سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (3)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ آپ کوئی کام ایسا نہ کریں جو مالک ِ حقیقی کے ماتھے پرشکن آئے اور یہ ہی تقویٰ ہے۔ اب آگے بڑھتے ہیں اب آپ بسم اللہ کو ورد زباں بنا لیجئے۔ جب آپ بسم اللہ۔۔۔ الخ تک ہر کام سے پہلے پڑھیں گے تو فورا ً یہ یا د آجا ئے گا کہ ہم کسی بھی چیزکے مالک نہیں ہیں اور کو ئی بھی مالک نہیں ہے، سوائے اللہ کے، لہذا آپ اس کی نا راضگی سے ڈریں گے اور بچیں گے۔ پھر ہر کا م فر مانبر داری کے تقا ضے پو رے کر تے ہو ئے کر ینگے۔اس دوران یا کسی وقت غلطی ہو بھی گئی تو آپ کے سامنے اس آیت کا وہ حصہ آجا ئے گاکہ وہ انتہا ئی ً رحیم ًہے۔ لہذا جس طر ح دنیاوی مالک کی خطا کرکے،سب مالک کی طر ف ہی رجوع کر تے ہیں،بشرط ِ کہ یقین ہو کہ مالک رحمدل ہے معاف کر دے گا۔ اور اگر سخت گیر ی اور سزا کا خوف ہو تو اس سے بچنے کے لیئے بھاگ جاتے ہیں۔ مگر خالق سے آپ بھاگ نہیں سکتے؟کیو نکہ وہ فر ماتا ہے کہ ً مجھ سے بندہ بھاگ نہیں سکتا ً ً اس لیے بہتر ی اسی میں ہے کہ اس رحیم کی ً رحمت ًسے فا ئدہ اٹھا ئیں۔اس لیئے کہ اس انتہا ئی رحیم کی طر ف جو ع کر نے کے سو ااور کوئی چا رہ جو نہیں ہے۔پھراس سلسلہ میں حضورﷺ کا یہ ار شاد ِ گرامی بڑا امید افزا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ً جب کو ئی بندہ توبہ کر تا ہے تو میں اتنا خو ش ہو تا ہوں جتنا کہ اس اونٹ کا مالک جو ریگستان میں سفرکر رہا ہو اور اس پر بو جھ(دانا پانی سب کچھ) لدا ہواور وہ گم ہو جا ئے اور پھر اچا نک مل جا ئے ًپھر اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ِ گرامی یہ بھی ہے کہ ً میری رحمت سے تو صرف کا فر نا امید ہو تے ہیں یعنی با الفاظ دیگر نا امیدی کفر ہے۔ لہذا اس کے ساتھ اچھا گمان رکھیئے کیونکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں بندے ساتھ وہی کرتاہوں جیسا کہ وہ گمان رکھتا ہے۔ ً آئیے اب دو سری آیت کی طرف بڑھتے ہیں۔ تمام تعریفیں (صرف) اللہ کے لیئے ہیں جو کہ عالمین کا رب ہے۔اس میں سبق ہے کہ صرف اسی کی تعریف کی جا ئے جو تمام تعریفوں کا اکیلا ہی مستحق ہے۔اورجملہ صفات کا حامل بھی۔جس میں جو بھی صفت حسنہ ہے وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے اور اس نے ہی اپنی مخلوق کو ودیعت فر ما رکھی ہے۔ مثلا ً سورج کوروشنی، آگ کو حرارت اور کسی عالم کو علم وغیرہ۔یعنی کسی کااپنا کچھ بھی نہیں ہے سب چیز یں عا ریتا ً ہر ایک کو وقت ِمعینہ تک کے لیئے عطا ہو ئی ہیں۔ تو کیا آپ مانگی تا نگی چیز کو اپنا کہہ سکتے ہیں؟ نہیں ہر گزنہیں۔کیا اس پر اترانا جا ئز ہے! اس پرصرف عطا کر نے والے کی تعریف اور شکر ہی عقل کا تقاضہ ہے۔سورج کی روشنی کی واپسی کے لیئے تو قیامت کا وقت مقرر ہے وہ اس وقت دیکھ لیجئے گا۔مگر ہم حرار ت یعنی آگ کا ٹھنڈا پڑنا قرآن میں پڑھ چکے ہیں۔ جس کی مثال مو جو د ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابرا ہیم ؑ کو آگ میں ڈالا تو اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ً ٹھنڈی ہو جا ابرا ہیم ؑ پر ًاور وہ بہ خیرت باہر تشریف لے آئے۔اسی طر ح عالم اور علم کو دیکھ لیجئے۔ کو ئی کتنا ہی بڑا عالم کیو ں نہ ہواس کا محتا ج ہے۔وہ اگرچا ہے تو کسی کے بھی اندر علم کا سمندرمو جزن کر دے۔حضورﷺ کی مثال اس سلسلہ میں کا مل ترین ہے جن کے آگے دنیا بھر کی فصاحت اور بلاغت دھری کی دھری رہ گئی جبکہ کفار عرب کو اپنی فصاحت او بلاغت پر ناز تھا۔ وہ نہ چا ہے تو کو ئی سارے علوم کا حافظ کیو ں نہ ہو،اس کے دماغ سے سارے مضا مین غا ئب کر دے۔بارہا کا مشاہدہ ہے کہ کو ئی عالم اپنے علم پر مغرور ہو ا اور اس سے دوران تقر یر کو ئی غلط لفظ کہلوا دیا اورلو گوں نے اسے دھکے دے کر اسٹیج سے نیچے اتار دیا۔ یہ تو آپ پر بھی گزری ہو گی کہ گھر سے بہت کچھ یا د کر کے چلے کہ یہ کہو نگا وہ کہو نگا اور مطلوبہ مقام پر پہنچ کر تمام مضمو ن ہی دما غ سے غا ئب ہو گیا۔ یہ کرنے والا کو ن ہے؟ وہی جس نے علم عا ریتا ً عطا فر ما یا ہواتھا۔ جو رو شنی وہا ں سے آرہی تھی لا ئن کٹ گئی۔ جس طرح بجلی کا تار کٹ جا ئے تو اندھیرا چھا جا تا ہے کیوں کہ وہ غرور کو پسند نہیں فرماتا۔ اسی لیئے دن میں متعدد با ر حضور ﷺ ً رب ِ زدنی علما ًکی تلاوت فرمایا کر تے تھے۔ کہ اے میرے رب میرے علم میں اضا فہ فر ما۔تو جب نبی ِﷺ کر یم جیسی شخصیت، جن ﷺکو سب سے زیا دہ علوم و دیعت ہو ئے تھے دن بھر در خواست فر ما تے رہتے کہ مجھے علم ِ مزید عطا فر ما تو ہم کس گنتی میں ہیں؟اس تمام بحث سے میرا مقصد یہ ثابت کر نا تھا کہ تمام صفات کا مالک و ہی ہے لہذا تمام تعریف کا مستحق بھی۔ اگر کسی اور کی تعریف کربھی رہے ہیں تو یہ سوچتے ہو ئے کریے کہ دیکھئے اللہ نے اسے کتنااچھا دما غ دیااور علم عطا فر ما یا ہے۔ یا خوبصورت ہے توبہترین شکل عطا فر ما ئی۔ یا اس نے بہترین مکان، کا روبا ر اور روزگار و غیرہ عطا فرمایا ہے۔ غر ض کہ ہر چیز کو اسی سے مو سوم کر یں جس کی وہ عطا کر دہ ہے۔ اپنی فرا ست اپنی قابلیت اور کسی کے مدحت کرنے سے پہلے یا کسی انسان کی مدد وغیرہ کاذکر کر تے ہو ئے بھی محتا ط رہیں۔ اگر آپ کی کوئی اور تعریف کر رہا تو اسے فورا ً یا د دلا ئیں،کہ یہ عطاہے اسی پرور دگا ر کی۔ میرا اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔صرف کو شش تھی جس کی تو فیق بھی اسی کی عطا کر دہ ہے۔یہ کہنا بطور مو من ہم سب پر واجب ہے۔ اب ہم انشا اللہ آیت کے اگلے حصہ ً رب العا لمین ًپر با ت کر ینگے۔ عربی میں رب کہتے ہیں پرور ش کر نیوالے کو دائی اور ماں کو بھی رب (ف)کہتے ہیں کیونکہ وہ دودھ پلاتی ہیں مگرجب یہ بطور اسم ِکے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے آتا ہے تو ً الرب ً لکھتے ہیں جو کہ صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ. Bookmark the permalink.