(347 – 326) قطعات شمس جیلانی

326
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے

327
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں

328
محال کچھ بھی نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

علی ، علی(ع) ہیں علی کی مثال کچھ بھی نہیں
علی ہوں ساتھ فکر ِ مآل کچھ بھی نہیں
بڑا تھا ناز مرحب کو خیبر فتح نہیں ہوگا
علی (ع) نے کردیا ثابت کہ محال کچھ بھی نہیں

329
ایک غلط فہمی کا ازالہ۔۔۔ شمس جیلانی

شاعری لعنت بھی شاعری رحمت بھی ہے
پڑھیئےتو اسکو سہی قر آن میں فرمان ہے
رہ گئے جو بادشاہ جو بھی چا ہیں وہ کہیں!
اکثر بہہ جاتا ہے رو میں آدمی انسان ہے

330
تغیر ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

با ت کرتےمسلمان اشاروں میں ملیں گے
ایسےاب دو اب چار ہزاروں میں ملیں گے
ہے دور جو بدلہ تو ہے سارا زمانہ بد لہ
وہ لڑتے ہوئے روزے مٰیں بزاروں ملیں گے

331
عید پیچھے ٹر۔۔۔ شمس جیلانی

ویسے تو وہ ہیں تیز بہت عتاب او ر شتاب میں!
ہوتی نہیں ہے دیر کبھی وہاں فرمان ِ عتاب میں
ہومعاملہ دینے کا عوام کو نرخوں میں کچھ رلیف
لگ جاتی ہے جانے دیر کیوں حساب و کتاب میں

332
بندوں کی بندگی چھوڑدو۔۔۔۔شمس جیلانی

سب کچھ ہی مل گیا گر مصدر قل ھواللہ جو مل گیا
وہ ہےدونوں جہا ں میں سرخرو جسے اللہ جو مل گیا
مت اتنا چڑھا ؤ شمس کسی کو وہ جھانکے تو گر پڑے
نے بھیجا کرونا ایک ہے دیکھوکہ جہاں پورا ہل گیا

333
عید مبارک ۔۔۔ شمس جیلانی

عید ہے انکے لیےجنہوں نے روزے رکھے وہ متقی جو بن گئے
ان کا معاملہ اللہ ہی جانے جو رسم سمجے گنتی پوری کرگئے
سال اگلے ہم کو بھی رمضاں ملیں روزے ملیں یا نہ ملیں !
لوگ حسرت سے کہیں اک شمس تھے وہ بھی آخر مرگئے

334
خوش نصیب لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

لوگ اکثر ہی حواس باختہ اور منتشر ملے
مشکل سے چند لوگ تھے جو معتبر ملے
رکھ کر روزے خلوص سےوہ سرخرو ہوئے
ہیں خوش نصیب وہ جنت میں گھر ملے

335
عقلمندرا اشارہ کافی است۔۔۔ شمس جیلانی

د ین کے خلاف ہما رے لیل ونہار ہیں
ہم میں برائی آگئیں اب بے شمار ہیں
اس واسطے خفا ہوگئے پروردگار ہیں
کہ بندےرجوع کریں جو ہوشیار ہیں

336
افضل ہے رشتے جوڑنے والا۔۔۔ شمس جیلانی

کہا سرکارﷺ نے میرے کہ افضل ہےہر رشتے جوڑنے والا
جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھےگا رشتے توڑنے والا
خوشبو جو کہ کرتی ہے معطر میلوں تک فضاؤں کو !
ترسے گاہمیشہ کے لیئے اسکو ہرایک آئین ِ ربی توڑنے والا

337
معاف کرو تاکہ تم معاف کیئے جاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

معاف کرتے جاؤ تم بنا جتلا ئے ہوئے کہ تم نے کیا احسان ہے
تاکےروزِ محشر میں بھی تم کو معاف کردوں یہ بڑا امکان ہے
مومنوں نے پڑھنا عربی چھوڑدی دنیا میں وہ یوں رسوا ہوئے
مجبورا“میں نے اردو میں کہاہے یہ خدائے پاک کا فرمان ہے

338
بس یقین شرط ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

الہ کو رب نبیﷺ کو رہنما اپنابنا کے دیکھا ہے
کبھی خدا پہ بھی اپنا بھروسہ جما کے دیکھا ہے
کہے ہے جیسا وہ خود کو ویساہی پاؤگے اس کو
کبھی ساتھ اس کے کیا وعدہ نبھا کے دیکھا ہے

339
صرف اتباعِ رسولﷺ باعث ہے ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ جو تمہیں زیور ِ علم و حکمت پہناکے بھیجا ہے
نہیں جہاں پہ تمہیں ہرگزداروغہ بنا کے بھیجا ہے
چلو گے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پہ پا ؤ گے عظمت !
سچ تو یہ ہے تمہیں چٹھی رسا ں بنا کے بھیجا ہے

340
عمل کے بغیر ایمان کچھ نہیں ۔۔۔۔ شمس جیلانی

رب کو مانوقرآں نہ مانو یہ دین ایسا بنا نہیں ہے
عمل ہے افضل کیا تم نے قرآن میں پڑھا نہیں ہے
کرو نہ ناراض شمس اسکو پھرکہیں پناہ نہیں ہے
دکھا ؤ سند ہے کوئی کہیں دیکھالکھا نہیں ہے

341
درگت باعث حیرانی نہیں! ۔۔۔ شمس جیلانی

جودرگت بن رہی آجکل مجھکو حیرانی نہیں ہے
گنا ہ رب کوتو مانیں ہیں بات کیوں مانی نہیں ہے
ہے قرآں میں ایسے لوگوں کو رب نے کچھ اور لکھا
کہ آئینِ خداوندی میں یہ کارِ مسلمانی نہیں ہے

342
اپنی گرہ میں باندھ لو؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

قرآں میں لکھدیا کہ دواہمیت اتباعِ رسولﷺ کو
دل میں نہ آنے دو کبھی کسی خیال ِفضول کو
اک لمحہ کے واسطے نہ کرو اس سے انحراف
اپنی گرہ میں باند ھ لو اس زریں اصول کو

343
میں رب کا شکر گزار ہوں ۔۔۔ شمس جیلانی

شکر اس کا ادا میں کرسکوں یہ میری مجال بھلا
جس طرح میں جی رہا ہوں کیا ہے میرا کمال بھلا
عطاجوعلم کیا رب نے مجھے شمس لا زوال ہے وہ
ایسی گزاری زیست کہ پاتا نہیں ہوںمیں مثال بھلا

344
رب نے جتادی اہمیت اسوہ رسول ﷺ کی۔۔۔ شمس جیلانی

اتار کرقرآن میں جتادی اہمیت اسوہ رسول ﷺکی
گنجا ئش ہے کہا ں رہی کسی بحثِ فضول کی !
یہ علما ءکرام کی روش ہو نہیں سکتی ہے شمس
سب عاقل کہیں گے ضد اسے عوام ِ مجھول کی

345
عظمتِ حضور ﷺ ۔۔۔۔ شمس جیلانی

قرآں میں اتاری ہے توقیر محمد ﷺکی
ہاتھوں سے لکھی ر ب نے تقدیر محمدﷺ کی
لحجہ دیا شیریں جنہیں سرکار ﷺ ہمارے تھے
تھی دل میں اتر جاتی تقریر محمدﷺ کی

346
ہر مومن نائب رسول بھی ہےﷺ۔۔۔شمس جیلانی

شمس ہر مومن کی یہ خواہش ہے جاں دینا انﷺ پر مرجانا
بے شک وہی تو مومن ہے جس نے ہے سرکارﷺ کا رتبہ پہچانا
یہ شیوہ نہیں ہے مومن کا کھانا کمانا وقت گنوانا اور سوجانا
یہ حکم وہﷺ ہم کو دے کر گئے ہیں کہ پیغام ہے دیں کا پہنچانا

347
نبی ﷺ کا غلام ہے۔۔۔ شمس جیلانی
نہ شمس رہنما ہےنہ وہ مسجد کا امام ہے
بس اتنی سی بات ہے نبی ﷺ کا ادنیٰ غلام ہے
تبلیغ جوکہ فرض ہے ہر مومن کے واسطے !
سب کو دلانا یاد یہ ہی بس اس کا کام ہے

