نہلے پر دہلہ یا سیر کو سوا سیرا۔۔۔از شمس جیلانی

یہ اردو کے دونوں محاورے ہیں  جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں! لیجئے خیر سے وزیراعظم جناب جیلانی گھر گئے اس لیئے کہ انہوں نے حلف تو اٹھایا تھا آئین کی وفاداری کا مگر عملی طور پر انہوں نے وفاداری نبھائی شاہ سے؟ کہتے یہ رہے کہ میں دستور کی حفاظت کر رہاہوں۔ اس لیئے کہ اس میں ایک شق ہے جس کہ تحت شاہ کو چھوٹ حاصل ہے۔ اسی دستور کو وہ آگر مطلب کے قوانین کے علاوہ ورق بہ ورق پڑھتے تو وہ یہ بھی پڑھتے کہ شاہوں کے شاہ کابھی نام اسی کے سرورق پرلکھا ہوا ہے صرف نام ہی نہیں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔ کہ “ ملک کے آئین پراس کے آئین کو بالا دستی حاصل ہے لہذا اس کے قانون اور اسکے نبی (ص) کی سنت کو دستو ر پر بھی برتری حاصل ہے جیسے کہ مسلمان کی زندگی اور جان و مال پر “ اسی میں یہ  بھی لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی قانون  سےبالا تر نہیں ہے؟ جو قوم لکھ کر بھول گئی تھی ابھی سپریم کورٹ نے حوالے دیکر کچھ یاد دلایا ہے؟ کاش وہ پورا دستور خود سبقت لیکر اسلامی کرادے ؟  ہوا یہ کہ شاہ کی وفاداری میں وزیر اعظم نے اس کا خیال نہیں کیا! اور اس کی سنت یہ ہے کہ وہ پہلے تو ڈھیل دیتا ہے پھر سزا۔ان کی جو صاحب جگہ لے رہے تھے۔ان سے شاید ابھی وہ شاہوں کا شاہ اتنا ناراض نہیں تھا لہذا وہ شہید ہونے سے بال، بال بچ گئے جبکہ ان کے نام کا بطور وزیر اعظم اعلان بھی کر دیا گیا تھا اور تھوڑی دیر کے لیئے انہیں وی وی پی آئی تحفظ بھی فراہم کردیا گیا تھا۔ مگر وہ ایک مقدمہ میں نارکوٹک ایجنسی کو مطلوب تھے ان کے درایں اثنا نا قابل وارنٹِ گرفتاری جا ری ہو گئے۔ ان کے لیئے مسئلہ یہ ہو گیا کہ وہ کدھر جا ئیں ۔ ادھر شاہ نے بھی کچی گو لیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں، انہوں نے پہلے ہی متبادل امید وار کے طور پر نہلے پر دہلا رکھا ہوا تھا۔ وہ صاحب بھی ان سے بڑے گھپلے میں عدالت کو مطلوب ہیں؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کل تک امید وار رہتے ہیں اور دونوں مقامات میں سے کس کو منتخب کر تے ہیں یا کوئی تیسرا وزیر اعظم بنتا ہے میں بھی انتظار کر رہا ہوں آپ بھی کیجئے؟ کیونکہ وہاں تو وہ مثل صادق آتی ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں؟ جبکہ اسی دستور میں کسی نے یہ بھی ایک شق رکھی ہوئی ہے  کہ اراکین اسمبلی کو امین بھی ہو نا چا ہیئے اور جو  کہ امین ہو گا وہ شاہوں کے شاہ کا وفادار ہونے کی وجہ سے وہ شاہ کو یہ یقین نہیں دلا سکتا وہ بقول ان کے بی بی کی قبر کا ٹرائیل نہیں ہونے دے گا؟ اس سے پہلے ایک صاحب کا انجام دیکھ کر ہم ان ہی صفحات میں لکھ چکے تھے کہ شاہ سے زیادہ اس کے وفادار بننے والوں کا تاریخ میں انجام کیا لکھا ہے اور اگر ان سب کے  آخری الفاظ بھی پڑھ جا ئیں تو اور بھی سبق حا صل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیاوی دربار کے بادشاہوں کے یہاں یہ روش عام ہے کہ جب بادشاہ پھنستا ہے تو بڑے سے بڑا مہرا پٹواکر اپنی جان بچا لیتا ہے جبکہ پی پی پی نے یہ روایت بھی اپنا ئی ہوئی ہے کہ وہ اس کو شہیدوں میں شامل کر کے اس کی قبر بھی کیش کرا لیتے ہیں ؟  تازہ خبر یہ ہے کہ ہمارا یہ کالم بے یقینی کی حالت میں آپ تک پہونچتا؟ نئے  وز یر اعظم جناب اشرف چودھری صاحب کثرت ِ رائے سے وزیر ِاعظم منتخب ہو گئے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کیس کی سماعت کی تا ریخ  بھی دیدی اب دیکھئے اور انتظار کیجئے کہ آگے کیا ہو تا ہے؟ مگر بادشاہوں کے بادشاہوں کی سنت مختلف ہے  اس کے فیصلے ذرا دیر میں ہوتے ہیں مگر اٹل ،اور وہ یہ بھی ضمانت قر آن میں دیتاہے کہ میں اپنی سنت تبدیل نہیں کر تا۔ اور مخبر ِ صادق (ص) کے بقول ہر مومن کا آج کل سے بہتر ہو تا ہے۔ مگر یہاں ایک شرط بہت سی جگہ بیان ہو ئی ہے کہ بندے کاہرفعل خالص اسی کے لیئے ہو اور وہ اپنے نیک اعمال پربھی مغرور ہو کر دوسروں کو حقیر نہ سمجھنے لگے۔ جبکہ یہ اور اس کے علاوہ سب کچھ اس کے ذاتی علم میں ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں پر ہر دم نگراں رہتا ہے اور کوئی انکا کچھ نہیں بگا ڑسکتا چاہیں وہ فرعون ِ وقت ہی کیوں نہ ہو؟ اس سے آگے ہم اپنا پرا نا مضمون پیش کر رہے ہیں۔ ع  شاید کہ اتر جائے کسی دل میں میری بات  ً ً اس سے پہلے ہم پڑھتے آئے ہیں کہ تاریخ نے ان کے ساتھ سلوک کیا جو حق کو جھٹلانے پر کمر بستہ ہو ئےاور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے؟ اگر میں ان کی صرف فہرست ہی لکھنے بیٹھ جا ؤں تو بھی یہ کالم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہذا میں بات ان سے شروع کر تا ہوں کہ جنہوں نے اسلامی تا ریخ میں جگہ پا ئی اور چو دہ سو سال سے ان کے نام بطور مثال آتے ہیں مثلا ً ابو جہل کا نام، ابو لہب کا نام حق کو جھٹلانے کے با عث ،اورآگے بڑھیں تو مسلیمہ کذاب کا نام پہلا جھوٹا دعویدار ِ نبوت ہو نے کے با عث، اور آگے دیکھیں تو جائز حکومت کے خلاف سازشیں، بغاوت وغیرہ کرنے کے لیئے مروان بن الحکم بن امیہ اور اس کے بہت سے ساتھی مشہور ہیں یہ بھی ایک طویل فہرست ہے۔اور آگے جا ئیے تو نواسہ رسول حضرت امام حسین  (ع)کی شہا دت کے با عث  بہت سےلوگ، جن میں مشہور نام ابن ِ زیاد ، شمر ذوالجوشن اور عمر بن سعد کا ہے۔اور آگے بڑھیں تو حجاج بن یوسف کا نام آتا ہے۔ اس کے بعدبرمکی خاندان مشہور ہے۔  پھرتا ریخ ہند و پاک میں داخل ہو جا ئیں تو میر جعفر اور صا دق اپنے کر دار کے لیئے مشہور ہیں مگر تا ریخ نے انہیں کیا جگہ دی اور خود ان کے با دشا ہوں نے انہیں کیا انعام دیا؟ وہی ذلت اور رسوائی یعنی سب کا انجام عبرت ناک ہے اور ان کے کسی فعل کی بھی ذمہ داری شا ہان ِ وقت نے قبول نہیں کی۔حالانکہ جو کچھ بھی انہوں نے کیا انہیں کی رضا مندی سے اور انہیں کی خوشنودی کے لیئے کیا۔ لیکن اکثر ان کے مالک یہ کہہ صاف مکر گئے کہ ہم اگر خود میدان ِ جنگ میں ہو تے تو ایسا نہ ہو تا۔ جبکہ ان کے ان گھناؤ نے کردار وںکی وجہ سے تاریخ میں برائی ان کے نام لکھی گئی۔ ہمیں یہ لکھنے کی ضرورت ایک خبردیکھ کر پیش آئی کہ ایک صا حب جن کے لیئے کبھی خصوصی طیارہ مہیا کیا جا تا تھا کہ وہ بریف کیس میں رقم لیکر جا ئیں اور وکلاءکو عدلیہ کی حمایت سے منحرف کرائیں۔ جب با دشاہ کی نظر بدلی تو اسی کے لوگ ان کے نام کی تختی اتار تے پھررہے تھے اور اسکا داخلہ وکلاء بار میں بند کر تے پھر رہے ہیں۔ اس سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر انسان حق کے ساتھ رہے تو وقتی طور پر مشکلات آسکتی ہیں ،مگر اس کا نام تا ریخ میں ہمیشہ جگمگا تا رہتا ہے۔اور جو بھٹک جا ئے اسے اوپر دی گئی فہرست کے ناموں کی طرح برے ناموں سے ہمیشہ یاد کیا جا تا ہے، اس لیئے کہ تاریخ لاکھ تبدیل ہو جا ئے، کردی جا ئے یا کرادی جا ئے ،سچ کہنے اور لکھنے والے ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور مٹانے کے باوجود حق تاریخ میں چھپا رہ جا تا ہے ۔ انہیں کا نام ان کے عظیم کا رناموں کی وجہ سے زندہ رہتا ہے جنہوں نے حق اور انصاف کا ساتھ دیا اس کے لیئے جان دی۔ یہ عمل جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ موجودہ دور میں بھی ایک ایسی مثال موجود ہے کہ ایک خاتون جو کبھی وزیر اطلا عات تھیں حکومت نے میڈیا کاگلا گھو ٹنا چا ہا  توانہوں نے اپنا کاندھا استعمال نہ ہونے دیا،اور وزارت تج دی ۔ ابھی حال ہی میں قدرت نے وہ حالات پیدا کر دیئے کہ انہیں نہ صرف ان کے بے داغ کردار کی بنا پر ایک اہم سفارت ملی ،بلکہ پاکستان کی تاریخ میں سفارت کے ساتھ پہلی دفعہ وزارت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ یہ اس لیئے ممکن ہوا کہ انہوں نے اپنے مقام کو نہیں گرنے دیا اوروہ اس سے پہلے بھی بین الاقوامی طور پر اپنے کردار کی بنا پر پہچانی جا تی ہیں جس میں وزارت تج دینے سے اور بھی اضافہ ہو ا۔ ًحضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ آدمی اپنے کر دار سے بڑا ہو تا ہے مال سے نہیں ً اگر کوئی مال یا عہدوں سے بڑا ہو تا۔ تو آج فرعون بڑا کہلاتا جس کانام بھی کسی کو یاد نہیں، قارون بڑا ہو تا جس کے خزانے کی کنجیاں اونٹوں پر لادی جاتی تھیں ۔ اب پھر وہی وزارت گھومتی پھرتی دوسری خاتون سے ہوتی ہوئی کا ئرہ صا حب کے پاس آگئی ،ہم نے کل ان کو ایک ٹاک شو میں یہ کہتے سنا کہ میڈیا بذات خود ایک عدالت بن چکی ہے اسے کنٹرول کر نے کی ضرورت ہے ؟ ہم کسے کسے جواب دیں؟ ظاہر ہے کہ جب لوگ اخلاقی حدود پار کر جاتے ہیں تو شک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ حکومت کابھی یہاں فرض بنتا ہے کہ وہ بد گمانی نہ پیدا ہو نے دے، جبکہ اعتراض کر نے والوں کے لیئے بھی ضروری ہے کہ وہ پہلے ثبوت فراہم کریں پھر الزام تراشی کریں۔ کیونکہ آخری خطبہ جمعتہ الوداع میں کہا گیا ہے کہ تم پر ہر مسلمان کا مال اورعزت حرام ہے۔ اور ساتھ ہی حکمرانوں کوبھی کہا گیا ہے کہ تمہیں بیت المال کا استعمال اپنے ذاتی مفادات اور لو گوں کو نوازنے کے لیئے خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ اس کی مثال دیکھنا چاہیں، تو خلفا ئے راشدین کے کردار موجود ہیں؟ پہلے تو حضرت ابو بکر (رض) نے جب خلیفہ بنے تو کچھ بیت المال سے لیا ہی نہیں جب بہت تنگی ہونے لگی تو انہیں شوری ٰ نے مجبور کیا کہ گزارے کے لا ئق لے لیا کریں! وہ بھی انہوں نے اپنے آخری وقت میں اپنا مکہ کا مکان بیچ کر بیت المال میں جمع کرا دیا۔ یہ ہی حال حضرت عمر (رض) کا ہوا کہ انہوں نے بھی اتنی احتیاط برتی کہ اگر کھانا کچھ دستر خوان پر بہتر نظر آیا تو بیوی صاحبہ کا روزینہ کم کر دیا اور اس کا بھی پائی پائی کا حساب کر کے اپنے وصال سے پہلے بیت المال کو واپس کر دیا اور خود کو ہی قابو میں نہیں رکھا؟ بلکہ تمام عمال پر پابندی لگا دی کہ وہ موٹا جھوٹا پہنیں اور کھا ئیں ۔ حضرت عثمان  (رض)چونکہ خود بہت مالدار تھے اور انہیں ضرورت ہی نہیں تھی لہذا انہوں نے نہ کچھ لیا نہ واپس کیا بلکہ اکثر موقعوں پر وہ اپنے پاس سے خرچ کر تے رہے؟ رہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ !ان کے خلیفہ ہو نے سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا وہی مسجد اور روکھی سوکھی ان کی غذا تھی، جنگ جمل سے جب وہ واپس پہلی دفعہ کو فہ تشریف لا ئے تو امرا ءنے کہا کہ دار الامارہ میں قیام فر ما ئیں! مگر ان کا جواب تھا کہ میں فوج کے ساتھ اس تمبوؤں کے شہر میں ہی ٹھیک ہوں ۔  پہلےیہ آئینہ دیکھیں پھر اپنے اعمال کا جا ئزہ لیں تو یہ حقیت کھل کے سامنے آجا ئےگی کہ ان سے ہمیں کیا نسبت؟  بہر حال چونکہ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں لہذا میں نے منا سب سمجھا کہ اسلامی طریقہ حکمرانی کے کچھ نمونے پیش کردوں۔ ہمارے ہاں ہر افسر کو ایک نہیں کئی ، کئی پلاٹ اور فوج کو زرعی زمین بر بنا ئے عہدہ ملتی ہے۔ جبکہ بہت سے احتساب سے آزاد ہیں حالانکہ اسلامی طریقہ حکمرانی میں کو ئی بھی احتساب سے مبرا نہ تھا، نہ ہے نہ ہوگا؟ حضرت عمر  (رض)کا وہ مشہور واقعہ سبھی نے سنا ہوگاکہ مال ِ غنیمت میں ہر ایک کے حصہ میں ایک چادر آئی اس کا سائز کچھ ایسا تھا کہ وہ کسی کا ستر ڈھانپنے کے لیئے کافی نہ تھا، جبکہ حضرت عمر (رض) طویل القامت تھے ان کو اسی کا پیر ہن پہنے دیکھ کر مسجد میں ایک عام آدمی نے کھڑے ہوکر پو چھ لیا؟ کہ یہ آپ کا ستر کیسے ڈھانپے ہو ئے ہے؟ تو بجا ئے انہوں نے اپنا استحقاق جتا نے کہ جو اسلام میں کسی کے لیئے ہے ہی نہیں! اپنے صا حبزادے (رض) کو یہ حکم دیا کہ تم جواب دو! انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنا حصہ ان کو دیدیا تھا اس لیئے ایسا ممکن ہوا؟ ہمارے آئین میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ کوئی قانون قر آن اور سنت کے خلاف نہیں ہو گااور ہے تو دس سال کے اندر اسے اسلام کے مطابق بنالیا جا ئے گا۔ کیا کسی عدالت کو ، کسی اسلامی کمیشن اور اسمبلیوں میں بیٹھنے والے علما ئے کرام کو خلاف قر آن و سنت قوانیں نظر نہیں آئے حالانکہ ٧٣کے آئین میں بھی اب تک بیس ترامیم تو ہو چکی ہیں؟ کیا یہ بھی کسی نے نہیں پڑھا کہ حضرت عمر (رض) نے فوجیوں پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ مفتوحہ علا قوں میں زرعی زمین نہیں خرید سکتے، کیا انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اسلامی قانون پر کسی غیر اسلامی قانون کو ترجیح دے کر اسلامی ملکوں میں رہتے ہو ئے مسلمان نہیں رہ سکتا ؟ جبکہ غیر اسلامی ملکوں میں ان کے قوانین کی پابندی کر نا پڑیگی یا وہاں سے ہجرت؟ ہم نے اکثر بڑے بڑے اسکالرز کو ٹی وی ٹاک شو میں آکر یہ کہتے سنا ہے کہ قائد اعظم کونسا نظام چا ہتے تھے؟ کسی کو آجتک ہم نے اس پر بات کرتے نہیں سنا کہ خدا اور رسول (ص) سوا کوئی اور بھی شا رع اسلام ہو سکتا ہے کیا وہ اسلام کا اصل حلیہ بدل سکتا ہے؟ اسلامی ملک میں پارلیمان اپنے اجتہادکے حق کے باعث صرف وہ قوانین وضع کر سکتی ہے جو پہلے سے، قر آن اور سنت میں موجود نہ ہوں ان پابندیوں کے با وجود کیا کوئی مسلمان، قر آن و سنت پر کسی اور قانوں کو تر جیح دیکر مسلمان رہ سکتا ہے؟ سوائے بہ امر ِ ِ ِمجبوری ؟ ان سوالات کے جوابات میں اپنی اور دنیا کی معلومات کے لیئے ان علماءسے پوچھنا چا ہونگا جو آج کل حکومتوں میں کسی بھی حیث میں شامل ہیں ؟ ہے کوئی مرد ِ حق جو جواب دے؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.