عوام کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟۔۔۔شمس جیلانی

من حیثت القوم ہمارا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ ہماری کوئی بھی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا کام ہر حکومت، فرد اور ادارے کے لئے مشکلات پیدا کرنا ہیں۔ نہ بندے کی حیثیت سے کسی کو کچھ کرنا ہے،بلکہ ہر کام اللہ کو کرنا ہے۔ نہ کوئی قوم کی حیثیت سے کوئی بات سوچتا ہے اس لیئے کہ ہر کام حکومت کو کرنا ہے؟ جبکہ اکثر حکمرانو ں کا کام اپنے پیٹ بھرنا رہا ہے۔ حالانکہ اللہ بتا چکا ہے اس کے نبی ﷺ بھی بتا چکے ہیں کہ یہ کروگے تو یہ ہوگا جو ہورہا ہے۔؟ یہ ہی روش حکومت کے سلسلہ میں ہے کہ ہرکام حکومت کو کرنا ہے خود کچھ نہیں کرنا ہے۔ عوام کا کام صرف مشکلات پیدا کرنا ہے۔ آپ پورے ملک میں گھوم جا ئیں جہاں بھی کسی سے سوال کریں گے ایک ہی جواب ملے گا کہ یہ حکومت نا لا ئق ہے۔ آپ کو یہ ہی وہ بھی کہتے ہوئے ملیں گے جو کہ خود یا ان کے آباؤ اجداد 73 سال سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن کبھی کسی نے نالائقی کا ثبوت نہیں دیا۔ اس سلسلہ میں ایک خاندان کی مثال لے لیجئے اگر باپ سوائے قرض کے کچھ نہیں چھوڑ گیا ہے؟تو اگر پورا خاندان گھر کے بڑے کا ساتھ نہ دے نہ اپنے اخراجات کم کرے اور صرف مطالبات کر تا رہے تو بڑا بیٹا کتنا بھی قابل ہو؟ وہ کیا کرسکتا؟ سوائے گھر کی بد حالی میں مزید اضافہ کرنے کہ جب تک سب ملکر کام نہ کریں اور اپنی ذمہ داریوں کا ان میں احساس نہ پیدا ہو مزید تباہی آئے گی۔ اس کا حل یہ ہی ہے کہ جو گھر کا بڑا ہے سب اس کا ساتھ دیں اور اس کا فرض ہے کہ وہ پورے کنبے کو حالات سے با خبر رکھے اس لئے کہ یہ اس کی اسلامی اور جمہوری ذمہ راری ہے کہ وہ اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہونے دے۔ ہمارے یہاں سربراہ ایسی غلطیاں اکثر کرتا ہے جو کہ اسلام نے منع کیا ہے لہذا کنبہ بھی وہی کرتا ہے۔ اور کرنا چا ہیئے کہ عموما ً بے خبر رکھا جاتا۔ یہ روش ہمارے اندر کہاں سے آئی؟اس کا جواب یہ ہے کہ مسلسل صدیوں کی غلامی سے جو کام ہمارے سابقہ آقا اپنے ملک میں کرنا نا پسند کرتے تھے وہ ہمارے یہاں رائج کر گئے۔ مثلا ً ان کے یہاں ون ونڈو آپریشن تھا۔ مگر ہندوستا ں میں ایک بڑی سی ٹیبل کسی آفس کے ہال میں پڑی ہوتی تھی اور ہر محکمہ کا کلرک اس پر بیٹھا ہوتا جبکہ ہیڈکلرک صدر نشین پر تشریف ہوتا تھا۔ اور اس کے داہنے ہاتھ پر“ کانفیڈینشل کلرک“بیٹھا ہوتا تھا جو اس کا داہنا ہاتھ ہوتا تھااورحکومت کے تمام خفیہ راز صرف اسے یا ہیڈ کلرک کومعلوم ہوتے تھے۔ اور حکومت کی کوئی بھی خفیہ بات باہر نہیں نکل سکتی تھی کیونکہ ایسا کرنا جرم تھا۔ آج تک وہی نظام چلا آرہا ہے۔ جب کہ ہم بات اسلامی جمہوریت کی کر تے ہیں۔ ملک سے وفاداری کا یہ عالم کے ہے کہ حکمراں و ہاں سے جو کماتے ہیں وہ ملک سے باہر لے جاتے ہیں اوریہاں سارا کاروبار بنکوں کے ا دھار پر چلتا ہے۔اگر پکڑے گئے توبریف کیس ہا تھ میں لیااور جہاز میں بیٹھ کراڑگئے؟ پھر جو بھی آتا ہے وہ یہ کہتا ہوا آتاکہ میں سب برائیاں دور کردو نگا۔ مگر مور کی طرح ناچتا ہے اور اپنے کا لے پیرو ں کی طرف دیکھ کر رک جاتا ہے۔ اس لیئے کہ اس کے ہاتھ صرف اڑنے کے لئیے ہیں اورپیر ساتھ نہیں دیتے ہیں؟ پھر اسے انہیں چوروں سے مصالحت کرنا پڑتی ہے۔ اس لیئے کہ پارلیمان سے ووٹ بھی تو چاہیئے ہیں۔ اس کا حل کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ پوری قوم میں احساس قومیت پیدا ہو۔ جبکہ ہمارے وہاں قومیت سے مراد سید، پٹھان مغل وغیرہ ہے۔ یا پھر مفاد پرستوں کی ٹولیاں ہیں۔ جوکہ کھا ؤ اور کھانے دو کہ اصول پر چلتی ہیں جبکہ پاکستان جس قومیت کے نام پر بنا تھا۔ اس میں خاندان تو کیا سرحدوں کی بھی کوئی گنجا ئش نہیں ہے۔تو کام کیسے چلے کیونکہ ملک میں کوئی ایک نظام کامیاب حکمرانی کرنے کے لئے نہ موجود ہے نہ ہی بن سکتاہے۔ رہی اسلامی قومیت کی حالت جو کبھی قرون ِ اولیٰ میں تھی وہ اب مفقود ہے؟ ہماری طرف سے صرف اک طرفہ ٹریفک جاری ہے کہ ہم تو ان پر جان دیتے رہیں؟ مگر وہ اس سلسلہ میں سوچنے کو بھی تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے اپنے مفادات ان کیسامنے ہیں۔ ایسے میں بات بنے تو کیسے بنے۔ رہے عمران خان ان کا بھی حال یہ ہے کہ کبھی اس کشتی میں کبھی اس کشتی میں پیر رکھتے ہیں۔ جب وہ جدید دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ تو ایسے بیان دیدیتے ہیں کہ“گیس کا بڑا طوفان آنے والا ہے سردیوں میں،لہذا قوم تیار رہے“ جبکہ قوم جو کرسکتی اور جو اسے کرنا چاہیئے وہ کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ مثلاًغیر ضروری چولہا نہ جلا یا جائے۔خاتون خانہ کھانا پکاتے وقت فون پر بات کرنے اور انڈین ڈرامے دیکھنے سے ا جتناب کریں اور گیس چوری کرنے والے چوری کرنے سے۔ وہاں لوگ اکثربرابر والے ملک کی بات کرتے ہیں ان سے ہی کچھ سیکھ لیں کہ ان پر وہ وقت گزر چکا ہے جبکہ وہاں ایسی قلت رہی ہے کہ کھانا موجود تھا لیکن پکانے لئے ایندھن نہیں تھا کیونکہ وہ بھی ہماری طرح درخت کاٹکر کھا گئے تھے۔ ہم درخت پہلے ہی کاٹ کھا چکے ہیں اب جلانے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔“ عمران خان نئے درخت لگا نے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ وہاں ہر چرواہے کے ہاتھ میں کلہاڑی ہے اور درخت کو سراٹھا کے کھڑے رہنے کی وہ اجازت ہی نہیں دیتا جیسے کے گاؤں کے چود ھری کے سامنے کاشتکار؟ آپ پوچھیں گے کہ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کیسے کیا؟ انہوں نے ایک پنتھ دو کاج کے بجا ئے ایک پنتھ اور کئی کاج کا نسخہ استعمال کیا؟ کہ ہر ایک کو گا ؤں میں“ سیپٹک ٹینک“بنا نے کے لئے پانچ سو روپیہ دیدیئے، اس زمانے میں جانور بہت تھے اور انہیں گوبر چھونے میں کوئی آر بھی نہیں تھا انہوں نے گوبر گیس بنا ئی اور اس سے کھانے پکا نے کا کام لیا اور ٹینک کا فضلہ بھی قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جس سے زمینوں کی زرخیزی بڑھی اور پیداوار بھی؟ اور ہوا سے بھی بجلی پیدا کی اور سورج سے بھی شمسی پاور اسٹیشن بنا ئے؟جب کہ ہمارے یہاں صرف کاغذ پر کاشت کاروں کو کئی بار فنڈ ملے مگر وہ کیش کرا کر جانے کون لے گیا؟ جبکہ انہوں نے اپنے یہاں زمینداری نہیں رکھی۔مگر پاکستان میں زمینداری باقی رہی پارلیمان میں ان کی اکثریت ہے انہوں نے اپنے فارمزمیکنائزڈ کرلیئے؟ اس لیئے کاشتکاروں کا گاؤں سے رشتہ ہی ختم ہو گیا وہ شہروں میں منتقل ہوکر گم ہوگئے؟ بات ختم۔ دوسرے سفید پوش ایسے کام یوں بھی نہیں کر سکتے کہ گوبر“ نجس“ہے۔ جبکہ حکومت FATF کی شرائط پوری کرنے کے لیئے مجبور ہے اور کوشش کررہی ہے کہ ملک پر پابندی نہ لگنے پائے جس کی ذمہ دار پرانے پاپی ہیں۔ مگر حزب اختلاف کہہ رہی ہماری شرائط ووٹ دینے کے لئیے یہ ہیں کہ پہلے ہمیں کلین چٹ دو ورنہ ہم قانون پاس نہیں ہونے دیں گے۔ رہی یہ بات کہ ملک پر پابندیاں لگ جا ئینگی تو ان کا خیال ہے کے سارے ملک ہمارے لئے ایک جیسے ہیں ہم دوسرے ملک میں چلے جا ئیں گے جہاں ہمارے بال بچے رہتے ہیں؟ ان کی اس سوچ پر دل قربان ہونے کو چا ہتا ہے۔کہ وہ اس ملک پر حکومت تو کرنا چاہتے ہیں جتنی بار انہیں موقعہ مل سکے مگر برے وقتوں میں ملک کے وہ کام نہیں آسکتے؟ جبکہ عوام انہیں کو ووٹ بھی دیتے ہیں۔ کو ئی بتلا ؤ ہمیں کہ ہم بتلائیں کیا؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

عمران خان کو مدینہ جیسی ریاست کے سلسلہ میں مشورہ۔۔۔شمس جیلانی

انہیں مشورہ دینا ہمار ے لیئے کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے انہیں کالمو ں میں دئیے ہوئے وہ مشورے ہمارے قارئین کو ابھی تک یاد ہونگے جو ہم انہیں ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے دیتے رہیں۔ اورجو ہماری ایک مطبوعہ کتاب میں ًشمس کے ایک سو ایک کالم ًمیں بھی موجود ہیں۔
بہت عرصے سے پاکستان کی حزب اختلاف کے سامنے ایک ہی مسئلہ مسلسل چلا آرہا ہے جوکہ ان کے ایجنڈے سے ہٹتا ہی نہیں ہے کہ عمران خان نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا وہ وعدہ پورا نہیں کیااور وہ بھی وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں کبھی کوئی ایساوعدہ پورا نہیں کیاجس میں انہیں کمیشن ملنے کے امید نہ ہو؟ اسی لئے انہوں نے اپنے معیار کے مطابق صرف بڑے پروجیکٹ بنا ئے جیسے کہ موٹر وے وغیرہ۔ یہاں تک تو خیر ہے کہ عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم نے وعدے پورے نہیں کیئے تو تم نے بھی نہیں کیئے لہذا معاملہ برابر ہے؟ مگر انہوں نے ایک کام ایسا کیا ہے جس کا انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور وہ ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ کہ“ میں پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا ؤنگا“ جس کی طرف ان دو سالوں میں وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکے؟مانا کے اس سلسلہ میں بہت سی دیدہ اور نا دیدہ رکاوٹیں حائل ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہرآنے والے نے اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ تو کیا مگر اسلامی نظام وہ ملک میں تو کیا اسلام آباد میں بھی نافذ نہیں کرسکا۔ اسی لئے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ“ بولنے سے پہلے تولو پھر بولو!“ قر آن کہتا ہے کہ“ مسلمانو ں! تم وہ بات کہتے کیوں ہو، جو کرتے نہیں ہو اور یہ بات اللہ کو سخت نا پسند ہے ً“ یہ اور بات ہے اورزمینی حقائق یہ ہیں کہ آجکل اکثر مسلمانوں کو جو بات نہ کرنا ہو تو اس پر انشا ء اللہ کہہ دیتے ہیں؟ شاید ان کے خیال میں ایسا کرنے سے کچھ بچت ہوجاتی ہو، جو ہمارے علم میں نہیں ہے؟ لہذا اس پر تبصرہ بھی نہیں کر سکتے۔ مگر عمران خان نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہو ئے یہ احتیاط بھی نہیں برتی، اس لیئے وہاں بھی بچت کی امیدکم ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو؟ ہمارا خیال یہ ہے کہ انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کرنا چاہیئے اور اپنی سی پوری کوشش کرنا چا ہیئے تا کے وہاں ان کی بچت ہوجا ئے اور وہ کہہ سکیں کہ مالک تو توجانتا ہے کہ میں نے اپنی سی پوری کوشش کی مگر میں کامیاب اس لیئے نہیں ہوسکا کہ ہر جگہ معافیہ میر ے آ ڑے آئی میں اکیلا بندہ کس کس سے لڑتا؟ جب بھی میں نے کوشش کی اسی صورت ِحال سے واسطہ پڑا کہ ع جن پہ تکیہ تھاوہی پتے ہوا دینے لگے۔ صرف یہ ہی نہیں ہوا بلکہ اندرونی خبریں تک جو میرے دست وبازو تھے وہ معافیہ کو پہنچا نے لگے۔ رہے عوام وہ بھی اسلام آباد میں پلاٹ تو سب چاہتے ہیں۔ کیونکہ بہت مہنگے ہیں اور وہاں پلاٹ ملتے ہی آدمی زمرہ امر اء میں ضرور شامل ہوجاتا ہے چاہیں اور کچھ ہو یانہ ہو؟ مگر عوام بھی اسلام آباد میں آباد ہونے کو تو سب تیار ہیں لیکن اسلامی نظام وہ بھی نہیں چاہتے ہیں۔ ان کا تو عجیب عالم ہے کہ وہ تجھے تو مانتے ہیں مگر تیرے احکا مات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ یہاں ان کے مفادات تیرے دین سے ٹکراتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے دور اقتدار کے گزشتہ دو سال میں کچھ کیا ہوتا تو اس صورت میں عمران خان کی تمام کو ششیں پروردگارِ عا لم کے ذاتی علم میں ہوتیں! پھر توکچھ معافی کی امید تھی اب وہ بھی نہیں ہے۔ کہ موصوف باطن میں یا ظاہر میں کہیں بھی اس سلسلہ میں کو ششیں کرتے ماضی میں بھی کہیں نظر نہیں آئے۔ اس لیئے میرے خیال میں اس کا حل ایک ہی ہے کہ ماضی کے بجا ئے حال اور مستقبل سے کام لیا جائے تاکہ وہاں کا بھی کچھ سامان ہوسکے؟ چونکہ پاکستان میں اس سلسلہ میں بڑے پیمانے پر تو کچھ کرنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس لئے پورے ملک کو چشم زدن میں مدینہ منورہ جیسی ریا ست بنانا تو نا مکن ہے؟ البتہ اسے پہلے چھوٹے پیمانے پر شروع کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہی۔ایک“ اسلامک ماڈل ولیج“ بلا تاخیر بنادیا جائے اور اس کا سنگِ بنیاد اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ رکھد یں اور باعمل مسلمانوں کو پورے ملک سے تلاش کرکے وہاں لاکر آباد کردیں۔ مجھے یقین ہے اتنے تو مل ہی جا ئیں گے کہ ایک گاؤں بس جا ئے؟ اور ان کی اپنی مقامی حکومت بنادیں اور اس طرح اسلامی نظام قائم کردیں۔ یہ مجھے علم تو نہیں ہے کہ وہاں اب جگہ ہے یا نہیں ہے جہاں آپ نے چند روز پہلے ایک مندر کا سنگ ِ بنیاد رکھا ہے تھا؟ اگر ہو تو اسی کے برابر میں جگہ بہترر ہے گی۔ چونکہ اس کی وجہ سے چہل پہل بھی رہے گی اور وہاں جو یاتری آیا کریں گے اسلامی نظام حیات دیکھ کر وہ بھی متاثر ہو نگے؟ اور آپ دنیا کو دکھا سکیں گے کہ اسلامی رواداری یہ ہے اور مسلمان ایسے ہوتے ہیں اور اسلامی ریاست اس طرح چلتی ہے۔ اس پر یہ عمل سونے پر سہا گے کا کام دیگا کہ آپ خود بھی اس میں چھوٹی سی رہائش گاہ بنا لیں اور جس طرح سے خلفا ئے راشدین رہتے تھے، ویسے ہی آپ بھی وہاں جا کر رہنے لگیں اگر روزانہ پنجگانہ نماز کی امامت بھی فرما ئیں اور وہیں آنے والے وفو کو بھی شرف بار یابی بخشیں تواور بھی اچھا ہو گا؟ اگر یہاں تک نہیں جا سکتے ہوں کہ پورا اسوہ حسنہ ﷺ اپنا لیں تو، جتنا بھی عمل کر سکتے ہوں وہ بہتر ہے۔ اگر ایسا کرسکیں تو امید ہے کہ وہاں بھی آپ کی بچت کا سامان ہوجا ئے گا۔ دوسرے یہاں بھی اس سے اسلام کو بڑا فروغ حاصل گا۔ اور یہ چھوٹا ساماڈل ولیج تبلیغ اسلام کا بھی ذریعہ بنے گا۔ بلکے وہاں سیا حوں کے لئے ایک ہوسٹل بنا دیا جا ئے کہ وہاں دنیا بھر سے سیاح آکر مسلم معاشرے کو قریب سے دیکھیں اورچاہیں تو اسلام پر تحقیقاتی کام بھی کریں۔پھر یہ مجبوری بھی جا تی رہے گی جو ابھی تک لا حق تھی۔ کہ لوگ کہتے ہیں ہمیں یہ دکھاؤ تو سہی کہ اسلام نافذ کہاں ہے۔ اس طرح یہ ماڈل ولیج آپ کے بخشش کا سامان اور صدقہ جا ریہ بن جا ئے گااور تاریخ میں آپ کا نام جگمگاتا رہے گا۔ ہماری دعا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرما ئے اور آپ کے مشن کو کامیاب کرے۔ (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

وہ مومن کیاجو رب کا رمز شناس نہ ہو۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں سب کچھ بتادیا ہے کہ کیا حرام ہے کیا حلال ہے۔بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں تو اس نے کچھ نہیں بتایا ہمیں تو جو کچھ بھی پہنچا نبیوں ؑکے ذریعہ پہنچا ہے ۔ حالانکہ ان کا یہ کہنا غلط ہے۔ آج کے دور میں جو دور تھے ان تک بھی سب کچھ پہنچ گیاہے؟ یہ جواز گذشتہ قوموں کے لئے تو ہوسکتا تھا۔ مگر ہمارے لئے ایساکہنا قابل عذر نہیں ہے اس لیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنا دین جب مکمل کرنے کا اعلان فر ما دیا تو صورتِ حال قطعی مختلف ہوگئی۔ جبکہ پہلے ہر شہر کے لئے اور ہر قوم کی طرف نبی ؑ بھیجے جاتے تھے ۔مگر خاتم النبینﷺ کو پورے عالم کے لیئے ہی نہیں بلکہ عالمین کے لئے رحمت اللعالمین (ص) بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اب کسی کو یہ کہنے کی گنجا ئش نہیں ہے کہ ہمارے پاس پیغام نہیں پہنچا کیونکہ آج میڈیا اتنی ترقی کر چکا ہے کہ اس نے جنگل اور بیابانوں تک میں بھی یہ خبر پہنچادی ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کا ہے اور آخری رسول محمد مصطفٰیﷺہیں۔ اس میں جو کثر رہ گئی تھی وہ اسلام مخالف لوگوں نے اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے پوری کردی کہ دنیا کو دنیا کواسلام کے بارے میںاتنا تجسس پیدا ہوا کہ جس کو نہیں بھی پتہ وہ بھی اسلام سے روشناس ہوگیا۔ اگر مخالف اتنا احسان نہیں کرتے تو شاید اتنی بیداری نہیں پیدا ہوتی، مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ جس سے جو کام لینا چاہے وہ لے لیتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری اس طرح پوری نہیں کی جس طرح کہ انہیں کرنا چا ہیئے تھی۔ کہ اب رسالت تو باقی نہیں رہی تھی مگر کاررسالت باقی تھا اور کام امت کو منتقل ہوچکا تھا۔ اس کو انہوں نےاتنی ہی تندہی سے انجام دینا تھا جیسی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی۔ جن لوگوں نے اس سلسلہ میں کوتاہی برتی قیامت کے دن ضرور انہیں جوابدہی کرنا پڑیگی۔ اس لئے اس کا جواب انہیں یہاں سے ہی سوچ کرجانا چاہیئے۔ کیونکہ برا ئیوں کا رو کنا حق کہنا برا ئی کو برا ئی سمجھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ دنیا ایسے لوگوں سے اب خالی ہوچکی ہے مگر چند دن پہلے ہمیں اپنے اس نظریہ سے رجوع کرنا پڑااور یہ ماننا پڑا کہ کچھ ذمہ دار لوگ دنیا میں ابھی تک باقی ہیں جو کام کر رہے۔ ہوا یہ کہ ہم حسب عادت ٹی وی گردی کر رہے تھے، کسی خبر کی تلاش میں کہ ایک جگہ اردو میں نیو اور انگریزی میں نیوز لکھا دیکھا۔ اور جب اسے کھولا تو ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ تھا جناب نصراللہ ملک کا شو جوکہ 21 جون کو براڈکاسٹ ہوا تھا اس میں جو مہمان تھے وہ وہی لوگ تھے جو زیادہ تر اسی ٹی وی سے وابستہ تھے اور خود کاروناکا شکار رہ کر واپس آئے تھے جن میں نصراللہ ملک صاحب خودبھی شامل تھے۔ اور وہ ڈاکٹر بھی تھے جو بجا ئے مریضوں کی جیب کاٹنے کہ انہوں نے ان کی رہنمائی کی اور بطور معالج انکی خدمات انجام دیںان میں ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی تھے۔ان کے منہ سے ہم نے بہت سی کام کی با تیں سنیں۔اور ساتھ میں یہ اعتراف بھی کہ یہ وبا ہمارے اعمالوں کی سزا ہے وہ کونسا برا کام ایسا ہے جو ہم نہیں کر رہے ہیں، بات یہ ہے کہ ہم نے حضور(ص) کی سنت چھوڑدی ہے۔اس لیئے ہم سے اللہ سبحانہ تعالیٰ ناراض ہے دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ سب سے زیادہ ہم حقوق العباد کو نظر انداز کیئے ہوئے ہیں جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے معاف کرنے کا وعدہ بھی نہیں کیا ہے۔ یہ وہ سبق تھا جو کہ ہم دنیا کو تمام زندگی پڑھا تے رہے ہیں اسے سن کر ہمارے دونوں کان کھڑے ہوگئے۔آفرین ہے ان لوگوں کو کہ انہیں یہ احساس ہوا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے ہم سے ناراض ہے۔ جبکہ پاکستان کے حکمراں اللہ سے وعدے کرنے اور کہہ مکرنے کی سنت پر قائم اور دائم بہتر سال سے چلے آرہے تھے اور وہ کارونا کےظاہر ہوتے ٹرمپ صاحب کے اتباع میں اس سے مستقل جنگ کرنے کی باتیں کر رہے وہ بھی آج پارلیمان میں آج یہ کہتے ہوئے سنے گئے ۔ کہ اللہ کا کرم ہے کہ ہم کارونا پرقابو پانے میں کامیاب ہورہے اور عوام نے اگر احتیاط برتی تو انشاء اللہ ہم جلد ہی کامیابی حاصل کر لیں گے جس سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ انہیں بھی احساس ہوگیا ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے۔ حالانکہ کہ وہ تو بہت ہی سمجھ دار شہری ہیں، شیر خوار بچے بھی ماں اور باپ کے رویہ سے فوراً جان جا تے ہیں کہ یہ ہم سے راضی ہیں یا نہیں ہیں۔ اب ہمیں بھی یقین ہوچلا ہے کہ اچھے دن آنے والے ہیں اگر وہ ان وعدوں پر قائم رہے جو انیوںنے مدینے جیسے ریاست بنا نے کے سلسلے میں کیئےتھے۔ کیونکہ رب کا ارشاد گرامی ہے قرآن میں کہ میں کسی کوسزا دیکر خوش نہیں۔ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سب لوگ پہلے سے رمز شناس ہوتے تو جیسے کہ یونس ؑ کی قوم اور اس کے سردار عذاب کی گھٹائیں دیکھ کر گھروں سے باہر توبہ کرنے کے لیئے نکل آئے تھے یہ بھی پہلے ہی نکل آتے۔اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹادیتا اور سب ہنسی خوشی اپنے اپنے گھروں کو پہلے دن ہی چلے گئے تھے۔اسی طرح پاکستان کے عوام اورخواص بھی چلے گئے ہوتے۔ مملکت ِ خداد اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی ذلت کاباعث نہ بنتے جیسے کہ گزشتہ کئی ماہ سے بنے ہوئے ہیں۔اسی پروگرام میں ان مریضوں نے یہ بھی بتا یا کہ جہاں جعلی پلازمہ کی ایک بوتل ایک لاکھ روپئےمیں فروخت ہورہی ہے۔ وہیں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جوکہ چپ چاپ مریضوں کو ساتھ لیکر نجی اسپتالوں میں جاتے ہیں اور مریضوں کے علاج اوردواؤں کے بل خود ادا کرتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ فوٹو سیشن کی ضروت بھی محسوص نہیں کرتے جوکہ وہا ں ہر مخیر کو مخیر کہلانے کے لئے لازمی سمجھا جاتاے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اسی طرح ہم سب کو کام کرنے توفیق دے۔( آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات۔۔۔۔شمس جیلانی