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

کاش ہم ویسے ہوتے جیسا حضورﷺ دیکھنا چا ہتے تھے۔۔۔ شمس جیلانی

ہم اللہ تعالیٰ کااحسان مانیں کہ ہمیں امت محمدیہ میں پیدا کیا جنہیں بعد میں رحمت اللعالمین کا لقب بھی عطا فرما یا۔ کہیں اس سے پہلے اگر پیدا ہوئے ہوتے تو ان کرتوتوں کے بنا پرجو روزانہ آجکل ہم کر رہے ہیں ہر روزایک شہر تباہ ہوتاجو کہ کسی نبیِ ؑوقت کی امت ہوتا؟ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پوری تاریخِ انسانیت دیکھ جا ئیں جو کہ ہماری عبرت کے لئیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار دہرائی ہے۔ اکثر یہ ہی ملے گا کہ تمام ا متیں کسی ایک ہی گناہ پر پکڑی گئیں اور تباہ کر دی گئیں؟ مگر اس کے با وجود کے ہم تمام برا ئیاں ایک ہی وقت میں کر رہے ہیں مگر ابھی تک محفوظ ہیں۔ اوراس طرح تباہ نہیں ہوئے جس طرح دوسری امتیں تباہ ہوئیں؟ کبھی آپ نے سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جہاں وہﷺ اور تمام چیزوں میں کامل تھے وہیں وہﷺ رحمت میں بھی کامل تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو رحمت اللعالمین کا خطاب عطا فرما یا؟ سب سے پہلا مرحلہ تو وہ آیا جبکہ سرداران قریش نے خود مطالبات کی ایک بڑی فہرست کعبے میں بلا کر حضور ﷺ کو پیش کردی کہ“ ہم آپ کو جب مانیں گے کہ آپ اپنے رب سے کہہ کر ہمارے لیئے اس وادیِ غیر مزروعہ کو مزروعہ بنا دیجئے یا ان پہاڑوں کو سونے کا بنا دیجئے یا اپنے ہی لیئے ایک فرشتہ منگوالیجئے جوآپ ﷺکی نبوت کی گواہی دے اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہیں تو ہمارے اوپر آسمان گرا دیجئے جس سے آپﷺ ہمیں ڈراتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو؟ ورنہ ہم آپ پر ایمان نہیں لا ئیں گے (الاسرا ء آیت نمبر 91سے 93تک ملاحظہ فرمالیں)؟ اللہ نے حضوﷺ کی دعا کے جواب میں حضرت جبرئیل ؑ کو پیغام دیکر بھیجا کہ جو آپﷺ چاہ رہے ہیں و ہ میں کر دیتا ہوں مگر یہ پھر بھی ایمان نہ لا ئے تو میں اپنی سنت کے مطابق سزا بھی وہ دونگا جو آج تک کسی امت کو میں نے نہیں دی؟ جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ میں آپ کی امت کے لیے توبہ کا دروازہ کھلارکھوں؟ حضور ﷺ نے اپنی فطرت کے مطابق دوسری بات منظو ر فرما لی کہ مجھے ﷺایک وقت کھانا اور دوسرے وقت بھوکا رہنا منظور ہے؟ مگر امت کی تباہی منظور نہیں ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور ﷺ نے رحم،عفو اور در گزر کامظاہرہ کیا۔اور ان لوگوں کے لیئے بھی تباہی نہیں چاہی جو انﷺ کے خون کے پیاسے تھے۔ جوکہ انﷺ کی ایک صحابیہ ؓ اور صحابیؓ کو بہت بھیانک انداز میں انﷺ کی آ نکھوں کے سامنے اس جرم میں شہید کرچکے تھے کہ ابو جہل ان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ“ اسلام سے منحرف ہو جا ؤ اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرو“ انہوں ؓ نے شہید ہو نا پسند کیا مگر اس کے مطالبات نہیں مانے نہ حضور ﷺکی شان میں گستاخی کی نہ اسلام سے منحرف ہونا پسند فرمایا۔ اس کے بعد دوسرا موقعہ وہ آیا کہ حضور ﷺ کے دو زبردست حمایتی ام المونین ؓ حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور حضرت ابو طالب انتقال فرما گئے اور حضور ﷺ طائف کے سرداروں کے پاس تشریف لے گئے کہ شاید وہ اسلام قبول کرلیں اور اپنے یہاں پناہ دیدیں؟ مگر ان بد وقتوں نے حضورﷺ کو بری طرح تنگ کیا لڑکوں کوپیچھے لگا دیا تاکہ وہ حضور ﷺ پر پتھر برسائیں حتیٰ کہ حضور ﷺ کے نعلین مبارک بھی ان کےﷺ مبارک لہو سے بھر گئے۔ تب حضرت جبرئیل ؑ تشریف لا ئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آپ فرما ئیں وہ ہم ان کو سزادیں، یہ میرے ہمراہ پہاڑوں کا فرشتہ بھی ہے آپ حکم دیں تو وہ دونوں پہاڑوں کو برابر کردے جوکہ طائف کے دونوں طرف ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایانہیں یہ نہ سہی ان کی اولاد مسلمان ہوگی، اور یہ طوفان ٹل گیا اگر حضور ﷺ حکم دیدیتے تو طائف صفحہ ہستی سے مٹ جاتا،مگر وہ بچ گیا کیونکہ حضور ﷺ کو گواراہ نہ تھا۔جبکہ ان سے پہلے ﷺ اکثر نبیوں ؑنے اپنی ؑ امت سے تنگ آکر بد دعا فرما ئی اور طوفان نوح جیسی تباہی آئی؟لیکن حضور ﷺ نے کبھی امت کے لیے بد دعا نہیں فرمائی۔ تیسرا موقعہ جب آیا کہ سورہ الانعام کی آیت نمبر 59 نازل ہوئی جس میں یہ ذکر تھا کہ“میں اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوں اور نیچے سے عذاب بھیجنے پر قادر ہوں اور تمہیں آپس میں تکڑیاں کرکے لڑادینے پر بھی قادر ہوں ہ اس کے نزول کی بعد حضور ﷺ مسجد نبویﷺ سے ویرانے کی طرف صحابہ کرامؓ سے بغیر کچھ کہے تشریف لے گئے۔ صحابہ کرامؓ پیچھے گئے اور دیکھا کہ وہاں حضور ﷺ سجدے میں سر رکھے آہ و زاری میں مصروف ہیں؟ جب انہوں ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کیا ماجرا ہے ؟تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت ناز ل ہوئی جس میں تین عذابوں کا ذکر ہے میری درخواست پرد و کو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس امت پر سے ہٹا لیاہے،ایک کے لیئے فرما یا کہ یہ اس امت کا مقدر ہے وہ باقی رہے گا۔ اس لیے تم لوگ مجھ سے وعدہ کرو کے تم آپس میں میرے بعد لڑو گے تو نہیں توانہوں ؓ نے فرما یا حضور ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن اور اسوہ حسنہ ﷺ ہمارے پاس ہو اور ہم آپس میں لڑیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قرآن تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اور ایک دفعہ سرداروں کی تلواریں میان سے باہر آگئیں تو پھر وہ میان میں دوبارہ نہیں جا ئیں گی۔ یہ تو یہاں میں نے چند مثالیں پیش کی ہیں جبکہ اور بہت سی مثالیں بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے مگر سیرت اور احادیث کتب میں ہے۔ انکاﷺ تو یہ وطیرہ ہی یہ ہی تھا کہ ہر وقت امتی، امتی ورد ِ زبان ِ مبارک تھا۔ جبکہ عالم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کابھی یہ ہی تھا،جس کے رواوی حضرت امام حسن ؑ ہیں کہ“ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ میری والدہ نے تمام رات امت کی بخشش کے لیئے دعا فرمائی اپنے اورہمارے لیئے کچھ نہ مانگا تو میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنے اور ہمارے کچھ بھی نہیں مانگا؟ تو جواب میں فرمایا بیٹے ہمسایہ کا حق زیادہ ہے اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دو یہ ہی اسلام ہے“ اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت عطا فر مائے کہ ہم ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ ہمیں حضور ﷺدیکھنا چاہتے تھے یعنی ماضی میں جیسے اولین دور کے صحابہ کرام ؓ تھے۔ (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں؟۔۔۔شمس جیلانی

