حالیہ غوغا آرائی ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ جوہڑ کی مچھلی سمند رمیں زندہ نہیں رہ سکتی اس لیے کہ سمندر میں جوہڑ جیسی غلاظت کہاں؟ شاید یہ ہی وجہ ہے کچھ لوگو ں کوفوجی عملداری زیادہ پسند ہے۔ جبکہ دوسرا محاورہ یہ بھی ہے کہ آزادی کا ایک لمحہ غلامی کے ہزاروں سال سے بہتر ہو تا ہے۔ پاکستان میں آجکل افواہوں کا بازار گرم ہے اور وجہ ہے ڈیرھ ارب ڈالر جو کہیں سے آئے ہیں مگر کیوں آئے ہیں یہ نہیں بتایا گیا؟
آئیے دیکھتے ہیں اس سلسلہ میں قرآن کیا کہتا ہے ۔ کیونکہ ہمیں یہ ہی حکم دیا گیا ہے جب تم میں کوئی تنازع پیدا ہو تو اللہ اور رسول  (ص)کی طرف رجوع کرو؟ قرآن اس سے سختی سے منع کررہا ہے کہ ذمہ داروں سے بغیر تصدیق کے کوئی بات پھیلائی جائے؟ کیوں اس لیئے کہ کہیں تمہیں خود یاکسی بے گناہ کو نقصان نہ پہونچ جا ئے اور بعد میں کفِ افسوس ملتے رہ جاؤ۔ دوسری طرف حضور (ص) نے اس کاتوڑ یہ فرمایا کہ اپنے بارے میں بد گمانی مت پیدا ہونے دو، (تاکہ افواہیں نہ پھیلیں) اور ایک نصیحت یہ بھی فرمائی کہ“ اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھو، اور یہ بھی فرمایا کہ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی چاہو؟
جبکہ حالیہ غوغا آرائی ۔ اس بات سے شروع ہوئی کہ پہلے تو ہمارے وزیر اعظم تشریف لے گئے سعودی عرب ،جہاں کہ ان کا گھر بار بھی ہے اور کاروبار بھی ہے۔ اور وہاں خدا کا گھر بھی ہے۔ جہاں غریب لوگ زندگی میں ایک مرتبہ جانے کی تمنا رکھتے ہیں اور اسی امید میں دنیا سے سدھار جاتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ فیضان ہے سعودی حکومت کی ہوس زر کا کہ اب حج اور عمرہ مہنگا ہوتے ہوتے غریب کی پہونچ سے باہر ہو گیا ہے۔ چونکہ امیروں کوزیادہ اور بار بار صفائی کی ضرورت پڑتی ہے ان کے لیئے آسان کردیا گیا ہے؟ جیسے کہ گردے کے مریضوں کو ہر روز ڈائیلاسس کی؟ اس کے لیے ان مسافرخانوں کی جگہ شاندار ہوٹلوں نے لیلی ۔ ورنہ پہلے تو یہ حالت تھی کے غریب ان مسافر خانوں میں بھوکے رہ کر حج کرلیا کرتے تھے جو تمام دنیا کے مخیر حضرات نے اپنی عاقبت سدھار نے کے لیے وہاں بنوارکھے تھے؟ کیونکہ انہیں عاقبت کا خیال زیادہ دامنگیر تھا جبکہ اب سارے حکمراں بخشے بخشائے پیدا ہوتے ہیں ۔یہ بات توخیر بیچ یونہیں آگئی۔
ہم بات کر رہے تھے غوغا آرائی کی! ہاں تو ان کے بعد پاکستان کے کمانڈر انچیف صاحب تشریف لے گئے جنہوں نے اس روایت کو پہلی دفعہ توڑا کہ زیادہ تر لوگ جو وہاں جاتے ہیں وہ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم عمرے کے لیے جارہے ہیں؟ جبکہ بہت سے کارِ جہاں لاحق ہوتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کا سہارا نہیں لیا سیدھی بات کی وہ شاہی خاندان سے ملنے جارہے ہیں ۔ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں ان کی صاف گوئی کی تعریف کی تھی۔ وہاں پہونچ کرپتہ نہیں ان میں وہ کونسی خوبی تھی جو سعودی حکمرانوں نے چند دنوں میں پرکھ لی اور ان کو اپنے سب سے بڑے قومی اعزاز سے نوا زا؟ اس کا جواب ایک ہی ہو سکتا جو ہم نے پہلے ہی دیدیا تھا کہ ہیرے کی پرکھ بادشاہ کو ہوتی ہے یا جوہری کو ہم نہ جو ہری نہ بادشاہ لہذا اس کو بلا تبصرہ چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
