لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

آپ اس عنوان کو پڑھ کر چونک پڑیں گے کہ یہ کیسا مومن ہے جو امت کو پیچھے کی طرف لوٹنے کی بات کر رہا ہے، جبکہ مخبر ِ صادق (ص) نے فرمایا کہ مومن کا (آنے والا) کل آج سے بہتر ہوتا ہے؟ جبکہ ہمارے یہاں اس کا الٹ ہے کہ ہمارا کل اول تو کبھی آتا ہی نہیں، یا اگر آتا تو پھر بہت کم آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا ہر فرد وعدہ کرنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے؟ جبکہ وعدوں کو پورا کرنا ضروری نہیں سمجھتا؟ حالانکہ قر آن کہہ رہا کہ “ تم سے تمہارے وعدوں پر پوچھ گچھ ہوگی “۔یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری ہر چیز التوا میں رہی اور اس پر عملدر آمد نہیں ہوسکا اگر پہلے دن سے ہمیں اپنے منشور اور اپنے وعدوں کا پاس ہو تا تو آج ہم اس حالت کو نہ پہونچتے جہاں آج پہونچے ہو ئے ہیں ۔خدا کا شکر ہے کہ بعد “ از خرابی ِ بسیار “ اب ہم کو بہ حیثیت قوم احساس ہونے لگا ہے۔ اور ہر روز کہیں نہ کہیں سے اچھی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ چند دن پہلے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آگیا کہ اردوکو15 سال کے اندر نافذ ہونا تھا جیسا کہ 1973ءکے آئین میں لکھاہوا ہے جس پر عمل آ ج تک  نہیں ہو سکا لہذا اس کو فوری طور پر نافذ کیاجائے؟ جانے والے چیف جسٹس کے اس قسم کے فیصلوں کی وجہ سے وہ مقدمہ الجھاؤ مافیا میں بہت غیر مقبول رہے؟ مگر چلتے چلتے وہ ایک ایسا کام کر گئے کہ تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اردو کو آج نہیں تو کل حکمرانوں کو نافذ کر نا پڑے گا؟ ورنہ پھر کوئی اور سر پھرا توہین ِ عدالت کی شکایت لیکر سپریم کورٹ میں چلا جا ئے گا اور حکومت نے پھر بھی ٹال مٹول سے کام لیا تو نوبت نہ جانے کہاں تک پہونچ جائے؟۔ حالانکہ اب اردو کے نفاذ میں بڑی مشکلات ہیں ۔ سب سے بڑی مشکل تو یہ ہےکہ68  سال میں اشرافیہ کی کچھ کم تین نئی نسلیں آگئیں جن کو اردو چھو کر بھی نہیں گزری ہے، پوری نسل سینڈوچ کلچر کا شکار ہوچکی ہے، ڈیڈی اور مم دونوں ہی خوش ہوتے ہیں کہ بچہ ان کو ڈیڈ اور مم کہتا ہے اور انگریزی اسکولوں کی چاندی رہتی تھی، پھر وہ بچے ولایت کا رخ کرتے تھے ،وہاں پہونچ کر پہلے تو احساس ِ کمتری میں مبتلا ہو تے تھے۔ پھر کہیں جا کر انہیں کی طرح بولنے پر قادر ہو تے تھے۔ یہ انگریزوں کی اچھی عادت ہے کہ اگر ان کی زبان کوئی غلط  بھی بولے تو وہ اس ک مذاق نہیں اڑاتے اگر سمجھ نہیں پاتے ہیں تو اس کے ما فی الضمیر سے اخذ کر نے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟جبکہ ہمارے ہاں کوئی غلط اردو بولے تو لوگ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں اور وہ آئندہ اردو بولنے کی غلطی نہیں کرتا ہے وہ بھی پھر انگریزی سے ہی کام چلا لیتا ہے؟ کہ نوکری جو کرنا ہو ئی؟ ہمارے پڑوسی ملک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ انہوں نے اپنے یہاں سے اردو کو چلتا کر دیا؟ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا کاروبار متاثر ہو رہا خصو صا ً بالی وڈ جو کہ امریکہ کے بعد دنیا میں فلم کے میدان دوسرے نمبر پر ہے ،تو انہوں نے اپنی تجارت بچانے کے لیے اسے ہندوستانی کانام دیکر اردو ، عربی اور فارسی کے تمام الفاظ ہندی لغت کا حصہ بنالیے؟ کیونکہ وہ کارو باری لوگ تھے لہذا کاروبار کی مار نہیں سہہ سکتے تھے۔ پھر کچھ عرصے بعد یوپی جوکہ کبھی اردو کا گڑھ تھا وہاں کے وزیر اعلیٰ ایسے آگئے کہ انہیں مسلم اقلیت سے وعدہ کر نا پڑا کہ اگر مجھے ووٹ دوگے تو میں اردو کو اسکولوں میں واپس لے آ ؤنگا ؟ وہ کامیاب ہو ئے تو نئی نسل آچکی تھی چونکہ نوکری صرف ہندی والوں کو ملنا تھی مسلمان اور غیر مسلمان اردو کو اس وقت تک بھول چکے تھے اس کانتیجہ یہ ہوا کہ انہوں چھ ہزار ملازمتیں تو اسکولوں میں اردو اساتذہ کی نکال دیں مگر اس کے لیے پڑھانے والے نہیں مل رہے تھے؟ پہلے بھی ایک مرتبہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنی شہرت اور عزت کو خطرے میں ڈال کر مسلم قوم کو ان کوٹا پورا کرنے کے لیے جو ان کے یہاں مسلمان بنگالی طالب علم تھے ان کی اپ گریڈینگ کر دی ، تب کہیں جاکر مطلوبہ تعداد  بن سکی اوراس طرح بنگالی مسلمانوں کو اپنے تناسب کے حساب سے  پبلک سر وس کمیشن میں جگہ مل سکی ۔ وہی شہر علی گڑھ  پھرکام آیا اور وہیں کے ایک ادارے جامع اردو علی گڑھ نے ً استاد کورس ً جاری کر کے چھ ہزار ایسے استاد فراہم کر دیئے جنہیں اردو ہی نہیں آتی تھی اور انہوں نے اپنے سے پہلے والی نسل سے استفادہ کیا ہوا تھا یعنی ان کی جگہ وہ امتحان دیتے رہے ان امتحانو ں میں شرکت کرنے والوں کو ہم نے اس کار خیر لیے جاتے ہوئے خود دیکھا کہ ہم ان دنو ں وہا ں گئے ہوئے تھے۔اللہ قادری صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے کہ وہ ایک ایسا ادارہ چھوڑ گئے تھے جو اردو کے کام آیا؟۔ اب دیکھئے کہ اس سلسلہ ہمارے لوگ کیا کرتے ہیں اور اس کمی کو کیسے پورا کرتے ہیں ؟ کیونکہ ہر شعبہ میں نا انصافیوں کی بنا جو اردو بیچاری کے خلاف نفرتیں پیدا ہوئی ہیں اس سے حکمراں کس طرح نپٹتے ہیں؟
دوسری خبر بہت سی خبروں کے ساتھ یہ تھی کہ وزیراعظم ہا ؤس میں پاکستانی مدارس کی پانچ تنظیموں کے اتحاد کے نمائندہ علما ءاپنے مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے ایک چھت کے نیچے جمع ہو گئے جس سے وزیرآعظم نے خطاب فرمایا ، شرکاءمیں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان صاحب اور دوسرے حکام بھی موجود سب سے آخر میں خبر میں وہ نام بھی تھا جس کی پہچان بغل میں دبا ہوا اک چھوٹا سا ڈنڈا ہو تا ہے اور جو انتہائی مقناطیسی شخصیت کے حامل ہیں جو جہاں جاتے ہیں فتح ان کے قدم چومتی ہے اور انہوں نے اپنے خلوص کی بنا پر قوم کے دل موہ لیے ہیں) رہا ڈنڈا یہ نہ جانے کیوں علامتی طور پر انگریز چھوڑ گئے تھے جو ان کے پاس ہے۔ جبکہ انگریزوں یہاں تو پہلے پولس والے بھی یہ ہی ہتھیار رکھتے ہیں۔ اب القائدہ کی وجہ سے 911 بعد  سےوہ بھی آتشیں اسلحہ رکھنے لگے ہیں مگر ابھی بھی وہ کلاشن کوف سے محروم ہیں ۔ کیونکہ یہاں گورنمنٹ کی بالا دستی موجود ہے لہذا لوگ ڈنڈے سے ہی ڈرجاتے ہیں؟ ہم نے اس خبر کو بہت کھنگالا مگر اس کا ہمیں کوئی سراغ نہیں ملا کہ اس دوران نماز کا وقت آیا ، یا اس بات کا پہلے ہی سے خیال رکھا گیا کہ نماز کا وقت بیچ میں نہ آئے ؟ کیونکہ ہم یہ دیکھکر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر نا چاہتے تھے کہ کہیں سے یہ بھی خبر ملے کہ انہوں نے ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی جس میں وزیر اعظم وزراءاور تمام افسر شامل تھے جو اس میٹینگ میں موجود تھے۔آج سے پچھتر سال پہلے تک ہم نے یہ عام دیکھ رکھا تھاکہ مسلمان زیادہ تر ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ اس وقت تک  حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جو اپنے وقت کے جید عالم اور ولی اللہ بھی تھے ان کا خانوادہ مسلم امہ کی قیادت کر رہا تھا۔جبکہ پانچ چھ سو سال پہلے ہلاکو اور چنگیز خان نے وہ کام کر دکھایا تھا جو مسلم با دشاہ تو کیا تمام دنیا کے بادشاہ ملک کر اس پہلے نہیں کر سکے تھے؟ وہ تھا اس تحریک کا خاتمہ جس کانام تا ریخ میں خارجی تحریک تھا۔ جو کئی سوسال تک دنیابھر میں خونریزی کر تی رہی جو بھی اس کی راہ میں آج کی طرح آتا اس کو شہید کر دیا جاتا؟ مگر وہ کسی کے قابو میں نہیں آئی اس نے اسی جن کو پکڑ کر زمین میں  زندہ دفن کر دیا اور وہ فتنہ اس وقت تک دفن رہا جب تک  کہ ہماری کتابوں سے ہی یہ راز دشمنوں نے نہ لے لیا اور چند مسلمان کرپکڑ کر خلافت عثمانیہ کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے نتیجہ میں وہ عرب میں ایک شدت پسند حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے ؟انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو سوائے اپنے بد عتی قرار دیدیا اور تبلیغ شروع کی کہ “ ہم صحیح ہیں اور ہمارے سوا سب بد عتی ہیں جو قابل ِ گردن زندنی ہیں “ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے عقائد رکھنے والوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور ملت کا شیرازہ بکھر گیا؟ چونکہ ان کے پاس تیل کا پیسہ تھا ، وسائل تھے ان کا عقیدہ تمام دنیا پر چھا گیا، حدیث ہے کہ ً دین امراءکا چلتا ہے وہ آج پوری دنیا پر قابض ہیں۔ زیادہ تر مدرسے اسے عقیدے کے ہیں ۔اسی کی وجہ سے تمام مدرسے جو کہ روز ِ اول سے انتہائی محترم تھے اپنے غلط استعمال وجہ سے احترام کھوبیٹھے، ان کا احترام بہال کرناگوکہ ایک مشکل کام ہے مگر موجودہ عسکری قیادت نے بہت سے مشکل کاموں کو ممکن کر دکھایا ۔ انشا ءاللہ وہ آئندہ چل کر کامیابیابی تک اپنے اس مشن کو بھی پہونچا ئیں گے؟ اور یونیورسٹیوں کو ان مذ موم خیالات سے پاک کردے گا جو فرقہ واریت پڑھا کر مسموم اذہان پیدا کر رہی ہیں ، جن کے ہاتھوں پچھلے دنوں صفورا گوٹھ میں جماعتِ آغا خان کے ستر بہتر افراداپنی جان سے ہا تھ دھو بیٹے تھے ؟ کاش کے یہ قیادت ہمیں ستر سال پہلے میسر ہو جاتی تو نیشنل سکوریٹی پالیسی جب ہی بن جاتی اور آج قوم اس مصیبت سے دوچار نہ ہوتی جو پچھلی چاردہائیوں ہورہی ہے؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.