کہ تم جو ایک سال سے مسلسل لکھ رہے ہو اور کہتے رہے ہو کہ کرونا عذاب ہے کوئی اور عالم یہ کیوں نہیں کہتا یہ عجیب بات ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں صرف قر آن کو ہی نہیں بلکہ صاحب قر آن ﷺ کو بھی مانتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا؟ اس وجہ سے کرونا کے سلسلہ میں میری تشخیص تھوڑی اوروں سے مختلف ہے۔دوسرے یہ کہ اوروں کی طرح میرے ذاتی مفاد ات با لکل نہیں ہیں۔نہ ہی میرے سامنے فقہی اختلافات ہیں کیونکہ سارے آ ئیمہ عظامؒ بے مثا ل، انتہائی متقی اور حضورﷺ کے پیرو تھے ان میں سے ہر ایک نے یہ ہی لکھا ہے کہ میرے خیال میں صراط مستقیم کی طرف یہ راستہ لے جاتا ہے اس لیئے میں نے اپنی رائے میں اسے صحیح سمجھا ہے اور میرے نزدیک یہ وہی راستہ ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرما یا تھا کہ صرف میرا راستہ صراط ِ مستقیم ہے یا میرے ﷺان صحابہ ؓ کا راستہ جو آج میرے راستہ پر چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صراط مستقیم کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان پردوں کو اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ بہک جا ؤ گے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ میرے خیال میں ان بزرگوں ؒ میں سے کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ میرا اتباع کرو پھر اتباع کہاں سے شروع ہوامجھے معلوم نہیں؟ البتہ اس کی مثال اپنے ر سالہ ہفت متنازعہ مسائل اور انکے حل میں حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے حطیم سے دی ہے کہ حضورﷺ حطیم کو کعبہ میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ مگر محض فتنہ پیدا ہونے کی وجہ سے شامل نہیں فرمایا؟ لیکن جن کا اب اتباع کیا جاتا ہے وہ اتنے روادار بھی تھے۔ کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی پڑھتے تھے۔اور یہ پسند بھی نہیں کرتے تھے کہ ان کے فقہ کو زبردستی کہیں نافذ کیا جا ئے۔ یقیقناً ان کے ذہن میں وہ آیت ہوگی کہً“دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے ً“ یہ بات تو یونہیں درمیان میں آگئی۔ میں بات کر رہا تھا۔ اور کوئی کیوں اس کو عذاب نہیں کہتا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کی اکثریت اللہ کو تو مانتی ہے مگر اللہ کی بات نہیں مانتی ہے! اگر مانتی ہوتی تو مسلم ممالک خصوصاً مملکت خداد پاکستان میں رمضان شریف میں حرام خوری کرنیوالے، گران فروشی کرنے والے چور بازاری کر نے والے اور اس فن کے دوسرے ماہرین باہر سے امپورٹ کرنا پڑتے، کیونکہ سب متقی ہوتے یعنی اللہ سے ڈرنے سے والے ہوتے تو انکا یہ عقیدہ ہونا لازمی تھا کہ“ ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے تو کم تولتے ہوئے ان کے ہاتھ کانپنے لگتے؟ مگر وہاں اس کا الٹ ہے۔ ایسا کیوں ہے اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟
میں کیوں اوروں سے مخلتف ہوں اوپر کے میرے مضمون میں آپ کو جواب مل گیا ہوگا اس کو آپ بھی اختیار کرلیں اس سے بہتوں کو انشا ء اللہ رہنمائی ملے گی؟ رہا میری طرف سے میری اپنے صفائی میں جواب میں تو عرض یہ ہے کہ میں ہر معاملے میں قرآن سے رہنمائی لیتا ہوں، یا پھر صاحب قرآن سے رہنمائی لیتا ہوں جیسا کہ تمام مسلمانوں کو حکم ہے۔ جس کو عام مسلمانوں نے آجکل چھوڑ رکھا۔کیوں؟ یہ بھی آپ ایسا کرنے والوں سے ہی پوچھیں تو بہتر ہے؟
شاید یہ آیتیں اور یہ معنی اور تفاسیر ان کی نگاہ سے نہ گزری ہوں؟ ورنہ وہ بھی یہ ہی کہتے؟جو میں کہہ رہا ہوں؟ یہ تمام آیات میں نے ابن ِ کثیر(ر) کی تفسیر سے لی ہیں؟ جوکہ میں آگے پیش کرنے جارہا ہوں تفسیر ِ ابن ِ ابن کثیر پہلے سے ہی معتبر چلی آرہی ہے اور آج تک ہر دور میں اس سے مدد لی گئی ہے؟ اب آیت نمبر60 سورہ الاسراء کو پڑھ لیجئے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ۔۔۔۔ًہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لیئے نشانات بھیجتے ہیں۔ ایک دوسری آیت جو کہ سورہ توبہ میں ہے فرمایا کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ” ہم سال میں دوچار بلا ؤں میں ڈالتے ہیں نہ یہ توبہ کرتے ہیں نہ عبرت حاصل کرتے ہیں ” اس سلسلہ میں صاحب اختیا ر کا مدینہ والوں کے لیئے کیا رویہ تھا وہ آگے ملاحظہ فرمائیے اور جو کبھی بھی صاحب ِ اختیار نہیں رہے صرف حضور ﷺ کے جید علماء میں سے ایک تھے انکا روویہ کیا تھا؟ وہ یہ تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا اس وقت کاکوفے میں قیام تھا کہ زلزلہ آیا تو انہوں ؓ نے فرمایاکہ ” اےکوفے والو!تم سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اس کی طرف جھک پڑو! تمہیں فوراً اس کی طرف جھک جانا چا ہیئے“ ۔جبکہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ متواتر زلزلہ کے چار جھٹکے محسوس ہوئے تو حضرت عمر ؓ جو اس وقت وہاں صاحب ِ اختیار تھے اس حیثیت سے ان کا رویہ کیا تھا وہ ملاحظہ فرما ئیں کہ “واللہ! اہلِ مدینہ تم نے ضرور کوئی نئی بات شروع کی ہے باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دونگا“ اس کے آگے حضرت ابن ِ کثیر ؒ ایک متفقہ علیہ حدیث (١ )لائے ہیں حدیث یہ ہے کہ “سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں کسی بڑے آدمی کے مرنے سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف زدہ کردیتا ہے جب تم یہ دیکھوتو توبہ اور استغفار کی طرف جھک پڑؤ۔ اے امت محمد واللہ! اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں ہے کہ اس کی لونڈی اور غلام زنا کریں! اے امت محمدیہ واللہ جو میں جانتا ہو وہ اگرتم جانتے توہنستے کم اور روتے بہت زیادہ“ جبکہ صاحب اختیاروں کے صاحب ِ اختیار کا رویہ کیا تھا؟ کہ حضور ﷺ اگر کالے بادل بھی آتے دیکھتے تو پریشان ہوجا تے کہ کہیں یہ پانی کے بجا ئے آگ نہ برسانے لگیں؟اور فوراً دعاؤں میں مصروف ہوجاتے۔؟ ہمارے دور میں علما ء اور مسلمان حکمراں کیا کر رہے ہیں؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہو ں؟ اگر مجھ سے پوچھنا ہے تو جواب یہ ہے کہ ان کا یقین اللہ اوراس کے رسول ﷺ اور کتاب پر پختہ تھا۔جبکہ آج سوائے اللہ والوں کے جن کی تعداد انتہائی قلیل ہے اور کسی کاویسا ایمان نہیں ہے؟ اب اس کا حل کیا ہے وہ بھی سورہ الشوریٰ آیت نمبر 30ملا حظہ فرما لیجئے کہ“ تمہیں جو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تمہاری اپنی کر توتوں کی وجہ سے ہیں“ پھراللہ کے نوازنے کا بہت تفصیلی ذکر ہے31 میں ہے“ ورنہ بندے کا ایک دن جینا بھی مشکل ہے“ ۔ اب سوال یہ ہے اس کا حل کیا ہے وہ ہےتو بہ اس کے لیئےسورہ توبہ کی آہت 126 پڑھ لیجئے کہ توبہ اللہ کو اتنی پسند ہے کہ کسی گناہ گار بندہ کا کوئی اور فعل اسے اتنا پسند نہیں ہے کہ اسےآتا دیکھ کر اللہ سبھانہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے جیسے کہ کوئی مسافر پیاسہ ہو اور اس کا وہ اونٹ گم گیا ہو جس پر پانی توشہ اور سب کچھ لدا ہوا وہ اسے تلاش کرکے تھک کر گر گیا ہو اور یکایک وہ اس کے سرہا نے آکر کھڑا ہوجا ئے؟ جبکہ بندہ عجیب جتن کرتا ہے ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ لوگ ایسے جتن کرتے تھے جن کے پاس مشکوک یاحرام کی کمائی ہوتی تھی کہ بھائی ہمیں حج پر جانا ہے ہمیں اپنی کمائی پر کچھ شک پڑ گیا۔ جتنا چاہو ہم سے رقم اوپر لیلو یہ مال بدل دو۔ جبکہ اب علماء کو ہم نے یہ ٹی وی پرکہتے ہوئےسناہے کہ حلالِ خالص تو اب کہیں ملتا ہی نہیں ہے جس کےمال میں حلال کاغلبہ ہو وہ بھی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے۔ اور جو لوگ حج پر جا تے ہیں وہ تواس حلال یا حرام کے چکر میں پڑتے ہی نہیں ہیں؟ جبکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں کسی کو سزا دیکرخوش نہیں ہوتا تم پہاڑ کے برابر گناہ لیکر میرے پاس آجاؤ میں معاف کردونگا اوریہ کہ میں نے ننیاوے حصہ رحمت کے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور تمام مخلوق کو صرف ایک حصہ دیا۔ اس پر ماں کا حال ہے جبکہ ایک حصہ میں اتنی بڑی مخلوق شریک ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ وہ خودمرجانا پسند کر تی ہےمگر بچے کو پھانس بھی لگنا پسندنہیں کرتی؟ تو پھر نینانے حصے رکھنے والے مالک کا کیا حال ہوگا ؟مگر بندے اس کی طرف جھکنے کے بجا ئے اس سے بھاگ کر ، شطان کے پیچھے چلنا پسند کرتے ہیں جو جہننم میں لے جاناچاہتا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں عقل اور توفیق عطا فرما ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

وزیر اعظم صاحب ہم ان حالات میں عید کیسے منائیں ؟۔۔۔شمس جیلانی

عنوان دیکھ کر ممکن ہے کہ وزیر اعظم صاحب الٹا عوام سے پوچھ بیٹھیں کہ عید منانے کے لیئے ہم سے پوچھنے کیا ضرورت ہے کیا جبکہ رمضان سے پہلے وہ ذخیرہ اندوزی کر تے ہیں، چور بازاری کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو ہم سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ اس وقت وہ جن سے پوچھتے ہیں اسوقت بھی انہیں پوچھ لیں ہم سے پوچھ نے کیا ضرورت ہے۔ شاید عوام اس راز کو نہ سمجھے ہوں کہ وہ کس سے پوچھتے ہیں ؟ اگروہ نہیں سمجھتے ہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ وہ ان سے پوچھتے ہیں جو صاحب ِ اختیار ہوتے ہیں کہ کیا سرکار اپنی آنکھیں بند رکھیں گے جب تک ہم روزہ داروں کے لیئے یہ کار خیر انجام دے رہے ہونگے ؟معاوضہ طے ہوجاتا ہے اور کارِخیر بخوبی انجام پذیر ہوجاتا ہے۔ تب وزیر اعظم تک کہیں جاکرخبر پہنچتی ہے اور وہ فورا “اعلان کردیتے ہیں کہ میں کسی کو ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کرنے کی اجازت نہیں دونگا؟ حالانکہ یہ اعلان انہیں اس وقت کرکے حرکت میں آ جانا چاہیئے تھا جب وہ مکمکاؤ کے مرحلے میں تھے اس صورت میں وہ رنگے ہاتھو ں سارے کے سارے پکڑے جاتے اور مختلف قسم کے کمیشن بنا نے کی ضرورت نہیں ہوتی؟۔ مگر وزیر اعظم صاحب اعلان ہمیشہ دیر میں کرتے ہیں۔ جبکہ چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں۔
ہم اپنے وزیر آعظم کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے بہت ڈرتے ہیں جبکہ ہمارا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور کسی سے نہیں، حاکم کے سامنے سچ کہنا ہماری عادت ہے جس کی گواہ ہماری یہ نوے سالہ عمر بھی ہے۔ مگر ان سے ڈرتے اس لیئے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جمہوریت پسند ہونے کے باوجووہ اپنے بہی خواہوں سے بھی ناراض بہت جلد ہوجاتے ہیں جبکہ ہم بھی اس وقت اوروں کی طرح ان کے بہت بڑے بہی خواں رہے ہیں۔ جس کی گواہی اس وقت کے اخبارات بھی دیں گے جس وقت کے وہ وزیر اعظم نہیں تھے؟ ہم نے ان کی سچ بولنے کی عادت اور جذبہ خدمت خلق کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ ضرور اپنا وعدہ پورا کریں گے اور یہ اوروں طرح نعرہ تبدیل نہں کریں گے اس لیئے ہم ان کے حق میں لکھتے رہے دوسرے ہماری کتاب شمس جیلانی کے 101پڑھ لیں جو کہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ کبھی ہم بھی شامل تھے ان کےبہی خواہوں میں اور ابھی بھی بہی خواہ ہی ہیں اگر وہ اپنے وعدے پورے کرنا شروع کردیں تو؟۔ ورنہ ہم بھی کیا کریں کہ ہم ہمیشہ سے سچ بولنے اور سچ لکھنے کے عادی ہیں اور مستقل اس با ت کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی (ص) نے فرمایا کہ “مومن میں تمام برائیاں ہوسکتی ہیں لیکن مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا؟“اور ہم اس بات کے بھی حامی ہیں کہ پوری قوم کے اتحاد کے لیئے ضروری ہے کہ سب حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی پیروی پر متحد ہوجا ئیں تو قوم کے سارے دکھ دلدر دور ہوجا ئیں کیونکہ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس لیئے کہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ “آپ ان سے کہدیں کہ یہ تمہارا(ص) اتباع کریں جو کہ میراہی اتباع ہے۔ اور یہ کہ حضور (ص) کےاسوہ حسنہ میں امت کے لیئے بہترین نمومہ ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ“ یہ (ص)اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے یہ وہی کہتے ہیں جو ہم ان کی طرف وحی کرتے ہیں “۔ پھر نہ صرف یہ کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کے لیئے نہیں فرمایا ؟اور نہ ہی کسی اور نے آج تک کہا ہے کہ میرا اتباع کرو؟ ان میں سےجو لوگ کہ ختم نبوت کے قائل ہیں؟ ہم نے حضور (ص) کی سیرت بھی لکھی ہے جو کہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہےاور وہی ویڈیو کی شکل میں یو ٹیوب پر بھی موجود ہے جس کا کوئی معاوضہ ہم نہیں مانگتے نہ رائیلٹی کلیم کرتے ہیں؟ مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ حضور (ص) کی سیرت پر مسلمان عمل اس طرح کریں اور فلاح پاجائیں جیسے کہ صحابہ کرام (رض) کیا کرتے تھے کہ اگر کوئی نئی چیز کسی کے پاس کہیں سےتحفے میں بھی آجاتی تو اُٹھاکر رکھدیتے تھےبجائے لوگوں میں تقسیم کرنے کہ پہلے کسی صحابی(رض) سےمعلوم کرلیں کہ حضور (ص) انہیں کس طرح نوش ِجاں یا تناول فرمایا کرتے تھے تاکہ ہم اسے سنت کے مطابق استعمال کریں؟ اس سلسلہ میں حضرت امام زین العابدین(ع) اور دوسرے صحابہ کرام کے اقوال موجود ہیں کہ “ ہم روزانہ حضور (ص) کی سیرت کو بھی پڑھا کرتے تھے جس طرح مسلمان قرآن شریف کو پڑھتے ہیں“ اور ہمیں سورہ الصف کی وہ پہلی دو آیتیں بھی یاد ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو! “ایسی بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے ۔یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے “ جبکہ ہم میں ایک خرابی اور بھی ہے کہ ہمارے دوستی اوردشمنی صرف اللہ کے لیئے ہوتی ہے۔ اور کسی مقصد کے لیئے نہیں۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم آپکو جتنا اپنے وعدوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھیں گے ہم آپ کے ہوتے چلے جا ئیں گے۔ میری اوقات کیا ہے تمام اہل ِ اللہ آپ کے ساتھ ہونگے اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوگا کیونکہ آپ خلوص دل سے اس کے دین کے لیئے کام کر رہے ہونگے اس کے رسول(ص) کے اسوہ حسنہ کو رائج کر رہے ہونگے جو کہ ریاست مدینہ کے قیام کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ اللہ آپ کا حامی اور ناصر ہو (آمیں) فل الحال ہم اپنے مضمون کو اس قطع پر ختم کرتے ہیں ۔
عید پیچھے ٹر۔۔۔ شمس جیلانی
ویسے تو وہ ہیں تیز بہت عتاب او ر شتاب میں!
ہوتی نہیں ہے دیر کبھی وہاں فرمان ِ عتاب میں
ہومعاملہ دینے کا عوام کو نرخوں میں کچھ رلیف
لگ جاتی ہے جانے دیر کیوں حساب و کتاب میں

ا

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

مالک ِ اوصاف و کائینات وہی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مگر اس کا مسلمان ادراک رکھتے ہوئے قطعی خیال نہیں رکھتے اور اپنے حدود زیادہ تر پار کر جا تے ہیں اور انہیں خبر بھی نہیں ہوتی؟ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہیئے کہ میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب کچھ اسی کی عنایت ہے۔ مگر وہ یہ کہہ بیٹھتا ہے کہ یہ میں نے کیا ہے؟ پھر اس کی بعد میں اس کی سزا بھی بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ عمل ازل سے جاری ہے اور ابد رہے تک جاری رہےگا؟ مگر انسان اپنی شیخی بیان کر نے سے بعض نہیں آتا؟ حالیہ واقعہ کرونا کو دیکھ لیجئے پاکستانیوں نے اپنی شامت خود بلا ئی جبکہ دنیااس عجوبے پر حیرت زدہ رہ گئی تھی کہ جب کرونا امریکہ جیسے ملک کے قابو سے باہر تھا، مگر پاکستان جیسے نا خواندہ ملک کو اس نے بہت کم نقصان پہنچایا؟ لہذا پوری دنیا امنڈ پڑی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ وبا تمہارے یہاں بہت کم پھیلی اور تمہارے عوام اور خواص اس سے محفوظ رہے ،بہت ہی کم متاثر ہوئے؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوری قوم سجدے میں گر جاتی اور اجتمائی تو بہ کرکے نماز شکرانہ ادا کرتی اور پوچھنے والوں کو جواب یہ دیتی کہ ہمارے عقیدے کے مطابق ہم پر یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کافضل ہے کیونکہ ہم اس کے ماننے والے ہیں لہذا اس نے اپنے بندوں کو اس وبا سے اسطرح محفوظ رکھااور یہ ہی اس کی سنت ہے کہ جب بھی کہیں لوگوں کی بد اعمالیوں کی بنا پر عذاب آیا تو اس نے ہمیشہ اپنے بندوں کو بچالیا؟ دیکھنا چا ہیں تو دنیا کی تاریخ دیکھ لیجئے۔ جہاں اس نے نوح ؑ کی امت میں سے اپنے ماننے والوں کو بچا لیا، وہیں حضرت یونس ؑ کی امت کو معاف کردیا کہ انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کرتوبہ کر لی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نےعذاب ٹالدیا۔لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں نے عذاب دیکھ کر کہا کہ یہ تو وبا ہے جوکہ اکثر آتی رہتی ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ نہیں سوچا کہ وبا کسی ایک شہر میں یا علاقے میں آتی ہے پوری دنیا میں بہ یک وقت نہیں آتی اگر وہ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لے تو عذاب ہوتا ہے؟ حکمرانوں نے تو یہ کہا کہ ہم نے انتظام بہت اچھا کیا تھا،ہماری نوکر شاہی جسے ہم بروکریسی کہتے ہیں بہت ہوشیار ہے۔ہمارے لوگوں میں قوت ِمدافعت بہت اچھی ہےانکا (امیون سسٹم) بہت اچھا ہے۔ اس وجہ سے ہم متاثر نہیں ہوئے۔ اس پر پاکستانیوں کی واہ واہ تونہیں ہو سکی کہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ ان کے ذرائع جاسوسی ان سے کہیں آگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہنس دیئے اور چلے گئے دل میں یہ کہہ کر کہ ان کو خوش فہمی میں ہی مبتلا رہنے دو؟ جبکہ وہاں کے علماء اور بھی آگے نکل گئے حالانکہ انہوں نے قوم ِ عاد اور ثمود کے قصے قرآن میں پڑھے بھی تھے کہ وہ عذاب سے بھرے بادلوں کو بارش بر سانے والے بادل سمجھے تھے اور خوشیاں منانے لگے تھے ؟ انہوں نے قوم کو بجا ئے ڈرانے کے خوشخبری دیدی کہ یہ تو ا بتلا ہے جو کہ افراد یا قوموں کی ترقیِ درجات کے لیےآتا ہے؟ انہوں نے یا تو سوچا ہی نہیں اور اگر سوچا تو شاید قوم کو بتایا ہی نہیں کہ ان قوموں اور ان افراد پر جوکہ اللہ کے متقی بندے ہوں ان پر ابتلا آتی ہے انکے درجات بڑھانے کے لیئے۔ ان پر نہیں جو نافر مان ہوں؟ اس کے بجا ئے اگر اس پر وہ یہ کہتے جوکہ بندگی کا تقاضہ تھا کہ ہم اور ہمارے عوام اللہ کو مانتے ہیں جو کہ واحد ہے۔ لہذا ہم نے اس کی اس تنبیہ (Warning )پرتوبہ کی اور اپنی روش کو درست کرلیا اب ہم نے سارے غلط کام چھوڑ کر توبہ کرلی ہے۔ تو نتائج دنیا دیکھتی کہ کچھ اور ہی مرتب ہوتے اور ان میں سے نہ جانے کتنے اپنی مزید تحقیق کےنتیجہ میں ایمان لے آتے اور پاکستانی مزید انعامات کے حقدار ہوتے مگر انہوں نے اپنے فرض سے روگردانی کی اور تبلیغ کاایک موقعہ جوکہ اللہ سبھانہ تعالیٰ انہیں نیکی کمانے کے لیے دیا تھا اسےکھودیا۔ جبکہ تنبیہ (Warning ) کےبعد اس نے اپنے قانون کے مطابق ایک سخت قسم کرونا کی بھیجدی اور پاکستانیوں کی ساری شیخی دھری کی دھری رہ گئی؟ اب پریشان پھر رہے ہیں کہ کیا کریں اور کیسے اپنی ڈینگوں کا بھرم رکھیں؟ کیونکہ انجام تو یہ ہونا ہی تھا جو ہوا۔ اسے سمجھنا ہے تو سورہ بنی اسرا ئیل کی آیت نمبر11 پڑھ لیجئے۔جس میں انسان کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود بطورِ خالق تعریف یہ فرمائی ہے کہ انسان بڑا جلد باز ہے۔ ایک اور دوسری آیت میں نادان بھی کہا ہے کہ انسان نادان ہے۔ کیا یہ دونوں ان پر لاگو نہیں ہوتیں؟ جواب آپ پر چھوڑ تا ہوں؟ اس مسئلہ پر تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فر مان مان کر وہ اپنے رسم و رواج کےمطابق مطمعن ہو گئے ہوں گے۔ لیکن اپنی روش کے مطابق اس کی باتیں مان کر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ہونگے۔ اگر انکا اللہ پر عقیدہ پختہ ہوتا تو وہ ایک شکر گزار قوم کی طرح توبہ اور نوافل شکرانا ادا کرتے اور وہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 7کے مطابق نواز ے جاتے ۔مگر اب وہ اس آیت کاوہ حصہ بھگت رہے ہیں جو کہ یہ ہے کہ “ اگر کفر کرو گے تو میرا عذاب بھی شدید ہے“ مگر مشکل یہ ہے کہ جس طرح وہ تعزیرات پاکستان پر عمل نہ کرنے کے عادی ہیں، اسی طرح تعزیرات خداوندی پر بھی عمل کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں؟ ایسے لوگوں کو خود قرآن کیا کہتا انہیں وہ کس زمرہ میں شامل کر تا ہے۔ وہ قرآن میں جا کر پڑھ لیں تو صورت حال واضح ہوجائیگی اور کسی مولوی سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کہ یہ ابتلا ہے یا عذاب۔ یا پھر قر آن میں جاکر ہی پچھلی قوموں کے قصے پڑھ لیں تو ان پر سب کچھ عیاں ہوجائے گا کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے زیادہ سچی کس کی بات ہوسکتی ہے؟ رہی تبلیغ کی بات وہ تو اب مسلمان اپنے فرائض بندگی میں شامل ہی نہیں سمجھتے۔ کیونکہ اس کے لیئے اپنا کردار ویسا بنانا پڑتا ہے جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ مومنوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو پہلے کبھی تھا بھی اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل میں تبلیغ کرنے کے لیے وہ ساری دنیا میں پھیل بھی گئے تھے۔اور انہیں دیکھ کر دنیا متاثر بھی تھی اور ان دیکھے خدا پر ایمان بھی لائی تھی۔ اب مسلمانوں کے عمل دیکھ کر وہ مذبذب ہوجا تے ہیں کیونکہ وہ کردار اب ماننے والوں میں پوری طرح کہیں بھی رائج نہیں ہے۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فر مائے( آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

