ہزارے بھی انسان ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

تنے بڑے صوبے میں جو پاکستان سب سے بڑا صوبہ ہے یہ وہ مظلوم اقلیت ہے کہ جس کا تیس چالیس سےقتل عام ہو رہا مگر نہ حکومت کے کان پر جوں رینگی نہ ہی اپوزیشن کے کان پر۔خبر یہ ہے کہ ان بیچاروں نے تنگ آکر پورا صوبہ خالی کرکے خود کو تین میل مربع کے رقبہ میں مقید کرلیا تھاتب کہیں جا کے ان کو اس قتل عام سےچھٹی ملی تھی۔ شدت پسندی اس وقت نہ جا نے کون کرا رہا تھا جبکہ موجودہ اپوزیشن اس وقت حکومت میں تھی؟ کیااس کمیونٹی کو زندہ رہنے کے لیے حصار سے باہر مزدوری کے لئیے جاتا دیکھ کر عرصہ بعد دو بارہ وہی شدت پسند طبقے پھر جاگ گئے ہیں؟ جو کہ جب حکومت میں تھے تو سرگرم تھے اور ان ہی کے ماننے والے ان پر ہاتھ صاف کر رہے تھے ۔ جبکہ آج وہ ان کے ہمدرد بن کر سامنے آئیں ہیں، جن کے اگر پرانے کپڑے تلاش کیئے جا ئیں تو بھی ہزارہ خون سے وہ آلودہ ملیں گے۔ ایک دوسال سے کچھ چین تھا جس کو انگریزی میں انٹرویل کہہ سکتے ہیں پھر ظالموں کی نگاہ انتخاب ان کی طرف گھوم گئی۔ مجھے یہ مفاد پرستوں کی کا رستانی لگتی ہے۔ جو کہ اسے بھی برداشت نہیں کرسکے وہ اپنے اس شہر سے کہ وہ سالوں سے محصور ہیں نکل کر کانو میں مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال سکیں؟ بلوچستان جو پہلے ہی بہت حساس علاقہ ہے اور مولانا حضرات کا گڑھ بھی ہے۔ اس سےان کی تحریک کو زندگی مل سکتی ہے جو کہ دم توڑ چکی ہے۔یہ تو تھا اس کا ایک پہلو جوکہ اس دفعہ اتنے دنوں کے بعد اس میں ابھار آیا ہے؟
مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ ہے موجودہ حکو مت کی لا پر وائی کہ اس کان میں ہزارہ کمیونٹی کام کرنے لگی تھی یا اس کے مالکوں نے رحم کھا کر اپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دیدی تھی تو یہ ایک اچھا قدم تھا آخر ان کی بنیادی ضرورت پوری کرنا اور ان کی حفاظت کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داریتو ہے ہی جوکہ ترمیم شدہ قوانین کے مطا بق ہے۔ لیکن اس سے خود کو مرکزی حکومت بھی بری الذمہ نہیں کرسکتی اس لیے کہ وہا ں سی پیک جیسا منصوبہ زیر تکمیل ہے جس پر پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے جو کہ ہمارے ازلی دشمنوں کو قطعی پسند نہیں کہ پاکستان ترقی کرے ؟مرکزی حکومت کو معلوم ہے کہ ایک دشمن نے اربوں روپیہ اس کام کے لیے مختص کیئے ہیں کہ بلوچستان کا امن خراب کیا جائے؟ لیکن وزیر اعظم صا حب کے پاس اس علاقے میں جانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ اس لیے کہ انہیں جہاں جا نے سے روکنا ہو توان کے کان میں بس یہ اطلاع ڈالدینا کافی ہے کہ وہاں ان کے لئے سکیوریٹی رسک ہے؟ اور اس کے بعد کرنے والے جو چا ہیں وہاں کرتے پھریں۔ اسی لئے ابن تیمیہ نے لکھا تھا کہ جب تم اپنے حکمراں منتخب کرنے لگو تو اس میں دونوں خوبیاں دیکھوجو اس میں ہونا چا ہیئے؟ وہ ہے تقویٰ اور شجاعت۔ لیکن اگر تقویٰ کم بھی ہو اور وہ شجیع ہو تو اس کو ترجیح دو اس لیئے کہ تقویٰ تو اس کی ذات کے لئیے ہے جبکہ شجا عت ریاست کے لئیے ہے؟ اس کے مظاہرے پہلے دن سے نئی حکومت پاکستان میں آنے کے بعد وہاں دیکھنے کو روز مل رہے ہیں کہ وزیراعظم صاحب عید کی نماز پڑھنے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے؟ بلکہ شروع میں تو اسی سکوریٹی رسک کی وجہ سے وہ اپنے گھر تک ہیلی کاپٹر پر جایا کرتے تھے۔ یہ پاکستان میں اس سے کبھی نہیں ہوا تھا کہ عید کی نماز ہو اور وزیر اعظم عید گاہ میں جا کر نماز نہ پڑھے؟ اب بھی وہی مسئلہ ہےکہ جن کے لعل شہید ہو ئے ہیں وہ کہہ رہی ہیں جو زیادہ تر خواتین ہیں کہ وزیر اعظم صاحب تشریف لے آئیں تو ہم ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں گی؟ اور وزیر اعظم صاحب کے کان میں کہدیا گیا ہے کہ ان کے لئیے سکوریٹی رسک ہے ؟ جبکہ اپوزیشن میدا ن مارنا چا ہتی ہے وہ اس آگ کو مزید بھڑکانے میں پیش ، پیش ہے؟ ایسے میں وہ غریب خواتیں پانچ دن سے وزیر اعظم صاحب کاانتظار اپنے پیاروں تدفین کے لیےکر رہی ہیں اس کے باوجود کہ درجہ حرارت بڑی حدتک نیچے ہے۔ ان میںایک بچہ جو شہید ہوا ہے اس کی ہمشیرہ شاید اس پرافسوس کر رہی ہوکہ میں اپنے زیورارت بیچ دیتی اور بھائی کی فیس جمع کرادیتی اور اپنے ویر کو کبھی وہاں مزدوری کے لئے نہیں جانے دیتی جو؟ اسکول کی فیس جمع کرانےکے لئےوہاں مزدوری کرنے گیا تھا؟ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک طویل محاصرے کی وجہ سے اس چھوٹی سی بستی کی کیا حالت ہوئی ہوگی اور کتنے مجبور ہیں وہ لوگ۔انکا جرم یہ ہے کہ وہ بقیہ آبادی کی اکثریت کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ میں نے قرآن اور حدیث میں پڑھا ہےاور شاید وزیر اعظم نے پڑھا ہو کہ موت کا ایک وقت معین ہے وہ ٹل نہیں سکتا؟مسلمان کہتے ہیں کہ ہم قرآن پر یقین رکھتے ہیں مگر عمل کچھ اور بتاتا ہے؟ اب کوئی بتلا ئے ہمیں کہ ہم بتلا ئیں کیا؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles and tagged , . Bookmark the permalink.