اب کیا ہوگا ہر لب پر ایک ہی سوال ۔۔از شمس جیلانی

آپ جس طرف بھی کان لگا کرسن گن لیں ہر لب پر ایک ہی سوال ملے گا کہ اب کیا ہوگا۔اس سلسلہ میں سیاسی پنڈت اپنی آرا ءسے مفت نواز رہے ہیں کیونکہ انہیں بھاری تنخواہیں اپنے مالکان سے اسی کام کی ملتی ہیں۔ ان میں سے ا یک خوشخبری سنانے والا ہے تو دوسرا بدخبریاں سنا نے والاہے۔ کیونکہ ایک کے مالکان حکمراں گروپ کے ساتھی ہیں تو دوسرے کے مالکان مخالف گروپ کے حمایتی ہیں ۔ اگر پاکستان میں ناپید ہے تو غیر جانبدار گروپ جو صرف اللہ سے ڈرتا ہو اور حق بات کہتا ہوجبکہ ا لحمد اللہ یہ بھی سچ کہنے کے دعوے دار ہیں اور وہ بھی؟ میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ موجود نہیں ہیں۔ مگر ان کی تعداد اور آوازآنٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ کسی سے کچھ جب لیتے نہیں ہیں تو دیں گے کہا ں سے؟ ا ن کے پاس صرف خوف ِخدا اور خلوص ہوتا ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔جیسے کہ ہمار ے ایک دوست کاا خبار ! جس کے بانی انتہائی متقی ہیں اس اخبار کا پورا عملہ بھی ایساہے جو نہ کچھ لیتا ہے نہ اسے کچھ نقدی کی شکل میں سوائے ثواب کے ملتاہے؟ وجہ کیا ہے کہ سارے اخبار اور ٹی وی اشتہارات پر چلتے ہیں۔وہ صاحب کہتے ہیں کہ اشتہارمیں اس کمپنی کے لونگا جس کامالک“ صادق اور امین ہو“ا خبار خیر سے نکلتے ہوئے مدت گزرگئی ایسا نہ کوئی ملا، نہ اشتہار لیا پھر بھی اخبار چل رہا۔ انہیں بھی پیشکش بہت ہوئیں مگر ان کے دل سے خوف ِ خدا دور نہیں ہوا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج تک کوئی اشتہاراس خبارکی زینت نہیں بن سکا؟ جبکہ ان کا سیاسی تجربہ ایک دوسال کا نہیں بلکہ سال کے  بجائےعشروں پر محیط ہے۔ جبکہ بہت سے لوگوں نے کل لکھنا شروع کیا اور آج آسمان ِ صحافت پر پرواز کر رہے ہیں ۔ یہ میں نے ایک مثال اس لیے پیش کی کہ میں “ صادق اور امین صحافیوں “ کی موجودگی کا بلا خوف ِ تردید ثبوت دے سکوں! کوئی پوچھے گاتو نام اور پتہ بھی بتادونگا؟
جبکہ مسلمان جس شعبہِزندگی میں بھی ہو ہمیشہ سچائی کا علمبردار ہونا چاہیئے ۔ اس لیے کہ حضور (ص) نے فرمایا کہ “ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا ہے “ پھر سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ یہ قحط الرجال کیوں ہے؟ جبکہ مسلمانوں کی آبادی دنیا میں تقریباً ڈیرھ ارب ہے۔ میں نے یہاں پھر محاورہ استعمال کردیا جوعیب ِ بادہ گوئی صرف مردوں میں ظاہر کرتا ہے۔حالانکہ خواتین کی تعدا د ، اعداد شمار کے اعتبار سے مردوں پراکثر یت رکھتی ہے۔ یعنی انہیں ایک فیصد سے برتری حاصل ہے۔جبکہ یہاں کنیڈا میں اکثریت کا احترام اس حد تک کیا جاتا ہے کہ صوبہ کیوبک جو فرنچ اکثریت والا علاقہ ہے وہاں علیحدگی پسند تحریک ایک فیصد سے بھی کم سے کم ووٹوں سے ریفرنڈر میں ہار گئی اور ان کی تحریک ختم ہو گئی کیونکہ انہوں نے شکست تسلیم کرلی۔ جبکہ پاکستان میں صرف سترہ فیصد ووٹ لینے والے مینڈیٹ کی بات کرتے ہیں “اور ہیلمنگ مجریٹی “بات کرتے ہیں۔ دو تہائی اکثریت کی بات کرتے ہیں جبکہ انہیں اپنی حقیقت خود معلوم ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں؟ صورت ِ حال یہ ہے کہ وہاں سب سے پہلے حلقہ بندی ان کی مرضی کے مطابق نوکر شاہی کرتی ہے جس سے ان کی کل دبی ہوئی ہوتی ہے، پھر پورا عملہ ااور تمام آفیسر تک سٹنگ ممبران اسمبلی کی رائے سے لیے جاتے ہیں؟ اس کے بعدآپ خود ہی سمجھ لیجئے وہاں ووٹوں کی صورت ِ حال کیا ہو گی جہاں کے سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ ملک ایک ہے لیکن علاقے بٹے ہو ئے ہیں ہر ایک اپنے علاقے سے سروکار رکھتا ہے اور وہ کسی حالت میں اسے چھوڑ نے کو تیار نہیں  ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جذبات میں بہت کچھ کہہ تو جاتے ہیں پھر خودہی سوچتے ہیں یادوسرے خیر خواہ آنکھیں کھولتے ہیں اور اونچ سمجھاتے ہیں تو بعدمیں رائے بدلنا پڑتی ہے۔ پہلے خبر یہ آئی کہ؟ جناب شہباز شریف صاحب پنجاب کی وزرات عظمیٰ چھوڑ کر 21دن کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم بن جا ئیں گے۔ آج خبر آئی ہے کہ رائے بدل گئی ہے کہ اب خاقان عباسی صاحب ہی2018 تک وزیر عظم ہونگے۔کسی نے نواز شریف صاحب کو سب سے بڑے صوبے کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں دینے اور کسی اور کو مرکز میں لانے کی ا ونچ نیچ سجھائی ہو گی تو مجبوراً رائے بدلنا پڑی۔ رہی زبان اس کی وہاں کوئی اہمیت ہے ہی نہیں ۔ بد عہدی سے انکے اسلام میں کوئی فرق نہیں واقع نہیں ہوتا جبکہ قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ “ قیامت کے دن تم سے تمہارے عہدوں پر سوال ہو گا  “یقینا وہاں کا بھی انہوں نے کوئی توڑ سوچ رکھا ہو گا؟جبھی تو ہماری تاریخ یہ ہے کہ جوبھی آیا نوے دن کو آیا اور نوے دن ہمیشہ دس سال سے تجاوز کر گئے۔ دور کیوں جائیے موجودہ حکمرانوں کو دیکھ لیجئے کہ نوے دن میں بجلی کابحران دور کرنے والے چار سال سے زیادہ وقت نگل گئے۔ا ب حالات خود ایسے پیدا کردیے ہیں کہ کہدیں گے کہ“ ہم مظلوم ہمیں پانچ سال ہی پورے نہیں کرنے دیئے گئے ،ورنہ ہم بجلی خود تو کیاپڑوسیوں تک کو دیتے؟ اب اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے۔ عوام کے سامنے جارہے ہیں۔ وہاں پھر وہی ہو گا جو ستر سال میں ہو تا آیا ہے۔ جہاں آجتک کسی چوراورڈاکو کااحتساب نہیں ہوسکا۔ رہے عوام وہ صرف اپنوں کی بات سنتے ہیں انہیں کی حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ ہمیں بطور مسلمان صرف مظلوم کی حمایت کا حکم دیا گیا ہے ظالم کا نہیں۔اور مظلوم بھی وہ جو بنا ہوا نہ ہو؟ نئی کابینہ بن گئی ہے ۔ جو ماشا اللہ 48 وزیروں پر مشتمل ہے ؟ جو ناراض تھے عوامی خزانہ سے سب کو مطمعن کردیا گیا ہے۔ نتیجہ آپ خود اخذ کرلیجئے۔حزب ِ اختلاف پہلے ہی مطمعن نہیں ہے۔ جس نے یہاں تک پہونچایا تھا؟ اس پر توپوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں۔ پہلے پانچ سات توپیں تھیں اب ن کی تعداد 48 ہوگئی ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ امید ہوچلی تھی کہ کوئی نیک قیادت شاید قوم کو مل جائے۔ اور ہم نے سب کو گزشتہ کالم میں مشورہ دیا تھا کہ اس کو چاہیئے کہ۔ “ وہ یوم تشکر اس طرح منائے جس طرح کہ منانے کاحکم ہے۔“جس نے جیسا منایا سب نے دیکھا۔مگر ہم نے ملک کی کسی پارٹی کی طرف سے بشمولِ دینی پارٹیوں کہ ایسی غلطی کرتے کسی کو نہیں دیکھا کہ اللہ رضی ہو؟ نتیجہآآپ خود ہی اخذ کرلیجئے جو نوشتہ دیوار کی طرح ہے ،ہم کیا بتائیں ہم سے نہ پوچھیئے؟

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles, Uncategorized and tagged , . Bookmark the permalink.