لوٹ پیچھےکی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔ازشمس جیلانی

ایک زمانہ تھا کہ چراغ سے چراغ جلا کر تا تھا۔ایک گھر کے چو لہے سے پورے گاؤں اور اس سے پہلے پورے شہر کے چو لہے جلا کر تے تھے ۔کیونکہ اس وقت سب مل جھل کر رہتے تھے، ایک کا بزرگ سب کا بزرگ تھا، ایک کا بیٹایا بیٹی سب کی بیٹی تھی۔ پھر دور بدلا اور دیکھتے ہی دیکھتے زمانہ بدل گیا۔خوف خدا کیا گیا کہ دنیا سے اجتمائی نظام ہی ختم ہو گیا ۔ ہر قسم کی ہوس اس قدر بڑھ گئی کہ نہ گھر محفوظ ہے، نہ جیب محفوظ ہے نہ زر محفوظ ہے نہ عزت محفوظ حتیٰ کہ درندوں کے ہاتھوں چھ سال کی بچیاں اور بچے بھی محفوظ نہیں۔ جبکہ اجتمائی نظام تھا تو ہر ایک، دوسرے پر نگراں تھا ۔ دروازے تو گھرو ںکے تھے مگر کواڑ اور کنڈی یا تالہ اکثر گھروں میں نہیں تھا زیادہ تردروازے پر ٹاٹ کے پر دے پڑے ہو تے ۔ یا کوئی گھر پر نہیں ہے تو گھاس پھوس کے گھر میں اسی کا ایک ٹھٹر لگا دیا اور بس۔ بھلا کس کی مجال تھی کہ وہ اس ٹاٹ کے پر دے کو اہل ِ خانہ کی اجازت کے بغیر پار کر جا ئے؟ چوری چکوری پورے علاقے میں سالوں سال نہیں ہو تی تھی۔ تھانیدار بیچارہ پریشان ہو تا تھا کہ روز نامچہ سادہ پڑا ہے میں کیا ایس پی کو منہ دکھا ونگا جب وہ سالانہ معائنہ پر آئے گا۔ تب وہ زمینداروں سے مدد مانگتا تھا کہ ہے کوئی تمہارا مخالف؟ اور وہ اپنے کسی مخالف کو پکڑ کر دیدیتے تھے کہ یہ رات کو گھومتا ملا تھا اور اس کے پاس سے ایک ہل کا پھالہ ملا ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ نقب لگانے کے لیءے نکلاتھا ،مگر گھر میں نقب لگانے سے پہلے پکڑا گیا۔اور صوبیدار صا حب اس کادفعہ ١١٠ کے تحت چالان کر دیتے۔ یعنی چوری بھی ہو تی تھی تو نقب زنی سے ،دروازے سے نہیں کیونکہ دروازے پر سارے محلے کی  نگاہیں لگی ہو تی تھیں کہ کون آیا اور کون گیا، لہذا چور کے گھرجانے کا جانے کا خطرہ تھا، تھانے بکتے نہیں تھے پتہ نہیں پھر بھی تھانہ دار بڑے رعب و داب اور ٹھاٹ سے کیسے رہتا تھا۔ ماچس کیا آئی کہ پورے معاشرے کو اس نے آگ لگا دی کیونکہ یہ ماچس جہاں نقب لگانے کے جگہ دکھاتی تھی وہیں نقب لگا کر اندر پہونچنے کے بعد چور کو چیزوں تک پہونچنے میں مدد کرتی تھی۔ اب آپ پو چھیں گے کہ اس وقت مکین کہاں ہو تے جب چور نقب لگا تا تھا۔ جواب یہ ہے کہ بجلی آئی نہیں تھی لہذا جب گرمیوں کے دن ہو تے تھے یہ سب آنگن میں چا ر پا یاں ڈال کر سو ئے ہو ئے ہوتے تھے۔ ماچس کی ایجاد نے سب سے پہلے تو یہ کام کیا کہ ہر ایک آگ لگانے اور آگ پھیلانے میں خود کفیل ہوگیا؟ اور اس کے نتیجہ میں پہلے تو چراغ سے چراغ جلنے اور چو لہے سے چو لہا جلانے کا رواج ختم ہوا؟  کیونکہ اس وقت تو آگ بڑی مشکل سے اور بڑی محنت سے دو پتھروں کوآپس میں ٹکرانے سے پیدا  ہوتی تھی، اور اس سے بھی پہلے ایک درخت تھا جس کی شاخوں کو رگڑنے سے آگ پیدا ہو تی تھی اس لیئے اس کی قدر بھی  بہت تھی۔  بس ایسا ہی فرق تھا جیسے کہ حلال ذرائع سے دولت مشکل سے جمع ہوتی ہے تو خرچ بھی بہت مشکل سے ہوتی ہے جبکہ حرام کی کماءی خرچ کرنے پر قطعی دل نہیں دکھتا؟ اس وجہ سے ہر ایک مجبور تھا کہ اپنے اور پڑوسیوں کے مفاد کے پیش نظر چولہے کی آگ کو بجھنے نہ دے کیونکہ وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیئے ضروری تھی۔ اگر کسی کہ یہاں اتفاق سے آگ بجھ جاتی تو وہ پڑوسی کے یہاں سے مانگ لاتا ۔ جبکہ دکانیں دروازے پر نہیں تھیں، اس لیئے چیزیں ایک دوسرے کے یہاں سے مانگنے میں کوئی عیب نہیں سمجھا جاتاتھا کہ آج اگر مجھے ضرورت پڑ گئی تو کل تمہیں پڑےگی۔ مگر ماچس کیا آئی کہ اب ہر ایک خود کفیل ہو گیا اور یہ کھیل بھی سب کے ہاتھ آگیا کہ جس لیڈر نے چاہا وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ماچس دکھا دی اور معاشرہ جلنے لگا۔ اسکے بعد بجلی آگئی تو اور بھی بالکل ایک دوسرے سے لا تعلق ہو گئے ! نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ ایک محل قمقموں سے جگمگا رہا ہے، پڑوسی کے بچے جو پہلے سڑک کی سرکاری لالٹین کے زیرِ سایہ پڑھا کرتے تھے اب ان قمقموں کی روشنی میں پڑھ رہے ہیں ۔ پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہا کہ جو روساءہو تے تھے وہ اہل ِ محلہ کا ہر طرح خیال رکھتے ،کیونکہ وہ خاندانی ہو تے تھے اور ان کے اجداد یہ انہیں سکھا کر جاتے تھے کہ اسلام نے پڑوسی کے حقوق کیا بتا ئے ہیں؟  پھر جنگ ِ عظیم دو ئم کے بعد رشوت آئی اور اس سے نو دو لتیئے بنے ، انہوں نے اپنی کالو نیا فوجی چھا ونیوں کے قریب بنالیں  کیونکہ لیں دین اور ٹھیکے ملنے میں آسانی رہتی تھی؟ پھرجیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا برا ئیاں بڑھتی گئیں۔اور نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ کوئی اب اپنے کسی پڑوسی کو نہیں جانتا کہ برابر میں کون رہتا ہے ؟ اس لیئے رہزن اوررہبر کی تمیز ہی اٹھ گئی۔  جبکہ آج کے دور میں بھی جو پرانے زمانے کو اور اس کے طریقوں کو اپنا تے ہیں ان کو پاگل سمجھاجاتاہے۔ مگر پھر بھی دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکہ میں  ایسے لوگ موجود ہیں کہ وہ حکومت سے کوئی جدید سہولیت حاصل نہیں کرتے اور اپنی بستیاں الگ برقرار رکھے ہو ئے ،ابھی  تک اسی پرانے زمانے میں رہ رہے ہیں جبکہ چراغ سے چراغ جلاکر تے تھے۔ لوگ انہیں دیکھنے دور دور سے آتے ہیں چونکہ وہ بھی دنیا کے سب سے بڑے جو ئے خانے کے قریب  ہیں لہذا سیاحوں کو ایک ٹکٹ میں دو مزے مل جاتے ہیں ۔     دور کیوں جائیں ہمارے پڑوس میں ایک خاتون رہتی ہیں جن کے گھر میں نہ بجلی ہے نہ پانی ہے ۔ وہ بھی بغیر میونسپلٹی سے کوئی سہولت لیئے  اپناگزارا کر رہی ہیں۔ مگر مکان پر ٹیکس  میونسپلٹی نہیں چھوڑتی ہے ؟اور یہاں پاکستان کی طرح معاف کرانے یانا دہندہ بننے کی اجازت بھی عام نہیں ہے اس کے  لیئےبوڑھوں کو میونسپلٹی نے یہ اجازت دے رکھی ہے کہ وہ انہیں اطلاع کردیں اور مزے سے اس میں رہتے رہیں ان کے انتقال کے بعد وہ مع سود کے اپنی رقم جوبنے گی وہ مکان بیچ کر وصول کر لیں گے ،اور اگر پھر بھی کچھ بچا توان کی وصیت کے مطابق ورثا کو دیدینگے؟  ان کے علاوہ ایک اور قوم بھی یہاں رہتی ہے جن کو ریڈ انڈین کہتے ہیں جو کہ اس  بر اعظم کے اصل با شندے ہیں۔ کیونکہ واسکوڈی گاما ڈھونڈنے تو نکلا تھا اصل میں ہندوستان ،مگر پہونچ گیا امریکہ، مگر وہ اسے عرصہ دراز تک ہندوستان ہی سمجھتا رہا؟ چونکہ اصل باشندے یہاں کےٹھنڈ ےموسم کی وجہ سے انڈین کی طرح کالے یا پیلے نہیں تھے ،لہذا انہوں نے انہیں ریڈ انڈین کانام دیدیا ۔ پہلے ان کو غلام بنا لیا زنجیروں میں باندھ کر کام لینے لگے، جتنے مارسکے مارے پھر بھی جب بچ گئے تو مجبورا ً ان کو ان کے  ہی علاقوں میں سے کچھ علاقے دیدئے اور ان کا وہی پرانا نظام بھی تسلیم کر لیا ، لہذا ہر قبیلہ کا ایک سردار ہے اور وہی اب تک ان کے تمام سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ حکومت فنڈز اس کو دیتی ہے وہ اپنے علاقہ کے انتظام کے خود ذمہ دار ہیں ۔ ان کے جس طرح ہر ایک کے قبیلے کے بینڈ مختلف ہیں اور وہ انہیں کے نام سے پکارے جاتے ہیں اسی طرح ان کے رواج بھی مختلف ہیں۔ ان کو مہذب بنا نے کی کوششیں جاری ہیں ہنوز پوری طرح کامیابی نہیں ہوئی۔ جہاں ٹیچر پہونچ سکتے ہیں وہاں مقیم ٹیچرمتعین ہیں۔ جہاں نہیں پہونچ سکتے ہیں وہاں ہفتہ میں دوبار ٹیچر بذریعہ ہوا ئی جہاز جاتے ہیں اور وہ ان کوسبق پڑھا کر اور ہوم ورک دیکر آتے ہیں ۔ مگر ابھی بہت سے علاقہ ہیں  جہاں بجلی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ فرج وغیرہ استعمال نہیں کرتے؟ وہ فرج رکھ کر بل کیوں دیں وہ جانور شکار کر کے رسیوں پر لٹکا دیتے ہیں ۔ جبکہ درجہ حرارت وہاں ہمیشہ نقطہ انجماد سے نیچے رہتا ہے لہذا کچھ بھی گلتاسڑتا نہیں ہے۔اگر مچھلیاں کھانے کادل چاہا تو سمندر میں اور جھیل میں جو جمے ہو ئے ہوتے ہیں وہاں سے کھود کر نکال لاتے ہیں ۔ ہم نے اپنے ایک ایسے ہی ٹیچر دوست سے پوچھا کہ وہ کیسے لوگ ہیں اخلاق کے اعتبار سے؟ جو کہ وہاں بطور ٹیچر مقیم تھے۔ تو انہوں نے بتایاکہ بہت ہی اچھے  دوست اور بہت ہی بے تکلف ؟ بس ایک مشکل ہے کہ جن دوستوں کے پاس فرج ہیں وہ ان سے پریشان رہتے ہیں کہ ہر چیز وہ بلا پوچھے نکال کر لے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کے معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جا تا ؟جیسے ہمارے معاشر ےمیں بھی اسلام نے کچھ قریبی رشتہ داروں اور بہت ہی قریبوں دوستوں کواس کی اجازت دی ہو ئی ۔ اس کے علاوہ ہمیں بعد میں ذاتی تجربہ بھی ہوا کہ جب پہلے دفعہ رچمنڈ ہیلتھ بورڈ بنا تو ہم پلاننگ کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے ،تو قدیم باشندوں میں سے ایک خاتون ہماری ہم منصب بنیں ، وہ بہت ہی ہمدرد اور نفیس خاتون تھیں جبکہ ان کا بینڈ کبھی کا ختم ہو چکاتھا اور وہ اس قبیلے کی واحد رکن رہ گئیں تھیں۔  مگر اب ایک امید کی کرن پیداہو ئی ہے کہ دنیا پھر پیچھے کی طرف لوٹ رہی ہے؟  خبر ہے کہ رومانیہ کے جدید ترین شہراساسی نے پیچھے کی طرف لوٹنے میں پہل کی ہے یعنی بجا ئے راکٹ فضا میں بھیجنے کہ اس کے باشندے ثقافتی شو کے لیئے جمع ہو ئے اور انہوں نے ١٢٧٤٠کاغذی لالٹینیں آسمان میں چھوڑ کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیاہے اور جس میں ورلڈ گنیز بک کا نمائندہ بھی موجود تھا اور اس نے اپنی کتاب میں اسے ورلڈ چیمپئین مان کر درج کرلیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے ہندوستاں چیمپین تھا جس نے صرف نو سو لالٹینیں فضا میں چھوڑ کر چمپیئن شپ حاصل کی ہوئی تھی۔ چونکہ ہر معاملہ میں ہم بھارت کی مثال دیتے ہیں جیسے کہ ابھی پا رلیمان میں دھینگا مشتی ہوئی، جس کی ویڈیو بھی بناکر میڈیا نے دکھا دئی، پہلے تو حزب ِ اختلاف کے لیڈر نے یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ ایسا ہوا ہے، جب کیا تو یہاں سے بات شروع کی کہ ہندوستان میں بھی ایسا ہوتا ہے؟  اس کے بعد انہوں نےدنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوں کے نام بھی گنا ئے کہ وہاں بھی ایسا ہوتا ہے۔ اگر یہاں دھول دھپا ہو گیا تو کیا ہوا یہ تو جمہوریت میں سب جگہ ہو تا ہے؟ شکر ہے کہ اس مرتبہ حکمراں پارٹی نے اپنی عادت کے مطابق یہ نہیں کہا کہ یہ ہی تو جمہوریت کا حسن ہے؟ مگر ہمیں وہاں کے نئے وزیرِ روشنی کو یہ مشورہ دینے کے لیئے موقعہ مل گیاجو ابھی پہلے کے دو وزیروں کی ناکامی کے بعد تازے تا زے وزیر بنے ہیں کہ وہ “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام “ کے طرح ایک نیا پروگرام شروع کریں جس کانام  “بینظیر روشنی پروگرام  “ہو اور اس کے تحت پوری آبادی کو اٹھارہ کروڑ لالٹینیں مفت فراہم کر یں اس طرح دو فائدے ہونگے کہ جب تک بجلی کے نئے یونٹ لگیں اس وقت تک کے لیئے متبادل نظام وجود میں آجا ئے گا۔ دوسرے ہندوستان کو شکست دیکر چمپیئن شپ پاکستان کے پاس آجا ئیگی، الیکشن قریب ہیں پھر اس کامیا بی پر جشن منانا شروع کر دیں چونکہ ہر گھر“ بقعہ نور “ بنا ہوا ہو گا۔ لہذا اگلے پانچ سال کے لیئے ان کی پارٹی سب کو شکست دیکر پھر سے آجا ئے گی۔ مگر کاغذ کی لالٹینیں فضا میں اڑانے سے پرہیز کریں کیونکہ ہم المونیم کے ہوائی جہاز نہیں اڑا پائے تو کاغذ کی لا لٹینیں کیا اڑا پائیں گے اگر وہ بھی جہازوں کی طرح واپس آبادی پہ آگریں تو ۔۔۔۔۔؟  مگر ان کی طرح کاغذ کی لالٹینیں دینےاور ہوا میں اڑانے کی کوشش نہ کریں ؟کیونکہ ہم ایلومونیم کے جہاز نہیں اڑا سکے تو کاغذ کی لا لٹینیں کیا اڑا ءیں گے۔ پہلے ہی چاروں طرف آگ لگی ہو ءی ہے وہ بھی واپس آکر ہواءی جہازوں کی طرح آبادی پرگریں تو؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.