(201 – 250) قطعات شمس جیلانی

201
سپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی
تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے
بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے
کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے
ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

202
خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا
مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا
شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر
ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

203
پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا
اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا
کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر
غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

204
موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا
ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا
ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا
گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

205
امت کی حالت۔۔۔ شمس جیلانی

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں
اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں
بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز
کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

206
قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے
جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے
بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے
سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

207
کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے
کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے
مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے
پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

208
صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ
جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ
شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ
اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

209
میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ
یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ
شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے
یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

210
اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں
نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں
یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا
جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

211
برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں
برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں
ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں
سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

212
مسلمانوں کی حال۔۔۔شمس جیلانی

آگئے تم کیوں عدو کی باتوں میں
بٹ گئے قبائل میں اور ذاتو میں
کبھی تم جن کو زیر رکھتے تھے
اب پڑے ہو انہیں کی لاتوں میں

213
فہم دین کا کرشمہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوامیں نوے میں داخل تو اللہ و رسول(ص) کو سمجھا
اپنےدین کو جانا میں نے ہراس کے زریں اصول کو سمجھا
پھر رکھدیا میں نے اک طرف ساری فضول رسموں کو!
جب ملی ہدایت مجھے، نا قص بحث فضول کو سمجھا

214
نیا سال مبا رک ہو۔۔۔ شمس جیلانی

نیا سال ہے آیا ہومبارک ہر خوشی لائے
یہ جہان سارا پکارے گنا ہ سے بھر پا ئے!
کریں جوتوبہ تو روٹھا پروردگا من جائے
اب کارونا جیسا نہ کوئی عزاب پھر آئے

215
آخری دعا۔۔۔۔ شمس جیلانی

الٰہی زندہ رکھنا تو جب تک کہ میں فیض پہنچا ؤں
نہ لگے برائی کی تہمت پہلےمیں اس سے مرجا ؤں
روز حشر تورکھنا اے اللہ سرخرواپنے سامنےمجھ کو
نبی(ص) کا واسطہ تجھکو اس دن نہ تجھ سے شرما ؤں
( آمین)

216
چند اشعارحالات حاضرہ پر۔۔۔ شمس جیلانی

جو ظالم کا ہاتھ پکڑےاب کو ئی با قی نہیں رہا
اس واسطے وہ لایا کل جہان کواب زیر عتاب ہے
کرونا تو ایک چھوٹا سا نمونہ دکھے ہے شمس !
آنے کو ئی اور شاید بہت ہی بڑا سا عذاب ہے
ہو سکتا ہےکہ صدیو پر محیط ہو یہ دو رِعتاب
صدی کی کیا وقعت ہے وہ تو اس کو شتاب ہے

217
سب سے زیادہ پیارا رب۔۔۔ شمس جیلانی

ہراک مومن کو جو کہ دل و جان سے بھی اپنی پیارا ہے
سب الہاؤں سے زیادہ بہتر رب اور الہ بس ہما را ہے
جب پکاروجواب دیتا ہےگر کرکے توبہ ا سے پکارا ہے
کون سی شہ ہے اس سے پوشیدہ کیا نہیں آشکارا ہے

218
ا شعار کی آمد؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ جب توفیق دیتا ہے خیالوں کا جمع ا ژدھام ہوتا ہے
انہیں چن کر جو کوئی منتخب کرلےاسی کا نام ہوتا ہے
یونہیں سب ڈینگیں مارے ہیں کہ یہ افکار میرے ہیں
نہ ہو رب کی اگر مرضی تو ہفتوں تک پہیہ جام ہوتا ہے

219
رموزِ تصوف۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں تمہیں لوگو! کب کیسے اور کیا ہو تا ہے
اک اک میدان ہر بندہ ہی کو بس کرنا فتح ہوتا ہے
تفصیل ملتی سینوں میں ہے اور کتابوں میں نہیں
صرف جہاں پر تنہا اللہ اوراک بندہِ پرُ خطا ہوتا ہے

220
عجب عادت ۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عجب عادت ہے تمہاری کہ آرام نہیں ہوتا ہے
دن وہ بڑی مشکل سےگزرتا ہے اگر کام نہیں ہوتا ہے
ہمیشہ صبح دم اٹھناسنت ہے تمہارے نبی (ص) پیارے کی
جودن چڑھے تک سوئےر ہیں ان پر انعام نہیں ہوتا ہے

221
اَلْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِیمان؛ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوس زر میں ہر شخص کچھ اس طرح مسطور ہے
کہ اس جہاں کا بدلا ہوا اب پوری طرح دستور ہے
پہلے کی طرح اس سے کوئی شرما تا نہیں شمس
اس سے دیواریں سجی ہیں “مطلوب ہے مفرور ہے”
ترجمہِ عنوان۔ حیاء ایمان کا جز ہے۔

222
جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمان جھوٹا ہو نہیں سکتاسرکارﷺکا فرمان یہ مشہور ہے
جھوٹ چھٹتاہے نہیں اس واسطےاب ہم سے دلی دور ہے
عید و بقر عید کو ویسی ہی شکلیں تو بنا لیتے ہیں لوگ!
ظاہر بن جاتا ہے ویسا ہی مگر چہرے پر کہاں وہ نور ہے

223
آہ ! سب کےرفیق چل بسے۔۔۔شمس جیلانی

آدمی اچھے بہت تھےبا صَفا و با صِفات
سال بتیس تک رہا میرا،ا ن کا ،اچھا ساتھ
ہم ہر جگہ ساتھ تھےجب بھی جا تے کہیں
چلد یئے وہ چھوڑ کراتنی لائے تھے حیات !

224
ئینِ خدا ۔۔۔۔ شمس جیلانی
اے بندوں ذرا سوچو کہ حکم ِخدا کیا ہے
ہے اللہ سے فقط ڈرنا بندوں سے نہیں ڈرنا
پھرلازم اطاعت ہے سرکارِدوعالم کیﷺ
ہے ان کےہی لئےجینااوران کے ہی لیئے مرنا

225
انسان خطا کا پتلا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

کون کہتا ہے کہ مجھ سے کبھی تقصیر نہیں ہوتی
جو توبہ سے دھل وہ غلطی کہیں تحریر نہیں ہوتی
یہ بندے پر اللہ کی رحمت اوربخشش کے تقاضے ہیں
کرتے ہوئے برائی کی باقی کہیں تصویر نہیں ہوتی

226
مومن اور گالی گلوچ۔۔۔ شمس جیلانی

مومن اور گالی دے وہ یہ تقصیر نہیں کرتا
واللہ مومن کبھی مومن کی تحقیر نہیں کرتا
جہاں دیکھے برائی کو وہ ڈالے ہےوہاں پردہ
و ہ عیب چھپاتا ہے کبھی تشہیر نہیں کرتا

227
یا اللہ توفیق توبہ عطافرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

اک کرونا نے ہے کرڈالا یہ جہانِ کل زیر ِ و زبر
اب دعا ئیں تک سبھوں کی ہوگئیں ہیں بے اثر
دے ہمیں توفیق توبہ! ڈال پھرکچھ ایسی نظر
ہم سب کہ سب بن جا ئیں اب پھر مثال۔ خضر
( آمین)

228
وگئی تبلیغ بھی بے اثر۔۔۔ شمس جیلانی
جماعتیں مصروف ِ تبلیغ ہیں دربہ در
ٹالدیتے لوگ ہیں کہہ کر انہیں اگر مگر
قلب پتھرہوگئے ہوتا نہیں کچھ بھی اثر
تو دانا بینا اور ہے باخر کرعطا انکو اَجر
( آمین)

229
یااللہ ہمیں بصارت عطا فرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک بندے تھے ترے جس سمت بڑھے نصرت ہی نظر آئی ہے
جب سے باغی ہوئے ہر سمت میں ذلت ہی ملی یاکہ رسوائی ہے
ہم کو احساس دلا میرےمالک سامنے خندق ہے یا کہ کھائی ہے
کب شہنشا ہوں کے شہنشاہ سے کسی باغی نےخلعت پائی ہے !
(آمین)

230
خوش قسمت بچہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

خوش قسمت وہ بچہ ہے کہ ماں گود سے اچھی ہوئی تعلیم ہوتی ہے
مشیت ایزدی پر مرنا جینااس کی فطرت میں اور خوئے تسلیم ہوتی ہے
خدا کر دیتا ہے اس کو عطافہم دیں تفہم ِدیں بہتر تریں اپنی رحمت سے
سمجھ اس میں قرآن اور سنت کی اور پھر اچھی بھلی تفہیم ہوتی ہے

231
کر ِروزِ جزا۔۔۔ شمس جیلانی
وہ اللہ سے ڈرے گا کیا جو ڈرتا ہے نہیں روز ِ جزا سے
بچتا نہیں مجرم جہاں کوئی ہے گناہوں کی سزا سے
ڈرتے ہمیشہ ہی رہو دو لفظوں یعنی بیم و رجا سے
ملنا وہاں جنت تو ہے رب کی رحمت اور عطا سے

232
سب سے بہتر کاروبار۔۔۔ شمس جیلانی

مومن جو کماتا ہے کردیتا ہےخرچ راہ خدا میں
اس کے لیئے اس جیسا کوئی اوربیوپار نہیں ہے
برستے ہیں ہمیشہ ہی غیب سے اس پر خزانے !
دیکھااسے ہوتے کہیں پر کبھی خوار نہیں ہے

233
وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے
منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے
یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس
ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

234
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔ شمس جیلانی

حیرت مجھے ہے دنیا پر تب کیسی تھی اب ویسی نہیں ہے
جس آستیں کو بھی ٹٹو لوخوں میں کسی ظالم کےسنی ہے
ڈر کر جو بھی دیکھے ہے کرے ہے وہ ظالم کی ثنا شمس
کہتا ہے کیا دنیا میں اللہ نےبنا ئی ہے، اورکیا خوب بنی ہے

235
کرشمہ مودت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس دنیا نے تجھے چا ہا کیا شدت سے نہیں ہے
١ک دن سے نہیں دودن سے نہیںاک مدت نہیں ہے
جس جگہ سےگزراتومودت سدا پائی ہےکھڑی بس
اللہ کی رحمت ہےیہ زوربازوومشقت سےنہیں ہے

236
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پاگل سے نبھاناپیت یہ سدا سے محال ہے
جو کہ نبھا رہے ہیں اسے یہ انہیں کا کمال ہے
جاری ہیں بیٹھکیں وہا ں ہر روز صبح شام کو !
بٹتے وہاں پردیکھی جوتیوں میں بھی دال ہے

237
یہاں رہ کر وہا ں کے کام کرجاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

امینوں اور صدیقو ں میں شامل یہاں پراپنا نام کر جاؤ
شمس وہاں جا کر یہاں والوں کو اپنا بندہ بے دام کرجاؤ
رکھونعرہ یہاں پر کام اوراچھاکام ہی ہمیشہ مشن اپنا !
ملےجن کے بدلے میں وہاں جنت کچھ ایسے کام کر جا ؤ

238
رب پہ پیار آتا ہے۔۔۔شمس جیلانی

کروں ہوں یاد اسے تو میرے دل کو قرارآتا ہے
خدا کی دین ہے کہ میرا کہیں تو شمار آتا ہے
یہ اس کی دین ہے عطا وہی تو کرتا ہے ہمیں
میں جتنا سوچوں ہوں اس پر ہی پیار آتا ہے

239
موت کام کا وقت معین ہے۔۔۔ شمس جیلانی

ہر بندہ لکھا کرا لایا وہاں سے اپنی اک منزل تو ہے
سارے اعضا کہہ رہے ہیں اب جینا ذرا مشکل تو ہے
شمس اس کی مرضی پر ہی جینا اور ہے مرنا منحصر
کون جانےکب دھڑکنا چھوڑدے اک پرانا دل تو ہے

240
اخلاقی قدروں کا زوال۔۔۔ شمس جیلانی

جب خیانت بڑھی تودیانت گئی
ہو دنیا سے رخصت امانت گئی
ہراک تاک میں ہے لے کپڑے اتار
اعانت گئی اور استعانت گئی

241
تقاضہ توحید پرستی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وحدت پرست ہوں وردِ زباں اللہ و رسولﷺ ہے
بات طول کھینچے ہے مرے خیال میں بحث فضول ہے
کبھی لاتا نہیں ہوں بیچ میں کسی اور کا میں ذکر
نہ تورات مجھ کو یاد ہے نہ ہی انجیل و زبور ہے

242
تربیت اور گود۔۔۔۔ شمس جیلانی

گود ایسی ملی جو روک دے خطا میں کروں
چاہے تھی گرہ میں باندھ لے جوعطا میں کروں
سر پر ہو مرے بزرگوں کا سایہ سدا ہی بس
ہر ایک در ِعلم وا ملے جس کو میں فتح کروں

243
سچےاور جھوٹوں کے مطیع؟۔۔۔ شمس جیلانی

سچو ں سے کبھی جھوٹو ں کی اطاعت نہیں ہو تی
ہےخبر ہی جھوٹی جس میں صداقت نہیں ہو تی
مومن سدا ڈھونڈے ہے کہ سچ مل جا ئے کہیں پر
اک بار تو ممکن ہے ہمیشہ یہ حماقت نہیں ہو تی

244
زحمت میں رحمت ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس قانون ِقدرت ہے یہ، گنا جو کرے گا سزا پا ئے گا
بلا ئیں یوں بھیجتا ہے کہ انسان دیکھے، سدھر جا ئے گا
گر کرے گا جو تو بہ پھراسی در سے آخر وہ فلا ح پائے گا
رحمتیں رب دن رات برسائے گا اور انساں سکوں پا ئے گا

245
اے کاش پیرو رسولﷺ کے ہوتے۔۔۔ شمس جیلانی
اے کاش پیرو ہم صرف اپنے رسول ﷺکے ہوتے
ہوتا خلق بھی ان سا ﷺ بندے اصول کے ہوتے
رضائے رب پر ہی ہم شمس جوراضی بہ رضا رہتے
نہ ہوتے مفتوح ہم فاتح کل عرض وطول کے ہوتے

246
چاہیئےاک سجدہ طویل۔۔۔ شمس جیلانی

شمس بس ہرگز نہیں دنیا سے دھوکا کھا ئیے
رب جب ہو سامنے سجدے میں بس گر جا ئیے
طول اتنادیں اسے کہ گزرجا ئے پھر ساری عمر!
جب موت آجا ئے نظر قدموں میں ہی مر جا ئیے

247
مدد کرو مدد کیئے جاؤگے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

اپنا وطیرہ یہ رہا گرتے جسے بھی دیکھا کندھے چڑھا لیا
کہہ ،توفیق رب نے دی مجھے، سر اس کے آگے جھکا لیا
رکھتا گمان پکا ہوں دربارِ رب سے آئے گی اک دن یہ صدا
شمس جا کر بسا اب جنت توکہ تو نے ہے رحمت کو پالیا

248
بیکار کی باتیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ لڑائی کی نہ جھگڑے کی نہ ہی تکرار کی باتیں
اچھی مجھے لگتی ہیں فقط سرکار ﷺکی باتیں
کرنے کومجھے رہتے ہیں اوربہت پند و نصائح
اس واسطے کرتا میں نہیں کبھی بیکار کی باتیں

249
حکمت ِ سراپا ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرحکمت سے ہیں ہوتی سب میرے سرکار کی باتیں
صرف گفتار ہی نہیں ان میں ہیں بلند کردار کی باتیں
ہم حکمت کو بھی ڈھونڈیں ہیں جاکر کے یورپ میں
جبکہ ہیں مومن کو بہت کافی، سیدِ ابرارﷺکی باتیں

250
اسلامی توکل۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ کس دیں پر چلتے ہیں یہ کس دنیا میں رہتے ہیں
یہ ہلاکت کو حماقت سے توکل جو لوگ کہتے ہیں
حکم یہ ہے باندھو اونٹ کو پھرآؤدر بار رسالتﷺ میں
یہ کھلا جو چھوڑ آتے ہیں حماقت اس کو کہتے ہیں

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in qitaat. Bookmark the permalink.