حضور ﷺ کے اجداد کیسے تھے (2) شمس جیلانی

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہنچے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسمعٰیل(ع)نے ملکر حرم شریف تعمیر فرمایا او ر اس طرح حضور ﷺ کو حضرت
ا برا ہیم ؑ کی دعا بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد ان (ص) کے بزرگوں کے بارے میں تاریخ خاموش ہے اس لئیے کہ انسانیت ابھی زیر تعمیر تھی بہت سے نبیوں ؑ اورآخر میں نبی ﷺ آخر الزماں کو تشریف لانا تھا۔ مگر حضور ﷺ کےپورے خاندان کو دنیا میں ہمیشہ بہت ہی عزت کی نگا سے دیکھا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ مکہ معظمہ کے رہنے والے اورکعبے کے پہلے متولی تھے، جہاں حج کرنے ساری دنیا آتی تھی۔ اوراہلِ کعبہ سے دنیا میں کہیں کوئی تعرض نہیں کرتا تھا نہ کوئی مال ِ تجارت پر محصول وغیرہ وصول کرتا تھا جب کہ وہ قافلے کے ساتھ دور دور تک تجارت کے لئیے تشریف لے جاتے تھے۔کیونکہ انہیں بقیہ دنیا والے جا نتے تھےاور یہ سلسلہ حضرت اسمعٰیل علیہ السلام سے لیکر حضرت عبد المطلب تک جو کہ حضور ﷺکے دادا تھے جاری رہا اور کسی نے کبھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ جبکہ حضرت ابراہیم کی دعا کی بنا پر اس بے آب و گیاہ میدان پر اللہ سبحاہ تعالی کی رحمت کا یہ عالم تھاکہ کبھی وہاں کھانے پینے کی تنگی نہیں ہوئی۔ نہ صرف مکہ معظمہ کے باشندے سارے سال آرام سے کھاتے پیتے رہتےتھے ،بلکہ حجاج کوبھی جو کہ پورے سال حج اور عمرے کے لئیے آتے رہتے تھے انہوں نے انہیں بھی کبھی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ تنگی کا سلسلہ جب سےشروع ہوا جبکہ وہاں کعبے میں بت رکھدیئے گئے۔ پھر حضرت ابو المطلب کے دور میں حبشہ میں ایک با دشاہ بر سراقتدار آیا تو تمام قبا ئل نے اپنے اپنے وفود بھیجے اہلِ مکہ نے بھی حضرت عبد المطلب کو بھیجا۔ وہ با دشاہ بہت سی پرانی کتابوں کا ماہر تھا جب اس نے ان کی تفصیلات پوچھیں کہ آپ کےبچے وغیرہ وغیرہ کتنے ہیں۔ تو حجرت عبد المطلب نے تفصیل بتا ئی تو اس نے بتا یا کہ آپ کے نسب میں سے نبی ﷺ آخر زماں پیدا ہونگے ان کا خیال رکھنا اور حفاظت کرنا۔نیز ان کا بہت ہی اکرام کیا یعنی تحائف وغیرہ سے نوازا جسکی شہرت مدینہ منورہ تک پہنچ گئی جبکہ ابھی وہ وہاں واپسی میں پہنچے بھی نہ تھے۔؟ یہ پہلا دھچکہ تھا ان لوگوں کے لئیے جو سمجھ رہے تھے جیسے کہ سارے انبیاء کرام(ع) ابتک بنی اسرا ئیل میں سے آئے تھے۔ نبی ﷺ آخر الزماں بھی انہیں میں سے ہونگے۔ ان میں دو قبیلے یمنی اوس اور خزرج تھے اور نو قبیلے یہو دیوں کے تھے جن میں دو مدینہ منورہ میں آباد تھے اور باقی سات قلعوں میں مدینہ کے اطراف میں یہودی آباد تھے جنکا مجموعہ خیبر کے نام مشہور ہے۔ خیبر پہلا قلعہ تھا جو اس طرف جاتے ہوئے راستے میں پڑتا تھا اوران کے خیال میں وہ نا قابلِ تسخیربھی تھا دوسرے چھ کے اپنے اپنے نام تھے۔اور یہ سب نبی ﷺ آخر زماں کے انتظار میں یہاں آکر آبا دہوئے تھے۔ان میں سے اوس اور خزرج کے ساتھ مکہ معظمہ والوں کی رشتے داری بھی تھی۔ حضرت عبد المطلب واپس ہوتے ہوئے جب مدینہ منورہ پہنچے جوکہ اس وقت یثرب کہلاتا تھا اوراپنےرشتے داروں کے پاس ٹھہرے تو حضورﷺ کی شہرت ان سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی۔ غالباً وہ با دشاہ زیادہ دن نہیں چل سکا اس کے بعد حبشہ میں دوسرا با دشاہ آگیا اور اس نے یمن پر ایک کے بجا ئے دو سردار اپنی طرف سے مقرر کیئے ان میں ابرا ہہ ہوشیار تھا۔ اس نے اپنے مخالف کو شکت دیدی اورپورے یمن پر قبضہ کرلیا۔ جبکہ حبشہ کے بادشاہ کو خوش کرنے کے لئیے اس نے اس کے نام سے ایک عبادت گاہ یمن میں بنائی اور کوشش کی کہ مکہ کے بجائے لوگ وہاں حج کے لیئے آئیں!اس طرح پہلی دفعہ اہل ِ یمن اور اہل مکّہ میں ِ مخاصمت پیدا ہوئی۔ اسی دوران کسی نے وہاں غلاظت کردی اس طرح ابراہہ کا شبہ اہل ِ کعبہ کی طرف گیا۔ اور اس نے پہلی دفعہ ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ حملہ کر دیا راستے میں کئی قبا ئل نے مدافعت کی مگر وہ ناکام رہے تو انہیں میں سے ایک قبیلہ نے رہنما ئی کی اور ابرا ہہ کو وہاں تک پہنچا دیا۔ اس نے پہلی چھیڑخانی یہ کی کہ حضرت عبد المطلب کے دو سو اونٹ جو چرا گاہ میں چر رہے تھے ان پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے ان دوسو اونٹوں کو ذریعہ بنا کر اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کے دربار میں بے خوف و خطر تشریف لے گئے۔ ابراہہ ان سے بہت مرعوب ہوا۔ بہت ہی عزت اور احترام سے اپنے پاس بٹھایا، پھر آنے کا سبب پوچھا کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا تھا یہ مکہ معظمہ کو سر نگوں کرنے آئے ہونگے،درمیان میں بسنے والے قبا ئل کا حشر دیکھ کر! مگر انہوں نے فرمایا کہ تمہا رے آدمیوں نے میرے دو سو اونٹ پکڑ لئیے ہیں میں وہ واپس لینے آیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں نے تو آپ کو بہت ہی مدبر سمجھا تھا اور اپنی رعیت خیر کاخواہ بھی۔ لیکن آپ نے تو بہت چھوٹی سی فرما ئش کی! انہوں نے جواب دیا کہ میں ان اونٹوں کا مالک ہو ں اور ایک اچھے مالک کی طرح اپنے اونٹ مانگنے آیا ہوں۔ رہا تیرا اور حرم کا معاملہ اس کا مالک جو ہے وہ خود اس کا دفاع کرے گا؟ تو اس نے بڑی رعونت سے کہا کہ میں دیکھونگا کہ میرے ہاتھ سے کعبہ کو کون بچا سکتاہے انہوں نے جواب میں فرمایا یہ تیرا اس کا معاملہ ہے وہ جانے اورتو جان۔ اور اس نے ان کے دوسو اونٹ واپس کردیئے اور وہ لیکر واپس چلے آئے۔مکہ آکر انہوں نے حکم دیا وہاں کے تمام با شندوں کو کہ اپنے گھر خالی کرکے پہاڑوں پر چلے جائیں اس لئیے کہ ہمارے پاس اتنی فوج نہیں ہے کہ ابراہہ کا مقابلہ کر سکیں؟ یہ ان کے دادا کے توکل کا عالم تھا؟ اس کے بعد کی کہانی سورہ الفیل کی تفاسیر میں پڑھ لیجئے۔ اس سے زیادہ تفصیل آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔(باقی آئندہ)

شائع کردہ از shakhsiat | ٹیگ شدہ ,

مسلمان کیا کریں اور کیا نہ کریں۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں فر ماتا ہے کہ “پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجا ؤ “ (جز۔۔۔ آیت نمبر 208 سورہ البقرۃ) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ “نفاق سے بچو کہ دو چہرے والا اللہ کے نزدیک جگہ نہیں پاسکتا “ جبکہ مسلمان پریشان ہیں کہ وہ کس کی مانیں اور کیا کریں اور کیانہ کریں۔ کہ مولوی صاحبان فتویٰ دیئے بیٹھے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو؟ جبکہ اسلام کا مطالبہ ہے کہ اللہ رسول ﷺاور اس کے دین کو عزت دو؟ اور قر آن کہتا ہے کہ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ میں نمونہ ہے۔ اور نبیﷺ حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن پر عامل بنا کر وہاں بھیجتے ہو ئے ان سے پوچھتے ہیں کہ تم وہاں جاکر فیصلے کیسے کروگے؟تو وہ فرما تے ہیں کہ میں پہلے قر آن میں دیکھونگا، اگر وہاں ہدایت نہ ملی تو آپ کے اسوہ حسنہ ﷺ میں (جیساکہ آپ نے ﷺ دنیا کو عمل کرکے دکھایا ہے) تلاش کرونگا اور اگر وہاں بھی کچھ نہ ملا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کرونگا۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر ان کو گلے لگا لیا اور فرمایا کہ “ پھر یہ امت کبھی گمراہ نہیں ہوگی “ اور دیکھو وہاں کے باشندوں کے ساتھ آسانیاں پیدا کرنا مشکل نہیں “ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے اسوہ حسنہ ﷺ کوتو ایک طرف رکھدیا ہے اور اکثر لوگ اس کے معنی بھی نہیں جانتے اور بے عملی کا نام اسلام رکھدیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ چاروں طرف دو ہرے چہرے والے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے قول اور فعل میں بہت بڑا تضاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجا ئیں اور اسی طرف امت کی بھی رہنما ئی کریں تو ان کے آقایان ولی نعمت ناراض ہو جا ئیں گے؟ کیونکہ ان متقیان ِ ملت میں سے ہم نے ایک مولوی صاحب کو یہ بھی فرماتے ٹی وی پر سنا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا ہوں اورایسے قوانین میری ٹھوکروں میں ہیں۔ جبکہ یہ جملہ تکبر سے پر ہے جس کی اسلام نے شدید مذمت فرما ئی ہے خیر انہیں جانے دیجئے کہ وہ غلبہ تکبر میں کہہ گئے ہوں۔ مگر ہم ان کے بڑے معترف ہیں کہ ہماری رائے ان کے بارے میں قطعی مختلف ہے؟ عموماً مولوی صاحبان خشک ہوتے ہیں۔ مگر ہم نے دیکھا کہ ان کے اندر حس ِ مزاح بھی ہے؟ وہ جب کشمیر کمیٹی کے چیر مین تھے اور انڈیا نے اسوقت بھی کشمیریوں پر ظلم کیا تھا تو انہوں نے ایک اینکر کے سوال کے جواب میں قہقہہ لگا کر فرمایا تھا میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کردوں؟ اور بیچارہ نا سمجھ بچہ شرمندہ ہوکر چپ ہوگیا تھا۔ ابھی حال میں بھی مولانا کو اچھے موڈ میں دیکھا کہ کسی اخبار نویس کہا کہ مسلم لیگ پر غداری کے الزام لگ رہے ہیں ان کے بیانیہ کی وجہ سے؟تو انہوں نے بڑی زور کا قہقہہ لگا کر فرمایا مسلم لیگ پر غداری کا الزام؟ اس وقت شاید وہ بچے ہونگے جب پاکستان بنا تھا اور اب سمجھے نہیں ہونگے کہ یہ ذکر قائد اعظم والی مسلم لیگ کا نہیں ہے جس میں وہ لوگ تھے جو مسلم لیگ پر خرچ کرتھے، وہ نہیں جو مسلم لیگ کے نام پراسمبلیوں میں زیادہ ترجا تے اور کما تے ہیں۔ان کی اطلا ع کے لیے عرض کئیے دیتا ہوں وہ “ آل انڈیا مسلم لیگ تھی پاکستان مسلم لیگ نہیں تھی؟ جس کو قائد اعظم نے انڈیا سے روانہ ہو نے سے پہلے تحلیل کردیا تھا یہ فرما کر کے۔ کہ “ پاکستان بن گیاہے آل انڈیا مسلم لیگ کا مشن پوراہوگیا اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔؟اس کے بعد پاکستان کافی عرصے تک بغیر مسلم لیگ کے رہا۔ پھر لیاقت علی مرحوم نے پاکستان مسلم لیگ بنائی اور وہ بہت ہی ثمر آور ثابت ہوئی، اس نے بے شمار بچے دئیے ایک کے بعد دوسری بنتی چلی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیاکہ ایک درجن سے کچھ کم مسلم لیگیں تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی جسکا شجرہ مجھے معلوم نہیں۔ اس لئیے کہ میں کنیڈا چلا آیا تھالیکن میرا قیاس ہے کہ یہ شاید محمد خان جونیجو مرحوم والی مسلم لیگ کا تسلسل یا شاخ ہے۔ لہذا اس کو مقدس گا ئے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا؟ میں نے خود نہیں دیکھا مگر مجھے کسی نے بتایاکہ مولانا میں اب وہ پہلے جیسی خوش مزاجی بھی باقی نہیں رہی ہے۔ اب وہ بات بات پر ناراض ہوجا تے ہیں، حال میں کسی نے ان کو محترمہ مریم نواز صاحبہ کے برابر بیٹھے دیکھ کر پوچھا لیاکہ آپ تو پہلے کہتے تھے کہ عورت کی قیادت اسلام میں جا ئز نہیں ہے یہ کیا؟ مولانا بہت ناراض ہوئے اور فرما یا کہ یہ عوام کا حق ہے وہ جس کے حق میں فیصلہ کرے اور ہمیں ماننا ہے۔ شاید وہ غصے میں یہ بھی بھول گئے کہ پی ۔ ڈی ایم کے چیر مین وہ ہیں اور وہ بیچاری تو اپنے والدکی نما ئندگی کر رہی ہیں لہذا وہ خود قائد نہیں ہیں۔غصے میں اکثر آدمی ہوش و حواس کھوبیٹھتا ہے اس لئیے اسلام میں غصہ پی جانے کا حکم ہے۔ اور جبکہ آدمی اقتدار میں نہ ہو تو وہ ویسے بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سچ نہیں بولتے لہذا برکت اٹھ گئی ہے جبکہ میرے سامنے اپنے آقا ﷺ کا یہ فرمان ہے جس کا لب لباب یہ کہ “ مسلمان اورکچھ بھی ہوسکتا مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا “ جبکہ آجکل مسلم اکثریت کا اوڑھنا اوربچھونا جھوٹ ہے۔ للہ مولانا مجھے اس ملک کاپتا بتادیں جہاں ایسے مسلمان ہوں جو صادق اور امین بھی ہوں جیسے کہ حضورﷺ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہاں ایک مشورہ اور دیتا چلوں کے البقرہ کی آیت نمبر 4سے 8تک جوکہ نفاق، فتنہ اور انتشار پھیلانے کے بارے میں ہیں۔وہ مولانا نے توپڑھی ہی ہونگی؟ البتہ عوام ترجمہ کے ساتھ ضرور پڑھ لیں؟ شاید کسی کا بھلا ہوجا ئے۔ اور انہیں جواب مل جا ئے کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ اور اس میں سے نفاق والی آیتیں پڑھ کر دو آتیں جوکہ درمیان میں ہیں انہیں پڑھ کر اپنے آپ کو بچا لیں اور بخشش اور صرف رحمت والی آیتوں سے فا ئدہ اٹھا کر ان مشکل حالات میں پاکستان کو بھی بچا لیں تو بہتر ہے،ورنہ اس کووہ تو بچا ہی لے گا جو سب کا مالک ہے اور وہ اب تک پاکستان کو بچا تا آیا ہے۔ جیسے کہ اس نے کرونا سے ابھی بچا یا؟ لیکن حکمرانوں نے اسے بھی اپنے نام لکھ لیا۔ اور یہ کریڈٹ بھی خو دہی لے لیا؟ اللہ سبحانہ تعالی پاکستان کو محفوظ رکھے۔(آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ ,

ہمارے پاس ہدا یت تو ہے مگر بھٹک جاتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

<p class="has-blue-color has-white-background-color has-text-color has-background" value="<amp-fit-text layout="fixed-height" min-font-size="6" max-font-size="72" height="80">ایک روزحضور ﷺ نے فرمایا کہ“ اس سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ ایسا کون ہوسکتا! تو فرما یا کہ جو دوسروں کے ماں باپ کو برا بھلا کہے اور دوسرے اس کے جواب میں اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہیں “دوسرے قرآن میں ایک آیت یہ بھی ہے کہ“ تم دوسروں کے معبودوں کو بر ا مت کہو ورنہ وہ تمہارے معبود کو برا کہیں گے “ چونکہ اسلام نے ہمیں کہیں بھی بغیر رہنما ئی کے نہیں چھوڑا ہے یہ ہمارے علم میں ہونا چاہیئے لیکن پھر بھی ہم لوگوں کے اشتعال دلا نے پر جلدی مشتعل ہوجا تے ہیں؟ اور اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس صبر کی شکل میں وہ ہتھیارہے کہ ہر فعل کے مقابلے میں صبر کو ہی تر جیح دی گئی ہے۔ اور ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں یہ فرما کر اس پر بہت زیادہ زو ردیا ہے کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “<br>اور ہر معاملے میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ بدلا لینے والے سے معاف کرنے والا افضل ہے اور یہ کہ معاف کرو تاکہ معاف کیئے جاؤ۔ لیکن نہ قرآن کو ہم کھول کر دیکھتے ہیں نہ حضور ﷺ کے اسو ہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت مار نے اورمرنے پر تیار رہتے ہیں دوسری طرف زر پرستی کی پوری مشینری ہمیں شدت پسند ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے۔۔ اس لئے ہم آسانی سے مفاد پرستوں کا ہمیشہ تر نوالا بن جاتے ہیں اور زیادہ تر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ کبھی اپنی ہی املاک کو آگ لگا کر کبھی توڑ پھوڑ کرکے۔ جبکہ کسی کی قیادت کے پیچھے چلنے سے پہلے یہ تک نہیں سوچتے کہ اس قائد کے مقا صد کیا ہیں ؟جبکہ ہمیں بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم ہے برا ئی میں نہیں؟ وہ فتنہ پردازی کر کے اپنا الوسیدھا کرتے ہیں۔ جبکہ وہ بھی اکثر دوسروں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی قرآن ہی کہہ رہا کہ “ فتنہ “ قتل سے بد تر ہے اور فتنے کی تعریف یہ ہے کہ جہاں امن امان ہو وہاں بد امنی پیدا کی جا ئے۔ چونکہ اسلام دین ِ فطرت ہے لہذا ایک جیسا حکم بھی ہر جگہ کے لیے نہیں ہے۔ مسلمان مغلوب ہیں تو ذمہ داریا ں اور ہیں اور غالب ہیں تو ذمہ داریاں اور ہیں۔ اس لیئے ہمیشہ کے لئیے ایک جیسا حکم نہیں دیا گیا ہے اور موقعہ محل دیکھ کر ہر ایک کو خود فیصلہ کرنا ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ توبات کچھ اور تھی مدینہ منورہ میں کچھ اور تھی۔ وہاں ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ انﷺ کے سامنے ان کے جانثار شہید ہو رہے ہیں مگر حضور ﷺ یہ فرما کر انہیں تسلی دے رہے ہیں کہ صبر کرواس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔ ہمارے سامنے ان تین مجاہدوں میں سے دو کی شہادت کی مثال موجود ہے جس میں پہلی خاتون شہید ہوئیں جن کا نام حضرت سمیہ ؓ تھا جبکہ ان کے شوہر اور صاحبزادے دیکھتے رہے مگر انہوں نے مدافعت نہیں کی کیونکہ اس وقت تک مدافعت کا حکم نہیں تھا اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ یہ خاندان ابو جہل کا غلام تھا جرم ان کا یہ تھا کہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تھا ابو جہل ان کے منہِ مبارک سے اسلام سے انحراف سننا چا ہتے جبکہ وہ آیت نازل ہوچکی تھی جس میں حکم تھا کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو جان بچانے کے لئیے غلط بات بھی کہہ سکتے ہو۔ ماں باپ نے وہ بات نہیں کہی حالانکہ صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت سمیہؓ کا ایک پیر ایک اونٹ کے پیر کے ساتھ رسی سے بندھا ہوا تھااور دوسرا پیر دوسرے اونٹ کے پیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور دونوں کو مختلف سمتوں میں جانا تھا ساربان صرف حکم کے منتظر تھے۔ مگر انہوں نے بات نہیں مانی اور جان دینا پسند فرما ئی نتیجہ یہ کہ ان کے اس طرح دو ٹکڑے کردیئے گئے۔ پھر والد حضرت عمار ؓ بھی اسی مرحلے سے گزرے وہ بھی شہادت پاگئے۔ اب بیٹے کی باری تھی جن کا نام تھاحضرت یاسر بن عمار ؓ۔ انہوں نے وہ ا لفاظ کہہ دیئے اور جان بچا لی۔ پھر وہ حضورﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے دل کی اسوقت کیا حالت تھی؟ جواب میں ارشاد فرمایا کہ میرے دل میں تو ایمان تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر خیر ہے؟ اور تاریخ گواہ ہے کے ان کے رتبے میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا وہ جلیل القدر صحابہ میں شامل رہے۔ اور حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق وہ جنگ ِ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب مسجد نبوی ﷺ بن رہی اور حضور ﷺ خود بھی اس کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ حضور ﷺ انہوں نے میرے اوپر بہت سی اینٹیں لا د دی ہیں یہ مجھے اس طرح مارڈالنا چا ہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ فرمایا تم یہاں نہیں مروگے بلکہ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگے جبکہ علیؓ حق پر ہونگے۔یہ میں یہ چند مثالیں بیان کرنے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ جبکہ ہدا یت کے لئیے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے تو ہم خود فیصلہ کیوں نہیں کرتے پاتے بار بارالجھ کیوں جا تے ہیں اور غلط فیصلے کرنے کے باربار کیوں مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اب ہماری پوزیشن بھڑوں کے چھتے کی طرح ہو گئی ہے۔ کہ کسی نے ایک ڈھیلا پھینکا اور سب کانٹنے کو دوڑ پڑیں۔ جبکہ یہ پالیسی وہاں چل سکتی ہے جہاں غالب ہوں لیکن وہاں نہیں جہاں مغلوب ہیں وہاں خود ہم کو مقامی قْوانین کااحترام کرنا چاہیئے جیسا کہ حکم ہے اور بطور سفیر اسلام اسی اخلاق کا مظا ہرہ کرنا چا ہیئے جوکہ مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا۔ اللہ ہم سب کو عقل دے(آمین)ایک روزحضور ﷺ نے فرمایا کہ“ اس سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ ایسا کون ہوسکتا! تو فرما یا کہ جو دوسروں کے ماں باپ کو برا بھلا کہے اور دوسرے اس کے جواب میں اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہیں “دوسرے قرآن میں ایک آیت یہ بھی ہے کہ“ تم دوسروں کے معبودوں کو بر ا مت کہو ورنہ وہ تمہارے معبود کو برا کہیں گے “ چونکہ اسلام نے ہمیں کہیں بھی بغیر رہنما ئی کے نہیں چھوڑا ہے یہ ہمارے علم میں ہونا چاہیئے لیکن پھر بھی ہم لوگوں کے اشتعال دلا نے پر جلدی مشتعل ہوجا تے ہیں؟ اور اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس صبر کی شکل میں وہ ہتھیارہے کہ ہر فعل کے مقابلے میں صبر کو ہی تر جیح دی گئی ہے۔ اور ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں یہ فرما کر اس پر بہت زیادہ زو ردیا ہے کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “
اور ہر معاملے میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ بدلا لینے والے سے معاف کرنے والا افضل ہے اور یہ کہ معاف کرو تاکہ معاف کیئے جاؤ۔ لیکن نہ قرآن کو ہم کھول کر دیکھتے ہیں نہ حضور ﷺ کے اسو ہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت مار نے اورمرنے پر تیار رہتے ہیں دوسری طرف زر پرستی کی پوری مشینری ہمیں شدت پسند ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے۔۔ اس لئے ہم آسانی سے مفاد پرستوں کا ہمیشہ تر نوالا بن جاتے ہیں اور زیادہ تر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ کبھی اپنی ہی املاک کو آگ لگا کر کبھی توڑ پھوڑ کرکے۔ جبکہ کسی کی قیادت کے پیچھے چلنے سے پہلے یہ تک نہیں سوچتے کہ اس قائد کے مقا صد کیا ہیں ؟جبکہ ہمیں بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم ہے برا ئی میں نہیں؟ وہ فتنہ پردازی کر کے اپنا الوسیدھا کرتے ہیں۔ جبکہ وہ بھی اکثر دوسروں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی قرآن ہی کہہ رہا کہ “ فتنہ “ قتل سے بد تر ہے اور فتنے کی تعریف یہ ہے کہ جہاں امن امان ہو وہاں بد امنی پیدا کی جا ئے۔ چونکہ اسلام دین ِ فطرت ہے لہذا ایک جیسا حکم بھی ہر جگہ کے لیے نہیں ہے۔ مسلمان مغلوب ہیں تو ذمہ داریا ں اور ہیں اور غالب ہیں تو ذمہ داریاں اور ہیں۔ اس لیئے ہمیشہ کے لئیے ایک جیسا حکم نہیں دیا گیا ہے اور موقعہ محل دیکھ کر ہر ایک کو خود فیصلہ کرنا ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ توبات کچھ اور تھی مدینہ منورہ میں کچھ اور تھی۔ وہاں ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ انﷺ کے سامنے ان کے جانثار شہید ہو رہے ہیں مگر حضور ﷺ یہ فرما کر انہیں تسلی دے رہے ہیں کہ صبر کرواس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔ ہمارے سامنے ان تین مجاہدوں میں سے دو کی شہادت کی مثال موجود ہے جس میں پہلی خاتون شہید ہوئیں جن کا نام حضرت سمیہ ؓ تھا جبکہ ان کے شوہر اور صاحبزادے دیکھتے رہے مگر انہوں نے مدافعت نہیں کی کیونکہ اس وقت تک مدافعت کا حکم نہیں تھا اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ یہ خاندان ابو جہل کا غلام تھا جرم ان کا یہ تھا کہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تھا ابو جہل ان کے منہِ مبارک سے اسلام سے انحراف سننا چا ہتے جبکہ وہ آیت نازل ہوچکی تھی جس میں حکم تھا کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو جان بچانے کے لئیے غلط بات بھی کہہ سکتے ہو۔ ماں باپ نے وہ بات نہیں کہی حالانکہ صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت سمیہؓ کا ایک پیر ایک اونٹ کے پیر کے ساتھ رسی سے بندھا ہوا تھااور دوسرا پیر دوسرے اونٹ کے پیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور دونوں کو مختلف سمتوں میں جانا تھا ساربان صرف حکم کے منتظر تھے۔ مگر انہوں نے بات نہیں مانی اور جان دینا پسند فرما ئی نتیجہ یہ کہ ان کے اس طرح دو ٹکڑے کردیئے گئے۔ پھر والد حضرت عمار ؓ بھی اسی مرحلے سے گزرے وہ بھی شہادت پاگئے۔ اب بیٹے کی باری تھی جن کا نام تھاحضرت یاسر بن عمار ؓ۔ انہوں نے وہ ا لفاظ کہہ دیئے اور جان بچا لی۔ پھر وہ حضورﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے دل کی اسوقت کیا حالت تھی؟ جواب میں ارشاد فرمایا کہ میرے دل میں تو ایمان تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر خیر ہے؟ اور تاریخ گواہ ہے کے ان کے رتبے میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا وہ جلیل القدر صحابہ میں شامل رہے۔ اور حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق وہ جنگ ِ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب مسجد نبوی ﷺ بن رہی اور حضور ﷺ خود بھی اس کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ حضور ﷺ انہوں نے میرے اوپر بہت سی اینٹیں لا د دی ہیں یہ مجھے اس طرح مارڈالنا چا ہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ فرمایا تم یہاں نہیں مروگے بلکہ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگے جبکہ علیؓ حق پر ہونگے۔یہ میں یہ چند مثالیں بیان کرنے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ جبکہ ہدا یت کے لئیے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے تو ہم خود فیصلہ کیوں نہیں کرتے پاتے بار بارالجھ کیوں جا تے ہیں اور غلط فیصلے کرنے کے باربار کیوں مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اب ہماری پوزیشن بھڑوں کے چھتے کی طرح ہو گئی ہے۔ کہ کسی نے ایک ڈھیلا پھینکا اور سب کانٹنے کو دوڑ پڑیں۔ جبکہ یہ پالیسی وہاں چل سکتی ہے جہاں غالب ہوں لیکن وہاں نہیں جہاں مغلوب ہیں وہاں خود ہم کو مقامی قْوانین کااحترام کرنا چاہیئے جیسا کہ حکم ہے اور بطور سفیر اسلام اسی اخلاق کا مظا ہرہ کرنا چا ہیئے جوکہ مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا۔ اللہ ہم سب کو عقل دے(آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ

ڈرواس وقت سے کہ تم پر ظالم مسلط کر د ئیے جا ئیں۔۔شمس جیلانی

یہ مشہور حدیث ہے۔ آج کی دنیا کا آپ جائزہ لیں تو آپ کوہر طرف ظلم اور زیادتی نظر آ ئے گی؟ موجودہ دور کوآئندہ نمودار ہونے والے واقعات کا ایک نمونہ یا (ٹریلر) سمجھ لیں؟ جبکہ حضور ﷺ نے یہ فرما کر چودہ سو سال پہلے ہی امت کو خبر دار کردیا تھا؟ مگر ہم ایسی باتوں کو سنتے کہاں ہیں؟ اگر حضور ﷺ کے فرمودات سنتے ہو تے تو اسوہ حسنہﷺ کو اپنی لیئے اللہ کے فرمان کے مطابق مشعل راہ بناتے اور ہر کام کی طرح ووٹ کوبھی سوچ سمجھ کر استعمال کرتے؟ اُس صورت میں پھر ہمارا معیار یہ نہ ہوتا کہ ہمیں صرف اپنے بندوں کو ووٹ دینا ہے چاہیں ان کا کردار کیسا بھی ہو؟ جبکہ ہمیں حکم ہے کہ اپنے بھا ئی کی صرف بھلے کاموں میں مددکرو، لیکن برائیوں میں با لکل نہیں؟ اس صورت حال میں دنیا آج کچھ اور ہوتی۔ مگر ہم نے نہ نبی ﷺ کی بات پر کان دیئے نہ ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ارشادات پرکان دھرے۔“ قولی“ مسلمان بنے رہے عملی مسلمان نہیں بن سکے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ“انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اپنے لئیے کرتا ہے؟ اور ہمیں اس سے بھی خبردار کردیا تھا کہ“اس کے دربار میں اگر کوئی چیز قابل عزت اور ترجیح ہےتو وہ تقویٰ ہے، نہ کا لے کو گورے پر فضیلت ہے نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے“ اور ہمیں یہ بھی بتادیا تھا کہ وہاں رشتے داریاں کام نہیں آئیں گی؟ پچھلی اُمتیں اسی وجہ سے خوار ہوئیں کہ وہ کسی نہ کسی قسم کے فخراور تکبر میں مبتلا ہوگئیں۔ مثلاً ہم نبیوں ؑ کی اولاد ہیں یا ہماری نبی ؑ جان دیکر اپنی پوری قوم کے لئیے فدیہ بن گئے۔ اور جب وہ اس طرح اپنی افادیت کھو بیٹھیں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں معزول کردیا“ اور ہمیں بتادیا کہ“اب ان کی جگہ ہم تمہیں لا ئے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو“؟ ہم نے اس بات کی بھی کوئی پر واہ نہیں کی۔ وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے کہ ہمیں یہ بخشوادے گا ہمیں وہ بخشوادے گا؟ جبکہ قر آن یہ پہلے ہی مثالیں دیکر سمجھا چکا تھا کہ قیامت میں کوئی کسی کا وزن نہیں اٹھاسکے گا؟۔اور پرانی امتوں کی مثالیں دیکر کہ سمجھایا تھا دیکھو کہ حضرت نوحؑ اپنے بیٹے کے کام نہیں آسکے، حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیوی کے کام نہیں آسکے۔ تو ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں۔ کہ بڑے اباّ کسی کے کام آسکیں گے؟
پرانی مثالوں پر مت جا ئیے موجودہ حالات دیکھ لیجئے کہ کبھی ہم پوری طرح اللہ کے دین پر کار بند تھے۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دنیا کی دو سپر پاورز پرہماری نصرت فرماکر ہمارے ہاتھوں روم اور کسریٰ کو شکست دلوادی؟ پھر وہ ہماری ہی ان لائبریریوں میں کھوج لگا نے میں مصروف ہوگئے اور انہوں نے صرف دو اصول ہمارے اپنا لئیے؟ ایک عدل سب کے ساتھ اوردوسرے جذبہ احسان کے عنصر کی جھلک ان میں اس طرح نظر آئے جس طرح کبھی ہمارے اندر تھی اور سب کو نظر آتی تھی۔ (جبکہ ان کی چند اچھی صفات کی تعریف خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمائی ہے کہ “ ان میں عبادت گذار اور نرم دل لوگ ہیں ًجبکہ احسان کے معنی بہت آسان ہیں جو کہ ہم کو بھی کبھی یاد تھے مگر سب اچھی باتوں کی طرح ہم نے سیکھ کر چھوڑ دیئے یہ جانتے ہوئے کہ جہاں حسن کے ساتھ کوئی اضافت لگ جا ئے تو اس فعل میں چار چاند لگ جا تے ہیں مثلاً حسنِ تحریر، حسن ِ تقریر حسن ِ تعمیر وغیرہ وغیرہ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ جو جہاں بھی اپنے فرا ئض جس حیثیت میں بھی انجام دے رہا اس کو اپنی پوری صلا حیتیوں یعنی(excellence) کے ساتھ انجام دینا چا ہیئے چا ہیں وہ باپ کی حیثیت سے انجام دے رہا ہو یا بیٹے کی حیثیت سے۔؟ نوکر کی حیثیت سے یا مالک کی حیثیت سے۔ان دو اصولوں کو اپنا کر انہو ں نے ہم سے اپنی کھوئی ہوئی حکومت پھر چھین لی کیونکہ ہم پورا سبق بھول چکے تھے۔ اور انہوں تازہ تازہ یہ دو نسخے یاد کرلئے تھے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کئی صدیوں تک ان کے مطیع،معترف اور فرما نبردار بنے رہے؟ اب ان کے یہاں بھی وہ عنصر کم ہو کر ختم ہونے کے قریب ہے۔ لہذا پھر وہ قوم ابھر رہی ہے جو ہزاروں سال پہلے کبھی حکمراں تھی آج وہ تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آپ تھوڑے دنوں میں دیکھیں گے کہ وہ ان کی جگہ لے لیگی۔ جبکہ ہم وہیں کے وہیں رہیں گے۔؟کیونکہ ہم اس سلسلہ میں کو ئی پیش رفت نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ اتباع ہماری فطرت ِ ثانیہ بن چکی ہے جوکہ غلامی کی علامت ہے۔ حالانکہ“یہ بھی قرآن نے ہم کو بتا یا ہوا ہے کہ ہم بار بار قوموں کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا نہ کریں تو عبادت گاہوں میں ہمارا نام بھی نہ لیا جا ئے“ جبکہ ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ساری دنیا ایک ہی مذہب پر ہوتی؟ مگر ہم نے یہ جو کچھ نظام بنا یا ہے وہ اس لئیے ہے کہ اس کے بعد کے لئے ایک ابدی دنیا بھی ہم نے بنا رکھی ہے جو کہ کبھی فنا نہیں ہوگی۔ وہاں ہم نے دو صلے دنیا کے لوگوں کے اعمالوں کی بنا پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک کا نام جنت ہے اور دوسری کا نام جہنم ہے۔ اور ہم نے دونوں کو بھر نے کا ان سے وعدہ بھی کیا ہوا ہے جو کہ جنوں اور انسانوں سے ان کے اچھے یا برے اعمالوں کی بنا پر بھری جا ئیں گی۔ ہم اس دن اس کا فیصلہ کریں گے جس کو یوم ِ قیامت یا محشر کہتے ہیں۔ہم سے بڑا منصف کون ہوسکتا ہے لہذا کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا ہم انصاف کریں گے اور ان کے اعمال دیکھ کر کسی کو جنت یا دوزخ کا حقدار بنا ئیں گے؟ کچھ بندے جن کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا یعنی جنہوں نے دنیا میں اچھے کام کیئے ہونگے وہ جنت میں چلے جا ئیں گے وہاں کوئی ان کو کسی طرح کی مشقت برداشت نہیں کرنا ہوگی انہیں سب کچھ بلا مشقت کے ملے گا۔اور جنکو با ئیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملیں گے۔ وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہونگے اور ابدی طور پر جہنم میں جلیں گے اور ان کا عذاب بھی کبھی ہلکا نہیں کیا جا ئے گا۔ کیونکہ سب کو ان دو نوں راستوں کے انجام سے پہلے ہی باخبر کردیا گیا تھا۔ کہ جونسا راستہ وہ اختیار کرنا چاہیں ان کو اپنا من پسند راستہ منتخب کرنے کا اختیار تھا؟ اور یہ کلیہ بتادیا گیا تھا کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے وہ اپنے لیئے ہی کرتاہے۔ اللہ ہم سب کو سمجھ دے اور اس دن کی خفت سے بچا ئے(آمین)
میں اپنا یہ مضمون اس قطعہ پر ختم کرتا ہو۔ ع
یہاں پہ جب تک ہم عامل قر آن ہوکر رہے
رہے زمیں پراسوقت تک آسمان ہوکر رہے
جو چھوڑا دین کو ہم نے تو ُرل گئے ہم بھی
بہاریں روٹھ گئیں اور خزاں نشان ہوکر رہے

شائع کردہ از Uncategorized

مدینہ جیسی ریاست کا قیام ناممکن ہے؟۔۔۔شمس جیلانی

قر آن میں یہ بار بار دہرایا گیا ہے کہ“ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے؟ جبکہ ہمارے یہاں تصور اس کا الٹ ہے۔ کہ ہر آدمی جو کسی قسم کی عبادت بھی کرے سمجھتا ہے کہ اس نے نعوذو بااللہ،اللہ سبحانہ تعالیٰ پر عبادت کرکے احسان کیا ہے اور اب وہ اس کا ہر گناہ معاف کردے گا؟ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ بول کر ذرے کا پہاڑ بنا کر دوسری تمام برائیاں کر کے مطمعن ہوجاتا ہے کہ میں نے کیسا لو گو ں کو بیوقوف بنا یا ہے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حقوق العباد معاف کرنے کا وعدہ نہیں فرما یا، شرک اور تکبر بھی انہیں میں شامل ہیں۔ حالانکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اصل میں اس نے خود کو بیوقوف بنایا ہے۔ ان ہی میں بڑے بڑے دعوے بھی کرلینے کی عادت شامل ہے۔ جیسے کہ یہ کہناہے کہ میں“پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنا دونگا“۔ حالانکہ ہر کسی کو ایسے دعوے کرنے سے پہلے اچھی طرح سے سوچ لینا ضروری ہے کہ جو وہ دعویٰ کر رہا ہے وہ اس کے بارے میں کچھ جانتا بھی ہے اور وہ وعدہ وفا بھی کرسکے گا، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے؟ اگر کہنے والا یہ سوچ لیتا کہ جنہوں ﷺنے مدینہ منورہ کی ریاست بنا ئی تھی ان ﷺجیساکو ئی تاریخ میں پہلے تھا اور نہ انشا ء اللہ آئندہ کبھی ہو گا اور نہ ہی آئندہ کوئی مدینہ منورہ جیسی ریاست بن سکے گی۔ کیونکہ کوئی شخص کتنی ہی محنت کیوں نہ کرلے وہ بانیﷺ ریاست مدینہ جیسی صلاحیتیں خود میں پیدا ہی نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ ﷺ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اس تخلیق کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی ابتدا حضرت آدم علیہ اسلام ہوئی تھی؟پھر کوئی اور مدینہ جیسی ریاست کیسے بنا سکتا ہے۔ جبکہ یہاں اگر ہم پھر قرآن کی طرف لوٹیں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمارہا ہے حضرت آدم ؑ کی پیدا ئش سے پہلے کہ“ میں زمین پر اپنا خلیفہ ﷺبنا نے جا رہا ہوں“ اسی سے ہر عقلمند اندازہ لگا سکتا ہے اگر وہ واقعی اللہ سبحانہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کاجو خلیفہ ہوگاوہ کیسی صلاحیتوں کا مالک ہوگا جیسے کہ ریاست مدینہ کے والی ﷺتھے۔ اگر کہنے والا ان ﷺسے پوری طرح واقف ہوتا تو اسے ہر بات کا علم بھی ہوتا اور وہ اپنی صلاحیتیں دیکھ کر یہ کہنے کی کبھی جرا ء ت نہیں کرتا۔ اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتا؟ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جیسے اورلوگ بڑے بڑے دعوے ماضی میں کرتے رہیں اور کیا کچھ بھی نہیں۔ایسا ہی یہ بھی اسی سلسلہ کاایک دعویٰ تھا۔ جسے پورا کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔ جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو تاکہ اس کی ساری منصوبہ بندی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمائی تھی؟ اور اس کا واضح ثبوت قرآن میں موجود ہے کہ“ وہ اپنے نبی ﷺ سے فرمارہا ہے کہ آپ کتنی ہی کوشش کرلیتے مگر لوگوں کے دلوں میں اپنے لئیے ایسی محبت پیدا کرنا آپ کے لیے ناممکن تھا جیسی کہ میں نے ان کے دلوں میں آپ کے لئے ڈالدی“۔ میرا وہاں کے باشندوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ عمران خان کو معاف کردیں اور آئندہ یاد دہانی کرانے سے بھی رک جائیں، کیونکہ میرے خیال میں ایسا سوچنا بھی بے ادبی ہے۔ اس لیئے کہ ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور نصرت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی، رہنمائی اور صحبت نبی ؑ کی درکار ہے۔ نبیؑ اب کوئی آنا نہیں ہے اس لئیے کہ حضورﷺ خاتم النبین ہیں ایسا نہ ہونے سے جعلی دعویداروں کا رد بھی ہوتا ہے۔ البتہ احادیث کے مطابق نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد یہ ممکن ہوگا،جس کاذکراحادیث کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ اس کے بغیر نا م و نہاداسلامی ریاستیں توبن سکتیں ہیں جوکہ اس وقت بھی موجود ہیں۔ مگر مدینہ منورہ جیسی ریاست نہیں بن سکتی۔کیونکہ دلوں کوپھیرنے اور تزکیہ نفس کرانے والا تو ہمیشہ ان کے درمیان میں موجود رہتا ہے جوکہ اس نافر مانی کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ اس صورت ِ حال میں منا سب اور بہتریہ ہی ہے کہ عاقبت اگر بچانا ہے تو اس کا ذکر ہی چھوڑدیں آئندہ میں بھی مدینہ منورہ جیسی ریاست پر بات نہیں کرونگا۔ کیونکہ دنیا میں ویسی ریاست کہیں قائم ہی نہیں ہے لہذا مجبوری ہے۔آئیے دعا مانگیں کہ اس وقت جو حالات ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے (آمین) البتہ جو دین کے سلسلہ میں تبلیغ کاکام کر رہے ہیں وہ ہمت نہ ہاریں اپنا کام جاری رکھیں تاکہ بلا ئیں اور عذاب رکے رہیں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ “ہم کسی بستی پر عذاب جب بھیجتے ہیں جبکہ کوئی برائی اور ظلم کو وہاں روکنے والا نہ رہے اور اللہ والے بھی نہ رہیں ً لہذا ان دونوں کا رہنا بستیوں کی بقا کی ضمانت ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized

ہر شہ غیر موثر ہے سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے؟ شمس جیلانی

جب تک کے اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے اثر سے نہ نوازے کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا؟ یہ وہ کلیہ ہے جو کہ اسلام کی اساس ہے۔یہ میرے اپنے خیالات نہیں ہیں لیکن جب اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی کو نوازنا چا ہے تو کہیں سے کسی کو بھی رہنمائی عطا فرما سکتا ہے۔ یہ بات تقریبا ً ہر مسلمان کے علم میں ہے جو کہ دین میں تھوڑی سی بھی شد بدھ رکھتا ہے۔ کہ کرونا کو دنیا میں آئے ہو ئے سال ہو نے کو آیا مگر کسی کے ذہن میں اس کا یہ جواب نہیں آیا جو میرے ذہن میں پچھلے دنو ں آیا کہ میں دنیا ٹی وی کا پروگرام پیامِ صبح دیکھ رہا تھا جو کہ انیق احمد صاحب پیش کرتے ہیں اور مجھے بہت ہی پسند ہے اس لیئے کہ وہ بہت اچھا پرو گرام ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ فرقہ واریت سے پاک ہے؟ اسی میں ہر ہفتہ دو دن سوال اور جواب کا پروگرام بھی ہوتا جس میں بہت سے جید علماء حصہ لیتے ہیں اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جبکہ یہ پرو گرام شروع ہوتا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نام سے جس میں قرآن کی تفسیر ہوتی ہے اور دونو ں مکتبہ فکر کے علماء شریک ہو تے ہیں اور ختم ہوتا ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک قول پر۔اسی میں اس دن مفتی منیب الرحمٰن صاحب چیر مین مرکزی رویت ہلال کمیٹی سوالوں کے جواب دے رہے تھے جس نے مجھ جیسے جاہل کی آنکھیں کھولدیں کہ“ہر شہ غیر موثر ہے جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے اثر نہ دے؟ وہ ایک صاحب کے اس سوال کے جواب میں تھاکہ متعدی بیماری کیا ہے۔اور ایسا کیسے ہوتا ہے کہ وہ کچھ پر اثر کرتی ہے کچھ پر با لکل نہیں۔؟ ان کا جواب تھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جس کے لیے اسے اثر عطا فرمادیتا ہے اس کو وہ نقصان پہنچاتی ہے۔ جس کے لئے اجازت نہ دے وہ نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔اس جواب پر میرا ذہن فوراً قر آن کی اس آیت کی طرف گیا جس میں حضرت ابرا ہیم کا ؑ ذکر ہے کہ“ جب نمرود نے انہیں آگ میں ڈالا تو اللہ نے آگ کوحکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی ہو جا اور وہ بخیریت آگ سے با ہر تشریف لے آئے (سورہ الانبیاآیت نمبر(69) مجھے ایسا لگا کہ جیسے کہ اس جواب نے میری آنکھول دیں؟ چونکہ ہمارا سب کا عقیدہ ہے اور قرآن یہ کہتا ہے کہ کوئی پتہ تک اس کے حکم کے بغیر نہیں گرتا (سورہ الانعام آیت نمبر (59)۔ پھراس سلسلہ کی بہت سی آیتیں میرے ذہن میں آتی چلی گئیں مگر بات وہیں جاکر رکتی ہے کہ اگر اللہ نہ چا ہے تو کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا؟ مگر پھر بھی ہم ہر کام کا کریڈٹ اپنے نام لکھوانا پسند کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کسی صاحبِ کمال یا صاحب ِاختیار سے اپنی عطا کردہ صلاحیت چھین لے تو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا؟ مگر ہم اس کا اظہار نہیں کرتے جس سے کریڈٹ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نام جاتا ہو؟ جبکہ سچائی یہ ہی ہے جیسی ایک کہاوت مشہور ہے۔کہ“رب راضی تو سب راضی“مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہو تا ہے کہ ہم خود کوکہلاتے تو مسلمان ہیں مگر ان مواقعوں پر بھی جہاں ہمیں قدرت تبلیغ کرنے کا موقعہ دیتی ہے جو کہ بحیثیت مسلمان ہم پرفرض ہے ہم وہاں بھی اوروں سے لیکرانکے عقائد کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اپنے عقائد کی بات نہیں کرتے جن میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔؟یہیں دیکھ لیجئے دنیا یہ جاننا چا ہتی ہے کہ وہ کیا راز تھا کہ پاکستان کے لو گ اس وبا سے کیوں کم متاثر ہو ئے؟ سب کا جواب ایک ہی ہے کہ ہم نے پلاننگ بہت اچھی کی اور اس کا کریڈٹ فلاں اور فلاں کو جاتا ہے یا ہماری قوت مدافعت اور وں سے بہتر ہے؟ کوئی ان سے پوچھے کہ قوت مدافعت کون عطا فرتا ہے، تو بغلیں جھانکنے لگیں گے کیونکہ بات پھر وہیں پہنچ جا ئیگی؟۔ حالانکہ یہ بہترین موقعہ تھا دنیا کو بتانے کا اگر بات یہاں سے شروع کر تے کہ جب دنیا میں کوئی متعدی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں جا نتا تھا اور نہ یہ کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی پیغمبر ﷺ اسلام یہ راز جانتے تھے کہ اس کا توڑ یہ ہے کہ“ لوگ ان بستیوں میں نہ جا ئیں جہاں مرض پھیلا ہوا ہے اور جو وہاں پہلے سے موجود ہیں وہ وہیں ٹھہرے رہیں“ پھر لوگوں میں تجسس پیدا ہوتا اور وہی بات اللہ سبحانہ تعالیٰ پر جاکر ختم ہوتی جوکہ تمام صفات کامالک ہے؟ اس طرح اسلام کی حقانیت کو ثابت کر نے کا باعث ہوتے۔ مگر مشکل یہ ہی کہ ہم میں سے کتنے اسلام سے واقف ہیں اور کتنے اسلام پر عامل ہیں اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ اس کے بر عکس جبکہ دنیا وجہ جاننا چا ہتی ہے،ہم ان کے تجسس کو دبانا اور غلط راستے پر ڈالنا چا ہتے ہیں۔ حالانکہ قر آن ہر کیوں؟ کا جواب دیرہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ جب دنیا میں ظلم زیادتی اور برائی حد سے بڑھ جا ئے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ پہلے مسلسل چھوٹے جھوٹے جھٹکو ں کے ذریعہ انسانیت کو خبر دار کرتا ہے۔ پھر بھی اگر لوگ بعض نہ آئیں تو ان پر عذاب بھیج کر ان ظالم قوموں کا نام و نشان دنیا سے مٹا تا رہا ہے۔جن میں سے بہت سوں کے قصے قرآن میں موجود ہیں۔ اور یقیناً دوسری الحامی کتابوں میں بھی ہونگے، کیونکہ مجھے ان پر عبور حاصل نہیں ہے میں ان کے بارے میں کچھ قطعی طور پرنہیں کہہ سکتا۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جب پہلے عذاب آئے تو دنیا بہت چھوٹی تھی لہذا اگر ایک بستی تباہ ہوتی تو دوسری کو اکثر خبر نہیں ہوتی تھی؟ مگر دنیا کے گلوبل ولیج بننے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جو کہ پوری دنیا کو ایک جرثومہ بری طرح متاثر کررہا ہے سارا نظام الٹ پلٹ ہو چکا ہے۔ مادی ترقی کے دعوے سارے کہ سارے دھرے کہ دھر ے رہ گئے ہیں۔ اور خود ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کے سربراہ فرما رہے ہیں کہ۔“یہ عام جر ثومہ نہیں ہے کہ جو خود بخود چلا جا ئے، اس کو ختم کرنا پڑیگا“ابھی تک اس سلسلہ میں کو ئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ اس کو دفع کرنے سے پہلے وجہ جاننا ضروری ہے۔ وجہ بھی قرآن بتا رہا ہے کہ“ جب ظلم اور زیادتی حد سے بڑھ جا ئے اور اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو، تو ہم پہلے ڈراتے ہیں اور پھر بھی وہ قوم نہ مانے تو عذاب نازل کر دیتے ہیں“ اس سلسلہ میں دنیا کے ہر فرد کو جو خود کو انسان کہلاتا ہے ہاتھ بٹانا چاہیئے اور جو کچھ اس کے علم میں ہو وہ دنیا کے سامنے رکھناچا ہیئے بجا ئے چھپانے اور شرما نے کے؟ تاکہ مسئلہ دنیا کے سامنے پہنچے اور عمائدین اس کا تدارک کرسکیں۔ ورنہ دنیا کو کوئی بہت بڑا نقصان بھی پہنچ سکتا ہے اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے(آمین)

شائع کردہ از Uncategorized

نجانے یہ کس مکتبہ فکر کے لوگ ہیں؟ شمس جیلانی

میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جو لوگ“ حرمت یزید کانفرنس“ منعقد کرنیکے محرک بنے ان کا اس کے پیچھے سوائے اس کے اور کیا مقصد ہے ہوسکتاکہ ابھی جو کراچی میں تھوڑا بہت امن ہوا ہے اس کو سبو تاژ کرکے دوبارہ وہی شب و روز واپس لا ئے جا ئیں کہ جس کے سلسلہ میں لاکھوں مقدموں میں سے صرف ایک مقدمے کا فیصلہ چند یوم پہلے ہم نے پڑھا ہے؟جو آٹھ سال کے طویل عرصے میں عدلیہ کی بڑی کوششوں کے بعد کہیں جاکر صادر ہوپایا ہے جس میں دو سو چونسٹھ آدمی صرف اس جرم پر زندہ جلا دیئے گئے تھے۔ کہ وہاں بظاہر حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر چا لیس تک ایک ایسے جلاد کی حکومت تھی۔ جس کے حکم پر خود اس کے اپنے ہی لوگوں کو گولی ماردی جاتی تھی۔ یہاں تک تو خیر تھی! مگر اس پر طرہ یہ بھی تھا کہ اس کے چھوٹے سے چھوٹے چیلے کے حکم پر بھی کسی بڑے سے بڑے آدمی یا عالم کی جان لے لی جاتی تھی۔ اس کی بد ترین مثال یہ ہے کہ بلدیہ ٹاؤن میں ایک گارمنٹ فیکٹر ی کا درواز بند کرکے ان مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا جن کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ بیچا رے وہاں مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے وہاں آئے ہوئے تھے۔ اور فیکڑی کا مالک اس کے ایک کارندے کے مطالبے پر25کروڑ روپیہ بھتا نہیں دے سکا تھا؟جوکہ یزیدیت کی بد ترین مثا ل تھی کیونکہ اس وقت بھی کسی ظالم کاہاتھ پکڑنے والا وہاں کوئی نہیں تھا حالانکہ حضرت امام حسین علیہ السلام اپنی اور ساتھیوں کے بے مثال شہادتیں پیش کر کے مسلمانوں کوراستہ دکھا چکے تھے! ایسا ہی دور اس وقت بھی تھا جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزیدیت کو للکارا۔جس سے پہلے بنو امیہ مدینے منورہ کی گلیوں میں جس کو حضور ﷺنے حرم قراردیا تھا وہاں قتل ِ عام کر چکے تھے اور دوبارہ کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ صرف چند اشرفیوں کے عیوض یا جان جانے کے خوف سے بہت سے ابن الوقت بن چکے تھے جو ان کا ساتھ د ے رہے تھے۔“حرمت یزید کانفرنس“ کراچی میں اس وقت ہونا اور اس ملک میں ہونا جو کہ اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسوقت ہونا جبکہ پہلے ہی بہت سے مسائلسے وہ دوچار ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ یہ بھی اسی گروہ میں سے کوئی ایک ہے جس کی جب اشرفیوں سے وفاداریا ں خریدی گئیں تھیں،تو شایداب ریال سے خریدی جا رہی ہیں اور بے روزگاروں کو ان کا اجڑا کاروبار پھر مل سے گیا ہے جو درمیان میں بند ہوگیا تھا۔کیونکہ ان دونوں خاندانو ں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے۔اسلام اور پیغمبر ِ اسلامﷺ سے دشمنی؟
میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ کس مکتبِ فکر لوگ ہیں جو“ یزید کی حرمت“کے قائل ہیں اور اس کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسروں کے خلاف؟ جس نے اپنے دور میں اہلِ بیت کی حرمت کوپامال کیا تھا۔ اور روز قیامت وہ حوض کوثر پرکیا منہ لیکر جا ئیں گے جہاں حضور ﷺ کے برابر خود امام حسین ا لسلام اور اہل ِ بیت تشریف فرما ہونگے؟ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ گنا ؤ تو سہی کہ یزید کی ان پر فضلیت کیسے ہے یہ ہی نہ کہ یزید بن معاویہ بن ابو سفیان بن امیہ۔جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا شجرہ دیکھئے کہ وہ خود امام اور جنت کے سرداران کے والد امیر المونین ؓاور شیر خدا ان کے نانا ﷺ سارے نبیوں ؑ کے امام ان کی والدہ حضور ﷺ کی صاحبزادی سید ۃ النساء اور انکے دادا تا حیات ہادیِ اسلام کی حفاظت میں سینہ سپر رہنے والے مربی۔اور وہ خود جن کے رتبے کے بارے میں لا تعداد احادیث موجودہیں مگر میں صرف یہاں ایک پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ ساری یہاں پیش کرنے کی راہ میں ان کی طو الت حائل ہے۔ حضورﷺ نے فرما یا کہ“ میں حسین ؑ سے اور حسین مجھ سے ہیں ان سے عداوت مجھ سے عداوت ہے اور مجھﷺ سے عداوت اللہ سے عداوت ہے۔“ان سے محبت مجھﷺ سے محبت ہے اور مجھﷺ سے محبت اللہ سے محبت ہے۔ جن کے لیئے سورہ شوریٰ کی آیت 23 یعنی آیت مودۃ نازل ہوئی جس کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی سنت ہی بدل دی اور سب نبیوں“ کوبشمول ِ حضور ﷺ پہلے ایک ہی حکم تھا کہ ًان سے فرمادیجئے کہ“ تم سے ہم کوئی معاوضہ نہیں مانگتے“مگر یہاں اس میں حضور ﷺ کو اس اضافت کاحکم ہوا کہ“ سوائے مودۃ کے “ انہوں نے مودۃ کیسی نبھا ئی وہ تاریخ میں پڑھ لیجئے۔ تمام اولیا ئے اللہ میں سے نوے فیصد حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں۔ کوئی شخص ان سے گزرے بغیر حضورﷺ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا؟ پھر انہیں یہ شرف بھی حاصل ہے جب حضورﷺ کے صاحبزادے کے انتقال پر دشمنوں نے کہنا شروع کیاکہ“ حضورﷺ ابتر ہوگئے“ اور وہ ﷺ دلبر داشتہ ہوئے تو تسلی کے لئے فورا ً جواب دیا کے کہ ابتر آپکے دشمن ہونگے آپ نہیں“ (سورہ 108 آیت3) نزول کے بعد حضور ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کو بیٹا کہنا شروع کیا پھر کبھی نواسہ فرماتے نہیں سنا۔ جس سے ثابت ہے۔ کہ اللہ سبحانہ کی سنت میں پھر ایک مرتبہ حضور ﷺ وجہ سے تبدیلی نظر آئی کہ نسل بیٹی سے چلی بجائے بیٹوں کے۔ اس کی وجہ پر غور کیا جا ئے تو ظاہر ہوتا ہے۔ کہ حضورﷺ کے بعد چونکہ کوئی نبی ؑ نہیں آنا تھا جبکہ حضورﷺ کی اکملیت کا تقاضہ یہ تھا اگر ان ﷺکا بیٹا ہو تو وہ نبی بھی ہو؟ اس کا حل اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ نکالا کہ حضور ﷺ کی نسل بیٹے کے بجا ئے بیٹی سے چلا ئی جا ئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضورﷺ کی اولادکہلانے والے تو شروع سے ہی بہت بڑی تعداد میں دنیا میں بھر میں موجود تھے اور ہیں۔ مگر تیر ہویں صدی ہجری تک ابن ِ یزید کہلانے والاکوئی بھی نہیں تھا یہ سب تیر ہویں صدی کے بعد کی پیدا وار ہیں۔ کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ان کی اولاد بھی خال خال سہی لیکن نظر تو آنے لگی ہے؟
سوال یہ ہے کہ یزید کیسے انؑ سے زیادہ معتبر بن گئے؟ کیا حضور ﷺ کے مبارک شانوں پر یزید سوار ہوتا تھا۔یا امام حسن،حسین علیہ السلام؟جہاں تک میری معلومات کاتعلق ہے یزید نے حضور ﷺ کی کبھی زیارت تک نہیں کی،پھر اس کی فضیلت وہ کہاں سے لائے ہیں جواس کی حرمت بچانے کے لئے نکلے ہیں آخر وہ کس دنیا کے لوگ ہیں۔ میں اپنا یہ سوال دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے رکھتا ہوں اور جواب ان ہی پر چھوڑتا ہوں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ لوگ اپنے غلط عقائد سے توبہ کر لیں؟ اور ہیروں کا مقابلہ پتھروں سے کرناچھوڑ دیں ورنہ وہاں جاکر پجتانا پڑے گا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی تو فیق عطا فرما ئے (آمین) سب سے بہترطریقہ یہ ہے کہ اپنے عقیدہ کو چھوڑیں نہیں اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑیں نہیں۔ کیونکہ تبلیغ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اس لئے پیغام توپہنچانا ضروری ہے۔ مگر کسی کے ساتھ زبر دستی کرنامنع ہے کیونکہ اسلام میں جبریہ کسی کو مسلمان کرنے کی گنجا ئش نہیں ہے اس لئیے کہ ہدایت اور توفیق دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کیا ہوگیا زمانے کو؟۔۔۔شمس جیلانی

جس نے بھی تھوڑا سا گزشتہ دور دیکھا ہے وہ یہ ایک بات کہتا ہوا ضرور سنائی دیگا کہ “ کیا ہوگیا زمانے کوکہ نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ مال نہ جان۔ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا“میں اب نوے سال کو چھو رہا ہوں جو کے انشا اللہ اگلے سال پورے کرلونگا۔ میرے دور کے لوگ تو آجکل ناپید ہیں اور اگر کہیں ہیں تو بھی اس دور کی داستان بیان کرنے کے قابل نہیں ہیں، جبکہ میرے اوپر اس کا کرمِ خاص ہے کہ میرا قلم چل رہا ہے۔اگر میں اس دور کی بات کروں جب کہ دنیا میں چرخے کے سوا کوئی مشین موجود نہ تھی ۔صرف چرخہ تھاجو سوت کاتنے کے کام آتا تھااور پورا لکڑی کا بنا ہوا ہوتا تھا۔ اب ہم الحمد للہ کمپیوٹر کے دور میں ہیں۔ میں اگر اس دورکہانیاں سنا نے لگ جا ؤ ں تو نئی نسل کہے گی کہ بڑے میاں جھوٹ کتنا بولتے ہیں؟صرف ایک مثال دے دیتا ہوں کہ اگر کسی کا بڑے سے بڑاجانور گم جا تاتو اس کے مالک کو لوگ تلاش کرکے اس کے گھر تک پہنچا دیتے تھے؟ آج کہیں مرغی گھر سے باہر چلی جائے تو محلے والے یا راہ گیر پکڑ کر لےجاتے ہیں؟ اس سے فرق آپ خود سمجھ لیجئے۔ وجہ میں بتاتا ہوں کہ یہ اتنا بڑا انقلاب کیسے بر پاہوگیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت لوگ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے بہت ڈرتے تھے۔ انسانیت نے اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری کہ پچھلی صدی سے خدا کا تصور دلوں سے کھرچ کھرچ کرنکالا اور نئی نسل برین واش شدہ تیار کرلی جیسے کہ آجکل ہر جنس ہائی بریڈ کی شکل میں ہے ۔ اس کے لئیے کمیونزم۔ سوشیل ازم، کیپٹل ازم اور سیکولر ازم سب یکساں ذمے دار ہیں۔ کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ معاشرہ سزا اور جزا کے تصور سے بے خوف ہوکر جوکہ حضرت آدم ؑ سے چلا آرہا تھا کیاظلم ڈھا ئے گا؟ اگر وہ یہ سوچ لیتے تو کبھی ایسی غلطی نہ کر تے اور نہ ہی اس حال کو پہنچتے؟ کیونکہ خوفِ خدا وہ خوف تھا جس سے معاشرہ تشکیل ہوکر اچھے برے کی تمیز سکھاتا تھا۔ جب اس کا خوف ہی ختم ہوگیا تو اب یہ پوزیشن ہے کہ قانون نافذ کرنے والے بیڈ روم کا احترام کرنے کی وجہ سے اس میں داخل نہیں ہوسکتے ہیں اور اکیلے میں نگرانی کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ اللہ کا تصور تھا جو برائیوں سے اکیلے میں بھی روکتا تھا۔ نتیجہ ہوا کہ جس کے ایک زمانے میں بڑے چرچے تھے سب سے پہلے وہی نظام یعنی کمیونزم ناکام ہوا۔ اور دوسرے بھی انشا ء اللہ جلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک صدی اور انتظار کر لیجئے۔ کیونکہ اس کاایک عام دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ کچھ رسمیں آج تک چلی آرہی ہیں جیسے کہ اس کی رضا کے لیئے نمازیں پڑھنا اور روزے رکھنا اپنے اوپر حلال چیزوں کو حرام کرلینا۔ مگر ان سے جو نتائج حاصل ہونا چاہیئے تھے وہ کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں؟ مثلاً نماز کے بارے میں قرآن میں لکھا ہے کہ وہ تمام سماجی برائیوں سے دور رکھتی ہے۔ روزہ صبر سکھاتا ہے۔آج نہ نمازیں برائیوں سے دور رکھتی ہیں، نہ روزے سے صبر پیدا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حرم شریف میں بھی لوگ آستین چڑھا کر آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں۔ جس کی حدود میں تشریف فرما ہو کر حضور ﷺنے پوچھا تھا کہ یہ کونسا دن ہے،یہ کونسی جگہ ہے سب نے فرمایا کہ اللہ اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔ تب حضورﷺ نے فرمایا کہ “ یہ دن جس طرح محترم ہے۔ جیسا یہ مقام ہے جہاں سب کچھ حرام ہے۔ اسی طرح تمہارے اوپر تمارے بھا ئی کی جان، مال اورعزت سب حرام ہیں۔اورمیں تم میں دو چیزیں کمزور چھوڑے جارہا ہوں ایک تماری خواتین اور دوسرے غلام ان کا خیال رکھنا“ ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے۔ کہ یہ ہی دونوں سب سے زیادہ ظلم کا نشان بن رہے ہیں۔ جواب پھر وہی ہے کہ مسلم اکثریت کے دلوں میں بھی خوف خدا نہیں رہا جبکہ معاشرے میں کوئی کسی کو ٹوکنے والا نہی رہا۔ عبادات رسمی ہیں عبادتیں دل سے نہیں ہو رہی ہیں اگرہوتیں تو مسلمانوں کے کرتوت یہ نہ ہوتے، طرزعمل ایسا نہ ہوتا۔ یہ ہی بات اپنے ایک قول میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمائی ہے کہ“ ایمان کے بغیرعمل کچھ نہیں ہے اور عمل کے بغیر ایمان کچھ نہیں ہے“ جبکہ ہم جس صورت ِ حال سے اس وقت دوچار ہیں وہ اس کا الٹ ہے۔ جن کےکرنے کی تاکید سورہ الانعام کی آیات نمبر۔152 میں ہے وہاں پڑھ لیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ کہ “یتیموں کی پرورش اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کرو، ان کے مال جب وہ بلوغیت کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے سپرد کردو۔ تولو توپورا تولو، بولو تو ہمیشہ انصاف کا پاس کرو چاہیں وہ کسی قرابتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ اور اللہ سے جو عہد کیا ہے وہ پورا کرو یہ وہ باتیں ہیں جن کا حکم اللہ تمہیں دے رہا ہے۔ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور یہ کہ میری سیدھی راہ یہ ہی ہے۔ دیکھو کہں تم دوسروں کی راہ پر نہ چل پڑنا ورنہ وہ تمہیں گمراہ کردینگے۔ تمہیں جناب ِباری تعالیٰ یہ تاکیدی حکم دے رہے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ“۔آپ پورا قرآن پڑھ جا ئیے بات ہمیشہ ختم ہوتی ہے تقوے پر اگر کسی عمل سے تقویٰ حاصل نہیں ہورہا ہے؟ تو عمل میں تو خامی ہو نہیںسکتی کیونکہ وہ اللہ کا فرمان ہے؟ البتہ عمل کرنے والےمیں کوئی کمی ہے جبھی وہ مقصد حاصل نہیں ہورہاجو ہر مسلمان کی منزل ہے۔ اس کا حل وہ نہیں ہے جو کہ محترم وزیر اعظمِ پاکستان تجویز فرما رہے ہیں۔ کیونکہ صرف سخت سزائیں بھی اس کا حل نہیں ہیں اس لیئے کہ پہلے ہی سے وہ اسلام میں موجود ہیں اور وہ بھی سرِ عام شادی شدہ زانی کو سب کے سامنے پتھر مارنا جب تک کے وہ مر نہ جا ئے۔ اور غیر شادی کو بھی سرِ عام سو ١٠٠ کوڑے مارنا ہیں اور سزا دیتے ہوئے رعایت نہیں کرنا ہے۔ چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ دانا اور بینا ہے لہذا یہ بات اس کے علم ہے کہ غیر شادی شدہ سے جوانی میں غلطی کا امکان ہے۔ لہذا اس کی سزا تھوڑی ہلکی رکھی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں حدود آرڈیننس کی شکل میں یہ سزا تو موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا؟ کیوں نہیں ہوتا؟ اس لیئے کہ ہمارے یہاں ووٹ سے لیکر اور سب کو عزت دینے کا رواج ہے نعرے آپ نےبھی سنے ہونگے؟ مگر دین کو عزت دینے کا رواج نہیں ہے، جو اسلام کی اَ ساس ہے۔ لہذا ہم جب وہاں تھے تو حدود آرڈیننس کو پولیس صرف ملزموں کو بلیک میل کرنے کے لیئے استعمال کرتی تھی۔ اگر کوئی اس قسم کے مقدمے میں پھنس جا تا تو وہ ایف آئی آر کاٹنے سے پہلے یہ پوچھتی تھی کہ اگر اتنے پیسے دو تو ہم بر ٹش قانون کے مطابق ایف آئی آر کاٹیں، ورنہ حدود آرڈیننس کے تحت کا ٹیں گے سنا ہے کہ اس سے ان کی کچھ آمدنی بڑھ جاتی تھی؟ تمام مسائل کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اولیت دینے کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ اسے دوبارہ رائج کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کاخوف بحال ہوجا ئے گا۔ تو تمام مسائل خود بخود حل ہو جا ئیں گے اس لیئے کہ اسکا قانون لاگو ہوگا اور سب اسےپڑھنے کی کوشش بھی کریں گے کہ اس میں کیا لکھا ہے اور دنیاوی زندگی میں حضورﷺ کا طریقہ کار کیا تھا؟ لہذا جو باپ بن چکے ہیں وہ اپنے باپ کی عزت کریں گے تو بیٹے ان کی عزت کریں گے۔کیونکہ قرآن میں اللہ اور رسول ﷺکی عزت کے بعد والدین کی عزت کا حکم ہے۔ اولاد کو کچھ پڑھانے اور سمجھا نے کی ضرورت نہیں ہوگی؟ کیونکہ بچے ہمیشہ ما ں باپ کی نقل کرتے ہیں۔ پھر وہ سب کے حقوق جان جا ئیں گے۔ اور اس پر عمل کرنے لگیں گے۔ تمام مسا ئل کا حل یہ ہی ہے کہ دلوں میں خوفِ خدا واپس لا یا جا ئے۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ اور یہ کام ایک دن میں یا پانچ سالوں میں ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ایک مدت درکار ہوگی۔ اللہ تعالیٰ وہاں کے حکمرانو ں اور عوام دونوں کو عقل اور توفیق عطا فرما ئے۔ (آمین) تاکہ یہ روز روز آنے والے عذاب بھی ٹل جا ئیں اور مصائب بھی ختم ہوں۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

عمران خان کو مدینہ جیسی ریاست کے سلسلہ میں مشورہ۔۔۔شمس جیلانی

انہیں مشورہ دینا ہمار ے لیئے کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے انہیں کالمو ں میں دئیے ہوئے وہ مشورے ہمارے قارئین کو ابھی تک یاد ہونگے جو ہم انہیں ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے دیتے رہیں۔ اورجو ہماری ایک مطبوعہ کتاب میں ًشمس کے ایک سو ایک کالم ًمیں بھی موجود ہیں۔
بہت عرصے سے پاکستان کی حزب اختلاف کے سامنے ایک ہی مسئلہ مسلسل چلا آرہا ہے جوکہ ان کے ایجنڈے سے ہٹتا ہی نہیں ہے کہ عمران خان نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا وہ وعدہ پورا نہیں کیااور وہ بھی وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں کبھی کوئی ایساوعدہ پورا نہیں کیاجس میں انہیں کمیشن ملنے کے امید نہ ہو؟ اسی لئے انہوں نے اپنے معیار کے مطابق صرف بڑے پروجیکٹ بنا ئے جیسے کہ موٹر وے وغیرہ۔ یہاں تک تو خیر ہے کہ عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم نے وعدے پورے نہیں کیئے تو تم نے بھی نہیں کیئے لہذا معاملہ برابر ہے؟ مگر انہوں نے ایک کام ایسا کیا ہے جس کا انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور وہ ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ کہ“ میں پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا ؤنگا“ جس کی طرف ان دو سالوں میں وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکے؟مانا کے اس سلسلہ میں بہت سی دیدہ اور نا دیدہ رکاوٹیں حائل ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہرآنے والے نے اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ تو کیا مگر اسلامی نظام وہ ملک میں تو کیا اسلام آباد میں بھی نافذ نہیں کرسکا۔ اسی لئے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ“ بولنے سے پہلے تولو پھر بولو!“ قر آن کہتا ہے کہ“ مسلمانو ں! تم وہ بات کہتے کیوں ہو، جو کرتے نہیں ہو اور یہ بات اللہ کو سخت نا پسند ہے ً“ یہ اور بات ہے اورزمینی حقائق یہ ہیں کہ آجکل اکثر مسلمانوں کو جو بات نہ کرنا ہو تو اس پر انشا ء اللہ کہہ دیتے ہیں؟ شاید ان کے خیال میں ایسا کرنے سے کچھ بچت ہوجاتی ہو، جو ہمارے علم میں نہیں ہے؟ لہذا اس پر تبصرہ بھی نہیں کر سکتے۔ مگر عمران خان نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہو ئے یہ احتیاط بھی نہیں برتی، اس لیئے وہاں بھی بچت کی امیدکم ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو؟ ہمارا خیال یہ ہے کہ انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کرنا چاہیئے اور اپنی سی پوری کوشش کرنا چا ہیئے تا کے وہاں ان کی بچت ہوجا ئے اور وہ کہہ سکیں کہ مالک تو توجانتا ہے کہ میں نے اپنی سی پوری کوشش کی مگر میں کامیاب اس لیئے نہیں ہوسکا کہ ہر جگہ معافیہ میر ے آ ڑے آئی میں اکیلا بندہ کس کس سے لڑتا؟ جب بھی میں نے کوشش کی اسی صورت ِحال سے واسطہ پڑا کہ ع جن پہ تکیہ تھاوہی پتے ہوا دینے لگے۔ صرف یہ ہی نہیں ہوا بلکہ اندرونی خبریں تک جو میرے دست وبازو تھے وہ معافیہ کو پہنچا نے لگے۔ رہے عوام وہ بھی اسلام آباد میں پلاٹ تو سب چاہتے ہیں۔ کیونکہ بہت مہنگے ہیں اور وہاں پلاٹ ملتے ہی آدمی زمرہ امر اء میں ضرور شامل ہوجاتا ہے چاہیں اور کچھ ہو یانہ ہو؟ مگر عوام بھی اسلام آباد میں آباد ہونے کو تو سب تیار ہیں لیکن اسلامی نظام وہ بھی نہیں چاہتے ہیں۔ ان کا تو عجیب عالم ہے کہ وہ تجھے تو مانتے ہیں مگر تیرے احکا مات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ یہاں ان کے مفادات تیرے دین سے ٹکراتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے دور اقتدار کے گزشتہ دو سال میں کچھ کیا ہوتا تو اس صورت میں عمران خان کی تمام کو ششیں پروردگارِ عا لم کے ذاتی علم میں ہوتیں! پھر توکچھ معافی کی امید تھی اب وہ بھی نہیں ہے۔ کہ موصوف باطن میں یا ظاہر میں کہیں بھی اس سلسلہ میں کو ششیں کرتے ماضی میں بھی کہیں نظر نہیں آئے۔ اس لیئے میرے خیال میں اس کا حل ایک ہی ہے کہ ماضی کے بجا ئے حال اور مستقبل سے کام لیا جائے تاکہ وہاں کا بھی کچھ سامان ہوسکے؟ چونکہ پاکستان میں اس سلسلہ میں بڑے پیمانے پر تو کچھ کرنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس لئے پورے ملک کو چشم زدن میں مدینہ منورہ جیسی ریا ست بنانا تو نا مکن ہے؟ البتہ اسے پہلے چھوٹے پیمانے پر شروع کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہی۔ایک“ اسلامک ماڈل ولیج“ بلا تاخیر بنادیا جائے اور اس کا سنگِ بنیاد اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ رکھد یں اور باعمل مسلمانوں کو پورے ملک سے تلاش کرکے وہاں لاکر آباد کردیں۔ مجھے یقین ہے اتنے تو مل ہی جا ئیں گے کہ ایک گاؤں بس جا ئے؟ اور ان کی اپنی مقامی حکومت بنادیں اور اس طرح اسلامی نظام قائم کردیں۔ یہ مجھے علم تو نہیں ہے کہ وہاں اب جگہ ہے یا نہیں ہے جہاں آپ نے چند روز پہلے ایک مندر کا سنگ ِ بنیاد رکھا ہے تھا؟ اگر ہو تو اسی کے برابر میں جگہ بہترر ہے گی۔ چونکہ اس کی وجہ سے چہل پہل بھی رہے گی اور وہاں جو یاتری آیا کریں گے اسلامی نظام حیات دیکھ کر وہ بھی متاثر ہو نگے؟ اور آپ دنیا کو دکھا سکیں گے کہ اسلامی رواداری یہ ہے اور مسلمان ایسے ہوتے ہیں اور اسلامی ریاست اس طرح چلتی ہے۔ اس پر یہ عمل سونے پر سہا گے کا کام دیگا کہ آپ خود بھی اس میں چھوٹی سی رہائش گاہ بنا لیں اور جس طرح سے خلفا ئے راشدین رہتے تھے، ویسے ہی آپ بھی وہاں جا کر رہنے لگیں اگر روزانہ پنجگانہ نماز کی امامت بھی فرما ئیں اور وہیں آنے والے وفو کو بھی شرف بار یابی بخشیں تواور بھی اچھا ہو گا؟ اگر یہاں تک نہیں جا سکتے ہوں کہ پورا اسوہ حسنہ ﷺ اپنا لیں تو، جتنا بھی عمل کر سکتے ہوں وہ بہتر ہے۔ اگر ایسا کرسکیں تو امید ہے کہ وہاں بھی آپ کی بچت کا سامان ہوجا ئے گا۔ دوسرے یہاں بھی اس سے اسلام کو بڑا فروغ حاصل گا۔ اور یہ چھوٹا ساماڈل ولیج تبلیغ اسلام کا بھی ذریعہ بنے گا۔ بلکے وہاں سیا حوں کے لئے ایک ہوسٹل بنا دیا جا ئے کہ وہاں دنیا بھر سے سیاح آکر مسلم معاشرے کو قریب سے دیکھیں اورچاہیں تو اسلام پر تحقیقاتی کام بھی کریں۔پھر یہ مجبوری بھی جا تی رہے گی جو ابھی تک لا حق تھی۔ کہ لوگ کہتے ہیں ہمیں یہ دکھاؤ تو سہی کہ اسلام نافذ کہاں ہے۔ اس طرح یہ ماڈل ولیج آپ کے بخشش کا سامان اور صدقہ جا ریہ بن جا ئے گااور تاریخ میں آپ کا نام جگمگاتا رہے گا۔ ہماری دعا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرما ئے اور آپ کے مشن کو کامیاب کرے۔ (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

گفتگو شمس جیلانی کے ساتھ ۔ریحان اسد

ویڈیو | Posted on by | ٹیگ شدہ ,