روشنی حرا سے سیرت پاک حضور ﷺ (4) از۔۔۔ شمس جیلانی ”جو انتہائی رحیم اورقیامت کے دن کا مالک ہے“ ہم نے گزشتہ مضمون میں سو رہ فاتحہ پر بات کر تے ہو ئے رب العالمین پر بات ختم کی تھی۔اب دو سری آیت میں الر حمٰن الرحیم کو سمجھنے کو شش کر تے ہیں۔یہ مفر د لفظ الرحمٰن عربی لغت کے عالموں کے نزدیک صیغہ مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ اس جیسا کو ئی رحم کر نے والا نہیں ہے۔ لیکن ہم اس کے ماننے والے، ذرا سی ذراسی با ت پر مشتعل اورنا راض ہو جا تے ہیں۔تعلقات منقطع کر لیتے ہیں جبکہ وہ فرما رہا ہے کہ ً رحم کرو تا کہ رحم کیئے جاؤ ًاور طیش میں آکر یہ فعل عام آدمی سے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں سے ہو تا آیا ہے۔ حضو رﷺ کا دور ہے اور حضورﷺ کے بعد سب کی نگاہوں میں حضرت ابو بکر ؓ انتہا ئی متحمل مزاج اورضبط کر نے والوں میں شا مل ہیں۔ ان کے وصف میں متعدد حدیثیں بھی موجودہیں۔ مگر وہ ؓاس با ت پر اپنے ایک بھا نجے سے نارا ض ہو جاتے ہیں جوکہ تقاضہِ بشریت تھاکہ اس ؓنے،اس پرو پیگنڈے میں حصہ لیاجو منا فقوں اور یہودی نے ان کی لخت ِجگر اُم المو نین حضرت عا ئشہ ؓ صدیقہ کے با رے میں واقعہ افک کی شکل میں گھڑا تھا۔ وہ ؓ عہد فر ما لیتے ہیں کہ میں ؓاس ؓکی جو نادار ہو نے کی وجہ سے مدد ہمیشہ سے کرتا آیا تھا آئندہ نہیں کرونگا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فورا ً ایک آیت نا زل کر کے ان کو ایسا کر نے سے روک دیا اور انہوں ؓ نے فوراًرجو ع کر لیا اور یہ ہی نہیں بلکہ اسؓ کا وظیفہ دگنا فر مادیا۔یہ تو ایک چھو ٹا سا واقعہ ہے۔جس پر اس قدر عظیم الشان اور عظیم القدر انسا ن نا راض ہو گئے۔ تو عام مسلمانوں کی گنتی کیا ہے۔ مگراس مالک کی رحمت دیکھئے کہ وہ ان سب کو دیتا ہے جو اسے نہیں مانتے اور ان سے زیا دہ دیتا ہے جو مانتے ہیں؟ کیو ں محض اس لیئے کہ وہ منصف ہے۔ چو نکہ انکا وہاں کو ئی حصہ نہیں ہے۔لہذا ان کو یہیں دے کر حساب بیباق کر دیتا ہے۔ وہ جو کہ اسی کونہیں بلکہ ہر نافرمان کو فنا کر دینے پر قادر ہے۔مگر نمعلوم مدت سے دنیا چلی آرہی ہے۔آج تک مکمل طو ر پر تبا ہ نہیں ہو ئی۔کیو نکہ سزا دینے پر قادر ہو نے کے با وجود اس نے رحم کواپنے اوپر واجب فر ما لیا ہے۔ مگر صرف چا ہنے والوں سے ایک شر ط رکھی کہ ً تم بس میرا کہامان لیا کرو ًہے کو ئی ایسا مہر بان یہ وہی ہو سکتا ہے جو ماں سے بھی ستر گنا ہ زیا دہ چاہے۔اور ساتھ میں یہ خو شخبری بھی دے رہا ہوکہ تم ہزار بار گنا ہ کرو اور پہا ڑ جیسا انبار لے کر آؤ تو بھی میں معا ف کر دو نگا۔ مگر یہاں اس کا یہ مقصد نہ سمجھ لیا جا ئے کہ ہم جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کہ توبہ کر کے روز تو ڑتے ہیں۔ یہ مشق بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں۔ در اصل یہ ان کے لیئے ہے۔ جو تو بہ کر نے یا اسلام لا نے کے بعد اپنی سی پو ری کو شش کریں۔ لیکن پھر کہیں مجبور ہو جا ئیں، یا پھنس کر گناہ دو بارہ کر بیٹھیں تو قابل ِ معافی ہیں۔ اس لیئے کہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ً میں کسی کو اس کی وسعت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا ً۔ یہ ان ہی کے لیئے ہے۔ان کے لیئے نہیں کہ صبح کو ًمَے پی شام کو کر لی تو بہ، رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ً رحم کے بارے میں فر مان یہ ہے کہ میں رحیم ہو ں اور رحم کو پسند کر تا ہوں۔اسی لیئے میں نے رحم کو اپنے نام سے بنایا ہے۔ لہذا جو اس کا لحاظ کر ے گا اس کا لحاظ میں بھی کرونگا ً اسمیں سب سے خو بصورت سبق صلہ رحمی کے لیئے ہے۔ یعنی تم اپنے جو قریبی عزیز ہیں یعنی جن کے ساتھ رحم کا رشتہ ہے بہتر سلوک کرو۔ میں تمہا رے ساتھ بہتر سلوک کرونگا۔ ہم کیا کر تے ہیں؟ وہ کر تے ہو ئے سوچنا چا ہیئے۔ بیوی سے غلطی ہو گئی طلا ق۔ بچو ں سے غلطی ہو گئی عاق، بھا ئیوں سے تعلقات منقطع، سسرال سے تعلقات منقطع۔ اور یہ گمرا ہی عام آدمی ہی نہیں۔ بلکہ بڑے بڑے جائز سمجھتے ہیں۔میں افسوس کے ساتھ عرض کرو نگا کہ اس میں ہما رے علما ء تک بیخبرہیں۔ میں ٹی وی کی ایک مذہبی چینل پر پروگرام دیکھ رہا تھا۔ ایک مفتی صاحب سے سوال کیا گیا کہ داماد اپنی ساس کا احترام نہیں کرتا!۔ جو اب تھا کہ سسرالی رشتہ داروں کے لیئے کو ئی ہدایت نہیں ہے۔ غالبا ً یہ سب کچھ ان کی نظر سے نہیں گزرا ہو گا۔ یا ان کے مسئلک کے علماء نے اس کی تفسیر اور یہ حدیث نہیں لکھی ہو گی۔ نہ ہی نکاح کے خطبہ مسنو نہ میں پڑھی جانے والی آیت کا وہ حصہ کہ ً تسآء لون بہ والارحام ً کہ تم سے قیامت کے دن رحم سے متعلقہ عزیزوں کے بارے میں سوال کیاجائے گا؟جوکہ اس موقعہ پر یہ یاد دلانے کے لیئے عزیزداری بیوی اوراس کے رحمی رشتہ داری کی وجہ سے قائم ہو رہی ہے انکا اور جو پہلے سے تمہا رے تھے، ان کااب دونوں احترام کر یں۔ اور یہ اگر مقصد نہیں ہے۔ تو ساس اور دا ماد، سسر اور بہو کا محرم ہو نے کا حکم کیا کہتا ہے؟ میرے خیال میں جواب یہ تھا کہ ساس کو چاہیئے کہ داماد اب قیامت تک کے لیئے اس کا بیٹا بن چکا ہے۔وہ اس کو ماں کا پیار اور عزت دے۔ اور داماد کو چاہیئے کہ وہ ساس کا احترام ماں کی طرح کرے۔ کیونکہ اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ چھو ٹے بڑوں کا احترام کریں اور بڑے چھو ٹو ں کا۔اس لیئے کہ تالی ہمیشہ دو نوں ہا تھوں سے بجتی ہے۔ اس سلسلہ میں سو رہ العمران کی یہ آیات مزید مشعل راہ ہیں۔جن میں اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے ایک مسلمان کی تعریف کی ہے۔ کہ اس میں کیا کیا خو بیاں ہو نا چاہیئے۔الذ ین ینفقون فی السراء والضرآء والکا ظمین الغیظ والعافین عن الناس ط واللہ یحبب المحسنین ہ والذین اذافعلوا فا حشۃ او ظلمو انفسھم ذکرواللہ فاستغفروالذنوبہم ص ومن یغفرو الذنوب الا اللہ س ولم یصر و علٰے ما فعلو او ہم یعلمون ہ اولٓیٰک جزآ ؤھم مغفرۃ من ربھم و جنٰت تجری من تحتھا الا نھار خالدین فھیاط ونعم اجر العالمین ہ (آل عمران ۶۳۱۔۴۳۱) بہ محاورہ اردوترجمہ۔(وہ مومن) جو تنگدستی اور فا رغ البالی میں خفیہ اوراعلانیہ خرچ (راہِ خدا میں) کر تے ہیں۔(اوراپنے) غصے کو پی جاتے ہیں، لوگو ں سے عفو اور در گذر کا بر تاؤ کر تے ہیں۔ اللہ سبحا نہ تعالیٰ انہیں عزیز رکھتا ہے۔اور اگر کو ئی گناہ کر بیٹھیں اور اس پر جاننے کے بعد بضد نہ ہوں اور فورا ًاللہ تعالیٰ کا ذکر اور توبہ کرلیں (تو)چونکہ خدا کے سوا کو ئی معاف کر نے والا نہیں ہے (وہ معاف فر مادیتا ہے) اس کا بدلہ رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں، جہا ں زیرزمین نہریں بہہ رہی ہیں۔ان نیک کام کر نے والوں کو دونوں عالم میں بہت بڑا ثوب ہے اب ہم مالک یو م الدین پر بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی قراۃ ملک ِ یوم الدین بھی کر تے ہیں مگر معنی میں کو ئی فرق واقع نہیں ہو تا ہے۔ یہ ہی در اصل اسلام کی اساس ہے۔ یعنی اللہ تعا لیٰ کو مالک ِ یوم الدین ما ننا۔ اور اس پر اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے با ر بار قر آن میں زور دیا ہے کہ اس دن سب کو خدا کے سامنے لا زمی طور پر پیش ہو نا ہے۔ جسے ہم یوم ِ قیا مت کہتے ہیں۔اور جوکچھ ہم نے اچھا یابرا کیا ہے وہ اللہ تعا لیٰ کے ذاتی علم میں تو رہتا ہی ہے اور وہ اس پر قادر بھی لیکن اس کے لیئے گواہ وغیرہ رکھے ہوں۔کیونکہ یہ انصاف نہیں ہے کہ وہ اپنی معلومات کی بنا پر فیصلہ سنادے۔ اورخو د ہی منصف اور شاہد بن جا ئے۔ لہذااس دن وہ ریکا رڈ پیش ہو گا جو پیدائش سے لیکر موت تک کرا ما ً کا تبین لکھتے رہے ہیں۔ جو کہ دو فرشتے ہیں اور داہنے،با ئیں ہاتھ پرمبعوث ہیں۔داہنے ہاتھ والا نیکی لکھنے کے لیئے اور با ئیں ہاتھ والا بدی لکھنے کے لیئے۔ پھراس پر گواہ پیش ہو نگے جو کہ حضور انبیا ء کرامؑ اور خو د اسکے اعضا ء، ہاتھ پا ؤں اورزبان وغیرہ۔ ہر ایک کے خلاف گواہی دینگے۔اگر بر ے کام کم کیئے ہیں اور اچھے کام زیادہ ہیں۔ تو سب اچھے اعمال خود گواہی دیں گے۔جیسے کہ نماز روزہ حج وغیرہ۔ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جن کے گناہ کم ہونگے انکو ان کے اعمالنامے اللہ تعالیٰ ان کا ندھے پر ہا تھ رکھ کر چپ چا پ عطا فر ما دے گا۔دنیا میں در اصل بھیجنے کا مقصد یہ ہی تھا کہ سب پا ک اور صاف ہو کر واپس جنت آئیں،کیو نکہ را زق ہو نے کی بنا پر یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنت اور دو زخ دو نوں کو غذا عطا فر ما ئے۔ اور قرآن کی آیتیں بتا رہی ہیں جنت نیک لو گوں کے لیئے ہے اور جہنم کا ایندھن انسان، جن اور پتھر ہیں۔ توجنہو ں نے یہاں اسے یاد رکھا وہ تو وہا ں آرام میں رہیں گے اور جنہوں نے بھلا دیا وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اور قر آن کہہ رہا ہے کہ ان کا عذاب کبھی ہلکا نہ نہیں کیا جا ئے گا۔ خدا ہم سب کو اس عذاب سے بچا ئے(آمین) جب حساب ہو چکے گا تو ایک دور شفاعت کا بھی آئے گا۔ جس میں بہت سے لو گ اپنے عزیزوں کو اپنے در جے میں لے جا سکیں جو کم در جہ ہو نگے۔ سب سے پہلے حضورﷺ شفا عت فرمائیں گے۔ مگر کس کی امتیوں کی! اور امتی کو ن ہیں۔؟جو حضورﷺکی راہ پریا ان صحا بہ ؓ کی راہ پر جو حضورﷺ کی راہ پر چلیں، پیر وی کریں۔ سب کی نہیں کیو نکہ اس میں تو منا فق بھی تھے۔ اور حضورﷺ کی امت میں نہ ماننے والے بھی شا مل ہیں۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو جس سے محبت کر ے گا وہ جنت میں اسی کے ساتھ ہو گا۔اس میں اضا فہ یہ بھی ہے کہ جو مجھﷺ سے محبت کر تے ہیں وہ جنت میں میرے ساتھ ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو سر کارﷺ کے اتبا ع اور سر کار سے سچی محبت کر نیکی توفیق عطا فر ما ئے۔ تا کہ ہم اس دن سر خرو ہو سکیں۔البتہ جو سادہ پر چہ امتحان میں لے کر جائیں گے۔ان کے پا س کچھ نہیں ہو گا بلکہ وہ ان دوسرے کے گنا ہوں کے بو جھ تلے دبے ہو ئے ہو نگے۔جن کے ساتھ وہ زیادتی دنیا میں کر کے گئے ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو اس گروہ سے بچا ئے۔ کیو نکہ اس دن کا سکہ رو پیہ پیسہ نہیں بلکہ نیک اعمال ہو نگے۔ جو ان دعوؤ ں کے بد لے میں وضع کیئے جا ئیں گے جن کے ساتھ کسی نے زیاد تی کی۔ جب اس کے پاس لے دے کر کچھ نہیں بچے گا تو مدعی کے گنا ہ اس کے کھا تے میں لکھ دیئے جا ئنگے۔اور حضورﷺ کے ارشاد ِ کے مطابق وہ اس دن سب سے بڑا مفلس ہوگا۔

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (3)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ آپ کوئی کام ایسا نہ کریں جو مالک ِ حقیقی کے ماتھے پرشکن آئے اور یہ ہی تقویٰ ہے۔ اب آگے بڑھتے ہیں اب آپ بسم اللہ کو ورد زباں بنا لیجئے۔ جب آپ بسم اللہ۔۔۔ الخ تک ہر کام سے پہلے پڑھیں گے تو فورا ً یہ یا د آجا ئے گا کہ ہم کسی بھی چیزکے مالک نہیں ہیں اور کو ئی بھی مالک نہیں ہے، سوائے اللہ کے، لہذا آپ اس کی نا راضگی سے ڈریں گے اور بچیں گے۔ پھر ہر کا م فر مانبر داری کے تقا ضے پو رے کر تے ہو ئے کر ینگے۔اس دوران یا کسی وقت غلطی ہو بھی گئی تو آپ کے سامنے اس آیت کا وہ حصہ آجا ئے گاکہ وہ انتہا ئی ً رحیم ًہے۔ لہذا جس طر ح دنیاوی مالک کی خطا کرکے،سب مالک کی طر ف ہی رجوع کر تے ہیں،بشرط ِ کہ یقین ہو کہ مالک رحمدل ہے معاف کر دے گا۔ اور اگر سخت گیر ی اور سزا کا خوف ہو تو اس سے بچنے کے لیئے بھاگ جاتے ہیں۔ مگر خالق سے آپ بھاگ نہیں سکتے؟کیو نکہ وہ فر ماتا ہے کہ ً مجھ سے بندہ بھاگ نہیں سکتا ً ً اس لیے بہتر ی اسی میں ہے کہ اس رحیم کی ً رحمت ًسے فا ئدہ اٹھا ئیں۔اس لیئے کہ اس انتہا ئی رحیم کی طر ف جو ع کر نے کے سو ااور کوئی چا رہ جو نہیں ہے۔پھراس سلسلہ میں حضورﷺ کا یہ ار شاد ِ گرامی بڑا امید افزا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ً جب کو ئی بندہ توبہ کر تا ہے تو میں اتنا خو ش ہو تا ہوں جتنا کہ اس اونٹ کا مالک جو ریگستان میں سفرکر رہا ہو اور اس پر بو جھ(دانا پانی سب کچھ) لدا ہواور وہ گم ہو جا ئے اور پھر اچا نک مل جا ئے ًپھر اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ِ گرامی یہ بھی ہے کہ ً میری رحمت سے تو صرف کا فر نا امید ہو تے ہیں یعنی با الفاظ دیگر نا امیدی کفر ہے۔ لہذا اس کے ساتھ اچھا گمان رکھیئے کیونکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں بندے ساتھ وہی کرتاہوں جیسا کہ وہ گمان رکھتا ہے۔ ً آئیے اب دو سری آیت کی طرف بڑھتے ہیں۔ تمام تعریفیں (صرف) اللہ کے لیئے ہیں جو کہ عالمین کا رب ہے۔اس میں سبق ہے کہ صرف اسی کی تعریف کی جا ئے جو تمام تعریفوں کا اکیلا ہی مستحق ہے۔اورجملہ صفات کا حامل بھی۔جس میں جو بھی صفت حسنہ ہے وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے اور اس نے ہی اپنی مخلوق کو ودیعت فر ما رکھی ہے۔ مثلا ً سورج کوروشنی، آگ کو حرارت اور کسی عالم کو علم وغیرہ۔یعنی کسی کااپنا کچھ بھی نہیں ہے سب چیز یں عا ریتا ً ہر ایک کو وقت ِمعینہ تک کے لیئے عطا ہو ئی ہیں۔ تو کیا آپ مانگی تا نگی چیز کو اپنا کہہ سکتے ہیں؟ نہیں ہر گزنہیں۔کیا اس پر اترانا جا ئز ہے! اس پرصرف عطا کر نے والے کی تعریف اور شکر ہی عقل کا تقاضہ ہے۔سورج کی روشنی کی واپسی کے لیئے تو قیامت کا وقت مقرر ہے وہ اس وقت دیکھ لیجئے گا۔مگر ہم حرار ت یعنی آگ کا ٹھنڈا پڑنا قرآن میں پڑھ چکے ہیں۔ جس کی مثال مو جو د ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابرا ہیم ؑ کو آگ میں ڈالا تو اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ً ٹھنڈی ہو جا ابرا ہیم ؑ پر ًاور وہ بہ خیرت باہر تشریف لے آئے۔اسی طر ح عالم اور علم کو دیکھ لیجئے۔ کو ئی کتنا ہی بڑا عالم کیو ں نہ ہواس کا محتا ج ہے۔وہ اگرچا ہے تو کسی کے بھی اندر علم کا سمندرمو جزن کر دے۔حضورﷺ کی مثال اس سلسلہ میں کا مل ترین ہے جن کے آگے دنیا بھر کی فصاحت اور بلاغت دھری کی دھری رہ گئی جبکہ کفار عرب کو اپنی فصاحت او بلاغت پر ناز تھا۔ وہ نہ چا ہے تو کو ئی سارے علوم کا حافظ کیو ں نہ ہو،اس کے دماغ سے سارے مضا مین غا ئب کر دے۔بارہا کا مشاہدہ ہے کہ کو ئی عالم اپنے علم پر مغرور ہو ا اور اس سے دوران تقر یر کو ئی غلط لفظ کہلوا دیا اورلو گوں نے اسے دھکے دے کر اسٹیج سے نیچے اتار دیا۔ یہ تو آپ پر بھی گزری ہو گی کہ گھر سے بہت کچھ یا د کر کے چلے کہ یہ کہو نگا وہ کہو نگا اور مطلوبہ مقام پر پہنچ کر تمام مضمو ن ہی دما غ سے غا ئب ہو گیا۔ یہ کرنے والا کو ن ہے؟ وہی جس نے علم عا ریتا ً عطا فر ما یا ہواتھا۔ جو رو شنی وہا ں سے آرہی تھی لا ئن کٹ گئی۔ جس طرح بجلی کا تار کٹ جا ئے تو اندھیرا چھا جا تا ہے کیوں کہ وہ غرور کو پسند نہیں فرماتا۔ اسی لیئے دن میں متعدد با ر حضور ﷺ ً رب ِ زدنی علما ًکی تلاوت فرمایا کر تے تھے۔ کہ اے میرے رب میرے علم میں اضا فہ فر ما۔تو جب نبی ِﷺ کر یم جیسی شخصیت، جن ﷺکو سب سے زیا دہ علوم و دیعت ہو ئے تھے دن بھر در خواست فر ما تے رہتے کہ مجھے علم ِ مزید عطا فر ما تو ہم کس گنتی میں ہیں؟اس تمام بحث سے میرا مقصد یہ ثابت کر نا تھا کہ تمام صفات کا مالک و ہی ہے لہذا تمام تعریف کا مستحق بھی۔ اگر کسی اور کی تعریف کربھی رہے ہیں تو یہ سوچتے ہو ئے کریے کہ دیکھئے اللہ نے اسے کتنااچھا دما غ دیااور علم عطا فر ما یا ہے۔ یا خوبصورت ہے توبہترین شکل عطا فر ما ئی۔ یا اس نے بہترین مکان، کا روبا ر اور روزگار و غیرہ عطا فرمایا ہے۔ غر ض کہ ہر چیز کو اسی سے مو سوم کر یں جس کی وہ عطا کر دہ ہے۔ اپنی فرا ست اپنی قابلیت اور کسی کے مدحت کرنے سے پہلے یا کسی انسان کی مدد وغیرہ کاذکر کر تے ہو ئے بھی محتا ط رہیں۔ اگر آپ کی کوئی اور تعریف کر رہا تو اسے فورا ً یا د دلا ئیں،کہ یہ عطاہے اسی پرور دگا ر کی۔ میرا اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔صرف کو شش تھی جس کی تو فیق بھی اسی کی عطا کر دہ ہے۔یہ کہنا بطور مو من ہم سب پر واجب ہے۔ اب ہم انشا اللہ آیت کے اگلے حصہ ً رب العا لمین ًپر با ت کر ینگے۔ عربی میں رب کہتے ہیں پرور ش کر نیوالے کو دائی اور ماں کو بھی رب (ف)کہتے ہیں کیونکہ وہ دودھ پلاتی ہیں مگرجب یہ بطور اسم ِکے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے آتا ہے تو ً الرب ً لکھتے ہیں جو کہ صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (۲)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
جس نے ہمیں دعا مانگنے کاطر یقہ سکھا یا، وہی تعریف کے قابل اوررب العالمین ہے
گزشتہ مضمون میں ہم سورہ فاتحہ کی پہلی آیت پر بات کر رہے تھے اور مفسرین کے پہلے گروہ کی بات ختم کی تھی اب آگے بڑھتے ہیں۔ اگرہم دوسرے گروہ کی با ت مان لیں کہ در اصل سو رہ تو بہ سورت ہی نہیں ہے۔بلکہ پچھلی سو رت کا تتمہ ہے تو پھر یہ ظا ہر ہو تاہے کہ اس نے پو رے قر آن میں اپنے اوپررحم کو حا وی رکھا۔اور چو نکہ اللہ واحد ہے اسی لیئے وہ طا ق نمبر پسند فر ما تا ہے اور اس نے سو رتیں بھی طاق رکھیں یعنی پھر ایک سو تیرہ ہی بنیں گی۔ اور یہ کہ حضو ر ﷺہمیشہ طا ق نمبر پسند فر ما تے تھے۔ مثلا ً نما زوں میں تسبیح تین یا سات مر تبہ بہ اختلاف روا یا ت۔ یا پا نی تین گھونٹ میں پینا، وضو میں ہرعضو کوتین مرتبہ دھونے کا عمل وغیرہ۔واللہ عالم۔ چونکہ یہ علمی بحث ہے اس پر بات کرنا یہیں تک کافی ہے۔ کیونکہ ہمارا مقصدتو اس سورت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ سورت ایک نعمت ہے مسلما نوں کے لیئے کیونکہ اس سے پہلے نبیوں ؑ نے جو دعا ئیں ما نگی تھیں۔وہ اب قرآن کا حصہ ہیں وہ تو ہمارے پاس ہیں ہی۔ جیسا کہ حضرت آدم ؑ کی دعا۔یا حضرت ابرا ہیم ؑ کی کعبہ کی تکمیل پر دعا۔یا پھر حضرت یو نس ؑ کی مچھلی کے پیٹ میں دعا وغیرہ۔ مگر کسی قوم کو خدا نے خود دعا مانگنے کا طریقہ نہیں سکھا یا۔ ہمارے خیال میں ان میں ہمیشہ چونکہ نبی ؑ آتے رہے اور موجود رہے۔ جو کہ اپنے،اپنے دور کے لیئے تھے۔ لہذا جب بھی انہیں دعا کی ضرورت پڑی وہ دعا کے لیئے نبی ؑ کے پاس جا تے رہے۔ جیسے کہ بنی اسرا ئیل حضرت شمعو نؑ کے پاس گئے کہ ہم اب جہا د کر نے کو تیار ہیں۔ جس کو وہ حضرت مو سٰی ؑ سے یہ کہہ کر انکار کر چکے تھے کہ آپؑ اور آپؑ کا خدا لڑنے کے لیئے جا ئیں۔جب ملک فتح ہو جا ئے گا تو ہم وہاں جانے کو تیار ہیں کیونکہ وہاں کے لوگ بڑے طاقتور ہیں۔اس کے نتیجہ میں وہ چالیس سال تک سر گرداں رہے۔لیکن لطف یہ ہے کہ اب اسی کی بنا پر فلسطین کو وہ ا پنی زمین کہتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا نے عطا فر مائی تھی۔
ایک عرصہ بعد جب وہ نادم ہو ئے اور اور حضرت شمعون ؑکے پاس آئے کہ آپ اللہ سے دعا فر ما ئیے کہ وہ ہما رے لیئے کسی کوبا د شاہ منتخب فر ما دے تاکہ ہم اس کی قیادت میں جہاد کریں؟ تو انہوں ؑ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے با د شاہ مقر رفر ما دیا۔ مگر جب جہاد کا وقت آیا تو پہلے تو انہوں نے اس کو ناپسند کیاکہ ایک عام آدمی کو بادشاہ کیوں بنایا۔ کیو نکہ وہ مال اور دولت میں کم تھے دوسرے وہ حضرت بن یامین ؓ کی اولاد میں سے تھے۔ جبکہ اکثر یت میں حضرت یعقوؑب کے بڑے صاحبزادے یہو دا کی اولاد تھی۔جوکہ اپنے دور اقتدار میں با قی قبائل سے لڑ بھڑ کر زیادہ تر کوختم یا فلسطین بدرکرچکے تھے۔ چو نکہ امت ِ محمدیﷺ میں بعد میں کوئی نبی ؑ نہیں آنا تھا۔اس لیئے اللہ تعا لیٰ نے جیسے کہ تبلیغ کے لیئے پوری امت کوذمہ دا ر ٹھہرایا اسی طر ح دعا بھی سکھا ئی اور اس کو پا نچو ں وقت پڑھنے کا حکم بھی لازمی طور پردیا تاکہ کو ئی غلطی ہو جائے تو اس کا سا تھ ہی ساتھ ازالہ بھی ہو تا رہے۔ اور اسی پر بس نہیں اس سے زیادہ مرتبہ جب چا ہیں اور جتنی مرتبہ چاہیں مانگیں۔ اور ہر دعا اور نماز میں سورہ فا تحہ پڑھنا ضروری رکھا گیا۔اس کے با رے میں حضورﷺ کی یہ حدیث مزید روشنی ڈالتی ہے کہ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو اس وقت تک کے گنا ہ بخش دیئے جا تے ہیں اور یہ ہی سلسلہ ا یک نما ز سے دوسری نما ز تک چلتا رہتا ہے۔مزید فر مایا کہ جس کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور اس میں وہ پا نچ وقت نہا ئے تو اس کے جسم پر میل کیسے رہ سکتی ہے۔چو نکہ ہم ملت کے لیئے بھی دعا مانگنے کے لیئے مکلف کیئے گئے ہیں لہذااس کی زبو ں حالی دور کر نے کے لیئے دعا کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔مگر جس طرح نماز پڑھنے کی پہلی شر ط طہارت اور وضو ہے۔ اسی طرح دعا ما نگنے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔اس کے بغیر آپ د عاتو کرسکتے ہیں مگر جس طرح بغیر وضو نما ز نہیں ہو سکتی اسی طر ح بغیر شرا ئط پو ری کیئے دعا بھی قبو ل نہیں ہوسکتی۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم روزدعا مانگتے ہیں،مگر پو ری نہیں ہو تیں۔ جبکہ اللہ تعا لیٰ نے یہ وعدہ فر ما رکھا ہے کہ ًتم مانگو میں سنتا ہوں اور قبو ل کرو نگا ً اس پر حضورﷺ نے مزید روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلہ میں کچھ شرا ئط بیان فر ما ئی ہیں۔ ایک تو مانگنے والا نفس پا ک ہو، دوسرے اس میں کسی کا برا نہ چا ہا گیا ہو اور تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف نہ ہو (مشیت کے خلاف بھی ہو ئی تو بھی بندہ قیامت کے دن ثواب سے نوازا جا ئے گا)۔ اور اللہ تعا لیٰ یہ بھی فر ما تا ہے کہ ً میں اپنے وعدے کے خلاف نہیں کر تا ً تو پھر سوال پیدا ہو تا ہے کہ دعا ئیں قبول کیو ں نہیں ہو تیں؟ پہلے پاکیز گی پر آتے ہیں۔اس سے صرف جسم کی پاکیزگی ہی مراد نہیں ہے، بلکہ روح کی پا کیزگی بھی مراد ہے۔رو ح کی پاکیز گی پیدا ہو تی ہے تین چیزوں سے اللہ کی وحدانیت اور نبیؑ کی رسالت پر یقین، اکل حلال اور صدق ِ مقال۔ یعنی اللہ تعا لیٰ پر ایمان حضو ر ﷺ، قرآن پر ایمان تمام صحیفوں،نبیوں ؑ اور ملا ئکہ پر ایمان وغیرہ۔اس کے بعد پاک کھانا پینا۔ اور سچ بو لنا۔اگر یہ خو بیاں نہیں ہیں۔ تونہ نما ز کو ئی فا ئدہ دے گی اور نہ دعا۔لہذا یہ با ت اب آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ ہما ری دعا ئیں قبول کیو ں نہیں ہو تیں۔ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ان سب باتوں پریقین رکھتے ہیں مگر کیا عمل بھی کر تے ہیں؟بس نکتہ غور طلب یہ ہی ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو اپنا جا ئزہ لیجئے۔کیو نکہ یہ آپ اور صرف اللہ کے در میان راز ہے کو ئی تیسرا وقف نہیں۔اگر صورت ِ حال یہ نہیں ہے جو کہ ان تین شر طوں کا تقاضہ ہے۔ تو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اس لیئے کہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں ہواہے۔لہذا تو بہ کر لیجئے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ بندہ اگر پہاڑ بھر گناہ لیکر آئے تو بھی میں معاف کر دیتا ہوں۔ان شرطوں پر عمل کا اللہ سے بہ شر ط ِ تو فیق وعدہ فر ما ئیے۔اور وہاں تک اس پر قائم رہنے کی کو شش کیجئے جہا ں تک آپ کر سکتے ہیں۔ جہا ں مجبور ہو جا ئیں۔وہاں اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ً میں کسی کو اس کی وسعت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا اور میں دین میں آسا نیا ں پسند کر تا ہو ں مشکلا ت نہیں۔ لیکن یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ آپ نے اس کی راہ میں کتنی کو شش کی وہ آپ خود یا وہ جا نتا ہے۔اگر آپ سچا ئی سے اپنی توبہ پر عمل کر نے کو شش کر رہے ہیں اور کسی وجہ سے کہیں خامی رہ گئی ہے۔ جو دور کرنااس وقت آپ کی وسعت سے باہر ہے۔تو بھی آپ کی پا کیزگی میں انشا اللہ فر ق نہیں آئے گا۔جیسے کہ پا نی نہ ہو یا کوئی طبی وجہ ہو، تو تیمم کر نے سے پاکیزگی میں فرق نہیں پڑتا۔ یا بعض اوقات جان بچا نے کے لیئے حرام کھاناوقتی طو ر پر حلال ہو جا تا ہے۔مگر یا د رکھئیے پہلی شر ط کسی حالت میں قابلِ معافی نہیں ہے۔اور وہ ہے ً فہو ا مو من ً یعنی بندے کا مومن ہو نا۔اب آپ چو نکہ قر آن کی ایک سورت تلا وت کر نے اور سمجھنے جا رہے ہیں اور آپ نے جسما نی طہارت جو اسے چھونے کی شر ط ہے اورقلبی پاکیز گی حاصل کر لی ہے۔توپہلے آعوذ باللہ شروع سے۔۔۔ آخر تک پڑھ لیجئے تاکہ شیطان کے حملو ں کا خطرہ نہ رہے۔کیو نکہ اس کے بعد آپ اللہ کی پنا ہ میں آجا ئیں گے۔پھر شرو ع کیجئے ً اللہ کے(مقدس) نام کے سا تھ جو بڑی رحمتو ں والا ہے ًجس کے لیئے ہمیں حکم ہے کہ ہر کام کے شروع میں پڑھیں۔کیو ں؟اس لیئے کہ جب آپ یہ آیت پڑھیں گے تو سب سے پہلے تو وہ تصور ذہن میں ابھرے گا کہ ہم اب ایک انتہائی رحیم اور کریم آقا کے سامنے ہیں جو ہم سے بے انتہا محبت کر تا ہے۔ ہم کو انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازتا ہے اور فر ماتا ہے کہ اگر تم شکر کروگے تو اور بھی زیادہ عطا کرونگا۔ جبکہ ہم سے بدلے میں سوائے اطاعت کے اورکچھ نہیں مانگتا اس لیئے کہ وہ بے نیاز ہے۔ صرف ایک چیز مانگتا ہے جو اسکا حق بنتا ہے وہ اس سے ایسی محبت کی جائے جس میں کو ئی اس کا شریک نہ ہو۔تقا ضہ یہ ہے کہ ہم سے کو ئی کام ایسا سرزد نہ ہو کہ ہما رے محبوب حقیقی کے ما تھے پہ شکن آ ئے۔ اس کا سب سے زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے۔ بالکل اسی طر ح جس طر ح ہم دنیا میں جو ہمیں محبو ب ہو تے ہیں انکا خیال رکھتے ہیں کہ انکے ماتھے پر شکن نہ آئے، میرے خیال میں یہ ہی تقویٰ ہے جو اسلام کی اساس ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
سیرت سے پہلے دعا کیوں ضروری ہے(۱)
قارئین ِ گرامی۔ اب ہم ان ﷺکی سیرت پڑھنے جا رہے ہیں جو کہ ہما رے لیئے مشعل راہ تھے، ہیں او ررہیں گے۔ اور یہ سیرت لو گوں تک پہنچانے کے لیئے میں نے پانچ سال عرق ریزی اس لیئے کی ہے کہ لوگ اسے صرف پڑھیں یا سنیں ہی نہیں بلکہ عمل بھی کر یں۔اگر عمل کر نے کا ارداہ نہیں ہےتو پھر پڑھنا اورکسی سے سنناسب بے کار ہے۔یہ جبکہ سورہ ان کے لیئے آواز میں بھی سی ڈی کی شکل میں جو اردو پڑھ نہ سکیں۔ اس سے پہلے کہ ہم سیرت کی طرف بڑھیں اللہ جلِ شانہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ان ﷺکے راستے پر چلنے کی تو فیق عطا فر ما ئے جن کے اسوہ حسنہ ﷺ کو ہمارے لیئے کافی فرمایا(آمین)۔ اس کے بعد جوحضو رﷺ ہمیں مانگنے کا طر یقہ بتا گئے ہیں وہی ہم اختیار کرتے ہیں۔ کیو نکہ دعا کر نا اس لیئے بھی اس وقت ضروری ہے کہ پو ری امت مشکلا ت میں گھری ہو ئی ہے اور کو ئی کنا رہ یا ملاح نظر نہیں آرہا ہے۔ بس صراط ِ مستقیم پر واپس آنے کے لیئے ایک ہی طر یقہ بچا ہے کہ اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگی جا ئے کہ وہ ہمیں اپنی کتاب اور اپنے پیا رے نبیﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے اس عذاب سے نجا ت دے جو ہما ری شامت ِ اعمال کی وجہ سے آیا ہوا ہے۔ ممکن ہے بہت سے لوگ یہ کہیں کہ اس کو آپ عذاب کیسے کہہ رہے ہیں، اور شامتِ اعمال کیوں ہے؟ ان کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آیت نمبر ۶۳ سورہ الا نعام کی تفسیر جو کہ ابن ِ کثیر ؒنے کی ہے دیکھ لیں۔ جس میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر ما یا کہ ًمیں تمہا رے اوپر آسمان سے عذاب نا زل کر نے پر قادر ہوں اور زمین کے نیچے سے بھی اور اس پر بھی کہ تمہیں فرقہ ، فرقہ کر کے لڑا دوں ً اس پر حضو رﷺ پریشان ہو گئے اور مسجد نبوی ﷺ سے باہر تشریف لے گئے۔بستی ِ بنو بکر کے قریب ویرانے میں جاکر سر بہ سجدہ ہو گئے۔صحا بہ کرام ؓ بھی پیچھے پیچھے چلے،وہا ں جا کر حضورﷺ نے ایک طویل نماز ادا فر ما ئی صحابہ کرام ؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب سلام پھیرا تو لو گوں نے پو چھا کہ حضو رﷺ پہلے تو کبھی آپ نے (دن کے وقت) اتنی لمبی نماز نہیں ادا فر ما ئی آج کیا با ت ہے؟حضورﷺ نے فر مایا کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو میں ﷺ امت کے لیئے بے چین ہو گیا اور اللہ تعا لیٰ سے درخواست کی کہ میری امت پر یہ عذاب نا زل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری ﷺیہ در خوست تو مان لی کہ حضرت لوط ؑ کی امت کی طرح اوپر سے اور حضرت نوح ؑ کی امت کی طرح نیچے سے عذاب نہیں آئے گا، مگر فر قہ واریت کے با رے میں فر مایا کہ یہ تو اس امت کا مقدر ہو چکی ہے۔ پھرصحابہ کرام ؓ سے فرمایاکہ تمؓ لوگ مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں۔انہوں ؓ نے کہا کہ حضو رﷺ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پا س قرآن ہے اور آپﷺ کی سنت بھی۔ فر مایا مجھے ﷺبتایا گیا ہے کہ تم اسے پس ِ پشت ڈالدوگے۔ اور میں سرداروں سے ڈرتا ہو ں، کہ ایک مر تبہ جو تلواریں میانوں سے نکل آئیں تو پھر قیا مت تک واپس نہیں جا ئیں گی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرقہ پرستی سے اظہار ِ بیزاری فر ماتے ہوئے حضو رﷺ سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ً اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو تمہارا فر قہ پرستوں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے ً اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب ہے۔ اب اس کاجواب کہ یہ شامتِ اعمال کیوں ہے؟ اس کے لیئے پہلے یہ کچھ آیات جس سے یہ معلوم ہو جا ئے گا کہ اسلام اور ایمان وہ نہیں ہے جوہم سمجھتے ہیں۔ال م ہ احسب الناس ان یترکواان یقولوااٰمناوہم لایفتنون ہ۔ کیا لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ ہم صرف ان کے منہ سے بول دینے سے کہ ہم ایمان لا ئے انہیں چھو ڑ دیں گے؟ پھر دوسری آیت میں ملاحظہ فر مائیے۔کیا تم سمجھتے ہو (کہ) جنت میں داخل ہو جا ؤگے اللہ کے یہ معلوم کیئے بغیر کہ (اسکی راہ میں) صبر کرنے والے اور(ہر قسم کا) جہاد کر نے والے کون ہیں؟پھر خو شخبری ہے مگر وہ بھی ایمان سے مشروط ہے۔ ًتم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہوتم غالب رہو گے اگر صاحب ِ ایمان ہو ً(سورہ آل ِ عمران۔۱۴۱اور۸۳۱) اس سے یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں؟ کیونکہ یہاں دوچیزیں ہیں کہ آزمائے جا ؤگے، جو امتحان میں پاس ہو جا ئے وہ کا میاب؟۔ دوسری بات یہ ثابت ہو ئی کہ ہم نے منہ سے کلمہ پڑھ لیا تو یہ کافی نہیں جب تک عمل نہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آگے دیا ہے آیت ۷۴۱ میں۔ ًوہ غلطی کر بیٹھیں تو اپنے رب سے مغفرت طلب کر تے ہیں ًپہلی قوموں پر بھی ایسا وقت آیا ہے۔ مگرانہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے سن لی اور عذاب ٹل گیا۔جیسے کہ حضرت یو نس ؑ کی امت کہ اس نے حضرت یونس ؑ کے چلے جا نے کہ بعد عذاب سامنے دیکھا اور تائب ہو کر دعا کر نے لگی کہ۔یا اللہ عذاب ٹال دے ہم تیرے نبی ؑکا اتبا ع کریں گے۔اور اللہ تعا لیٰ نے عذاب ٹال دیا۔ حضرت یو نس ؑ کی تلاش شروع ہو ئی۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس چھو ٹی سی لغزش کی بناپر کہ وہ صبر نہ فرما سکے اوراللہ کی مشیت کا انتظار نہ فر مایا۔ایک عرصہ تک مچھلی کے پیٹ میں رکھا،پھر اپنی بستی کی طرف واپس تشریف لے جانے کاحکم فر مایا۔ اور انہوں ؑنے امت کی پھر سے رہبری فر مائی۔ لہذا ہمیں بھی وہی طر یقہ استمال کر نا چا ہیئے کہ تو بہ کر یں۔ کیونکہ قبول ِ دعا کے لیئے تو بہ شر ط ہے۔ لہذا پہلے آئیے توبہ کر یں پھر دعا۔ مگر افسو س یہ ہے کہ توبہ توجب کو ئی کر تا ہے کہ اس کو یہ احساس ہو کہ وہ غلطی پر ہے۔ جب کہ ہما ری قوم یہ ما ننے کو ہی تیا ر نہیں ہے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ جب یہ صو رت ِ حال ہوتو پھر یہاں وہی مصرع صادق آتا ہے کہ احساس زیا ں جا تارہا ً لہذا آپ سے در خو است ہے کہ ان میں سے نہ ہو ں۔بلکہ ان میں سے ہوں جو امتیں نجات پاگئیں۔ وہا ں تو یہ ہوا کہ اگر نبیوں ؑسے بھی بھو ل ہو ئی تو وہ کہہ اٹھے ً ظلمت نفسی ًیعنی ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔اور اے اللہ! ہمیں معاف فرمادیجیئے، جیسا کہ حضرت آدم ؑ سے لیکر ہر ایک نے کیا۔اور اسی لیئے اس سے پہلی امتوں کے نبیوں ؑنے ایسے موقعہ پر جو کچھ فر مایا، وہ قرآن نے محفوظ کر دیا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی وا حد امت ہیں کہ جہا ں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جینے کے تمام اصول اور آداب سکھا ئے۔ وہاں دعا مانگے کے لیئے پو ری ایک سورت عطا فر ما دی۔جو ہم پڑھتے تو ہر نما ز میں ہیں۔مگر نہ اس کی عظمت جا نتے ہیں نہ معنی اور نہ ہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہذا فا ئدہ ہو تو کیسے ہو!یہ با لکل اسی طرح ہے کہ آپ ڈا کٹر کے یہا ں گئے۔دوا تجویز کرا لی اور با زار سے خرید بھی لا ئے۔ مگر اس امید پر طا ق میں رکھدی کہ اس سے مر ض دور ہو جا ئے گا؟ہم نے بھی قر آن اور اس کی سورتوں کے ساتھ یہ ہی کیا ہوا کہ یہ بغیر عمل کیئے فا ئدہ دے گا! میں یہ پو چھنا چا ہونگا کہ بغیر دوا پیئے کیا دوا فائدہ دیتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا بغیر عمل کیئے کو ئی مسلما ن، مسلمان کہلانے کا حقدار ہے۔ جو اب آپ پر چھو ڑ تا ہوں۔ بس ایک در خواست کر تا ہوں کہ ایک دفعہ سورہ فا تحہ خلو ص دل سے پڑھ لیں۔ شاید وہ قبو لیت کی گھڑی ہو اور اللہ تعالیٰ کو رحم آجا ئے۔ کیو نکہ وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ اگر تا ئب ہو کر میرے پا س پہاڑ کے برا بر گنا ہ لے کر آئے تو بھی میں معا ف کر دونگا۔یہ وہ سورہ ہے جو اللہ سبحا نہ تعالیٰ کا امت پر انعام ہے۔جو حمد بھی ہے اور عرض ِ مدعا کا طر یقہ بھی ہے۔ آئیے پڑھیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ الحمدللہ ِ رب العا لمین ہ الرحمٰن الرحیم ہ مالک ِ یو م الدین ہ ایا ک نعبد وایاک نستعین ہ اھد نا الصراط المستقیم ہ صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین (آمین) ترجمہ با محاورہ۔ شروع کر تا ہوں اللہ کے نام سے جو انتہا ئی رحیم ہے۔ اور تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیئے ہیں۔جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔اور یوم قیامت کامالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنما ئی فر ما۔ ا ُ س راستہ پر چلاجس پرچل کر کے ان پر تیری رحمت نازل ہوئی، ان کے را ستہ پر نہیں جن پر تیرا غضب نا زل ہوا (آمین)۔ یہ بظاہر سات آیا ت ہیں بہت ہی صاف اور سیدھی ہیں۔مگر ان کو ہی قرآن کا آپ مقدمہ یا خلا صہ کہہ لیجئے۔یا پھراسلام کا پورا منشور۔ حضورﷺ نے اس کو ام القر آن فرمایا ہے۔ عربی میں کسی چیز کی ابتدا یا اساس (بنیاد) کو ام کہتے ہیں جیسے مکہ معظمہ کو ام القریٰ یعنی دنیا کی بستیوں کی ماں۔اور یہ قرآن میں ترتیب کے حساب سے پہلی سورت ہے۔ حضور ؓ نے سوائے سورہ تو بہ کے ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ لکھوا ئی ہے۔ اس کی وجو ہات مفسرین نے مختلف لکھی ہیں۔ کچھ نے تو کہا کہ چو نکہ اس میں کفا ر سے بیزاری فر ما ئی گئی ہے اس لیئے یہ بسم اللہ سے شروع نہیں ہو ئی۔ کچھ نے کہا۔ یہ پچھلی سورت کا تتمہ ہے اوریہ خو د سورت نہیں ہے اس لیئے اس میں بسم اللہ نہیں لکھو ائی گئی۔ دونوں ہی با تیں اپنی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔ اگر اس گروہ کی با ت مان لی جا ئے کہ اس میں کفا ر سے برا ء ت کا اظہا ر ہے۔ تو آپ یہ دیکھئے کہ ایک سوچو دہ سورتوں میں سے ایک سو تیرہ میں اللہ تعالیٰ نے صر ف اور صرف رحم رکھا ہے۔اس ایک میں نہیں ہے جس میں دو صفات قہا ری اور جبا ری کا ا ظہار ہے۔ جبکہ ایک سو تیرہ میں رحمت کی نوید ہے۔ اس سے اسکی وہ بے انتہارحمت ظا ہر ہوتی ہے۔ جس میں اس نے فر ما یا کہ میں نے اپنے اوپر ر حم واجب کرلیا ہے میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں،بس تم میری (بات)مان لیا کرو ً یعنی ایسے کام مت کرو جو میری نا را ضگی کا با عث ہو ں! کتنا پیار ہے اس آیت میں اپنے بندوں کے لیے!

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں

(422 – 367) قطعات شمس جیلانی

367
سچائی دوست۔۔۔ شمس جیلانی

چمکتے نظر آئے ستارے مگر معدوم روشنی
گرصادق کو ئی ملا تو کی ہم نے دوستی
سچ جس کو کہ سمجھا سدا بات وہ کہی
فاسق اور فاجرو ں سےکبھی اپنی نہیں بنی

368
وہﷺ ۤآے بہار آگئی۔۔۔ شمس جیلانی

جن ﷺکےآنے کی خبر تھی وہ آ ئے مہماں ہوئے
کل جہاں والے انہیںﷺ دیکھ کر حیران ہوئے
سو کھے صحرا میں بھی ہوتے پھر بارش دیکھی
ان ﷺ کے کردار کو دیکھا لاکھوں ہی مسلمان ہوئے

369
دور ِ رحمت کی بات کریں کیا۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس دور کی باتیں کیا کہناجب حق تعالیٰ مہر با ن ہوئے
سعادت عطا کی دنیا کو جب پیدا کاملﷺ انسان ہوئے
بو بکر و عمرجس میں پیدا اور حضرت علی عثمان ہوئے
ہر کان میں قرآں گونجے تھاجب پیدا حافظِ قرآن ہوئے

370
دورِ فرمانبرداری میں انعامات۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب ہم صاحبِ فہم ہوئے طابع فرمان ہوئے
جو بھی آئے اس دور میں سارے ذیشان ہوئے
ایک دو ہوں تو میں نام گنا ؤ ں اے شمس
ان کی گنتی ہے نہیں جو صاحبِ عرفان ؒہوئے

371
تقاضہِ غیرت۔۔۔ شمس جیلانی

سارے دینوں میں دیں ہمارا ہے
جان و جی سے وہ ہمیں پیارا ہے
جان جا ئے شمس تو چلی جا ئے
جوآنچ آئے نہیں ہمیں گوارا ہے

372
میرا رازِ مقبولیت۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ مجھ سےمحبت کرتا ہے سرکارﷺ محبت کرتے ہیں
اس واسطے لوگ ہیں جا ں دیتے مجھ پر مرتے ہیں
میرے لب پر برائی آتی نہیں،نہ میں برائی کرتا ہوں
نہ انکی مذمت کرتا ہوں نہ میری مذمت کرتے ہیں

373
ہوس سے دور رہو۔۔۔شمس جیلانی

اگرنہ گالی دو نہ گالی کھا ؤگے تم
پھر امن سے چین سے سو جا ؤگے تم
ہوس پالی کھوپڑی بھرتی نہیں ہے
تو اسی کو بھرتے بھرتے مرجا ؤگے تم

374
انسان اور شیطان میں فرق۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہ قابلِ ستائش ہیں جو انسانوں کے انساں کام آتے ہیں
وہ شیطاں ہیں جو انسانو ں کو آپس میں جا کرلڑاتے ہیں
یہ ناشکرے ہیں نہیں یہ لوگ انسان کہلانے کے قابل ہیں
اسی برتن میں چھید کرتے ہیں جہا ں پر کھانا کھاتے ہیں

375
اعترافِ کم علمی۔۔۔ شمس جیلانی

کیا کیا گناؤں رحمتیں اس اللہ رحیم کی
کیسے ثنا کروں میں اس ربِ کریم کی
جس کی مصلحتیں ہیں ہے جانتا وہی
بشر تفسیر جانتا نہیں محمدﷺ کےمیم کی

376
جب تک جان تب تک اڑان۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب تلک چلتے رہوجب تک جسم میں جان ہے
یہ نہ بھولوتم کبھی بیٹھا تاک میںشیطان ہے
ہے شمس تھک لیٹ جانا مردانگی ہر گز نہیں
یاد رکھو ایک دن تو دیکھنا حشر کا میدان ہے

377
نیرنگی ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی اجداد ان کے اٹھے تھے بننے ملت کے امام
بدعت کے نام پرکر گئے مزارات کا قصہ ہی تمام
شہر اب یہ بسانے جارہے ہیں اک بطورِتفریح گا!
کرکے یہ جا ئیں گے کیا پیدا بزرگوں کا اپنے نام

378
جنت کے حصول کا واحد راستہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہر دروازہ بند کردیا رب نے ہر بحث ِ فضول کا
دیکر کے حکم اتباع میرا اور میرے رسول ﷺکا
اس سے ذرا ہٹے تو بھٹک جا ؤگے تم بھی شمس
ہےاللہ نے راستہ بتایا یہ ہی جنت کے حصول کا

379
سب سے بڑا عیب تکبر۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ میرے نزدیک ہودنیاتیری یہ مٹی کا کھلونا
رب تیری مرضی پہ جیؤں میں ہو مرا اٹھناو سونا
تکبر میرے پاس نہ پھٹکے کہ چادر ہے تیری وہ
سب سے بڑاعیب ہےانسان کا مغروربھی ہونا

380
یاد رکھوکمانا کھلانامرد کے ذمہ ہے۔۔۔ شمس جیلانی

بہو ہو یا کہ بیٹی ہو حقیقت جو بنا تی ہے کوئی سپنا
پھرگھر آکر کے پہلا کام ہو مالک کا اپنے نام بھی جپنا
گھر بھی جو چلاتی ہے جو باہر کام کرکے مال لاتی ہو
اسےمحسنہ اپنی تم جانوجتا تی بھی نہ ہو احسان وہ اپنا

381
اس مسئلہ پر حضور ﷺ کا فیصلہ ۔۔۔۔ شمس جیلانی

کہا سرکار ﷺنے جو مومنہ گھر پر اپنے خوشی سے خرچ کرتی ہے
جوگھر پر جان دیتی ہے اپنے شوہر پر اوربچوں پر بھی وہ مرتی ہے
“ ہے دہرے اجر کی مالک اک راہ خدا میں خرچ کرنااور صلہ رحمی“
یہ ہی فیصلہﷺجب زوجہِ عبد اللہ بن مسعود(رض) استفسار کرتی ہے

382
دو اشعار۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب اپنا تا ہے نہیں کوئی رستہ اصول کا
نقشہ بگڑنے جا رہا ہے عرض و طول کا
دامن بچا کے چلیئے الجھ جا ئے نہ کوئی
کہ خطر ناک ہوگیا ہے ہر کانٹا ببول کا

383
قابلِ ستائش لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانیی

قابل ِستائش ہیں رہ کے دنیا میں دین کا کام کر تے ہیں
رب راضی ہے ان سے تواچھے لوگ بھی اکرام کرتے ہیں
خرچ کر تے ہیں جوراہِ خدا میں جتاتے نظر آتے نہیں وہ
شب کو جاگتے زیادہ ہیں اوردن میں کم آرام کرتے ہیں

