مسلم قوم کا المیہ یہ ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس کو متحد کرنے کے لئیے جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ حتیٰ کے اتحاد کی کوشش کرنے والےلوگ اپناقد اور قامت کھوبیٹھے۔ وجہ پراگر آپ غور کریں گے تو آپ کو اس نتیجہ پر پہنونچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ مسلم امیہ سورہ الانعام آیت نمبر65کے تحت عذاب کا شکار ہے۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نےتین عذابو ں ذکر فرمایا ہے کہ میں اوپر سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوں پیروں کے تلے سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہوںاور تمہیں ٹکڑیاں کر کے آپس میں لڑا دینے پر قادر ہوں۔حضورﷺ کی درخواست پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دو پہلےعذابوں سےاس کو تباہ نہ کرنے کا وعدہ فرمایا، مگر ایک عذاب کے لیے فرمایا کہ یہ اس امت کا مقدر ہو چکا ہے وہ ٹکڑیاں کرکے آپس میں لڑانا۔گزشتہ مرتبہ ہم نے اپنے کالم میں بتایا تھا کہ تقدیرِ مبرم اٹل ہوتی ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے۔ لہذا جتنے لوگوں نے بھی مسلم امہ کو متحد کرنے کی کوشش وہ سب ناکام رہے۔انہیں میں سے ایک نام ہم نے جو ذکر کیا تھا وہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کا تھا۔ انیسویں صدی کی مسلمانوں میں جہالت دور کرنے اور مدارس قائم کرکے جہالت دور کرنے کے سلسلہ میں کلیدی حیثیت گھٹ کر آزاد دائرہ المعارف کی وکی پیڈیا کے مطابق اب صرف دیوبند کے ایک معمولی استاد رہ گئے ہیں۔جبکہ دیوبند کے سلسلہ میں قدم قدم پر حضورﷺ نے رہنمائی فرما ئی؟لہذا اب امید رکھنا کہ کوئی کبھی مسلمانوں کو متحد کرسکے گا۔ قرب قیامت سے پہلے ناممکن ہے۔ اس خادم نے بھی اپنی زندگی کے 90 سال خرچ کیئے نتیجہ صفر رہا۔لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں بھائیوں اپنا اپنا کام کرو،یہ خواب اس جاری عذاب کی موجودگی میں ناممکن ہے۔ کہ تمام دنیا کے مسلمان ملک ایک ہو جائیں یاسارے مسلمان ایک ہو جائیں ۔ بجائے اس کے اب مسلمانوں کو مشورہ یہ دیں کہ شیخ اپنی اپنی دیکھ؟ تو اب ایک راستہ رہ جاتا ہے اور یہ ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ حالانکہ زیادہ نے ہجرت اپنے ذاتی مفاد کے لئیے تھی۔ چونکہ صرف نیت تبدیل کر نے سے اللہ رحمت حاصل کر نے کا ایک مو قعہ باقی ہے۔لہذا جو جہاں ہے وہا ں رہتے ہو ئے روزانہ تھوڑا وقت اپنے بچوں کی تربیت اور تبلیغ کے وقف کردیں اور اسلامی ہجرت کے ثواب کے مستحق بن جا ئیں۔ اس کے لئیے کسی عالم کے پاس جا نے کی ضرورت نہیں ہے؟
اس ایک آیت میں جوکہ سورہ النہل کی آیت125 ہےاللہ سبحانہ تعالیٰ نے پورا تبلیغی کورس اس ایک آیت جمع کردیا ہے ایک مسلمان مبلغ کے لئیے چاہئیں وہ عام تبلیغی مسلما ن ہو یا عالم دو نو ں کی ہدایت کے لئے حکمت سے پر پورا کورس موجود ہے کہ چونکہ اس ایک آیت میں جس کا اردوترجمہ اور تفسیر کا لب لباب یہ ہے کہ جب کسی کواللہ کے دین طرف بلا ؤ تو ہمیشہ یہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہوں پہلی حکمت دوسری بات کرنے کا بہترین انداز جس میں موقع محل سب آجاتا ہے۔لیکن ہم اس پر غور تب ہی کرسکتے ہیں۔ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے تھوڑا سا وقت تبلیغ کے لیئے نکال لیں جس کی سب سے زیادہ حضور ﷺ نے تاکید فرما ئی ہے جس کا خطبہ حج وداع گواہ ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ تم میں ایک جماعت ہونا چاہیئے جو لوگوں کو برائی سے روکے اور اچھا ئی کی تلقین کرے۔ ویسے الحمد للہ اس نام کی ایک جماعت بھی قائم ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے بانی کی قبر کو روشن رکھے جنہوں اس کی بنیاد رکھی ورنہ وہ نہ ہوتے تویہ بھی نہ ہوتی اللہ تعالیٰ جس سے جو چا ہتا ہے کام لیتا ہے۔ جبکہ وہ بھی بالواسطہ شاگرد حضرت امداد مہاجر(رح) مکی کے ہی تھے جو بانیِ دیوبند تھے مگر وہ ناکام رہے نتیجہ یہ ہوا کہ استاد پیچھے رہ گئے وہ آگے نکل گئے؟۔ انہوں نے صرف اپنے ذاتی وسائل پر یہ کام شروع کیا تھا۔ وہ بھی ان لوگو ں پر جو اسلام کے الف اور ب بھی نہیں جانتے تھے جوکہ میؤ کہلاتے کوئی ساتھ لاکھ کے قریب آبادی تھی وہ بھی دہلی کے آس پاس۔ اور وہ اتنے طاقتور تھے کہ جب چا ہتے تھے دلی کو لوٹ لیتے تھے۔انہوں نے ابتدا ء یہاں سے کی کہ وہ کسی گذر گاہ پر کھڑے ہوجا تے اور جب مزدور صبح کو مزدوری کی تلاش میں جاتے نظر آتے تو ان سے پوچھتے کہاں جارہے ہو تو وہ بتا تے کہ مزدوری کی تلاش میں وہ معلوم کرتے کہ کتنی مزدوری لوگے وہ بتا دیتے اور وہ کہتے کہ وہ مزدوری میں تم کو دونگا آج پانچوں وقت کی نماز پڑھو اور اس طرح وہ چالیس دن کا کورس کروادیتے۔ پھر وہ عادی ہوجاتے توفرماتے دیکھو اب نماز چھوڑ نا مت؟ اس کے بڑے فائد ہیں اس طرح چراغ سے جلتا رہا اور کارواں بڑھتا رہا ایک مخلص انسان کی کوشش نے کتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع کردیئے ان کی صحیح تعداد توکسی کو بھی معلوم نہیں، مگرمیرا اندازہ ہے کہ وہ کم سے کروڑوں میں ہے۔مگر ابھی تک ان کا نصاب وہی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ان کے یہاں اسے کچھ زیادہ کار آمد بنا نے کی اتنی کوشش نہیں ہوئی جتنی رقم وہ لوگ اپنی جیبِ خاص سے خرچ کر کے سالانہ مختلف ممالک میں جمع ہو تے ہیں اس طرح اپنا وقت اور مال خرچ کرتے ہیں اپنا کاروبار چھوڑ کرپوری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اس پر قومی وسائل خرچ ہورہے ہیں آج سے نہیں ایک مدت گزرگئی۔ وجہ کیا ہے کہ ہم میں آپس ہم آہنگی نہیں ہے۔ حالانکہ سب کا مقصد ایک ہی وہ ہے اللہ کے دین کی خدمت کرنا اور اس طرح اللہ کی خوشنودی حاصل کر نا۔ وجہ کیا ہے وجہ وہی ہے کہ ہم ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہر ایک اپنی مشہوری یااپنے فرقے کی سر بلندی چاہتا ہے۔ جب کے صرف اللہ کے لئیے کام کرتے ہوتے تو انہیں اپنی یا اپنے فرقہ کی شہرت کی پر واہ نہیں ہوتی؟ اور آج نتا ئج کچھ اور ہوتے؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما ئے(آمین)

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles and tagged . Bookmark the permalink.