اسلام اور مسلمان دوسرے ملکو ں میں۔۔۔شمس جیلانی

میں گزشتہ تیس سال سے آپ لوگوں کی خدمت میں اچھی باتیں پیش کر رہا ہوں۔ کیوں! اس لئیے کہ میرے یہاں آنے کامقصد مالی مفادات نہیں تھے۔ میرا اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ وعدہ تھا کہ جب میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجا ؤں گا تو میں صرف اور صرف انسانیت اور تیرے دین کی خدمت کرونگا۔اس کے لئیے میں نے کنیڈا کو یو ں منتخب کیا کہ یہاں ہر شعبے میں بے شمار لوگ بطور رضا کار کام کر رہے ہیں جس کو پاکستان میں “اعزازی طور پر “ کام کرنا کہتے ہیں،جو کہ بچوں کو دور ِ طالب علمی سے ہی یہاں کرنا لازمی ہے اور ان کے مستقبل میں بھی وہ آئندہ کام دیتا ہے۔ اس پر ان کو کریڈٹ بھی ملتا ہے۔لہذا میں نے1989ء سے دن و رات دونوں میدانوں میں کام کیا دونوں جگہ اعزازات سے بھی نوازا گیا جو کہ میرا مقصد نہیں تھا کیونکہ میری یہ عبادت خا لصتاً اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئیے تھی اور ہے اور ان لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے بہتر مستقبل کے لئیے ہجرت کی تھی گو کہ وہ اسلامی ہجرت میں نہیں آتی مگر وہ اب بھی اب اپنے روز مرہ میں تبلیغ کوشامل کر لیں تو ان کی ہجرت بھی اسلامی ہجرت بن سکتی ہے کیونکہ حدیث ہے کہ ” ہر عمل کا دارومدار نتجائج پر ہے” اور آزادی سے اپنا قلم بھی استعمال کیا کہ یہاں کوئی ٹوکنے والا اور کچھ کہنے والا نہیں تھا۔ اور لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے۔الحمد للہ آج تک میری کو ئی تحریر یا تقریر متنازع نہیں بنی۔ کیونکہ میرا اصول ہے کہ اپنے عقیدے کو چھوڑو مت اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑومت؟ یہاں آپ پوچھیں گے کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ جس کاحکم مجھے قرآن نے دیا, جس پر کسی کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتاہے۔ کیونکہ بحیثیت مسلمان دین پہچانے کا حکم ہر مومن کو ہے جسے اپنی گفتار سے کم اور کردار سے زیادہ پہنچانا ہے کیونکہ حضورﷺ نے عمل کرکے دکھایا ہے تاکہ لوگ دیکھ کر کہہ سکیں کہ یہ ہے اسلامی کردار۔؟ لوگو ں تک آپ کو بطور مبلغ پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے مگر کسی پر داروغہ نہیں بنایا گیا ۔ میں نے حضور ﷺ کی سیرت سے بات شروع کی جو کہ اخباروں میں قسطوار وار شائع ہوکر کتابی شکل میں آگئی اور وڈیو پر بھی یوٹیوب میں موجود ہے جس میں میرے معاون مسعود عمر صاحب ہیں اور یہ کتاب میری ویب پر بھی ہے،میرے اس صدقہ جاریہ میں بہت سے لوگ قیامت تک کے لئے شامل ہوگئے جن میں سے کئی اللہ کو پیارے ہوگئے ان میں سے ایک پاکیزہ ٹورنٹو کے ایڈیٹر صبیح منصور ہیں جو ٹورنٹو میں تھے اور اسی ایریا میں انکی جگہ موجود لوگوں میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ندیم ہیں،ونیکو ر میں پیر زادہ نصیر مریکل نیوز کے ایڈیٹرہیں اور لندن عالمی اخبار کے انتہائی قابل ِ احترام جناب صفدر ھمدانی میرے عزیز ترین دوست اورایڈیٹر ان چیف ہیں۔ حضور ﷺ کی سیرت بہت مقبول ہوئی اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ، عمرؓ، عثمان ؓ، علی کرم اللہ وجہہ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن ؑ، حسینؑ51 نامور صحابیات ؓ، عشرہ مبشرہ، قصص الانبیا اورؑ حقوق العباد اور اسلام لکھیں اور سب کی سب الحمد للہ بہت مقبول ہوئیں کیونکہ میں جب قلم ہاتھ میں لیتا ہوں تو غیر جانبدار ہوجاتا ہوں۔ ان میں بھی میں نے خود کو ہمیشہ فرقہ واریت سے بالا تر رکھا اور میری کتابیں کبھی بازار میں فروخت نہیں ہوئیں کیونکہ آجکل کتابیں خرید کر پڑھنے کا انٹر نیٹ کی وجہ سے رواج ہی نہیں رہا؟۔اور بغیر کسی شور اور شرابے یا ذاتی نمائش اور مشہوری کہ خاموشی اور کا میابی سے کام جاری رکھا کسی سے کبھی چندہ نہیں مانگا،اس سلسلہ میں اپنی فیملی کا شکر گزار ہوں اس لئیے کہ ان میں سے ہر فرد نے میرے ساتھ تعاون کیا؟ اس کے بعد میں اپنے تمام قارئین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پسند کیا اور اتنے سالوں تک مجھے برداشت کیا۔ اب جبکہ میں چند دن پہلے میں گیارہ دسمبرکو نوے سال میں داخل ہونے سے پہلے اسپتال میں بھی پانچ دن رہ آیا ہوں، موت سب کو آنا ہے۔اس لئیے اپنے اس تیس سالہ تجربہ کانچوڑ پیش کرہا ہوں۔ تاکہ وہ لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو کہ اس میدان میں کام کر رہے ہیں مگر کامیابی نہیں حاصل کر سکے؟ اور خاص طور سے پاکستان میں تو ہر حکومت ناکام رہی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام بہت سیدھا سا مذہب ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں پورا اسلام بیان فرما دیا ہے۔ اور وہ ہے کہ “تم اللہ کی اطا عت کرو اس کے رسول ﷺ کی اطاعت،کرو اور جو تم میں سے اولامر (صاحب اختیار ہوں ان کی اطاعت کرو“ مگر ہم نے اس کو اٹھا کرایک طرف رکھدیا؟جوکہ میرے خیال میں واحد ذریعہ تھا روزمرہ کی قانون سازی کے لیے جو کہ بعد میں پیش آتے رہیں گے۔ہم جسے اسلام کہتے ہیں وہ شروع حضرت آدم ؑ سے ہوا اور بتدریج چلتے ہوئے مکمل ہوا خاتم النبین حضور ﷺ پر۔ دوسری بات جو ہم نے جو ترک کردی وہ تھی “ رخصت “ یعنی جب انسان کسی فرض کو ادا کرنے پر کسی وجہ سے قادر نہ رہے جیسے کہ بیماری پر یا ضعیف پر روزے وغیرہ یا غیر ممالک میں رہتے ہوئے بہت سے اسلامی قوانین پر عمل کرنے پر۔ جبکہ جب تک ریاست مدینہ پوری طرح قائم نہیں ہوئی تھی تو حضور ﷺ حتیٰ الامکان دین پر عمل کرنے پر بیعت لیتے تھے، خاص طور سے خواتین سے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو امت کو درپیش ہیں جوکہ اسلام کی تبلیغ میں بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات عجیب واقعات سامنے آتے ہیں جو کنیڈا میں کم ہیں پاکستان میں مگر بہت ہیں۔ کہ ایک مرتبہ برف باری ہورہی تھی امام مسجد نے حضور ﷺ کی سنت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے جمعہ فوراً بعد عصر کی نماز بھی پڑھادی نتیجہ کے طور پر انظامیہ نے امام کو فارغ کر دیا؟ یا نارتھ پول سٹی میں پانچ وقت کی نماز جہاں کبھی دن ایک گھنٹے کا ہوتا ہے تو کبھی رات ایک گھنٹے کی ہوتی ہے۔ یہ ہیں وہ مشکلات جو اسلام کی تبیلغ میں حائل ہیں اس قسم کے واقعات کا تدارک جبھی ہوسکتا ہے جبکہ کوئی مرکزی کونسل ہو اوروہ بہت سے روز مرہ پیش آ نے والے واقعات پر بر وقت فیصلہ دے سکے۔ ورنہ یہ مسئلے ہمیشہ ایسے ہی الجھے رہیں گے۔؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.