جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

جس ملک میں بھی رہناآنکھیں کھلی رکھنا؟ ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
کبھی مومن کی دانشمندی مشہور تھی مگر جب سے ہم نے قرآن اور سنت کو چھوڑا تو ہم سے ہماری ایک ایک صفت ناراض ہوکر ہمارا ساتھ چھوڑتی چلی گئی، انہیں میں مومن کی فراست، دیانت، صداقت، حمیت اور اخوت شامل ہیں۔ ایک دور تھا کہ دنیا مومن کی فراست سے ڈرتی تھی۔ مگر آج نہ وہ مومن ہیں، نہ فراست ،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے ہمیں جو چاہتا ہے جدھر چاہتا ہے ہانک لیتا ہے بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہم ایک بھیڑوں کا گلہ ہیں کوئی بھی سبز باغ دکھا ئے تو ہم اس کے پیچھے چلد یتے ہیں اور سوچنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں پر یہ سبزہ زار دکھا رہا ہے وہاں بارش بھی ہوتی یانہیں؟ کبھی ہمارے سامنے جہاد ہو تا ہے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوتی ہے اور ہم بے وقوف بن رہے ہوتے ہیں مگر داعی سے پوچھتے نہیں کہ خود بھی وہ اس پر عامل ہے یا نہیں ؟کبھی ہمارے سامنے ذات اور برادری ہو تی ہے۔ کبھی زبان اور عصبیت ہوتی ہے اور ہم بغیر سوچے سمجھے ہر کسی کے چکر میں آجاتے ہیں؟اس سلسلہ میں جتنا نقصان ہم نے اٹھایا ہے، دنیا میں شاید کسی قوم نے نہیں اٹھایاہوگا؟ وجہ کیا ہے کہ ہمارے پاس جو دوچیزیں ہیں ہرایک کو پرکھنے کے لیے، ایک کتاب ِ بصیرت قرآن اور دوسری اسکی عملی تفسیر حضور (ص) کاا سوہ حسنہ۔ جو کہ ہمارے لیئے منبع ہدایت تھیں انہیں کو ہم نے پسِ پشت ڈالدیا ۔
اب عالم یہ ہے کہ جو کوئی نعرہ لگا ئے ہم اس کے پیچھے ہولیتے ہیں،بغیر یہ معلوم کیے ہوئے کہ یہ ممکن بھی ہے یانہیں۔اگرمیں تفصیل میں جاؤں تو اس چھوٹے سے کالم میں یہ سمو نا ممکن نہیں ہے۔ اور بعض حماقتیں تو ایسی ہیں یا تو آپ کو لطیفہ لگیں گی یا صریحاً جھوٹ ؟ مثلاً پچھلی صدی کے اوائل میں ہندوستان سے دس کروڑ مسلمانوں کو افغانستان ہجرت کرنے کا مشورہ، جس پر چند ہزار لوگوں نے عمل کیا اور خوار ہوئے؟ بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے کے لیئے جھانسہ کہ وہ سات سال پہلے والے بھاؤ واپس لے آئیں گے ؟جبکہ دنیا میں افراط زر کی وجہ سے چند فیصد گرانی ہر سال بڑھتی رہتی ہے،ترقی یافتہ ممالک اپنے بجٹ اسی حساب سے بناتے ہیں لہذا قیمتوں میں اتنی بڑی رجعت قہقری کسی صورت ممکن نہیں تھی؟ لیکن ہم نے بہکانے والوں کی آنکھوں سے دیکھا اور نتیجہ ہوا کہ عملی طور پر ان کی آڑمیں اسلام لانے کا وعدہ کرکے ضیاءالحق نے اقتدار پرقبضہ کرلیا جس کے بوئے ہوئے کانٹے ہم آج تک چن رہے ہیں؟ یہ تو تھے برِصغیر ہندو پاک کی تاریخ کے دو واقعات۔ اب عالم اسلام کو لیتے ہیں؟
بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ خلافت ِعثمانیہ جب قرآن اور سنت کو ہماری طرح چھوڑ بیٹھی تووہ اغیار اور شر پسندوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئی، اور اس کا پہلا کام یہ رہ گیا کہ خلیفہ اپنی ان گنت بیگمات میں گھرا رہے اور عیش کرکے غم غلط کرے ؟ اور  دوسرایہ رہ گیا تھا کہ جو شر پسند جس علاقے کو فتح کرلے اس کو سند ِ بادشاہت عطا کردے؟ ایسی صورت میں عدل پر رہنااور عدل قائم رکھنا جو خلیفہ کی ذمہ داری تھی اور جس کی رعیت عادی تھی، کہ ا سلامی روایات اس کے سامنے تھیں وہ خوبیاں حکمرانوں میں نہ پاکر ان میں بیچینی پیدا ہوئی؟ اس سے اغیار نے جوموقعہ کی تاک میں تھے فائدہ اٹھایا اور اپنے مہرے ان کی جگہ فٹ کردیے ۔ اگر مسلمان ، مسلمان ہوتے اور اسلامی تاریخ اورتعلیمات سے واقف ہو تے کبھی انہیں قبول نہ کرتے ؟اور نہ ہی یہ صورت ِ حال پیدا ہوتی جو آج کل صرف فلسطین میں ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا میں دیکھ رہے ہیں ہے؟ خلافت جیسی بھی تھی، اس کے ہونے سے اخوت اسلامیہ کا تصور باقی تھا؟ کوئی کسی خطہ کا بھی مسلمان ہو تا، ہر جگہ جا کر مستقل بس جاتا تھا جو کہ آج مسلمان ممالک میں ناممکن ہے ۔
خلافت کے خاتمے کے بعد جنکو بادشاہ بنا یا گیا پورے عالم اسلام میں سے اغیار کو صرف تین ہاشمی برادران ملے جن میں سے ایک کو شام والوں نے جمنے نہیں دیا، دوسرا عراق کابادشاہ تھا جس سے بعد میں عراقیوں نے جان چھڑالی اور تیسرے کو شرق اردن(جارڈن) ملا جو ابھی باقی ہے۔ جبکہ سابقہ فلسطین عزرائیل بنا جوکہ آجکل اسم بہ مسمیٰ ہے؟ اور انہیں کے ساتھ جن کو عرب کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا امام بنایا گیا اسکے محل ِ وقوع کی بناپر، یہ وہ قبیلہ تھا جو کہ اپنی قریش دشمنی کے لیے مشہور تھا۔ وہ قبیلہ پرستی اور بربریت کے زور پر آج تک قائم ہے؟ یہ نسلی عصبیت ہی تھی جس کی وجہ سے نجدی بارہویں ہجری تک اسلام نہیں لائے اور حضور (ص) سے لڑتے رہے اور آخری وقت تک جب کہ پورا عرب اسلام لے آیا، وہ تب بھی مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان کے سردار نے حضور (ص) کو شہید کرنے کی کوشش کی حضور (ص) نے اسے بد دعا دی اور واپس جاتے ہوئے وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرگیا ؟یہ پوری تفصیل تاریخ ابن کثیر (رح)میں موجود ہے وہاں پڑھ لیجئے؟
اب مسلم دنیا میں حالت یہ ہے کہ کوئی مسلمان ملک کسی مسلمان کو شہریت دینے کو تیار نہیں ہے؟ وہاں بھی نہیں جہاں لوگ حرم شریف میں عبادت میں مصروف رہ کر پہلے عمریں گزار دیتے تھے، جائداد خرید کرکے حجاج کے قیام اور مفت استعمال کے لیے مسافر خانے بنا کروقف کر دیتے تھے اب جو کہ مسمارکردی گئیں اور ان کی جگہ شہزادوں کے ہو ٹل بن گئے ہیں؟ جو کہ شاہی خاندان کی کمائی کا ذریعہ ہیں؟
آج مسلمانوں کو شہریت ملتی ہے تو ان ملکوں میں جن کی طرف ہجرت کرنا ہمارے علماءکے نزدیک منع ہے؟ لہذا ہماری اکثریت ان کی میزبانی کے باوجود ،اور شہریت کے حصول کے بعد بھی پوری طرح ان ملکوں کی وفادار نہیں ہو پا تی؟ اور کوئی بھی اپنا جیسا ان کو چکر دیدے تو وہ فوراً متاثر ہو جاتے ہیں۔شر پسندوں کے بہکائے میں آکر نام نہادجہاد میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہو تے کہ جہاد ہے کیا اور اس کی شرائط کیا ہیں اور ہمیں غیر ملکوں میں رہنے کے آداب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں کے مقامی قوانین کی پابندی کرو، تو یہ بات نہ ہوتی؟مگر ہم کرتے کیا ہیں کہ جب سے افغانستان اور پاکستان نام و نہاد جہاد کا نشانہ بنے؟ ہماری نئی نسل بغیر یہ جانے کہ جہاد کے معنی کیا ہیں شرائط کیا ہیں بری طرح جہاد کی طرف راغب ہوگئی ؟جبکہ ان کے ماں باپ نے نئی نسل کی طرف سے ا نکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ ڈالر کمانے سے انہیں فرصت نہیں ہے؟آج کی نئی نسل تمام ملکوں کے لیے بلا امتیاز پریشانی کا باعث بن ہوئی ہے؟
میں پہلے بات اپنے ملک سے شروع کر تا ہوں جس کا میں شکر گزار ہوں کہ اس میں رہتے ہوئے مجھے وہ تمام سہولتیں حاصل ہوئیں جو میں کہیں اور رہ کر نہیں پاسکتا تھا، جیسے کہ سچ بولنا اور سچ دنیا تک پہونچانا؟ چونکہ قرآن نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ً بھلائی کا بدلا بھلائی ہے ً میں شکر گزار ہوں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بعد اس ملک کا اورمجھے اس کے شہری ہونے پر فخرہے ؟ مگر مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کنیڈا کا ہی ایک نوجوان جوکہ انتہائی ذہین تھا وہ عراق میں جاکر پھٹ پڑتا ہے، جوکہ کنیڈین شہری بھی تھا جب حکومت کناڈا کو اس کاشہری ہونے کی وجہ سے اس کے مرنے کی اطلاع ملتی ہے تو ماں باپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے نے یہ کار نامہ انجام دیا ہے۔ مگر انہیں یقین نہیں آتا کہ ان کا بیٹا ایسا کر سکتا ہے ؟ جبکہ وہ چھپن انسانوں کومارکر مر بھی چکا تھا؟ یہ ہے بیٹوں کا حال ؟
اب بیٹیوں کا حال دیکھئے کہ برطانیہ سے خبر آئی ہے کہ دوجڑواں بہنیں۔ شام پہونچ گئیں کہ انہیں یہ سمجھایا گیا، مجاہدوں کی بیوی بننا بہت بڑے ثواب کاکام ہے اور وہ ثواب کمانے کے لیے اور جنت بنانے کے لیے وہاں تشریف لے گئیں، جبکہ انکے ماں باپ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع پولس میں درج کرا ئی ہوئی تھی۔ وہاں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں ڈیرھ ہزار سے دوہزار تک برطانوی نوجوان شام جا چکے ہیں اوروہاں لڑرہے ہیں؟ ابھی عراق سے خبریں آرہی ہیں کہ وہاں کچھ حصہ پر خلافت قائم کر دی گئی ہے کسی ابو بکر نامی کی قیادت میں جن کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہے اور دنیا پر ہاشمی ہو نے کی وجہ سے امیرالمونین بننے کے وہ زیادہ مستحق ہیں ۔ جبکہ ان کا پسِ منظر یہ ہے کہ وہ القاعدہ کا ہی کبھی دھڑا تھے ۔ کچھ لین دین پر جھگڑا ہوا اور وہ علیحدہ ہو گئے؟ خدا کرے یہ خبر غلط ثابت ہو ؟ اگر وہ قر آن دیکھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ صرف ہاشمی ہونا کسی کا بھی خلافت پر استحقاق ثابت نہیں کرتا، جب تک کہ وہ دوسری شرائط پوری نہ کرتا ہو ان میں پہلی ترجیح تقویٰ  کوہے اور کسی ملک میں شر پھیلانا تقوے کی کونسی قسم ہے لوگوں کو قتل کرنا اور مزاروں کو اڑانا کونسا اسلام ہے ؟یہ پیغمبروں کے مزارات تو حضور (ص) کے زمانے میں بھی موجود تھے پھر خلفائے راشدین (رض) کے زمانے بھی موجود رہے مگر انہوں نے کبھی تعرض نہیں کیا تو پھر انکے عقائد کہیں اس ملک کے عقیدے کو تو ظاہر نہیں کر رہے ہیں جس کے تحت بد عت کے نام وہابیت کے ماننے والوں نے پورے سعودی عرب میں مزارات ڈھادیئے۔ پھر عراقیوں کی عقلوں کو کیا ہوا ہے جبکہ ان کو سابقہ تجربہ بھی ہے کہ ان کے حصہ میں ایک ہاشمی با دشاہ پہلے آچکے ہیں ؟ جن سے نے انہوں نے با مشکل جان چھڑائی تھی۔ کچھ حالیہ خبریں پاکستان سے آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز شریف صاحب کے محلات کے قریب دہشت گرد ڈیرہ ڈالے ہو ئے تھے۔ ان کے ارادے کیا تھے بعد میں معلوم ہوئے انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت پر جلوسوں اور وزیر اعظم کے محلات کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کو دیہات میں ایک ڈاکٹر صاحب کا مکان بآ سانی مل گیا کیونکہ انہوں نے کرایہ سے غرض رکھی، صرف دوضامن لے لیئے اور مکان دیدیا۔ انہیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح  پولس کو اطلاع کرنا چاہیے تھی کہ وہ معلوم کرتے، کہ ان کو وہاں آباد ہونے میں کیا دلچسپی ہے ۔ کیاپڑھے لکھے اور ذمہ دار شہریوں کو ایسا ہی ہونا چاہیئے؟ جبکہ ہماری پولس گروہ کی جڑ تک تب پہونچی کہ اس گروہ کی ایک فاحشہ عورت سے کسی نوجوان کا لین دین پرجھگڑا ہوااور اس نے اسے دھمکی دی کہ میں تجھے بم سے اڑادوں گی ؟ اس نے جا کر پولس سے شکایت کی پولس نے اس خاتون کو گرفتار کر لیا اور اسکے ذریعہ وہ تمام ملزموں تک پہونچی۔اس نازک وقت میں یہ بات قوم کوان سے بھی پوچھنا چاہیے کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں کہ انکی کامیابی کے امکانات کیا ہیں اور اگر وہ کل بتانے بات کریں! تو یقین مت کیجئے گا اس لیے کہ آپ مومن ہیں اور مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈساجاتا اورجبکہ وہاں کی روایت یہ ہے کہ کامیاب ہونے والے لوگ دوسرے دن بدل جاتے ہیں؟ یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے جسے عشرہ نجات کہتے ہیں۔ مفسرین کے مطابق یہ جہنم سے نجات کا عشرہ ہے؟ لیکن وہ معنی بدلنے پر بھی قادر ہے ۔اسکے سامنے توبہ کریں تو یقیناً اسے رحم آجائے گا کیوںکہ رحم کو اس نے اپنے غضب پرغالب کر رکھا ہے اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے کہ ہم آجکل جس عذاب سے گزرہے ہیں ، اس سے وہ نجات دیدے اور دنیا جنت بن جائے ۔(آمین)
 

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.