وزیر اعظم صاحب ہم ان حالات میں عید کیسے منائیں ؟۔۔۔شمس جیلانی

عنوان دیکھ کر ممکن ہے کہ وزیر اعظم صاحب الٹا عوام سے پوچھ بیٹھیں کہ عید منانے کے لیئے ہم سے پوچھنے کیا ضرورت ہے کیا جبکہ رمضان سے پہلے وہ ذخیرہ اندوزی کر تے ہیں، چور بازاری کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو ہم سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ اس وقت وہ جن سے پوچھتے ہیں اسوقت بھی انہیں پوچھ لیں ہم سے پوچھ نے کیا ضرورت ہے۔ شاید عوام اس راز کو نہ سمجھے ہوں کہ وہ کس سے پوچھتے ہیں ؟ اگروہ نہیں سمجھتے ہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ وہ ان سے پوچھتے ہیں جو صاحب ِ اختیار ہوتے ہیں کہ کیا سرکار اپنی آنکھیں بند رکھیں گے جب تک ہم روزہ داروں کے لیئے یہ کار خیر انجام دے رہے ہونگے ؟معاوضہ طے ہوجاتا ہے اور کارِخیر بخوبی انجام پذیر ہوجاتا ہے۔ تب وزیر اعظم تک کہیں جاکرخبر پہنچتی ہے اور وہ فورا “اعلان کردیتے ہیں کہ میں کسی کو ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کرنے کی اجازت نہیں دونگا؟ حالانکہ یہ اعلان انہیں اس وقت کرکے حرکت میں آ جانا چاہیئے تھا جب وہ مکمکاؤ کے مرحلے میں تھے اس صورت میں وہ رنگے ہاتھو ں سارے کے سارے پکڑے جاتے اور مختلف قسم کے کمیشن بنا نے کی ضرورت نہیں ہوتی؟۔ مگر وزیر اعظم صاحب اعلان ہمیشہ دیر میں کرتے ہیں۔ جبکہ چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں۔
ہم اپنے وزیر آعظم کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے بہت ڈرتے ہیں جبکہ ہمارا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور کسی سے نہیں، حاکم کے سامنے سچ کہنا ہماری عادت ہے جس کی گواہ ہماری یہ نوے سالہ عمر بھی ہے۔ مگر ان سے ڈرتے اس لیئے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جمہوریت پسند ہونے کے باوجووہ اپنے بہی خواہوں سے بھی ناراض بہت جلد ہوجاتے ہیں جبکہ ہم بھی اس وقت اوروں کی طرح ان کے بہت بڑے بہی خواں رہے ہیں۔ جس کی گواہی اس وقت کے اخبارات بھی دیں گے جس وقت کے وہ وزیر اعظم نہیں تھے؟ ہم نے ان کی سچ بولنے کی عادت اور جذبہ خدمت خلق کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ ضرور اپنا وعدہ پورا کریں گے اور یہ اوروں طرح نعرہ تبدیل نہں کریں گے اس لیئے ہم ان کے حق میں لکھتے رہے دوسرے ہماری کتاب شمس جیلانی کے 101پڑھ لیں جو کہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ کبھی ہم بھی شامل تھے ان کےبہی خواہوں میں اور ابھی بھی بہی خواہ ہی ہیں اگر وہ اپنے وعدے پورے کرنا شروع کردیں تو؟۔ ورنہ ہم بھی کیا کریں کہ ہم ہمیشہ سے سچ بولنے اور سچ لکھنے کے عادی ہیں اور مستقل اس با ت کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی (ص) نے فرمایا کہ “مومن میں تمام برائیاں ہوسکتی ہیں لیکن مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا؟“اور ہم اس بات کے بھی حامی ہیں کہ پوری قوم کے اتحاد کے لیئے ضروری ہے کہ سب حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی پیروی پر متحد ہوجا ئیں تو قوم کے سارے دکھ دلدر دور ہوجا ئیں کیونکہ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس لیئے کہ قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ “آپ ان سے کہدیں کہ یہ تمہارا(ص) اتباع کریں جو کہ میراہی اتباع ہے۔ اور یہ کہ حضور (ص) کےاسوہ حسنہ میں امت کے لیئے بہترین نمومہ ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ“ یہ (ص)اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے یہ وہی کہتے ہیں جو ہم ان کی طرف وحی کرتے ہیں “۔ پھر نہ صرف یہ کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کے لیئے نہیں فرمایا ؟اور نہ ہی کسی اور نے آج تک کہا ہے کہ میرا اتباع کرو؟ ان میں سےجو لوگ کہ ختم نبوت کے قائل ہیں؟ ہم نے حضور (ص) کی سیرت بھی لکھی ہے جو کہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہےاور وہی ویڈیو کی شکل میں یو ٹیوب پر بھی موجود ہے جس کا کوئی معاوضہ ہم نہیں مانگتے نہ رائیلٹی کلیم کرتے ہیں؟ مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ حضور (ص) کی سیرت پر مسلمان عمل اس طرح کریں اور فلاح پاجائیں جیسے کہ صحابہ کرام (رض) کیا کرتے تھے کہ اگر کوئی نئی چیز کسی کے پاس کہیں سےتحفے میں بھی آجاتی تو اُٹھاکر رکھدیتے تھےبجائے لوگوں میں تقسیم کرنے کہ پہلے کسی صحابی(رض) سےمعلوم کرلیں کہ حضور (ص) انہیں کس طرح نوش ِجاں یا تناول فرمایا کرتے تھے تاکہ ہم اسے سنت کے مطابق استعمال کریں؟ اس سلسلہ میں حضرت امام زین العابدین(ع) اور دوسرے صحابہ کرام کے اقوال موجود ہیں کہ “ ہم روزانہ حضور (ص) کی سیرت کو بھی پڑھا کرتے تھے جس طرح مسلمان قرآن شریف کو پڑھتے ہیں“ اور ہمیں سورہ الصف کی وہ پہلی دو آیتیں بھی یاد ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو! “ایسی بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے ۔یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے “ جبکہ ہم میں ایک خرابی اور بھی ہے کہ ہمارے دوستی اوردشمنی صرف اللہ کے لیئے ہوتی ہے۔ اور کسی مقصد کے لیئے نہیں۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم آپکو جتنا اپنے وعدوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھیں گے ہم آپ کے ہوتے چلے جا ئیں گے۔ میری اوقات کیا ہے تمام اہل ِ اللہ آپ کے ساتھ ہونگے اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوگا کیونکہ آپ خلوص دل سے اس کے دین کے لیئے کام کر رہے ہونگے اس کے رسول(ص) کے اسوہ حسنہ کو رائج کر رہے ہونگے جو کہ ریاست مدینہ کے قیام کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ اللہ آپ کا حامی اور ناصر ہو (آمیں) فل الحال ہم اپنے مضمون کو اس قطع پر ختم کرتے ہیں ۔
عید پیچھے ٹر۔۔۔ شمس جیلانی
ویسے تو وہ ہیں تیز بہت عتاب او ر شتاب میں!
ہوتی نہیں ہے دیر کبھی وہاں فرمان ِ عتاب میں
ہومعاملہ دینے کا عوام کو نرخوں میں کچھ رلیف
لگ جاتی ہے جانے دیر کیوں حساب و کتاب میں

ا

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

مالک ِ اوصاف و کائینات وہی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مگر اس کا مسلمان ادراک رکھتے ہوئے قطعی خیال نہیں رکھتے اور اپنے حدود زیادہ تر پار کر جا تے ہیں اور انہیں خبر بھی نہیں ہوتی؟ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہیئے کہ میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب کچھ اسی کی عنایت ہے۔ مگر وہ یہ کہہ بیٹھتا ہے کہ یہ میں نے کیا ہے؟ پھر اس کی بعد میں اس کی سزا بھی بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ عمل ازل سے جاری ہے اور ابد رہے تک جاری رہےگا؟ مگر انسان اپنی شیخی بیان کر نے سے بعض نہیں آتا؟ حالیہ واقعہ کرونا کو دیکھ لیجئے پاکستانیوں نے اپنی شامت خود بلا ئی جبکہ دنیااس عجوبے پر حیرت زدہ رہ گئی تھی کہ جب کرونا امریکہ جیسے ملک کے قابو سے باہر تھا، مگر پاکستان جیسے نا خواندہ ملک کو اس نے بہت کم نقصان پہنچایا؟ لہذا پوری دنیا امنڈ پڑی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ وبا تمہارے یہاں بہت کم پھیلی اور تمہارے عوام اور خواص اس سے محفوظ رہے ،بہت ہی کم متاثر ہوئے؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوری قوم سجدے میں گر جاتی اور اجتمائی تو بہ کرکے نماز شکرانہ ادا کرتی اور پوچھنے والوں کو جواب یہ دیتی کہ ہمارے عقیدے کے مطابق ہم پر یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کافضل ہے کیونکہ ہم اس کے ماننے والے ہیں لہذا اس نے اپنے بندوں کو اس وبا سے اسطرح محفوظ رکھااور یہ ہی اس کی سنت ہے کہ جب بھی کہیں لوگوں کی بد اعمالیوں کی بنا پر عذاب آیا تو اس نے ہمیشہ اپنے بندوں کو بچالیا؟ دیکھنا چا ہیں تو دنیا کی تاریخ دیکھ لیجئے۔ جہاں اس نے نوح ؑ کی امت میں سے اپنے ماننے والوں کو بچا لیا، وہیں حضرت یونس ؑ کی امت کو معاف کردیا کہ انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کرتوبہ کر لی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نےعذاب ٹالدیا۔لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں نے عذاب دیکھ کر کہا کہ یہ تو وبا ہے جوکہ اکثر آتی رہتی ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ نہیں سوچا کہ وبا کسی ایک شہر میں یا علاقے میں آتی ہے پوری دنیا میں بہ یک وقت نہیں آتی اگر وہ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لے تو عذاب ہوتا ہے؟ حکمرانوں نے تو یہ کہا کہ ہم نے انتظام بہت اچھا کیا تھا،ہماری نوکر شاہی جسے ہم بروکریسی کہتے ہیں بہت ہوشیار ہے۔ہمارے لوگوں میں قوت ِمدافعت بہت اچھی ہےانکا (امیون سسٹم) بہت اچھا ہے۔ اس وجہ سے ہم متاثر نہیں ہوئے۔ اس پر پاکستانیوں کی واہ واہ تونہیں ہو سکی کہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ ان کے ذرائع جاسوسی ان سے کہیں آگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہنس دیئے اور چلے گئے دل میں یہ کہہ کر کہ ان کو خوش فہمی میں ہی مبتلا رہنے دو؟ جبکہ وہاں کے علماء اور بھی آگے نکل گئے حالانکہ انہوں نے قوم ِ عاد اور ثمود کے قصے قرآن میں پڑھے بھی تھے کہ وہ عذاب سے بھرے بادلوں کو بارش بر سانے والے بادل سمجھے تھے اور خوشیاں منانے لگے تھے ؟ انہوں نے قوم کو بجا ئے ڈرانے کے خوشخبری دیدی کہ یہ تو ا بتلا ہے جو کہ افراد یا قوموں کی ترقیِ درجات کے لیےآتا ہے؟ انہوں نے یا تو سوچا ہی نہیں اور اگر سوچا تو شاید قوم کو بتایا ہی نہیں کہ ان قوموں اور ان افراد پر جوکہ اللہ کے متقی بندے ہوں ان پر ابتلا آتی ہے انکے درجات بڑھانے کے لیئے۔ ان پر نہیں جو نافر مان ہوں؟ اس کے بجا ئے اگر اس پر وہ یہ کہتے جوکہ بندگی کا تقاضہ تھا کہ ہم اور ہمارے عوام اللہ کو مانتے ہیں جو کہ واحد ہے۔ لہذا ہم نے اس کی اس تنبیہ (Warning )پرتوبہ کی اور اپنی روش کو درست کرلیا اب ہم نے سارے غلط کام چھوڑ کر توبہ کرلی ہے۔ تو نتائج دنیا دیکھتی کہ کچھ اور ہی مرتب ہوتے اور ان میں سے نہ جانے کتنے اپنی مزید تحقیق کےنتیجہ میں ایمان لے آتے اور پاکستانی مزید انعامات کے حقدار ہوتے مگر انہوں نے اپنے فرض سے روگردانی کی اور تبلیغ کاایک موقعہ جوکہ اللہ سبھانہ تعالیٰ انہیں نیکی کمانے کے لیے دیا تھا اسےکھودیا۔ جبکہ تنبیہ (Warning ) کےبعد اس نے اپنے قانون کے مطابق ایک سخت قسم کرونا کی بھیجدی اور پاکستانیوں کی ساری شیخی دھری کی دھری رہ گئی؟ اب پریشان پھر رہے ہیں کہ کیا کریں اور کیسے اپنی ڈینگوں کا بھرم رکھیں؟ کیونکہ انجام تو یہ ہونا ہی تھا جو ہوا۔ اسے سمجھنا ہے تو سورہ بنی اسرا ئیل کی آیت نمبر11 پڑھ لیجئے۔جس میں انسان کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود بطورِ خالق تعریف یہ فرمائی ہے کہ انسان بڑا جلد باز ہے۔ ایک اور دوسری آیت میں نادان بھی کہا ہے کہ انسان نادان ہے۔ کیا یہ دونوں ان پر لاگو نہیں ہوتیں؟ جواب آپ پر چھوڑ تا ہوں؟ اس مسئلہ پر تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فر مان مان کر وہ اپنے رسم و رواج کےمطابق مطمعن ہو گئے ہوں گے۔ لیکن اپنی روش کے مطابق اس کی باتیں مان کر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ہونگے۔ اگر انکا اللہ پر عقیدہ پختہ ہوتا تو وہ ایک شکر گزار قوم کی طرح توبہ اور نوافل شکرانا ادا کرتے اور وہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 7کے مطابق نواز ے جاتے ۔مگر اب وہ اس آیت کاوہ حصہ بھگت رہے ہیں جو کہ یہ ہے کہ “ اگر کفر کرو گے تو میرا عذاب بھی شدید ہے“ مگر مشکل یہ ہے کہ جس طرح وہ تعزیرات پاکستان پر عمل نہ کرنے کے عادی ہیں، اسی طرح تعزیرات خداوندی پر بھی عمل کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں؟ ایسے لوگوں کو خود قرآن کیا کہتا انہیں وہ کس زمرہ میں شامل کر تا ہے۔ وہ قرآن میں جا کر پڑھ لیں تو صورت حال واضح ہوجائیگی اور کسی مولوی سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کہ یہ ابتلا ہے یا عذاب۔ یا پھر قر آن میں جاکر ہی پچھلی قوموں کے قصے پڑھ لیں تو ان پر سب کچھ عیاں ہوجائے گا کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے زیادہ سچی کس کی بات ہوسکتی ہے؟ رہی تبلیغ کی بات وہ تو اب مسلمان اپنے فرائض بندگی میں شامل ہی نہیں سمجھتے۔ کیونکہ اس کے لیئے اپنا کردار ویسا بنانا پڑتا ہے جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ مومنوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو پہلے کبھی تھا بھی اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل میں تبلیغ کرنے کے لیے وہ ساری دنیا میں پھیل بھی گئے تھے۔اور انہیں دیکھ کر دنیا متاثر بھی تھی اور ان دیکھے خدا پر ایمان بھی لائی تھی۔ اب مسلمانوں کے عمل دیکھ کر وہ مذبذب ہوجا تے ہیں کیونکہ وہ کردار اب ماننے والوں میں پوری طرح کہیں بھی رائج نہیں ہے۔ آئیے دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فر مائے( آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

آئیے اب قر آن پرعمل کریں۔ شمس جیلانی

گزشتہ مضمون میں ہم نے صرف سورہ النحل کی آیت نمبر 90 کا ایک جز لکھا تھا تو اس کو ہمارے پڑھنے والوں نے بہت پسند کیا اور ہمارے ایک دوست جناب ضرار صاحب تو یہاں تک چلے گئے کہ انہوں نے ریمارک دیا “ آپ نے تو ایمان تازہ کردیا “ اس سے ہماری ہمت بڑھی اور ہمیں اندازہ ہوا کے ابھی ایسے مسلمان دنیا میں موجود ہیں جو کہ قرآن کو سمجھنا چاہتے ہیں؟ لہذا سوچا کہ بجا ئے اس آیت کے ایک جز پر اکتفا کرنے کے یہ پورا رکوع ہی اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جا ئے جس میں ایک مسلمان کی کردار سازی پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں پوری توجہ دی ہے تاکہ اس پر عمل کر کے وہ بندے متقی بن جائیں جو بننا چاہیں! چاہے وہ مومن مرد ہو یا عورت جو کے ان سے روزے رکھو انے کا اصل مقصد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں بتایا ہے؟اور ہمارے پڑھنے والوں کواس پر عمل کر نے کے کاپورا موقعہ مل جا ئے اور جب ماہ ِ رمضان المبارک ختم ہو تو وہ متقی بن کر جہنم سے نجات حاصل کر چکے ہوں اور عید الفطر کو اللہ سبحانہ کے دربار میں انعام کے لئیے حاضر ہوں اور وہاں سے مزید خلعت فاخرہ لیکر واپس آئیں کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دونگا؟ آپ نے پڑھا ہوگا کہ قرآن کاسننا ثواب ہے، اس کا پڑھنا ثواب ہے،اب سب سے اہم عمل کی طرف بڑھتے ہیں کہ اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔ پچھلی مرتبہ ہم نے اس آیت کے صرف دو لفظو ں پر بات کی تھی اس میں ایک عدل تھا اور دوسرا تھا احسان ان میں سے بھی عدل کے معنی تو ہر ایک جانتا ہے مگر اس پر مسلمان ہوتے ہوئے عمل نہیں کرتا ہے؟احسان کے معنی زیادہ تر علماء محدود لیتے ہیں جبکہ اس کے معنی بہت سے ہیں جو عربی لغت میں جاکر ملا حظہ کر لئے جا ئیں۔ جبکہ احسان کے جو معنی ہمارے یہاں مستعمل ہیں وہ بہت محدود ہیں یعنی کسی پر کسی قسم کاکوئی احسان کر دینا؟ جبکہ اس کے معنی اتنے محدودنہیں ہیں اور وہ گنتی میں بہت سے ہیں کیونکہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔ اسے سمجھ کر پڑھئے اس لیےکہ یہ قادرالکلام اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے، جس کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ قیامت تک کے لئیے ہے، لہذا قیامت تک کے لئیے یہ ہمارا راہنما بھی رہے گا۔اسی لفظ کو اگر عدل کے ساتھ ملا کر پڑھا جا ئے جیسا کہ استعمال ہوا ہے یا پھر اردو میں مرکب استعمال کیا جا ئے تو اس کے معنی سمجھنے والوں کی سمجھ میں کھل کر سامنے آجا ئیں گے؟ اور یہ چھوٹے سے معنی اپنے اندر سے ہدایت ظاہر کرنے کے بعدبہت وسیع معنو ں کا مظہر نظر آئیں گے اور اس کے معنی بہت وسیع ہوکر پوری زندگی کااحاطہ کر لیں گے؟ مثلا ً
حسنِ تحریر،حسن تقریر، حسن تعمیراور حسن انتظام وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ ایک لفظ عربی میں بہت سارے معنی دیتا ہے مگر اردو میں اپنا متبادل نہیں رکھتا!البتہ انگریزی میں اس کا متبادل جو ہے وہ ہے Ecellence تو جب آپ عدل کے ساتھ اس کواستعمال کریں گے تو اس لفظ کا تقاضہ ہوگا کہ آپ جس کسی منصب پر بھی ہیں، چا ہیں باپ ہو ں، چا ہیں بیٹے ہو ں،یا وزیر اعظم ہوں،صدر ِ مملکت ہوں یا چپراسی ہوں، اسلام آپ سے اپنے منصب کے مطابق آپ سے آپ کی بہتریں صلا حتیں استعمال کرنے کا متقاضی ہے۔ آپ جہا ں جس پوزیشن میں ہوں تووہاں بشمول عدل ہر شعبہ میں اپنی بہترین صلا حتیں استعمال کر یں؟ پھر کام میں چوری اور کسی قسم کی ہیرا پھیری کی کوئی گنجا ئش نہیں رہے گی؟نہ دفتروں میں بیٹھ کر خود چائے پینے کی، نہ دوستوں کو پلانے کی،نہ ان کے ساتھ گپیں لڑانے کی، نہ کرکٹ کا میچ دیکھنے کی، جبکہ مملکت ِ خداد پاکستان میں یہ باتیں معمولات مں شامل ہیں؟ اور ان آیتو ں کے خلاف کرنے کی صورت میں اس کے جونتائج ہونگے وہ بھی وہیں بیان کردیئے گئے ہیں؟مختصر یہ ہے کہ اس رکوع میں کچھ باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ کرو جن کاموں سے ان سے روکا گیا ہے رک جا ؤ یعنی جن کی اجازت دی گئی صرف وہ کرو۔ میرے خیال میں، میں جو کچھ آپ کو سمجھانا چاہتا تھا وہ اس مثال سے آپ سمجھ گئے ہونگے۔ اب آیت نمبر 90کے بقیہ حصہ کی طرف آتے ہیں جس میں صلہ رحمی کا حکم ہے جس کے معنی عزیز و اقا رب سے اچھا بر تا ؤ۔ اس کے بعد کی بقیہ آیات میں وہ مطالبات ہیں جن پر عمل کر کے بندہ متقی بن سکتا ہے اور اگلا عشرہ جوکہ، عشرہ نجات ہے اس میں جہنم سے نجات حاصل کرکے جو کہ رمضان المبارک کا اصل مقصد تھا متقی بھی؟ اب آگے کی آیات میں اورکیا ہے اس آیت کی طرح انکی تفصیل میں جانے کی یہاں اس چھوٹے سے مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔ وہ آپ قرآن میں جا کر سورہ النحل کے رکوع نمبر13 کی تفسیر میں پڑھ لیجئے۔ اس رکوع کی بقیہ آیات میں مسلمانوں کواللہ سبحانہ تعالیٰ کچھ کام کرنے اور کچھ کام نہ کرنے کاحکم دیا ہے وہ سب وہاں موجود ہیں۔ اور نہ کرنے پر جبکہ عذاب کی شکل میں خوف دلایا گیا ہے بہ صورتِ دیگر اعمال ضائع ہونے کی بھی خبر دی گئی ہے تاکہ کوئی اپنی عبادت پر مغرور نہ ہو۔ یہ ہر قر آن کا طالب علم وہاں جا کر مطالعہ کر لے تو بہتر ہوگا کہ آئندہ اس عمل سے اس کے دل میں انشا ء اللہ قرآن سے الفت پیدا ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرما تا ہے کہ جو بندہ میری طرف ایک قدم بڑھتا ہے میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں یعنی بندے کا اس کی طرف خلوص کے ساتھ بڑھنا شرط ہے آیت نمبر 98 میں قر آن پڑھنے سے پہلے آ عوذ باللہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں پر رکوع ختم ہوجاتا ہے۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ذرا سوچیئے یہ خاکےکیا سبق دے رہے ہیں؟شمس جیلانی

گر اسے سمجھنا ہے تو حضور ﷺ کی ان تعلیمات کو سمجھیں جوکہ انہو ں ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو سمجھایا تھا اور انہوں ؓنے اپنے ایک خطبے میں پوری امت کو تخویص کیا یہ فرما کرکہ “اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تم کو آپس میں عدل قائم کرنے کا حکم اس لیئے دیا ہے تا کہ تم آپس میں متحد رہو “ ہم نے کیا کیاکہ اس سبق کو ہی بھلا بیٹھے؟ حالانکہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اپنے دور ِ حکومت میں اس آیت کو خطبہ ِجمعہ میں شامل کردیا تھا۔اور مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے میں ابھی تک اس وقت سے چلی آرہی ہے۔ تاکہ مسلمان ان دوباتوں کو بھولیں نہیں جس کی قرآن میں تاکید ہے۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اے مومنو! اللہ سبحانہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کرنے کا ً چو نکہ ہما ری اب نوے فیصد آبادی آبادی عربی نہیں جانتی ہے اور نہ عربی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے؟ لہذا مسلمان بقیہ قرآن کی طرح انہیں بھی سنتے ہیں تو ہیں مگر عمل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟۔نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہی قرآن سمجھتے ہیں اور نہ صاحب ِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بارے میں وہ یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے پورے قرآن پر عمل کرکے بھی دکھا یا تھا، جب وہ ﷺہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اور قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تمہارے لیے تمہارے نبی کے اسوہﷺ میں بہترین نمونہ ہے ( سورہ الاحزاب آیت نمبر 33)تو ہمارا اس آیت پر توعمل کر نے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیئے کہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے ہرایک، دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپر ہے۔ آج اتحاد اور اخّوت مسلمانوں میں مفقود ہے فرقہ بندی اپنے عروج پر ہے۔ جبکہ فرقہ بندی گروہ بندی کی حضور ﷺ نے اپنے ارشادات میں سخت مذمت فرما ئی ہے۔اس کے لیئے انہوں ﷺنے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ دیکھو فرقوں میں مت بٹ جانا جیسے پہلے والی امتیں بٹ گئیں تھیں“ اور اللہ نے تو یہاں تک فرمایا اگر فرقہ باز فرقہ بازی سے باز نہیں آتے تو تمہاراﷺ ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ اس کا عملی مظاہرہ حضور ﷺ کے دور میں پہلی مرتبہ جب نظر آیا کہ حضور ﷺ غزوہ بنو مصطلق سے فارغ ہوئے ہی تھے اور بئیر مرسیع پر تشریف فرما تھے کہ حضرت عمر ؓ کے سائیس جہجاہ ؓ کا جھگڑا گھوڑے کوپانی پلانے پر حضرت ؓ سنان سے ہوگیا اُنہوں ؓنے مہاجرین (رض) کو اپنی مدد کے لیئے آواز دی اوراِنہوں نے انصارؓ کو مدد کے لئے آواز دی جو دونوں کی پرانی عادت تھی۔ حضور ﷺ کو پتہ چلا تو فوراً تشریف لے گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ فرمائی کے تم میں ،میری موجود گی ہی میں دور جہالت کی نفرتیں پھر لوٹ آئیں؟ جبکہ آج ہمارے یہاں روز مرہ کی خبریں دیکھ لیں یہ بات عام ملے گی۔ یہ دراصل اسی آیت نہ سمجھ نے کا نتیجہ ہے؟ کہ انصاف کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور نہ ہی احسان کے وہ معنی ہم سمجھتے ہیں جوان دونوں کے سمجھنے کا حق تھا دراصل ہم کو یہ تعلیم دی گئی کہ ہمیشہ عدل اور احسان سے کام لو جہاں اور جس پوزیشن میں ہو ،جو باپ سے لیکر بیٹے تک پہنچتی ہے اور وزیر اعظم سے لیکر چپراسی تک ۔اگر ہر مسلمان انصاف کے سلسلہ میں پوری صلاحیتوں سے کام لے رہا ہوگا تو کسی سے کہیں کوتاہی ہوگی ہی نہیں، جب کوتا ہی نہیں ہوگی توبے انصافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟۔ سوچیں کے حضور ﷺ کو ہماری یہ حالت دیکھ کر اس وقت کتنی تکلیف پہنچتی ہوگی؟ ذرا اسے سوچیئے تو سہی ہم روزانہ اپنے اس رویہ سے انہیں ﷺکتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے؟ جب ہم میں بہت سے جو بظاہر اپنی ہئیت سے مسلمان معلوم ہوتے ہیں انکا اخلاق دیکھیں، لین دین دیکھیں وہ مسلمانوں جیسا نہیں ہے وہ خاص طور پر معاملات میں تو صاف شفاف زیادہ تر نہیں ہیں؟۔ کیا ہمارا چال چلن حضور ﷺ کو پریشان نہیں کرتا ہوگا کہ انہوں ﷺ نے اور انﷺ کے ساتھیوں ؓ نے خود کو جس مشقت میں ڈال کر دنیا کے سامنے میں پیش کیا تھا؟ جو آخری کتاب اور دین کی شکل میں حضور (ص) پر اللہ سبحانہ تعالی نے نازل فرما یا تھا؟ کتنے مصائب جھیلنے کے بعددنیا کے سامنے ایک اچھا نظام اپنے عمل وکردار کی شکل میں پیش کیا تھا آج دنیا میں انﷺ کے ماننے والےتو بہت دکھائی دیتے ہیں مگر ان کا عمل وہ نہیں ہے جیسا کہ حضور ﷺ کا تھا اور وہ ویسے نہیں جیسا کہ حضور ﷺ انہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں اسلام بد نام ہورہا ہے۔ کیا کبھی اس پر مسلمان شرمندہ ہوئے۔ انہیں جوش آیا کہ کیوں نہ خود کو پھر ویساہی بن کر دکھائیں جیسا کہ حضور ﷺ ان کودیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تو ہر مسلمان کومتقی دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ جو ذلت اور خواری ہمارے حصہ میں آ ئی ہے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانیوں کی وجہ سے آئی ہے۔؟کہاں تو وہ وقت تھا کہ ایک مظلوم مسلمان عورت دُھائی دیتی تھی تو مسلمانوں کا خلیفہ حرکت میں آجاتا تھااور اس کی رہا ئی کے لیے ہندوستان جیسے بڑے ملک پر حملہ کردیتا تھا۔ اب بھی وہی ملک ہے جو کروڑوں مسلمانوں کو ستا رہا ہے۔ اس وقت اٹھاون مسلم ممالک بھی دنیا میں موجود ہیں؟ جو ظلم مسلمانوں پر اس ملک میں ہورہا ہے؟ اسے میں لکھ نہیں سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ وہ سب کچھ خبروں میں پڑھ رہے ہیں سوشیل میڈیا میں دیکھ رہے ہیں۔ کہا ں گئی ان کی وہ حمیت کہاں گئی غیرت؟جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟۔یہ مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ یہ رکھا اللہ سبحانہ تعالیٰ نےاس امت کے لئیے یوں تھاکہ حرام تو ہمیشہ سے مسلمانوں پہ حرام ہے؟ اس مہینے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا تقاضہ یہ تھا کہ تم حلال بھی میری محبت میں چھوڑدو اور “تم متقی بن جا ؤ“ امت ایک سال سے کرونا کی شکل میں عذاب جھیل رہی ہے۔ اس مہینے سے فا ئدہ اٹھائیں۔ متقیوں کے خاکے بننے کے بجائے جیسے کہ دنیا میں آجکل چاروں طرف چلتے پھرتے ہم نظر آتے ہیں؟ ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ یہ رحمت کا مہنیہ ہے۔بخشش کا مہینہ ہے اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ توبہ کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اور آخر میں عید ہے انعامات سے نواز ے جا نے کا دن ہے۔ عام معا فی کا دن ہے مگر کن کے لیئے جواب پھر آپ پر چھوڑتا ہوں؟ ورنہ یہ کچھ کے لئیے ہلاکت کا مہینہ بھی ہے۔ جس کے لیئے حضرت جبرئیل(ع) والی مشہورحدیث ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے تین مرتبہ آمین فر مایا، جبکہ سامنے کوئی مخاطب نظر نہیں آرہا تھا؟ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ آپ نے کس بات پر تین مرتبہ آمین فرما ئی۔ “فرمایا یہ جبرئیل تھے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی کے سامنے آپ ﷺ کا نام لیا جائے اور اس نے “درود“ نہیں پڑھا وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں اس نے پائے اور (ان کی دعا کے ذریعہ) اپنی بخشش نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نے کہا(آمین) پھر انہوں نے کہا کہ جسے رمضان المبارک کا آخری عشرہ ملا اور اس نے جہنم سے نجات نہیں کرالی وہ ہلاک ہوا میں نےکہا(آمین) اس سے بڑا بد نصیب کون ہوگا۔کہ اپنے لیے رحمت للعالمین کی ناراضگی مول لے اوربجا ئے متقی بننے کہ چور بازاری کرے۔ منافع خوری کرے وغیرہ وغیرہ؟ اللہ ہم سب کو اس مہینہ سے فا ئدہ اٹھانےکی توفیق عطافرما ئے (آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

عادل حکمراں بروز قیامت عرش کے سائے میں ہوگا۔۔۔شمس جیلانی

بقیہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ بغیر ظلم کئیےحکومت نہیں چلتی؟ جبکہ اسلام کی پوری تعلیمات علیٰحدہ ہیں۔ ہاں! یہ اور بات ہے ہم جہاں کہیں بھی ہیں اس کا الٹ کرتے ہیں؟ جبکہ اسلامی طرز حکمرانی کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے ﷺ فرماد یا کہ حق کے ساتھ حکومت کرو؟ اور جو حکمراں اپنی حکومت مستحکم کرنا چا ہتا ہے وہ عدل کے ساتھ حکومت کرے اور یہ بھی وہ ظل اللہ ( اللہ کا سایہ ) ہوتا یعنی اس کا وجود رعیت کے لئیے با عثِ زحمت نہیں باعث رحمت ہوتا ہے اس کا صلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جب کہ کوئی سایہ نہیں ہوگاعادل حکمراں عرش کے زیر ِ سایہ ہوگا۔ اس دن سات قسم کے لوگ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے عرش کے زیر ِ سایہ ہونگے اور ان میں سے سرِ َ فہر ست ِ“ عادل حکمراں“ کو فرمایا ہے۔ اور مومنو! سے یہ بھی فرمایا کہ صرف مظلوم کا ساتھ دو ظالم کا ساتھ مت دو اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا بہت بڑا جہاد ہے؟ لیکن ہم کرتے کیا ہیں؟ وہ سارے کام جو ہمیں کرنا منع ہیں؟ پھر سینہ ٹھونک کہتے ہیں کہ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں؟ اس لیے ہم جہاں بھی ہیں اسلام کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں؟مملکت ِ خداداد پاکستان کی حالت کو ہی دیکھ لیجئے کہ ان کے سامنے جو کہ شیر کی طرح ڈھار تے ہوئے اوردھمکاتے، سینہ تانے ہوئے آتے ہیں ان کے سامنے حکومت بچھ جاتی ہے؟جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ النحل کی آیت نمبر 22 میں فرمایا ہے کہ “وہ مستکبرین کوپسند نہیں کرتا “اور یہ ہی نہیں اسی سورہ میں حضرت سلیمان ؑ کے طرز حکمرانی کو سراہتے ہوئے سب حکمرانوں کوحق کے ساتھ حکومت کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟یعنی یہ حکم دیا ہے کہ میرے احکامات کے مطابق حکومت کرو اور سب کو یکساں انصاف دو ؟ جبکہ اسلامی ممالک میں دہرا معیار ہے کہ وہ حکومت جمہوری پسند کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی فیصہ کرنے کو تیار نہیں ہں ؟ایسے حکمرانو ں اورمنصفوں کےبارےمیں کیا لکھا وہ قرآن جا کر پڑھ لیجئے؟ نتیجہ یہ ہے کہ جوطا قت ور گروہ ہے وہ سامنے ہو تو پولس جلوس کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے اور کوئی کمزور جتھہ سامنے ہو تو لاٹھی ڈنڈا گولی سب چل جاتی ہے اور اس پارٹی پر بھی پابندی لگ جاتی ہے؟اور کوئی مہنیہ ہوتا اور کوئی اور گروہ ہوتا تو کہدیتے کہ شیطان نے لڑا دیا؟ مگروہ تو آجکل قید ہے پھر یہ کام کس نے کیا یہ مسئلہ غور طلب ہے؟ ۔ اگر وہ مسلمان ہی با عمل ہوتے تو ان کےباعمل ہوتے ہوئے یکم رمضان کو جو واقعہ رونما ہو وہ کبھی نہیں ہوتا؟کیونکہ یہ کسی عادل حکومت کے شایا ن ِشان نہیں تھا نہ ہی مسلمان رعیت کے؟ جبکہ حسب دستور وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وعدہ کیا ہی کیوں تھا۔؟اور اگر کیا تھا اور پورا کرنے کا ارادہ بھی تھاتو وزیر اعظم کی ڈائری میں لکھا ہوا کیوں نہیں تھا؟ یہ عمل کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ اگر لا پرواہی ہے تو اس کا ذمہ دار کون تھا ایک تحقیقا تی کمیشن اور بنا ڈالئے بقول آپ کے اور آپ کے وزرا ء کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجا ئے گا؟ جو کہ عوام نے کبھی ہوتے نہیں دیکھا؟ شاید خواص نے دیکھا ہو اور وہ گواہی دے سکیں کہ عمل چونکہ سلیمانی ٹوپی اوڑھے ہوئے تھا اور انہوں نے دیکھا تھا؟ ہمیں اپنے بھائیوں سے چونکہ ہمیشہ خوش گمانی رکھنےکا حکم ہے لہذا ہم تو ایسا نہیں سوچ سکتے؟ مگر وہاں کے تجربہ کار لوگ کہہ رہے ہیں کہ نہیں ! شروع سے ہی وعدہ پورا کرنے کاارادہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو ڈائری میں لکھا ہوتا یہ بھی ان تمام وعدوں کی طرح کا ایک وعدہ تھا کہ کس کو پورا کرنا ہے؟اور کون پورا کرتاہے؟ اور کس کے وعدے پہلے پورے ہوئے ہیں جو ہم کریں؟ اس وقت اسے ٹالدو اور ان سے جان چھڑا لو بعد میں جو ہوگا وہ دیکھا جا ئے گا۔ جبکہ یہ معلوم تھا کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جاہل سے جاہل مسلمان بھی جذباتی ہوکر اس پر جان دے دیتا ہے جہاں حضور ﷺ کا معاملہ ہو۔؟ پھرنہ ان کےصلاح کاروں نے سوچا کہ اس دن پہلا رمضان ہوگا جس میں ہر قسم کا دنگا فساد کرنا سخت منع ہے اور یہ مہینہ حرام مہینوں میں شامل ہے۔ نہ ہی وعدہ لینے والو ں نے یہ سوچا کہ ہم یہ تاریخ کیوں لے رہے ہیں جبکہ پہلی رمضان کو ہنگامہ آرائی گناہ ِ عظیم ہے جو کہ مسلمان تو کیا مکہّ معظمہ کے کافر تک بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ اگر اتفاق سے کسی کو بھی یاد نہیں رہا تو حالیہ اسلامی کلینڈر کے موجداور وزیر با تدبیرکا کلینڈر دیکھ لیتے؟ تو پاکستان کا امن تباہ ہونے سے سے بچ جاتا جو کہ اس سلسلہ میں پہلے ہی کچھ اچھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو بری نظروں اور برے مشیروں سے بچا ئے (آمین)

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

(325 – 312) قطعات شمس جیلانی

312
ہر اک کو پتا چلنا ہے؟ شمس جیلانی
 
کیوں بن جا تے ہو بندے سے درندےرمضان میں ۤآکر
کتنی خوشی ہوتی ہے جو دیتا ہےکوئی مال چھپاکر
جو کچھ بھی کیا جس نے ہے وہ فرشتوں نے لکھا ہے
لیکن ہر اک کوپتہ چلنا ہے حشر کے میدان میں جاکر
 
313
وہاں عذرِلنگ نہیں چلے گا۔۔۔ شمس جیلانی
 
دریا ئے علم سے کسی دیں کے خزانے سے پوچھ لو
آتا نہیں ہے دیں اگر تو کسی جاننے والے پوچھ لو
ہم کو پتہ نہیں تھاناقص جواب ہے ،عذرِ لنگ ہے !
گرکوئی نہیں ملے گوگل کےکار خانے سے پوچھ لو
 
314
عمل سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ہر ایک یہ ہی دیکھے ہے کہ کس نے کہا ہے
ہر بات میں ہر ایک کےحقیقت نہیں ہوتی !
ہردین کے مسئلہ میں تحقیق ہے شرط ِ اول
تحقیق جو کرلے تو فضیحت نہیں ہوتی
 
315
کرسی اور الزام۔۔۔۔ شمس جیلانی
 
کرسی پر جوآئے گا موردِ الزام ہوگا
یہ مانا کہ جہاں میں بڑا اک نام ہوگا
کہاں تک بند رکھو گے مگرتم کان اپنے
مریں گے لوگ بھوکے مچا کہرام ہوگا
 
316
مسلمانوں نے توبہ پر عمل ترک کردیا؟۔۔۔شمس جیلانی
 
توبہ دوا تھی مرض کی وہ مرہم نہیں رہا
سب لوگ دیکھتے تب رب بر ہم نہیں رہا
پہلے شفا ملے تھی اہلِ یقیں کو شمس
اب تو پانی ملاملےہے وہ زم زم نہیں رہا
 
317
رمضان کے تقاضے۔۔۔ شمس جیلانی
 
بس لاالہ کا ذکر کرو اس کی بات کرو
ملے وقت جو تھوڑا ذکر ِاسم ذات کرو
ڈھونڈو تخلیقات رب کوکیا بنا یا ہے
ہےکا م اس کانہ تم فکرِکائینات کرو
 
318
بات رب کی مانو۔۔۔ شمس جیلانی
 
بھلائی کرو تم رب بھلائی کرےگا
ہمیشہ جس نے بھلائی کری ہے
تھی غلطی تمہاری اور بھول تھی
شیطان سے دوستی جو کری ہے
 
319
رکھو ہمیشہ یاد سبق ۤآقا حضور(ص) کا
 
صدقہ ضرور دو چاہے ہو دانہ کھجور کا
راوی ہیں اس کے یار ِغارحضرت ابوبکر
مفہوم ہے یہ ایک حدیثِ مشہور کا
 
320
شیوہ ِ قناعت کی برکت۔۔۔ شمس جیلانی
 
میں اک بندہ ِ ناقص ہو ں پتلا ہوں خطا کا
جھنجھٹ نہیں پالا کبھی مال اور متاع کا
جب بھی ضرورت ہو وہ بن مانگے ہے دیتا
میں بچپن سےہی قائل ہوں رب کی عطا کا
 
321
وجود باری تعالیٰ کا ثبوت بہار۔۔۔ شمس جیلانی
 
دنیا نہ جانے کس مخمسہ کا ابھی تک شکار ہے
جو مانتی نہیں مالکِ کائینات پرور دگا ر ہے
ہر سال ہی دیکھتی ہے وہ جو بدلتے ہوئے سماں
بتلا ئے تو سہی کہ لاتا کون خزاں اور بہار ہے
 
322
تقاضہِ عبدیت؟۔۔۔ شمس جیلانی
 
عبدیت یہ ہےعذابِ آگاہی سہتے رہو
زیر لب ہر گھڑی بس لا الہ کہتے رہو
آئے جو مشکل اس راہ میں سہتے رہو
ہے نہیں زیبا کہ جذبات میں بہتے رہو
 
323
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی
 
صنم چلیں نہ پھریں نہ وہ کوئی ایسی مثال رکھتے ہیں
وہ اوصاف ان میں کہاں جو رب ِ ذوالجلال رکھتے ہیں
بنا یا جگ کو انہوں نے اور اسے چلا رہے ہیں وہی
جو سات پردوں میں ہے کیڑا اس کا خیال رکھتے ہیں
 
324
جہ عزاب بڑھتا ہوا ظلم ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
ییشہ رہنماؤں کا زیادہ تر تو مال و زر کمانا تھا
کل جہاں کا بن گیا شیوہ بھوکوں اور ستانا تھا
ہے جہاں کا رب بھی کوئی یہ اللہ کو بتانا تھا
یہ بشکل ِکرونا جو عذاب آگیا آخر عذاب آنا تھا
 
325
 بندہ یوں خاکسار ہے۔۔۔ شمس جیلانی
 
مجھ میں انا غرور کچھ نہیں بندہ جو خاکسار ہے
مجھ کو یقین ِ کامل ہے اللہ کو مجھ سے پیار ہے
بندے کو شرف دیدیا سرکار کا سیرت نگار ہے
لب  پہ جو یہ ورد ِزباں ذکر ِرب لیل و نہار ہے
 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(251 – 311) قطعات شمس جیلانی

251
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

252
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

253
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

254
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

255
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

256
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

257
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

258
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

259
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

260
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

261
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

262
وجہ فساد نبی ﷺسے دوری۔۔۔ شمس جیلانی

خدا سمجھے انہیں جو ہیں دیں میں ڈالتے رخنہ
جدھر بھی دیکھئے ہر جگہ پھیلا ہوا ہےاک فتنہ
نبیﷺ نجات کا ذریعہ ہیں جہاں میں مومنو کےلیے
جوﷺ نبی سے دور ہے جہاں میں وہ خوار کتنا ہے

263
جیسے اعمال ویسا فیصلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

تمام شانوں سے فقط اللہ کی شان بہتر ہے
شمس بد گمانیوں سے ہو اچھا گمان بہتر ہے
فرماِن رب ہے میں ویسا ہوں گماں کرے کوئی
ہےراز پنہاں ہو جو اچھا رکھتاگمان بہتر ہے

264
مومن مقدر کا دھنی ہے۔۔۔ شمس جیلانی

مومن بلندی پر نظر آتا ہے پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن کوئی ہو قبر کی مٹی اسے کھاتی نہیں
ہے تجار ایسا جس کو ہوتا ہے کبھی گھاٹا نہیں
شہادت جوکہ پاجا ئےتو پھر موت ہے آتی نہیں

265
منکہ خائفِ فریاد ۔۔۔۔ شمس

جس ماحول میں زندہ ہوں میں ر اضی و شاد نہیں ہوں
ناراض نہ ہو جا ئے رب میرامگر کرتا کبھی فریاد نہیں ہوں
شمس وہ اکثر ہوئے رخصت جو کبھی ساتھ تھے میرے
راضی بہ رضایوں ہوںکہ بندہ جو ہوںمیں آزاد نہیں ہوں

266
شان ِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

میدانِ مومن ہے بنلدی پس پستی اسے بھاتی نہیں
واقعی مومن اگر ہو قبر کی مٹی اسے کھا تی نہیں
شمس ہے تجارت میں اسے ہوتا کہیں گھاٹا نہیں
گر شہادت پا جائے وہ تو پھر موت بھی آتی نہیں

267
کارخانہ شیطانی۔۔۔ شمس جیلانی

دور رہتا ہوں ہر میں شیطانی کارخانے سے
خوف آتا ہےکر کےتوبہ بار ِ دگر منانے سے
وہ ہےمالک !کرے قبول نہ بار بار گر توبہ
یوں میں بعض رہتا ہوں رب کوآزمانے سے

268
زندہ حقیقت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس تقویٰ ہے یہ ہی اور نتیجہِ زہد ہے
رب اللہ ہی سب کا ہے واحداور احد ہے
پھر بھی بھٹک جاتے ہیں کچھ لوگ ہمیشہ
منزل انہیں معلوم ہے سب کی کہ لحد ہے

269
مومن اور لطفِ سحر گاہی۔۔۔ شمس جیلانی

پھرتا رہا جہاں میں یہاں اور وہاں رہا
دل میں خیالِ رب ہی سدا حرزِجاں رہا
اٹھنا سحر سے پہلے بس میرا شعار ہے
مجھکو سونا دیر تک ہمیشہ گراں رہا

270
اپنے عزیز دوست محمد احمد صاحب کے انتقال ِ پر ملال پر قطعہ

جو کل ہندوستان میں بعمر بانوے سال انتقال فر ما گئےانا للہ وانا
الیہ راجعون اس دعاکے ساتھ کہ اللہ انہیں جنت الفرودس میں
جگہ عطا فرما اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فر ما ئے( آمین)
تنصیر اور مناظر نے دی خبر مجھے دوست میرا پیارا گذرگیا
بچپن میں کبھی کھیلے ساتھ تھےہم لو کل وہ بھی مرگیا
کس سے میں جا کے پوچھوں اگر کبھی جا ؤں وہاں بہر فاتحہ
کہ کل جو کہلاتا پرنس تھا وہ محمد احمد ہمارا کدھر گیا

271
ڈر خوف اور مروت مانع سچائی ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

ضروری تو نہیں مروت میں منافق کو بھی مسلمان کہا جا ئے
جو جاتا نہیں مسجد ہے اس کو بھی صاحب ایمان کہا جائے ؟
آجاتے نہ جانیں کیوں ہیں شمس لوگ اس جھوٹ کے چکر میں
کیابہتر نہیں یہ ہے جوجیساہو اسے ویسا ہی انسان کہا جا ئے

272
دی اینڈ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب کہا ں دم ہے جسم میں جو کہیں آنا جانا ہوگا
یہیں جینا یہیں مرنا یہیں آخر میں ٹھکانا ہوگا
آجا ئے گی لینے مجھے بھی اے شمس اک روزقضا
کوئی بیماری میرے مرنے کا چھوٹا سا بہانا ہوگا

273
حسین خواب۔۔۔ شمس جیلانی

شمس حسیں خواب ہے ساتھ کنگلوں کے زمانہ ہوگا
پاک بستی پر وہی راج کریگا، شیوا کھانا کھلانا ہوگا
کتنے آئے وہاں خواب لیے وہ تھک کے کہیں بٹیھ گئے !
کہ دن بدلیں گے وقت آئے گا تب وہاں لوٹ کے جانا ہوگا

274
انسانی منڈی اور جگ ہنسائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ ہے پسند کرتا ہراک تحفہ بس گاڑھی کمائی کا
وہاں کھا ؤ کھلاؤ ہے بنا آئین جگ پر بادشاہی کا !
سجاکرمنڈی ِا نساں کوئی دیکھا ہے تم نے شرمندہ
وہ ہیں باعِث بدنامی جو موقع دیں جگ ہنسائی کا

275
موج ومستی کے نتائج۔۔۔۔شمس جیلانی

قوم ہے پھنس گئی یہ موج ومستی میں
کچھ سکون پاتے ہیں شہرت سستی میں
یہ پتہ ہی نہیں انہیں ہے اے شمس !
یہ روش لے جا ئے گی ان کو پستی میں

276
اول الذکر لاالہ اللہ۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے بہتر ذکر بس، ذکر ِ باری
یعنی جاگنا راتوں کو شب بیداری
قیامت میں یہ سب کو مات دیگا
بشرکے واسطے ہوگا دن وہ بھاری

277
ا نتخابی ہیجان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

الیکشن جب بھی آتے ہیں پیدا وہاں ہیجان ہوتا ہے
نہ پہلے سے لوگ رہتے ہیں نہیں پاکستان ہوتا ہے
جو ہیں غیر ملکو ں میں وہ سر کو پیٹ لیتے ہیں
باقی ہے حیا ہوتی نہیں باقی وہاں ایمان ہوتا ہے

278
رب کی نرالی شان۔۔۔ شمس جیلانی

بن مانگے جو ہے دیتا یہ رب کی شان ہے
قدر وہی ہے جانے جو کہ رکھتا ایمان ہے
شمس اتنا نوازا اس نے دل کے غنی ہوئے
نہ ہی زائد کی آرزو ہے نہ باقی ارمان ہے

278
بلندی اور پستی۔۔۔ شمس جیلانی

پڑا ٹھوکروں میں دیکھا اسی کے تاج شاہی!
تھا دیں پرجان دیتا جو کوئی اللہ کا سپاہی
بارعب تھے مسلماں اخوت کے رہ کر خوگر
لیکر کے سب کو ڈوبی خصلت ِ کم نگاہی

280
ہر دم ذکر ِپروردگار ہے۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہر وقت زباں پر میری اللہ کا ذکر ہے
جینے کی آرزو ہے مجھے نہ مرنے کی فکر ہے
آتی جب ہےموت کی کسی دوست کی خبر
لگے کہ آواز دے رہی مجھے یہ میری قبر ہے

281
آئین ِ خداوندی۔۔۔ شمس جیلانی

پون صدی ہےگزری بن سکا نہ پاکستان ، پاکستان ہے
نہ وہاں قائم امن نہ ہے نہ دکھتا اس کا وہاں امکان ہے
ہے لکھا قرآن میں ہےگناہوں سے آنا قوموں پر عذاب !
اس کو بھگتے ہیں وہی جن کا نا پختہ رہے ایمان ہے

282
تہذیب ِ اسلامی۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمانوں میں تمیزِ میں اور تو باقی نہیں ہے
کہاں وہ تہزیب اسلامی وہ خو باقی نہیں ہے
جہاں پر شیوہ بن گیا ہر ایک کا ہے گالی بکنا
نہ آداب پہلے سے وہ طرز ِ گفتگو باقی نہیں ہے

283
ہ بندہ نواز ہے۔۔۔ شمس جیلانی
بندہ اگر ہے تو شمس، تو وہ بندہ نواز ہے
یہ دل سے کہہ رہا ہوں میں دل کی آواز ہے
اسوہ رسول(ص) پر بس تو چلتا رہ بے کھٹک
اس کو بھلاخوف کیا راضی جو کارساز ہے

284
نہ پہلی سی وفا باقی۔۔۔ شمس جیلانی

نہ ہی علم باقی ہے نہ ہی عرفان باقی ہے
نہ جیبنے کی لگن باقی نہیں ارمان باقی ہے
نہ پہلی سی وفا باقی نہ اب انسان باقی ہے
نہ پاس ِ عہد باقی ہے نہ ہی ایمان باقی ہے

285
آج کا ذریعہ عزت؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےدوہی باعثِ ننگ تھے لکھے ہیں علامہ ؒ نے جن کے نام
اب اپنے پاس تو ننگے ہی ہر طرف ہیں جو کررہے ہیں کام
وہاں جا کرکے جو سزا ملے گی وہ ان کا مقدر اور ہے نصیب
جو ان میں جاملے ہےاسی کے واسطے ہے بس، اچھا یہاں مقام

286
جراءت تو دیکھئے۔۔۔۔ شمس جیلانی

اس جراءت کو دیکھ کرکے رہ جاتاہوں میں د نگ
چوری چکوری پیشہ، دعویٰ ہےاللہ ہمارے سنگ
قرآن کہہ رہا ہے کہ انہیں یہ ڈھیل دی ہوئی ہے
ہے اس واسطے ہوتی نہیں ہےابھی ان پر زمین تنگ

287
منبع فیض بنو بخیل نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

لگاؤباغ کچھ ایسا امیر و فقیر پھل کھائیں
نہ لگا ؤ باڑھ فقیر دیکھیں اور وہ للچا ئیں
دو تربیت ایسی ہمیشہ اپنے تمام بچو ں کو
سخی کہیں لوگ نہ ہر گز بخیل کہلا ئیں

288
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

289
تابع فرمان بن جاؤ۔۔۔ شمس جیلانی
تقبل اس کے وہاں جا کر تم سزابھگتو اور پجھتا ؤ

بس قدر اللہ کی جانوں خدارا تابع فرمان بن جاؤ
نہ دھوکا دو کسی کو بھی نہیں باتو ں میں ٹہلاؤ
اپنی زیست وقف کردو دین پھیلانے میں لگ جاؤ

290

دین کے لیے سعیِ پیہم ۔۔۔ شمس جیلانی
مشکل کوئی اس راہ میں آ ئے تو سہے جاؤ
سنے نہ سنے کوئی تم توحق بات کہے جا ؤ
جو قدم بڑھا ؤ تم سدا آگے کی طرف رکھنا
ہرگز نہ ٹھہرنا تم کہیں سوتے نہیں رہ جاؤ

291
دونوں جہا ں میں فلاح۔۔۔ شمس جیلانی

ہو تربیت کچھ ایسی کہ بچے شریف کہلا ئیں
جو ان کے پاس سے گزریں سیکھیں فلاح پائیں
جہاں میں ایسے جئیں نام بزرگوں کا کر جائیں
وہاں جو پہنچیں جنت الفردوس میں جگہ پائیں

292
معنی بنا قرآن۔۔۔شمس جیلانی

معنی بنا قرآن پڑھا بچہ سمجھے گا کیا
تعلیم ِ قرآں کے لیئے جوجیسا ملا،ملا
تعلیم ِ دین تو اس طرح رسم رہ گئی
انگلش پر خرچ ہوتا ہے ما ل و متا ع

293
پیام ِ الہٰی بشکل ِ کارونا۔۔۔ شمس جیلانی

شکل ِ کارونا میں بھیجا انسان کواللہ نے یہ پیغام ہے
مجھکو پہچانوں کہ اللہ اور رب میرا ہی تو نام ہے
راستہ سیدھا نبی(ص) کا ہے نہ اس میں ٹیڑھ نہ ابہام ہے
مالک الملک ہوں حکم پر میرے بنتا بگڑتا کام ہے

294
عامل قرآن۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک مسلمان عامل قرآن ہوکے رہے
جہاں رہے وہ وہیں آسمان ہوکے رہے
جسے بھی دیکھا وہی نبی(ص) کا پرتو تھا
چلن ایسا ہرجگہ میرِ کاروان ہوکے رہے

295
ب نے نوازا اپنی عطا سے ہے۔۔۔ شمس جیلانی
رب نے نوازا مجھکو اتنا اپنی عطاسے ہے
باقی رہا شغف نہیں مال و متاع سے ہے
منہ کو کلیجہ آتا ہے اس دن کو سوچ کر
دل ہے میرا دہلتا ہر چھوٹی خطا سے ہے

296
انسانیت سے شیطانیت تک۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کی لگا تاک میں رہتا ہے شیطان کمینہ
لالچ اسے پھسلاتا ہے آتا نہیں جینے کا قرینہ!
جب پہلی دفعہ جاتا ہے چرانےہے آجائے پسینہ
عادت جب ہو جائے تو کھل جا ئے ہے سینہ

297
اللہ مسلمان کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ شمس

نہ خود جھوٹا نہ جھوٹوں کا کہیں سردار ہو
وہ جہاں بھی رہتا ہو بس صاحب ِ کردار ہو
ہوپابند ِآئین ِ قرآں مانتا مردارکو مردار ہو
اخلاق ہو سرکار (ص) جیسا اس کا شمس
منہ سے جھڑتے پھول ہوں سبک گفتار ہو

298
وہ بندہ کوئی بندہ ہے؟ شمس جیلانی

وہ بندہ کوئی بندہ ہے جو اللہ کی رضا کا طلب گار نہیں ہے
وہ قوم کوئی قوم ہے جو کہ جذبہِ ملـی سے سرشار نہیں ہے
جس کی کھلتی ہے نہیں آنکھ تم جتنا اسے چلا ؤ اور پکارو !
بچوں کی ماؤں کی چیخوں سے ہوتی کبھی بیدار نہیں ہے

299
رائی کے بدلے میں بھلائی کرو۔۔۔ شمس جیلانی

بس زندہ تم رہو جہاں میں آب کی طرح
محرک رہو جہاں میں سیماب کی طرح
روندیں ہیں پیر سے سب دیتا ہے فائدہ
لیکن مٹتا نہیں بے فائدہ حباب کی طرح

300
ارونا کی تیسری آمد کاراز ناشکری۔۔۔۔شمس جیلانی

یہ کارونا کی تیسری لہر آئی کیوں تم نے اسے جانا نہیں
سب کا ہے وہی رب یہ راز تم نےا ب تلک پہچانا نہیں
ہے ہدایت اس میں یہ جو بچ گئے پہلے تھا وہ مہرباں
اب جو پوچھے راز دنیا اس کو بتلا تے ہو ئے شرمانا نہیں

301
دواشعار اوردو تضاد۔۔ شمس جیلانی

وہاں چلتا ہے خلوص کا سکہ
ہم ہیں کرتے فلوس کی باتیں
وہاں پرایک ہے وحدتِ ملی
یہاں فرقہ بندی اور ہیں ذاتیں

302
کارونا اعمال کی سزا۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا قرآن میں ان کو کرنا بتا ؤ تم ہی لکھا گناہ نہیں ہے
وہ کونساکام ہے باقی جو تم نے چھوڑا ابھی کرا نہیں ہے
یہ ہی وجہ ہے کہ قبول ہوتی تمہاری کوئی دعا نہیں ہے
ذرا سوچ کر بتا ؤ “یہ مستقل وبا کرونا “ سزا نہیں ہے

303
اللہ سے دعا۔۔۔ شمس جیلانی

کرتار ہوں میں دیں کا کام جب تک کہ مری زندگی رہے
پیاروں سے تیرے عشق اور دشمنوں سے سدا دشمنی رہے
میں تیرا ہی ہو رہوں جہا ں جا کے بسو ں میں شمس
ایسا نہ ہو اے رب کہ روح کہیں اور میرا دل کہیں رہے

304
عظمت انکسا ر میں ہے۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سے پیار کر رہ کر اس کے گردحدوحصار میں
پائے گا تو کمی نہیں کبھی اس رب کے پیار میں
اترا کے چل کبھی نہیں اس کی زمین پر شمس
عظمت اسے سدا ملی جو کہ جھکا انکسار میں

305
رمضان کی آمد مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

مبارک انہیں ہوں روزے جو کہ تقویٰ شعارہیں
زیادہ نہ سہی کرو گنتی تو بھی بے شمار ہیں
یہ اور بات چاروں طرف نفسا نفسی مچی ہوئی
یہ ہی وجہ ہے آج ہم سب جگ میں جو خوار ہیں

306
پہچان تقویٰ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پہچانتا وہی ہے جس کو تھوڑا شعور ہوتا ہے
تقویٰ ہے گر کسی دل میں تو چہرے پر نور ہوتا ہے
ضد جب ہےخدا سےٹکراتی بات حد سے ہے گزرجاتی
طور جلکرکرضد موسیٰ پر جگ میں مشہور ہو تا ہے

307
غصہ پینا مومن کی پہچان ہے۔۔۔ شمس جیلانی

میں نے جب کچھ کہا سرکار میری بات کب مانی گئی
بس تیوری پر بل پڑ ے اور سا ری خندہ پیشانی گئی
بات کرتا ہو ں ہمیشہ جو ثابت ہو سیرت ِ سرکار (ص) سے
آپ اتنے برہم کیوں ہوئے ،کہ آپ کی ذات پہچانی گئی

308
ک چودھری نے کردیا رمضان سے پہلےہی اعلان ِ عید
پاکستان کو ہے مل گیا پنجاب سے پھر اک مردِ سعید
عربی ہے آتی نہیں نہ جانتا ہے وہ سنت و سیرت رسول(ص)
بھول بیٹھا زعم میں اپنے ہے جو روز ِ سزا اور یومِ وعید

309
عہدوں کا پاس کرو سوال کیا جا ئے گا“ شمس جیلانی

جو رکھتے نہیں یقین ہیں اللہ کی دید کا
رکھتے نہیں ہیں پاس وہی وعدہ وعید کا
لقمہ بنیں گے اس دن جہنم کی آگ کا
مطالبہ کریگی جب وہ “ ھل من مزید“

310
ہ اکڑ فوں کس بناپر؟۔۔۔ شمش جیلانی
جینے مرنے میں نہیں شامل مرضی ِ انسان ہے
نہ جانے کس زعم میں کہلاتا تو مرد ِمیدان ہے
جس زاویہ سےڈالو نگاہ لگتا ہے تو نا دان ہے
نہ فکر تجھکودیں کی ہےنہ اللہ کی پہچان ہے

311
مضان مبارک۔۔۔ شمس جیلانی
جس کی آمد کی خبر تھی وہ آگیا مہمان ہے
جس میں پنہاں رحمتیں نام بھی رمضان ہے
یہ رکھتا شب ِ توبہ بھی ہے اک رات میں
اب مانگ لو جو مانگنا ہے اللہ کا فرمان ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(201 – 250) قطعات شمس جیلانی

201
سپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی
تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے
بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے
کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے
ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

202
خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا
مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا
شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر
ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

203
پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا
اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا
کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر
غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

204
موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا
ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا
ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا
گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

205
امت کی حالت۔۔۔ شمس جیلانی

تم اللہ کو مانتے ہو بات اللہ کی ہو مانتے نہیں
اپنے سوا غیر کو تم کچھ بھی ہو گردانتے نہیں
بس رب کی بات مانوں اسو ہ حسنہ رکھو عزیز
کیا چیزاسوہ حسنہﷺ ہے اہمیت تم جانتے نہیں

206
قریب تر پرور دگا ر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے قریب تر وہ میرا پرور دگار ہے
جو سب کی بات سنتا ہےاورسنتا پکار ہے
بندہ بھلا وہی ہےجس کا اس پرانحصار ہے
سبکچھ اسی کے ہاتھ میں ہے دارومدار ہے

207
کارونا کی نئی قسم کی آمد ۔۔۔ شمس جیلانی

کرونا نے جون بدلی کیاامت میں بڑھا ہیجان ہے
کتنو ں نے توبہ کری کتنو ں کا کچھ بڑھا ایمان ہے
مجھکو بتلاؤ سہی اجتماعی تو بہ کا کیا امکان ہے
پوری دنیا ہل گئی ہے کیاکچھ رب سے ڈرا انسان ہے

208
صاحبِ شائستہ احوال۔۔۔ شمس جیلانی

پہلے تھے کبھی جن کے کل احوال شائستہ
جو کرتے تھے کیابندو ں کو اللہ سے وابسطہ
شاگردوں کو چلے دکھلانے ہں جمھور کا رستہ
اسواسطے نکلے ہیں کہ وہ گندم کریں سستا

209
میں جو کچھ بھی آج ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

میں جو کچھ بھی آج ہوں حضورﷺ کے پیروں کی دھول کا صدقہ
یہ جو کچھ ملا ہے مجھے ہے سب کچھ اللہ و رسول ﷺکا صدقہ
شمس کمی جو مجھ میں تھی وہ مل گئی نبیﷺ کی اترت سے
یہ کرم ِخاص ہے مجھ پر خدا کی دین ہے اور آل ِ بتولؓ کا صدقہ

210
اچھے لوگ۔۔۔۔ شمس جیلانی

وہی لوگ اچھے ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں
نہیں تشہیر کرتے ہیں نہ اپنا نام کرتے ہیں
یہ بھی انکا شیوہ ہےخدمت ِملّی ہے کرنا
جواپنی نیند کھوتے ہیں نہیں آرام کرتے ہیں

211
برے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

بغل میں ہے چھری اور منہ سے وہ رام رام کرتے ہیں
برے وہ لوگ ہیں کہ ہرگھڑی برے جو کام کرتے ہیں
ہمیشہ اچھےلوگوں کو ،ناحق ہر جگہ بدنام کرتے ہیں
سرگرداں خود رہتے ہوئے اوروں کو بے آرام کرتے ہیں

212
مسلمانوں کی حال۔۔۔شمس جیلانی

آگئے تم کیوں عدو کی باتوں میں
بٹ گئے قبائل میں اور ذاتو میں
کبھی تم جن کو زیر رکھتے تھے
اب پڑے ہو انہیں کی لاتوں میں

213
فہم دین کا کرشمہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوامیں نوے میں داخل تو اللہ و رسول(ص) کو سمجھا
اپنےدین کو جانا میں نے ہراس کے زریں اصول کو سمجھا
پھر رکھدیا میں نے اک طرف ساری فضول رسموں کو!
جب ملی ہدایت مجھے، نا قص بحث فضول کو سمجھا

214
نیا سال مبا رک ہو۔۔۔ شمس جیلانی

نیا سال ہے آیا ہومبارک ہر خوشی لائے
یہ جہان سارا پکارے گنا ہ سے بھر پا ئے!
کریں جوتوبہ تو روٹھا پروردگا من جائے
اب کارونا جیسا نہ کوئی عزاب پھر آئے

215
آخری دعا۔۔۔۔ شمس جیلانی

الٰہی زندہ رکھنا تو جب تک کہ میں فیض پہنچا ؤں
نہ لگے برائی کی تہمت پہلےمیں اس سے مرجا ؤں
روز حشر تورکھنا اے اللہ سرخرواپنے سامنےمجھ کو
نبی(ص) کا واسطہ تجھکو اس دن نہ تجھ سے شرما ؤں
( آمین)

216
چند اشعارحالات حاضرہ پر۔۔۔ شمس جیلانی

جو ظالم کا ہاتھ پکڑےاب کو ئی با قی نہیں رہا
اس واسطے وہ لایا کل جہان کواب زیر عتاب ہے
کرونا تو ایک چھوٹا سا نمونہ دکھے ہے شمس !
آنے کو ئی اور شاید بہت ہی بڑا سا عذاب ہے
ہو سکتا ہےکہ صدیو پر محیط ہو یہ دو رِعتاب
صدی کی کیا وقعت ہے وہ تو اس کو شتاب ہے

217
سب سے زیادہ پیارا رب۔۔۔ شمس جیلانی

ہراک مومن کو جو کہ دل و جان سے بھی اپنی پیارا ہے
سب الہاؤں سے زیادہ بہتر رب اور الہ بس ہما را ہے
جب پکاروجواب دیتا ہےگر کرکے توبہ ا سے پکارا ہے
کون سی شہ ہے اس سے پوشیدہ کیا نہیں آشکارا ہے

218
ا شعار کی آمد؟ ۔۔۔ شمس جیلانی

وہ جب توفیق دیتا ہے خیالوں کا جمع ا ژدھام ہوتا ہے
انہیں چن کر جو کوئی منتخب کرلےاسی کا نام ہوتا ہے
یونہیں سب ڈینگیں مارے ہیں کہ یہ افکار میرے ہیں
نہ ہو رب کی اگر مرضی تو ہفتوں تک پہیہ جام ہوتا ہے

219
رموزِ تصوف۔۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں تمہیں لوگو! کب کیسے اور کیا ہو تا ہے
اک اک میدان ہر بندہ ہی کو بس کرنا فتح ہوتا ہے
تفصیل ملتی سینوں میں ہے اور کتابوں میں نہیں
صرف جہاں پر تنہا اللہ اوراک بندہِ پرُ خطا ہوتا ہے

220
عجب عادت ۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس عجب عادت ہے تمہاری کہ آرام نہیں ہوتا ہے
دن وہ بڑی مشکل سےگزرتا ہے اگر کام نہیں ہوتا ہے
ہمیشہ صبح دم اٹھناسنت ہے تمہارے نبی (ص) پیارے کی
جودن چڑھے تک سوئےر ہیں ان پر انعام نہیں ہوتا ہے

221
اَلْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الاِیمان؛ ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوس زر میں ہر شخص کچھ اس طرح مسطور ہے
کہ اس جہاں کا بدلا ہوا اب پوری طرح دستور ہے
پہلے کی طرح اس سے کوئی شرما تا نہیں شمس
اس سے دیواریں سجی ہیں “مطلوب ہے مفرور ہے”
ترجمہِ عنوان۔ حیاء ایمان کا جز ہے۔

222
جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا۔۔۔ شمس جیلانی

مسلمان جھوٹا ہو نہیں سکتاسرکارﷺکا فرمان یہ مشہور ہے
جھوٹ چھٹتاہے نہیں اس واسطےاب ہم سے دلی دور ہے
عید و بقر عید کو ویسی ہی شکلیں تو بنا لیتے ہیں لوگ!
ظاہر بن جاتا ہے ویسا ہی مگر چہرے پر کہاں وہ نور ہے

223
آہ ! سب کےرفیق چل بسے۔۔۔شمس جیلانی

آدمی اچھے بہت تھےبا صَفا و با صِفات
سال بتیس تک رہا میرا،ا ن کا ،اچھا ساتھ
ہم ہر جگہ ساتھ تھےجب بھی جا تے کہیں
چلد یئے وہ چھوڑ کراتنی لائے تھے حیات !

224
ئینِ خدا ۔۔۔۔ شمس جیلانی
اے بندوں ذرا سوچو کہ حکم ِخدا کیا ہے
ہے اللہ سے فقط ڈرنا بندوں سے نہیں ڈرنا
پھرلازم اطاعت ہے سرکارِدوعالم کیﷺ
ہے ان کےہی لئےجینااوران کے ہی لیئے مرنا

225
انسان خطا کا پتلا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

کون کہتا ہے کہ مجھ سے کبھی تقصیر نہیں ہوتی
جو توبہ سے دھل وہ غلطی کہیں تحریر نہیں ہوتی
یہ بندے پر اللہ کی رحمت اوربخشش کے تقاضے ہیں
کرتے ہوئے برائی کی باقی کہیں تصویر نہیں ہوتی

226
مومن اور گالی گلوچ۔۔۔ شمس جیلانی

مومن اور گالی دے وہ یہ تقصیر نہیں کرتا
واللہ مومن کبھی مومن کی تحقیر نہیں کرتا
جہاں دیکھے برائی کو وہ ڈالے ہےوہاں پردہ
و ہ عیب چھپاتا ہے کبھی تشہیر نہیں کرتا

227
یا اللہ توفیق توبہ عطافرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

اک کرونا نے ہے کرڈالا یہ جہانِ کل زیر ِ و زبر
اب دعا ئیں تک سبھوں کی ہوگئیں ہیں بے اثر
دے ہمیں توفیق توبہ! ڈال پھرکچھ ایسی نظر
ہم سب کہ سب بن جا ئیں اب پھر مثال۔ خضر
( آمین)

228
وگئی تبلیغ بھی بے اثر۔۔۔ شمس جیلانی
جماعتیں مصروف ِ تبلیغ ہیں دربہ در
ٹالدیتے لوگ ہیں کہہ کر انہیں اگر مگر
قلب پتھرہوگئے ہوتا نہیں کچھ بھی اثر
تو دانا بینا اور ہے باخر کرعطا انکو اَجر
( آمین)

229
یااللہ ہمیں بصارت عطا فرما۔۔۔۔ شمس جیلانی

جبتک بندے تھے ترے جس سمت بڑھے نصرت ہی نظر آئی ہے
جب سے باغی ہوئے ہر سمت میں ذلت ہی ملی یاکہ رسوائی ہے
ہم کو احساس دلا میرےمالک سامنے خندق ہے یا کہ کھائی ہے
کب شہنشا ہوں کے شہنشاہ سے کسی باغی نےخلعت پائی ہے !
(آمین)

230
خوش قسمت بچہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

خوش قسمت وہ بچہ ہے کہ ماں گود سے اچھی ہوئی تعلیم ہوتی ہے
مشیت ایزدی پر مرنا جینااس کی فطرت میں اور خوئے تسلیم ہوتی ہے
خدا کر دیتا ہے اس کو عطافہم دیں تفہم ِدیں بہتر تریں اپنی رحمت سے
سمجھ اس میں قرآن اور سنت کی اور پھر اچھی بھلی تفہیم ہوتی ہے

231
کر ِروزِ جزا۔۔۔ شمس جیلانی
وہ اللہ سے ڈرے گا کیا جو ڈرتا ہے نہیں روز ِ جزا سے
بچتا نہیں مجرم جہاں کوئی ہے گناہوں کی سزا سے
ڈرتے ہمیشہ ہی رہو دو لفظوں یعنی بیم و رجا سے
ملنا وہاں جنت تو ہے رب کی رحمت اور عطا سے

232
سب سے بہتر کاروبار۔۔۔ شمس جیلانی

مومن جو کماتا ہے کردیتا ہےخرچ راہ خدا میں
اس کے لیئے اس جیسا کوئی اوربیوپار نہیں ہے
برستے ہیں ہمیشہ ہی غیب سے اس پر خزانے !
دیکھااسے ہوتے کہیں پر کبھی خوار نہیں ہے

233
وہ سخی جو منکر کو زیادہ دے۔۔۔ شمس جیلانی

اس سے زیادہ کون برا ہے جو رب سے کرتا پیار نہیں ہے
منکر کو جو زیادہ دے ہے اس سے سخی دربار نہیں ہے
یوں توگناہ اور بہت ہیں کس کس کو گنواؤں شمس
ان میں منکر سب سے بڑا ہے اسکو بھی انکار نہیں ہے

234
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔ شمس جیلانی

حیرت مجھے ہے دنیا پر تب کیسی تھی اب ویسی نہیں ہے
جس آستیں کو بھی ٹٹو لوخوں میں کسی ظالم کےسنی ہے
ڈر کر جو بھی دیکھے ہے کرے ہے وہ ظالم کی ثنا شمس
کہتا ہے کیا دنیا میں اللہ نےبنا ئی ہے، اورکیا خوب بنی ہے

235
کرشمہ مودت۔۔۔ شمس جیلانی

شمس دنیا نے تجھے چا ہا کیا شدت سے نہیں ہے
١ک دن سے نہیں دودن سے نہیںاک مدت نہیں ہے
جس جگہ سےگزراتومودت سدا پائی ہےکھڑی بس
اللہ کی رحمت ہےیہ زوربازوومشقت سےنہیں ہے

236
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس پاگل سے نبھاناپیت یہ سدا سے محال ہے
جو کہ نبھا رہے ہیں اسے یہ انہیں کا کمال ہے
جاری ہیں بیٹھکیں وہا ں ہر روز صبح شام کو !
بٹتے وہاں پردیکھی جوتیوں میں بھی دال ہے

237
یہاں رہ کر وہا ں کے کام کرجاؤ۔۔۔ شمس جیلانی

امینوں اور صدیقو ں میں شامل یہاں پراپنا نام کر جاؤ
شمس وہاں جا کر یہاں والوں کو اپنا بندہ بے دام کرجاؤ
رکھونعرہ یہاں پر کام اوراچھاکام ہی ہمیشہ مشن اپنا !
ملےجن کے بدلے میں وہاں جنت کچھ ایسے کام کر جا ؤ

238
رب پہ پیار آتا ہے۔۔۔شمس جیلانی

کروں ہوں یاد اسے تو میرے دل کو قرارآتا ہے
خدا کی دین ہے کہ میرا کہیں تو شمار آتا ہے
یہ اس کی دین ہے عطا وہی تو کرتا ہے ہمیں
میں جتنا سوچوں ہوں اس پر ہی پیار آتا ہے

239
موت کام کا وقت معین ہے۔۔۔ شمس جیلانی

ہر بندہ لکھا کرا لایا وہاں سے اپنی اک منزل تو ہے
سارے اعضا کہہ رہے ہیں اب جینا ذرا مشکل تو ہے
شمس اس کی مرضی پر ہی جینا اور ہے مرنا منحصر
کون جانےکب دھڑکنا چھوڑدے اک پرانا دل تو ہے

240
اخلاقی قدروں کا زوال۔۔۔ شمس جیلانی

جب خیانت بڑھی تودیانت گئی
ہو دنیا سے رخصت امانت گئی
ہراک تاک میں ہے لے کپڑے اتار
اعانت گئی اور استعانت گئی

241
تقاضہ توحید پرستی۔۔۔ شمس جیلانی

شمس وحدت پرست ہوں وردِ زباں اللہ و رسولﷺ ہے
بات طول کھینچے ہے مرے خیال میں بحث فضول ہے
کبھی لاتا نہیں ہوں بیچ میں کسی اور کا میں ذکر
نہ تورات مجھ کو یاد ہے نہ ہی انجیل و زبور ہے

242
تربیت اور گود۔۔۔۔ شمس جیلانی

گود ایسی ملی جو روک دے خطا میں کروں
چاہے تھی گرہ میں باندھ لے جوعطا میں کروں
سر پر ہو مرے بزرگوں کا سایہ سدا ہی بس
ہر ایک در ِعلم وا ملے جس کو میں فتح کروں

243
سچےاور جھوٹوں کے مطیع؟۔۔۔ شمس جیلانی

سچو ں سے کبھی جھوٹو ں کی اطاعت نہیں ہو تی
ہےخبر ہی جھوٹی جس میں صداقت نہیں ہو تی
مومن سدا ڈھونڈے ہے کہ سچ مل جا ئے کہیں پر
اک بار تو ممکن ہے ہمیشہ یہ حماقت نہیں ہو تی

244
زحمت میں رحمت ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس قانون ِقدرت ہے یہ، گنا جو کرے گا سزا پا ئے گا
بلا ئیں یوں بھیجتا ہے کہ انسان دیکھے، سدھر جا ئے گا
گر کرے گا جو تو بہ پھراسی در سے آخر وہ فلا ح پائے گا
رحمتیں رب دن رات برسائے گا اور انساں سکوں پا ئے گا

245
اے کاش پیرو رسولﷺ کے ہوتے۔۔۔ شمس جیلانی
اے کاش پیرو ہم صرف اپنے رسول ﷺکے ہوتے
ہوتا خلق بھی ان سا ﷺ بندے اصول کے ہوتے
رضائے رب پر ہی ہم شمس جوراضی بہ رضا رہتے
نہ ہوتے مفتوح ہم فاتح کل عرض وطول کے ہوتے

246
چاہیئےاک سجدہ طویل۔۔۔ شمس جیلانی

شمس بس ہرگز نہیں دنیا سے دھوکا کھا ئیے
رب جب ہو سامنے سجدے میں بس گر جا ئیے
طول اتنادیں اسے کہ گزرجا ئے پھر ساری عمر!
جب موت آجا ئے نظر قدموں میں ہی مر جا ئیے

247
مدد کرو مدد کیئے جاؤگے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

اپنا وطیرہ یہ رہا گرتے جسے بھی دیکھا کندھے چڑھا لیا
کہہ ،توفیق رب نے دی مجھے، سر اس کے آگے جھکا لیا
رکھتا گمان پکا ہوں دربارِ رب سے آئے گی اک دن یہ صدا
شمس جا کر بسا اب جنت توکہ تو نے ہے رحمت کو پالیا

248
بیکار کی باتیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

نہ لڑائی کی نہ جھگڑے کی نہ ہی تکرار کی باتیں
اچھی مجھے لگتی ہیں فقط سرکار ﷺکی باتیں
کرنے کومجھے رہتے ہیں اوربہت پند و نصائح
اس واسطے کرتا میں نہیں کبھی بیکار کی باتیں

249
حکمت ِ سراپا ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

پرحکمت سے ہیں ہوتی سب میرے سرکار کی باتیں
صرف گفتار ہی نہیں ان میں ہیں بلند کردار کی باتیں
ہم حکمت کو بھی ڈھونڈیں ہیں جاکر کے یورپ میں
جبکہ ہیں مومن کو بہت کافی، سیدِ ابرارﷺکی باتیں

250
اسلامی توکل۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ کس دیں پر چلتے ہیں یہ کس دنیا میں رہتے ہیں
یہ ہلاکت کو حماقت سے توکل جو لوگ کہتے ہیں
حکم یہ ہے باندھو اونٹ کو پھرآؤدر بار رسالتﷺ میں
یہ کھلا جو چھوڑ آتے ہیں حماقت اس کو کہتے ہیں

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(151 – 200) قطعات شمس جیلانی

151
آخری حل۔۔۔۔ شمس جیلانی

کرسکتا وہ ہی کچھ ہے ہاتھ میں جس کے ہے ساری کائینات
کوئی مفلس کیا کرے گا جو پھر رہا ہے کہیں پر خالی ہاتھ
اب جنگ ہو یا امن ہو لگ رہا دنیا کا انجام کچھ اچھا نہیں
ایک ہی حل با قی بچا ہے بن کے بندہ مان لو اس رب کی بات

152
سلام میں مسکرانا ۔۔۔۔شمس جیلانی

شمس بالتحقیق یہ بھی صدقہ ہے
جو ہنس کے ملتے ہیں مسکراتے ہیں
ڈھونتے پھرتے ہیں انہیں ملے کوئی
خود بھوکے رہ کر انہیں کھلاتے ہیں

153
خدمتِ خلق۔۔۔شمس جیلانی

اپنی جنت وہاں بنا تے ہیں
دوسروں کے جو کام آتے ہیں
مخلوق ہے کنبہ عیال اللہ
بھوکا رہ کر اسے کھلاتے ہیں

154
باعث رسوائی۔۔۔۔ شمس جیلانی

پہنچا وہ ثریا تک جس نے یہ روش اپنائی
ہے مومن ہی فقط جانے عظمتِ سحر گاہی
بس جلدی اٹھو یاروں جلدی اٹھو بھائی
دیر تک سونا ہے باعثِ ذلت و رسوائی

155
م کھانا کم سونا؟ شمس جیلانی

کم کھانا کم سونا ایسا پنہاں کچھ راز ہے
جانے اسے وہی ہے جو خالق وکار ساز ہے
جب دینے پہ آئے وہ تو دے بے انتہا رزق
اللہ ہے جسکا نام اور وہ جو بندہ نواز ہے

156
ضعف ایمانی۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ جسے چاہے نہیں اس کو بلا ہے نہیں کھاتی
ہے وقت سے پہلے توموت کسی کو نہیں آتی
دکھلا کرکے بلا ئیں وہ ڈراتا ہے انہیں شمس
سب بھگتےہیں نتیجہ قوم یہ ایماں نہیں لاتی

157
عاقل کی بات ۔۔۔شمس جیلانی

عاقل کی کوئی بات پرانی نہیں ہوتی
جوزیست گزارے وہ فانی نہیں ہوتی
وہ چھوڑکے جاتا ہےیہاں صدقہ جاری
یوں سامنہ اللہ کے پشیمانی نہیں ہوتی

158
بیاں معتبر نہیں ۔۔۔ شمس جیلانی

ہر شہ بے اثر ہے کسی میں اثر نہیں
دعوے کرے لاکھ نہیں اور مگر نہیں
ہمہ صفت فقط بس اللہ کی ذات ہے
جو کہےاس کے سوا بیاں معتبر نہیں

159
جد وجہد لازمی ہے۔ شمس جیلانی

شمس کلیہ یہ ہے وہی کاٹے ہے جو کہ فصل بوتا ہے
وہ فصل کیا خاک کا ٹے گا؟ جو کہ ہر وقت سوتا ہے
بشر کو عطا ہوتا و ہی ہے سعی کرتا ہے وہ جس کی
ہے ناداں وہ کہ بعد میں افسوس کرتا ہے یا روتا ہے

160
عطا ئے عجیب۔۔۔ شمس جیلانی

جو لٹائے راہ میں اسکی بے شمار دیتا ہے
جوکرے شمار تو کرکے اسے شمار دیتا ہے
عجیب داتا ہےمانگو تو ہےوہ خوش ہوتا
اگرہزار بار جو مانگو وہ ہزار بار دیتا ہے

161
تغیرات ِ زمانہ۔۔۔شمس جیلانی

وہ دور ہم نےدیکھا ہےجبکہ ہم بھی ایک بچے تھے
محل بہت کم تھے،گھر،گھروندے وہ بھی کچے تھے
لیکن اس دور میں ملتاکوئی جھوٹا بات تھی مشکل
قناعت تھی دیانت تھی اور سارے لوگ سچے تھے

162
قناعت پسندی۔۔۔ شمس جیلانی

میں دین کا خادم ہو ں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
اس راہ میں کاوش کوئی جاتی کبھی بیکار نہیں ہے
اے شمس بچپن سےوطیرہ میں نے رکھا ہے قناعت
جو مانگوں سوااس کے یہ دل اُس کاروادار نہیں ہے

163
خوفِ محشر ۔۔۔ شمس جیلانی

اس واسطے یہ شمس زمانے سے جدا ہے
ہر لمحہ رَ کھے سامنے جو رب کی رضا ہے
ہر وقت ہی خوف سے لرزاں ہے رہے وہ !
کھٹکااسےلاحق ہے ہونا بپا روز ِ جزا ہے

164
اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

کیا نہ دیا اللہ نے بڑا احسان ہے صا حب
ناشکرا مگر پھر بھی بڑاانسان ہےصا حب
شمس ‘ اللہ اکبر ‘ سے مردے ہوئے زندہ
اس نعرہ مقدس میں بڑ ی جان ہے صاحب

165
اللہ تو اللہ ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ تو اللہ ہے اسی کی الگ شان ہے صاحب
مدر نیچر اسے کہلو یہ بھی پہچان ہے صاحب
اک جرثومے کو کیا بھیجا ہےکل دنیا ہوئی ہلکان
سامنے اس کے دھرا رہ گیاکل سا مان ہے صاحب

166
فلاح اسی میں ہے۔۔۔ شمس جیلانی

آئینِ خدا کو بندہ کوئی جھٹلا نہیں سکتا
تو بہ کے بنا بندہ کو ئی فلاح پا نہیں سکتا
بہتر یہ ہی ہے سرکو جھکادو اللہ کے آ گے
تاحکم خدا یہ جرثومہ بھی جا نہیں سکتا

167
فرشتے سلام کرتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں رہ کر وہاں کے جو مرد کام کرتے ہیں
خدائے پاک بڑھا کر انہیں امۤام کرتے ہیں
مچھلیاں تک ان کے لئیے دعا ئیں کرتی ہیں
فرشتے آتے اور جاتے ہر دفعہ سلام کرتے ہیں

168
منافق کی پہچان اور انجام۔۔۔ شمس جیلانی

جو کہتا ہے وہ کرتانہیں منافق کی یہ پہچان ہے صاحب
یہ میں نہیں کہتا ہوں نبی(ص)پاک کا فرمان ہے صاحب
پھر یہ بھی لکھاہے کہ درک ِ اسفل ہے منفاق کا ٹھکانہ
ثابت یہ حقیقت ہے وہ بھی از روئے ِقر ان ہے صا حب

169
ا نقلابِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں پہ جب تک ہم عامل قر آن ہوکر رہے
رہے زمیں پراسوقت تک آسمان ہوکر رہے
جو چھوڑا دین کو ہم نے ، تو ُرل گئے ہم بھی
بہاریں روٹھ گئیں اور خزاں نشان ہوکر رہے

170
عالمِ بے عمل۔۔۔ شمس جیلانی

عالمِ بے عمل کہاں لکھا ہے کہ صاحب اکرام صاحب
جواس کو بھی ولی مانیں تو یہ دین پر الزام صاحب
حیرت ہےکیا ہوگیا اس عقلِ مسلماں کو بھی اے شمس
ایسوں کی بھی یہ قوم بنی اب بندہ بے دام ہے صاحب

171
سچائی کا صلہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جو سچ ہیں بولتے انہیں صادق شمار کرتے ہیں
خدا ئے پاک اور اس کےکُل فرشتے پیار کرتے ہیں
نیک بندوں میں ہمیشہ ان کا شمار رہتا ہے
ہر ایک بات پر ان کی سب اعتبار کرتے ہیں

172
مومن اورجہد ِمسلسل۔۔۔ شمس جیلانی

بہتر یہ ہی کہ نہ گناہ ہر گز کیا کریں
ہو جا ئے گر خطا تو توبہ کیا کریں !
مُسَلسَل دیں شکست شیطاں لعین کو
حاصل فتح اس پہ یوں فوراً کیا کریں

173
میرے سرکار ﷺکیسے تھے۔۔۔ شمس جیلانی

کسی نے پوچھا صدیقہ ؓسے نبیﷺ ذیشان کیسے تھے
کہاقرآں پڑھا تم نےوہ ﷺبس قرآن جیسے تھے
یہ زمانہ آج بھی ہے ڈھونڈتا پھر تانقشِ قدم انکےﷺ
بہر صورت وہ ﷺ کامل تھے مگر انسان جیسے تھے

174
سرکار کیسے تھےﷺ۔۔۔ شمس جیلانی

بتاؤ ں تم کو کیا اے لوگوں میرے سرکارﷺ کیسے تھے
لکھا لا ئے رب سے تھے سرداری سردارﷺایسے تھے
یہ تھااجداد کا شیوہ کہ وہ گزرتے خوشبو پھیلاتے
تھے چمکتے مثل ِسورج وہ صاحب ِکردار ایسے تھے

175
عقیدہ اور عمل ایک سا۔۔۔شمس جیلانی

بہت بودا ہے شمس یہ دنیا کا سہارا
بہتر ہے ہم اس کے ہورہیں وہ ہمارا
عقیدہ اوراپنا عمل بھی ایک سا ہو!
رہےاللہ لبس ہمیں جی جاں سے پیارا

176
اوش اپنی نصرت رب کی۔۔۔ شمس جیلانی

ہے جیسا راستہ چنتا کوئی مردود یا مسعود ہوتا ہے
جو چا ہے اپنے لئیے چن لے ماحول کل موجود ہوتا ہے
ہے پتہ بندے کوجب چلتا کہ فرشتے جاں نکا لیں ہیں
روح نکل کر ہی نہیں دیتی کہ راستہ مسدود ہوتا ہے

177
اللہ دعا فرما ئیے۔۔۔ شمس جیلانی

دیکھنے میں تونظر ہے آرہی ، یہ زمیں ہے بے حد حسیں
لیکن سرکتی جا رہی ہے رفتہ رفتہ پیروں نیچے کی زمیں
چھوڑ کر ہم نے خود ہی اسوہ حسنہ ﷺخود کو رسواکرلیا
للہ دعا فرما ئیے رحمت اللعالمیں، رحمت اللعالمیں ﷺ

178
جات اسوہ حسنہ ﷺ میں ہے شمس جیلانی

مجھے اسوہ ﷺحسنہ کے سوا کوئی رستہ نہیں معلوم
پہلے سے کوئی تھا بھی وہ اب ہوگیا معدوم
فرما دیا سرکار ﷺ نے چلے آؤ مرے پیچھے
کیا قصّے لیئے بیٹھی ہے یہ امت مرحوم

179
تغافل سا تغافل۔۔۔ شمس جیلانی

جیسے ہے بڑھا علم یہ دنیا تجھے پہچان رہی ہے
جومحبوبﷺ نے فرما یا تیرے ابھی مان رہی ہے
اک جر ثو مے سے ساری اکڑ ہو گئی رخصت !
کرتا ہےیہ کون بس بن یونہیں انجان رہی ہے

180
صدقہ رسول (ص) شمس جیلانی

یہ جو کچھ ہے شمسؔ آج سب صدقہ ِ حضورﷺ ہے
کم ہیں جہاں میں لوگ جنہیں حق کا شعور ہے
گزر ہے دن اور رات سب کا حمدو ثنا میں بس
ان کا ﷺجو کہ غلام ہے وہ کب اللہ سے دور ہے

181
ناز ہےغلامی پر۔۔۔ شمس جیلانی

کرتا ہوں ذ کر ان ﷺکا پیاروں ، کا دین کا
کرکے گمان بیٹھا ہوںمیں جنت حسین کا
اس کے سوا ہے پاس اساسہ کوئی نہیں
ہے فخر کہ غلام ہو ں صا دق امینﷺ کا

182
توبہ گناہ کا کفارہ ہے۔۔۔ شمس جیلانی

کس سے زمانے میں حماقت نہیں ہوتی
مومن وہ نہیں امید شفاعت نہیں ہوتی
کرتے رہو توبہ تم اے شمس مسلسل
ظالم کو گناہ کرکے ندامت نہیں ہوتی

183
اللہ کی شان ۔۔۔۔ شمس جیلانی

لاریب شک نہیں ہےکہ وہ رب مہربان ہے
پرَ ویسے اب کہاں ہیں مگر اونچی اڑان ہے
کندھے جھکے تھے پہلے کمر مثلِ کمان ہے
پھر بھی قلم رواں ہے یہ اللہ کی شان ہے

184
کوئی گناہوں کا معترف نہیں۔۔۔ شمس جیلانی

زمانے کا چلن بدلا قافلہ رستے میں کھڑا ہے
ہر گھر سے ابھی اٹھ رہی اُف، آہ ، اور بکاہ ہے
ناراض ہےلگتا جس ہاتھ میں دنیا کی بقا ہے
پھر بھی نہیں کہتا کوئی گناہوں کی سزا ہے

185
اب بھی مان جاؤ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جینے میں نہ لذت ہے نہ مرنے کا مزہ ہے
پژمردہ زمانہ ہے اور یہ مسوم فضا ہے
بندے کی بصیرت پر ہے شک سا گزرتا
کہہ دے کوئی یہ کہ نہیں کوئی خدا ہے

186
عادتِ مومن ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مومن کی تو عادت ہے راضی بہ رضا رہنا
اس راہ مین جو مشکل ہو جپ چاپ اسے سہنا
کیا کچھ نہ ملے اس کو گنتی ہے نہیں اُس کی
بس بالا ئے تصور ہے جو کہ وہ پہنے وہاں گہنا

187
بہاریں روٹھنے کی وجہ۔۔۔ شمس جیلانی

سوچا کبھی کیا تم نے کہ کیوں روٹھی بہار ہے
کچھ تو کیاہے ایسا کہ سر کاندھو ں پہ بار ہے
جو ماں سے بھی کرے زیادہ بندوں سے پیار ہے
ہےبین ثبوت اس کا کہ خفا ہوگیا پرور دگار ہے

188
ازم ہے بزرگوں پر سراہیں وہ انہیں جو اچھا کام کرتے ہیں
جو اپنا ہی نہیں بزرگوں کا بھی کا بھی اونچا نام کرتے ہیں
انہیں میں ڈاکٹر ریحان ہیں جو کہ خلف ہیں حضرت اسد کے
یوں لا ئقِ ستائش ہیں سیرت نبوی(ص) کو جہاں میں عام کرتے ہیں

189
بندہ نواز۔۔۔ شمس جیلانی

بندےبنو تو تم، وہ بندہ نواز ہے
اللہ عظیم ہے اور وہ کار ساز ہے
اسکو ہی پکارو حاجت روا ہے وہ
لازم اس کے واسطے دینا آواز ہے

190
جناب ِصفدر ھمدانی کی ستر ہویں سال گرہ پر
خیر سے حضرتِ صفدر ہوئے آج ستر سال کے
لوگ عنقاہیں جہاں میں اِس پرانی چال کے
ان کے اندر قناعت شمس اِس قدر ہے موجزن
نہ ہی وہ طالب دنیا رہے نہ ہی پجاری مال کے…

191
کج بحثی سے اجتناب کرو ۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ کا حکم یہ ہے جاہل اگر جو ٹکرے کہنا سلام ہے
حضرت مولانا روم کا بھی کا سب کویہ ہی پیام ہے !
“ چالیس اگر ہوں علماء ان کو ایک دلیل ہے بہت“
جوجاہل سے عاقل ٹکرے اس کا خجالت مقام ہے

192
یہ کرونائی تہذیب ۔۔۔ شمس جیلانی

عجب روش ہے سب منہ چھپائے پھرتے ہیں
غیر ہی نہیں، بنے اپنے، پرائے پھر تے ہیں!
سرِ راہ مل جا ئےکوئی بھی شناسا شمس
نگاہ بد لی سب آنکھیں چرائے پھر تے ہیں

193
خیر اور شر میں فرق۔۔۔ شمس جیلانی

جو اہلِ خیر ہں سرکو جھکا کر چلتے ہیں
جو اہلِ شر ہیں وہ گردن اٹھا کر چلتے ہیں
یہ ہی فرق اچھوں بروں میں ہے اے شمس
برے جو لوگ ہیں فتنے جگا کرچلتے ہیں

194

وشیار باش۔۔۔ شمس جیلانی

خفا ہونے نہیں دینا کسی کو ہے منانا مشکل
یہ دور ِ کرونا کسی گھر بھی ہے جانا مشکل
شمس اس بات کا بس رکھو ہمیشہ ہی خیال
دوستی کرنا ہے آسان مگر اسکا نبھانا مشکل

195
مقام عبرت۔۔۔ شمس جیلانی

یہ جہاںمقام ِ عبرت ہے سوچئے تو سہی
کرے برا جو کام اس کو ٹوکئیے تو سہی
ماۤل اس کا یہ ہے کہ دیدار کو ترستے ہیں
کرکے توبہ آنسو اپنے پوچھئیے تو سہی !

196
ایک سوال؟۔۔۔ شمس جیلانی

وہ کئی بار آئے بلا ئے بٹھا ئے نکا لے گئے
ہے فطرت کچھ ایسی نہ طیور سنبھالے گئے
گلہ ہے انہیں یہ پوچھتے ہیں لوگ کیوں
جو کہ دولت تھی لوٹی وہ تم کہاں لے گئے

197
گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں
کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں
بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں
پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

198
پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے
پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے
دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے
وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

199
خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا
خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا
خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے
سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

200
آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے
ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے
ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس
آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(101 – 150) قطعات شمس جیلانی

101
دعاعباس رضا زیدی کی نویں سالگرہ پر

میری دعا ہےکہ عباس کی عمر خدا دراز کرے
سراپا علم کرے اورعالمِ جید وہ کار ساز کرے
دے علم وہ ایسا کہ راضی رہے خدا جس سے
نانا صفد رو کنبہ ہی نہیں، کل جہان ناز کرے

102
ماں نہیں یقین ہے؟ شمس جیلانی

گماں نہیں یقین ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
وہ حقیر بندوں میں اپنے مجھکو شمار کرتا ہے
یہ اس کی دین ہے قناعت عطا کری مجھ کو
سر بھی ایسا کہ سجدے جو بےشمار کرتا ہے

103
بلاؤں سے ذریعہ نجا ت توبہ۔۔۔ شمس جیلانی

بھیج بلا،یاددلاتا ہے بندوں کودامن گناہوں میں سنا ہے
خود ہی معاف بھی کرتا ہے وہ جو لائق حمد و ثنا ہے
بس گرجاؤ تم سجدے میں کہ واحد وہی جائے پناہ ہے!
ہر اس کام سے توبہ کرو کہ مومن کو جو کرنا منع ہے

104
فکر ِمآل ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہوگا اب کیا مآلِ ملت یہ خوف مجھ کو ستارہا ہے
ہو ئےجو ہیں خشک آنسو، وہ خوں کے آنسو رلا رہا ہے
بلائیں ٹلیں گی کیسے خوف ہے جو کہ بیکل بنا ر ہا ہے
نہ کرتا توبہ ہے آج کوئی ، نہ ہی رب کو جاکر منا رہا ہے

105
ترقیِ درجات۔۔۔ شمس جیلانی

میرامشاہدہ ہے جس سے راضی ہو رب دیں کا کام لیتا ہے
یہاں کرے ہے صبر جو، اسکووہاں پر بے حد انعام دیتا ہے
نہ کسی سےلڑتا ہو وہ نہ بحث و تکرار ہو روش اس کی
تب دلوں میں اپنے بندوں کے وہ ا سے اعلیٰ مقام دیتا ہے

106
تلاش ِفلاح گناہوں میں؟۔۔۔ شمس جیلانی

ہم سمجھے تھے قوم ہےدانا ،کر توبہ رضا ڈھونڈ رہی ہے!
عقدہ یہ کھلا ہم پہ وہ گنا ہوں میں فلاح ڈھونڈ رہی ہے
بشکلِ جرثومہ اُدھر ہر بندہ ِخطا کارکوبلا ڈھونڈ رہی ہے
یعنی کہ قضا ڈھونڈرہی ہے بحکم ِ خدا ڈھونڈ رہی ہے

107
وجود باری تعالیٰ۔۔۔۔۔شمس جیلانی

کہہ گئے ہیں بزرگ شاعر “کوئی تو ہے جو نظام ِہستی چلا رہا ہے“
یہ دور ہےدور ِسائنس بظاہردیکھوکہ روبوٹ بیٹھا کشتی چلا رہا ہے
جھا نکوگہرایوں میں پتہ چلےگا پس پردہ انسان بیٹھا گُل کھلا رہا ہے
ملحد پھر بھی کہدے خدا نہیں ہے! وہ جگ کو خود پر ہنسا رہا ہے

108
حیرانی سی حیرانی۔۔۔ شمس جیلانی

کیا بتا ؤں مجھے اف حیرانی سی حیرانی ہے
ہوگئی پختہ ابھی لو گوں میں بے ایمانی ہے
میں تو سمجھا تھا ہراک لب پہ اب توبہ ہوگی
ہے کرشمہ کہ بڑھاکچھ اورکار ِ شیطانی ہے

10
مسجد آیا صوفیہ میں چھیاسی سال کے بعدجمہ

یہ مسجد چھیاسی سال سے ویران تھی پڑی
بوٹوں کی ایڑھیاں کرتی تھیں بے عزتی بڑی
یہ اک مرد آہنی کمال اتا ترک کی تھی دَین
طیب اردگان نےواپس کیا ملت کو اپنی چین

110
علم جتنا بڑھا جہالت بڑھی شمس

کون مانے گا اس سے جلالت بڑھی
جو چھوڑا اسوہ نبی خجالت بڑھی
ایسی تعلیم شمس ہے کس کام کی
علم جتنابڑھتا اورجہالت بڑھی

111
کلیہ القاب۔۔۔ شمس جیلانی
جن کا لب پہ آئے ذکر سب پڑھیں درود سلام ہیں !
یہ لوگ وہ ہیں جو کہ سب کہ سب ،علیہ اسلام ہیں
بس راز وہ ہی جانے ہے جو واقفِ راز ہے اے شمس
اُن کو خبر ہے کیا؟ بندہِ عقل ہیں، اسی کے غلام ہی
112
مومن اور شیطان۔۔۔ شمس جیلانی

مومن کوئی ایسا نہیں کہ تاک میں شیطان نہیں ہے
بات بس اتنی ہے کہ اس کی اسے پہچان نہیں ہے
شمس کر نہ سکے جوکہ اپنی نمازو ں کی حفاظت
مشکل ہے اسےوعدو ں کا نباہ کرنا، آسان نہیں ہے

113
حج اور عید مبارک۔۔۔ شمس جیلانی

نہ چہروں پروہ رونق ہے نہ ہی عبادت میں مزہ ہے
یہ حج وعید ہے یاکہ امت کےگنا ہوں کی سزا ہے
نہیں آتی نظر ہے قوم یہ آمادہِ توبہ ابھی تک!
وہ دیکھوجبلِ رحمت ہےافسردہ, اور خالی پڑا ہے

114
سعودی خطبہ حج کے مضمرات؟ شمس جیلانی

حیرت ہے جو سزا کو امتحاں بتا رہے ہیں
تھی جن سےامیدِرہنمائی وہی بہکارہے ہیں
توبہ بنا اور معافی، یہ سنت ِرب نہیں ہے !
اسطرح تو خود ہی کشتی ڈبانے جا رہے ہیں

115
عر مذلت کی وجہ۔۔۔ شمس جیلانی

میں اس رب کو پیار کر تا ہوں ہاتھ میں جسکے عزت و ذِلّت ہے
یہ ہی سرشت ِ انساں ہے اور ہر بشر کی لکھی ہوئی جبلّبت ہے
خود بنا کر بتوں کو پوجے ہے یہ اس میں آئی کہاں سے علّت ہے
جو ہمیشہ سے عار ہے اس کو اور اب وہ باعث ِ قعَر ِمذلّت ہے

116
رب پیارا ہے ۔۔۔ شمس جیلانی

جو خالق ہے ، مالک ہے ،واحد سہارا ہے
ہمیں تو ہر سہارے سے ہمارا رب پیارا ہے
جس کا نام لینے سے ملتا ہے سکوں دل کو
ملا جس سے ہمیں اللہ اکبر کا یہ نعرہ ہے

117
چوری اور سینہ زوری۔۔۔ شمس جیلانی

گڈ مارننگ جو کہتے ہں ہر اک سلام پر
جُل دیتے رہے ہیں وہ اکثر اللہ کے نام پر
رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہی دیں کےکام پر
ہیں جگ کو نچا رہے وہ اب زور ِکلام پر

118
اظہا ِ تشکر۔۔۔ شمس جیلانی

تونے سب کچھ عطا کیا مجھکو
دین ِ برحق سکھا دیا مجھکو
اے خداتو بتا کہ کیا مانگوں
سیدھا رستہ دکھا دیا مجھ کو

119
دیار ِ غیر کی جھلک۔۔۔ شمس جیلانی

ڈھونڈیں سہی یہاں بھی مل جا ئے گا وہی طرز ِ گفتگو
چھینکےکوئی تویہ بھی ہیں کہتے کہ “گاڈ بلیس یو“
چالان بھی یہ کرتے ہیں تو سر کہہ کر ادب کے ساتھ
پائی نہیں ہے ہم نے ان میں بڑائی کی کہیں بھی خو

120
خبردار۔۔۔ شمس جیلانی

ڈرتا نہیں وہ ہے جو جھوٹ کو سچ کی طرح بول رہا ہے
ڈرتا نہیں وہ بھی ہے جو کہ فضاؤں میں زہرگھول رہا ہے
شمس ہو جا ؤ خبردار بچا وقت ہے باقی بہت تھوڑا !
بس چھانے کو عزابوں کا اندھیرا ہے جو پر تول رہا ہے

121
تبلیغ ِدین۔۔۔شمس جیلانی

سورہ والعصر پڑھ لیں معدبانہ عرض ہے
شرما ئیں ہیں ناحق کیا ہم میں یہ مرض ہے
جبکہ یہ حکم ِ خالق ِ ذوالعرش و ارض ہے
کہ تبلیغ ِ دین بھی تو ہر مسلماں پہ فرض ہے

122
یوم پاکستان مبارک ۔۔۔ شمس جیلانی

رمضان کی ستاسویں شب کو بناملکِ پاکستان ہے
نیک ساعت میں بنا یا اس رب کی یہ بھی شان ہے
ایک دن جنت بنےگا مجھ کو ہے اللہ پر اپنے یقیں
یہ بھی وقتی بات ہے جو طرف پھیلا ہوا ہیجان ہے

123
آہ اظہر سید مرحوم ۔۔۔ شمس جیلانی

جو پیش منظر کل تلک تھا اب پس منظر گیا
آہ اظہر سید جیسامیرادوست، ساتھی مرگیا
ہر جگہ ہو تے ہم اے شمس اکثر ساتھ ساتھ!
اب اسے ڈھونڈوں کہا ں وہ تو ابدی گھر گیا

124
اف یہ سیاہ بختی ۔۔۔شمس جیلانی

سیاہ بختوں کو کب کو ئی بھی اپنا مال دیتا ہے
اگر کچھ مانگنے آئیں تو کر بہانہ ٹال دیتا ہے
مگر کرلے وہی توبہ تو بن جاتا ہے پھر ویسا
قسمت جو پلٹتی ہے وہ اچھا اسےمآل دیتاہے

125
آمد ِبہار۔۔۔ شمس جیلانی

یہ اس رب کی دین ہے کہ ہرطرف چھائی بہار ہے
جو غنچے چٹک رہے ہیں اور فضا مشک بار ہے
تم ہر گز نہ گن سکوگے انعا مات اس کے شمس
اتنی عنا یتیں ہیں نہ کوئی حد ،نہ ان کا شمار ہے

126
آئین ِ رب۔۔۔ شمس جیلانی

آئین صرف اس کا ہے جس میں سکون و قرار ہے
وہ خالق ہے حکیم بھی ہے بےحد ہی با وقار ہے
مانے جو اس کی بات وہ فلاح پاجا ئے ہے شمس!
ہیں لوگ رب کی مانتے ہی نہیں یہ وجہ انتشار ہے

127
حضرت امام حسین علیہ اسلام۔۔۔ شمس جیلانی

سنتے ہیں ان کو نانا ﷺسے آیا تھا اک پیام
مقتل میں خود چلے گئے جو حضرت ِ امام
اس راز کو سمجھنا ، فقط ہے ولی کا کام
سمجھے گا وہ کیا خاک جو ہو عقل کا غلام

128
مشیتِ ایزدی ۔۔۔ شمس جیلانی

مشیتِ ایزدی تھی جگمگتا رہے یہ نام
جو کر بلا کو چلدیئے ہو بے خطرامام
تھامرکے پھانسی چڑھنامقدر یزید کا
اوردیں کے پاسباں حسین علیہ اسلام

129
خشش مرحون ِ رحمت۔۔۔ شمس جیلانی

اس کے حقیر بندوں میں، میں خود کو شمار کرتا ہوں
وہ مجھسے پیار کرتا ہے اورمیں اس سے پیار کرتا ہوں
کروں میں شمس بھلا ناز کس طرح کسی ریاضت پر!
کروں جو ایک ہوں نیکی ، تو غلطی ہزار کرتا ہوں

130
دت سے جاری ذکراتھا اسی ذبیح ِ عظیم کا
تھا فیصلہ ازل سے یہ اس اللہ رحیم و کریم کا
مقصود تھا دکھانا رتبہ اسے حضرت ِامام بس
اور بننا تھا آلہ کار یزید کو شیطا ں رجیم کا

131
نانا ﷺنے جوکہا تھا اسے سچ کر، اپنی منزل کو پا لیا

عظمت ملی انہیں قربان خود کوکردیا دیں کو بچا لیا
کیا مشیتِ ایزدی تھی انہیں معلوم تھی وہ شمس!
اس پر انعام جو تھا وہ کنبہ زہرہ ؑ نے بڑھ کر اٹھا لیا

132
حضرت امام حسین علیہ اسلا۔۔۔شمس جیلانی

رستہ دکھا یا گیا جہان کوامام کاایک ہی عمل
جیسے شفاف جھیل میں کھلا ہوا ہوکوئی کَنوَل
پھرزندہ اورجاوید کر گئی انہیں آکر وہیں اَجل
اب لا ئے گا یہ جہان کہاں سے ان کا کوئی مِثل

133
یاد ِحسین علیہ السلام۔۔۔ شمس جیلانی

ظالم تھے جتنے لوگ وہ کوئی نہیں بچا!
وہ بھی نہ سانس لےسکے اک لمحہ چین کی
مقبول ِبارگاہ ہوئی بد دعاحضرت حسین کی
جگ کو ہے یادابتلاء نانا کے نورِعین کی

134
خزینہ حکمت ہیں اللہ رسول (ص) کی باتیں

بشر سے بنا تی ہیں انساں اللہ رسول (ص) کی با تیں
لیکن پسند لوگ ہیں کرتے اکثر فضول کی باتیں
سوا گناہوں کے شمس جن سے کچھ نہ ہوحاصل !
کیوں فضول کرتے ہیں یہ عرض و طول کی باتیں

135
باعث رسوائی۔۔۔ شمس جیلانی

پہلےسجدے میں گر پڑو تم رب کے سامنے
پھرآجائیں گے فرشتے بھی گرتوں کو تھامنے
بد عنوانیوں میں بڑھ گئے بےانتہا ہیں شمس
یوں رسوا کیا ہے ہم کو ہمارے ہی کام نے

136
بھولا ہوا ہےکام۔۔۔۔ شمس جیلانی

آکر کے بھول بیٹھا ہے کرنا تھا جو کہ کام
دانے تو گن رہا ہے مگر ہے بھولا ہوا امام
وہ کام جو بیاں قرآن میں تفصیل سے ہوئے
جس پر اسے تھا ملنا جنت میں کچھ مقام

137
تربیت میں میانہ روی ۔۔۔ شمس جیلانی

کری جو تربیت اچھی بچے جنت لے کے جاتے ہیں
کری جو تربیت کھوٹی و ہ جہنم گھر بناتے ہیں
محتاط رہنا ہے اگر ہو واسطہ معصوم ذہنوں سے
بڑے نادان ہیں وہ لوگ جو کہ سختی دکھاتے ہیں

138
در بیانِ وعدہ خلافی۔۔۔ شمس جیلانی

کچھ کہہ تود یتے ہیں جوش میں آکر باتیں بڑی
یہ یاد رہتا ہے نہیں کہ اس پر سزائیں ہیں کڑی
وعدہ پورا کریں لوٹ کرآتی نہیں ہے وہ گھڑی
ایسے ہی لوگوں سے جا ئےگی وہاں دوزخ بھری

139
جینے کاراز۔۔۔شمس جیلانی

دنیامیں شمس جینے کا یہ اچھا راز ہے
اس کی رضا پر چلئے جو کہ کا ر ساز ہے
لا ہول پڑھتے رہیے جب بھی شبہ پڑے
شیطاں سے بچتے رہئےوہ دھوکے باز ہے

140
گر ہو اللہ کاباغی؟ شمس جیلانی

اللہ کے باغی کوکہیں چین سے سوتے نہیں دیکھا
تکتارہےگو بیٹھا ہوا ہاتھوں کی ہر وقت وہ ریکھا
پاتال تک جاتا ہے فرشتوں نے جہنم میں جو پھنیکا
کروٹ جو بدلتا ہےفورا“ ہی لگ جا ئے ہے سینکا

141
زیست عزت کے ساتھ۔۔۔ شمس جیلانی

زیست بس وہی ہے گزر جا ئے جو عزت کے ساتھ ہے
تگ و دو کرواس کے لئے جو حیات بعد از ممات ہے
شمس یہ بھی کیا زندگی ہے کہ شاکی رہے سدا وہ رب
ہرکام وہ کرو ہو اسکے واسطے ہاتھ جس کے نجات ہے

142
نسخہ کیمیا۔۔۔ شمس جیلانی

یہاں زندہ جو رہنا چا ہتے ہو اگرخیر سے تم
نہیں مانگوسوا رب کے کچھ بھی غیر سے تم
رکھو تم دوستی شمس بس اہلِ حرم سے
ہمیشہ دور بھاگو لہو لعب اور دَیر سے تم

143
دربیان تصوف ۔۔۔شمس جیلانی

تصوف ہرگز نہیں پہن کر توب شانو ں پر زلف لہرانے کانام
ہے تصوف اسوہ حسنہِ سرکار ﷺ کو پورا ہی اپنانےکانام
جب شکل دیکھئے کوئی بھی صو فی کی ہے نظر آجائےرب !
ہے یہ کہاوت رنگ میں اللہ کے پورا ہی رنگ جانے کا نام

144
ا چھا کام۔۔۔۔ شمس جیلانی

سب سے اچھا کام یہ اس کی مرضی پرچلو
نہ ہی تم غلطی کرواور نہ وہاں جاکر بھرو
رکھو یقیں وہ معاف کردیگا بڑا رحمٰن ہے
دین پر اس کے جیئو اسکی مرضی پر مرو

145
انعام ِ خدا وندی۔۔۔ شمس جیلانی

جو کچھ لکھا رہا ہے تیرا ہی کام ہے
جو لب پہ حمد ،نعتِ خیر الانعام ہے
توجو سراپا مہر ہے رب تیرانام ہے
جاہل کو عالم کردیا تیرا انعام ہے

146
غصہ نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

یہ شمس عجب شہ ہے کہ غصہ نہیں آتا
غصہ نہ کرو بھائی اوروں کو ہے سمجھاتا
غصہ وہ بری شہ ہے عقل ماند ہے پڑجاتی
غصے میں انساں بھی شیطان ہے بن جاتا

147
آپ بیتی۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس زندہ ہی کہاں تھا بیوی کے مر جانے کے بعد
آدمی زندہ ہی رہتا ہے کہاں ساتھی بچھڑ جانے کےبعد
تنہائی کاٹنے دوڑے ہے کچھ اس طرح اس انسان کو
کہ اس کو گھر بھی ویرانہ نظر آتا ہے گھر آنے کے بعد
نوٹ۔۔۔آج ہماری شادی کی انہتر ویں سال گرہ ہے۔
پینسٹھ سال ہم نے ساتھ گزارے اور یہ ویڈیو اس کی
یادگار ہے۔

148
عظمت ِ ماں باپ۔۔۔ شمس جیلانی

سامنےاف بھی نہ کرنا بات کو ئی بھی لگے ان کی بری
اللہ نے فر مادیا قرآن میں ہے ماں باپ کی عظمت بڑی
دونوں میں سے پاؤ جسے اس سے کرالو بخشش یہیں
ان کو گر ناراض بھیجا ہے انہیں کے واسطے دوزخ بنی

149
خطاوار کون ہے؟ شمس جیلانی

ہر صاحب اختیار ہے یوں قابل ِ سزا
جب خوفِ خدا گیا کچھ بھی نہیں بچا
ہر مرض کی دوا ہے بس کلمہِ لا الہ
دنیا یہ چکھ رہی ہے گستاخی کا مزہ

150
ماں باپ ذریہ جنت۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ہی وہ ہیں جو تم کو دوڑنا چلنا سکھاتےہیں
تمہاری ہر حماقت پر جو ہنستے کھلکھلا تے ہیں
ہیں ناداں جو بڑےہوکر ا نہیں کو بھول جاتے ہیں
اور عاقل وہ کر خدمت صلہ جنت جو پاتے ہیں

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں