(366 – 348) قطعات شمس جیلانی

348
 
نبی ﷺ کا غلام ہے۔۔۔ شمس جیلانی
نہ شمس رہنما ہےنہ وہ مسجد کا امام ہے
بس اتنی سی بات ہے نبی ﷺ کا ادنیٰ غلام ہے
تبلیغ جوکہ فرض ہے ہر مومن کے واسطے !
سب کو دلانا یاد یہ ہی بس اس کا کام ہے
 
349
سچائی دوست۔۔۔ شمس جیلانی
 
چمکتے نظر آئے ستارے مگر معدوم روشنی
گرصادق کو ئی ملا تو کی ہم نے دوستی
سچ جس کو کہ سمجھا سدا بات وہ کہی
فاسق اور فاجرو ں سےکبھی اپنی نہیں بنی
 
350
وہﷺ ۤآے بہار آگئی۔۔۔ شمس جیلانی
 
جن ﷺکےآنے کی خبر تھی وہ آ ئے مہماں ہوئے
کل جہاں والے انہیںﷺ دیکھ کر حیران ہوئے
سو کھے صحرا میں بھی ہوتے پھر بارش دیکھی
ان ﷺ کے کردار کو دیکھا لاکھوں ہی مسلمان ہوئے
 
351
دور ِ رحمت کی بات کریں کیا۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
اس دور کی باتیں کیا کہناجب حق تعالیٰ مہر با ن ہوئے
سعادت عطا کی دنیا کو جب پیدا کاملﷺ انسان ہوئے
بو بکر و عمرجس میں پیدا اور حضرت علی عثمان ہوئے
ہر کان میں قرآں گونجے تھاجب پیدا حافظِ قرآن ہوئے
 
352
دورِ فرمانبرداری میں انعامات۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
جب ہم صاحبِ فہم ہوئے طابع فرمان ہوئے
جو بھی آئے اس دور میں سارے ذیشان ہوئے
ایک دو ہوں تو میں نام گنا ؤ ں اے شمس
ان کی گنتی ہے نہیں جو صاحبِ عرفان ؒہوئے
 
353
تقاضہِ غیرت۔۔۔ شمس جیلانی
 
سارے دینوں میں دیں ہمارا ہے
جان و جی سے وہ ہمیں پیارا ہے
جان جا ئے شمس تو چلی جا ئے
جوآنچ آئے نہیں ہمیں گوارا ہے
 
354
میرا رازِ مقبولیت۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
اللہ مجھ سےمحبت کرتا ہے سرکارﷺ محبت کرتے ہیں
اس واسطے لوگ ہیں جا ں دیتے مجھ پر مرتے ہیں
میرے لب پر برائی آتی نہیں،نہ میں برائی کرتا ہوں
نہ انکی مذمت کرتا ہوں نہ میری مذمت کرتے ہیں
 
355
ہوس سے دور رہو۔۔۔شمس جیلانی
 
اگرنہ گالی دو نہ گالی کھا ؤگے تم
پھر امن سے چین سے سو جا ؤگے تم
ہوس پالی کھوپڑی بھرتی نہیں ہے
تو اسی کو بھرتے بھرتے مرجا ؤگے تم
 
356
انسان اور شیطان میں فرق۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
وہ قابلِ ستائش ہیں جو انسانوں کے انساں کام آتے ہیں
وہ شیطاں ہیں جو انسانو ں کو آپس میں جا کرلڑاتے ہیں
یہ ناشکرے ہیں نہیں یہ لوگ انسان کہلانے کے قابل ہیں
اسی برتن میں چھید کرتے ہیں جہا ں پر کھانا کھاتے ہیں
 
357
اعترافِ کم علمی۔۔۔ شمس جیلانی
 
کیا کیا گناؤں رحمتیں اس اللہ رحیم کی
کیسے ثنا کروں میں اس ربِ کریم کی
جس کی مصلحتیں ہیں ہے جانتا وہی
بشر تفسیر جانتا نہیں محمدﷺ کےمیم کی
 
358
جب تک جان تب تک اڑان۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
جب تلک چلتے رہوجب تک جسم میں جان ہے
یہ نہ بھولوتم کبھی بیٹھا تاک میںشیطان ہے
ہے شمس تھک لیٹ جانا مردانگی ہر گز نہیں
یاد رکھو ایک دن تو دیکھنا حشر کا میدان ہے
 
359
نیرنگی ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی
 
کبھی اجداد ان کے اٹھے تھے بننے ملت کے امام
بدعت کے نام پرکر گئے مزارات کا قصہ ہی تمام
شہر اب یہ بسانے جارہے ہیں اک بطورِتفریح گا!
کرکے یہ جا ئیں گے کیا پیدا بزرگوں کا اپنے نام
 
360
جنت کے حصول کا واحد راستہ۔۔۔ شمس جیلانی
 
ہر دروازہ بند کردیا رب نے ہر بحث ِ فضول کا
دیکر کے حکم اتباع میرا اور میرے رسول ﷺکا
اس سے ذرا ہٹے تو بھٹک جا ؤگے تم بھی شمس
ہےاللہ نے راستہ بتایا یہ ہی جنت کے حصول کا
 
361
سب سے بڑا عیب تکبر۔۔۔ شمس جیلانی
 
اللہ میرے نزدیک ہودنیاتیری یہ مٹی کا کھلونا
رب تیری مرضی پہ جیؤں میں ہو مرا اٹھناو سونا
تکبر میرے پاس نہ پھٹکے کہ چادر ہے تیری وہ
سب سے بڑاعیب ہےانسان کا مغروربھی ہونا
 
362
یاد رکھوکمانا کھلانامرد کے ذمہ ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
بہو ہو یا کہ بیٹی ہو حقیقت جو بنا تی ہے کوئی سپنا
پھرگھر آکر کے پہلا کام ہو مالک کا اپنے نام بھی جپنا
گھر بھی جو چلاتی ہے جو باہر کام کرکے مال لاتی ہو
اسےمحسنہ اپنی تم جانوجتا تی بھی نہ ہو احسان وہ اپنا
 
363
اس مسئلہ پر حضور ﷺ کا فیصلہ ۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
کہا سرکار ﷺنے جو مومنہ گھر پر اپنے خوشی سے خرچ کرتی ہے
جوگھر پر جان دیتی ہے اپنے شوہر پر اوربچوں پر بھی وہ مرتی ہے
“ ہے دہرے اجر کی مالک اک راہ خدا میں خرچ کرنااور صلہ رحمی“
یہ ہی فیصلہﷺجب زوجہِ عبد اللہ بن مسعود(رض) استفسار کرتی ہے
 
364
دو اشعار۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
اب اپنا تا ہے نہیں کوئی رستہ اصول کا
نقشہ بگڑنے جا رہا ہے عرض و طول کا
دامن بچا کے چلیئے الجھ جا ئے نہ کوئی
کہ خطر ناک ہوگیا ہے ہر کانٹا ببول کا
 
365
قابلِ ستائش لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانیی
 
قابل ِستائش ہیں رہ کے دنیا میں دین کا کام کر تے ہیں
رب راضی ہے ان سے تواچھے لوگ بھی اکرام کرتے ہیں
خرچ کر تے ہیں جوراہِ خدا میں جتاتے نظر آتے نہیں وہ
شب کو جاگتے زیادہ ہیں اوردن میں کم آرام کرتے ہیں
 
366
ہوشیار ، ہوشیار۔۔۔ شمس جیلانی
 
با زار میں زہر بھی ہے اور موجود ہیں منشیات
ہے تمہارے واسطے بس مقدم مگر اللہ کی بات
نہ تم دوست کی مانو نہ معتبرمانو میری ذات
تم پر لازم ہے خریداری سے اول خود کرو تحقیقات

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

صحابہؓ صحابیات ؓ اور کرامات۔۔۔ شمس جیلانی

یہ کلیہ ہے جوکہ بہت مشہور ہےکہ “جہاں کہ صحابہ کرام ؓاور صحابیاؓت کی حد ختم ہوتی ہے وہیں سے اولیا ئے عظامؒ کی حد شروع ہوتی ہے“ جبکہ اولیائے کرامؒ کی توبے انتہا کرامات کتابوں میں موجود ہیں تو صحابہؓ اور صحا بیاتؓ کی اس طرح کرامات کیوں نہیں ملتیں؟مجھ سے یہ سوال میرے ایک دوست نے دریافت کیا؟ تومیں نے جواب دیا کہ جب چودھویں کا چانداپنے عروج پر ہو اور چمک رہا ہو، توستاروں کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے یہ ہی معاملہ صحابیوں ؓ اور صحابیاتؓ کے ساتھ بھی ہے چونکہ حضور ﷺ اس وقت ان ؓ میں موجود تھے انﷺ کے سامنے ان ؓکی روشنی ماند ہونا ہی تھی۔ دوسرے بعد میں جو معاملہ حضور ﷺ کے ساتھ ہوا وہ بھی ایک وجہ ہوسکتا ہے کہ ایک دور ایسا بھی آیا بھی آیاکہ لوگ یہ باور کرا نے پر اتر آئے کہ حضور ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے لہذا انہیں کوئی معجزہ نہ دکھانے ضرورت تھی نہ انہوں نے دکھایا جوکہ قطعی غلط بات تھی؟۔ کیونکہ حضور ﷺ کی پہلی دعوت ہی اک معجزے سے شروع ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے ابو لہب نے کہا تھا کہ “ کیا تم ﷺ نے ہمیں یہ جادو دکھانے کے لئیے بلا یا تھا“ تمام مور خین اس پر متفق ہیں کہ اس کا اشارہ اس کھانے طرف تھا جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک چھوٹے سے برتن میں دودھ اور کھانے کی شکل میں لا ئے تھے اور وہ چالیس مہمانوں کا پیٹ بھرنے کے بعد بھی بچ رہا تھا؟ اس کے بعد جو سلسلہ معجزات شروع ہوا تو قدم قدم پر جا رہی رہاجس کی تفصیل بڑی طویل ہے۔ جو اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں سما سکتی؟ یہ ہی معاملہ صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کے ساتھ بھی ہوا کہ ان میں سے بہت سو ں سے کرامات سر زد ہوئیں مگر ان کا ذکر عام طور پر نہیں ملتا۔ البتہ اکا دکا تاریخ میں نظر آئے گا وہ بھی بہت تلاش کرنے سے اگر کسی کا مطالع دقیق ہوا تو۔ مثال کے طور پر پہلا واقعہ حضرت ابو سعید خذریؓ کا ہے کہ آپ کو حضور ﷺ نے کسی سریہ میں بھیجا وہاں کے قیام دوران وہاں کے کسی باشندے کو بچھونے کاٹ لیا توانہوں ؓ نے کچھ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا اور اس نے کچھ بکریاں انہیں ؓ انعام میں دیں وہ واقعہ انہوں ؓنے واپس آکر حضور ﷺ کو سنایا تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تم نے کیا پڑھا تھا تو انہوں نے فرمایا، سورہ فاتحہ حضورﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا اس میں سے میرا حصہ بھی دو؟انہیں کا ایک دوسرا واقعہ جو بہت مشہور ہے کہ وہ بحرین کی سرکوبی کے لئیے بھیجے گئے توانہوں نے ایرانی فوجوں کو وہاں سےنکال دیا اور وہ مجبور ہوگئے کہ ایک چھوٹے سے جزیرے منامہ نامی میں جمع ہو جا ئیں اور وہاں سے کسی طرح ایران چلے جائیں۔ وہ جا تے ہوئے کشتیوں کا پل بھی ساتھ لے گئے۔ اس وقت انہوں ؓ نے ان کے تعاقب میں اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالدیا اور سواروں کو حکم دیا کہ میرا اتباع کرو! تاریخ ِ اسلام میں یہ پہلا موقعہ تھا سمندر میں گھوڑے دوڑانے کا۔ اس کے بعد دوسرا موقعہ حضرت سعد ؓبن ابی وقاص کے دور میں ہوا کہ جب وہ ایران کی مہم پر تھے انہوں (رض) ایرانیوں کے تعاقب میں اپنا گھوڑا سمندر میں ڈالدیا اور اپنے ہر اول دستے کو حکم دیا کہ میرے پیچھے آؤ۔ جبکہ وہ تیسرا واقعہ تھا جو کہ جو حضرت نوفلؓ کے دور میں افریقہ میں پیش آیا جس میں نہ انہوں (رض) نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر سمندر پارکیا نہ اوروں کی طرح اپنے ساتھیوں کو حکم دیا، بلکہ یہ فرمایا کہ“ اے اللہ مجھے پتہ ہوتا کہ اس سے آگے بھی تیری زمین ہے تو میں اس کو بھی فتح کر لیتا“ اس کے بہت عرصہ بعد حضرت طارقؒ کی قیادت میں سمندر کو کشتی کے ذریعہ پار کرکے اسلامی فوج اسپین گئی اور ساحل پر پہنچ کر ان کے حکم پر کشتیاں جلانے کا واقعہ پیش آیا؟جبکہ اسی واقعہ کو مورخین نے علامہ اقبال ؒ کے شعر سے منسوب کیا ہے کہ۔ بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے ۔البتہ حضرت نوفلؓ کے دور میں ان کے ساتھیوں نے یہ ضرور دیکھا کہ افریقہ کا جنگل جو کہ درندوں سے بھرا ہو ا تھا تو انہوں نے حکم دیا کہ منادی کردو کہ محمدﷺکے کچھ صحابیؓ بھی ہم میں شامل ہیں لہذا تم جنگل کا یہ حصہ خالی کردو اور دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ درندے اپنے گلے میں اپنے بچوں کو لٹکائے نقل مکانی کر رہے ہیں دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ الجراح کو تین سو مجاہدین کا ایک دستہ لیکر سمندر کے کنارے کنارے چلنے کا حکم دیاجب ان کے پاس راشن ختم ہوگیا تو سب نے مل کر دعا کی اورسمندر نے ایک اتنا بڑا سمندری مردہ جانور سا حل پر پھینک دیا جوکہ اتنا بڑا تھا کہ اس کی آنکھ میں آدمی بیٹھ سکتا تھا؟ جب لوگ حکم کے منتظر ہوئے تو انہوں نے فرمایا میرا منہ کیا دیکھ رہے بسم اللہ کرکے کھاؤ۔ سب نے کھا یا اسے سکھا لیا اور اسے ساتھ لیکر مدینہ منورہ پہنچے تو یہ مسئلہ انہوں نے حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا۔تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس میں سے کچھ بچا ہے تو مجھے بھی دو؟
ان کے علاوہ میں نے ان سب کی سوانح حیات لکھی ہیں ۔لہذا چاروں خلفا ئے راشد بشمول حضرت امام حسینؑ یہ سب صاحب ِ کشف و کرامات تھے تفصیل وہاں پڑھ لیں مگر مختصراً میں یہاں کچھ واقعات بتائے دیتا ہوں۔کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھو ں درِ خیبر فتح ہونا کیا کرامت نہ تھی جو دروازہ بعد میں چالیس آدمیوں سے نہیں اٹھا؟اِن میں سے ایک کے منبر پر بیٹھ کر میدان جنگ کی راہ نمائی کرنا کیا کرامت نہ تھی، اور دوسرے کے منبر سے ہی فتح کی خبر دینا کیا کرامت نہ تھی، تیسرے کی حضور ﷺ کی شام کو روزہ اپنے ساتھ کھولنے کی دعوت پر جان دیدینا کرامت نہ تھی؟ حضرت امام حسین ؓ کا کربلا میں تشریف لے جانا کیا کشف اور کرامت پر مشتمل نہ تھا۔ اس کی تفصیلاگر جاننا چاہیں تو تاریخ اسلام میں اور ان کی سوانح حیات میں جوکہ کسی کی بھی غیر جانبدار مورخ کی لکھی ہوئی ہو اس میں تلاش کریں مل جا ئیں گی؟ البتہ صحابیاتؓ میں سے حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ لاتعداد کرامات منسوب ہیں جو امت جانتی ہے جنہیں میرے خیال میں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی اولیا ء ؒاللہ جوکہ زیادہ تر ان ؓ کی اولاد میں سے تھے اتنے صاحب ِ کمال تھے تو ان کے بارے میں کیا کہنا؟ البتہ ان ؓ کے علاوہ صرف ایک کا صحابیات ؓ میں ذکر ملتا ہے وہ ہیں حضرت شفاء بنت عبد اللہ بن الشمس ؓ جوکہ بنی مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں اور انہوں نے کب ہجرت کی اس کی تفصیل نہیں ملتی مگر اس پر سب مورخ متفق ہیں کہ وہ پڑھی لکھی خاتون تھیں اور جلیل القدر صحابیات ؓمیں شامل تھیں ان کو چونٹی کاٹے کا کو ئی عمل آتا تھا جس کے لیئے بہت مشہور بھی تھیں۔جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو حضورﷺ سے پوچھا کہ میں اپنا یہ عمل جاری رکھوں؟ یا ترک کردوں؟تو حضور ﷺ نے فرمایا پہلے مجھے پڑھ کر سنا ؤ پھر میں ﷺ فیصلہ کرونگا۔انہوں نے سنایا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے تم جا ری رکھو؟ اور جب حضرت حفصہؓ ام المونین بنیں تو حضرت شفا ء کو حضور ﷺ نے ان کو پڑھانے پر مامور فرمایا تو حکم دیا ﷺکہ ان کو بھی وہ عمل سکھادو۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے۔۔۔ شمس جیلانی

آج کا عنوان حضرت علامہ ؒ اقبال مرحوم کے ایک شعر کا مصرع اولیٰ ہے۔ جبکہ اس کا مصرثانی ہے“ لو گ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا“جوکہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ مسلمان ہونا آسان کام نہیں ہے؟اس کا ثبوت دیکھنا ہوتو اس آئینے میں دیکھئے کہ حضرت عمر ؓ جیسے زیرک انسان کو اسلام قبول کرنے میں چھ سال لگے جن میں سے چند سال انہوں نے اس بات پر غورو خوص کرنے پر لگا ئے کہ اسلام قبول کرنے بعد معاشرے میں میرا مقام کیا ہوگا؟ جبکہ وہ اس سے بہت پہلے اسلام کی حقاینیت کے قائل ہوچکے تھے جس پر اس احقر نے ان کی سوانح حیات میں تفصیل سے بات کی ہے؟ جبکہ ان کے معاملے میں حضور ﷺ کی دعا بھی شامل تھی۔ ان کے برعکس حضرت ابوبکر اور حضرت علی ؓ نے ایمان لانے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی؟ یہ فرق اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے حضورﷺ کو قریب سے دیکھا ہوا تھا؟ مگر حضرت عمر(رض) اور حضورﷺ میں اتنی قربت نہیں رہی تھی اس لیئے ان کو فیصلہ کرنے میں دیر لگی۔دوسرے یہاں فارسی کا وہ شعر بھی سامنے آجاتا ہے کہ“ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد“ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پانچوں انگلیا ں یکساں نہیں بنائی ہیں۔ لیکن جب ہم مسلمان بنے ہیں تواِن دونوں مصروں کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی؟ مگر آج ہے کہ ہم بس اتنا ہی جانتے ہیں وہ بھی سنی سنائی بات ہے کہ جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے اجداد میں سے کسی نے اور اگر وہ پڑھے لکھے نہیں تھے تو مسجدکے ملا جی نے ہمارے ایک کان میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہہ دی اور ہم مسلمان ہو گئے؟ جب کہ ہم اس کے معنی وغیرہ سے بھی آشانہ نہ تھے لہذا یہ کلیہ ہے کہ جب کوئی چیزآسانی سے مل جاتی ہے تو اس کی قدر بھی اتنی ہی کم ہوتی ہے جوکہ ہے؟ جبکہ ہمارے کلمہ پڑھنے کا مرحلہ چار سال کے بعد آیا اگر کسی پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئے تو؟ ورنہ رواج کے مطابق ساتوں کلمے بہ یک وقت مولوی صاحب نے نکاح سے پہلے پڑھائے ہونگے؟ جبکہ لڑکیوں کے تو کلمہ پڑھنے کا نمبر کبھی آتا ہی نہیں تھا۔ کہ جان کنی کے وقت آس پاس بیٹھی ہوئی خواتین کو یاد آجائے تو اور بات ہے ؟اوروہ بیچاری ایسی صورت میں منکر نکیروں کو کیا جواب دےگی اور جن کی تربیت اس طرح ہوئی ہو ان سے امید رکھنا کہ وہ اچھے مسلمان پیدا کر سکیں گی خیال ِ خام ہے۔
جبکہ علامہ اقبال ؒ جس دور کی بات کر رہے ہیں یہ وہ دور تھا کہ مسلمانوں کی تعداد مکہ معظمہ میں انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔انہیں اپنے دفاع میں بھی تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ اسوقت کسی کااسلام قبو ل کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا تھا سب سے پہلے جن لوگوں نے خود کو ہلاکت میں ڈالاوہ ایک یمنی مہاجر وہاں اپنے گم شدہ بھائی کو تلاش کرنے آئے تھے اور وہیں وہ رہ پڑے تھے۔ چونکہ عرب معاشر ے میں کسی کی پناہ میں آئے بغیر زندہ رہنا ناممکن تھا ، اس لیئے انہوں نے ابو خذیفہ بن مغیرہ کی پنا حاصل کرلی اور انہوں نے ہی اپنی کنیز سمیہ سے ان کی شادی کردی؟ جن کانام حضرت یاسر(ڑض) او حضرت سمیہ ؓ تاریخ میں مشہور ہے۔ اور وجہ شہرت ان دونوں کی شہادت ہےجو کہ تاریخ ِ مکـہ میں اپنی قسم کی پہلی شہادت تھی؟ ۔ چونکہ ان کے پناہ دہندہ ابو حذیفہ بن مغیرہ کا انتقال ہوچکا تھا لہذا اب وہ بغیر پناہ کے رہ گئے تھے؟ اس لیئے انہیں سخت اذیتیں دنیا آسان تھا۔ جوکہ حضور ﷺ کی موجودگی میں دی گئیں اور حضور ﷺ چونکہ ہر حالت میں وحی کے پابندتھے اور مسلمانوں کو ابھی لڑنے کی اجازت نہیں ملی تھی لہذا وہ ﷺبھی اس سے زیادہ کچھ نہ کرسکے کہ ان کو جنت کی خوشخبری سے سرفراز فرمادیں اور انہیں شہید ہوتا ہوا دیکھیں۔انہیں جس بے رحمی سے ہلاک کیا گیا اس کی کچھ مورخین نے تفصیل لکھی ہے جو کہ ایسی ہے کہ انسان کے رونگٹے کھڑی کردیتی ہے چونکہ مجھے لندن، اور کنیڈا دونوں کے قوانین کا خیال رکھنا ہے کہ وہ اس کی اجازت نہیں دیتے لہذا میں تفصیل میں نہیں جارہا ہوں۔آپ اس عبارت سے نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ کہ انہیں کس قسم کی اذتیں دی گئیں ہونگی؟اور اس کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں کہ اس شعر کے معنی کیا ہیں؟ کہ اس وقت ایمان لانا صرف کلمہ پڑھنے کا نام نہیں تھا۔ کیونکہ مسلمان ہونے کے لئیے ابتدا ء کلمہ طیبہ تھا تو انتہا شہادت تھی۔جس کا کوئی پیدائشی مسلمان اندازہ بھی نہیں کرسکتا، ان کو یقیناً یہ شعر عجبیب لگے گا؟ مگر اس کو قرآن کی روشنی میں دیکھیں اور اس ۤآیت کو دیکھیں کہ“ مسلمانوں نے اپی جان کا سودا اللہ تعالیٰ سے جنت کے عیوض کرلیا ہے “ تو اس کے معنی با ٓسانی سمجھ میں آجا ئیں گے؟کہ ابتدائی دور میں مسلمانوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑا؟ جب ان کی زندگی مکہ معظمہ میں تنگ کردی تو بعض مسلمانوں کو پہلے حبشہ ہجرت کرنا پڑی لیکن کچھ لوگ ایک افواہ سن کر مکہ معظمہ واپس آگئے کہ حضور ﷺ اور اہلِ مکّہ میں کوئی معاہدہ طے پاگیا ہے؟ یہاں پہنچے تو پتلا چلا کہ خبر غلط تھی۔ اب نہ گھر تھا اور نہ کوئی ٹھکانہ ۔حضور ﷺ خود بنو ہاشم کے چند لوگوں کے ساتھ شعب ابی طالب میں ایک طرح سے محصور تھے۔ مختصر روداد یہ ہے کہ درایں اثنا یثرب والوں نے پناہ دیدی اور ان لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ہجرت کے مرحلے سے گزرنا پڑا؟ آخر کار صبر رنگ لایاپھر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اہلِ مدینہ کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالدی اورتمام مشکلات دور فرماتا چلا گیا اور اس طرح اسلام کی نشاط اول کا دور شروع ہوگیا! وہ مکہ فتح ہوگیا جس کے باشندوں نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی تھی اور قریش کے غزوہ بدر میں بہت سے سردار مارے گئے۔؟پھر اس آیت کی تفسیر سامنے آگئی کہ“ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جا ئے گا۔۔۔شمس جیلانی

قارئین گرامی ویسے توآپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ فیشن یہ ہی ہے کہ آج کا عنوان ایک شاعر کا خواب ہے اور بس؟ مگراسی مضمون کی قر آن کی دوآیتیں بھی ہیں جس پر مجھے تو یقینِ کامل ہے اور مسلمانوں کو بھی ضرور ہوگا لہذا یہ بھی ایک دن ہوکر رہے گا۔ میں نے تقریبا ٍ “تیس سال اس کوشش میں گزاردئیے کہ لوگ حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف واپس آجا ئیں تو وہ فلاح پا جائیں؟۔ جو کہ بچپن سے میرا خواب تھا جس کو میری نانی محترمہ نے میرے دل میں ڈالدیا تھا، بار بار یہ کہہ کہ یہ کام حضور ﷺ ایسے کیا کرتے تھے تم بھی ایسا ہی کیا کرنا؟لہذا میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں بڑا ہوکر حضورﷺ کی سیرت ضرور لکھونگا اور لوگوں کو تلقین کرونگا کہ اس کو لوگ اپنا لیں؟ کیونکہ اس پر عمل کرنا جیسا کہ حضور ﷺنے کرکے دکھایا وہی اصل اسلام ہے؟ اسی طرح کرنے سے ثواب ہے جبکہ کسی اور طرح سے عمل کرنے پر نہ ثواب ہے اور نہ ہی ا للہ کے دربار میں اسے مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ یہ ایک نیک کام ہے اس لیئے مجھے اس میں کامیاب ہونے میں قطعی دقّت نہیں ہوگی؟ لیکن یہ میرا خیال خام تھا کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہ تھا کہ قوم پٹری سے اتر چکی ہے۔اور پٹری پر واپس لانا سب سے بڑا مشکل کام ہے۔ میں نے یہ کام اپنی آخرت کے لئیے اٹھا رکھا تھا کہ جیسی ہی میں اپنی دنیاوی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاؤنگا تو اپنا سارا وقت حضور ﷺ کی سیرت کو عام کرنے کی کوشش میں صرف کرونگا؟ میں نے اسی لیئے کنیڈا ہجرت کی تا کہ میں یہاں سکون سے یہ کام شروع کرسکوں کیونکہ میرا قلم یہاں پر آزاد ہوگا۔ لہذا حضورﷺ کی سیرت کو میں نے اخباروں میں قسط وار شائع کرانا شروع ٹورنٹو سے کیا۔ سب سے پہلے اس وقت کے موقر اخبار“پاکیزہ“ نے قسط وار شائع کرنا شروع کیا جس کے ایڈیٹر صبیح منصور مرحو م تھے جن کا اوڑھنا اور بچھونا اسلام تھا؟،ان کے بعد پاکستان ٹائمز میں ندیم صاحب نے ٹورنٹو اور شکاگو سے بہ یک وقت شائع کرکے ثواب کمایا، لیکن اشاعت کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا میرے عزیز دوست جناب صفدر ھمدانی پر جوکہ لندن سے عالمی اخبار نکال رہے ہیں اور اسوہ حسنہ ﷺ کے والا اور شیدا ہیں۔ اور جب سیرت مکمل ہو گئی تو “ روشنی حراسے“کے نام سے میں نے پاکستان سے شائع کی اور متعدد ایڈیشن شائع کرائے اور مفت تقسیم کیے۔ یہ اس طرح لوگوں کے ہاتھوں میں اور لائبریریوں میں پہنچی اب یہ اسی نا م سے یوٹیوب پر ویڈیو کی شکل میں بھی موجود ہے جس کا سہرا مسعود صاحب کے سر ہے۔ میں بڑا مایوس تھا کہ میں نے جسے آسان کام سمجھا تھا وہی سب سے مشکل نکلا؟کیونکہ کہ یہ راز مجھ پر بعد میں کھلا کے الحمد للہ سارے مسلمان حضورﷺ سے محبت تو بے انتہا کرتے ہیں ان ﷺ پرہر وقت جان دینے کو بھی تیار رہتے ہیں؟“ مگر ان کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں“زمانہ جاہلیہ کی طرح اس دور میں بھی فرقہ بندیاں، برادریاں، رسم ورواج وغیرہ دوبارہ اسلام کے راستے میں حائل ہو چکے ہیں اور انہیں توڑنے کی کسی میں نہ جرات ہے نہ انہیں فرصت ہے۔ جبکہ اسلام اسوہ حسنہﷺ پر عمل کرنے کا نام ہے اور مسلمان کہتے ہی اسوہ حسنہﷺ کے عامل کو ہیں؟ یہ ہی اہلِ سنت بشمول تشیع حضرات تمام فرقوں کا ایمان ہے“۔ کیونکہ قرآن سورہ احزاب کی آیت نمبر 21 میں کہہ رہا کہ ً تمہارے نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے ًاور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ ً “عمل کے بغیرا یمان کچھ نہیں اور ایمان کے بغیر عمل کچھ نہیں“ اس کے بعد ان کے خاندان کا وطیرہ کیا تھا وہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام زین العابدینؓ کا قول ہے کہ ً ہم حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کواس طرح پڑھتے تھے جیسے کہ آجکل مسلمان قرآن شریف پڑھتے ہیں۔
اب میں جس عمر کو پہنچ چکا ہوں یعنی 90سال کا ہوچکا ہوں ممکن ہے کہ یہ میرا آخری مضمون ہو؟لیکن سب سے زیادہ مجھے تقویت سورہ الصف کی آیت نمبر 8اور 9 سے ہوئی۔جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا جس کا لب ِ لباب یہ ہے کہ یہ کافر یہ مشرک یہ خواب دیکھتے رہیں کہ خدا کے نور کوجو کہ تمام چیزوں کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اپنی پھونکوں سے بجھا دیں گے؟۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا اللہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کرکے چھوڑ ے گا چاہے ان کو کتنا ہی ناگوارِ خاطر کیوں نہ گزرے؟ اس کی ہلکی سی جھلک تمام دنیا نے اس وقت دیکھ لی تھی کہ کہاں تو یہ عالم تھا کہ حضور ﷺ اپنی نگاہ ِ مبارک سے اسلام کے پہلے جوڑے کو انتہائی بربر یت کے ساتھ ابو جہل کے ہاتھوں شہید ہوتا ہوا ملا حظہ فر ما تے رہے تھے اور ان کو جنت کی بشارت دیتے رہے لیکن ظالموں کے ہاتھ نہ روک سکے؟ مگران کا یقین دیکھئے وہ حضور ﷺ کے خلاف ایک لفظ کہہ کر اپنی جان بچا سکتے تھے اس کا مطالبہ پورا کرکے؟ لیکن دونوں ؓ نے جان دینا پسند کیا مگر وہ لفظ زبان سے ادا کرنا پسند نہیں کیا؟ پھر جس نے بھی مکہ سے ہجرت کا ارادہ کیا وہ لوٹ لیا گیا ان کے گھروں پر کفار نے قبضہ کرلیا۔ کیا کسی کے تصور میں یہ تھا۔ کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ حضور ﷺ آٹھ سال بعد جب واپس فاتح کی حیثیت سے مکہ تشریف لا ئیں گے توان کے ساتھ دس ہزار جانثار فوج ہو گی جو انکو جنہوں نے پہلے ان ﷺپر اور صحابہ کرامﷺ پرظلم کیا تھا ان کے ایک ہی اشارے پر نیست ونابود کرسکتی ہوگی۔ لیکن سرکار ﷺ اس دن شکر گزاری کے طور پر اللہ کے آگے سر جھکا ئے ہوئے تھے اور منادی کرنے والا اعلان کر رہا تھا کہ آج کسی سے کوئی انتقام نہیں ہے نہ انہوں نے ابو سفیان سے اورنہ ہی ابو لہب کے خاندان سے اپنے مکان خود واپس لیئے بلکہ جب صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کہ ہمارے مکان تو ان سے دلوا دیجئے جوانہوں نے ہم سے جا تے ہوئے چھینے تھے۔تو فرمایا “ کیا تم نہیں چاہتے ہو کہ ان کو معاف کردواور اس کے بدلے میں جنت میں مکان لے لو؟“ سب نے کہا کہ حضور ﷺ “ ہمیں یہ سودا منظور ہے “ بہت سے مورخین نے ان آیتوں سے مراد فتح مکہ لیا ہے۔ مگرمیرے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان دو آیتوں کے الفاظ قر آن میں جا کر دیکھ لیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تمام ادیان پر اپنے دین کو غالب کرنے کی بات فرما رہے ہیں وہ وقت احادیث کے مطابق قرب ِ قیامت سے پہلے آنا ہے جس کی طرف اشارہ حضرت امام مالک ؒ نے فرمایا ہے؟۔ اس وقت حالات تقریبا ً وہی ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ میں تھے۔ فرق اب یہ ہے کہ چاروں طرف مسلمان بھی آپس میں لڑ رہے ہیں اور لڑانے والے لڑا رہے ہیں جبکہ پہلے وہ متحد تھے؟ جو لوگ جانوروں کی جئیو ہتھیا پسند نہیں کرتے وہی لوگ مسلمان کے ساتھ آج ہر زیا دتی روا رکھے ہوئے ہیں؟ جس کی اطلاع حضور ﷺ نے سورہ الانعام کی آیت نمبر65کے نزول کے موقعہ پر امت کو دیدی تھی لیکن امت نے اس پر کان نہیں دھرے؟ لہذا سزا بھگت رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود ہر مومن کا عقیدہ ہے کہ قرب قیامت ایک دور ایسا آئے گا کہ اسلام غالب ہو گا؟ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ امید افزا ء بات حضرت امام مالک ؒ کی پیش گوئی میں ملتی ہے کہ انہوں ؒ نے فرمایا کہ جس طرح امت کی پہلے مرحلے میں اصلاح ہوئی تھی۔ اسی طرح اس دوسرے حصے میں اصلا ح ہوگی“ جس کے اِس وقت کہیں دور دور کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں؟مگر یہ مسلمانوں کے ایمان کی کمزوری ہے؟ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ پاکستان بن جا ئے گا اورپاکستان بننے میں جو مزاحم تھے وہی لوگ معاون ہو نگے؟ مگر یہ سب کچھ ہوا میں نے اور میرے دور کے تمام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، کانوں سے سنا کہ پاکستان بن گیا۔ ان شاء اللہ ایسے ہی ایک دن سنیں گے۔ کہ یہ بھی ہوگیا۔ جیسے کہ آجکل ایک کرونا جیسے جرثومے نے بڑے بڑوں کو پریشان کردیا ہے۔ بہت سی فضول خرچیاں بند ہو گئیں جو کہ کلچر کے نام پر رائج تھیں؟انہیں لوگو ں کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کرنا پڑیں۔ یہ اور بات ہے ایسا کرنے والے ہم نہ ہوں ممکن ہے کہ کوئی اور ہو جو ہماری جگہ پر کر ے؟ جیسا کے تاتاریوں نے کیا کہ جنہوں نے مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے پہلے پہاڑ بنا ئے بعد میں وہی اپنا پرچم چھوڑ کراسلامی پرچم ایک دو دن نہیں صدیوں بلند کیئے رہے؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے کوئی کام مشکل نہیں اسے اپنا کارخانہ چلانا ہے ہم نہیں تواورکوئی چلا ئے گا لیکن کارخانہ بند نہیں ہوگا؟ وہ کون ہوگا وہ تاریخ آگے چل کر بتا ئے گی؟ ممکن ہے لوگ سوچ رہے ہوں کہ یہ چراغ تلے اندھیرا کیوں کہ وینکور کا ذکر ہی نہیں۔ ایسا نہیں ہے وینکور والوں نے بھی قدم قدم پر مجھے سراہا خاص طور سے مریکل کے پیرزادہ صاحب ایڈیٹر مریکل، کمیونٹی نیوز کے حارث اور عوام اور علماء نے شروع دن سے میراساتھ دیا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کو جزا ئے خیر عطا فر مائے(آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

یہ ہنگامے،ہنگامے اور ہنگامے۔ شمس جیلانی

مسلمان آجکل اسلام آباد سے دنیا کو اسلام کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ موجودہ صورت ِ حال دیکھ کر حضور ﷺ کو کتنا صدمہ ہوتا ہوگاذراغور فرما ئیں کہ یہ غیر نہیں پہنچا رہے ہیں۔ بلکہ دکھ بھی خود مسلمانوں کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے؟ اور اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہنچ رہا جہا ں کے باشندوں نے یہ کہہ کر یہ ملک بنا یا تھا کہ ہم یہاں اسلامی نظا م نافذ کر کے دکھا ئیں گے اوردنیا میں تیرا نام بلند کریں گے؟ اوروں کو تو جانے دیجئے وہ اپنی قبر میں پڑے اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہوں گے؟ مگر موجودہ حکمراں تو اس وعدے پر آئے تھے کہ ہم اس ملک میں مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا ئیں گے؟ اگر اس پہ عمل نہیں کر سکتے تھے تو گمراہ کن وعدے کیئے کیوں کیئے تھے؟۔ کیا موصوف یہ آیتیں بھی بھول گئے تھے کہ روز قیامت اللہ سبحانہ تعالیٰ وعدوں کا حساب لیگا؟ اور کیا سورہ الصف کی یہ آیتیں بھی بھول گئے تھے کہ“اے ایمان والو!وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو ا،للہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے“ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے باوجود بھی وعدہ خلافی کر کے بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کوئی پسندیدہ حکمراں رہ سکتا ہے؟ اور جہا ں اس کی بالا دستی نہ ہو وہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلا سکتا ہے؟ جواب پھر آپ پر چھوڑتا ہوں؟
جبکہ حضور ﷺنے فرمایا کہ ہر دین کا ایک ممتاز اخلاق ہوتا ہمارے دین کا ممتاز اخلاق، اخلاق ہے۔ دوسری جگہ یہ فرمایا کہ“ میں دنیا میں مکرم ِ اخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں“ پھر دوسرے مذاہب کی کتابوں میں حضورﷺ کے امتیوں کے جو اوصاف صدیوں سے بیان ہوتے چلے آرہے تھے وہ یہ تھے کہ وہ بازاروں میں لڑیں گے جھگڑیں گے، نہیں نہ ہی جاہلوں کی طرح آپس میں گالی گلوچ کیا کریں گے؟کیا آج کی امت ِ محمدیہ ﷺ کے بارے میں ہم یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس معیار پر پورے اتر تے ہیں؟ جبکہ اسلام اور ہادی ِ ﷺاسلام نے زندگی کا کوئی شعبہ ہمیں ہدایت دیئے بغیر نہیں چھوڑا رہی بات اور مذاہب کی، وہ صرف مذہب ہیں دین نہیں ہیں اور وہ بھی غیر مکمل جبکہ اسلام دین ِ مکمل ہے۔ سورہ حجرات میں جو ہمیں معاشرتی آداب سکھا ئے گئے ہیں ان میں کہیں بھی یہ گنجا ئش نہیں نکلتی ہے جو کہ ہم آج کل کر رہے ہیں۔ چلئیے اسے تو جانے دیجئے حضور ﷺ نے جو اپنا وداعی خطبہ ہمیں عطا فرمایا تھا اس میں دی گئیں ہدایات کیا ہم نے پوری کیں؟ جبکہ ہر ایک سعاد تمند بیٹا اپنے باپ کی وصیت کا تواحترام کیا ہی کرتا ہے۔ جبکہ نبی ﷺ کے ارشادات پر کان دھرنا اس لیئے بھی بہت زیادہ ضروری ہے کہ وہﷺ نہ صرف امت کے باپ ہیں بلکہ شارع اسلام بھی ہیں اور ان کی زبان ِ مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون ہے۔ اور یہ تنبیہ بھی ہے کہ“ وہ مومن ہی نہیں جو اللہ اور رسول ﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ نہ چاہے“ سوچیئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمراں، حزب اختلاف، اور باشندے کس منہ سے حضور ﷺ کے سامنے شفاعت کے لیئے جا ئیں گے۔ وہاں کیایہ جواب دے سکیں گے کہ حزب اختلاف کا تو کام ہی یہ ہی ہے کہ اگر حکومتی رکن نے گالی دی وہ جواب میں بوتل مار دیں چاہیں وہ کوئی خاتون ہی کیوں نہ ہو؟ جبکہ الوداعی خطبہ میں پڑھیں تو اس میں حضورﷺ نے وصیت فرما ئی ہے کہ تم غلاموں اور خواتین کا خیال رکھنا یہ دونوں کمزور طبقے ہیں اورمیں تمہارے درمیان انہیں چھوڑے جارہا ہوں؟ آجکل جو کچھ بھی روزانہ پارلیمنٹ میں ہورہا یا پاکستان میں ہورہاہے اس میں امت جو کر رہی ہے کیا انہوں نے ان باتوں کا خیال رکھا ہوا ہے؟ جواب پھرآپ پر چھوڑتا ہوں بتا ئیے تو سہی کہ آپ کہا ں سے اس کی سند لائیں گے کیا برطانیہ سے، جو جمہوریت کی ماں ہے،؟اس کی پارلیمان میں کبھی ایسا ہوا؟ یا مدینہ کی مجلس شوریٰ میں ایسا ہوا ہو جو اسلامی جمہوریت کی ماں اور اپنی قسم کی پہلی ریاست تھی؟ اور کیا کہیں ایسا ہوا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالی کی ہے دستور میں لکھا ہو نے کے باوجود آپ اس پر جمہوری روایات کو تر جیح دیں جو کہ صریحا ً شرک ہے اس کے بعد بھی خود کو مسلمان کہلا سکیں ہیں؟ جبکہ اس کی ساری ذمہ داری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حاکم اعلیٰ پر آئے گی اور وہاں روز ِ قیامت ہر ایک یہ کہہ کر چھٹ جا ئے گا کہ ہم نے جو کام کیا وہ ان قوانین اور قوائد کے تحت کیا جو کہ نافذ العمل تھے؟ قانون نافذ کرنا ہماری ذمہ داری تھی بنانا نہیں۔؟ جو قوانین وہاں موجود تھے ہم انہیں کو نافذ کرتے رہے؟ جبکہ پاکستانی دستور کے مطابق تو یہ ہونا چاہیئے تھا کہ تمام اسلامی قوانین اب تک نافذ ہوچکے ہوتے جن کے نفاذ کے لئیے دستور میں دس کا عرصہ مقرر تھا، اور فیصلے چھوٹی عدالتوں سے لیکر بڑی سے بڑی عدالت تک کے وہاں سلام کے تحت نافذ ہورہے ہوتے؟ صدر مملکت اسلام آباد کی جامعہ مسجد میں جمعہ اور عیدین کا خطبہ دے رہے ہوتے،صوبائی دار الحکومت میں وہاں کے گورنر خطبہ دے رہے ہوتے اور اسی طرح ہر ضلعی صدر مقام میں جو بڑا ہوتا وہ وہاں کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہا ہوتا۔ یہ نہیں کہ وہ اپنی سکوریٹی کے نام پر ساتھ پردوں میں چھپے چھپے پھر تے رہیں، بجا ئے عوام کے درمیان رہنے کے جیسے کہ مدینہ کی ریاست میں رہاکرتے تھے۔ اس میں لنگڑے لولے عذر پیش کرنے کاکوئی جواز ہی نہیں ہوتا کہ ایساکرنے سے سکوریٹی کا مسئلہ پیدا ہوگا ہے؟آخروہ عوامی اجتما عات میں ابھی بھی مہمانوں ساتھ رسمِ دنیا نبھانے کے لئیے اکثر تشریف لے تو جاتے ہیں؟ اسی طرح مساجد میں بھی ایک دو صفیں سکوریٹی والوں کی ہو تیں اور وہ اس کے درمیان ہوتے؟ تو دنیا کے ساتھ سب کی عاقبت بھی سنور جاتی؟ اس صورت میں اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا مسلمان جھوٹے وعدے کر کے اب تک پہنچاتے رہے ہیں۔ جبکہ حضور ﷺ کا حتمی ارشاد ِ گرامی ہے کہ“ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا“ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان صدیقین میں شامل ہوجا ئیں جن میں شامل ہونیکے لیئے ہم پانچوں وقت ہر رکعت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے سورہ فاتحہ میں دعا کرتے ہیں؟ اور جہاں اس کے رسول ﷺ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔(آمین)حضرات ہم تو ابھی تک حکومت اور اپوزیشن سے شاکی تھے مگر ایک ممبر پارلیمان مسلم لیگ (ن) کو ٹی وی پر یہ کہتے سنا کہ ً گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے ًاب ہم اپنا سر پکڑ ے بیٹھے کہ ہمیں آج تک یہ پتہ نہیں تھا۔کہ ایک اور دیوتا بھی ہے جو کہ تمام اسلامی قوانیں سے مستثنیٰ ہے جس پر اسلامی قوانین نافذ نہیں ہوسکتے؟ اب آپ بتلا ئیں کہ ہم بتلا ئیں کیا؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

للہ کسی ایک طرف ہوجا ؤ، ورنہ؟۔۔۔ شمس جیلانی

ورنہ وہی مثال صادق نہ آجائے کہ ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔ یہ ملک بنا تھا خدا کے نام پر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ وہاں اللہ تعالیٰ کا نظام قائم کیا جا ئے گا اور اللہ کا نام وہاں بلند کیا جائے گا اورہم بلند کریں گے۔ لیکن اس سلسلہ میں ہوا کچھ بھی نہیں صرف دستور میں حاکمیت اعلیٰ بمشکل تمام اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لکھدی گئی جولکھی چلی آر ہی ہے مگر عملی طور پر شروع سے ہی حکمرانی کسی اور کی ہی رہی ،اس لیئے کسی نے اگر کچھ کرنا چاہا تو وہ یاتو نہیں کرسکا ،یا اسے کرنے نہیں دیا گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مملکت خداد نصف تیتر ہے اور نصف بٹیر ہے۔ اگر اسی کونام بلند کرنا کہتے ہیں تو وہ ہوچکا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی دیوار پر موٹا موٹا کلمہ طیبہ لکھا ہوا مگر اندرجو ہورہا وہ یہ ہے کہ اس کے برعکس اسلام کی دھجیاں اڑ ائی جا رہی ہیں ایک غیر مسلم ممبر پرلیمنٹ نے شراب پر بندش کابل کچھ دنو ں پہلے پیش کردیا تو مسلم اکثریت ہونے کے باوجود وہ رد ہوگیا کہ اسے اکثریت نہیں ملی؟ اندر سارے وقت ہوتا کیا رہتا ہے وہ ہے مخالفت برائے مخالفت۔ جو مغربی جمہوریت کی جان ہو تو ہو؟ اس کی اسلام میں کوئی گنجا ئش نہیں ہے پھر یہ کہ یہاں سچ کا ساتھ دینا ہے، جھوٹ کی مخالفت کرنا ہے؟ حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہونے کے باوجود کیسے قائم ہو؟ اس لیئے ابھی تک وہ د س سا ل پورے نہیں ہوئے جس کے اندر تمام غیر اسلامی قوانین کو اسلام کاجامہ پہنایا جانا تھا؟۔ ایک سے ایک ظالم حکمرا ں آتے رہے اور لوگ انکا ساتھ دیتے رہے جبکہ حکم مسلمانوں کو مظلوم کاساتھ دینے کا ہے عربی میں ظالم کے معنی صرف وہی نہیں ہیں کہ جوکسی پر تشدد کرتا ہو وہ ظالم ہے، بلکہ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو کسی کا حق ادا نہ کرتا ہو یا کسی کاحق دبا لے تو وہ بھی ظالم ہے۔ جبکہ وہاں سب سے بڑا ظلم یہ ہورہا ہے کہ کمزور بندے بیچارے تو کسی گنتی می ہیں نہیں ہیں۔ وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا جارہا ہے؟ بہت سے دانشور جو اس وقت پیدا نہیں ہو ئے تھے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کی مالی ترقی کے لیئے بنا تھا؟ تو پھر باقی مسلمانوں نے ووٹ کیوں دئیے انہیں کیا فائیدہ تھا جبکہ وہ تواپنی اپنی جگہ خوشحال تھے۔ لیکن ہم نے اس کے برعکس اپنے کانوں سے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ہما ری کوئی بات نہیں ہم جی لیں گے؟ مگر ہمارے بھائی اس سے فائیدہ اٹھا ئیں گے؟ہمیں تو ان کی اندر انصارؓان مدینہ کی روح نظر آئی تھی ممکن ہے کہ ہمارا چشمہ غلط ہو یا ہم نے غلط سنا ہو؟۔ پھرہر آنے والے نے ہمیشہ آتے ہی یہ کیوں کہا؟کہ ہم یہاں اللہ کا نظام قائم کریں گے یہ اور بات ہے کہ کیا کسی نے کچھ نہیں؟ جب یہ نعرہ پرانا ہوگیا تو موجودہ حکمراں نیا نعرہ لائے کہ ہم اسے مدینے جیسی ریاست بنا ئیں گے۔ بنا وہ بھی نہیں سکے؟ کہ بقول سیدہ سلام اللہ علیہا کہ “اسلام اپنے اوپر ووسروں کو ترجیح دینے کا نام ہے “ جبکہ وہ صفت وہاں اب پائی ہی نہیں جاتی ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کی سمت ابھی تک متعین نہیں ہوسکی کہ اس کو جاناکس طرف ہے۔ وہ کب ہوگی یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے اصل میں جس نے یہ ملک نہ صرف بنایا ہے بلکہ اس کو نوازتا بھی آرہا ہے۔مسند احمد میں حدیث ہے جس کے راوی حضرت بشیر بن نعمان ؓ ہیں کہ میں اہل ِ طائف میں سے پہلا شخص تھا جو حضورﷺ کی خدمت حاضر ہو ا، جب میں پہاڑ کے دوسری طرف پہنچا تو میں نے حضور ﷺ سلام کیا حضور ﷺ نے خندہ پیشانی سے مجھے جواب دیا اور آسمان کی طرف منہ کرلیا! میں سمجھا کہ شاید آسمان پر کوئی نئی بات رونما ہوئی ہے جبھی تو منہ آسمان کی طرف کیا ہے۔ انہوں ﷺ نے منہ دوبارہ میری طرف کیا اور فرمایا کہ“ میرے بعد ظالم با دشاہ آئیں گے۔لوگ ان کا ساتھ دیں گے؟ نہ وہ میرے ہونگے نہ میں انکا ہونگا۔ البتہ جو ان سے نفرت کریں گے وہ میرے ہونگے اور میں ان کا ہونگا“ اس حدیث کو حضرت ابن ِ کثیر ؒ سورہ الکہف کی آیت نمبر46 کی تفسیر میں لا ئے ہیں۔ اس چوہتر سال میں ایک سے ایک ظالم حکمراں پاکستان پر مسلط ہوتا رہااورلوگو ں نے ہر آنے والے کو لبیک کہا کسی نے مخالفت نہیں کی حتیٰ کہ ساری امیدیں اللہ کو چھوڑ کر اسی سے لگا لیں؟۔ ایک تو ایسا آیاکہ برسوں تک وہ بجا ئے بیٹھنے کے بستر پر لیٹ کر حکومت کرتا رہا جس کانام تھا غلام محمد یعنی حضور ﷺ کا غلام جبکہ اسے حضور ﷺ کی غلامی چھو کر بھی نہیں گزری تھی حالانکہ وہ ایک بزرگ کا مرید بھی تھا مگر بات شروع کرتا تھا گالی سے جبکہ اسلام اور گالی دو علیٰحدہ چیزیں ہیں؟۔ چونکہ ہم نے ابھی آپ کو ایک حدیث سنائی ہے جس پر ہمارا توایمان کامل ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم کیا کوئی بڑے سے بڑا عالم چل ہی نہیں سکتا نہ وہ نماز پڑھ سکتا ہے،نہ روزہ رکھ سکتا ہے،نہ زکات ادا کرسکتا ہے اور نہ حج کرسکتا ہے تو باقی بچا کیا؟ جبکہ آجکل بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو کہتے پھرتے ہیں کہ حدیثوں کا پتہ نہیں کہ صحیح بھی ہیں یا نہیں ہیں؟ جس مقصد کے لیئے ایک دو صدی پہلے یہ پرو پیگنڈہ شروع ہوا تھا اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ حضور ﷺ کی اہمیت کچھ موقعہ پرست گھٹانا چاہتے تھے۔کیوں؟ اس کی کہانی بہت لمبی ہے۔؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی عظمت ہمیشہ بڑھاناچاہی چونکہ ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہے اس لیئے اس واہیات پروپیگنڈے سے اکثریت متاثر نہیں ہو ئی اور کہنے والے جھوٹے ثابت ہوئے جبکہ ان کی اصلیت اب سامنے آگئی ہے؟۔ کیونکہ قرآن کے پہلے مفسر تو حضورﷺ ہی ہیں انہیں کے ذریعہ قرآن بھی پہنچا اور انہیں کے ذریعہ احادیث بھی پہنچی جنکی حقانیت روز بروز ثابت ہوتی جارہی ہے اور ہوتی رہے گی جب تک علم بڑھتا رہے گا۔ اگر آپ اسلام کی تاریخ دیکھ جا ئیں تو دیکھیں گے جب بھی کوئی نبی)
(ع) آیا تو ہمیشہ کتابیں ہر ایک ساتھ نہیں آئیں، لیکن دین کا پیغام انہوں ؑ نے بھی پہنچایا ۔ چونکہ حضور ﷺ نبی آخر الزما ں تھے ان کے بعد کو ئی نبی(ع) نہیں آنا تھا۔ ان کو تمام اوصاف میں درجہ اکملیت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پہنچایا لہذا وحی کے سلسلہ میں بھی ہر قسم کی وحی سے نوازا تو ویہیں ان کو تمام معجزات سے بھی نوا زا جو کہ پہلے آنے والئے نبیوں ؑ کو مختلف تعداد میں عطا کیئے اور معراج میں تو وہاں بلاکر ہر چیز جنت، دوزخ وغیر سب کچھ دکھا دیاتا کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جا ئے۔اور وہ قیامت دن سب پہ گواہی دے سکیں؟ اور منصب شفاعت پر اللہ کی طرف فائز ہوں اور شفاعت بھی کرسکیں۔ یہ بات یونہیں بیچ میں آگئی میں بات کر رہا تھا پاکستان کی کہ اللہ نے اسے کسی نمعلوم مقصد کے لیئے بنا یا ہے اسی لیئے وہ اسے نوازتا جارہا ہے۔اور یہ ضروری نہیں ہے کہ جو قوم وہاں بس رہی ہے وہ صرف اسی سے کام لے ۔اس نے اس سلسلہ میں بہت سی آیتوں میں یہ مغمون بیان کیا ہے کہ تم اگر اپنے فرائض انجام نہیں دوگے تو میں تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آؤنگا جو تمہاری طرح نہیں ہونگے بلکہ میرے مطیع اور فرمانبردار ہوں گے۔ یہ بات سورہ محمد ﷺ کی آیت38 میں نازل فرمائی ہے وہاں پڑھ لیجئے۔ اللہ ہمیں اور وہاں کے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ئے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

پاکستان میں قانون،کرونا اور سیاست۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے وطنِ عزیز کی تو ہر بات ویسے ہی نرالی ہے لوگ کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے؟ جبکہ وہاں کے سیاستدانو ں کا مقولہ یہ ہے کہ “ہر حالت میں چلنا چاہیئے کہ سیاست بھی دوکان ہے۔ مگر بقول کسے چونکہ ہم بھی کبھی ملک، ملک پھرے ہیں اور ہمیں تین چار بار ہجرت کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا ہے۔ اس لئیے ہم اپنے اس تجربے کی بنا پر بتا رہے ہیں کہ مسلمان جو کبھی وقت کے پابند تھے، قانون کے پابند تھے اب اتنے ہی وہ ان سب خوبیوں سے دور ہیں۔ مثلاً اب ر شتے جوڑنے کے بجا ئے توڑنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ کبھی مسلمان کے ہمسایہ ہونے پر لوگ فخرمحسوس کرتے تھے اور ان کی جائداد کی قیمت بڑھ جا تی تھی، مگر اب گھٹ جاتی ہے؟ غیر تو کیا! بہت سے فیشن ایبل مسلمان بھی اپنے بچوں پر برا اثر پڑنے کے خوف سے دوسرے لوگوں کی آبادیوں میں جاکر مکان لیتے ہیں۔ اوراپنوں سے وہ دور بھاگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانو ں کا رکھ رکھا ؤ اور اخوت ہمسایوں کے ساتھ سلوک وغیرہ جو کبھی مشہور تھا اب وہ ان میں موجود نہیں ہے۔ حالانکہ انہیں کم ازکم غیرممالک میں تو اسلام کا سفیر ہونا چاہیئے تھا؟ وہاں کم از کم کچھ تو خیال رکھتے کہ ہمارے اس رویہ سے اسلام بدنام ہوگا؟۔ یہ تو تھے مسلمانوں کے سلسلہ میں غیر ملکی مشاہدات جو اب تک ہم نے پیش کئے چاہیں وہ پاکستانی ہوں یا کہیں اورکے۔ اب چلتے ہیں وطن عزیز کی طرف؟
آج صبح ہم نے جیسے ہی ٹی وی کھولا تو پچھلی مرتبہ کی طرح ایک عدالتی فیصلہ سننے کو ملا اس کا پس منظریہ تھا کہ شادی ہال والوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا در انصاف کھٹ کھٹا یا تھا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے، حکومت نے ہم پر پابندی لگادی ہے کہ کرونا بڑی تیزی سےپھیل رہا ہے ( قر آن میں خبر دار کیا گیا ہےکہ نا شکری کا انجام یہ ہی ہوتا ہے پہلے بچ گئے تھے جس کا کریڈٹ انہوں نے اپنے نام کرلیا تھا اب اللہ ہی جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا) اب حکومت نے شادی ہالوں پر پابندی لگادی ہے کہ شادی ہال تمام متعلقہ قوانین کی پوری طرح پابندی کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کا رروائی ہوگی۔ تین سو سے زیادہ مہمانو ں کو بھی مدعو کرنے کی زحمت نہ کریں، ورنہ چالان ہوجا ئے گا۔ جبکہ شادی ہال والوں کی شکا یت یہ تھی کہ یہ ہمارے ہی ساتھ زیادتی کیوں ہورہی ہے جبکہ شادی ہال بند سب سے پہلے ہو ئے تھے اور انہیں کھولا بھی بعد میں گیا ہے؟ اور وں کو کیوں نہیں کچھ کہا جاتا، مثلا ً سیاسی جماعتوں کو جو بغیر ماسک پہنے اور کسی بھی قسم کے قانون کی پرواہ کئے بغیرلا کھوں کے جلوس نکا ل رہی ہیں؟ جبکہ ان میں سے ہم نے پی، ڈی ایم کے صدر کو ٹی وی پر اپنے کانوں سے یہ کہتے سنا کہ میں قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر مارتا ہوں؟ اس سے رواداری اور حکومتی رٹ کا پتہ چلتا ہے؟ کورٹ کا فیصلہ وہی تھا جو ہونا چاہیئے تھا کہ اچھے شہریوں طرح ملکی قوانین کا احترام کرو؟
ویسے بات شادی ہال والوں کی بھی سچی ہے کہ اگر جلوس ناپا تولا نہ جا ئے توآجکل کٹ اینڈ پیسٹ کادور ہے اگر کسی جلسے کی تعداد لاکھ بھی ہو تو کو ئی پرانی ہوائی تصویر چسپاں کر کے لاکھ تو کیا کروڑوں کا مجمع بھی دکھانا کوئی بڑی بات نہیں ہے؟ مگر میرے خیال میں چند ہزار ہونا تو ضروری ہے کہ کہاوت ہے کہ رائی کا پہاڑ بن سکتا ہے رائی نہ ہو تو پہاڑ کیسے بنے گا۔ میں کہتا بوں کہ وہ بھی بن سکتا ہےکہ وہاں جھوٹ بولنے پر جو کوئی پابندی نہیں ہے اور حکومت بھی نہلے پردہلہ مارنا ضروری سمجھتی ہے وہ کیوں اس کار ِ خیر میں پیچھے رہے۔ لہذا جواب میں وہ بھی جلوس نکا لنے میں مصروف ہے جبکہ ووٹروں کے نہیں مگر ان کے ووٹوں کی تو سب کو ضرورت ہے؟ مگر یہ کو ئی نہیں خیال کرتا کہ وہ کارونا سےبچے تو ؤوٹ دینگےنہ۔ جبکہ حزب اختلاف کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم جلوسوں کے ذریعہ حکومت کو گرا کر چھوڑیں گے اور ان سے عوام کو نجات دلا ئیں گے کیونکہ اس نے ہم سے عوام کو نجات دلائی تھی؟۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم اپنا ٹرم پورا کریں گے کہ ہمارا حق ہے اور ہم نے تمہیں بھی ٹرم پورا کرنے دیا تھا۔اور ابھی ہمارے ڈھائی سال باقی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ حکومت بالکل نااہل ہے اس کو فوراً برطرف کر دیا جا ئے؟ چونکہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی ہے لہذا ہما رے آتے ہی بازار کے بھا ؤ خود بخود گر پڑیں گے۔ ہم بھوک سے عوام کو بچا نا چاہتے کارونا سے بچیں یا نہ بچیں یا نہ بچیں یہ ان کی قسمت؟
مگر صدر صاحب سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے والد ِمحترم نے بھی ایوب خان کے زمانہ یہ ہی نعرہ لگا یا تھا کہ ہم پرانے بھاؤ واپس لا ئیں گے لیکن لا نہ سکے جبکہ اس وقت شبرات پر تھوڑی سی چینی مہنگی ہوگئی تھی یعنی تین روپیہ کلو سے سوا تین روپیہ کلوہو گئی تھی۔ حالانکہ وہ خود شبرات اور فاتحہ دونو ں پر ہی یقین نہیں رکھتے تھے۔مگر ان کے ساتھ جو دوسرے مکتبہ فکر کے علماء تھے وہ شبرات پر حلوے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ آخر رواداری بھی تو کوئی چیز ہے ۔ چینی اس وقت بھی مہنگی ہوگئی تھی اب بھی مہنگی ۔ اب بھی سیٹ اپ وہی ہے فرق یہ ہے کہ اب بجا ئے والد صاحبان کے ان کے صاحبزادگان ہیں جمہوریت جو ہوئی؟ اور چینی پہلے کی طرح اب بھی نایاب ہے۔ سیاستدانوں کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ جیتیں تو الیکشن درست ہے اگر الیکشن میں وہ نہ جیتں تو جیتنے والے نے ڈنڈی ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ڈنڈی مارنے والوں کے سہو لت ِکاروں کی ایک لمبی فہرست ہے؟ مگر پھر بھی جا تے انہیں کے پاس ہیں کہ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ بچہ ماں سے روٹھتا تو ہے، مگر روتا ہوا جاتا ماں ہی کے پاس ہے آخر ماں جو ہوئی؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

کاش مسلماں جانتے مقام ِ مصطفیٰ ﷺکیا ہے۔۔۔۔شمس جیلانی

تو آسمان سے گر کر کبھی کھجور میں نہ اٹکتے؟ ویسے تو حضوﷺ کی عظمت سے تمام قرآن بھرا پڑا ہے مگر میں یہاں ابتداء کی ہی دو وآیتیں پیش کر رہا ہوں جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ“ جو تمہاراﷺ نہیں وہ میرا بھی نہیں ہے“ وہ ہیں دو آیتیں سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر31 اور32۔ جن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے ً آپ ان سے فرمادیجئے کہ تم اگر اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا تو وہ تمہارے تمام گناہ معاف کردے گا وہ بڑا غفور اور رحیم ہے 0 دوسری آیت میں پھر تاکید فرمائی ہے کہ ” کہہ دے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اگر یہ منہ پھیر لیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا0 اس کے بعد ان کی تفسیر میں ابن ِ کثیر ؒ بہت سی احادیث لا ئے ہیں جن میں یہ مضمون ہے کہ جن کے افعال حضور ﷺ کی سنت کے مطابق نہ ہوں تو وہ قابلِ قبول نہیں ہیں جبکہ ان افعال کے لئیے انہوں نے مردود کے الفاظ استعمال کیئے ہیں۔ کیا اس مسئلہ پر اس کے بعد بھی بات کرنے کی کوئی گنجا ئش رہ جاتی ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہو ں۔ آپ یہ توجانتے ہونگے جس پر ساری دنیا عمل کرتی ہے کہ ہمیشہ نذیر یعنی پی ایل ڈی۔اعلیٰ عدالت کی پیش کی جاتی ہے کیاکبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی بڑی عدالت نے کسی چھوٹی عدالت کا فیصلہ تسلیم کر کے اس پر عمل کیا ہو؟ پھرکیا وجہ ہے کہ ہم اس طریقہ کار کو بالکل بھولے ہوئے ہیں۔ جو کہ سرکارﷺ نے سکھا یا تھا کہ کوئی بھی مسئلہ در پیش ہو تو پہلے قرآن شریف میں دیکھو اگراس میں نہ ملے تو اسوہ حسنہ ﷺ میں تلاش کرو، اگر اس میں بھی نہ ملے تب کہیں اور جاکر تلاش کر سکتے ہو یا خود میں اتنی علمی صلاحیت ہے تو خود اجتہاد کرسکتے ہو؟ مگر ہم لوگ اس کا الٹ کر رہے ہیں پہلے لوئر کورٹ جا تے ہیں اگر وہاں نہ ملے تو پھر کہیں اورڈھونڈتے ہیں۔ اور اسپر دعویٰ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ جبکہ ہمیں یہ تک منع کردیا گیا ہے کہ کسی معاملے میں حضور پر سبقت مت کرو؟ حتیٰ کہ حضور ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بھی بلند نہ کرو۔ کیا یہاں انﷺ کے فیصلے سے پہلےاپنا کرنا سبقت میں نہیں آتا۔ آپ سوچئے تو سہی کہ آپ کر کیا رہے ہیں۔ اگر اس کی مزید تاکید دیکھنا ہے تو پھر سورہ الحجررات میں چلے جائیں اور ایک سے تین تک وہا ں حضور ﷺ کے مقابلہ میں ہر قسم کی سبقت کو منع کیا گیا ہے۔ حتیٰ کے آواز سے آواز بلند کرنے کو بھی منع کیا گیا اور متنبہ کیا گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم کو پتہ بھی نہ چلے اور تمہارے تمام اعمال غارت ہو جا ئیں؟ حالا نکے اس امت کی بھول چوک معاف ہے ؟مگر حضور ﷺ کا معاملہ ہو تو وہ معاف نہیں جبھی تو فرمایا کہ “ایسا نہ ہو کہ تمہیں پتہ بھی نہ چلے اور تمہارے اعمال ضائع ہوجا ئیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ لوگ بہت پریشان ہوئے جن کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی، جن میں حضور ﷺ کے قریبی حلقوں میں حضرت عمر ؓ اور حضرت بلال ؓتھے۔ او ر انکے علاوہ ایک صحابیؓ اور تھے انہوں نے یہ کیا کہ خود کو گھر میں بند کرلیا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کی آواز حضور ﷺ سے کسی طرح بلند ہوجا ئے اور ان کی تمام محنت اکارت جا ئے؟ انہوں نے خود کو اپنے گھر میں مقید کرلیا کہ وہ نہ مسجدِ نبوی ﷺ میں جائیں گے نہ یہ معاملہ ان کے ساتھ پیش آئے گا۔ جب وہ نظر نہیں آئے تو حضور ﷺ نے لوگوں سے معلوم کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ توصحابہ کرامؓ نے بتایا کہ انہوں ؓ نے تو خود کو مقید کرلیا ہے۔ تب ان کو حضور ﷺ نے بلوایا اورفرمایا کہ یہ تم جیسوں کے لیئے نہیں ہے جو کہ پیدا ہی بلند آواز لیکر ہوئے ہیں؟ البتہ ان کے لیئے ہے جو جان کر میری ﷺآواز سے آواز بلند کریں؟ ایسے لوگوں کا ذکر سورہ الحجرات کی آیت 3میں تعریف کے ساتھ آیا ہے۔ کہ “ یہی لوگ ہیں جو رسول ﷺاللہ کے حضور ﷺ اپنی آواز پست رکھتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے جانچ لیا ہے جن کے لئیے بڑا ثواب اور مغفرت ہے۔ اب آپ خود سوچ لیجئے کہ آپ کن لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ان میں جن کی یہاں پر تعریف ہے اور انہیں مغفرت کی نوید ہے یا ان کی جن کے اعمال ان کی لا پروائی کی وجہ سے غارت ہوچکے ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے۔ (آمین) اب یہاں ایک سوال یہ اور پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ عیسیٰ ؑ کی طرح یہ کہیں گے کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا ان کو کہ ہمیں حضور ﷺ سےبڑھا دیں لوگ ہمیں خود ہی بڑھانے لگے؟ یہاں جو اللہ سبھانہ تعالیٰ نے بریت کا معیار رکھا ہے وہ ہے کہ اگر کوئی لوگوں کی اس روش پر انہیں منع کرتا ہو یا اس پر کراہیت کا اظہار کرتا ہو تو اس کی بچت ہےورنہ نہیں؟ جبکہ یہ سب جانتے ہیں کہ اللہ سبھانہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔ کہیں ایسا نہ بروز َ قیامت جواب دہی مشکل ہوجا ئے؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

(347 – 326) قطعات شمس جیلانی

326
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے

327
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں

328
محال کچھ بھی نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

علی ، علی(ع) ہیں علی کی مثال کچھ بھی نہیں
علی ہوں ساتھ فکر ِ مآل کچھ بھی نہیں
بڑا تھا ناز مرحب کو خیبر فتح نہیں ہوگا
علی (ع) نے کردیا ثابت کہ محال کچھ بھی نہیں

329
ایک غلط فہمی کا ازالہ۔۔۔ شمس جیلانی

شاعری لعنت بھی شاعری رحمت بھی ہے
پڑھیئےتو اسکو سہی قر آن میں فرمان ہے
رہ گئے جو بادشاہ جو بھی چا ہیں وہ کہیں!
اکثر بہہ جاتا ہے رو میں آدمی انسان ہے

330
تغیر ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

با ت کرتےمسلمان اشاروں میں ملیں گے
ایسےاب دو اب چار ہزاروں میں ملیں گے
ہے دور جو بدلہ تو ہے سارا زمانہ بد لہ
وہ لڑتے ہوئے روزے مٰیں بزاروں ملیں گے

331
عید پیچھے ٹر۔۔۔ شمس جیلانی

ویسے تو وہ ہیں تیز بہت عتاب او ر شتاب میں!
ہوتی نہیں ہے دیر کبھی وہاں فرمان ِ عتاب میں
ہومعاملہ دینے کا عوام کو نرخوں میں کچھ رلیف
لگ جاتی ہے جانے دیر کیوں حساب و کتاب میں

332
بندوں کی بندگی چھوڑدو۔۔۔۔شمس جیلانی

سب کچھ ہی مل گیا گر مصدر قل ھواللہ جو مل گیا
وہ ہےدونوں جہا ں میں سرخرو جسے اللہ جو مل گیا
مت اتنا چڑھا ؤ شمس کسی کو وہ جھانکے تو گر پڑے
نے بھیجا کرونا ایک ہے دیکھوکہ جہاں پورا ہل گیا

333
عید مبارک ۔۔۔ شمس جیلانی

عید ہے انکے لیےجنہوں نے روزے رکھے وہ متقی جو بن گئے
ان کا معاملہ اللہ ہی جانے جو رسم سمجے گنتی پوری کرگئے
سال اگلے ہم کو بھی رمضاں ملیں روزے ملیں یا نہ ملیں !
لوگ حسرت سے کہیں اک شمس تھے وہ بھی آخر مرگئے

334
خوش نصیب لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

لوگ اکثر ہی حواس باختہ اور منتشر ملے
مشکل سے چند لوگ تھے جو معتبر ملے
رکھ کر روزے خلوص سےوہ سرخرو ہوئے
ہیں خوش نصیب وہ جنت میں گھر ملے

335
عقلمندرا اشارہ کافی است۔۔۔ شمس جیلانی

د ین کے خلاف ہما رے لیل ونہار ہیں
ہم میں برائی آگئیں اب بے شمار ہیں
اس واسطے خفا ہوگئے پروردگار ہیں
کہ بندےرجوع کریں جو ہوشیار ہیں

336
افضل ہے رشتے جوڑنے والا۔۔۔ شمس جیلانی

کہا سرکارﷺ نے میرے کہ افضل ہےہر رشتے جوڑنے والا
جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھےگا رشتے توڑنے والا
خوشبو جو کہ کرتی ہے معطر میلوں تک فضاؤں کو !
ترسے گاہمیشہ کے لیئے اسکو ہرایک آئین ِ ربی توڑنے والا

337
معاف کرو تاکہ تم معاف کیئے جاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

معاف کرتے جاؤ تم بنا جتلا ئے ہوئے کہ تم نے کیا احسان ہے
تاکےروزِ محشر میں بھی تم کو معاف کردوں یہ بڑا امکان ہے
مومنوں نے پڑھنا عربی چھوڑدی دنیا میں وہ یوں رسوا ہوئے
مجبورا“میں نے اردو میں کہاہے یہ خدائے پاک کا فرمان ہے

338
بس یقین شرط ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

الہ کو رب نبیﷺ کو رہنما اپنابنا کے دیکھا ہے
کبھی خدا پہ بھی اپنا بھروسہ جما کے دیکھا ہے
کہے ہے جیسا وہ خود کو ویساہی پاؤگے اس کو
کبھی ساتھ اس کے کیا وعدہ نبھا کے دیکھا ہے

339
صرف اتباعِ رسولﷺ باعث ہے ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ جو تمہیں زیور ِ علم و حکمت پہناکے بھیجا ہے
نہیں جہاں پہ تمہیں ہرگزداروغہ بنا کے بھیجا ہے
چلو گے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پہ پا ؤ گے عظمت !
سچ تو یہ ہے تمہیں چٹھی رسا ں بنا کے بھیجا ہے

340
عمل کے بغیر ایمان کچھ نہیں ۔۔۔۔ شمس جیلانی

رب کو مانوقرآں نہ مانو یہ دین ایسا بنا نہیں ہے
عمل ہے افضل کیا تم نے قرآن میں پڑھا نہیں ہے
کرو نہ ناراض شمس اسکو پھرکہیں پناہ نہیں ہے
دکھا ؤ سند ہے کوئی کہیں دیکھالکھا نہیں ہے

341
درگت باعث حیرانی نہیں! ۔۔۔ شمس جیلانی

جودرگت بن رہی آجکل مجھکو حیرانی نہیں ہے
گنا ہ رب کوتو مانیں ہیں بات کیوں مانی نہیں ہے
ہے قرآں میں ایسے لوگوں کو رب نے کچھ اور لکھا
کہ آئینِ خداوندی میں یہ کارِ مسلمانی نہیں ہے

342
اپنی گرہ میں باندھ لو؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

قرآں میں لکھدیا کہ دواہمیت اتباعِ رسولﷺ کو
دل میں نہ آنے دو کبھی کسی خیال ِفضول کو
اک لمحہ کے واسطے نہ کرو اس سے انحراف
اپنی گرہ میں باند ھ لو اس زریں اصول کو

343
میں رب کا شکر گزار ہوں ۔۔۔ شمس جیلانی

شکر اس کا ادا میں کرسکوں یہ میری مجال بھلا
جس طرح میں جی رہا ہوں کیا ہے میرا کمال بھلا
عطاجوعلم کیا رب نے مجھے شمس لا زوال ہے وہ
ایسی گزاری زیست کہ پاتا نہیں ہوںمیں مثال بھلا

344
رب نے جتادی اہمیت اسوہ رسول ﷺ کی۔۔۔ شمس جیلانی

اتار کرقرآن میں جتادی اہمیت اسوہ رسول ﷺکی
گنجا ئش ہے کہا ں رہی کسی بحثِ فضول کی !
یہ علما ءکرام کی روش ہو نہیں سکتی ہے شمس
سب عاقل کہیں گے ضد اسے عوام ِ مجھول کی

345
عظمتِ حضور ﷺ ۔۔۔۔ شمس جیلانی

قرآں میں اتاری ہے توقیر محمد ﷺکی
ہاتھوں سے لکھی ر ب نے تقدیر محمدﷺ کی
لحجہ دیا شیریں جنہیں سرکار ﷺ ہمارے تھے
تھی دل میں اتر جاتی تقریر محمدﷺ کی

346
ہر مومن نائب رسول بھی ہےﷺ۔۔۔شمس جیلانی

شمس ہر مومن کی یہ خواہش ہے جاں دینا انﷺ پر مرجانا
بے شک وہی تو مومن ہے جس نے ہے سرکارﷺ کا رتبہ پہچانا
یہ شیوہ نہیں ہے مومن کا کھانا کمانا وقت گنوانا اور سوجانا
یہ حکم وہﷺ ہم کو دے کر گئے ہیں کہ پیغام ہے دیں کا پہنچانا

347
نبی ﷺ کا غلام ہے۔۔۔ شمس جیلانی
نہ شمس رہنما ہےنہ وہ مسجد کا امام ہے
بس اتنی سی بات ہے نبی ﷺ کا ادنیٰ غلام ہے
تبلیغ جوکہ فرض ہے ہر مومن کے واسطے !
سب کو دلانا یاد یہ ہی بس اس کا کام ہے

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

کاش ہم ویسے ہوتے جیسا حضورﷺ دیکھنا چا ہتے تھے۔۔۔ شمس جیلانی

ہم اللہ تعالیٰ کااحسان مانیں کہ ہمیں امت محمدیہ میں پیدا کیا جنہیں بعد میں رحمت اللعالمین کا لقب بھی عطا فرما یا۔ کہیں اس سے پہلے اگر پیدا ہوئے ہوتے تو ان کرتوتوں کے بنا پرجو روزانہ آجکل ہم کر رہے ہیں ہر روزایک شہر تباہ ہوتاجو کہ کسی نبیِ ؑوقت کی امت ہوتا؟ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پوری تاریخِ انسانیت دیکھ جا ئیں جو کہ ہماری عبرت کے لئیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار دہرائی ہے۔ اکثر یہ ہی ملے گا کہ تمام ا متیں کسی ایک ہی گناہ پر پکڑی گئیں اور تباہ کر دی گئیں؟ مگر اس کے با وجود کے ہم تمام برا ئیاں ایک ہی وقت میں کر رہے ہیں مگر ابھی تک محفوظ ہیں۔ اوراس طرح تباہ نہیں ہوئے جس طرح دوسری امتیں تباہ ہوئیں؟ کبھی آپ نے سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جہاں وہﷺ اور تمام چیزوں میں کامل تھے وہیں وہﷺ رحمت میں بھی کامل تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو رحمت اللعالمین کا خطاب عطا فرما یا؟ سب سے پہلا مرحلہ تو وہ آیا جبکہ سرداران قریش نے خود مطالبات کی ایک بڑی فہرست کعبے میں بلا کر حضور ﷺ کو پیش کردی کہ“ ہم آپ کو جب مانیں گے کہ آپ اپنے رب سے کہہ کر ہمارے لیئے اس وادیِ غیر مزروعہ کو مزروعہ بنا دیجئے یا ان پہاڑوں کو سونے کا بنا دیجئے یا اپنے ہی لیئے ایک فرشتہ منگوالیجئے جوآپ ﷺکی نبوت کی گواہی دے اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہیں تو ہمارے اوپر آسمان گرا دیجئے جس سے آپﷺ ہمیں ڈراتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو؟ ورنہ ہم آپ پر ایمان نہیں لا ئیں گے (الاسرا ء آیت نمبر 91سے 93تک ملاحظہ فرمالیں)؟ اللہ نے حضوﷺ کی دعا کے جواب میں حضرت جبرئیل ؑ کو پیغام دیکر بھیجا کہ جو آپﷺ چاہ رہے ہیں و ہ میں کر دیتا ہوں مگر یہ پھر بھی ایمان نہ لا ئے تو میں اپنی سنت کے مطابق سزا بھی وہ دونگا جو آج تک کسی امت کو میں نے نہیں دی؟ جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ میں آپ کی امت کے لیے توبہ کا دروازہ کھلارکھوں؟ حضور ﷺ نے اپنی فطرت کے مطابق دوسری بات منظو ر فرما لی کہ مجھے ﷺایک وقت کھانا اور دوسرے وقت بھوکا رہنا منظور ہے؟ مگر امت کی تباہی منظور نہیں ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور ﷺ نے رحم،عفو اور در گزر کامظاہرہ کیا۔اور ان لوگوں کے لیئے بھی تباہی نہیں چاہی جو انﷺ کے خون کے پیاسے تھے۔ جوکہ انﷺ کی ایک صحابیہ ؓ اور صحابیؓ کو بہت بھیانک انداز میں انﷺ کی آ نکھوں کے سامنے اس جرم میں شہید کرچکے تھے کہ ابو جہل ان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ“ اسلام سے منحرف ہو جا ؤ اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرو“ انہوں ؓ نے شہید ہو نا پسند کیا مگر اس کے مطالبات نہیں مانے نہ حضور ﷺکی شان میں گستاخی کی نہ اسلام سے منحرف ہونا پسند فرمایا۔ اس کے بعد دوسرا موقعہ وہ آیا کہ حضور ﷺ کے دو زبردست حمایتی ام المونین ؓ حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور حضرت ابو طالب انتقال فرما گئے اور حضور ﷺ طائف کے سرداروں کے پاس تشریف لے گئے کہ شاید وہ اسلام قبول کرلیں اور اپنے یہاں پناہ دیدیں؟ مگر ان بد وقتوں نے حضورﷺ کو بری طرح تنگ کیا لڑکوں کوپیچھے لگا دیا تاکہ وہ حضور ﷺ پر پتھر برسائیں حتیٰ کہ حضور ﷺ کے نعلین مبارک بھی ان کےﷺ مبارک لہو سے بھر گئے۔ تب حضرت جبرئیل ؑ تشریف لا ئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آپ فرما ئیں وہ ہم ان کو سزادیں، یہ میرے ہمراہ پہاڑوں کا فرشتہ بھی ہے آپ حکم دیں تو وہ دونوں پہاڑوں کو برابر کردے جوکہ طائف کے دونوں طرف ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایانہیں یہ نہ سہی ان کی اولاد مسلمان ہوگی، اور یہ طوفان ٹل گیا اگر حضور ﷺ حکم دیدیتے تو طائف صفحہ ہستی سے مٹ جاتا،مگر وہ بچ گیا کیونکہ حضور ﷺ کو گواراہ نہ تھا۔جبکہ ان سے پہلے ﷺ اکثر نبیوں ؑنے اپنی ؑ امت سے تنگ آکر بد دعا فرما ئی اور طوفان نوح جیسی تباہی آئی؟لیکن حضور ﷺ نے کبھی امت کے لیے بد دعا نہیں فرمائی۔ تیسرا موقعہ جب آیا کہ سورہ الانعام کی آیت نمبر 59 نازل ہوئی جس میں یہ ذکر تھا کہ“میں اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوں اور نیچے سے عذاب بھیجنے پر قادر ہوں اور تمہیں آپس میں تکڑیاں کرکے لڑادینے پر بھی قادر ہوں ہ اس کے نزول کی بعد حضور ﷺ مسجد نبویﷺ سے ویرانے کی طرف صحابہ کرامؓ سے بغیر کچھ کہے تشریف لے گئے۔ صحابہ کرامؓ پیچھے گئے اور دیکھا کہ وہاں حضور ﷺ سجدے میں سر رکھے آہ و زاری میں مصروف ہیں؟ جب انہوں ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کیا ماجرا ہے ؟تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت ناز ل ہوئی جس میں تین عذابوں کا ذکر ہے میری درخواست پرد و کو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس امت پر سے ہٹا لیاہے،ایک کے لیئے فرما یا کہ یہ اس امت کا مقدر ہے وہ باقی رہے گا۔ اس لیے تم لوگ مجھ سے وعدہ کرو کے تم آپس میں میرے بعد لڑو گے تو نہیں توانہوں ؓ نے فرما یا حضور ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن اور اسوہ حسنہ ﷺ ہمارے پاس ہو اور ہم آپس میں لڑیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قرآن تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اور ایک دفعہ سرداروں کی تلواریں میان سے باہر آگئیں تو پھر وہ میان میں دوبارہ نہیں جا ئیں گی۔ یہ تو یہاں میں نے چند مثالیں پیش کی ہیں جبکہ اور بہت سی مثالیں بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے مگر سیرت اور احادیث کتب میں ہے۔ انکاﷺ تو یہ وطیرہ ہی یہ ہی تھا کہ ہر وقت امتی، امتی ورد ِ زبان ِ مبارک تھا۔ جبکہ عالم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کابھی یہ ہی تھا،جس کے رواوی حضرت امام حسن ؑ ہیں کہ“ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ میری والدہ نے تمام رات امت کی بخشش کے لیئے دعا فرمائی اپنے اورہمارے لیئے کچھ نہ مانگا تو میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنے اور ہمارے کچھ بھی نہیں مانگا؟ تو جواب میں فرمایا بیٹے ہمسایہ کا حق زیادہ ہے اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دو یہ ہی اسلام ہے“ اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت عطا فر مائے کہ ہم ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ ہمیں حضور ﷺدیکھنا چاہتے تھے یعنی ماضی میں جیسے اولین دور کے صحابہ کرام ؓ تھے۔ (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں