ذرا سوچیئے یہ خاکےکیا سبق دے رہے ہیں؟شمس جیلانی

گر اسے سمجھنا ہے تو حضور ﷺ کی ان تعلیمات کو سمجھیں جوکہ انہو ں ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو سمجھایا تھا اور انہوں ؓنے اپنے ایک خطبے میں پوری امت کو تخویص کیا یہ فرما کرکہ “اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تم کو آپس میں عدل قائم کرنے کا حکم اس لیئے دیا ہے تا کہ تم آپس میں متحد رہو “ ہم نے کیا کیاکہ اس سبق کو ہی بھلا بیٹھے؟ حالانکہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اپنے دور ِ حکومت میں اس آیت کو خطبہ ِجمعہ میں شامل کردیا تھا۔اور مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے میں ابھی تک اس وقت سے چلی آرہی ہے۔ تاکہ مسلمان ان دوباتوں کو بھولیں نہیں جس کی قرآن میں تاکید ہے۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اے مومنو! اللہ سبحانہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کرنے کا ً چو نکہ ہما ری اب نوے فیصد آبادی آبادی عربی نہیں جانتی ہے اور نہ عربی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے؟ لہذا مسلمان بقیہ قرآن کی طرح انہیں بھی سنتے ہیں تو ہیں مگر عمل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟۔نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہی قرآن سمجھتے ہیں اور نہ صاحب ِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بارے میں وہ یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے پورے قرآن پر عمل کرکے بھی دکھا یا تھا، جب وہ ﷺہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اور قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی کے اسوہﷺ میں بہترین نمونہ ہے ( سورہ الاحزاب آیت نمبر 33)تو ہمارا اس آیت پر توعمل کر نے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیئے کہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے ہرایک، دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپر ہے۔ آج اتحاد اور اخّوت مسلمانوں میں مفقود ہے فرقہ بندی اپنے عروج پر ہے۔ جبکہ فرقہ بندی گروہ بندی کی حضور ﷺ نے اپنے ارشادات میں سخت مذمت فرما ئی ہے۔اس کے لیئے انہوں ﷺنے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ دیکھو فرقوں میں مت بٹ جانا جیسے پہلے والی امتیں بٹ گئیں تھیں“ اور اللہ نے تو یہاں تک فرمایا اگر فرقہ باز فرقہ بازی سے باز نہیں آتے تو تمہاراﷺ ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اس کا عملی مظاہرہ حضور ﷺ کے دور میں پہلی مرتبہ جب نظر آیا کہ حضور ﷺ غزوہ بنو مصطلق سے فارغ ہوئے ہی تھے اور بئیر مرسیع پر تشریف فرما تھے کہ حضرت عمر ؓ کے سائیس جہجاہ ؓ کا جھگڑا گھوڑے کوپانی پلانے پر حضرت ؓ سنان سے ہوگیا اُنہوں ؓنے مہاجرین (رض) کو اپنی مدد کے لیئے آواز دی اوراِنہوں نے انصارؓ کو مدد کے لئے آواز دی جو دونوں کی پرانی عادت تھی۔ حضور ﷺ کو پتہ چلا تو فوراً تشریف لے گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ فرمائی کے تم میں ،میری موجود گی ہی میں دور جہالت کی نفرتیں پھر لوٹ آئیں؟ جبکہ آج ہمارے یہاں روز مرہ کی خبریں دیکھ لیں یہ بات عام ملے گی۔ یہ دراصل اسی آیت نہ سمجھ نے کا نتیجہ ہے؟ کہ انصاف کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور نہ ہی احسان کے وہ معنی ہم سمجھتے ہیں جوان دونوں کے سمجھنے کا حق تھا دراصل ہم کو یہ تعلیم دی گئی کہ ہمیشہ عدل اور احسان سے کام لو جہاں اور جس پوزیشن میں ہو ،جو باپ سے لیکر بیٹے تک پہنچتی ہے اور وزیر اعظم سے لیکر چپراسی تک ۔اگر ہر مسلمان انصاف کے سلسلہ میں پوری صلاحیتوں سے کام لے رہا ہوگا تو کسی سے کہیں کوتاہی ہوگی ہی نہیں، جب کوتا ہی نہیں ہوگی توبے انصافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟۔ سوچیں کے حضور ﷺ کو ہماری یہ حالت دیکھ کر اس وقت کتنی تکلیف پہنچتی ہوگی؟ ذرا اسے سوچیئے تو سہی ہم روزانہ اپنے اس رویہ سے انہیں ﷺکتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے؟ جب ہم میں بہت سے جو بظاہر اپنی ہئیت سے مسلمان معلوم ہوتے ہیں انکا اخلاق دیکھیں، لین دین دیکھیں وہ مسلمانوں جیسا نہیں ہے وہ خاص طور پر معاملات میں تو صاف شفاف زیادہ تر نہیں ہیں؟۔ کیا ہمارا چال چلن حضور ﷺ کو پریشان نہیں کرتا ہوگا کہ انہوں ﷺ نے اور انﷺ کے ساتھیوں ؓ نے خود کو جس مشقت میں ڈال کر دنیا کے سامنے میں پیش کیا تھا؟ جو آخری کتاب اور دین کی شکل میں حضور (ص) پر اللہ سبحانہ تعالی نے نازل فرما یا تھا؟ کتنے مصائب جھیلنے کے بعددنیا کے سامنے ایک اچھا نظام اپنے عمل وکردار کی شکل میں پیش کیا تھا آج دنیا میں انﷺ کے ماننے والےتو بہت دکھائی دیتے ہیں مگر ان کا عمل وہ نہیں ہے جیسا کہ حضور ﷺ کا تھا اور وہ ویسے نہیں جیسا کہ حضور ﷺ انہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں اسلام بد نام ہورہا ہے۔ کیا کبھی اس پر مسلمان شرمندہ ہوئے۔ انہیں جوش آیا کہ کیوں نہ خود کو پھر ویساہی بن کر دکھائیں جیسا کہ حضور ﷺ ان کودیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تو ہر مسلمان کومتقی دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ جو ذلت اور خواری ہمارے حصہ میں آ ئی ہے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانیوں کی وجہ سے آئی ہے۔؟کہاں تو وہ وقت تھا کہ ایک مظلوم مسلمان عورت دُھائی دیتی تھی تو مسلمانوں کا خلیفہ حرکت میں آجاتا تھااور اس کی رہا ئی کے لیے ہندوستان جیسے بڑے ملک پر حملہ کردیتا تھا۔ اب بھی وہی ملک ہے جو کروڑوں مسلمانوں کو ستا رہا ہے۔ اس وقت اٹھاون مسلم ممالک بھی دنیا میں موجود ہیں؟ جو ظلم مسلمانوں پر اس ملک میں ہورہا ہے؟ اسے میں لکھ نہیں سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ وہ سب کچھ خبروں میں پڑھ رہے ہیں سوشیل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں۔ کہا ں گئی ان کی وہ حمیت کہاں گئی غیرت؟جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟۔یہ مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ یہ رکھا اللہ سبحانہ تعالیٰ نےاس امت کے لئیے یوں تھاکہ حرام تو ہمیشہ سے مسلمانوں پہ حرام ہے؟ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا تقاضہ یہ تھا کہ تم حلال بھی میری محبت میں چھوڑدو اور “تم متقی بن جا ؤ“ امت ایک سال سے کرونا کی شکل میں عذاب جھیل رہی ہے۔ اس مہینے سے فا ئدہ اٹھائیں۔ متقیوں کے خاکے بننے کے بجائے جیسے کہ دنیا میں آجکل چاروں طرف چلتے پھرتے ہم نظر آتے ہیں؟ ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ یہ رحمت کا مہنیہ ہے۔بخشش کا مہینہ ہے اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ توبہ کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اور آخر میں عید ہے انعامات سے نواز ے جا نے کا دن ہے۔ عام معا فی کا دن ہے مگر کن کے لیئے جواب پھر آپ پر چھوڑتا ہوں؟ ورنہ یہ کچھ کے لئیے ہلاکت کا مہینہ بھی ہے۔ جس کے لیئے حضرت جبرئیل(ع) والی مشہورحدیث ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے تین مرتبہ آمین فر مایا، جبکہ سامنے کوئی مخاطب نظر نہیں آرہا تھا؟ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ آپ نے کس بات پر تین مرتبہ آمین فرما ئی۔ “فرمایا یہ جبرئیل تھے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی کے سامنے آپ ﷺ کا نام لیا جائے اور اس نے “درود“ نہیں پڑھا وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں اس نے پائے اور (ان کی دعا کے ذریعہ) اپنی بخشش نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جسے رمضان المبارک کا آخری عشرہ ملا اور اس نے جہنم سے نجات نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نےکہا(آمین) اس سے بڑا بد نصیب کون ہوگا۔کہ اپنے لیے رحمت للعالمین کی ناراضگی مول لے اوربجا ئے متقی بننے کہ چور بازاری کرے۔ منافع خوری کرے وغیرہ وغیرہ؟ اللہ ہم سب کو اس مہینہ سے فا ئدہ اٹھانےکی توفیق عطافرما ئے (آمین)

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.