سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
سیرت سے پہلے دعا کیوں ضروری ہے(۱)
قارئین ِ گرامی۔ اب ہم ان ﷺکی سیرت پڑھنے جا رہے ہیں جو کہ ہما رے لیئے مشعل راہ تھے، ہیں او ررہیں گے۔ اور یہ سیرت لو گوں تک پہنچانے کے لیئے میں نے پانچ سال عرق ریزی اس لیئے کی ہے کہ لوگ اسے صرف پڑھیں یا سنیں ہی نہیں بلکہ عمل بھی کر یں۔اگر عمل کر نے کا ارداہ نہیں ہےتو پھر پڑھنا اورکسی سے سنناسب بے کار ہے۔یہ جبکہ سورہ ان کے لیئے آواز میں بھی سی ڈی کی شکل میں جو اردو پڑھ نہ سکیں۔ اس سے پہلے کہ ہم سیرت کی طرف بڑھیں اللہ جلِ شانہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ان ﷺکے راستے پر چلنے کی تو فیق عطا فر ما ئے جن کے اسوہ حسنہ ﷺ کو ہمارے لیئے کافی فرمایا(آمین)۔ اس کے بعد جوحضو رﷺ ہمیں مانگنے کا طر یقہ بتا گئے ہیں وہی ہم اختیار کرتے ہیں۔ کیو نکہ دعا کر نا اس لیئے بھی اس وقت ضروری ہے کہ پو ری امت مشکلا ت میں گھری ہو ئی ہے اور کو ئی کنا رہ یا ملاح نظر نہیں آرہا ہے۔ بس صراط ِ مستقیم پر واپس آنے کے لیئے ایک ہی طر یقہ بچا ہے کہ اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگی جا ئے کہ وہ ہمیں اپنی کتاب اور اپنے پیا رے نبیﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے اس عذاب سے نجا ت دے جو ہما ری شامت ِ اعمال کی وجہ سے آیا ہوا ہے۔ ممکن ہے بہت سے لوگ یہ کہیں کہ اس کو آپ عذاب کیسے کہہ رہے ہیں، اور شامتِ اعمال کیوں ہے؟ ان کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آیت نمبر ۶۳ سورہ الا نعام کی تفسیر جو کہ ابن ِ کثیر ؒنے کی ہے دیکھ لیں۔ جس میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر ما یا کہ ًمیں تمہا رے اوپر آسمان سے عذاب نا زل کر نے پر قادر ہوں اور زمین کے نیچے سے بھی اور اس پر بھی کہ تمہیں فرقہ ، فرقہ کر کے لڑا دوں ً اس پر حضو رﷺ پریشان ہو گئے اور مسجد نبوی ﷺ سے باہر تشریف لے گئے۔بستی ِ بنو بکر کے قریب ویرانے میں جاکر سر بہ سجدہ ہو گئے۔صحا بہ کرام ؓ بھی پیچھے پیچھے چلے،وہا ں جا کر حضورﷺ نے ایک طویل نماز ادا فر ما ئی صحابہ کرام ؓ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب سلام پھیرا تو لو گوں نے پو چھا کہ حضو رﷺ پہلے تو کبھی آپ نے (دن کے وقت) اتنی لمبی نماز نہیں ادا فر ما ئی آج کیا با ت ہے؟حضورﷺ نے فر مایا کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو میں ﷺ امت کے لیئے بے چین ہو گیا اور اللہ تعا لیٰ سے درخواست کی کہ میری امت پر یہ عذاب نا زل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری ﷺیہ در خوست تو مان لی کہ حضرت لوط ؑ کی امت کی طرح اوپر سے اور حضرت نوح ؑ کی امت کی طرح نیچے سے عذاب نہیں آئے گا، مگر فر قہ واریت کے با رے میں فر مایا کہ یہ تو اس امت کا مقدر ہو چکی ہے۔ پھرصحابہ کرام ؓ سے فرمایاکہ تمؓ لوگ مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں۔انہوں ؓ نے کہا کہ حضو رﷺ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پا س قرآن ہے اور آپﷺ کی سنت بھی۔ فر مایا مجھے ﷺبتایا گیا ہے کہ تم اسے پس ِ پشت ڈالدوگے۔ اور میں سرداروں سے ڈرتا ہو ں، کہ ایک مر تبہ جو تلواریں میانوں سے نکل آئیں تو پھر قیا مت تک واپس نہیں جا ئیں گی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرقہ پرستی سے اظہار ِ بیزاری فر ماتے ہوئے حضو رﷺ سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ً اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو تمہارا فر قہ پرستوں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے ً اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب ہے۔ اب اس کاجواب کہ یہ شامتِ اعمال کیوں ہے؟ اس کے لیئے پہلے یہ کچھ آیات جس سے یہ معلوم ہو جا ئے گا کہ اسلام اور ایمان وہ نہیں ہے جوہم سمجھتے ہیں۔ال م ہ احسب الناس ان یترکواان یقولوااٰمناوہم لایفتنون ہ۔ کیا لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ ہم صرف ان کے منہ سے بول دینے سے کہ ہم ایمان لا ئے انہیں چھو ڑ دیں گے؟ پھر دوسری آیت میں ملاحظہ فر مائیے۔کیا تم سمجھتے ہو (کہ) جنت میں داخل ہو جا ؤگے اللہ کے یہ معلوم کیئے بغیر کہ (اسکی راہ میں) صبر کرنے والے اور(ہر قسم کا) جہاد کر نے والے کون ہیں؟پھر خو شخبری ہے مگر وہ بھی ایمان سے مشروط ہے۔ ًتم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہوتم غالب رہو گے اگر صاحب ِ ایمان ہو ً(سورہ آل ِ عمران۔۱۴۱اور۸۳۱) اس سے یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں؟ کیونکہ یہاں دوچیزیں ہیں کہ آزمائے جا ؤگے، جو امتحان میں پاس ہو جا ئے وہ کا میاب؟۔ دوسری بات یہ ثابت ہو ئی کہ ہم نے منہ سے کلمہ پڑھ لیا تو یہ کافی نہیں جب تک عمل نہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آگے دیا ہے آیت ۷۴۱ میں۔ ًوہ غلطی کر بیٹھیں تو اپنے رب سے مغفرت طلب کر تے ہیں ًپہلی قوموں پر بھی ایسا وقت آیا ہے۔ مگرانہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے سن لی اور عذاب ٹل گیا۔جیسے کہ حضرت یو نس ؑ کی امت کہ اس نے حضرت یونس ؑ کے چلے جا نے کہ بعد عذاب سامنے دیکھا اور تائب ہو کر دعا کر نے لگی کہ۔یا اللہ عذاب ٹال دے ہم تیرے نبی ؑکا اتبا ع کریں گے۔اور اللہ تعا لیٰ نے عذاب ٹال دیا۔ حضرت یو نس ؑ کی تلاش شروع ہو ئی۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس چھو ٹی سی لغزش کی بناپر کہ وہ صبر نہ فرما سکے اوراللہ کی مشیت کا انتظار نہ فر مایا۔ایک عرصہ تک مچھلی کے پیٹ میں رکھا،پھر اپنی بستی کی طرف واپس تشریف لے جانے کاحکم فر مایا۔ اور انہوں ؑنے امت کی پھر سے رہبری فر مائی۔ لہذا ہمیں بھی وہی طر یقہ استمال کر نا چا ہیئے کہ تو بہ کر یں۔ کیونکہ قبول ِ دعا کے لیئے تو بہ شر ط ہے۔ لہذا پہلے آئیے توبہ کر یں پھر دعا۔ مگر افسو س یہ ہے کہ توبہ توجب کو ئی کر تا ہے کہ اس کو یہ احساس ہو کہ وہ غلطی پر ہے۔ جب کہ ہما ری قوم یہ ما ننے کو ہی تیا ر نہیں ہے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ جب یہ صو رت ِ حال ہوتو پھر یہاں وہی مصرع صادق آتا ہے کہ احساس زیا ں جا تارہا ً لہذا آپ سے در خو است ہے کہ ان میں سے نہ ہو ں۔بلکہ ان میں سے ہوں جو امتیں نجات پاگئیں۔ وہا ں تو یہ ہوا کہ اگر نبیوں ؑسے بھی بھو ل ہو ئی تو وہ کہہ اٹھے ً ظلمت نفسی ًیعنی ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔اور اے اللہ! ہمیں معاف فرمادیجیئے، جیسا کہ حضرت آدم ؑ سے لیکر ہر ایک نے کیا۔اور اسی لیئے اس سے پہلی امتوں کے نبیوں ؑنے ایسے موقعہ پر جو کچھ فر مایا، وہ قرآن نے محفوظ کر دیا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی وا حد امت ہیں کہ جہا ں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جینے کے تمام اصول اور آداب سکھا ئے۔ وہاں دعا مانگے کے لیئے پو ری ایک سورت عطا فر ما دی۔جو ہم پڑھتے تو ہر نما ز میں ہیں۔مگر نہ اس کی عظمت جا نتے ہیں نہ معنی اور نہ ہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہذا فا ئدہ ہو تو کیسے ہو!یہ با لکل اسی طرح ہے کہ آپ ڈا کٹر کے یہا ں گئے۔دوا تجویز کرا لی اور با زار سے خرید بھی لا ئے۔ مگر اس امید پر طا ق میں رکھدی کہ اس سے مر ض دور ہو جا ئے گا؟ہم نے بھی قر آن اور اس کی سورتوں کے ساتھ یہ ہی کیا ہوا کہ یہ بغیر عمل کیئے فا ئدہ دے گا! میں یہ پو چھنا چا ہونگا کہ بغیر دوا پیئے کیا دوا فائدہ دیتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا بغیر عمل کیئے کو ئی مسلما ن، مسلمان کہلانے کا حقدار ہے۔ جو اب آپ پر چھو ڑ تا ہوں۔ بس ایک در خواست کر تا ہوں کہ ایک دفعہ سورہ فا تحہ خلو ص دل سے پڑھ لیں۔ شاید وہ قبو لیت کی گھڑی ہو اور اللہ تعالیٰ کو رحم آجا ئے۔ کیو نکہ وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ اگر تا ئب ہو کر میرے پا س پہاڑ کے برا بر گنا ہ لے کر آئے تو بھی میں معا ف کر دونگا۔یہ وہ سورہ ہے جو اللہ سبحا نہ تعالیٰ کا امت پر انعام ہے۔جو حمد بھی ہے اور عرض ِ مدعا کا طر یقہ بھی ہے۔ آئیے پڑھیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ الحمدللہ ِ رب العا لمین ہ الرحمٰن الرحیم ہ مالک ِ یو م الدین ہ ایا ک نعبد وایاک نستعین ہ اھد نا الصراط المستقیم ہ صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین (آمین) ترجمہ با محاورہ۔ شروع کر تا ہوں اللہ کے نام سے جو انتہا ئی رحیم ہے۔ اور تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیئے ہیں۔جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔اور یوم قیامت کامالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنما ئی فر ما۔ ا ُ س راستہ پر چلاجس پرچل کر کے ان پر تیری رحمت نازل ہوئی، ان کے را ستہ پر نہیں جن پر تیرا غضب نا زل ہوا (آمین)۔ یہ بظاہر سات آیا ت ہیں بہت ہی صاف اور سیدھی ہیں۔مگر ان کو ہی قرآن کا آپ مقدمہ یا خلا صہ کہہ لیجئے۔یا پھراسلام کا پورا منشور۔ حضورﷺ نے اس کو ام القر آن فرمایا ہے۔ عربی میں کسی چیز کی ابتدا یا اساس (بنیاد) کو ام کہتے ہیں جیسے مکہ معظمہ کو ام القریٰ یعنی دنیا کی بستیوں کی ماں۔اور یہ قرآن میں ترتیب کے حساب سے پہلی سورت ہے۔ حضور ؓ نے سوائے سورہ تو بہ کے ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ لکھوا ئی ہے۔ اس کی وجو ہات مفسرین نے مختلف لکھی ہیں۔ کچھ نے تو کہا کہ چو نکہ اس میں کفا ر سے بیزاری فر ما ئی گئی ہے اس لیئے یہ بسم اللہ سے شروع نہیں ہو ئی۔ کچھ نے کہا۔ یہ پچھلی سورت کا تتمہ ہے اوریہ خو د سورت نہیں ہے اس لیئے اس میں بسم اللہ نہیں لکھو ائی گئی۔ دونوں ہی با تیں اپنی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔ اگر اس گروہ کی با ت مان لی جا ئے کہ اس میں کفا ر سے برا ء ت کا اظہا ر ہے۔ تو آپ یہ دیکھئے کہ ایک سوچو دہ سورتوں میں سے ایک سو تیرہ میں اللہ تعالیٰ نے صر ف اور صرف رحم رکھا ہے۔اس ایک میں نہیں ہے جس میں دو صفات قہا ری اور جبا ری کا ا ظہار ہے۔ جبکہ ایک سو تیرہ میں رحمت کی نوید ہے۔ اس سے اسکی وہ بے انتہارحمت ظا ہر ہوتی ہے۔ جس میں اس نے فر ما یا کہ میں نے اپنے اوپر ر حم واجب کرلیا ہے میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں،بس تم میری (بات)مان لیا کرو ً یعنی ایسے کام مت کرو جو میری نا را ضگی کا با عث ہو ں! کتنا پیار ہے اس آیت میں اپنے بندوں کے لیے!

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ. Bookmark the permalink.