وماتوفیقی اللہ باللہ۔۔۔ شمس جیلانی

ایک دن ہمارے بچوں نے اپنی ایک مشترکہ میٹنگ کے بعد جس کی قیادت ہماری بڑی صاحبزادی کر رہی تھیں نے ہمارے سامنے آکر ذکر کیا کہ ابا ّ میں یہاں اس لئیے آئی تھی کہ میں اپنے گھر پر آپ کی نوے سالہ سالگرہ منانا چاہتی تھی اور آپ کی اجازت مطلوب ہے۔ ان کے اباّ کہنے سے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ ہم پاپا کریسی کے قائل نہیں ہیں اپنے آپ کو پاپا یا ڈیدی کہلوانا پسند نہیں کرتے لہذاہمارے بچے ابا کہتے ہیں اور ہمارے اور ان نکے درمیان بہت زیادہ بے تکلفی بھی ہے؟ اس سے آپ کو ہماری قسم سمجھنے میں آسانی ہوگئی ہوگی کہ ہم کس قسم کے مسلمان ہیں؟۔ ہم نے کہا بیٹا کیوں فضول خرچی کر رہی ہو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اول تو فضول خرچی ہی ناپسند ہے کہ فضول خرچی کو قرآن میں کار ِ شیطانی قرار دیا ہے اور شیطان کو اللہ تعالی کا نا شکرا قرار دیا ہے؟ پھر جس طرح ہمارے یہاں ایسی تقریبات کو منایا جاتا ہے اس میں سوائے ممدوح کی جھوٹی تعریفوں کی وہاں سے اور کوئی سبق بھی حاصل نہیں ہوتا؟کہنے لگیں کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ اپنی زندگی کے تجربات شئیر کریں؟ ہم نے کہا اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا کیونکہ ہمارا دور کوئی اور دور تھا اور تمہارا دور اس سے قطعی مختلف ہے؟ لہذا وہ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی؟ کیونکہ اس دورمیں بزرگو ں کو سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اس لیئے کہ وہ مرتے دم تک با اختیار رہتے تھے اور سب کو بزرگوں کی بات ماننا پڑتی تھی اس کی وجہ اس وقت کا معاشرتی نظام تھا۔ جبکہ آج کا دور مختلف ہے آج کے بزرگو ں کو ہر وقت سمجھوتہ کرنے کے لئے نئی نسل سے تیار رہنا چاہیئے ورنہ بات نہیں بنے گی؟ کیوں؟ اس کے لئے میں اکثر آج کے بزرگو ں کے سامنے میر تقی کا یہ شعر بیان کرتا ہو ں کہ ع میر صاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھو ں سے تھامئے دستار؟ البتہ میرا مشورہ یہ ہے کہ مذہب کا سلسلہ نئی نسل میں بچپن سے جاری رکھا جا ئے؟ اس لیئے َ کہ اسی پر ہرایک کے حقوق کا دارومدار ہے ورنہ معاشرے سے اچھے اور برے کی تمیز اٹھ جا ئے گی؟ والدین کے اپنے مستقبل دار مدار بھی اسی پر ہے کہ بچے کتنے مذہبی ہیں؟ وہ اللہ اور رسولﷺاللہ کو کتنا مانتے ہیں؟ قدیم تاریخ میں دو مثالیں ایسی موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنی اولاد کے لئے ہدایات چھوڑیں اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اتنی پسند آئیں کہ اس نے قرآن میں شامل کردیں؟ ان میں سے ایک حضرت یعقوب علیہ اسلام ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کواپنی ہدایات سے نوازا تھا جوکہ پیغمبرؑ تھے۔دوسری نصیحت حضرت لقمان ؒنے اپنی اولاد کوکی تھی جو کہ دانشور تھے۔ اب یہ دونوں قسمیں نا یاب ہیں کہ نبوت ؑ پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے کہ اب کوئی آئندہ حضور ﷺ کے بعدنبیؑ نہیں آئے گا۔ اور نہ جانے کیوں اس نے دانشور پیدا کرنے بھی بند کردیئے؟ نبوت ؑ کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ آج کعبہ میں جو اذان دی جاتی ہے پوری دنیا میں سنی جاتی ہے؟ لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اب ہر قریہ میں نبیؑ بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی اور یہ کام اس امت کے سپرد کردیا کہ تبلیغ بھی ہم ہی کریں اور حضور ﷺ کو قیامت تک کے لئیے نبی آخرالزماں ﷺ بنا دیا اور قرآن میں فرمادیا کہ تمہارے نبی ﷺ کی زندگی میں بہتریں نمونہ موجود ہے اور حضور ﷺ نے تمام اسلامی قوانین اور نبیوں ؑکے بر عکس عمل کر کے بھی دکھا دیئے۔ دونوں کی باتیں چونکہ حضرت یعقوب علیہ اسلام اور حضرت لقمان (رح) کی باتیں اللہ پسند آئیں اور اس نے شامل ِ قر آن کردیا لہذا اس کا اتباع اور اعادہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ مگر میری ایک شرط ہے کہ وہاں میری کوئی تعریف نہیں ہوگی اور نہ میری کوئی تعریف کرے گا؟ صرف تعریف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی جو کہ بندو ں کو تو فیق عطا فرماتا ہے سورہ ہود کی آیت نمبر 88 میں” وما توفیقی اللہ باللہ کی تفسیر ” پڑھ لیجئے پوری بات سمجھ میں آجا ئےگی۔ پھر جس سے جو وہ کام لینا چاہتا ہے اسکو وہ صلاحتیں بھی عطا فرماتا ہے؟ تب کہیں جاکر بندہ کچھ کرنے کے قابل ہوتاہے۔ لہذااگر کسی کو کچھ حاصل ہوگیا ہے تو اس میں اس کا کمال کیاہے۔ تعریف صرف اس کی ہونا چاہیئے جو کہ صاحب ِ کمال ہے؟ اس نے کسی کو اچھی ماں اچھا باپ عطا فر ماد یا، والدین کو اچھے بچے عطا فرما دیئے اوراچھا حلقہ احباب عطافرمادیا ہر طرح وہی قابل ِ حمد و ثنا وہی ہے نہ کہ انسان جو اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں چل سکتا توہ کسی اور کو اس کا کریڈت دیکر بندہ شرک خفی کا مرتکب کیوں ہو؟ لہذا پہلے ایک میٹنگ آپس میں کرلو اور اس میں میری شرائط پر سب راضی ہوں تو فبہا کہ اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے کہ تم ایک متروک سنت کو پھر جاری کرنے والے بنوگے جس کا اسلا م میں بہت بڑا ثواب ہے؟ چونکہ ایک بھلائی رائج کرنے کا باعث ہوگے لہذا تمہارا جو بھی اتباع کر ے گا قیامت تک اسکے اس فعل کے ثواب کے مستحق ہوگے؟ اس پرمیں اللہ کا شکر ادا کرونگا جس نے مجھے تم جیسے سعادتمند بچے عطا فرما ئے؟کہنے لگیں تب تو ہم سب بہن بھائی ملکر آپ کی نوے سالہ سالگرہ منا ئیں کیونکہ ایسے مواقعے بار بار نہیں آتے لہذا دھوم دھام منا ئیں گے اور آپ کو شکایت کا موقعہ بھی نہیں دیں گے؟ کیونکہ آپ کی انفرادیت یہ ہے کہ آپ کا ہر آرٹیکل قر آن اور سنتوں کے حوالوں سے بھر ا ہوتا ہے اور ہماری تقریب آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرے گی؟ ہم نے کہا پھر اس میں کوئی مضا ئقہ نہیں ہے۔ اور انہوں نے ایک ہال بک کرا ڈالا؟ جبکہ ہم تو ایسے موقعوں کی تاک میں رہتے ہمیں کہیں پیغا م پہنچانے کا موقعہ ملے اور ہم قوم کو پھر پٹری پر واپس لا سکیں اور سراط ِ مستقیم جو کہ نبی ﷺ کا راستہ ہے اور انہوں نے اس پر چل کر بھی دکھا یا ہے اور اس کے حق میں یہ فرمایا ہے کہ “صرف میرا راستہ سراط ِ مستقیم اور سیدھا ہے جبکہ اور جتنے راستے ہیں ان میں بہت دروازے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ان میں سے کسی پر سے پردہ اٹھا کر جھانکنا بھی نہیں ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے “ پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسے یہاں تک پسند فرمادیا کہ آپ ﷺ کا اتباع میرا اتباع ہے اور یہ بھی قر آن میں فرمایا کہ امت کے لیئے تمہارے نبیﷺکے اسوہ حسنہﷺ میں بہتریں نمونہ ہے۔
جس کیلئے میں نے اپنی زندگی وقف کررکھی ہے۔ یہاں آنے کے بعد تیس سال سے میں نے حضور ﷺ کے حسنہ ﷺ کی ترویج اور اشاعت کے لیئےاپنی زندگی وقف کر رکھی یہ میرے بچوں کو بھی معلوم تھا کہ میرا اللہ تعالیٰ سے عہد یہ تھا کہ جب میں اپنے فرائض سے فارغ ہوجا ؤنگا توصرف خدمت خلق اور خدمت ِاسلام کرونگا لہذا میری بیوی جو پینسٹھ سال میرا ساتھ بہت اچھی طرح نباہ کر پانچ سال پہلے اللہ کو پیاری ہوچکی ہیں اور مجھے اپنے بچوں کا آج تک پوراتعاون حاصل ہے وہ میرے مشن میں میرا ساتھ دیتے رہے ہیں؟ اس کے لئیے میں شکر گزار ہوں اس کاجس کا شکر گزار ہونا چاہیئے؟کیونکہ فرد ہو قوم ہو جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں؟ سب مرہون منت ہیں اللہ سبحا نہ تعالیٰ کہ سب سے اول تو وہ جسے توفیق دیتا ہے تو وہ کسی کام کے لیئے کھڑا ہوتا ہے اگر وہ تو فیق ہی نہ دے تو کوئی شخص کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ ایک کہاوت مشہور کے اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑسکتا ۔ پھر لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔ اس طرح لوگ شامل ہوتے رہتے ہیں اور قافلہ بنتا رہتا ہے؟ یہ ہی میرے ساتھ بھی ہو اگر میں اپنے ساتھیو ں کی فہرست پیش کرو ں تو وہ بہت بڑی تعداد ہے اور ان سب شکر گزار ہوں۔ اللہ نے ان کے دل میں میرے لیئےمحبت ڈالی اور وہ جس پیشے سےوابسطہ تھے انہوں نے اپنی بہتریں صلا حییتوں سے میرا ہاتھ بٹایا۔ جس کے نتیجہ میں حالات حاضرہ پر اور سیرت پر پانچ چھ ہزار کالم میں لکھ سکا۔ حضور ﷺکی سیرت “روشنی ہرا سے “کے نام سے، خلفائے راشدین کی سیرت۔ حضرت امام حسن ؑ اور حسین کی سیرت۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی سیرت کل تئیس کتابیں۔ اور ڈھائی سو ویڈیو یو میں سے ٹیوب پر 137 سیرت مبارکہ پر حضور ﷺ عاشقین کے لئیے موجود ہیں جبکہ دوسرے میری ہی دوسرے بہت سے مو ضوعات پر موجود ہیں۔ کئی ویو سائڈ ہیں فیس بک ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب تک میں انشااللہ زندہ ہوں یہ سب جاری رہیں گے اور میرے بعد بھی میری اولاد اور احباب اسے جاری رکھیں۔ رہی نصیحت اس کے حضور ﷺکا اسوہ حسنہ کافی ہے پڑھیں اور اس پرعمل کریں؟ اگر حضور ﷺ کی دو ہی احادیث مضبوطی سے پکڑلیں کہ “ جھوٹ مت بولو اور جو اپنے چاہو وہ اپنے بھائی کے لیئے چاہو۔ تو کافی ہے۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

