کندہم جنس باہم جنس پرواز۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

ہمارے ایک دوست جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں بہت ہی پتے کی بات کہتے تھے کہ “ عیبیوں “ کی دوستی بڑی پائیدار ہوتی ہے ۔اب سے پہلے ہمیں اس پر اتنا یقین نہیں تھا۔ اب ہم اس کے سوفیصد نہیں بلکہ ایک سو ایک فیصد قائل چکے ہیں ۔ اورقائل ہمیں ان چند دنوں نے کر دیا جو ابھی گزرے ہیں ؟ یہ پہیلی ہے جس کو ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں؟ اتا پتا اتنا بتادیتے ہیں کہ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہتے ہیں وہاں کی پارلیمان میں ایک بل خود چرچل نے پیش کیا اور سب اس پر متفق ہوگئے۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ جمہوریت کے  “حسن “کے خلاف ہے،اپنا ووٹ اسکے خلا دیکر انہوں نے بقول ان کے جمہوریت کو بچا لیا؟ جبکہ ہمارے یہا ں باہمی مک مکاؤ جمہوریت کا “حسن “ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی عجیب آدمی تھے؟ عجیب عجیب باتیں کہا کرتے تھے۔ مثلا ً یہ کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح کام کرتی رہی ہیں تو ہم جرمن کو شکست دیدینگے؟  جبکہ ہمارے یہاں چلن یہ ہے کہ شکست ہتھکنڈوں سے دی جاتی ہے۔ پتہ نہیں اور کتنی باتیں انہوں نے ایسی ہی کہی ہونگی؟ مگر ہم ان میں سے صرف تین مندرجہ ذیل باتوں پر تبصرہ کرنے پر اکتفا کررہے ہیں جو بہت ہی مشہور ہیں ۔
ممکن ہے کہ پاکستان کی نئی نسل شاید انہیں نہ جانتی ہو اس لیے ہم تعارف کراتے چلیں کہ چرچل تھے کون ؟کیونکہ وہاں اب کتابیں اور علم پڑھنے پڑھانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہےرہیں ڈگریاں وہ ویسی ہی مل جائیں تو انہیں اس تکلف کی ضرورت کیا ہے ؟
ہاں !تو  چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران بر طانیہ کے وزیر اعظم اور برطانوی قوم کے ہیروتھے ۔ انکا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جرمن نسل پرستی کے طوفان سے نہ صرف اپنے ملک برطانیہ کو بچا یا بلکہ یورپ اور اسکا دائرہ اور وسیع کردیں تو انہوں نے پوری دنیا کو بچا یا۔ کرنے والا تو خدا ہے مگر یہ اس کی سنت  ہے جسے وہ تبدیل نہیں کرتاکہ وہ خود لڑنے کہیں نہیں جاتا؟ لہذاکسی برائی کے توڑ کے لیے اپنی مخلوق سے ہی کام لیتا ہے۔ کبھی پرند ے بھیجدیتا ہے ،کبھی ہوا ،کبھی پتھر، کبھی ایک چنگھاڑ یا پھر اسکے لیے کوئی مرد ِ بالغ نظرپیدا کر دیتا ہے؟ جس کے لیے صاحب ایمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ جیسے کہ فلسطین کی تباہی لیے بابل نینوا سے ایک انتہا ئی ظالم بادشاہ، یا پھرمسلمانوں کے لیے چنگیز اور ہلاکو ؟
یہاں اس نے ہٹلرکی نسلی برتری کے غرور کو توڑ نے کے لیے چرچل کو پیدا تو پہلے ہی اپنی مشیت کے مطابق کر رکھا تھا ۔ مگر ظاہر جب ہوا جب دنیا کے اس کڑے وقت میں وہ اسے اقتدار عطا فرماکر سامنے لایا، ورنہ دنیا اِس وقت ہٹلر کی نسل پرستی کے بوٹوںکے نیچے دبی تڑپ رہی ہوتی؟اس کی خوبی غالباً جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند آئی  وہ یہ تھی اور جو کبھی مسلمانوں کی خوبی تھی کہ اسکی نگاہوں میں عدلیہ بہت اہم تھی۔ اسی وجہ سے اس نے جتنا فخر اور اعتماد اپنی عدالتوں پر کیا اور کسی خوبی پر نہیں کیا؟ جبکہ چرچل کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں تھیں مثلاً وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا لہذا قوم اور دنیا اسکی بات پر یقین کرتی تھی۔ جبکہ ہٹلر اسکا الٹ تھا کہ اس کے وزیر گوبل کا فلسفہ یہ تھا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ جھوٹ نے شکست کھائی۔ ہٹلرکی شکست اور اس تجربے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا؟ آج ہم اور کئی جماعتیں اسی کے فلسفہ پر عامل ہیں ۔