384
ہوشیار ، ہوشیار۔۔۔ شمس جیلانی

با زار میں زہر بھی ہے اور موجود ہیں منشیات
ہے تمہارے واسطے بس مقدم مگر اللہ کی بات
نہ تم دوست کی مانو نہ معتبرمانو میری ذات
تم پر لازم ہے خریداری سے اول خود کرو تحقیقات

385
ہوشیار ! ہوشیار (2) ۔۔۔ شمس جیلانی

مشروبات کے گلاسوں پر کچھ بھی لکھا ہوتا نہیں
دین وصحت کوئی عاقل اس طر ح کھوتا نہیں!
ہوشیار! ہوشیار! ہوجا ؤ اب اےمردِ عاقل ہوشیار
نیند کا شوقین ہو کتنا کوئی اسطرح سوتا نہیں

386
انا توبہ میں مانع ہے۔۔۔۔ شمس جیلا نی

نافرمانیاں کرکے اپنی شامتِ اعمال بلائی ہم نے
بھیجا تھا عقبیٰ بنانے صرف دنیا ہی کمائی ہم نے
دعوے کرکے بلاتین کیں، چوتھی بھی بلا ئی ہم نے
پر توبہ نہیں کرکے ,ہمیشہ ہی بات بڑھائی ہم نے

387
کیا رب سے اپنے ہے پیار نہں۔۔۔ شمس جیلانی

موت سے ہے کسی کو فرار نہیں مگرکیجئے اس کا انتظار نہیں
نیک کاموں میں دیر مت کیجئے کیا رب سے اپنے ہے پیار نہیں

388
خدا کو مانو! خدا کی مانو۔۔۔۔ شمس جیلانی

خدا کو مانو خدا کی مانو کوئی اس سے زیادہ معتبر نہیں ہے
جھوٹے لوگوں کے جھوٹے وعدے کب وہ مکریں یہ خبر نہیں ہے
لکھا ہے قر آں میں رب نے یہ کہ دیں میں کوئی جبر نہیں ہے
پھر بھی کرتے ہیں جبر جوکہ شایدان کو اس کی خبر نہیں ہے

389
حضورﷺ کے قدموں کی برکت۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وقمر ستارے ہیں مظہر اللہ کے نور کے
پہلے بہت دن چرچے رہے موسیٰ ؑاور طور کے
معراج کیا عطا ہوئی چرچے ہیں اب حضور ﷺ کے
جو ﷺ آ کر آثار ہی مٹا گئے کل فسق و فجور کے

380
عید الا لضحیٰ مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمانوں کے واسطے یہ عیید ِسعید ہے
گونج اٹھتی ہے اللہ اکبر سے فضا شمس
جس کا صلا بہت ہے مزید و مزید ہے
گونجتا ہو آسماں بھی نہیں یہ بعید ہے

381
مہربانی رب کی۔۔۔۔ شمس جیلانی

جو میرے دل کی حالت ہے تجھ پرآشکارا ہے
کیابتاؤں رب میرے !توکتنا مجھ کو پیارا ہے
شمس کیوں نہ ہی ہمیشہ تجھ پر نازے کرے
جبکہ رکھا اچھااسے ہر نوک و پلک سنوارا ہے

382
ڑکر کبھی دیکھو میں لڑائی نہیں کرتا؟ شمس جیلانی

میں اپنے ہی منہ شمس اپنی بڑائی نہیں کرتا
تم لڑکر کے کبھی دیکھو میں لڑائی نہیں کرتا
ویسے بشر ہوں کرسکتا ہوں غلط کام میں بھی
اللہ منع کر دے جسے میرے بھائی نہیں کرتا

383
مالِ حرام مقبولِ بارگاہ نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

جو دولت گاڑھے پسینے سے کمائی نہیں ہوتی
وہ کبھی بھی وہاں مقبول ِبارگاالٰہی نہیں ہوتی
اس روز کی ذلت سے بچو نہ بندوں پر کروظلم
کسی ظالم کی اس دربارسے رہائی نہیں ہوتی

384
وہ بد نصیب ہیں؟ شمس جیلانی

وہ بد نصیب ہیں جنت ہے جن کا گول نہیں
ملتی ہے جو خلوص پر لکھا ہے کوئی مول نہی
ملا کرے ہے یہ رحمت سے اور انکساری سے
چلئےاکڑ کی چال نہیں اور بولیں بڑا بول نہیں

385
قیدی نہ بن سکو گے ۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ فقرے گراہ میں باندھ لو اس ادنٰی فقیر کے
سیدھے چلے چلو اسوہ حسنہﷺ پر مثلِ تیر کے
پھر اللہ ہر قدم پر نصرت کرے گا اس طرح
قیدی نہ بن سکوگے تم کبھی اپنےضمیر کے

386
کمال ِ عروج و زوال۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے بچپن میں ظالموں کو ستم ڈھاتے دیکھا
انگریزگئے جب ان کو بھی دکان بڑھاتے دیکھا
شمس لوگ سمجھتے ہیں زمانہ رہےگایکساں
تخت نشینو کو بھی پستی میں جاتے دیکھا

387
عمرِارذل۔۔۔ شمس جیلانی
جس عمر کو ہی اللہ نے فرمادیا خود عمرِ ارذل

وہ بات کبھی شمس خالی از معنی نہیں ہوتی
کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں یہ شخص ہے ہٹا کٹا
عاقل کو یہ بات باعث ِ بد گمانی نہی ہوتی

388
حشر کا میدان؟۔۔۔۔۔۔۔ شمس جیانی

اللہ نے شمس صاحبِ عظمت بنا یا مخلوق میں انسان ہے
فرشتوں سے سجدہ کرایا کی عطا اس طرح اسے پہچان ہے
کم ظرف تھا شیطان حائل انا جو ہوگئی وہ منکرِ سجدہ ہوا
اللہ نے وہ مہلت دیدی جو اس نے مانگی“ حشر کا میدان ہے“

389
عمر گزارنے کا طریقہ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے قریب رہو مثل ِ خضر رہو
کب آجائے تجھکو موت منتظر رہو
کہتا رہو بات سچ اورسدا معتبر رہو
ذکرِ خدا سے تو سدا با دہن تر رہو

390
اللہ کو تکبر کرنے والے پسند نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

لئیے ہمارے بے شک دین کے سارے اصول سب کچھ ہیں
مومن وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ و رسولﷺ سب کچھ ہیں
ہیں ایسے لوگ کچھ جو کہتے ہیں ہم کچھ کو مانتے ہی نہیں
جو سب کو مانیں اور کہیں پاؤں کی دھول سب کچھ ہیں

391
معراج مومن موت ہے؟ شمس جیلانی

موت سے زیادہ دوست نہیں موت سے زیادہ یار نہیں
میں تو کہونگا ہاں گو لوگ کہیں نہن نہیں ہزار نہیں
مومن وہ بد نصیب ہے جانے کو شمس جوہے تیار نہیں
بشر وہی جس میں کہ انکساری ہے ذراسا استکبار نہیں

392
خدا کی باتیں خدا ہی جانے۔۔۔۔ شمس جیلانی

تم ورد ِزبان رکھو اللہ کےنام کو
اللہ ہی جانتا ہے اپنے نظام کو
ہےوقت معین ہر ایک کام کو
وہ ہی جانتا ہے رتبہِ امام کو

393
اپنا کچھ نہیں سب اس کا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

جب وہ راضی ہو تو آمد میں روانی پاتا ہو میں برسات کی
شمس جب کبھی ناراض ہو میں خیرمانگوں ہوں اوقات کی
میرا اپناکچھ نہیں سب رہین منت ہے اس رب کی ذات کا
سب چیز اپنی کہتے ہیں چاہے ملی ہو کہیں ہو سوغات کی

394
د ِحسین علیہ السلام۔۔۔ شمس جیلانی

ظالم تھے جتنے لوگ وہ کوئی نہیں بچا!
وہ بھی نہ سانس لےسکے اک لمحہ چین کی
ہوئی مقبول ِبارگاہ بدعاحضرت حسینؑ کی
جگ کو یاد رہگئی ابتلاء ناناﷺ کے نورِعین کی

395
لوگ کہتے ہیں تم بھی کچھ کہو؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس گزشتہ چوہتر سال سے یہ عقل میری حیران ہے
جسے سب کہہ سکیں میرا ہے یہ ہی وہ پاکستان ہے!
گر سچ میں کہدوں تو پیچھے کچھ پڑ جا ئیں گے لوگ
گرجھوٹ بولوں تومومن کی لکھی نہیں یہ شان ہے

396
اللہ کے بندے شیطان سے مار نہیں کھاتے؟ شمس جیلانی

جو کہ تیری بات پر پختہ ایمان ہے لاتا نہیں
میں اُسے سمجھاؤں کیسے جو سمجھ پاتا نہیں
جبکہ شیطان ہے موجود ایزاد ِبدگمانی کے لئے
ہاں اگر بندہ ہے تیرااس سے مات وہ کھاتا نہیں

397
تغیراتِ زمانہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وقت تھا وعظ سن کر کے ڈر جا تے تھے لوگ
روح تھی ان کی نکل جاتی مرجاتے تھے لوگ
جب سے یقیں کامل اٹھ گیا شمس یہ بھی گیا
اب وعظ ٹھٹہ بن گیا ہنستے گھر جاتے ہیں لوگ
نوٹ۔حضورﷺ کے زمانےمیں ایسے واقعات عام تھے

398
ہوکاوش انسانی؟ ۔ ۔۔۔شمس جیلانی

رب جو فیصلہ کرتا ہے وہ ہی خوب ہوتاہے
ہراک ہے مطمعن ہوتا ہر اک مرعوب ہوتا ہے
ہوانسانوں کی کاوش وہ خوبی نہیں ہوتی
ہوتا وہی کچھ ہےجو کہ اسے مقصود ہوتا ہے

399
جو خدا چا ہے انجام وہی ہوتا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

رب کا فیصلہ اپنے بندوں کے لیئے مسعود ہوتا ہے
جہاں پر فتنہ ہوتا ہے شیطان بھی موجود ہوتاہے
اللہ کی اپنی مرضی ہےجسے چاہے نوازے شمس
تب شیاطیں کے لئے میدا ن بھی محدود ہوتا ہے!

400
یزید منکر عاقبت و فاسق ہےجانتے تھے حسینّ

یہ ہی وجہ تھی کہ راہنما نہیں مانتے تھے حسینّ

401
فرد ہے ملت سے ورنہ کچھ نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

بھلا انسان وہی ہے جو کہ اچھی بات کہتا ہے
بھلی باتیں جو کرتا ہے بھلو ں کے ساتھ رہتا ہے
نہیں جو چھوڑتا ہے اپنی ملت کو برا کہہ کر !
جو آئے اس راہ میں مشکل وہ ہر بار سہتا ہے

402
نجات اتبا ئے رسول ﷺمیں ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

کرتے نہیں ہیں حمد وثنا اللہ کریم کی
نہ ان کو فکر جہنم کی نہ آب ِ حمیم کی
شمس کرتے رہو تلاش نقشِ پا حضور ﷺ کے
اسوہ حسنہ ﷺ ہےسیڑھی صراط ِمستقیم کی

402
عظمت کے لیے حکمت چا ہیئے۔۔۔ شمس جیلانی

سمجھا سارے شہادت پاگئے بس قصہ ہوا تمام
اس کے مضمرات سمجھا نہیں تھا عقل کا غلام
شمس جبکہ حسین ّ جانتے تھے شہادت کا فلسفہ
اس کو پتہ چلے گا پائیں گے محشر میں وہ مقام

403
ہےالگ شان والا۔۔۔۔ شمس جیلانی

میرا مالک ایک ہے اس کی الگ اک شان ہے
ہر گھڑی ہمراہ ہے وہ سب سے بڑی پہچان ہے
اس سے ملنے میں نہں حائل کوئی دربان ہے
گر نہ مانے جواسے ہے جہنم حشر کا میدان ہے

404
نسلِ عجیب ۔۔۔ شمس جیلانی

ہے عجب قصہ نئی نسل ہے سوتی بہت
پھرمقدرکو وہ اپنے شمس ہے روتی بہت
پھر ہےچاہے اس پہ برسے رحمت پروردگار
ہے ہوس اتنی ہر روزافزوں ہوتی ہے بہت

405
بس اللہ کی بات مانو!۔۔۔۔ شمس جیلانی

رہنا اللہ کو باقی ہے اور سب کو فنا ہے
بات اس کی سدا مانو کرتا جو منع ہے
عبادت جو کرو اسکی ہے بھلا اپنا تمہارا
جن وقتوں میں کہتا ہے وہ کرنا ثنا ہے

406
رضائے رب کی تلاش۔۔۔ شمس جیلانی

ہر مومن متلاشی ہےاللہ کی رضا کا
ہے خوف سدا لاحق اسےروزِجزا کا
چلتا ہے بچا کرکے گناہوسے وہ د امن
ہونا ہے وہاں فیصلہ جزااور سزا کا

407
درخواست بہ دربار ِ رب ۔۔۔۔ شمس جیلانی

رب !عرش کے سایہ میں بندے کو چھپالینا
جو دنیا میں مجھے رکھے تو پوری حیا دینا
عقبہ میں جنت ہودنیا میں بھی جنت ہو
بس کچھ ایسا کرم کرنا کچھ ایسی جزا دینا

408
جوکچھ منع ہے وہ نامناسب ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مشہور زمانے میں اللہ کی تو غنا ہے
آئین ِخداوندی بندے کی بھلائی میں بنا ہے
جو اللہ اور نبی ﷺدیدیں وہ چیز فقط لیلو
کہ ہرفعل مضرِ صحت ہے لکھا جو منع ہے

