حکومت اور وہ بھی پاکستان پر؟۔۔۔شمس جیلانی

کچھ دن پہلے عمران خان سے کسی اخبار نویس نے پوچھا کہ آپکو کیا آسان لگا حزب ِ ختلاف میں رہنا یا حکومت کرنا؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ حکومت کرنا؟ اس کی سچائی کاثبوت یہ ہے کہ حضور (ص) کے دور میں کئی صحابہ کرام ؓ نے انتطامی عہدہ قبول کرنے سے  معذرت کرلی تھی کہ حضور(ص) یہ ہمارے بس کی بات نہیں؟ مگر اب یسے لوگ کہاں؟ مگر عمران خان کے اس جواب سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کچھ ڈلیور کر سکے یانہیں کرسکے مگر یہ بات ماننا پڑے گی کہ ان کے دل میں خوف خدا ور وعدوں کو پورا کر نے کی لگن ضرور موجود ہے جوکہ انہیں پریشان کیئے ہوئے ہے؟ لیکن مسلمان اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا؟ اور جب کسی کو وہ آزماتاہے تو اس کی حیثیت کے مطابق اور پوری طرح آزماتاہے اس پہ بھروسہ رکھیں اور جدوجہد جاری رکھیں، شاید اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں کے ہاتھوں سے کوئی ایسا کام کروادے جو تاریخ میں یاد رکھا جا ئے؟البتہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہیں جو مسائل سابقہ حکومت سے وراثت میں ملے ہیں ان کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی اگر مثال ملتی ہے تو عباسی خلافت کادور ہے! کہ آخری بادشاہ قدرے بہتر تھا۔ مگر اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے، دشمن چاروں طرف سے یلغار کر رہا تھا۔ جبکہ دشمنووں کے بہی خواہ اس کی حکومت کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔ ان کے ایما پراس نے چنگیز خاں سے معاہدہ امن کرلیا اور فوج کے اخراجات کم کرنے کے لیئے فوج کی تعداد آدھی کردی اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ میں پڑھ لیں میں یہاں دہرا کر مسلمان قوم کو مزید دلبرداشتہ نہیں کرنا چاہتا؟ جس کی ایمانی حالت  ویسی بھی نہیں ہے جوکہ اسوقت تھی؟ اُس وقت بھی  سیکڑوں مسلم حکمرانوں میں سے صرف ایک مجاہد شاہ خوارزم تھا جو چنگیز کو للکار رہا تھا جبکہ غیر تو دشمن تھے ہی اپنے بھی ا نہیں کے ساتھ مل گئے تھے۔ کون جانے کہ اللہ سبحانہ تعالی کس کو آخری شاہ خوارزم جیسی حمیت عطا فرمادے؟ اور وہ شاطران وقت کی پوری بساط ہی کو الٹ دے؟
جبکہ اِس وقت کی صورت ِ حال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور مسلمان حکومت اغیار کے نرغے میں بری طرح پھنسی ہوئی پھڑپھڑا رہی ہے؟جبکہ اس دور میں مسلمان چھپن ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں ان کے پاس سب کچھ ہے، مگر حمیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ جوا نہیں کسی ایک جگہ پرجمع  بھی کر سکے؟ جبکہ پاکستان کومحل وقوع پہلے ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت اچھا عطا  فرمایا تھا اور اس کو اغیار کی کوششوں سے آ ٓزادی کے بعد صرف تینتیس لاکھ روپیہ میں گوادر کا علاقہ شاہ عمان سے واپس دلاکر اس میں چار چاند لگا دیئے تھے؟
اسے آج اپنی اہمیت کے پیش نظر اپنے ہی لیئے ہی نہیں، بلکہ ساری دنیا کے لیے باعث رحمت ہونا چاہیئے تھا؟ مگر سابقہ قیادتوں کی ہوس حکومت جوکہ نہ ملک کے لیے تھی نہ خدمت خلق کے لیے تھی صرف اورصرف حصول زر کے لیے تھی اس نے اس کی اہمیت کو  متنازع بنادیا ہے؟ اور آج وہ کشکول گدائی اٹھا ئے ہوئے پھر رہا ہے اس لیے کہ س کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے؟ کیونکہ سابق حکمراں ملک کو بے انتہا مقروض بنا کر  چھوڑ گئے ہیں جبکہ قرضے واجب الادا ہیں؟ موجودہ قیادت ملک کی عزت کو بحال کرنا چاہتی ہے مگر کر کچھ نہیں پارہی ہے۔ کیونکہ اغیار عادی ہیں اس ملک سے“ ڈو مور کا مطالبہ کرنے اور منوانے کے“ بین الا قوامی سازشوں کی بنا پر تمام ہمسایہ ناراض ہیں اگر وہ ایک کو منا لے تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ حل کیاہے وہ  یہ ہے کہ حکمراں اللہ کے سامنے جھکا رہے اور قوم کو بھی اللہ ہدایت دے کہ وہ بھی اللہ کی طرف جھک جا ئے تو  انشا ء اللہ اسے ضرور رحم آ جا ئیگا اور مسائل ہوسکتے ہیں۔  ورنہ موجودہ حالات میں پاکستان کے کسی ایسے حکمراں لیے جو ملک کے لیئے کچھ کرنا چاہتا ہو اور ہو بھی ایماندار حکومت چلانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے؟ یہاں ان حالات میں ایسا رہنما چاہیے کہ جو منافقت میں شیطان کو بھی مات کردے پھر بھی شاید ہی کامیاب ہوسکے۔ اس سلسلہ میں حزب ا ختلاف عید کے بعد احتجاج کی دھمکیاں دے رہی ہے  پہلے توان حالات میں یہ حب الوطنی  نہیں کہی جاسکتی؟ جبکہ ابھی تک تو صورت حال یہ ہی رہی ہے کہ اس نے لاکھوں کے مجمع کے خواب تو ضرور دیکھے، مگر تعبیر سیکڑوں میں ہی رہی وہ  بھی بریانی کے زور پر؟ مگر اب جو  وہ نعرہ لیکر اٹھی ہے؟ کہ ہم آگئے تو گرانی کم کردیں گے؟ اگر اس جھانسے میں عوام ایک دفعہ پھر آگئے تو کچھ بھی ممکن ہے؟مگر عوام کو ان کی طرف جھکنے سے پہلے یہ ضرور ان سے پوچھ لینا چاہیئے کہ“کیا تم میں ایسا کا کوئی شیطان کا استاد موجود ہے جو پوری دنیا کو جھانسہ دیکر سب کو بیوقوف بنا سکے؟اگر ہے تو وہ اپنا نام بتا دے کہ مجھ میں یہ صلاحیت ہے؟
ورنہ اس قسم کی تحریک کی مثا ل جنرل ایوب خان کے دور کی تحریک بھی ہے؟ جس میں شبرات کو چینی تین روپیہ کلو ہوگئی تو علماء خلاف ہوگئے تھے کے حلوہ بیچارے عوام کیسے بنا ئیں گے اور کیسے کھائیں اور کھلا ئیں گے؟ دوسری بھٹو صاحب کے دور کی تحریک تھی جس میں پھر علماء شامل ہوئے اور وہ اس وقت1971 کا بھاؤ واپس لانے کا وعدہ کر تے پا ئے جاتے تھے؟ کیا وہ ایسا کرسکے جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں؟
آپ کو میں اپنا تجربہ بتاتا ہوں کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو  دووسری جنگ عظیم(سیکنڈ ورلڈ وار) شباب پر تھی سونا چودہ روپیہ تولا تھا، گندم ایک روپیہ من تھی کیاوہ واپس آئی؟ اگر دوبارہ کبھی آگئی ہے تو یہ قیادت بھی بڑھتی ہوئی گرانی واپس لاسکتی ہے اور حزب ختلاف بھی لاسکتی ہے جوکہ اپنے پاک اور صاف کردار کی بنا پر سیکڑوں پہلے ہی بد عنوانیوں کے مقد مات میں پھنسی ہوئی ہے۔ مگر شاطر اتنی ہے کہ بچ ہر دفع جاتی ہے وہی پرانی شراب نئی بوتلوں میں ڈالکر؟  پہلے کی طرح وہ اپنے بچاؤ کیلیے حکومت بدلنے پھر نکلی ہے اور اس کے پاس سوائے“سراب“ کے کچھ نہیں ہے جوکہ عوام کو دے سکے نتائج وہی ہونگے جو پہلے ہوئے تھے کہ گرانی اور بڑھ جائیگی؟ رہا یہ کہ اس میں بہت سے نورانی چہرے والے بھی ہیں وہ گزشتہ تحاریکات میں بھی تھے مگر فرق یہ ہے کہ پہلے والدِ محترم تھے؟ اوراب جو صاحبزادے ہیں ان دونوں کے کردار میں زمین اور آسمان کا فرق ہے؟ اللہ عوام کو اپنا بھلا اور براسوچنے کی توفیق عطافر مائے (آمین)

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles and tagged , . Bookmark the permalink.