چونکہ اب خوبیاں ہم میں کم پائی جاتی ہیں بلکہ نایاب ہیں۔ اسلیے ہم نے اپنے علماءکو ٹی وی پر یہ فرماتے بارہا سنا کہ ان کی ا چھائی مت بیان کرو؟ کیونکہ وہ ہماری طرح صاحب ایمان نہیں ہیں ؟ اب آپ پو چھیں گے کہ پھر تم کیوں بیان کر رہے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں اسکے باوجود کے وہ دانا وبینا ہے نصاری ٰکی اچھائیوں کا ذکر فرمایاہے اور اپنی مقدس کتاب قرآن میں جوکچھ فرمایا۔ ہمیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے؟  جبکہ ان کی  اچھائیوں کی عملی مثالیں بھی سامنے ہیں۔ مثلا ہر مشکل وقت میں ان کی جیبیں دنیا کے لیے کھلی رہتی ہیں، جبکہ ہم اس میں سے بھی اپنی جیبیں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں؟ جیسے کہ ان کی کمائی میں ہمارا حصہ ہے؟ دوسرے یہ کہ قرآن کی ایک صفت انسانیت کے  لیےباعث شفا ہونا ہے،  یہ خود قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ با الفاظ دگر جو بھی اسکی باتوں کو اپنا ئے گا وہ اس سے دنیامیں ضرور فائدہ اٹھا ئے گا، جبکہ صاحب ِ ایمان ہوتو دونوں جگہ اسکا حصہ ہے ۔ اور جو نہیں عمل کرے گا اپنا نقصان  خودکریگا۔ جبکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہمارے ذمہ سب کارزق ہے۔ مگر ہم پرندوں کو بھی گھونسلوں میں نہیں دیتے جب تک  کہ وہ اسکی تلاش میں اپنے گھونسلوں سے باہر نہ نکلیں؟
گوکہ اب ہمارے یہاں بھی کچھ نیئے مخیر پیدا ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے دستر خوان بھی کھولدیئے ہیں مگر وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتح والی بات ہے۔ رہی اللہ کی طرف سے دلانے والی بات تو بل گیٹ کو دیکھئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے سمجھ عطا فرمائی اور وہ ایک سافٹ ویر کی بدولت بے انتہا دولت کا مالک بن گیا اب وہ اس میں سے خرچ کر کے دنیا میں بہت سے رفاعی کام کر رہاہے ، ہمارے یہاں پولیو کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور ہم اس میں روڑے اٹکا کارہے ہیں کیونکہ چلتے کام میں روڑے اٹکانا ہمارا کام ہے ؟ جو یہ کار خیر انجام دے رہے ہیں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس پر انہیں ثواب جنت کی شکل میں ملے گا ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے تو کسی کا اتباع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جب اتباع کرتے ہیں تو کردار نہیں دیکھتے بلکہ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ نہ جمہوریت کی جڑ کی طرف دیکھتے ہیں ، نہ دینِ اور اپنے رسول(ص) کا  اسوہ حسنہ یادرہتا ہے، جس پر عمل قرآن میں لازمی قرار دیا ہے اسکی جگہ مفاد پرستی لے لیتی ہے۔  ان خود اختیار کردہ خامیوں کی بنا پر ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے نہ اپنے نہ پرائے؟ ا نفرادی کردار جو ہے وہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔ جبکہ ایک آدھ معاملہ میڈیا اچھال دے تو باقی دنیا بھی جان لیتی ہے۔ جن کے ہاتھوں رہنمائی ہے وہ پہلے تو تردید کرتے رہتے ہیں ، پھرعدالتی فیصلوں کو نئے ہتھکنڈوں سے ٹالتے رہتے ہیں ایک دو دن نہیں بلکہ برسوں؟ جبکہ سچ اتنا بولتے ہیں کہ کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے؟ جیسے حالیہ مصالحتی پالیسی ، جس  کاخالق کوئی اور ہے؟ اس نے کان میں  شاید یہ کہدیا کہ اگر تم اسی طرح ان مختلف گروہوں کہ ناز اور نخرے اٹھاتے رہے اور ان کے عیب چھپاتے رہے ،تو ہمیں تم کو بھی برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومت فوراًمصالحتی پالیسی پر اتر آئی اور سینٹ کی سب سے اہم سیٹ اکثریتی پارٹی کو دینا تو بر بنائے مجبوری تھا ہی، جوکہ تمام ہم جنس پرندے ساتھ اڑانے کے لیے لازمی بھی ،مگر دوسری سیٹ بھی غیر ملکی حکم پر دینی پڑی وہ بھی ان کو جو کبھی کسی کے نہیں ہوئے ؟ کیوں اس کیوں کو آپ خود بوجھیئے؟
انہیں انتخابات کے دوران ایک حلیف پارٹی کے دفتر پر چھاپہ بھی پڑگیا ۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ووٹ اپنے جگہ سے نہیں ہلے ، نتیجہ وہی کا وہی رہا؟ اس کی طرف سے سوگ اعلان ہوا مگر دوسرے دن نہیں ہوا، بلکہ ایک اچھی شہرت رکھنے والے پولس آفیسر کا بیان ہماری نظر سے گزرا کہ جلد ہی ہم ہڑتالوں پر بھی قابو پالیں گے ؟  اتنا اعتمادکیوں کیسے پیدا ہوا؟ بھائی کچھ اپنی عقل بھی دوڑائیے ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آ گیا ہو اور ہمارے یہاں بھی وہ پردہ غیب سے نجات دہندہ بھیج دے؟ ورنہ چالیس سال سے ان کے اعمالوں پر جوپردہ پڑا ہوا تھا؟ جب بھی اٹھنے کو ہوا، یکایک پھر رک گیا؟ اخبار نویویسوں میں سے جس نے ہمت کی وہ مارا گیا ، اگر قاتل کوسزا بھی ہوگئی تو وہ بھی  بآسانی فرارہوکر شجر سایہ دار کے گھنے سایہ میں جا چھپا ،جہاں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اب وہی درخت خود فریادی ہے۔  اس کے نمائندہ کا بیان ہے کہ صوبائی کیپٹن کہہ رہا ہے کہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جبکہ وز یر داخلہ کہہ رہے ہیں ۔ نہیں ہم نے اعتماد میں لیا تھا۔ اب ان میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ،فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ اگر رینجرز کی یہ اتھاریٹی بحال ہو گئی کہ وہ مخبری پر بڑے سے بڑے پر ہاتھ ڈالدے، تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں ۔ اب خربوزے دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑے گا، پولس میں بھی جرا ءت واپس آجا ئیگی اوردوسری نوکر شاہی میں بھی؟ جو ملزمان پکڑے گئے ہیں ان کے بیانات کی روشنی میں نہ جانے کیسے کیسے پردہ نشین سامنے آئیں گے اللہ جانتا ہے۔ ع  “ کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے “۔اس سے پہلے تو انہیں اوپر سے اجازت لینا پڑتی تھی جو نہیں ملتی تھی، خلاف ورزی پر انہیں اپنی تنزلی ،معطل ہونے اور برخاست ہونے کا ڈر رہتا تھا۔ اگر آئندہ ان کے عہدوں کو تحفظ ملا تو انشا اللہ پاکستان کے دن بدل جا ئیں گے۔ آئیے ہم سب مل کے اس کی کامیابی اور درازی عمر کے لیے لیے دعا کریں جوکہیں پردے کے پیچھے ہے؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.