جو خواب بھی دیکھے سدا تعبیر سے محروم رہے ہیں

یہ میری اور میرے ساتھ میری قوم کی نوے سال کی کہانی ہے جس کا میں چشم دید گواہ ہوں اور جس کو اس ایک شعر میں پرو کر بطور عنوان اس کو میں نے اپنے قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے جسے مفصل بیان کرنے کے لیے صدیاں چاہیئے ہیں؟ جبکہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن کی سورہ نمبر 8آیت نمبر 26 میں بتلا چکا ہے کہ تم پہ ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ(بظاہر معلوم ہوتا تھا)کہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹادیا جا ئیگا۔ کیونکہ پورا کا پورا عرب تمہار ے خلاف ہوگیا تھاہر ایک خون کا پیاسا ہو رہا تھا۔ لو گ انتظار میں بیٹھے تھے کہ تمہیں دبوچ لیں،نوچ اور کھسوٹ ڈالیں؟ اس آیت میں یہ پہلی افتادتھی جو کہ مسلمانوں پر پڑی تھی کہ دس ہزار فوج جس میں عرب کا ہر قبیلہ شامل تھا اور دوسری طرف مدینہ منورہ کے چند ہزار مسلمان جوکہ غیر مسلح، غیر فوجی تر بیت یافتہ ہوتے ہوئے بھو کے ایک مہینہ تک مدینہ میں محصور رہے اور فاتح ہو ئے؟ حضور ﷺ نے اسی غزو ہ میں خندق کی کھدائی کےدوران قیصر و کسریٰ پر غلبے کی پیشگوئی اور یقین دھانی کرائی اور یہ بھی کہ اس جنگ کے بعد کفار تم پر کبھی حملہ آور نہیں ہونگے، بلکہ تم ان پر حملہ آور ہو گے؟ یہ سنکر اس وقت کفار اور منافقین بہت ہنسے، جیسے کہ انہیں ایک لطیفہ ہاتھ لگ گیا ہو، لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ اس کے بعد ایسا ہی ہوا؟ کیا یہ اسلام، قرآن اور محمد ﷺ کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ غیر منظم صحرائی لوگ ایک ہزار سال سے زیادہ دنیا پر حکمرانی کریں گے؟ لیکن جب اللہ سبحانہ کسی قوم یا فرد کے ساتھ ہو تو ہر بات ممکن ہے۔ کیا نہیں ہوسکتا تھا ویسا ہی ہوا؟ ور اللہ نے دنیا کو کرکے دکھانا تھا کہ کسی کو کمزور مت سمجھو یہ مت سمجھو کہ ہم اس کو پلٹا نہیں سکتے ہیں؟کیونکہ عزت اورذلت ہمارے ہاتھ ہے ،جب ہم کچھ کرنے پر آئیں تو ہمیں صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور سب کچھ خود بخودہوتا چلا جاتا ہے۔ بشرط ِ کہ جدو جہد کرنے والے بندے ہمارے فرمانبردار بھی ہوں؟ایسے نہ ہوں کہ ہماری وفاداری کے ساتھ ساتھ دوسروں کی یاری بھی جاری رکھیں اس صورت حال میں ہم بھی پھر وہی برتا ؤ کرتے ہیں جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں اور شیطان ان کے اعمال ان کی نگاہ میں بڑھا چڑھا کردکھاتا ہے اور پیٹ ٹھونکتا ہے۔ کہ دونوں کے ساتھ تمہارا میل جول جو رہے گا تو وہ بھی خوش رہیں گے اور تم بھی خوش رہو گے اور اللہ بھی خوش رہے گا ؟مگر ایسا کبھی ہوا نہیں، ہمیشہ اسوقت جب بھی ایسا رویہ مسلمانوں نے اختیار کیا مسلمانوں کو ذلت ناک شکست ہوئی۔ وہ دنیا کے سامنے سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہے؟ جس سے تاریخ بھری پڑی ہے یہ تھی ایک ابتدائی مثال جو میں پیش جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ساتھ تھا۔اب میں اپنے سامنے گزرنے والی بات میں آخری مثال پیش کر کے بات کوختم کر تا ہوں میں نے یا دیکھا؟کہ جب بھی وہ یہ بھولے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ جو بھی میرا بندہ ہے وہ صرف میرا ہی ہوکر رہے؟کسی کو میرا شریک نہ سمجھے اس سلسلہ میں ا سورہ النحل میں بہت سی مثالیں دیکر فرمایا ہے کہ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا ملازم تمہاری برابرابری کرے،جب کہ تم اپنے لیئے یہ بات پسند نہیں کرتے تو میرے لیئے ایسا کیوں سوچتے ہو کہ میں ایسا ہوتے ہوئے دیکھ کر خوش ہونگا۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ اس پر ایک ظلم یہ بھی جس سے کہ پوری دنیا کانپ اٹھتی ہے کہ میری اولاد بنا دیتے ہو، بھلا مجھے اولاد کی ضرورت کیا ہے پھر اولاد بھی لڑکیا ں؟میرے لئیے اور لڑکے اپنے لیئے، کچھ تو سوچو کہ کر کیا رہے ہو؟ پھر ہر بات میں ریاکاری ہے۔ جس سے مجھے سخت نفرت ہے جس کام کا میرے پاس کوئی صلہ نہیں ہے۔ میں دکھا وے کی کوئی عبادت نہ پسند کر تا ہوں نہ قبول کرتا ہوں؟ پھر کیاہوا کہ ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ ہمارے اجداد نے ہر محاذ پر مار کھائی اور دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کی کوئی طاقتور حکومت باقی نہیں رہی؟مسلمان دن ورات توبہ کر نے لگے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑانے لگے کہ اے مالک!ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تو ہمیں کوئی چھوٹی سی حکومت عطا فرما دے تو ہم وہاں تیرا دین نافذ کر یں اور تیرا نام بلند کریں؟ ہمارے دیکھتے دیکھتے اس نے پھر رحم فرمایا ایک نہیں 57 ممالک مسلمانوں کو عطا فر مادیئے ان میں دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور فوج اور جوہری قوت کا حامل ملک عطا فرمادیا جس کا نام پاکستان ہے۔ لیکن مسلمانوں نے پھر وہی کرنا شروع کردیا؟ جبکہ وہ قرآن میں فرما چکا ہےکہ میں اپنی سنت (طریقہ کار) تبدیل نہیں کرتا؟ سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا جواب وہی ہے جوکہ پہلے اس نے کیا تھا؟اب آپ سوال کریں گے اس کا حل کیا ہے۔ جواب بھی وہی ہے جوکہ اس نے اپنے آئین میں لکھدیا ہے کہ توبہ کر کے میرے سامنے آؤگے! تو چاہیں پہاڑ کے برابر گناہ کیوں نہ ہوں میں معاف کردونگا؟ مگر شرط یہ ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ تم نے ظلم کیا ہے جس طرح سے بھی ہوسکے ان کے ساتھ پہلے اپنا معاملہ صاف کر کے آؤ جبھی توبہ قبول ہو گی ورنہ نہیں، بقول غالب ایسا نہیں چلے گا“ رات کو مہ پی صبح کو کرلی توبہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی؟ جوکہ ہمارا آجکل روزانہ کا معمول ہے؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

ہم سورہ العصر پر آج یہ تیسرا کالم لکھ رہے تھے۔۔ شمس جیلانی

اب یہ آنے والی نسلوں کا کام کے ہے کہ اس پر مزید کام کریں؟اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمارے درمیان اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں جو سورہ فاتحہ کی تفسیر اتنی بڑی کرسکیں کہ وہ اسی اونٹوں پر لادی جا سکے نہ ہی کوئی اتنا بڑا ہم میں دعویٰ کرنے والا اسکالر حضرت علی کرم اللہ جیسا موجود ہے جو کہے کہ مجھ جیسا کو ئی عالم اس طرف قرآن کاموجود ہے مگر کوئی زحمت نہیں کرتا کہ وہ میرے پاس آکر علم حاصل کرے؟اس کی جگہ میں ؓ ہوتا تو میں درمیان حائل سمندر بھی ہوتا تو اسے پار کرکے جاتا اور علم حاصل کرتا اور اسے پھیلاتا؟۔ البتہ حضرت امام شافعی ؒ کایہ فرمان ابھی تک باقی ہے کہ اگر اللہ صرف یہ ہی ایک سورت نازل فرمادیتا تو کافی تھی اور ہم اگر اس کو غور اور فکرسے پڑھتے تو یہ ہی صورت ہمارے سب کے لئے کافی تھی۔اس سورہ میں حق کی وصیت کرنے اور صبر کی بھی بڑی تلقین ہے؟ جس میں ہم اب بھی بہت پیچھے ہیں؟ اورسب نئی نسل سے امیدیں وابستہ کئیے بیٹھے ہیں کہ دیکھیں وہ کیا کرتی ہے۔ جس کی ہمارے اجداد تو پیش گوئی کر ہی گئے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت سی جگہ یہ فرماکر بھی پشین گوئی کی ہے کہ ہم نے تمہاری سہولت کے لئیے یہ ایجاد کیا اور وہ ایجاد کیا اور ابھی بہت کچھ نئی چیزیں ایجاد ہونا ہیں جو تم نہیں جانتے؟ یا ان کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جو تم نہیں جانتے؟ ان کی دریافت جبھی ممکن ہے کہ نئی نسل فرقے واریت سے باہر نکل کر حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر واپس جا ئے اور وہ اس پر دل لگاکر انتھک کام کرے اور اللہ مہربان ہوکر خود ایسا راستہ نئی نسل کو دکھا دے جس کی ضرورت ہے؟ وہ اگر اس سے آئن اسٹین جیسے منکرکی رہنمائی کر سکتا ہے تو وہ دوسروں کی بھی کرسکتا ہے بشرط ِ کہ کوئی محنت اور غو ر کرنے والا ہو؟ مثلا ً اسی سورۃ میں صبر پر بہت زور دیا گیا ہے جس کے معنی عربی میں اپنی جگہ وہی ہیں جو اس قادرالکلام نے اپنے نبی ﷺ کو عطا فرما ئے تھے۔ لیکن جب ہم اس کا اردو میں ترجمہ کرتے ہیں توہم خود بے صبر ی کی عادت ہونے کی بنا پر بے صبری کا مظاہرہ کر جاتے ہیں، کام بنے توکیسے بنے اگر تھوڑی سی تلاش کی جا ئے تو انگریزی میں اس کے متبادل ٹالرینس ہے؟چونکہ حضور ﷺ نے ان میں سے ہر ایک پر عمل کر کے دکھایا ہے؟ جس سے ہم اگر تھوڑا سا بھی واقف ہوتے تو اسے ہم انتہائی قوت ِ برداشت بھی کہہ سکتے ہیں جو انہوں ﷺنے اپنی مکی زندگی میں اسے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا اور ایکبار نہیں بار بار ثابت فرمایا؟ کہ اپنے ساتھی شہید ہوتے رہے چونکہ قتال کا حکم نہیں تھا لہذا انہوﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قتل ہوتے ہوئے ملاحظہ فر ماتے برداشت فرمایااور ان کو صبر کی تلقین فرماتے رہے جب تک کہ قتال کا حکم نہیں آگیا؟ جو اللہ اپنے منکروں پر اتنا مہربان ہے جیسا کہ میں نے آئین اسٹین بارے میں بتا یا!کہ اگر ہم توبہ کر کے اس کی راہ میں کوشش کرنا شروع کر دیں تو کامیابی غیر ممکن نہیں؟ بقول علامہ ؒ اقبال کے تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
ابھی یہ ایک مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک بہن نے ایک مسئلہ کالے جادو کا اور چھیڑ دیا۔ جس میں عاملوں اور کاملوں کی چاندی ہو گئی جسے دیکھئے ہر گھر میں کالا جادو چل رہا رہا ہے۔ اس امت کوکیا ہوگیا ہے۔ کہ جس کی اخوت کی مثال تمام دنیا میں پیش کی جاتی تھی؟ اب یہ عالم ہے کہ میاں بیوی میں لڑائی ہے۔ ساس اور بہو میں لڑا ئی ہے۔ دیور اور بھابھیوں میں لڑائی ہے۔ حالانکہ کہ ہمارے نبی ﷺ تو تمام دنیا کی تو خیر خواہی کے جوکہ مشہور اور جس طرف سے بھی گزر ہوا اس طر ف سے رحمتیں برساتے گزرتے تھے۔ انہوں نے مومین اور مومنات کو صرف ایک ہی تلقین فرما ئی تھی جو تم اپنے لیئے چاہو وہی اپنے بھائی کے لئے بھی چاہو؟ یہاں انہوںﷺ یہ نہیں فرمایا کہ اپنی ساس کو ماں کی طرح نہ چاہو؟ یا ساس بہو کو بیٹی کی طرح نہ چاہے۔ یا نند بھابھی کو بہن کی طرح نہ چاہے یا بھابھی نند کو بہن کی طرح کو نہ چاہے؟ یہ کالا پیلا جادو صرف ہم میں آپس عدل کی کمی ہونے کی وجہ سے آیا ہے۔ اس پہ توہم پرستی نے عاملوں کی پورے معاشرے پر دھاوا بولدیا ہے۔ اس طرح یہ ایک نیٹ ورک کی شکل اختیار کر گیا ہے جو ہر گھر میں ان کی ایجنٹ خواتین گھومتی پھر تی ہیں ان کا جو کمیشن بنتا ہے وہ کام کرتا ہے؟۔ ذرا حسد کی عینک اتار کے اپنے قریبی رشتہ داروں سے پیار کر کے تو دیکھو جن پر خرچ کرنے دہرا ثواب ہے۔ ایک خرچ کرنے کا اللہ کی راہ میں اور دوسرا اپنو ں پر خرچ کر نے کا؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

تبلیغ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔۔۔ شمس جیلانی

گزشتہ ہفتے ہم نے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا کہ مسلمان عمل کرنے میں اتنی دیر کر دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام کر نے کا وقت گزر جاتا ہے اور وہ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں؟ اس پر ہم نے سورہ العصر کا حوالہ دیاتھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمارے لئیے ترجیحات پہلے ہی طے کردی تھیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے اسی میں ایک کام یہ بھی بتایا تھا کہ علم ضرور حاصل کریں لیکن اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں؟ جتنا سیکھتے جائیں اسکو اس کو فوراً عوام میں پھیلا دیں اس سلسلہ میں ایک مشہور حد یث بھی ہے کہ“ ایک دن حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ وہ فلاح پاگیا“ صحابہ کرام(رض) نے پوچھا کہ حضور ﷺ کون؟ فرمایا جس نے علم حاصل کیا اور راہ اللہ میں تقسیم کیا، اللہ نے جس کومال دیا اس نے اس کی راہ میں خرچ کیا اور جس کواللہ سبحانہ تعالیٰ قناعت عطا فرمائی“ ایک حدیثمیں یہ تعداد چار بھی ہے کہ“ جس کو اللہنے غیب سے روزی عطا فرما ئی“ اور یہ تو حضورﷺ نے متعدد جگہ فرمایا اس کاانتظار مت کروکہ جب عالم اور فاضل بن جاو توتبلیغ شروع کرو، یہ سبق آخری بھی وقت دہرا یا حجۃالوداع کے موقہ پر کہ“ جو یہاں سن رہے ہیں وہ آگے پہنچادیں اور جو ان کے بعد آئیں وہ اپنے بعد آنے کو پہنچا دیں؟ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ صحابہ کرام اور اولیائے کرام جو کہ حضور ﷺ عترت پر زیادہ تر مشتعمل تھے وہ تمام دنیا میں پھیل گئے؟ یہ ہی سبق اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ والعصر میں مومنین کو عطا فر مایا کہ جو سیکھتے جاؤ اتنے پر ہی عامل ہوجاؤ اور آگے بھی بڑھا تے جاو، کیونکہ کسی انسان کو اپنی زندگی کا پتہ نہیں ہوتا؟ تاکہ جب پروردگا کے سامنے پہنچو توکہہ سکو کہ میں توآپ کے حکم پر کام کر رہا تھا آپ نے مجھے واپس بلا لیا؟ ممکن ہے کہ وہ رحیم اور کریم! فرشتوں سے فرما دے کہ جو اس کا معمول ہے وہی قیامت تک کے لئیے اس کے کھاتے لکھتے رہو کیونکہ یہ اگروہاں رہتا تو یہ ہی کرتا؟ یہ بات میرے ذہن اس لیئے کہ اس کی اس کی مثال موجود ہے کہ جو لوگ یہاں رہتے ہوئے جیسے معمولات اپنے رکھیں گے جب وہ عمر ارذل کو پہنچ جا ئیں گے توفرشتے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے پوچھیں گے کہ اب اس میں وہ صلاحیتیں نہیں رہیں کہ اپنے معمو لات جاری رکھ سکے ہم کیا کریں؟ تو وہ جواب میں فرمادے گاجو یہ اب تک کرتا رہا ہے وہی اس کے کھاتے میں لکھتے رہو؟ دوسری طرف یہ بھی اسوہ حسنہ ﷺ سے ثابت ہے جن لوگوں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بشمول ِ حضور ﷺ جنت بشارت دیدی توبجا ئے اس کے وہ عبادت بند کردیتے؟اور زیادہ تندہی سے عبادت کرنے لگے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف ہوچکے ہیں تو آپ اتنی مشقت کیوں برداشت فرما رہے ہیں کہ پیروں پرورم آجاتاہے؟ تو جواب تھا“ کیاتم یہ چاہتی ہو کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں! “یہ مکالمہ ہمیں سبق دے رہا ہے کہ نیک عمل نبوت ﷺ عدم موجودگی میں کسی بشارت پر چھوڑ دینا بہتر نہیں ہے بلکہ اور زیادہ تندہی سےکام شروع کردینا بہتر ہے؟ جو حضور ﷺ کاطر یقہ تھا جو صحابہ کرام اور صحابی÷اتؓ کا طریقہ تھا۔ کیونکہ اب ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کبھی کبھی شیطان آکر بہکا دیتا ہے کہ اب تو تمہارے گناہ معاف ہو گئے ہیں اور وہ ایسا کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں کہ حدیث شریف میں ہے کہ ساری نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا؟اسی حدیث میں آگے چل کر ارشادِ گرامیﷺ ہے کہ کچھ لوگ ساری زندگی نیکیاں کرتے رہتے ہیں مگر ان سے آخری وقت میں ایسی کوئی غلطی ہوجاتی ہے کہ سب نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں اور اس کے بر عکس کچھ لوگ ساری عمر برائی میں گزار دیتے ہیں اور مرتے دم کوئی ایسا کام کر جاتے ہیں کے جنت کے حقدار ہوجا تے ہیں؟ہمارے یہاں رواج ہے کہ اچھے کام لوگ یہ کہہ کر روکد یتے ہیں کہ میاں یہ ملائیت نہیں چلے گی ساری دنیا تمہا ری دشمن ہو جا ئے گی؟ یاد رکھیں یہ سب شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے بہکاوے ہیں کیونکہ کسی کو جب تک کوئی برائی نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نہ چاہے اللہ تعالیٰ ان سب پر نگراں ہے جو اس کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ سورہ الحجر کی آیت 94 سے لیکر ۹۹ تک کا سبق بھی بھول جاتے ہیں انہیں وہاں جاکر ان کی تفسیر پڑھ لینا چا ہیئے۔ جس میں اس کی راہ میں کام کرنے والوں کو پتہ چل جا ئے گا اور تقویت حاصل ہوگی کہ کس کس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کو سزا ئیں دیں جو حضورﷺ کو ستاتے تھے؟ اور کچھ وہاں کے لئیے بھی اٹھا کے رکھی ہوئی ہیں؟ اس پر بھی کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو نبیوں سردارﷺ تھے؟ ان کا مقابلہ ہم کیسے کرسکتے ہیں؟ ایک محاورہ ہے کہ نہ کرنے والے کو سوبہانے ؟ کیونکہ راہ راست پر چلنے والوں کی حفاظت کا بیڑا اللہ سبحانہ تعالیٰ نےاٹھایا ہواہے ان کی حفاظت کی گارنٹی دی ہوئی ہے کہ“ میں انہیں دیکھ لونگا یہ میرے اوپر چھوڑدو جو آپ ﷺ پر ہنستے ہیں یاآپﷺ کے ساتھیوں پر ہنستے ہیں؟ اور یہ تاکیدی حکم بھی امت کو ہے کہ انکاﷺا اتباع میرا اتباع ہے۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

دروو شریف کی فضیلت۔۔۔ شمس جیلانی

ماری ایک بہت ہی عزیز بہن نے جو اکثر ہمارے کالم پڑھتی رہتی ہیں نے فرمائش کی ہے کہ ہم مختلف عنوانات پر تولکھتے رہتے ہیں مگر ابھی تک ہم نے درود شریف کی فضیلت کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لہذا اس پر کچھ ضرور لکھیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم اور ہمارے تمام قارئین یہ بھول چکے ہیں کہ ہم کبھی روز مرہ کے حالات حاضرہ پر سیاسی کالم لکھا کرتے تھے؟مگر بہت عرصہ ہوا کہ جب سے ہمیں یہ احساس ہوا کہ مسلمان یہ بھولتے جارہے ہیں کہ دنیا میں ہمارا ہر فعل اسلام کے تابع ہونا چاہیئے تھا جواب نہیں ہے تو ہم نے بھی مجبوراً اس کو روز مرہ کے کالموں میں جگہ دینا شروع کردی ہے کہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کویہ بتائیں کہ اس صورت حال میں اسلام ہم کو کیا حکم دیتا جب کوئی برائی سے روکنے والا نہ ہو؟۔ اس کے بعد سے قارئین کی رائے بدل گئی اور سب یہ سمجھنے لگے کہ ہم مذہبی کالم نگار ہیں اور ہم مذہبی کالم لکھنے پر مامور ہیں، چونکہ عالمی اخبار میں ہم مذہبی امور کے مدیر بھی ہیں۔ چلیں یہ بھی سہی؟
تو بہن عرض یہ ہے کہ جہاں بہت سے چیزیں اور امتیوں کے مقابلے میں ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں بطور امتِ وسطہ اور ہما رے نبیﷺ کو بطورِ نبی ِ آخر الزماں ﷺ عطا فرما ئیں ان ہی میں سے ا یک یہ بھی عطیہ خداوندی ہے جو کہ حضور ﷺ کو سورہ الاحزاب کی آیت کے ذریعہ عطا فرمایا گیا کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے “اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتہ اس نبی ﷺ پردرود شریف بھیجتے ہیں لہذا تم ان پر درود بھیجو اور خوب اچھی طرح سلام بھیجو؟ ؟ سورہ الاحزاب آیت نمبر(56) اس آیت کے نزول کے بعد ہر ا یک نے اپنے طور پر اس کی طاویل اور تفسیر کرنا چاہی؟ مگر بات چونکہ نئی تھی اس سے پہلے کسی بھی نبی پر دور وسلام نہیں اتری تھی اس لیئے زیادہ تر صحابہ کرام ؒ اس سے واقف نہ تھے؟ اس لیئے سب اپنے اپنے ذہن میں پیدا شدہ مختلف سوالات لیکر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔ ان میں سے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابیؓ بھی شامل تھے؟ وہ وہ واحد صحابی تھے جو اس سے پہلے سے بھی واقف تھے؟ جو ان اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ “ میں آپ ﷺ پرسب سے زیادہ درود شریف پڑھتا ہوں وہ دن میں کتنا پڑھنا کافی ہوگا جو کہ ان کے ارشادات کے مطابق وہ دن کا ایک چوتھیائی حصہ تھا؟ انہوں نے معلوم کیا کہ اس میں اور کتنا اضافہ کرو ں جو میرے لیئے کافی ہو جا ئے؟ ان کے ہر سوال پر حضورﷺ وقت بڑھاتے چلے گئے اور یہاں جاکر بات ختم ہوئی کہ پھر میں اپنا پورا وقت درورد شریف پڑھتے پر صرف کروں تو بہتر ہے لوگ میرے اس اندازے پر مجھ سے سوال کرسکتے ہیں کہ آپ نے یہ اندازہ اتنے یقینی طور پر کیسے قائم کرلیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ اگر اپنے صحابہ ؓ کی کرامات سے واقف تھے تو ہمارے حضور ﷺ تو ان سے کہیں زیادہ صاحب ِ مرتبہ تھے جبکہ اس پر میں اپنے ایک کالم میں پچھلے دنو ں کالم لکھ کر ثابت بھی کر چکا ہوں کہ بہت سے صحابہ کرامؓ سے اکثر کرامات سرزد ہوتی رہی ہیں ؟چونکہ کلیہ یہ ہے کہ آفتاب کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ حضور ﷺ کے دور میں صحابہ کرامؓ کے ساتھ بھی تھا ۔ لہذا جب انہوں نے پوچھا کہ پھر زیادہ بہتر یہ ہی ہے کہ سارا وقت میں درود خوانی پر خرچ کردوں تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ پھر اللہ تعالیٰ تجھے تمام وہم اور غم سے بچا لے گا(یہ ترمذی کی حدیث نمبر 904 السلسلہ الصحیہ میں ہے) اور اللہ تیرے تمام گناہ معاف کردیگا؟ انہوں ﷺ نے اس دن تمام اور بھی صحابہ ؓ کو جوابات عطافر مائے ؟ جو اتنے سوالات اور جوابات پر مشتمل تھے کہ لوگو ں نے کتابیں بھر دی ہیں اسی طرح اس سلسلہ میں اختلافات بھی بے انتہا سامنےآئے۔ آپ چونکہ خاتون ہیں امور خانہ د اری بھی انجام دینے ہوتے ہیں؟ آپ اپنی وسعت کے مطابق جتنا وقت درورد خوانی کے لیئے نکا ل سکیں اتنا ہی صرف فرما ئیں؟ کیونکہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے؟ اور تمام خواتین کے لئیے شروع سے آسانیا ں رکھی گئی آپ کی بیعیت بھی مردوں سے الگ تھی چونکہ آپ اپنے معاملات میں کبھی خود مختار بھی نہیں رہیں جوکہ اس سے ظاہر ہے کے حضوﷺ کو آخری وقت تک خطرہ تھا کہ آپ کی صنف ساتھ انصاف ہوگا اسی وجہ سے خطبہ وداع میں حضور ﷺ نےآپ کی صنف کو لونڈیوں اور غلاموں کوکمزور قرار دیا اور اپنے بعد خیال رکھنے کا حکم بھی فرمایا تھا۔ لہذا آپ اسی پر اکتفا کریں توبہتر ہے کیونکہ اللہ کے سواکسی کو بھی کسی کی وسعت کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف بھی نہیں دیتا تاوقتیکہ وہ اپنے اوپر خودمسلط کرلے؟۔ البتہ آپ کو پڑھنے کو شوق ہے تویہ میدان بہت بڑا ہے لوگوں نے اس پر کتابوں کی کتا بیں لکھی ہیں۔ جتنی چا ہیں پڑھ سکتی ہیں؟ مجھ جیسے کم علم کو اکثر تفسیر اطمینان قلب کے لیئے ابن ِکثیر ؒ کے یہاں کافی مواد مل جاتا وہاں جا کر دیکھ لیجئے۔ انہوں اس آیت کی تفسیر میں صرف14 صفحات تحریر کیئے ہیں جوکہ میرے خیالمیں ایک عام مسلمان کی معلومات کے لیئے بہت کافی ہیں۔

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

بہتر ہے کہ سوچیں کم عمل زیادہ کریں؟۔۔۔؟شمس جیلانی

کل میں نے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر یہ خبر سنی کہ پہلے صدر ِ مملکت نے اور اب اس کے بعد وزیر ِ خارجہ صاحب نے اس مسئلہ پر کہ پاکستانی طالبان کو معاف کیا جائے یا نہ کیا جائے یہ کہہ کربات کی ہے کہ افغانی طالبان کی اس خواہش پر بھی بات کی جاسکتی ہے یہ حالت ہے اس ملک کی ہ جہاں حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جس کے بانی قائد اعظم محمد علی ؒ جناح نے شیخ الا سلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ سے اس وقت بڑے فخر سے کہا تھا جبکہ کانگریس کی دیکھا دیکھی انہوں نےقائد اعظم کے پاس آکر فرمایا تھا کہ کانگریس نے تو بھارت کے لئے اپنی دستور ساز کمیٹی بنا دی ہے کیوں نہ ہم بھی اپنے لئیے بنا لیں؟ تاکہ جب پاکستان بنے تو اس کا دستور بھی تیار ملے۔ قائد اعظمؒ کا جواب تھا کہ مولانا ان کے پاس تو دستور ہے نہیں اس لیئے وہ بنا رہے ہیں لیکن ہمارے پاس قرآن کی شکل میں بنا بنا یا دستور موجود ہے ہمیں بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور انہوں نے دستور کو پاکستان بننے کے بعد اتنی اہمیت دی کے اپنی صحت خراب ہونے کے باوجود گورنر جنرل بنتے ہی دستور ساز اسمبلی فوراً تشکیل دیکر جوکہ اراکین پارلیمان پر مشتمل تھی اس کی صدارت بھی اپنے پاس رکھی اور پارلیمان کوہی دستور ساز اسمبلی کانام دیدیا۔ لیکن ان کی عمر نے وفا نہ کی اور ان کے سعادت مند شاگردوں نے انہیں بلوچستان کے ایک انتہا ئی صحت افزا ء مقام تربت ریسٹ میں بھیجدیا تاکہ وہاں نہ ان تک کوئی خبر پہنچے اور نہ ہی کو بندہ ان کے پاس پہنچے۔کیونکہ اسوقت کا پاکستان آج جیساپاکستان نہیں تھا تربت تک پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ کہ نہ تو فوج کے پاس اتنے ہوائی جہاز تھے کہ سواری کے کام آئیں؟ نہ سرکاری ہوائی جہاز تھے اور نہ ہی پرائیویٹ تھے۔ نہ ہی اتنی ایر لائنیں تھیں، لے دے کے اگر کچھ تھا تو اورینٹ ایر ویز تھی جو اصفہانی والوں کی ملکیت تھی اور بہت پرانے چند ہوائی جہاز وں سے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا ان دنوں ابتدائی رابطہ قائم رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ صرف ایک ملٹری ڈاکر کرنل الٰہی بخش صاحب ان کی نگرانی پر معمور تھے جبکہ اس وقت دور دور کوئی ہسپتال نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ان کی حالت بگڑی تو وہاں سے کراچی لانے کی کوشش کی گئی کہیں سے ایک ہوا ئی جہاز فراہم کیا گیا۔ کراچی کے فوجی ہوائی اڈے ماری پور پر اس کو اتار ا گیا۔ جبکہ اس وقت کےوزیر اعظم لیاقت علی خان تو کیا کوئی ان کی کابینہ وزیر بھی قائد اعظم کے استقبال کے لئیے ہوا ئی اڈے پر موجود نہ تھا؟جو ایمبولینس انہیں لے کر آرہی تھی وہ اتنی بزرگ تھی کہ جناح اسپتال پہنچا نے کے بجائے اس کاراستے میں ٹائر پھٹ گیا اور اسی حالت میں قائد اعظم ؒ اسی جگہ ڈیرھ گھنٹے منتظر رہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس وقت کابینہ کیا سوچتی رہی اور کوئی ایکش فوراً کیوں نہیں لیا؟ یہ تھی پاکستان کی پہلی ناکامی سوچنے کی وجہ سے جس نے قائد اعظم ِکی جان لیلی اس کے بعد سے ناکامیوں کی ایک طویل فہرست ہے جو سوچنے میں ہی گزرگئی؟ جبکہ اس وقت قومی رہنما بجا ئے سوچنے کے اگر ایکشن لے لیتے تو آج اس ملک کے حالات کچھ اور ہوتے لیکن انہوں نے ہمیشہ سوچنے پر وقت ضائع کیا ایکشن لینے پر نہیں خرچ کیا؟ اگر میں اس کی تفصیل بتا ؤ ں جو کہ میرے علم میں ہے تو ایک ضخیم تاریخی کتاب تیار ہو جا ئے گی۔ اگر عوام چاہیں تو میں ان کی خاطرپاکستان کے بننے سےلیکر دو تکڑے ہونے تک کی تاریخ بتا سکتا ہوں۔ یہ سب کچھ میں آج اس لیئے دہرارہا ہو ں کہ اس مرتبہ اہلِ اقتدار پھر ایک مسئلہ پر سوچ رہے ہیں اور وہ ہے پاکستانی طالبان کا مسئلہ؟ جبکہ یہ ایکشن لینے کا وقت ہے سوچنے کا نہیں؟ کیونکہ اس سلسلہ میں کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے ان کے پاس کہ انہیں واپس لیں اور پاکستان کو بین الاقوامی قوانین تحت واپس ہر حالت میں لینا پڑا کیونکہ وہ پاکستان کے شہری ہیں؟ اگر افغانستان کے طالبان کوئی سمجھوتے کی کوشش کر رہے ہیں تو کہیں بہتر ہے کہ ان کے ذریعہ سے مسئلہ کو حل کرلیں ورنہ یہ دوبارہ پاکستان کے لئیے درد سر بن جا ئیں گے۔ نہ پاکستان امن اور چین سے رہ سکے گا نہ افغانستان۔ اور چاندی ہو جا ئیگی انڈیا کی کہ ایک اچھی خاصی نفری کی ٹولیا ں مختلف سرداروں کی سرداری میں اس کو بہت ہی سستی قیمت پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے مل جا ئینگی؟ کیونکہ بھوکا مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ ایسا کرنے پر مجبور ہونگے؟ اور جو کچھ پہلے ہوا اور جو کچھ اب ہونے جا رہا ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے جوکہ دستور میں لکھا ہونے کے با وجود عملی طور بہ یک وقت بہت سوں کے پاس ہوتی ہے؟ اس لیئے کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نہیں ہے۔ ورنہ قرآن میں توقدم قدم پر معاف کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور اگر کوئی گھراؤ آنے سے پہلے توبہ کرلے تو آپ اس پر کوئی حد نہیں جاری کر سکتے ہیں یہ اللہ کا قانون ہے؟ اگر وہ بغیر گھیرے میں آئے ہتھیار ڈال رہے ہیں تو حکومت کو چاہیئے کہ انہیں بجا ئے بے یار و مدد گار چھوڑ نے کہ ان کی آبادکاری کی کوشش کرے تاکہ وہ کار آمد شہری بن کر اپنی زندگی گزار سکیں؟
میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں جو میں نے میٹرو پولیٹین کریکشن سنٹر س وینکور کی ایڈوائزیری کمیٹی کاممبر ہونے کی بناپر حاصل کیا ہے کہ کس طرح لوگ پہلی دفعہ جرائم میں پھنس جا تے ہیں اور جیلخانوں میں پہنچتے ہیں جنہیں کنیڈا میں کریکشن سنینٹر کہا جاتا ہے تو انہیں احساس ہو تا ہے کہ وہ کہاں آگئے؟ حالانکہ انہیں وہاں ہر آسائش میسر ہوتی ہے سوائے آزادی کے؟ تو اپنے ان اعترافات کو اپنے قلم سے لکھ کر جیل کی دیواروں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ اور یہاں سے ان کی سزائیں ان کی نیک کی چلنی بنا پر روزانہ کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اورجتنی جلدی وہ اپنے کردار کو درست کرلیتے ہیں اتنی ہی جلدی انہیں جیل سے چھٹکارا مل جاتا ہے؟ پاکستان کی طرح نہیں ہے کہ جو ایک دفعہ جیل پہنچ گیا عادی ملزم بن کر نکلتا ہے اور پھر روز بروز پکا ہوتا جا تا ہے۔ بعضے تو مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہوجا تے ہیں؟

شائع کردہ از Articles | تبصرہ کریں

(468 – 500) قطعات شمس جیلانی

468
جاری رہے تلاوت قرآن کی۔۔۔ شمس جیلانی

نہ اونچی ہے منزل چا ہیئےنہ طلب اونچے مکان کی
جو تیرے حکم کےمنتظر رہیں حاجت ہے ایسے کان کی
دل ایک ہی جانے کام فقط سمعنا و اطعنا اے شمس
بس کانوں میں گونجتی رہے تلاوت ہر دم قر آن کی

469
لشکرِ نبیﷺکا پہلا دستہ ہوں۔۔۔۔ شمس جیلانی

حضورﷺکے دامنِ پاک سے شمس واسطہ ہوں
دین میرا ہے اسلام جس سے پورا پیوستہ ہوں
مجھے نبیﷺ کا اک ادنیٰ سپاہی ہی سمجھو!
یعنی کہ نبیﷺ پاک کا میں ہر اول دستہ ہوں

470
نہ باپ نہ بھیا سب سے بھلا روپیہ۔۔۔ شمس

اللہ کو بھلا بیٹھے ہیں یہ اس کا سبب ہے
شمس ہرروز جو آجا ئے اس کا غضب ہے
غفلت بھی عجب ہے ہر بات عجبب ہے
نہ دیں کی خبر ہے نہ فکرِ مذ ہب ہے

471
شمس اللہ اللہ ہر گھڑی گنگنا چاہیئے

آنے کا مقصد جو ہے عقبیٰ بنانا چاہیئے
کام نا شائستہ کرے ہاتھ اس کے تھام لیں
کام اچھے جو کرے اس کو سراہنا چاہیئے
(شمس جیلانی)

472
وہ فلاح پاگیا ؟ شمس جیلانی

فلاح وہ پاگیا جس نے پاس رب کے حاصل ا علیٰ مقام کیا
نبی ﷺ کا اتباع کرکے نماز پیچھے پڑھی بارہا سلام کیا
بہت سے منکروں کو کردیا اپنے عمل سے دین پر مائل
راضی جو رب ہوا اس نے بلا کر کے کل جہاں کا امام کیا

473
حضور ﷺکی سیرت کی تکمیل پر۔۔۔ شمس جیلانی

کرے ہے وصف بیان جن ﷺ کاخود بصیر و خبیر
لکھے گا ان ﷺکی کیا سیرت کوئی بھی مجھ سا حقیر
لکھی تو میں نے ہے لیکن لکھائی کس نے ہے
کہاں یہ شمس سا عاجز کہا ں وہ کارِ َ کثیر

474
حضور ﷺکی سیرت کی تکمیل پر۔۔۔ شمس جیلانی

کرے ہے وصف بیان جن ﷺ کاخود بصیر و خبیر
لکھے گا ان ﷺکی کیا سیرت کوئی بھی مجھ سا حقیر
لکھی تو میں نے ہے لیکن لکھائی کس نے ہے
کہاں یہ شمس سا عاجز کہا ں وہ کارِ َ کثیر

475
شمس نہ کا وشیں ہیں نہ ہی میرا کوئی کمال

ہیں تیری عنا یتیں یہ اچھےگزارے نوے سال
تو نہ نواز تا تو یہاں مجھے پوچھتا تھا کون
یا صاحب ِ کمال رب ِذوالجلال ، رب ِ ذوالجلال

476
جب ہوئے نوے کے؟ شمس جیلانی

جب ہوئے نوے کہ اس سے چند روز پہلے کچھ ایسی بیماری ہوگئی
تبدیل دو ٹانگو ں کے بجا ئے حاصل چار پیوں کی سواری ہوگئی
وہیل چیر کے محتاج ہم بھی ہوگئے بہت سوں کی طرح اے شمس
حاصل ہمیں پہلے ہی سے بیٹوں کے کاندھوں کی سواری ہوگئی

477
ثبوت ِ ربوبیت۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس زندگی بھر لا اللہ سکھایا ہے
اب کسی غیر میں آسرا نہیں ہوتا
رزق دینا ہے ربو بیت کا ثبوت
بندہ مرجاتا گر خدا نہیں ہوتا

478
نیا باب گزارشات۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس زندہ ہے ابھی اللہ سے کیا عہد و پیمان ابھی باقی ہےا
انشااللہ ء یہ جاری رہے گا کام جسم میں جان ابھی باقی ہے

479
نہ گھبراؤ۔۔۔ شمس جیلانی

نہ گھبرا ؤ ابھی تو ساتھیوں کرنا بہت سا کام باقی ہے
ابھی تو ہمیں لینا حشر کے میدان میں انعام باقی ہے

480
مکا فاتِ عمل۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس ہوکر کھڑے نماز ادا کی اکڑ گئے
اس کی ایک حد تھی جس سے گزر گئے
اتنے بڑھے ہم آگے کے تکبر کو جا چھوا
ہم کو پتہ چلا جب کہ تب پیر بھر گئے

481
نیاسال مبارک؟۔۔۔شمس جیلانی

شمسؔ آنے دو نیا سال نیا گل کھلا ئے گا
اک ظالم ہٹا کے دوسرا ظالم بٹھا ئے گا
جو اپنی حرکتیں ہیں رب غصے میں آئے گا
پہلے ہی جو خفا تھاکچھ اور روٹھ جا ئے گا

482
ناک ہی ناک ۔۔۔ شمس جیلانی

انسان زندہ جب تک ہے جبتک کہ ساکھ ہے
اگر اس سے گزرگیا تو پیرو ں کی خاک ہے
شمس سب سے بڑا کام ہےاللہ کی بندگی
مطلب یہ نہیں ہے کہ بس ناک ہی ناک ہے

483
مسلم امہ کی صورت ِحال۔۔۔ شمس جیلانی

شمس امت ِ مسلمہ کی تاک میں ہندوستان کا تا تار ہے
انصاف جگ سے اٹھ گیا ہوتا کچھ بھی نہیں ہا ہاکار ہے
کہنے کو تو مسلماں بہت ہیں جو گنتی کرو انکا شمار
اسلام اب باقی کہاں کچھ منافق ہیں کہیں پر غلبہ فجار ہے

484
شمس دیکھ کر چشم نم آجاتا ہے بندوں پر رحم

بس مانگتے رہیئے دعا اللہ کرم اللہ کرم اللہ کرم

485
اعطراف ِ خطا ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس بندہِ خطا ہوں میں کب مجھکو انکار ہے
کوئی تو ہوئی تھی خطا مجھے برملا اظہار ہے
مجھے نوے برس کے بعد میں ڈالاایسا جوبیمار ہے
کہ بندے کومعاف کردے تو مالک ِ کل مختار ہے

نوٹ الحمد اللہ ایک ماہ کی شدید علالت کے بعد میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مہربانی سے واپس آگیا ہوں۔
ساتھیوں سے درخواست ہے کہ میری صحت ِ کاملہ کے لئیے دعا فرمائیں (آمین)

486
رحم کر رحم کر رحم کر۔۔۔۔ شمس جیلای

اللہ تو باد شاہے میرا اور تو پروردگار ہے
بھوکوں سے مر رہا ہے جہاں زیر ِ استعمار ہے
تو ہی اگر ٹالے گا تو دفع ہونگی بلا ئیں سب
غم مجھکو کو کھا رہا ہے کہ اب حالت ِزار ہے

487
تابع فر مان اور نافرمان کافرق۔۔۔۔ شمس جلانی

انسان اسوقت تک انسان ہے کہ تابع فرمان ہے
جب خدا چاہے بدلدے پھر وہی چرخہ شیطان ہے
شمس کوئی بھی تبدیلی اپنےآپ ہے آتی نہیں
ایسا ہوجاتا ہے سب کچھ کوئی بندہ نافرمان ہے

488
صلح سے جان دینا بہتر۔۔۔۔ شمس جیلانی

اب دل میں آرزو باقی نہ کوئی باقی ارمان ہے
ساتھ میں جولے جارہا ہوںمیں مرافقط ایمان ہے
میں اوروں کی طرح شمس صلح کرسکتا نہیں
ہار مانو! میں اس پر جان دوں یہ میرا ایمان ہے

489
رضا کارانہ عمرَ ارزل سے ملاقات ۔۔۔شمس جیلانی

ہم نے عمر ِ ارذ ل کو خود پر نافذ رضاکارانہ کیا
تبدیلی ایسی آئی کہ دونوں جہاںتک ہل گئے
ایسے موقعہ پر ہوتا ہے یہ ہی دوست دشمن مل گئے
بس جو چھڑکتےجان تھے وہ خیر سے سوئے منزل گئے

490
شاکر ہوں رزقِ حلال عطا کرنے والے کا۔۔۔شمس جیلانی

شاکی بنو ں وہ بھی میں شمس اس ربِ ذوالجلال کا
جس کی مثا ل کوئی نہیں نہ کوئی اس کی مثال کا
رکھتا خیال ہے جو میرے ماضی ہمیشہ سےحال کا
جوسجا کے رکھے ہے خوان پہلے سے اکلِ حلال کا

491
منبع شفاعتﷺ۔۔۔۔ شمس جیلانی

جس نے بھی پڑھے اور پڑھا ئے سبق سرکارﷺکی عظمت کے
اس نے اتنے ہی طبق کھولے سب پر اس باب ِ رحمتﷺ کے
جو کچھ بھی وہ کہتا ہو شمس سب مظاہر ہیں شفاعت کے
واللہ واحد ﷺ وہی ذریعہ ہیں ہر تسلیم اور صداقت کے

492
جینےو مرنے کاانحصاررب پر۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ جو دینا چاہے پل میں عطاکرے مشکل ہزار ہے
اللہ جو لینا چاہے چھین لےاس سےنہیں کہیں فرار ہے
پھرکون پوچھتا ہےاسے اب وہیں پھر تا وہ خوار ہے
اے شمس یاد رکھو وہ پروردگار ہے ! وہ پروردگار ہے

493
اچھے لوگ۔۔۔ شمس جیلانی

شمس اچھے لوگ لڑتے ہیں نہیں نہ آپس میں لڑاتے ہیں
نہ باتیں ادھر کی لے جاکر کے ادھر والو ں کو سناتے ہیں
اگر جھگڑا کہیں ہوجائے غلطی سے آپس میں ملاتے ہیں
جہاں جیسے بھی ممکن ہو جاکر کے اس پر دھول پاتے ہیں

494
دربیان ِ فتنہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

فتنہ وہ لعنت ہے جوکہ ہرا دیتا جیتے ہوئے میدان کو
فتنہ وہ لعنت ہے جو پناہ دیتا ہے بھاگتے شیطان کو
فتنہ وہ لعنت ہے کرتا ہے تباہ ملک کے امن امان کو
فتنہ وہ لعنت ہے جوغصہ د لاتا ہے ہر اک انسان کو

495
پچھلی قومیں انجام سے پہلے۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں کو گونگا کہا بہرا کہا قرآن میں
تاکہ وہ انسان بن کر آجا ئیں پھر زندہ انسانو ں کے میدان میں
جب اثر کچھ بھی نہیں ان پر ہوا پیہم ڈراووں کا اے شمس !
اک لمحہ میں ان کو پٹکا عزابو ں کے بے درد قبر ستان میں

496
تجدیدِ عہد۔۔۔ شمس جیلانی

مجھکو نہیں ہے غم کمر میری مثلِ کمان ہے
میرے ساتھ ہر گھڑی میرے اللہ کی امان ہے
شمس کرتا رہونگا کام اس دیں کا اسی طرح
گر توفیق رب نے دی اور باقی عہد وپیام ہے

497
دربیان فاتحہ۔۔۔ شمس جیلانی

ثواب بھوکوں کا بیٹ بھرنا ہے رہے موٹے کوئی ثواب نہیں
ہم نے تریب ہی بدل ڈالی شمس ان کے لئیے ہے باب نہیں
سارا قصہ ہے اب دکھا وے کا جس کا ملنا وہاں حساب نہیں
نتیجہ!جعلی فقرا ہیں اس طر ح رہتے رہتا کوئی نواب نہیں

498
میرایقین ِ کامل۔۔۔۔ شمس جیلانی

شمس مجھ کو یقین ِ کامال ہے میرا رب ذو الجلال ہے
اٹھتا نہیں غیر کےآگےمیرا ہاتھ کبھی بہر ِ سوال ہے
اس میں نہ کوئی میری محنت ہے نہ ہی میرا کمال ہے
میرے دل میں جمگیا پوری پختگی سے یہ ہی خیال ہے

499
احسان کا بدلہ احسان ہے۔۔۔۔ شمس جیانی

کروں میں تعریف کیا بیٹی حنا کی
بس سمجھو کہ رحمت ہے خداکی
خدمت میری کرتی ہے بیٹی جیسی
پھرخوبی یہ شاکروصابر بےپناہ کی

500
اس ناچیز کے نام۔۔۔

یہ تو ایک رسمِ جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے
ورنہ سورج کی کہاں سال گرہ ہوتی ہے
عزیزم خالد حسن کا شعرجوکہ انہوں نے
میری نوے سالہ گرہ پر عطا فر مایا

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

(423 – 467) قطعات شمس جیلانی

 423

نقشِ پاپر چلانا چاہتا ہوں۔۔۔ شمس جیلانی

 

نبی ﷺ کا راستہ میں جگ کو دکھانا چاہتا ہوں

نبی ﷺکیسے تھے راہ پر چل کر بتانا چاہتا ہوں

میں چاہتا ہو ں کے واپس آئیں سب دین ِاللہ پر

میں اپنے ساتھیوں سے جنت بسانا چاہتا ہوں

 

424

اللہ جسے خود چاہے ہے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اللہ جسے خود چاہے ہے   اسے پورا زمانہ چاہے ہے

سرکار اسی کو چاہیں ہیں   ا ن کا پوراگھرانا چاہے ہے

 

425

اول الذکر لا الہ اللہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

اول میں ذکر ِ ذات کرتا ہوں

پھر میں آقاﷺ کی بات کرتا ہوں

تنہا جہاں میں رہ نہیں سکتا

تب میں فکر ِ کائینات کرتا ہوں

 

426

دار الشفا مدینے کی گلی ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس کہے کھری بات ہمیشہ جو بھلی ہے

دھوئے گا اسے کون رخ پہ سیاہی جو ملی ہے

سوچو بھی نہیں اس کا مسیحا ہے کہیں اور

یہ روگ جہاں مٹتا ہے وہ مدینے کی گلی ہے

 

427

بات یہ فاطمہ زہرا کے گھرانے چلی سےہے

 

نانی جو ولی تھیں تو نواسہ بھی ولی ہے

تصوف اسی کا ہے نبیﷺ کا ہے جو پیرو

جہاں دولت یہ بٹتی ہے وہ کاشانہ علی ہے

نوٹ مصرع ثانی حضرت صفدر کی عطا ہے

 

428

دنیا یہ سدا یاد کریگی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس بندہ تھا کوئی دنیا میں ہمیں یاد کریگی

سیرت ِ نبیﷺ اورصحابہ کہیں بھی جو پڑھیگی

کبھی مومن کی نگا ہوں میں نہ توقیر گرےگی

ہے ریت یہ ہی جاری ” تا قیامت” جو چلےگی

 

429

یہ کم ہے ہم کو پیدا کیا۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہ کم ہے کیا ہمیں پیدا کیا امتِ محمد مصطفیٰ ﷺمیں

اوردرِ توبہ کھلا رکھا مرتے دم تک ہر اک گناہ میں

شمس قناعت عطا اتنی پھر کردی اپنے ان فقیروں کو

کہ خواہش ہی نہیں ان کو رہی ما ل ومتاع میں

 

430

عشقِ رسولﷺ مرہونِ عمل ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس تیری توجہ ساری اسوہ حسنہ ﷺ میں گم رہی

تو نے لکھی ریکارڈ کرائی پھر بھی نظروں میں کم رہی

کوشش رہی کہ اسے عام عوام میں دن را ت تو کرے

جس سمت تو گیا ادھر حضورﷺ کی محفل گرم رہی

 

431

اللہ ہو مہرباں روزِ جزا ملے۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس کرکے جاؤ ایسے کام بہتر صلہ ملے

عزت ملے ، وقار ملے اور تمہیں مرتبہ ملے

حکم ِ خدا ملے قبر میں سلادو سکون سے

اللہ ہو تم پر مہرباں جب وہ روز جزا ملے

 

432

ہر کام کے لئیے وقت معین ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

معین وقت ہے جس میں جو کام ہوتاہے

میرا یا تیرا فقط کوئی ایک نام ہوتا ہے

لوگ کہتے ہیں اس کو ملا انعام ہے یہ

یہ ہی تماشہ بس صبح اور شام ہوتا ہے

 

433

بنا احساس ِبندگی، شرمندگی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہ کتنے ہیں گندے لوگ جنہیں احساس ِبندگی نہیں

اس شمع کی طرح ہیں بتی نہیں چراغ نہیں روشنی نہیں

شمس اس نبیﷺ کے دور میں بھی ہے اسی لیمپ کی تلاش

وہ اپنی چلاتے بات ہیں اللہ کی ہدایات کو ہیں مانتے نہیں

 

434

دینِ اللہ ایک، کتاب ونبی ﷺ ایک۔۔۔ شمس جیلانی

 

جب سے لا کے بسائیں دل میں میں نے پیارے ﷺ رسول باتیں

اٹھا کر پھینک دیں کوڑے میں، میں نے سب فضول کی باتیں

شمس دین ایک ہے رب ایک ہے اور اسلام دین ہے محبت کا

درآئیں نفرتیں کیسے اور ڈالدیں کس نے عرض و طول کی باتیں

 

435

چلو راہ راست پر۔۔۔ شمس جیلانی

 

نہ گھبراؤ جو دنیاتم پر مغضوب الغضب ہے

وہ راضی ہے تو پھر پلے میں روزو شب ہے

سچ بولو نہ کم تولو یہ ہے تعلیم ِ اسلامی

یہ ہی کہتا ہمیشہ سے ہمارا تو مذ ہب ہے

 

436

اللہ اکبر۔۔۔ شمس جیلانی

 

کیا نہ دیا اللہ نے بڑا احسان ہے صا حب

ناشکرا مگر پھر بھی بڑاانسان ہےصا حب

شمس ‘ اللہ اکبر ‘ سے مردے ہوئے زندہ

اس نعرہ مقدس میں بڑ ی جان ہے صاحب

 

437

حلوہ اور ملیدہ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس تم کو بھلا یاد ہیں سرکار کے وہ اوصاف حمیدہ

سال تئیس میں کرگئے امت کومجموعِ افرادِ سعیدہ

جب سے انہیں چھوڑاﷺ ہے تم بس خوار ہوئے ہو

اب ایک سبق یاد ہے تمہیں جو ہے حلوہ اور ملیدہ

 

438

فرشتے سلام کرتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہاں رہ کر وہاں کے جو مرد کام کرتے ہیں

خدائے پاک بڑھا کر انہیں امام کرتے ہیں

مچھلیاں تک ان کے لئیے دعا ئیں کرتی ہیں

فرشتے آتے اور جاتے ہر دفعہ سلام کرتے ہیں

 

439

دل بھرتا نہیں میرا ہے سرکار ﷺ کی باتو ں سے

 

کردار کی باتو ں سےبلندی و،افکار کی باتوں سے

شمس اللہ نے ہدایت دی ہے مجھ پر کرم اس کا

اب بہلتی نہیں طبعیت ہے تکرار کی باتوں سے

 

440

مودتِ رسول ﷺکا فائدہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

روزِ ازل سے رب نے ڈالدی دل میں جو مودت رسول ﷺکی

جب سے بسائے بیٹھا ہوں دل میں اپنے محبت رسول ﷺ کی

شیطان آتا تاک میں ہے میری محفل میں دن میں ہزاربار

مایوس لوٹتا ہے دیتا نہیں جگہ میں اسے بحث ِ فضول کی

 

441

صرف ایک سوال۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

بیفکر ہے جو آ یا یہاں پرکمانے کو مال ہے

شمس اس کو نہ کوئی غم نہ کوئی ملال ہے

روز ِ حشر میں کیسے کریگا وہ اللہ کا سامنا

بیفکر غافلوں سے یہ میرا واحد سوال ہے

 

442

تحقیق قبل از دعا۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس آشنا کے لیئے اور ہر غیرِ آشنا کے لئیے

جو آئے ہاتھ ہیں دیتے اٹھا ہم دعا کے لیئے

یہ جاننا ضروری ہے وہ ظالم یاکہ ہے مظلوم

اتنی غفلت زیبانہیں کسی بھی پارسا کے لئے

 

443

تحقیق قبل از دعا۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس آشنا کے لیئے اور ہر غیرِ آشنا کے لئیے

جو آئے ہاتھ ہیں دیتے اٹھا ہم دعا کے لیئے

یہ جاننا ضروری ہے وہ ظالم یاکہ ہے مظلوم

اتنی غفلت زیبانہیں کسی بھی پارسا کے لئے

 

444

اللہ کے یہاں اعمال کی قدر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس ان بناوٹوں سے بعض بھی آؤ تم خدا کےلیئے

عمل ضروری ہے،نہیں لباس ضروری مردِ رسا کے لیئے

گلہ چھوڑ دواللہ سے اپنی ہر روز کی کُل دعاؤں کا

اور ڈھونڈ لاؤ تم کوئی مومن ِ صادق دعا کے لیئے

 

445

یہ ملت رسومات میں کھو گئی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

جبکہ بعد از رسولﷺ راستے اٹ گئے قافلوں کی دھول سے

اکسیر وہ ہوئے جنہوں نے تربیت پائی جناب ِ رسولﷺ سے

لیکن جوآئے بعد میں شمس انہیں وہ تربیت کہاں ملی ؟

وہ خود کو الگ نہ رکھ سکے انکی طرح رسومِ فضول سے

 

446

جبکہ وہ فورا“ سزا دینے پر بھی قادر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

گناہ دن بھر ہم کرتے رہتے ہیں معاف وہ کرتا رہتا ہے یہ کیا کم ہے

جو منکر ہیں انہیں بھی رزق دیتا ہے وہ کتنا مہرباں ایسا منعم ہے

نہیں دیتا سزا فورا‘ شمس یہ بھی اس کی ہم سب پر مہربانی ہے

وجہ یہ ہے جھکتے سر نہیں ہیں کچھ کی آتا نہیں گردن میں خم ہے

 

447

جبکہ وہ فورا“ سزا دینے پر بھی قادر ہے۔۔۔ شمس جیلانی

 

گناہ دن بھر ہم کرتے رہتے ہیں معاف وہ کرتا رہتا ہے یہ کیا کم ہے

جو منکر ہیں انہیں بھی رزق دیتا ہے وہ کتنا مہرباں ایسا منعم ہے

نہیں دیتا سزا فورا‘ شمس یہ بھی اس کی ہم سب پر مہربانی ہے

وجہ یہ ہے جھکتے سر نہیں ہیں کچھ کی آتا نہیں گردن میں خم ہے

 

448

فیضان ِرب ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

رہتا کہیں ہے جاکر منگتا کوغم نہیں ہوتا

لوگ جاتے کہاں ا گر اس سا منعم نہیں ہوتا

شمس فیض جاری ہے جو کہ ختم نہیں ہوتا

مشکل ہے یہ بندہ ہوس سے ہضم نہیں ہوتا

 

 449

صدقہ رسول (ص) شمس جیلانی

 

یہ جو کچھ ہے شمسؔ آج سب صدقہ ِ حضورﷺ ہے

کم ہیں جہاں میں لوگ جنہیں حق کا شعور ہے

گزر ہے دن اور رات سب کا حمدو ثنا میں بس

ان کا ﷺجو کہ غلام ہے وہ کب اللہ سے دور ہے

 

450

فضا ئل درورشریف۔۔۔ شمس جیلانی

 

جو کہ درودِ پاک کو ورد زبا ں بنا ئے گا

لاریب بے کھٹک وہ جنت میں جا ئے گا

اس کو وہاں جا کے اچھ سا گھر دلائےگا

جو کچھ خدا سے مانگے بے خوف پائے گا

 

451

ماہ ِ ظہور ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مومنو! رکھو ہمیشہ یاد یہ ماہ ِ ظہور ہے

آنکھوں کی ہے یہ ٹھنڈک دل کا سرور ہے

کیا کیا ملا نبیﷺ کو ہر کوئی جانتا نہیں

ہر اک اتنا ہی جانتا ہے جتنا مشہور ہے

 

452

پہچانوں میں ایک پہچان؟ شمس جیلانی

 

شمس اس کو پہچانوں یہ بھی تو اک پہچان ہے

غصہ کبھی آتا نہیں یہ بھی تو اس کی شان ہے

پھر بھی جو بشر مانے نہیں وہ کتنا بڑا نادان ہے

میں لرز جاتا ہوں کہتا وہ ہے ناشکرا بڑاانسان ہے

 

453

سجدِ اولیا ء اللہ سرے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مسجد ِ اولیا ہے بتدریج بن رہی جاری درودو سلام ہے

شمس ہیں قابل ِستا ئش وہ تمام یہ جن کا کام ہے

ہر ایک دن اور رات لگا بنا رہا ہے جنت میں اپنا گھر!

جناب سیدی سہر وردی ان سب کا بلا شبہ امام ہے

 

454

مسجدِ اولیا ء اللہ سرے۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

مسجد ِ اولیا ہے بتدریج بن رہی جاری درودو سلام ہے

شمس ہیں قابل ِستا ئش وہ تمام یہ جن کا کام ہے

ہر ایک دن اور رات لگا بنا رہا ہے جنت میں اپنا گھر!

جناب سیدی سہر وردی ان سب کا بلا شبہ امام ہے

 

455

کیا کہنا ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہو رب جس کے ساتھ کیا کہنا

ہے اس کی کل کائنات کیا کہنا

جو سمجھ پا ئے بات کیا کہنا

پھرکہے حمد و نعت کیا کہنا

 

456

جو جیسا ہے ویسا ہی انسان رہےگا

 

اجداد کی اپنے ہر اک پہچان رہے گا

اللہ نے ہدایت دی عامل۔ قرآن رہے گا

بنا اس کی ہدایت شعر بیجان رہےگا

 

457

جاری رہے تلاوت قرآن کی۔۔۔ شمس جیلانی

 

نہ اونچی ہے منزل چا ہیئےنہ طلب اونچے مکان کی

جو تیرے حکم کےمنتظر رہیں حاجت ہے ایسے کان کی

دل ایک ہی جانے کام فقط سمعنا و اطعنا اے شمس

بس کانوں میں گونجتی رہے تلاوت ہر دم قر آن کی

 

458

جو جیسا ہے ویسا ہی انسان رہےگا

 

اجداد کی اپنے ہر اک پہچان رہے گا

اللہ نے ہدایت دی عامل۔ قرآن رہے گا

بنا اس کی ہدایت شعر بیجان رہےگا

 

459

کیا کہنا ؟۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہو رب جس کے ساتھ کیا کہنا

ہے اس کی کل کائنات کیا کہنا

جو سمجھ پا ئے بات کیا کہنا

پھرکہے حمد و نعت کیا کہنا

 

460

پہچانوں میں ایک پہچان؟ شمس جیلانی

 

شمس اس کو پہچانوں یہ بھی تو اک پہچان ہے

غصہ کبھی آتا نہیں یہ بھی تو اس کی شان ہے

پھر بھی جو بشر مانے نہیں وہ کتنا بڑا نادان ہے

میں لرز جاتا ہوں کہتا وہ ہے ناشکرا بڑاانسان ہے

 

461

لیکن شکرِ خدا نہیں کرتے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اتنی نوازشیں ہیں نہیں گنتی میں آسکیں

سب لوگ کھا سکیں کل ا حباب کھا سکیں

اتنا نہیں ہوتا ہے کہ ہم شکرانہ ادا کریں

سر سامنے جھکا ئیں بڑھیں ایمان لا سکیں

 

462

°✮  اول الذکر لا الہ اللہ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

اول میں ذکر ِ ذات کرتا ہوں

پھر میں آقاﷺ کی بات کرتا ہوں

تنہا جہاں میں رہ نہیں سکتا

تب میں فکر ِ کائینات کرتا ہوں  ✮°

 

463

دنیاجب بسانا ہو تو اللہ یہاں پر انساں بساتا ہے

 

بگڑجا ئیں اگرانسان نوح کا طوفاں آکر بچاتا ہے

وہ ہدایت بھیجتا رہتا ہے بذریہ نبوت شمس

صحیفے آتے رہتے ہیں مکمل دین ہو قرآن آتا ہے

 

464

نماز مومن کی معراج ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

شمس یوں تو نماز ساری ہےاصل میں معراج المونین

لیکن سجدے میں سر جو جائے خشوع اور خضوع رہے

دل پاک ہو زباں ہو دہن ہو ہر لقمہ اور ذہن ہو پاک

کسی مومن کو کب روا ہے کہ کبھی وہ بے وضو رہے

 

465

فیضِ توحید پرستی۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

رکھتا ہمیشہ رابطہ وہ مومن سے جو براہ راست ہے

جب چاہے بات کرلے ہر لمحہ وہ بندے کے ساتھ ہے

میں وحدت پرست ہو ں مجھے ہے اس پہ ناز شمس

حائل جس کی راہ میں نہ عزیٰ ہے نہ لات و منات ہے

 

466

امکان نہیں ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

 

مومن بہت ہیں مگر صاحب ِایمان نہیں ہیں

حفا ظ کم نہیں ہیں مگر عامل ِقرآن نہیں ہیں

شمس کس طرح سے آئےگا وہ دور پھر واپس

اللہ ہے راضی نہیں اُس دورکے امکان نہیں ہیں

 

467

    پہچانِ غلامان ِ سرکار ﷺ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہے وہ مومن ہی کہاں ہے جو عشق محمدﷺ میں گرفتار نہیں

وہ غلاموں  میں شامل ہی کہاں جس کو غلامی کا ہے اقرار نہیں

شمس ہوتا مومن ہے جھوٹا نہیں فاسق و منافق نہیں مکار نہں

جس کو کہ عترت سرکارﷺسے الفت ِیکساں ہے نہیں پیار نہیں

 

شائع کردہ از qitaat | تبصرہ کریں

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (4)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

روشنی حرا سے سیرت پاک حضور ﷺ (4) از۔۔۔ شمس جیلانی ”جو انتہائی رحیم اورقیامت کے دن کا مالک ہے“ ہم نے گزشتہ مضمون میں سو رہ فاتحہ پر بات کر تے ہو ئے رب العالمین پر بات ختم کی تھی۔اب دو سری آیت میں الر حمٰن الرحیم کو سمجھنے کو شش کر تے ہیں۔یہ مفر د لفظ الرحمٰن عربی لغت کے عالموں کے نزدیک صیغہ مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ اس جیسا کو ئی رحم کر نے والا نہیں ہے۔ لیکن ہم اس کے ماننے والے، ذرا سی ذراسی با ت پر مشتعل اورنا راض ہو جا تے ہیں۔تعلقات منقطع کر لیتے ہیں جبکہ وہ فرما رہا ہے کہ ً رحم کرو تا کہ رحم کیئے جاؤ ًاور طیش میں آکر یہ فعل عام آدمی سے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں سے ہو تا آیا ہے۔ حضو رﷺ کا دور ہے اور حضورﷺ کے بعد سب کی نگاہوں میں حضرت ابو بکر ؓ انتہا ئی متحمل مزاج اورضبط کر نے والوں میں شا مل ہیں۔ ان کے وصف میں متعدد حدیثیں بھی موجودہیں۔ مگر وہ ؓاس با ت پر اپنے ایک بھا نجے سے نارا ض ہو جاتے ہیں جوکہ تقاضہِ بشریت تھاکہ اس ؓنے،اس پرو پیگنڈے میں حصہ لیاجو منا فقوں اور یہودی نے ان کی لخت ِجگر اُم المو نین حضرت عا ئشہ ؓ صدیقہ کے با رے میں واقعہ افک کی شکل میں گھڑا تھا۔ وہ ؓ عہد فر ما لیتے ہیں کہ میں ؓاس ؓکی جو نادار ہو نے کی وجہ سے مدد ہمیشہ سے کرتا آیا تھا آئندہ نہیں کرونگا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فورا ً ایک آیت نا زل کر کے ان کو ایسا کر نے سے روک دیا اور انہوں ؓ نے فوراًرجو ع کر لیا اور یہ ہی نہیں بلکہ اسؓ کا وظیفہ دگنا فر مادیا۔یہ تو ایک چھو ٹا سا واقعہ ہے۔جس پر اس قدر عظیم الشان اور عظیم القدر انسا ن نا راض ہو گئے۔ تو عام مسلمانوں کی گنتی کیا ہے۔ مگراس مالک کی رحمت دیکھئے کہ وہ ان سب کو دیتا ہے جو اسے نہیں مانتے اور ان سے زیا دہ دیتا ہے جو مانتے ہیں؟ کیو ں محض اس لیئے کہ وہ منصف ہے۔ چو نکہ انکا وہاں کو ئی حصہ نہیں ہے۔لہذا ان کو یہیں دے کر حساب بیباق کر دیتا ہے۔ وہ جو کہ اسی کونہیں بلکہ ہر نافرمان کو فنا کر دینے پر قادر ہے۔مگر نمعلوم مدت سے دنیا چلی آرہی ہے۔آج تک مکمل طو ر پر تبا ہ نہیں ہو ئی۔کیو نکہ سزا دینے پر قادر ہو نے کے با وجود اس نے رحم کواپنے اوپر واجب فر ما لیا ہے۔ مگر صرف چا ہنے والوں سے ایک شر ط رکھی کہ ً تم بس میرا کہامان لیا کرو ًہے کو ئی ایسا مہر بان یہ وہی ہو سکتا ہے جو ماں سے بھی ستر گنا ہ زیا دہ چاہے۔اور ساتھ میں یہ خو شخبری بھی دے رہا ہوکہ تم ہزار بار گنا ہ کرو اور پہا ڑ جیسا انبار لے کر آؤ تو بھی میں معا ف کر دو نگا۔ مگر یہاں اس کا یہ مقصد نہ سمجھ لیا جا ئے کہ ہم جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کہ توبہ کر کے روز تو ڑتے ہیں۔ یہ مشق بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں۔ در اصل یہ ان کے لیئے ہے۔ جو تو بہ کر نے یا اسلام لا نے کے بعد اپنی سی پو ری کو شش کریں۔ لیکن پھر کہیں مجبور ہو جا ئیں، یا پھنس کر گناہ دو بارہ کر بیٹھیں تو قابل ِ معافی ہیں۔ اس لیئے کہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ ً میں کسی کو اس کی وسعت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا ً۔ یہ ان ہی کے لیئے ہے۔ان کے لیئے نہیں کہ صبح کو ًمَے پی شام کو کر لی تو بہ، رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ً رحم کے بارے میں فر مان یہ ہے کہ میں رحیم ہو ں اور رحم کو پسند کر تا ہوں۔اسی لیئے میں نے رحم کو اپنے نام سے بنایا ہے۔ لہذا جو اس کا لحاظ کر ے گا اس کا لحاظ میں بھی کرونگا ً اسمیں سب سے خو بصورت سبق صلہ رحمی کے لیئے ہے۔ یعنی تم اپنے جو قریبی عزیز ہیں یعنی جن کے ساتھ رحم کا رشتہ ہے بہتر سلوک کرو۔ میں تمہا رے ساتھ بہتر سلوک کرونگا۔ ہم کیا کر تے ہیں؟ وہ کر تے ہو ئے سوچنا چا ہیئے۔ بیوی سے غلطی ہو گئی طلا ق۔ بچو ں سے غلطی ہو گئی عاق، بھا ئیوں سے تعلقات منقطع، سسرال سے تعلقات منقطع۔ اور یہ گمرا ہی عام آدمی ہی نہیں۔ بلکہ بڑے بڑے جائز سمجھتے ہیں۔میں افسوس کے ساتھ عرض کرو نگا کہ اس میں ہما رے علما ء تک بیخبرہیں۔ میں ٹی وی کی ایک مذہبی چینل پر پروگرام دیکھ رہا تھا۔ ایک مفتی صاحب سے سوال کیا گیا کہ داماد اپنی ساس کا احترام نہیں کرتا!۔ جو اب تھا کہ سسرالی رشتہ داروں کے لیئے کو ئی ہدایت نہیں ہے۔ غالبا ً یہ سب کچھ ان کی نظر سے نہیں گزرا ہو گا۔ یا ان کے مسئلک کے علماء نے اس کی تفسیر اور یہ حدیث نہیں لکھی ہو گی۔ نہ ہی نکاح کے خطبہ مسنو نہ میں پڑھی جانے والی آیت کا وہ حصہ کہ ً تسآء لون بہ والارحام ً کہ تم سے قیامت کے دن رحم سے متعلقہ عزیزوں کے بارے میں سوال کیاجائے گا؟جوکہ اس موقعہ پر یہ یاد دلانے کے لیئے عزیزداری بیوی اوراس کے رحمی رشتہ داری کی وجہ سے قائم ہو رہی ہے انکا اور جو پہلے سے تمہا رے تھے، ان کااب دونوں احترام کر یں۔ اور یہ اگر مقصد نہیں ہے۔ تو ساس اور دا ماد، سسر اور بہو کا محرم ہو نے کا حکم کیا کہتا ہے؟ میرے خیال میں جواب یہ تھا کہ ساس کو چاہیئے کہ داماد اب قیامت تک کے لیئے اس کا بیٹا بن چکا ہے۔وہ اس کو ماں کا پیار اور عزت دے۔ اور داماد کو چاہیئے کہ وہ ساس کا احترام ماں کی طرح کرے۔ کیونکہ اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ چھو ٹے بڑوں کا احترام کریں اور بڑے چھو ٹو ں کا۔اس لیئے کہ تالی ہمیشہ دو نوں ہا تھوں سے بجتی ہے۔ اس سلسلہ میں سو رہ العمران کی یہ آیات مزید مشعل راہ ہیں۔جن میں اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے ایک مسلمان کی تعریف کی ہے۔ کہ اس میں کیا کیا خو بیاں ہو نا چاہیئے۔الذ ین ینفقون فی السراء والضرآء والکا ظمین الغیظ والعافین عن الناس ط واللہ یحبب المحسنین ہ والذین اذافعلوا فا حشۃ او ظلمو انفسھم ذکرواللہ فاستغفروالذنوبہم ص ومن یغفرو الذنوب الا اللہ س ولم یصر و علٰے ما فعلو او ہم یعلمون ہ اولٓیٰک جزآ ؤھم مغفرۃ من ربھم و جنٰت تجری من تحتھا الا نھار خالدین فھیاط ونعم اجر العالمین ہ (آل عمران ۶۳۱۔۴۳۱) بہ محاورہ اردوترجمہ۔(وہ مومن) جو تنگدستی اور فا رغ البالی میں خفیہ اوراعلانیہ خرچ (راہِ خدا میں) کر تے ہیں۔(اوراپنے) غصے کو پی جاتے ہیں، لوگو ں سے عفو اور در گذر کا بر تاؤ کر تے ہیں۔ اللہ سبحا نہ تعالیٰ انہیں عزیز رکھتا ہے۔اور اگر کو ئی گناہ کر بیٹھیں اور اس پر جاننے کے بعد بضد نہ ہوں اور فورا ًاللہ تعالیٰ کا ذکر اور توبہ کرلیں (تو)چونکہ خدا کے سوا کو ئی معاف کر نے والا نہیں ہے (وہ معاف فر مادیتا ہے) اس کا بدلہ رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں، جہا ں زیرزمین نہریں بہہ رہی ہیں۔ان نیک کام کر نے والوں کو دونوں عالم میں بہت بڑا ثوب ہے اب ہم مالک یو م الدین پر بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی قراۃ ملک ِ یوم الدین بھی کر تے ہیں مگر معنی میں کو ئی فرق واقع نہیں ہو تا ہے۔ یہ ہی در اصل اسلام کی اساس ہے۔ یعنی اللہ تعا لیٰ کو مالک ِ یوم الدین ما ننا۔ اور اس پر اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے با ر بار قر آن میں زور دیا ہے کہ اس دن سب کو خدا کے سامنے لا زمی طور پر پیش ہو نا ہے۔ جسے ہم یوم ِ قیا مت کہتے ہیں۔اور جوکچھ ہم نے اچھا یابرا کیا ہے وہ اللہ تعا لیٰ کے ذاتی علم میں تو رہتا ہی ہے اور وہ اس پر قادر بھی لیکن اس کے لیئے گواہ وغیرہ رکھے ہوں۔کیونکہ یہ انصاف نہیں ہے کہ وہ اپنی معلومات کی بنا پر فیصلہ سنادے۔ اورخو د ہی منصف اور شاہد بن جا ئے۔ لہذااس دن وہ ریکا رڈ پیش ہو گا جو پیدائش سے لیکر موت تک کرا ما ً کا تبین لکھتے رہے ہیں۔ جو کہ دو فرشتے ہیں اور داہنے،با ئیں ہاتھ پرمبعوث ہیں۔داہنے ہاتھ والا نیکی لکھنے کے لیئے اور با ئیں ہاتھ والا بدی لکھنے کے لیئے۔ پھراس پر گواہ پیش ہو نگے جو کہ حضور انبیا ء کرامؑ اور خو د اسکے اعضا ء، ہاتھ پا ؤں اورزبان وغیرہ۔ ہر ایک کے خلاف گواہی دینگے۔اگر بر ے کام کم کیئے ہیں اور اچھے کام زیادہ ہیں۔ تو سب اچھے اعمال خود گواہی دیں گے۔جیسے کہ نماز روزہ حج وغیرہ۔ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جن کے گناہ کم ہونگے انکو ان کے اعمالنامے اللہ تعالیٰ ان کا ندھے پر ہا تھ رکھ کر چپ چا پ عطا فر ما دے گا۔دنیا میں در اصل بھیجنے کا مقصد یہ ہی تھا کہ سب پا ک اور صاف ہو کر واپس جنت آئیں،کیو نکہ را زق ہو نے کی بنا پر یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنت اور دو زخ دو نوں کو غذا عطا فر ما ئے۔ اور قرآن کی آیتیں بتا رہی ہیں جنت نیک لو گوں کے لیئے ہے اور جہنم کا ایندھن انسان، جن اور پتھر ہیں۔ توجنہو ں نے یہاں اسے یاد رکھا وہ تو وہا ں آرام میں رہیں گے اور جنہوں نے بھلا دیا وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اور قر آن کہہ رہا ہے کہ ان کا عذاب کبھی ہلکا نہ نہیں کیا جا ئے گا۔ خدا ہم سب کو اس عذاب سے بچا ئے(آمین) جب حساب ہو چکے گا تو ایک دور شفاعت کا بھی آئے گا۔ جس میں بہت سے لو گ اپنے عزیزوں کو اپنے در جے میں لے جا سکیں جو کم در جہ ہو نگے۔ سب سے پہلے حضورﷺ شفا عت فرمائیں گے۔ مگر کس کی امتیوں کی! اور امتی کو ن ہیں۔؟جو حضورﷺکی راہ پریا ان صحا بہ ؓ کی راہ پر جو حضورﷺ کی راہ پر چلیں، پیر وی کریں۔ سب کی نہیں کیو نکہ اس میں تو منا فق بھی تھے۔ اور حضورﷺ کی امت میں نہ ماننے والے بھی شا مل ہیں۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو جس سے محبت کر ے گا وہ جنت میں اسی کے ساتھ ہو گا۔اس میں اضا فہ یہ بھی ہے کہ جو مجھﷺ سے محبت کر تے ہیں وہ جنت میں میرے ساتھ ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو سر کارﷺ کے اتبا ع اور سر کار سے سچی محبت کر نیکی توفیق عطا فر ما ئے۔ تا کہ ہم اس دن سر خرو ہو سکیں۔البتہ جو سادہ پر چہ امتحان میں لے کر جائیں گے۔ان کے پا س کچھ نہیں ہو گا بلکہ وہ ان دوسرے کے گنا ہوں کے بو جھ تلے دبے ہو ئے ہو نگے۔جن کے ساتھ وہ زیادتی دنیا میں کر کے گئے ہو نگے۔ اللہ ہم سب کو اس گروہ سے بچا ئے۔ کیو نکہ اس دن کا سکہ رو پیہ پیسہ نہیں بلکہ نیک اعمال ہو نگے۔ جو ان دعوؤ ں کے بد لے میں وضع کیئے جا ئیں گے جن کے ساتھ کسی نے زیاد تی کی۔ جب اس کے پاس لے دے کر کچھ نہیں بچے گا تو مدعی کے گنا ہ اس کے کھا تے میں لکھ دیئے جا ئنگے۔اور حضورﷺ کے ارشاد ِ کے مطابق وہ اس دن سب سے بڑا مفلس ہوگا۔

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (3)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی

سیرتِ پاک حضور ﷺ۔۔۔روشنی حرا سے (3)۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ آپ کوئی کام ایسا نہ کریں جو مالک ِ حقیقی کے ماتھے پرشکن آئے اور یہ ہی تقویٰ ہے۔ اب آگے بڑھتے ہیں اب آپ بسم اللہ کو ورد زباں بنا لیجئے۔ جب آپ بسم اللہ۔۔۔ الخ تک ہر کام سے پہلے پڑھیں گے تو فورا ً یہ یا د آجا ئے گا کہ ہم کسی بھی چیزکے مالک نہیں ہیں اور کو ئی بھی مالک نہیں ہے، سوائے اللہ کے، لہذا آپ اس کی نا راضگی سے ڈریں گے اور بچیں گے۔ پھر ہر کا م فر مانبر داری کے تقا ضے پو رے کر تے ہو ئے کر ینگے۔اس دوران یا کسی وقت غلطی ہو بھی گئی تو آپ کے سامنے اس آیت کا وہ حصہ آجا ئے گاکہ وہ انتہا ئی ً رحیم ًہے۔ لہذا جس طر ح دنیاوی مالک کی خطا کرکے،سب مالک کی طر ف ہی رجوع کر تے ہیں،بشرط ِ کہ یقین ہو کہ مالک رحمدل ہے معاف کر دے گا۔ اور اگر سخت گیر ی اور سزا کا خوف ہو تو اس سے بچنے کے لیئے بھاگ جاتے ہیں۔ مگر خالق سے آپ بھاگ نہیں سکتے؟کیو نکہ وہ فر ماتا ہے کہ ً مجھ سے بندہ بھاگ نہیں سکتا ً ً اس لیے بہتر ی اسی میں ہے کہ اس رحیم کی ً رحمت ًسے فا ئدہ اٹھا ئیں۔اس لیئے کہ اس انتہا ئی رحیم کی طر ف جو ع کر نے کے سو ااور کوئی چا رہ جو نہیں ہے۔پھراس سلسلہ میں حضورﷺ کا یہ ار شاد ِ گرامی بڑا امید افزا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ً جب کو ئی بندہ توبہ کر تا ہے تو میں اتنا خو ش ہو تا ہوں جتنا کہ اس اونٹ کا مالک جو ریگستان میں سفرکر رہا ہو اور اس پر بو جھ(دانا پانی سب کچھ) لدا ہواور وہ گم ہو جا ئے اور پھر اچا نک مل جا ئے ًپھر اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ِ گرامی یہ بھی ہے کہ ً میری رحمت سے تو صرف کا فر نا امید ہو تے ہیں یعنی با الفاظ دیگر نا امیدی کفر ہے۔ لہذا اس کے ساتھ اچھا گمان رکھیئے کیونکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں بندے ساتھ وہی کرتاہوں جیسا کہ وہ گمان رکھتا ہے۔ ً آئیے اب دو سری آیت کی طرف بڑھتے ہیں۔ تمام تعریفیں (صرف) اللہ کے لیئے ہیں جو کہ عالمین کا رب ہے۔اس میں سبق ہے کہ صرف اسی کی تعریف کی جا ئے جو تمام تعریفوں کا اکیلا ہی مستحق ہے۔اورجملہ صفات کا حامل بھی۔جس میں جو بھی صفت حسنہ ہے وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے اور اس نے ہی اپنی مخلوق کو ودیعت فر ما رکھی ہے۔ مثلا ً سورج کوروشنی، آگ کو حرارت اور کسی عالم کو علم وغیرہ۔یعنی کسی کااپنا کچھ بھی نہیں ہے سب چیز یں عا ریتا ً ہر ایک کو وقت ِمعینہ تک کے لیئے عطا ہو ئی ہیں۔ تو کیا آپ مانگی تا نگی چیز کو اپنا کہہ سکتے ہیں؟ نہیں ہر گزنہیں۔کیا اس پر اترانا جا ئز ہے! اس پرصرف عطا کر نے والے کی تعریف اور شکر ہی عقل کا تقاضہ ہے۔سورج کی روشنی کی واپسی کے لیئے تو قیامت کا وقت مقرر ہے وہ اس وقت دیکھ لیجئے گا۔مگر ہم حرار ت یعنی آگ کا ٹھنڈا پڑنا قرآن میں پڑھ چکے ہیں۔ جس کی مثال مو جو د ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابرا ہیم ؑ کو آگ میں ڈالا تو اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ً ٹھنڈی ہو جا ابرا ہیم ؑ پر ًاور وہ بہ خیرت باہر تشریف لے آئے۔اسی طر ح عالم اور علم کو دیکھ لیجئے۔ کو ئی کتنا ہی بڑا عالم کیو ں نہ ہواس کا محتا ج ہے۔وہ اگرچا ہے تو کسی کے بھی اندر علم کا سمندرمو جزن کر دے۔حضورﷺ کی مثال اس سلسلہ میں کا مل ترین ہے جن کے آگے دنیا بھر کی فصاحت اور بلاغت دھری کی دھری رہ گئی جبکہ کفار عرب کو اپنی فصاحت او بلاغت پر ناز تھا۔ وہ نہ چا ہے تو کو ئی سارے علوم کا حافظ کیو ں نہ ہو،اس کے دماغ سے سارے مضا مین غا ئب کر دے۔بارہا کا مشاہدہ ہے کہ کو ئی عالم اپنے علم پر مغرور ہو ا اور اس سے دوران تقر یر کو ئی غلط لفظ کہلوا دیا اورلو گوں نے اسے دھکے دے کر اسٹیج سے نیچے اتار دیا۔ یہ تو آپ پر بھی گزری ہو گی کہ گھر سے بہت کچھ یا د کر کے چلے کہ یہ کہو نگا وہ کہو نگا اور مطلوبہ مقام پر پہنچ کر تمام مضمو ن ہی دما غ سے غا ئب ہو گیا۔ یہ کرنے والا کو ن ہے؟ وہی جس نے علم عا ریتا ً عطا فر ما یا ہواتھا۔ جو رو شنی وہا ں سے آرہی تھی لا ئن کٹ گئی۔ جس طرح بجلی کا تار کٹ جا ئے تو اندھیرا چھا جا تا ہے کیوں کہ وہ غرور کو پسند نہیں فرماتا۔ اسی لیئے دن میں متعدد با ر حضور ﷺ ً رب ِ زدنی علما ًکی تلاوت فرمایا کر تے تھے۔ کہ اے میرے رب میرے علم میں اضا فہ فر ما۔تو جب نبی ِﷺ کر یم جیسی شخصیت، جن ﷺکو سب سے زیا دہ علوم و دیعت ہو ئے تھے دن بھر در خواست فر ما تے رہتے کہ مجھے علم ِ مزید عطا فر ما تو ہم کس گنتی میں ہیں؟اس تمام بحث سے میرا مقصد یہ ثابت کر نا تھا کہ تمام صفات کا مالک و ہی ہے لہذا تمام تعریف کا مستحق بھی۔ اگر کسی اور کی تعریف کربھی رہے ہیں تو یہ سوچتے ہو ئے کریے کہ دیکھئے اللہ نے اسے کتنااچھا دما غ دیااور علم عطا فر ما یا ہے۔ یا خوبصورت ہے توبہترین شکل عطا فر ما ئی۔ یا اس نے بہترین مکان، کا روبا ر اور روزگار و غیرہ عطا فرمایا ہے۔ غر ض کہ ہر چیز کو اسی سے مو سوم کر یں جس کی وہ عطا کر دہ ہے۔ اپنی فرا ست اپنی قابلیت اور کسی کے مدحت کرنے سے پہلے یا کسی انسان کی مدد وغیرہ کاذکر کر تے ہو ئے بھی محتا ط رہیں۔ اگر آپ کی کوئی اور تعریف کر رہا تو اسے فورا ً یا د دلا ئیں،کہ یہ عطاہے اسی پرور دگا ر کی۔ میرا اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔صرف کو شش تھی جس کی تو فیق بھی اسی کی عطا کر دہ ہے۔یہ کہنا بطور مو من ہم سب پر واجب ہے۔ اب ہم انشا اللہ آیت کے اگلے حصہ ً رب العا لمین ًپر با ت کر ینگے۔ عربی میں رب کہتے ہیں پرور ش کر نیوالے کو دائی اور ماں کو بھی رب (ف)کہتے ہیں کیونکہ وہ دودھ پلاتی ہیں مگرجب یہ بطور اسم ِکے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے آتا ہے تو ً الرب ً لکھتے ہیں جو کہ صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے

شائع کردہ از seerat e mubarik sayydna Mohammadﷺ | تبصرہ کریں