مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات۔۔۔۔شمس جیلانی

مقصود اس سے قطع تعلق نہیں مجھے۔قارئین گرامی آج آپ حیرت محسوس کریں گے کیونکہ آج میں اپنی ڈگر سے ہٹ کر عجیب کام کررہا ہو ں،مثلا ً مضمون کا عنوان وہ شعر چنا جو حضرتِ غالبؔ کے مقطع میں بغیر ان کی اجازت کے مقطع میں در آیا تھا جس کی کہ “ لفظِ آپڑی “ سے انہوں نے معذرت فرمادی تھی تاکہ نا دانستہ یا دانستہ طور پر کسی درباری پر زد پڑ رہی ہوتو وہ چلا نہ پڑے؟ چونکہ درباری چپقلش وہاں بھی زوروں شوروں پر تھی جیسے کہ حالیہ دور کے سارے اسلامی ممالک کہلانے درباروں میں ہے۔ وہاں بھی سلطنت گھٹتے گھٹتے “ از دلی تا پالم رہ گئی تھی “وہ بھی انگریزوں کے پاس ٹھیکے پر تھی۔ مگر حضرت بہادر شاہ ظفرؔ کہلاتے شہنشاہ عالم ہی تھے جوکہ دربار میں شعر کہتے اور اشعار سنتے تھے۔
پھر میں دور کی مناسبت سے القاب بھی مجھےقارئینِ گرامی! اختیار کرنا پڑا جو کہ آجکل متروک ہے۔ اس تمہید کے بعد اب آگے بڑھتا ہوں کہ کہیں اس چکر میں میرا آج کا کالم ہی ختم نہ ہو جا ئے اور حالات حاضرہ کے لئے جگہ ہی نہ بچے جو اس کالم کا اصل مقصد ہے۔ جیسے کہ ایک صاحب کسی درزی کے پاس شیروانی عید کے لیئے سلوانے گئے تو انہوں نے اس سے فرما ئشیں شروع کردیں کہ کپڑااگر بچے تو ایک ٹوپی بنا دینا اسی رنگ اور کپڑے کی اچھی لگی؟ اور ہاں ایک رومال بھی؟۔درزی نے تعمیل ِ ارشاد میں وہ سب کچھ کردیا جو ان کی فرما ئش تھی، مگر شیروانی کے بارے میں یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ حضور اس کے لئے کپڑا نہیں بچا؟
آئیے اب اصل بات کی طرف آتے ہیں؟ کہ ہم پاکستان میں آنے کے بعد ہمیشہ حزب ِ اختلاف میں رہنا پسند کرتے تھے۔ لہذا ہم نے کبھی کسی رہنما سے مار نہیں کھا ئی کیونکہ دنیا میں یہ کلیہ رائج ہے کہ خود کسی اچھی بات پر عمل مشکل ہے جبکہ نکتہ چینی کرنا سب سے آسان ہے؟ وہ ہم بھی ہمیشہ اطمینان سے کر رہتے تھے۔ اس مرتبہ جب عوام سے ایک لیڈر نے جس کا ریکارڈ حکومت میں آنے سے پہلے تک بہت اچھا تھا، مملکت ِ خدا د پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا نے وعدہ کیا تو ہم بھی سچ سمجھ بیٹھے،اور اپنے ان چاربزرگ دوستوں! حسین شہید سہروردی، چودھر ی خلیق الزماں،نواب زادہ نصر اللہ خان اور حضرت مولانا وصی مظہر ندوی مرحوم کی طرح دھوکا کھا گئے اور ہم پاکستانی لیڈروں کی مجبوریا ں جانتے ہوئے بھی اس وعدے پر اعتبار کر بیٹھے اور اس لیڈر کی حمایت اپنے بوڑھے قلم سے کرڈالی؟ کیونکہ ہم بھی انسان تو ہیں اور انسان، نسیان سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ ہم سب کچھ اپنی یاداشت میں ایک کونے پڑا ہونے کہ با وجود یہ سمجھ بیٹھے کہ شاید اللہ سبحانہ تعالیٰ کو پاکستان کی حالت پر پھررحم آگیا ہو۔ اورجیسے کہ وعدہ خلافیوں کے با وجود وہ پہلے بھی نوازتا رہا ہے شاید اور ایک اور وعدے پر اعتبار کرلیاہو؟
اب ہم اس صورت حال سے گزرہے تھے جیسے کہ“ سانپ کے منہ میں چھچوندر نہ اگلنے کے نہ نگلنے کی“ ابھی اسی صورت ِحال سے دوچار تھے کیاکریں کہ نہ تو ہم جھوٹ بولتے ہیں نہ غلط لکھتے ہیں بہتر ہے یہ کالم ہی لکھنا چھوڑ دیں؟ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہماری بے بس پر رحم آگیا کہ کرونا جیسا “جر ثومہ“ دنیا کی خبر لینے کے لیئے بھیج دیا اور جو ملک خواتین کی نقابیں اتروا نے کے چکر میں تھے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کے مردوں کو بھی نقابیں پہننے پر مجبور کردیا اور جو لوگ فضول خرچی میں حاتم کو بھی پیچھے چھوڑ چکے تھے انہیں فضول خرچی چھوڑ نے پر بھی مجبور کردیا۔ ہم نے موقعہ غنیمت جانااور جو ہمیشہ سے ہمارا مشن ہے لوگوں کوحضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف رغبت دلائیں؟ لہذا اپنے مذہبی کالموں کے علاوہ دنیا کو اس کالم سے بھی ہم نے یہ سمجھانے کا بیڑا اٹھالیا کہ یہ عذاب ہے؟۔ ابتلا نہیں ہے اور اس کا حل اپنے آپ کو گناہ گار مان کر توبہ کرنا ہے کیونکہ معاف کرنا اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیاہ پسند ہے۔ تاکہ مسلمان توبہ کرلیں اور ان کی عذاب سے جان بھی چھوٹ جائے اور یہ غلط فہمی بھی دور ہوجا ئے کہ یہ ابتلا ہے؟اس کے لئیے ہم نے ایک مشورہ دیا! بشمول خود کہ اس کا فیصلہ بھی خود ہی کریں کہ ابتلا ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو پھر عذاب ہے۔ اور وہ امتحان یہ تھا کہ ہم سب ملکر اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈالیں اور جھانک کردیکھیں کہ ہم کوئی گناہ تو نہیں کر رہے ہیں اگر نہیں کر رہے ہیں تو یہ ابتلا ہے۔ خوش ہوجا ئیں کہ وہ امتحان لے رہا ہے مزید نوازے گا جیسا کہ اس کا دستور ہے؟ اور اگر اندر سے آواز یہ آئے اور ہمارا ضمیر یہ کہے کہ ہم سارے گناہ کر رہے کوئی بچا ہوا نہیں ہے؟ شاید کوئی چھوٹی سی اقلیت بچی ہو جس کا ہمیں پتہ نہ ہو؟ چونکہ اس امت کی بھول چوک معاف ہے؟ پھر یہ عذاب ہے اور فورا ً توبہ کرلیں۔ آئندہ کے لئیے حضورﷺ کا اسوہ حسنہ اختیارکرلیں جس کے لئے اللہ سبحانہ تعالی“ نے قرآن میں فرما یا ہے کہ “ تمہارے لئے تمہارے نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں بہترین نمونہ ہے۔ جبکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ “اسلام میں تہتر فرقے ہو جا ئیں گے۔ ان میں سے راہ راست پروہی ہوگا جو میرے یا میرے ﷺیا میرے ان صحابہؓ کے راستے پر ہوگا جو کہ آج میرے راستے پر ہیں“ ایک دوسری حدیث میں فرما یا کہ “صراط مستقیم (سیدھاراستہ) صرف میرا راستہ ہے۔ اس کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں ان کے پردوں کو اٹھاکر مت دیکھنا؟ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے“ ہمارا یہ معمول ہے ہم اپنا روز مرہ شروع کرنے پہلے نوافل پڑھتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں پھر کام شروع کرتے ہیں آج جو ہم نے قرآن کھولا تو ہمارے سامنے جو آیتیں کھلیں وہ سورہ آل ِ عمران کی وہ مشہور آیتیں تھیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق جن پرعامل ہمیشہ کچھ لوگ موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم ابھی تک عذاب بچے ہوئے ہیں؟ جبکہ حضور ﷺ نےحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک سوال کے جواب میں جس کی راوی حضرت عائشہ ؓ صدیقہ ہیں فرمایا تھا کہ “ہاں! اس امت پر بھی عذاب سرزنش کے طور پر آسکتا ہے اگر گناہ عام ہوجائیں اور کوئی برائی سے روکنے والانہ رہے“ سورہ آل ِ عمران کی جن آیات کا ہم نے ذکر کیا تھا 104سے 108 تک۔جن کا اردوترجمہ یہ ہے کہ ” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہیئے جو کہ بھلے کاموں کی طرف بلاتی رہے،برے کامو ں سے روکتی رہے یہ لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں 104۔ تم ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے باوجود تفرقہ ڈالا، انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے (105)جس دن بعض چہرے سفید ہونگے بعض سیاہ (سیاہ چہرے والوں) سے کہا جا ئے گا کہ تم نے ایمان لا نے کے بعد کفر کیوں کیا اب اپنے کفر کاعزاب چکھو۔اور سفید چہرے والے اللہ کی رحمت میں داخل ہونگے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے( 106) اے نبی ﷺ ہم حقانی آیتوں کی تلاوت کر رہے ہیں کہ اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں ہے( 107)اللہ ہی کے لئیے ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور اللہ کی طرف سب کام لوٹا ئے جا ئیں گے( 108)

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles and tagged , . Bookmark the permalink.