(1 – 15) قطعات شمس جیلانی

اسپتال سے واپسی پر۔۔۔ شمس جیلانی

تجھ کو فقط بقا ہے اور سب من کلِ فان ہے

بھیجا عمل کے واسطے تونے ہمیں قر آن ہے

کہ جب تک رہیں ہم عامل حفظ وامان ہے

ہادی ہواعطا وہ جو صاحبِ ﷺِ سبع مثان ہے

                          ا

خیر میں دیر نہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہر خیر میں جلدی کرو رہ جا ئے کہیں کام ادھورا

مرضِ ضعیفی کی بلا وہ ہےجو بنا ئےگھاس اور کوڑا

شاہین بھی گر جا ئے ہے شمس تھک کر با لآ خر

ہوجا ئے ہے جس عمر میں جا کر کے وہ بھی بوڑھا

 

 

                          2

پہلی وارداتِ قلبی۔۔۔ شمس جیلانی

 

انکی ﷺکسی بھی بات پر جب تک شبہ رہا

اچھا نہیں تھا مسلماں، مگر پھرنہیں برا رہا

کرتا ہوں تکیہ شمس فقط رب کی ذات پر

غیروں سے پھر کبھی نہیں میرا واسطہ رہا

 

                           3

موردِ الزام زمانہ کیوں؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

اکثر کہیں ہیں لوگ کہ زمانہ بھلا نہیں رہا

ہو حق مچی ہوئی ہے ٹھیٹر بھرا نہیں رہا

ہم مانگیں دعائیں روز ہیں آسرا نہیں رہا

گو خود بدل گئے ہیں خوفِ خدا نہیں رہا

 

                          4

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ۔۔۔ شمس جیلانی

 

جب تک تو ہے اس کے سامنے، تو کب اس سے دور ہے

ہردم انعامات کا رہتا تجھ پر اے عاقل جاری ظہور ہے

ہر لمحہ اس کے سامنے اور معیت میں بھی ہے شمس

آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ بس یونہیں ایک قصہ مشہور ہے

 

 

                             5

خدا یاد آیا ۔۔۔۔ شمس جیلانی

 

ایک سال تک پیہم یہ راز سمجھا یا

خدا کاشکر ہےان کو خدا ہے یاد آیا

خبر پڑھی دسمبر چاریوم ِالہ منا ئنگے

سمجھ میں آیا تو نکتہ پردیر میں آیا

 

 

                                6

پاکستان کے شب وروز۔۔۔ شمس جیلانی

 

کہتے ہیں کہ چلنا پھرنااب نام تلک ہے

پر چلتا وہ صبح سے لیکر شام تلک ہے

دن رات کی ہردم تو ، تو میں میں ہے

وہ بھی لاٹھی ڈنڈا اور کہرام تلک ہے

 

                                  7

گردش ِ زمانہ۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہوا بھر دیتے ہیں چمچے کم ظرف اکثر پھول جا تے ہیں

کوئی مالک بھی ہے ان کاوہ اوقات اپنی بھول جاتے ہیں

بنا دیتا ہے وہ جب با عثِ عبرت ان ہی کو زمانے میں

پٹک دیتا ہے انکو فرش پر پھر پڑے وہ دھول کھاتے ہیں

 

 

                                             8

ایک سوال؟۔۔۔ شمس جیلانی

 

وہ کئی بار آئے بلا ئے بٹھا ئے نکا لے گئے

ہے فطرت کچھ ایسی نہ طیور سنبھالے گئے

گلہ ہے انہیں یہ پوچھتے ہیں لوگ کیوں

جو کہ دولت تھی لوٹی وہ تم کہاں لے گئے

 

                                          10

مقام عبرت۔۔۔ شمس جیلانی

 

یہ جہاںمقام ِ عبرت ہے سوچئے تو سہی

کرے برا جو کام اس کو ٹوکئیے تو سہی

ماۤل اس کا یہ ہے کہ دی دار کو ترستے ہیں

کرکے توبہ آنسو اپنے پوچھئیے تو سہی !

 

                                             11

 

 

ہوشیار باش۔۔۔ شمس جیلانی

 

خفا ہونے نہیں دینا کسی کو ہے منانا مشکل

یہ دور ِ کرونا کسی گھر بھی ہے جانا مشکل

شمس اس بات کا بس رکھو ہمیشہ ہی خیال

دوستی کرنا ہے آسان مگر اسکا نبھانا مشکل

 

                                           12

خیر اور شر میں فرق۔۔۔ شمس جیلانی

 

جو اہلِ خیر ہں سرکو جھکا کر چلتے ہیں

جو اہلِ شر ہیں وہ گردن اٹھا کر چلتے ہیں

یہ ہی فرق اچھوں بروں میں ہے اے شمس

برے جو لوگ ہیں فتنے جگا کرچلتے ہیں

 

 

                                        13

یہ کرونائی تہذیب ۔۔۔ شمس جیلانی

عجب روش ہے سب منہ چھپائے پھرتے ہیں

غیر ہی نہیں، بنے اپنے، پرائے پھر تے ہیں!

سرِ راہ مل جا ئےکوئی بھی شناسا شمس

نگاہ بد لی سب آنکھیں چرائے پھر تے ہیں

 

                                     14

کج بحثی سے اجتناب کرو ۔۔۔ شمس جیلانی

 

اللہ کا حکم یہ ہے جاہل اگر جو ٹکرے کہنا سلام ہے

حضرت مولانا روم کا بھی کا سب کویہ ہی پیام ہے !

“ چالیس اگر ہوں علماء ان کو ایک دلیل ہے بہت“

جوجاہل سے عاقل ٹکرے اس کا خجالت مقام ہے

 

 

                                        15

بندہ نواز۔۔۔ شمس جیلانی

 

بندےبنو تو تم، وہ بندہ نواز ہے

اللہ عظیم ہے اور وہ کار ساز ہے

اسکو ہی پکارو حاجت روا ہے وہ

لازم اس کے واسطے دینا آواز ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

شائع کردہ از qitaat | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

اسلام اور مسلمان دوسرے ملکو ں میں۔۔۔شمس جیلانی

میں گزشتہ تیس سال سے آپ لوگوں کی خدمت میں اچھی باتیں پیش کر رہا ہوں۔ کیوں! اس لئیے کہ میرے یہاں آنے کامقصد مالی مفادات نہیں تھے۔ میرا اللہ سبحانہ تعالیٰ سے یہ وعدہ تھا کہ جب میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجا ؤں گا تو میں صرف اور صرف انسانیت اور تیرے دین کی خدمت کرونگا۔اس کے لئیے میں نے کنیڈا کو یو ں منتخب کیا کہ یہاں ہر شعبے میں بے شمار لوگ بطور رضا کار کام کر رہے ہیں جس کو پاکستان میں “اعزازی طور پر “ کام کرنا کہتے ہیں،جو کہ بچوں کو دور ِ طالب علمی سے ہی یہاں کرنا لازمی ہے اور ان کے مستقبل میں بھی وہ آئندہ کام دیتا ہے۔ اس پر ان کو کریڈٹ بھی ملتا ہے۔لہذا میں نے1989ء سے دن و رات دونوں میدانوں میں کام کیا دونوں جگہ اعزازات سے بھی نوازا گیا جو کہ میرا مقصد نہیں تھا کیونکہ میری یہ عبادت خا لصتاً اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئیے تھی اور ہے اور ان لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے بہتر مستقبل کے لئیے ہجرت کی تھی گو کہ وہ اسلامی ہجرت میں نہیں آتی مگر وہ اب بھی اب اپنے روز مرہ میں تبلیغ کوشامل کر لیں تو ان کی ہجرت بھی اسلامی ہجرت بن سکتی ہے کیونکہ حدیث ہے کہ ” ہر عمل کا دارومدار نتجائج پر ہے” اور آزادی سے اپنا قلم بھی استعمال کیا کہ یہاں کوئی ٹوکنے والا اور کچھ کہنے والا نہیں تھا۔ اور لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے۔الحمد للہ آج تک میری کو ئی تحریر یا تقریر متنازع نہیں بنی۔ کیونکہ میرا اصول ہے کہ اپنے عقیدے کو چھوڑو مت اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑومت؟ یہاں آپ پوچھیں گے کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ جس کاحکم مجھے قرآن نے دیا, جس پر کسی کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتاہے۔ کیونکہ بحیثیت مسلمان دین پہچانے کا حکم ہر مومن کو ہے جسے اپنی گفتار سے کم اور کردار سے زیادہ پہنچانا ہے کیونکہ حضورﷺ نے عمل کرکے دکھایا ہے تاکہ لوگ دیکھ کر کہہ سکیں کہ یہ ہے اسلامی کردار۔؟ لوگو ں تک آپ کو بطور مبلغ پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے مگر کسی پر داروغہ نہیں بنایا گیا ۔ میں نے حضور ﷺ کی سیرت سے بات شروع کی جو کہ اخباروں میں قسطوار وار شائع ہوکر کتابی شکل میں آگئی اور وڈیو پر بھی یوٹیوب میں موجود ہے جس میں میرے معاون مسعود عمر صاحب ہیں اور یہ کتاب میری ویب پر بھی ہے،میرے اس صدقہ جاریہ میں بہت سے لوگ قیامت تک کے لئے شامل ہوگئے جن میں سے کئی اللہ کو پیارے ہوگئے ان میں سے ایک پاکیزہ ٹورنٹو کے ایڈیٹر صبیح منصور ہیں جو ٹورنٹو میں تھے اور اسی ایریا میں انکی جگہ موجود لوگوں میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ندیم ہیں،ونیکو ر میں پیر زادہ نصیر مریکل نیوز کے ایڈیٹرہیں اور لندن عالمی اخبار کے انتہائی قابل ِ احترام جناب صفدر ھمدانی میرے عزیز ترین دوست اورایڈیٹر ان چیف ہیں۔ حضور ﷺ کی سیرت بہت مقبول ہوئی اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ، عمرؓ، عثمان ؓ، علی کرم اللہ وجہہ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن ؑ، حسینؑ51 نامور صحابیات ؓ، عشرہ مبشرہ، قصص الانبیا اورؑ حقوق العباد اور اسلام لکھیں اور سب کی سب الحمد للہ بہت مقبول ہوئیں کیونکہ میں جب قلم ہاتھ میں لیتا ہوں تو غیر جانبدار ہوجاتا ہوں۔ ان میں بھی میں نے خود کو ہمیشہ فرقہ واریت سے بالا تر رکھا اور میری کتابیں کبھی بازار میں فروخت نہیں ہوئیں کیونکہ آجکل کتابیں خرید کر پڑھنے کا انٹر نیٹ کی وجہ سے رواج ہی نہیں رہا؟۔اور بغیر کسی شور اور شرابے یا ذاتی نمائش اور مشہوری کہ خاموشی اور کا میابی سے کام جاری رکھا کسی سے کبھی چندہ نہیں مانگا،اس سلسلہ میں اپنی فیملی کا شکر گزار ہوں اس لئیے کہ ان میں سے ہر فرد نے میرے ساتھ تعاون کیا؟ اس کے بعد میں اپنے تمام قارئین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پسند کیا اور اتنے سالوں تک مجھے برداشت کیا۔ اب جبکہ میں چند دن پہلے میں گیارہ دسمبرکو نوے سال میں داخل ہونے سے پہلے اسپتال میں بھی پانچ دن رہ آیا ہوں، موت سب کو آنا ہے۔اس لئیے اپنے اس تیس سالہ تجربہ کانچوڑ پیش کرہا ہوں۔ تاکہ وہ لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو کہ اس میدان میں کام کر رہے ہیں مگر کامیابی نہیں حاصل کر سکے؟ اور خاص طور سے پاکستان میں تو ہر حکومت ناکام رہی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام بہت سیدھا سا مذہب ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں پورا اسلام بیان فرما دیا ہے۔ اور وہ ہے کہ “تم اللہ کی اطا عت کرو اس کے رسول ﷺ کی اطاعت،کرو اور جو تم میں سے اولامر (صاحب اختیار ہوں ان کی اطاعت کرو“ مگر ہم نے اس کو اٹھا کرایک طرف رکھدیا؟جوکہ میرے خیال میں واحد ذریعہ تھا روزمرہ کی قانون سازی کے لیے جو کہ بعد میں پیش آتے رہیں گے۔ہم جسے اسلام کہتے ہیں وہ شروع حضرت آدم ؑ سے ہوا اور بتدریج چلتے ہوئے مکمل ہوا خاتم النبین حضور ﷺ پر۔ دوسری بات جو ہم نے جو ترک کردی وہ تھی “ رخصت “ یعنی جب انسان کسی فرض کو ادا کرنے پر کسی وجہ سے قادر نہ رہے جیسے کہ بیماری پر یا ضعیف پر روزے وغیرہ یا غیر ممالک میں رہتے ہوئے بہت سے اسلامی قوانین پر عمل کرنے پر۔ جبکہ جب تک ریاست مدینہ پوری طرح قائم نہیں ہوئی تھی تو حضور ﷺ حتیٰ الامکان دین پر عمل کرنے پر بیعت لیتے تھے، خاص طور سے خواتین سے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو امت کو درپیش ہیں جوکہ اسلام کی تبلیغ میں بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات عجیب واقعات سامنے آتے ہیں جو کنیڈا میں کم ہیں پاکستان میں مگر بہت ہیں۔ کہ ایک مرتبہ برف باری ہورہی تھی امام مسجد نے حضور ﷺ کی سنت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے جمعہ فوراً بعد عصر کی نماز بھی پڑھادی نتیجہ کے طور پر انظامیہ نے امام کو فارغ کر دیا؟ یا نارتھ پول سٹی میں پانچ وقت کی نماز جہاں کبھی دن ایک گھنٹے کا ہوتا ہے تو کبھی رات ایک گھنٹے کی ہوتی ہے۔ یہ ہیں وہ مشکلات جو اسلام کی تبیلغ میں حائل ہیں اس قسم کے واقعات کا تدارک جبھی ہوسکتا ہے جبکہ کوئی مرکزی کونسل ہو اوروہ بہت سے روز مرہ پیش آ نے والے واقعات پر بر وقت فیصلہ دے سکے۔ ورنہ یہ مسئلے ہمیشہ ایسے ہی الجھے رہیں گے۔؟

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

دائیرہ در دائرہ۔۔۔ شمس جیلانی

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اپنے وسیع سیاسی تجربے کی بنا پر بتا ئیے کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا،اور یہ تماشہ کیا ہورہا ہے۔ یہ طریقہ کیا ہے جو حکمراں کہہ رہے اور کر رہے ہیں؟ کہ ہم حزب اختلاف کو جلسے کرنے بھی نہیں دیں گے اوراسے روکیں گے بھی نہیں؟البتہ اگر وہ ہمارے احکامات کی خلاف کرے گی تو بعد میں اس کی رپورٹ درج ہو جا ئیگی، پھر کیا ہوگا جو اب وہی جو ہمیشہ سے ہوتاآرہا ہے ۔کہ ہر حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف مقدمات بنا ئے اور وہ فائیلیں دھول کھا کھا کر موٹی پہلوانوں جیسی یا پھر فارغ البال لوگوں جیسی ہر شعبہ میں ہوتی رہیں اور بس۔ یہ کھیل گزشتہ تہتر سال سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ آپ بھی انتظار کریں اور میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ ہاں ایک نئی بات ضرور ہے کہ مسلم لیگ والوں کو مشرقی پاکستان آج کل بہت یاد آرہا ہے،ایک مسلم لیگی لیڈ رٹی وی پرکہہ رہے تھے ایسے تو الزام“ حسین شہید سہروردی“ مرحوم پر بھی لگا تھا؟ کیا عوام نے انہیں مجرم تسلیم کرلیاتھا، نہیں؟ اسی طرح الزام ہمارے معزز لیڈروں پر بھی لگ رہے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ کہاں وہ اور کہاں یہ! اِن کا نام بھی اُن کے ساتھ لینا اُن کی توہین ہے۔ وہ وہ تھے جنہوں نے ساری زندگی قربانی دیتے ہوئے گزاری، جن کی وجہ سے مسلم لیگ،مسلم لیگ بنی، پھر پاکستان بنا! تو بجا ئے اس کہ اوروں کی طرح وہ عوام کو خدا حافظ کہہ کر پاکستان چلے آتے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو وہاں بے یارو مدد گار مرنے کے لئے چھوڑ آتے ان کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ ان مسلمانو! کو جلتے ہوئے ہندوستان میں تنہا چھوڑ آئیں؟ جنہوں نے انہیں ووٹ دئیے تھے اور پاکستان آکر عیش کریں۔ جس کی انہیں پیش کش بھی قائد آ عظم کی طرف سے کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے وہیں رہنا پسند کیا۔ کیونکہ حسین شہید سہروردی نہرو کے پورے گھناؤنے منصوبے کے لیئے ایک چیلینج تھے۔ تب انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا ان پر بے حساب انکم ٹیکس نکال دیا گیا،ان کی ساری جائیداد نیلام کر دی تو وہ برلا مندر دہلی میں گاندھی جی کے ساتھ رہنے لگے؟ پھر ناتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کے ساتھ انہیں بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنا یا لیکن اللہ سبحانہ نے وہاں سے انہیں بچادیا، گاندھی جی بھی نہ رہے، جن کے ساتھ وہ امن کے لئے کام کر رہے تھے؟ تب بھی وہ وہاں سے نہ ہلے، چلنے پر مجبور جب ہوئے کہ ان کی لاکھوں کی آبا ئی جائداد جو کلکتہ میں تھی وہ بھی کوڑیوں میں نیلام کردی گئی اور یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ جو وہ بیرسٹری سے آئندہ کما ئیں گے وہ بھی بحق سرکار ضبط ہوتا رہے گا؟۔ تب وہ وہاں سے مجبوراًروانہ ہو ئے کیونکہ انڈیا میں وہ مسلمانوں کو تنہا چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے جبکہ نہرو انہیں اپنی راہ میں کانٹا سمجھتے تھے۔ اور انہیں ہی کو نہیں کسی بھی مسلم لیگی لیڈر کو وہ وہا ں چلتا پھرتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جن کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کو ہندوستان سے الگ کیا تھا۔ تو وہ انہیں وہاں کیسے برداشت کرسکتے تھے جس شخص نے پاکستان بنا یا اور قرارداد پاکستان 1946 کامحرک بناجس میں پاکستانکا نام بھی تھا حدود اربعہ تھا اور قراداد پاس بھی منتخب مسلم لیگ پالیمانی پارٹی کی تھی۔ جبکہ انیس سو چالیس کی قرار داد میں جو کہ مولوی فضل الحق مرحوم نے پیش کی تھی اور مسلم لیگ کے جلسے میں پاس ہوئی تھے۔ اس میں کوئی تفصیل نہیں تھی ملک کا نام وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا صرف مسلم اکثریت اور ہندو اکثریت کے صوبوں کا ذکر تھا۔ وہی شخص پاکستان میں اس حالت میں داخل ہوا کہ اس کے پاس رہنے کے لئیے اپنا مکان بھی نہیں تھااور بعد میں بنا بھی نہیں سکا جبکہ وہ پاکستان کا وزیر اعظم بھی رہا۔ کراچی کا لکھم ہاؤس جس میں وہ قیام پزیر تھے ان کی اکلوتی صاحبزادی بیگم اختر سلیمان کا مکان تھا جو کہ ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے پہلے مسلما ن جج سر محمد سلیمان مرحوم کی بہو اور ان کے صاحبزادے احمد سلیمان مرحوم کی بیوی تھیں۔ پہلے تو ان کے جہاز کو ڈھاکہ میں اتر نے ہی نہیں دیا گیا۔ پھر وہ کسی طرح ویسٹ پاکستان میں داخل ہوئے تو اسی کی دستور ساز اسمبلی میں، وہ واحد حزب اختلاف کے رکن تھے جنہیں قائد ملت اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہندوستان نے ہمارے پیچھے۔۔۔چھوڑ دیا ہے؟ جوکہ پاکستانی سیاسی زبان میں پہلی تبدیلی تھی۔ لیاقت علی خان بھی شہید ہوگئے بغیر دستور بنا ئے جو کہ قائد اعظم کی پہلی ترجیح تھی۔ مگر سہروردی صاحب نے اپنی کوششیں جاری رکھیں حتیٰ کہ وہ حزب اختلاف کے لیڈر بن گئے اور اس وقت وہ حزب اختلاف کے لیڈر تھے۔ جب چودھری محمد علی مرحوم نے سن 1956 ء میں پاکستا ن کو پہلا دستور بنا کر دیا اور پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا؟ یہ جب ممکن ہوسکا جب کہ انہوں نے مشرقی بنگال کے لوگو ں کو اپنی بے پناہ مقبولت کی وجہ سے 50%50کی بنیادپر تیارکرلیا جبکہ مشرقی پاکستانیوں کی اکثریت تھی اور وہ پاکستان میں چوؤن%54 فیصد تھے لیکن اس کےبعد بھی بھائی لوگ اکثریت کو کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہوئے؟ اور ہاں ایک کام وہ اور بھی کر گئے جبکہ وہ وزیر اعظم تھے کہ چین سے دوستی کی بنیاد ڈال گئے تھے جس کو بعد میں بھٹو صا حب نے آگے بڑھایا پھر اس کی سزا بھی پائی؟۔ یہاں میں نے آپ کے سامنے اس چھوٹے سے مضمون میں تاریخ کا تھوڑا سا خاکہ پیش کردیا ہے جوکہ زیادہ تر میرا چشم ِ دید ہے۔
اب رہا مسئلہ یہ کہ موجودہ پاکستان کا کیا بنے گا؟ کیونکہ دنیا کی سیاست بہت تیزی تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اور عمران خان کے ساتھ نئے بچوں کی فوج ہے،جبکہ حزب اختلاف کے لیڈر بڑے گھاگ ہیں اور بذات خود معافیا بھی ہیں اور ہر قسم کی معافیا کے سرپرست بھی ہیں ۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ان پر وہ حدیث صادق آتی ہے حضور ﷺ نے کہ فرمایا “ تو حیاء چھوڑ دے پھر جو چاہے کر “ وہ جیل جانے کا بہانہ ڈھونتے پھر رہے ہیں تاکہ ہیرو بن جا ئیں؟ اور حکومت انہیں یہ مو قعہ نہیں دینا چاہتی ہے۔ رہے ادارے ان کے خلاف حزب ِ اختلاف نے اسقدر پرو پیگنڈہ کیا ہے کہ اب وہ اپنی مزید عزت افزائی نہیں کر وانا نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ خطہ کے حالات یہ ہیں کہ جنگ کسی وقت بھی شروع ہوسکتی ہے۔ چائنا سے دفاعی معاہدہ جو کل پرسوں ہوا ہے وہ ہونا ہی تھاکیونکہ پاکستان خود کو اس جنگ سے کسی بھی حالت میں الگ رکھ کر زندہ رہی نہیں سکتا ہے۔ اب رہا آگے کیا ہوگا وہی جو کہ “ اونٹ کو خیمہ میں داخلہ کی اجازت دیکر شیخ کا اس انگریزی مثل میں ہوا تھا۔ باقی سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں جو ہمیشہ سے تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا؟ جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

پاکستان میں قانون،کرونا اور سیاست۔۔۔ شمس جیلانی

 

ہمارے وطنِ عزیز کی تو ہر بات ویسے ہی نرالی ہے لوگ کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے؟ جبکہ وہاں کے سیاستدانو ں کا مقولہ یہ ہے کہ “ہر حالت میں چلنا چاہیئے کہ سیاست بھی دوکان ہے۔ مگر بقول کسے چونکہ ہم بھی کبھی ملک، ملک پھرے ہیں اور ہمیں تین چار بار ہجرت کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا ہے۔ اس لئیے ہم اپنے اس تجربے کی بنا پر بتا رہے ہیں کہ مسلمان جو کبھی وقت کے پابند تھے، قانون کے پابند تھے اب اتنے ہی وہ ان سب خوبیوں سے دور ہیں۔ مثلاً اب ر شتے جوڑنے کے بجا ئے توڑنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ کبھی مسلمان کے ہمسایہ ہونے پر لوگ فخرمحسوس کرتے تھے اور ان کی جائداد کی قیمت بڑھ جا تی تھی، مگر اب گھٹ جاتی ہے؟ غیر تو کیا! بہت سے فیشن ایبل مسلمان بھی اپنے بچوں پر برا اثر پڑنے کے خوف سے دوسرے لوگوں کی آبادیوں میں جاکر مکان لیتے ہیں۔ اوراپنوں سے وہ دور بھاگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانو ں کا رکھ رکھا ؤ اور اخوت ہمسایوں کے ساتھ سلوک وغیرہ جو کبھی مشہور تھا اب وہ ان میں موجود نہیں ہے۔ حالانکہ انہیں کم ازکم غیرممالک میں تو اسلام کا سفیر ہونا چاہیئے تھا؟ وہاں کم از کم کچھ تو خیال رکھتے کہ ہمارے اس رویہ سے اسلام بدنام ہوگا؟۔ یہ تو تھے مسلمانوں کے سلسلہ میں غیر ملکی مشاہدات جو اب تک ہم نے پیش کئے چاہیں وہ پاکستانی ہوں یا کہیں اورکے۔ اب چلتے ہیں وطن عزیز کی طرف؟
آج صبح ہم نے جیسے ہی ٹی وی کھولا تو پچھلی مرتبہ کی طرح ایک عدالتی فیصلہ سننے کو ملا اس کا پس منظریہ تھا کہ شادی ہال والوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا در انصاف کھٹ کھٹا یا تھا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے، حکومت نے ہم پر پابندی لگادی ہے کہ کرونا بڑی تیزی سےپھیل رہا ہے ( قر آن میں خبر دار کیا گیا ہےکہ نا شکری کا انجام یہ ہی ہوتا ہے پہلے بچ گئے تھے جس کا کریڈٹ انہوں نے اپنے نام کرلیا تھا اب اللہ ہی جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا) اب حکومت نے شادی ہالوں پر پابندی لگادی ہے کہ شادی ہال تمام متعلقہ قوانین کی پوری طرح پابندی کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کا رروائی ہوگی۔ تین سو سے زیادہ مہمانو ں کو بھی مدعو کرنے کی زحمت نہ کریں، ورنہ چالان ہوجا ئے گا۔ جبکہ شادی ہال والوں کی شکا یت یہ تھی کہ یہ ہمارے ہی ساتھ زیادتی کیوں ہورہی ہے جبکہ شادی ہال بند سب سے پہلے ہو ئے تھے اور انہیں کھولا بھی بعد میں گیا ہے؟ اور وں کو کیوں نہیں کچھ کہا جاتا، مثلا ً سیاسی جماعتوں کو جو بغیر ماسک پہنے اور کسی بھی قسم کے قانون کی پرواہ کئے بغیرلا کھوں کے جلوس نکا ل رہی ہیں؟ جبکہ ان میں سے ہم نے پی، ڈی ایم کے صدر کو ٹی وی پر اپنے کانوں سے یہ کہتے سنا کہ میں قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر مارتا ہوں؟ اس سے رواداری اور حکومتی رٹ کا پتہ چلتا ہے؟ کورٹ کا فیصلہ وہی تھا جو ہونا چاہیئے تھا کہ اچھے شہریوں طرح ملکی قوانین کا احترام کرو؟
ویسے بات شادی ہال والوں کی بھی سچی ہے کہ اگر جلوس ناپا تولا نہ جا ئے توآجکل کٹ اینڈ پیسٹ کادور ہے اگر کسی جلسے کی تعداد لاکھ بھی ہو تو کو ئی پرانی ہوائی تصویر چسپاں کر کے لاکھ تو کیا کروڑوں کا مجمع بھی دکھانا کوئی بڑی بات نہیں ہے؟ مگر میرے خیال میں چند ہزار ہونا تو ضروری ہے کہ کہاوت ہے کہ رائی کا پہاڑ بن سکتا ہے رائی نہ ہو تو پہاڑ کیسے بنے گا۔ میں کہتا بوں کہ وہ بھی بن سکتا ہےکہ وہاں جھوٹ بولنے پر جو کوئی پابندی نہیں ہے اور حکومت بھی نہلے پردہلہ مارنا ضروری سمجھتی ہے وہ کیوں اس کار ِ خیر میں پیچھے رہے۔ لہذا جواب میں وہ بھی جلوس نکا لنے میں مصروف ہے جبکہ ووٹروں کے نہیں مگر ان کے ووٹوں کی تو سب کو ضرورت ہے؟ مگر یہ کو ئی نہیں خیال کرتا کہ وہ کارونا سےبچے تو ؤوٹ دینگےنہ۔ جبکہ حزب اختلاف کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم جلوسوں کے ذریعہ حکومت کو گرا کر چھوڑیں گے اور ان سے عوام کو نجات دلا ئیں گے کیونکہ اس نے ہم سے عوام کو نجات دلائی تھی؟۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم اپنا ٹرم پورا کریں گے کہ ہمارا حق ہے اور ہم نے تمہیں بھی ٹرم پورا کرنے دیا تھا۔اور ابھی ہمارے ڈھائی سال باقی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ حکومت بالکل نااہل ہے اس کو فوراً برطرف کر دیا جا ئے؟ چونکہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی ہے لہذا ہما رے آتے ہی بازار کے بھا ؤ خود بخود گر پڑیں گے۔ ہم بھوک سے عوام کو بچا نا چاہتے کارونا سے بچیں یا نہ بچیں یا نہ بچیں یہ ان کی قسمت؟
مگر صدر صاحب سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے والد ِمحترم نے بھی ایوب خان کے زمانہ یہ ہی نعرہ لگا یا تھا کہ ہم پرانے بھاؤ واپس لا ئیں گے لیکن لا نہ سکے جبکہ اس وقت شبرات پر تھوڑی سی چینی مہنگی ہوگئی تھی یعنی تین روپیہ کلو سے سوا تین روپیہ کلوہو گئی تھی۔ حالانکہ وہ خود شبرات اور فاتحہ دونو ں پر ہی یقین نہیں رکھتے تھے۔مگر ان کے ساتھ جو دوسرے مکتبہ فکر کے علماء تھے وہ شبرات پر حلوے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ آخر رواداری بھی تو کوئی چیز ہے ۔ چینی اس وقت بھی مہنگی ہوگئی تھی اب بھی مہنگی ۔ اب بھی سیٹ اپ وہی ہے فرق یہ ہے کہ اب بجا ئے والد صاحبان کے ان کے صاحبزادگان ہیں جمہوریت جو ہوئی؟ اور چینی پہلے کی طرح اب بھی نایاب ہے۔ سیاستدانوں کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ جیتیں تو الیکشن درست ہے اگر الیکشن میں وہ نہ جیتں تو جیتنے والے نے ڈنڈی ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ڈنڈی مارنے والوں کے سہو لت ِکاروں کی ایک لمبی فہرست ہے؟ مگر پھر بھی جا تے انہیں کے پاس ہیں کہ ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ بچہ ماں سے روٹھتا تو ہے، مگر روتا ہوا جاتا ماں ہی کے پاس ہے آخر ماں جو ہوئی؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ان کوآئینہ دکھا یا تو برا مان گئے۔۔۔ شمس جیلانی


یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بظاہر اپنے نبی ﷺ سے خطاب فرما رہے ہیں کہ “ اے میرے پیاری نبی ﷺ! آپ کفار کے مال اور دولت سے متاثر نہ ہوں وہ بھی ان کی سزا کو بڑھانے کاذریہ ہے (سورہ توبہ آیت نمبر 55)۔ یہ بھی ایک طرزِ خطابت ہے کبھی مقر ر براہ رست خطاب کرتا ہے، تو کبھی کسی پر رکھ کر بات کہتا ہے۔ لہذا اللہ تعالی ٰ جو کہ قادر الکلام بھی ہے۔ وہ یہاں ہم سے جیسے حوس ِ زر میں مبتلا بندوں سے مخاطب ہے اورمنع فرما رہا کہ” دولت کی اندھا دھند بڑھوتری اللہ کے یہاں کامیابی کی دلیل نہیں ہے” کیونکہ نبی ﷺ تودنیا کو ترک کرچکے تھے جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں ﷺ دو میں سے ایک چیزکو قبول کرنے کا اختیار دیا دیا تھا اور حضور ﷺ نے غریبی کوپسند فرما لیا تھا۔ورنہ وہ چاہتے تو حضرت سلیمان ؑ کی طرح ایسی کوئی چیز مانگ لیتے جو ان سے پہلے نہ کسی کو حاصل ہوئی تھی نہ بعد میں ہوتی جو انﷺ کی اکملیت کا تقاضہ تھا۔ مگرانہیں ﷺاپنی صفت قاسمﷺ ہونا پسند تھی جس میں اپنا ہاتھ کھلا رکھنا اور دوسروں کو بے دریغ عطا کرنا انکے کار ِ نبوتﷺ میں شامل تھا۔ جس پر وہ ہمیشہ یہ کہہ فخر فرما یا کرتے تھے کہ ” اللہ دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں ” اگر آپ گہرائیوں میں چلے جا ئیں تو اگروہ واقعی مومن ہے تو اس میں آپ کو ایک ہی صفت نظر آئے گی کہ” اپنے اوپردوسروں کو ترجیح دنیا” جبکہ مٹھی کو بند کرنا وہ لعنت ہے جسے بخل کہتے ہیں اور اسلام میں اس کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ دنیا میں آجکل دوسری چیزیں جس طرح نقلی ملتی ہیں اسی طرح تمام اسلامی ملکوں میں اصلی اسلام ہی نا پید ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کا پھیلاؤ رک چکا ہے۔ یہ ہے وہ بیماری جس میں کہ آج کی مسلم اکثریت مبتلا ہے۔ کیونکہ ہم سب ملکر ایسے کام کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس دور میں کرونا کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بطور عذاب بھیجا ہوا ہے۔ بجا ئے اس کے ہم اس سے ڈر جا تے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے توبہ کرلیتے تویقیناً ہماری مشکل آسان ہو جاتی۔ مگر عذاب کوبھی ہم نے کمانے کاایک ذریعہ بنا لیا۔ بجا ئے لوگوں کوسہولتیں دینے کے ہر چیز مہنگی کردی ہر چیز کی قلت پیدا کردی۔ دوائیں جو انسانی زندگی کو پچا سکتی ہیں وہ آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جب کے وہ پہلے سے ہی جعلی تھیں۔؟ یہ کون کر رہا ہے جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ جن ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 98فیصدسے زیادہ ہے وہاں اور کون کر سکتا ہے؟ آپ خود سوچئے سوائے مسلمانوں کے۔ جبکہ ذخیرہ اندوزی منامنع خوری ، چور بازاری حتیٰ کی ہر برا کام کرنا اسلام منع ہے مگر وہ اتنا ہی زیادہ ہورہا ہے۔ حتیٰ کہ جو ملک ہم نے کبھی اللہ کے نام پر مانگا تھا!کہ اللہ!اگر تو ہمیں ایک خطہ زمین عطا فرما دے۔تو اس میں ہم دوبارہ وہ نظام نافذکر کےتیرا نام بلند کریں گے۔ لیکن آج جائزہ لیں تو وہی سب سے زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ علماء کی طرف لوگوں کی ہر دور میں نگاہیں اٹھتی رہی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ دین کو بچا یا ہے جس سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔ مگر وہ گردن اٹھاکر چلنے والے وزنی مولوی نہیں تھے، بلکہ وہ سرجھکاکے انکساری سے چلنے والے مولوی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ رہنمائی فرمائی مگر آج وہ بھی ناپید ہیں۔ جو اکڑکر چلنے والےمولوی ہیں وہ اس کوشش میں ہیں کہ برے وقت سے فائدہ اٹھا کر کسی طرح وہ حکومت حاصل کر لیں۔ رہی حکومتِ وقت وہ بھی نہلے پردہلا چل رہی ہے۔ وہ اگر انہیں جلسے کرنے دیتی اور جواب میں خود نہ کرتی،توعوام کو جلد ہی احساس ہو جاتا کہ ہمارا دوست کون ہے اوردشمن کون ہے؟ وہ جو بڑے بڑے جلوس نکال کر عوام میں کرونا پھیلا کر ان کو موت کے منہ میں ڈھکیل رہے ہیں یا وہ حکومت جوکہ صبر کررہی ہے اور انکی مکاریوں کو برداشت کررہی ہے۔ اس سے یقیناً فتح حکومت کی ہوتی کیونکہ پاکستان میں جہالت کا تناسب اب وہ نہیں ہے جو کہ پہلے تھا اور نہ ہی میڈیا کی وہ حالت ہے۔ مگر افسوس ہے حکومت خود اس جنگ میں شامل ہو کر ان کی سہولت کار بن گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عوام کے آنسو پوچھے کون۔ یہ ہے وہ مسئلہ جو پاکستان کے عوام کو درپیش ہے۔ وہ ملک جو ہندوستانیوں مسلمانوں نے اس لئیے بنا یا تھا۔ ہم نہ سہی مگر ہمارےبھائی تو آرام سے ہونگے؟ اب نہ بھائی آرام سے ہیں نہ ہندوستان کے مسلما ن آرام سے ہیں۔ دونوں کے مستقبل پہلے بھی مشکوک تھے اب بھی مشکوک ہیں۔ ہاں یہ فرق ضرور آیا کہ سرمایہ داروں کی تعداد اب پاکستان میں بے شمار ہو گئی جبکہ اس وقت ایک اصفہانی بنگال میں تھے اور حبیب بنک والے بمبئی میں تھے، اللہ اللہ خیر صلا! پہلی مرتبہ جنرل ایوب خان کے دور میں لوگ اکیس نو دولتیوں کاگلہ کرتے نظر آئے، جبکہ اب ماشا ء اللہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔جبکہ ہندوستان کے مسلمانو ں میں سرمایہ دار نہ بڑھے؟مگر ان کی گنتی نہ بڑھنا یہ سوال ضرور پیدا کرتی ہے پاکستان میں یہ تعداد کیسے بڑھی اور کیونکر بڑھی جیسے بھی بڑھی ا چھی بات تھی کہ اس پر پاکستان کے باشندے شکر ادا کرتے۔ تاکہ وہ انہیں اور دیتا مگر وہ ناشکرے بن گئے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کبھی پہلے بھی کسی ناشکری قوم کو نہیں نوازا ہے اورنہ آئندہ اس سے امید ہے اس لیے کہ وہ فرماتا ہے کہ میں اپنی سنت کبھی تبدیل کرتا۔ لہذا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رحم فرما ئے اور پاکستان کے مسلمانو ں کوعقل دے کہ وہ سمجھیں کہ کس دور سے گزر رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اور نہ سمجھے تو اس کے نتائج کیا مرتب ہونگے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

