عذاب اور آزمائش میںفرق ہے۔۔۔ شمس جیلانی

جکہ فرق عام طور پرعوام نہیں سمجھتے اور دونوں کو ایک ہی معنوں میں استعمال کرتےہیں؟ نہ جانیں علماء کیوں اس کی وضاحت کسی عوامی ضرورت یا اپنے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں اور وضاحت نہیں فرماتے ؟۔ جبکہ اس کی وضاحت بہت آسان ہے اور یہ بات ہر ایک کومعلوم بھی ہے اور اس سے کسی کاراز فاش بھی نہیں ہوتا نہ ہی کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے اور بآسامنی سمجھ بھی جاتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ وہ بعد میں اپنی اصلاح کرے یا نہ کرے مگر اسے علماء خبردار ضرور کرسکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر کسی کے تعلقات اللہ سبحانہ تعالیٰ بہت ہی اچھے ہیں اور وہ مشکل میں ہے؟ تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ عذاب یا مصیبت میں نہیں، بلکہ ابتلاء یا آزمائش میں مبتلا ہے اور اللہ اسے مزید نواز نے والا ہے؟ جن کا اللہ پر پختہ ایمان ہے ہم نے ہر آزمائش پر انہیں خوش ہوتے دیکھا ہے اور اپنے اہل ِ خانہ کو بھی یقین دلا تے دیکھا ہے کہ “ بچوں! خوش ہوجا ؤ ابھی اور بھی اچھا زمانہ آنے والا ہے“ اور میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں کہ ایسا ہی ہوا کے آخرکار جلد یا بدیر وہ نوازے گئے؟ یہ عنوان میں نے اس وجہ سے منتخب کیا ہے۔ کہ اگلا مہینہ اہل ِ بیت ؓ کے لیئے ابتلا ءکا مہینہ ہے۔ جس سے ہر مومن کو عمر کے کسی نہ کسی حصہ میں ضرور گزرنا ہوتا ہے۔ اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کائینات کی تخلیق کا مقصد ہی یہ ہی بتایا ہے کہ ہم کھوٹےاور کھرے کو آزما کر یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ کون جنت کا مستحق ہےاور کون جہنم کا اور کس درجہ کا تاکہ روز محشر عوام بھی ہمارے دربار عام میں دیکھ سکیں کہ ہم انصاف کیسے کرتے ہیں؟۔ اسی لئیے ایک شاعر کہہ گیا ہے کہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے؟ جتنے بھی مومن ہیں ان کو ابتلاء سے گزرنا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نےقرآن پاک میں بار، بار فرمایا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بغیر امتحان لیئے کسی کو ہم پاس کردیں گے وہ غلطی پر ہے ہم امتحان ضرور لینگے۔ وہ اس لیئے کہ اس نے جن پر تمام نعمتیں اپنی ختم فرمادیں، دنیا میں جن کو انسان کامل بنا کر بھیجا۔ رحمت اللعالمین بناکر بھیجا حوض کوثر کامالک بنا کر بھیجا ،شفیع محشر بنا کر بھیجا اور حتیٰ کہ اپنا محبوب بنا کر بھیجا۔انﷺ کا خود کا اپنے بارے میں ارشاد ِ گرامی یہ ہے کہ میںﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ آزمایا گیا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہوئی جو جتنا زیادہ اسے محبوب ہواوہ اتنا ہی زیادہ آزمایا گیا سارا قرآن پڑھ جا ئیے نبیوں ؑ کی آزما ئشوں اور ان کے جلیل القدر بننے کے قصے اورآزمائیشیں پر ہیں جن پر وہ پورے اترے ان کی تعریف کی گئی ہے کہ “ ہم نے اسے ہر طرح آزمایا اور وہ پورا اترا، جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور اسمعٰیل علیہ السلام کا قصہ؟چونکہ اللہ نے حضورﷺ کو اولاد ِ نرینہ دیکر واپس لے لی تھی؟ لہذا کفار بغلیں بجا نے لگے تھے کہ انہیںﷺ چھوڑے رہو اورتھوڑے دن انتظار کر لو، ان کی اولاد نرینہ تو ہے نہیں انﷺ کا نام نشان تک نہیں رہے گا۔ اس لیئے کہ یہﷺ تو ابتر ہوگئے ﷺ۔ ہیں جس کا جواب اللہ سبحانہ نے تعالیٰ نے انہیں ابتر فرما کر ان کے بارے میں پیش گوئی کی کہ ابتر یہ ہونگے آپﷺ نہیں؟ یہ دنیا کا پہلا حسب و نصب تھا جواللہ سبحانہ تعالیٰ نے صاحبزادوں کے بجا ئے صاحبزادی ؓ سےچلایا اور انکی ﷺ بیٹیؓ اور نواسوں کو جنت کی سرداری عطاکی اور یہ اس کا حل تھا کہ حضورﷺ پر نبوت ؑ ختم کرنا تھی۔ لہذااصولی طور پر انہیں بھی اتنا زیادہ آزمانہ ضروری تھ کہ صفت انصاف پر حرف نہ ۤانے پائے۔ کیونکہ اللہ کے منصف ہونے کا تقاضہ یہ ہی تھا۔کہ وہ سب سے زیادہ آزما ئے جا ئیں اور وہ آزما ئے گے اور ان کے پورے گھرانے کو سوائے ایک بچے کے ظالموں کے ہاتھوں سے انتہائی بیکسی اور بے رحمی کے ساتھ طے تیغ کرادیا گیا جس کا قرآن میں ذبیح عظیم کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ تاکہ دشمنو ں کی اولاد فخر سے اپنے باپ دادا کانام بھی نہ لے سکے اور یہ بھی کلیہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بیٹا اپنے بزرگوں پرفخر نہیں کرتا اگر وہ قابل فخر نہ ہوں؟ اور اگر کرے گا بھی تو جبھی تک چلے گا جب تک وہ اقتدار میں ہے جہاں اقتدار سے گیا ظالم کا نام تک مٹ جا ئے گا؟ چونکہ قریش بہت اپنی خاندانی وجاہت میں بڑھ گئے تھے اس پر تلواریں میان سے نکال لیتے تھے کہ کس کا خاندان قابل ِ فخرہے۔ اسے مٹانے کے لیئے حضور ﷺ نے اس کی سخت مذمت فرما ئی ہے کہ ارشادِ گرامی ہے کہً جو تین نسلوں سے زیادہ اپنے خاندان پر فخر کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ًلیکن آج بھی اسلام میں فخر کا سلسلہ چلا آرہا ہے؟ حضور ﷺ کی نسل سے وابسطہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں آپ کو آج بھی مل جا ئیں گے، جبکہ ان ظالموں کا نام لیوا یا ان کے خاندان میں سے کوئی ہوگا بھی تو بھی انکا وہ بیٹا کہلاناپسندنہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ ان کو امت بھی اتنی بڑی عطا فر مائی کہ تمام اپنیا ؑ کی امتیں ملا کر بھی انکی اتنی صفیں نہیں بنیں گی۔

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.