غازی اور زمانہ سازی۔۔۔۔شمس جیلانی

ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں افغانستان کے معاملات پر بات کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ غازی اور زمانہ سازی دوعلیٰحدہ اور متضاداد چیزیں ہیں۔اس مرتبہ طالبان اپنے پرانے تجربات کے نتائج کو مد ِ نظررکھتے ہوئے ا نہیں نہ دہرائیں اور اپنےاللہ سبحانہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدہے پورے کردیں تاکہ فخر سے وہ دنیا اور اللہ بحانہ کے سامنے سرخرو رو ہوسکیں، ورنہ اس نے سورہ ہود کی آیت نمبر57 میں حضر ت نتیجہ طور پر ہودؑ زبانی کہلوادیا ہے کہ وہ کسی نافر مان قوم کی جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا جو اس کی فرمانبردار ہوگی؟ وہ کیسے آئیگی کہاں سے آنا ہے وہ انسانوں کے لئیے تو کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے؟ مگررب کے لیئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ سورہ یسین کی آیت نمبر87میں وہ فرماچکاہے میں صرف ایک لفظ کن کہدیتا ہوں وہ چیز فوراً عالم ِ وجود میں آجاتی ہے؟بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے وہ فوراً ہوجا ئے۔ وہ شایداس کی تخلیقات کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ حاد ثاتی طور پر ہوا ہے؟کیا وہ لوگ اس کا جواب دے سکتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ حادثاتی طور ہوا ہے تو صرف پہلی بار ہی کیوں اسے تو بار بار ہونا چاہیئے تھا؟ لہذا سوچیں اور جواب دیں کہ اس کے بعد پھر ایسا کیوں نہیں ہوا؟دوسرے ہر چیز میں ٹوٹ پھوٹ ضرور ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے بعد کسی نظام یا پروجیکٹ کوزندہ رکھنے کے لئے مزدور کام کرتے دیتے ہیں تو ان کی تعداد اس بلنڈنگ یا نظام کی مناسبت ہوتی ہے۔ اس اتنے بڑے نظام کی ایک بہت بڑی مدت سے دیکھ بھال کون کررہا کیسے ہورہی ہے اور اگرمرمت ہوتی ہے ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟اس کا جواب کوئی صاحب ِ عقل و دانش دلائل کے ساتھ دے سکتا ہے۔اگر دے سکتا ہے تو سامنے آئے؟ورنہ اس بات کو مان لے جوکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک فرمایا ہے کہ ً میں کن کہتا اوروہ چیز عالم میں وجود میں آجاتی ہے۔ جس طرح کن کہنے سے ہر چیزعالم ِ وجود میں آجاتی ہے اسی طرح اس کے ہر چیز کی کن کہنے سے مرمت بھی ہوجاتی ہے۔ ورنہ لاتعداد مزوروں کی فوج کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بلڈوزر بھی مرمت کے لئیے آسمان کی طرف جاتے ہوئے دکھا ئی دیتے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرمارہا ہے کہ آسمان کیطرف غور سے دیکھو اور باربار دیکھو اوربتا ؤ اس میں تمہیں کہیں کو نقص یا سوراخ نظر آرہا ہے؟ سوال بھی وہ کن ہے اس کی تفصیل نہیں ہے۔میرے خیال میں جولوگ ا للہ تعالیٰ کے منکر ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات پوری طرح اب آگئی ہوگی۔ اسی طرح ان دوسری تمام آیت کو مان لیجئے وہ فرماتا ہے کہ ہم جسے چاہیں ملک دیں جس سے چاہیں چھین لیں ؟ یہ کیسے ہوتا ہے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد پہلے روس دیکھ چکا ہے۔ جوکہ دنیا کی دو بڑی سپر پاورں میں سے کبھی ا یک تھا؟ اور اس کے بعد آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کی زبوں حالی دیکھ لیجئے کہ اس پچھلی صدی میں اس کی حالت کیا سے کیا ہوگئی؟ آخر یہ سب کچھ کون کرتا ہے؟یہ تو تھا عزت لینے کا معاملہ، اب عزت دینے کی بات دیکھئے کہ جو ملک پچھلی صدی میں کچھ بھی نہیں تھا جس کا نام چین ہے؟ اب اس دنیا کی سپر پاور بن چکا ہے اور اس نے دنیا کا چین چھین لیا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ لہذا کسی بھی صاحبِ عقل کے پاس یہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ساری تاریخیں جھوٹی ہیں؟ کیونکہ یہ سب کچھ آج کل ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا نظر آرہا ہے جوکہ کل کو آنے والی نسلوں کے لئے تاریخ بن جا ئے گی؟۔اسیطرح سابقہ طالبان کا دوبارہ اقتدار میں لوٹ کر آنے کا معاملہ ہے اوراللہ سبھانہ تعالیٰ نے ان سے بیس سال پہلے اقتدا چھین کر دکھا تھا؟اب ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا منت سماجت کی اور وعدے کیئے اورانہیں اقتدار پھر واپس کر دیا؟کیونکہ معاملہ اللہ اور بندوں کے درمیان ہے لیکن مجھے یہ یقین ضرور ہے کہ انہوں یہ وعدہ ضرور کیا ہوگا کہ ً ہم ایک ایسا ملک بنا ئیں گے جس سے کہ تیرا نام جہان میں پھر بلند ہوگااور پورے جہان میں تیرا ہی نظام نافذ ہوگا اور وہ ہم کریں گے؟ اب ان غازیوں کے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اسکے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ سچے رہیں اور اس کے شکر گزار بھی رہیں تو مجھے امید ہے کہ ان کا کارو بارِ حکومت اچھی طرح چلتا رہے گاکیونکہ اس نے سورہ ابراہیم ؑ کی آیت 7میں فرمایا ہے کہ جو جوبندے میرے شکر گزار ہوتے ہیں انہیں میں مزیدنوازتا ہوں اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کے لیئے میرے پاس عذاب بھی شدید ہے۔دوسرے ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ کوئی دو کشتیوں پر پاؤں رکھنے کے بعد عافیت کے ساتھ نہ کبھی چلا ہے نہ ہی چل سکتا ہے۔ اگر سمجھ میں میری بات نہیں آئی ہےتو وہ تجربہ کر دیکھے؟

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.