مقصود اس سے قطع تعلق نہیں مجھے۔قارئین گرامی آج آپ حیرت محسوس کریں گے کیونکہ آج میں اپنی ڈگر سے ہٹ کر عجیب کام کررہا ہو ں،مثلا ً مضمون کا عنوان وہ شعر چنا جو حضرتِ غالبؔ کے مقطع میں بغیر ان کی اجازت کے مقطع میں در آیا تھا جس کی کہ “ لفظِ آپڑی “ سے انہوں نے معذرت فرمادی تھی تاکہ نا دانستہ یا دانستہ طور پر کسی درباری پر زد پڑ رہی ہوتو وہ چلا نہ پڑے؟ چونکہ درباری چپقلش وہاں بھی زوروں شوروں پر تھی جیسے کہ حالیہ دور کے سارے اسلامی ممالک کہلانے درباروں میں ہے۔ وہاں بھی سلطنت گھٹتے گھٹتے “ از دلی تا پالم رہ گئی تھی “وہ بھی انگریزوں کے پاس ٹھیکے پر تھی۔ مگر حضرت بہادر شاہ ظفرؔ کہلاتے شہنشاہ عالم ہی تھے جوکہ دربار میں شعر کہتے اور اشعار سنتے تھے۔
پھر میں دور کی مناسبت سے القاب بھی مجھےقارئینِ گرامی! اختیار کرنا پڑا جو کہ آجکل متروک ہے۔ اس تمہید کے بعد اب آگے بڑھتا ہوں کہ کہیں اس چکر میں میرا آج کا کالم ہی ختم نہ ہو جا ئے اور حالات حاضرہ کے لئے جگہ ہی نہ بچے جو اس کالم کا اصل مقصد ہے۔ جیسے کہ ایک صاحب کسی درزی کے پاس شیروانی عید کے لیئے سلوانے گئے تو انہوں نے اس سے فرما ئشیں شروع کردیں کہ کپڑااگر بچے تو ایک ٹوپی بنا دینا اسی رنگ اور کپڑے کی اچھی لگی؟ اور ہاں ایک رومال بھی؟۔درزی نے تعمیل ِ ارشاد میں وہ سب کچھ کردیا جو ان کی فرما ئش تھی، مگر شیروانی کے بارے میں یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ حضور اس کے لئے کپڑا نہیں بچا؟
آئیے اب اصل بات کی طرف آتے ہیں؟ کہ ہم پاکستان میں آنے کے بعد ہمیشہ حزب ِ اختلاف میں رہنا پسند کرتے تھے۔ لہذا ہم نے کبھی کسی رہنما سے مار نہیں کھا ئی کیونکہ دنیا میں یہ کلیہ رائج ہے کہ خود کسی اچھی بات پر عمل مشکل ہے جبکہ نکتہ چینی کرنا سب سے آسان ہے؟ وہ ہم بھی ہمیشہ اطمینان سے کر رہتے تھے۔ اس مرتبہ جب عوام سے ایک لیڈر نے جس کا ریکارڈ حکومت میں آنے سے پہلے تک بہت اچھا تھا، مملکت ِ خدا د پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنا نے وعدہ کیا تو ہم بھی سچ سمجھ بیٹھے،اور اپنے ان چاربزرگ دوستوں! حسین شہید سہروردی، چودھر ی خلیق الزماں،نواب زادہ نصر اللہ خان اور حضرت مولانا وصی مظہر ندوی مرحوم کی طرح دھوکا کھا گئے اور ہم پاکستانی لیڈروں کی مجبوریا ں جانتے ہوئے بھی اس وعدے پر اعتبار کر بیٹھے اور اس لیڈر کی حمایت اپنے بوڑھے قلم سے کرڈالی؟ کیونکہ ہم بھی انسان تو ہیں اور انسان، نسیان سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ ہم سب کچھ اپنی یاداشت میں ایک کونے پڑا ہونے کہ با وجود یہ سمجھ بیٹھے کہ شاید اللہ سبحانہ تعالیٰ کو پاکستان کی حالت پر پھررحم آگیا ہو۔ اورجیسے کہ وعدہ خلافیوں کے با وجود وہ پہلے بھی نوازتا رہا ہے شاید اور ایک اور وعدے پر اعتبار کرلیاہو؟
اب ہم اس صورت حال سے گزرہے تھے جیسے کہ“ سانپ کے منہ میں چھچوندر نہ اگلنے کے نہ نگلنے کی“ ابھی اسی صورت ِحال سے دوچار تھے کیاکریں کہ نہ تو ہم جھوٹ بولتے ہیں نہ غلط لکھتے ہیں بہتر ہے یہ کالم ہی لکھنا چھوڑ دیں؟ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہماری بے بس پر رحم آگیا کہ کرونا جیسا “جر ثومہ“ دنیا کی خبر لینے کے لیئے بھیج دیا اور جو ملک خواتین کی نقابیں اتروا نے کے چکر میں تھے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کے مردوں کو بھی نقابیں پہننے پر مجبور کردیا اور جو لوگ فضول خرچی میں حاتم کو بھی پیچھے چھوڑ چکے تھے انہیں فضول خرچی چھوڑ نے پر بھی مجبور کردیا۔ ہم نے موقعہ غنیمت جانااور جو ہمیشہ سے ہمارا مشن ہے لوگوں کوحضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف رغبت دلائیں؟ لہذا اپنے مذہبی کالموں کے علاوہ دنیا کو اس کالم سے بھی ہم نے یہ سمجھانے کا بیڑا اٹھالیا کہ یہ عذاب ہے؟۔ ابتلا نہیں ہے اور اس کا حل اپنے آپ کو گناہ گار مان کر توبہ کرنا ہے کیونکہ معاف کرنا اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیاہ پسند ہے۔ تاکہ مسلمان توبہ کرلیں اور ان کی عذاب سے جان بھی چھوٹ جائے اور یہ غلط فہمی بھی دور ہوجا ئے کہ یہ ابتلا ہے؟اس کے لئیے ہم نے ایک مشورہ دیا! بشمول خود کہ اس کا فیصلہ بھی خود ہی کریں کہ ابتلا ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو پھر عذاب ہے۔ اور وہ امتحان یہ تھا کہ ہم سب ملکر اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈالیں اور جھانک کردیکھیں کہ ہم کوئی گناہ تو نہیں کر رہے ہیں اگر نہیں کر رہے ہیں تو یہ ابتلا ہے۔ خوش ہوجا ئیں کہ وہ امتحان لے رہا ہے مزید نوازے گا جیسا کہ اس کا دستور ہے؟ اور اگر اندر سے آواز یہ آئے اور ہمارا ضمیر یہ کہے کہ ہم سارے گناہ کر رہے کوئی بچا ہوا نہیں ہے؟ شاید کوئی چھوٹی سی اقلیت بچی ہو جس کا ہمیں پتہ نہ ہو؟ چونکہ اس امت کی بھول چوک معاف ہے؟ پھر یہ عذاب ہے اور فورا ً توبہ کرلیں۔ آئندہ کے لئیے حضورﷺ کا اسوہ حسنہ اختیارکرلیں جس کے لئے اللہ سبحانہ تعالی“ نے قرآن میں فرما یا ہے کہ “ تمہارے لئے تمہارے نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں بہترین نمونہ ہے۔ جبکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ “اسلام میں تہتر فرقے ہو جا ئیں گے۔ ان میں سے راہ راست پروہی ہوگا جو میرے یا میرے ﷺیا میرے ان صحابہؓ کے راستے پر ہوگا جو کہ آج میرے راستے پر ہیں“ ایک دوسری حدیث میں فرما یا کہ “صراط مستقیم (سیدھاراستہ) صرف میرا راستہ ہے۔ اس کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں ان کے پردوں کو اٹھاکر مت دیکھنا؟ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے“ ہمارا یہ معمول ہے ہم اپنا روز مرہ شروع کرنے پہلے نوافل پڑھتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں پھر کام شروع کرتے ہیں آج جو ہم نے قرآن کھولا تو ہمارے سامنے جو آیتیں کھلیں وہ سورہ آل ِ عمران کی وہ مشہور آیتیں تھیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق جن پرعامل ہمیشہ کچھ لوگ موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم ابھی تک عذاب بچے ہوئے ہیں؟ جبکہ حضور ﷺ نےحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک سوال کے جواب میں جس کی راوی حضرت عائشہ ؓ صدیقہ ہیں فرمایا تھا کہ “ہاں! اس امت پر بھی عذاب سرزنش کے طور پر آسکتا ہے اگر گناہ عام ہوجائیں اور کوئی برائی سے روکنے والانہ رہے“ سورہ آل ِ عمران کی جن آیات کا ہم نے ذکر کیا تھا 104سے 108 تک۔جن کا اردوترجمہ یہ ہے کہ ” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہیئے جو کہ بھلے کاموں کی طرف بلاتی رہے،برے کامو ں سے روکتی رہے یہ لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں 104۔ تم ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے باوجود تفرقہ ڈالا، انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے (105)جس دن بعض چہرے سفید ہونگے بعض سیاہ (سیاہ چہرے والوں) سے کہا جا ئے گا کہ تم نے ایمان لا نے کے بعد کفر کیوں کیا اب اپنے کفر کاعزاب چکھو۔اور سفید چہرے والے اللہ کی رحمت میں داخل ہونگے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے( 106) اے نبی ﷺ ہم حقانی آیتوں کی تلاوت کر رہے ہیں کہ اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں ہے( 107)اللہ ہی کے لئیے ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور اللہ کی طرف سب کام لوٹا ئے جا ئیں گے( 108)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

کیا بد نصیبی سی بد نصیبی ہے۔۔۔شمس جیلانی

میں نے اپنی اس طویل زندگی میں یہ خبر پہلی دفعہ پڑھی کہ کسی سعادتمند بیٹے نے اپنی بیوی کی مدد سے اپنی والدہ کی جان لے لی ہو۔ جوکہ کسی دیہات میں نہیں،پہاڑی علاقے میں نہیں رہتا تھا افریقہ یا آسٹریلیا کے کسی دشوار گزار جنگل کا رہنے والا بھی نہیں تھا۔بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت سے جڑواں شہر راولپنڈی کے محلہ صادق آباد کا رہنے والا ہے۔ جس طرح علماء اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں جتنے آئندہ قتل ہونگے وہ حضرت آدمؑ کے اس بیٹے کی طرح جس نے اپنے سگے بھائی کوقتل کیا تھا اُس کے بھی نام لکھے جا ئیں گے، یہاں بھی ان صاحبزادے کے کھا تے میں بھی ضرور لکھے جا ئیں گے۔ وہاں تو بھائی کا معاملہ تھا یہاں ماں کا معاملہ ہے جس کےقدموں میں جنت ہے جس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کا بیٹا اگر مسلمان ہو تو وہ اس کے سامنے اف بھی نہ کرے ،قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے چاہیں ماں کیسی بھی ہو۔ اگر وہ اسی حالت میں انتقال کرگئی تو بیٹے کی بخشش کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے کیونکہ وہ ان تین افراد میں شامل ہے جن سے اللہ سبحانہ تعالیٰ روزِ قیامت نہ تو کلام فرما ئیں گے، نہ انہیں معاف کریں گے اورانہیں ہمیشہ کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم قرار دیدیا جا ئے گا۔ یہاں بھی اور وہاں بھی کیونکہ یہاں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنا جو سالانہ در بار شبِ قدر میں منعقد فرماتا ہے جس میں کہ وہ بندو ں کے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے سوائے حقوق العباد کے، اس دن بھی اسے معاف نہیں کیا جا ئے گا جس سے کہ اسکے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں نا راض دنیا سے گئے ہوں۔رہا یہ بیٹا تو یہ کسی “ شریف “خاندان سے معلوم ہو تا جسے سات خون ہی نہیں بلکہ چودہ خون تک معاف ہیں، کہ اسے قبل از گرفتاری اس کی عبوری ضمانت حاصل ہوگئی؟ کوئی اچھا وکیل مل گیا ہوگا۔جوکہ اتنے بڑے ظالم کی ضمانت کے لئے کھڑا ہوا ہوگا اسی سے اپنے معاشرہ کا معیار اخذ فرما لیجئے۔کیونکہ مسلمان کے لیئے تو یہ ہدایت ہے کہ جو بھی کسی ظالم کی کسی طرح مدد کریگا وہ انہیں میں سے سمجھا جا ئے گا۔ اگر اللہ کے اسی ایک قانون پر قوم عمل کر لیتی تو سارے جھوٹے مقدنے ختم ہو جا تے کیونکہ پھر کوئی وکیل جھوٹا مقدمہ لیتا ہی نہیں، گواہ جھوٹے ملتے ہی نہیں جوکہ تھانوں مں بیٹھے ملتے ہیں لوئر کورٹس با ہر کھڑے دکھا ئی دیتے ہیں وکیلوں کے دفتر کے باہر مل جاتے ہیں۔ جیسے کہ کبھی کبھی وہاں بھی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی بڑے آدمی کے خلاف تمام وکیل مقدمہ لڑنے سے انکار کردیتے ہیں، گواہ گواہی نہیں دیتے لہذا مقدمہ ختم ہو جاتا ہے۔
آئیے بات ابتدا ء سے شروع کر تے ہیں۔ پہلے تمام والدین خود سے سوال کریں کہ کیا وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو حاضر اور نا ظر مانتے ہیں۔ اگر مانتے ہیں۔ تو پھر دنیا بھر کے گنا ہ وہ کیسے کرلیتے ہیں؟ انہیں یہ خوف کیوں نہیں ہوتا کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اگر ڈر نہیں لگ رہا ہے برا کام کرتے ہوئے۔ تو ماننا کس چیز کا نام ہے؟ یہ سوال بچوں کے والدین پر چھوڑتا ہو ں کیونکہ یہ برائی کی جڑ ہے۔ بچہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر بچے بچپن سے ہی اپنے والدین کو برا ئی کر تے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں َ۔البتہ
؟ اسے کبھی کبھی اللہ سے بھی ڈراتے ہیں جبکہ وہ خود نہیں ڈرتے؟ سوچئے یہ آپ کیا سکھا رہے ہیں اس سے آگے چل کر نتا ئج کیا مرتب ہو نگے؟ اور آپ آگے چل کر اس سے خود محفوظ نہیں رہ سکیں گے جوکہ وہ آپ کی دو عملی دیکھ کر سیکھے گا۔ یہ مشہور محاورہ تقریبا ً سب نے سنا ہو گا کہ “ جیسی کرنی ویسی بھرنی “جب ہماری نگا ہو ں سے یہ خبر گزری، تو ہمیں ایک خاتون کا تبصرہ نظر آیا کے ہم ایسا ظلم کر تے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے اور پھر ہم شکا یت بھی کرتے ہیں کہ ہمارے اوپر ظالم حکمراں مسلط کر دیئے جا تے ہیں “ لیکن یہ کلیہ عام نہیں ایسا جبھی ہوتا ہے جبکہ تمام بندے نا فرمان ہو جا ئیں تو وہ سزا کے لیئے بطور عذاب ایسے حکمراں مسلط کردیتا ہے۔ لیکن عام طور پر یہ ہی ہو تا ہے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمراں ہو تے ہیں؟ اگر میں اس پر بات کرونگا تو مضمون بہت طویل ہو جا ئے گا؟ لہذا بجا ئے میں تفصیل جا نے کہ اس کا حل پیش کرتا ہوں۔
پہلا کام تو یہ کیجئے کہ بچوں کی اگر صحیح تربیت کرنا ہے تو خود دین پر عامل ہو جا ئیے اور ہر معاملہ میں اللہ کی بات مانیے۔ جوکہ قرآن کی شکل میں موجود ہے۔ اسی میں یہ لکھا ہوا ہے۔ لا الہ کے ساتھ محمد ﷺ رسول اللہ کو بھی مانو! جب آپ حضور ﷺ کوما نیں گے تو پھر کسی اور کی آپ کو ضرورت نہیں پڑیگی؟ کیو ں کہ انہیں ﷺ نے احکمامات پر عمل فرماکر کے دنیا کو دکھا یا ہے۔یہاں بھی قرآن سے ہی ہدایت لیجئے وہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ“ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں بہتریں نمونہ ہے “ ان کی سیرت کو پڑھئے اور اس پر عامل ہو جا ئے۔ پھراسی راہ پر اپنی اولاد کو بھی چلا ئیے تو پھر دیکھئے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق آپ کو نوازتا ہے یا نہیں۔ جب بچے اس طرح پرورش پا ئیں گے۔تو نہ وہ اپنے حقوق چھوڑیں گے نہ دوسروں کے حقوق کو چھیڑیں گے۔ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ دن بھر جھوٹ بولنے،جھوٹی قسمیں کھانے کے بجائے سچ پولیں۔ چونکہ وہ سب کے حقوق پہچا نیں گے اور ادا کرنے کے کی کوشش بھی کر یں گے تو صحابہ کرامؓ کی طرح وہ اللہ سے ڈریں گے بھی۔ پھر نہ ساس بہو ؤں کی لڑائیا ں ہو نگی، نہ بھائی، بھائیوں میں لڑا ئی ہو گی۔ تب اولاد آپکے لیئے وہی دعا مانگا کریگی جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اولاد کو سکھا ئی ہے۔ کہ اے اللہ ہمارے والدین پررحم فرما جیسا کہ ہمارے بچپن میں انہوں نے ہماری پرورش فرمائی۔ (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

پاکستان مسائلستان کیوں اور کیسے بنا۔۔۔شمس جیلانی

یہ بہت بڑا موضوع ہے اگلے ہفتے سہی، یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کئی ہفتے چل جا ئے! چونکہ آجکل نیب میں اصلاحات پر بہت زور ہے۔ کیوں؟ اس پر رانا ثنا اللہ صاحب جیسے لوگ ٹی وی پر اظہار ِ خیال روز فرما رہے ہیں، مباحثہ جاری ہے وہاں آپ جاکر سن لیجئے بہت کچھ آپ خود اخذ کر لیں!ہم بھی اس میں اپنا حصہ بٹانے کو اولیت دیدیتے ہیں اور آج اس پر ہی بات کر لیتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ اس ادارے کو بنا نے والے نے اسے کسی اور مقصد کے لئے بنا یا تھا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں ان کے آقائے ولی نعمت بھی شامل تھے؟ اس طرح کے کاموں کے لئے یہ ادارہ بالکل صحیح تھا اور اس نے بڑا اچھا کام بھی کیا اور وہ کام یہ تھا کہ حزب اختلاف کے سرکشوں کو اس کے ذریعہ زیر کیا جا ئے؟ چونکہ اس کے بنانے کے بعد اس کے یوم ِ تاسیس سے لیکر کافی عرصے تک اس میں بحریہ کے افسر آتے رہے ان کی وجہ سے ہر شہر میں بحریہ ٹاؤن بن گئے۔ پھر ایک آرمی کے جنرل کوآخر میں منہ کامزہ بدلنے کے لیئے لایا گیا جو کہ اس ادارے کا سب سے اچھا دور تھا؟ مگر ان میں خرابی یہ تھی کہ وہ کسی کی سنتے نہیں تھے؟ پھر ایک افسر شاہی کا آفیسر لے لیا تاکہ اس کو آزما دیکھیں کہ کیسا چلتا ہے؟ اس نے اپنا وقت بڑا اچھا گذاراکہ وہ کسی کی بات ٹالتا نہیں تھا لہذا بے ضرر تھا۔ ان میں سب سے اچھا دور جنرل امجد صاحب کا تھا جن کی وجہ سے مشرف صاحب کا امیج دنیا میں بہت اچھا بنا کیونکہ ان کی ایمانداری مشہور تھی اور وہ تھے بھی ایسے ہی یعنی اندر اور باہر سے ایک؟ اس زمانے میں ہم نےاپنے انہیں صفحات میں کنیڈین ہائی کمشنر برائے پاکستان کے الفاظ تحریرکئے تھے جن کو ہم کئی بار دہراچکے ہیں کیونکہ اس نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا تھا کہ انہوں نے یہاں ہمارے شہر رچمنڈ میں مقامی لبرل پارٹی کی میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ “ میں یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مشرف صاحب کی کابینہ میں کوئی وزیر کرپٹ نہیں ہے “ البتہ جنرل امجد صاحب کی سختی کی وجہ سے اس وقت کے سیاستاں بھی ان سے شاکی تھے آج کی طرح سیاستداں بھی شاکی تھے اور بقول انکے ان کا انسانی حقوق کا ریکارڈ درست نہیں تھا ؟ وہ بھی اس مسئلہ پر شاکی تھے جس کا انہوں نے بھی بر سر ِ عام اظہار بھی کیا تھا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی بنا ئی ہے کہ اپنو ں میں سے ہی اپنا جیسا حکمراں مانگتا ہے حتیٰ کہ نبیؑ بھی اپنا جیسا ہی چاہتا ہے کہ مکہ کے کفاروں کو شکایت تھی کہ اس نے ہم میں سے کسی کونبی ؑ کیوں نہیں بنا یا؟ حالانکہ نبوت سے پہلے اپنے اعلیٰ کردار کی وجہ سے حضورﷺ ان سب کو قابل ِ قبول تھے جو متعدد واقعات سے ثابت ہے؟ لیکن جب انہیں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا نظر آیا اور اس کے نتا ئج سمجھ میں آئے تو سب ان کےﷺ جانی دشمن ہو گئے۔ دیکھا آپ نے جب کسی کو ذرا سی بڑائی مل جا ئے تو وہ اپنے آپکو کتنا بڑا آدمی سمجھنے لگتا ہے حالانکہ وہ اپنی حقیقت خود جانتا ہے وہ ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ نبی کا کام اور شیطان کا کام اور ہے؟
آخر میں ولی نعمت سے غلطی یہ ہوگئی وہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو بطور چیر مین لے آئے چونکہ ہوا بدل چکی تھی اور انصاف کی چل رہی تھی،ریاست مدینہ منور ہ کا نعرہ گونج رہا تھا۔ ہر اک منتظر تھا کہ وہ کب قائم ہوگی! کیونکہ ریاست مدینہ اپنے انصاف کے لیئے دنیا میں بھر میں مشہور ہے؟
جج آخر جج ہی ہوتا ہے۔ جج صاحب نے سوچا ہوگا کہ وہ بھی تاریخ نام پیدا کر جا ئیں؟ انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی تو ان کا پہلا ہاتھ انہیں لا نے والوں پر پڑا کیونکہ انہیں پہلے سے جانتے تھے! پھر دوسرے پر؟ جبکہ یہ ادارہ اس مقصد کے لیئے بنا ہی نہیں تھا۔ یہ تو ڈرانے دھمکا نے اور کچھ مال نکلوانے کمانے کے لیئے بنا تھا؟موجودہ چیر مین صاحب نے اسے ادارہ انصاف بنا نے کی کوشش کی جبکہ اس محکمے کی تربیت ہی ان بنیادوں پر نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس میں اللہ کے بندے بہت کم تھے؟ یعنی یوں سمجھ لیں بمشکل دال میں نمک کے برابر۔ باقی پورے عملے کی یہ حالت تھی کہ ہرکوئی کسی نہ کسی کا بندہ تھا جوکہ اسے یہاں اپنے مقاصد کے لیئے لایا تھا؟ وہ ملزموں کوپہلے ہی سے پل پل کی خبر پہنچا رہے تھے اور مقدمات بھی ویسے ہی بنا رہے تھے۔ جیسے کہ ہمیشہ بنا تے آئے تھے؟۔ وہ عدالتوں میں جاکر چھوٹتے رہے یا انہیں ضمانتیں ملتی رہیں۔ رہی حکومت جو احتساب کا نعرہ لگا کر آئی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح “ بے بس“ تھی جبکہ شروع سے پاکستان کی تا ریخ یہ ہی ہے کہ “ بس “ کسی اورکے پاس ہوتا ہے اور حکومت کسی اور کے پاس ہوتی ہے۔ اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اس ادارہ میں خرابی کیا ہے؟ خرابی یہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ قائدہ ہے کہ شروع میں ہر ملزم کے خلاف تحقیقات خفیہ ہوتی ہے۔؟جس میں کسی کو کانو ں کان خبر نہیں ہوتی۔ پھر وہ فائل وکیلِ سرکار کے پاس جاتی ہے اور وہ پڑھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ مقدمہ اس قابل ہے جو عدالت کے سامنے جب پیش کیا جا ئے تو ملزم سزا بھی پا جا ئے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو وہ اس پر یہ لکھ کر واپس بھیجدیتا ہے کہ ثبوت نا کا فی ہے، مزید ثبوت فراہم کرو ورنہ اسے داخل دفتر کردو؟ یہاں اس کا الٹ ہے کہ بعض اوقات پہلے ملزم کو اندر کر دیتے ہیں۔ بعد میں ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ یا پھر وعدے معاف گواہوں پر اعتبار کرلیتے ہیں جوکہ ملزمان خدمت ِ خلق کے جذبے کے تحت خود ہی اکثر فرا ہم کردیتے ہیں اور وہ آگے چل کر مکر جا تے ہیں۔ جبکہ جو سچے ہیں اور جذبات میں آکر وعدہ معاف گواہ بن جا تے ہیں؟ یہ سب عموماًبال بچو ں دار ہوتے ہیں؟انہیں جب دھمکیا ں ملتی ہیں تو اپنے یتیم ہونے والے بچے اور بیوا ئیں یاد آجاتی ہیں۔ وہ بھی عدالتو ں میں جا کر اپنے بیان سے پھر جا تے ہیں۔ رہے جج اورعدالتیں وہ ثبوت پر فیصلے کرتے ہیں جب مقدمہ ہی کمزور ہے اور انصاف کے تقاضے ہی پورے نہیں ہورہے ہیں تو جج کیا کریں گے۔ یہ ہی کہ یا تو انہیں ضمانت پر رہا کردیں یا بری کردیں۔ میں نے جو کچھ عرض کیا آپ ذرا غور سے پڑھیں تو سب کچھ سمجھ جا ئیں گے۔ اب رہا اس میں تر میم کا مسئلہ تو اس پرحکومت اور اپوزیشن کبھی دونوں متحد نظر آتے ہیں کبھی نہیں؟ وجہ یہ ہے کہ دونوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ جوکہ ایک دوسرے سے قطعی متضاد ہیں۔ حکومت کواپنے ساتھ ملک کا مفاد بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ جبکہ اپوزیشن پہلے اپنے مفا دات دیکھتی ہے پھر ان کے مفادات کا بھی خیال رکھنا جہاں سے فنڈ لیئے ہوتے ہیں؟ مثلاً ایک تجویز حزب اختلاف کی طرف سے آئی کہ منی لانڈرنگ جو ہے وہ NAB سے واپس لے لی جا ئے۔ چونکہ انکی کی اسی میں بچت ہے۔ مگر پاکستان کو اس سے زبردست نقصان پہنچے گا اور FAFT سے کئے ہوئے حکومت وعدے پورے نہیں کرسکے گی اور ملک بلیک لسٹ ہو جا ئے گا۔ لیکن اس میں اپو زیشن کا کیا بھلا ہوگا وہ وہی بتا سکتے ہیں یہ انہیں سے پوچھ لیں جو ایک پنتھ دو کاج کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے۔ میں ترمیم پر بات یہیں پر ختم کرتا ہوں کیونکہ ترامیم لا محدود ہیں اور اخبار کے کالم محدود ہیں۔

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

مسلمانوں اللہ کا پیغام پہنچاتے ہو ئے شرما تے کیوں ہو؟ شمس جیلانی

جبکہ تمہیں پہنچا نے کا حکم ہے؟ ہم نے کامران خان کے ایک حالیہ پروگرام میں، عجیب تماشہ دیکھا کہ وہی صاحب جن کا ذکر ہم نے نصر اللہ خان کے ایک گزشتہ پروگرام میں سن کر بڑے فخر سے کیا تھاکہ “ وہ بار بار اللہ سبحانہ تعالیٰ کا نام لے رہے تھےاور قوم کو توبہ کی تلقین کر رہے “ جوکہ نصر اللہ خان صاحب نے اپنے اور کچھ دوسرے صحافیوں کے کرونا سے صحت یابی کے سلسلہ میں بطور تشکر ترتیب دیا تھا اور ان کا کردار بھی بتایا تھا؟ مگر آج وہی صاحب بہت ہی پریشان دکھا ئی دے رہے تھے۔ کیونکہ کامران خان کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح ان کے منہ سے نکل والیں کہ “پاکستان پر یہ اللہ کا کرم ِخاص ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد روز بروز کم ہو تی جا رہی ہے۔ اور دنیا اسے حیرت سے دیکھ رہی اور جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان میں ایسا کیوں اور کیسے ہورہا ہے؟ مگر انہوں نے تمام سائنسی تفصیلات توبتلادیں حتیٰ کے یہ بھی بتا دیا اس کی وجہ حالیہ با رشیں بھی ہو سکتی ہیں ،کیونکہ بارش سے نمی بڑھ جاتی ہے اور جرثومے کا پھیلا ؤ رک جا تا ہے؟ مگر یہ انہوں نے قبول کر کے نہیں دیا جس کی کامران خان صاحب مستقل پٹی بھی دکھا رہے تھے کہ “ یہ اللہ کی مہربانی ہے اللہ کاکرم ہے “ حالانہ کہ وضع قطع سے جیسے کہ وہ دکھائی دے رہے تھے، بشرع مسلم ہونے کی وجہ سے ان کا پہلا جواب یہ ہی ہونا چا ہیئے کہ بے شک اللہ کا ہی فضل و کرم ہے۔ کیونکہ اب تو ورلڈ ہیتھ آرگنا ئزیشن کی ترجمان نے بھی کہدیا ہے کہ“ یہ ایسا جرثومہ نہیں ہیں جوموسم کے تغیرات کے ساتھ خود بخود مرجا ئے اس کا حل یہ ہی کہ اسے کسی طرح ماردیا جا ئے؟ ان کے اس اعتراف میں صرف یہ ایک کمی رہ گئی تھی (مارنے اور جلانے والاکوئی اور ہے۔) یہ اور بات ہے وہ بھی ہمارے ان صاحب کی طرح کسی وجہ سے کھلم کھلا اعتراف نہیں کر رہی ہوں ،یا انہیں علم ہی نہ ہو؟ البتہ اس میں ہم مسلمانوں کی طرف سے یہ اضافہ کر سکتے ہیں کہ اکثریت نہ سہی چھوٹی سی اقلیت ہی سہی دن میں وہ پانچ دفعہ وضو کرتی ہے نماز کے لیے یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور، یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی تھی کہ پیغمبر اسلامﷺ کی باتیں جنہیں حدیث کہتے ہمیشہ حکمت پر مشتمل ہوتی ہیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں بھیﷺ ان تمام علوم سے واقف کرا دیا تھا جوکہ ان کے منصب کے لیئے ضروری تھا۔ اور وہ ﷺ اسے اپنے اسوہ حسنہ کی شکل میں دنیا کی رہنمائی کےلیے چھوڑ گئے ہیں جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نےامت کے لیئے نمونہ قرار دیا ہے؟ جبکہ ہم نے اسے بھلا دیا ہے؟ انشا ءاللہ یہ راز دنیا کی رہبری کے لئے قیامت تک وقتا ً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔ اس کے ثبوت بہت سے ہیں جوکہ آج بھی حدیثوں اور انکی (ص) سیرت کی شکل میں محفوظ ہیں۔ مگر ہم طوالت کے خوف سے صرف ایک حدیث پر اکتفا کرتے ہیں کہ “جہاں طاعون پھیلا ہو ا ہووہاں سے لوگ دوسرے شہرو ں کی طرف نہ بھا گیں، وہیں رکے رہیں اور دوسرے شہروں کے لوگ وہاں نہ جا ئیں جہاں طاعون پھیلا ہو؟۔ یہ کلیہ انہوں(ص) نے متعدی بیماریوں کے سلسلہ میں بتادیا تھاکیونکہ لوگ اس وقت تک متعدی بیماریوں میں سے صرف طاعون کو جانتے تھے۔ اس سے جو چیز ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے وہ (ص) سب کچھ جانتے تھے؟ جوکہ اس سے بھی ثابت ہے کہ انہوں نے ایک دوسری جگہ فرما یا کہ قرب قیامت بہت سے امراض ایسے سامنے آئیں گے۔ جن کا کوئی نام نہیں ہوگا۔ ایسے امراض ہمارے سامنے آتے رہے اور دنیا کے ڈاکٹر اورطبیب بعد میں ان کونام دیتے رہے۔ اسی قر آن کی آ یت میں فرمان ِ باری تعالیٰ ہے کہ“ ہم نے پہا ڑ جیسے جہاز بنا ئے اور دوسری بھی سواریا ں جو تم نہیں جانتے “یہ سب اور ایسی بہت سی آیتیں اور احادیث اسلام کی حقانیت کی دلیل ہیں۔ مگر نہ جانے کیوں ہم خود کومسلمان کہتے ہوئے شرما تے ہیں، ان کا ذکر کہیں آجا ئے تو پہلو بچا تے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے پہلی والی بات پر کہیں ان صاحب پر کسی نے پھبتی نہ کس دی ہو؟ اور دوبارہ وہ بات حفظ ما تقدم کے طور پر نہ کہنا چا ہتے ہوں جو کہ کامران خان ان سے کہلوانا چا ہ رہے تھے واللہ عالم۔
اس سلسلہ میں پاکستانیوں اور پاکستان کاپہلے بھی ریکاڈ کو ئی اچھا نہیں رہا ہے وہ بار بار اپنی بات سے پھرتے رہے ہیں۔ جبکہ حق تعالیٰ بار بار انہیں معاف کرتا رہا ہے۔ اگر میں آپ کو گنا نے پر آؤں تو بہت سی چیزیں گنا سکتا ہوں؟ اسی طرح اس کرونا کو بھی اپنی عادت کےمطابق پاکستانی جلد ہی بھو ل جا ئیں گے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کو انہیں یاد دلانے کے لیئے اپنی سنت کے مطابق جوکہ قرآن میں بیان ہوئی ان کی سرزنش کے لیئے پھر کوئی کرونا سے بھی زیادہ موثر بلا بھیجنا ہوگی، یہ کیوں بار بار آتی ہے وہاں کے باشندے وجہ جانتے ہیں میں بتا ؤنگا تو ناراض ہو جا ئیں گے۔ حالانکہ اس دفعہ ہی اگر وہ توبہ کرلیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ کہ صلاۃ التوبہ کی قیادت عمران خان کرتےاور انکا بھرم بھی رہ جاتا کہ وہ بھی مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے خلیفہ دوئم حضرت عمر (رض) جیسے ایک فعل کے مرتکب ہو تے۔ جبکہ حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں بارش نہ ہونے پر صلاۃ استسقا پڑھی تھی؟ وجہ یہ تھی کہ اس سال بارش نہیں ہوئی تھی۔ اور حضورﷺ کے اتباع میں انہوں نےیہ سنت اپنائی تھی جبکہ اس وقت اور بھی بہت سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ موجود تھے جو اس نماز میں سب کے سب شریک تھے۔ ان سب کے پیش نظر وہ حدیث تھی کہ “ کہ وہ مومن جس نے میری ایک سنت زندہ کی اسے قیامت تک اس کا ثواب ملتا رہے گا “یہ تھے با عمل مسلمانوں کے افعال جو مدینہ میں اس وقت آباد تھے ۔ جب کہ صرف مسلمان کہلانے کی بات اور ہے؟ جس پر سورہ الصف میں اللہ سبحانہ تعالیٰ تنبیہ فرمارہا ہے کہ “ اے ایمان والو! ایسی بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو، اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے۔ (الصف۔1 -,2)
دوسرے کامران خان نے اپنی روایات بر قرار رکھتے دوسال میں موجودہ حکومت نے کیا کیا کام کیئے انہوں نے سب گنا ئے، جبکہ ہم بھی حزب اختلاف کے پرو پیگنڈے سے اتنے مٹاثر تھے کہ جیسے موجودہ حکومت نے کچھ کیا ہی نہیں ہے؟ اور یہ بھول گئے تھے کہ جمہوریت میں حزبِ اختلاف کا کام برا ئیاں بیان کرنا ہے۔ کامران خان نے اس کے ثبوت میں وزیر اعظم اور سپہ سالار اعظم کے بیا نات کے ویڈیو بھی دکھا ئے جس میں وزیر اعظم نے فرمایا کہ “ ہم اور سارے محکمے ایک پیج پر ہیں اور یہ کہ ہمیں وہ رویہ کہیں نہیں ملا جس کا ذکر پچھلی حکومتیں کر تی رہتی تھیں اور اسی قسم کے خیالات کا اظہار سپہ سالار اعظم نے بھی کیا۔ اگر واقعی ایسا ہے۔ تو مجھے یہ کہنے میں عار نہیں ہے کہ اب پاکستان کا اچھا دور وآنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شاید ایک مو قعہ اور عطا فر مادیا ہے۔ اگر دونو ں لیڈرملکر اس کا شکر یہ بھی ادا کرلیں تو سونے پہ سہاگہ ہوگاکہ سورہ ابرا ہیم میں آیت نمبر 7کے مطابق اللہ سبحانہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ“ اگر تم شکر کرو گے تومیں تمہیں اور زیادہ دونگا۔ اور اگر کفر کرو گے تو میرے عذاب بھی شدید ہیں۔ تو کیوں نہ یہ دونوں اپنے ہاتھوں سے اس کے صرف انعامات سمیٹیں! بجا ئے بلاؤں کے کہ کبھی ٹڈی دل چلا آرہا ہے اور کبھی کارونا۔ اس سے زیادہ اپنے وعدوں کا پابند کون ہوسکتا ہے۔ مگر اس میں شرط یہ ہے کہ جتنا نیک نیتی سے عمل کریں وہی عمل قابل ِقبول ہے۔ زبانی نہ توبہ قبول ہے نہ ایسے وعدے قبول ہیں جن پر بعد میں عمل نہ کیا جا ئے۔ اس کے لیئے رہنما ئی چا ہیئے تو الما ئدہ کی آیت ایک کی تفسیر دیکھ لیں۔ لہذا حتیٰ الامکان اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں؟البتہ جہا ں مجبور ہو جا ئیں تو وہا ں رخصت بھی اس نے رکھی ہوئی ہے؟ کیونکہ وہ نیتوں کا جاننے والا ہے اور اپنے بندوں کو بشرط ِ حقیقی مجبوری رخصت کی اجازت بھی دیتا ہے۔
اس کے بعد انہو ں نے جو تفصیلات دی ہیں بہت ہی خوش آئند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں رہنماؤں کو اپنی کوششوں میں کامیاب کرے، بہتر یہ ہی ہے کہ دونوں آپس میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہونے دیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بس اسم ِ با مسمیٰ بنا دیں کیونکہ تہتر سال کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا پرو گرام نہیں چلے گا؟ اس لیے کہ یہ اسلام کا مزاج ہی نہیں ہے وہ تو پورا پورا اسلام میں داخل ہونے کو کہتا ہے۔ اسلام میں جمہوریت ہے ضرور لیکن اسلام کے دائرے میں رہتے ہو ئے؟ چونکہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور اٹھانوے فیصد آبادی بھی مسلمان ہےاور یہ بات تجربے سے ثابت ہوچکی کہ سویلین بغیر فوجی مدد کے وہاں کوئی کام نہیں کرسکتے چاہے نالوں کی صفائی ہی کیوں نہ ہو؟ اس لئے یہ ضروری ہے کہ دستور کو ایسے سانچے میں ڈھالا جا ئے کہ کوئی کام نہ رکے اور ریاست بخوبی چلتی رہے۔ ہاں ایک بات اور کہتا چلوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ جو ہیر پھیر کریگا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھے(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

ہم شکر گزاری کب سیکھیں گے۔۔۔شمس جیلانی

میری طرف سے قوم کو یوم استقلال ِ پاکستان مبارک ہو! میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھاکہ پاکستان کے دونوں رہنما اگر کرونا کی ہلاکتوں کے کم ہونے پر اجتماعی نماز شکرانہ ادا کرلیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اسی بات کو آج۴۱ اگست کو پھر دہرا رہا ہوں۔ مگر مشکل یہ ہے ہمیں اس طرح شکر کرنا جس سے اللہ سبحانہ تعالیٰ راضی ہو پاکستان کے حصول سے پہلے تک تو یاد تھا، بات بات پر نماز شکرانہ پڑھتے تھے مگر وہ شب و روزاب کہاں۔ وہ شکر کا مفہوم اب کہاں؟ قوم تہتر سال میں جس ڈگر پر لگا یا گیا وہ شکرانہ بھی بذریعہ لہو لعب شکر ادا کرتی ہے اور با قاعدگی سے کرتی آرہی ہے۔ اگر وہ دونوں نماز ِ شکرانہ ادا کرنے کے لیئے تیار بھی ہوجا ئیں تو نمازی کہاں سے لا ئیں گے؟ وہ تو بغیر پیسوں کے ملیں گے ہی نہیں کیونکہ اب قوم کوئی بھی کام بغیر پیسوں کہ یا ذاتی مفاد کے کر نے کو تیار نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں نا شکری کا ہمیں اس سے اندازہ ہوا کہ سوشیل میڈیا پر ایک صاحب کے ارشادات ہم نے لکھے دیکھے کہ ً جناحؒ ہمیں جہنم میں جھوک کر چلا گیا ً جبکہ قوم کو قائد ِ اعظم کا شکر گزار ہونا چا ہیئے تھا؟ اس لیے کہ ہمیں حکم بھی یہ ہی ہے کہ ہمیشہ اپنے سے کم تر کی طرف دیکھو تاکہ سر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے مزید انعامات کے حصول کے لئے شکرانے کے طور پر جھک جا ئے اور وہ اور عطا کرے جیسا کہ اس کاوعدہ ہے۔ کہ جو شکر کرتا اس کو میں زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتا ہے تو میرا عزاب بھی شدید ہے۔ لیکن ہم نے تو جھکنا سیکھا ہی نہیں ہے ہر ایک کی گردن میں سریہ پڑا ہوا ہے گردن کسی کی جھکتی ہی نہیں ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بند ے کی تعریف یہ کہہ کر فرمائی ہے کہ ً وہ زمیں پر انکساری سے چلتے ہیں۔ جبکہ دعویٰ ہمیں سب کو اس کا بندہ ہونے کا ہے؟ مگرکتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم آج کشمیر کے مسلمانوں کو ایک سال سے انڈیا کی قید میں دیکھ رہے ہیں۔ پورے ہندوستان میں روزانہ مسلمانوں کی جو درگت بن رہی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے دو دن پہلے ہی ہم نے پڑھا ہے کہ بھارت کے شہر بنگلور میں کسی نے توہیں رسالت کی اور جب جانثاران رسولﷺ نے احتجاج کیا تو انڈین پولیس نے مسلمانوں کوجیلو ں میں بھر دیا اور نہتے لوگوں پر گولی چلادی، کئی جانثاران ِ رسولﷺ جان سے چلے گئے۔ قوم کو یہ دیکھ کرسجدے میں گر جانا چا ہیئے کہ ہم اور ہماری نسلیں تہتر سال سے آزادی کا مزہ لوٹ رہی ہیں۔ ان سب نعمتوں کے با وجود آنکھں نہیں کھلیں قوم کی پھر کیسے کھلیں گی۔ کہیں ذرا سی بھی ان میں اطا عت کی رمق پیدا نہیں ہوئی۔ جبکہ اللہ شروع دن سے فرمارہا ہے۔ کہ تم میرے فرمانبردار بن کر دیکھو میرے نبی ﷺ بات مان کر دیکھو! میں تمہیں نہ صرف مالا مال کردونگا جیسے کہ تمہارے بزرگوں کو کیا تھا۔ بلکہ سارے پچھلے گناہ بھی معاف کردونگا اور تمہیں جنت الفردوس میں لے جا کر بساؤنگا جس میں نہریں بہہ رہی ہونگی۔ مگر ہم وہاں پہنچ چکے ہیں جہاں کہ ایسی کوئی برائی نہیں بچی جو نہ ہوتی ہو۔ آج جو ہماری حالت ہے خصوصاً پاکستان کی وہ مجھ سے پوچھنے کے بجا ئے اپنے آپ سے پوچھیں؟ یا روزانہ سپریم اور ہا ئی کورٹ کے ججوں کے ریمارک پڑھ لیں۔ تاکہ پتہ چل جا ئے کہ وہاں کیاہو رہااور اسے جہنم کس نے بنا یا ہے۔؟جبکہ میں نے پاکستان کو بنتے ہوئے دیکھا ہے اس کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ مگر یہ ملک اس وقت تو جہنم نہیں تھا؟ جہنم کس نے بنا یاہماری ہی ہوس ِ زر نے ہماری نا فرمانیوں نے؟
جبکہ آخری وقت کسی کو امید نہیں تھی کہ پاکستان بنے گا ساتھ رہنے کی معاہدے ہوچکے تھے آل انڈیا ریڈو دہلی سے اعلان ہوچکا؟ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے، حالات ایسے پیدا پیدا کر دیئے کہ اب دشمن خود کہہ رہا تھا کہ ً پاکستان لو اور ہماری جان چھوڑو ً جبکہ ہم مزید وقت مانگ رہے تھے کہ ہمیں ۸۴۹۱ تک کا وقت دیا جا ئے۔ اگر وہی قائد ِ اعظم اپنی سیاسی فراست کی بنا پر، اس وقت یہ ٹوٹا پھوٹا پاکستان نہ لے لیتے تو بعد میں ہمارے پاس بھی کہنے کے لیئے بقیہ ہندوستان کے مسلمانوں کی کچھ بھی نہ ہوتا۔ دنیا یہ کہتی کہ تمہیں تو ملک مل رہا تم نے خود نہیں لیا۔ اب بھگتو اپنی سیاسی غلطی کو؟ اسی قت سے تم بھی اکھنڈ بھارت کے جہنم میں یہاں بھی تپ رہے ہوتے جسے تم آج جہنم کہہ رہو۔ تمہیں تو شکر گزار ہونا چا ہیئے تھا! اس کے انعام پر مگر میں نے کسی کو اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے جب بھی نہیں دیکھاتھا اور آج بھی نہیں دیکھ رہا ہوں؟ قوم کے رویہ میں اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حتیٰ کے دنیا بھر کی مخالفت کے باجود تمہیں اس نے ایٹمی طاقت بھی بنا دیا۔دنیا کی بہترین فوج تمہارے پاس ہے بتا ؤ سہی اور چا ہتے کیاہو؟ کیاان کے ساتھ دوستیاں جاری رکھ کر مزید ذلیل ہو نا؟ جن کوجگری دوست بنا نے سے اللہ سبحانہ نے قر آن میں بار بار منع فرما یا تھا مگر تم نہیں مانے؟ اب تمہاری حالت یہ ہے کہ جیسا کہ حضور ﷺ نے چودہ سو سال پہلے فر مایا تھا کہ ًہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہو تاہیمیری امت کا فتنہ مال ہے ً اب وہ منظر سامنے ہے۔ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ امانت دنیا سے اٹھ جا ئے گی اگر کسی قبیلہ میں کو ئی ایماندارآدمی ہو گا تو لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آیا کریں گے ً۔ جبکہ وہیں پریہ بھی گارنٹی دی تھی کہ ً تم چار چیزوں کے محافظ بن جا ؤ۔ا مانت کی حفاظت، بات چیت کی صداقت، حسن اخلاق اور رزق ِ حلال تو کبھی نقصان میں نہیں رہوگے۔ مگر ان چاروں صفتوں میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خود اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں؟ جواب خود ہی مل جا ئے گا۔ اس کے با وجود کو ئی بھی اللہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں گوکہ بظاہر نما زیوں سے مسجد یں بھری ہو ئی ہیں۔ مگر نمازیں اس کی کسوٹی پوری نہیں اتر تیں لہذا وہ رب کے لئے قابل قبول ہی ِ نہیں ہیں۔ اسے تو وہ عبادت قبول ہے جو صرف اللہ کے لئے ہو، دکھا وے کے لئے بالکل نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ جہہ کا قول ہے کہ ً دکھا وے کی کوئی عبادت، عبادت نہیں ہے۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے بجا ئے اپنی مشہوری کے لیئے کوئی کام کیا جا ئے وہ اسے منظور نہیں ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس اس کا کوئی اجر بھی نہیں ہے۔ اگر رزق حلال نہیں ہے اور وہی اس کی راہ میں دیا گیا ہے۔ اسی سے حج کیا اسی سے دسترخوان چل رہے ہیں،لنگر خانے چل رہے ہیں۔ قبضہ کی ہوئے زمینوں میں مساجد بن رہی ہیں۔ اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کو شکر گزار بندہ بننے اور دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما ئے۔(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

غلطیوں میں چو تھی غلطی بھی شامل کرلیں؟

عمران خان کی حکومت نے 14 اگست کواپنے دوسال پورے کرلیئے جبکہ حزب ِ اختلاف کہتی رہی کہ یہ حکومت صبح گئی اور شام گئی؟ ان کی شکا یت یہ ہے کہ یہ حکومت سلیکٹیڈ ہے الیکٹیڈ نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، حالانکہ جو کہہ رہے ہیں وہ بھی اسی ذریعہ سے آتے رہے ہیں اور خود کوالیکٹیڈ کہتے ر ہے ہیں۔ اس پر ہمیں ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک کلاس ٹیچر نے بچے سے پوچھا کہ تمہا رے والد کیا کرتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیاکہ سر!وہ گرمیوں میں آئی سی ایس ہوتے ہیں، سردیوں میں پی سی ایس۔ اس زمانے میں یہ اصطلا حات مرکزی اور صوبائی افسران کے لیئے استعمال ہوتی تھیں؟ ٹیچر کوبڑی حیرت ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ اس نے بچے سے دوبارہ پوچھایہ کیسے ممکن ہے؟ اس نے عرض کیا گرمیوں میں وہ آئس کریم فروخت کرتے ہیں تو وہ خود کوآئی۔ سی۔ ایس یعنی آئس کریم سیلر کہتے ہیں اور سردیو ں میں وہ پٹیٹو چپس فروخت کرتے ہیں لہذا وہ خود کو پٹیٹوچپس سیلر کہتے ہیں۔ یہ ہی ہمارے یہاں کے سارے لیڈروں کا حال ہے کہ پہلے دن سے وہ حکومت میں کسی نہ کسی ذریعہ سےآرہے ہیں جیسے کہ سب آتے اور جاتے رہے ہیں؟ مگر خودکو وہ منتخب وزیر اعظم اور اپنی حکومت کو منتخب حکومت کہتے رہے ہیں۔ جبکہ وہ اسی طرح آکر اپنی حیثیت کوبھول جاتے ہیں تو پھر انہیں جانا پڑتا ہے۔اسی طرح ہماری تاریخ یہ بھی بتا تی ہے کہ وہاں جو بھی آیا مگر وہ آنے کے بعد اسلام کو ضرور بھول جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تہتر سال گزر گئے مگر اسلام پاکستان کے دار الخلافہ میں داخل نہ ہوسکا۔ نہ جب جبکہ وہ کراچی میں تھا ؟ نہ ہی وہ اسلام آباد پہنچ گیا تب؟ البتہ ملک کے آئین میں جلی حروف میںملک کا نام ضرور اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھاہوا ہے؟
ہم نے کچھ دنو ں پہلے دو انٹر ویو دیکھے ایک وزیر ِ منصوبہ بندی اسد عمر صاحب کا تھا، جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی تین غلطیا ں بتا ئیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ ہم نے میڈیا کو جس کی سپورٹ پر ہم آئے تھے اپنا دشمن بنا لیا۔ دوسرے ہم بڑھتی ہوئی گرانی کو کنٹرول نہ کرسکے۔ اور تیسرے ہم احتساب نہ کر سکے؟ یہاں وہی مسئلہ ہے کہ وزیر بنا نے سے پہلے انکا طرز عمل ٹیسٹ کرالیتے تو اچھا ہوتا؟جیسے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں تقرری سے پہلے پولیس والوں کا ٹیسٹ لیتے ہیں، تو نہ ہی ہتھ چھٹ قسم کے وزیر آتے نہ ہی اینکرز کے منہ پر تھپڑ مارتے، نہ ہی یہ صورت ِ حال پیدا ہوتی۔ کیونکہ میڈیا کی دنیا میں شروع سے ہی اپنی ایک اہمیت تھی، جوکہ مسلم لیگ نے اس وقت سے ہی تسلیم کرلی تھی جب کہ 1906 میں وہ ڈھاکہ کے نواب سر سلیم اللہ حال میں بنی تھی اور نتیجہ کے طور پر مسلم لیگ نے اپنے کئی اخبار خود نکالنا شروع کر دیئے تھے۔ مسلم لیگ کی دیکھا دیکھی پھر کچھ مسلمانو ں نے بھی اخبار نکالنا شروع کردیئے؟ ان میں سے دو اخبار دہلی سے ہجرت کرکے پاکستان بھی آئے گئے تھے۔ ایک کانام “انجام “ کے مالک تجارت کے گر نہیں جا نتے تھے!وہ جلدی ہی اپنے منطقی انجام کوپہنچ گیا۔ دوسرے کا نام جنگ تھا اس کے مالک تجار تھے اور وہ جینے کا گر جانتے تھے ان کی قیادت میں اس نے اپنے بقا کی جنگ لڑی اور وہ بہت زیاہ پھلا پھولا اور آج تک موجود ہے؟ باقی بہت سے اخبار نکلتے رہے اور اپنی موت آپ مرتے رہے۔ رہی گرانی کی بات تو ایوب خان کی حکومت اس پر ختم ہوئی کے شبرات کو چینی تین روپیہ فی کلو ہوگئی تھی، حزب ختلاف نے کہا کہ ہم آکر سستی کردیں گے۔ اس طرح اس نے وعدہ خلافی کی طرح ڈالی؟ بعد میں گرانی کے ہی مسئلہ پر بھٹو صاحب کی حکومت بھی گئی کہ پھر حزب اختلاف نے وعدہ کیا تھا کہ ً“ ہم 1971 ء کے بھا ؤ واپس لا ئیں گے؟ وعدہ کرنے والوں میں علما ئے کرام بھی شامل تھے۔ لیکن گرانی ہمیشہ سے اتنی ڈھیٹ ثابت ہوئی کہ آگے ہی بڑھی، مگر پیچھے نہیں ہٹی؟ اجبکہ اس کے نتیجہ میں جو اسوقت کے حزب اختلاف کے لیڈر تھے ان کی اولاد ضرور آگے بڑھتی رہی۔ اب رہی ان کی یہ بات کہ ہم احتساب کے نام آئے تھے،مگر سزائیں دلانے میں نا کام رہے؟ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ جمہوریت ہے نہ اسلامی نظام یہ اس کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اسلامی نظام میں تو فیصلے ایک دن میں ہوجا تے ہیں۔ مگر اس کو ہر حکومت طرح آپ کی حکومت بھی بھولی ہوئی ہے اور اگر کچھ کام کر بھی رہی ہے تو صیغہ راز میں ہے جیسے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں نماز، یا گھر میں عیدین کی نماز؟ یا پھر اسلامی تعلیمات دسویں تک پنجاب کے اسکولوں میں رائج ہونا؟ وزیر اعظم شاید اس لیئے شہرت نہیں دے رہے ہیں کہ کہیں ان کی عبادت ریاکاری کی وجہ سے ضائع نہ ہو جا ئے؟ اس لئے اس کی تشہیر مناسب نہیں کیونکہ تقوے کا تقاضہ یہ ہی ہے۔ رہی میڈیا اس کے لئے یہ خبر اہم خبر نہیں ہے؟ اس کے لئے اہم خبر وہ ہے جو کہ سنسنی خیز ہو؟ یہ نتیجہ ہم نے ہرپاکستانی کے عمل اخذ کیا ہے۔ اور اپنے گزشتہ کئی کالموں میں لکھ بھی چکے ہیں۔ آج کامران خان کے پروگرام میں بھی ہم نےوزیر اعظم کو پہلو تہی کرتے دیکھا یہ تو یقین ہوگیا کہ یہ رویہ اوپر سے ہی چلا آرہا ہے۔ کیونکہ انٹر ویو کے دوران کامران خان نے جب کرونا پر بات شروع کی تو وہ یہاں سے شروع کی تھی کہ “ میرے خیال یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں یہ مرض اور ملکو ں کی طرح زیادہ نہیں پھیلا “مگر اس کے جواب میں وزیر اعظم کے جواب میں شکرانے دو بول اور اللہ سبحانہ تعالیٰ طویل حمد وثنا ہو نا چاہئیے تھی۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر بات کا رخ موڑ دیا کہ میں “ایمان والا آدمی ہوں ً“ اگر وہ اس کی کھل کر تصدیق کردیتے اور اس کے بدلے میں دنیا اپنی تحقیق کا ٹھوڑا سا بھی رخ اس طرف کردیتی اور ایک آدمی بھی ایمان لے آتا تو انہیں تبلیغ کاثواب مل جا تا۔ حالانکہ اسلام کی حقانیت کا اثر یہ ہے کہ امریکہ کے صدارتی امید وار بھی وہ مشہور حدیث بیان کر چکے ہیں۔ کہ “ ظلم کو اگر طاقت ہو تو بزور طاقت روکو، ورنہ زبان سے روکو اگر یہ بھی نہیں کرسکوتو اس سے کرا ہیت ضرور کرو “ مگر ہم کر یہ ر ہے ہیں کہ ہم بھی وفا داری دکھانے کے لیئے خود بھی ظالموں کی مدد کر ت آ رہے ہیں۔ جب کہ دوسری جگہ اسلامی تعلیم یہ بھی ہے کہ “تم بھلائی میں اپنے بھا ئیوں کی مدد کر سکتے ہو مگر ظلم میں نہیں اگر ظالم کی مدد کروگے تو تم خود بھی ظالموں میں شامل ہو جا ؤ گے“ لہذا ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اپنی فہرست میں چوتھی غلطی بھی شامل کر لیں کیونکہ آپ کی پارٹی کے وعدوں میں ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرما ئے(آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,

آخر یہ پاکستان پر ہی انعامات کی بارش کیوں؟ شمس جیلانی

آخر یہ پاکستان پر ہی انعامات کی بارش کیوں؟ شمس جیلانی
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں کہیں بھی اپنی عظمت گنائی ہے۔وہاں پر زیادہ تر اہلِ علم و دانش کو مخاطب فرمایا ہے۔ جبکہ بدؤوں کواس طرح خطاب نہیں کیا جیسا کہ اہل ِ علم کو خطاب فرمایا!اس لئے کہ ہر قوم کے اہلِ علم اس کا سرمایہ ہوتے ہیں اور قوم کی قیادت اہل علم کے بجا ئے جاہلو ں (بعض مفسرین نے یہاں جاہل سے مراد فاسق بھی لیا ہے) کے ہاتھ میں آجائے تو قوم کا ہی نقصان ہوتا ہے۔ یہاں ہماری رہنمائی کے لیئے سورہ المائدہ کی آیت نمبر 81 ہمارے سامنے ہے جس کی تفسیر میں ابن کثیرؒ بہت سی احادیث لائے ہیں ان میں اس بات کی حضور ﷺ نے بڑی سختی سے تاکید فرما ئی ہے۔ کہ کبھی کسی کے ڈر سے، خوف سے، اس کے شر یا عہدے، یا رشتے نا تے کی وجہ سے برے کاموں پر ملامت کرنامت چھوڑنا ورنہ تمہارابرا حشر ہوگا؟ اتحاد پارہ پارہ ہوجا ئے گا تم ایک دوسرے کے دشمن ہو جاؤگے،تمہاری ہوا اکھڑ جا ئیگی، تمہارے اوپر جاہل اور ذلیل لوگ حاکم مقرر کردیئے جا ئیں گے۔ تم پر ایسی بلا ئیں نازل ہونگی جن کو برداشت کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہوگی،تم دعا ئیں مانگو گے مگر وہ قبول نہیں ہونگی؟ اس پر اہلِ علم ودانش غور کریں کہ کہیں اس دور سے ہم تو نہیں گزرہے ہیں؟ کیا ہماری موجودہ حالت یہ ہی نہیں ہے عموماً تمام عالم اسلام کی اور خصوصاً پاکستان کی؟ کہ ایک بلا جانے نہیں پاتی ہے کہ وہاں فورا“ دوسری ً آجاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ اس میں تو تمام دنیا مبتلا ہے، پھر پاکستان کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے۔؟اور لوگوں کے ساتھ اور ملکوں کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہورہا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے جواب پوچھے تو میں تو یہ عرض کرونگا؟ اس لیئے کہ پاکستان بنا یا ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نام پہ تھا، اس کے لئے بہت سے وعدے کیئے گئے تھے، دعائیں مانگی گئی تھیں۔رو روکر گڑگڑاکر دعائیں مانگی گئی تھیں کہ اے اللہ تو ہم کو اپنی بے حساب زمین میں سے ایک چھوٹا سا تکڑاعطا فر مادے دے جہاں ہم تیرا نظام قائم کر کے مدینہ جیسی ریاست بنا ئیں جوکہ دنیا کے لئے نمونہ ہو۔ اس نے نہ صرف ترس کھایا بلکہ بڑی کرم فرمائی فرمائی اور ایک طویل اور عریض خطہ آراضی عطا فرمادیا جو ہر طرح سے مالا مال تھا۔ اور وہ بھی ٢٧رمضان المبارک کو ٹھیک اسی وقت جبکہ رب کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اور وہ پوچھ رہا ہوتا ہے کہ ً“ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں “ ہم نے پہلا ظلم تویہ کیا کہ اسے ستائیسویں رمضان ہی کہنے کے بجا ئے 27اگست قرار دیا اور اس کے ساتھ ہی سارے کرے ہوئے وعدے اور احسان بھی بھلا دئیے بجا ئے اس کا شکر ادا کرنے کے۔ اپنی سابقہ عادت کے مطابق دوسروں کے گیت گانے کہ یہ اس نے بنا کر دیدیا اور اس ہی کے گیت کانوں میں گونجنے لگے؟ بجا ئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے۔کیا یہ ناشکری نہیں تھی؟ جواب آپ پر چھوڑ تا ہوں۔ اس پر ظلم یہ کہ1947 سے لیکر 1956 تک اس ملک کو دستور نہیں دیا وہ دوسال سے زیادہ نہیں چل سکا ؟ جبکہ قائد اعظمؒ پہلے ہی کہہ چکے تھے مولانا شبیر عثمانیؒ سے کہ مولانا ہمیں کانگریس کی طرح دستور ساز اسمبلی کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے پاس قرآن کی شکل میں مکمل دستور موجود ہے؟ مگر پاکستان بننے کے بعد چشم ِ فلک نے پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں یہ منظر بھی دیکھا کہ ملک کے اسوقت کے وزیر آعظم سے مولانا شبیر ؒ عثمانی پوچھ رہے تھے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں کہ “ یہاں اللہ کا دستور کب نافذ ہوگا؟“ تووہ جواب دے رہے تھے۔ کہ مولانا!یہ تو بتا ئیں کہ میں کونسا اسلام نافذ کروں؟ ان کے اس سوال کے جواب میں مولا نانے قراردا مقاصدکی شکل میں ایک مسودہ پیش کردیا جس پر ہر مکتبہ فکر کے51 علما ء متفق تھے اور سب کے دستخط اس پر موجودتھے کہ وزیر اعظم صاحب یہ سا اسلام جو کہ سب کے لئے قابل ِ قبول ہے؟پھر بھی ٹال مٹول جاری ہی بمشکل قرارداد مقاصد پاس ہوئی، مگر اس کے پوری طرح نافذ ہونے کی نوبت کبھی نہیں آئی؟ البتہ جنرل ضیا ء الحق نے اس کا ایک “ جز“ حدود آرڈیننس کی شکل میں نافذ کرکے اس سے جیالو ں کو ضرورکوڑے لگانے کا کام لیا۔ مگر شروع وہ نہ جانے کیوں وعدہ خلافیوں پر ڈھیل دیتا چلا آرہا ہے؟ اپنی مشیت وہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کیوں بار بار ڈھیل دے رہا ہے! جبکہ وعدہ خلافیوں کا سلسلہ اس وقت سے برابر جاری ہے۔اور جو بھی آیا وہ یہ کہتا ہوا آیا کہ میں اسلامی نظام لا ؤنگا مگر لا کوئی بھی نہیں سکا؟بظاہر تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے! چونکہ یہ اس کے نام پر بنا ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ یہ باقی رہے؟ جب کہ اس کے بعد جو بھی آیا اس نے وعدہ یہ ہی کیا مگر پورا نہیں کرسکا؟ اور وعدہ خلافی کی سزا عوام بھگتے رہے ۔ جبکہ ہر حکومت کو یہ شوق ہمیشہ رہا ہے کہ ہر بھلائی کا کریڈٹ وہ اپنے نام لکھوائے۔ حالانکہ بھلائیاں اسلامی عقیدے کے مطابق وہی کرتا ہے اور باقی جو کچھ ہے و ہمارے خود کردہ گناہوں کی سزا ہے؟ اس کی تازہ مثال موجودہ حکومت کاکرونا پر قابو پانا ہے۔ یہ حکومت بھی اسےاپنی کامیاب کا وشوں کا مظہر قرار دے رہی ہے۔ جبکہ شکرانے کی مستحق وہ ذات پاک ہے جس نے پاکستان کو اس بلا سے محفوظ رکھا؟ اس نے اسی دوران ٹڈی دل بھیجد ئیے جنہوں نے فصلوں کا صفایا کردیا۔ پھر کچھ دن انتظار کرکے اس نے موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جوکہ ہنوز جاری ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ رحم فرما ئے۔ جبکہ قرآن کے مطابق وہ ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق بارش برساتا ہے۔ اس وقت یہ ہی پانی باعث رحمت ہوتا ہے۔ جب وہ ناراض ہوتا یہ ہی رحمت ظوفان نوح بھی بن جاتی ہے؟ مگر یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہوتا؟ جیسا کہ طوفان نوح کے آنے میں ایک ہزار سال لگے؟ مگر بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے رہیں، ہرنعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نافرما نی سے بچیں۔ اس نے اپنے طریقہ کار کے بارے سب کچھ قرآن میں لکھدیا جسے وہ اپنی سنت فرماتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ میں اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں کرتا؟ اور یہ بھی فرماتا ہے کہ میں کسی کو خومخواہ سزا دے کر خوش نہیں ہوں؟ کیونکہ میں معاف کرنا پسند کرتا ہوں،میں نے اپنے اوپر رحم واجب کرلیا ہے۔ بس تم میری بات مان لیا کرو؟ یہ بھی وہیں فرمایا کہ میں سال میں ایک دو جھٹکے اس لئے دیتا ہوں کہ شاید گناہ گار بندے توبہ کرلیں؟ پھر بھی یہ توبہ نہیں کرتے؟ ۔جو منکر ہیں؟ انکا تو خیر معاملہ جدا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جو خود کومومن یا مسلمان کہلاتے ہیں۔ وہ بھی اس پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جس سے پوچھو اس کا جواب یہ ہی ہے الحمد للہ میں مومن ہوں یا مسلمان ہوں۔ مگر ان میں سے اللہ کی بات ماننے والے کتنے ہیں ان کا تناسب کیا ہے۔ اس کی تحقیق آپ دانشوروں پر چھوڑتا ہوں؟ اللہ ہم سب عقل اور ہدایت عطا فر مائے (آمین)

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ ,