(325 – 312) قطعات شمس جیلانی

312
ہر اک کو پتا چلنا ہے؟ شمس جیلانی
 
کیوں بن جا تے ہو بندے سے درندےرمضان میں ۤآکر
کتنی خوشی ہوتی ہے جو دیتا ہےکوئی مال چھپاکر
جو کچھ بھی کیا جس نے ہے وہ فرشتوں نے لکھا ہے
لیکن ہر اک کوپتہ چلنا ہے حشر کے میدان میں جاکر
 
313
وہاں عذرِلنگ نہیں چلے گا۔۔۔ شمس جیلانی
 
دریا ئے علم سے کسی دیں کے خزانے سے پوچھ لو
آتا نہیں ہے دیں اگر تو کسی جاننے والے پوچھ لو
ہم کو پتہ نہیں تھاناقص جواب ہے ،عذرِ لنگ ہے !
گرکوئی نہیں ملے گوگل کےکار خانے سے پوچھ لو
 
314
عمل سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ہر ایک یہ ہی دیکھے ہے کہ کس نے کہا ہے
ہر بات میں ہر ایک کےحقیقت نہیں ہوتی !
ہردین کے مسئلہ میں تحقیق ہے شرط ِ اول
تحقیق جو کرلے تو فضیحت نہیں ہوتی
 
315
کرسی اور الزام۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
کرسی پر جوآئے گا موردِ الزام ہوگا
یہ مانا کہ جہاں میں بڑا اک نام ہوگا
کہاں تک بند رکھو گے مگرتم کان اپنے
مریں گے لوگ بھوکے مچا کہرام ہوگا
 
316
مسلمانوں نے توبہ پر عمل ترک کردیا؟۔۔۔شمس جیلانی
 
توبہ دوا تھی مرض کی وہ مرہم نہیں رہا
سب لوگ دیکھتے تب رب بر ہم نہیں رہا
پہلے شفا ملے تھی اہلِ یقیں کو شمس
اب تو پانی ملاملےہے وہ زم زم نہیں رہا
 
317
رمضان کے تقاضے۔۔۔ شمس جیلانی
 
بس لاالہ کا ذکر کرو اس کی بات کرو
ملے وقت جو تھوڑا ذکر ِاسم ذات کرو
ڈھونڈو تخلیقات رب کوکیا بنا یا ہے
ہےکا م اس کانہ تم فکرِکائینات کرو
 
318
بات رب کی مانو۔۔۔ شمس جیلانی
 
بھلائی کرو تم رب بھلائی کرےگا
ہمیشہ جس نے بھلائی کری ہے
تھی غلطی تمہاری اور بھول تھی
شیطان سے دوستی جو کری ہے
 
319
رکھو ہمیشہ یاد سبق ۤآقا حضور(ص) کا
 
صدقہ ضرور دو چاہے ہو دانہ کھجور کا
راوی ہیں اس کے یار ِغارحضرت ابوبکر
مفہوم ہے یہ ایک حدیثِ مشہور کا
 
320
شیوہ ِ قناعت کی برکت۔۔۔ شمس جیلانی
 
میں اک بندہ ِ ناقص ہو ں پتلا ہوں خطا کا
جھنجھٹ نہیں پالا کبھی مال اور متاع کا
جب بھی ضرورت ہو وہ بن مانگے ہے دیتا
میں بچپن سےہی قائل ہوں رب کی عطا کا
 
321
وجود باری تعالیٰ کا ثبوت بہار۔۔۔ شمس جیلانی
 
دنیا نہ جانے کس مخمسہ کا ابھی تک شکار ہے
جو مانتی نہیں مالکِ کائینات پرور دگا ر ہے
ہر سال ہی دیکھتی ہے وہ جو بدلتے ہوئے سماں
بتلا ئے تو سہی کہ لاتا کون خزاں اور بہار ہے
 
322
تقاضہِ عبدیت؟۔۔۔ شمس جیلانی
 
عبدیت یہ ہےعذابِ آگاہی سہتے رہو
زیر لب ہر گھڑی بس لا الہ کہتے رہو
آئے جو مشکل اس راہ میں سہتے رہو
ہے نہیں زیبا کہ جذبات میں بہتے رہو
 
323
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی
 
صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں
 
324
جہ عزاب بڑھتا ہوا ظلم ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ییشہ رہنماؤں کا زیادہ تر تو مال و زر کمانا تھا
کل جہاں کا بن گیا شیوہ بھوکوں اور ستانا تھا
ہے جہاں کا رب بھی کوئی یہ اللہ کو بتانا تھا
یہ بشکل ِکرونا جو عذاب آگیا آخر عذاب آنا تھا
 
325
 بندہ یوں خاکسار ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب  پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے
 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in qitaat. Bookmark the permalink.