409
صاحب ِ قلب ِ مطمعنہ۔۔۔۔شمس جیلانی

اسے مطمعن دیکھا جو بندہ رب کا ہوتا ہے
وہی ہے کاٹتا انساں یہاں پرجوکہ بوتا ہے
نہ وہ کسی پر ظلم کرتا ہے نہ اس پر ظلم ہوتا ہے
وہ اپنی نیند اٹھتا ہے وہ اپنی نیند سوتا ہے

410
شکر کریں کے اللہ رحیم ہے؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس دور میں جس کو بھی دیکھئے نکلا ہوا دو ہاتھ ہے
سنتے بہت ہی کم ہیں جن کو پہنچتی اللہ کی بات ہے
بچاجہاں ہےیوں رحم واجب کرلیاخود پر پرور دگار نے
ورنہ انسان سراٹھا کےچلے کیا اور کہاں اس کی بساط ہے

411
بسم اللہ الرحمن الرحیم

صوفیہ وقار کی پہلی سالگرہ پر
آکر صوفیہ نے ہیں لگا دیئے میرے پر
سب میر ے بچے ہیں مرے جان وجگر
اس کے آنے ہی سے پردادا بنا شمسؔ میں
تمہید ہے اتنی بڑی قصہ مگرہے مختصر

412
سم اللہ الرحمٰن الرحیم

نانا کی دعا
عمر اور ثناء کی شادی پر
میری دعا ہے ثنا ء و عمر تم پھلو پھولو
اور ساتھ میں یہ بھی کہ رب کو مت بھولو
شمس شادی سارے اقربا کو مبارک ہو
خوشیاں ساتھ رہیں اتنی کہ آسمان چھولو
یہ دعائیہ قطعہ٤ ستمبر٢٠٢١ ؑ کو نیو یارک
میں پڑھا گیا

413
ظلم کا انجام جہنم ۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ستاؤ تم کسی کو کہ بد دعادیگا
وہ عرش پاک کو اس طرح ہلا دیگا
ہےممکن لے دے کر سزا سے بچ جاؤ
پھر بروزِحشر رب سخت تر سزادیگا

414
زخمو کا مداوا مرہم۔۔۔۔ شمس جیلانی

جس سمت بھی دیکھو تو موت کا بازار گرم ہے
آجا ئے شام کو گھر واپس کوئی یہ اللہ کا کرم ہے
مانگا کرواے شمس اس سے صبح اور شام دعائیں
یہ ہی ہے مداوا فقط اور سب زخموں کا مر ہم ہے

415
ایک اچھی تقریب کے اختتام پر۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شامل ِحال جب رب ِزمین اور آسما ں کی مہربانی ہوگئی
اس کرونا ئی ماحول میں بھی کچھ توحاصل شادمانی ہوگئی
شمس ایک اچھی سی شادی دیکھنے کو پھرملی دوسال میں
جمیل وعظمیٰ کو حاصل تین سواشخاص کی میزبانی ہوگئی

416
تصوف کا پہلا اصول۔۔۔۔ شمس جیلانی

تصوف کے تمام رازوں میں یہ پہلا راز ہے
کہ دل میں یقین رکھو یہ اللہ کار ساز ہے
پانچوںوقت رہو رکوع میں رب کے سامنے
ہرگز نہ جائے پائے ہاتھ سے کوئی نماز ہے

417
چلو راہ ِ راست پر۔۔۔۔ شمس جیلانی

ظلم دنیا میں کم نہیں ہوتے
ہاں ! ستم اب رقم نہیں ہوتے
راہ سیدھی حصول آساں ہے
چلتے رہیئے توگم نہیں ہوتی

418
سراپا راز ہے سمجنے والوں کو؟۔۔۔شمس جیلانی

فرمادیا رب نے مجھے ویسا پاؤگے جیسا گمان ہے
لیکن اچھے گمان کے لئیے چاہیئے اونچی اڑان ہے
پڑھئے قرآں کو روز کم از کم ایک ہی رکوع سہی
تا کہ ذہن نشین ہوسکےتمہیں کیا نص ِقوآن ہے

419
تبلیغ مگر حکمت کے ساتھ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ڈراتے رہو جہاں کو شمس اس ذوالجلال سے
بچاتے رہو جہاں کو تم خطرہ ِ عروج و زوال سے
جو بھی کرو بات علم اور حکمت کے ساتھ ہو
بچتے رہو خود بھی سدا بحث ،قیل وقال سے

420
فخر ِکائینات۔۔۔ شمس جیلانی

جو دل سے کرے عبادت رب اس کے ساتھ ہے
ایسا کوئی ہو جو مومن وہ فخرِ کا ئینات ہے
ہردل کرے ہے عزت جو بھی اسے ہے دیکھے
کہ عزت اور ذلت بس اس اللہ کے ہاتھ ہے

421
کسی کے ظاہر پر مت جا ؤ۔۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی دیکھنے میں جو کہ حقیر لگتا ہےوہی کامل فقیر ہوتا ہے
اس کا کردار اس کو بلند کرتا ہےوہ بے مثل و بے نظیر ہوتا ہے
ہر اک نہیں پابند ِ لکیر ہوتا ہے فطرتا“ جود کے ستگیر ہوتا ہے
جتناہوسکے گناہوں سے دور رہو نہ ہو کوئی تو خبیرو بصیر ہوتا ہے

422
ے عمل صاحبِ گفتار ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ بہت کچھ ہیں اس خفط میں گرفتاربہت ہیں
جو عمل میں کورے ہیں صاحب ِگفتار بہت ہیں
ایسوں سے خبر دار ہمیشہ ہی رہو تم اے شمس
ہیں لوگ نہیں کسی مصرف کےبیکار بہت ہیں

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

مومن اور مومنات کا جو صالح امیر ہوتا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مندرجہ ذیل قطع میں نے وہ سب کچھ کہدیا ہے جو کہ مومنوں کے امیر کے ساتھ بطور نصرت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے مگر اس کو اس کو اس صفت سے مشروط کردیا ہے کہ وہ“ صالح“ بھی ہو اور صالح ہوگا تو متقی بھی ہوگا اور اس میں یہ صفات ہونگی تو یقیناً وہ حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر بھی عامل ہوگا؟پھر اس کے ساتھ حکمت ہوگی فراست ہوگی اور وہ شہنشاہوں کا شہنشا بھی اس کے ساتھ ہوگا جو قدیر ہے کہ جو چاہے سو کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے ؟اور امیر کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ؟ جس طرح“ خیر کثیر“ کا ذکر قرآن میں ہو ا ہے جو کہ سورہ البقرہ کی آیت 269 سے شروع ہوکر اورآخری سورتوں میں سے بہت ہی اہم سورت سورہ توبہ تک چلا جاتا ہے؟ اس کی تفسیر اتنی طویل ہے کہ متعدد بین الاقوامی کانفرنسیں اس ایک لفظ پر منعقد ہوچکی ہیں کہ اگر میں سب کا ذکر کرو ں تو اس چھوٹے سے مضمون میں وہ سما نہیں سکتیں؟ مختصر یہ سمجھ لیجئے کہ اس کا سلسلہ حضور ﷺ سے شروع ہوتا ہے اور ان کے اس خلیفہ پر ختم ہوگا جو آخری ہوگا وہ خوش نصیب کون ہوگا وہ تو اللہ ہی جانتا ہے؟ البتہ حضور ﷺ کے جن خلفا ٗ نے بھی حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیر وی کی ہے ان سب کے نام تاریخ میں آج تک ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں اور جنہوں نے بزدلی دکھا ئی انکا کہیں ذکر نہیں ہے؟۔ اب یہ ہ÷ی مرحلہ افغانستان میں اس رہنما کو درپیش ہوگاجو بھی اس قوم ک اب قیادت کرے گا۔جو کہ چالیس سال سے نہتے لوگوں کو پوری دنیا سے اس بات پر لڑاتی رہی ہے کہ افغانی قوم اپنے یہاں اسلامی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئی تو دنیا میں وہ مدینہ کی اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد دوبارہ کہیں کامیاب ہونے والی دوسری ہو گی۔ ورنہ اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو تمام بعد میں چلنے والی اسلامی تحریکوں کا ہوتا رہا ہے۔ یہ سب کچھ مجھے اس لئیے لکھنا پڑرہا ہے۔ کہ چاروں طرف دبا ؤ ہے کہ افغان قیادت مجبور کردیا جائےکہ جو کام اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت کی بنا پر اس قوم نےجو کام یہاں تک پہنچایا ہے؟ اور سب کو وہاں سے نکلنا پڑا ہے؟ اب دنیا پھر دبا ؤ سے کام لینا چا ہتی ہے حالانکہ اس سے پہلے ویٹنام اور چائینا میں وہ نکام ہوچکی ہے ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان سے جس نے ان کی اس سلسلہ میں بہت مدد کی ہے مصالحت کی میز پر لانے اورمعاملات طے کرانے میں اس کو بھی کہا جارہا ہے۔ کہ ہم تمہیں بہت سی مراعات دینگے اور انہیں اسوقت تک افغان حکومت کو تسلیم مت کروجب تک کہ وہ دنیا کو یقین دہا نی نہ کرادے کہ وہ بھی ہمارے جیسا ہوجا ئے گا۔ جبکہ پاکستان کی موجودہ قیادت مدنی ریاست بنا نے کا یقین دلاکر آئی تھی کیا وہ اگر کسی وجہ سے ہمیشہ کی طرح ناکام رہی اور پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں کرسکی ہے تواوروں کو بھی نہیں کر نے دیگی؟ دوسری طرف افغانستان کو بھی سوچنا چاہیئے کہ مدینہ کی ریاست جب عالم وجود میں آئی تھی کیا اس نے یہ تمام دبا ؤ اور مسائل نہیں جھیلے اور دنیا نے سارے ہتھکنڈے اسوقت نہیں استعمال کیئے تھے وقت حضور ﷺ خود بہ نفس ِ نفیس قیادت کے لئیے موجود تھے اور ان صحابہ ؓ کرام بھی موجود تھے جن کی تعداد صرف سیکڑوں میں تھی اور غیر مسلح بھی تھے انہوں نے سب کچھ برداشت کر کے کامیابی حاصل کی تھی تاکہ ایک مثال قائم کریں کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ اور کیا یہ بھی جیتی ہوئی بازی آسانی ہار جا ئینگے جیسے کہ اس سے پہلے والے لوگ ہارتے رہے ہیں؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ جو چالیس سال تک خون بہا ہےوہ بھی رائیگاں جا ئے گا اور پھر یا تو کوئی نیا آدمی آئے گا اور پھر سے الف ب سے تحریک دوبارہ شروع کریگا؟ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے نہ ہو کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک جگہ حضور ﷺ کو قرآن میں خطاب فرماتے ہوئے فرمایا ہے کہ “ اگر یہ فرقہ پرستی سے باز نہ آئیں تو تمہارا ان فرقہ پرستوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اور سورہ الانعام کی آیت نمبر 65 میں وہ یہ بھی فرما چکا ہے کہ وہ اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہے اور نیچے سے بھی عذاب نازل کرنے پر قادر ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں بانٹ کر لڑادینے پر بھی قادر ہے۔ اس آیت کے نزول پر حضور ﷺ سخت پریشان ہو ئے اور وہ مسجد ِ نبوی سے ﷺ اٹھ کر جنگل کی طرف چلے گئے اور وہا ں جاکر عبادت میں ایسے مصروف ہوئے کہ انہیں ﷺ اپنے پیچھے آنے والے صحابہ کرام (رض) کا پتہ بھی نہ چلا جب حضور ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہوں نے ؓ پوچھا کہ حضور ﷺ کیا ماجرا ہے اتنا پریشان توہمؓ نے آپ ﷺ کبھی نہیں دیکھا؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت کے نزول نے مجھے سخت پریشان کردیا ہے؟ اور اللہ نے ان میں سے دوعذابو ں کو ٹالدیا ہے میری دعا پر ،،مگر تیسرے کے لیئے فرمایا کہ یہ اس کا مقدر بن چکا ہے۔ تم مجھ ﷺ سے وعدہ کرو کہ تم میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں؟ سب نے یک زبان ہوکر فرمایا کہ قرآن ہمارے پاس ہے آپکا اسوہ حسنہﷺ ہمارے پاس ہے بھلا ہم کیسے آپس میں لڑسکتے ہیں۔؟ اس کی تفسیر بہت طویل ہے جو کہ ابن کثیر ؒ نے لکھی ہے اورراوی بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام (رض) بھی ان شامل ہیں وہ وہاں جا کر پڑھ لی جائے تو بہتر ہے۔ تیسرے کے بارے میں حضور ﷺ نے حضرت جابر ؓ کے اس سوال کے بارے فرمایا کہ اگر آپ ﷺ اسی طرح جس طرح آپﷺ نے پہلے دو کے بارے میں دعا مانگی تھی اس کے لیئے بھی مانگ لیتے تو یہ بھی قبول ہو جاتی! تو اس کے جواب میں حضور ﷺنے فرمایا کہ “ یہ تو ہونا ہی تھا جو کہ ابھی تک ہوا نہیں۔ میرا اس ساری بحث سے مقصد یہ تھا کہ اس امت پر اس عذاب کا نزول ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ لہذا اس سے فرارممکن نہیں ہے؟جب بھی یہ قوم اللہ تعالیٰ کی نافر مانی کرے گی تو اس عذاب میں مبتلا کردی جا ئے گی جوکہ اس تبا ہی کا آج تک باعث ہوتی رہی اس لیئے کہ یہ اللہ اور رسول ﷺکا فرمان ہے جوکہ پہلے سے ہمارے علم میں ہے۔ اب افغان کا مسئلہ پھر اسی مر حلہ پر پہنچ چکا ہے؟ قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہونے کو ہے اور وہ وہیں پہنچ جا ئیگی جہا ں سے چل کر چالیس سال میں اس اتحاد تک پہنچی تھی۔ اب یہ افغان قوم کا کام ہے وہ پھر اسی دلدل میں گرنا چاہتی جہاں پہلے دھنسی تھے اور دنیا کا کھلونا بنی تھی۔ یا کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے فیصلے وہ خود کرتی ہے؟ اللہ اسے ہدایت دے تاکہ کہ دنیا میں کہیں تو ایک مثالی اسلامی ریاست قائم ہوسکے(آمین) میں اپنے اس مضمون کو اپنے اس قطع پر ختم کرتا ہوں جس کا پہلا مصرع آج کا عنوان ہےع
مومن اور مومنات کا جو صالح امیر ہوتا ہے
ہمیشہ ساتھ میں اس کے تو خیر کثیر ہوتا ہے
نہیں مرعوب ہے ہوتاکسی وہ طاقت سے
کہ اس کے ساتھ میں رب ِ قدیر ہوتا ہےآآ

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

افغان طالبان صحیح سمت میں۔۔۔۔؟ شمس جیلانی

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھا تھاکہ افغانستان میں جو طالبان کوغیر متوقع کامیابیاں ملی ہیں وہ اس بات کاان سے تقاضہ کرتی ہیں کہ وہ صحیح سمت میں رہیں اس لئیے کہ غازی اور زمانہ سازی دو علیحدہ چیزیں ہیں جو کہ ایک ساتھ نہیں چل سکتیں ہیں؟ اور ان کا اس طرف پہلا قدم ااٹھا نے سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ وہ صحیح سمت میں جارہے ہیں اس لیئے کہ انہوں نے اپنا پہلاکیر ٹیکر (محافط نظام ِ حکومت) ایک اخوند کو منتخب کیاہے جوکہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صحیح سمت میں جارہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے نام کے ساتھ آخوند لگا ہوا ہے جو کہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ صاحب علم ہیں کیونکہ فارسی میں اگر کسی کے ساتھ آخوند لگا ہوا ہو تو بشرطِ کہ وہ اسے وراثت میں نہ ملا ہوا تو اس کے صاحب ِ علم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے؟ جبکہ اس کا الٹ ناخواندگی ہے اور علم سے نابلد کو اردو میں جاہل کہا اور سمجھا جاتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی جاہل سے الجھنے کو منع فرماتا ہے اور اس کے پاس سے سلام کرکے چلے جانے کاحکم دیتا ہے؟ جبکہ یہ میرے آقا ﷺکی حدیث پاک ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جس سے خوش ہو اس کو دین کےعلم سے نوازتا ہے۔ چونکہ آخوند بنا ہی خواندہ سے ہے میں نے بغیر ان کی سوانح جانے اور پڑھے اپنے حسن ظن کی بنا پر یہ مان لیا ہے کہ وہ نہ صر ف عربی میں شیخ کے قسم کی شخصیت ہیں بلکہ “الشیخ “ قسم کی شخصیت ہیں؟لہذا ان سے توقع ہے کہ میں انہیں جو آگے سمجھانے جارہا ہوں وہ اسے ایک صاحب ِ علم کی طرح سمجھیں گے؟ سب سے پہلے تو میں ان کے سامنے سورہ ہود کی آیت نمبر ایک سے بات شروع کرونگا؟ بات کرنے سے پہلے میں بتاتا چلوں کہ سورہ ہود وہ سورہ ہے جس کے نزول کے بعد حضورﷺ نے فرمانا شروع کردیا تھا کہ اس سورہ نے مجھے قبل ازوقت بوڑھا کردیا ہے۔تو جو سورہ ان ﷺ جیسی شخصیت کوبوڑھا کردے اس کے سامنے کسی بھی صاحبِ علم کی کیا حثیت ہوسکتی ہے؟ جبکہ کہ قر آن زیا دہ تر بات ہی اولو الباب سے کرتا ہے اور جہلا سے واسطہ پڑ جا ئے تو وہ سلام کرکے وہاں سے چلے جانے کاحکم دیتا ہے جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں؟۔ میں اس امید پر خصوصی طور پر ان آخوند صاحب کو جنہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حال ہی میں ایک اسلامی ملک کا اقتدار بخشا ہے اور عمومی طور پر ان تمام دوسرے سب صاحبان اقتدار کے لئیے جوکہ کسی بھی اسلامی ملک کے سربراہ اسلامی عدالتوں اور اداروں کے سربراہان ہیں یہ مشورہ دینے جارہا ہوں۔ کہ وہ حضرت عمر ؓ کا وہ قول ضرور یاد رکھیں جس میں انہو ں ؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو ایران بھیجتے ہوئے نصیحت فرما ئی تھی کہ اے وقاصؓ یہ بات یاد رکھنا کے اللہ کے ساتھ کسی کاکوئی رشتہ نہں ہے سوائے اتباع کے اور کہیں تمہیں یہ سوچ ہلاک نہ کردے کہ تم رسولﷺ اللہ کے ماموں ہو “ اسی طرح کا فرمان اللہ سبحانہ تعالیٰ کا بھی ہے سورہ ہود کی آیت نمبر112 میں جس میں وہ رسول ﷺاللہ اورانﷺ کے ساتھیوں (صحابہ کرام ؓ)سے مخاطب ہے کہ دیکھو تم حد سے آگے مت بڑھنا چاہیں سامنے کافر ہی کیوں نہ ہواور ظالموں کے بہکائے میں آکر ان کے ساتھی کہیں مت بن جا نا تمہیں بھی کہیں گرم آگ کا جھوکا نہ لگ جا ئے "اور اس کے بعدظالموں کا حشر بھی بتاتا ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ظالم کی پکڑ نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ ایک مدت تک کے لیئے ڈھیل دیتا ہے کیونکہ اس نے ہر کام کے لئیے ایک وقت مقرر کررکھا۔ ورنہ وہ گناہوں کا مزہ فوراً ہی چکھا نے پر بھی قادر ہے اور وہ کبھی کا مزہ چکھا بھی دیتا؟
جبکہ وہ یہاں اپنے نیک بندوں کو بھی نہیں بھولا اور فرمایا کہ جنہوں نے میری اطاعت کی ان کے لئیے بھی دائمی طور تمام نعمتیں ہیں جن سے وہ اس روز نوازے جا ئیں گے اب بندوں کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خود کو اللہ کی اطاعت کرکے خاص بندو ں میں شمار کرانا چاہتے ہیں یا ان برے میں شامل ہونا چاہتے ہیں جونافرمانی کرکے اپنا نام یہاں پیدا کرتے ہیں۔جبکہ ان کے لئیے سزا دہری ہے جو آیت نمبر100 اور 101پنی غلط قسم کی تبلیغ سے لوگوں کو صراط ِ مستقیم سے بہکاتے رہے ہیں؟ اللہ ان سب سے ہم سب کو محفوظ رکھے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

غازی اور زمانہ سازی۔۔۔۔شمس جیلانی

ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں افغانستان کے معاملات پر بات کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ غازی اور زمانہ سازی دوعلیٰحدہ اور متضاداد چیزیں ہیں۔اس مرتبہ طالبان اپنے پرانے تجربات کے نتائج کو مد ِ نظررکھتے ہوئے ا نہیں نہ دہرائیں اور اپنےاللہ سبحانہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدہے پورے کردیں تاکہ فخر سے وہ دنیا اور اللہ بحانہ کے سامنے سرخرو رو ہوسکیں، ورنہ اس نے سورہ ہود کی آیت نمبر57 میں حضر ت نتیجہ طور پر ہودؑ زبانی کہلوادیا ہے کہ وہ کسی نافر مان قوم کی جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا جو اس کی فرمانبردار ہوگی؟ وہ کیسے آئیگی کہاں سے آنا ہے وہ انسانوں کے لئیے تو کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے؟ مگررب کے لیئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ سورہ یسین کی آیت نمبر87میں وہ فرماچکاہے میں صرف ایک لفظ کن کہدیتا ہوں وہ چیز فوراً عالم ِ وجود میں آجاتی ہے؟بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے وہ فوراً ہوجا ئے۔ وہ شایداس کی تخلیقات کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ حاد ثاتی طور پر ہوا ہے؟کیا وہ لوگ اس کا جواب دے سکتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ حادثاتی طور ہوا ہے تو صرف پہلی بار ہی کیوں اسے تو بار بار ہونا چاہیئے تھا؟ لہذا سوچیں اور جواب دیں کہ اس کے بعد پھر ایسا کیوں نہیں ہوا؟دوسرے ہر چیز میں ٹوٹ پھوٹ ضرور ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے بعد کسی نظام یا پروجیکٹ کوزندہ رکھنے کے لئے مزدور کام کرتے دیتے ہیں تو ان کی تعداد اس بلنڈنگ یا نظام کی مناسبت ہوتی ہے۔ اس اتنے بڑے نظام کی ایک بہت بڑی مدت سے دیکھ بھال کون کررہا کیسے ہورہی ہے اور اگرمرمت ہوتی ہے ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟اس کا جواب کوئی صاحب ِ عقل و دانش دلائل کے ساتھ دے سکتا ہے۔اگر دے سکتا ہے تو سامنے آئے؟ورنہ اس بات کو مان لے جوکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک فرمایا ہے کہ ً میں کن کہتا اوروہ چیز عالم میں وجود میں آجاتی ہے۔ جس طرح کن کہنے سے ہر چیزعالم ِ وجود میں آجاتی ہے اسی طرح اس کے ہر چیز کی کن کہنے سے مرمت بھی ہوجاتی ہے۔ ورنہ لاتعداد مزوروں کی فوج کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بلڈوزر بھی مرمت کے لئیے آسمان کی طرف جاتے ہوئے دکھا ئی دیتے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرمارہا ہے کہ آسمان کیطرف غور سے دیکھو اور باربار دیکھو اوربتا ؤ اس میں تمہیں کہیں کو نقص یا سوراخ نظر آرہا ہے؟ سوال بھی وہ کن ہے اس کی تفصیل نہیں ہے۔میرے خیال میں جولوگ ا للہ تعالیٰ کے منکر ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات پوری طرح اب آگئی ہوگی۔ اسی طرح ان دوسری تمام آیت کو مان لیجئے وہ فرماتا ہے کہ ہم جسے چاہیں ملک دیں جس سے چاہیں چھین لیں ؟ یہ کیسے ہوتا ہے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد پہلے روس دیکھ چکا ہے۔ جوکہ دنیا کی دو بڑی سپر پاورں میں سے کبھی ا یک تھا؟ اور اس کے بعد آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کی زبوں حالی دیکھ لیجئے کہ اس پچھلی صدی میں اس کی حالت کیا سے کیا ہوگئی؟ آخر یہ سب کچھ کون کرتا ہے؟یہ تو تھا عزت لینے کا معاملہ، اب عزت دینے کی بات دیکھئے کہ جو ملک پچھلی صدی میں کچھ بھی نہیں تھا جس کا نام چین ہے؟ اب اس دنیا کی سپر پاور بن چکا ہے اور اس نے دنیا کا چین چھین لیا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ لہذا کسی بھی صاحبِ عقل کے پاس یہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ساری تاریخیں جھوٹی ہیں؟ کیونکہ یہ سب کچھ آج کل ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا نظر آرہا ہے جوکہ کل کو آنے والی نسلوں کے لئے تاریخ بن جا ئے گی؟۔اسیطرح سابقہ طالبان کا دوبارہ اقتدار میں لوٹ کر آنے کا معاملہ ہے اوراللہ سبھانہ تعالیٰ نے ان سے بیس سال پہلے اقتدا چھین کر دکھا تھا؟اب ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا منت سماجت کی اور وعدے کیئے اورانہیں اقتدار پھر واپس کر دیا؟کیونکہ معاملہ اللہ اور بندوں کے درمیان ہے لیکن مجھے یہ یقین ضرور ہے کہ انہوں یہ وعدہ ضرور کیا ہوگا کہ ً ہم ایک ایسا ملک بنا ئیں گے جس سے کہ تیرا نام جہان میں پھر بلند ہوگااور پورے جہان میں تیرا ہی نظام نافذ ہوگا اور وہ ہم کریں گے؟ اب ان غازیوں کے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اسکے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ سچے رہیں اور اس کے شکر گزار بھی رہیں تو مجھے امید ہے کہ ان کا کارو بارِ حکومت اچھی طرح چلتا رہے گاکیونکہ اس نے سورہ ابراہیم ؑ کی آیت 7میں فرمایا ہے کہ جو جوبندے میرے شکر گزار ہوتے ہیں انہیں میں مزیدنوازتا ہوں اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کے لیئے میرے پاس عذاب بھی شدید ہے۔دوسرے ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ کوئی دو کشتیوں پر پاؤں رکھنے کے بعد عافیت کے ساتھ نہ کبھی چلا ہے نہ ہی چل سکتا ہے۔ اگر سمجھ میں میری بات نہیں آئی ہےتو وہ تجربہ کر دیکھے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

عمل سے زندگی بنتی ہے؟۔۔۔ شمس جیلانی

بہت کم لوگ اس زندہ حقیقت کے قائل ہیں عمل سے ہی زندگی بنتی ہے؟ اس کے لئیے اقبال ؒ مرحوم کا یہ شعر بڑا مشہور ہے کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے؟ اس شعرکو پڑھ کر ممکن ہے کہ کچھ لوگ کہیں کہ یہ تو ایک شعر ہے اور اقبال بھیؒ شاعر تھے اور اسلام نے سورہ الشعراء میں شاعروں کی مذمت میں پوری تین آیات نازل فرما ئیں ہی شاعروں اورشاعری کے خلاف؟ جبکہ چوتھی میں جو جز ہے آیت نمبر 227 کااس کی حضور ﷺ نے اس کے بارے فرما یا ہے کہ یہ تمہارے لیئے ہے وہ آگے پیش َ خدمت ہے۔۔۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے نیک عمل کیئے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا۔۔۔۔۔۔جب یہ آیات نازل ہوئیں تو شعرا کاوہ چھوٹا سا مقدس گروہ جن میں مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت ؓ بھی شامل تھے دربار ِ رسات مآبﷺ میں حاضر ہوئے کہ حضورﷺ ہم تو تباہ وبرباد ہوگئے کیونکہ ہم نے اپنی زندگی شاعری میں صرف کردی؟ تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ نہیں اس سے تم مستثنیٰ ہو کیونکہ تمہارے لئیے آخری آیت کا یہ درمیانی جز ہے۔ تمام شعرا ء حضرات جو اس وفد میں تشریف لائے تھے اس جواب سے مطمعن ہوکر چلے گئے اور ان میں سے کسی نے شاعری ترک نہیں کی؟۔ چونکہ اس زمانہ میں شاعری کا بڑا چرچا تھا اور حضور ﷺ کے پاس جو کہ گنتی چند شاعر تھے ان کو حضور اکثر ﷺحکم دیتے تھے کہ وہ کفار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب جوکہ عموماً شاعری کی شکل میں ہوتی تھی اسی زبان میں جواب دیں ان میں ایک خاتون صحابیہ ؓ حضرالخنسہؓ بھی شامل تھیں اس چھوٹی سی جماعت کو تمام کفار کی شاعروں کی جماعت کامقابلہ کرنے کا حکم عموما“ ملا کرتا تھا۔اور وہ جواب دیا کرتے تھے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت حسان (رض) بن ثابت کو ایک مرتبہ اپنے منبر بٹھا کر حضور ﷺ نے ان کی عزت افزائی اور ان سے ان کا کلام سنا؟ مرد ہی نہیں اس میں حضرت خنسہ ؓ جو کہ مرثیہ نگاری میں دور ِ جہالیہ میں مردوں سے بھی آگے تھیں! ان کا تو با قاعدہ عکاز کے بازار میں تنبو لگا کرتا تھا جس پر ان کا مخصوص جھنڈا نصب ہوتا تھا۔ جبکہ شعرائے عرب میں وہ امراؤ بن قیس کے بعد دوسر ے نمبر پر تھیں۔ جن لوگوں نے اپنی شاعری کے دوران اس بات کا خیال نہیں رکھا ان کے لیئے یقینا پہلی تین آیات آیات ہیں مگر جو اپنی شاعری سے حمد و ثنا، نعت، مرثیہ، صالحین کی منقبت اور تبلیغ اسلام کا کام لے رہے ہیں وہ سب پہلی تین آیتوں سے مستثنیٰ ہیں؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص بندوق اپنی حفاظت کے لیئے خریدے تو ثواب ہے اگر اپنے کسی دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے خریدے تو گناہ ہے۔ جنہوں نے علامہ اقبال ؒ کو نہیں پڑھا ہے انہیں چا ہیئے کہ پہلے وہ انہیں پڑھیں پھر ان کی شاعری کے بارے میں کچھ کہیں؟ تو انہیں پتہ چلے گا کہ انکی ابتدائی شاعری کے بعد جو شاعری ہے وہ زیادہ تر قر آن اور سنت سے متاثر ہوکر کہی گئی ہے چونکہ ان میں سے زیادہ تر کلام فارسی میں ہے لہذا نئی نسل تو اس سے بالکل ہی نا بلد ہے؟ کیونکہ انہیں فارسی ہی نہیں ہے؟ اگر آپ اس شعر کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھیں گے تو آپ دیکھیں گے؟ اس میں علامہؒ ایمان کے بعد عمل ِ صالح لائے ہیں جو کہ طریقہِ قرآنی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا“ یہ قول بہت مشہور ہے کہ عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔“ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی ایک کے بغیر دوسرے فعل کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت ان کے دوسرے قول سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں ؓ نے فرمایا کہ“ ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنا لازمی ہے ورنہ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کیاکرتے ہیں“ میرا اس تمہید سے مقصدیہ تھا کہ میں ہمیشہ عمل پر زور دیتا رہا ہوں؟ ہم جتنا اہلِ بیت کو حضور ﷺکی وجہ سے چاہتے ہیں اس کی کسی اور مذہب میں مثال نہیں ملتی مگر ہماری وہ محبت اس وقت کہیں سوجاتی جب ہم یزیدی رویہ رکھنے والے لوگوں سے تعاون کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ ہم ہلکی سے ہلکی نیکی بھی کرتے ہوئے کہیں دکھائی نہیں دیتے تاکہ ان کی سنت کچھ تو ادا ہو جو امت پر قرض ہے؟ یعنی کہ اگر ہاتھ سے یا منہ سے روکنے طاقت نہیں ہے تو کم ازکم دل سے برا سمجھیں اور کراہیت کے ساتھ خاموشی اختیار کریں بجا ئے ان کے درباروں کی رونق بڑھانے کے لیئے حاضری دیں۔ کیا حضرت امام حسین ؑ نے یہ سوچ کر قربانی نہیں دی ہوگی کہ وہ ؑ عملی مثال قائم جائیں کہ ایسے مواقع پر مومنوں کیا کرنا ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ جو لوگ کھلے عام اسلامی شعار کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ان سے کبھی تو کراہیت کریں؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

دکھا تا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

جہاں تک میری یاداشت ساتھ دے رہی ہے یہ زیادہ دن کی بات نہیں صرف بیس سال پہلے کی بات ہے۔کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی جبکہ پاکستان میں ایک جنرل بہادر مہربان کی جنکا نام تھا مشرف اور امریکہ میں بڑے بش کے بعد بش جونیر کی حکومت تھی تاکہ وراثت میں ملنےوالے حکمراں کا مزہ وہ بھی چکھ لیں جوکہ ہمارے یہاں تو عام ہے۔ ان کے یہاں یعنی امریکہ اس سے پہلے اس کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔اس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں طالبان کی حکومت تھی جسے وہ اسلامی حکومت کہتے تھے۔ جس میں آلودگی کے طور پر بہت سے مقامی رسم ورواج بھی شامل تھے۔لیکن سرمایہ پرستوں کی آنکھ میں یہ پھر بھی کھٹک رہی تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں اپنے اوپر دوسرے کو ترجیح دینے کا نظریہ تھا؟ جبکہ سرمایہ داری نظام میں ضرورت مند کا خون چوسنا اور جوپھنس جا ئے اس کی مجبوری سے ہر طرح فا ئدہ اٹھانا جائز ہے؟ اور بہانہ یہ تلاش کیا کہ فلاں، فلاں کوہمارے سپرد کردو جو کہ ہمارے خیال کے مطابق911 کی سازش کے پیچھے تھا؟ جبکہ افغانستان کا رواج یہ ہے کہ جسے کوئی وہاں کا باشندہ پناہ دیدے تو وہ اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر اپنا مہمان نہیں دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ملنا تھا جو کہ ملا؟ جبکہ یہ تاک میں تھے کہ کوئی اور یاہم سب ملکر وہاں سے طالبان کی حکومت ختم کرکے وہاں اپنی جمہوریت نافذ کردیں اور اپنےمہرے بٹھا دیں؟ امریکہ نے حملہ کردیا اور پاکستان کو دھمکی دی کہ تم یا تو ہمارا ساتھ دو؟ ورنہ بقول جنرل صاحب کہ انہوں نے کہا کہ“ ہم تمہارے ملک کو پتھروں ں کے زمانے میں پہنچادیں گے؟ اس لیئے انہوں نے بڑی بہادری کے ساتھ سر جھکادیا جس کا نتیجہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے؟ یہاں ہمیں نہ جانیں کیوں حضرت ابن تیمیہ (رح) کا یہ قول یاد آرہا ہے کہ “جب تم اپنا حکمراں منتخب کرنے لگو تو اس میں بہادری اور تقویٰ دونوں تلاش کرو؟ لیکن کسی میں اگرتقویٰ کم ہو اور بہادری زیادہ ہو تو اسے ترجیح دو کیونکہ تقویٰ اس کی ذات کے لئیے ہوگا جبکہ شجاعت ملت کے لئیے ہوگی “۔
جبکہ انہوں نے یہ سوچنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کی ابھی کچھ ہی دن پہلے جس قوم نے روس کی سپر پاور کو وہا ں سے مع اپنے ساز سامان کے ساتھ جانے پر مجبور کردیا تھا۔ کیاوہ ہمارے ساتھ بھی اسی طرح پیش نہیں آئے گی کیونکہ یہ ان کی تاریخ ہے؟ اور ہم ہی نہیں ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو بھی وہاں حملہ آورہوا وہ اپنا سر وہاں پتھروں سے پھوڑتا رہا آخر کار تھک کر خود ہی واپس چلاگیا،مگر انہوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے؟ اسی دور میں ہم نے اس پر ایک آرٹیکل لکھا تھا، جس میں پیش گوئی کی تھی امریکہ یہ ایک بہت بڑی غلطی کرنے جا رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ بڑے بش صاحب کہیں گے بیٹا کمبل چھوڑ دے اور تو بھاگ آ؟ ایسے ایک نہیں کئی مواقع آئے مگر ان کے جانشینوں نے بہت بہادری دکھا ئی مگر وہ بھی فتح سے ہم کنار نہیں ہوسکے؟ نتیجہ کے طور پر انہیں بار مان کر اجتماعی طور پر یہ کہنا پڑا کہ تم کمبل چھوڑ دو اور سب بھاگ آو؟ لیکن کمبل انہیں چھوڑ ہی نہیں رہا تو پھر وہ بھاگتے کیسے؟ جبکہ دوسری طرف دنیا کی واحد سپر پاور کی مونچھ کا سوال بھی حائل تھا۔ اس مرتبہ جب یہ ہی صورت ِ حال تھی تو پاکستان میں ایک پٹھان عمران خان کی حکومت تھی جوکہ پٹھانوں کے رسم ورواج کو جانتے تھے جبکہ وہ جنرل نہیں تھے؟ مگر وہ اور ان کے دور کے جنرل ایک ہی پیج پر تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ افغان مسائل کا حل جنگ سے نہیں صرف میز پر بیٹھ کر نکالا جاسکتا ہے؟آخر کادنیا کی واحد سپر پاور کو ہار ماننا پڑی اور پاکستان کی خدمات اس سلسلہ میں حاصل کرنا پڑیں ،جبکہ ان کی آخری وقت تک کوشش یہ ہی رہی کہ وہاں سے با عزت طریقہ سے جان چھوٹ جا ئے؟ مگر دونوں ہاتھوں میں لڈو صرف عقلمندو ں، قسمت والوں اور حکمت سے کام لینے والوں کو ملتے ہیں۔ جبکہ ان کے ساتھ اللہ بھی ہوتا ہے؟ جو فرماتاہے کہ میں جس کو چاہوں عزت دوں، جس کو چاہوں ذلت دوں؟ جس کو چاہوں زمین کی بادشاہت عطا کردوں اور جس سے چاہوں چھین لو ں؟ دیکھو خبردار رہو! زمین پر فساد مت پھیلاتے پھر نا،ظلم سے بچنا،کیونکہ مظلوم کی فریاد مجھ تک فوراً پہنچ جاتی ہے اور مجھے بدلا لینے میں دیر نہیں لگتی؟ یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ شروع سے فرماتا چلا آرہا ہے جوکہ قدیم صحیفوں میں بھی تحریری شکل میں موجود تھی تورات اور انجیل میں بھی تھی نیز اللہ کی اس دور کے لئے موجود کتاب ِ ہدایت قرآن میں بھی ہے۔ لیکن طاقت کے نشہ میں لوگ بھول جا تے ہیں کہ اللہ بھی ہے۔ جبکہ وہ فرماتا ہے کہ یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ میں انہیں سال میں ایک دو جھٹکے دیتا ہوں تاکہ یہ باز آجا ئیں لیکن پھر بھی یہ توبہ نہیں کرتے؟ اگر ساری قومیں بھی حضرت یونس ؑ کی قوم طرح کی توبہ کرلیتیں تو کتنا اچھا ہوتا؟ مجھے ان پر عذاب نہیں نازل کرنا پڑتا۔ کیونکہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں؟ ایک جگہ قرآن میں یہ بھی ہے کہ مجھے کیا پڑی ہے کہ میں کسی کو خوامخواہ عذاب دوں؟ اگر لوگ میری با ت مان لیا کریں؟ مگر ہمیشہ سے ہوتا یہ چلا آیا ہے کہ وقت حکمراں یہ جانتے ہوئے بھی کہ خالق موجود ہے اس کے باوجود اس کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے ہیں؟ اور بعد میں اس کاعبرت ناک نتیجہ بھگتے ہیں۔ جوکہ پرانی کتابوں میں بھی موجود ہے اور تاریخ میں بھی موجود ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ اس کے ساتھ وعدے کرکے اقتدار میں آجاتے ہیں جو کہ بعد میں پورے نہیں کرتے اور وہ انہیں نکال باہر کرتا رہتاہے۔ میرا مشورہ یہ ہے جو لوگ اب اقتدار میں معجزاتی طور سے آئے ہیں وہ یہ غلطی نہ دہرائیں تو فائدے میں رہیں گے؟ کیونکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ میں شکر کرنے والوں کو زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتے ہیں ان کے لئیے میرا عذاب بھی شدید ہے۔خبریں آرہی ہیں کہ طالبان بھی زمانہ سازی کر رہے ہیں؟ مگر مجھے یقین نہیں آرہا ہے اس لئیے کہ“ غازی“ اور زمانہ سازی دو متضاد چیزیں ہیں۔ لہذا میرا مشورہ ان کی بھلائی میں یہ ہی ہے کہ اصل اسلام نافذ کریں تاکہ ان کے ساتھ اللہ نصرت بدستورقائم رہے اور انجام بخیر ہواور پہلے کی طرح انہیں پچھتانا نہ پڑے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں