٣٢ مارچ ،قرار داد پاکستان سے یوم اسلامی جمہوری تک۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

ہمیشہ کی طرح کچھ لوگوں کی فرمائش ہے کہ میں اس موقع کی مناسبت سے کچھ لکھوں کیونکہ  “آپ جب بھی لکھتے ہیں تو کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے“ میرے لیے پہلی مشکل تو یہ ہے کہ میرا مقررہ دن ہفتہ ہے اور اس مرتبہ ٣٢ مارچ پیر یعنی دو شنبہ کو ہے ۔دوسرے میں جب بھی کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں تو میرے سامنے فوراً میرے آقا (ص) کا وہ فرمان آجاتا ہے کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا “ اس وعید کے ذہن میں آنے کے بعد میرا قلم مجبور ہوجاتا ہے کہ جو کہوں سچ کہوں اور صرف وہی کہوں جو ان گناہگار آنکھوں سے خود دیکھا ہو، معتبربزرگوں سے سنا ہو، یاپرانی یاداشتوں میں موجود ہو اور خود تصدیق کرلی ہو۔ مجھ سے کچھ لکھنے کی فرمائش خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی سچ بولنے والے اور سننے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں ۔ اور یہ فرمان ِ باری تعالیٰ ہے کہ “ جہاں تھوڑے سے بھی اچھے  لوگ باقی ہوں وہاں اسوقت تک عذاب نہیں بھیجا جاتا جب تک کہ ان کو وہاں سےنکال نہ لیا جائے“
اس وضاحت کے بعدعرض ہے کہ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے 1857ع کی جنگ ِ آزدی یا بقول انگریزوں کے بغاوت کے بعد ، ہندوستانی مسلمانو میں شدت سے یہ احساس ابھرا کہ مسلمانوں کی کمبختی اور زوال کی وجوہات دوہیں ,ایک تو اسلام سے دوری اور دوسری جہالت۔ اس سلسلہ میں علماءنے ایک اپنا کنونشن بلایا اور حضرت امداد اللہ مہاجر مکی (رح ) کو جو کہ اپنے و قت کے سب سے معتمد روحانی بزرگ تھے امیرالمونین منتخب کیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسے قبول فرمایا بلکہ اپنی خانقاہ کوبھی جو کہ دیوبند کے مقام پر تھی ، درسگاہ میں تبدیل کردیا ،ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر گاوں اور شہر میں زیادہ سے زیادہ مدارس بنا ئے جائیں۔ جبکہ وہ ابھی تک محفوظ اسلیے تھے کہ انگریز کی نظر میں خانقاہیں بے ضرر تھیں؟ لیکن جیسے ہی یہ تبدیلی انگریزوں کے علم میں آئی انکا وجود ان کے دل میں کھٹکنا لازمی تھا۔ حضرت امداد اللہ (ع) کے بہی خواہوں نے اس سے پہلے کہ انگریز انہیں گرفتار کرلیں باخبر کردیا۔ اور وہ بخیریت مکہ معظمہ پہونچنے میں کامیاب ہو گئے جوکہ اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ جبکہ انکے جانشین گرفتار ہوگئے جوکہ چند ماہ بعد رہا ہوئے تو قیادت بدلنے کی وجہ سے اور وہ بیل منڈے نہ چڑ ھ سکی ، مسلمان پھر بھی ہاتھ پاؤں مارتے رہے ،عجب عجب تحریکیں سامنے آئیں،جن میں سے ایک ہندوستان سے ہجرت کر کے کسی مسلم ملک میں چلے جانا تھی۔ پڑوس میں افغانستان تھا امان اللہ خان کازمانہ تھاکسی نے یہ نہیں سوچا کہ افغانستان اتنی بڑی آبادی کو کیسے قبول کرسکتا ہے۔ ابھی چند ہی ہزار نے ادھر کا رخ کیا تھا کہ انہیں سرحد سے واپس آنا پڑا ؟
چونکہ مسلمانوں کی کوئی منظم تحریک نہ تھی ، اس وقت وہ بالکل اس مریض کی طرح تھے جو عطائی اطباءکے ہتھے چڑھ جائے اور ہر ایک اسے کوئی نہ کوئی علاج بتا دے۔ بہت سی تحریکیں چلیں مگر ان میں یکجہتی نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئیں۔ سرسید احمد  خان بھی جہالت کو وجہ مانتے تھے، انہوں نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرنا چاہا جو ان کے خیال میں ہندوستانی مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کا باعث تھی؟ کیونکہ انہوں نے انگریزی اور تمام جدید علوم کابائیکاٹ کر رکھا تھا۔ جب کہ باقی قومیں انگریزی کو اپنا کر اس دوڑمیں آگے بڑھ گئی تھیں۔ اس کو چلانے کے لیے ایک مسلم ایجوکیش کانفرنس بلاکر اسے 1875ع میں ایک کمیٹی کی شکل دیدی۔ دوسری طرف انگریز ہندوستان میں فتوحات کر تے چلے گئے تھے۔ ان کا صدرمقام شروع سے کلکتہ تھا اور اس کی حدود ایک طرف تو یوپی تک پہونچی ہوئی تھیں اوردوسری طرف بر ما بھی اس میں شامل تھا ، گورنر جنرل کنٹرول کرتا تھا جوکلکتہ میں مقیم تھا۔ انتظامی ضرورت کے تحت اس بڑے علاقے کو صوبوں میں تقسیم کرنا ان کی مجبوری تھی! برما ، علیحدہ ہوا ، آسام ،اڑیسہ، بہار علیحدہ ہوامگر کوئی ہل چل پیدا نہیں ہوئی، لیکن جیسے ہی انہو ں نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا یعنی مشرقی بنگال اور مغربی بنگال تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا کیونکہ اس تقسیم کی وجہ سے ایک مسلم اکثریتی صوبہ مشرقی بنگال کی شکل میں1905 معرض ِ وجود میں آگیا تھا ۔ وہاں کے مسلمانوں نے تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی مدد کے لیے یکجا کرنا چاہا۔ جبکہ صورت ِ حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی کوئی منظم جماعت موجود ہی نہ تھی ۔ان کی نگاہیں بھی مسلم ایجوکیشن کی طرف گئیں اور اسکی ہی کوکھ سے مسلم لیگ ڈھاکہ کے سلیم اللہ ہال میں نواب سر سلیم اللہ کی کاوشوں سے معرض وجود میں آئی۔ بنگال کی تقسیم تو حکومت نے 1911 ع میں ختم کردی گئی لیکن یہ تقسیم مسلم لیگ کی شکل میں ایک جماعت مسلمانوں کو دے چکی تھی، جس کانام آل انڈیا مسلم لیگ تھا۔ قائد اعظم !مسلم لیگ کے ابتدائی دور میں شامل نہیں ہوئے اس لیے کہ وہ کانگریس کے رہنما تھے اور ہندو مسلم اتحاد ان کا مشن تھا۔ اسوجہ سے سب انہیں بہت ہی عزت اور احترام کی نگاہے سے دیکھتے تھے۔ اور سفیراتحاد انہیں ہندؤں سے خطاب ملا ہوا تھا۔
جب گاندھی جی افریقہ سے ہندوستان آگئے اور انہوں نے ہندؤں کے دو دھڑوں کو متحد کرنا شروع کیا تو وہ انسان سے اوتار (مہاتما) کا درجہ حاصل کر گئے۔ اور قائد اعظم کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آنے لگا۔ تب انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جبکہ یہ طریقہ کافی عرصہ سے یہ چلا آرہا تھا کہ اکثر مسلمان لیڈر کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے بہ ہک رکن تھے اور اکثر دونوں جماعتوںکے اجلاس بھی ایک ہی جگہ پر ایک ہی وقت میں منعقد ہوا کرتے تھے ۔ پھرہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے اسلیے کہ مقاصد جدا تھے۔
جب کہ اسوقت آبادی کا تناسب کچھ اس طرح تھا کہ اعلیٰ ذات کے ہندو پندرہ کروڑ۔ اچھوت (نیچی ذات کے ہندو) دس کروڑ ، مسلمان دس کروڑ اور متفرق اقوام پانچ کروڑ۔ گاندھی جی کی کوششوں سے ہندوؤ ںکے دونو دھڑے چھوت چھات کے ختم ہونے سے ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔  جب آہستہ آہستہ تلخی بڑھی توہندومسلم فسادات شروع ہوگئے۔
اسوقت بنگال اور آسام میں مسلمان وزرائے اعظم (وزراءاعلیٰ)  تھے  1940 میں قرارداد پاکستان لاہور میں پیش کرنے میں بنگالی پیش پیش تھے، جو متفقہ طور پر اجلاس ِلاہور میں پیش ہوکرکر پاس ہوئی، اجلاس 22  مارچ کو شروع ہوا اور یہ پاس 24کوہوئی ۔مگر امت ِ وسطیٰ نے میانہ روی اختیار کی اور نہ جانے کیوں  23کو اپنایا۔ اس کے محرک مولوی فضل الحق اور تائید کنندہ اقلیتی صوبہ کے رہنما چودھری خلیق الزماں تھے۔ مگر اس قرارداد میں نہ تو نام تھا نہ اسکی حدود ۔ یہ سب چیزیں 1946ءکی قرارداد میں شامل ہوئیں وہ قرارداد بھی اسوقت کے بنگالی وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھی جبکہ تائید اسکی بھی چودھری خلیق الزمان نے کی سہروردی بنگال کے تمام منتخب نمائندوں کے ہمراہ دہلی پہونچے جس کا استقبال قائدِ اعظم نے اسٹیشن پر خود فرمایا ۔
ادھر سندھی بھی مسلم صوبہ بڑی جدوجہد کے بعد سندھ کے نام سے بمبئی سے الگ کرک بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح پاکستان کے مغربی حصے میں صرف یہ ہی ایک قلعہ مسلم لیگ کو ملا ،جہاں ایک ووٹ سے اکثریت تھی مغربی حصہ میں پاکستان میں شامل ہونے کی پہلی قرارداد سندھ اسمبلی نے پیش کی اور پاس ہوئی ۔جبکہ پنجاب میں چونکہ مسلمانوں کو صرف ایک فیصد سے برتری حاصل تھی لہذا زیادہ تر وہاں مخلوط حکومت ہی رہی ، سرحد میں مسلم اکثریت میں ہو تے ہوئے بھی کانگریس کی حکومت تھی۔ بلوچستان کو ابھی صوبے کا درجہ ہی نہیں ملا تھا، وہاں بھی خان آف قلات پاکستان کے حق میں نہ تھے جوکہ سرداروں کے سردار بھی تھے ، ایک بلوچی سردار عبد الصمد اچکزئی بلوچی گاندھی کہلاتے تھے۔ یہ تو تھی تاریخ ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جو مسلم لیگ کے اصل محرک تھے۔ ان کے نام اب پاکستان کی تاریخ میں نما یاں نہیں رہے کیونکہ بقول کچھ کے دنیا میں پہلی دفعہ اکثریت نے اقلیت سے جان چھڑالی۔ جبکہ اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان بھی اس دن سے شروع ہوا جبکہ چودھری محمد علی وزیر اعظم تھے اورحسین شہید سہروردی قائد ِ حزب اختلاف۔ پاکستان کو پہلا آئین انہیں دونوں کی کوششوں سے ملا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کانام بھی؟ اس میں بھی سہروردی صاحب کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے بنگالیوں کو اس پر راضی کرلیا جو کل آبادی کا 54 فیصد تھے اور اکثر یت میں تھے کہ نصف پر مان جائیں یعنی 50فیصدنمائندگی قبول کر لیں 98میں ایوب خان نے 56 کا آئین توڑکر مارشلاءلگادیا تو یہ یوم جمہوریہ کے بجائے ان کے دور میں نام بدل کر یوم پاکستان کہلاتا رہا۔  پھرجنرل یحییٰ خان آگئے ان کے دور میں ملک ٹوٹ گیا۔ بھٹو صاحب نے 73کا آئین دیاان کے ہی دور میں دوبارہ جمہوریت بحال ہو ئی تو یہ پھر یوم دستور کہلانے لگا۔
ہمارے یہاں چونکہ سانحات ہمیشہ معمہ بنے رہے ہیں اس لیے ایک المیہ یہ ہے بھی ہے کہ اب تک یہ نہیں طے ہوسکا کہ کون کس سے الگ ہوا۔؟ جبکہ وجہ وہی ہے جو آج بھی ہماری کمزوری ہے یعنی کہ ہم نے مسلمان ہوتے ہوئے عدل کو چھوڑرکھا جس کی تاکید ہمیں اللہ اور اس کے رسول دونوں نے کی ہے اور سب کچھ کھوکر بھی اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا؟ یہ تحریر اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سمجھ  دے، عدل قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو مزید کسی حادثے سے محفوظ رکھے (آمین)

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.