بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ بلّی شیر کی خالہ ہے اس نے شیر کو سب کچھ سکھا دیا مگر درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا، تاکہ وہ اسکی گرفت سے بچ سکے کیونکہ شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے اور تمام بادشاہ بڑے تنک مزاج بھی ہو تے ہیں دینے پر آئیں تو تاج و تخت بخش دیں اور لینے پر آئیںتو جان کی خیر نہیں، کب موڈ خراب ہو جائے اور بلی کی شامت آجائے اس نے یہ گر ہی اسے نہیں سکھایا ؟ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شیر کو ٥٣فیٹ تک اونچی چھلانگ لگانے کی صلا حیت عطا فرما کر اسے چھینکے تک تو رسائی اس لیے عطا فرمادی کہ شیر بلّی کی طرح دوسروں کا پکایا ، کھانا نہیں کھاتا ہے۔ بلکہ اپنا مارا ہوا شکار کھاتا ہے اور بقیہ چھوڑدیتا ہے تا کہ گیدڑ وغیرہ اس سے فیض یاب ہوسکیں کیونکہ اسے جانور اور وہ بھی درندہ ہوتے ہوئے اس بات کایقین ہوتا ہے کہ اسکا روزی رساں اسے بھوکا نہیں مارے گے؟ لہذا اگلے وقت کے لیے بچاکر نہیں رکھتا، جبکہ سمندری جانوروں میں مگر مچھ جس کے آنسو ضرب المثل ہیں، وہ شکار مار کر چھپادیتاہے اور سڑا بھی کسی کو نہیں دیتا لہذا اسکے مسکن سے تعفن اٹھتا رہتا ہے ۔ جبکہ چھینکے کو بلّی کی پہونچ سے باہر رکھا کہ وہ درخت پر اپنے بچاو¿ چڑھ سکتی ہے مگر چھینکے تک نہیں پہونچ سکتی ؟ ورنہ وہ انسانوں کی زندگی حرام کر دیتی ہے اور گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے اس سے کہیں پناہ بھی نہیں ملتی۔ اس کو صرف چانس اسی وقت ملتا ہے جب چھینکا کسی وجہ سے ٹوٹ جا ئے ؟ لیکن نئی نسل نہ چھینکے سے واقف ہے نہ بلّی کی تباہکاریوں سے کہ وہ پروان اس دور میں چڑھی ہے کہ چھینکا ناپید ہوچکا تھا۔ اور بلیوں کو اتنا مال مل رہا ہے کہ انہیں کھانے کی فرصت بھی نہیں ہے ۔البتہ آپس میں پھر بھی لڑتی رہتی ہیںاگر کوئی ایک دوسرے کے ڈھیر میںمنہ ڈالدے۔
بچو ں ! آپ پوچھیں گے کہ انکل یہ چھینکا ہے کیا چیز؟ تو جواب یہ ہے کہ ایک صدی پہلے تک سب غریبوں اور امیروں کے گھروں میں یہ فرج کاکام دیتا تھا جوکہ رسیوں سے بنایا جاتا تھااور چھت میں لگے کنڈے کے ساتھ لٹکا ہوتا تھا اس میں ہانڈیاں رکھدی جاتی تھیں تاکہ وہ ہوا سے ٹھنڈی ہوتی رہےں، دوسرے بلّی کی پہونچ سے بھی باہر رہیں ۔اگر کہیں رسی پرانی ہوکر گل گئی یا اس پر نادانی سے بوجھ زیادہ ڈ ا لدیا تو توچھینکاٹوٹ کر فرش پر آرہتا تھا اور بلّیوںں کی چاندی ہو جاتی تھی، وہیں سے یہ محاورہ ایجاد ہوا جو آج کا عنوان ہے؟
اب آپ پوچھیں گے کہ آج اسکے ذکر کا محل کیا ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ آجکل کے بزرگ بچوں کو منہ نہیں لگا تے کیونکہ پہلے اگر بزرگوں کو کچھ بھی نہ آتا ہو تو بھی انکا بھرم قائم رہتا تھا اور بچے چپ چاپ جو سنتے تھے وہ اپنی گرہ میں باندھ لیتے تھے ، اگر کسی نے کچھ پوچھنا چاہا اورانہوں نے ذرا ترچھی نگاہ کی اور بچے خاموش ہو جاتے تھے۔ اب وہ بغیر دلیل کہ کوئی بات نہیں مانتے اور سوال پر سوال کیے جاتے ہیں ؟
تو جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بجلی کے سلسلہ میں جھوٹے دعوو¿ں کے پول کھولنے کے لیے ایک ایسے وقت پر جو کہ قوم کے لیے بہت کٹھن ہے، ملک میں گرمی بڑھادی اور اس میں سے سب سے زیادہ حصہ کراچی کو ملا جو سندھ کی نمائشی حکومت کا دار الحکومت ہے؟ تم پھر پوچھو گے کہ انکل یہ نمائشی کیسے ہے ،جبکہ اسکی اسمبلی بھی ہے منتخب وزیر اعلیٰ بھی ہے اور ً چیف منسٹر ہاوس ً بھی یعنی حکومت کو اس نام کا ایک ٹھکانہ بھی میسر ہے؟ بچوں !بات یہ ہے کہ ہم نے اسے نمائشی اس لیے کہا کہ ہے تو سب کچھ مگر ان سب کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے تمام معاملات اکثر ایک ہی آدمی طے کرتا ہے ۔کبھی کبھی دو ہو جاتے ہیں تو زیادہ دن اس لیے نہیں چلتے کہ ایک دوسرے کے مفادات ٹکرا جاتے ہیں؟ کیونکہ کچھ ایک کے کارندے ہوتے ہیں تو کچھ دوسرے کے، سب بیچارے بال بچے دار ہیں مال بانٹنے پر جھگڑا ہوجاتا ہے ۔کارکن آپس میں لڑمرتے ہیں ہاتھ کسی پر کوئی اس لیے نہیںڈالتا کہ انکی پہونچ دورتک ہوتی ہے، اور محاورہ ہے کہ جو کہ ویسے تو ہندو دیتاو¿ں کہ بارے میں ہے کہ ً جیسے اودھے ویسے بھان نہ اس کی آنکھیں نہ ان کے کان؟ جبکہ انسان کہیں دیوتا کی شکل دھار لیتا ہے اسکے بھی اس صورت حال میں اگر کان ہوں بھی تو بند کرنے پڑتے ہیں اور یہ ہی معاملہ آنکھوں کے ساتھ ہے کہ ان سے کھلی ہونے کے باوجود مفاہمتی پالیسی اپنانے کے بعد کام نہیں لیا جاسکتا؟
پھر حکومت چلے تو کیسے چلے؟ اور انصاف ملے تو کہاں سے ملے ،گوکہ ادارے موجود ہیں، کچھ اہلکار اچھے بھی ہیں جو اپنی اسی بری عادت کی بنا پر شہید ہوتے رہتے ہیں، ان کی تعداد کم ہے اور چھینکے کی رکھوالی بلّیوں کے سپرد ہے؟ اس مرتبہ کچھ اچھوں نے زور لگایاتھا کہ دودھ پینے والی بلّیوںں کو پکڑلیں؟ مگر بیچ میں یہ موت کا بازار گرم ہو گیا اور بلّیاں قائد بن کر احتجاج پر نکل آئیں ؟
تاکہ روٹھے عوام کو خوش کرکے ان کی قیادت اور ہمدردیاں پھر حاصل کر لیں؟ اور وہ جو پکڑ دھکڑ شروع ہونے والی تھی وہ ٹل جا ئے ۔ کیوں اس میں سے ایک ادارہ جو کہ بہت زیادہ سرگرمِ ِ عمل ہے اسکی عمر٨ا جولائی کو ختم ہورہی ہے، جس میں تھوڑے ہی دن رہ گئے۔ سائیں! اس پر معاملہ کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر سنا ہے کہ اختیار ایف آئی اے کو منتقل ہوگئے۔ ورنہ سول عدالتیں موجود تھیں، فوجی عدالتیں فعال نہیں تھے ؟نام کو ملک میں جموریت ہے لہذا قانون کے نام پر یا انسانی ہمدردیوں کے نام پر وہ انصاف حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہمیشہ رہتے ہیں۔ جبکہ عام آدمی کے انصاف کی راہ میں بہت سے مسائل ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ نوٹ حائل ہے جن پر قائد اعظم کی تصویر بنی ہوئی ہے ،جو وکلا ءکی بھاری فیس کی شکل میں بہت سے چاہیئے ہوتے ہیں،پھر وکلاءہی کی معرفت ہر قدم پر ضرورت پڑتی ہے وہی حاجت روا ثابت ہوتے ہیں ؟ اب ہر ایک ایسا تو خوش نصیب نہیں ہوسکتا جو قوم کی ہر مصیبت پراربوں روپیہ دینے کا اعلان کرتا رہے اور اس کے خزانے میں کبھی کمی نہ آئے؟
بچوں !جس طرح تم نے کہانیوں میں پڑھا ہو گا کہ ایک دیو تھا اس نے بہت سے بچوں کوقید کر رکھا تھا جو اسکے روزانہ ناشتے میں کام آتے تھے! اس کی جان طوطے میں تھی اور طوطا پنجرے بند تھا اور یہ راز کسی معلوم نہ تھا ایک بچہ اپنی باری آنے سے پہلے اس راز سے واقف ہوگیا اور اس نے طوطے کا گلا گھونٹ دیا؟ یہاں کسی کو معلوم نہیںہے کہ اسکی جان کائے میںہے ۔ہاں اسکاایک پرانا ساتھی کہتے ہوئے سن گیا ہے کہ ً پیسے میں ہے ً اور پیسے کو وہ دانت سے پکڑے رہتاہے اس لیے اس سے نجات ملے تو کیسے ملے،اسی دیو کے ہاتھ میں یہ معاملہ بھی تھاکہ وہ اس محکمہ کو مزید توسیع دے یا نہ دے جو اسکے دروازے دستک دے رہا تھا ؟ اگر یہ ترپ کارڈ نہ کھیلا جاتا تو اس کی شرائط ماننا پڑتیں، ورنہ طوطے کی گردن کی طرح اس کے منہ تک پہونچنا پڑتا جس کی راہ میں مسکراتے ہوئے ہونٹ اور چمکیلے بتیس دانت حائل ہیں؟ ورنہ وہ ً ً نہ ً کہدے تا اور اگر اس نے نہ کہدیا، تو ہاں کرانے والا کوئی نہیں ملتا۔ ہمارے یہاں کیونکہ انسانیت کا دفاع کرتے ہوئے یہ کوئی نہیں سوچتا ہے کہ انسانی ہمدردی اور قوانیں انسانوں کے لیے بنا ئے گئے تھے، انسان نما درندوں کے لیے نہیں جوانسانوں کے بجا ئے ان کے بھیس میں درندے ہیں اور وہ اسکا بھر پور فائدہ اٹھارہے ہیں؟ ہے کوئی جو ان سے وہ لباس چھین لے جو بھیڑیے پہن کر انسان بنے ہوئے ہیں؟ جبکہ بیچارے انسان انکے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ صرف میڈیا ان کی کرتوتوں کو اجا گر کرتی ہے؟ مگر اسکو اپنا کاروبار چلانے کے لیے سنسنی خیزی چاہیئے ہوتی ہے اور ہر ایک اس دوڑ میںایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے۔ ان کی توجہ ہٹانے کا ایک مجرب نسخہ یہ ہے کہ دوسری خبر کی بھنک اسی دوران ان میں سے کسی کے کان تک پہونچا دو ! باقی سب اس میں لگ جائیں گے۔اور جن کو ملک سے نکلنا ہوگا وہ نکل جائیں گے، پھر عدالتیں اگر پیچھے ہی پڑگئیں اوروہ بقید حیات بھی رہے تو ان کی مزید خبریںآتی رہیں گے پھر وہ گرفتار ہو کر پہونچ بھی گئے۔ تو بھی ایک معجزہ ہوگا اور وہ معاملہ پردہ گم نامی میں چلا جائے گا پھر عوام اس کا کبھی ذکر بھی نہیںسن سکیں گے ۔ایسا کیوں ہوتا ہے اور کب تک ہوتا رہے گا اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ علم غیب صرف اس نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ 

