مدینہ جیسی ریاست کا قیام ناممکن ہے؟۔۔۔شمس جیلانی

قر آن میں یہ بار بار دہرایا گیا ہے کہ“ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے؟ جبکہ ہمارے یہاں تصور اس کا الٹ ہے۔ کہ ہر آدمی جو کسی قسم کی عبادت بھی کرے سمجھتا ہے کہ اس نے نعوذو بااللہ،اللہ سبحانہ تعالیٰ پر عبادت کرکے احسان کیا ہے اور اب وہ اس کا ہر گناہ معاف کردے گا؟ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ بول کر ذرے کا پہاڑ بنا کر دوسری تمام برائیاں کر کے مطمعن ہوجاتا ہے کہ میں نے کیسا لو گو ں کو بیوقوف بنا یا ہے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حقوق العباد معاف کرنے کا وعدہ نہیں فرما یا، شرک اور تکبر بھی انہیں میں شامل ہیں۔ حالانکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اصل میں اس نے خود کو بیوقوف بنایا ہے۔ ان ہی میں بڑے بڑے دعوے بھی کرلینے کی عادت شامل ہے۔ جیسے کہ یہ کہناہے کہ میں“پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنا دونگا“۔ حالانکہ ہر کسی کو ایسے دعوے کرنے سے پہلے اچھی طرح سے سوچ لینا ضروری ہے کہ جو وہ دعویٰ کر رہا ہے وہ اس کے بارے میں کچھ جانتا بھی ہے اور وہ وعدہ وفا بھی کرسکے گا، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے؟ اگر کہنے والا یہ سوچ لیتا کہ جنہوں ﷺنے مدینہ منورہ کی ریاست بنا ئی تھی ان ﷺجیساکو ئی تاریخ میں پہلے تھا اور نہ انشا ء اللہ آئندہ کبھی ہو گا اور نہ ہی آئندہ کوئی مدینہ منورہ جیسی ریاست بن سکے گی۔ کیونکہ کوئی شخص کتنی ہی محنت کیوں نہ کرلے وہ بانیﷺ ریاست مدینہ جیسی صلاحیتیں خود میں پیدا ہی نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ ﷺ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اس تخلیق کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی ابتدا حضرت آدم علیہ اسلام ہوئی تھی؟پھر کوئی اور مدینہ جیسی ریاست کیسے بنا سکتا ہے۔ جبکہ یہاں اگر ہم پھر قرآن کی طرف لوٹیں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمارہا ہے حضرت آدم ؑ کی پیدا ئش سے پہلے کہ“ میں زمین پر اپنا خلیفہ ﷺبنا نے جا رہا ہوں“ اسی سے ہر عقلمند اندازہ لگا سکتا ہے اگر وہ واقعی اللہ سبحانہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کاجو خلیفہ ہوگاوہ کیسی صلاحیتوں کا مالک ہوگا جیسے کہ ریاست مدینہ کے والی ﷺتھے۔ اگر کہنے والا ان ﷺسے پوری طرح واقف ہوتا تو اسے ہر بات کا علم بھی ہوتا اور وہ اپنی صلاحیتیں دیکھ کر یہ کہنے کی کبھی جرا ء ت نہیں کرتا۔ اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتا؟ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جیسے اورلوگ بڑے بڑے دعوے ماضی میں کرتے رہیں اور کیا کچھ بھی نہیں۔ایسا ہی یہ بھی اسی سلسلہ کاایک دعویٰ تھا۔ جسے پورا کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔ جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو تاکہ اس کی ساری منصوبہ بندی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمائی تھی؟ اور اس کا واضح ثبوت قرآن میں موجود ہے کہ“ وہ اپنے نبی ﷺ سے فرمارہا ہے کہ آپ کتنی ہی کوشش کرلیتے مگر لوگوں کے دلوں میں اپنے لئیے ایسی محبت پیدا کرنا آپ کے لیے ناممکن تھا جیسی کہ میں نے ان کے دلوں میں آپ کے لئے ڈالدی“۔ میرا وہاں کے باشندوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ عمران خان کو معاف کردیں اور آئندہ یاد دہانی کرانے سے بھی رک جائیں، کیونکہ میرے خیال میں ایسا سوچنا بھی بے ادبی ہے۔ اس لیئے کہ ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور نصرت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی، رہنمائی اور صحبت نبی ؑ کی درکار ہے۔ نبیؑ اب کوئی آنا نہیں ہے اس لئیے کہ حضورﷺ خاتم النبین ہیں ایسا نہ ہونے سے جعلی دعویداروں کا رد بھی ہوتا ہے۔ البتہ احادیث کے مطابق نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد یہ ممکن ہوگا،جس کاذکراحادیث کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ اس کے بغیر نا م و نہاداسلامی ریاستیں توبن سکتیں ہیں جوکہ اس وقت بھی موجود ہیں۔ مگر مدینہ منورہ جیسی ریاست نہیں بن سکتی۔کیونکہ دلوں کوپھیرنے اور تزکیہ نفس کرانے والا تو ہمیشہ ان کے درمیان میں موجود رہتا ہے جوکہ اس نافر مانی کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ اس صورت ِ حال میں منا سب اور بہتریہ ہی ہے کہ عاقبت اگر بچانا ہے تو اس کا ذکر ہی چھوڑدیں آئندہ میں بھی مدینہ منورہ جیسی ریاست پر بات نہیں کرونگا۔ کیونکہ دنیا میں ویسی ریاست کہیں قائم ہی نہیں ہے لہذا مجبوری ہے۔آئیے دعا مانگیں کہ اس وقت جو حالات ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے (آمین) البتہ جو دین کے سلسلہ میں تبلیغ کاکام کر رہے ہیں وہ ہمت نہ ہاریں اپنا کام جاری رکھیں تاکہ بلا ئیں اور عذاب رکے رہیں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ “ہم کسی بستی پر عذاب جب بھیجتے ہیں جبکہ کوئی برائی اور ظلم کو وہاں روکنے والا نہ رہے اور اللہ والے بھی نہ رہیں ً لہذا ان دونوں کا رہنا بستیوں کی بقا کی ضمانت ہے۔

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.