آئیے اب قر آن پرعمل کریں۔ شمس جیلانی

گزشتہ مضمون میں ہم نے صرف سورہ النحل کی آیت نمبر 90 کا ایک جز لکھا تھا تو اس کو ہمارے پڑھنے والوں نے بہت پسند کیا اور ہمارے ایک دوست جناب ضرار صاحب تو یہاں تک چلے گئے کہ انہوں نے ریمارک دیا “ آپ نے تو ایمان تازہ کردیا “ اس سے ہماری ہمت بڑھی اور ہمیں اندازہ ہوا کے ابھی ایسے مسلمان دنیا میں موجود ہیں جو کہ قرآن کو سمجھنا چاہتے ہیں؟ لہذا سوچا کہ بجا ئے اس آیت کے ایک جز پر اکتفا کرنے کے یہ پورا رکوع ہی اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جا ئے جس میں ایک مسلمان کی کردار سازی پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں پوری توجہ دی ہے تاکہ اس پر عمل کر کے وہ بندے متقی بن جائیں جو بننا چاہیں! چاہے وہ مومن مرد ہو یا عورت جو کے ان سے روزے رکھو انے کا اصل مقصد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں بتایا ہے؟اور ہمارے پڑھنے والوں کواس پر عمل کر نے کے کاپورا موقعہ مل جا ئے اور جب ماہ ِ رمضان المبارک ختم ہو تو وہ متقی بن کر جہنم سے نجات حاصل کر چکے ہوں اور عید الفطر کو اللہ سبحانہ کے دربار میں انعام کے لئیے حاضر ہوں اور وہاں سے مزید خلعت فاخرہ لیکر واپس آئیں کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دونگا؟ آپ نے پڑھا ہوگا کہ قرآن کاسننا ثواب ہے، اس کا پڑھنا ثواب ہے،اب سب سے اہم عمل کی طرف بڑھتے ہیں کہ اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔ پچھلی مرتبہ ہم نے اس آیت کے صرف دو لفظو ں پر بات کی تھی اس میں ایک عدل تھا اور دوسرا تھا احسان ان میں سے بھی عدل کے معنی تو ہر ایک جانتا ہے مگر اس پر مسلمان ہوتے ہوئے عمل نہیں کرتا ہے؟احسان کے معنی زیادہ تر علماء محدود لیتے ہیں جبکہ اس کے معنی بہت سے ہیں جو عربی لغت میں جاکر ملا حظہ کر لئے جا ئیں۔ جبکہ احسان کے جو معنی ہمارے یہاں مستعمل ہیں وہ بہت محدود ہیں یعنی کسی پر کسی قسم کاکوئی احسان کر دینا؟ جبکہ اس کے معنی اتنے محدودنہیں ہیں اور وہ گنتی میں بہت سے ہیں کیونکہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔ اسے سمجھ کر پڑھئے اس لیےکہ یہ قادرالکلام اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے، جس کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ قیامت تک کے لئیے ہے، لہذا قیامت تک کے لئیے یہ ہمارا راہنما بھی رہے گا۔اسی لفظ کو اگر عدل کے ساتھ ملا کر پڑھا جا ئے جیسا کہ استعمال ہوا ہے یا پھر اردو میں مرکب استعمال کیا جا ئے تو اس کے معنی سمجھنے والوں کی سمجھ میں کھل کر سامنے آجا ئیں گے؟ اور یہ چھوٹے سے معنی اپنے اندر سے ہدایت ظاہر کرنے کے بعدبہت وسیع معنو ں کا مظہر نظر آئیں گے اور اس کے معنی بہت وسیع ہوکر پوری زندگی کااحاطہ کر لیں گے؟ مثلا ً
حسنِ تحریر،حسن تقریر، حسن تعمیراور حسن انتظام وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ ایک لفظ عربی میں بہت سارے معنی دیتا ہے مگر اردو میں اپنا متبادل نہیں رکھتا!البتہ انگریزی میں اس کا متبادل جو ہے وہ ہے Ecellence تو جب آپ عدل کے ساتھ اس کواستعمال کریں گے تو اس لفظ کا تقاضہ ہوگا کہ آپ جس کسی منصب پر بھی ہیں، چا ہیں باپ ہو ں، چا ہیں بیٹے ہو ں،یا وزیر اعظم ہوں،صدر ِ مملکت ہوں یا چپراسی ہوں، اسلام آپ سے اپنے منصب کے مطابق آپ سے آپ کی بہتریں صلا حتیں استعمال کرنے کا متقاضی ہے۔ آپ جہا ں جس پوزیشن میں ہوں تووہاں بشمول عدل ہر شعبہ میں اپنی بہترین صلا حتیں استعمال کر یں؟ پھر کام میں چوری اور کسی قسم کی ہیرا پھیری کی کوئی گنجا ئش نہیں رہے گی؟نہ دفتروں میں بیٹھ کر خود چائے پینے کی، نہ دوستوں کو پلانے کی،نہ ان کے ساتھ گپیں لڑانے کی، نہ کرکٹ کا میچ دیکھنے کی، جبکہ مملکت ِ خداد پاکستان میں یہ باتیں معمولات مں شامل ہیں؟ اور ان آیتو ں کے خلاف کرنے کی صورت میں اس کے جونتائج ہونگے وہ بھی وہیں بیان کردیئے گئے ہیں؟مختصر یہ ہے کہ اس رکوع میں کچھ باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ کرو جن کاموں سے ان سے روکا گیا ہے رک جا ؤ یعنی جن کی اجازت دی گئی صرف وہ کرو۔ میرے خیال میں، میں جو کچھ آپ کو سمجھانا چاہتا تھا وہ اس مثال سے آپ سمجھ گئے ہونگے۔ اب آیت نمبر 90کے بقیہ حصہ کی طرف آتے ہیں جس میں صلہ رحمی کا حکم ہے جس کے معنی عزیز و اقا رب سے اچھا بر تا ؤ۔ اس کے بعد کی بقیہ آیات میں وہ مطالبات ہیں جن پر عمل کر کے بندہ متقی بن سکتا ہے اور اگلا عشرہ جوکہ، عشرہ نجات ہے اس میں جہنم سے نجات حاصل کرکے جو کہ رمضان المبارک کا اصل مقصد تھا متقی بھی؟ اب آگے کی آیات میں اورکیا ہے اس آیت کی طرح انکی تفصیل میں جانے کی یہاں اس چھوٹے سے مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔ وہ آپ قرآن میں جا کر سورہ النحل کے رکوع نمبر13 کی تفسیر میں پڑھ لیجئے۔ اس رکوع کی بقیہ آیات میں مسلمانوں کواللہ سبحانہ تعالیٰ کچھ کام کرنے اور کچھ کام نہ کرنے کاحکم دیا ہے وہ سب وہاں موجود ہیں۔ اور نہ کرنے پر جبکہ عذاب کی شکل میں خوف دلایا گیا ہے بہ صورتِ دیگر اعمال ضائع ہونے کی بھی خبر دی گئی ہے تاکہ کوئی اپنی عبادت پر مغرور نہ ہو۔ یہ ہر قر آن کا طالب علم وہاں جا کر مطالعہ کر لے تو بہتر ہوگا کہ آئندہ اس عمل سے اس کے دل میں انشا ء اللہ قرآن سے الفت پیدا ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرما تا ہے کہ جو بندہ میری طرف ایک قدم بڑھتا ہے میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں یعنی بندے کا اس کی طرف خلوص کے ساتھ بڑھنا شرط ہے آیت نمبر 98 میں قر آن پڑھنے سے پہلے آ عوذ باللہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں پر رکوع ختم ہوجاتا ہے۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ذرا سوچیئے یہ خاکےکیا سبق دے رہے ہیں؟شمس جیلانی

