑا جاسوس کہہ رہا ہے ۔کہ“ ہمارے لیے اس کااقتدار میں رہنا بہت ضروری ہے۔اس لیے کہ ہم نے اس کے اوپر سرمایہ کاری کی ہوئی ہے“ یہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ دشمن ملک کے جاسوسوں کا سربراہ ہے جھوٹ بول رہا ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں اس کی تردید سے کس نے روکا ہے جہاں موصوف دن بھر پریس کانفرنس کرتے رہتے ہیں وہاں اس کی تردید بھی کرسکتے تھے، مگر وہ اپنے بیان پر اصرار کرتے ہوئے ٹی وی پر میڈیا کے سامنے سنے گئے۔ اس کے برعکس عجیب حال ہے کہ صاحبِ معاملہ تو کہہ رہے ہیں کہ میں بیان پر قائم ہوں؟ اورا ن کے حمایتی کہہ رہے ہیں کہ وہ غصے میں ہیں، ہم انہیں منانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مان جائیں گے ان کا بیان یہ نہیں تھا ! ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیاہے۔ میں یہ چند سطور سب پاکستانیوں کی فکر لیئے چھوڑتا ہوں؟ سوچ لیجئے کہ اگر اس ڈھیل کی وجہ سے ملک کونقصان پہونچا تو آپ سب روزِ قیامت اللہ سبحانہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ جہاں کسی کی ناجائز سفارش نہیں چلے گی دولت نہیں چلے گی ، چکر اورحیلے بہانے کچھ بھی نہیں چلیں گے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس وقت سے ہر ایک کو محفوظ رکھے (آمین)

Advertisements
شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

اسلام آباد کی عدالتِ عالیہ کاایک مستحسن فیصلہ۔۔۔شمس جیلانی

ابھی تک چیف جسٹس پاکستان نے اللہ انہیں اپنی حفظ وامان میں رکھے بنیادی حقوق کے سلسلہ میں جو کام کیا ہے اس کی مثال پاکستان میں کیا دنیا میں نہیں ملتی ہے۔ لیکن اسلامی عبادات کے سلسلہ میں کسی عدالت کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔ جوا سلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان کے سلسلہ میں صادر فرماکر پہل کی ہے؟ کیونکہ اس مرتبہ رمضان کی آمد سے پہلے انہوں نے پابندی لگادی ہے کہ رمضان شریف کےدوران وہ پرگرام ٹی وی پر نہیں دکھائے جاسکیں گے جن میں لاٹری اور نیلام وغیرہ شامل ہو۔ اور مساجد میں پانچ میں سے کم از دو مرتبہ یعنی صبح اور شام حرمین شریفین سے براہ راست اذان بھی نشر کی جا ئے گی اور کی نگرانی عدالت عالیہ نے پیمرا کے سپرد کی ہے ،اور ااذان سے پہلے بجائے کسی قسم کے خرافات کے صرف درود شریف پڑھا جا ئے۔ ورنہ ہو تا یہ تھا اذان اول تو ایک آدھ چینل سے ہی نشر کرتی تھی ورنہ نہیں ہو تی تھی اور کچھ لوگ رمضان فسٹیبل کی باتیں بھی کرنے لگے تھے۔ جبکہ برطانیہ کے دور میں بھی ہندوستاں میں ہر جمعہ کو ریڈیو اسٹیشن سے پہلے اذان پھر تلاوتِ قرآن نشر ہوتی تھی ۔
رہا پاکستان تو بننے کے بعد کچھ دنوں بعد تک تو اسلام کا چرچارہا پھر آہستہ پہلے ریڈیو پھر ٹی وی آگیا تو ان بھی آکر جاتا رہا؟وہ چینل اس کو تو اپنے نام کی لاج رکھنا ہی کہ وہ چینل سرکارِ دو عالم(ص) کے نام پر ہے۔ بہت سے لوگ میرے اس انکشاف پر حیران رہ جائیں گے کہ حضور (ص) کے نام پر کونسا چینل ہے اور وہ بھی ترقی یافتہ اسلامی ملک پاکستان میں۔ اسے صرف میری نسل کے لوگوں میں سے وہ بھی کچھ شاید پہچانتے ہوں کہ وہ کونسا چینل ہے جوکہ حضور(ص) کے نام پرہے؟
اس زمانے میں ہر تحریر سے پہلے 786 اور اس کے ذیل میں 92 لکھنے کا رواج عام تھا۔ کیونکہ اس وقت کے لوگوں کا خیال تھاکہ پوری بسم اللہ لکھنے سے بے ادبی ہو جانے کا خدشہ ہے اس لیے یہ شکل کسی نے نکالی۔ جوکہ علم ابجد میں بسم اللہ کا اظہار786 سے اور حضور کے اسم گرامی اظہار 92 لکھ کر کیا جا تاتھا۔ بسم اللہ لکھنا اور اس کے ذیل میں محمد (ص) لکھا جائے ! یہ لکھنا سب سے پہلے حضور(ص) نے بادشاہوں کے نام اپنے خطوط میں شروع کیا تھا ان کے بعداس سنت پر امتی عمل کرکے ثواب سے مستفیدصدیوں سے ہو رہے تھے۔ لیکن گزشتہ صدی میں ایک نئی تحریک نے دیارِ حرم سے جنم لیا اس کے مطابق ہر چیز بدعت قرار پائی لہذا وہ سنت ترک کرنا پڑی؟ نتیجہ یہ ہوا کہ عجمی مسلمانوں کو عربی آتی ہی نہیں تھی لہذا نہوں نے کچھ بھی لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کیا کیا چیز بدعت کی نظر ہوئی ۔ زندہ تو کیا اس تحریک کے ہاتھوں سے بزرگوں کی قبریں تک نہیں بچیں اور وہ بھی بات صرف جنت البقیع تک ہی نہیں محدود نہیں رہی بلکہ جہاں بھی کسی نے بدعت کی نشاندہی کردی بغیر سوچے سمجھے بنا کسی تحقیق کے وہ بدعت ہے بھی یا نہیں ہے ترک کردی گئی؟ وہ تو جو تھے وہ تھے۔ مگر جو یا رسول(ص) اللہ کہنے والے تھے وہ بھی اس میں پیچھے نہیں رہے۔ ان کا جہاں ہندوستان میں گڑھ ہے وہاں میں نے دیکھا کہ میرے بزرگوں کی قبروں پر لگے ہوئے سنگ مر مر کے کتبے بھی جو کہ ان کے سرہانے کبھی نصب تھے۔ وہ بھی اتار کرغائب کردیئے گئے یا اب سرہانے رکھے ہو ئے ہیں ۔میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا کہ حکم کہاں سے آیا مگر کہیں سے تو آیا ہو گا کہ یہ جدت رائج ہوئی اور قبروں کی درگت بنی؟ کیونکہ جہاں یہاں تک پابندی ہو کہ عید بھی جب تک نہیں ہوتی ، جب تک کہ بریلی سے چاند دیکھنے کی تصدیق نہ ہو جائے وہاں یہ کیسے ممکن تھا کہ بغیر کسی بڑے عالم کے فتویٰ کے دیہات کا مولوی یہ قدم اٹھاسکے بہر حال ،یہ ذکر تو یونہیں درمیان آگیا تھا ؟ میں یہ بتانا چاہتا تھا۔ کہ اس چینل پر بھی جو خاتون حمد اور منقبت کے پروگرام میں تشریف لاتی ہیں؟ وہ تو دوپٹہ میں خود کو لپیٹے ہوئے ہوتی ہیں کہ آداب کا تقاضہ یہ ہی ہے ۔مگر اس کے فوراً بعد جب خبریں آتی ہیں تومیزبان خاتون بدل جاتی ہیں ۔ وہ دوپٹے کا کام دوسری چینلوں کی طرح اپنی زلفوں سے ہی لیتی ہو ئی نمودار ہوتی ہیں ۔وہ بیچاری بھی مجبور ہیں کہ کیا کیا جا ئے کہ ٹی وی میں اب یہ فیشن رائج ہو گیاہے کہ زلفوں سے دوپٹے کام لیا جئے، ہرا یک نے اپنی سہولت کے لیے پنی مرضی کا اسلام بنا لیا ہے۔اس ماحول میں عدلیہ کیا کیا کام کریگی ؟ ہمیں معلوم نہیں؟ جبکہ مسلمان اس سلسلہ میں کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ،نہ کسی کو کرنے دینا چاہتے ہیں، جب پاکستانیوں کو مسلمان بننا ہی نہیں ہے تو پھر یہ سارے تکلف سب لوگ چھوڑ ہی دیں تو بہتر ہے ۔ رہے ہم پرانے لوگ ہیں موجودہ صورت حال میں ہمیں حکم یہ ہی ہے کہ جوبھی اس سمت میں کوشش کرے وہ قابل ستائشِ ہے اوراس کی تعریف کرنا چاہیئے لہذا ہم ا پنا فرض پور کر رہے ہیں کہ جو بھی اچھا کام کرے اس کو سراہا جائے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ قوم کو اچھے برے کی تمیز عطا فرمائے(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

میاں صاحب کی خلائی مخلوق سے جنگ۔۔۔ شمس جیلانی

آجکل میاں صاحب اور انکی ذریات کسی خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں اور ان کی ہر تشبیہ کی طرح اس کو بھی میڈیا والے خوامخوہ ان کے محسنوں کی طرف لے جاتے ہیں جو انہیں سیاست میں کبھی لانے کا باعث ہوئے تھے اور ان پر محسن کشی کی تہمت لگاکر کر انہیں محسن کش قراردینے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہر پہلوسے یہ ایک بہت بڑی نا انصافی ہے۔ کیونکہ اس کے ڈانڈے محسنین سے ملانے سے پہلے ان سے پوچھ تو لیتے کہ خلائی مخلوق سے آپ کی مراد کیا ہے؟ تو بات صاف ہوجاتی۔ جو سچ ہوتاوہ میڈیاکو معلوم ہوجاتا۔اور اانکا گمان غلط ثابت ہوتا؟ اس لیے کہ ہمارا گمانِ غالب ہے کہ کوئی مسلمان محسن کش ہوئی ہی نہیں سکتا اور وہ بھی ا ن جیسا صادق اور امین مسلمان جو جھوٹ قطعی نہ بولتا ہو اور جھوٹا کہتا ہو ؟ جس کی پرورش ابا جی جیسے نیک انسان کے زیر تربیت ہوئی ہو۔ پھر وہ ایک دو دن نہیں بلکہ دس سال تک حرم شریف میں بیٹھا رہا ہو۔ وہ محسنی کشی کرناتو کیا اس کے بارے میں ہمارے خیال میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ وہ جہاں بھی جا ئیں، وہاں چونکہ میڈیا تو ہر جگہ موجود ہوتا ہی ہر پریس کا نمائندہ صرف ان سے ایک ہی سوال کرے کہ حضور باقی ارشادات عالیہ اور کاروائی ہم بعد میں سن لیں گے؟ مگر پہلے آپ یہ گتھی توسلجھائیے کہ خلائی مخلوق سے آپ کی مراد کیا ہے جنہیں پہلے آپ فرشتے کہتے تھے؟ اس لیے کہ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے خلا تو اتنا بڑا سمندر ہے کہ پورا میڈیا زندگی بھراس پر تحقیق کرے وہ تھک جائے گا،مگر اس کی تفصیل ختم نہیں ہو گی؟ پھر انہیں سے تفصیل پوچھیں کہ اس سے آپ کی مراد کیا ہے؟ کسی مخصوص ستارے پہ بسنے والی یہ کوئی مخلوق ہے یا کوئی اور مخلوق ہے اور وہاں کب کس سلسلہ میں آپ تشریف لے گئے تھے؟ کیونکہ جب خلا کا ذکر آتا ہے۔ تو آدمی کا خیال بہت دور تک چلا جاتا ہے؟ کہ اس میں تمام شیاطین بھی شامل ہیں فرشتے بھی شامل ہیں جنکا وجود ثابت ہے۔ ان کے علاوہ قصے اور کہانیوں میں دیو اور پریاں بھی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اس دس سال میں وہاں تک پہونچ چکے ہوں جہاں قرآنی الفاظ میں شیاطین اورجنوں پر نجم الثاقب ان کی اس جر ت پر برسائے جاتے ہیں تاکہ وہ آسمانی خبریں لانے اور سچ میں سو سو جھوٹ ملا کے سنانے سے باز رہیں ۔ بصورت دیگراس بات کاخدشہ ہے کہ میڈیا اسے کسی غلط جماعت سے منسوب نہ کردے اور وہ اس کے لتے لے لیں، یا میاں صاحب خود تردید کردیں یہ فرماکر کہ“ میری اس سے مراد یہ تو نہیں تھی“لہذا میڈیا جس کی ڈنڈے سے تواضع یوم مئی پر ہو بھی چکی ہے۔ پھر نہ کہیں لپیٹ میں آ جائے۔ اس لیے اسے قیاس آرائی کرنے سے گریز کرتے ہوئے پھونک ، پھونک کر قدم رکھنا چاہیئے کہ زمانہ نازک ہے ؟ااحتیاط کرےکہ ہم نے ایک ایسی بات کہدی ہے کہ جس کا کہ سر اور پیر نہیں ہے؟
اب آپ کہیں گے نااہل تو نا اہل ہو تا ہے۔ اس کا حکومت سے کیا واسطہ! جبکہ لاٹھی تو حکومت کے حکم پر برسائی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا حافظہ کمزور ہے ۔آپ کو عزت مآب وزیرآعظم پاکستان کا بیان یاد نہیں ہے جس میں ا نہوں نے ارشاد فر مایا تھا۔ “ کہ میرے وزیر اعظم تو نواز شریف ہیں“ ۔ لہذا وہ خزب اختلاف بھی ہیں اور حکومت میں نہ ہوتے ہوءے سب کچھ بھی ہیں۔ہمیں یاد نہیں کہ کہاں پڑھا تھا لیکن کوئی پوچھے تو ڈھونڈ کے بتابھی دینگے کہ کہاں پڑھا تھا کہ کسی زمانے میں ایک صا حب کا دعویٰ تھا کہ وہ“ مرد بھی ہیں اور عورت بھی“ بہر حال جو لوگوں کے دلوں پر بقول ان کے راج کرتا ہے اور شیر بھی کہلاتا ہو؟وہ اکثریت کےبل بوتے پرجو چاہے کرسکتاہے۔ اس سلسلہ ہمیں کوئی اور قول تو نہیں ملا کہ آپ کے سامنے پیش کریں سوائے مشہور اور مرحوم مزاحیہ ادا کار ظریف کہ “ شیر جنگل کا با دشاہ ہے چاہے تو انڈہ چاہے تو بچہ دے؟
اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ احتمال ہے کہ پچھلے کالم میں ہم نے مشورہ دیا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ ذہنی بیمار ہو چکے ہوں ایسی صورت میں ایسے آدمی کی باتوں پر ہنسنا نہیں چا ہیئے کہ وہ بیچارہ تو مریض ہے اور مریض کے ساتھ سب ہمدردی کرتے ہیں۔ہنس کر اس کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکتے؟ اس صورت میں خلائی مخلوق! وہم بھی ہو سکتا ہے خواب بھی ہو سکتا ہے اس لیے کہ یہ بڑا جامع لفظ ہے۔ اگر خواب ہے تو الٹی طرف تین دفعہ لاھول پڑھ کر تھتھکار دیں بڑا مجرب نسخہ ہے اس سے ڈراؤنے خواب دکھائی دینے بند ہو جاتے ہیں مگر یہ احتیاط کریں کپڑے اپنے نہ خراب ہوجائیں؟ اگر وہ مخلوق جاگتے میں دکھائی دیتی ہےتواس کا علاج ایلوپیتھک میں تو ہے نہیں، لیکن ہومیوپیتھک میں ہے کہ کئی دواؤں کی علامت ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہاہے دکھائی دے رہا؟ یا یہ آدمی میرے خلاف ہے جبکہ وہ ہو تا اس کا وہم ہے۔ کبھی دیکھتا ہے کہ میں خلا میں اڑرہا ہوں کبھی دیکھتا ہے کہ فرشتوں سے جنگ کر رہا ہوں وغیرہ ، وغیرہ۔ اس پر کوئی ماہر ہومیوپیتھ ہی پوری طرح ہسٹری لیکر اور علامات کی روشنی میں دوا تجویز کر سکتا ہے۔ اور اس سے رجوع کرکے اس بیماری سے مریض کی جان چھٹرائی جا سکتی ہے؟ اس سے بہتوں کا بھلا بھی ہو گا؟ جبکہ مریض اس مرض میں مبتلا پہلے سے با دشاہ چلا آرہاہو اور تو علاج میں اور بھی مشکل پیش آتی ہے۔کہ اس کےمصاحب سچ کہنے کی ہمت نہیں کرتے اس لیے کہ انکی عمر ہاں میں ہاں ،ملا تے ہوئے گزری ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں یہ قصہ بہت مشہور ہے۔ایسے ہی بادشاہ کے پاس ایک وزیر بہت دانا تھا۔ اس نے بادشاہ کو یہ احساس دلانے کی ٹھانی کہ وہ ذہنی بیمار ہے۔ اور اسے آمادہ کیا کہ ایک دن حضوربرہنا نکل کر دیکھیں آپ اتنے مقبول ہیں کہ محبت کی وجہ سے کوئی آپ کو ننگا نہیں کہے گا اس بے لباسی میں بھی سب آپ کے لباس کی تعریف کریں گے؟۔ حکم کی دیر تھی اعلان ہو گیا کہ باد شاہ سلامت کل رعیت کو زیارت کرائیں گے؟ بہت سے لوگوں نے بادشاہ کو دیکھا ہی نہیں تھا کہ وہ ہر وقت سات پردوں میں رہتا تھا نسان تو کیا پرندہ بھی وہاں پر نہیں مارسکتا تھا۔ دوسرے دن سڑک کے دونوں طرف لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہو گئے ۔ بادشاہ جلوس کی شکل میں نکلا کسی نے نہیں ٹوکا ہرایک نے لباس کی تعریف کی مگراس نے اس کام کے لیئے ایک بچہ آخری مقام پر کھڑا کر دیا تھا جہاں جا کر جلوس کو ختم ہو ناتھا۔ بچے ہوتے ہی سچے ہیں انہیں بات کہنے سے کوئی مصلحت نہیں روکتی! جب بادشاہ سلامت وہاں سے گزرے تو وہ زور سے ا پنی توتلی میں کہتا ہوا بھاگا الے الے دیکھو دیکھوکہ با د شاہ ننگا ہے ؟ تب کہں جاکر بادشاہ کواحساس کہ خوش آمدی کہاں لے جاکر چھوڑتے ہیں ۔

شائع کردہ از Uncategorized

ہراک کوشش فضول ہوگی ایسا سوچا تو بھول ہوگی۔۔۔ شمس جیلانی

دنیا بہت آگے نکل چکی ہے پاکستان کے عوام اب پہلے جتنے بھولے نہیں ر ہے ہیں کہ جو چاہے انہیں بے وقوف بنا لے۔کبھی اسلام کے نام پر کبھی جمہوریت کے نام پر وہ بہت کچھ پہلے ہی بن چکے ہیں؟ اب ا نہیں بھی لیڈروں کو بے وقوف بنا نا آگیا ہے۔ جوکہ ضمنی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات سے پتہ چل رہا ہے۔ کہ جس نے اپنے ووٹ کی قیمت جانی وہ بار بار بڑھتی گئی اور کس کے ووٹ کی قیمت کہاں تک گئی سب جانتے ہیں۔ اب عوام بھی سوچنے لگے ہیں کہ وعدوں کی بات چھوڑو وہ کبھی پورے نہیں ہوتے؟ یہ دیکھو کہ نقد کیا مل رہا ہے بجائے ادھار کے؟۔ جبکہ لوگ ان علاقوں میں جہاں ان کی حکومت ہے بڑے جلسے کر کے خود کو فریب دے رہے ہیں کہ ہمارا بیانیہ بہت مقبول ہورہا ہے۔ حالانکہ انہیں ان جلسوں اور جلوسوں کی حقیقت خود بھی معلوم ہے کہ وہ بڑے کیسے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کوشش کر رہے ہیں کہ شاید کہ کوئی بے وقوف بن جائے دھوکا کھاجائے اس لیے کہ مرتا کیا نہ کرتا؟ اگر یہ بات سچ ہوتی کہ انکا بیانیہ مقبول ہورہا ہے۔ تو وہ مرغِ بادنما جو ہوا کا رخ پہچاننے میں ماہر ہیں وہ کب اپنے گھونسلے چھوڑ کر دوسرے گھونسلوں کی طرف پر واز کر تے ہوتے۔ بس تھوڑا سا انتظار فرما ئیے کہ ع پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ؟ جیسے ہی نگراں حکومت نظر آئے گی اورانتخابات کا یقین ہو جائے گا۔ تو سارے مرغ ِباد نما تیزی سے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے نظر آئیں گے جہاں انہیں دانے دنکے کی امید ہوگی۔ابھی تو وہ اس کوشش میں ہیں کہ اِنہیں تلوں میں سے جتنا اور تیل نکال سکیں نکل والیں ۔ پھر دیکھئے گا کہ جیسے پہلے زمانے میں ہر دیوار پر طغرا ملتا تھا کہ ع “ باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو میرے جن پر تکیہ تھا وہی پتہ ہوا دینے لگے“ اسوقت آپ دیکھیں گے کہ موسمی پرندوں کے غول کے غول تیزی سے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جیسے کہ رُت کے تبدیل ہوتے ہی موسمی پرندے کبھی اُدھر سے اِدھر جا تے ہوئے نظرآتے ہیں تو کبھی اِدھر سے اُدھرجا تے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جب اللہ سبحانہ تعالیٰ تبد یلی لانا چاہے تو اسے کون روک سکتاہے؟ آثار کہہ رہے ہیں کہ وہ شاید اب تبدیلی چاہتا ہے۔ ورنہ جو شاطروں نے پیش بندی کی ہوئی تھی وہ ایسی تھی کہ کوئی بھی انہیں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا، چاہیں کوئی کچھ بھی کرلے؟ اب لٹیروں کو آخری امید یہ ہے کہ شاید ان کی یہ قلعہ بندی پھل لے آئے۔ جبکہ حزب اقتدار
اور حزبِ اختلا ف ملک کر رنگ لا ئیں اور کیر ٹیکر حکومت میں پہلے کی طرح اپنے آدمی لے آئیں۔ مگر اس عدلیہ کے دور میں یہ ناممکن ہے۔ کیر ٹیکر کتنا ہی کسی کا ممنونِ ا حسان ہوعدلیہ کی بالا دستی طوعاً یا کریہہً تسلیم کرے گا کیونکہ وہ کسی کے لیے توہینِ عدالت میں جیل جا نا کیوں پسند کریگا۔ کہ وہ ایک سنیٹر صاحب کی طرح سر سے پیر تک ایسا کرکے نہال ہو جا ئے ؟ کیونکہ یہ مربی تو کام نکلنے کے بعد منہ پھرلینے کے عادی ہیں۔
اگر چیف جسٹس صاحب اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرکے اسے معاف نہ کردیتے تو وہ بیچارہ سینٹری سے توگیا تھا ہی،روٹی سے بھی چلا جاتا؟ پاکستان کے عوام کوشکر گزار ہونا چاہیے اس پروردگار کا جس نے کہ ایک چیف جسٹس نہیں بلکہ ان کے ساتھیوں کی ایک پوری ٹریل عطا فرمادی ہے جو مستقبل میں کئی سالوں تک موجودہ چیف جسٹس کی ہی پیروی کرتے رہیں گے۔ کیونکہ وہ جو اب تک فیصلے کرتے رہے ہیں وہ سب نظیر بن کرPLDمیں شامل ہو جائیں گی؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ جس سے جوچاہے کام لے اسے توفیق دیکر نوازے؟ ع یہ اس کی دین ہے ،جسے پروردگار دے؟ ۔کہ قرآن میں اپنے نبی (ص)سے فرماتا ہے۔ کہ تم دشمن کو معاف کر کے تو دیکھو وہ تمہارا دوست بن جا ئے گا،مگر ایسا صرف جواں مرد ہی کرتے ہیں ۔ اس معاملہ میں انہوں نے حضور(ص) کے اسوہ حسنہ پر عمل فرماکر قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کردی ہے؟ وہی کرکے دکھایا۔ جیسا کہ حضور (ص) نے اپنے دشمنوں کو معاف کر کے دکھایا تھ اوراپناانہں جانثار دوست بنالیا تھا، مگر اس دور میں حیا ء تھی اب اس دور میں وہ ناپید ہےاور اب صورت حال یہ ہے کہ جو حضور (ص) نے ایک حدیث میں فرمایا کہ “ تو حیاء چھوڑ دے پھر جوجی چاہے کرتا پھر“اسی کو علامہ اقبال ؔ یوں کہہ گئے ہیں کہ“ ع پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کاجگر مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر ۔ آئیے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعاکر یں کہ وہ اسی طرح ہم پہ مہربان رہے اور پاکستان کواور اس کے بچانے والوں کو لٹیروں کے شر سے محفوظ رکھے ۔(آمین)کیاکوئی پختونوں کی فریاد بھی سنے گا۔۔۔ شمسؔ جیلانی

شائع کردہ از Uncategorized

کشمیر جل رہاہے مسلمان بے حس ہوچکے ہیں۔ شمس جیلانی

جس وقت یہ مضمون آپ کی نگاہوں تک پہنچے گا جمعہ کو ملک گیر منایاجانے والا یوم احتجاج ختم ہو چکا ہوگااور ناچ و رنگ کھیل اور کود کی محافل دوبارہ سج چکی ہونگی۔ کیونکہ یہ کہاوت بھی بڑی مشہور ہے کہ مرنے والے کے ساتھ کوئی مرا نہیں کرتا۔ اورحسب معمول سب لوگ اپنی دوسری مصروفیات میں مشغول بھی ہوچکے ہونگے؟ یہ ہم اس لیے قیاس کر رہے ہیں کہ یہ ہی واقعہ جب کچھ روز پہلے رونما ہوا تھا کہ کشمیر میں 17 کشمیری شہیداور ایک سو کہ قریب زخمی ہوئے تھے . اب جس سلسلہ میں تاخیر کے ساتھ سہی یہ یومِ احتجاج سرکاری اور قومی سطح پر منایا گیا۔اُسی دن ہم نے ٹی وی پر ایک ایسا منظر دیکھا کہ ہمیں یقین نہیں آیا ،آنکھیں مل کر پھر دیکھا اور بار بار یکھا تب کہیں جاکر یقین کر آیا کہ واقعی ایسا بھی ہوسکتاہے؟ یہ منظر تھا ایک مشہور عالم دینِ اسلام قہقہ پر قہقہ لگا رہے تھے جو کہ خیر سے کشمیر کمیٹی کے چیر مین بھی ہیں۔ کشمیر کمیٹی کرتی کیا ہے یہ شاید کسی پاکستانی کو بھی معلوم نہ ہو؟کیونکہ چند سال پہلے مولانا لندن اس حیثیت سے تشریف لے گئے تھے تو ان کے ا صراف بیجا کی میڈیا نے خبریں لگائی تھیں؟ اس کے بعد سے پھر وہ خبروں کی زینت نہیں بنی کیونکہ پاکستان میں کچھ کرنے سے پہلے حکمرانوں کی نگاہوں کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے جنکو اپنے کاروباری مفادات ملک سے زیادہ عزیزہیں؟ اس کی دوسری وجہ آپ آگے چل کر پڑھیں گے جو ان کے ہی ارشاداتِ عالیہ سے ظاہر ہوئی ورنہ ہمیں بھی خبرنہ تھی کہ اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیت المال کو خرچ کرنے میں اتنے محتاط ہیں؟ ورنہ تو وہاں کی میڈیا کے ذریعہ سے ہم پہ روز یہ انکشافات ہوتے تھے کہ“ لکھ لٹ رہے ہیں “اور کسی کے دل میں درد ہی نہیں ہے، شاہی دربار ہیں جو بیت المال پر چل رہے ہیں۔ یہ ہی تاثر عدالتوں میں چلتے ہوئے مقدمات سے بھی ملتاتھا۔ آپ کو تجسس میں رکھے بغیر ہم وہ منظر جس کی ہم نے اتنی لمبی تمحید باندھی وہ یہ تھا کہ ایک خبار نویس نے غلطی سے ان سے کوئی سوال پوچھ لیا تھا چونکہ وہ ہم نے سنا نہیں اسی وقت ٹی وی کھولا تھا اور وہ حصہ جب تک نکل چکا تھا۔ وہ الفاظ ہم نے سنے ہی نہیں اس لیے دہر ا بھی نہیں تے سکتے۔ اگر ہم اس کی جگہ ہوتے تو جو سوال پوچھتے وہ یہ ہی ہوتا کہ آپ نے اس سلسلہ میں ا ب تک کیاکیااور آئندہ کیا کرنے والے ہیں؟ اس پر مولانا کا جواب بلند قہقہوں کے درمیان دب گیا اور جواب ہم نے یہ سناکہ “ میں کیا کروں کیا ہندوستان پر حملہ کردوں“ ہمیں لگا کہ شاید اس نے ایسا کوئی لطفیہ کہدیا تھا۔ جس پر قہقہے تھمنے کانام ہی نہیں لے رہے تھے اورمولانا کو شیطان نے یہ بھی بھلادیا تھا کہ موت کی خبر سننے پر، بجائے قہقہوں کے انا للہ و نا الیہ راجعون ہ کہتے ہیں۔ انہوں نے جب اپنے قہقہوں پر قابو پایا تو یہ انکشاف فرمایا کہ کشمیر کمیٹی کی میٹنگ بلاکر انہیں ا لاؤنس بلاوجہ کیوں دوں؟ اس کو سن کر ہم عش عش کر اٹھے کہ مولانا کو کس قدر بیت المال کا خیال ہے کاش یہ سبق ان سے بقیہ لوگ بھی لیتے جو ان کے یا وہ جن کے ساتھ حلیف ہیں اور حکومت میں ساتھ ہیں؟ کہ کمیٹی کو کچھ کرنا ہی نہیں ہے تومیٹنگ بلانے کا کیا فائدہ اور بلا کے انہیں کیوں خوامخواہ الاونس دیا جائے۔ ہم نے مورخ ہونے کے ناطے کتابوں میں یہ پڑھا کہ تھا کہ امتِ مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے جس میں کہیں بھی اگر کانٹا چبھے تو سارے جسم میں درد محسوس ہوتاہے۔ ہر دوسرا مسلمان بے چین ہوجاتا ہے اس کی آنکھ سےآنسو بہنے لگتے ہیں اور جیسی تکلیف کسی مسلمان بھائی کو ہوتی ہے تو ہر بھائی جہاں بھی ہو ویسا ہی دررد محسوس کرتا ہے۔اس سلسلہ میں ہادیِ اسلام(ص) کے ارشادات بھی پڑھے ہوئے تھے۔ غزوہ احد کا وہ واقعہ ہماری نگاہوں میں تھا اور قلم سے بھی گزرا تھا جوکہ اخوت اور ایثار کی لاجواب مثال تھا کہ“ سات صحابہِ کرام زخمی حالت میں میدانِ جنگ میں زمین پر پڑے ہوئے ،اور پانی کے لیے تڑپ رہے تھے۔ ان کی طرف ایک مجاہد مشکیزہ لیکر بڑھا ہر ایک نے پہلے اپنے برابر والے کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے میرے اُس بھائی کو پانی دو! پھر مجھے دینا اور اس طرح وہ آخری مجاہد تک پہونچا تو دیکھا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں، وہ پلٹ کر پھرجس کےپاس بھی پہونچا اسے وہ زندہ حالت میں نہیں ملے۔ اورا سیطرح پہلےوالے تک واپس پہونچا جن سے اس نے پانی پیش کرنا شروع کیا تھا وہ بھی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔آج ہمارا یہ عالم ہے کہ مسلمان بھائیوں کے قتلِ عام کی خبر سن کر ہم ایسی ہنسی ہنستے ہیں جوکہ روکے نہیں رکتی ؟ یہ تو ہمارے علماء کاحال ہے ۔جبکہ عوام کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی حادثہ ہو وہ پہلے مردوں اورزخمیوں کی جبیں ٹٹولتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہمارےخواص اور رہے حکمران توں ان کا حال یہ ہے کہ وہ غیروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور ان کےایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں اور جب اس کیے کہ نتیجہ میں دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں تو اپنے انہیں طرفداروں سے مدد لیکر اپنوں کو ہی مارتے ہیں۔ یہ ہے مسلمانوں کاآج کا کردار ۔ لیکن خوبی یہ ہے کہ اس سے ہمارے مسلمان ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا؟

شائع کردہ از Uncategorized

تنگ مت کروہمیں جھوٹ بولنےاور حکومت کرنے دو؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

آپ عنوان پڑھ کر سوچیں گے کہ شاید بڑے میاں کا دماغ چل گیاہے جبھی توالٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں؟ آپ کا گمان درست ہوسکتا ہے، مجھے اپنے بارے میں بہت زیادہ خوش فہمی نہیں ہے، لیکن اللہ جس سے جو کام لینا چاہے اسے کسی عمر میں بھی اتنی صلاحیتیں عطا فرمادیتا ہے جتنی کہ اسے ضرورت ہوتی ہے؟ اس مضمون کو جو میں نے عنوان دیا ہے وہ کل سے سیکڑوں پاکستانی دانشوروں کے وہ تبصرات ٹی وی شو پر دیھک کراور سن کر دیا ہے۔ جوکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی دفعہ 62 الف کے بارے میں ہے اور جس کا شکار ہوکر پاکستان کی کئی نامور شخصیات اب تک نا اہل ہوچکی ہیں۔ مزید متوقع ہیں؟ کیوں؟ اس لیے کہ انہوں نے کہیں نہ کہیں جھوٹ بولا تھا،غلط بیانی کی تھی جو پکڑی گئی۔ جبکہ دانشوروں کے نزدیک سیاست میں تو یہ سب چلتا ہی ہے اور کلیہ یہ ہے کہ جو جتنا بڑا جھوٹا ہواتنا ہی بڑا سیاستداں کہلا تا ہے؟ میں نے اس سلسلہ میں صرف لفظ اکثریت نہیں استعمال کیا، کیونکہ غالب اکثریت اس کی حامی پائی کہ اس دفعہ کو پہلی فرصت میں دستور سے نکال دیا جائے یا اس کی شکل بگاڑدی جیسے کہ ترمیم در ترمیم کر کے 1973 کےدستور کی شکل بگاڑ دی گئی ہے۔ ورنہ حکمرانوں میں سے کوئی چاہیں وہ کسی پارٹی کا بھی ہوآگے چل کر بچے گا ہی نہیں؟ اور ایک دانشور نے توایسی مثال دی جس کانام بھی مسلمانوں جیسا تھا کہ انگلینڈ میں ایک مرتبہ ایسا قانون پایا گیا توانہوں نے اسے دستور سے نکالدیا تھا۔ اسے شاید یہ علم نہیں تھا۔ کہ پاکستان میں“ حاکمیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہے“ جبکہ ا نگلستان میں“ عوام “کی ؟ لہذا پاکستان میں اس تبدیلی کو لانے کے لیے پہلے حاکمیت تبدیل کرنا پڑیگی؟ کیونکہ اللہ سبحانہ کی حاکمیت اعلٰی مانتے ہوئےیہ نامکمن ہے کہ جھوٹ کو جائز قراردےدیا جائے۔اس لیے کہ پاکستان کا دستور تابع ہے اللہ کے دین کے۔جس کی اسا س ہی سچائی پر ہے ۔ جھوٹ پر نہیں؟
حضور (ص) کے اسو حسنہ میں اگر کوئی غور کرے تو وہ (ص) صدق اورامانت کی ایسی عملی تصویر تھے کہ تاریخ انسانی میں کوئی اس کی دوسری مثال نہیں ملتی ۔ انکےاس عمل میں اس قدر حکمت نظر آئے گی کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے ؟کیونکہ تمام انسانوں میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ وہ عطا ہی ا ن کو فرما ئی ہے۔ اسی لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فرماکر بات ختم فرمادی کہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کے اسوہ حسنہ میں نمونہ ہے “ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 21) مگر ہم ایسی باتوں پر کبھی دھیان نہیں دیتے ، جو ہمارے مفادات کے خلاف ہوں، لہذا اس کافائدہ بھی نہیں پہونچتا ؟ انہوں (ص) نے ہی ایک متفقہ علیہ اور طویل حدیث میں یہ ا رشادفرمایا ہے اور جسکا لب لباب یہ ہے کہ “مسلمان میں تمام برائیاں ہوسکتی ہیں، حتیٰ کہ وہ تمام گناہ کبیرہ بھی، جن میں کہ ہر قسم کی فہاشی چوری ڈکیتی وغیرہ سب شامل ہیں “ مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ سوچئے اس میں حکمت کیا ہے؟جواب یہ ہے کہ جھوٹے پر سے انسان کا اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے اور وہ کسی کام کانہیں رہتا، وہ صاحبِ عزت جبھی تک ہے جب تک کہ اس کااعتبار قائم ہےِ اس کے بعد کوئی بھی قابل عزت نہیں رہتا؟ بازار سے وہ کوئی چیز نہیں خریدسکتا تاوقتیکہ کہ وہ پہلے قیمت دکاندار کو ادا نہ کردے، کیونکہ ہر لین دین میں اعتبار ضروری ہے؟ ۔ وہ سچ بھی بھی بول رہا ہو تو کوئی اس کی بات کا اعتبار ہی نہیں کر تا۔ کیونکہ باالفاظ دیگر وہ“ صادق اور امین ہی نہیں رہتا “ اسلامی قوانیں کے مطابق ایک مرتبہ جھوٹی گواہی دینے کہ بعد، اس کی گواہی تاحیات قابلِ قبول نہیں رہتی، تا وقتیکہ وہ تائب نہ ہوجا ئے۔ یہ رعایت اس لیے رکھی گئی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ“ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں “ صرف میری بات مان لیا کرو“ اسی لیے اس نے توبہ کے دروازے جانکنی سے پہلے پہلے بند نہیں فرمائے۔ ہاں جو توبہ کوکھیل بنا لے اور جھوٹ کو عادت، تو وہ چونکہ خود دانا اور بینا ہے اور عزیز اور حکیم ہے وہ خود ہی فیصلہ کرتا ہے کیا کرنا ہے۔ کبھی وہ سزا وہاں کے لیے اٹھا رکھتا ہے اور کبھی وہ یہیں ایسے لوگوں کو سزا دیکر نشانہ عبرت بنادیتا ہے۔ کہ وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ ہی سب کچھ آجکل ایک صاحب بھگت رہے ہیں؟ اور ان کی سچی بات بھی کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے سوائے ان کے جوکہ یا خود ان سے وابستہ ہیں یاان جیسے ہیں اور یاا ن کے مفادات ان سے وابستہ ہیں؟
۔ ایک مقولہ ہے کہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا۔ وہ اس کی زندہ تصویر بنے ہو ئےہیں۔ کہ ان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ اسی سلسلہ میں انہوں نے چند دن پہلے کیا کہا تھااور آج کیا کہہ رہے ہیں۔ ہمیں تو چونکہ اپنے ہرمسلمان بھائی کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، اس کے تحت ان بیچاروں کی مجبوری سمجھ رہے ہیں۔ اور دنیا کا دستور ہے کہ ہمیشہ مریض کے ساتھ ہمدردی کی جاتی ہے۔ لہذا لوگوں کو ہمدردی کرنا چاہئے۔ اس پر ہنس کر ان کی بیماری میں اور اضافہ نہیں کرنا چاہئے آخر انسانیت بھی تو کوئی چیز ہے۔ یہ کیا کہ ان کے پرانے ارشادات عالیہ کے ٹی وی پر کلپ دکھا ئے جائیں؟ ان کے اپنے ان کے خلاف گواہی دیتے نظر آئیں ، ان کے پارلیمان کے سامنے دیئے ہو ئے بیانات دکھا ئیں اور اس کے تضادات ان ہی کی یا انکے بچوں زبانی گنا ئیں۔ حتیٰ کہ یہ سچی بات بھی نہ مانیں کہ“ وہ کہہ ر ہے ہیں کہ“ اس وقت ملک میں بدترین قسم کی آمریت ہے “تب بھی لوگ اس کو ماننے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ یہ کھلی سچا ئی ہے۔ جس کاثبوت یہ ہے کہ آج بھی انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔ حکم انہیں کا چلتا ہے؟ لوگ بھی اپنی جگہ صحیح ہیں کہ کوئی مان کیسے لے جبتک نظام میں کوئی تبدیلی نہ آئے کہ ملک میں بدترین آمیریت ہے۔ جبکہ کچھ نہ ہوتے بھی سارے اختیارات انہیں کے پاس ہیں؟ آخر ہم یہ مضمون ا پنے ہی اس شعر پر ختم کرتے ہیں! اللہ سبحانہ تعالیٰ
ا س صورتَ حال سے عبرت حاصل کرنے کی ہم سب کوتوفیق عطا فرما ئے ۔(آمین)
ع “ جب کثرتِ جھوٹ سے اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے تب کہیں جاکے پھر نقصان نظر آتا ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized

کیاکوئی پختونوں کی فریاد بھی سنے گا۔۔۔ شمسؔ جیلانی

بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہندوستان میں 1906 ء میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ بنی اورمسلمان پھر سے تنظیم آشناہوئے ،اس سے پہلے کوئی مسلمانوں کی سیاسسی تنظیم ہی نہ تھی۔ یہ اس امت کا حال تھا کہ جس کو فرشتوں کی طرح صف بندی سکھائی گئی اور یہاں تک ہدایت دی گئی تھی کہ اگر دو مسلمان سفر کر رہے ہوں تو اپنے میں سے ایک کو امام بنا لیں اور امام بنانے میں جو اسکی صفت مدِ نظر رکھنا تھی وہ یہ تھی کہ“ تم میں جو سب سے زیادہ متقی ہو اسے بنانا“ہم نے اپنی ناسمجھی اور لا علمی کی بنا پرجہاں پورے اسلام کو چھوڑدیا تووہاں اما م کے مضمرات کو کیا سمجھتے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم غیر منظم ہوگئے ا ور مجبور ہوئے کہ غیروں کے پیچھے چلیں؟ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیروں نے بہت سے خوبصورت ناموں کے ساتھ اپنے مکروہ مقاصد کے لیے جو تحریکیں بنائی ہوئی تھی ان میں شامل ہوگئے ۔کیونکہ خلاء کبھی باقی نہیں رہتا؟ ا س لیے مسلمانوں کو جس طرف بھی کوئی تنظیم نظر آئی اس کے مضمرات سمجھے بغیر اس میں شامل ہو گئے۔ یہ ہی حال اسوقت صوبہ سرحد کا بھی تھا جو اب پختونخوا کہلاتا ہے۔کہ اس علاقہ میں ایک سرخ پوش جماعت خدائی خدمت گار کے نام سے حکمراں تھی جو کہ چربہ اور بہن تھی کانگریس کی۔ خان عبد الغفار خان سرحدی گاندھی کہلاتے تھے۔ جبکہ حکومت کے سربراہ ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب تھے۔ اور پختون اسوقت تین حصوں میں بٹے ہوئے تھے۔ برطانوی ہندوستان سے ملحقہ علاقہ برطانیہ کے قبضہ میں تھا ۔اس کے بعد کا علاقہ آزاد تھا ، جبکہ بقیہ پختون افغانستان میں تھے اور تھوڑے سے بلوچستان جن میں بلوچی گاندھی کہلانے والے خان عبدالصمد اچکز ئی بھی تھے جنکی باقیات میں محمود اچک زئی ہیں جوکہ آجکل مسلم لیگ (ن) کے حلیف ہیں۔ آزاد علاقہ میں قبائل نے انگریزوں کا قبضہ کبھی تسلیم نہیں کیا ان کے ساتھ ہمیشہ ان کی جنگ رہی ا ن کے بہت سے لیڈر تھے جو کہ اپنے اپنے قبائل کے سربراہ ہونے کی وجہ سے بنتے تھے اور انکے اوپر ایک بڑا جرگہ تھا اس طرح پورا آزاد علاقہ قبائل کے سرداروں کی حکمرانی میں تھا۔ انگریزوں نے بلندی پر اپنے ملٹری کیمپ بنا ئے ہوئے تھے جن تک پختہ سڑکیں بنی ہوئی تھیں، جب بھی کوئی سردار ناراض ہوجاتا تو فائرنگ شروع کردیتا اور سڑک بند ہوجاتی ۔سڑکوں کے دوسری طرف یعنی ہندوستان کی طرف کے علاقہ پرانگریزوں کا قبضہ تھا جس پر برطانیہ کی عملداری تھی یہ ہی صوبہ، صوبہ سرحد کہلاتا تھا۔
یہ پوزیشن تھی جب ہندوستان کو آزادی ملی۔اس صوبے میں عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے رفرینڈم ہوا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے تحریک چلائی اور صوبہ سرحد کےعوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیے اوراس طرح صوبہ سرحد پاکستان میں شامل ہوا۔ قائد آعظم نے آزاد علاقے کے ساتھ اپنا ئیت برتی اور اعلان کردیا کہ ہم اپنے سارے فوجی کیمپ خالی کر رہے ہیں۔ اب وہاں کوئی بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ لوگ اپنے علاقے کی خود حفاظت کریں گے۔ جس پر قبائیلی خوش ہوگئے ، اوروہ پاکستان کے بازوئے شمشیر زن بن گئے ،حتیٰ کہ ا نہوں نے پاکستان کی حمایت میں کشمیر کی جنگ میں بھی حصہ لیا۔ یہ تھی مختصر سی تاریخ۔
اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کو روس امریکہ جنگ میں جھونک دیا اور ان کے بعد جنرل مشرف نے پاکستان کوامریکہ اور القائدہ کی لڑائی میں پھنسادیا ۔جس کے نتیجہ کے طور پر آزاد علاقے کے لوگوں کو بڑی مشکلات سے گزرنا پڑاکیونکہ ان کے علاقہ میں کافی مجاہدین جو بعد میں شرپسند کہلائے ،آکر آبادہوگئے تھے اور وہ علاقہ ان کی جنت بن گیا تھا۔
اور انہوں نے پھر بھی شرپسندوں کو ختم کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد کی بے گھر ہوئے شہید، زخمی اور اپاہج ہوئے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں شامل کرلو تاکہ ہم بھی قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ نواز شریف صاحب کی حکومت نے قرار داد اسمبلی میں پیش کرنے کے لیےایجنڈے میں بھی شامل کردی، ابھی وہ پاس نہٰ ہو پائی تھی کہ اس کو قانونی شکل ملتی کہ اتنے میں نواز شریف صاحب کے دو حلیفوں مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی نے اعتراض کردیا اور نواز شریف کے ایماں پر وہ مسئلہ قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے نکال دیا گیا۔جب کہ دستور کے مطابق اس میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہ تھا صرف صوبہ پختونخوا کو تھا۔ اور وہ بھی چاہ رہے ہیں کہ ہمارے بھائی ہم میں شامل جا ئیں۔ ان دونوں کو کیا تکلیف مجھے معلوم نہیں۔ یہ کون ہیں کہ خوامخواہ؟
آجکل ہر شخص اپنے مسئلہ کو حل کرانے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف بھاگ رہا، مگر وہ بھی ا ن پر بند ہے کہ وہ علاقہ ابھی تک قانونی طور پر پاکستان میں شامل نہیں ہوا ہے۔ کہ وہ بھی پاکستان کی اس سب سے بڑی عدالت سے مستفید ہوسکے۔ اب یہ فیصلہ عوام کے لیے چھوڑتا ہوں کہ ا لیکشن سامنے ہیں جو پاکستان میں شامل ہو ناچاہتے ہیں وہ وفاداروں میں شامل ہیں یا وہ جو رخنے ڈال رہے ہیں وہ پاکستان کے وفادار ہیں۔ دوسر ی طرف شریف فیملی کی کہہ مکرنی کی پوری تاریخ ہے۔ ان کا شیوہ ہر معاملہ میں ٹال مٹول ہے یہ ہی انہوں نے جنوبی پنجاب والوں کے ساتھ بھی کیا ہوا ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب کے حق میں پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی پاس کرادی ،جسے ایک مدت گزر گئی؟ مگر اس پر عملدر آمد آجتک نہیں ہوسکا۔اب دوبارہ انہیں کو پھر جھانسہ دے رہے ہیں کہ ہمیں آئندہ موقع دو، ہم جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنادیں گے۔ جبکہ صبح کو وہ کچھ کہتے ہیں اور شام کچھ۔ اگر میں تفصیل میں جاؤں تو انہیں گنانے کے لیے ہزاروں صفحات چاہیے۔ اپنی بات اس اللہ کی بات پر ختم کرتا ہوں کہ“ اے مسلمانو! تم کیوں وہ بات کہتے ہو، جس پر عمل نہیں کرتےہ یہ بات اللہ کو سخت ناپسند ہے (سورہ الصف ۔آیات 2اور3) جبکہ حضور(ص) نے ایک مشہور حدیث میں فرمایا کہ مسلمان میں سب عیب ہوسکتے ہیں، مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری مشہورحدیث میں فرمایا کہ“ منافق کی تین نشانیاں ہیں “جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا اور امانت میں خیانت کرنا“اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ دے تاکہ مظلوموں کی حمایت کر یں اور ظالموں کے ساتھی نہ بنیں (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized

دنیا محبت سے محبت کا جواب دیتی ہے ۔ شمس جیلانی

دنیا محبت سے محبت کا جواب دیتی ہے ۔ شمس جیلانی
پچھلے دنوں دنوں شہزادہ محمد بن سلیمان امریکہ کے دور ے پر تھے۔ا یک ارب ڈالر کا اسلحہ کاآرڈر امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دورے پرحاصل کرلیا تھا ،اب دوسرے ایک ارب ڈالر کا اسلحہ موجودہ دورے میں سعودی ولی عہد نے کیا ہے۔ اگر یہ بھی پہلے ہی آرڈر کا تسلسل ہے تو اور بات ہے ورنہ نہ جانے ایسے کتنے آرڈر انہیں اور دینے پڑیں گے۔ مگر اس سے ان کے مسائل گھٹیں گے نہیں بڑھیں گے ؟ ہم اس سلسلہ میں انہیں الزام اس لیے نہیں دیتے کہ ا جدادکی برائیوں پر بیٹے کو پکڑنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔اور اگر کوئی باپ دادا کا مذہب ترک کرکے تائب ہوجا ئے تو اسے پچھلی برائیوں کو یاد دلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ بشرطِ کہ اس نے توبۃ النصوح کی ہو؟ توبۃ النصوح کی پہچان ،حضور (ص) کے ا رشادات عالیہ کے مطابق یہ ہے کہ وہ آئندہ ان بر ائیوں کو نہ دہرا ئے جو پہلے وہ کرتا رہا ہے۔ اور وہ یہ اپنے کردار سے بھی ثابت کرے؟ انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان کے آبا و اجداد وہ لوگ تھے جنہوں نے شدت پسندی یہ کہہ کر روشناس کرائی تھی کہ فقہ حنبلی میں بہت سی بدعات آگئی ہیں، ان کو ہم دور کریں گے۔ اس وقت کے مسلمانوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی کہ یہ نجد کا اندرونی معاملہ ہے۔ اور مطمعن یوں تھے کہ اس سے پہلے کسی مسلمان نے اپنے عقائد کو کسی فرقہ پر زبردستی تھوپنے کی کوشش نہیں کی تھی؟
صورت حال وہاں سے بگڑی جب انہوں نے نجد کے ساتھ حجاز پر قبضہ کرلیااور حرمین شریفین میں اپنے عقائد پوری امت پر نافذ کردیے اور ذریعہ حکمرانی کے طور پر شدت پسندی کو نافذ کردیا کیونکہ ان کا شیخ سے معاہدہ ہی یہ تھا کہ حکمراں آل سعود رہیں گے اور فتویٰ آلِ شیخ کا چلے گا اور اس کے فروغ کے لیے وہاں انہوں نے وہ کیا جو اس سے پہلے کسی حکمراں نے نہیں کیا تھا۔ نئے فقہ کے استحکام کے لئے ایک صدی تک ان کے تمام ادارے شدت پسندی پڑھاتے رہے۔ اور اس طرح اس کے چھوٹے ، چھوٹے پاکٹ تمام دنیا میں بن گئے جبکہ مسلم اکثریت نے اسے آجتک پسند نہیں کیا ۔ اگر وہ شروع میں ہی اپنی نیتیں نیک رکھتے اور دائرہ حرم تک بڑھا بھی لیا تھاتے تو اس سے آگے نہ بڑھتے یہ ان کے لیے بہت اچھا ہوتا، کیونکہ اس سے پہلے ترکان عثمانیِ پہلے بھی صدیوں تک حکومت کرتے رہے ہیں۔مگر ا نہوں نے دائرہ آگے تک بڑھا کر وہاں جو کچھ کیا وہ طویل داستان ہے جوکہ ملت اسلامیہ کو پسند نہیں آئی۔ لیکن وہ ان کے اجداد نے کیا تھ، اس کے ذمہ دار موجودہ حکمراں میرے نزدیک نہیں ہیں اور ان کا پریس کانفرنس میں یہ ماننا کہ اسلام ایک معتدل مذہب ہے بہت بڑی تبدیلی ہے۔ بقول ان کے وہ وہاں کے لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھا پائے ہیں۔ مگراس پر مسلسل عمل کی ضرورت ہے۔ تب کہیں جاکر ایک صدی تک جو بیج بوئے ہیں ۔ اس کے نقوش مٹ سکیں گے؟ لیکن یہ بڑا مشکل کام ہے ؟ اس لیے کہ برائی کو پھیلانا بڑا آسان ہے مگر اس کے برعکس وہ عقیدہ کی شکل ختیارکرلے تو اس کے مقابلہ میں بھلائی کو پھیلا نا بہت مشکل ہے ۔اس کے لیے تمام دنیا اور اپنے عوام کے دل موہ لینے کے لیے سب کے دلوں کی تسخیر کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ ساری دنیا کے انسانوں کوفوج اور جدیداسلحہ کی مدد سے قتل تو کیاجا سکتا ہے مگر ان کے دل میں اپنی محبت زبردستی نہیں ڈالی جاسکتی۔ حالانکہ ان کے ہر سال حج کے بہترین انتظامات اور حرمین کی توسیع کے سب معترف ہیں ۔ اب کرنے کے کام یہ ہیں ۔ کہ پہلے حکمراں تقویٰ اختیار کریں جو کہ ا مت خادمِ حرمین شریفین میں دیکھناچاہتی ہے، لڑنے بھڑنے کی پالیسی ترک کرکے“ جییو اور جینے دو“ کی پالیسی اختیار کریں پھر دیکھیں گے کہ سب دل سے انکااحترام کریں گے نہ فوج کی ضرورت پڑے گی نہ ہتھیاروں کی کیونک ابھی صرف 39 ملک انکے ساتھ پھر چھپن اسلامی ملکونکے عوام انکے ساتھ ہونگےاور حفاظت کے لیے شمشیر بکف ہونگے؟ پڑوسیوں سے خود بخود صلح ہوجائے گی۔ پھر سےاپنے عوام کی بہبود کی فکر کریں جیسے کہ پہلے کی تھی جبکہ میری معلومات کے مطابق اب عوام سے وہ تمام سہولتیں لی جاچکی ہیں ۔ جو آج سے پچاس سال پہلے دی گئیں تھیں۔ کیونکہ وقت کے ساتھ شہزادوں اور شہزادیوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ، ا ن کے ہی خرچے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ عوام کو کہاں سے دیتے۔ پھر اوپر سے دنیا پر خلافت کرنے کاشوق جس کی وجہ سے دشمنیاں بڑھیں! لہذا فوجی اخراجات ان کے سوا ہیں ۔ اس کے لیے کہ “جئیو اور جینے دو“ کی پالیسی اپنائیں بجائے ایٹم بم بنانے اور ہتھیاروں کے دووڑ میں شامل ہونے کے ۔اورجو جن بوتل سے باہر آچکا ہے اس کو واپس بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہے پھرشاید اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کے دلوں کو بدل دے کیونکہ ابی تو اپنے سوا کسی کو مسلمان جانتے ہی نہیں۔ پہلے بھی یہ مسلمانوں سے سات سو سال میں نہیں قابومیں آئے تھے۔ انہیں قابو ہلاکو اور چنگیز خان نے بعد میں کیا۔ کہ وہ اپنی فوج میں صرف اپنے ہی آدمی رکھتے تھے۔ ورنہ ہوتا یہ تھا کہ آج کی طرح ہر کونے میں فدائین چھپے ہوئے تھے جس نے سر اٹھایا وہ اپنی جان سے گیا؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے جو انہوں نے فرمایا کہ اسلام ایک معتدل دین ہے۔خود اللہ نے اس ا مت کو امتِ وسطیٰ فرمایا ہے۔ رہا اسلام کا ہائی جیک کرنا، وہ پہلی صدی میں ہی خوارج نے ہائی جیک کرلیا تھا اورا نیسویں صدی میں جب خود ان کے آباو اجداد نے شدت پسندی کو رواج دیاتو ہائی جیکنگ دوبارہ عام ہوگئی ۔ اب اس کی چھوٹی چھوٹی پاکٹس ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ پچھلی صدی سے اب تک جتنے مسلمان خود مسلمانوں نے مارے ہیں اتنے کسی اور نے نہیں ؟ امن اپنائیں تو تمام دنیا کے مسلمان ان کی جانثار فوج بن جائیں گے۔جنگ سے اگر مسائل حل ہوتے تو سب کرلیا کرتے۔اللہ مسلمانو کو اور نکو کو فہم عطا فرمائے۔ آمین

شائع کردہ از Uncategorized

تءیس مارچ سنگِ میل تھا منزل نہیں تھی۔ ۔۔شمس جیلانی

بہت سے لوگ آج بھی اعتراض کرتے ہیں اوراس وقت بھی کیا تھا جبکہ قائدَاعظم ؒ نے اپنابٹوہ دکھاکرفرمایا تھاکہ کہ“ اگر مجھے اس کے برابر بھی پاکستان ملتا تو میں قبول کرلیتا “ کیوں ؟اس کی دووجوہات تھیں ایک تو یہ تھی کہ انہوں نے یہ قول دیدیا تھا کہ سائیمن کمیشن جو بھی فیصلہ کریگا مجھے منظور ہوگا۔ اور حضور (ص) کے ارشادات کے مطابق “مسلمان جھوٹا اور بد عہد نہیں ہوسکتا۔“دوسری وجہ وہ دور اندیشی تھی کہ جو مل رہا تھا وہ بھی نہیں ملتا، کیونکہ انگریزوں نے ایک تاریخ مقرر کردی تھی کہ ہم اس کے بعد ہندوستان سے چلے جائیں گے۔ تم پاکستان لو یانہ لو؟ اگر قائد اعظم پاکستان نہ لیتے تو جن لوگوں سے واسطہ پڑنا تھا وہ ، وہ لوگ تھے جن کے نزدیک عہد و پیمان کی کوئی اہمیت نہ تھی اگر ہوتی تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ اس لیے سب باتیں طے ہوچکی تھیں جو کبینٹ مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان میں پڑ کر طے کرادی تھیں۔ جس کوکہ نہرو نے کانگریس کا صدر بنتےہی یہ کہہ کرختم کردیا کہ“ کس کا معاہدہ اور کیسا معاہدہ یہ تو ہماری آنے پارلیمنٹ فیصلہ کریگی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگاً “ بظاہر تو یہ بہت ہی جمہوری بات تھی۔ مگر اس میں اس کہاوت کے مصداق کہ“ پوت کے پیر پالنے میں نظر آجاتے ہیں “ ۔ وہی ہوتا ! جہاں سے بھی انگریز جھگڑے چھوڑ کر گئے اورا بتک ہورہا ہے۔ جیسے فلسطین کے مسلمان ،برما کے مسلمان کہ وہ ایک علاقے میں اکثریت بھی رکھتے تھے حکومت بھی رکھتے تھے مگر آج تک انہیں چین نصیب نہیں ہوسکا۔ دانشمندی کاتقاضہ یہ تھا کہ جو کچھ مل رہا وہ لے لیا جائے؟ ایک آزاد مملکت قائم ہوجائے ،باقی پھر دیکھا جائے گا۔ وہی انہوں نے کیا کہ جو ملا وہ لے لیا۔کیونکہ ان کے سامنے حضور(ص) کا وہ ا سوہ حسنہ بھی تھاکہ حضور (ص)نے مدینہ جیسے چھوٹے قصبہ سے پہلے بارہ، پھر بہتر آدمیوں کی مختصر تعداد کو اللہ کی نصرت کے بھروسے پر کافی سمجھا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ پر بھرسہ کرکے ا نہوں نے بھی وہ روش اختیار کی جس طرح حضور (ص) نے اللہ کی نصرت کی امید واثق رکھتے ہوئے یہ چھوٹا سا تکڑالے لیا اور پاکستاں بن گیا۔قوم متحد تھی لہذا نہیں یقین تھا کہ پاکستان کے ساتھ بھی اللہ کی نصرت شامل رہے گی۔ اور ابتدا میں رہی بھی، اتنے نا مساعد حالات کے باوجود ملک تیزی سے ترقی کرتا چلاگیا۔ اسے وہ ا ہمیت عطا فرمادی کہ ساری دنیا اس کی طرف جھکنے کے لیے مجبور ہوگئی اور وہ ا یٹمی طاقت اور دنیا کی ایک بہت بڑی اور منظم فوج کا حامل بن گیا۔ پھرکیاہوا!کیونکہ قوم نے وعدہ کیا تھا اور گڑگڑا کر دعا مانگی تھی کہ اگر تو ہمیں دوبارہ ایک خطہ زمین عطا فرما دے تو ہم تیرے نام اور دین کو بلند کریں گے۔ مگر اس پر عمل کرنے کہ وعدے سے قوم پھر گئی۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے؟ کہ سب کچھ رکھتے ہوئے ہم پستی سے پستی کی طرف جاتے گئے ۔
وہ ہمارا قومی اتحاد اورا سلامی اخلاق قصہِ پارینہ ہو گیاہے۔ اب مسلمان تاریخ کی کتابوں میں تو پایا جا تا ہے۔ مگر مثا ل کے طور پر کوئی ایک فرد یا ملک ہم دکھا سکیں کہ مسلمان ایسا ہوتا ہے اور اسلامی ریاست ایسی ہوتی ہے، وہ دنیا میں کہیں عام طور پرموجود نہیں ہے، جو تھوڑے بہت ہیں بھی وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔ اس کی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمارے بدترین لوگ بطور عذاب ہم پر اپنی سنت کے مطابق مسلط کردیئے ہیں، جن کا ڈراوا ہمارے لئے پہلے ہی قرآن میں متعدد جگہ آچکا ہے۔ اور احادیث میں بھی موجود ہے۔ جس کالب لباب یہ ہے کہ“ جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تم پر حکمراں مقرر کیئے جائیں گے “ یہ بھی اس کی رحمت اور سنت ہے۔کہ تھوڑا شکنجہ کس کے بار بار مہلت دیتا رہتا ہے کہ کسی کے دل میں رتی برابر ایمان کی رمق ہو تو وہ تائب ہوجائے۔ اس ملک کو بھی بار بار یہ موقع دیا گیاکہ شاید اب یہ اپنے وعدے پر واپس آجائیں، اورتب یہ اپنے وعدے پر واپس آجائیں۔ آجکل جو دور چل رہاہے اسی نے کچھ اچھے لوگوں کا مجمو عہ اس برے وقت میں ہمیں میسر کر دیا ہے اور ہمیں میں سے کچھ اچھے لوگ فراہم کردیئے ہیں جو انسانی عقل کے لیے تو نامکن تھا کہ کہاں سے آئیں گے۔ مگر اس کے لیئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ اوریہ اسی لیے ہے کہ شاید ہم من حیثیت القوم سدھر کر تائب جائیں۔ اگر اب بھی نہیں سدھر ے تو اس کے ڈراوے بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اللہ اس قوم کو توفیق دے کہ حق کو حق کہہ سکے اور خود کو قومِ حضرت یونس(ع) کی قوم کی طرح برے ا نجام سے بچا لے ۔( آمین)

شائع کردہ از Uncategorized

ووٹ اور پارلیما ن کااحترام۔۔شمس جیلانی

جو کہ کبھی چھ ہزار پولیس کی حفاظت اور سات پردوں میں رہ کر حکومت کیا کرتے تھے،اور پورے دورِ میں سات آٹھ دفعہ پارلیمان میں جاکر ممبران کو پنے درشن کرایا کرتے تھے اب وہ عوامی ہوگئے۔ اس میں سے گر پانچ سالانہ صدارتی خطابات نکالدیں تو پورے دور میں دو خطاب اور اس میں سے بھی ایک ا گر پناما والا خطاب بھی نکالدیں جوکہ ان کی ضرورت تھا۔ توصرف دوہی زیارتیں بچتی ہیں جو پارلیمان کو نصیب ہوئیں ۔ عوام تو بہت دور کی بات ہے قریبی لوگ وزراء اور ممبران پارلیمان درخواستیں دے دے کر تھک جاتے تھے، مگر پروانہ باریابی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے موصوف کو عوام اور عوامی نمائندو کو منہ لگانا پسند نہیں تھا۔ انہوں نے یہ طرز حکمرانی کہاں سے لیا ہمیں معلوم نہیں؟ کیونکہ پرانی پارلیمان اور پہلے دور کے لیڈروں کا تو عالم یہ تھا۔ کہ ا ن پر جلسہ عام میں جوتا بھی پھینکا جاتا تھا تو وزیر اعظم کہتے تھے۔ کہ“ پولس صاحب آپ میرے اور عوام کے درمیان میں حائل نہ ہوں، آپ تشریف رکھیں“ جبکہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہر ایرا غیرا جس وقت بھی جب بھی چاہتا داخل ہوسکتا تھا اور وہاں بیٹھ کروزیرآعظم کا انتظار کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ وزیرِ اعظم کو کاروبارِ مملکت پہلے ا نجام دینا ہوتا تھا اوراگر پارلیمان کا اجلاس ہورہا ہو تو اس میں میں بھی موجود ہونا ضروری تھا۔ جب وہاں سے واپس آتے تو پہلے عوام سے ملاقات کرتے ،پھر رات کے ایک بجے کہیں جاکر پارٹی ورکرز کے ملنے کی نوبت آتی تھی کہ پارٹی کو دیکھنا بھی ضروری تھا۔
جبکہ اسی کرسی پر آج سے کچھ عرصہ پہلے تک ظاہری طور پر جو صاحب تشریف تھے ان سے ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین دن پہلے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی کہ اسپیکر پارلیمان سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے ۔ میڈیا نے ا نہیں جاتے ہوئے دکھایا۔ میڈیا کا کیمرہ یہ بھی دکھا رہا تھا کہ پوری پارلیمان میں صرف دو معزز اراکین تشریف فرما تھے۔ غالباً وہ وقفہ سوالات ہوگا وہ سائل ہونگے؟ جو اس بات سے معلوم ہوا کہ اسپیکر صاحب نے واک آوٹ کرنے سے پہلے آواز دی کہ فلاں محکمہ کے وزیر صاحب موجود ہیں؟ جب کوئی جواب نہیں آیا تو پھر آواز دی کہ اس محکے کے سکریٹری صاحب موجود ہیں ۔جب اس پر بھی کو ئی جواب نہیں آیا۔ تو انہوں نے اجلاس ملتوی کر دیا اور یہ فرماتے ہوئے تشریف لے گئے اب میں “ میں واک آؤٹ کرتا ہوں “ پارلیمان کی یہ بے وقعتی کیوں پیدا ہوئی اس کی ذمہ داری انہیں وزیر اعظم پرہے جوکہ آجکل بظاہر نہیں ہیں۔ مگر وہ باطنی طور پر بقول موجودہ وزیر اعظم کے“ ان کے وزیرِ اعظم ہیں“ ۔ یہ صورت پیدا ہوئی وجہ یہ تھی۔ کہ انہوں نے گھر سے حکومت چلانے اور پارلیمان میں نہ جانے کا ریکارڈ توڑ دیا ۔اب وہی صاحب جب نااہل ہوگئے ہیں تو وہی ووٹ کا احترام بحال کرنے کی بات کر رہے ہیں ااور شہر شہر مارے مارے پھر رہے ہیں اور کہہ“ رہے ہیں کہ میں ہر ایک کو اس کے دروازے پر عدل دلاؤنگا ۔ اللہ کی شان ہے؟ وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ عوام بھول گئے ہیں کہ ان کا طرز حکمرانی کیا تھا۔ اور حکومت کی تمام مشینری اور افراد جلسے میں استعمال کر کے بزعم خود بڑے بڑے جلسوں سے خطاب بھی کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ عوام ہیں جو ہمار بیانیہ اپنا رہے ہیں ۔ مگر ہو کیا رہاہے۔ وہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ان کی پارٹی کی حکومت تھی وہ گر گئی، یہ بے بسی سے دیکھتے رہ گئے ۔ اب سینٹ میں شکست ہوگئی تب بھی دیکھتے ہی رہے۔
وجہ کیا ہے کہ ا ب عوام وہ نہیں رہے ہیں ، جو پہلے تھے۔ زمانہ بدل چکا ہے اس کاموصوف کو ابھی تک ادراک ہی نہیں ہے۔ا لیکشن آنے دیجئے پھر دیکھئے سب کچھ سامنے آجا ئے گا۔ یہ ا پنی نوعیت کاعجیب ہی ا لیکشن ہوگا؟ جس میں کسی صوبے کو پہلے کی طرح جگانے سے کام نہیں چلے گا اگر چلا بھی تو چند اضلاع تک چلے گا جن پر ملک کے پورے وسائل خرچ کیے گئے ہیں ۔ مگرپورے صوبے میں نہیں جہاں کہ پینے کو صاف پانی نہیں ہے ،کھانے کو روٹی نہیں بیمار ہوں تو اسپتال میں دوائیں نہیں ۔ یہ الیکشن ایسا ہی ہوگا جیسے کہ جنرل یحییٰ کے دور میں بھٹو صاحب کاالیکشن ہوا تھا۔ کہ مسلم لیگ کے پولنگ ایجنٹوں تک نے ووٹ بھٹو صاحب کو ڈالے تھے۔ اب وہ کس کو ووٹ ڈالیں گے وہ وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ بلوچستان کی تبدیلی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کوئی ایسا شخص بھی آسکتا ہے جسے کوئی بھی نہ جانتا ہو؟ بشرطِ کہ چیف جسٹس صاحب جو انتظامیہ سدھار میں لگے ہوئے ہیں وہ الیکشن کو ایماندارانہ انعقاد کرانے میں کامیاب ہو جائیں۔ تو پاکستان میں ان کے اورا ن کے ساتھیوں کے نام تاریخ ہمیشہ جگماتے رہیں گے، جیسے کہ سندھ چیف کورٹ کی اس بنچ کے ججوں کےنام تاریخ میں موجود ہیں جس نے پارلیمان توڑنے کے خلاف گورنر جنرل غلام محمد کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور عدلیہ سے وہ داغ دھل جا ئے گا جس کو اس فیصلہ کے خلاف حکومت کی اپیل سن کر اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس منیر نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ۔ا للہ سبحانہ تعالیٰ ا نہیں کامیاب کرے ۔( آمین)

شائع کردہ از Uncategorized