۔۔۔۔ مر دِ ناداں پر کلا م نرم و نازک بے اثر۔۔۔ شمس جیلانی

ابھی کچھ دنو! پہلے 9 نومبر کو علامہ اقبالمرحوم (رح) کا یوم ِ پیدا ئش تھا۔ ہمیں نہ جانے کیوں ان کے ایک مشہور شعر کا مصرع ثانی جوکہ آج کا عنوان ہے، یاد آرہا تھا اور برابر یاد آتا رہا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ علامہ ؒ کی روح بیچین ہو کہ پاکستانی قوم انہیں آہستہ آہستہ بھلاتی جا رہی۔ کچھ سالوں پہلے اس دن کی چھٹی منسوخ ہوئی اور اب سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات” کارونا” کی وجہ سے منعقد ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہیں۔ جبکہ گالی گلوچ پر کوئی پاندی نہیں ہے۔ شاید وہ اس بات سے با خبر نہیں کہ پاکستانی قوم تہتر سال گزرنے کے با وجود ابھی تک اپنی منزل متعین نہیں کرسکی ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس اللہ کو ہی بھول چکی ہے جس نے بغیر لڑے بھڑے ایک ملک بنا کر پاکستان کی شکل میں دیا تھا، اور وہ بھی27رمضان المبارک کی انتہائی برکتوں والی رات کو جس کا تصور کبھی علامہؒ نے پیش کیا تھا۔ اپنی تاسیس کے بعد سے ابھی تک یہ ملک اس کا لاڈلا بنا چلا آرہا ہے اس کے باوجود کہ پاکستان میں جو بھی کرسی نشین ہوا اس نے ہمیشہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی ضرور کی؟ مصرع یاد آنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ ہم نے وہ فیصلہ نہیں سن لیا جوکہ قائد آعظم ؒکے مزار پر ہنگامے کے بارے میں تھا۔ کچھ لوگوں کے مطابق جو وہاں دھما چوکڑی مسلم لیگ نے 18 اپریل 2020 کو مچائی وہ اپنی قسم کا تاریخ میں پہلا واقعہ تھااور یہ فیصلہ اسی سے متعلق تھا؟ جس میں ہنگا مہ کرنے والوں کوبا عزت بری کردیا گیا! اس لیئے کہ یہ صوبائی حکومت کی عزت کا مسئلہ تھااور ہنگامہ کرنے والے اس کے مہمان تھے اور اس لیئے انہیں سو خون معاف بھی تھے۔ فوراً ہمارے دل میں یہ خیال آ یا اگر بقیہ مقدمات کے فیصلے بھی اتنی ہی جلدی اور اسی طرح ہونے لگیں تو نہ ملزمان بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہوں،نہ ہی میڈیا کی پیدا کردہ رحمدلی بڑھا کر مفرور مجرمان اور ملزمان کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ ملے،نہ ہی مقدمہ اتنا لمبا کھنچے کہ مدعی اور مدعا علیہ اور گواہ اللہ کو پیارے ہوجا ئیں۔ اتنی جلدی فیصلے کی وجہ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ یہ فوجی انکوائری کمیشن کافیصلہ ہے جو کہ عموماً اپنی حد تک فوری فیصلہ پریقین رکھتے ہیں؟ جبکہ ہمیں دوسری عدالتوں اور کمیشنوں میں تاخیر کی وجہ بھی معلوم ہے کہ عدالتیں یوں مجبور ہیں کہ وہاں ابھی تک کچھ برٹش دور کے قوانیں نافذ ہیں کیونکہ وہاں کی پارلیمان، پارلیمان سے باہر ی مصروفیات کی بنا پر،و قت کے مطابق قوانین بنا کے لئے وقت نہیں نکال سکی، ان میں وہ قوانین بھی شامل ہیں جو ہر بننے والے دستور کے مطابق انہیں دس سال میں مشرف بہ اسلام ہونا تھا۔ اور اس پر طر ہ یہ ہے کہ پچھلے ڈیرھ دو سو سال میں وکلاء اور نچلے عملے نے ملکر بہت سے تاخیر کے مجرب نسخے ایجاد کر لیئے ہیں، جن کی تفصیل بیان کرنے کے لئیے اس چھوٹے سے مضمون میں گنجا ئش نہیں ہے، مگر پتہ سب کو ہے کہ یہ کیوں ہوتا اور کیسے ہوتا ہے اور کون کون کرتا ہے؟ پاکستانیوں کی اس روش کے باوجود ان کے ساتھ پھر بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ رحم کا برتاؤ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال کرونا کا پہلا حملہ ہے جو کہ وہاں اس کی رحمت کی وجہ سے شدت اختیار نہیں کرسکا؟ جسے یار لوگوں نے اپنے نام لکھ لیا،اب آگے کیا ہوگا اللہ ہی جانتا ہے۔ وہاں کے باشندوں نے اور تو سب اسلامی فرائض اوراحکامات چھوڑے ہوئے ہیں، سوائے مجرموں اور ملزمو ں پر رحم کھانے کے۔ وہ ان کے سلسلہ میں انتہائی رحیم ہیں اوران پر بے انتہا مہربان ہیں جو جرم کر تے ہوئے اپنے آپ پر رحم نہیں کھاتے ہیں، نہ مظلوموں پر رحم کھا تے ہیں، نہ ان کے بال بچوں پر رحم کھا تے ہیں جو اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہےکہ نہ چور، چور بازاری کرتے ہو ئے پکڑے جاتے ہیں نہ ہی سزا ملتی ہے نہ ذخیرہ اندوزی پر سزا ہوتی ہے۔ جبکہ مملکت ِ پاکستان کے ماتھے پر نمایا ں طور پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا یہ ضرور ملتا ہے “ اًسلامی جمہوریہ پاکستان ً“ جبکہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام میں ان جرموں کی کوئی سزا نہ ہو؟ بلکہ بہت سخت سزائیں ہیں؟ اور اسلام مجرموں پر رحم کرنے کی قاضی اور حکومت کو بھی اجازت نہیں دیتا، بلکہ حکم یہ ہے کہ “ مجرم پر حد جاری کرتے ہوئے ترس نہ کھاؤ تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں“ البتہ اسلام میں وہاں رحم کرنے کی یا معاف کرنے کی اجازت ہے کہ اہلِ معاملہ کسی طر ح راضی ہوجا ئیں اور مجرموں کو معاف کردیں تاکہ مزید خونریزی اور بدلے کی شکل میں خونریزی در خونریزی نہ ہو۔ جس کی اللہ سبحانہ تعالیٰ خود ہمت افزائی فرماتا ہے اور اپنا قانون بخشش اس نے اسی طرح ہی رکھا ہے کہ “ رحم کرو تاکہ رحم کیئے جا ؤ؟ تم اپنے خطا وار کو معاف کردو تاکہ جب میرے پاس تم آؤ تو معاف کیئے جاؤ۔ لیکن آنے والے کو حکم ہے کہ پہلے تم اہلِ معاملہ کو مطمعن کرکے آؤ ورنہ میں اپنا گناہ تو پہاڑ کے برابر بھی ہوتو بھی معاف کردونگا؟ مگر حقوق العباد معاف نہیں کرونگا۔ یہ تو خیر وہاں کامعاملہ ہے۔ یہاں ان کے سربراہ جو کہ خیر سے عدالت سے مفرور قرار دیئے جا چکے ہیں اور لندن میں آجکل مقیم ہیں انہوں نے بجا ئے اس فیصلے پر جسکا ہم شروع میں ذکر کرچکے ہیں! شکریہ ادا کرنے، کے بدلہ یہ دیا ہے کہ “ اس فیصلے کو رد کردیا یہ فرما کر کہ” یہ فیصلہ کچھ لوگوں کوبچانے کے لئیے کیا گیا ہے“ اس سے فیصلہ کرنے اور فیصلہ جلدی کروانے والے کی بجا ئے ہمت افزائی کہ اتنی ہمت شکنی ہوئی ہوگی کہ اس نےاب فیصلہ کرلیا ہوگا۔ کہ وہ خود بھی آئندہ کوئی فیصلہ جلدی میں نہیں کریگا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو کہہ جا ئے گا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی تھی، مگر تم آئندہ ایسی غلطی نہ کرنا؟ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے مگر ہماری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ علامہ ؒ کا یہ شعر ہمیں کیوں بار بار یا د آرہا تھا۔ ویسے تو یہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول ہمارے لئے زیادہ مشعل راہ ہے کہ “ جس کے ساتھ احسان کرو اس کے شر سے ڈرو “ دوسرے مسلمان دانشوروں نے بھی اس سلسلہ میں بہت کچھ لکھا۔ جیسے کہ علامہؒ ابن ِ تیمیہ فرما تے ہیں۔“ تم کسی کو اپنا حکمرا ں منتخب کرنے جارہے ہو تو، اس میں دو صفتیں ضرور تلاش کرو تقویٰ اور بہادری اگر کسی میں تقویٰ کم ہو اور بہادری زیادہ ہو تو اسے تر جیح دو کیونکہ تقویٰ ہر فرد کی اپنی ذات کے لئے سود مند ہوتا جبکہ بہادری ملت کے کام آتی ہے۔ان کے دور میں اس وقت تک دور جہالت والی انا شاید واپس نہیں آئی تھی، ورنہ وہ اس میں یہ ضرور اضافہ فرمادیتے کہ اُس میں ہٹ دھری اور انا پرستی بالکل نہیں ہو نا چاہئیے؟

شائع کردہ از Articles | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

حضور ﷺ کے اجداد کیسے تھے (2) شمس جیلانی

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہنچے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسمعٰیل(ع)نے ملکر حرم شریف تعمیر فرمایا او ر اس طرح حضور ﷺ کو حضرت
ا برا ہیم ؑ کی دعا بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد ان (ص) کے بزرگوں کے بارے میں تاریخ خاموش ہے اس لئیے کہ انسانیت ابھی زیر تعمیر تھی بہت سے نبیوں ؑ اورآخر میں نبی ﷺ آخر الزماں کو تشریف لانا تھا۔ مگر حضور ﷺ کےپورے خاندان کو دنیا میں ہمیشہ بہت ہی عزت کی نگا سے دیکھا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ مکہ معظمہ کے رہنے والے اورکعبے کے پہلے متولی تھے، جہاں حج کرنے ساری دنیا آتی تھی۔ اوراہلِ کعبہ سے دنیا میں کہیں کوئی تعرض نہیں کرتا تھا نہ کوئی مال ِ تجارت پر محصول وغیرہ وصول کرتا تھا جب کہ وہ قافلے کے ساتھ دور دور تک تجارت کے لئیے تشریف لے جاتے تھے۔کیونکہ انہیں بقیہ دنیا والے جا نتے تھےاور یہ سلسلہ حضرت اسمعٰیل علیہ السلام سے لیکر حضرت عبد المطلب تک جو کہ حضور ﷺکے دادا تھے جاری رہا اور کسی نے کبھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ جبکہ حضرت ابراہیم کی دعا کی بنا پر اس بے آب و گیاہ میدان پر اللہ سبحاہ تعالی کی رحمت کا یہ عالم تھاکہ کبھی وہاں کھانے پینے کی تنگی نہیں ہوئی۔ نہ صرف مکہ معظمہ کے باشندے سارے سال آرام سے کھاتے پیتے رہتےتھے ،بلکہ حجاج کوبھی جو کہ پورے سال حج اور عمرے کے لئیے آتے رہتے تھے انہوں نے انہیں بھی کبھی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ تنگی کا سلسلہ جب سےشروع ہوا جبکہ وہاں کعبے میں بت رکھدیئے گئے۔ پھر حضرت ابو المطلب کے دور میں حبشہ میں ایک با دشاہ بر سراقتدار آیا تو تمام قبا ئل نے اپنے اپنے وفود بھیجے اہلِ مکہ نے بھی حضرت عبد المطلب کو بھیجا۔ وہ با دشاہ بہت سی پرانی کتابوں کا ماہر تھا جب اس نے ان کی تفصیلات پوچھیں کہ آپ کےبچے وغیرہ وغیرہ کتنے ہیں۔ تو حجرت عبد المطلب نے تفصیل بتا ئی تو اس نے بتا یا کہ آپ کے نسب میں سے نبی ﷺ آخر زماں پیدا ہونگے ان کا خیال رکھنا اور حفاظت کرنا۔نیز ان کا بہت ہی اکرام کیا یعنی تحائف وغیرہ سے نوازا جسکی شہرت مدینہ منورہ تک پہنچ گئی جبکہ ابھی وہ وہاں واپسی میں پہنچے بھی نہ تھے۔؟ یہ پہلا دھچکہ تھا ان لوگوں کے لئیے جو سمجھ رہے تھے جیسے کہ سارے انبیاء کرام(ع) ابتک بنی اسرا ئیل میں سے آئے تھے۔ نبی ﷺ آخر الزماں بھی انہیں میں سے ہونگے۔ ان میں دو قبیلے یمنی اوس اور خزرج تھے اور نو قبیلے یہو دیوں کے تھے جن میں دو مدینہ منورہ میں آباد تھے اور باقی سات قلعوں میں مدینہ کے اطراف میں یہودی آباد تھے جنکا مجموعہ خیبر کے نام مشہور ہے۔ خیبر پہلا قلعہ تھا جو اس طرف جاتے ہوئے راستے میں پڑتا تھا اوران کے خیال میں وہ نا قابلِ تسخیربھی تھا دوسرے چھ کے اپنے اپنے نام تھے۔اور یہ سب نبی ﷺ آخر زماں کے انتظار میں یہاں آکر آبا دہوئے تھے۔ان میں سے اوس اور خزرج کے ساتھ مکہ معظمہ والوں کی رشتے داری بھی تھی۔ حضرت عبد المطلب واپس ہوتے ہوئے جب مدینہ منورہ پہنچے جوکہ اس وقت یثرب کہلاتا تھا اوراپنےرشتے داروں کے پاس ٹھہرے تو حضورﷺ کی شہرت ان سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی۔ غالباً وہ با دشاہ زیادہ دن نہیں چل سکا اس کے بعد حبشہ میں دوسرا با دشاہ آگیا اور اس نے یمن پر ایک کے بجا ئے دو سردار اپنی طرف سے مقرر کیئے ان میں ابرا ہہ ہوشیار تھا۔ اس نے اپنے مخالف کو شکت دیدی اورپورے یمن پر قبضہ کرلیا۔ جبکہ حبشہ کے بادشاہ کو خوش کرنے کے لئیے اس نے اس کے نام سے ایک عبادت گاہ یمن میں بنائی اور کوشش کی کہ مکہ کے بجائے لوگ وہاں حج کے لیئے آئیں!اس طرح پہلی دفعہ اہل ِ یمن اور اہل مکّہ میں ِ مخاصمت پیدا ہوئی۔ اسی دوران کسی نے وہاں غلاظت کردی اس طرح ابراہہ کا شبہ اہل ِ کعبہ کی طرف گیا۔ اور اس نے پہلی دفعہ ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ حملہ کر دیا راستے میں کئی قبا ئل نے مدافعت کی مگر وہ ناکام رہے تو انہیں میں سے ایک قبیلہ نے رہنما ئی کی اور ابرا ہہ کو وہاں تک پہنچا دیا۔ اس نے پہلی چھیڑخانی یہ کی کہ حضرت عبد المطلب کے دو سو اونٹ جو چرا گاہ میں چر رہے تھے ان پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے ان دوسو اونٹوں کو ذریعہ بنا کر اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کے دربار میں بے خوف و خطر تشریف لے گئے۔ ابراہہ ان سے بہت مرعوب ہوا۔ بہت ہی عزت اور احترام سے اپنے پاس بٹھایا، پھر آنے کا سبب پوچھا کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا تھا یہ مکہ معظمہ کو سر نگوں کرنے آئے ہونگے،درمیان میں بسنے والے قبا ئل کا حشر دیکھ کر! مگر انہوں نے فرمایا کہ تمہا رے آدمیوں نے میرے دو سو اونٹ پکڑ لئیے ہیں میں وہ واپس لینے آیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں نے تو آپ کو بہت ہی مدبر سمجھا تھا اور اپنی رعیت خیر کاخواہ بھی۔ لیکن آپ نے تو بہت چھوٹی سی فرما ئش کی! انہوں نے جواب دیا کہ میں ان اونٹوں کا مالک ہو ں اور ایک اچھے مالک کی طرح اپنے اونٹ مانگنے آیا ہوں۔ رہا تیرا اور حرم کا معاملہ اس کا مالک جو ہے وہ خود اس کا دفاع کرے گا؟ تو اس نے بڑی رعونت سے کہا کہ میں دیکھونگا کہ میرے ہاتھ سے کعبہ کو کون بچا سکتاہے انہوں نے جواب میں فرمایا یہ تیرا اس کا معاملہ ہے وہ جانے اورتو جان۔ اور اس نے ان کے دوسو اونٹ واپس کردیئے اور وہ لیکر واپس چلے آئے۔مکہ آکر انہوں نے حکم دیا وہاں کے تمام با شندوں کو کہ اپنے گھر خالی کرکے پہاڑوں پر چلے جائیں اس لئیے کہ ہمارے پاس اتنی فوج نہیں ہے کہ ابراہہ کا مقابلہ کر سکیں؟ یہ ان کے دادا کے توکل کا عالم تھا؟ اس کے بعد کی کہانی سورہ الفیل کی تفاسیر میں پڑھ لیجئے۔ اس سے زیادہ تفصیل آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔(باقی آئندہ)

شائع کردہ از shakhsiat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

مسلمان کیا کریں اور کیا نہ کریں۔۔۔ شمس جیلانی

اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں فر ماتا ہے کہ “پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجا ؤ “ (جز۔۔۔ آیت نمبر 208 سورہ البقرۃ) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ “نفاق سے بچو کہ دو چہرے والا اللہ کے نزدیک جگہ نہیں پاسکتا “ جبکہ مسلمان پریشان ہیں کہ وہ کس کی مانیں اور کیا کریں اور کیانہ کریں۔ کہ مولوی صاحبان فتویٰ دیئے بیٹھے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو؟ جبکہ اسلام کا مطالبہ ہے کہ اللہ رسول ﷺاور اس کے دین کو عزت دو؟ اور قر آن کہتا ہے کہ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ میں نمونہ ہے۔ اور نبیﷺ حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن پر عامل بنا کر وہاں بھیجتے ہو ئے ان سے پوچھتے ہیں کہ تم وہاں جاکر فیصلے کیسے کروگے؟تو وہ فرما تے ہیں کہ میں پہلے قر آن میں دیکھونگا، اگر وہاں ہدایت نہ ملی تو آپ کے اسوہ حسنہ ﷺ میں (جیساکہ آپ نے ﷺ دنیا کو عمل کرکے دکھایا ہے) تلاش کرونگا اور اگر وہاں بھی کچھ نہ ملا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کرونگا۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر ان کو گلے لگا لیا اور فرمایا کہ “ پھر یہ امت کبھی گمراہ نہیں ہوگی “ اور دیکھو وہاں کے باشندوں کے ساتھ آسانیاں پیدا کرنا مشکل نہیں “ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے اسوہ حسنہ ﷺ کوتو ایک طرف رکھدیا ہے اور اکثر لوگ اس کے معنی بھی نہیں جانتے اور بے عملی کا نام اسلام رکھدیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ چاروں طرف دو ہرے چہرے والے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے قول اور فعل میں بہت بڑا تضاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجا ئیں اور اسی طرف امت کی بھی رہنما ئی کریں تو ان کے آقایان ولی نعمت ناراض ہو جا ئیں گے؟ کیونکہ ان متقیان ِ ملت میں سے ہم نے ایک مولوی صاحب کو یہ بھی فرماتے ٹی وی پر سنا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا ہوں اورایسے قوانین میری ٹھوکروں میں ہیں۔ جبکہ یہ جملہ تکبر سے پر ہے جس کی اسلام نے شدید مذمت فرما ئی ہے خیر انہیں جانے دیجئے کہ وہ غلبہ تکبر میں کہہ گئے ہوں۔ مگر ہم ان کے بڑے معترف ہیں کہ ہماری رائے ان کے بارے میں قطعی مختلف ہے؟ عموماً مولوی صاحبان خشک ہوتے ہیں۔ مگر ہم نے دیکھا کہ ان کے اندر حس ِ مزاح بھی ہے؟ وہ جب کشمیر کمیٹی کے چیر مین تھے اور انڈیا نے اسوقت بھی کشمیریوں پر ظلم کیا تھا تو انہوں نے ایک اینکر کے سوال کے جواب میں قہقہہ لگا کر فرمایا تھا میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کردوں؟ اور بیچارہ نا سمجھ بچہ شرمندہ ہوکر چپ ہوگیا تھا۔ ابھی حال میں بھی مولانا کو اچھے موڈ میں دیکھا کہ کسی اخبار نویس کہا کہ مسلم لیگ پر غداری کے الزام لگ رہے ہیں ان کے بیانیہ کی وجہ سے؟تو انہوں نے بڑی زور کا قہقہہ لگا کر فرمایا مسلم لیگ پر غداری کا الزام؟ اس وقت شاید وہ بچے ہونگے جب پاکستان بنا تھا اور اب سمجھے نہیں ہونگے کہ یہ ذکر قائد اعظم والی مسلم لیگ کا نہیں ہے جس میں وہ لوگ تھے جو مسلم لیگ پر خرچ کرتھے، وہ نہیں جو مسلم لیگ کے نام پراسمبلیوں میں زیادہ ترجا تے اور کما تے ہیں۔ان کی اطلا ع کے لیے عرض کئیے دیتا ہوں وہ “ آل انڈیا مسلم لیگ تھی پاکستان مسلم لیگ نہیں تھی؟ جس کو قائد اعظم نے انڈیا سے روانہ ہو نے سے پہلے تحلیل کردیا تھا یہ فرما کر کے۔ کہ “ پاکستان بن گیاہے آل انڈیا مسلم لیگ کا مشن پوراہوگیا اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔؟اس کے بعد پاکستان کافی عرصے تک بغیر مسلم لیگ کے رہا۔ پھر لیاقت علی مرحوم نے پاکستان مسلم لیگ بنائی اور وہ بہت ہی ثمر آور ثابت ہوئی، اس نے بے شمار بچے دئیے ایک کے بعد دوسری بنتی چلی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیاکہ ایک درجن سے کچھ کم مسلم لیگیں تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی جسکا شجرہ مجھے معلوم نہیں۔ اس لئیے کہ میں کنیڈا چلا آیا تھالیکن میرا قیاس ہے کہ یہ شاید محمد خان جونیجو مرحوم والی مسلم لیگ کا تسلسل یا شاخ ہے۔ لہذا اس کو مقدس گا ئے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا؟ میں نے خود نہیں دیکھا مگر مجھے کسی نے بتایاکہ مولانا میں اب وہ پہلے جیسی خوش مزاجی بھی باقی نہیں رہی ہے۔ اب وہ بات بات پر ناراض ہوجا تے ہیں، حال میں کسی نے ان کو محترمہ مریم نواز صاحبہ کے برابر بیٹھے دیکھ کر پوچھا لیاکہ آپ تو پہلے کہتے تھے کہ عورت کی قیادت اسلام میں جا ئز نہیں ہے یہ کیا؟ مولانا بہت ناراض ہوئے اور فرما یا کہ یہ عوام کا حق ہے وہ جس کے حق میں فیصلہ کرے اور ہمیں ماننا ہے۔ شاید وہ غصے میں یہ بھی بھول گئے کہ پی ۔ ڈی ایم کے چیر مین وہ ہیں اور وہ بیچاری تو اپنے والدکی نما ئندگی کر رہی ہیں لہذا وہ خود قائد نہیں ہیں۔غصے میں اکثر آدمی ہوش و حواس کھوبیٹھتا ہے اس لئیے اسلام میں غصہ پی جانے کا حکم ہے۔ اور جبکہ آدمی اقتدار میں نہ ہو تو وہ ویسے بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سچ نہیں بولتے لہذا برکت اٹھ گئی ہے جبکہ میرے سامنے اپنے آقا ﷺ کا یہ فرمان ہے جس کا لب لباب یہ کہ “ مسلمان اورکچھ بھی ہوسکتا مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا “ جبکہ آجکل مسلم اکثریت کا اوڑھنا اوربچھونا جھوٹ ہے۔ للہ مولانا مجھے اس ملک کاپتا بتادیں جہاں ایسے مسلمان ہوں جو صادق اور امین بھی ہوں جیسے کہ حضورﷺ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہاں ایک مشورہ اور دیتا چلوں کے البقرہ کی آیت نمبر 4سے 8تک جوکہ نفاق، فتنہ اور انتشار پھیلانے کے بارے میں ہیں۔وہ مولانا نے توپڑھی ہی ہونگی؟ البتہ عوام ترجمہ کے ساتھ ضرور پڑھ لیں؟ شاید کسی کا بھلا ہوجا ئے۔ اور انہیں جواب مل جا ئے کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ اور اس میں سے نفاق والی آیتیں پڑھ کر دو آتیں جوکہ درمیان میں ہیں انہیں پڑھ کر اپنے آپ کو بچا لیں اور بخشش اور صرف رحمت والی آیتوں سے فا ئدہ اٹھا کر ان مشکل حالات میں پاکستان کو بھی بچا لیں تو بہتر ہے،ورنہ اس کووہ تو بچا ہی لے گا جو سب کا مالک ہے اور وہ اب تک پاکستان کو بچا تا آیا ہے۔ جیسے کہ اس نے کرونا سے ابھی بچا یا؟ لیکن حکمرانوں نے اسے بھی اپنے نام لکھ لیا۔ اور یہ کریڈٹ بھی خو دہی لے لیا؟ اللہ سبحانہ تعالی پاکستان کو محفوظ رکھے۔(آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

ہمارے پاس ہدا یت تو ہے مگر بھٹک جاتے ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

<p class="has-blue-color has-white-background-color has-text-color has-background" value="<amp-fit-text layout="fixed-height" min-font-size="6" max-font-size="72" height="80">ایک روزحضور ﷺ نے فرمایا کہ“ اس سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ ایسا کون ہوسکتا! تو فرما یا کہ جو دوسروں کے ماں باپ کو برا بھلا کہے اور دوسرے اس کے جواب میں اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہیں “دوسرے قرآن میں ایک آیت یہ بھی ہے کہ“ تم دوسروں کے معبودوں کو بر ا مت کہو ورنہ وہ تمہارے معبود کو برا کہیں گے “ چونکہ اسلام نے ہمیں کہیں بھی بغیر رہنما ئی کے نہیں چھوڑا ہے یہ ہمارے علم میں ہونا چاہیئے لیکن پھر بھی ہم لوگوں کے اشتعال دلا نے پر جلدی مشتعل ہوجا تے ہیں؟ اور اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس صبر کی شکل میں وہ ہتھیارہے کہ ہر فعل کے مقابلے میں صبر کو ہی تر جیح دی گئی ہے۔ اور ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں یہ فرما کر اس پر بہت زیادہ زو ردیا ہے کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “<br>اور ہر معاملے میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ بدلا لینے والے سے معاف کرنے والا افضل ہے اور یہ کہ معاف کرو تاکہ معاف کیئے جاؤ۔ لیکن نہ قرآن کو ہم کھول کر دیکھتے ہیں نہ حضور ﷺ کے اسو ہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت مار نے اورمرنے پر تیار رہتے ہیں دوسری طرف زر پرستی کی پوری مشینری ہمیں شدت پسند ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے۔۔ اس لئے ہم آسانی سے مفاد پرستوں کا ہمیشہ تر نوالا بن جاتے ہیں اور زیادہ تر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ کبھی اپنی ہی املاک کو آگ لگا کر کبھی توڑ پھوڑ کرکے۔ جبکہ کسی کی قیادت کے پیچھے چلنے سے پہلے یہ تک نہیں سوچتے کہ اس قائد کے مقا صد کیا ہیں ؟جبکہ ہمیں بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم ہے برا ئی میں نہیں؟ وہ فتنہ پردازی کر کے اپنا الوسیدھا کرتے ہیں۔ جبکہ وہ بھی اکثر دوسروں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی قرآن ہی کہہ رہا کہ “ فتنہ “ قتل سے بد تر ہے اور فتنے کی تعریف یہ ہے کہ جہاں امن امان ہو وہاں بد امنی پیدا کی جا ئے۔ چونکہ اسلام دین ِ فطرت ہے لہذا ایک جیسا حکم بھی ہر جگہ کے لیے نہیں ہے۔ مسلمان مغلوب ہیں تو ذمہ داریا ں اور ہیں اور غالب ہیں تو ذمہ داریاں اور ہیں۔ اس لیئے ہمیشہ کے لئیے ایک جیسا حکم نہیں دیا گیا ہے اور موقعہ محل دیکھ کر ہر ایک کو خود فیصلہ کرنا ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ توبات کچھ اور تھی مدینہ منورہ میں کچھ اور تھی۔ وہاں ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ انﷺ کے سامنے ان کے جانثار شہید ہو رہے ہیں مگر حضور ﷺ یہ فرما کر انہیں تسلی دے رہے ہیں کہ صبر کرواس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔ ہمارے سامنے ان تین مجاہدوں میں سے دو کی شہادت کی مثال موجود ہے جس میں پہلی خاتون شہید ہوئیں جن کا نام حضرت سمیہ ؓ تھا جبکہ ان کے شوہر اور صاحبزادے دیکھتے رہے مگر انہوں نے مدافعت نہیں کی کیونکہ اس وقت تک مدافعت کا حکم نہیں تھا اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ یہ خاندان ابو جہل کا غلام تھا جرم ان کا یہ تھا کہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تھا ابو جہل ان کے منہِ مبارک سے اسلام سے انحراف سننا چا ہتے جبکہ وہ آیت نازل ہوچکی تھی جس میں حکم تھا کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو جان بچانے کے لئیے غلط بات بھی کہہ سکتے ہو۔ ماں باپ نے وہ بات نہیں کہی حالانکہ صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت سمیہؓ کا ایک پیر ایک اونٹ کے پیر کے ساتھ رسی سے بندھا ہوا تھااور دوسرا پیر دوسرے اونٹ کے پیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور دونوں کو مختلف سمتوں میں جانا تھا ساربان صرف حکم کے منتظر تھے۔ مگر انہوں نے بات نہیں مانی اور جان دینا پسند فرما ئی نتیجہ یہ کہ ان کے اس طرح دو ٹکڑے کردیئے گئے۔ پھر والد حضرت عمار ؓ بھی اسی مرحلے سے گزرے وہ بھی شہادت پاگئے۔ اب بیٹے کی باری تھی جن کا نام تھاحضرت یاسر بن عمار ؓ۔ انہوں نے وہ ا لفاظ کہہ دیئے اور جان بچا لی۔ پھر وہ حضورﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے دل کی اسوقت کیا حالت تھی؟ جواب میں ارشاد فرمایا کہ میرے دل میں تو ایمان تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر خیر ہے؟ اور تاریخ گواہ ہے کے ان کے رتبے میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا وہ جلیل القدر صحابہ میں شامل رہے۔ اور حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق وہ جنگ ِ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب مسجد نبوی ﷺ بن رہی اور حضور ﷺ خود بھی اس کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ حضور ﷺ انہوں نے میرے اوپر بہت سی اینٹیں لا د دی ہیں یہ مجھے اس طرح مارڈالنا چا ہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ فرمایا تم یہاں نہیں مروگے بلکہ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگے جبکہ علیؓ حق پر ہونگے۔یہ میں یہ چند مثالیں بیان کرنے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ جبکہ ہدا یت کے لئیے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے تو ہم خود فیصلہ کیوں نہیں کرتے پاتے بار بارالجھ کیوں جا تے ہیں اور غلط فیصلے کرنے کے باربار کیوں مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اب ہماری پوزیشن بھڑوں کے چھتے کی طرح ہو گئی ہے۔ کہ کسی نے ایک ڈھیلا پھینکا اور سب کانٹنے کو دوڑ پڑیں۔ جبکہ یہ پالیسی وہاں چل سکتی ہے جہاں غالب ہوں لیکن وہاں نہیں جہاں مغلوب ہیں وہاں خود ہم کو مقامی قْوانین کااحترام کرنا چاہیئے جیسا کہ حکم ہے اور بطور سفیر اسلام اسی اخلاق کا مظا ہرہ کرنا چا ہیئے جوکہ مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا۔ اللہ ہم سب کو عقل دے(آمین)ایک روزحضور ﷺ نے فرمایا کہ“ اس سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ ایسا کون ہوسکتا! تو فرما یا کہ جو دوسروں کے ماں باپ کو برا بھلا کہے اور دوسرے اس کے جواب میں اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہیں “دوسرے قرآن میں ایک آیت یہ بھی ہے کہ“ تم دوسروں کے معبودوں کو بر ا مت کہو ورنہ وہ تمہارے معبود کو برا کہیں گے “ چونکہ اسلام نے ہمیں کہیں بھی بغیر رہنما ئی کے نہیں چھوڑا ہے یہ ہمارے علم میں ہونا چاہیئے لیکن پھر بھی ہم لوگوں کے اشتعال دلا نے پر جلدی مشتعل ہوجا تے ہیں؟ اور اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس صبر کی شکل میں وہ ہتھیارہے کہ ہر فعل کے مقابلے میں صبر کو ہی تر جیح دی گئی ہے۔ اور ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن میں یہ فرما کر اس پر بہت زیادہ زو ردیا ہے کہ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “
اور ہر معاملے میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ بدلا لینے والے سے معاف کرنے والا افضل ہے اور یہ کہ معاف کرو تاکہ معاف کیئے جاؤ۔ لیکن نہ قرآن کو ہم کھول کر دیکھتے ہیں نہ حضور ﷺ کے اسو ہ حسنہ کو سامنے رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت مار نے اورمرنے پر تیار رہتے ہیں دوسری طرف زر پرستی کی پوری مشینری ہمیں شدت پسند ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے۔۔ اس لئے ہم آسانی سے مفاد پرستوں کا ہمیشہ تر نوالا بن جاتے ہیں اور زیادہ تر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ کبھی اپنی ہی املاک کو آگ لگا کر کبھی توڑ پھوڑ کرکے۔ جبکہ کسی کی قیادت کے پیچھے چلنے سے پہلے یہ تک نہیں سوچتے کہ اس قائد کے مقا صد کیا ہیں ؟جبکہ ہمیں بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم ہے برا ئی میں نہیں؟ وہ فتنہ پردازی کر کے اپنا الوسیدھا کرتے ہیں۔ جبکہ وہ بھی اکثر دوسروں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی قرآن ہی کہہ رہا کہ “ فتنہ “ قتل سے بد تر ہے اور فتنے کی تعریف یہ ہے کہ جہاں امن امان ہو وہاں بد امنی پیدا کی جا ئے۔ چونکہ اسلام دین ِ فطرت ہے لہذا ایک جیسا حکم بھی ہر جگہ کے لیے نہیں ہے۔ مسلمان مغلوب ہیں تو ذمہ داریا ں اور ہیں اور غالب ہیں تو ذمہ داریاں اور ہیں۔ اس لیئے ہمیشہ کے لئیے ایک جیسا حکم نہیں دیا گیا ہے اور موقعہ محل دیکھ کر ہر ایک کو خود فیصلہ کرنا ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ توبات کچھ اور تھی مدینہ منورہ میں کچھ اور تھی۔ وہاں ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ انﷺ کے سامنے ان کے جانثار شہید ہو رہے ہیں مگر حضور ﷺ یہ فرما کر انہیں تسلی دے رہے ہیں کہ صبر کرواس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔ ہمارے سامنے ان تین مجاہدوں میں سے دو کی شہادت کی مثال موجود ہے جس میں پہلی خاتون شہید ہوئیں جن کا نام حضرت سمیہ ؓ تھا جبکہ ان کے شوہر اور صاحبزادے دیکھتے رہے مگر انہوں نے مدافعت نہیں کی کیونکہ اس وقت تک مدافعت کا حکم نہیں تھا اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ یہ خاندان ابو جہل کا غلام تھا جرم ان کا یہ تھا کہ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا تھا ابو جہل ان کے منہِ مبارک سے اسلام سے انحراف سننا چا ہتے جبکہ وہ آیت نازل ہوچکی تھی جس میں حکم تھا کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو جان بچانے کے لئیے غلط بات بھی کہہ سکتے ہو۔ ماں باپ نے وہ بات نہیں کہی حالانکہ صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت سمیہؓ کا ایک پیر ایک اونٹ کے پیر کے ساتھ رسی سے بندھا ہوا تھااور دوسرا پیر دوسرے اونٹ کے پیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور دونوں کو مختلف سمتوں میں جانا تھا ساربان صرف حکم کے منتظر تھے۔ مگر انہوں نے بات نہیں مانی اور جان دینا پسند فرما ئی نتیجہ یہ کہ ان کے اس طرح دو ٹکڑے کردیئے گئے۔ پھر والد حضرت عمار ؓ بھی اسی مرحلے سے گزرے وہ بھی شہادت پاگئے۔ اب بیٹے کی باری تھی جن کا نام تھاحضرت یاسر بن عمار ؓ۔ انہوں نے وہ ا لفاظ کہہ دیئے اور جان بچا لی۔ پھر وہ حضورﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے دل کی اسوقت کیا حالت تھی؟ جواب میں ارشاد فرمایا کہ میرے دل میں تو ایمان تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر خیر ہے؟ اور تاریخ گواہ ہے کے ان کے رتبے میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا وہ جلیل القدر صحابہ میں شامل رہے۔ اور حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق وہ جنگ ِ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب مسجد نبوی ﷺ بن رہی اور حضور ﷺ خود بھی اس کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ حضور ﷺ انہوں نے میرے اوپر بہت سی اینٹیں لا د دی ہیں یہ مجھے اس طرح مارڈالنا چا ہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ فرمایا تم یہاں نہیں مروگے بلکہ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگے جبکہ علیؓ حق پر ہونگے۔یہ میں یہ چند مثالیں بیان کرنے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ جبکہ ہدا یت کے لئیے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے تو ہم خود فیصلہ کیوں نہیں کرتے پاتے بار بارالجھ کیوں جا تے ہیں اور غلط فیصلے کرنے کے باربار کیوں مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اب ہماری پوزیشن بھڑوں کے چھتے کی طرح ہو گئی ہے۔ کہ کسی نے ایک ڈھیلا پھینکا اور سب کانٹنے کو دوڑ پڑیں۔ جبکہ یہ پالیسی وہاں چل سکتی ہے جہاں غالب ہوں لیکن وہاں نہیں جہاں مغلوب ہیں وہاں خود ہم کو مقامی قْوانین کااحترام کرنا چاہیئے جیسا کہ حکم ہے اور بطور سفیر اسلام اسی اخلاق کا مظا ہرہ کرنا چا ہیئے جوکہ مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا۔ اللہ ہم سب کو عقل دے(آمین)

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ڈرواس وقت سے کہ تم پر ظالم مسلط کر د ئیے جا ئیں۔۔شمس جیلانی

یہ مشہور حدیث ہے۔ آج کی دنیا کا آپ جائزہ لیں تو آپ کوہر طرف ظلم اور زیادتی نظر آ ئے گی؟ موجودہ دور کوآئندہ نمودار ہونے والے واقعات کا ایک نمونہ یا (ٹریلر) سمجھ لیں؟ جبکہ حضور ﷺ نے یہ فرما کر چودہ سو سال پہلے ہی امت کو خبر دار کردیا تھا؟ مگر ہم ایسی باتوں کو سنتے کہاں ہیں؟ اگر حضور ﷺ کے فرمودات سنتے ہو تے تو اسوہ حسنہﷺ کو اپنی لیئے اللہ کے فرمان کے مطابق مشعل راہ بناتے اور ہر کام کی طرح ووٹ کوبھی سوچ سمجھ کر استعمال کرتے؟ اُس صورت میں پھر ہمارا معیار یہ نہ ہوتا کہ ہمیں صرف اپنے بندوں کو ووٹ دینا ہے چاہیں ان کا کردار کیسا بھی ہو؟ جبکہ ہمیں حکم ہے کہ اپنے بھا ئی کی صرف بھلے کاموں میں مددکرو، لیکن برائیوں میں با لکل نہیں؟ اس صورت حال میں دنیا آج کچھ اور ہوتی۔ مگر ہم نے نہ نبی ﷺ کی بات پر کان دیئے نہ ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ارشادات پرکان دھرے۔“ قولی“ مسلمان بنے رہے عملی مسلمان نہیں بن سکے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ“انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اپنے لئیے کرتا ہے؟ اور ہمیں اس سے بھی خبردار کردیا تھا کہ“اس کے دربار میں اگر کوئی چیز قابل عزت اور ترجیح ہےتو وہ تقویٰ ہے، نہ کا لے کو گورے پر فضیلت ہے نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے“ اور ہمیں یہ بھی بتادیا تھا کہ وہاں رشتے داریاں کام نہیں آئیں گی؟ پچھلی اُمتیں اسی وجہ سے خوار ہوئیں کہ وہ کسی نہ کسی قسم کے فخراور تکبر میں مبتلا ہوگئیں۔ مثلاً ہم نبیوں ؑ کی اولاد ہیں یا ہماری نبی ؑ جان دیکر اپنی پوری قوم کے لئیے فدیہ بن گئے۔ اور جب وہ اس طرح اپنی افادیت کھو بیٹھیں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں معزول کردیا“ اور ہمیں بتادیا کہ“اب ان کی جگہ ہم تمہیں لا ئے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو“؟ ہم نے اس بات کی بھی کوئی پر واہ نہیں کی۔ وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے کہ ہمیں یہ بخشوادے گا ہمیں وہ بخشوادے گا؟ جبکہ قر آن یہ پہلے ہی مثالیں دیکر سمجھا چکا تھا کہ قیامت میں کوئی کسی کا وزن نہیں اٹھاسکے گا؟۔اور پرانی امتوں کی مثالیں دیکر کہ سمجھایا تھا دیکھو کہ حضرت نوحؑ اپنے بیٹے کے کام نہیں آسکے، حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیوی کے کام نہیں آسکے۔ تو ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں۔ کہ بڑے اباّ کسی کے کام آسکیں گے؟
پرانی مثالوں پر مت جا ئیے موجودہ حالات دیکھ لیجئے کہ کبھی ہم پوری طرح اللہ کے دین پر کار بند تھے۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دنیا کی دو سپر پاورز پرہماری نصرت فرماکر ہمارے ہاتھوں روم اور کسریٰ کو شکست دلوادی؟ پھر وہ ہماری ہی ان لائبریریوں میں کھوج لگا نے میں مصروف ہوگئے اور انہوں نے صرف دو اصول ہمارے اپنا لئیے؟ ایک عدل سب کے ساتھ اوردوسرے جذبہ احسان کے عنصر کی جھلک ان میں اس طرح نظر آئے جس طرح کبھی ہمارے اندر تھی اور سب کو نظر آتی تھی۔ (جبکہ ان کی چند اچھی صفات کی تعریف خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمائی ہے کہ “ ان میں عبادت گذار اور نرم دل لوگ ہیں ًجبکہ احسان کے معنی بہت آسان ہیں جو کہ ہم کو بھی کبھی یاد تھے مگر سب اچھی باتوں کی طرح ہم نے سیکھ کر چھوڑ دیئے یہ جانتے ہوئے کہ جہاں حسن کے ساتھ کوئی اضافت لگ جا ئے تو اس فعل میں چار چاند لگ جا تے ہیں مثلاً حسنِ تحریر، حسن ِ تقریر حسن ِ تعمیر وغیرہ وغیرہ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ جو جہاں بھی اپنے فرا ئض جس حیثیت میں بھی انجام دے رہا اس کو اپنی پوری صلا حیتیوں یعنی(excellence) کے ساتھ انجام دینا چا ہیئے چا ہیں وہ باپ کی حیثیت سے انجام دے رہا ہو یا بیٹے کی حیثیت سے۔؟ نوکر کی حیثیت سے یا مالک کی حیثیت سے۔ان دو اصولوں کو اپنا کر انہو ں نے ہم سے اپنی کھوئی ہوئی حکومت پھر چھین لی کیونکہ ہم پورا سبق بھول چکے تھے۔ اور انہوں تازہ تازہ یہ دو نسخے یاد کرلئے تھے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کئی صدیوں تک ان کے مطیع،معترف اور فرما نبردار بنے رہے؟ اب ان کے یہاں بھی وہ عنصر کم ہو کر ختم ہونے کے قریب ہے۔ لہذا پھر وہ قوم ابھر رہی ہے جو ہزاروں سال پہلے کبھی حکمراں تھی آج وہ تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آپ تھوڑے دنوں میں دیکھیں گے کہ وہ ان کی جگہ لے لیگی۔ جبکہ ہم وہیں کے وہیں رہیں گے۔؟کیونکہ ہم اس سلسلہ میں کو ئی پیش رفت نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ اتباع ہماری فطرت ِ ثانیہ بن چکی ہے جوکہ غلامی کی علامت ہے۔ حالانکہ“یہ بھی قرآن نے ہم کو بتا یا ہوا ہے کہ ہم بار بار قوموں کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا نہ کریں تو عبادت گاہوں میں ہمارا نام بھی نہ لیا جا ئے“ جبکہ ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ساری دنیا ایک ہی مذہب پر ہوتی؟ مگر ہم نے یہ جو کچھ نظام بنا یا ہے وہ اس لئیے ہے کہ اس کے بعد کے لئے ایک ابدی دنیا بھی ہم نے بنا رکھی ہے جو کہ کبھی فنا نہیں ہوگی۔ وہاں ہم نے دو صلے دنیا کے لوگوں کے اعمالوں کی بنا پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک کا نام جنت ہے اور دوسری کا نام جہنم ہے۔ اور ہم نے دونوں کو بھر نے کا ان سے وعدہ بھی کیا ہوا ہے جو کہ جنوں اور انسانوں سے ان کے اچھے یا برے اعمالوں کی بنا پر بھری جا ئیں گی۔ ہم اس دن اس کا فیصلہ کریں گے جس کو یوم ِ قیامت یا محشر کہتے ہیں۔ہم سے بڑا منصف کون ہوسکتا ہے لہذا کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا ہم انصاف کریں گے اور ان کے اعمال دیکھ کر کسی کو جنت یا دوزخ کا حقدار بنا ئیں گے؟ کچھ بندے جن کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا یعنی جنہوں نے دنیا میں اچھے کام کیئے ہونگے وہ جنت میں چلے جا ئیں گے وہاں کوئی ان کو کسی طرح کی مشقت برداشت نہیں کرنا ہوگی انہیں سب کچھ بلا مشقت کے ملے گا۔اور جنکو با ئیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملیں گے۔ وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہونگے اور ابدی طور پر جہنم میں جلیں گے اور ان کا عذاب بھی کبھی ہلکا نہیں کیا جا ئے گا۔ کیونکہ سب کو ان دو نوں راستوں کے انجام سے پہلے ہی باخبر کردیا گیا تھا۔ کہ جونسا راستہ وہ اختیار کرنا چاہیں ان کو اپنا من پسند راستہ منتخب کرنے کا اختیار تھا؟ اور یہ کلیہ بتادیا گیا تھا کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے وہ اپنے لیئے ہی کرتاہے۔ اللہ ہم سب کو سمجھ دے اور اس دن کی خفت سے بچا ئے(آمین)
میں اپنا یہ مضمون اس قطعہ پر ختم کرتا ہو۔ ع
یہاں پہ جب تک ہم عامل قر آن ہوکر رہے
رہے زمیں پراسوقت تک آسمان ہوکر رہے
جو چھوڑا دین کو ہم نے تو ُرل گئے ہم بھی
بہاریں روٹھ گئیں اور خزاں نشان ہوکر رہے

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں