(501 – 555) قطعات شمس جیلانی

501
رضا کارانہ عمرَ ارزل سے ملاقات ۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے عمر ِ ارذ ل کو خود پر نافذ رضاکارانہ کیا
تبدیلی ایسی آئی کہ دونوں جہاںتک ہل گئے
ایسے موقعہ پر ہوتا ہے یہ ہی دوست دشمن مل گئے
بس جو چھڑکتےجان تھے وہ خیر سے سوئے منزل گئے

502
صلح سے جان دینا بہتر۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب دل میں آرزو باقی نہ کوئی باقی ارمان ہے
ساتھ میں جولے جارہا ہوںمیں مرا ایمان ہے
میں اوروں کی طرح شمس صلح کرسکتا نہیں
ہار مانو! میں اس پر جان دوں یہ میرا ایمان ہے

503
تابع فر مان اور نافرمان کافرق۔۔۔۔ شمس جلانی

انسان اسوقت تک انسان ہے کہ تابع فرمان ہے
جب خدا چاہے بدلدے پھر وہی چرخہ شیطان ہے
شمس کوئی بھی تبدیلی اپنےآپ ہے آتی نہیں
ایسا ہوجاتا ہے سب کچھ کوئی بندہ نافرمان ہے

504
رحم کر رحم کر رحم کر۔۔۔۔ شمس جیلای

اللہ تو باد شاہے میرا اور تو پروردگار ہے
بھوکوں سے مر رہا ہے جہاں زیر ِ استعمار ہے
تو ہی اگر ٹالے گا تو دفع ہونگی بلا ئیں سب
غم س کو کھا رہا ہے کہ اب حالت ِزار ہے

505
رحم کر رحم کر رحم کر۔۔۔۔ شمس جیلای

اللہ تو باد شاہے میرا اور تو پروردگار ہے
بھوکوں سے مر رہا ہے جہاں زیر ِ استعمار ہے
تو ہی اگر ٹالے گا تو دفع ہونگی بلا ئیں سب
غم س کو کھا رہا ہے کہ اب حالت ِزار ہے

506
صلح سے جان دینا بہتر۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب دل میں آرزو باقی نہ کوئی باقی ارمان ہے
ساتھ میں جولے جارہا ہوںمیں مرا ایمان ہے
میں اوروں کی طرح شمس صلح کرسکتا نہیں
ہار مانو! میں اس پر جان دوں یہ میرا ایمان ہے

507
رضا کارانہ عمرَ ارزل سے ملاقات ۔۔۔ شمس جیلانی

ہم نے عمر ِ ارذ ل کو خود پر نافذ رضاکارانہ کیا
تبدیلی ایسی آئی کہ دونوں جہاںتک ہل گئے
ایسے موقعہ پر ہوتا ہے یہ ہی دوست دشمن مل گئے
بس جو چھڑکتےجان تھے وہ خیر سے سوئے منزل گئے

508
شاکر ہوں رزقِ حلال عطا کرنے والے کا۔۔۔ شمس جیلانی

شاکی بنو ں وہ بھی میں شمس اس ربِ ذوالجلال کا
جس کی مثا ل کوئی نہیں نہ کوئی اس کی مثال کا
رکھتا خیال ہے جو میرے ماضی ہمیشہ سےحال کا
جوسجا کے رکھے ہے خوان پہلے سے اکلِ حلال کا

509
منبع شفاعتﷺ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جس نے بھی پڑھے اور پڑھا ئے سبق سرکارﷺکی عظمت کے
اس نے اتنے ہی طبق کھولے سب پر اس باب ِ رحمتﷺ کے
جو کچھ بھی وہ کہتا ہو شمس سب مظاہر ہیں شفاعت کے
واللہ واحد ﷺ وہی ذریعہ ہیں ہر تسلیم اور صداقت کے

510
جینےو مرنے کاانحصاررب پر۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ جو دینا چاہے پل میں عطاکرے مشکل ہزار ہے
اللہ جو لینا چاہے چھین لےاس سےنہیں کہیں فرار ہے
پھرکون پوچھتا ہےاسے اب وہیں پھر تا وہ خوار ہے
اے شمس یاد رکھو وہ پروردگار ہے ! وہ پروردگار ہے

511
اچھے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس اچھے لوگ لڑتے ہیں نہیں نہ آپس میں لڑاتے ہیں
نہ باتیں ادھر کی لے جاکر کے ادھر والو ں کو سناتے ہیں
اگر جھگڑا کہیں ہوجائے غلطی سے آپس میں ملاتے ہیں
جہاں جیسے بھی ممکن ہو جاکر کے اس پر دھول پاتے ہیں

512
دربیان ِ فتنہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

فتنہ وہ لعنت ہے جوکہ ہرا دیتا جیتے ہوئے میدان کو
فتنہ وہ لعنت ہے جو پناہ دیتا ہے بھاگتے شیطان کو
فتنہ وہ لعنت ہے کرتا ہے تباہ ملک کے امن امان کو
فتنہ وہ لعنت ہے جوغصہ د لاتا ہے ہر اک انسان کو

513
پچھلی قومیں انجام سے پہلے۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں کو گونگا کہا بہرا کہا قرآن میں
تاکہ وہ انسان بن کر آجا ئیں پھر زندہ انسانو ں کے میدان میں
جب اثر کچھ بھی نہیں ان پر ہوا پیہم ڈراووں کا اے شمس !
اک لمحہ میں ان کو پٹکا عزابو ں کے بے درد قبر ستان میں

514
تجدیدِ عہد۔۔۔ شمس جیلانی

مجھکو نہیں ہے غم کمر میری مثلِ کمان ہے
میرے ساتھ ہر گھڑی میرے اللہ کی امان ہے
شمس کرتا رہونگا کام اس دیں کا اسی طرح
گر توفیق رب نے دی اور باقی عہد وپیام ہے

515
دربیان فاتحہ۔۔۔ شمس جیلانی

ثواب بھوکوں کا بیٹ بھرنا ہے رہے موٹے کوئی ثواب نہیں
ہم نے تریب ہی بدل ڈالی شمس ان کے لئیے ہے باب نہیں
سارا قصہ ہے اب دکھا وے کا جس کا ملنا وہاں حساب نہیں
نتیجہ!جعلی فقرا ہیں اس طر ح رہتے رہتا کوئی نواب نہیں

516
میرایقین ِ کامل۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مجھ کو یقین ِ کامال ہے میرا رب ذو الجلال ہے
اٹھتا نہیں غیر کےآگےمیرا ہاتھ کبھی بہر ِ سوال ہے
اس میں نہ کوئی میری محنت ہے نہ ہی میرا کمال ہے
میرے دل میں جمگیا پوری پختگی سے یہ ہی خیال ہے

517
معاشرتی انقلاب جرثومے کے ذریعہ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہر کام وہی کرتا ہے نہیں کرتا ہے یہ کوئی اور
جوفہم ہے ادراک ہے کچھ کر دیکھو ذرا غور
شمس اک جر ثومے نے دیکھابدل ڈالی ہے دنیا
کہاں پہلی سی رہی دنیا بدل ڈالے ہیں سب طور

518
ثبوت کہ اللہ عالم الغیب ہے۔۔۔ شمس جیلانی

جو چاہے ہے اپنے بندے کو ستر ماں سے زیادہ انتہا ہے مامتا کی
قدرت ہے فقط اس واحد الہ کی کہ جو دل مانگے وہی روزی عطا کی
نوٹ۔۔ حضور ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ وہ اپنے بندے کو مان سے ستر
گناہ چاہتا ہے۔ اور ایساوہی کرسکتا ہے جواس کی ہر بات پر واقف ہو؟

519
رضا بہ مشروِط اطاعت ۔۔۔ شمس جیلانی

ناراض وہ ہوجائے اگرتو توقیرو تصویر بدل جاتی ہے
شمس کوشش کیئے جاؤ اطا عت سے راضی رہے رب
ایک تدبیر ہی کیا ہاتھوں کی ہر لکیر بدل جاتی ہے
مختصر بات ہے یہ کہ انسان کی تقدیر بدل جاتی ہے

520
خدمت دیں بشرط ِ توفیق۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ دولت پرست ہوں میں نہ اس پر مرونگا میں
جیسا پیدا کیا ہے رب نےویسا ہی مرونگا میں
شمس اللہ سے وعدہ ہ ہے خدمت دیں کووں میں
گرتو فیق اس نے دی تو پھر عمر بھر کرونگا میں

521
صدقہ حضورﷺہے۔۔۔ شمس جیلانی

مسلماں جو ٹکریوں میں بٹ گئے ہیں یہ اللہ کا ہے عتاب
سب کرلیں اگر جو اجتماعی توبہ تو ہٹ جا ئے گاشتاب
اپنی بسا ط دیکھو تم ذرہ بھی ہو نہیں وہ مالک کائینات
یہ صدقہ رسول ﷺ کا ہے جو بقیہ ابتک آ ئے نہیں عذاب
نوٹ۔تفسیر کے لئے سورہ الانعام آیت65

522
ہمارا ملک مختلف ادوار میں۔۔۔ شمس جیلانی

شمس اک دور تھا ہمارا لیڈر سر تاپا مجسم سگار تھا
پھر دور وہ بھی آیا کہ ہمارا مسلم قوموں میں شمارتھا
ہم نےدعوے بہت کیئے مگر اسلام ہی رہا لانا ادھار تھا
آ نکھیں کھلیں پتہ چلا وہی ملک حسرتوں کا مزار تھا

523
اللہ عظمیم ہے اللہ عظیم ہے۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ہی صر صر بھلی لگے نہ بادِ نسیم ہے
میری نگاہ کے سامنے صراطِ مستقیم ہے
دل کی گہرائیوں سے آرہی ایک ہی صدا
بس اللہ عظیم ہے فقط اللہ عظیم ہے

524
راضی بہ رضا رہو، انعام پاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے اختلاف بندے کی موت ہے
اللہ کی رضا میں بندے کا ہے انعام
کبھی تم چل کر رضا پہ دیکھو!
اے قائدانِ وقت ، قائدانِ عوام

525
مومن کی چند صفات۔۔۔ شمس جیلانی

مومن وہی ہے جس کوکہ فکر ِ مآل رہے
اللہ دانا بینا ہے یہ اسے ہر دم خیال رہے
حالت کسی میں بھی ناُ میدی سوار ہو
امید ہر حالت میں اس رب سے بحال رہے

526
اعمالنامہ میںاندرا جات کا طریقہ کار۔۔۔ شمس جیلانی

جو رب کے واسطے کام کرتےہیں انکا لکھا کام جاتاہے
جنہیں مطلوب شہرت ہے ان کا لکھا نام جاتا ہے
اور نیکو کاروں کی ہر کاوش کو وہ منظور کرتا ہے
جوچھپاکرکے بھی تم کرونیکی وہ مشہور کرتا ہے

527
اللہ کے بندوں کے خواص۔۔۔ شمس جیلانی

جو بولے نہیں ہے جھوٹ اور باوقار ہے
اللہ سے پیار ہے اوربندوں سے پیار ہے
جس لب پر ہےدرود زباں پراستغفار ہے
بندہ وہی ہے جوکہ تابع ِ پروردگار ہے

528
اسلام کی نشاۃ ِ ثانیہ۔۔۔ شمس جیلانی

نشاۃ ثانیہ ہم سے ہو اس کا کم امکان باقی ہے
وہ ہوگی ایک دن ہوگی ۤآیت ِ قر آن باقی ہے
شمس مسلماں ہم تو صرف کہلانے والے ہیں
نہ ہم میں عدل باقی ہے نہ وہ احسان باقی ہے

529
اسلام کی نشاۃ ِ ثانیہ۔۔۔ شمس جیلانی

نشاۃ ثانیہ ہم سے ہو اس کا کم امکان باقی ہے
وہ ہوگی ایک دن ہوگی ۤآیت ِ قر آن باقی ہے
شمس مسلماں ہم تو صرف کہلانے والے ہیں
نہ ہم میں عدل باقی ہے نہ وہ احسان باقی ہے

530
سانحہِ عظیم پشاور۔۔۔۔ شمس جیلانی

اے شمس کیا کہوں اس سانحہ عظیم کو
کیا کوسوں اسے جو لایا اس فتنہ قدیم کو
مصروف ہوگیا جس کا لغویات میں پسر
چھوڑے گاکب شمس اس شیطان رجیم کو

531
وہ لوگ یقینا“ ظالم ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

وہ لوگ یقینا“ ظالم ہیں جو کہتے ہیں اللہ یونہیں سپنا ہے
جبکہ میرا یقین ِ کامل ہے وہ ہم سب کا مالک خالق اپنا ہے
میں نے کیا پیمان وفا ہےاس سے کام کرونگا بس تیرے دیں کا
جب جینا مرنا ہے اس کے دیں پر پھر نام بھی اس کا جپنا ہے

532
فرشتوں سے عظیم تر ہیں ؟ شمس جیلانی

فرشتوں سے بھی عظیم تر ہیں عمر مسعود بھائی
مسجد سے جاکے پکڑے ہیں وہ ہر ایک اجنبی کو
گھر لے کر اس کو آئیں بہرِخاطر تواضع رہنمائی
اس طرح سےانہوں نے اب تک جنت بڑی کمائی
شمس مجھ کو بھی اعتراف ہے ان کی عنا یتوں کا
کہ اسوہ حضور ﷺ سے ہے چینل میری سجائی
میں اب ہمت تھا ہار بیٹھا ہمت میری بڑھائی

533
لا ھول کا ورد جاری رکھئے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس نازاں نہیں ہونا چڑھتے ہوئی زینے کے
کہیں آجا ؤنہ چکر میں تم شیطان کمینےکے
وہ کہیں آتے ہوئے نہ گھیرے دربار مدینےﷺ کے
ورد لاھول کا جاری ہو اور قطرے پسینے کے

534
نصِ قرآن۔۔۔ شمس جیلانی

شروع کرتا ہوں میں با حمد باری
عطا جس نے کری توفیق ساری
پکڑ لو اسوہ ﷺ حسنہ کو تم بھی
یہ ہی ہے نص قرآں حکم جاری

535
وہ عاقل و بالغ نہیں ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس جوکہتا ہے جہانوں کا کوئی خالق نہیں ہے
کہیں آنا اور جانا تک بھی بہ مرضیِ مالک نہیں ہے
ارادے ٹوٹ جاتے ہیں اگر حکم جو صادر نہیں ہوتا !
ایسی بات کہتا ہےوہی جو کہ عاقل وبالغ نہیں ہے

536
آخری خواہش ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تیرے قدموں میں دینا دھرنا چاہتا ہوں
ہر اک لمحہ ادا سجدہ کرنا چاہتا ہوں
میرے مالک دعا میری تو کرلے قبول
کہ دین تیرے پرمیں مرنا چاہتا ہوں

537
میرے مزید دوساتھی۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس اللہ کے دیں کا کرتے جو کام ہیں
دونوں جگہ ہیں عیش میں اعلیٰ مقام ہیں
کرتے ہیں فقط کام شہرت نہیں مطلوب
نجم الثاقب اور ریحان اسدان کے نام ہیں

538
مومنو! پھر آگیا رمضان ہے۔۔۔شمس جیلانی

نیکیاں لوٹ لومومنو! پھر آگیا رمضان ہے
گر ہے یقیں برپا جو ہونا حشر کا میدان ہے
ایک نیکی کا اس ماہ میں ہے بے حد ثواب
فرما گیا بندوں سے یہ ہی صاحب قرآنﷺ ہے

539
ایک سوال ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مولوی صاحب بتاؤ کیا تمہیں اللہ کی پہچان ہے
کیا ہیں اوصاف ِ حمیدہ اور کیا اس کی شان ہے
کیاہے یہ ماہ مبارک جس میں نازل ہوا قرآن ہے
کرتا ہے مومن و کافر کوجدا کس لیئے فرقان ہے

540
رب راضی رہے۔۔۔ شمس جیلانی

کام وہ کر جس سے کے رب راضی رہے
ہمیشہ دور تجھ سے ملمع سازی رہے
جب بھی کوئی بات ہو حق رہے مد ِ نظر
تجھ کو اچھا سب کہیں مرد ِغازی رہے

541
نفاذ اسوہ حسنہ میں رکاوٹیں حائل ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

اک مولوی صاحب سے پوچھا جو خود کو کہتے ہیں ہر گھڑی نائبِ رسول ﷺ
کہ اسوہ حسنہﷺ کااب واپس کب ہوگا نفوذ ؟کٹھن ہیں کتنے اس کے اصول
بولے فردِ واحد سے کرسی کا چھٹانا ہے محال پھر سوچو کسقدر مشکل حصول
وہ کہاں چھوڑینگے ان کو جو سال پندرہ سو سے ہیں بنے ہوئے پیروں کی دھول

542
وجہ زوال عمران خان۔۔۔ شمس جیلانی

رب نے اٹھایا تھاپٹک دیا
اللہ ہے بےنیاز اللہ ہے غنی
جس نے زمین مانگی ملی
مگر وہ ریاست نہیں بنی

543
جنت کا ابدی مزہ چاہتا ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں شمس جنت کا ابدی مزہ چاہتا ہوں
ہر ایک کام میں تیری رضا چاہتا ہوں
کوئی کام بھی اسوہ حسنہﷺ سے باہر نہ ہو
ہر اک کام اپناخالی از خطا چاہتا ہوں

544
موت برحق ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس جو کہ آیا ہے یہاں پر ایک دن مرناتو ہے
ہو کتنا ہی پارسا حشر میں جاتے ہوئے ڈرنا توہے
رب تعالیٰ نے کردی ہے خودکشی مومن پر حرام
اتمام حجت کے لئے موت سے مستحبﷺ لڑنا توہے

545
کیاکام آتا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ انہیں جمہوریت آتی ہے نہ اسلام آتا ہے
چند لوگوں کو بس لینا خدا کا نام آتا ہے
جسے دیکھو وہ کرسی کی طرف لپکتا ہے
ذرا پوچھو نو زائیدہ وزیروں سے کام آتا ہے

546
عشرہ مغفرہ ۔۔۔ شمس جیلانی

مومنو آخری عشرہ ہے اب جو بچا ہے رمضان کا
تھوڑا سا حصہ بچا ہے رحمتو کا ماہ ِ غفران کا
شمس ہاتھ سے جانے نہ دینا پھر ملے یا نہ ملے
پس اب خزانہ پر ہی کرلو دین کا اورایمان کا

547
عید ان کی ہے؟۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عید انکی ہےاللہ سے جو کہ ہر قدم پہ ڈرتے ہیں
حکم ربی پہ جان دیتے ہیں حکم ِربی پہ کان دھرتے ہیں
اللہ تعالیٰ انہیں نوازے ہے دین کا اس کے کام کرتے ہیں
ہے ان کو جنت میں داخلہ ملتا اور فرشتے سلام کرتے ہیں

548
یہ ہی کام ہمیشہ مدام کرتے ہیں۔۔ شمس جیلانی

شمس کچھ پیدا یوں بھی اپنا مقام کرتے ہیں
کٹا کے انگلی جو شہیدوں میں نام کرتے ہیں
پتا چلے گا وہاں جاکر وہ غلط کام کرتے ہیں
یہاں بلاکے امام ِ کعبہ کو اپنا امام کرتے ہیں

549
جبکہ وہاں آواز بلند کرنا منع ہے؟۔۔۔ شمس جیلانی

شمس جو نا قابل ِ اعتبار تھے اب پھر وہ اعتبار تک پہنچے
منتطر تھے سال سے جن گھڑیوں کے چننے بہار تک پہنچے
کسی نے توڑا نہیں امیوں کے سوا آج تک تھا سکوت ِمزار
ہواکیا پچھلوں کوآخر شور مچانے حضورﷺ کے مزار تک پہنچے

550
انتشار مزید باعثِ اعتبار۔۔۔ شمس جیلانی

میرا ذہن جب کبھی زیر ِانتشارآتا ہے
خدا کے ہونےکا کچھ اور اعتبار آتا ہے
دیکھتا ہوں شمس جلدکتنی ہے سنتا
سکون بڑھتا ہے کچھ اور قرارآتاہے

551
جنت کو چڑھتا ہوا زینہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہربات تمہاری ہے جنت کو جاتا ہوا زینہ
اے سر کار مدینہ ۔ شاہ مدینہ ا برار مدینہ
آتا نہیں شاید مجھے ہی بات کرنے کا قرینہ
سیرت تو تمہاری ہے مجموعہ الفاط نگینہ

552
حقوق العباد کی پامالی قابل ِ معافی نہیں – شمس جیلانی

بادہ گوئی عیب جوئی ہے میرا شیوہ نہیں
جو قابل ِ توبہ نہ ہوایسا گناہ زیبا نہیں
کام ایسے وہی کرتے ہیں زمانے میںشمس
مقدر میں لکھا جا چکاجنت کا میوہ نہیں

553
معاشی استعماریت مسلط ہے۔۔۔ شمس جیلانی

پتہ چلتا نہیں کہ کس کے گولی کس نے ماری ہے
یہ پورا دور ہی اے شمس ابتو پکا استعماری ہے
تکبر ہی تکبر ہے کہاں اب دلوں میں انکساری ہے
بغل میں ہے چھپا خنجر اورزبان پر حمد باری ہے

554
زمانہ اندھیر۔۔۔۔۔شمس جیلانی

شمس ایسا نہیں دیکھا کہ مچا اندھیر رہا ہے
جس سمت بھی دیکھا جھوٹ کا لگ ڈھیر رہا ہے
بچپن میں اہمیت ملتی تھی صادق کو امیں کو
کہ شیوہ مومن کا سدا سے امن رہا خیر رہا ہے

555
زمانہ اندھیر۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ایسا نہیں دیکھا کہ مچا اندھیر رہا ہے
جس سمت بھی دیکھا جھوٹ کا لگ ڈھیر رہا ہے
بچپن میں اہمیت ملتی تھی صادق کو امیں کو
کہ شیوہ مومن کا سدا سے امن رہا خیر رہا ہے

About shamsjilani

Poet, Writer, Editor, Additional Chief Editor AalamiaIkahbar London,
This entry was posted in qitaat. Bookmark the permalink.