(101 – 150) قطعات شمس جیلانی

101
دعاعباس رضا زیدی کی نویں سالگرہ پر

میری دعا ہےکہ عباس کی عمر خدا دراز کرے
سراپا علم کرے اورعالمِ جید وہ کار ساز کرے
دے علم وہ ایسا کہ راضی رہے خدا جس سے
نانا صفد رو کنبہ ہی نہیں، کل جہان ناز کرے

102
ماں نہیں یقین ہے؟ شمس جیلانی

گماں نہیں یقین ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
وہ حقیر بندوں میں اپنے مجھکو شمار کرتا ہے
یہ اس کی دین ہے قناعت عطا کری مجھ کو
سر بھی ایسا کہ سجدے جو بےشمار کرتا ہے

103
بلاؤں سے ذریعہ نجا ت توبہ۔۔۔ شمس جیلانی

بھیج بلا،یاددلاتا ہے بندوں کودامن گناہوں میں سنا ہے
خود ہی معاف بھی کرتا ہے وہ جو لائق حمد و ثنا ہے
بس گرجاؤ تم سجدے میں کہ واحد وہی جائے پناہ ہے!
ہر اس کام سے توبہ کرو کہ مومن کو جو کرنا منع ہے

104
فکر ِمآل ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہوگا اب کیا مآلِ ملت یہ خوف مجھ کو ستارہا ہے
ہو ئےجو ہیں خشک آنسو، وہ خوں کے آنسو رلا رہا ہے
بلائیں ٹلیں گی کیسے خوف ہے جو کہ بیکل بنا ر ہا ہے
نہ کرتا توبہ ہے آج کوئی ، نہ ہی رب کو جاکر منا رہا ہے

105
ترقیِ درجات۔۔۔ شمس جیلانی

میرامشاہدہ ہے جس سے راضی ہو رب دیں کا کام لیتا ہے
یہاں کرے ہے صبر جو، اسکووہاں پر بے حد انعام دیتا ہے
نہ کسی سےلڑتا ہو وہ نہ بحث و تکرار ہو روش اس کی
تب دلوں میں اپنے بندوں کے وہ ا سے اعلیٰ مقام دیتا ہے

106
تلاش ِفلاح گناہوں میں؟۔۔۔ شمس جیلانی

ہم سمجھے تھے قوم ہےدانا ،کر توبہ رضا ڈھونڈ رہی ہے!
عقدہ یہ کھلا ہم پہ وہ گنا ہوں میں فلاح ڈھونڈ رہی ہے
بشکلِ جرثومہ اُدھر ہر بندہ ِخطا کارکوبلا ڈھونڈ رہی ہے
یعنی کہ قضا ڈھونڈرہی ہے بحکم ِ خدا ڈھونڈ رہی ہے

107
وجود باری تعالیٰ۔۔۔۔۔شمس جیلانی

کہہ گئے ہیں بزرگ شاعر “کوئی تو ہے جو نظام ِہستی چلا رہا ہے“
یہ دور ہےدور ِسائنس بظاہردیکھوکہ روبوٹ بیٹھا کشتی چلا رہا ہے
جھا نکوگہرایوں میں پتہ چلےگا پس پردہ انسان بیٹھا گُل کھلا رہا ہے
ملحد پھر بھی کہدے خدا نہیں ہے! وہ جگ کو خود پر ہنسا رہا ہے

108
حیرانی سی حیرانی۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں مجھے اف حیرانی سی حیرانی ہے
ہوگئی پختہ ابھی لو گوں میں بے ایمانی ہے
میں تو سمجھا تھا ہراک لب پہ اب توبہ ہوگی
ہے کرشمہ کہ بڑھاکچھ اورکار ِ شیطانی ہے

10
مسجد آیا صوفیہ میں چھیاسی سال کے بعدجمہ

یہ مسجد چھیاسی سال سے ویران تھی پڑی
بوٹوں کی ایڑھیاں کرتی تھیں بے عزتی بڑی
یہ اک مرد آہنی کمال اتا ترک کی تھی دَین
طیب اردگان نےواپس کیا ملت کو اپنی چین

110
علم جتنا بڑھا جہالت بڑھی شمس

کون مانے گا اس سے جلالت بڑھی
جو چھوڑا اسوہ نبی خجالت بڑھی
ایسی تعلیم شمس ہے کس کام کی
علم جتنابڑھتا اورجہالت بڑھی

111
کلیہ القاب۔۔۔ شمس جیلانی
جن کا لب پہ آئے ذکر سب پڑھیں درود سلام ہیں !
یہ لوگ وہ ہیں جو کہ سب کہ سب ،علیہ اسلام ہیں
بس راز وہ ہی جانے ہے جو واقفِ راز ہے اے شمس
اُن کو خبر ہے کیا؟ بندہِ عقل ہیں، اسی کے غلام ہی
112
مومن اور شیطان۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کوئی ایسا نہیں کہ تاک میں شیطان نہیں ہے
بات بس اتنی ہے کہ اس کی اسے پہچان نہیں ہے
شمس کر نہ سکے جوکہ اپنی نمازو ں کی حفاظت
مشکل ہے اسےوعدو ں کا نباہ کرنا، آسان نہیں ہے

113
حج اور عید مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

نہ چہروں پروہ رونق ہے نہ ہی عبادت میں مزہ ہے
یہ حج وعید ہے یاکہ امت کےگنا ہوں کی سزا ہے
نہیں آتی نظر ہے قوم یہ آمادہِ توبہ ابھی تک!
وہ دیکھوجبلِ رحمت ہےافسردہ, اور خالی پڑا ہے

114
سعودی خطبہ حج کے مضمرات؟ شمس جیلانی

حیرت ہے جو سزا کو امتحاں بتا رہے ہیں
تھی جن سےامیدِرہنمائی وہی بہکارہے ہیں
توبہ بنا اور معافی، یہ سنت ِرب نہیں ہے !
اسطرح تو خود ہی کشتی ڈبانے جا رہے ہیں

115
عر مذلت کی وجہ۔۔۔ شمس جیلانی

میں اس رب کو پیار کر تا ہوں ہاتھ میں جسکے عزت و ذِلّت ہے
یہ ہی سرشت ِ انساں ہے اور ہر بشر کی لکھی ہوئی جبلّبت ہے
خود بنا کر بتوں کو پوجے ہے یہ اس میں آئی کہاں سے علّت ہے
جو ہمیشہ سے عار ہے اس کو اور اب وہ باعث ِ قعَر ِمذلّت ہے

116
رب پیارا ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

جو خالق ہے ، مالک ہے ،واحد سہارا ہے
ہمیں تو ہر سہارے سے ہمارا رب پیارا ہے
جس کا نام لینے سے ملتا ہے سکوں دل کو
ملا جس سے ہمیں اللہ اکبر کا یہ نعرہ ہے

117
چوری اور سینہ زوری۔۔۔ شمس جیلانی

گڈ مارننگ جو کہتے ہں ہر اک سلام پر
جُل دیتے رہے ہیں وہ اکثر اللہ کے نام پر
رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہی دیں کےکام پر
ہیں جگ کو نچا رہے وہ اب زور ِکلام پر

118
اظہا ِ تشکر۔۔۔ شمس جیلانی

تونے سب کچھ عطا کیا مجھکو
دین ِ برحق سکھا دیا مجھکو
اے خداتو بتا کہ کیا مانگوں
سیدھا رستہ دکھا دیا مجھ کو

119
دیار ِ غیر کی جھلک۔۔۔ شمس جیلانی

ڈھونڈیں سہی یہاں بھی مل جا ئے گا وہی طرز ِ گفتگو
چھینکےکوئی تویہ بھی ہیں کہتے کہ “گاڈ بلیس یو“
چالان بھی یہ کرتے ہیں تو سر کہہ کر ادب کے ساتھ
پائی نہیں ہے ہم نے ان میں بڑائی کی کہیں بھی خو

120
خبردار۔۔۔ شمس جیلانی

ڈرتا نہیں وہ ہے جو جھوٹ کو سچ کی طرح بول رہا ہے
ڈرتا نہیں وہ بھی ہے جو کہ فضاؤں میں زہرگھول رہا ہے
شمس ہو جا ؤ خبردار بچا وقت ہے باقی بہت تھوڑا !
بس چھانے کو عزابوں کا اندھیرا ہے جو پر تول رہا ہے

121
تبلیغ ِدین۔۔۔شمس جیلانی

سورہ والعصر پڑھ لیں معدبانہ عرض ہے
شرما ئیں ہیں ناحق کیا ہم میں یہ مرض ہے
جبکہ یہ حکم ِ خالق ِ ذوالعرش و ارض ہے
کہ تبلیغ ِ دین بھی تو ہر مسلماں پہ فرض ہے

122
یوم پاکستان مبارک ۔۔۔ شمس جیلانی

رمضان کی ستاسویں شب کو بناملکِ پاکستان ہے
نیک ساعت میں بنا یا اس رب کی یہ بھی شان ہے
ایک دن جنت بنےگا مجھ کو ہے اللہ پر اپنے یقیں
یہ بھی وقتی بات ہے جو طرف پھیلا ہوا ہیجان ہے

123
آہ اظہر سید مرحوم ۔۔۔ شمس جیلانی

جو پیش منظر کل تلک تھا اب پس منظر گیا
آہ اظہر سید جیسامیرادوست، ساتھی مرگیا
ہر جگہ ہو تے ہم اے شمس اکثر ساتھ ساتھ!
اب اسے ڈھونڈوں کہا ں وہ تو ابدی گھر گیا

124
اف یہ سیاہ بختی ۔۔۔شمس جیلانی

سیاہ بختوں کو کب کو ئی بھی اپنا مال دیتا ہے
اگر کچھ مانگنے آئیں تو کر بہانہ ٹال دیتا ہے
مگر کرلے وہی توبہ تو بن جاتا ہے پھر ویسا
قسمت جو پلٹتی ہے وہ اچھا اسےمآل دیتاہے

125
آمد ِبہار۔۔۔ شمس جیلانی

یہ اس رب کی دین ہے کہ ہرطرف چھائی بہار ہے
جو غنچے چٹک رہے ہیں اور فضا مشک بار ہے
تم ہر گز نہ گن سکوگے انعا مات اس کے شمس
اتنی عنا یتیں ہیں نہ کوئی حد ،نہ ان کا شمار ہے

126
آئین ِ رب۔۔۔ شمس جیلانی

آئین صرف اس کا ہے جس میں سکون و قرار ہے
وہ خالق ہے حکیم بھی ہے بےحد ہی با وقار ہے
مانے جو اس کی بات وہ فلاح پاجا ئے ہے شمس!
ہیں لوگ رب کی مانتے ہی نہیں یہ وجہ انتشار ہے

127
حضرت امام حسین علیہ اسلام۔۔۔ شمس جیلانی

سنتے ہیں ان کو نانا ﷺسے آیا تھا اک پیام
مقتل میں خود چلے گئے جو حضرت ِ امام
اس راز کو سمجھنا ، فقط ہے ولی کا کام
سمجھے گا وہ کیا خاک جو ہو عقل کا غلام

128
مشیتِ ایزدی ۔۔۔ شمس جیلانی

مشیتِ ایزدی تھی جگمگتا رہے یہ نام
جو کر بلا کو چلدیئے ہو بے خطرامام
تھامرکے پھانسی چڑھنامقدر یزید کا
اوردیں کے پاسباں حسین علیہ اسلام

129
خشش مرحون ِ رحمت۔۔۔ شمس جیلانی

اس کے حقیر بندوں میں، میں خود کو شمار کرتا ہوں
وہ مجھسے پیار کرتا ہے اورمیں اس سے پیار کرتا ہوں
کروں میں شمس بھلا ناز کس طرح کسی ریاضت پر!
کروں جو ایک ہوں نیکی ، تو غلطی ہزار کرتا ہوں

130
دت سے جاری ذکراتھا اسی ذبیح ِ عظیم کا
تھا فیصلہ ازل سے یہ اس اللہ رحیم و کریم کا
مقصود تھا دکھانا رتبہ اسے حضرت ِامام بس
اور بننا تھا آلہ کار یزید کو شیطا ں رجیم کا

131
نانا ﷺنے جوکہا تھا اسے سچ کر، اپنی منزل کو پا لیا

عظمت ملی انہیں قربان خود کوکردیا دیں کو بچا لیا
کیا مشیتِ ایزدی تھی انہیں معلوم تھی وہ شمس!
اس پر انعام جو تھا وہ کنبہ زہرہ ؑ نے بڑھ کر اٹھا لیا

132
حضرت امام حسین علیہ اسلا۔۔۔شمس جیلانی

رستہ دکھا یا گیا جہان کوامام کاایک ہی عمل
جیسے شفاف جھیل میں کھلا ہوا ہوکوئی کَنوَل
پھرزندہ اورجاوید کر گئی انہیں آکر وہیں اَجل
اب لا ئے گا یہ جہان کہاں سے ان کا کوئی مِثل

133
یاد ِحسین علیہ السلام۔۔۔ شمس جیلانی

ظالم تھے جتنے لوگ وہ کوئی نہیں بچا!
وہ بھی نہ سانس لےسکے اک لمحہ چین کی
مقبول ِبارگاہ ہوئی بد دعاحضرت حسین کی
جگ کو ہے یادابتلاء نانا کے نورِعین کی

134
خزینہ حکمت ہیں اللہ رسول (ص) کی باتیں

بشر سے بنا تی ہیں انساں اللہ رسول (ص) کی با تیں
لیکن پسند لوگ ہیں کرتے اکثر فضول کی باتیں
سوا گناہوں کے شمس جن سے کچھ نہ ہوحاصل !
کیوں فضول کرتے ہیں یہ عرض و طول کی باتیں

135
باعث رسوائی۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےسجدے میں گر پڑو تم رب کے سامنے
پھرآجائیں گے فرشتے بھی گرتوں کو تھامنے
بد عنوانیوں میں بڑھ گئے بےانتہا ہیں شمس
یوں رسوا کیا ہے ہم کو ہمارے ہی کام نے

136
بھولا ہوا ہےکام۔۔۔۔ شمس جیلانی

آکر کے بھول بیٹھا ہے کرنا تھا جو کہ کام
دانے تو گن رہا ہے مگر ہے بھولا ہوا امام
وہ کام جو بیاں قرآن میں تفصیل سے ہوئے
جس پر اسے تھا ملنا جنت میں کچھ مقام

137
تربیت میں میانہ روی ۔۔۔ شمس جیلانی

کری جو تربیت اچھی بچے جنت لے کے جاتے ہیں
کری جو تربیت کھوٹی و ہ جہنم گھر بناتے ہیں
محتاط رہنا ہے اگر ہو واسطہ معصوم ذہنوں سے
بڑے نادان ہیں وہ لوگ جو کہ سختی دکھاتے ہیں

138
در بیانِ وعدہ خلافی۔۔۔ شمس جیلانی

کچھ کہہ تود یتے ہیں جوش میں آکر باتیں بڑی
یہ یاد رہتا ہے نہیں کہ اس پر سزائیں ہیں کڑی
وعدہ پورا کریں لوٹ کرآتی نہیں ہے وہ گھڑی
ایسے ہی لوگوں سے جا ئےگی وہاں دوزخ بھری

139
جینے کاراز۔۔۔شمس جیلانی

دنیامیں شمس جینے کا یہ اچھا راز ہے
اس کی رضا پر چلئے جو کہ کا ر ساز ہے
لا ہول پڑھتے رہیے جب بھی شبہ پڑے
شیطاں سے بچتے رہئےوہ دھوکے باز ہے

140
گر ہو اللہ کاباغی؟ شمس جیلانی

اللہ کے باغی کوکہیں چین سے سوتے نہیں دیکھا
تکتارہےگو بیٹھا ہوا ہاتھوں کی ہر وقت وہ ریکھا
پاتال تک جاتا ہے فرشتوں نے جہنم میں جو پھنیکا
کروٹ جو بدلتا ہےفورا“ ہی لگ جا ئے ہے سینکا

141
زیست عزت کے ساتھ۔۔۔ شمس جیلانی

زیست بس وہی ہے گزر جا ئے جو عزت کے ساتھ ہے
تگ و دو کرواس کے لئے جو حیات بعد از ممات ہے
شمس یہ بھی کیا زندگی ہے کہ شاکی رہے سدا وہ رب
ہرکام وہ کرو ہو اسکے واسطے ہاتھ جس کے نجات ہے

142
نسخہ کیمیا۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں زندہ جو رہنا چا ہتے ہو اگرخیر سے تم
نہیں مانگوسوا رب کے کچھ بھی غیر سے تم
رکھو تم دوستی شمس بس اہلِ حرم سے
ہمیشہ دور بھاگو لہو لعب اور دَیر سے تم

143
دربیان تصوف ۔۔۔شمس جیلانی

تصوف ہرگز نہیں پہن کر توب شانو ں پر زلف لہرانے کانام
ہے تصوف اسوہ حسنہِ سرکار ﷺ کو پورا ہی اپنانےکانام
جب شکل دیکھئے کوئی بھی صو فی کی ہے نظر آجائےرب !
ہے یہ کہاوت رنگ میں اللہ کے پورا ہی رنگ جانے کا نام

144
ا چھا کام۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے اچھا کام یہ اس کی مرضی پرچلو
نہ ہی تم غلطی کرواور نہ وہاں جاکر بھرو
رکھو یقیں وہ معاف کردیگا بڑا رحمٰن ہے
دین پر اس کے جیئو اسکی مرضی پر مرو

145
انعام ِ خدا وندی۔۔۔ شمس جیلانی

جو کچھ لکھا رہا ہے تیرا ہی کام ہے
جو لب پہ حمد ،نعتِ خیر الانعام ہے
توجو سراپا مہر ہے رب تیرانام ہے
جاہل کو عالم کردیا تیرا انعام ہے

146
غصہ نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ شمس عجب شہ ہے کہ غصہ نہیں آتا
غصہ نہ کرو بھائی اوروں کو ہے سمجھاتا
غصہ وہ بری شہ ہے عقل ماند ہے پڑجاتی
غصے میں انساں بھی شیطان ہے بن جاتا

147
آپ بیتی۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس زندہ ہی کہاں تھا بیوی کے مر جانے کے بعد
آدمی زندہ ہی رہتا ہے کہاں ساتھی بچھڑ جانے کےبعد
تنہائی کاٹنے دوڑے ہے کچھ اس طرح اس انسان کو
کہ اس کو گھر بھی ویرانہ نظر آتا ہے گھر آنے کے بعد
نوٹ۔۔۔آج ہماری شادی کی انہتر ویں سال گرہ ہے۔
پینسٹھ سال ہم نے ساتھ گزارے اور یہ ویڈیو اس کی
یادگار ہے۔

148
عظمت ِ ماں باپ۔۔۔ شمس جیلانی

سامنےاف بھی نہ کرنا بات کو ئی بھی لگے ان کی بری
اللہ نے فر مادیا قرآن میں ہے ماں باپ کی عظمت بڑی
دونوں میں سے پاؤ جسے اس سے کرالو بخشش یہیں
ان کو گر ناراض بھیجا ہے انہیں کے واسطے دوزخ بنی

149
خطاوار کون ہے؟ شمس جیلانی

ہر صاحب اختیار ہے یوں قابل ِ سزا
جب خوفِ خدا گیا کچھ بھی نہیں بچا
ہر مرض کی دوا ہے بس کلمہِ لا الہ
دنیا یہ چکھ رہی ہے گستاخی کا مزہ

150
ماں باپ ذریہ جنت۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ہی وہ ہیں جو تم کو دوڑنا چلنا سکھاتےہیں
تمہاری ہر حماقت پر جو ہنستے کھلکھلا تے ہیں
ہیں ناداں جو بڑےہوکر ا نہیں کو بھول جاتے ہیں
اور عاقل وہ کر خدمت صلہ جنت جو پاتے ہیں

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in qitaat. Bookmark the permalink.