گر اسے سمجھنا ہے تو حضور ﷺ کی ان تعلیمات کو سمجھیں جوکہ انہو ں ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو سمجھایا تھا اور انہوں ؓنے اپنے ایک خطبے میں پوری امت کو تخویص کیا یہ فرما کرکہ “اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تم کو آپس میں عدل قائم کرنے کا حکم اس لیئے دیا ہے تا کہ تم آپس میں متحد رہو “ ہم نے کیا کیاکہ اس سبق کو ہی بھلا بیٹھے؟ حالانکہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اپنے دور ِ حکومت میں اس آیت کو خطبہ ِجمعہ میں شامل کردیا تھا۔اور مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے میں ابھی تک اس وقت سے چلی آرہی ہے۔ تاکہ مسلمان ان دوباتوں کو بھولیں نہیں جس کی قرآن میں تاکید ہے۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اے مومنو! اللہ سبحانہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کرنے کا ً چو نکہ ہما ری اب نوے فیصد آبادی آبادی عربی نہیں جانتی ہے اور نہ عربی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے؟ لہذا مسلمان بقیہ قرآن کی طرح انہیں بھی سنتے ہیں تو ہیں مگر عمل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟۔نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہی قرآن سمجھتے ہیں اور نہ صاحب ِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بارے میں وہ یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے پورے قرآن پر عمل کرکے بھی دکھا یا تھا، جب وہ ﷺہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اور قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی کے اسوہﷺ میں بہترین نمونہ ہے ( سورہ الاحزاب آیت نمبر 33)تو ہمارا اس آیت پر توعمل کر نے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیئے کہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے ہرایک، دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپر ہے۔ آج اتحاد اور اخّوت مسلمانوں میں مفقود ہے فرقہ بندی اپنے عروج پر ہے۔ جبکہ فرقہ بندی گروہ بندی کی حضور ﷺ نے اپنے ارشادات میں سخت مذمت فرما ئی ہے۔اس کے لیئے انہوں ﷺنے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ دیکھو فرقوں میں مت بٹ جانا جیسے پہلے والی امتیں بٹ گئیں تھیں“ اور اللہ نے تو یہاں تک فرمایا اگر فرقہ باز فرقہ بازی سے باز نہیں آتے تو تمہاراﷺ ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اس کا عملی مظاہرہ حضور ﷺ کے دور میں پہلی مرتبہ جب نظر آیا کہ حضور ﷺ غزوہ بنو مصطلق سے فارغ ہوئے ہی تھے اور بئیر مرسیع پر تشریف فرما تھے کہ حضرت عمر ؓ کے سائیس جہجاہ ؓ کا جھگڑا گھوڑے کوپانی پلانے پر حضرت ؓ سنان سے ہوگیا اُنہوں ؓنے مہاجرین (رض) کو اپنی مدد کے لیئے آواز دی اوراِنہوں نے انصارؓ کو مدد کے لئے آواز دی جو دونوں کی پرانی عادت تھی۔ حضور ﷺ کو پتہ چلا تو فوراً تشریف لے گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ فرمائی کے تم میں ،میری موجود گی ہی میں دور جہالت کی نفرتیں پھر لوٹ آئیں؟ جبکہ آج ہمارے یہاں روز مرہ کی خبریں دیکھ لیں یہ بات عام ملے گی۔ یہ دراصل اسی آیت نہ سمجھ نے کا نتیجہ ہے؟ کہ انصاف کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور نہ ہی احسان کے وہ معنی ہم سمجھتے ہیں جوان دونوں کے سمجھنے کا حق تھا دراصل ہم کو یہ تعلیم دی گئی کہ ہمیشہ عدل اور احسان سے کام لو جہاں اور جس پوزیشن میں ہو ،جو باپ سے لیکر بیٹے تک پہنچتی ہے اور وزیر اعظم سے لیکر چپراسی تک ۔اگر ہر مسلمان انصاف کے سلسلہ میں پوری صلاحیتوں سے کام لے رہا ہوگا تو کسی سے کہیں کوتاہی ہوگی ہی نہیں، جب کوتا ہی نہیں ہوگی توبے انصافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟۔ سوچیں کے حضور ﷺ کو ہماری یہ حالت دیکھ کر اس وقت کتنی تکلیف پہنچتی ہوگی؟ ذرا اسے سوچیئے تو سہی ہم روزانہ اپنے اس رویہ سے انہیں ﷺکتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے؟ جب ہم میں بہت سے جو بظاہر اپنی ہئیت سے مسلمان معلوم ہوتے ہیں انکا اخلاق دیکھیں، لین دین دیکھیں وہ مسلمانوں جیسا نہیں ہے وہ خاص طور پر معاملات میں تو صاف شفاف زیادہ تر نہیں ہیں؟۔ کیا ہمارا چال چلن حضور ﷺ کو پریشان نہیں کرتا ہوگا کہ انہوں ﷺ نے اور انﷺ کے ساتھیوں ؓ نے خود کو جس مشقت میں ڈال کر دنیا کے سامنے میں پیش کیا تھا؟ جو آخری کتاب اور دین کی شکل میں حضور (ص) پر اللہ سبحانہ تعالی نے نازل فرما یا تھا؟ کتنے مصائب جھیلنے کے بعددنیا کے سامنے ایک اچھا نظام اپنے عمل وکردار کی شکل میں پیش کیا تھا آج دنیا میں انﷺ کے ماننے والےتو بہت دکھائی دیتے ہیں مگر ان کا عمل وہ نہیں ہے جیسا کہ حضور ﷺ کا تھا اور وہ ویسے نہیں جیسا کہ حضور ﷺ انہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں اسلام بد نام ہورہا ہے۔ کیا کبھی اس پر مسلمان شرمندہ ہوئے۔ انہیں جوش آیا کہ کیوں نہ خود کو پھر ویساہی بن کر دکھائیں جیسا کہ حضور ﷺ ان کودیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تو ہر مسلمان کومتقی دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ جو ذلت اور خواری ہمارے حصہ میں آ ئی ہے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانیوں کی وجہ سے آئی ہے۔؟کہاں تو وہ وقت تھا کہ ایک مظلوم مسلمان عورت دُھائی دیتی تھی تو مسلمانوں کا خلیفہ حرکت میں آجاتا تھااور اس کی رہا ئی کے لیے ہندوستان جیسے بڑے ملک پر حملہ کردیتا تھا۔ اب بھی وہی ملک ہے جو کروڑوں مسلمانوں کو ستا رہا ہے۔ اس وقت اٹھاون مسلم ممالک بھی دنیا میں موجود ہیں؟ جو ظلم مسلمانوں پر اس ملک میں ہورہا ہے؟ اسے میں لکھ نہیں سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ وہ سب کچھ خبروں میں پڑھ رہے ہیں سوشیل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں۔ کہا ں گئی ان کی وہ حمیت کہاں گئی غیرت؟جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟۔یہ مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ یہ رکھا اللہ سبحانہ تعالیٰ نےاس امت کے لئیے یوں تھاکہ حرام تو ہمیشہ سے مسلمانوں پہ حرام ہے؟ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا تقاضہ یہ تھا کہ تم حلال بھی میری محبت میں چھوڑدو اور “تم متقی بن جا ؤ“ امت ایک سال سے کرونا کی شکل میں عذاب جھیل رہی ہے۔ اس مہینے سے فا ئدہ اٹھائیں۔ متقیوں کے خاکے بننے کے بجائے جیسے کہ دنیا میں آجکل چاروں طرف چلتے پھرتے ہم نظر آتے ہیں؟ ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ یہ رحمت کا مہنیہ ہے۔بخشش کا مہینہ ہے اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ توبہ کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اور آخر میں عید ہے انعامات سے نواز ے جا نے کا دن ہے۔ عام معا فی کا دن ہے مگر کن کے لیئے جواب پھر آپ پر چھوڑتا ہوں؟ ورنہ یہ کچھ کے لئیے ہلاکت کا مہینہ بھی ہے۔ جس کے لیئے حضرت جبرئیل(ع) والی مشہورحدیث ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے تین مرتبہ آمین فر مایا، جبکہ سامنے کوئی مخاطب نظر نہیں آرہا تھا؟ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ آپ نے کس بات پر تین مرتبہ آمین فرما ئی۔ “فرمایا یہ جبرئیل تھے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی کے سامنے آپ ﷺ کا نام لیا جائے اور اس نے “درود“ نہیں پڑھا وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں اس نے پائے اور (ان کی دعا کے ذریعہ) اپنی بخشش نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جسے رمضان المبارک کا آخری عشرہ ملا اور اس نے جہنم سے نجات نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نےکہا(آمین) اس سے بڑا بد نصیب کون ہوگا۔کہ اپنے لیے رحمت للعالمین کی ناراضگی مول لے اوربجا ئے متقی بننے کہ چور بازاری کرے۔ منافع خوری کرے وغیرہ وغیرہ؟ اللہ ہم سب کو اس مہینہ سے فا ئدہ اٹھانےکی توفیق عطافرما ئے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

عادل حکمراں بروز قیامت عرش کے سائے میں ہوگا۔۔۔شمس جیلانی

بقیہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ بغیر ظلم کئیےحکومت نہیں چلتی؟ جبکہ اسلام کی پوری تعلیمات علیٰحدہ ہیں۔ ہاں! یہ اور بات ہے ہم جہاں کہیں بھی ہیں اس کا الٹ کرتے ہیں؟ جبکہ اسلامی طرز حکمرانی کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے ﷺ فرماد یا کہ حق کے ساتھ حکومت کرو؟ اور جو حکمراں اپنی حکومت مستحکم کرنا چا ہتا ہے وہ عدل کے ساتھ حکومت کرے اور یہ بھی وہ ظل اللہ ( اللہ کا سایہ ) ہوتا یعنی اس کا وجود رعیت کے لئیے با عثِ زحمت نہیں باعث رحمت ہوتا ہے اس کا صلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جب کہ کوئی سایہ نہیں ہوگاعادل حکمراں عرش کے زیر ِ سایہ ہوگا۔ اس دن سات قسم کے لوگ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عرش کے زیر ِ سایہ ہونگے اور ان میں سے سرِ َ فہر ست ِ“ عادل حکمراں“ کو فرمایا ہے۔ اور مومنو! سے یہ بھی فرمایا کہ صرف مظلوم کا ساتھ دو ظالم کا ساتھ مت دو اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا بہت بڑا جہاد ہے؟ لیکن ہم کرتے کیا ہیں؟ وہ سارے کام جو ہمیں کرنا منع ہیں؟ پھر سینہ ٹھونک کہتے ہیں کہ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں؟ اس لیے ہم جہاں بھی ہیں اسلام کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں؟مملکت ِ خداداد پاکستان کی حالت کو ہی دیکھ لیجئے کہ ان کے سامنے جو کہ شیر کی طرح ڈھار تے ہوئے اوردھمکاتے، سینہ تانے ہوئے آتے ہیں ان کے سامنے حکومت بچھ جاتی ہے؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ النحل کی آیت نمبر 22 میں فرمایا ہے کہ “وہ مستکبرین کوپسند نہیں کرتا “اور یہ ہی نہیں اسی سورہ میں حضرت سلیمان ؑ کے طرز حکمرانی کو سراہتے ہوئے سب حکمرانوں کوحق کے ساتھ حکومت کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟یعنی یہ حکم دیا ہے کہ میرے احکامات کے مطابق حکومت کرو اور سب کو یکساں انصاف دو ؟ جبکہ اسلامی ممالک میں دہرا معیار ہے کہ وہ حکومت جمہوری پسند کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی فیصہ کرنے کو تیار نہیں ہں ؟ایسے حکمرانو ں اورمنصفوں کےبارےمیں کیا لکھا وہ قرآن جا کر پڑھ لیجئے؟ نتیجہ یہ ہے کہ جوطا قت ور گروہ ہے وہ سامنے ہو تو پولس جلوس کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے اور کوئی کمزور جتھہ سامنے ہو تو لاٹھی ڈنڈا گولی سب چل جاتی ہے اور اس پارٹی پر بھی پابندی لگ جاتی ہے؟اور کوئی مہنیہ ہوتا اور کوئی اور گروہ ہوتا تو کہدیتے کہ شیطان نے لڑا دیا؟ مگروہ تو آجکل قید ہے پھر یہ کام کس نے کیا یہ مسئلہ غور طلب ہے؟ ۔ اگر وہ مسلمان ہی با عمل ہوتے تو ان کےباعمل ہوتے ہوئے یکم رمضان کو جو واقعہ رونما ہو وہ کبھی نہیں ہوتا؟کیونکہ یہ کسی عادل حکومت کے شایا ن ِشان نہیں تھا نہ ہی مسلمان رعیت کے؟ جبکہ حسب دستور وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وعدہ کیا ہی کیوں تھا۔؟اور اگر کیا تھا اور پورا کرنے کا ارادہ بھی تھاتو وزیر اعظم کی ڈائری میں لکھا ہوا کیوں نہیں تھا؟ یہ عمل کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ اگر لا پرواہی ہے تو اس کا ذمہ دار کون تھا ایک تحقیقا تی کمیشن اور بنا ڈالئے بقول آپ کے اور آپ کے وزرا ء کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجا ئے گا؟ جو کہ عوام نے کبھی ہوتے نہیں دیکھا؟ شاید خواص نے دیکھا ہو اور وہ گواہی دے سکیں کہ عمل چونکہ سلیمانی ٹوپی اوڑھے ہوئے تھا اور انہوں نے دیکھا تھا؟ ہمیں اپنے بھائیوں سے چونکہ ہمیشہ خوش گمانی رکھنےکا حکم ہے لہذا ہم تو ایسا نہیں سوچ سکتے؟ مگر وہاں کے تجربہ کار لوگ کہہ رہے ہیں کہ نہیں ! شروع سے ہی وعدہ پورا کرنے کاارادہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو ڈائری میں لکھا ہوتا یہ بھی ان تمام وعدوں کی طرح کا ایک وعدہ تھا کہ کس کو پورا کرنا ہے؟اور کون پورا کرتاہے؟ اور کس کے وعدے پہلے پورے ہوئے ہیں جو ہم کریں؟ اس وقت اسے ٹالدو اور ان سے جان چھڑا لو بعد میں جو ہوگا وہ دیکھا جا ئے گا۔ جبکہ یہ معلوم تھا کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جاہل سے جاہل مسلمان بھی جذباتی ہوکر اس پر جان دے دیتا ہے جہاں حضور ﷺ کا معاملہ ہو۔؟ پھرنہ ان کےصلاح کاروں نے سوچا کہ اس دن پہلا رمضان ہوگا جس میں ہر قسم کا دنگا فساد کرنا سخت منع ہے اور یہ مہینہ حرام مہینوں میں شامل ہے۔ نہ ہی وعدہ لینے والو ں نے یہ سوچا کہ ہم یہ تاریخ کیوں لے رہے ہیں جبکہ پہلی رمضان کو ہنگامہ آرائی گناہ ِ عظیم ہے جو کہ مسلمان تو کیا مکہّ معظمہ کے کافر تک بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ اگر اتفاق سے کسی کو بھی یاد نہیں رہا تو حالیہ اسلامی کلینڈر کے موجداور وزیر با تدبیرکا کلینڈر دیکھ لیتے؟ تو پاکستان کا امن تباہ ہونے سے سے بچ جاتا جو کہ اس سلسلہ میں پہلے ہی کچھ اچھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو بری نظروں اور برے مشیروں سے بچا ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

(325 – 312) قطعات شمس جیلانی

312
ہر اک کو پتا چلنا ہے؟ شمس جیلانی
 
کیوں بن جا تے ہو بندے سے درندےرمضان میں ۤآکر
کتنی خوشی ہوتی ہے جو دیتا ہےکوئی مال چھپاکر
جو کچھ بھی کیا جس نے ہے وہ فرشتوں نے لکھا ہے
لیکن ہر اک کوپتہ چلنا ہے حشر کے میدان میں جاکر
 
313
وہاں عذرِلنگ نہیں چلے گا۔۔۔ شمس جیلانی
 
دریا ئے علم سے کسی دیں کے خزانے سے پوچھ لو
آتا نہیں ہے دیں اگر تو کسی جاننے والے پوچھ لو
ہم کو پتہ نہیں تھاناقص جواب ہے ،عذرِ لنگ ہے !
گرکوئی نہیں ملے گوگل کےکار خانے سے پوچھ لو
 
314
عمل سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ہر ایک یہ ہی دیکھے ہے کہ کس نے کہا ہے
ہر بات میں ہر ایک کےحقیقت نہیں ہوتی !
ہردین کے مسئلہ میں تحقیق ہے شرط ِ اول
تحقیق جو کرلے تو فضیحت نہیں ہوتی
 
315
کرسی اور الزام۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
کرسی پر جوآئے گا موردِ الزام ہوگا
یہ مانا کہ جہاں میں بڑا اک نام ہوگا
کہاں تک بند رکھو گے مگرتم کان اپنے
مریں گے لوگ بھوکے مچا کہرام ہوگا
 
316
مسلمانوں نے توبہ پر عمل ترک کردیا؟۔۔۔شمس جیلانی
 
توبہ دوا تھی مرض کی وہ مرہم نہیں رہا
سب لوگ دیکھتے تب رب بر ہم نہیں رہا
پہلے شفا ملے تھی اہلِ یقیں کو شمس
اب تو پانی ملاملےہے وہ زم زم نہیں رہا
 
317
رمضان کے تقاضے۔۔۔ شمس جیلانی
 
بس لاالہ کا ذکر کرو اس کی بات کرو
ملے وقت جو تھوڑا ذکر ِاسم ذات کرو
ڈھونڈو تخلیقات رب کوکیا بنا یا ہے
ہےکا م اس کانہ تم فکرِکائینات کرو
 
318
بات رب کی مانو۔۔۔ شمس جیلانی
 
بھلائی کرو تم رب بھلائی کرےگا
ہمیشہ جس نے بھلائی کری ہے
تھی غلطی تمہاری اور بھول تھی
شیطان سے دوستی جو کری ہے
 
319
رکھو ہمیشہ یاد سبق ۤآقا حضور(ص) کا
 
صدقہ ضرور دو چاہے ہو دانہ کھجور کا
راوی ہیں اس کے یار ِغارحضرت ابوبکر
مفہوم ہے یہ ایک حدیثِ مشہور کا
 
320
شیوہ ِ قناعت کی برکت۔۔۔ شمس جیلانی
 
میں اک بندہ ِ ناقص ہو ں پتلا ہوں خطا کا
جھنجھٹ نہیں پالا کبھی مال اور متاع کا
جب بھی ضرورت ہو وہ بن مانگے ہے دیتا
میں بچپن سےہی قائل ہوں رب کی عطا کا
 
321
وجود باری تعالیٰ کا ثبوت بہار۔۔۔ شمس جیلانی
 
دنیا نہ جانے کس مخمسہ کا ابھی تک شکار ہے
جو مانتی نہیں مالکِ کائینات پرور دگا ر ہے
ہر سال ہی دیکھتی ہے وہ جو بدلتے ہوئے سماں
بتلا ئے تو سہی کہ لاتا کون خزاں اور بہار ہے
 
322
تقاضہِ عبدیت؟۔۔۔ شمس جیلانی
 
عبدیت یہ ہےعذابِ آگاہی سہتے رہو
زیر لب ہر گھڑی بس لا الہ کہتے رہو
آئے جو مشکل اس راہ میں سہتے رہو
ہے نہیں زیبا کہ جذبات میں بہتے رہو
 
323
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی
 
صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں
 
324
جہ عزاب بڑھتا ہوا ظلم ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ییشہ رہنماؤں کا زیادہ تر تو مال و زر کمانا تھا
کل جہاں کا بن گیا شیوہ بھوکوں اور ستانا تھا
ہے جہاں کا رب بھی کوئی یہ اللہ کو بتانا تھا
یہ بشکل ِکرونا جو عذاب آگیا آخر عذاب آنا تھا
 
325
 بندہ یوں خاکسار ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب  پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے
 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(251 – 311) قطعات شمس جیلانی

251
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

252
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

253
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

254
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

255
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

256
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

257
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

258
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

259
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

260
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

261
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

262
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

263
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

264
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

265
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

266
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

267
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

268
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

269
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

270
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

271
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

272
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

273
حسین خواب۔۔۔ شمس جیلانی

شمس حسیں خواب ہے ساتھ کنگلوں کے زمانہ ہوگا
پاک بستی پر وہی راج کریگا، شیوا کھانا کھلانا ہوگا
کتنے آئے وہاں خواب لیے وہ تھک کے کہیں بٹیھ گئے !
کہ دن بدلیں گے وقت آئے گا تب وہاں لوٹ کے جانا ہوگا

274
انسانی منڈی اور جگ ہنسائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ ہے پسند کرتا ہراک تحفہ بس گاڑھی کمائی کا
وہاں کھا ؤ کھلاؤ ہے بنا آئین جگ پر بادشاہی کا !
سجاکرمنڈی ِا نساں کوئی دیکھا ہے تم نے شرمندہ
وہ ہیں باعِث بدنامی جو موقع دیں جگ ہنسائی کا

275
موج ومستی کے نتائج۔۔۔۔شمس جیلانی

قوم ہے پھنس گئی یہ موج ومستی میں
کچھ سکون پاتے ہیں شہرت سستی میں
یہ پتہ ہی نہیں انہیں ہے اے شمس !
یہ روش لے جا ئے گی ان کو پستی میں

276
اول الذکر لاالہ اللہ۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے بہتر ذکر بس، ذکر ِ باری
یعنی جاگنا راتوں کو شب بیداری
قیامت میں یہ سب کو مات دیگا
بشرکے واسطے ہوگا دن وہ بھاری

277
ا نتخابی ہیجان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

الیکشن جب بھی آتے ہیں پیدا وہاں ہیجان ہوتا ہے
نہ پہلے سے لوگ رہتے ہیں نہیں پاکستان ہوتا ہے
جو ہیں غیر ملکو ں میں وہ سر کو پیٹ لیتے ہیں
باقی ہے حیا ہوتی نہیں باقی وہاں ایمان ہوتا ہے

278
رب کی نرالی شان۔۔۔ شمس جیلانی

بن مانگے جو ہے دیتا یہ رب کی شان ہے
قدر وہی ہے جانے جو کہ رکھتا ایمان ہے
شمس اتنا نوازا اس نے دل کے غنی ہوئے
نہ ہی زائد کی آرزو ہے نہ باقی ارمان ہے

278
بلندی اور پستی۔۔۔ شمس جیلانی

پڑا ٹھوکروں میں دیکھا اسی کے تاج شاہی!
تھا دیں پرجان دیتا جو کوئی اللہ کا سپاہی
بارعب تھے مسلماں اخوت کے رہ کر خوگر
لیکر کے سب کو ڈوبی خصلت ِ کم نگاہی

280
ہر دم ذکر ِپروردگار ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہر وقت زباں پر میری اللہ کا ذکر ہے
جینے کی آرزو ہے مجھے نہ مرنے کی فکر ہے
آتی جب ہےموت کی کسی دوست کی خبر
لگے کہ آواز دے رہی مجھے یہ میری قبر ہے

281
آئین ِ خداوندی۔۔۔ شمس جیلانی

پون صدی ہےگزری بن سکا نہ پاکستان ، پاکستان ہے
نہ وہاں قائم امن نہ ہے نہ دکھتا اس کا وہاں امکان ہے
ہے لکھا قرآن میں ہےگناہوں سے آنا قوموں پر عذاب !
اس کو بھگتے ہیں وہی جن کا نا پختہ رہے ایمان ہے

282
تہذیب ِ اسلامی۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمانوں میں تمیزِ میں اور تو باقی نہیں ہے
کہاں وہ تہزیب اسلامی وہ خو باقی نہیں ہے
جہاں پر شیوہ بن گیا ہر ایک کا ہے گالی بکنا
نہ آداب پہلے سے وہ طرز ِ گفتگو باقی نہیں ہے

283
ہ بندہ نواز ہے۔۔۔ شمس جیلانی
بندہ اگر ہے تو شمس، تو وہ بندہ نواز ہے
یہ دل سے کہہ رہا ہوں میں دل کی آواز ہے
اسوہ رسول(ص) پر بس تو چلتا رہ بے کھٹک
اس کو بھلاخوف کیا راضی جو کارساز ہے

284
نہ پہلی سی وفا باقی۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ہی علم باقی ہے نہ ہی عرفان باقی ہے
نہ جیبنے کی لگن باقی نہیں ارمان باقی ہے
نہ پہلی سی وفا باقی نہ اب انسان باقی ہے
نہ پاس ِ عہد باقی ہے نہ ہی ایمان باقی ہے

285
آج کا ذریعہ عزت؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےدوہی باعثِ ننگ تھے لکھے ہیں علامہ ؒ نے جن کے نام
اب اپنے پاس تو ننگے ہی ہر طرف ہیں جو کررہے ہیں کام
وہاں جا کرکے جو سزا ملے گی وہ ان کا مقدر اور ہے نصیب
جو ان میں جاملے ہےاسی کے واسطے ہے بس، اچھا یہاں مقام

286
جراءت تو دیکھئے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس جراءت کو دیکھ کرکے رہ جاتاہوں میں د نگ
چوری چکوری پیشہ، دعویٰ ہےاللہ ہمارے سنگ
قرآن کہہ رہا ہے کہ انہیں یہ ڈھیل دی ہوئی ہے
ہے اس واسطے ہوتی نہیں ہےابھی ان پر زمین تنگ

287
منبع فیض بنو بخیل نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

لگاؤباغ کچھ ایسا امیر و فقیر پھل کھائیں
نہ لگا ؤ باڑھ فقیر دیکھیں اور وہ للچا ئیں
دو تربیت ایسی ہمیشہ اپنے تمام بچو ں کو
سخی کہیں لوگ نہ ہر گز بخیل کہلا ئیں

288
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

289
تابع فرمان بن جاؤ۔۔۔ شمس جیلانی
تقبل اس کے وہاں جا کر تم سزابھگتو اور پجھتا ؤ

بس قدر اللہ کی جانوں خدارا تابع فرمان بن جاؤ
نہ دھوکا دو کسی کو بھی نہیں باتو ں میں ٹہلاؤ
اپنی زیست وقف کردو دین پھیلانے میں لگ جاؤ

290

دین کے لیے سعیِ پیہم ۔۔۔ شمس جیلانی
مشکل کوئی اس راہ میں آ ئے تو سہے جاؤ
سنے نہ سنے کوئی تم توحق بات کہے جا ؤ
جو قدم بڑھا ؤ تم سدا آگے کی طرف رکھنا
ہرگز نہ ٹھہرنا تم کہیں سوتے نہیں رہ جاؤ

291
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

292
معنی بنا قرآن۔۔۔شمس جیلانی

معنی بنا قرآن پڑھا بچہ سمجھے گا کیا
تعلیم ِ قرآں کے لیئے جوجیسا ملا،ملا
تعلیم ِ دین تو اس طرح رسم رہ گئی
انگلش پر خرچ ہوتا ہے ما ل و متا ع

293
پیام ِ الہٰی بشکل ِ کارونا۔۔۔ شمس جیلانی

شکل ِ کارونا میں بھیجا انسان کواللہ نے یہ پیغام ہے
مجھکو پہچانوں کہ اللہ اور رب میرا ہی تو نام ہے
راستہ سیدھا نبی(ص) کا ہے نہ اس میں ٹیڑھ نہ ابہام ہے
مالک الملک ہوں حکم پر میرے بنتا بگڑتا کام ہے

294
عامل قرآن۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک مسلمان عامل قرآن ہوکے رہے
جہاں رہے وہ وہیں آسمان ہوکے رہے
جسے بھی دیکھا وہی نبی(ص) کا پرتو تھا
چلن ایسا ہرجگہ میرِ کاروان ہوکے رہے

295
ب نے نوازا اپنی عطا سے ہے۔۔۔ شمس جیلانی
رب نے نوازا مجھکو اتنا اپنی عطاسے ہے
باقی رہا شغف نہیں مال و متاع سے ہے
منہ کو کلیجہ آتا ہے اس دن کو سوچ کر
دل ہے میرا دہلتا ہر چھوٹی خطا سے ہے

296
انسانیت سے شیطانیت تک۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کی لگا تاک میں رہتا ہے شیطان کمینہ
لالچ اسے پھسلاتا ہے آتا نہیں جینے کا قرینہ!
جب پہلی دفعہ جاتا ہے چرانےہے آجائے پسینہ
عادت جب ہو جائے تو کھل جا ئے ہے سینہ

297
اللہ مسلمان کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ شمس

نہ خود جھوٹا نہ جھوٹوں کا کہیں سردار ہو
وہ جہاں بھی رہتا ہو بس صاحب ِ کردار ہو
ہوپابند ِآئین ِ قرآں مانتا مردارکو مردار ہو
اخلاق ہو سرکار (ص) جیسا اس کا شمس
منہ سے جھڑتے پھول ہوں سبک گفتار ہو

298
وہ بندہ کوئی بندہ ہے؟ شمس جیلانی

وہ بندہ کوئی بندہ ہے جو اللہ کی رضا کا طلب گار نہیں ہے
وہ قوم کوئی قوم ہے جو کہ جذبہِ ملـی سے سرشار نہیں ہے
جس کی کھلتی ہے نہیں آنکھ تم جتنا اسے چلا ؤ اور پکارو !
بچوں کی ماؤں کی چیخوں سے ہوتی کبھی بیدار نہیں ہے

299
رائی کے بدلے میں بھلائی کرو۔۔۔ شمس جیلانی

بس زندہ تم رہو جہاں میں آب کی طرح
محرک رہو جہاں میں سیماب کی طرح
روندیں ہیں پیر سے سب دیتا ہے فائدہ
لیکن مٹتا نہیں بے فائدہ حباب کی طرح

300
ارونا کی تیسری آمد کاراز ناشکری۔۔۔۔شمس جیلانی

یہ کارونا کی تیسری لہر آئی کیوں تم نے اسے جانا نہیں
سب کا ہے وہی رب یہ راز تم نےا ب تلک پہچانا نہیں
ہے ہدایت اس میں یہ جو بچ گئے پہلے تھا وہ مہرباں
اب جو پوچھے راز دنیا اس کو بتلا تے ہو ئے شرمانا نہیں

301
دواشعار اوردو تضاد۔۔ شمس جیلانی

وہاں چلتا ہے خلوص کا سکہ
ہم ہیں کرتے فلوس کی باتیں
وہاں پرایک ہے وحدتِ ملی
یہاں فرقہ بندی اور ہیں ذاتیں

302
کارونا اعمال کی سزا۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا قرآن میں ان کو کرنا بتا ؤ تم ہی لکھا گناہ نہیں ہے
وہ کونساکام ہے باقی جو تم نے چھوڑا ابھی کرا نہیں ہے
یہ ہی وجہ ہے کہ قبول ہوتی تمہاری کوئی دعا نہیں ہے
ذرا سوچ کر بتا ؤ “یہ مستقل وبا کرونا “ سزا نہیں ہے

303
اللہ سے دعا۔۔۔ شمس جیلانی

کرتار ہوں میں دیں کا کام جب تک کہ مری زندگی رہے
پیاروں سے تیرے عشق اور دشمنوں سے سدا دشمنی رہے
میں تیرا ہی ہو رہوں جہا ں جا کے بسو ں میں شمس
ایسا نہ ہو اے رب کہ روح کہیں اور میرا دل کہیں رہے

304
عظمت انکسا ر میں ہے۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے پیار کر رہ کر اس کے گردحدوحصار میں
پائے گا تو کمی نہیں کبھی اس رب کے پیار میں
اترا کے چل کبھی نہیں اس کی زمین پر شمس
عظمت اسے سدا ملی جو کہ جھکا انکسار میں

305
رمضان کی آمد مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

مبارک انہیں ہوں روزے جو کہ تقویٰ شعارہیں
زیادہ نہ سہی کرو گنتی تو بھی بے شمار ہیں
یہ اور بات چاروں طرف نفسا نفسی مچی ہوئی
یہ ہی وجہ ہے آج ہم سب جگ میں جو خوار ہیں

306
پہچان تقویٰ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پہچانتا وہی ہے جس کو تھوڑا شعور ہوتا ہے
تقویٰ ہے گر کسی دل میں تو چہرے پر نور ہوتا ہے
ضد جب ہےخدا سےٹکراتی بات حد سے ہے گزرجاتی
طور جلکرکرضد موسیٰ پر جگ میں مشہور ہو تا ہے

307
غصہ پینا مومن کی پہچان ہے۔۔۔ شمس جیلانی

میں نے جب کچھ کہا سرکار میری بات کب مانی گئی
بس تیوری پر بل پڑ ے اور سا ری خندہ پیشانی گئی
بات کرتا ہو ں ہمیشہ جو ثابت ہو سیرت ِ سرکار (ص) سے
آپ اتنے برہم کیوں ہوئے ،کہ آپ کی ذات پہچانی گئی

308
ک چودھری نے کردیا رمضان سے پہلےہی اعلان ِ عید
پاکستان کو ہے مل گیا پنجاب سے پھر اک مردِ سعید
عربی ہے آتی نہیں نہ جانتا ہے وہ سنت و سیرت رسول(ص)
بھول بیٹھا زعم میں اپنے ہے جو روز ِ سزا اور یومِ وعید

309
عہدوں کا پاس کرو سوال کیا جا ئے گا“ شمس جیلانی

جو رکھتے نہیں یقین ہیں اللہ کی دید کا
رکھتے نہیں ہیں پاس وہی وعدہ وعید کا
لقمہ بنیں گے اس دن جہنم کی آگ کا
مطالبہ کریگی جب وہ “ ھل من مزید“

310
ہ اکڑ فوں کس بناپر؟۔۔۔ شمش جیلانی
جینے مرنے میں نہیں شامل مرضی ِ انسان ہے
نہ جانے کس زعم میں کہلاتا تو مرد ِمیدان ہے
جس زاویہ سےڈالو نگاہ لگتا ہے تو نا دان ہے
نہ فکر تجھکودیں کی ہےنہ اللہ کی پہچان ہے

311
مضان مبارک۔۔۔ شمس جیلانی
جس کی آمد کی خبر تھی وہ آگیا مہمان ہے
جس میں پنہاں رحمتیں نام بھی رمضان ہے
یہ رکھتا شب ِ توبہ بھی ہے اک رات میں
اب مانگ لو جو مانگنا ہے اللہ کا فرمان ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں