اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں؟۔۔۔شمس جیلانی

کہ تم جو ایک سال سے مسلسل لکھ رہے ہو اور کہتے رہے ہو کہ کرونا عذاب ہے کوئی اور عالم یہ کیوں نہیں کہتا یہ عجیب بات ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں صرف قر آن کو ہی نہیں بلکہ صاحب قر آن ﷺ کو بھی مانتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا؟ اس وجہ سے کرونا کے سلسلہ میں میری تشخیص تھوڑی اوروں سے مختلف ہے۔دوسرے یہ کہ اوروں کی طرح میرے ذاتی مفاد ات با لکل نہیں ہیں۔نہ ہی میرے سامنے فقہی اختلافات ہیں کیونکہ سارے آ ئیمہ عظامؒ بے مثا ل، انتہائی متقی اور حضورﷺ کے پیرو تھے ان میں سے ہر ایک نے یہ ہی لکھا ہے کہ میرے خیال میں صراط مستقیم کی طرف یہ راستہ لے جاتا ہے اس لیئے میں نے اپنی رائے میں اسے صحیح سمجھا ہے اور میرے نزدیک یہ وہی راستہ ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرما یا تھا کہ صرف میرا راستہ صراط ِ مستقیم ہے یا میرے ﷺان صحابہ ؓ کا راستہ جو آج میرے راستہ پر چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صراط مستقیم کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان پردوں کو اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ بہک جا ؤ گے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ میرے خیال میں ان بزرگوں ؒ میں سے کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ میرا اتباع کرو پھر اتباع کہاں سے شروع ہوامجھے معلوم نہیں؟ البتہ اس کی مثال اپنے ر سالہ ہفت متنازعہ مسائل اور انکے حل میں حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے حطیم سے دی ہے کہ حضورﷺ حطیم کو کعبہ میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ مگر محض فتنہ پیدا ہونے کی وجہ سے شامل نہیں فرمایا؟ لیکن جن کا اب اتباع کیا جاتا ہے وہ اتنے روادار بھی تھے۔ کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی پڑھتے تھے۔اور یہ پسند بھی نہیں کرتے تھے کہ ان کے فقہ کو زبردستی کہیں نافذ کیا جا ئے۔ یقیقناً ان کے ذہن میں وہ آیت ہوگی کہً“دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے ً“ یہ بات تو یونہیں درمیان میں آگئی۔ میں بات کر رہا تھا۔ اور کوئی کیوں اس کو عذاب نہیں کہتا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کی اکثریت اللہ کو تو مانتی ہے مگر اللہ کی بات نہیں مانتی ہے! اگر مانتی ہوتی تو مسلم ممالک خصوصاً مملکت خداد پاکستان میں رمضان شریف میں حرام خوری کرنیوالے، گران فروشی کرنے والے چور بازاری کر نے والے اور اس فن کے دوسرے ماہرین باہر سے امپورٹ کرنا پڑتے، کیونکہ سب متقی ہوتے یعنی اللہ سے ڈرنے سے والے ہوتے تو انکا یہ عقیدہ ہونا لازمی تھا کہ“ ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے تو کم تولتے ہوئے ان کے ہاتھ کانپنے لگتے؟ مگر وہاں اس کا الٹ ہے۔ ایسا کیوں ہے اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟
میں کیوں اوروں سے مخلتف ہوں اوپر کے میرے مضمون میں آپ کو جواب مل گیا ہوگا اس کو آپ بھی اختیار کرلیں اس سے بہتوں کو انشا ء اللہ رہنمائی ملے گی؟ رہا میری طرف سے میری اپنے صفائی میں جواب میں تو عرض یہ ہے کہ میں ہر معاملے میں قرآن سے رہنمائی لیتا ہوں، یا پھر صاحب قرآن سے رہنمائی لیتا ہوں جیسا کہ تمام مسلمانوں کو حکم ہے۔ جس کو عام مسلمانوں نے آجکل چھوڑ رکھا۔کیوں؟ یہ بھی آپ ایسا کرنے والوں سے ہی پوچھیں تو بہتر ہے؟
شاید یہ آیتیں اور یہ معنی اور تفاسیر ان کی نگاہ سے نہ گزری ہوں؟ ورنہ وہ بھی یہ ہی کہتے؟جو میں کہہ رہا ہوں؟ یہ تمام آیات میں نے ابن ِ کثیر(ر) کی تفسیر سے لی ہیں؟ جوکہ میں آگے پیش کرنے جارہا ہوں تفسیر ِ ابن ِ ابن کثیر پہلے سے ہی معتبر چلی آرہی ہے اور آج تک ہر دور میں اس سے مدد لی گئی ہے؟ اب آیت نمبر60 سورہ الاسراء کو پڑھ لیجئے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ۔۔۔۔ًہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لیئے نشانات بھیجتے ہیں۔ ایک دوسری آیت جو کہ سورہ توبہ میں ہے فرمایا کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ” ہم سال میں دوچار بلا ؤں میں ڈالتے ہیں نہ یہ توبہ کرتے ہیں نہ عبرت حاصل کرتے ہیں ” اس سلسلہ میں صاحب اختیا ر کا مدینہ والوں کے لیئے کیا رویہ تھا وہ آگے ملاحظہ فرمائیے اور جو کبھی بھی صاحب ِ اختیار نہیں رہے صرف حضور ﷺ کے جید علماء میں سے ایک تھے انکا روویہ کیا تھا؟ وہ یہ تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا اس وقت کاکوفے میں قیام تھا کہ زلزلہ آیا تو انہوں ؓ نے فرمایاکہ ” اےکوفے والو!تم سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اس کی طرف جھک پڑو! تمہیں فوراً اس کی طرف جھک جانا چا ہیئے“ ۔جبکہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ متواتر زلزلہ کے چار جھٹکے محسوس ہوئے تو حضرت عمر ؓ جو اس وقت وہاں صاحب ِ اختیار تھے اس حیثیت سے ان کا رویہ کیا تھا وہ ملاحظہ فرما ئیں کہ “واللہ! اہلِ مدینہ تم نے ضرور کوئی نئی بات شروع کی ہے باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دونگا“ اس کے آگے حضرت ابن ِ کثیر ؒ ایک متفقہ علیہ حدیث (١ )لائے ہیں حدیث یہ ہے کہ “سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں کسی بڑے آدمی کے مرنے سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف زدہ کردیتا ہے جب تم یہ دیکھوتو توبہ اور استغفار کی طرف جھک پڑؤ۔ اے امت محمد واللہ! اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں ہے کہ اس کی لونڈی اور غلام زنا کریں! اے امت محمدیہ واللہ جو میں جانتا ہو وہ اگرتم جانتے توہنستے کم اور روتے بہت زیادہ“ جبکہ صاحب اختیاروں کے صاحب ِ اختیار کا رویہ کیا تھا؟ کہ حضور ﷺ اگر کالے بادل بھی آتے دیکھتے تو پریشان ہوجا تے کہ کہیں یہ پانی کے بجا ئے آگ نہ برسانے لگیں؟اور فوراً دعاؤں میں مصروف ہوجاتے۔؟ ہمارے دور میں علما ء اور مسلمان حکمراں کیا کر رہے ہیں؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہو ں؟ اگر مجھ سے پوچھنا ہے تو جواب یہ ہے کہ ان کا یقین اللہ اوراس کے رسول ﷺ اور کتاب پر پختہ تھا۔جبکہ آج سوائے اللہ والوں کے جن کی تعداد انتہائی قلیل ہے اور کسی کاویسا ایمان نہیں ہے؟ اب اس کا حل کیا ہے وہ بھی سورہ الشوریٰ آیت نمبر 30ملا حظہ فرما لیجئے کہ“ تمہیں جو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تمہاری اپنی کر توتوں کی وجہ سے ہیں“ پھراللہ کے نوازنے کا بہت تفصیلی ذکر ہے31 میں ہے“ ورنہ بندے کا ایک دن جینا بھی مشکل ہے“ ۔ اب سوال یہ ہے اس کا حل کیا ہے وہ ہےتو بہ اس کے لیئےسورہ توبہ کی آہت 126 پڑھ لیجئے کہ توبہ اللہ کو اتنی پسند ہے کہ کسی گناہ گار بندہ کا کوئی اور فعل اسے اتنا پسند نہیں ہے کہ اسےآتا دیکھ کر اللہ سبھانہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے جیسے کہ کوئی مسافر پیاسہ ہو اور اس کا وہ اونٹ گم گیا ہو جس پر پانی توشہ اور سب کچھ لدا ہوا وہ اسے تلاش کرکے تھک کر گر گیا ہو اور یکایک وہ اس کے سرہا نے آکر کھڑا ہوجا ئے؟ جبکہ بندہ عجیب جتن کرتا ہے ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ لوگ ایسے جتن کرتے تھے جن کے پاس مشکوک یاحرام کی کمائی ہوتی تھی کہ بھائی ہمیں حج پر جانا ہے ہمیں اپنی کمائی پر کچھ شک پڑ گیا۔ جتنا چاہو ہم سے رقم اوپر لیلو یہ مال بدل دو۔ جبکہ اب علماء کو ہم نے یہ ٹی وی پرکہتے ہوئےسناہے کہ حلالِ خالص تو اب کہیں ملتا ہی نہیں ہے جس کےمال میں حلال کاغلبہ ہو وہ بھی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے۔ اور جو لوگ حج پر جا تے ہیں وہ تواس حلال یا حرام کے چکر میں پڑتے ہی نہیں ہیں؟ جبکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں کسی کو سزا دیکرخوش نہیں ہوتا تم پہاڑ کے برابر گناہ لیکر میرے پاس آجاؤ میں معاف کردونگا اوریہ کہ میں نے ننیاوے حصہ رحمت کے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور تمام مخلوق کو صرف ایک حصہ دیا۔ اس پر ماں کا حال ہے جبکہ ایک حصہ میں اتنی بڑی مخلوق شریک ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ وہ خودمرجانا پسند کر تی ہےمگر بچے کو پھانس بھی لگنا پسندنہیں کرتی؟ تو پھر نینانے حصے رکھنے والے مالک کا کیا حال ہوگا ؟مگر بندے اس کی طرف جھکنے کے بجا ئے اس سے بھاگ کر ، شطان کے پیچھے چلنا پسند کرتے ہیں جو جہننم میں لے جاناچاہتا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں عقل اور توفیق عطا فرما ئے (آمین)

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.