وزیر اعظم صاحب ہم ان حالات میں عید کیسے منائیں ؟۔۔۔شمس جیلانی

عنوان دیکھ کر ممکن ہے کہ وزیر اعظم صاحب الٹا عوام سے پوچھ بیٹھیں کہ عید منانے کے لیئے ہم سے پوچھنے کیا ضرورت ہے کیا جبکہ رمضان سے پہلے وہ ذخیرہ اندوزی کر تے ہیں، چور بازاری کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو ہم سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ اس وقت وہ جن سے پوچھتے ہیں اسوقت بھی انہیں پوچھ لیں ہم سے پوچھ نے کیا ضرورت ہے۔ شاید عوام اس راز کو نہ سمجھے ہوں کہ وہ کس سے پوچھتے ہیں ؟ اگروہ نہیں سمجھتے ہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ وہ ان سے پوچھتے ہیں جو صاحب ِ اختیار ہوتے ہیں کہ کیا سرکار اپنی آنکھیں بند رکھیں گے جب تک ہم روزہ داروں کے لیئے یہ کار خیر انجام دے رہے ہونگے ؟معاوضہ طے ہوجاتا ہے اور کارِخیر بخوبی انجام پذیر ہوجاتا ہے۔ تب وزیر اعظم تک کہیں جاکرخبر پہنچتی ہے اور وہ فورا “اعلان کردیتے ہیں کہ میں کسی کو ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کرنے کی اجازت نہیں دونگا؟ حالانکہ یہ اعلان انہیں اس وقت کرکے حرکت میں آ جانا چاہیئے تھا جب وہ مکمکاؤ کے مرحلے میں تھے اس صورت میں وہ رنگے ہاتھو ں سارے کے سارے پکڑے جاتے اور مختلف قسم کے کمیشن بنا نے کی ضرورت نہیں ہوتی؟۔ مگر وزیر اعظم صاحب اعلان ہمیشہ دیر میں کرتے ہیں۔ جبکہ چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں۔
ہم اپنے وزیر آعظم کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے بہت ڈرتے ہیں جبکہ ہمارا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور کسی سے نہیں، حاکم کے سامنے سچ کہنا ہماری عادت ہے جس کی گواہ ہماری یہ نوے سالہ عمر بھی ہے۔ مگر ان سے ڈرتے اس لیئے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جمہوریت پسند ہونے کے باوجووہ اپنے بہی خواہوں سے بھی ناراض بہت جلد ہوجاتے ہیں جبکہ ہم بھی اس وقت اوروں کی طرح ان کے بہت بڑے بہی خواں رہے ہیں۔ جس کی گواہی اس وقت کے اخبارات بھی دیں گے جس وقت کے وہ وزیر اعظم نہیں تھے؟ ہم نے ان کی سچ بولنے کی عادت اور جذبہ خدمت خلق کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ ضرور اپنا وعدہ پورا کریں گے اور یہ اوروں طرح نعرہ تبدیل نہں کریں گے اس لیئے ہم ان کے حق میں لکھتے رہے دوسرے ہماری کتاب شمس جیلانی کے 101پڑھ لیں جو کہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ کبھی ہم بھی شامل تھے ان کےبہی خواہوں میں اور ابھی بھی بہی خواہ ہی ہیں اگر وہ اپنے وعدے پورے کرنا شروع کردیں تو؟۔ ورنہ ہم بھی کیا کریں کہ ہم ہمیشہ سے سچ بولنے اور سچ لکھنے کے عادی ہیں اور مستقل اس با ت کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی (ص) نے فرمایا کہ “مومن میں تمام برائیاں ہوسکتی ہیں لیکن مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا؟“اور ہم اس بات کے بھی حامی ہیں کہ پوری قوم کے اتحاد کے لیئے ضروری ہے کہ سب حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی پیروی پر متحد ہوجا ئیں تو قوم کے سارے دکھ دلدر دور ہوجا ئیں کیونکہ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس لیئے کہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ “آپ ان سے کہدیں کہ یہ تمہارا(ص) اتباع کریں جو کہ میراہی اتباع ہے۔ اور یہ کہ حضور (ص) کےاسوہ حسنہ میں امت کے لیئے بہترین نمومہ ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ“ یہ (ص)اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے یہ وہی کہتے ہیں جو ہم ان کی طرف وحی کرتے ہیں “۔ پھر نہ صرف یہ کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کے لیئے نہیں فرمایا ؟اور نہ ہی کسی اور نے آج تک کہا ہے کہ میرا اتباع کرو؟ ان میں سےجو لوگ کہ ختم نبوت کے قائل ہیں؟ ہم نے حضور (ص) کی سیرت بھی لکھی ہے جو کہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہےاور وہی ویڈیو کی شکل میں یو ٹیوب پر بھی موجود ہے جس کا کوئی معاوضہ ہم نہیں مانگتے نہ رائیلٹی کلیم کرتے ہیں؟ مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ حضور (ص) کی سیرت پر مسلمان عمل اس طرح کریں اور فلاح پاجائیں جیسے کہ صحابہ کرام (رض) کیا کرتے تھے کہ اگر کوئی نئی چیز کسی کے پاس کہیں سےتحفے میں بھی آجاتی تو اُٹھاکر رکھدیتے تھےبجائے لوگوں میں تقسیم کرنے کہ پہلے کسی صحابی(رض) سےمعلوم کرلیں کہ حضور (ص) انہیں کس طرح نوش ِجاں یا تناول فرمایا کرتے تھے تاکہ ہم اسے سنت کے مطابق استعمال کریں؟ اس سلسلہ میں حضرت امام زین العابدین(ع) اور دوسرے صحابہ کرام کے اقوال موجود ہیں کہ “ ہم روزانہ حضور (ص) کی سیرت کو بھی پڑھا کرتے تھے جس طرح مسلمان قرآن شریف کو پڑھتے ہیں“ اور ہمیں سورہ الصف کی وہ پہلی دو آیتیں بھی یاد ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو! “ایسی بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے ۔یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے “ جبکہ ہم میں ایک خرابی اور بھی ہے کہ ہمارے دوستی اوردشمنی صرف اللہ کے لیئے ہوتی ہے۔ اور کسی مقصد کے لیئے نہیں۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم آپکو جتنا اپنے وعدوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھیں گے ہم آپ کے ہوتے چلے جا ئیں گے۔ میری اوقات کیا ہے تمام اہل ِ اللہ آپ کے ساتھ ہونگے اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوگا کیونکہ آپ خلوص دل سے اس کے دین کے لیئے کام کر رہے ہونگے اس کے رسول(ص) کے اسوہ حسنہ کو رائج کر رہے ہونگے جو کہ ریاست مدینہ کے قیام کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ اللہ آپ کا حامی اور ناصر ہو (آمیں) فل الحال ہم اپنے مضمون کو اس قطع پر ختم کرتے ہیں ۔
عید پیچھے ٹر۔۔۔ شمس جیلانی
ویسے تو وہ ہیں تیز بہت عتاب او ر شتاب میں!
ہوتی نہیں ہے دیر کبھی وہاں فرمان ِ عتاب میں
ہومعاملہ دینے کا عوام کو نرخوں میں کچھ رلیف
لگ جاتی ہے جانے دیر کیوں حساب و کتاب میں

ا

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Articles. Bookmark the permalink.