Posted in Articles | Tagged ,

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

آج کل محاوروں کارواج آہستہ ، آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے، یہ بھی  کبھی شعر کی طرح ذریعہ تھا چند لفظوں میں بہت کچھ کہہ دینے کا مثلا ً چھاج بولے تو بولے چھلنی بھی بولی جس میں بہتر سوچھید “ یہ اس موقع پر بولا جاتا تھا جب کوئی انتہائی داغدار کردار رکھتے ہوئے اپنی پارسائی بیان کرے؟ آجکل دو ایسے ہی جڑواں بھائیوں کی برہمی کی خبریں آرہی ہیں ، جوکبھی ایک دوسرے کو الزام دیتے پائے جاتے ہیں کبھی آپس میں مل جاتے ،تو کبھی روٹھ جاتے ہیں۔ کل ا یک پٹی ٹی وی پر چلتے دیکھی کہ دونوں بھائیوں میں فون پر رابطہ ہوا ہے اور یہ طے پایا کہ “ ایک سر زمین پر رہنے والوں کوایک ساتھ جینا اور مرناچاہیئے “ بڑا اچھا جذبہ ہے مگر مسلمانوں کو نہ جانے کیوں اس میں کانٹے نظر آتے ہیں، شاید اسکی قومی وجہ یہ رہی ہو کہ قومی شاعر علامہ اقبال (رح) کہہ گئے ہیں “ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے “ یا پھر وجہ یہ ہو کہ قرآن مسلمانوں سے کہتا ہے کہ  “ صرف بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائی میں نہیں “ اس لیے ہر مسلمان کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ دین کے بجائے، زمینی یا خاندانی رشتوں کا خیال کرے؟
بھانت کی خبریں آرہی ہیں، دیکھئے کل کیا ہو، ہم کبھی فوج کے ثنا خواں نہیں رہے اس پر ہمارا83 سالہ ریکارڈ گواہ ہے۔ ا س لیے کہ ہمارے خیال میں فوج پاکستان کے بننے کے چند مہینوں کے بعد ہی سے سیاست میں اس لیے دخیل ہوگئی کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو اپنی حکومت چلانے کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت پڑ گئی تھی، وہ دن اور آج کا دن فوج نے کبھی سامنے آکر حکومت کی کبھی پیچھے رہ کر حکومت چلائی ؟ لیکن اس میں بھی اسکی غلطی نہ تھی غلطی تو ان سیاست دانوں کی تھی جنہوں نے اسے بیساکھی بنا یا اگر وہ بیساکھی نہ بناتے تو سیاستداں اپنا کام کرتے ا ور وہ اپنا کام کر تے، جیسا کہ جمہوریت  میں ہوتا ہے؟ چونکہ اچھے برے سبھی میں ہوتے ہیں لہذا کبھی اچھے جنرل آئے کبھی برے جنرل آئے ؟ جب اچھے جنرل آئے حالات اچھے ہوگئے جب برے جنرل آئے تو حالات خراب سے خراب تر ہو گئے۔ یہ مختصرسی ہماری داستان ہے؟
جیسے کہ ہم نے تصوف کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ایک مرید نے اپنے پیر سے پوچھا کہ آجکل دہلی کے حالات اتنے خراب کیوں ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ قطبِ دوراں نرم خو ہیں ہے؟ کیونکہ اہل ِ تصوف کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وی نظام کے متوازی ایک روحانی نظام بھی قائم ہے ؟ اور قطبِ وقت کی افتادِ طبع بھی بہت کچھ نظام دنیا کو متاثر کرتی ہے؟ مرید نے کہا کہ حضرت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آجکل کے قطب کون ہیں اور وہ کیسے ہیں ؟تو انہوں نے بتایا کہ جامع مسجد چلے جاؤ وہاں سیڑھیو ں پر ایک صاحب بیٹھے خر بوزے فروخت کر رہے ہو نگے، جاکر دیکھ لو! وہ ان کے پاس پہونچے اور ایک خربوزہ خریدا کاٹ کر چکھا اوریہ کہہ پھینک دیا کہ “پھیکا “ ہے اس کے بدلے میں دوسرا مانگا اور وہ انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے پیش کردیا کہ “ کوئی بات نہیں ہے بیٹا!دوسرا لیلو ؟ کچھ عرصے کے بعد دہلی کے حالات سدھرنے لگے تو اسی مرید نے پھر پوچھا کہ ا ب تو حالات بہتر ہو رہے ہیں وجہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اب قطب صاحب تبدیل ہوگئے ہیں پہلے والے پردہ فرما گئے اور ان کی جگہ نئے قطب نے لے لی ہے؟ انہوں نے انہیں دیکھنے کی بھی خواہش ظاہر کی تو پیر صاحب نے پھر فرمایا کہ جامع مسجد چلے جاؤ وہاں ایک صاحب کھڑے ہوئے مشک اٹھا ئے پانی پلا رہے ہونگے وہ ایک پیسہ لیتے ہیں اور ایک کٹورا پانی کا دیتے ہیں؟ انہوں نے جاکر ایک پیسہ پیش کیا اور پانی لے لیا پھر یہ کہہ کر سیڑھیوں پر پانی پھینک دیا کہ اس میں تنکاپڑا ہوا تھا؟ لہذا دوسرا دیجئے! انہوں نے کہا پیسہ نکالو تب پانی ملے گا؟ یہ اکڑ گئے ، جواب میں وہ بھی گرم ہوگئے کہ نکال پیسہ ورنہ یہ ہی کٹورا سر پر ماروں گا ، “ اب خربوزے والازمانہ نہیں ہے“ وہ جب یہ فرق دیکھ چکے تو پیاسے ہی واپس چلے آئے اور اپنے پیر صاحب کو جو کچھ دیکھا تھا اس کی رپورٹ پیش کی؟
اب نہ تو وہ پیر ہیں جو قطبوں کو پہچانتے ہوں اور نہ ہی وہ مرید ہیں کہ دیکھنے پر ضد کرتے ہوں، آج کے پیر تو اپنے سالانہ نذرانے سے غرض رکھتے ہیں مرید کے اعمالوں سے نہیں ، جبکہ مرید حفظ ماتقدم  یعنی انشورنس کے طور پر مریدی اختیار کرتا ہے کہ اگر کہیں پھنس جا ئے؟ تو حاضری دے ،سائیں کی زیارت کرے اور پیر چھوئے، آنے کا مدعا بیان کرکے چٹھی لے لے یا بہت مسئلہ بڑھ گیا ہو توفون کال سے مسئلہ حل کروالے؟  جبکہ پہلے لوگ عاقبت بنانے کے لیے مرید بنتے تھے اور اب دنیا کمانے کے لیے ؟
لہذا یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ کراچی کا قطب کون ہے کیا وہ پردہ فرما گئے یا اللہ تعالیٰ کو کراچی والو ں کی بلکہ پاکستان والوں کی کوئی نیکی پسند آگئی؟ بہر حال لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ اچھے افسروں کی ایک تثلیث آگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے وہاں کے حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں ؟جس شہر کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہاں اب کبھی امن قائم نہیں ہو گا؟ وہ شہر امن کی طرف جا رہا ہے؟ پہلے والوں نے جب بھی یہ کوشش کی ،تو پہلے جڑ پر ہاتھ ڈالا؟ نتیجہ میں شاخیں اور پتے تک سائیں کی حمایت میں نکل آئے اور بڑھتے ہوئے  اور اہلِ اقتدار کےقدم ڈگمگا گئے ۔مگر اس مرتبہ آفیسر تجربہ کار تھے، انہو ں نے جڑوں کے بجا ئے شاخوں کو ٹٹولنا شروع کیا ؟ جڑوں نے شروع میں تو کچھ اس کو اہمیت نہیں دی کہ شطرنج کے کھیل میں اگر بادشاہ کو شہ پڑ رہی ہو تو پیادوں کا پٹنا تو عام بات ہے، بڑے سے بڑا مہرہ بھی پٹوا کر شاطر بادشاہ کو بچا لیتے ہیں؟ لیکن سائیں نے انہیں جب اپنی شاخیں ماننے سے ہی انکار کردیا ۔ تو نتیجہ الٹ نکلا، وہی پتے اپنی اس بے حرمتی پر ہوا دینے لگے؟ اب افسروں کے ہاتھ ان معلومات کی بنا پر جو قربانی کے بکروں یعنی شاخوں سے حاصل ہو ئیں وہ آگے بڑھے، پھر ان کے ہاتھ شاخوں، تنوں اور پھر ڈالو ں سے ہوتے ہوئے “ سائیوں “ کی گر دن تک پہونچ گئے ،تو سائیں چیخ اٹھے ؟جس طرح ڈوبتا ہوا، تنکے کا سہارا لیتا ہے؟ پہلے ایک برسا جب اسکی باری تھی، اب دوسرا بھی افسروں پر برس پڑا؟ اس پرتالیا ں بہت بجیں جس طرح شاعر مشاعرہ لوٹ لیتا ہے؟ انہوں نے بھی جلسہ نما پریس کانفرنس لوٹ لی؟ نشہ جب اترا جب اس کی کے نتائج سخت تنقید کی شکل میں سامنے آئے ، کیونکہ نہوں نے کہنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ اب وہ دور نہیں رہا جبکہ فوجی شہر میں وردی اتار کر چلتے تھے؟ اب اچھے جنرل کا دور ہے اور پوری قوم ان کی طرف دیکھ رہی اور اس تھوڑے عرصے میں فوج نے بے انتہا قربانیاں دیکر وردی کا وقار دوبارہ بہال کردیاہے،جبکہ جمہوریت اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنا وقار بری طرح کھو بیٹھی ہے ۔لہذا اچھے کو اچھانہ کہنا بھی ظلم ہے جس طرح کسی ظالم کو اچھا کہنا ؟ بہت پرانا شعر ہے کہ “ بشر رازِ دلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے  نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بے کار ہوتا ہے “ بات زور ِ خطابت کی بھی نہیں کہی جا سکتی کہ کہنے والا ساتھ میں ہنستا بھی جارہا تھا۔ اب سائیں کے حواری اس کی تفہیم تلاش کر رہے ہیں؟ جس طرح پہلے دوسرے کے کہے کی تفہیم آئے دن ہوتی رہتی تھی؟ یہاں بھی اس پر بحث ہورہی ہے کہ کہنے والے کا یہ مطلب نہیں تھا، وہ تھا؟ سائیں! نے سنا ہے ان بھائی سے فون پر رابطہ بھی کیا ہے کہ وہ مزید گر ِتفہیم کے سکھادیں؟ کیونکہ دونوں کے درمیان انگلیڈ کے دستور کی طرح کچھ حصہ بغیر لکھا ہوا بھی ہے؟ جبکہ اراکینِ جماعت میں سے کچھ نے تو جب پارٹی نے سائیں کے بیان کی تو ثیق چاہی تو اسی موقع پر اپنے عہدوں سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیدیا ۔ کہ چھوٹے سائیں کے لیے راستہ صاف ہو جائے اور وہ جس کو چاہیں ان کی جگہ چن لیں؟ حالانکہ کے وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے، بڑے کے بجائے چھوٹے بنا دیے گئے تھے کہ ابھی کم سن ہو رہنے دو ہم سے گر سیکھو سیاست کے ؟
جبکہ پارٹی میں سے ایک صاحب جو بہت ہی معقول سمجھے جاتے تھے انہوں نے غالبا ً خالی سیٹ پر جمپ کر نے کے لیے ۔ بیان کی تفہیم تبدیل کی اور دور کی کوڑی لا نے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اس سے یہ مطلب کب نکلتا ہے جو نکالا جا رہا ہے ؟کیوںکہ انہوں نے تو اسی تقریر میں اس ادارے کی تعریف بھی کی ہے؟ شاید ان کے خیال میں اگر تعریف اور توہین ساتھ ساتھ کی جائے توصرف بھلائی لکھی جانا چاہیے تھی۔ جس طرح، برائی کے بعد نیکی کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں؟
جب کہ یہ انسان کی  پر ہوس کھوپڑی عجیب چیز ہے کہ کبھی بھر تی ہی نہیں ہے؟ اللہ کہاں سے کہا پہونچا دیتا ہے “ مگر حل من مزید “ کا نعرہ پھر بھی ختم نہیں ہو تا، جو وہاں دوزخ کے بارے میں ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ ہی کہتی رہے گی “ حل من مزید “ یعنی کچھ اور گناہ گار بچے ہیں میرے مالک! میرا پیٹ ابھی تک خالی ہے؟ اپنی زندگی میں ہم نے ایسی صرف ایک ہی مثال اور دیکھی ہے جو یہاں تک گیا ہو، مگر وہ بیچارہ ڈپٹی کمشنر تھا وہ بھی ایک ضلع کا، اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق رشوت لیتا؟ اس نے ہر ٹیبل کو ٹھیکے پر دیدیا تھا ، ٹیبل تو ہم نے برائے محاورہ استعمال کی ہے؟ اس نے، پگڑی اور بیلٹ تک ٹھیکے پر دے رکھی تھی کہ وہ اپنے نائک سے بھی پیٹی کے عیوض جس کی بنا پر وہ پٹے والا کہلاتا تھا؟ دس روپیہ یومیہ وصول کرتا تھا؟ ہم پھر پرانی یا دوں میں کھوگئے یہ وہ دور تھا جب ایسی حرکتیں معیوب سمجھی جاتی تھیں اب تو کثرت استعمال کی وجہ سے کوئی حرکت، حرکت ِمعیوب  نہیں رہی؟
کہتے ہیں کہ جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ رحم کھاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شہر یا ملک جہاں امن ناپید ہو، وہاں وہ خود بخود واپس آجاتا ہے؟ ہمارے دیکھتے دیکھتے حال کی دو تازہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں ایک ملک میں تبدیلی جس کانام “کولمبیا “ جو برائیوں کے لیے دنیا میں مشہور تھا ۔دوسرے ایک شہرمیں امن کی واپسی کہ 88 ءمیں نیویارک اپنی بد امنی کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا ، لیکن اس کی سرشت ایک مئیر نے آکر بدل دی اور اب وہی شہر جہاں لوگ سڑک پر چل پھر نہیں سکتے تھے ،وہ پر امن شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تثلیث کو سب کی گوشمالی کے لیے مبعوث فرمایا ہو ،خدا کرے کہ ہمارا گمان صحیح ہو اور ہم پر امن پاکستان دیکھ سکیں ؟  کاش اسے ہم اپنے سامنے بدلتا ہوا دیکھیں۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ جلد ہی ہماری یہ آخری خواہش بھی پوری کردے؟ (آمین)

