(423 – 467) قطعات شمس جیلانی

 423

نقشِ پاپر چلانا چاہتا ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

 

نبی ﷺ کا راستہ میں جگ کو دکھانا چاہتا ہوں

نبی ﷺکیسے تھے راہ پر چل کر بتانا چاہتا ہوں

میں چاہتا ہو ں کے واپس آئیں سب دین ِاللہ پر

میں اپنے ساتھیوں سے جنت بسانا چاہتا ہوں

 

424

اللہ جسے خود چاہے ہے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اللہ جسے خود چاہے ہے   اسے پورا زمانہ چاہے ہے

سرکار اسی کو چاہیں ہیں   ا ن کا پوراگھرانا چاہے ہے

 

425

اول الذکر لا الہ اللہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اول میں ذکر ِ ذات کرتا ہوں

پھر میں آقاﷺ کی بات کرتا ہوں

تنہا جہاں میں رہ نہیں سکتا

تب میں فکر ِ کائینات کرتا ہوں

 

426

دار الشفا مدینے کی گلی ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس کہے کھری بات ہمیشہ جو بھلی ہے

دھوئے گا اسے کون رخ پہ سیاہی جو ملی ہے

سوچو بھی نہیں اس کا مسیحا ہے کہیں اور

یہ روگ جہاں مٹتا ہے وہ مدینے کی گلی ہے

 

427

بات یہ فاطمہ زہرا کے گھرانے چلی سےہے

 

نانی جو ولی تھیں تو نواسہ بھی ولی ہے

تصوف اسی کا ہے نبیﷺ کا ہے جو پیرو

جہاں دولت یہ بٹتی ہے وہ کاشانہ علی ہے

نوٹ مصرع ثانی حضرت صفدر کی عطا ہے

 

428

دنیا یہ سدا یاد کریگی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس بندہ تھا کوئی دنیا میں ہمیں یاد کریگی

سیرت ِ نبیﷺ اورصحابہ کہیں بھی جو پڑھیگی

کبھی مومن کی نگا ہوں میں نہ توقیر گرےگی

ہے ریت یہ ہی جاری ” تا قیامت” جو چلےگی

 

429

یہ کم ہے ہم کو پیدا کیا۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہ کم ہے کیا ہمیں پیدا کیا امتِ محمد مصطفیٰ ﷺمیں

اوردرِ توبہ کھلا رکھا مرتے دم تک ہر اک گناہ میں

شمس قناعت عطا اتنی پھر کردی اپنے ان فقیروں کو

کہ خواہش ہی نہیں ان کو رہی ما ل ومتاع میں

 

430

عشقِ رسولﷺ مرہونِ عمل ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس تیری توجہ ساری اسوہ حسنہ ﷺ میں گم رہی

تو نے لکھی ریکارڈ کرائی پھر بھی نظروں میں کم رہی

کوشش رہی کہ اسے عام عوام میں دن را ت تو کرے

جس سمت تو گیا ادھر حضورﷺ کی محفل گرم رہی

 

431

اللہ ہو مہرباں روزِ جزا ملے۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس کرکے جاؤ ایسے کام بہتر صلہ ملے

عزت ملے ، وقار ملے اور تمہیں مرتبہ ملے

حکم ِ خدا ملے قبر میں سلادو سکون سے

اللہ ہو تم پر مہرباں جب وہ روز جزا ملے

 

432

ہر کام کے لئیے وقت معین ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

معین وقت ہے جس میں جو کام ہوتاہے

میرا یا تیرا فقط کوئی ایک نام ہوتا ہے

لوگ کہتے ہیں اس کو ملا انعام ہے یہ

یہ ہی تماشہ بس صبح اور شام ہوتا ہے

 

433

بنا احساس ِبندگی، شرمندگی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہ کتنے ہیں گندے لوگ جنہیں احساس ِبندگی نہیں

اس شمع کی طرح ہیں بتی نہیں چراغ نہیں روشنی نہیں

شمس اس نبیﷺ کے دور میں بھی ہے اسی لیمپ کی تلاش

وہ اپنی چلاتے بات ہیں اللہ کی ہدایات کو ہیں مانتے نہیں

 

434

دینِ اللہ ایک، کتاب ونبی ﷺ ایک۔۔۔ شمس جیلانی

 

جب سے لا کے بسائیں دل میں میں نے پیارے ﷺ رسول باتیں

اٹھا کر پھینک دیں کوڑے میں، میں نے سب فضول کی باتیں

شمس دین ایک ہے رب ایک ہے اور اسلام دین ہے محبت کا

درآئیں نفرتیں کیسے اور ڈالدیں کس نے عرض و طول کی باتیں

 

435

چلو راہ راست پر۔۔۔ شمس جیلانی

 

نہ گھبراؤ جو دنیاتم پر مغضوب الغضب ہے

وہ راضی ہے تو پھر پلے میں روزو شب ہے

سچ بولو نہ کم تولو یہ ہے تعلیم ِ اسلامی

یہ ہی کہتا ہمیشہ سے ہمارا تو مذ ہب ہے

 

436

اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

 

کیا نہ دیا اللہ نے بڑا احسان ہے صا حب

ناشکرا مگر پھر بھی بڑاانسان ہےصا حب

شمس ‘ اللہ اکبر ‘ سے مردے ہوئے زندہ

اس نعرہ مقدس میں بڑ ی جان ہے صاحب

 

437

حلوہ اور ملیدہ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس تم کو بھلا یاد ہیں سرکار کے وہ اوصاف حمیدہ

سال تئیس میں کرگئے امت کومجموعِ افرادِ سعیدہ

جب سے انہیں چھوڑاﷺ ہے تم بس خوار ہوئے ہو

اب ایک سبق یاد ہے تمہیں جو ہے حلوہ اور ملیدہ

 

438

فرشتے سلام کرتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہاں رہ کر وہاں کے جو مرد کام کرتے ہیں

خدائے پاک بڑھا کر انہیں امام کرتے ہیں

مچھلیاں تک ان کے لئیے دعا ئیں کرتی ہیں

فرشتے آتے اور جاتے ہر دفعہ سلام کرتے ہیں

 

439

دل بھرتا نہیں میرا ہے سرکار ﷺ کی باتو ں سے

 

کردار کی باتو ں سےبلندی و،افکار کی باتوں سے

شمس اللہ نے ہدایت دی ہے مجھ پر کرم اس کا

اب بہلتی نہیں طبعیت ہے تکرار کی باتوں سے

 

440

مودتِ رسول ﷺکا فائدہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

روزِ ازل سے رب نے ڈالدی دل میں جو مودت رسول ﷺکی

جب سے بسائے بیٹھا ہوں دل میں اپنے محبت رسول ﷺ کی

شیطان آتا تاک میں ہے میری محفل میں دن میں ہزاربار

مایوس لوٹتا ہے دیتا نہیں جگہ میں اسے بحث ِ فضول کی

 

441

صرف ایک سوال۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

بیفکر ہے جو آ یا یہاں پرکمانے کو مال ہے

شمس اس کو نہ کوئی غم نہ کوئی ملال ہے

روز ِ حشر میں کیسے کریگا وہ اللہ کا سامنا

بیفکر غافلوں سے یہ میرا واحد سوال ہے

 

442

تحقیق قبل از دعا۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس آشنا کے لیئے اور ہر غیرِ آشنا کے لئیے

جو آئے ہاتھ ہیں دیتے اٹھا ہم دعا کے لیئے

یہ جاننا ضروری ہے وہ ظالم یاکہ ہے مظلوم

اتنی غفلت زیبانہیں کسی بھی پارسا کے لئے

 

443

تحقیق قبل از دعا۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس آشنا کے لیئے اور ہر غیرِ آشنا کے لئیے

جو آئے ہاتھ ہیں دیتے اٹھا ہم دعا کے لیئے

یہ جاننا ضروری ہے وہ ظالم یاکہ ہے مظلوم

اتنی غفلت زیبانہیں کسی بھی پارسا کے لئے

 

444

اللہ کے یہاں اعمال کی قدر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس ان بناوٹوں سے بعض بھی آؤ تم خدا کےلیئے

عمل ضروری ہے،نہیں لباس ضروری مردِ رسا کے لیئے

گلہ چھوڑ دواللہ سے اپنی ہر روز کی کُل دعاؤں کا

اور ڈھونڈ لاؤ تم کوئی مومن ِ صادق دعا کے لیئے

 

445

یہ ملت رسومات میں کھو گئی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

جبکہ بعد از رسولﷺ راستے اٹ گئے قافلوں کی دھول سے

اکسیر وہ ہوئے جنہوں نے تربیت پائی جناب ِ رسولﷺ سے

لیکن جوآئے بعد میں شمس انہیں وہ تربیت کہاں ملی ؟

وہ خود کو الگ نہ رکھ سکے انکی طرح رسومِ فضول سے

 

446

جبکہ وہ فورا“ سزا دینے پر بھی قادر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

گناہ دن بھر ہم کرتے رہتے ہیں معاف وہ کرتا رہتا ہے یہ کیا کم ہے

جو منکر ہیں انہیں بھی رزق دیتا ہے وہ کتنا مہرباں ایسا منعم ہے

نہیں دیتا سزا فورا‘ شمس یہ بھی اس کی ہم سب پر مہربانی ہے

وجہ یہ ہے جھکتے سر نہیں ہیں کچھ کی آتا نہیں گردن میں خم ہے

 

447

جبکہ وہ فورا“ سزا دینے پر بھی قادر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

گناہ دن بھر ہم کرتے رہتے ہیں معاف وہ کرتا رہتا ہے یہ کیا کم ہے

جو منکر ہیں انہیں بھی رزق دیتا ہے وہ کتنا مہرباں ایسا منعم ہے

نہیں دیتا سزا فورا‘ شمس یہ بھی اس کی ہم سب پر مہربانی ہے

وجہ یہ ہے جھکتے سر نہیں ہیں کچھ کی آتا نہیں گردن میں خم ہے

 

448

فیضان ِرب ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

رہتا کہیں ہے جاکر منگتا کوغم نہیں ہوتا

لوگ جاتے کہاں ا گر اس سا منعم نہیں ہوتا

شمس فیض جاری ہے جو کہ ختم نہیں ہوتا

مشکل ہے یہ بندہ ہوس سے ہضم نہیں ہوتا

 

 449

صدقہ رسول (ص) شمس جیلانی

 

یہ جو کچھ ہے شمسؔ آج سب صدقہ ِ حضورﷺ ہے

کم ہیں جہاں میں لوگ جنہیں حق کا شعور ہے

گزر ہے دن اور رات سب کا حمدو ثنا میں بس

ان کا ﷺجو کہ غلام ہے وہ کب اللہ سے دور ہے

 

450

فضا ئل درورشریف۔۔۔ شمس جیلانی

 

جو کہ درودِ پاک کو ورد زبا ں بنا ئے گا

لاریب بے کھٹک وہ جنت میں جا ئے گا

اس کو وہاں جا کے اچھ سا گھر دلائےگا

جو کچھ خدا سے مانگے بے خوف پائے گا

 

451

ماہ ِ ظہور ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مومنو! رکھو ہمیشہ یاد یہ ماہ ِ ظہور ہے

آنکھوں کی ہے یہ ٹھنڈک دل کا سرور ہے

کیا کیا ملا نبیﷺ کو ہر کوئی جانتا نہیں

ہر اک اتنا ہی جانتا ہے جتنا مشہور ہے

 

452

پہچانوں میں ایک پہچان؟ شمس جیلانی

 

شمس اس کو پہچانوں یہ بھی تو اک پہچان ہے

غصہ کبھی آتا نہیں یہ بھی تو اس کی شان ہے

پھر بھی جو بشر مانے نہیں وہ کتنا بڑا نادان ہے

میں لرز جاتا ہوں کہتا وہ ہے ناشکرا بڑاانسان ہے

 

453

سجدِ اولیا ء اللہ سرے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مسجد ِ اولیا ہے بتدریج بن رہی جاری درودو سلام ہے

شمس ہیں قابل ِستا ئش وہ تمام یہ جن کا کام ہے

ہر ایک دن اور رات لگا بنا رہا ہے جنت میں اپنا گھر!

جناب سیدی سہر وردی ان سب کا بلا شبہ امام ہے

 

454

مسجدِ اولیا ء اللہ سرے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مسجد ِ اولیا ہے بتدریج بن رہی جاری درودو سلام ہے

شمس ہیں قابل ِستا ئش وہ تمام یہ جن کا کام ہے

ہر ایک دن اور رات لگا بنا رہا ہے جنت میں اپنا گھر!

جناب سیدی سہر وردی ان سب کا بلا شبہ امام ہے

 

455

کیا کہنا ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہو رب جس کے ساتھ کیا کہنا

ہے اس کی کل کائنات کیا کہنا

جو سمجھ پا ئے بات کیا کہنا

پھرکہے حمد و نعت کیا کہنا

 

456

جو جیسا ہے ویسا ہی انسان رہےگا

 

اجداد کی اپنے ہر اک پہچان رہے گا

اللہ نے ہدایت دی عامل۔ قرآن رہے گا

بنا اس کی ہدایت شعر بیجان رہےگا

 

457

جاری رہے تلاوت قرآن کی۔۔۔ شمس جیلانی

 

نہ اونچی ہے منزل چا ہیئےنہ طلب اونچے مکان کی

جو تیرے حکم کےمنتظر رہیں حاجت ہے ایسے کان کی

دل ایک ہی جانے کام فقط سمعنا و اطعنا اے شمس

بس کانوں میں گونجتی رہے تلاوت ہر دم قر آن کی

 

458

جو جیسا ہے ویسا ہی انسان رہےگا

 

اجداد کی اپنے ہر اک پہچان رہے گا

اللہ نے ہدایت دی عامل۔ قرآن رہے گا

بنا اس کی ہدایت شعر بیجان رہےگا

 

459

کیا کہنا ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہو رب جس کے ساتھ کیا کہنا

ہے اس کی کل کائنات کیا کہنا

جو سمجھ پا ئے بات کیا کہنا

پھرکہے حمد و نعت کیا کہنا

 

460

پہچانوں میں ایک پہچان؟ شمس جیلانی

 

شمس اس کو پہچانوں یہ بھی تو اک پہچان ہے

غصہ کبھی آتا نہیں یہ بھی تو اس کی شان ہے

پھر بھی جو بشر مانے نہیں وہ کتنا بڑا نادان ہے

میں لرز جاتا ہوں کہتا وہ ہے ناشکرا بڑاانسان ہے

 

461

لیکن شکرِ خدا نہیں کرتے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اتنی نوازشیں ہیں نہیں گنتی میں آسکیں

سب لوگ کھا سکیں کل ا حباب کھا سکیں

اتنا نہیں ہوتا ہے کہ ہم شکرانہ ادا کریں

سر سامنے جھکا ئیں بڑھیں ایمان لا سکیں

 

462

°✮  اول الذکر لا الہ اللہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اول میں ذکر ِ ذات کرتا ہوں

پھر میں آقاﷺ کی بات کرتا ہوں

تنہا جہاں میں رہ نہیں سکتا

تب میں فکر ِ کائینات کرتا ہوں  ✮°

 

463

دنیاجب بسانا ہو تو اللہ یہاں پر انساں بساتا ہے

 

بگڑجا ئیں اگرانسان نوح کا طوفاں آکر بچاتا ہے

وہ ہدایت بھیجتا رہتا ہے بذریہ نبوت شمس

صحیفے آتے رہتے ہیں مکمل دین ہو قرآن آتا ہے

 

464

نماز مومن کی معراج ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس یوں تو نماز ساری ہےاصل میں معراج المونین

لیکن سجدے میں سر جو جائے خشوع اور خضوع رہے

دل پاک ہو زباں ہو دہن ہو ہر لقمہ اور ذہن ہو پاک

کسی مومن کو کب روا ہے کہ کبھی وہ بے وضو رہے

 

465

فیضِ توحید پرستی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

رکھتا ہمیشہ رابطہ وہ مومن سے جو براہ راست ہے

جب چاہے بات کرلے ہر لمحہ وہ بندے کے ساتھ ہے

میں وحدت پرست ہو ں مجھے ہے اس پہ ناز شمس

حائل جس کی راہ میں نہ عزیٰ ہے نہ لات و منات ہے

 

466

امکان نہیں ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

 

مومن بہت ہیں مگر صاحب ِایمان نہیں ہیں

حفا ظ کم نہیں ہیں مگر عامل ِقرآن نہیں ہیں

شمس کس طرح سے آئےگا وہ دور پھر واپس

اللہ ہے راضی نہیں اُس دورکے امکان نہیں ہیں

 

467

    پہچانِ غلامان ِ سرکار ﷺ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہے وہ مومن ہی کہاں ہے جو عشق محمدﷺ میں گرفتار نہیں

وہ غلاموں  میں شامل ہی کہاں جس کو غلامی کا ہے اقرار نہیں

شمس ہوتا مومن ہے جھوٹا نہیں فاسق و منافق نہیں مکار نہں

جس کو کہ عترت سرکارﷺسے الفت ِیکساں ہے نہیں پیار نہیں

 

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in qitaat. Bookmark the permalink.