پھر سعودی وزرا ء کی ا فواج یکے بعد دیگرے یلغار کرتی رہیں۔ چونکہ یہ ملک پہلے ضیا ءالحق کے دور میں میدان جنگ بنا رہا ہے ، جوکہ سعودیوں کی کرم فرمائیوں کی وجہ سے بنا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ جہاں جاتے ہیں اپنا فقہ لے جاتے ہیں اور وہیں ورثے میں چھوڑ آتے ہیں! وہ ہمارے یہاں بھی پھٹ پڑنے والوں کی شکل میں چھوڑگیئے ؟ جس سے آجکل ہر ایک خائف ہے کہ کس کے ذاتی محافظوں میں سے کوئی نکل آئے اور احکامات شاہی کی خلاف ورزی پر جان سے ہاتھ دھونا پڑیں؟ ایسے میں یکایک ڈیرھ ارب ڈالر کاآجانا؟ لوگوں کے ماتھے ٹھنکنے کا باعث ہوا ،جو کہ ٹھنکنے چاہیئے تھے۔ کیونکہ حکمرانوں نے شفافیت کو بالائے طاق رکھا ؟ اور جب شفافیت کو بالا ئے طاق رکھا جا ئے تو اس حدیث کی خلاف ورزی کی حکومت مرتکب ہو ئی کہ غلط فہمیاں پیدا مت ہونے دو؟ جبکہ تبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ اگر ایک سنت زندہ کردو تو قسمت بد ل جاتی ہے، شکست تک فتح میں بدل جاتی ہے اور مسواک چبانے سے قلعے فتح ہوجاتے ہیں جس کی صداقت پر کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا؟ لیکن اس کادوسرا پہلو وہ بھی نہیں بیان کرتے کہ نبی (ص) کے ایک حکم کی خلاف ورزی شکست کا باعث بھی بن جاتی ہے؟
جبکہ قوم پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکی ہے لہذا اب چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پی رہی کہ کہیں منہ نہ جل جا ئے۔اگر اس مسئلہ پر خاموشی نہ اختیار کی جاتی اورسب کچھ پہلے ہی بتا دیا جاتا تو شاید یہ صورت ِ حال پیدا نہ ہو تی؟ اب اگر ہوئی ہے تو عوام پوچھ رہے ہیں کہ بتاؤ یہ تحفہ کس سلسلہ میں ہے اور کہاں سے آیا ، اگر یہ مدد ہے تو کیوں اور بدلے میں کیا دینا ہوگا؟۔ کیونکہ یہ بنیے کی ہٹی تو ہے نہیں کہ بغیر لکھت پڑھت کے اتنی بڑی رقم مل جا ئے، دوملکوں کامعاملہ ہے۔ یہاں پھر وہی کمزوری ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ “ جو لین دین کرو اس کو لکھ لیا کرو اور دو شاہد بھی بنا لیا کرو اور اس کی پوری تفصیل بھی ہو نا چاہیئے کہ وہ اسکے بدلے میں کیا لے گا،کب واپسی ہوگی کیسے واپسی ہوگی کون لینے آئے گا۔ یاتم خود پہونچاؤگے وغیرہ وغیرہ ؟ جبکہ یہاں سرے سے کسی معاہدے کا ذکر ہی نہیں کیا گیا؟ کیا یہ درست اسلامی طریقہ ہے؟
جبکہ ہمارے ہاں یہ روایات ہیں ۔ جو پہلے والے کرتے رہے ہیں کہ لوگوں کو پکڑ کے دیتے تھے اور پیسے ان کو مل جاتے تھے؟ وہ جاتے کونسے اکا ؤنٹ میں تھے اس کا علم لینے والوں کو تھا، عوام کوپتہ جب چلا کہ جب انہوں نے خود ہی اپنی کتاب میں یہ سوچ کر لکھا کہ ہما را کون کیا بگاڑ سکتا ہے؟ جبکہ کوئی کوئی تو ہمارے یہاں اتنا بھولا ہے کہ اس کے کھاتے میں کوئی کروڑوں روپیہ ڈال گیا اور اسے پتہ ہی نہیں چلا؟ بلا شبہ یہ تو کوتاہی ہے حکومت کی؟ جس پر دورائیں نہیں ہوسکتیں۔
اب ان کی بات کرتے ہیں؟ جو فوج کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم کہنا نہیں ماننا ؟ جبکہ فوج کا سپریم کمانڈر جمہوریت میں صدر ہو تا ہے۔ اور فوجی قانون یہ ہے کہ پہلے حکم کی تعمیل کرو پھر اپیل کرو ورنہ کورٹ ما رشل ہو جاتا ہے ؟ کیا یہ سبق دینا بغاوت پر اکسانے کے زمرے میں نہیں آتا؟ جب کہ یہ تلقین والے دیوتا ، اپنے کسی حکم عدولی کرنے والے کارکن کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ کراچی کے نو زائیدہ بچے بھی جانتے ہیں ۔ کیا وہ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں کہ باقی لوگ ان کے کارکنوں سے کہیں کہ وہ انکا حکم نہ مانیں؟ کیا وہ اس طرح دستور کی خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں۔ جو فوج کو بھڑکا رہے ہیں۔ یعنی تم کو حکم دیا جائے تو تم بات مت ماننا بغاوت کر دینا ؟ اس صورت میں کوئی حکومت چل سکتی  ہے؟ کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ خربوزہ رنگ پکڑتا ہے! ایسے میں خود ان کی پارٹی چل سکتی ہے؟ اسے بھی میں بلا تبصرہ چھوڑ تا ہوں۔
اب ان کی بات کرتے ہیں جوہر تھوڑے دنوں کے بعد کہنے لگتے ہیں کہ فوج ہی اچھی تھی؟ جبکہ پاکستان بننے سے اب تک فوج ہی رہی ہے جمہوریت اس ملک میں آئی ہی نہیں فوج کبھی ظاہرمیں ہوتی ہے کبھی پس پر دہ چلی جاتی ہے!
جبکہ ایک جنرل نے ملک توڑدیا وہ غدار نہیں کہلایا اس لیے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھتا کون؟ دوسرے نےعین اس وقت جمہوریت کی پیٹ میں چھرا گھونپ دیا،جب بات ہندوستان سے طے ہونے والی تھی کیا کسی نے پوچھا کہ تم نے یہ خود سری کیوں کی؟ اور اس کے نتیجہ میں جو جانی اور مالی نقصان پاکستانیوں اور کشمیریوں کا اب تک ہورہا ہے اسے اس کا ذمہ دار قرار دیکر ہے کوئی کہ اس پرمقدمہ چلا ئے ؟ اگر حکومت مقدمہ درج کرابھی دے تو سزا کس کو ملے گی ؟ عوام کو اور صرف عوام کو کہ اعلیٰ عدالتوں کے زیر تصفیہ مقدمات کا ڈھیر جو پہلے ہی بہت ہے اور بڑھ جائے گا؟ اوراس طاقتور ملزم کی سکیوریٹی پر اربوں روپیہ عوام کا خرچ ہو جاے گا؟ یہ سوال بھی آپ پر چھوڑتا ہوں؟
کیونکہ اسلام میں قانون سے بالا تر تو کوئی نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں قانون کا طابع کوئی نہیں! البتہ ملک اسلامی ہے دستور اسلامی ہے اور الحمدللہ ہم مسلمان بھی ہیں؟ لیکن ہماری جان اسلامی قوانین کے نفاذ سے نکلتی ہے۔ چلو اگر اسلامی قوانین پر نہیں چل سکتے جنکا صلہ دین اور دنیا دونوں ہیں؟ تو ان کی پیروی کرلو جو صرف دنیا کی بات کر تے ہیں اور تم ان کی پیروی کرتے بھی ہو۔ اور وہ مہذب بھی کہلاتے ہیں۔ ان کے یہاں انصاف کی حالت دیکھو! ان سے سبق سیکھو؟وہ یہ کہتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا ابطال ہے؟وہاں بھی انصاف فوراً ہی مل جاتا ہے۔ وہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے ،جبکہ ہمارے یہاں کوئی سچ نہیں بولتا؟ وہ دفتروں میں بیٹھ کر چائے نہیں پیتے، رشوت نہیں لیتے ؟دوستوں سے گپیں نہیں لڑا تے نماز کے نام پر پان کی مانڈلی پر کھڑے ہو کر کھیلوں کی رننگ کامنٹری نہیں سنتے ؟ ان سے جہاں اپنے مطلب باتیں سیکھتے ہو وہیں کچھ ان کی اچھی باتی بھی سیکھ لوتاکہ دنیا میں ہی سہی اچھی طرح جی سکو؟

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles, Uncategorized and tagged . Bookmark the permalink.