Posted in Articles | Tagged ,

یہ نابیناؤ ں کے مسائل ِقدیمی۔۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے پہلے یہ ا سلامی تاریخ میں اس وقت نظر آتا ہے۔ جب سورہ عبس کی بارہ آیتیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے نبی (ص)کی توجہ بہت ہی محبت بھرے انداز میں نازل فرماتا ہے اور ان کی توجہ ایک ایسے نابینا کی طرف مبذول فرماتا ہے ، کہ وہ جب کوئی بات پوچھنے کے لیے دربار ِ رسالت مآب (ص) تشریف لائے اور اپنی قدرتی معذوری کی بنا پرادراک نہ کرتے ہوئے کوئی علمی سوال پوچھ لیا، اور حضور (ص)اس وقت سرداران قریش سے مصروف ِگفتگو تھے؟ ان کا مفسرین نے نام عبد اللہ بن اُمِ ِ مکتوم لکھا ہے۔ یہ ہر ایک جانتا ہے کہ جب کوئی شخص کچھ لوگوں کے سامنے اہم گفتگو کر رہا ہو اور اس کا تسلسل ٹوٹ جا ئے تواسکی وجہ سے تھوڑی بہت ناگواری ضرور محسوس کرتا ہے چاہیں کتنا ہی حلیم کیوں نہ ہو۔ یہ فعل حضور (ص) سے سر زد شاید نہ بھی ہوا ہو جو کہ تقاضہ بشریت تھا، کیوں کہ ان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر وصف میں کامل بنایا تھا؟مگر ہماری رہنمائی کے لیے؟ وہ جو کہ دلوں کے حال جانتا ہے اس نے فوراً اپنے محبوب کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ آپ کو پہلی تر جیح تقویٰ کی بنا پر ان صحابی کودینا چاہیے ۔ پھر پہلی بارہ آیتوں میں یہ تلقین ہے کہ بعضے آنکھ سے بینا ہونے کے باوجود دل کے اندھے اور کانوں کے بہرے ہوتے ہیں ۔ “ان سے بہتر ہیں اللہ کے نزدیک وہ جو دل کے بینا ہوں “ نبی  کریم (ص)جو کہ سب سے زیادہ احکامات کا خیال رکھنے والے تھے، انہوں نے ان کے ساتھ اور ان جیسے معذروں کے ساتھ اپنی بقیہ حیات منورہ میں کیسا خیال رکھا وہ یہاں دہرانے کی گنجائش نہیں ہے کہ واقعات بہت سے ہیں ؟ اسی طرح کی مثال ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے بارے میں بھی ہے۔ جن کی انہیں کی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فوراً سن لی اور سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں، ان کے ساتھ حضرت عمر (ص) کا خصوصی برتاؤ امت کے لیے سبق ہے ۔ وہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک دن جب وہ کہیں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے تو ایک خاتون  سامنے آکر ان کو نصیحتوں سے نوازنے لگیں اور ان کو ان کا ماضی یاد دلانے لگیں، جس کا لب ِلباب یہ تھا کہ تمہیں یہ سب عظمت اسلام کی وجہ سے عطا ہوئی ہے ۔ ورنہ تم کیا تھے؟جب وہ خاتون خاموش ہوئیں اور وہ ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو ساتھیوں نے کہا کہ اے امیر المونین ! آپ نے خوامخواہ ایک بو ڑھی کی باتیں سننے پر اتنا وقت خرچ کردیا ؟
حضرت عمر (رض) نے فرمایا جانتے ہو وہ کون تھیں ؟ اگر وہ پورا دن اور رات مجھے نصیحت فر ماتی رہتیں تو بھی میں صرف نمازوں کے لیے وقفہ کرتا اور ان کی باتیں سنتا رہتا ؟ اس لیے کہ یہ وہ خاتون ہیں جن کی بات اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فو راً سا تویں آسان پر سن لی تھی؟
یہ جواب سن کر ساتھیوں نے سرجھکالیا؟ اس میں ہمیں تین سبق ملتے ہیں ایک تو یہ کہ ہرایک حکمراں کو اپنی اوقات پہچاننا چاہیے کہ اسے جو کچھ ملا ہے وہ اسلام کے طفیل ہے نہ وہ مسلمان ہوتا نہ ہی اسلامی ریاست کا سربراہ یا اہلکار بنتا؟ دوسرے یہ کہ وہ ان کا بھی احترام کرے جن کو اللہ سے کسی طرح کی نسبت ہو اور کہیں سے یہ ثابت ہے کہ وہ دربارِ باری تعالیٰ میں صاحب اعزاز ہیں ، خاص طور پر جو اہلِ تقویٰ ہیں ان کا احترام سب سے زیادہ کرناہے ؟تیسرا سبق یہ کہ صحابہ کرام اور تابعین بھی وقت کی اہمیت کو بہت زیادہ ترجیح دیتے تھے کہ انہوں نے اپنی بے خبری میں خلیفہ کے اس فعل پر بازپرسی کی ؟ جبکہ ہم ہمیشہ وقت ضائع کرنے کے عادی ہیں کیا اس سے اسلام کے نام لیوا کوئی سبق لینا پسند کریں گے ؟ کیونکہ یہ تو ان کی باتیں ہیں جن سے اللہ راضی تھا اور وہ اللہ سے راضی تھے؟
اب آئیے ہم اسی سے رہنمائی لیکر اپنی باتیں کریں؟ افسوس کہ ہمارے کردار اس کے قطعی بر عکس ہیں ؟ ہم جو اہلِ تقویٰ ہیں انہیں ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں ۔اور اہل ِ اقتدار اور جو صاحب زر ہیں ان کو ہمیشہ ان پرترجیح دیتے ہیں ؟ اگر ہماری ترجیحات وہی ہوتیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول (ص) کی ہدایات ہیں، تو آج ہر مسلمان ریاست کا منظر کچھ اور ہوتا؟ کیونکہ ہمیں احساس ہوتا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جن صلاحیتوں سے، جن نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے، وہ چونکہ ہماری اپنی نہیں ہیں بلکہ بطور امانت ہماری تحویل میں دی گئیں ہیں اور اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے ہم امین بنا ئے گئے ہیں! اس لیے نہیں کہ اس میں ہم خیانت کریں ؟
بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے امیروں کو منتخب کرنے کا جو ووٹ کی شکل میں حق دیا ہے جس کے لیے ہم سب مکلف ہیں کہ ہم اپنا ووٹ ان کے لیے استعمال کریں جو متقی ہیں ؟ مگر ہم ووٹ دیتے ہوئے اس کو با الکل نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ہمارا رویہ قرون ِ اولیٰ کے مسلمانوں سے قطعی مختلف ہے۔ زیادہ تر ووٹ ہم خوف کی وجہ سے دیتے ہیں کیونکہ ہمارے کان میں یہ امید وار کی طرف سے کہدیا جاتا ہے کہ بچو! یاد رکھنا کہ رہنا تو یہیں ہے ،واسطہ تو ہمیں سے پڑیگا ؟ جبکہ مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا ہو؟ پھر دوسری ترجیح ذات برادری ہے اور اپنا آدمی ہے، بلکہ اول ترجیح ذاتی مفادات ہیں کہ ہمیں اس سے کیا فائدہ پہونچے گا؟ بات بنے تو کیسے بنے؟ آپ پتھروں میں اگر دل تلاش کریں گے تو اپنا ہی سر پھوڑلیں گے؟ اس میں مجبوریاں بھی حائل ہیں، کہ پہلی مجبوری تو یہ ہے کہ اصل اورنقل کو کیسے پہچانیں ۔ کیونکہ جو اہلِ تقویٰ ہیں ان کی دکانیں نہیں پروپیگنڈہ کرنے والے چیلوں کی فوج نہیں ہے وہ صرف کردار سے پہچانے جاتے ہیں ؟ ان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے نیچے کتنے کروڑ کی کار ہے ؟ بلکہ یہ “ آو بھگت ہو تو انہیں خوشی نہیں ہوتی ،نہ ہوتو غم نہیں ہوتا ہے“  البتہ جعلی اہلِ تقویٰ کی باقاعدہ دکانیں ہیں، چیلوں کی فوج ہے ۔ جس سے لوگ مرعوب ہوتے ہیں ؟ لہذا ہم انہیں کو اپنے ووٹ سے نواز تے ہیں جو نام ونمود کے قائل ہیں ؟
پھر ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انصاف کریں گے؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فائیلیں دبی کی دبی رہتی ہیں جن کے پہیے نہیں ہوتے؟ان میں میں ایک مسئلہ یہ نابیناؤں کا بھی ہے؟ جو پاکستان بنتے ہی معرض ِ وجود میں آگیا تھا ؟ ان میں وہ نابینا شامل تھے جن کے دیکھ بھال کرنے دوران فساد شہید ہوچکے تھے۔ اب ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا کہ ان سے کسی کو کیا لینا اور وہ ایسا بار تھے جن کو کوئی بھی قبول کر نے کو تیار نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد ابتدائی دنوں میں نابیناؤں کی ٹولیاں کی ٹولیاں اجتماعی یا انفرادی طور پر بھیک مانگنے کے لیے نکلا کر تی تھیں اور کچھ با جماعت  اور بقیہ بے جماعت آواز لگاتی تھیں کہ “ با با انکھیاں بڑی نعمت ہیں “چونکہ اس زمانے میں کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا ۔ اور غیر ملکی سربرا ہان مملکت دورے کرتے رہتے تھے اس لیے کہ ملک نیا نیا، بنا تھا اور وہ بھی اسلام کے نا پر؟ یہ چونکہ راستوں پر کھڑے ہواکرتے تھے اور ان اہلِ اقتدار کو شرمندہ کرنے کا باعث بنتے تھے جن میں شرم باقی تھی ۔ انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ سب کو پکڑ کر ایک دن پولس لے گئی اور گھارو کے پاس محتاج خانے( بیگر ہاؤس) میں لے جاکر چھوڑ دیا؟ یہاں سے ان کے معاملات میں پولس دخیل ہوئی اور رشوت کا بازار گرم ہوا، کچھ پیسے دے کر وہاں جانے سے بچ گئے، کچھ ہاتھ نہیں آئے نقل ِ مکانی کرکے پورے ملک میں پھیل گئے، جو بچے وہ گینگ والوں کے ہاتھ آگئے اور ان کے ذریعہ پولس کی کمائی کا ذریعہ بن گئے؟ جیسے کہ ہمارے یہاں جیلوں کا نظام ہے کہ وہاں کنکر ملی پتلی مسور کی دال ملتی ہے ،یہاں بھی وہی ان کو دی گئی جبکہ وہ اس کے عادی نہ تھے کیونکہ وہ گھروں کو چھاننے اور مرغن غذاؤں کے عادی ہوچکے تھے۔ دوسرے وہاں انہیں کرنے کے لیے کوئی کام بھی نہیں تھا اگر حکومت وہاں ان کو معاشرے کے لیے کار آمد بننے کا موقع دیتی اور کوئی ہنر سکھانے یا ان کی تعلیم کا بندوبست کرتی تو آج نتائج کچھ اور ہوتے۔ وہ اس ماحول سے اکتا کر بھاگتے رہے اور راز جب کھلا کہ ان میں کے تین مفرور کراچی آنے والی پانی کی پائپ لائین کا دروازہ توڑ اس میں کود گئے اور پانی انہیں بہا لے گیا پھرپائپ لائین کو صفائی لیے بند کر نا پڑا ؟ اس کے بعد ذکر کبھی نہیں ہوا کہ اس امحتاج خانے کا کیا ہوا؟ اگر بجا ئے اس کے حکومت انہیں تعلیم دیتی دستکاری سکھاتی تو آج وہ معاشرے میں ضم ہوچکے ہوتے ، حالانکہ پاکستان بننے سے پہلے پورے ہندوستان میں بصارت سے معذور لوگوں کے اسکول قائم ہو چکے تھے ، اور وہاں کے فارغ التحصیل ایک صاحب کا جو پاکستان آکر ایوب خان کے دور میں ایک شہری مسلم لیگ کے صدر بن گئے تھے ، کو غیر ملکی مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے پیش کیا جاتا تھا کہ یہ راجھتسان سے پہلے معذور گریجویٹ ہیں ۔ ایک اور صاحب کو بھی میں جانتا ہوں جو کرامتی طور پر تشریف لائے ، یہاں آکر تعلیم حاصل کی اور وہ ایک یونیورسٹی میں ایک شعبہ کے سر براہ بنے۔ لیکن وہ انفرادی کوششیں تھیں جو دال میں نمک کے برابر تھیں؟ ان کے مسائل اپنی جگہ رہے نہ کسی سیاستدان نے ان کے لیے کام کیا نہ کسی مخیر نے اور نہ ہی کسی چیف جسٹس نے نوٹس لیا؟ اور آج بھی صورت ِ حال یہ ہے کہ خواجہ سراؤں تک مسائل حل ہو گئے اگر نہیں تو ان کے؟ سب کے حامی موجود ہیں ان میں ملکی اور غیر این جی اوز بھی ہیں ؟ مگر نہیں ہے تو ان بیچاروں کا کوئی پرسان حال؟ وہ ہڑتال بھی کرتے ہیں تووسیع دسترخوان والے مخیر حضرات حرکت میں نہیں آتے کہ ان کو کم ازکم اس وقت بھوک مٹانے کا کوئی بندوست کر دیں جب وہ اپنی جانیں سڑکوں پر خطرے میں ڈالے لیٹے ہوں ؟
اب کئی مہینے سے صورتِ حال یہ ہے کہ وہ لاہور میں ہڑتال کا شغل اپنا ئے ہوئے ہیں ، اور صرف ان وعدوں پر عمل چاہتے جو صوبائی حکومت وقتاً فوقتاً ان سے کرتی رہی ہے؟ وہ پورے یوں نہیں ہوسکے کہ اگر ملازمتوں میں جو ان کا کوٹہ ہے وہ ان کو دیدیں ۔ جبکہ ساری آسامیاں برائے فروخت ہیں تو وہ نقصان کہاں سے پورا ہو گا لہذا خبر یہ ہے کہ کئی محکموں نے وزیر اعلیٰ کے احکامات کانوٹس ہی نہیں لیا؟ جبکہ عذر ِ لنگ یہ ہے کہ بقول ایک وزیر کہ “ ان کے گروپ بہت ہیں ؟ ایک گروپ کی مانتے ہیں تو دوسرا ناراض ہو جاتا ہے؟ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہر حکومت پچھلی سات دہائیوں سے ہر چیز کے نفاذ میں ڈھال بنا لیتی ہے؟ مثلا ً اسلام اس لیے نافذ نہیں ہوسکا کہ فرقے بہت تھے ،لہذا کونسا اسلام نافذ کریں ؟ شاید “اردو“ بھی اسی لیے نافذ نہیں ہوسکی کہ کونسی اردو؟ الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں جن کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ عمارت میں اینٹوں کے مانندہوتے ہیں کہ ہر اینٹ سے دوسری اینٹ کو تقویت ملتی ہے؟ جبکہ ہماری صورت حال مختلف ہے؟ ہر اینٹ دوسری اینٹ سے بھاگتی ہے ؟اگر ان معذوروں کے رشتہ دار ہی انہیں اپنا لیں تو بھی ان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ کیونکہ ہمارے یہاں صلہ رحمی کا بدلہ دہرے ثواب کی شکل میں ملتا ہے اوردرازی عمر اور رزق میں برکت مفت میں عطا ہوتی ہے؟ جبکہ اس کی سزا جلد ہی دنیا میں ہی ملنے کے بارے میں قرآن اطلاع دے رہا اور بعد میں آخرت میں جو سزا ملے گی وہ تو ملے گی ہی۔ ہے کوئی اس پر کان دھرنے والا؟
 

Posted in Articles | Tagged ,

بیٹاتو ہی ہارجا ؟ورنہ یتیم ہوجائے گا؟۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

بہت پرانی بات ہے کہ ایک سینما کے مالک کو ہم قرضہ دیکر پھنس گئے! گوکہ ہم نے بچپن سے ہی عہد کرلیا تھا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعامانگی تھی کہ اللہ ہمیں وہ شوق ہی نہ دے جس کی بنا پر ہمارے والد صاحب ہم سے ناراض ہوں، مگر ہمیں مجبوراً کچھ فلمیں دیکھنا پڑیں اور عہد توڑنا پڑا۔ قصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں نہ تو ریڈیو تھے نہ ٹی وی نہ آج والی جدید ایجادات لے دے کر سینما تھے وہ بھی خاموش ا نہیں دیکھ سکتے تھے پردہ سیمیں پر متحرک تصاویر نظر آتیں، ہونٹ ہلتے نظر آتے ،رہی تفہیم وہ اپنے تجربہ اور ظرف کے مطابق ہر ایک خود ہی کرلیتا تھا۔ اس لیے کہ اس وقت قوت گویائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ تھرکتی پر چھایاں تردید کرنے پر قادر نہ تھیں، بہت عرصہ کے بعد سائنسدانوں نے اپنی ایجادات  کومزید نکھار کر اسے قوتِ گویائی عطا کی؟
اسی زمانہ کی بات ہے کہ ہم سینما کے باہر پوسٹر دیکھ کرجو ہمیں کہیں بھی جائیں راستے میں پڑتا تھا اس میں ہم نے کسی اسلامی تاریخ سے ماخوذ فلم کاپوسٹر دیکھا،  چونکہ ہمیں بچپن سے ہی اسلامی تاریخ میں بڑی دلچسپی تھی، بہت متاثر ہوئے اور والد صاحب سے درخواست کربیٹھے کہ ہم یہ فلم دیکھنا چاہتے ہیں ! جواب ملا کہ شرفا فلم نہیں دیکھتے ہیں؟ اس پرہم نے عہد کیا کہ ہم آئندہ فلم نہیں دیکھیں گے۔
مگر بدقسمتی کہ پاکستان بننے کے بعد جب ہم ہجرت کرکے وہاں پہونچے تو ایک سینما مالک کے چکر میں آگئے؟ آپ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ سینماکا مالک کیا ہوتا چیز ہوتا ہے؟ حالانکہ ہم انہیں کالموں میں پہلے بھی یہ واقعہ کئی دفعہ رقم کرچکے ہیں جس میں بہت ہی واضح سبق موجود ہے کہ اس سے بچو! کہ وہ عہدوں اور قسموں کے توڑنے پر مجبور کردیتا ہے اور خود یہ کہہ کر بات ختم کردیتا ہے کہ عہد قرآن و حدیث تھوڑی ہیں ؟ مگر ہمارے یہاں اپنے بزرگوں سے سبق لینے کا رواج ہی نہیں ہے ؟اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کی ابتدائی معلومات پر جنہوں نے فائدہ اٹھایا وہ اس پرمزید تحقیق کرکے محل کھڑے کرچکے ہیں جبکہ ہم واپس چرخے کے دور میں چلے گئے ۔ ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں وہ سب تو اپنے اپنے دور کے چاند اور سورج تھے ان کے تجربے سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا ۔  جبکہ ہم ایک ذرہ بھی نہیں ہیں؟ لہذا ہمارے تجربے سے بھی کسی نے فائدہ نہ اٹھایا اور پوری قوم ایک سینما کے مالک کے چکر میں آگئی اور آج تک نہیں نکلی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تصویریں تو بہت دکھائی دیتی ہیں لیکن اگر چھونے کی کوشش کریں تو دیوار سے انگلیاں جا ٹکراتی ہیں اور چھونے والا نادم ہوکر وپس آجاتا ہے۔
۔یہ بات یونہی بیچ میں آگئی۔ ہم بات اپنی کر رہے تھے کہ پہونچ کہیں سے کہیں گئے؟ اس سے وصولی کا طریقہ یہ تھا کہ ہر مرتبہ نیا جوتا خرید تے اور جب اس کی تلی گھس جاتی تو وہ کہتے کہ ہم نے قرض خواہوں کی باری لگائی ہوئی آج آپ کی باری ہے جو آج ٹکٹوں کی فروخت سے رقم ملے وہ آپ لے جائیں؟ لہذا مجبوراً پوری فلم ہمیں دیکھنا پڑتی اس میں کئی فلمیں دیکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس میں ایک پنجابی فلم بھی تھی جس کا نام اب یاد نہیں کیونکہ وہ آج سے ساٹھ سال پہلے دیکھی تھی مگر اس میں کہانی کا ایک حصہ قابل ِ ذکر تھا کہ کسی بات پر دوپارٹیوں میں لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک کا بیٹا موٹا تازہ تھا، مگر اس کے برعکس اس کا باپ لاغر تھا، جبکہ دوسرے کا بچہ لاغر اور اس کا باپ موٹا تازہ تھا؟ اس نے چیلنج کردیا کہ اس کا فیصلہ اس پرہوگا کہ اگر میرا بچہ تیرے بچے سے ہار گیا تو فائینل کے طور پر میری اور تیر ی کشتی ہوگی ؟دونوں بچے اپنے ، اپنے داؤں پیچ دکھا رہے تھے اور باپ اپنے بیٹے کے آگے ہاتھ جوڑ ، جوڑ کر کہہ رہا تھا بیٹا تو ہی میری خاطر ہار جا ؟ ورنہ اس کا تو کچھ نہیں بگڑیگا البتہ تو یتیم ہوجائے گا؟
بالکل یہ ہی صورتَ حال ہم نے آجکل اپنے ملک پاکستان میں دیکھی کہ جوکو ئی بھی با ضمیر کبھی غلطی سے آجا تا ہے اور تھوڑا دم وخم دکھاتا ہے ،کچھ امید بندھتی ہے !عوام خوش ہونے لگتے ہیں کہ اب ہمارے دن پھر نے والے ہیں، تبھی کوئی جمہوریت کا چمپین ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ ساتھیوں مان جاؤ؟ ورنہ جمہوریت ختم ہوجائے گی اور تم سب سیاسی طور پر یتیم ہو جا ؤگے؟ چونکہ باضمیر اپنے سے پہلے گزرنے والے باضمیروں کا حشر دیکھ چکے  ہیں اورہیں بھی بال بچے دار، جبکہ ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف خندق !تمام کس وبل دیکھتے ہی دیکھتے نکل جاتے ہیں جیسے کہ غباروں میں سے ہوا نکل جاتی ہے؟ کیونکہ ایک آدھ پھکڑ لیڈر کی طرح سب تو چھڑے چھانٹ اور سیلف میڈ نہیں ہیں۔ بلکہ زیادہ تر خاندانی لوگ ہیں جو سونے کا چمچہ لیکر پہلے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ان میں سے ہیں ، جنہیں کانسٹی ٹیونسی اورسیاست وراثت میں ملتی ہے۔ جبکہ عوام پھر سوچنے لگتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی اچھے انسان کو بھیج دے گا ،؟ اور پھر وہی تجربہ دہرانے لگتے ہیں ؟ جب کہ اس کے اس سبق کو بھول جاتے ہیں کہ نصرت الٰہی کے لیئے اس کے اپنے کچھ اصول ہیں؟ مشکل یہ ہے کہ وہ نبی (ص) کا اسوہ حسنہ میں ملتے ہیں!جس میں قرآن ، ہمہ اقسام کی وحی اور سنت شامل ہے۔ مگر قوم کے پاس اس پر عمل کی بات تو چھوڑیں، اسے پڑھنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ ہر طرف شدت پسندی کا دور دورہ ہے جبکہ قرآن سورہ نحل کی آیت نمبر 9 میں کہہ رہا کہ ” اللہ تک پہونچنے کا راستہ میانہ روی میں ہے ” رہے اہلِ اقتدار انہیں اس سے زیادہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ لوگ اسی میں خوش ہیں اور اسی تنخواہ پرکام کرنے کو تیار بھی۔ یہاں تک کہ اب پانی پر بھی انہوں نے اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ جو تعمیرات سے بچتا ہی نہیں ہے کہ عوام کے ہونٹوں تک پہونچے؟ زندہ تو زندہ مردوں کو بھی میسر نہیں ہے کہ وہ اسے غسل دیکر سپرد ِ خاک کر سکیں ؟

 

Posted in Articles | Tagged ,

شاید بچا ہو وقت ، ابھی مان جائیے۔۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی

اچھا برا ہے کیا پہچان جا ئیے۔شاید بچا ہو وقت ابھی مان جائیے۔۔۔ آج میں اپنے ہی اس شعر سے مضمون کی ابتدا کر رہا ہوں؟ جس کی جراءت شاید ہی مجھ سے پہلے کسی مجھ جیسے چھوٹے آدمی نے کی ہو؟ یہ میں شعر اس لیئے استعمال کر رہا ہوں کہ آج کا دور تو بہت ی مصروف دور ہے۔ جب لوگوں کے پاس بہت سافالتو وقت تھا تو بھی وہ اشعار کو بڑے سے بڑا مضمون بیان کر نے کے لیئے ترجیح دیاکرتے تھے ۔ جبکہ آج نہ تو وہ سخن فہم لوگ ہیں اور نہ ویسے صاحب ذوق؟ جیسے کہ یہ شعر ع  “حد سے نہ بڑھا پاکی ِ داماں کی حکایت  دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ “ غور فرمائیے کیسا منہ سے بولتا شعر ہے اور اس میں کمال کی منظر کشی ہے؟
اپنے ایک پچھلے مضمون میں، میں نے اپنی مسلمان بہنوں کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ وہ ہوشیار ہوجا ئیں اب شدت پسندی کے ہاتھوں ان کی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اب اسی کے ساتھ بھائیوں کی بھی توجہ اس طرف مبذول کرا رہا ہوں۔جبکہ اس عفریت کے ہاتھوں انکی ازدواجی زندگی بھی محفوظ نہیں ہے اور یہ عفریت اس راستے سے بھی بستے ہوئے گھروں کو بھی ڈسنے لگی ہے۔ جسے ملا اور ملانیوں کے علاوہ ان کے پیرو کٹھ ملے، یاملانیاں چلا رہی ہیں جو انہیں کے معتقد ہیں ۔اور وہی جدید ذرائع یعنی سوشیل میڈیا کے ذریعہ ہر گھر میں گھس گئے ہیں ۔
جہاں حصول جنت بہت ہی آسان بتایاجارہا اور اتنی تحریص اسکے ذریعہ پھیلائی جارہی ہے جس کا گواہ ایک تازہ واقعہ ہے کہ آسٹریلیا کی ایک شادی شدہ خاتون اپنے شوہر سے طلاق لیے بغیر اور ان کو اطلاع دیے بغیر شام میں جہادیو ں کی خدمت کرنے چلی گئیں ۔اور آیا کے پاس اپنے دو سال اور پانچ سال کے دو بچے چھوڑ گئیں؟ اس میں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ شوہر نے یہ جان لیا تھا کہ ان کی بیوی کے کسی جہادی خاتون سے تعلقات ہوگئے ہیں ۔ جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی ؟ یہ ہی غفلت انہیں لے ڈوبی ؟ اگر وہ ذرا سی بھی توجہ دیتے تو شاید نوبت یہاں تک نہیں آتی؟ اور آج اپنی ایک عشرے پر محیط ازدواجی زندگی کاماتم نہیں کر رہے ہوتے؟
اسلام پر اس سے برا وقت اسے پہلے کبھی نہیں آیا؟ سب سے برا وقت وہ تھا جبکہ خارجیت نے سر اٹھایاتھا؟ اس کے باوجود کہ حضور (ص) نے اسکی اطلاع بہت پہلے دیدی تھی؟ ان کے حلیہ تک بتادیے تھے یہ بھی بتادیا تھا حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے مدینت العلم کو کہ ان کی قراءت تم سے اچھی ہوگی ۔ شکلیں نورانی اور مقدس ہونگی اور وہ آخر میں تمہارے ہی ہاتھ سے مارے جائیں گے۔؟اگر تاریخ میں جائیں تو یہ سب آپ کو وہاں مل جائے گا، خارجی بھی آج کی طرح اسی خبط میں مبتلا تھے، کہ صرف ہم ہی مسلمان ہیں باقی سب قابل ِ گردن زدنی ہیں ان کا مال اور جان اور عزت ہمارے لیے سب حلال ہے؟ جبکہ اسوقت ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی وہ خاکِ پا کے برابر بھی نہیں تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا۔ عام آدمی کی تو بات ہی کیا آخری وقت تک بڑے بڑے جید عالم اور کچھ صحابہ کرام (رض) مذبذب رہے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس کی ابتدا بھی اس دور کے عمال کے ہاتھوں نا انصافیوں سے ہوئی؟ چونکہ اس وقت ان کی قیادت حفاظ کے ہاتھوں میں تھی لہذا انہیں کی قیادت میں انہوں نے دارالحکومت کی طرف رخ کیا ان کے مطالبوں میں ان ظالم قسم کے حکام کو بر طرف کرنے کامطالبہ تھا۔ جنکا سرخیل مروان بن الحکم تھا جس کے والدالحکم بن امیہ کو حضور (ص) نے مدینہ منورہ بدر قرار دیکر جلاوطن فرمادیا تھا اور وہ طائف میں قیام پذیر تھا، بعد میں حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) بھی اسی پر عامل رہے ان کے وصال کے بعد اسکی نہ صرف جلا وطنی ختم ہوگئی بلکہ اس کے بیٹے مروان کو حضرت عثمان (رض) سے شرفِ دامادی حاصل ہوگیا اور وہ حضرت عثمان (رض) کاکا تب (سکریٹری ) بھی بن گیا اور مہر خلافت اس کے پاس رہنے لگی ، چونکہ وہ جعل سازی میں ید طولا رکھتا تھا لہذا وہ جعلی فرمان اورجعلی مکتوب ان کی طرف سے جاری کرنے لگا۔ وہ عامل جو اس سے متعلق تھے شیر ہوگئے اور عوام پر ظلم کرنے لگے ۔اس کی وجہ سے حالات نے یہ موڑ لیا؟ دوسری طرف حضرت عثمان  (رض)نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے اور خارجیوں کے درمیان ثالث مقرر کردیا ان کی کوششوں سے وہ مطمعن ہوکر اور محاصرہ چھوڑ کر واپس چلے گئے اور ابھی وہ راستہ میں ہی تھے کہ اس نے ان کے مطالبوں کی شکل میں؟جب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی موت محسوس کی تو اس نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا کہ ایک جعلی خط حضرت عثمان (رض) کی طرف سے بھیجا جس میں خارجی لیڈروں کی موت کاحکم عمال کے نام تھا۔ جو راستے میں واپس جاتے ہوئے خارجیوں نے پکڑلیا؟ وہ واپس آگئے مدینہ منورہ کا دوبارہ محاصرہ کرلیا؟ اس مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مداخلت کرنے سے انکار کردیا کیونکہ گزشتہ معاہدے پر حضرت عثمان (رض) کے نرم الطبع ہونے کی وجہ سے کوئی پیش رفت ہی نہیں ہوئی تھی۔ جب خارجیوں نے کوئی مزاحمت نہ دیکھی تو ان کی ہمتیں اور بھی بڑھیں اور انہوں نے حضرت عثمان (رض) کے گھرکا محاصرہ کرلیا۔تمام شہر بدستور غیر جانبداری اختیار کیے رہا اور اس فتنے کو اہمیت نہ دی؟ جو اس سے ثابت ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کی طرف سے تلوار اٹھانے کی اجازت چاہی ان کے نام تاریخ میں میں موجود ہیں جنکی تعدادانگلیوں پر گنی جاسکتی ہے؟ اس پیشکش کو بھی انہوں (رض) نے یہ فرماکر رد کردیا کہ میں اپنے  (رض)اقتدار کے لیے خون نہیں بہانا چاہتا، اپنے غلاموں اور مزید یہ کہ اپنے ذاتی محافظوں کو بھی رخصت کردیا جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق سات سو تھی ! وہی محاصرہ ان کی شہادت پر ختم ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ
پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سب نے زور ڈال کر خلافت کے لیے تیار کیا جس کی لیے وہ با لکل تیار نہ تھے؟ پھر بھی انہوں نے مشروط طور پر اسے قبول کیا کہ اگر تین دن تک کوئی خلافت کا دعویدار پیدا نہ ہو تب وہ قبول فرما ئیں گے ؟ جب تین دن تک بھی کوئی تیار نہ ہوا تو انہیں خلافت قبول کرنا پڑی ۔ اس کے بعد ان کے اپنوں نے ہی نا سمجھی میں انوکھے مطالبات کاشروع کر دیے کیونکہ سابقہ فتنہ ابھی تک مروان کی شکل میں موجود اور سرگرم تھا؟ ان مطالبات میں سب سے اہم حضرت عثمان (رض) کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دینا تھی؟ دیکھنے میں یہ مطالبہ بڑا آسان لگتا تھا،جوکہ انہیں حکام کی طرف سے کیا گیا جن کااب بھی مروان مشیر اعلیٰ تھا، اس پر انہوں نے قطعی غور نہیں کیا کہ مدینہ منورہ ابھی تک محاصرہ کی حالت میں ہے؟ حالانکہ یہ بات بخوبی ان اپنوں کے علم میں بھی تھی جو صبح تک حضرت علی کرم اللہ وجہ کو خلیفہ بنا نے پر پورا زور صرف کر رہے تھے ،مگرشام کو وہی یہ مطالبہ لیکر آئے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسکے لیے کچھ وقت مانگا تاکہ وہ حالات کو سنبھال سکیں ؟ وہ ناراض ہوکر مکہ معظمہ چلے گئے جبکہ مروان پہلے ہی لوگوں کو وہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف مشتعل کر رہا تھا جو حج کے لیئے گئے ہوئے تھے۔ جبکہ دوسری طرف مدینہ منورہ کی آبادی بدستور غیر جانبدار رہی؟ دوسرے کوئی عینی شہادت حضرت عثمان (رض) کے قاتلوں کے سلسلہ میں موجود ہی نہ تھی کہ حضرت عثمان (رض) کوکس نے شہید کیا کیونکہ خارجیوں کے سوا وہاں اور کوئی موجود ہی نہ تھا سوائےان کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ کےجن کا تعلق قبرص سے تھا وہ مقامی لوگوں پہچانتی بھی نہ تھیں۔جبکہ خارجی سب یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے کہ ہم سب نے مل کر حضرت عثمان  (رض)کو قتل کیا ہے جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، تاکہ ان میں سے کسی کا مواخذہ نہ ہوسکے؟
اگراسوقت بھی اہلِ مدینہ اپنی غیر جانبدار ی ختم کردیتے تو شاید تاریخ کچھ اورہوتی؟ مگر سب اسی مسئلہ پر مذبذب رہے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں اور جہاد صرف کافروں کے ساتھ لکھا گیا ، وہ ہم نے حضور (ص) ہمراہی میں بخوبی کرلیا جو ہماری لیے کافی ہے ؟
آج ہم بھی اسی طرح تذبذب کا شکارہیں کیونکہ تاریخ سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ ان کی شکلوں سے مرعوب ہوجاتے ہیں ان کے بیانوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں جبکہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ “ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کر لیتے ہیں “۔ جس کے وہی نتائج نکل رہے ہیں جو ہمارے سامنے آج آرہے ہیں ۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہم میں اچھی خاصی تعداد شدت پسندوں سے ہمدردیا ں رکھتی ہے یا مذبذب ہے۔ یادرکھیے یہ مذہب چونکہ قیامت تک لیے ہے؟ اسی لیے اس میں ہر موقع اور محل کے لیے اسکے رہبر محمد مصطفی نے تمام احکامات پہلے ہی دیدیے تھے کہ “ اگر ایسا ہو تو ایسا کرنا؟ انہیں میں شدت پسندی کے خلاف کاروائی کرنے کاحکم بھی شامل ہے؟ کیونکہ اسلام اور شدت پسندی دو علیٰحدہ چیزیں ہیں ۔ جنہوں نے اس صدی کے اوائل میں اسے فروغ دیا تھا، اپنے مزموم عزائم کو حاصل کرنے کے لیے۔ وہ اب خود اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ؟اس کا حل یہ ہی ہے کہ اسوہ حسنہ (ص) کی روشنی میں تمام امت شدت پسندی خلاف کے خلاف متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوجائے،اور سب ملک کر اسکاتدارک کریں۔ اللہ ہمیں وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
ہمارے پاس ابھی وقت ہے کہ اپنی سوچ کو بدلیں ،اور ان کے فلسفہ جھٹلادیں جو ساری توضیحات اسلام سے ہی پیش کر کے ہماری ہمدریاں حاصل کر رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی اس طرز حکمرانی کا  وہ  بیش بہا نمونہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ آئندہ چل کرکیسے حکمراں ثابت ہونگے ؟ جو کے سراسر اسلام کی روح کے خلاف ہے؟ یہ تضاد اس وجہ سے ہے کہ وہ انہیں کا تسلسل ہیں جنہوں نے انہیں پہلے یہ ہی تعلیم دی تھی ۔

 

Posted in Articles | Tagged ,

ابھی تو شرم خود شرمارہی ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

کبھی سندھ کی روایت یہ تھی وہاں کے کتے اتنے غیرت مند ہوا کرتے تھے کہ مالک کے “بجھا “(کسی کو بطور لعنت پانچوں انگلیاں دکھانا)دکھانے سے شرم سے مرجایا کرتے تھے؟ اور مالک کو جب پتہ چلتا تھا کہ اپنے کتے کے ساتھ اس سے ناانصافی ہوگئی ہے ، کتا قطعی بے قصور تھا اور اس نے غلط “ بجھا“ دکھا یا جو اسکے صاحب ِ غیرت ہونے کی وجہ سے اسکے لیے جان لیوا ثابت ہوا؟ تو وہ اپنے اظہار تاسف کے طور پر کتے کا مزار بناکر اس ظلم کی تلافی کرتا تھا؟جو کہ “ کتے جو قبہ “ (کتے کامزار )کے نام سے آج بھی موضع ساڈونی کے قریب ضلع سانگھڑ (سندھ) میں موجود ہے۔ اور یہ بھی رواج تھا کہ ہر برے آدمی کا نام جب کسی محفل میں آتا تھا لوگ توبہ ،توبہ کرتے ہوئے ناک اور کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے؟ آج کی طرح نہیں کہ اسکی تعریف کریں کہ “ایک مکاری سب پر بھاری “
جو لوگ وہاں کے قدیم باشندے نہیں ہیں وہ تو جو چاہیں کریں کیونکہ وہ سندھی تہذیب سے واقف نہیں ہیں؟ مگر مجھے تو حیرت ان پر ہورہی ہے کہ وہ بھی انہیں جیسے ہوگئے جو وہاں کے مقامی باشندے اورسندھی تہذیب کے امین تھے؟ اگر وہ اپنی راہ پرقائم رہتے تو انکی دیکھا دیکھی شاید باہر سے آنے والے بھی انہیں راہوں پر چلتے جن پر وہ چلتے آرہے تھے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میں 1948 کی دیتا ہوں کے کراچی میں جب بھانت بھانت کے لوگ پہونچے تو بس اسٹینڈ پر آوارہ لڑکے کھڑے ہوکران لڑکیوں پر آوازیں کس نے لگے جو حصولِ تعلیم کے لیے اسکول اور کالجوں کو جارہی ہوتی تھیں۔ یونیورسٹی اسوقت تک کراچی میں تھی نہیں لہذا اس میں موجود ،موجودہ مسائل بھی نہیں تھے کہ لوگ اب تو وہاں غیر تدریسی مشاغل کے لیے بھی جاتے ہیں جس میں سیاسی غلبہ اور دہشت گرد بننا بھی شامل ہے ۔ حتیٰ کہ اسوقت عدالتوں کے ازخود نوٹس لینے کا رواج ہی نہیں تھا ۔ کیونکہ حکومت خود کان اور آنکھیں رکھتی تھی اور انہیں کسی کی طرف سے مصلحت کے تحت بند نہیں کرتی تھی ۔ لہذا فوراً اس کے تدارک کے لیے حکومت کو سیفٹی ایکٹ یاد آگیا چونکہ دستور ابھی بنا نہیں تھا اور اس میں بائیس تک ترمیمیں بھی نہیں ہوئی تھیں نہ ا ٹھارویں ترمیم تھی؟ جو کسی کی ڈھال بن جائے؟ لہذا اسی قانوں کے تحت چیف منسٹر سندھ غلام علی تالپور (مرحوم) وزارتِاعلیٰ سے معزول کرکے مٹھی جیل میں اونٹ پر بٹھاکر بھیجد یتے تھے ،اور ابراہیم جلیس جیسے صحافی کو بھی جن کا قلم ذرا تیز تھا، بس یوں سمجھ لیں کہ یہ واحد قانون تھا جو ہر مرض کی دوا تھا یعنی محمود اور ایاز دونوں کے لیے ایک ہی قانون استعمال ہوتا تھا، لہذااسی کی تحت ایک قانوں بنانا پڑا تاکہ اس برائی سے نبٹا جاسکے ؟ یہ اس وقت چونکہ انوکھی بات تھی ،اس سے پہلے ایک کی ماں سب کی ماں اور ایک کی بیٹی یا بہن، سب کی بیٹی یا بہن ہوا کرتی تھی اور کوئی ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا؟ اس پر مزاحیہ شاعر ظریف جبلپوری مرحوم نے ایک قطعہ کہا تھا کہ
“ چچی لیلیٰ کی گر خفا ہوجاتی، ساری وحشت قیس کی ہوا ہو جاتی ، اس زمانے کے لوگ تھے “ حیا “ والے، بیٹا اس دور میں ہوتے تو سزا ہوجاتی“ اچھا ہوا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی اٹھا لیا اگر وہ آج کا ماحول دیکھتے تو جانے اورکیا کیا کہہ جاتے؟ اسوقت انہیں دینے کو صرف ایک ہی مثال ملی وہ بھی عرب کی، سندھ کی نہیں؟ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ سندھی تہذیب عرب سے بہت متاثر تھی،اوپر والی مثال تاریخ میں بہت مشہور ہے اور مورخین کا اس پر اختلاف بھی نہیں ہے کہ وہ ماں باپ عرب تھے جن کی بیٹی کا نام قیس نامی ایک شخص ہروقت جپتا رہتا، لیلیٰ کا کہیں آناجانا تک اس نے مشکل کررکھا تھا؟ وہ اسکی محمل کے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا اور ماں باپ صاحب ِ اقتدار ہونے کے باوجود اسے کچھ نہیں کہتے کہ “ پاگل ہے کیا کہیں ؟اگر آج کا دور ہوتا تو ایک اشارے کی دیر ہوتی اور مجنوں کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں گیا؟ بعد میں پھانسی سے پہلے کوئی ملزم اعترافات کی جو فہرست سو ادوسو آدمیوں کے قتل کی میڈیا کو دیتا تو اس میں اسکا نام بھی شامل ملتا؟ اور اس تمام واقعہ پر صرف صاحب معاملہ کایہ کہنا کافی ہوتا کہ یہ سب جھوٹ ہے؟اس کی بات کوتمام لوگ مانتے کہ وہ ان کا سردار جو ہوا؟اور ٹی وی پر بڑھ چڑھ کر اسکا دفاع کر رہے ہوتے؟
اسی طرح کسی دوسرے سردار پر کوئی اور اسکا ہی پرنا ساتھی لعنت ملامت کر رہا ہوتا اور اس کے بیڈ روم تک کے راز کھول رہا ہوتا اور وہ سردار صرف یہ کہدیتا کہ میں اس کی باتوں پر کیا کہوں؟
اس صورت ِ حال پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے؟ کیونکہ اب یہ تہذیب صرف سندھ تک نہیں پورے ملک میں پھیل گئی ہے، کوئی کسی سے کچھ اس لیے کہ نہیں کہتا کہ جمہوریت نام ہے مک مکاؤ کا؟ اسکا پہلا اصول یہ ہے کہ “ میں تیرا پردہ رکھوں تو میرا پردہ رکھ ؟ تجھے میری طرف سے چھٹی ہے، مجھے تیری طرف چھٹی ہو نا چاہیے“ اس لیے کہ اب مومنوں کی دوستی جوکہ صرف اللہ سحانہ تعاٰلیٰ کے لیے کبھی ہوا کرتی تھی وہ اب کہیں نہیں پائی جاتی ہے ۔البتہ عیبیوں کی دوستی اس سے زیادہ پائیدار ہے؟ اس کی وجہ سے حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں۔کہ پہلے لوگ برے کام پر “ نکو “ بن جاتے تھے اور عوام سے منہ چھپائے پھرتے تھے؟ اس لیے کہ انکی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اب چونکہ وہ اکثریت میں ہیں، لہذااب بے چاری شرم عوام سے منہ چھپائے پھر رہی ہے جو کہ کبھی شرفا کا سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتی تھی؟ کیونکہ وہ اب کسی کو کسی بات پر آتی ہی نہیں ہے؟ اگر شرم دلانے کی کوئی کوشش کرے تو شرم بڑی اذیت سے گزرتی ہے ؟ حتیٰ کہ معصوم بچوں سے بھی کوئی بزرگ کہیں کہ جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟ تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ “ آپ خود جو جھوٹ بولتے ہیں اور ہم سے کہلواتے ہیں کہ ابا ّ گھر پہ نہیں ہیں جب وہ آپ کو نہیں آتی، تو ہمیں بھی کیوں آئے“ ؟ اسی لیے ہادی اسلام  (ص)نے یہ فرمایا تھا جسکا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ “ دراصل حیا ہی ایمان ہے “ جبکہ وہ اب کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتی، ہم میں بھی نہیں ؟ جبکہ الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں ؟ نہ الزام لگانے والوں کو شرم ہے اور نہ انہیں جو مورد ِ الزام ہیں، حیا ہے؟ کہ یہ فعل فحاشی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ اور ہرقسم کی فحاشی کی تشہیر کی اسلام نے سخت مذمت کی ہے ، مگر اس کے ساتھ بھی ہمارا معاملہ وہی ہے جو بقیہ اسلام کے ساتھ ہے ؟ مگرہم یہ کہیں گے ضرورکہ “ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں “ رہی عمل کی بات وہ اللہ اور وہ خود جانیں ؟ کوئی دوسرا دخیل کیوں ہو؟ جبکہ ٹی والے ہر واقعہ کا اس طرح پوسٹ مارٹم کر رہے ہوتے ہیں اور اس کو اس طرح کرید رہے ہوتے ہیں جیسے کہ گدھ کسی مردہ لاش کو، تاکہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل نشر ہونے سے نہ رہ جائے اور ان کے سننے اور دیکھنے والے ان قیمتی معلومات سے محروم نہ رہ جائیں؟

Posted in Articles | Tagged

اردوردستورسے تنگ آکرعدالت میں ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

قائد اعظم کو اردو نہیں آتی تھی کیونکہ ان کی مادری زبان گجراتی تھی۔ لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ یہ بنگالی ، پنجابی، سندھی اور پختونوں اور بلوچو ں میں بٹی ہوئی قوم اگر متحد رہ سکتی ہے تو صرف مذہب اور زبان کے نام پر ۔ جبکہ وہ اس سے بھی واقف تھے کہ جتنا اسلامی اثاثہ اردو میں ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں ہے ؟وجہ یہ تھی کہ عربوں کو اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ عجمیوں (غیر عرب ) مسلمانوں کو تھی۔ لہذا پہلے دن سے عجمیوں نے اپنی زبانوں میں اسے منتقل کرنا شروع کردیا جو ہنوز جاری ہے۔ چونکہ خلافت عباسیہ کے کمزور ہونے کے بعد علم کا محور مرکزی ایشائی علاقہ بنا اور وہاں کی زبان فارسی تھی ، مزید یہ کہ بادشاہوں کی علم دوستی کی بنا پر علم ِدین بہت تیزی سے فارسی میں منتقل ہونا شروع ہوا اور جب وہ ہندوستان تک پہونچے تو اپنے ساتھ وہ اثاثہ بھی لیتے آئے۔ اس لیے کہ سوائے ہمارے ہر ایک کو اپنی زبان سے لگاؤ ہوتا ہے۔ اور وہاں غیر ملکیوں کے امتزاج کی بنا پر ایک ایسی زبان پیدا ہوکر جوانی کی طرف بڑھ رہی تھی جو کہ ملک کے مختلف حصوں میں کہیں کی زبان نہ ہونے کے باوجود ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ البتہ رسم الخط دو مختلف تھے لشکری اسے ان کی اپنی مناسبت سے اردو کہتے اور زیادہ تر الفاظ وہ عربی اور فارسی کے استعمال کرتے تھے، جبکہ مقامی باشندے دیوناگری رسم الخط میں لکھتے تھے ، جس کو بعد میں سیاسی ضرورت کے تحت ہندوستانی کہنے لگے؟ جبکہ مسلمانوں نے فارسی رسم الخط یوں اپنایا کیونکہ عربی کے مقابلہ میں فارسی میں زیادہ حروف تھے۔ یہ ہی اس کی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے اس کو بعد میں شاعروں نے اپنا لیا ؟ یہ رواج بھی شمالی ہندوستان سے شروع ہوا اور پہلی شاہی سرپرستی بادشاہ علی قلی خان کی حاصل ہوئی ، میرا خیال ہے کہ فیروز تغلق نے جب اپنا دار الحکومت دہلی سے شمال میں منتقل کیا تو اسکے امراءاور مقامی لوگوں کے امتزاج سے یہ دہلی پہونچی اور اس کے کافی عرصہ کے بعد اس کو مغل بادشاہ ظفر نے خود بھی اپنی شاعر ی کی وجہ سے استعمال کیا اور اسطرح اسکے پاوں وہاں جمے ۔ جبکہ اسکی مذہبی سرپرستی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے خاندان نے شروع کی جوکہ اس سے پہلے فارسی میں تفسیر قرآن تحریر کرکے پہلے ہی مشہور ہوکر رہنمابن چکا تھا اور اسی خاندان کے حضرت شاہ رفیع الدین (رح) نے قرآن کا لفظ بہ لفظ پہلا اردو ترجمہ حاشیہ کے ساتھ کیا ؟
مگر مغلوں کے دور میں چونکہ فارسی سرکاری زبان تھی لہذا اس کو سرکاری زبان کی حیثیت نہیں مل سکی۔ پھر جب مغل حکومت کمزور ہوئی تو یہ نوابین اودھ کے ذریعہ اس وقت کے اودھ اور آج کی یوپی میں پہونچی ۔ اور امرائے دکن کے ذریعہ یہ حیدر آباد دکن اور اس کے اطراف میں پہونچی، مگر سب سے زیادہ پزیرائی اس علاقے میں اسے حیدر آباد دکن میں ہی ملی ۔ اسی طرح یہ لاہو ر پہونچی۔ مگر اسے پورے ملک میں فروغ انگریزوں نے دیا جن کے لیئے ہندوستان میں سیکڑوں زبانیں سیکھنا اور بولنا سب سے مشکل کام تھا۔ جب کہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کسی کے دل میں اتر نے کے لیے اس کی زبان جاننا ضروری ہے کیونکہ اس سے آپس میں اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے دوسری اسلامی قدروں کی طرح یہ سبق بھی انہوں نے حضور (ص) کی حیات طیبہ سے لیا ہوگا کیونکہ جب ان کے پاس دور دراز علاقوں سے وفود آتے تھے تو وہ اسی قبیلے کی زبان میں اس سے بات کرتے تھے۔ انگریزوں کے دور میں ہی کلکتہ جو ان کاپہلا دارالحکومت تھا وہاں انہوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا اور اردو کی باقاعدہ درس اور تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ یوں اسکو اشرافیہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ کیونکہ دین اور معاشرہ ہمیشہ حکمرانوں کا چلتا ہے۔
اسکے بعد جب تحریک آزادی شروع ہوئی تو صورت ِ حال یہ تھی کہ یہ ہی زبان عربی اور فارسی کے غلبہ کے ساتھ مسلمان بولتے تھے اور ہندو ہندی الفاظ کے غلبہ کے ساتھ بولتے تھے۔ جب مسلم لیگ نے دوقومی نظریہ پیش کیا تو اس کو اپنے منشور میں یہ کہہ کر شامل کرلیاکہ “مسلمانوں کا مذہب ان کی زبان ، طرز معاشرت سب علیٰحدہ ہے لہذا ان کو ان کے اپنے اکثریتی علاقوں میں حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جہاں ان کا اپنا مذہب اور اپنی زبان اور طرز معاشرت ہو“ یہ تاریخ کا وہ خطرناک موڑ تھا جہاں سے یہ زبان متنازع بن گئی، ورنہ ہندؤں کی سب سے زیاد تعلیم یافتہ برادری جو کائستھ کہلاتی تھی ہم سے کہیں اچھی اردو بولتی لکھتی اور پڑھتی۔ مگر مسلمان اس پر بجائے ان کی ہمت افزائی کرنے کہ جو ان کی تلفظ میں فطری کمزوریاں تھیں اس کو پڑھ کر اور یہ کہہ کرناک ، بھوئیں چڑھاتے رہے کہ “ بوئے کچوری می آید “(اس میں کچوریوں کی بدبو آرہی ہے) تحریک ِ آزادی کے دوران یہ زبان سب جگہ سمجھی جانے کی وجہ سے بہت کارآمد ثابت ہوئی؟ اور گاندھی جی جو قائد اعظم کی طرح گجراتی تھے انہو ں نے بھی اسے سیکھا اور استعمال کیا۔ بلکہ وہ تو یہاں تک چلے گئے کہ حضرت قائد اعظم (رح) اور با بائے اردو مولوی عبد الحق (رح) کو دعوت دی کہ ایسا کریں کہ قومی زبان ایک ہی رہے ، مسلمان دیوناگری رسم الخط سیکھ لیں اور ہندو جوکہ پہلے ہی اردو رسم الخط استعمال کر رہے ہیں ان میں سے جو نہیں جانتے ہیں وہ اردو رسم الخط سیکھ لیں؟ مگر نمعلوم وجوہات کی بنا پر دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ گاندھی جی آ خری وقت تک پاکستان کے مخالف رہے۔ جبکہ سیاست میں اردو کانام آنے کی وجہ سے مسلم لیگ نے اردوسے کافی فائدہ اٹھایا اور اسی وجہ سے اردو کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوئی؟
جب قیادت پنڈت نہرو کے ہاتھ میں آئی تو حالات یکسر بدل گئے ، جبکہ ان کی زبان اردو تھی؟ پھر باہمی نفرت نے اتنی شدت پکڑی کہ انہیں خود کہنا پڑا کہ ہم پاکستان دینے کے لیے تیار ہیں۔ لہذ انہوں نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں وہ تمام گھروندے ڈھا دیئے جس سے ا یک باہمی معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مراعات ملنا طے ہوئی تھیں اور ہندوستان کو ایک رہنا تھا؟ ۔ یہ وہ جملہ تھا جس نے ایٹم بم کا کام کیا کہ “ کیسا معاہدہ اور کس کامعاہدہ یہ تو آنے والی پارلیمنٹ طے کریگی کہ آئندہ ملک کا دستور کیسا ہوگا“ اردو بولنے والے اپنی مسلم لیگ دوستی کی بناپر غدار قرارپائے اور انہیں کے ساتھ اردو کو بھی اپنے تینوں قلعوں یعنی یوپی۔ دہلی اور حیدر آباد دکن سے دیس نکالا مل گیا؟ آزادی ملتے ہی چونکہ وہ پہلے ہی سے تیاریاں کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے راتوں رات پورے ملک میں سائن بورڈ بدل دیئے اور دیوناگری رسم الخط میں سنسکرت کے الفاظ کو ہندی کاجامہ پہناکر پوری طرح رائج ،بالکل اسی طرح زندہ کردیا جیسے کہ اسرائیل نے پانچ ہزار سال پرانی ابرانی زبان کو؟ نوبت ان کے یہاں، اس حد تک پہونچی کہ فرسٹ کلاس ویٹنگ روم کے مسافر بیت الخلا کارخ کرنے لگے اور بیت الخلاءکے متلاشی درجہ اول کے مسافر خانے میں جھانکنے لگے؟ تو نہرو جیسے کٹر ہندوستانی چیخ اٹھے اور اپنے ریلوے منسٹر پر ریلوے پلیٹ فارم پر ہی برس پڑے کہ “ منتری جی !ایسی زبان استعمال کرو کہ کم ازکم میں تو سمجھ سکوں “ ہندوستانیوں نے اپنی اس شدت پسندی کو جہاں تبدیل کرنا ضروری سمجھا وہاں نظر ثانن کرلی ؟جیسے کہ ان کی فلم انڈسٹری بالی وڈ جوکہ ہالی وڈ کی ٹکر پر تھی اور اب مرنے جارہی تھی۔ اس میں جو تبدیلی کی تھی وہ انہوں نے واپس لیکر اپنی ڈوبتی ہوئی صنعت کو بچالیا اور اسکے لیے فارسی اورعربی کے الفاظ اپنی ڈکشنری میں شامل کرلیے؟جبکہ اس کے برعکس ہمارے یہاں عملی کام کم اور نعرے زیادہ لگاؤ کا اصول رائج رہا؟ پہلے پاکستان کا اکثریتی صوبہ ناراض ہوا۔ جہاں اردو کا اتنا احترام تھا کہ اگر اردو میں لکھا ہوا ردی کاغذ بھی سڑک پر پڑاہوتا تو وہ چوم کر اور اٹھاکر کہیں رکھدیتے؟ اب اسی کو وہ پاؤں سے روند کر گزرنے لگے ۔
آخر بڑی مشکل سے 1956 کا دستور بنا جو کہ برابری کی بنیاد پر تھا؟ انہوں نے اپنی چار فیصد اکثریت اپنے مغربی پاکستان کے بھائیوں کے لیے چھوڑدی ۔ مغربی پاکستان کو برابر لانے کے لیے سب صوبوں اور ریاستوں کو ملاکر یک صوبہ بنا یا گیا؟ جس کی سرکاری زبان اردو بنانے کا اعلان ہوا۔ اس کے نتیجہ میں مقامی زبانوں کو چھیڑ دیا گیا اور سندھی جو مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مکمل تھی۔ ان کے یہاں بھی سندھی ختم کر کے اردو رائج کرنے  کی کوشش کی گئی تو یہاں بھی اردو معتوب ہوگئی۔ مختصر اًیہ کہ پاکستان دولخت ہوگیا ؟ اور ونٹ یونٹ پاکستان بن گیا۔ صوبے بحال کردیئے گئے۔ سندھ میں لسانی فسادات شروع ہوگئے؟ پھر1973 کا دستور بن گیا اور اس میں اردو کو بطور قومی زبان کے اپنانے کے لیے ایک مہلت رکھدی گئی جس پر کبھی عمل نہیں ہوا ؟ اور اس پر ظلم یہ ہوا کہ تمام اسکول قومیا لیے گئے اور بد انتظامی کی وجہ سے وہ سب کے سب اسکول فیل ہوگئے جہاں اردو پڑھائی جاتی تھی۔
جبکہ اشرافیہ شروع سے ہی سے عام اسکولوں کے بجائے اپنے بچوں کو انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلاکر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن اور امریکہ بھیجدیتی تھی؟ ہماری قیادت اس سلسلہ میں شروع سے ہی اپنے منشور کے سلسلہ میں مخلص نہ تھی؟ جس کی وجہ سے وہ کردار کا حصہ نہیں بن سکا۔ نہرو لیاقت معاہدے کے موقعہ پرجب پنڈت نہرو پاکستان آئے تو لیاقت علی خان سوٹ میں ملبوس تھے جبکہ نہرو شیروانی میں تھے؟ انہوں نے اردو میں تقیریر کی جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے انگریزی میں ۔اس پر انہوں نے طعنہ دیا کہ “ مسٹر لیاقت علی! یہ ہی وہ تہذیب ہے جسے تم بچانا چاہتے تھے “ہماری اس گومگوں کی پالیسوں نے جو ابھی تک جاری ہیں قوم کو کہیں کا نہیں چھوڑا؟ کبھی بات صاف نہ کی جس سے بد گمانیاں پیدا ہوتی رہیں ؟ دستور دیکھئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ یہ کسی ایسے ملک کا دستور ہے جہاں کے لوگ اس پر عمل کرکے اب تک فرشتے بن چکے ہونگے؟ مگرعملی طور پر کیا ہے ،اسے جانے دیجئے میں نہیں بتاؤںگا ، جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ مسلمانو ایسی بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے ،یہ بات اللہ کو سخت ناپسند ہے “ لیکن ہم لوگ کچھ بھی کریں اسکے باوجود اللہ کے پسندیدہ اور بر گزیدہ بندے ہیں ؟
اب ایک اردو کے عاشق جناب اقبال صاحب زر کثیر خرچ کرکے سپریم کورٹ تک پہونچ گئے ہیں( حالانکہ یہ کام انہیں کرنا چاہیے تھا جو اردو کے طفیل دولت میں کھیل رہے ہیں) اور خبر یہ ہے کہ عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلی پیشی پر حکومت سے یہ پوچھ کر بتائیں کہ اردو دستور کے مطابق قومی زبان کب بنے گی؟ جولوگ دستور کی اسلامی دفعات نافذ کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ اراکین چیخ اٹھتے ہیں کہ خدارا یہ قانوں ہم پر لاگومت کریں ورنہ ہم سب نا اہل قرار پا ئیں گے؟ جبکہ ،جن کے نفاذ کی کوئی مسلمان تو مخالفت کر ہی نہیں سکتا، اسکے ساتھ یہ سلوک ہے تو اردوتو  صرف زبان ہے جو جز دستور ہے جزِ ایمان نہیں ہے اسے کون برداشت کریگا؟ دیکھیں حکومت اسکے بارے میں کیا کہتی ہے اور عدالت کیا حکم دیتی ہے؟ ہمارا مشورہ حکومت کو یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ صاف صاف کہدے کہ دستور ہم نے اچھا دکھانے کےلیے بنایا ہے اور عمل کرنے کے لیے نہیں تاکہ عدالتوں کا وقت بھی بچے اور حکومت کو بھی دستور ِ پاکستان سے آزاد ہوکر کھل کھیلنے کاموقعہ ملے؟ تاکہ ہمارے بہت ہی مقتدر شاعر جناب رئیس امروہوی کی یہ پرانی خواہش پوری ہوجائے کہ ً اردو کاجنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ً اور ان کی بیچین روح کو سکون مل سکے؟

Posted in Articles | Tagged ,

کچھ باتیں اپنی بہنوں سے ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

آج میں صرف اپنی بہنوں سے مخاطب ہوں چونکہ میں جانتا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ میری بہنیں پڑھتی ہیں اس مرتبہ میں جو کچھ کہنے جارہاہوں اسی امید پرکہ وہ اسے ہمیشہ کی طرح پورے یقین اور بہت ہی غور سے پڑھیں گی۔ کیونکہ میرے دَور کا معاشرہ تقریباً تباہ ہوچکا ہے آپ میں سے شاید ہی کچھ نے اسکے کچھ کھنڈرات دیکھے ہوں۔ جن بہنوں نے نہیں دیکھے ان کو سب سے پہلے تو میں یہ بتاتا چلوں کہ میں نے آج سے ستر سال پہلے خواتین کے ماہنامہ حریم لکھنئو سے لکھنا شروع کیا تھا جس کے ایڈیٹر نسیم انہونوی مرحوم تھے۔ان کے دل میں مسلمانوں کادرد تھا وہ ہمارے اسوقت کے میر کارواں تھے اور بدلتے ہوئے مسلم معاشرے کو دیکھ کر کڑھ رہے تھے۔ (جبکہ اب میر ِ کارواں پھر ایک درمند انسان جناب صفدر ھمدانی ہیں) اس دور میں دادیوں اور نانیوں کاراج  تھا، ان کی گود پہلا مدرسہ بنتی تھی وہ اپنادن قرآن شریف پڑھانے سے شروع کرتی تھیں اور ختم اول رات میں مشاہیر اسلام کے قصے سنا کرکرتی تھیں ۔ بلا امتیاز بچوں کے کانوں میں خاص طور سے انبیائے کرام  (ع) ،صحابہ اور صحابیات عظام  (رض)کی سیرت قصوں کی شکل میں ڈالتی تھیں۔فلم دیکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، شرفا دیکھتے ہی نہیں تھے۔ ہمارے دلوں مییں نہ جانے کیوں یہ اندیشہ تھا کہ معاشرہ اب بکھر نے کو ہے ؟بندھ باندھنا چاہتے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہوگیا خاندان بکھر گئے اور وہ مدرسے اوروہ گودیں خاندانوں کے بگڑنے سے خود بخود دم توڑ گئیں۔ مجھے ہجرت اختیار کرنا پڑی وہ وہاں رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے؟ اور میں ملکوں، ملکوں کی خاک ابھی تک چھانتا پھر رہا ہوں؟ مگر میرا قلم اس دوران بھی رینگتا رہا اور اب ذمہ داریوں سے پچیس سال پہلے سبکدوش ہونے کے بعد سے  پھردوڑنے لگا۔  میرا خیال ہےکہ اگر نانیاں اور دادیا ں دوبارہ اپنا کردار سنبھال لیں تو آج بھی بچے تعلیم کاتناسب بڑھ جانے کی وجہ سے دین کے لیے کہیں بہتر ثابت ہونگے۔ جوکہ دین کو نہ جاننے کی وجہ سے یاتو شدت پسندی کا شکار بن رہے ہیں یامذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ شدت پسندی کاجن پہلے بھی بوتل سے باہر آیا تھا اور دنیا اسکے سامنے بے بس ہوگئی تھی جس کواللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہلاکو جیسے ظالم کو بھیج کر ختم کیا۔1900 ع کے اوائل میں اپنے مکروہ عظائم کے لیئے اسکو اغیار نے پھر بوتل سے نکال لیا جس میں معاونوں میں ایک عالم اورایک عرب سردار شامل تھے انہوں نے اسے کامیابی سے  استعمال کیا اور اپنی 1933؟  میں مشترکہ حکومت قائم کرلی ؟اب صورت ِ حال یہ ہے کہ وہ خود اسکے شکار ہیں اور اس کے سامنے بے بس ہیں؟
جبکہ ہمارے یہاں یہ عجب مشکل ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ شدت پسندی غالب آجاتی ہے ۔ کبھی تو رسم و رواج اتنے غالب آجاتے ہیں کہ ہم دین کو لپیٹ کر ایک طرف رکھدیتے ہیں ؟ کبھی مذہب میں اتنی شدت پسندی آجاتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔ حالانکہ اسلام دین ِ وسطیٰ یعنی ایک اعتدال پسند مذہب ہے اوریہ آیت اس کی مظہر ہے کہ “ دین میں جبر نہیں “ یہ شدت پسندی کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمیں ہر میدان میں مسائل ہی مسائل کا سامنا ہے۔ جو روز بروز کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں ۔ مثال کے طور پر لڑکیوں کی شادیوں کا مسئلہ؟ یہ شکایت ہر جگہ عوام ہوتی جارہی ہے کہ نقاب پہننے والی لڑکیوں سے لڑکے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جبکہ لڑکیا ں نقاب اتارنے کو تیار نہیں ، تو بات بنے تو کیسے بنے؟ وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کے ذہن میں وہ خوف جگہ لے لیتا ہے ، کہ اس شادی کے نتیجہ میں انہیں اپنے عزیزوں سے بھی محروم ہونا پڑیگا۔ کیونکہ اسکے ساتھ وہ شدید قسم کا پردہ چھپا ہوتا ہے جو معاشرے سے کاٹ کر رکھدیتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اجتماعی خاندانی طریقہ رائج ہے لہذا ایسے گھرانوں میں اور بھی مشکلات ہیں جہاں دیور اور جیٹھ ساتھ رہتے ہوں؟حتیٰ کہ قریبی رشتہ داروں کو بھی شوہر گھر پر نہ ہو تو نا محرم عزیزوں کو ڈرائنگ روم تک بھی آنے کی اجازت نہیں ہوتی ؟ اگر وہ پردیسی ہے اور اپنے سگے بھائی سے ملنے آیا ہے اور وقت رات کا ہے اور جگہ دیہات ہے تو یہ مسافر کہا جائیگا کیا پھر دوبارہ وہ کبھی بھائی کے گھر آئے گا اور عزیزداری باقی رہے گی؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔
یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی کہ ہم نے رسم ورواج کو دین سمجھ لیا۔اور وہ زیادہ تر آجکل ان ملانیوں کے ذریعہ پھیل رہا ہے جو شدت پسند ہیں اور اصل دین سے نابلد بھی اور ہم ان کی کارستانیوں سے نابلد یوں رہتے ہیں کہ وہاں علماءاور گھر کے مرد پردے کی وجہ سے پر نہیں مارسکتے؟ جبکہ وہاں مسلمان خواتیں خصوصاً بچیوں کو شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی اسلام کے نام پر؟ اور طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ پہلے گھر کی بزرگ خواتین کو شکار کرتی ہیں؟ چونکہ وہ عمر کے اس حصہ میں ہوتی ہیں جہاں خوف خدا زیادہ دامنگیر ہوتا ہے۔ دوسری طرف جوبچے ادیان کا تقابلی مطالعہ درسگاہوں میں کر رہے ہیں انہیں اساتذہ ایسے ملے ہوئے ہیں جو انہیں فرقہ پرستی پڑھا رہے ہیں؟
اس لیے،میں اپنی بزرگ بہنوں کو یہ مشورہ دینا چاہوں گا کہ یہ بڑا اچھا جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ آخری وقت میں اپنی رحمت سے دلوں میں پیدا کرتا ہے تاکہ میرابندہ یا بندی سنبھل جائے ،اسکا نتیجہ جو مرتب ہوتا ہے وہ اس حدیث سے واضح ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ “ایک فرد زندگی بھر برائیاں کرتا ہے اور آخری وقت میں توبہ کر کے اس پر قائم ہوجاتا ہے توجنت کا حقدار بن جاتا ہے، اسکے برعکس ایک فرد زندگی بھر نیکیاں کرتا رہتا ہے اور آخری وقت میں گمراہ ہوکر جہنمی بن جاتا ہے “ اپنی عاقبت سنوارنے کےلیے  بزرگ بہنیں اپنی جگہ دوبارہ سنبھا ل لیں تو یہ ان کے لیے بھی بہتر ہوگا کیونکہ زندگی کو ایک مقصد مل جائے گا جبکہ ریٹائر منٹ  کےبعد بے مقصد جینا بہت مشکل ہوتا ہے! اپنے منصوبے پر دوبارہ غور کریں اور لمبے منصوبوں میں نہ جائیں مثلا ً جیسے کہ ملانیاں کہتی ہیں کہ پہلے آپ قرآن کاتلفظ درست کرلیں یعنی تجوید قر آن مکمل کرلیں پھر دوسرے کام کریں یہ پہلے ہونا چاہیے تھا؟ مگر اب آپ کے پاس وقت کم ہے؟ اسکے بجائے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنادین آتا ہے بس اسی پر عامل ہوکر وہی دوسروں کو پہنچا دیں، جس کا حکم حضور (ص) نے دیا ہے؟ دوسراعلم بڑھانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ حضور (ص) کی سیرت اپنی زبان میں پڑھیں اوراس پر عمل شروع کردیں اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے یہ فرماکر سند دیدی ہے کہ “ تمہارے لیئے تمہارے نبی کا اسوہ حسنہ (ص) کافی ہے “ چونکہ اسوہ حسنہ مجموعہ ہے تمام ہدایات کا۔ اسی کو اپنے نواسی نواسوں پوتی پوتوں اور ہمسایہ کو پہونچانا شروع کردیں ،اس طرح آپ اپنی آخرت بھی بنالیں گے اور وہی بچوں تک پہونچاکر صدقہ جاریہ بھی چھوڑ جائیں گی کیونکہ یہ حدیث مشعل راہ ہے کہ ایک دن حضور (ص) نے فرمایا کہ “ وہ فلاح پاگیا “صحابہ کرام  (رض)نے پوچھا کون؟ فرمایا ، “ جس کو اللہ نے دین کا علم دیا اور اس نے بانٹا، جس کو اللہ نے دولت دی اور اس نے اس کی راہ میں خرچ کی ، اور جس کو قناعت عطا ہوئی “
پھر قوم کو ان برے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو کہ یورپین ملکو ں میں ملانیو کی شدت پسندانہ تعلیم سے مرتب ہو رہے ہیں کہ بچے زیادہ تر غیر مسلموں میں شادیاں کر رہے ہیں جو تہذیب کے فرق کی وجہ سے اکثر ناکام ہو تی ہیں اور ان کی زندگی برباد کرنے کاباعث بنتی ہیں یہاں مردوں کی حد تک تو شدت پسندی پر نگاہ رکھنا آسان ہے۔ لیکن خواتین میں جو شدت پسند قسم کی خواتین تبلیغ کر رہی ہیں ان پر معتدل مسلمانوں کا نگاہ رکھنا بہت مشکل ہے ؟کیونکہ وہ پہلے ہی پردے کی آڑ لیکر تمام مردوں کاداخلہ بند کر دیتی ہیں اور دنیا سے الگ کر کے پھر وہ جو سبق پڑھاتی ہیں وہ شدت پسندی ہے اوران کے مرد خوش ہورہے ہوتے ہیں کہ ہماری خواتین اچھی با تیں سیکھ رہی ہیں۔ انہیں پتہ جب چلتا ہے کہ پانی سر سے اونچا ہو جاتا۔ جیسے کہ انگلینڈ میں عام ہے کہ لڑکیا ں یکایک گھر سے غائب ہوجاتی ہیں وہ پولس میں اغوا کی رپور ٹ درج کراتے ہیں! بعد میں خبر آتی ہے کہ وہ اپنی خوشی سے سیریا (شام ) مجاہدین کی بیویاں بننے چلی گئیں ہیں ۔ دوسری طرف صورت ِ حال یہ ہے کہ مسلم بچیاں یاتو شادی ہی نہیں کرتی ہیں اور ذہنی مریضہ بن کردین اور معاشرے دونوں کے لیے بیکار ہوجاتی ہیں! یا پھر اتنی آزاد ہوجاتی ہیں کہ غیر مسلموں سے شادی کرلیتی ہیں جو اسلام میں ان کے لیے جائز نہیں ہے ۔ لہذا اس افراط اور تفریط کو ختم کرنے کے لیئے مسلمان مردوں کو چاہیئے کہ وہ ان شدت پسند ملانیوں پر بھی نگاہ رکھیں، ورنہ آئندہ چل کر نئی نسل اسلام سے بہت دور چلی جائے گی ؟ اتنی دور کہ واپسی ناممکن ہو گی؟ اور اس سلسلہ میں ہر شخص انفرادی طور پر کوشاں ہو جائے، ممکن ہے کہ آپ پوچھیں کہ ایک فرد کی کوشش سے کیا ہوگا؟ آپ نے وہ مثل تو سنی ہوگی کہ ایک اور ایک مل کر گیارہ ہوجاتے ہیں؟ اسکو سمجھنے کے لیے میں ذیل میں تاریخ کا ایک حصہ پیش کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیں؟
میں یہاں اسکی دومثالیں پیش کررہا ہوں؛ انیسویں صدی میں قوم شرک و بدعات میں اتنی بہہ گئی تھی جس میں کہ صنف نازک تعلیم سے نا بلد ہونے کی وجہ سے سب سے آگے تھی؟ صرف ایک عالم نے ایک سردار کے ساتھ مل کر اصلاح کے نام پر حرم پر قبضہ کرلیا اپنا فقہ نافذ کرکے فائدہ اٹھایا اور یہ کوشش کی کہ ساری دنیا میں اپناہی مذہب پھیلائیں اور سب کو شدت پسندی عطا فرمائیں۔ دوسری طرف ہمارے یہاں ایک صوبے میں ظلم اتنا بڑھ گیاتھا کہ مسلم خواتین کو وراثت تک سے محروم کردیا گیا اور خلع کا حق بھی ان سے چھین لیا گیا ۔اس کے مقابلہ کے لیے دوسرے اکیلے عالم علامہ راشدالخیر ی (رح) اور صرف ایک “مسٹر “ سر محمد شفیع (رح) میدان میں آئے اور ایک بڑے خطرے کو ٹالدیا؟علامہ صاحب نے معتدد اصلاحی کہانیاں نانی عشّو،اصغری اور اکبری جیسی لکھیں اور سر محمد شفیع مرحوم نے جو کہ برطانوی حکومت میں بہت اہمیت رکھتے تھے ان کی مدد کی۔ بڑی جدو جہد کے بعد خواتین کےوہ دونوں حقوق وہاں بحال ہو ئے۔ بظاہر یہ دونوں باتیں بہت ہی معمولی سی لگتی ہیں۔ حالانکہ اس کے جو اثرات مرتب ہورہے تھے وہ بہت برے تھے۔ خواتین کو حصہ نہ دینا قر آن کے مطابق ایک ظلم ہے ،تمام مسلمان نسلاً بعد نسلاً اس ظلم کے مرتکب ہو کر ہر ظلم کرنے کے عادی ہو تے جا رہے تھے کیونکہ انسان کے قلب پر ایک حدیث کے مطابق “ پہلاگناہ کرنے پر ایک تل برابر کالا نشان پڑتا ہے پھر وہ گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے حتیٰ کہ پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے “ ہمارے یہاں یہ بات عام ہے کہ ظلم صرف مارپیٹ کو سمجھا جاتا ہے ؟مگر قرآن میں ظلم کی جو تعریف ہے وہ یہ ہے کہ “ظلم ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس سے کسی کو اس کے اصل حق سے محروم کردیا جا ئے “ مثلا ً اللہ سبحانہ تعالیٰ خالق ہونے کی وجہ سے لائق ِ عبادت ہے ،صرف اور صرف وہی قابل عبادت بھی ہم اس کے شریک خود گڑھ لیں؟
چنانچہ اس فعل کی مذمت علامہ نے اپنی تمام تصنیفات میں کی ، دوسری ظلم کی یہ صورت تھی کہ اگر بیوی چاہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے حقِ علیحد گی عطا کیا ہوا تھا۔جوکہ غصب کرلیاگیا، تو نتیجہ کے طور صرف علیحدگی کے لیے مسلم خواتین کی بہت بڑی تعداد مذہب تبدیل کرکے عیسا ئی بننے لگی۔ان دونوں بزرگوں نے بڑی شدومد سے تحریک چلائی جس سے مرداور خواتین دونوں میں بیداری پیدا ہوئی اور مسلمانوں کی اس ظلم سے برِ صغیر ہندوستان میں جان چھٹی۔ قوم  انہیں بھول گئی جبکہ پھل مدتوں سے کھا رہی۔ مگر یہ دونوں بزرگ بے لوث تھے ان کے اپنے کوئی مقاصد نہ تھے۔اس طرح اپنے  پیچھے ایک صدقہ جاریہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے؟  جسکا ثواب انہیں تا قیامت ملتا رہے گا۔

Posted in Articles

ایک تیر سے دو شکار۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

آپ نے یہ مثال سنی ضرور ہوگی ، ویسے ہر معاملہ میں ہمارے علماءجائز اور ناجائز کا فتویٰ دیتے رہے ہیں، مگر خصوصی طور پر اس سلسلہ میں جب بھی یہ کسی دور میں حکمرانوں یا رہنما ؤ ں نے انہیں استعمال کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ بڑی فراخ د لی دکھائی ؟ اور اس سلسلہ میں کنجوسی ہم نے تاریخ میں کہیں نہیں دیکھی ،ہونا بھی نہیں چاہیئے کیونکہ اسلام بخالت سے منع کرتا ہے۔ مسلم دنیا کی تاریخ تو بہت طویل ہے ۔ کیونکہ ہاں میں ہاں ،ملانابغیر سوچے سمجھے ہمارا وطیرہ رہا ہے۔ بلکہ کچھ نے توا سلام میں بادشاہت کا جواز بھی ڈھوندلیا ہے، اوریہاں تک بڑھ گئے کہ ایسی روایات بھی ڈھوندلی ہیں کہ بادشاہ کے ساتھ 21 ولیوں کی طاقت ہوتی ہے اور ظل ِ سبحانی (اللہ تعالیٰ کاسایہ ) بھی اسے بنا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی حکمراں اسلامی طریقہِ انتخاب سے منتخب ہوکر آیا ہو اور عادل ہو اور متقی ہو تو اسکی بڑی تعریف آئی ہے۔ وہ بے شک جنت میں حلقہ ابرار کے ساتھ ہوگا؟ مگربغیر تحقیق کے کہ ان کاکردار کیا ہے اس قسم الفاظ ان کے لیے استعمال کرنا میرے خیال میں تو گناہِ عظیم ہے۔ جس کی حضور (ص) نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کہنے سے پہلے یہ تتحقیق کرلیں کہ اس نے یا اسکے اجداد نے حکومت ہتھیائی تو کیسے ہتھیائی اوروہ بھی کیا ظلِ سبحانی تھے؟ جو ایک رات میں لاکھوں ڈالر جوئے میں ہار گئے تھے؟ اور وہ بھی جن کے اجداد نے حضور (ص) سے کہا تھا کہ تم (ص) ادھر کارخ نہ کرنا کیونکہ تم  (ص)آل سہیل میں سے ہو اور ہم آل مدار میں سے ہیں ہم کسی صورت اسلام قبول نہیں کریں گے۔ بعد میں انہیں کی طرف رخ کرنے کے جرم میں وہ 70حفاظ بئیر معونہ میں ان کے سردار امر بن طفیل کے ہا تھوں شہید ہوئے جو حضور (ص) نے وہاں تبلیغ کے لیے بھیجے تھے۔ پھر حضور (ص) کے زمانے میں ہی اپنے اوپر قریش کی برتری ختم کرنے کے لیے اپنے میں سے ایک جھوٹا نبی مسلمہ کذا ب پیدا کرلیا اور اسکے بھی ہاتھوں سے بہت سے مسلمان بہت بری طرح شہید ہوئے جبکہ قرآن میں مثلہ حرام کردیا گیا تھا ( البدایہ والنہایہ ابن کثیر)۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بدعت کے نام پر جو موجودہ سعودی حکومت کے دور میں مزارات مسمار کیے گئے اس کے پیچھے بھی قریش سے جذبہ انتقام کار فرماتھا ؟ خیر اس قصے کو بھی چھوڑ یے کہ کس کا کردار کیا تھااور کون کن کن ہتھکنڈوں سے بادشاہ بنا ؟چونکہ نجدی کبھی حجاز پر حکمراں نہیں رہے ،اس صورتِ حال کا تصور کیجئے کہ انہیں کتنی کراہیت کے ساتھ حجازیوں نے بطور حکمراں برداشت کیا ہوگا جبکہ حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہو کہ عرب کبھی غیر قریش کی قیادت قبول نہیں کریں گے؟۔ لیکن ہر ایک دور کے درباری اور حکمراں اس مثال کو بہت خوش اصلوبی کے ساتھ استعمال کرتے رہے ۔مثلا ً جب پاکستان بن رہا تھا تو یہ نعرہ کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ؟ پھر پاکستان بن جانے کے بعد جنرل ضیاءالحق صاحب کا ریفرنڈم میں یہ نعرہ کہ اگر اسلام چاہتے ہو تو مجھے ووٹ دو ، وغیرہ ، وغیرہ۔ جبکہ مسلمانوں نے یہ سب تجربات کر دیکھے لیکن اسلام ابھی تک پاکستان میں داخل نہیں ہوسکا اور سرحد کے باہر سے جھانک کر “ اے تا “ کر رہا ہے؟ اس سمت میں ابھی تک ہوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ حکمراں کہتے کچھ رہے اور کرتے کچھ رہے ہیں ۔
ہمارے ایک دوست بہت سادہ لوح تھے لیکن ساتھ میں مومن کی فراست بھی رکھتے ان کا نام تھا مولانا وصی مظہر ندوی  (رح)انہوں نے کبھی کہیں مار نہیں کھائی؟ اگر ان کی زندگی دیکھنا تھی تو وہ صحابہ کرام کا نمونہ تھے ، ضیاءالحق سے ملا قات کرنے گئے ،اور انہوں نے کہا کہ مولانا میں اسلام نافذ کرنے کو تیار ہوں آپ میرے وزیر مذہبی امور بن جا ئیے ، اور وہ بن گئے۔ ضاءالحق کو دس سال سے زیادہ حکومت کر نے کے لیے ملے۔ انہوں نے وہی مجموعہ تعزیرات ہند جو اب تعزیرات پاکستان کہلاتا 1935 سے انڈیا ایکٹ کے نام سے چلاآرہاتھا۔باقی رکھتے ہو ئے پاکستان میں اسلامی حدودنافذ کردیں ؟ جس سے کسی کو فائدہ ہوا ہو یانہ ہوا ہو؟ لیکن پولس کو ضرور ہوا کہ اگر ہاتھ اپنے بچانے ہیں ، تو ریٹ رشوت کادگنا ہو گا، ورنہ ہاتھ سے ہاتھ دھو بیٹھو؟ جبکہ جہاں تک ہمیں یاد ہے کوئی خبر کسی اخبار میں نہیں آئی کہ کسی کا ہاتھ کاٹا گیا ہو ؟ اس لیے کہ چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا اس صورت میں ہے جب اسلامی فلاحی ریاست ہو؟ ورنہ بھوکے آدمی نے اگر کسی کے فرج سے کچھ چرا کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لیا تو اس پر حد جاری کر نے میں علماءکااختلاف ہے اسی طرح ایک دوسری دفعہ کا بھی غلط استعمال ہو اجو قتل ِ عمد کے بارے میں ہے وہ “ ڈیوڈ “جیسے ملزموں کو چھوڑنے کے لیے استعمال ہوئی۔ تیسری چیز انہوں نے کوڑوں کی سزا رو شناس کرائی جو انہوں نے اور کہیں استعمال نہیں کی، مگر پی پی کے جیالوں کو کچلنے کے لیے ضرور با قاعدگی سے استعمال کی جس سے اس مرد ِ حق نے دنیا میں اسلام کا نام کافی بلند کیا اور چلتے چلتے سعودیوں کی دوستی میں پاکستان کو طالبان کے سپرد کر کے چلاگیا ۔ جسے پاکستان آج تک بھگت رہا ہے؟
ضیا ءالحق صاحب ایسے موقعہ پر جب وہ مجبور نظر آتے تھے، تو فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس کوئی گیڈر سنگی نہیں ہے جو میں تمام مسائل حل کردوں ( شایدبھولے آدمی تھے اسکا پس منظر نہیں جانتے تھے ورنہ وہ یہ کبھی استعمال نہ کرتے)؟ لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر انکساری جو مڑی ہوئی تھی وہ گیدڑ سنگی نہ سہی گیڈر سنگی کی ہمشیرہ ضرور تھی جس سے وہ آدمی کو شیشہ میں اتارلیتے تھے۔ کہ مولانا آخر وقت تک اس بات کے قائل رہے کہ اس بیچارے کو وقت ہی نہیں ملا ، ورنہ وہ اسلام ضرورنافذ کر دیتا ؟ حالانکہ ضیاءالحق کا دور ، خلیفہ دوئم حضرت عمر (رض) کے دورسے زیادہ تھا جنہوں نے ساری اصلاحات اور اسلام اتنے عرصہ میں پوری طرح نافذ کردیا تھا جس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ جبکہ اس دور میں وہ وسائل بھی نہیں تھے جو آج ہیں ؟ صرف ایک مثال لے لیتے ہیں جو فوج سے متعلق ہے۔ پہلے فوج کی تنخواہ مقرر نہیں تھی، انہوں نے مقرر کی اور فوج پر پابندی لگادی کہ وہ ممالک محروسہ میں زرعی زمین نہیں خرید سکے گی؟ جبکہ ضیاءلحق صاحب اس سلسلہ میں بھی انگریزوں کی پالیسی ، فوجیوں کوجاگیروں اور پلاٹوں وغیرہ سے نوازنا اپنائے رہے؟
دوسر شکارایک ناقابلِ تسخیر بزرگ رہنما نواب زادہ نصر اللہ خان تھے، ان کو بھی کوئی مسخر نہ کرسکا مگر ضیاءالحق صاحب نے انہیں بھی قائل کرلیا! وہ خود تو شامل نہیں ہوئے مگر انہوں نے اپنے چند وزیر دیدیے ،لیکن بعد میں وہ اس پر ہمیشہ پچھتاتے رہے۔
سہروردی اکادمی کا میں سکریٹری جنرل تھا ، اور ان کی صاحبزادی بیگم اختر سلیمان صدر نشین ، نوابزادہ صاحب کہیں ہوں سہروردی صاحب کی برسی کو کبھی ترک نہیں کرتے تھے اس میں ضرور تشریف لا تے تھے اس دور میں بھی تشریف لائے تو لوگوں نے ان کی توجہ ضیاءلحق صاحب کے وعدوں کی طرف دلائی اور سوال کیا کہ اب آپ اس حکومت کے خلاف تحریک کب چلا رہے ہیں ؟ تو کہنے لگے عنقریب شروع کرنے والا ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ“ نوابزادہ صاحب پہلے ہمیں اس بات پر فخر تھا کہ ایک ایسا آدمی ہمارے درمیان ہے جو کسی آمر کے ہاتھوں دھوکہ نہیں کھاسکتا؟ مگر اب یقین متزلزل ہوگیا ہے۔ تو کہنے لگے کہ ہاں! یہ مجھ سے غلطی ہوگئی“
تمہید بڑی طویل ہوگئی اسی کے مماثل آج کل ایک تحریک چل رہی ہے جس کو ہمارے کچھ دانشوروں، چندہ خوروں ، وظیفہ خواروں،اور خود پاکستان کی حکومت نے شروع کر رکھا ہے کہ سعودی بادشاہت کادفاع حر مین شریفین کا دفاع ہے؟ اور حرم خطرہ میں ہے ہم اس کو بچانے کے لیئے اپنی جانیں قر بان کردیں گے۔
حالانکہ یہ دو علیحدہ باتیں ہیں۔ پہلے تو یہ ہے کہ واقعہ “اصحاب ِفیل “ جو قرآن میں بیان ہوا ہے اس میں پوری دنیا کو چیلنج ہے کہ ایک سر پھرے نے حرم کے خلاف جراءت کی تو اس کاانجام کیا ہوا جو دنیا بھر کو ازبر ہے؟لہذا کوئی غیر مسلم تو اس کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اور رہے مسلمان ایسا کوئی بے حمیت ہو نہیں سکتا جو اس پر جان دینے سے کترائے ؟ مگر یہ کہنا بے انصافی ہے کہ بادشاہت کا دفاع حرمین شریفین کا دفاع ہے ۔ البتہ کہنے والوں کے اس فعل پر“ ایک تیر سے دوشکار کرنے والی مثال صادق آتی ہے“ اور ہم ایک دفعہ پھر پھنسنے جارہے ہیں؟ جبکہ سعودی عرب علاقے میں داروغہ کا کردار اپنائے ہوئے ہے لہذا آج اِس سے لڑتا ہے تو کل اُس سے لڑتا ہے؟ ہم اس کے لیے کس ، کس کو دشمن بنا ئیں گے؟ آخر یہ ہمیں سے مطالبہ کیوں ہوتا ہے کہ ہم اس کی لڑائی لڑیں ، ہمارے علاو ہ وہاں ہندوستانی ، بنگلا دیشی ، کورین۔ وغیرہ ملازمتوں میں ہم سے کہیں زیادہ ہیں ،جسکی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ سستے ملتے ہیں اور “ یس سر“ کرنے والے ہوتے جبکہ پاکستانی مہنگے بھی پڑتے ہیں اور برابری الگ کرتے ہیں ؟ دوسرے صرف مسلمانوں کی بات ہے تو پھر ترکی ہے ملائشیا ہے۔ انڈونیشیا ہے۔ ان سے وہ مدد کیوں نہیں مانگتے ، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب ہمارا واحد اور شروع دن سے مخلص دوست ہے۔ وہ ذرا یہ بھی بتادیں کہ شاہ فیصل سے پہلے اسکا رویہ پاکستان کے ساتھ کیا تھا؟ اسوقت کے سعودی باد شاہ کا یہ فرمان ریکارڈ پر ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کامستقبل ہندوستان کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ پھر دانشوروں کو یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ دنیا میں مسلم آمروں کے خلاف جن جن ملکوں میں تحریک چلی تو کوئی انہیں بچا نہیں سکا اور وہ ملک تباہ ہوگئے ان کی اجڑی تصاویر ہمارے سامنے ہیں نہ تیونس بچ سکا نہ لبیا اور نہ مراقش۔ اسی طرح اب جوشاہوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے تو یہاں بھی ان کو کوئی بچا نہیں سکے گا؟ یہ مکافات عمل ہے اسکے آگے کوئی بند نہیں باند ھ سکتا، جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں سعودی جاتے ہیں اپنا سعودی برانڈ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں جس کے نتائج سے دنیا اب بہت زیادہ خوف زدہ ہے، اس لیے اسکے پھیلنے کہ امکانات نہیں رہے ہیں؟ گوکہ بد گمانی اسلام میں منع ہے؟ مگر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ “ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں ہیں کہ ہمارے حکمرانو ں کامفاد ان کے ملک میں ہے “۔ واللہ عالم ۔ البتہ ہمارے خیال میں موجودہ صورت ِ حال میں فوج باہر بھیجنا اور مزید دشمن پیدا کرنا پاکستان کے لیے خود کشی کے مترادف ہوگا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اس عقلمندی سے محفوظ رکھے ۔آمین

Posted in Articles | Tagged ,

اب کون جانے ہمارے لیےاچھا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے آباو اجد اد اس ایک کے ہورہے تھے۔ اور انہوں نے یہ ادراک اس نسخہ کیمیا سے حاصل کیا تھا جو ہمارے پیغمبر (ص) پر نا زل کر کے اور ان کو ہمارے درمیان بھیج کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہم پر احسان ِ عظیم فرمایا تھا۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کوئی صرف اس سے ڈرنے لگے اور پانچوں وقت دعا مانگنے لگے کہ “ مں تیری ہی عبادت کر تا ہوں اور تجھی سے دعا مانگتا ہوں “ تو پھر وہ اس بندے کا ولی بن کر کفیل بن جا تا ہے ،وہی اس کے ہاتھ پا ؤں اور آنکھیں بن جاتا ہے۔ لہذا حدیث ِ قدسی کے مطابق“ وہ دیکھتا اسی کی آنکھ سے ہے“ ہر فعل اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں؟ اس سے غلطی کا امکان تقریبا ً ناممکن ہو جاتا ہے۔ پھر زمین اور آسمان سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ جب غیروں کو بھی اس کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ تو معاملہ الٹ جاتا ہے ؟ کیونکہ شرک اسے سخت ناپسند ہے۔ پھر وہی بندہ جو جو کل تک کسی سے نہیں ڈرتا تھا اب وہ اپنے سایہ سے بھی ڈرنے لگتا ہے؟ ایک سے زیادہ کابندہ بننے کے بعد وہ ایک طرح سے فٹ بال کی مانند ہو تا ہے۔جسے کبھی ا یک کھلاڑی ٹھوکر مارتا ہے تو وہ دوسرے کی طرف لڑکا چلاجاتا ہے۔دوسرا کک مارتا ہے وہ تیسرے کی طرف دوڑتا ہے اور لطف یہ کہ کوئی ان میں سے اس پر قسمیں کھانے کے باوجود اعتبار نہیں کرتا ۔ زندگی ان دنیاوی خداؤں کو منانے میں گزرجاتی ہے۔ ہم نے جب سے اس کادامن چھوڑا روز بروز خوار ہو تے چلے گئے۔
جس طرح مشہور ہے کہ جب چنگیز خانی لشکر بغداد کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ تو ہمارے دانشور اس پر بحث فرما رہے تھے کہ کوّا حرام ہے یا حلال؟ اس کا فیصلہ اس نے اسی دن بغداد پہونچ کراور عباسی خلیفہ کو ایک ہاتھی کے پاؤں میں باندھ کر شہر بھر میں گھماکر کیا۔
بچھلے دنوں ہم بھی ایسے ہی ایک مرحلے سے گزرے ہیں ،اس وقت ہمارے دانشور اس بحث میں لگے ہو ئے تھے کہ کراچی کے حلقہ نمبر دو سو چھیالیس میں کون جیتے گا ؟ اور جو سوچنے کی بات تھی اس پر بغیر سوچے  سمجھےخوش ہوکر تالیاں بجا رہے تھے کیونکہ اسکے لیے سوچنے کا وقت نہیں  تھا؟ وہ تھے چین اور پاکستان کےدرمیان اکیاون معاہدات۔ کیونکہ کسی بھی شیخ کے لیے اونٹ کو خیمہ میں داخلہ کی اجازت دینا تو آسان ہوتا ہے مگر اسے خیمہ سے نکالنا پھر شیخ  کےبس کی بات نہیں رہتی؟
جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سے خوش تھا تو اس نے بنی آدم کو بہترین علاقہ دیا ۔ مگر ہمارے تجسس نے اور قناعت کی کمی نے ہمیں ہمیشہ اس طرف متوجہ رکھا کہ ان پہاڑوں پیچھے کیا ہے۔ ہر فاتح آگے بڑھتا اور افغانستان کی زمین اسے الجھا لیتی ؟جبکہ ان پہاڑوں سے ادھر بسنے والوں کی خواہش ہمیشہ یہ رہی کہ ہم بھی ادھر جھانک کر دیکھیں اور گرم پانیوں تک پہونیں؟ اس کوشش میں گزشتہ صدی میں افغانستان ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بنا ۔ مگر روس کو فوجی طاقت سے اوروں  کی طرح نا کامی نصیب ہوئی ، اس کے بر عکس ہمارا ہی ایک پڑوسی جو ہمارے ایک سال بعد آزاد ہوا تھا۔  اس نےبجائے سیاسی طاقت بننے کے جاپان کی مثال اپنا ئی کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں تقریبا ً غلام بن چکا تھا مگر اس نے اپنی پوری صلاحتیں اپنی معاشی حالت بہتر بنا نے میں صرف کردیں اور اس نے یورپ کی مالی شہنشاہیت کو اسی کے ہتھیار سے زیر کرلیا۔ وہی پالیسی چیں نے اپنائی اور وہ اس دوڑ میں اس قدر آگے بڑھ گیا، کہ جو کام روس باوجود سپر پاور ہونے کہ نہیں کر سکا تھا وہ اس نے بغیر فوجی طاقت کے ہماری معاشی بد حالی سے فائدہ ٹھا کر حاصل کرلیا یعنی گرم پانیوں تک رسائی؟
اس کی پہلی اینٹ اس نے اس وقت رکھی جب سنگاپور کا ٹھیکہ ختم کراکر سابقہ حکومت سے گوادر کے بندر گاہ کا انتظام سنبھالا۔ اوراب اسے کا ریڈور بھی مل گیا۔ جبکہ ایک ہی کاریڈور ہمارے لیے  پہلے ہی عذاب بنا ہوا ہے ،جس کو راستہ دیناہماری بین القوامی ذمہ داری تھی اس لئے کہ وہ ملک سمندری راستہ نہیں رکھتا اور چارون طر ف سے دوسرے ملکوں سے گھرا ہوا تھا۔ ہم نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان میں خشک بندر گاہوں کاجال پورے ملک میں جب بلا امتیاز بچھا یا۔ تو صوبہ سرحد (خٰبر پختونخواہ) میں بھی ایسی ایک بندر گاہ بنادی۔  نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری امپورٹ بالکل ختم ہوگئی اس لیے کہ غیرملکی مال بازار میں سستا ملنے لگا، کیونکہ وہ بغیر ڈیوٹی ادا کیے ملتا تھا جبکہ پاکستانی بیوپاریوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی تھی لہذا انہیں نقصان ہوتا تھا۔  پہلے صرف راستے سے مال غائب ہونا شروع ہوا ایل سی کابل میں کھلتی رہی  اور ادائیگی وہاں سے  بھیجنے والوں کوہوتی رہی، مال ہمارے بازاروں میں بکتا رہا۔ پھر اس کاروبار نے مزید ترقی کی تو ہزاروں کی تعداد میں کنٹینر غائب ہو گئے جن کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ آئندہ اس کاریڈور کے فوائد کیا ہونگے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ کوئی معاشی طور پر بد حال ملک جو مالی بیساکھیوں کے سہارے جی رہا ہو اس کی تاریخ میں بہتری کی مثال کم ازکم ہمیں میں دھونڈے نہیں ملی۔ ا یسے ملک کی خود مختاری ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ جس کا مشاہدہ ہمیں آئے دن ہو رہاہے؟ کہ کبھی ایک داتا ناراض ہوتا ہے تو ہمارے وزیر اعظم اسکو منانے جاتے ہیں، کبھی دوسرا داتا ناراض ہو تا ہے تو اسے مناتے جاتے ہیں۔ ملک میں رہنے کاوقت ہی نہیں ملتا کہ ان کی طرف دیکھ سکیں؟ جبکہ ہم اپنے قدرتی جائے وقوع کی بنا پر اس پوزیشن میں تھے کہ ہماری سب مانتے، مگر کہاوت ہے کہ “ بھکاری کو انتخاب کاحق نہیں ہوتا“اس پہ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے بھی مفادات ملک سے باہرہیں اور کئی داتا ملکوں میں بھی ہیں ۔
یہ تھی ملک کی معاشی حالت اور اس کی خارجہ پالیسی؟ اب اندورنی حالات کی طرف آتے ہیں ، کہ جس حلقہ انتخاب پر سب کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اس سے کیا سبق ملا؟
اس کاجواب ایک ہی ہے۔ کہ ملک مں عدل نہ ہونے کی وجہ سے سب عدم تحفظ کاشکار ہیں۔اس لیے انہیں سیاسی اور بڑے لوگوں کا، پیروں کا،  نام ونحاد فقیروں کا، چوروں اور ڈاکوؤ ں کا تحفظ لینا اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ انسانی درندوں سے انہیں کون بچائے گا، جن کا کبھی پیٹ ہی نہیں بھرتا؟جب تک عدل ملنے کی امید نہ ہو ؟ حالات جوں کے توں رہیں گے۔
اول تو پورے نظام میں نیک لوگ دھونڈے سے بمشکل ملتے ہیں ؟ پھر انہیں حکمرانوں کے مشترکہ مفادات کی وجہ سے صرف دکھانے کے لیے دوچار چھوٹے پرندوں کا شکار کر نے کی اجازت ،کبھی کبھی ملتی ہے۔ اگر وہ بڑوں کو شکار کرنے کی کوشش کریں کیونکہ چھوٹوں کے ڈانڈے بڑوں میں ملتے ہیں؟ تو وہ انہیں یا تو ملازمت سے نکال دیتے ہیں یا وہ ناگہانی حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور کوئی ان کی خبر تک نہیں لیتا۔ اس سلسلہ میں بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ “ پہلے چور ااور ڈاکو عوام سے منہ چھپاتے تھے اب یہ عالم ہے کہ آفسیر آن ڈیوٹی جب کسی کو پکڑنے جاتے ہیں تو وہ نقاب پہنے ہوتے ہیں“ تاکہ پہچانے نہ جائیں اس لیے کہ ان کے سامنے ان کے پیشرو آفیسروں کا حشر ان کی یاد داشت میں کہیں چھپا ہوتا ہے ؟
ہمارے یہاں آج نہ اسلامی حمیت ہے نہ پاکستان اور پاکستانی قومیت؟ بس اپنے آدمی کو سو خون معاف ہیں۔ اپنا اپنا ہے۔ اس میں بولی ہے، ذات ہے، علاقہ ہے گاؤ ں ہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسلامی تشخص اور پاکستانی قومیت؟ اس پر طرہ یہ ہے کہ ہم کہلاتے مسلمان ہیں؟
ہم نے اب با امرِ مجبوری اپنے علماء کو ٹی وی پر یہ فتویٰ دیتے سنا ہے کہ اب حلال مال پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے لہذا اگر “غلبہ کسی  کےمال میں حلال کا ہو تو وہ بھی مسجداور اسلامی مدرسوں میں  لگایا جاسکتا ہے۔ حتیٰ کے امام حرم بھی بغیر تحقیق وہاں نماز پڑھانے تشریف لاسکتے ہیں ؟ انا للہ وانا علیہ راجعون ہ

Posted in Uncategorized