سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (۲)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
جس نے ہمیں دعا مانگنے کاطر یقہ سکھا یا، وہی تعریف کے قابل اوررب العالمین ہے
گزشتہ مضمون میں ہم سورہ فاتحہ کی پہلی آیت پر بات کر رہے تھے اور مفسرین کے پہلے گروہ کی بات ختم کی تھی اب آگے بڑھتے ہیں۔ اگرہم دوسرے گروہ کی با ت مان لیں کہ در اصل سو رہ تو بہ سورت ہی نہیں ہے۔بلکہ پچھلی سو رت کا تتمہ ہے تو پھر یہ ظا ہر ہو تاہے کہ اس نے پو رے قر آن میں اپنے اوپررحم کو حا وی رکھا۔اور چو نکہ اللہ واحد ہے اسی لیئے وہ طا ق نمبر پسند فر ما تا ہے اور اس نے سو رتیں بھی طاق رکھیں یعنی پھر ایک سو تیرہ ہی بنیں گی۔ اور یہ کہ حضو ر ﷺہمیشہ طا ق نمبر پسند فر ما تے تھے۔ مثلا ً نما زوں میں تسبیح تین یا سات مر تبہ بہ اختلاف روا یا ت۔ یا پا نی تین گھونٹ میں پینا، وضو میں ہرعضو کوتین مرتبہ دھونے کا عمل وغیرہ۔واللہ عالم۔ چونکہ یہ علمی بحث ہے اس پر بات کرنا یہیں تک کافی ہے۔ کیونکہ ہمارا مقصدتو اس سورت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ سورت ایک نعمت ہے مسلما نوں کے لیئے کیونکہ اس سے پہلے نبیوں ؑ نے جو دعا ئیں ما نگی تھیں۔وہ اب قرآن کا حصہ ہیں وہ تو ہمارے پاس ہیں ہی۔ جیسا کہ حضرت آدم ؑ کی دعا۔یا حضرت ابرا ہیم ؑ کی کعبہ کی تکمیل پر دعا۔یا پھر حضرت یو نس ؑ کی مچھلی کے پیٹ میں دعا وغیرہ۔ مگر کسی قوم کو خدا نے خود دعا مانگنے کا طریقہ نہیں سکھا یا۔ ہمارے خیال میں ان میں ہمیشہ چونکہ نبی ؑ آتے رہے اور موجود رہے۔ جو کہ اپنے،اپنے دور کے لیئے تھے۔ لہذا جب بھی انہیں دعا کی ضرورت پڑی وہ دعا کے لیئے نبی ؑ کے پاس جا تے رہے۔ جیسے کہ بنی اسرا ئیل حضرت شمعو نؑ کے پاس گئے کہ ہم اب جہا د کر نے کو تیار ہیں۔ جس کو وہ حضرت مو سٰی ؑ سے یہ کہہ کر انکار کر چکے تھے کہ آپؑ اور آپؑ کا خدا لڑنے کے لیئے جا ئیں۔جب ملک فتح ہو جا ئے گا تو ہم وہاں جانے کو تیار ہیں کیونکہ وہاں کے لوگ بڑے طاقتور ہیں۔اس کے نتیجہ میں وہ چالیس سال تک سر گرداں رہے۔لیکن لطف یہ ہے کہ اب اسی کی بنا پر فلسطین کو وہ ا پنی زمین کہتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا نے عطا فر مائی تھی۔
ایک عرصہ بعد جب وہ نادم ہو ئے اور اور حضرت شمعون ؑکے پاس آئے کہ آپ اللہ سے دعا فر ما ئیے کہ وہ ہما رے لیئے کسی کوبا د شاہ منتخب فر ما دے تاکہ ہم اس کی قیادت میں جہاد کریں؟ تو انہوں ؑ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے با د شاہ مقر رفر ما دیا۔ مگر جب جہاد کا وقت آیا تو پہلے تو انہوں نے اس کو ناپسند کیاکہ ایک عام آدمی کو بادشاہ کیوں بنایا۔ کیو نکہ وہ مال اور دولت میں کم تھے دوسرے وہ حضرت بن یامین ؓ کی اولاد میں سے تھے۔ جبکہ اکثر یت میں حضرت یعقوؑب کے بڑے صاحبزادے یہو دا کی اولاد تھی۔جوکہ اپنے دور اقتدار میں با قی قبائل سے لڑ بھڑ کر زیادہ تر کوختم یا فلسطین بدرکرچکے تھے۔ چو نکہ امت ِ محمدیﷺ میں بعد میں کوئی نبی ؑ نہیں آنا تھا۔اس لیئے اللہ تعا لیٰ نے جیسے کہ تبلیغ کے لیئے پوری امت کوذمہ دا ر ٹھہرایا اسی طر ح دعا بھی سکھا ئی اور اس کو پا نچو ں وقت پڑھنے کا حکم بھی لازمی طور پردیا تاکہ کو ئی غلطی ہو جائے تو اس کا سا تھ ہی ساتھ ازالہ بھی ہو تا رہے۔ اور اسی پر بس نہیں اس سے زیادہ مرتبہ جب چا ہیں اور جتنی مرتبہ چاہیں مانگیں۔ اور ہر دعا اور نماز میں سورہ فا تحہ پڑھنا ضروری رکھا گیا۔اس کے با رے میں حضورﷺ کی یہ حدیث مزید روشنی ڈالتی ہے کہ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو اس وقت تک کے گنا ہ بخش دیئے جا تے ہیں اور یہ ہی سلسلہ ا یک نما ز سے دوسری نما ز تک چلتا رہتا ہے۔مزید فر مایا کہ جس کے دروازے پر دریا بہہ رہا ہو اور اس میں وہ پا نچ وقت نہا ئے تو اس کے جسم پر میل کیسے رہ سکتی ہے۔چو نکہ ہم ملت کے لیئے بھی دعا مانگنے کے لیئے مکلف کیئے گئے ہیں لہذااس کی زبو ں حالی دور کر نے کے لیئے دعا کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔مگر جس طرح نماز پڑھنے کی پہلی شر ط طہارت اور وضو ہے۔ اسی طرح دعا ما نگنے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔اس کے بغیر آپ د عاتو کرسکتے ہیں مگر جس طرح بغیر وضو نما ز نہیں ہو سکتی اسی طر ح بغیر شرا ئط پو ری کیئے دعا بھی قبو ل نہیں ہوسکتی۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم روزدعا مانگتے ہیں،مگر پو ری نہیں ہو تیں۔ جبکہ اللہ تعا لیٰ نے یہ وعدہ فر ما رکھا ہے کہ ًتم مانگو میں سنتا ہوں اور قبو ل کرو نگا ً اس پر حضورﷺ نے مزید روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلہ میں کچھ شرا ئط بیان فر ما ئی ہیں۔ ایک تو مانگنے والا نفس پا ک ہو، دوسرے اس میں کسی کا برا نہ چا ہا گیا ہو اور تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف نہ ہو (مشیت کے خلاف بھی ہو ئی تو بھی بندہ قیامت کے دن ثواب سے نوازا جا ئے گا)۔ اور اللہ تعا لیٰ یہ بھی فر ما تا ہے کہ ً میں اپنے وعدے کے خلاف نہیں کر تا ً تو پھر سوال پیدا ہو تا ہے کہ دعا ئیں قبول کیو ں نہیں ہو تیں؟ پہلے پاکیز گی پر آتے ہیں۔اس سے صرف جسم کی پاکیزگی ہی مراد نہیں ہے، بلکہ روح کی پا کیزگی بھی مراد ہے۔رو ح کی پاکیز گی پیدا ہو تی ہے تین چیزوں سے اللہ کی وحدانیت اور نبیؑ کی رسالت پر یقین، اکل حلال اور صدق ِ مقال۔ یعنی اللہ تعا لیٰ پر ایمان حضو ر ﷺ، قرآن پر ایمان تمام صحیفوں،نبیوں ؑ اور ملا ئکہ پر ایمان وغیرہ۔اس کے بعد پاک کھانا پینا۔ اور سچ بو لنا۔اگر یہ خو بیاں نہیں ہیں۔ تونہ نما ز کو ئی فا ئدہ دے گی اور نہ دعا۔لہذا یہ با ت اب آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ ہما ری دعا ئیں قبول کیو ں نہیں ہو تیں۔ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ان سب باتوں پریقین رکھتے ہیں مگر کیا عمل بھی کر تے ہیں؟بس نکتہ غور طلب یہ ہی ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو اپنا جا ئزہ لیجئے۔کیو نکہ یہ آپ اور صرف اللہ کے در میان راز ہے کو ئی تیسرا وقف نہیں۔اگر صورت ِ حال یہ نہیں ہے جو کہ ان تین شر طوں کا تقاضہ ہے۔ تو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اس لیئے کہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں ہواہے۔لہذا تو بہ کر لیجئے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ بندہ اگر پہاڑ بھر گناہ لیکر آئے تو بھی میں معاف کر دیتا ہوں۔ان شرطوں پر عمل کا اللہ سے بہ شر ط ِ تو فیق وعدہ فر ما ئیے۔اور وہاں تک اس پر قائم رہنے کی کو شش کیجئے جہا ں تک آپ کر سکتے ہیں۔ جہا ں مجبور ہو جا ئیں۔وہاں اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ً میں کسی کو اس کی وسعت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا اور میں دین میں آسا نیا ں پسند کر تا ہو ں مشکلا ت نہیں۔ لیکن یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ آپ نے اس کی راہ میں کتنی کو شش کی وہ آپ خود یا وہ جا نتا ہے۔اگر آپ سچا ئی سے اپنی توبہ پر عمل کر نے کو شش کر رہے ہیں اور کسی وجہ سے کہیں خامی رہ گئی ہے۔ جو دور کرنااس وقت آپ کی وسعت سے باہر ہے۔تو بھی آپ کی پا کیزگی میں انشا اللہ فر ق نہیں آئے گا۔جیسے کہ پا نی نہ ہو یا کوئی طبی وجہ ہو، تو تیمم کر نے سے پاکیزگی میں فرق نہیں پڑتا۔ یا بعض اوقات جان بچا نے کے لیئے حرام کھاناوقتی طو ر پر حلال ہو جا تا ہے۔مگر یا د رکھئیے پہلی شر ط کسی حالت میں قابلِ معافی نہیں ہے۔اور وہ ہے ً فہو ا مو من ً یعنی بندے کا مومن ہو نا۔اب آپ چو نکہ قر آن کی ایک سورت تلا وت کر نے اور سمجھنے جا رہے ہیں اور آپ نے جسما نی طہارت جو اسے چھونے کی شر ط ہے اورقلبی پاکیز گی حاصل کر لی ہے۔توپہلے آعوذ باللہ شروع سے۔۔۔ آخر تک پڑھ لیجئے تاکہ شیطان کے حملو ں کا خطرہ نہ رہے۔کیو نکہ اس کے بعد آپ اللہ کی پنا ہ میں آجا ئیں گے۔پھر شرو ع کیجئے ً اللہ کے(مقدس) نام کے سا تھ جو بڑی رحمتو ں والا ہے ًجس کے لیئے ہمیں حکم ہے کہ ہر کام کے شروع میں پڑھیں۔کیو ں؟اس لیئے کہ جب آپ یہ آیت پڑھیں گے تو سب سے پہلے تو وہ تصور ذہن میں ابھرے گا کہ ہم اب ایک انتہائی رحیم اور کریم آقا کے سامنے ہیں جو ہم سے بے انتہا محبت کر تا ہے۔ ہم کو انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازتا ہے اور فر ماتا ہے کہ اگر تم شکر کروگے تو اور بھی زیادہ عطا کرونگا۔ جبکہ ہم سے بدلے میں سوائے اطاعت کے اورکچھ نہیں مانگتا اس لیئے کہ وہ بے نیاز ہے۔ صرف ایک چیز مانگتا ہے جو اسکا حق بنتا ہے وہ اس سے ایسی محبت کی جائے جس میں کو ئی اس کا شریک نہ ہو۔تقا ضہ یہ ہے کہ ہم سے کو ئی کام ایسا سرزد نہ ہو کہ ہما رے محبوب حقیقی کے ما تھے پہ شکن آ ئے۔ اس کا سب سے زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے۔ بالکل اسی طر ح جس طر ح ہم دنیا میں جو ہمیں محبو ب ہو تے ہیں انکا خیال رکھتے ہیں کہ انکے ماتھے پر شکن نہ آئے، میرے خیال میں یہ ہی تقویٰ ہے جو اسلام کی اساس ہے۔

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.