روشنی حرا سے سیرت پاک حضور ﷺ (4) از۔۔۔ شمس جیلانی ”جو انتہائی رحیم اورقیامت کے دن کا مالک ہے“ ہم نے گزشتہ مضمون میں سو رہ فاتحہ پر بات کر تے ہو ئے رب العالمین پر بات ختم کی تھی۔اب دو سری آیت میں الر حمٰن الرحیم کو سمجھنے کو شش کر تے ہیں۔یہ مفر د لفظ الرحمٰن عربی لغت کے عالموں کے نزدیک صیغہ مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ اس جیسا کو ئی رحم کر نے والا نہیں ہے۔ لیکن ہم اس کے ماننے والے، ذرا سی ذراسی با ت پر مشتعل اورنا راض ہو جا تے ہیں۔تعلقات منقطع کر لیتے ہیں جبکہ وہ فرما رہا ہے کہ ً رحم کرو تا کہ رحم کیئے جاؤ ًاور طیش میں آکر یہ فعل عام آدمی سے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں سے ہو تا آیا ہے۔ حضو رﷺ کا دور ہے اور حضورﷺ کے بعد سب کی نگاہوں میں حضرت ابو بکر ؓ انتہا ئی متحمل مزاج اورضبط کر نے والوں میں شا مل ہیں۔ ان کے وصف میں متعدد حدیثیں بھی موجودہیں۔ مگر وہ ؓاس با ت پر اپنے ایک بھا نجے سے نارا ض ہو جاتے ہیں جوکہ تقاضہِ بشریت تھاکہ اس ؓنے،اس پرو پیگنڈے میں حصہ لیاجو منا فقوں اور یہودی نے ان کی لخت ِجگر اُم المو نین حضرت عا ئشہ ؓ صدیقہ کے با رے میں واقعہ افک کی شکل میں گھڑا تھا۔ وہ ؓ عہد فر ما لیتے ہیں کہ میں ؓاس ؓکی جو نادار ہو نے کی وجہ سے مدد ہمیشہ سے کرتا آیا تھا آئندہ نہیں کرونگا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فورا ً ایک آیت نا زل کر کے ان کو ایسا کر نے سے روک دیا اور انہوں ؓ نے فوراًرجو ع کر لیا اور یہ ہی نہیں بلکہ اسؓ کا وظیفہ دگنا فر مادیا۔یہ تو ایک چھو ٹا سا واقعہ ہے۔جس پر اس قدر عظیم الشان اور عظیم القدر انسا ن نا راض ہو گئے۔ تو عام مسلمانوں کی گنتی کیا ہے۔ مگراس مالک کی رحمت دیکھئے کہ وہ ان سب کو دیتا ہے جو اسے نہیں مانتے اور ان سے زیا دہ دیتا ہے جو مانتے ہیں؟ کیو ں محض اس لیئے کہ وہ منصف ہے۔ چو نکہ انکا وہاں کو ئی حصہ نہیں ہے۔لہذا ان کو یہیں دے کر حساب بیباق کر دیتا ہے۔ وہ جو کہ اسی کونہیں بلکہ ہر نافرمان کو فنا کر دینے پر قادر ہے۔مگر نمعلوم مدت سے دنیا چلی آرہی ہے۔آج تک مکمل طو ر پر تبا ہ نہیں ہو ئی۔کیو نکہ سزا دینے پر قادر ہو نے کے با وجود اس نے رحم کواپنے اوپر واجب فر ما لیا ہے۔ مگر صرف چا ہنے والوں سے ایک شر ط رکھی کہ ً تم بس میرا کہامان لیا کرو ًہے کو ئی ایسا مہر بان یہ وہی ہو سکتا ہے جو ماں سے بھی ستر گنا ہ زیا دہ چاہے۔اور ساتھ میں یہ خو شخبری بھی دے رہا ہوکہ تم ہزار بار گنا ہ کرو اور پہا ڑ جیسا انبار لے کر آؤ تو بھی میں معا ف کر دو نگا۔ مگر یہاں اس کا یہ مقصد نہ سمجھ لیا جا ئے کہ ہم جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کہ توبہ کر کے روز تو ڑتے ہیں۔ یہ مشق بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں۔ در اصل یہ ان کے لیئے ہے۔ جو تو بہ کر نے یا اسلام لا نے کے بعد اپنی سی پو ری کو شش کریں۔ لیکن پھر کہیں مجبور ہو جا ئیں، یا پھنس کر گناہ دو بارہ کر بیٹھیں تو قابل ِ معافی ہیں۔ اس لیئے کہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ً میں کسی کو اس کی وسعت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا ً۔ یہ ان ہی کے لیئے ہے۔ان کے لیئے نہیں کہ صبح کو ًمَے پی شام کو کر لی تو بہ، رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ً رحم کے بارے میں فر مان یہ ہے کہ میں رحیم ہو ں اور رحم کو پسند کر تا ہوں۔اسی لیئے میں نے رحم کو اپنے نام سے بنایا ہے۔ لہذا جو اس کا لحاظ کر ے گا اس کا لحاظ میں بھی کرونگا ً اسمیں سب سے خو بصورت سبق صلہ رحمی کے لیئے ہے۔ یعنی تم اپنے جو قریبی عزیز ہیں یعنی جن کے ساتھ رحم کا رشتہ ہے بہتر سلوک کرو۔ میں تمہا رے ساتھ بہتر سلوک کرونگا۔ ہم کیا کر تے ہیں؟ وہ کر تے ہو ئے سوچنا چا ہیئے۔ بیوی سے غلطی ہو گئی طلا ق۔ بچو ں سے غلطی ہو گئی عاق، بھا ئیوں سے تعلقات منقطع، سسرال سے تعلقات منقطع۔ اور یہ گمرا ہی عام آدمی ہی نہیں۔ بلکہ بڑے بڑے جائز سمجھتے ہیں۔میں افسوس کے ساتھ عرض کرو نگا کہ اس میں ہما رے علما ء تک بیخبرہیں۔ میں ٹی وی کی ایک مذہبی چینل پر پروگرام دیکھ رہا تھا۔ ایک مفتی صاحب سے سوال کیا گیا کہ داماد اپنی ساس کا احترام نہیں کرتا!۔ جو اب تھا کہ سسرالی رشتہ داروں کے لیئے کو ئی ہدایت نہیں ہے۔ غالبا ً یہ سب کچھ ان کی نظر سے نہیں گزرا ہو گا۔ یا ان کے مسئلک کے علماء نے اس کی تفسیر اور یہ حدیث نہیں لکھی ہو گی۔ نہ ہی نکاح کے خطبہ مسنو نہ میں پڑھی جانے والی آیت کا وہ حصہ کہ ً تسآء لون بہ والارحام ً کہ تم سے قیامت کے دن رحم سے متعلقہ عزیزوں کے بارے میں سوال کیاجائے گا؟جوکہ اس موقعہ پر یہ یاد دلانے کے لیئے عزیزداری بیوی اوراس کے رحمی رشتہ داری کی وجہ سے قائم ہو رہی ہے انکا اور جو پہلے سے تمہا رے تھے، ان کااب دونوں احترام کر یں۔ اور یہ اگر مقصد نہیں ہے۔ تو ساس اور دا ماد، سسر اور بہو کا محرم ہو نے کا حکم کیا کہتا ہے؟ میرے خیال میں جواب یہ تھا کہ ساس کو چاہیئے کہ داماد اب قیامت تک کے لیئے اس کا بیٹا بن چکا ہے۔وہ اس کو ماں کا پیار اور عزت دے۔ اور داماد کو چاہیئے کہ وہ ساس کا احترام ماں کی طرح کرے۔ کیونکہ اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ چھو ٹے بڑوں کا احترام کریں اور بڑے چھو ٹو ں کا۔اس لیئے کہ تالی ہمیشہ دو نوں ہا تھوں سے بجتی ہے۔ اس سلسلہ میں سو رہ العمران کی یہ آیات مزید مشعل راہ ہیں۔جن میں اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے ایک مسلمان کی تعریف کی ہے۔ کہ اس میں کیا کیا خو بیاں ہو نا چاہیئے۔الذ ین ینفقون فی السراء والضرآء والکا ظمین الغیظ والعافین عن الناس ط واللہ یحبب المحسنین ہ والذین اذافعلوا فا حشۃ او ظلمو انفسھم ذکرواللہ فاستغفروالذنوبہم ص ومن یغفرو الذنوب الا اللہ س ولم یصر و علٰے ما فعلو او ہم یعلمون ہ اولٓیٰک جزآ ؤھم مغفرۃ من ربھم و جنٰت تجری من تحتھا الا نھار خالدین فھیاط ونعم اجر العالمین ہ (آل عمران ۶۳۱۔۴۳۱) بہ محاورہ اردوترجمہ۔(وہ مومن) جو تنگدستی اور فا رغ البالی میں خفیہ اوراعلانیہ خرچ (راہِ خدا میں) کر تے ہیں۔(اوراپنے) غصے کو پی جاتے ہیں، لوگو ں سے عفو اور در گذر کا بر تاؤ کر تے ہیں۔ اللہ سبحا نہ تعالیٰ انہیں عزیز رکھتا ہے۔اور اگر کو ئی گناہ کر بیٹھیں اور اس پر جاننے کے بعد بضد نہ ہوں اور فورا ًاللہ تعالیٰ کا ذکر اور توبہ کرلیں (تو)چونکہ خدا کے سوا کو ئی معاف کر نے والا نہیں ہے (وہ معاف فر مادیتا ہے) اس کا بدلہ رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں، جہا ں زیرزمین نہریں بہہ رہی ہیں۔ان نیک کام کر نے والوں کو دونوں عالم میں بہت بڑا ثوب ہے اب ہم مالک یو م الدین پر بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی قراۃ ملک ِ یوم الدین بھی کر تے ہیں مگر معنی میں کو ئی فرق واقع نہیں ہو تا ہے۔ یہ ہی در اصل اسلام کی اساس ہے۔ یعنی اللہ تعا لیٰ کو مالک ِ یوم الدین ما ننا۔ اور اس پر اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے با ر بار قر آن میں زور دیا ہے کہ اس دن سب کو خدا کے سامنے لا زمی طور پر پیش ہو نا ہے۔ جسے ہم یوم ِ قیا مت کہتے ہیں۔اور جوکچھ ہم نے اچھا یابرا کیا ہے وہ اللہ تعا لیٰ کے ذاتی علم میں تو رہتا ہی ہے اور وہ اس پر قادر بھی لیکن اس کے لیئے گواہ وغیرہ رکھے ہوں۔کیونکہ یہ انصاف نہیں ہے کہ وہ اپنی معلومات کی بنا پر فیصلہ سنادے۔ اورخو د ہی منصف اور شاہد بن جا ئے۔ لہذااس دن وہ ریکا رڈ پیش ہو گا جو پیدائش سے لیکر موت تک کرا ما ً کا تبین لکھتے رہے ہیں۔ جو کہ دو فرشتے ہیں اور داہنے،با ئیں ہاتھ پرمبعوث ہیں۔داہنے ہاتھ والا نیکی لکھنے کے لیئے اور با ئیں ہاتھ والا بدی لکھنے کے لیئے۔ پھراس پر گواہ پیش ہو نگے جو کہ حضور انبیا ء کرامؑ اور خو د اسکے اعضا ء، ہاتھ پا ؤں اورزبان وغیرہ۔ ہر ایک کے خلاف گواہی دینگے۔اگر بر ے کام کم کیئے ہیں اور اچھے کام زیادہ ہیں۔ تو سب اچھے اعمال خود گواہی دیں گے۔جیسے کہ نماز روزہ حج وغیرہ۔ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جن کے گناہ کم ہونگے انکو ان کے اعمالنامے اللہ تعالیٰ ان کا ندھے پر ہا تھ رکھ کر چپ چا پ عطا فر ما دے گا۔دنیا میں در اصل بھیجنے کا مقصد یہ ہی تھا کہ سب پا ک اور صاف ہو کر واپس جنت آئیں،کیو نکہ را زق ہو نے کی بنا پر یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنت اور دو زخ دو نوں کو غذا عطا فر ما ئے۔ اور قرآن کی آیتیں بتا رہی ہیں جنت نیک لو گوں کے لیئے ہے اور جہنم کا ایندھن انسان، جن اور پتھر ہیں۔ توجنہو ں نے یہاں اسے یاد رکھا وہ تو وہا ں آرام میں رہیں گے اور جنہوں نے بھلا دیا وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اور قر آن کہہ رہا ہے کہ ان کا عذاب کبھی ہلکا نہ نہیں کیا جا ئے گا۔ خدا ہم سب کو اس عذاب سے بچا ئے(آمین) جب حساب ہو چکے گا تو ایک دور شفاعت کا بھی آئے گا۔ جس میں بہت سے لو گ اپنے عزیزوں کو اپنے در جے میں لے جا سکیں جو کم در جہ ہو نگے۔ سب سے پہلے حضورﷺ شفا عت فرمائیں گے۔ مگر کس کی امتیوں کی! اور امتی کو ن ہیں۔؟جو حضورﷺکی راہ پریا ان صحا بہ ؓ کی راہ پر جو حضورﷺ کی راہ پر چلیں، پیر وی کریں۔ سب کی نہیں کیو نکہ اس میں تو منا فق بھی تھے۔ اور حضورﷺ کی امت میں نہ ماننے والے بھی شا مل ہیں۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو جس سے محبت کر ے گا وہ جنت میں اسی کے ساتھ ہو گا۔اس میں اضا فہ یہ بھی ہے کہ جو مجھﷺ سے محبت کر تے ہیں وہ جنت میں میرے ساتھ ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو سر کارﷺ کے اتبا ع اور سر کار سے سچی محبت کر نیکی توفیق عطا فر ما ئے۔ تا کہ ہم اس دن سر خرو ہو سکیں۔البتہ جو سادہ پر چہ امتحان میں لے کر جائیں گے۔ان کے پا س کچھ نہیں ہو گا بلکہ وہ ان دوسرے کے گنا ہوں کے بو جھ تلے دبے ہو ئے ہو نگے۔جن کے ساتھ وہ زیادتی دنیا میں کر کے گئے ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو اس گروہ سے بچا ئے۔ کیو نکہ اس دن کا سکہ رو پیہ پیسہ نہیں بلکہ نیک اعمال ہو نگے۔ جو ان دعوؤ ں کے بد لے میں وضع کیئے جا ئیں گے جن کے ساتھ کسی نے زیاد تی کی۔ جب اس کے پاس لے دے کر کچھ نہیں بچے گا تو مدعی کے گنا ہ اس کے کھا تے میں لکھ دیئے جا ئنگے۔اور حضورﷺ کے ارشاد ِ کے مطابق وہ اس دن سب سے بڑا مفلس ہوگا۔

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ. Bookmark the permalink.